10
February

مودی کے بھارت میں مفلسی کا راج

تحریر: عبد الستار اعوان

گزشتہ دنوں عالمی میڈیا پر ایک خبر گردش کرتی رہی کہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں ایک غریب شخص کو اپنی بیوی کی لاش اٹھا کر 10 کلو میٹر تک طویل سفرکرنا پڑا کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے پیسے نہ ہونے کے باعث اسے ایمبو لنس فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ریاست اڑیسہ کے علاقے کالا ہانڈی کا رہائشی دہارا ماجھی ٹی بی کی بیماری کے باعث بیوی کو سرکاری ہسپتال لے کر گیا جہاں ایک ہفتہ زیر علاج رہنے کے بعد وہ چل بسی، دہارا ماجھی نے ہسپتال انتظامیہ سے بیوی کی لاش گاؤں تک منتقل کرنے کے لئے ایمبولنس فراہم کرنے کی درخواست کی جسے رقم نہ ہونے کے باعث مسترد کردیاگیا۔انتظامیہ کی جانب سے ایمبولنس فراہم نہ کئے جانے پر دھارا ماجھی نے بیوی کی لاش کو ایک چادر میں لپیٹ کر کندھے پر اٹھایا اور60 کلومیٹر دوراپنے گاؤں کی طرف چل پڑا۔ تقریباً دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہاں کی مقامی انتظامیہ نے مذکورہ شخص کی مدد کرتے ہوئے اسے ایمبولینس فراہم کی۔اس دلخراش واقعے کی ویڈیو اور تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد پور ی دنیا میں بھارتی حکمرانوں پر شدید تنقید کی گئی ۔انہی دنوں ایک اور خبر آئی کہ بھارت میں ایک خاتون کھلاڑی نے غربت کے باعث خود کشی کرلی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط میں پوجا کا کہنا تھا کہ وہ غربت اور ہاسٹل کی فیس نہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کر رہی ہے۔ پوجا نے اپنی خود کشی کی وجہ کالج کے ایک پروفیسر کو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے مجھے ہاسٹل میں کمرہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ روز اپنے گھر سے کالج آیا کرو۔ پوجا نے لکھا کہ وہ اتنازیادہ کرایہ برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے والد ایک غریب سبزی فروش ہیں۔ بیس سالہ ہینڈ بال کھلاڑی پوجا پٹیالہ کے گورنمنٹ خالصہ کالج میں زیر تعلیم تھی اور اس کا شمار قومی سطح کے کھلاڑیوں میں ہوتاتھا۔

modikbarat.jpgقارئین ! ایسے الم ناک اوردلخراش واقعات اس ریاست میں آئے روز پیش آتے ہیں جو ہر سال اپنے دفاعی بجٹ میں بے تحاشااضافہ کرتی ہے اور دن رات اس پر جدید اسلحے کی خریداری کا بھوت سوار رہتا ہے ۔ جس وقت میں یہ خبریں پڑ ھ رہا تھا میرے ذہن میں اچانک مودی جی کا ایک بیان گردش کرنے لگا ،ایک موقع پر انہوں نے کہاتھا کہ:’’ پاکستان کو بھارت سے سیکھنا چاہئے کہ غربت اور پسماندگی سے کیسے نبرد آزماہوا جا تا ہے ‘‘۔ ایک عام آدمی مودی جی کا یہ بیان سن کر حیرت زدہ رہ جاتاہے اوروہ سوچتاہے کہ شاید انہیں اپنے ملک میں پھیلی غربت اورا فلاس کا علم نہیں یاپھر جان بوجھ کر حقائق سے آنکھیں چرانا ان کی عادت سی بن گئی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں بھی غربت پائی جاتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے زیادہ بھارت میں لوگ خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے زیادہ غربت بھارت میں ہے ۔ایک مؤقر انگریزی جریدے نے غربت سے متعلق اپنی رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا جہاں غریب طبقے کی آمدنی میں قدرے اضافہ ہورہا ہے جبکہ بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا گیا جہاں اس طبقے کی آمدنی اوسط سے بھی کم رفتار سے بڑھ رہی ہے ۔ جریدے کاکہنا ہے کہ اکیس فیصد بھارتی شہری عالمی بینک کے مقرر کردہ خطِ غربت، یومیہ 1.9 امریکی ڈالر فی کس آمدنی پر، یا اس سے نیچے، زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ پاکستان میں اس کی شرح صرف آٹھ فیصد ہے۔


ایک اور جائزے کے مطابق 26کے قریب غریب ترین افریقی ممالک میں سب سے زیادہ غریب ملک بھارت کو قرار دیا گیا ۔ اوکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو
(Oxford Poverty and Human Development Initiative)
نے اپنی ایک رپورٹ میں غربت کے حوالے سے بھارت کو پسماندہ ریاست دکھا یا ہے ۔ غربت کی پیمائش کے لئے مرتب کی گئی اس رپورٹ میں صحت ، تعلیم ، پینے کے صاف پانی تک رسائی اور بجلی کی دستیابی جیسے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ بھارت ایک پسماندہ ملک ہے۔ آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو کی ڈائریکٹر سبینا الکائرے
(Sahina ALKirey)

کہتی ہیں کہ دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی غریب براعظم افریقہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ جب ہم افریقہ کے 26 غریب ترین ملکوں سے بھارت کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں بھی لوگ اتنے ہی زیادہ غریب اور محرومی کا شکار ہیں جتنا کہ افریقہ میں ‘بلکہ بھارت میں غربت کی شدت افریقی ممالک سے کہیں زیادہ ہے اور یہ پہلو بہت چونکادینے والا اور توجہ طلب ہے۔
جدید اسلحے ، مذہبی تنگ نظری اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کی دوڑمیں شامل بھارت جیسے ملک میں پسماندگی، مفلسی اور غربت کااندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب بھارتی شہر اورنگزیب آباد اور مہاراشٹروغیرہ میں بڑھتی ہوئی غربت کے باعث مخیر حضرات کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت غریب افراد کے لئے ’’روٹی بینک‘‘ کھلنے لگے ہیں جہاں سے غریبوں کو مفت روٹی ملتی ہے۔ایسا اس لئے ہے کہ ریاست اپنے ا ن شہریوں کی بنیاد ی ترین ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ۔
ایک بھارتی جریدے نے لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام
UNDP
(یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام ) کے وضع کردہ پیمانے کے مطابق بھارت کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ عا لمی اداروں نے انسانی ترقی کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے اور غربت کے حوالے سے اعداد و شمار بھارتی حکومت کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ یو این ڈی پی کے مطابق بھارتی ریاستوں گجرات، یوپی، مغربی بنگال اور آسام کے دیہی علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔بھارت میں اقوام متحدہ کے اس ادارے کی کنٹری ڈائریکٹر نے بھارت کے قومی ادارہ برائے دیہی ترقیات کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوں تو بھارت مجموعی طور پر غربت میں کمی کے اپنے ہدف کو پورا کرنے میں لگا ہے لیکن دیہی علاقوں میں غربت و افلاس کئی شکلوں میں نظر آتا ہے، کاشتکاری کے شعبے میں حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور دیہی لوگوں کے لئے روزگار و معاشی ترقی کے مواقع توقع کے مطابق بہتر نہیں ہورہے۔


انہوں نے بھارتی حکمرانوں کے مسلمانوں سے متعلق متعصبانہ اور شدت پسندانہ رویوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں تک مذہبی بنیادوں پر غربت کا سوال ہے تو بھارت میں مسلمانوں میں یہ شرح سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں غربت کی یہ شرح آسام، اتر پردیش، مغربی بنگال اور گجرات کے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل سال 2015ء میں بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن نے بھی د عویٰ کیا تھا کہ ملک میں غریبوں کی modikbarat1.jpgتعداد میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے لیکن شہری علاقوں میں تناسب کے لحاظ سے مسلمانوں میں بدستور غربت بڑھ رہی ہے۔سروے میں مذہب کی بنیاد پر بھی معلومات یکجا کی گئی تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں مسلمان آبادی سب سے زیادہ غریب ، پسماندہ اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے ۔ نوبل انعام یافتہ اور معروف معاشی دانشور امرت سین نے نئی دہلی میں منعقد ایک پروگرام جو حکومت کی طرف سے غربا کو نقد رقم تقسیم کرنے کے منصوبے پر تھا‘کے موقع پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پیسے دینے کی یہ سکیمیں غریبوں کو غذا فراہم کرنے کے حق میں کبھی بہتر نہیں ہو سکتیں جب تک کہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس پالیسی مرتب نہ کی جائے ۔
یونی سیف
(United Nations International Children's Emergency Fund)
بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والا ایک معروف عالمی ادارہ ہے ۔ اس نے
``Children in Urban World``
کے عنوان سے جاری کر دہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ شہری علاقوں میں رہنے والے غریب بچوں کی حالت دیہی علاقوں کے بچوں سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے۔ یونی سیف نے بھارت کے بڑے شہروں میں نہایت غریب افراد پر مشتمل تقریباً پچاس ہزار گندی بستیوں کے متعلق اپنے سروے میں بتایا کہ ان بستیوں میں ہر تین میں سے ایک شخص یا توگندے نالے یا پھر ریلوے لائن کے پاس رہتا ہے جبکہ ان گندی بستیوں اور ان کے آس پاس رہنے والے بچوں کی حالت گاؤں کے بچوں سے بھی بہت بری ہے اور ان بچوں کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں ہو پاتی۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر گندی بستیاں ریاست مہاراشٹر، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور گجرات میں ہیں۔بھارت میں بڑھتی غربت اور غریب بچوں کی حالتِ زار پر توجہ دلاتے ہوئے ممبئی کے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسزکے سربراہ ڈاکٹر پرسو رام کا کہنا ہے کہ بھارت میں غربت کے سبب کم عمر بچوں کی اموات زیادہ ہوتی ہیں ۔ڈاکٹر پرسو رام کے مطابق بھارت میں تیزی سے پھیلتی ہوئی غربت سے سب سے زیادہ دلت اور مسلمانوں کے بچے متاثر ہورہے ہیں۔


قارئین ! مندرجہ بالا سطور میں ہم نے مستند عالمی اور بھارتی اداروں اور ماہرین کی چند ہوشربا رپورٹس اور تازہ خبروں کی روشنی میں نریندر مودی کے بھارت میں غربت،افلاس ، تنگدستی، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی اور پسماندگی کا ایک مختصر سا جائزہ لیا ہے، ہمارے خیال سے ان اداروں کی رپورٹس اور جائزوں کویکسر مسترد کرنا قرین انصاف نہیں ہوگا ۔ ان رپورٹس کی بابت جب پڑوسی ملک کے چند صحافیوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں پھیلی غربت اورمفلسی کے حوالے سے انہیں کافی قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس عنوان پرابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پور ی ریاست میں پسماندگی کی صورتحال اس سے بھی بری ہے،بالخصوص دیہات اور دو ر دراز کے علاقوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں۔یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ یہ حالت ایک ایسے ملک کی ہے جس کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مضبوط ترین جمہوری ، فوجی، معاشی اور اقتصادی ریاست ہے اور اگر کسی ملک نے غربت اور پسماندگی سے نبرد آزماہونا ہے تو وہ بھارت کو رول ماڈل قرار دیتے ہوئے اور اس سے کچھ سیکھ کر ان چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے ۔


بہر کیف پڑوسی ملک کی مودی سرکار اوراس کے ساتھیوں کو چاہئے کہ اپنے بھاری بھر کم فوجی بجٹ اور دہشت گرد ہندو تنظیموں کو نوازنے کے لئے مختص رقم میں سے کچھ حصہ غریبوں کی روٹی اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے بھی نکالیں۔اپنے ملک سے دہشت گرد اور تنگ نظر ہندو تنظیموں کو ختم کرکے صحت ، روزگار اور تعلیم کے معاملات پرتوجہ دینے کے ساتھ ساتھ نفرت آمیز رویوں کا خاتمہ کرکے اقلیتوں اور غریبوں کو جینے کا حق دیجئے وگرنہ زمینی حقائق یہ بتارہے ہیں کہ اگر تختِ دلی نے ان اہم بنیادی انسانی مسائل کی جانب توجہ نہ دی تو اس کی یہ مجرمانہ غفلت اس کے گلے کاپھندا بن جائے گی اور حکمرانوں کے انسانیت دشمن اور مسلم، عیسائی ، سکھ دشمن اقدامات آخر ایک دن بھارتی وجود کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔ یوں اس ریاست کے لئے اپنی بقاکی جنگ لڑنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
February

بحرہند میں امن کا فروغ

تحریر: محمد اعظم خان

سمندر کے ذریعے بڑی تعداد میں نقل و حمل نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ فضائی نقل و حمل سے تقریباً 163گنا سستی بھی ہے۔ 90 فیصد بین البراعظمی سامان کی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے جو کہ تقریباً 15ملین کنٹینرز کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور یہ کنٹینرز سا لانہ 200ملین سے زائد مرتبہ بحری سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے 38ہزار سے زائد تجارتی جہاز سمندری راستوں کے ذریعے 4500سے زائدبین الاقوامی بندرگاہوں کے درمیان ایک عالمگیر رابطے کا باعث بنتے ہیں۔
68.56ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا بحرہند دنیامیں تیسرا بڑا بحر ہے جو زمین کی سطح کے تقریباً 20فی صد حصے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔47ممالک کے ساحلوں اور کئی جزیروں کا مسکن بحر ہند جغرافیائی خدوخال کی وجہ سے بہت اہم ہے۔

behrhindmainmut.jpgبحر ہندمیں سالانہ تقریباً ایک لاکھ جہاز ایک وسیع علاقے کا سفر کرتے ہیں اور یہ بحر دنیا میں‘ وزن کے اعتبار سے‘ سامان کی بڑی مقدار میں نقل و حرکت کا بحر مانا جاتا ہے۔ یہ بحر دنیا کے طویل سفر کرنے والے مال بردار جہازوں کی نقل و حمل کے لئے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً نصف بحری آمدو رفت اور پیٹرولیم مصنوعات کی80 فیصد سے زائد نقل و حمل اسی بحر کے ذریعے ہوتی ہے۔ دنیا کے تیل کا 65فیصد حصہ اور گیس کے 35فیصد ذخائر بحر ہند کے ساحلی ممالک میں واقع ہیں۔ کئی ممالک کی تجارتی آمدو رفت اسی بحرکے ذریعے ہوتی ہے۔ امریکہ ، فرانس اور جاپان، خلیج سے توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں ۔ مشرق سے مغرب کابحری تجارتی راستہ جو عین شمالی بحرِ ہند سے گزرتا ہے، دنیا کا اہم ترین تجارتی راستہ ہے اور ہزاروں جہاز ہر وقت اس پر رواں رہتے ہیں ۔
اکیسویں صدی اپنے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے بے مثال مواقع لائی ہے لیکن یہ مواقع سیاسی اور معاشی بد نظمی اور عدم استحکام جیسے خطرات سے دوچار ہیں ۔ دنیا کی قومی معیشتوں کے حوالے سے ان میں سے 80کی دہائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ، توانائی اور صنعتی خام مال کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔نتیجہ یہ کہ اس صورت حال نے بین الاقوامی تجارت کو بہت تیزی کے ساتھ بحری تجارتی راستوں کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، بحری قزاقی، سمندری وسائل کے استحصال،معاشی نظام میں بگاڑ اورعالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کے پس منظر میں عالمی سکیورٹی، اقتصادیات اور ماحول کو لاحق مختلف النوع خطرات میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے،جس کے لئے مشترکہ اورزیرک سوچ کی ضرورت ہے۔ بحری تجارت میں ہر ملک شامل ہے اور اس کی حفاظت تمام شراکت داروں کی مربوط حکمت عملی کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔


سا ل2007سے پاک بحریہ کی جانب سے منعقد ہ امن مشقیں اور انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس مغربی بحرہند میں میری ٹائم سکیورٹی کو بہتر بنانے کی جانب ایک غیر معمولی قد م ہے۔ ’’امن‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی انگریزی میں
’’Peace‘‘
کے ہیں۔اس مشق کا سلوگن ’’ امن کے لئے متحد
، Together for Peace‘‘
ہے جو اس مشق کی بنیاد بنا۔2007 سے منعقدہ ہرمشق میں عالمی بحری افواج اور مندوبین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔مشق امن 2007میں عالمی بحری افواج کے14 جہازوں، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی 2ٹیموں اور 21ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ سال 2009میں منعقدہ دوسری امن مشق میں14جہازوں، 2 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسزکی9ٹیموں اور 27ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ مارچ2011میں منعقد ہونے والی تیسری امن مشق میں 11 جہازوں، 3 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی اور میرینز کی 3 ٹیموں اور 28ممالک کے43مندوبین نے شرکت کی۔ امن مشقوں کے سلسلے کی چوتھی مشق امن 2013میں 12جہازوں ،2ایئر کرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی6ٹیموں اور29ممالک کے 36 مندوبین نے شرکت کی۔
امن مشقوں کے انعقادکامقصد معلومات کے تبادلے اور باہمی دلچسپی کے اُمور بشمول میری ٹائم سکیورٹی کے مسائل ،دہشت گردی کے خاتمے اور انسانیت کی مدد جیسے آپریشنزپر یکساں سوچ کوفروغ دینا ہے۔ مشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فضا،سمندر اور زیر سمندر خطرات سے نبردآزمائی کے لئے مشترکہ مہارتوں کے فروغ اور مختلف مشقوں کے ذریعے سپیشل آپریشنز فورسز کی مہارتوں میں اضافے کا حصول بھی ان مشقوں کے انعقاد کے مقاصد میں شامل ہے۔


امن مشقوں کا انعقاد پاکستان نیوی کا ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ کثیر مقاصد کے حصول کی حامل یہ مشقیں خطے میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی بحری افواج کے ساتھ پاک بحریہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہیں ۔ امن مشقوں کے انعقاد سے نہ صرف علاقائی قوت کے طور پرپاک بحریہ کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اتحادی ممالک کا پاک بحریہ پر اعتماد بھی بڑھا ہے۔مشق امن 2017کا انعقاد اس اعتمادمیں مزید اضافے کا باعث ہوگا ۔مشق امن 2017 میں 35ممالک سے زائد جہاز، ایئرکرافٹ، ہیلی کاپٹرز، سپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو نا کا رہ بنانے والی ٹیمیں، میرینز پر مشتمل ٹیمیں اور مندوبین شرکت کریں گے۔ مشق امن 2017 میں اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت پاکستان کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے لئے کی جانے والی کوششوں پر عالمی برادری کے اعتماد و یقین اور مستقبل میں پاکستان اور پاک بحریہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 
06
October

ایٹمی ہتھیاروں کا مسئلہ

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخان

شمالی کوریا کی طرف سے 3ستمبر کو ہائیڈروجن بم اور اس سے قبل اوائل اگست میں بیلسٹک میزائل کے تجربات کے خلاف رد عمل کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کے خلاف بھاری اقتصادی پابندیوں کے حق میں قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے تحت شمالی کوریا کو تیل اور گیس کی فراہمی اور اس کی ٹیکسٹائل برآمدات پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ ان سے کہیں زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنا چاہتا تھا جن میں تیل اور گیس کی درآمدات پر مکمل پابندی، شمالی کوریا اور اس کے لیڈر کم جونگ کے اثاثوں کو منجمد کرنا شامل تھا۔ مگر چین اور روس نے ان پابندیوں کی مخالفت کی تھی اور سلامتی کونسل میں اس کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم امریکہ کی طرف سے پابندیوں میں نرمی پر آمادگی کے بعد نئی قرارداد منظور کر لی گئی۔ مبصرین کے مطابق نئی قرارداد میں بھی جن پابندیوں کی سفارش کی گئی ہے، کافی سخت ہیں اور وہ شمالی کوریا کی معیشت کو کافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس سے قبل بھی سلامتی کونسل شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کی منظوری دے چکی ہے۔ یہ پابندیاں اوائل اگست میں شمالی کوریا کی طرف سے دور تک مار کرنے والے میزائل ٹیسٹ کے جواب میں عائد کی گئی تھیں۔ ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کی تین اہم برآمدات یعنی کوئلہ، خام لوہا اور سی فوڈ
(Sea Food)
کی خریداری کی بندش بھی شامل تھی۔
اگرچہ شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات اور میزائل کی تیاریوں پر مشرق بعید کے دیگر ممالک خصوصاً جاپان اور جنوبی کوریا کو بھی شدید تشویش لاحق ہے۔ مگر کوریا کا مسئلہ بنیادی طور پر امریکہ اور شمالی کوریا کے گرد گھومتا ہے۔ اس مسئلے کی کیا نوعیت ہے؟ کیا اس کا باعث صرف شمالی کوریا کا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام ہے۔ یا اسے پیدا کرنے اور اسے سنگین بنانے میں امریکہ کا بھی ہاتھ ہے؟ ان دونوں ممالک کے مفادات کے علاوہ اور کون سے جیوسٹریٹجک اور سیاسی عوامل ہیں جو اس مسئلے کے ایک مستقل اور تسلی بخش حل کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق الٹنا پڑیں گے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مسئلہ کب شروع ہوا؟ کیسے شروع ہوا؟ اور موجودہ مرحلے پر کیسے پہنچا؟


اگر ہم نقشے میں جزیرہ نما کوریا اور اس کے گردونواح میں واقع علاقوں پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ جاپان اور جزیرہ نما کوریا کے درمیان بہت کم فاصلہ ہے۔ اسی لئے جزیرہ نما کوریا کو ایک ایسے خنجر سے تشبیہہ دی جاتی ہے جس کا رخ جاپان کی طرف ہے۔ ماضی قدیم میں ایشیا سے جاپان پر جتنے بھی حملے ہوئے یا آبادی کی نقل مکانی ہوئی۔ وہ جزیرہ نما کوریا کے راستے ہی ہوئی۔ حتیٰ کہ بدھ مت بھی جاپان میں ایشیا (چین) سے جزیرہ نما کوریا کے راستے ہی سے داخل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا اور جاپان نے اس میں شرکت کا اعلان کیا تو اس کا سب سے پہلا اقدام جزیرہ نما کوریا پر قبضہ تھا۔ جنگ ہارنے کے بعد دوسری جنگ میں امریکہ اور سابقہ سوویت یونین نے جزیرہ نما کوریا کو جاپانی فوج سے آزاد کروا لیا۔ لیکن متوازی خط الاستوا کے ساتھ ساتھ دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ یہیں سے جزیرہ نما کوریا اور اس کے باشندوں پر دور ابتلاء کا آغاز ہوتاہے۔ کیونکہ جنگ کے بعد شمالی حصے میں سابقہ سوویت یونین کے زیراثر ایک کمیونسٹ حکومت قائم کر دی گئی اور جنوبی حصے میں امریکہ نے اپنا قبضہ مستحکم کر کے ایک الگ حکومت قائم کر دی اور اس کے ساتھ ہی اپنی افواج جنوبی حصے میں متعین کر دیں۔ یوں جزیرہ نما کوریا جو جنگ عظیم دوئم سے قبل ایک ہی ملک تھا، دو ممالک یعنی شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں منقسم ہو گیا۔ اسی تقسیم کی وجہ سے 1951میں کوریا کی جنگ چھڑ گئی۔ جو دو سال تک جاری رہی۔ اس میں اگرچہ اقوام متحدہ کی کمان کے تحت متعدد ملکوں کے فوجی دستوں نے جنوبی کوریا پر شمالی کوریا کے حملے کے خلاف حصہ لیا تھا لیکن 90فیصد فوجیں امریکہ کی تھیں۔ اسی لئے شروع سے ہی شمالی کوریا کی نظر میں امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو اس کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور کوریا کے دو حصوں کو دوبارہ ایک کرنے کے خلاف ہے۔ 1953 میں جب کوریا کی جنگ بند کرنے پر فریقین رضا مند ہوئے تو جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان مستقل معاہدہ امن کی بجائے عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، اس کی وجہ یہ تھی کہ شمالی کوریا، کوریا کی تقسیم کو غیرفطری اور ناانصافی پر مبنی فیصلہ سمجھتا ہے۔ جسے امریکہ نے بحرالکاہل میں اپنے اور اپنے اتحادی ممالک خصوصاً جاپان کے مفادات کے تحفظ کے لئے کوریا کے عوام پر زبردستی ٹھونس رکھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں کوریا کی وجہ سے مشرق بعید میں حالات سخت کشیدہ رہے کیونکہ امریکہ نے جنوبی کوریا کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کر رکھا تھا جہاں ایٹمی ہتھیار بھی موجود تھے۔ جنوبی کوریا میں امریکہ ایٹمی اور غیرایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہزاروں کی تعداد میں اپنی افواج کی موجودگی کو شمالی کوریا کی طرف سے کسی ممکنہ حملے کو روکنے کے لئے ضروری سمجھتا تھا۔ مگر شمالی کوریا کے لئے یہ ایک کھلی اشتعال انگیزی تھی۔ اس کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں حالات سخت کشیدہ رہے۔ کیونکہ شمالی کوریا کو روس اور چین دونوں کی حمایت حاصل تھی لیکن 1990کی دہائی کے اوائل میں سابقہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور دو سپر طاقتوں کے درمیان سردجنگ کے خاتمے سے شمالی کوریا کے لئے ایک بالکل نئے اور مشکل دور کا آغاز ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سویت یونین شمالی کوریا کا واحد سہارا تھا اس کے حصے بخرے ہونے کے بعد اس کی جگہ جو نیا ملک یعنی روس ابھرا اس نے شمالی کوریا کا ساتھ دینے یا کسی قسم کی امداد فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ سابقہ سوویت یونین دور میں شمالی کوریا کے ساتھ تعاون، دوستی اور باہمی امداد کے لئے جو معاہدہ تھا، نئے ملک روس نے اس میں توسیع کرنے سے انکار رکر دیا بلکہ تین سال بعد اس معاہدے کو منسوخ کر دیا۔ سوویت یونین کا خاتمہ شمالی کوریا کے لئے ایک سخت دھچکا تھا۔ اس نے چین سے رابطہ قائم کر کے اس سے امداد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن چین جس کے ساتھ شمالی کوریا کی 1300کلومیٹر لمبی سرحد ملتی ہے بڑے پیمانے پر شمالی کوریا کو امداد فراہم کرنے سے قاصر تھا۔ اسی دوران جنوبی کوریا نے نہ صرف زبردست اقتصادی ترقی کی بلکہ جاپان، امریکہ اور دُنیا کے دیگر ممالک کے علاوہ خود چین نے بھی اس کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات قائم کر لئے۔ اس کے مقابلے میں روس کا واحد سہارا چھن جانے کے بعد شمالی کوریا کی معیشت خصوصاً زراعت اور صنعت بری طرح متاثر ہوئی اور لوگوں کا معیار زندگی گرنے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کو امریکہ کی طرف سے معاندانہ بلکہ جارحانہ رویے کا سامنا تھا جس نے جنوبی کوریا میں اپنی فوجی قوت کو بڑھا کر شمالی کوریا کے لئے ایک واضح خطرے کی صورت پیدا کر دی تھی۔ مبصرین کے مطابق شمالی کوریا نے مایوس ہو کر ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے اس نے سب سے پہلے جوہری ہتھیار کے عدم پھیلائو کے معاہدے یعنی
NPT
سے علیحدگی اختیار کر لی۔ جب امریکہ کو شمالی کوریا کی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا پتہ چلا تو اس نے چین کے ذریعے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ چین خود بھی جزیرہ نما کوریا میں ایٹمی اسلحے کی دوڑ کے خلاف تھا۔ اس لئے اس نے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو روک دینے کی درخواست کی اور اس کے ساتھ امریکہ کو بھی کہا کہ وہ شمالی کوریا کی سلامتی کو لاحق خطرات دور کرنے کے لئے اقدامات کرے جن میں سرفہرست جنوبی کوریا میں اسلحے کے انبار لگانے اور بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کرنے سے اجتناب تھا لیکن اس معاملے میں جب امریکہ نے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا بلکہ شمالی کوریا کو حملے کی دھمکی دیتا رہاتو شمالی کوریا نے ایٹمی تجربات کا اعلان کر دیا اور 2005 میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ اس کے بعد امریکہ نے شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت میں نہ صرف زیادہ دلچسپی ظاہر کرنا شروع کر دی بلکہ اس کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا۔ ابتداء میں یہ مذاکرات چین کے توسط سے شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان تھے لیکن بعد میں جاپان، جنوبی کوریا اور روس کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ امریکہ کے صدر جمی کارٹر کی کوششوں سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کے تحت شمالی کوریا نے اپنے زیرتعمیر دو ایٹمی ری ایکٹر بند کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس کے بدلے امریکہ نے شمالی کوریا کو ایٹمی قوت کے پرامن استعمال کے لئے 1000میگاواٹ کے دو ہلکے پانی کے ری ایکٹر اور ہر سال 50,000ٹن تیل دینے کا وعدہ کیا مگر اسی دوران امریکہ میں ڈیموکرٹیک پارٹی کے صدر کارٹر کی جگہ ری پبلکن پارٹی کے صدر ڈونلڈ ریگن نے حکومت سنبھال لی۔ ریگن انتظامیہ کی تمام تر توجہ افغانستان پر تھی۔ اسی لئے شمالی کوریا کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ جواب میں شمالی کوریا نے بھی اپنے ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر جاری رکھی۔ تاہم بل کلنٹن کے زمانے میں امریکہ اور شمالی کوریا ایک دفعہ پھر معاہدے کے قریب پہنچ گئے۔ کلنٹن انتظامیہ کی دوسری مدت کے آخری سال یعنی 2000 میں سیکرٹری آف سٹیٹ میڈلین البرائٹ نے شمالی کوریا کا دورہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے شمالی کوریا کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ کلنٹن کے شمالی کوریا اور شمالی کوریا کے لیڈر کم اِل سونگ کے امریکہ کے دورے کی بات چیت بھی چل رہی تھی۔ لیکن بش کے برسراقتدار آنے سے حالات یکسر بدل گئے۔ کیونکہ بش نے 2002میں اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں شمالی کوریا کو ایران، عراق کے ساتھ جوڑکے تینوں ممالک کو ایکسز آف ایول
(Axis of Evil)
قرار دے دیا۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور اول الذکر کی طرف سے چھٹا ہائیڈروجن بم کا دھماکہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے شکوک و شبہات اور عدم اعتماد اس عمل کی پیداوار ہے جس میں امریکہ شمالی کوریا کے سکیورٹی کے متعلق جائز خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سلامتی کونسل نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے سخت پابندیاں تو عائد کر دی ہیں لیکن ان سے کوریا کا ایٹمی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ کیونکہ جیسا کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ پابندیوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔

مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مرغِ چمن
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن
برگِ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی بادِ صبح
اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن
حسنِ بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لئے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بَن؟
اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن!
مَن کی دُنیا؟ مَن کی دنیا سوز و مستی جذب و شوق
تن کی دنیا؟ تن کی دنیا سُود و سَودا مکر و فن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تَن کی دولت چھائوں ہے! آتا ہے دھن، جاتاہے دھن!
مَن کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
مَن کی دنیا میں نہ دیکھے میںنے شیخ و برہمن
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ مَن تیرا، نہ تَن!

علامہ محمداقبال

*****

 
10
February

علاقائی تعاون۔ مگر کیسے؟

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی شروعات نومبر 2011 میں ہوئیں۔ کانفرنس کا مقصد ایک مخلصانہ پلیٹ فارم بنانا تھا جس کے ذریعے نتیجہ خیز علاقائی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ افغانستان کو مرکز گفتگو بنا کر اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان تمام مشترکہ مشکلات اور چیلنجزجو کہ افغانستان خاص کر اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ممالک کو درپیش ہیں ان کا بہتر حل تلاش کرنا تھا۔ مرکزی خیال یہی تھا کہ محفوظ اور مستحکم افغانستان ہی اس تمام خطے کی ترقی اور خوش حالی کا ضامن ہو گا۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں جو کہ استنبول سلسلہ بھی کہلاتا ہے کل چودہ ممالک شامل ہیں۔ تمام اہم علاقائی ممالک اس کے ممبر ہیں جبکہ 17معاون ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس کے ساتھ بارہ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بطور معاون موجود ہیں۔ یہ تنظیم تین بنیادی مسائل یا معاملات جو کہ سیاسی مشاورت‘ اعتماد سازی کے اقدامات اور علاقائی تنظیموں سے تعاون ہیں،کی طرف مرکوز ہے۔
ماضی میں کچھ اس سے ملتی جلتی ایک کانفرنس
European Conference on Security & Cooperation
جو کہ یورپ میں سکیورٹی اور تعاون کے نام سے جولائی 1973 میں شروع کی گئی تھی۔ سرد جنگ کے زمانے میں ایسی کانفرنس کا انعقاد ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں مشہور زمانہ ہیلسنکی معاہدے پر اگست 1975 میں دستخط ہوئے۔ اسی کانفرنس نے آگے جا کر یورپی تنظیم برائے سکیورٹی اور تعاون کا روپ دھار لیا۔
OSCE
اس وقت دنیا کی سب سے بڑی علاقائی سکیورٹی کی تنظیم بن چکی ہے۔ جس کے 57ممالک ممبر ہیں۔ ہارٹ آف آیشیا کانفرنس شروع کرنے کے پیچھے ممکن ہے
OSCE
کاَ کامیاب انعقاد پیش نظر ہو۔ اس وقت ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی ’6سال کے عرصے میں‘ 6کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔ استنبول، کابل، الماتی، (قازقستان)،بیجنگ اور اسلام آباد جبکہ آخری یعنی چھٹی کانفرنس امرتسر میں 5دسمبر کو منعقد ہوئی۔


چھٹی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے پہلے پاک بھارت تعلقات بدترین سطح پر پہنچ چکے تھے۔ 2016 کے وسط میں کشمیر کے مقبوضہ علاقے میں تحریک آزادی میں مزید شدت اس وقت آئی۔ جب برہان مظفر وانی کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ بھارت اپنی تمام تر ریاستی زور اور طاقت کے باوجود کشمیریوں کی حق خودارادی کی تحریک کو دبا نہ سکا۔ بھارت نے بڑھتی ہوئی تحریک کو پاکستان حمایتی قرار دیتے ہوئے سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا اور دو سطح پر پالیسی بنائی۔ پہلی سطح پر دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا کیا جانے لگا کہ پاکستان کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی تحریک آزادی کی مالی اور فوجی معاونت کر رہا ہے اور ساتھ ہی تمام تر ریاستی اور فوجی قوت اور ظلم و تشدد سے کشمیریوں کی تحریک کچلنے کی کوشش کی جانے لگی اور دوسری سطح پرلگاتار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارت کی جانب سے تقریباً 250سے زائد مرتبہ کنٹرول لائن پار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی دوران بھارت نے پاکستان میں پہلے سے طے شدہ سارک سربراہ کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے حلیف ممالک افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی اس بائیکاٹ میں شامل کر لیا۔ نتیجتاً پاکستان نے سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کر دی۔ اس پس منظر میں پاکستانی حکومت کے سامنے یہ سوال کھڑا تھا کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرے یا بھارت کی طرح اس کا بائیکاٹ کرے۔ لیکن پاکستان کے شرکت نہ کرنے سے کانفرنس ملتوی نہ ہونی تھی کیونکہ اس میں 13دوسرے ممالک بھی شامل تھے۔


حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان کو بھارت کی طرح غیرذمہ دارانہ رویہ نہیں اختیار کرنا چاہئے۔ پاک بھارت کشیدگی مذاکرات سے ختم ہو گی نہ کہ ایک دوسرے سے بات چیت بالکل ختم کر دینے سے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مفادات ہیں اور امرتسر کانفرنس کا مقصد افغانستان اور وہاں پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کرنا تھی۔ تیسرے یہ کہ اس وقت بھارت کی پالیسی پاکستان کو خطے میں اور دنیا بھر سے الگ تھلگ کرنا ہے تو اس کا بہترین توڑ یہی ہے کہ پاکستان اس کانفرنس میں شرکت بھی کرے اور اپنا حصہ بھی ڈالے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت سے تمام معاملات پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ میں یہ فورم
CAREC (Central Asian Regional Economic Cooperation)
کی بھی حمایت کرتا ہے اور
HOA
کے ممبر
CAREC
کے ممبر بھی ہیں لہٰذا کانفرنس میں شرکت کرنے سے
CAREC
میں بھی شمولیت مزید فعال ہو گی۔
چنانچہ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر محترم سرتاج عزیز امرتسر پہنچے۔ ان کا پرتپاک استقبال پاکستانی ہائی کمشنر نے کیا۔ تاہم سرتاج عزیز کو آدھ گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ بھارتی حکومت کی سردمہری پاکستانی مندوب کے پہنچتے ہی نظر آنے لگی۔


کانفرنس کا موضوع افغانستان تھا خاص کر اس میں موجود دہشت گردی سے نمٹنا تھا۔ پاکستان افغانستان تعلقات اس کانفرنس میں زبردست پلٹا کھا گئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں دہشت گردی کا سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔ان کے مطابق ہمیں سرحد پار پاکستان سے ہونی والی دہشت گردوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے 50کروڑ ڈالر کی امداد کا جو وعدہ کیا تھا اسے چاہئے کہ وہ رقم پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے خرچ کرے۔ ان کے مطابق کچھ عناصر اب بھی دہشت گردی کو پناہ دے رہے ہیں۔ طالبان نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ نہ ملتی تو ایک ماہ بھی نہ چل پاتے۔ انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ کر رہا ہے انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایک ایشیائی یابین الاقوامی تنظیم ان دہشت گرد کارروائیوں پر کڑی نگاہ رکھے جو پاکستان کی شہ پر کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان میں افیون کی کاشت کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا کہ افیون کی کاشت پاکستان افغانستان ملحقہ سرحدی علاقوں میں ہی ہو رہی ہے لہٰذا اس میں بھی پاکستان ہی ملوث ہے ۔حالانکہ افیون کی کاشتکاری مکمل طور پر افغانستان میں ہو رہی ہے۔


اشرف غنی کا ایسے وقت میں پاکستان پر الزامات دراصل ان کی اپنی ناکامیوں کی وجہ سے ہے۔ اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت اپنی کمزور اور ناکام پالیسیوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ اس وقت وہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لئے بھارت کو نجات دہندہ سمجھ بیٹھی ہے۔ لیکن بھارت اور اشرف غنی یہ بھول گئے ہیں کہ ان کی حکومت کا دائرہ کار کابل یا اس سے ملحقہ کچھ تھوڑے سے علاقے پر رہ گیا ہے۔ جب وہ افیون کی کاشت پر اپنی بے بسی بتا رہے تھے تو دراصل وہ یہ بھی بتا گئے کہ ان علاقوں پر ان کا کنٹرول ہی نہیں ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کا افغانستان میں اثر و رسوخ ختم کرنے کے لئے تقریباً 2ارب ڈالر کی امداد دی ہے اور اس سے خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن اس کے حمایت یافتہ اشرف غنی محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہندوستان امریکہ سے بھی فائدہ لے رہا ہے۔ امریکہ ہندوستان دفاعی معاہدہ دراصل اس بڑھتی ہوئی دوستی کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔


پاکستان کے نمائندے سرتاج عزیز نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ الزامات کا کھیل ختم ہونا چاہئے۔ کیونکہ الزامات کی بجائے ٹھوس اور مضبوط اقدامات ہی علاقائی تنازعات ختم کر سکتے ہیں اور یہ کہ پاکستان نے کانفرنس میں آنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ پاکستان اس خطے میں اور خاص کر افغانستان میں امن لانے کے لئے مخلص ہے۔ سرتاج عزیز کی تقریر میں تشنگی باقی رہی۔ اگر وہ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے دنیا کو ریاستی دہشت گردی یعنی بھارتی مظالم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ نشاندہی کر دیتے تو کچھ مذائقہ نہ تھا۔ پھر جب بات افغانستان ہی کی ہو رہی تھی تو افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں دراندازی اور دہشت گردوں کی آمد اور پاکستان میں ہونے والے کئی ہولناک دہشت گردی کے واقعات جس میں سینکڑوں بے گناہ اپنی جان سے گئے، خاص کر آرمی پبلک سکول کا واقعہ ان کو یاد دلانے سے دنیا کے ممالک اور لوگ کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتے۔بہرحال روسی نمائندے نے سرتاج عزیز کی تقریر کی تعریف کی اسے انتہائی تعمیری اور دوستانہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان پر الزامات اور تنقید کو ناپسند کیا اور اسے مسترد کر دیا۔ پاکستان کو کئی دوست ممالک خاص کر ایران، ترکی ملائشیا وغیرہ کی طرف سے کسی قسم کی تعریف یا پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر کسی تبصرہ کا انتظارہی رہا۔


بھارتی سرد مہری اور رویے سے دل برداشتہ سرتاج عزیز فوراً ہی وطن واپس پہنچنے اور اسی رات کو پریس کانفرنس میں بھارتی غیر سفارتی اور انتہائی ہتک آمیز رویے کے بارے میں ذرائع ابلاغ اور عام لوگوں کو معلومات دیں ان سب باتوں کے باوجود حکومت پاکستان اس کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلہ کو صحیح گردانتے ہوئے کانفرنس کو کامیاب قرار دیتی رہی۔
کانفرنس کے آخری اعلامیے کا ایک حصہ پاکستان کے لئے اچھا نہیں تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں بالخصوص افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں مبینہ دہشت گرد گروپوں کا نام لیا گیا ہے اور ان کی پرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان میں داعش، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ، لشکر طیبہ، جیش محمد، جمعیت الاحرار اور حزب اﷲ شامل ہیں۔ ان میں سے کتنی تنظیمیں پاکستان میں بنائی گئیں۔ جبکہ کئی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکسان کو ٹھکانہ بنایا ہوا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں اس پورے خطے میں ہونے والی دہشت گردی کا مرکز پاکستان ہے اور افغانستان صرف ایک مظلوم تماشائی بن گیا ہے۔ جس کی سرزمین دہشت گردوں کے استعمال میں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان میں سے بیشتر تنظیمیں امریکہ کی تخلیق کردہ ہیں۔ جن کو افغانستان میں مختلف ادوار میں یا مختلف علاقوں کی ضرورت کے پیش نظر تخلیق کیا گیا ور بعد میں غیرفعال کرنے کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اب پاکستان کو (الزام ڈال کر) اس میں شامل کر دیا گیا۔


مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بھی دنیا اور خاص کر مہاجرین کے ملک افغانستان کو شکرگزار اور پاکستان کا احسان مند ہونا چاہئے نہ کہ تنقید کا نشانہ بنائے۔
بھارتی ابلاغ عامہ نے بھی پاکستان کی شمولیت کو سراہنے کی بجائے اس پر کڑی تنقید کی بلکہ پاکستان کے ساتھ غیرسفارتی رویے پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کی ناکامی کہا۔ سوال یہ ہے کہ سرتاج عزیز کی جگہ اگر پاکستانی سفیر اس کانفرنس میں شرکت کرتے تو کیا اس وقت بھارت کا اور افغانستان کا رویہ مختلف ہوتا۔ یقیناًنہیں تو پھر بھارت سے معاملات اتنے آگے بڑھانے سے کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینے کے لئے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ وہی بین الاقوامی برادری ہے جس کی رائے کشمیریوں کے اوپر ڈھائے گئے بھارتی مظالم بھی نہ بدل سکے۔ پچھلے چھ مہینے سے جس طرح کشمیری عوام پر ظلم و ستم ہو رہا ہے جب یہ مظالم بھارت کے متعلق ان کی رائے نہ بدل سکے تو پاکستان کی

HOA

کانفرنس میں شمولیت کیا بدل سکے گی۔ بین الاقوامی برادری کی سردمہری اور کشمیر کو اہمیت نہ دینا دراصل بھارت کے بارے میں ایک قائم شدہ رائے ہے جو ہندوستان کی تمام پر تشدد کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود تبدیل نہیں ہوسکی ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے اشرف غنی کی حکومت حقیقی طور پر ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔ جس کا دائرہ کار کابل تک ہی محدود ہے۔ اشرف غنی کا کانفرنس میں بیان ’بھارت کی شہ پر اور امریکہ کی رضامندی سے‘ ہی ممکن تھا کیونکہ وہ بہت جلدی اپنے موقف تبدیل کر لیتے ہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے وہ پاکستان کو ایک برادر ملک سمجھ رہے تھے۔


کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔


پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ بھارت اور افغانستان سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اچھے تعلقات صرف اور صرف برابری کی بنیاد پر ہی ممکن ہیں۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے

*****

کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔

*****

 

Follow Us On Twitter