09
February

بمقابلہ۔۔۔ بمقابلہ۔۔۔

تحریر: جویریہ صدیق

جنگی جنون میں مبتلا بھارت، جس کا دفاعی بجٹ 52 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے بلکہ خطے میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے ایک طرف تو 2008 سے 2015 تک اس نے ہتھیار خریدنے کے لئے 34ارب ڈالر کے معاہدے کئے جبکہ دوسری طرف اپنے فوجیوں کی فلاح و بہبود پر بہت کم خرچ کررہا ہے۔ بدانتظامی اور بے ایمانی اس قدر عروج پر ہے کہ بھارت کے فوجی بھوک، افلاس، تنگ دستی اور نامساعد حالات کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہوگئے ہیں ۔


بھارتی فوج اپنی حکومت اور اعلیٰ حکام کے ناروا رویے کے باعث بددلی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ مشکل حالات اور کم سہولیات میں ڈیوٹی بھارتی فوجیوں کے حوصلے پست کررہی ہے اور وہ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں ۔جس وقت میں یہ سطور رقم کررہی تھی اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب 10 بھارتی فوج برفانی تودے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے تھے۔کشمیر بھارتی فوجیوں کا قبرستان ثابت ہورہاہے ۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے بھارتی فوجی آزادی کے متوالوں کی وجہ سے مزید خوف کا شکار ہیں ۔


دہلی سرکار کے جنگی جنون اور پاکستان سے دشمنی پر سیاست چمکانے میں قربانی کا بکرا صرف بھارتی فوجی بنتے ہیں ۔جنہیں ناکافی تربیت اور کم ساز و سامان کے ساتھ بارڈر اور مختلف آپریشنز میں بھیج دیا جاتا ہے اور جہاں انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ اکثر اوقات دہلی سرکار خود بھی ڈرامے کرکے اپنی ہی فوج پر حملے کرواتی ہے خود اپنے فوجی مار کر الزام پاکستان پر دھر دیتی ہے ۔یہ طریقہ واردات بھی بھارتی فوجیوں کو بزدل بنا رہا ہے۔

bamuqablaba.jpgکم سہولتوں اور ناقص اسلحہ و ناکافی ساز و سامان کے باعث بھارتی فوجی نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں ۔خالی پیٹ جب وہ محاذوں پر ڈیوٹی سے اکتا جاتے ہیں تو چھٹی کی درخواست کرتے ہیں لیکن چھٹی نہیں ملتی ۔یہ وجہ بھارتی فوجیوں کو مزید چڑچڑا بنارہی ہے۔12 جنوری 2017 کو مشرقی بہار میں ایک سینئر اہلکار نے چھٹی نہ ملنے پر اپنے چار سینئر افسران پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ چاروں افسران اس واقعے میں جانبر نہیں ہوسکے۔یہ تمام سکیورٹی اہلکار سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس سے تعلق رکھتے تھے ۔اس بھارتی فورس کا کام اٹیمی تنصیبات اور ائیر پورٹ کی سکیورٹی ہے۔اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارتی اٹیمی تنصیبات کی سکیورٹی کیسے ہاتھوں میں ہے ۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ فروری 2014 میں بھی ایک بھارتی فوجی نے سری نگر میں قائم ملٹری کیمپ میں اپنے 5 ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر خود کشی کر لی تھی ۔وجہ یہی تھی کہ سینئر نے چھٹی دینے سے انکار کیا ۔فوجی لمبی ڈیوٹی، کم خوارک، سخت سردی اورنا مناسب رہائش کی وجہ سے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا اور جب اس نے دیکھا کہ چھٹی تو نہیں مل رہی تو اس نے موت کو گلے لگایا لیکن اس سے پہلے اپنے پانچ ساتھیوں کو بدلے کی آگ کی نذر کر دیا ۔


لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے دوران بھی بھارت کو بھاری جانی نقصان ہوا ۔لیکن عیار و مکار دہلی سرکار اپنے فوجیوں کی لاشیں چھپا لیتی ہے اور ان کے لواحقین کو مجبور کرتی ہے کہ چپ چاپ ان کا انتم سنسکار کردو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو ۔یہ رویہ بھی بھارتی فوجیوں میں بددلی پھیلا رہا ہے ۔کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے لئے جان دینے والوں کو رات کی تاریکی میں آگ دی جاتی ہے اور ان کے گھر والے مہینوں مرنے والوں کی پینشن کے لئے دھکے کھاتے ہیں تو بھارتی فوجیوں کی لڑنے کی ہمت مزید شکستہ ہو جاتی ہے۔2 نومبر 2016 کو سابق بھارتی فوجی رام کشن گریوال نے پینشن کے معاملات حل نہ ہونے پر خودکشی کرلی تھی ۔


مقبوضہ کشمیر میں2014سے 2016تک 125 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جن میں سے18 اوڑی حملے میں مارے گئے تھے۔بھارت کے اپنے ہمسایوں پر حملے اور ریاستوں پر قابض رہنے کے لئے جنونیت نے اس کے اپنے فوجیوں کی کمر توڑ دی ہے۔جنگ میں مرنے والوں سے زیادہ تعداد خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی ہے ۔2009 سے 2014تک 597بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔2015میں 69فوجیوں نے خود کو موت کی نیند سلا لیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد پاگل پن کا شکار ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں ڈیوٹی دینے والے تقریبا 375 کے قریب بھارتی فوجی پاگل پن کا شکار ہو چکے ہیں اوران کا علاج نفسیاتی طبی مراکز میں جاری ہے۔


بھارتی فوج اور سرکار کی رہی سہی عزت کا جنازہ اس ویڈیو نے نکال دیا جس میں ایک بھارتی فوجی جوان تیج بہادر نے عام سپاہیوں کو ملنے والی سہولیات کا پول کھول دیا۔کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو سپاہی نے ویڈیو فیس بک پر ڈال دی اور ویڈیو وائرل ہوگئی ۔ویڈیو میں سپاہی جلی ہوئی روٹیاں اور پانی والی دال دکھا رہا ہے۔اس ویڈیو میں تیج نے کہا میں بی ایس ایف کی 29 بٹالین کا جوان ہوں یاد رہے یہ وہ بٹالین ہے جوکہ جموں و کشمیر میں فرائض انجام دیتی ہے۔


وہ کہتا ہے ہم برف، ٹھنڈ، طوفان میں روز گیارہ گھنٹے کی ڈیوٹی دیتے ہیں ۔تیج کہتاہے کہ نہ میڈیا ہماری صورتحال دکھاتا ہے نہ کوئی منسٹر ان کی بات سنتا ہے۔وہ کہتا ہے ہمارے حالات بہت خراب ہیں، ہمارے ساتھ بہت نا انصافی ہورہی ہے۔ہمیں اکثر بھوکے پیٹ سونا پڑتا ہے۔اکثر صبح ڈیوٹی بھی خالی پیٹ دینا پڑتی ہے۔ہمیں ناشتے میں ایک جلا ہوا پراٹھا ملتا ہے وہ بھی صرف چائے کے ساتھ۔ دوپہر میں صرف ہلدی، نمک والی دال ملتی ہے اور روٹیاں بھی جلی ہوئی ہوتی ہیں ۔


اس نے اپنے سینئرز کے بارے میں کہا کہ وہ چیزیں بیچ دیتے ہیں اسی وجہ سے اشیاء ان تک نہیں پہنچتی ۔اس نے سوال کیا ایسی خوارک کھا کر کیا دس گیارہ گھنٹے ڈیوٹی کی جاسکتی ہے؟تیج نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا شاید اس ویڈیو کے بنانے کے بعد وہ غائب کردیا جائے کیونکہ اعلیٰ افسران کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ باقی تین ویڈیوز میں اس نے پانی میں بنی دال دکھائی، جلی ہوئی روٹیاں دکھائیں۔ دہلی سرکار کی یہ ویڈیو دیکھ کر نیندیں اڑ گئیں۔کہاں 51 ارب ڈالر کا بجٹ اور کہاں بھوک سے بلبلاتے فوجی۔بی ایس ایف حکام یہ ویڈیو دیکھ کرسیخ پا ہوگئے اورالٹااس جوان کے خلاف انکوائری کاحکم دے دیا۔اس کے کیرئیر پر سوال اٹھا دیئے کہ اسکا کردار شروع سے ٹھیک نہیں، وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہے اور اسے شراب کی بھی لت ہے‘ اس کی بہت عرصہ کونسلنگ بھی کی گئی ہے ۔


تیج نے میڈیا پر آکر کہا اگر بھارتی فوجی جوانوں کا خیال رکھا جاتا تو وہ ایسی ویڈیو کیوں پوسٹ کرتا۔اس نے کہا یہ مجھ پر الزام ہے کہ میرا کردار ٹھیک نہیں۔ یہ سب الزام تراشی میرے خلاف سچ کو سامنے لانے پر کی جارہی ہے۔تیج بہادر یادیو کی بیوی شرمیلا یادیو نے بھی کہا روٹی مانگنا کوئی جرم تو نہیں ۔جو سچائی ہے وہی ان کے شوہر سامنے لائے ۔شرمیلا نے مزید بتایا تیج کو سچ بولنے کی سزا ملی ہے۔ اس کو پلمبر بنا کر دوسری یونٹ میں بھیج دیا گیا ہے اور اس کا موبائل بھی چھین لیا گیا۔ باڈر پر بیٹھے فوجی اب بھی بھوکے بیٹھے ہیں ۔
بی ایس ایف کے جوان کے بعد سی آر پی ایف کے جوان جیت سنگھ نے بھی اپنی ویڈیو بنا کراَپ لوڈ کردی اور اپنی تنخواہ اور مراعات میں اضافے اور چھٹی کا مطالبہ کرڈالا۔سلسلہ یہاں نہیں رکا بھارتی فوجی لانس نائیک یگیا پرتاب سنگھ نے بھی ویڈیو اپ لوڈ کردی جس میں اس نے کہا میں ایک سپاہی ہوں لیکن ہم سے افسروں کے گھر کے کام کروائے جاتے ہیں، ہم ان کے جوتے صاف کرتے ہیں ، ان کے کتوں کو سنبھالتے ہیں‘ ان کے گھروں میں ملازموں کی طرح کام کرتے ہیں۔


اس طرح کے ایک اور واقعے میں 29 ستمبر 2016 کو مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی چندو لال اپنے کمانڈر کے رویے سے نالاں ہوکر سرحد پار کرکے پاکستانی فوج کے پاس پہنچ گیا۔وہ اتنا بددل تھا کہ اپنے ملک واپس جانے کو تیار نہیں تھا۔تاہم پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت چندو کو بہت سے تحائف کے ساتھ واہگہ کے راستے واپس بھارت بھیج دیا ۔16 دسمبر2016 کو خاتون فوجی انیتا کماری نے مقبوضہ کشمیر میں خود کو گولی مار کر ہلاک کر ڈالا تھا۔اس طرح کے سیکڑوں واقعات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوجی بھارتی سرکار کے جنگی جنون اور رویے سے اکتا گئے ہیں ۔


بھارتی سرکار اپنے جنگی جنون کی آگ میں اپنے فوجیوں کو جھونک رہی ہے۔فوجی چھٹی اور سہولیات نہ ملنے کے باعث مایوس ہوگئے ہیں نہ ان کی زندہ ہوتے ہوئے عزت ہے نہ ہی مر کر عزت و تکریم۔بھارتی فوج قطعی طور پر بھی جنگ کے لئے تیار نہیں ہے۔بھارتی سرکار کے جنگی جنون نے بھارتی فوجیوں کو چڑچڑا اور نفسیاتی مریض بناکررکھ دیاہے۔ بھارت کی تینوں فورسز میں کوآرڈینیشن بہت کم ہے اسلحے کی دیکھ بھال بھی مناسب طریقے سے نہیں ہو رہی۔ بھارتی فوج میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ وزارت دفاع اور فوج میں خلیج حائل ہے جس کے باعث فوج کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ بھارتی فوجی خالی پیٹ اسلحہ اٹھا کر جنگ لڑنے سے قاصر ہیں ۔


اس کے برعکس پاکستان میں حالات بالکل مختلف ہیں ۔پاکستانی فوج انتظامی امور بہترین طریقے سے چلا رہی ہے اور پاک فوج کے سپاہیوں اور افسران کو بہترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔گزشتہ تین برس میں پاکستانی فوج نے بدترین دشمن اور سخت موسم کا مقابلہ کرتے ہوئے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت باقی علاقوں میں حکومتی رٹ قائم کی۔ اس دوران ان کے حوصلے بلند رہے اور کوئی بھی ایسا نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جس میں سپاہیوں کو انتظامی طور پر کسی مشکل سے واسطہ پڑا ہو۔ الحمدللہ پاکستانی فوج میں خود کشی کی شرح زیرو فیصد ہے۔ محاذوں پر موجود پاکستانی سپاہیوں اور افسران کی تمام تر ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔پاکستانی دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے جہاں بھارت 51 ارب ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے تو وہیں پاکستان6سے 8 ارب ڈالر اپنے دفاع پر خرچ کررہا ہے جوکہ ملکی بجٹ کا صرف 16سے 18فیصد ہوتا۔پاکستان کی پانچ لاکھ پر مشتمل فوج کو ہر طرح کی ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔پاک فوج کے افسران ہمیشہ اپنے جوانوں کے انتظام و انصرام کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ انتہائی ناگزیر حالات کے علاوہ پاک فوج ہمیشہ اپنے فوجیوں کے کھانے، چھٹی اور آرام کا خاطرخواہ انتظام کرتی ہے اور اونچے مورال اور بہترین ڈسپلن کو پہلی ترجیح دیتی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل حالات پڑنے پر پاکستانی فوجی اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر اور کئی کئی ماہ اپنے گھر والوں سے دُور رہنے کے باوجود اپنے حوصلے و عزم کو بلند رکھتا ہے۔ پاک فوج کے افسر اور سپاہی کا پکا یقین ہے کہ پاک فوج زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی اس کے خاندان اور گھر والوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑے گی۔ سیاچن گلیشیئر، کشمیر کے پہاڑ، تھر کے ریگستان، فاٹا اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ اور میدان ہوں، پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ ان کا مطمع نظر ذاتی یا دنیاوی منفعت نہیں ہے بلکہ پاکستان کا دفاع اور سلامتی باقی تمام فیکٹرز پر مقدم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی کے سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ نے پاکستان فوج کو دنیا کی بہترین فوج سے تعبیر کیا ہے۔


پاکستانی فوجی جس وقت محاذ پر ہوتے ہیں انہیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ ان کے بیوی بچے پیچھے کس حال میں ہوں گے ۔فوجیوں کے خاندانوں کے لئے بہترین تعلیمی، طبی اور رہائشی سہولیات موجود ہیں ۔افسران یا سپاہیوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاتی ۔اگر دوران جنگ کوئی فوجی، چاہے وہ سپاہی ہو یا افسر، شہید ہو جائے تو آرمی چیف اور کور کمانڈر خود اس کے جنازے میں شرکت کرتے ہیں۔ شہید ہونے والے فوجی کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا جاتا ہے۔ تدفین اور جنازے کے اخراجات بھی آرمی کے ذمہ ہوتے ہیں ۔ان کے لواحقین کی مکمل داد رسی کی جاتی ہے۔شہید کے خاندان کو پینشن ملتی ہے، انشورنس کی رقم، بچوں کے لئے الاؤنس،بارہ ماہ کی سیلری، پلاٹ، زرعی اراضی، بیوہ اور بچوں کے لئے مفت طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔یہ چیزیں اس قربانی کا نعم البدل بالکل نہیں جوکہ ایک فوجی اپنی جان کو وطنِ عزیز پر قربان کرکے دیتا ہے تاہم یہ سہولیات اس کے خاندان کی گزر بسر میں آسانی پیدا کر دیتی ہیں۔اسی طرح اگر کوئی بھی فوجی زخمی ہوکر لوٹتا ہے تو اس کا علاج معالجہ آرمی کے ذمے ہے۔اگر وہ اپنی صحت یابی کے بعد فیلڈ میں نہیں جاسکتا تو اس کو آرمی کے دیگر محکموں میں پوسٹ کردیا جاتا ہے ۔اس کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔


پاکستان کے عوام اپنی فوج سے بہت محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔پاکستانی فوجی اپنے ملک اور عوام سے پیار کرتے ہیں۔ اس کے دفاع کے لئے ہر ممکن قربانیاں دیتے ہیں ۔افسران اور سپاہیوں کے مابین اخوت کا رشتہ مثالی ہے۔ جب وہ اپنے ساتھ اپنے سینئرز کو شانہ بشانہ جنگ لڑتے دیکھتے ہیں تو یہ ان کے جذبے اور ہمت کو دیتا ہے۔جب سپاہی اپنے سینئرز کو وہ کھانا کھاتا دیکھتے ہیں جو وہ خود کھاتے ہیں اور اپنی طرح کا رہن سہن تو یہ طبقاتی فرق کو مکمل طور پر ختم کردیتا ہے یہی بھائی چارہ پاک فوج کا اتحاد قائم رکھتا ہے۔بھارت جتنے بھی ہتھیار خرید لے لیکن اس کے فوجی اپنے اندر وہ جذبہ نہیں پیدا کرسکتے جو اسلام کے سپاہیوں، پاک فوج، میں موجود ہے ۔


کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

جویریہ صدیق ممتاز صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ ان کی کتاب ’سانحہ آرمی پبلک سکول‘ شہدا کی یادداشتیں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

twitter@ Javerias

پاکستانی سپاہی دنیا کا بہترین سپاہی ہے۔

maj_gen_asif_ghafoor_new.jpg

میجر جنرل آصف غفور

افواجِ پاکستان میں ملازمت محض نوکری نہیں ہے بلکہ یہ ایک جذبہ ہے۔ یہ ایک طرز زندگی ہے۔ ہمارا ساتھ اوپر کی سطح سے لے کر بٹالین اور کمپنی کی سطح تک جاتا ہے۔ سال میں کوئی افسر اور جوان کتنی چھٹی جاتا ہے؟ ہم سال میں گیارہ ماہ تو اکٹھے رہتے ہیں۔ سو ہم سب آپس میں جڑی ہوئی ایک مربوط فیملی کی طرح سے ہیں۔ ہماری کمانڈ اور سپاہی کا رشتہ فوجی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والوں سے بھی ہے۔ ہم اپنے سولجرز کے بچوں کی شادیوں اور خوشی غمی میں ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اکٹھا کام کرتے ہیں۔ پاک فوج میں افسر اور سپاہی کا رشتہ سگے رشتوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم ایک بہت ہی مضبوط اور منظم فوج ہیں اور جب ایک فوج مربوط ہوتی ہے تب ہی وہ کامیاب اور لمبی جنگ لڑ سکتی ہے۔جہاں تک سولجر کی ویلفیئر کا تعلق ہے تو افسر کی یہ ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ اپنے سپاہی کا خیال رکھے۔ اگر سپاہی کو اپنے افسر سے محبت نہیں ہے تو اس کے اندر اپنے ملک کے لئے جان دینے کا جذبہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا اور باہمی محبت ہمارے جذبے، عزم اور حوصلے کا بنیادی حصہ ہے۔ ہمارا سپاہی دنیا کا بہترین سپاہی ہے۔

 
08
June

افغانستان کی موجودہ صورتحال ۔ اندیشے اور لائحۂ عمل

Published in Hilal Urdu

افغان امور کے ماہر‘ ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کی تحریر

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات اس کے باوجود بہتر نہیں ہوپارہے کہ دونوں ممالک کو نہ صرف ایک جیسے حالات خصوصاً دہشت گردی کا سامنا ہے بلکہ ان کے درمیان بہتر تعلقات علاقے اور خطے کے امن اور استحکام کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ حال ہی میں جب لندن اجلاس کے تناظر میں طویل وقفے کے بعد دونوں ممالک کے حکام کے رابطے بحال ہونا شروع ہوگئے تو پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت جہاں ایک طرف نہ صرف سپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کابل بھیجا بلکہ اعلیٰ ترین سطح کے عسکری وفود بھی کابل گئے جہاں انہوں نے اعلیٰ حکومتی عہدے داران‘سیاستدانوں اور حکمرانوں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے اس پڑوسی اور برادر ملک کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ پارلیمانی وفد میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما شامل تھے جن میں تین کا تعلق پشتون قوم پرست جماعتوں سے تھا‘ تاہم اس دورے کے بھی وہ نتائج سامنے نہیں آئے جس کی توقع کی جارہی تھی۔ وفد میں شامل قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاؤ کے مطابق دورے کے اختتام پر طے پایا تھا کہ افغان حکومت نیک خواہشات اور خیرمقدمی کلمات پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کرے گی تاہم افغان حکومت نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ وفد کے بعض ارکان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ان کی تقریباً پانچ گھنٹے پر مشتمل طویل نشست ہوئی جس کے دوران انہوں نے متعدد بار سخت لہجہ اور رویہ بھی اپنایا تاہم وفد کے ارکان ان کو مسلسل یہ یقین دہانی کراتے رہے کہ ماضی کی شکایات کے بجائے موجود حالات اور مستقبل کے چیلنجز کے تناظر میں آگے بڑھا جائے۔ ان ارکان کے مطابق سینٹ کے چیئرمین نے تو میزبانی کے آداب کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے ملاقات کے دوران سخت رویہ اپنایا اور یکطرفہ الزامات لگائے‘ تاہم پاکستانی وفد نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ مثبت اور دوستانہ طرزِ عمل اپنائیں۔ وفد نے حکومت پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر اشرف غنی اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کو دورہ پاکستان کی الگ الگ دعوتیں بھی دیں اور وزیر اعظم کا خصوصی پیغام بھی سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے افغان صدر کو پہنچایا۔ حامدکرزئی نے خلافِ توقع یہ دعوت قبول کرلی اور توقع کی جارہی ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں گے تاہم ابھی وفد کی واپسی ہوئی ہی تھی کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ایک بیان میں مؤقف اپنایا کہ وہ پاکستان کا دورہ اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک پاکستان‘ ان کے بقول‘ بعض ان افراد کی حوالگی یا گرفتاری کا وعدہ پورا نہیں کرتا جو کہ افغان حکومت ایک فہرست کی صورت میں دے چکی ہے۔ حالانکہ ایسی ہی ایک فہرست پاکستان بھی افغان حکومت کو دے چکا ہے۔ جناب اشرف غنی کے اس غیرلچک دار رویے اور مشروط طرزِ عمل نے اعلٰی سطحی پاکستانی وفد کے دورۂ کابل کی امیدوں اور نتائج پرپانی پھیر دیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا جانے لگا کہ افغان حکمران شاید مصالحت یا مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اسی دوران جب افغانستان کے نمائندہ صحافیوں کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا تو دوسروں کے علاوہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا جس کے دوران انہوں نے دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں کئی گھنٹوں تک افغان صحافیوں کی شکایات اور تجاویز کو بڑے غور سے سنا اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے افغانستان کے امن کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس نشست کے علاوہ ایسے ہی جذبات کا اظہار مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی کیا تھا۔ یہ طرزِعمل اس کوشش کا ایک اظہار تھا جس کے ذریعے افغان حکمرانوں‘ سیاستدانوں اور میڈیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان بہت سے تحفظات اور خدشات کے باوجود اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔


ابھی اس تمام پیشرفت پر تبصرے اور تجزیئے جاری تھے کہ چمن بارڈر پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان باقاعدہ جھڑپیں ہوئیں جبکہ اسی شام افغان فورسز نے طورخم بارڈرپر بھی حملے کئے۔ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں متعدد شہریوں کے علاوہ فورسز کے کئی اہلکار جاں بحق ہوگئے اور پاکستان کو ایک بار پھر چمن بارڈر بند کرنے کا اقدام اٹھانا پڑا۔ افغان حکام خصوصاً قندھار کے سکیورٹی انچارج نے اس نازک ایشو پر ایک ذمہ دار عہدیدار کے رویے کے برعکس ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مصالحت اور متوقع مذاکرات کے امکانات ایک بار پھر معدوم ہوگئے۔ تصادم کے بارے میں دونوں ممالک کے الگ الگ بیانات اور الزامات پر بحث کئے بغیر اس کا خلاصہ یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ قندھار کے سکیورٹی انچارج نے اپنی فورسز کے علاوہ عوام کو مشتعل کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور وہ ایک حکومتی عہدیدار کے بجائے ایک ایسے راہنما دکھائی دیئے جو کہ جلتی آگ پر مٹی کا تیل ڈالنے کا ماہر ہو۔ افغان حکام نے اس موقع پر حد بندی یا سرحدی حدود کا ایشو بھی اٹھایا جو کہ مزید تلخی کا سبب بن گیا اور معاملات بگڑتے رہے۔ اس تمام معاملے کے دوران افغان میڈیا نے بھی ایشوز کو مزید بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یوں یکطرفہ طور پر کشیدگی کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ دو مطالبات پھر سے دہرائے گئے ۔ ایک تو یہ کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور بعض دیگر کے خلاف مزید کارروائیاں کرے اور دوسرا یہ کہ لسٹ میں شامل ان 90 افراد کی حوالگی یا گرفتاری کا اقدام اٹھاجائے جو کہ بقول افغان حکومت کے پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں اس کے جواب میں پاکستان کا موقف یہ رہا کہ مطلوب افراد پاکستان کے بجائے افغانستان میں ہیں‘ اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور یہ کہ اگر ایسے افراد یہاں پائے گئے جو کہ افغانستان پر حملوں میں ملوث ہیں تو کارروائی سے قطعاً گریز نہیں کیا جائے گا۔ ایک اور مسئلے کو بھی شدت کے ساتھ میڈیا اور عوامی حلقوں کی سطح پر اٹھایا گیا اور وہ یہ تھا کہ ڈیورنڈ لائن کے سٹیٹس پر بحث کا آغاز کیا گیا۔ شعوری طور پر کوشش کی گئی کہ اس معاملے پر افغانستان کے علاوہ پاکستان کے بعض قوم پرست حلقوں کو بھی اشتعال دلایاجائے۔ اس طرزِ عمل نے مسئلے کو اور بھی خراب کرکے رکھ دیا کیونکہ پاکستان بارڈر مینجمنٹ کے معاملے پر افغان حکام کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرچکا تھا اور اس ضمن میں عملی اقدامات بھی کئے جاچکے ہیں۔


دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان کا یہ طرزِ عمل اپنا ایک مضبوط پس منظر رکھتا ہے اور اس کے متعدد اسباب اور عوامل ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اب بھی ایک سے زائدلابیاں اس کوشش میں ہیں کہ دونوں ممالک کو قریب نہ آنے دیا جائے بلکہ کشیدگی کوبھی ہوا دی جائے اور اس کے لئے مختلف قسم کے الزامات اور اقدامات کے ذریعے راستہ بھی ہموار کیا جائے۔ ان ماہرین کے مطابق ان لابیوں یا حلقوں کو بھارت کے علاوہ بعض دیگر ممالک کی سرپرستی بھی حاصل ہے جو کہ افغانستان کے راستے پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تعلقات کشیدہ رہیں۔ اس قسم کے لوگ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ میں موجود ہیں بلکہ ان کا میڈیا میں بھی بہت اثر و رسوخ ہے اور میڈیا کے بعض اداروں کو اسی مقصد کے لئے باقاعدہ سپانسر بھی کیا جاتا ہے۔

 

افغانستان کے اداروں کی غیر فعالیت اور مخلوط حکومت کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کا فقدان بھی ہے تاہم افغان حکمران اور عوام اس کے اعتراف یا اصلاح کے بجائے پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے رویے پر گامزن ہیں۔

حال ہی میں کابل کادورہ کرنے والے ممتاز صحافی ہارون الرشید نے اس ضمن میں رابطے پر بتایا کہ کابل میں انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ‘ حنیف اتمراور حامدکرزئی سمیت دیگر اعلی عہدیداران سے بات چیت کی ۔اکثریت کا خیال تھا کہ افغانستان کے خراب حالات کی ذمہ داری محض پاکستان پرہی عائد ہوتی ہے۔ حالانکہ ان کو بتایا گیا کہ جب بھی مذاکراتی عمل کا آغاز ہوتا ہے یا پاکستان افغان طالبان کو میز پر بٹھانے کی کوشش کرتا ہے‘ ایوانِ صدر یا ایسے دوسرے کسی دفتر سے کوئی ایسا بیان جان بوجھ کر جاری کردیا جاتا ہے جو کہ اس پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ہارون الرشید کے مطابق اس تاثر میں افغان میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے اور اس کے ذریعے مسلسل یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ہی خرابی کا سبب ہے۔ اس پراپیگنڈے کو بھارت کے علاوہ ایران اور امریکہ کی آشیربادبھی حاصل ہے تاہم پاکستان کے سفارتی حلقے اس کو کاؤنٹر کرنے میں بوجوہ ناکام دکھائی دیتے ہیں اور یوں 80 فیصد لوگ پاکستان کے خلاف ہوگئے ہیں۔
سینئر تجزیہ نگار اور اینکر حسن خان کے مطابق ان کے دورۂ کابل کے دوران معلوم ہوا کہ پاکستان کے خلاف افغان حکمرانوں اور عوام کی نفرت میں پہلے کے مقابلے میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اور چمن تصادم کو نہ صرف بہت زیادہ اچھالا گیا بلکہ ڈیورنڈ لائن(انٹرنیشنل بارڈر) کو متنازعہ بنانے کی مسلسل کوشش بھی کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں حسن خان کا کہنا تھا کہ اس بار انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ اور حامدکرزئی کو پاکستان کے بارے میں کافی بہتر اور مثبت پایااوردونوں لیڈروں نے ملاقاتوں کے دوران اس بات کو تسلیم بھی کیا کہ ہر خرابی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا رویہ شاید درست نہیں ہے بلکہ بعض دیگر عوامل بھی بدامنی اور عدمِ استحکام کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق حامد کرزئی پاکستان کے بارے میں مثبت بات کررہے تھے اور ان کی توپوں کا رخ امریکہ کی جانب تھا۔


دونوں سینئرصحافیوں کے مطابق بدامنی اور عدمِ استحکام کی ایک بڑی وجہ افغانستان کے اداروں کی غیر فعالیت اور مخلوط حکومت کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کا فقدان بھی ہے تاہم افغان حکمران اور عوام اس کے اعتراف یا اصلاح کے بجائے پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے رویے پر گامزن ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی کوششیں ہونی چاہئیں کہ بحالی تعلقات کی کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ تلخی یا کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان کے مخالف ممالک کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ افغانستان یا اس کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کریں۔


سنٹرل ایشیا کے دروازے پر واقع افغانستان کے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں کئے گئے طالبان حملے میں 150 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے جس کے بعد افغانستان کی سکیورٹی سے متعلق سوالات شدت سے سراٹھانے لگے تو ان کے وزیرِ دفاع اور آرمی چیف نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیئے جو کہ افغان صدر اشرف غنی نے قبول بھی کئے۔ افغان طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جو کہ اس جانب واضح اشارہ ہے کہ طالبان کی نہ صرف یہ کہ قوت بڑھتی جارہی ہے بلکہ ان کی کارروائیاں جنوبی اور مشرقی افغانستان یا پشتون بیلٹ تک محدود نہیں رہی ہیں۔ اس سے قبل قندوز میں طالبان نے جہاں ایک طرف چار بار کامیاب حملے کئے وہاں انہوں نے کئی روز تک صوبائی دارالحکومت کو اپنے قبضے میں بھی لئے رکھا۔ جبکہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور یہاں پر اب بھی حملے اور جوابی حملے جاری ہیں۔ یہ تینوں صوبے اس حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کو سنٹرل ایشیا اور ایران کے گیٹ ویز کے پس منظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ مزار شریف‘ بلخ‘ قندوز اور پنج شیر کو نہ صرف انتہائی جغرافیائی اہمیت حاصل ہے ‘بلکہ افغانستان کی 50 فیصد سے زائد بیورو کریسی کا تعلق بھی ان ہی صوبوں سے رہا ہے اور اکثر نان پشتون لیڈروں کے نہ صرف یہ آبائی علاقے ہیں بلکہ یہ ان کی قوت کے مراکز بھی ہیں۔ روس کے ساتھ جنگ کے علاوہ نائن الیون اور اس سے قبل طالبان کے داخلے جیسے اہم ادوار کے دوران بھی مزار شریف اور بعض دیگر شمالی علاقے جنگوں کے براہِ راست اثرات سے محفوظ رہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ علاقے تعلیم‘ سہولیات اور ترقی کے حوالے سے دوسرے صوبوں سے کافی آگے ہیں۔ شمالی افغانستان کے لیڈروں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ان علاقوں کو جنگوں اور حملوں سے دور رکھا جائے اور سال2015 کے وسط تک وہ اس کام میں کامیاب بھی رہے تاہم 2016 کے دوران طالبان اور ان کے اتحادیوں نے ان علاقوں کا نہ صرف رخ کیا بلکہ یہاں پر خوفناک حملے بھی کرائے اور حالیہ حملے اسی سلسلے کی کڑی ہیں اس بار فرق یہ سامنے آیا ہے کہ طالبان نے علاقے کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں بغیر کسی مزاحمت کے گھس کر 150 سے زائد افراد کو زندگی سے محروم کردیا۔ حملہ آوروں نے کئی گھنٹوں تک چھاؤنی کے اندر رہ کر فورسز سے مقابلہ کیا اور یہ مقابلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک آخری حملہ آور زندہ رہا۔افغان طالبان کے ہاتھوں‘ مساجد‘ مزارات اور تعلیمی اداروں کو اس نوعیت کے حملوں کا نشانہ بنانے کی روایت بہت کم رہی ہے تاہم اس بار انہوں نے مسجد میں نماز پڑھنے والوں کو بطورِ خاص ٹارگٹ کیا اور اس سے قبل بھی بعض ایسے حملے مشاہدے میں آئے ہیں جن سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی طرح اب وہاں بھی ماضی کی روایات کے برعکس کوئی بھی طبقہ حملوں سے محفوظ نہیں رہا ہے۔


افغانستان کے علاوہ امریکہ سمیت پوری دنیا میں نہ صرف یہ کہ اس حملے کی شدید مذمت کی گئی بلکہ دو اعلیٰ ترین ریاستی ذمہ داران کے استعفوں کا عوامی سطح پر خیرمقدم بھی کیاگیا تاہم کابل کے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ استعفے افغان چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ اور شمال کے طاقتور کمانڈر رشید دوستم کے کہنے پر اور دباؤ پر دیئے گئے ہیں۔ مزار شریف کو جغرافیائی اور دفاعی ماہرین پورے خطے کا جغرافیائی مرکز سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے کچھ فاصلے پر ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں واقع ہیں جبکہ یہ کابل‘ ہرات اور قندوز کو آپس میں ملانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سال2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ بلخ میں 60 فیصد تک تاجک جبکہ 15 فیصد اُزبک رہ رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ترکمان اور پشتون دس دس فیصد کے تناسب سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ رواں برس کے دوران دونوں سنٹرل ایشین سٹیٹس نے مزار شریف اور بعض دیگر شمالی علاقوں کے لئے بڑے اہم منصوبے منظور کئے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس بیلٹ کو جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں غیر معمولی توجہ اور ترقی دی جارہی ہے۔ حالیہ حملے نے اس تمام عمل کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے اور عالمی میڈیا کے بعض باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں حملوں کی تعداد میں اضافہ ایک عالمی اور علاقائی گیم کا حصہ ہے اور اس گیم کو بیرونی طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ کابل میں قائم کولیشن گورنمنٹ کی وزارتوں کی عجیب و غریب تقسیم‘ ان کے درمیان کوآرڈینیشن کے فقدان اور شمال کو شیئرز سے زیادہ حکومتی عہدے دینے کے فارمولے جیسے اقدامات کو بھی افغان اداروں اور فورسز کی ناکامی کے اسباب میں شامل کیا جارہا ہے۔ تاہم سب سے بڑا سوال اب بھی وہی ہے کہ اس قسم کے حملوں کی آڑ میں امریکہ یا بعض دیگر طاقتیں افغانستان کو پھر سے میدانِ جنگ بنانے تو نہیں آرہی ہیں؟ ننگر ہار پر عین ماسکوکانفرنس کے دوران مدر آف آل بم گرانے کا امریکی اقدام اور کانفرنس میں امریکہ کی شرکت سے انکار کے علاوہ بعض دیگر اقدامات اور بیانات کو بھی اسی تناطر میں دیکھا جارہا ہے۔ بظاہر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ جنگ کا دائرہ افغانستان کے تقریباً تمام صوبوں یا علاقوں تک پھیلایاگیا ہے اور پانچ سرحدیں ایسی ہیں جہاں طالبان نہ صرف یہ کہ پہنچ چکے ہیں بلکہ وہ اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا رہے ہیں اور کامیاب حملے بھی کررہے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے بعد اب ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں بھی غیر محفوظ ہوگئی ہیں اور اگر صورتحال یہی رہی تو اس کے اثرات بعض دیگر سنٹرل ایشین سٹیٹس کے علاوہ روس پر بھی پڑیں گے۔


یہ حالات ایک ایسے افغانستان کا منظر نامہ پیش کررہے ہیں جہاں نہ صرف یہ کہ سول وار کی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے بلکہ یہ یقینی خطرہ بھی موجود ہے کہ شاید امریکہ اپنی فورسز اور ان کے اختیارات میں مزید اضافہ کرے اور اس کے نتیجے میں دوسری عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے میدان میں اُترآئیں۔ دوسری طرف داعش کا پھیلاؤ اور پاکستان‘ افغانستان کی نئی نسل میں مقبولیت کی اطلاعات بھی پریشان کن ہیں۔ حملوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ان ریاستوں کے علاوہ عالمی طاقتیں کیا حکمت عملی طے کرتی ہیں‘ مستقبل کے منظر نامے اور صورتحال کا انحصار اسی پر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ضرب عضب کے جوان


دیکھو مرے وطن کے جوانوں کو اِک نظر
سینہ ہے یا فولاد یا پھر شیر کے جگر
باطل ٹھہر نہ پائے کبھی ان کے سامنے
لڑتے ہیں کیسے جم کے ماؤں کے یہ پسر
سایہ ہو میری فوج پہ ربِّ جلیل کا
ہوتی رہے یہ کامراں، تا عمر، تاحشر
کیسے ہوں یہ صفات بیاں اِن کی اے حکیمؔ
ہیبت ہے بس عدو کے لئے ان کی اک نظر

حکیم شہزاد

*****

 
09
June

پاکستان۔ بالخصوص کراچی میں امن ہر قیمت پر ۔مگر کیسے

Published in Hilal Urdu

تحریر: محمود شام

قلم کا قرطاس سے‘ذہن کا انگلیوں سے‘ سوچ کا تحریر سے رشتہ جوڑتے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے‘ مگر ایسا انتشار‘ ایسی انارکی اور بے یقینی کبھی نہیں دیکھی تھی‘ نہ اتنی تشویش محسوس کی تھی۔ہر جانے والا دن‘ ہر ڈوبنے والا سورج بہت سی اُمیدیں لے کر ڈوب جاتا ہے۔ آرزوئیں رخصت ہوجاتی ہیں۔ اتنی شدت پسندی پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کی تھی۔ مذہبی انتہا پسندی بھی عروج پر ہے۔ سیاسی وفاداریوں میں بھی انتہائی شدت ہے بلکہ ایک جنون ہے۔ سیاسی لیڈروں کی پالیسیاں غلط ہوں یا درست‘ ان کے کارکن اور عہدیدار ان کی ہر بات پر آمَنَّا و صَدَّقْنَا کہتے ہیں۔ لیڈر دن کو رات کہے تو یہ بھی لازم ہے کہ دن کو رات مانیں۔ اپنے ذہن کا استعمال ممنوع ہے۔ اسی لئے معاشرے میں ہر طرف ایک افراتفری کی کیفیت نظر آرہی ہے۔ نفسا نفسی بھی ہے۔ اکثریت کی زندگی بہت کٹھن ہوگئی ہے۔

bilkhasooskarachi.jpg
ایک طرف تو یہ عدم استحکام ہے۔ کوئی قوم کو ایک سمت میں لے جانے والا نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے قومی مفادات اور قومی روڈ میپ کا تعین نہیں کیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جب سرحدوں کے اس پار سے بھی دھمکیاں ملنے لگیں تو دل یہ سوچنے اور ذہن اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہورہا ہے۔ ہم نے جب سے دوسروں کی لڑائیاں لڑنا شروع کی ہیں ‘ جب سے دوسروں کے مفادات کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھا ہے‘ جب سے بڑی طاقتوں کے آلۂ کار بننے شروع ہوئے ہیں‘ ہماری سرحدیں مخدوش ہونے لگی ہیں۔ ہمارے شہروں میں شدت پسندی کا غلبہ ہونے لگا ہے۔ مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ امن کا دین ہے۔ انسانوں کے درمیان محبت پیدا کرتا ہے۔ ہمارے رسول اکرمﷺ ؐ کو اللہ تعالیٰ نے دونوں جہانوں کے لئے رحمت بناکر اتارا ہے۔اسلام کو صوفیائے کرام اور اولیائے عظام نے پیار اور محبت سے دنیا میں پھیلایا۔ اب بھی غیر مسلم پیارے نبیﷺ کے اسوۂ حسنہ اور اچھے مسلمانوں کے کردار کو دیکھ کر اسلام قبول کررہے ہیں۔ لیکن اس مملکت خداد میں مسلمان مسلمان کو جس طرح ہلاک کرنے لگے تھے اور مذہب کا نام استعمال کرکے دوسروں کو تہ تیغ کیا جارہا تھا اس سے بہت زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

 

فوجی کارروائی کے ذریعے وقتی طور پر تو استحکام اور امن آجاتا ہے۔ جیسے کہ کراچی میں آگیا ہے لیکن اگر یہاں کے دو کروڑ باشندوں کو صبح شام ٹریفک کی مشکلات پیش ہوں گی ان کے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر گزریں گے۔ لاکھوں کا پیٹرول ضائع ہوگا‘ تو ان کے ذہن پھر بپھرے دریا بن جائیں گے۔ دنیا بھر میں اصول ہوتا ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سول ادارے اپنی فرض شناسی اور دیانت داری سے مستحکم کرتے ہیں ۔ اس کا فقدان نظر آرہا ہے۔

یہ فرقہ پرستی مسلک دشمنی اور اپنے عقیدے کو دوسرے پر مسلط کرنے کا سلسلہ بتدریج ہوا ہے‘ اچانک نہیں ہوا۔ اسے روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ مختلف مقتدر حلقوں کی طرف سے اس کی سرپرستی بھی کی گئی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ ہمارے ملک کو اللہ تعالیٰ نے نوجوان اکثریت کی جس نعمت سے نوازا تھا‘ اس کو ہم نے اپنے غلط رویوں ‘ پالیسیوں اور صحیح قیادت نہ ہونے کی بدولت اپنے لیے ایک زحمت بنالیا۔ نوجوان بلا شبہ ایک طاقت ہیں‘ توانائی ہیں‘ ایک دریا ہیں جس میں طغیانی آئی ہوتی ہے۔ اگر اس کے کنارے پختہ نہ بنائے جائیں‘ دریاؤں میں سے ریت نہ نکالی جائے‘ پانی کے لئے گنجائش نہ بڑھائی جائے تو وہ کناروں سے بغاوت کردیتے ہیں‘ چھلک جاتے ہیں‘ آس پاس تباہی مچادیتے ہیں۔ اگر ان کی سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کی جائے ‘ بند باندھے جائیں‘ نہریں نکالی جائیں تو وہ زمین کو زرخیز بنادیتے ہیں۔ نوجوانوں کے ذہن بھی بپھرے ہوئے دریاؤں کی مانند ہیں۔ جہاں ناانصافی بڑھ جائے‘ نفرتوں کے سلسلے ختم نہ ہوں‘ انسانیت کی قدر نہ ہو۔ میرٹ پرروزگار نہ ملے‘ وہاں پھر یہ دریا کناروں سے اچھلنے لگتے ہیں۔ ہر معاشرے میں مقامی طور پر بھی ایسے مافیاز موجود ہوتے ہیں جنہیں دشمن ایجنسیوں کی حمایت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ ان نوجوانوں کو اپنے حلقۂ عاطفت میں لے لیتے ہیں۔ یہ نوجوان کسی ایسی پناہ یا سہارے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ کچھ تنظیمیں انہیں نسلی بنیادوں پر گمراہ کرتی ہیں۔ کچھ زبان کا استحصال کرکے انہیں بغاوت پر اُکساتی ہیں۔ جب سے دنیا میں مختلف واقعات کو بہانہ بناکر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جارحیت شروع ہوئی ہے‘ مغرب نے کبھی جمہوریت کے قیام کا عذر تراش کر‘ کبھی شدت پسندی کا الزام لگاکر مختلف اسلامی ملکوں میں فساد برپا کئے ہیں۔ بعض مسلم حکمران مغربی جارح قوتوں کے گماشتے بن گئے۔ مسلم ممالک میں زیادہ تر شہری آزادیاں نہیں ہیں۔ آج کا پڑھا لکھا مسلم نوجوان اپنے حکمرانوں سے خوش نہیں ہوتا۔ وہ بغاوت کرنے کے لیے سڑک پر آتا ہے تو اسے پابہ زنجیر کردیا جاتا ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں تو نصف صدی سے ظلم و ستم ڈھائے جارہے تھے۔ اکثر مسلمان حکمران ہر جبر و تشدد خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔بہت سی تنظیموں نے مسلم نوجوانوں کے ان باغیانہ رُجحانات سے فائدہ اٹھایا اور انہیں شدت پسندی کا راستہ دکھایا۔ بے بس اور بے کس نوجوانوں کو ہتھیار دے کر طاقت ور ہونے کا احساس دلایا اور کہا گیا کہ یہ راستہ جنت کا راستہ ہے۔

 

نظریات کی کشمکش زوروں پر ہے۔ تنازعات بڑھ رہے ہیں۔عدالتیں تصفیوں میں بہت دیر لگاتی ھیں۔ حکومتوں کی پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سماج میں ٹہراؤ ہو۔ معاملات پہلے تو پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے طے ہوں۔ بزرگ اپنا کردار ادا کریں۔ پولیس تک بات پہنچے تو وہ مصالحت کروائیں۔ عدالت تک جانے سے گریز کیا جائے ۔ عدالت میں آجائے تو وہ جلد از جلد فیصلے دیں۔

یہ سارے ملے جلے رُجحانات چاہے وہ لسانی حوالے سے شدت پکڑ رہے تھے یا نسلی اعتبار سے یا پھر فرقہ وارانہ وابستگی کے حوالے سے‘ انہوں نے پُر امن شہروں کو تشدد اور ہلاکت خیزیوں کا مرکز بنادیا۔ کراچی میں لسانی حوالہ لاشیں گراتا رہا۔ بلوچستان میں نسلی شناخت۔ کے پی کے‘ فاٹا‘ جنوبی پنجاب میں مذہبی شدت پسندی۔ پھر فوج اور قوم نے مل کر ان ساری شدتوں‘ عصبیتوں کے خاتمے کا پروگرام بنایا ۔ پارلیمنٹ نے بھی اس عزم کی توثیق کی۔ ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔ فاٹا میں اور دوسرے علاقوں میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانے فوجی کارروائی سے ختم کئے گئے۔ اس کے لئے فاٹا کے ہزاروں رہائشیوں کواپنے ہی گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔ کیمپوں میں زندگی گزارنی پڑی۔ ان قابل فخر پاکستانیوں نے یہ قربانی صرف اسی لئے دی کہ پاکستان پُر امن ہوجائے۔ انسانی خون بہنا بند ہوجائے۔ مسلمان مسلمان کو‘ پاکستانی پاکستانی کو ہلاک نہ کرے۔ ہمارے نوجوان دشمنوں اور غیروں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں۔
اب موجودہ سپہ سالار‘ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان میں اور بالخصوص کراچی میں ہر قیمت پر امن قائم کیا جائے گا۔


ضرب عضب کے ساتھ ساتھ آپریشن ردّالفساد شروع کردیا گیا ہے۔ میں کراچی میں رہتا ہوں۔ میں نے 90کے عشرے میں ایسے دن بھی دیکھے ہیں جب چند گھنٹوں میں ہی پچاس ساٹھ سے زیادہ لاشیں گرادی جاتی تھیں۔ ہم نے حکیم محمد سعید شہید جیسے سچے پاکستانی بھی انہی وحشیانہ وارداتوں میں کھوئے۔ کتنے ہی ڈاکٹر شہید کئے گئے۔ سیاسی شخصیتوں کی جانیں لے لی گئیں۔ بعض تنظیموں نے ایک دوسرے کے کارکن بیدردی سے مارے۔ ہم تو خیر رہتے ہی کراچی میں تھے۔ لیکن ان وارداتوں اور خونریزی کے باعث دوسرے ملکوں سے سرمایہ کاروں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا۔ خاص طور پر کراچی میں کاروباری میٹنگ کرنے سے منع کرتے تھے۔ زیادہ تر دوبئی میں ملنے کو ترجیح دیتے تھے۔
پاک فوج کی طرف سے پارلیمنٹ کی قرارداد کی روشنی میں اور منتخب حکومت سے مشاورت کے بعد کراچی آپریشن نے بہت کامیابیاں حاصل کیں۔ کیونکہ اس میں کراچی کے شہریوں‘ تاجروں ‘ صنعتکاروں‘ دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں‘ علمائے حق اور سیاسی کارکنوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ رینجرز سے مکمل تعاون کیا گیا۔ اس میں رینجرز کو بھی قربانیاں دینا پڑیں۔ مگر رفتہ رفتہ کراچی کی رونقیں بحال ہونے لگیں۔ شہریوں کے دل سے خوف رفتہ رفتہ جاتا رہا ‘اب ساحل پر پھر وہی ہجوم دکھائی دینے لگے ہیں۔ سیمینارز‘ کنسرٹس کا سلسلہ بحال ہوگیا ہے۔ کتاب میلے منعقد ہورہے ہیں۔ یونیورسٹیوں‘ کالجوں اورسکولوں میں پھر سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔


کراچی ابھی تک 1960 اور 1970 والا تو واپس نہیں آیا ہے لیکن بڑی حد تک شہریوں کا اعتماد واپس آگیا ہے۔ کارخانوں میں ساری شفٹیں کام کررہی ہیں۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں خریداروں کے ہجوم نظر آتے ہیں۔ مگر بہتر حکمرانی کا خواب اب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ صوبائی حکومتیں اپنے لئے تو خود مختاری مانگتی ہیں۔ لیکن بلدیاتی اداروں کی خود مختاری سلب کرلیتی ہیں۔ کراچی میں امن تو بحال ہوگیا ہے‘ لیکن بلدیاتی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنارہی ہے۔ کچرا اٹھانے کا بندوبست نہیں ہورہا ہے۔ شہر کی ساری سڑکیں کھدی پڑی ہیں۔ ٹریفک ہر وقت جام رہتا ہے۔ صبح ہو‘ دوپہر یاشام بڑی بڑی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑتی نہیں‘ رینگنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ کوئی تدبر یا حسن انتظام نہیں ہے۔
شہریوں کا ذہنی سکون برباد ہورہا ہے۔ یہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ پاک فوج کے آپریشن۔ رینجرز کی مسلسل کاوشوں سے قائم ہونے والا امن خراب حکمرانی‘ شہریوں کی پریشانی‘ پبلک پرائیویٹ سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث پھر بد امنی میں نہ بدل جائے۔


فوجی کارروائی کے ذریعے وقتی طور پر تو استحکام اور امن آجاتا ہے۔ جیسے کہ کراچی میں آگیا ہے لیکن اگر یہاں کے دو کروڑ باشندوں کو صبح شام ٹریفک کی مشکلات پیش ہوں گی ان کے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر گزریں گے۔ لاکھوں کا پیٹرول ضائع ہوگا‘ تو ان کے ذہن پھر بپھرے دریا بن جائیں گے۔ دنیا بھر میں اصول ہوتا ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سول ادارے اپنی فرض شناسی اور دیانت داری سے مستحکم کرتے ہیں ۔ اس کا فقدان نظر آرہا ہے۔


اسی طرح ملک بھر میں ضرب عضب پھر ردّالفساد کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بھی متعلقہ صوبائی حکومتیں ہی مستحکم اور دیرپا کرسکتی ہیں۔ ’ردّالفساد‘ کی اصطلاح بہت وسیع معانی رکھتی ہے۔ مذہبی حوالے سے بھی اور انتظامی نکتہ نظر سے بھی۔ جسے بہت سے شدت پسند اپنے نقطۂ نظر سے جہاد کہتے ہیں‘ جنت کا راستہ خیال کرتے ہیں‘ وہ علمائے حق کے نزدیک فساد ہے۔ اسکا ردّ بہت ضروری ہے۔ اس ردّالفساد کے ذریعے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے اور بلوچستان سب جگہ ہی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ بہت سے مقامات پر پہلے سے کارروائی کرکے بڑی مقدار میں گولہ بارود‘ ہتھیار پکڑ کے ان دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔ اب تک ہزاروں کی تعداد میں ایسے مشکوک افراد پکڑے جاچکے ہیں‘ ان کے خلاف مقدمات تیار کرکے عدالتوں میں پیش کئے جارہے ہیں۔ ان آپریشنوں کی کامیابی کی شہادت اس امر سے مل سکتی ہے کہ اب پہلے کی طرح بم دھماکوں کی وارداتیں نہیں ہورہیں۔ پبلک مقامات‘ مساجد‘ بازار اور حساس تنصیبات اب محفوظ ہوتی جارہی ہیں۔ پارلیمنٹ کی قرارداد اور سیاسی فوجی قیادت نے ملک کر حکمتِ عملی مرتب کی جسے نیشنل ایکشن پلان کا نام دیا گیا اس میں سے فوری نوعیت کی کارروائی تو ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی ہورہی ہیں۔ سزائے موت پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔


لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان تمام عوامل اور اسباب کا بھی خاتمہ کیا جائے جن کی وجہ سے فساد برپا ہوتا ہے‘ جن محرومیوں سے مجبور ہوکر نوجوان لسانی‘ نسلی اور مذہبی شدت پسند تنظیموں کا آلۂ کار بنتے ہیں۔خاص طور پر بے روزگار نوجوان کو ماہانہ معقول تنخواہ بھی دی جاتی ہے اور اس کے اہل خانہ کی مالی مدد بھی کی جاتی ہے۔


پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق قریباً 12کروڑ افراد 15سے 25سال تک کی عمر کے ہیں۔ یہ قدرت کا بہت بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے‘ یہ ہماری طاقت ہیں‘ توانائی ہیں۔ لیکن مقامی حکومتوں کی بے اختیاری‘ صوبائی حکومتوں کی غیر ذمہ داری اور سیاسی قیادت کی لا پروائی سے یہ قیمتی اثاثہ بوجھ بن رہا ہے۔ ہمارے کونسلروں‘ میئروں‘ چیئرمینوں کی ذمہ داری ہے ۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کا قومی فریضہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں نوجوانوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیں۔ ان کی معاشی کیفیت سے آگاہی حاصل کریں۔ان نوجوانوں کو اگر مناسب تعلیم ملے اور موزوں تربیت تو وہ پاکستان کو حقیقت میں ایشیا کا ٹائیگر بناسکتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر سیاسی قیادتوں کی ذمہ داری ہے۔ پھرہماری غریب اکثریت کو قدم قدم با اثر افراد کے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جاگیردار اپنے علاقے میں سکول نہیں کھلنے دیتے۔ ہر صوبے کے دیہی علاقوں میں کئی ہزار اسکول بند پڑے ہیں۔ عمارتیں ہیں مگر وہاں کچھ اور ہورہا ہے۔ اسکول ہیں‘ طالب علم ہیں مگر ٹیچر نہیں ہیں۔ پولیس‘ مقامی ایم این اے‘ ایم پی اے کی مرضی سے تعینات ہوتی ہے۔ اس لئے وہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے ایم این اے‘ ایم پی اے کا حکم مانتی ہے جس سے نا انصافی جنم لیتی ہے۔ اکثریت کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے ۔ قانون کا نفاذ یکساں نہیں ہوگا۔نا انصافیوں ‘ زیادتیوں اور ظلم کے شکار خاندان ہی پھر شدت پسندوں کا ہتھیار بنتے ہیں اور جب اس کے ساتھ مذہب کا سہارا مل جائے تو یہ اشتراک خطرناک ہوجاتا ہے۔جہالت اور جذباتیت بڑا خطرناک گٹھ جوڑ ہے۔ ملک میں جہالت بھی بہت ہے اور جذباتیت بھی۔ تعلیم ہی انسان کو دلیل کا استعمال سکھاتی ہے۔ برداشت پیدا کرتی ہے۔تحمل کا درس دیتی ہے۔ پاکستانی قوم مزاجاً جذباتی ہے۔ اس لئے وہ آسانی سے چند خود غرض سیاستدانوں اور مذہبی سوداگروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے۔ شایدحکمران طبقے کا ایک حصہ یہ چاہتا ہی نہیں ہے کہ یہ قوم پڑھے لکھے ۔ کیونکہ اگر یہ پڑھ لکھ گئی تو ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔
پاکستان میں کسی بھی بھائی بہن بزرگ سے پوچھا جائے تو وہ فوج کے اس عزم کی مکمل تائید کرتا ہے کہ ملک میں اور بالخصوص کراچی میں امن ہر قیمت پر۔ امن کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ پُر سکون ماحول بھی سرمایہ کاری اور نئی صنعتوں کے لئے سازگار ہوتا ہے۔ فوج نے اپنا یہ عزم بڑی حد تک پایۂ تکمیل کو پہنچادیا ہے۔ آج 2017 کے نصف میں 2015-2016 اور اس سے پہلے کے پُر آشوب برسوں کی نسبت حالات بہت زیادہ پُر امن اور پُر سکون ہیں۔ لیکن اگر ان عوامل اور محرّکات کے خاتمے کے لیے کوششیں نہ کی گئیں جن کے باعث 90-80 کے عشروں اور اکیسویں صدی کے اوائل میں شدت پسندی اور افراتفری اور انتشار پیدا ہوا‘ جسے بڑی قربانیاں دے کر پاک فوج‘ رینجرز اور پولیس نے بحال کیا ہے۔ جس کے لئے ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ پولیس والے بھی شہید ہوئے ہیں۔ اور عام شہریوں‘ بچوں‘ بزرگوں۔ ماؤں بہنوں کا خون بھی بہا ہے تو یہ خونریزی دوبارہ بھی شروع ہوسکتی ہے۔ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نصاب کا جائزہ لینا ہوگا۔ مساجد اور مدارس کے خطبات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ میڈیا پر بھی نظر رکھنا ہوگی‘ وہاں کوئی تربیت ہے نہ نصب العین‘ وہ مجرموں اور دہشت گردوں کو ہیرو اور شاندار انسان بناکر پیش کرتے ہیں۔ ان کو بہت زیادہ با اثر دکھاتے ہیں۔


نظریات کی کشمکش زوروں پر ہے۔ تنازعات بڑھ رہے ہیں۔عدالتیں تصفیوں میں بہت دیر لگاتی ہیں۔ حکومتوں کی پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سماج میں ٹھہراؤ ہو۔ معاملات پہلے تو پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے طے ہوں۔ بزرگ اپنا کردار ادا کریں۔ پولیس تک بات پہنچے تو وہ مصالحت کروائیں۔ عدالت تک جانے سے گریز کیا جائے ۔ عدالت میں آجائے تو وہ جلد از جلد فیصلے دیں۔
ہر ادارے کو اس قومی جہاد میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ تب ہی ہم ہر قیمت پر قائم کئے گئے امن سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔ ملک میں استحکام پیداکرسکیں گے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
February

مودی کے بھارت میں مفلسی کا راج

تحریر: عبد الستار اعوان

گزشتہ دنوں عالمی میڈیا پر ایک خبر گردش کرتی رہی کہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں ایک غریب شخص کو اپنی بیوی کی لاش اٹھا کر 10 کلو میٹر تک طویل سفرکرنا پڑا کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے پیسے نہ ہونے کے باعث اسے ایمبو لنس فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ریاست اڑیسہ کے علاقے کالا ہانڈی کا رہائشی دہارا ماجھی ٹی بی کی بیماری کے باعث بیوی کو سرکاری ہسپتال لے کر گیا جہاں ایک ہفتہ زیر علاج رہنے کے بعد وہ چل بسی، دہارا ماجھی نے ہسپتال انتظامیہ سے بیوی کی لاش گاؤں تک منتقل کرنے کے لئے ایمبولنس فراہم کرنے کی درخواست کی جسے رقم نہ ہونے کے باعث مسترد کردیاگیا۔انتظامیہ کی جانب سے ایمبولنس فراہم نہ کئے جانے پر دھارا ماجھی نے بیوی کی لاش کو ایک چادر میں لپیٹ کر کندھے پر اٹھایا اور60 کلومیٹر دوراپنے گاؤں کی طرف چل پڑا۔ تقریباً دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہاں کی مقامی انتظامیہ نے مذکورہ شخص کی مدد کرتے ہوئے اسے ایمبولینس فراہم کی۔اس دلخراش واقعے کی ویڈیو اور تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد پور ی دنیا میں بھارتی حکمرانوں پر شدید تنقید کی گئی ۔انہی دنوں ایک اور خبر آئی کہ بھارت میں ایک خاتون کھلاڑی نے غربت کے باعث خود کشی کرلی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط میں پوجا کا کہنا تھا کہ وہ غربت اور ہاسٹل کی فیس نہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کر رہی ہے۔ پوجا نے اپنی خود کشی کی وجہ کالج کے ایک پروفیسر کو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے مجھے ہاسٹل میں کمرہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ روز اپنے گھر سے کالج آیا کرو۔ پوجا نے لکھا کہ وہ اتنازیادہ کرایہ برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے والد ایک غریب سبزی فروش ہیں۔ بیس سالہ ہینڈ بال کھلاڑی پوجا پٹیالہ کے گورنمنٹ خالصہ کالج میں زیر تعلیم تھی اور اس کا شمار قومی سطح کے کھلاڑیوں میں ہوتاتھا۔

modikbarat.jpgقارئین ! ایسے الم ناک اوردلخراش واقعات اس ریاست میں آئے روز پیش آتے ہیں جو ہر سال اپنے دفاعی بجٹ میں بے تحاشااضافہ کرتی ہے اور دن رات اس پر جدید اسلحے کی خریداری کا بھوت سوار رہتا ہے ۔ جس وقت میں یہ خبریں پڑ ھ رہا تھا میرے ذہن میں اچانک مودی جی کا ایک بیان گردش کرنے لگا ،ایک موقع پر انہوں نے کہاتھا کہ:’’ پاکستان کو بھارت سے سیکھنا چاہئے کہ غربت اور پسماندگی سے کیسے نبرد آزماہوا جا تا ہے ‘‘۔ ایک عام آدمی مودی جی کا یہ بیان سن کر حیرت زدہ رہ جاتاہے اوروہ سوچتاہے کہ شاید انہیں اپنے ملک میں پھیلی غربت اورا فلاس کا علم نہیں یاپھر جان بوجھ کر حقائق سے آنکھیں چرانا ان کی عادت سی بن گئی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں بھی غربت پائی جاتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے زیادہ بھارت میں لوگ خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے زیادہ غربت بھارت میں ہے ۔ایک مؤقر انگریزی جریدے نے غربت سے متعلق اپنی رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا جہاں غریب طبقے کی آمدنی میں قدرے اضافہ ہورہا ہے جبکہ بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا گیا جہاں اس طبقے کی آمدنی اوسط سے بھی کم رفتار سے بڑھ رہی ہے ۔ جریدے کاکہنا ہے کہ اکیس فیصد بھارتی شہری عالمی بینک کے مقرر کردہ خطِ غربت، یومیہ 1.9 امریکی ڈالر فی کس آمدنی پر، یا اس سے نیچے، زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ پاکستان میں اس کی شرح صرف آٹھ فیصد ہے۔


ایک اور جائزے کے مطابق 26کے قریب غریب ترین افریقی ممالک میں سب سے زیادہ غریب ملک بھارت کو قرار دیا گیا ۔ اوکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو
(Oxford Poverty and Human Development Initiative)
نے اپنی ایک رپورٹ میں غربت کے حوالے سے بھارت کو پسماندہ ریاست دکھا یا ہے ۔ غربت کی پیمائش کے لئے مرتب کی گئی اس رپورٹ میں صحت ، تعلیم ، پینے کے صاف پانی تک رسائی اور بجلی کی دستیابی جیسے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ بھارت ایک پسماندہ ملک ہے۔ آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو کی ڈائریکٹر سبینا الکائرے
(Sahina ALKirey)

کہتی ہیں کہ دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی غریب براعظم افریقہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ جب ہم افریقہ کے 26 غریب ترین ملکوں سے بھارت کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں بھی لوگ اتنے ہی زیادہ غریب اور محرومی کا شکار ہیں جتنا کہ افریقہ میں ‘بلکہ بھارت میں غربت کی شدت افریقی ممالک سے کہیں زیادہ ہے اور یہ پہلو بہت چونکادینے والا اور توجہ طلب ہے۔
جدید اسلحے ، مذہبی تنگ نظری اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کی دوڑمیں شامل بھارت جیسے ملک میں پسماندگی، مفلسی اور غربت کااندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب بھارتی شہر اورنگزیب آباد اور مہاراشٹروغیرہ میں بڑھتی ہوئی غربت کے باعث مخیر حضرات کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت غریب افراد کے لئے ’’روٹی بینک‘‘ کھلنے لگے ہیں جہاں سے غریبوں کو مفت روٹی ملتی ہے۔ایسا اس لئے ہے کہ ریاست اپنے ا ن شہریوں کی بنیاد ی ترین ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ۔
ایک بھارتی جریدے نے لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام
UNDP
(یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام ) کے وضع کردہ پیمانے کے مطابق بھارت کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ عا لمی اداروں نے انسانی ترقی کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے اور غربت کے حوالے سے اعداد و شمار بھارتی حکومت کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ یو این ڈی پی کے مطابق بھارتی ریاستوں گجرات، یوپی، مغربی بنگال اور آسام کے دیہی علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔بھارت میں اقوام متحدہ کے اس ادارے کی کنٹری ڈائریکٹر نے بھارت کے قومی ادارہ برائے دیہی ترقیات کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوں تو بھارت مجموعی طور پر غربت میں کمی کے اپنے ہدف کو پورا کرنے میں لگا ہے لیکن دیہی علاقوں میں غربت و افلاس کئی شکلوں میں نظر آتا ہے، کاشتکاری کے شعبے میں حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور دیہی لوگوں کے لئے روزگار و معاشی ترقی کے مواقع توقع کے مطابق بہتر نہیں ہورہے۔


انہوں نے بھارتی حکمرانوں کے مسلمانوں سے متعلق متعصبانہ اور شدت پسندانہ رویوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں تک مذہبی بنیادوں پر غربت کا سوال ہے تو بھارت میں مسلمانوں میں یہ شرح سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں غربت کی یہ شرح آسام، اتر پردیش، مغربی بنگال اور گجرات کے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل سال 2015ء میں بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن نے بھی د عویٰ کیا تھا کہ ملک میں غریبوں کی modikbarat1.jpgتعداد میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے لیکن شہری علاقوں میں تناسب کے لحاظ سے مسلمانوں میں بدستور غربت بڑھ رہی ہے۔سروے میں مذہب کی بنیاد پر بھی معلومات یکجا کی گئی تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں مسلمان آبادی سب سے زیادہ غریب ، پسماندہ اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے ۔ نوبل انعام یافتہ اور معروف معاشی دانشور امرت سین نے نئی دہلی میں منعقد ایک پروگرام جو حکومت کی طرف سے غربا کو نقد رقم تقسیم کرنے کے منصوبے پر تھا‘کے موقع پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پیسے دینے کی یہ سکیمیں غریبوں کو غذا فراہم کرنے کے حق میں کبھی بہتر نہیں ہو سکتیں جب تک کہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس پالیسی مرتب نہ کی جائے ۔
یونی سیف
(United Nations International Children's Emergency Fund)
بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والا ایک معروف عالمی ادارہ ہے ۔ اس نے
``Children in Urban World``
کے عنوان سے جاری کر دہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ شہری علاقوں میں رہنے والے غریب بچوں کی حالت دیہی علاقوں کے بچوں سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے۔ یونی سیف نے بھارت کے بڑے شہروں میں نہایت غریب افراد پر مشتمل تقریباً پچاس ہزار گندی بستیوں کے متعلق اپنے سروے میں بتایا کہ ان بستیوں میں ہر تین میں سے ایک شخص یا توگندے نالے یا پھر ریلوے لائن کے پاس رہتا ہے جبکہ ان گندی بستیوں اور ان کے آس پاس رہنے والے بچوں کی حالت گاؤں کے بچوں سے بھی بہت بری ہے اور ان بچوں کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں ہو پاتی۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر گندی بستیاں ریاست مہاراشٹر، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور گجرات میں ہیں۔بھارت میں بڑھتی غربت اور غریب بچوں کی حالتِ زار پر توجہ دلاتے ہوئے ممبئی کے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسزکے سربراہ ڈاکٹر پرسو رام کا کہنا ہے کہ بھارت میں غربت کے سبب کم عمر بچوں کی اموات زیادہ ہوتی ہیں ۔ڈاکٹر پرسو رام کے مطابق بھارت میں تیزی سے پھیلتی ہوئی غربت سے سب سے زیادہ دلت اور مسلمانوں کے بچے متاثر ہورہے ہیں۔


قارئین ! مندرجہ بالا سطور میں ہم نے مستند عالمی اور بھارتی اداروں اور ماہرین کی چند ہوشربا رپورٹس اور تازہ خبروں کی روشنی میں نریندر مودی کے بھارت میں غربت،افلاس ، تنگدستی، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی اور پسماندگی کا ایک مختصر سا جائزہ لیا ہے، ہمارے خیال سے ان اداروں کی رپورٹس اور جائزوں کویکسر مسترد کرنا قرین انصاف نہیں ہوگا ۔ ان رپورٹس کی بابت جب پڑوسی ملک کے چند صحافیوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں پھیلی غربت اورمفلسی کے حوالے سے انہیں کافی قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس عنوان پرابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پور ی ریاست میں پسماندگی کی صورتحال اس سے بھی بری ہے،بالخصوص دیہات اور دو ر دراز کے علاقوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں۔یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ یہ حالت ایک ایسے ملک کی ہے جس کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مضبوط ترین جمہوری ، فوجی، معاشی اور اقتصادی ریاست ہے اور اگر کسی ملک نے غربت اور پسماندگی سے نبرد آزماہونا ہے تو وہ بھارت کو رول ماڈل قرار دیتے ہوئے اور اس سے کچھ سیکھ کر ان چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے ۔


بہر کیف پڑوسی ملک کی مودی سرکار اوراس کے ساتھیوں کو چاہئے کہ اپنے بھاری بھر کم فوجی بجٹ اور دہشت گرد ہندو تنظیموں کو نوازنے کے لئے مختص رقم میں سے کچھ حصہ غریبوں کی روٹی اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے بھی نکالیں۔اپنے ملک سے دہشت گرد اور تنگ نظر ہندو تنظیموں کو ختم کرکے صحت ، روزگار اور تعلیم کے معاملات پرتوجہ دینے کے ساتھ ساتھ نفرت آمیز رویوں کا خاتمہ کرکے اقلیتوں اور غریبوں کو جینے کا حق دیجئے وگرنہ زمینی حقائق یہ بتارہے ہیں کہ اگر تختِ دلی نے ان اہم بنیادی انسانی مسائل کی جانب توجہ نہ دی تو اس کی یہ مجرمانہ غفلت اس کے گلے کاپھندا بن جائے گی اور حکمرانوں کے انسانیت دشمن اور مسلم، عیسائی ، سکھ دشمن اقدامات آخر ایک دن بھارتی وجود کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔ یوں اس ریاست کے لئے اپنی بقاکی جنگ لڑنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter