10
January

پاکستان ترکی تعلقات، پس منظر وپیش منظر

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

ترکی کی سرحدیں تو پاکستان سے نہیں ملتیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ترکی اور پاکستان کے دل آپس میں ملتے ہیں۔ ترکیہ جمہوریہ، دنیا کا ایک ایسا منفرد ملک ہے جس کے باسیوں کے تعلقات سرزمینِ پاکستان میں بسنے والے لوگوں سے قیامِ پاکستان 1947ء بلکہ قراردادِ لاہور 1940ء سے بھی پہلے تاریخ میں نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت جنگ عظیم اوّل میں تب دیکھنے کو ملا جب بکھرتی سلطنتِ عثمانیہ کو ابھرتی مغربی سامراجی طاقتوں نے ترکوں کو اپنے وطن سے محروم اور ترک قوم کو مٹانے کے لئے سرزمین ترکیہ پر یلغار کردی۔ مختلف مغربی طاقتوں نے بچے کھچے ترکی کو لوٹ کا مال سمجھ کر بندر بانٹ کرنا چاہی اور اس کے لئے جنگ گیلی پولی برپا کی گئی، جس میں غیرمتوقع طور پر ترک لیفٹیننٹ کرنل مصطفی کمال نے مغربی دنیا کی اتحادی افواج کو شکست فاش سے دوچار کردیا اور یہیں سے مصطفی کمال کو پاشا کا لقب ملا۔ اس دوران سرزمینِ متحدہ ہندوستان میں بسنے والے لوگوں نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک یادگار تحریک برپا کی۔ تب ترکی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا، اپنی بقا کی آخری اور فیصلہ کن جنگ، جس کی قیادت غازی مصطفی کمال پاشا اتاترک کررہے تھے۔ برصغیر میں چلنے والی اس ترک دوست تحریک کو ’’تحریک خلافت‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ غازی مصطفی کمال پاشا نے جنگی میدانوں میں مغربی استعماری طاقتوں کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔


یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کے لوگ اپنی آزادی کے لئے متحد ہورہے تھے اور مسلمانانِ برصغیر کے قائد محمد علی جناحؒ ، تحریک آزادی کو ایک نئے دھارے پر ڈال رہے تھے۔ بعد میں جنم لینے والی ریاستِ پاکستان کی ترکیہ جمہوریہ سے تعلقات کی بنیادیں یہیں سے اُستوار ہوئیں۔ ترکوں نے اپنی جنگ کامیابی سے جیتی اور عوامی جمہوری انقلاب برپا کرکے 1923ء میں ترکیہ جمہوریہ کی بنیاد رکھ دی۔ یہ مسلم دنیا کی واحد جمہوریت ہے جو کسی سامراج یا نوآبادیاتی نظام کی
Legacy
نہیں۔ مصطفی کمال پاشا نے جہاں ایک طرف مغربی استعماری قوتوں کو شکست دی تو دوسری طرف ایک آئینی جمہوری ریاست کا قیام اپنی قیادت کے تحت مکمل کیا۔ علامہ اقبال ؒ جنہیں ہم برصغیر میں مسلمانوں کی ریاست (پاکستان) کا فکری بانی کہتے ہیں، وہ ترکی میں مصطفی کمال پاشا کے تصورِ ریاست سے کس قدر متاثر تھے، اس پر ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 

pakturktal.jpg’’ترکوں کے سیاسی اور مذہبی افکار میں اجتہاد کا جو تصور کام کررہا تھا، اسے عہد حاضر کے فلسفیانہ خیالات سے اور زیادہ تقویت پہنچی اور جس سے اس میں مزید وسعت پیدا ہوتی چلی گئی۔ مثال کے طور پر حلیم ثابت ہی کا نظریہ ہے جو اس نے اسلامی قانون کے بارے میں قائم کیا اور جس کی بنیاد اس نے جدید عمرانی تصورات پر رکھی‘‘ اور’’پھر اگر اسلام کی نشاۃ ثانیہ ناگزیر ہے، جیساکہ میرے نزدیک قطعی طور پر ہے، تو ہمیں بھی ترکوں کی طرح ایک نہ ایک دن اپنے عقلی اور ذہنی ورثے کی قدرو قیمت کا جائزہ لینا پڑے گا۔‘‘
علامہ محمد اقبال
، (The Reconstruction of Religious Thought in Islam)
صفحہ 121 اقبال اپنے بنیادی سیاسی فلسفے میں ترکیہ جمہوریہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ قرار دیتے ہیں۔مفکرِ پاکستان علامہ اقبال اور بانئ ترکی مصطفی کمال پاشا اتاترک کا سالِ وفات 1938ء ہی ہے۔ جب جدید ترکی کے بانی غازی مصطفی کمال پاشا کا انتقال ہوا تو بانئ پاکستان محمد علی جناح ؒ نے اس عظیم رہبر کے انتقال پر آل انڈیا مسلم لیگ کو درج ذیل حکم نامہ جاری کیا۔
"I request Provincial, District and Primary Muslim Leagues all over India to observe Friday the 18th of November as Kemal Day and hold public meetings to express deepest feeling of sorrow and sympathy of Musalmans of India in the irreparable loss that the Turkish Nation has suffered in the passing away of one of the greatest sons of Islam and a world figure and the saviour and maker of Modern Turkey--- Ghazi Kemal Ataturk."
Date: 11-11-1938 (Quaid-e-Azam Papers, National Archives of Pakistan)
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں قوموں کے تعلقات کس قدر گہری سطح پر قائم ہوئے۔ مفکرِ پاکستان اور بانئ پاکستان، جدید ترکی کے قائد مصطفی کمال پاشا کے حامی ہی نہیں بلکہ اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کے مداح بھی تھے، جسے ہمارے رجعت پسند حلقوں نے جان بوجھ کر ڈھانپنے کی کوشش کی ہے۔


قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ ، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے تو ترکیہ جمہوریہ نے اپنے ایک معروف ترک شاعر و ادیب اور دانشور یحییٰ کمال کو پاکستان میں اپنا سفیر نامزد کیا۔ پاکستان میں ترکی کے پہلے سفیر نے بانئ پاکستان کو 4مارچ 1948ء کو سفارتی اسناد پیش کیں۔ اس موقع پر قائد اعظم محمدعلی جناحؒ نے فرمایا:


’’کئی تاریخی میدانِ جنگوں میں آپ کے لیڈر کے کارنامے، آپ کے انقلاب کی کامیابی، عظیم اتاترک کا ابھرنا اور ان کا کیریئر، اپنے اعلیٰ تدبر سے ان کا آپ کو ایک قوم کی تعبیر دینا، حوصلہ مندی اور پیش بینی، ان تمام واقعات سے پاکستان کے عوام بخوبی واقف ہیں۔ درحقیقت برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری کے آغاز ہی سے ، آپ کے ملک میں رونما تبدیلیوں کا یہاں عوام پوری ہمدردی اور دلچسپی سے مشاہدہ کرتے رہے ہیں ۔‘‘
اس کے بعد تاریخی، سماجی اور روحانی طور پر دونوں قوموں کے مابین تعلقات سفارتی سطح پر بھی قائم ہوگئے۔ ترکی اور پاکستان نے ہردور میں ثابت کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کبھی کمی نہیں آئی۔ اگر ان تعلقات کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب ترک قوم کسی مشکل کا شکار ہوئی تو پاکستانیوں نے بلا جھجک ترکوں کی حمایت کی اور اسی طرح ترکوں نے پاکستان کی۔ ترکی اور یونان کے درمیان قبرص کے مسئلے پر پاکستان نے روزِ اوّل سے ہی ترکوں کو کسی بھی عالمی رکاوٹ کو خاطر میں لائے بغیر سپورٹ کیا۔ جب 1974ء میں ترکی نے وزیراعظم بلندایجوت (مرحوم) کی حکومت میں قبرصی ترک عوام کو جاری خانہ جنگی سے نجات دلوانے کے لئے آپریشن کیا تو پاکستان نے کھل کر ترک حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ۔ اس وقت پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی اور انہوں نے ترکی کی ہر طرح سے مدد کا سرکاری سطح پر اعلان کیا۔ مسئلہ قبرص پر ترکی کے ساتھ تنازعاتی ملک چونکہ یونان تھا، اس لئے پاکستان کی جانب سے ترکی کی بھر پور حمایت کرنے پر یونان نے ہزاروں پاکستانیوں کو بحری کمپنیوں سے فارغ کردیا۔ ایک ملاقات کے دوران میرے دوست جناب بلند ایجوت (مرحوم) نے مجھے بتایا کہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ یونانی بحری کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو یونانیوں نے فوری طور پر ملازمتوں سے فارغ کردیا ہے تو میں نے اسی وقت سرکاری حکم نامہ جاری کیا کہ ان متاثرین کو ترک بحری کمپنیوں میں ملازمتیں دے دی جائیں۔ اسی طرح ترکی، پاکستان کے ساتھ ہر عالمی محاذ پر ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ دونوں پاک بھارت جنگوں 1965ء اور 1971ء اور کشمیر کے مسئلے پر ترکی نے بلالحاظ پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔


سرد جنگ کے زمانے میں دونوں ممالک آر سی ڈی اور سینٹو جیسے علاقائی اتحاد میں شامل رہے تو تب بھی دوست تھے اور جب یہ عالمی اتحاد ختم ہوئے تب بھی باہمی دوستی میں کمی نہ آئی۔ آج ترکی، دنیا میں ابھرتا ہوا ایک اہم ملک ہے، اس تناظر میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت مزید مستحکم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ انقرہ، جدید ترکی کا دارالحکومت ہے اور اس جدید شہر کے وسط میں سب سے بڑی اور اہم شاہراہ بانئ پاکستان محمد علی جناحؒ کے نام سے منسوب ہے، ’’جناح جاہ دیسی‘‘ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی شاہراہ پر بھارت کا سفارت خانہ ہے۔ ذرا تصور کریں، ترکی میں بھارتی سفارت خانے کی تمام دستاویزات پر جب ’’جناح جاہ دیسی‘‘ لکھنا ہوتا ہے تو بھارتیوں کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی۔ پاکستان میں مینارِ پاکستان، فیصل مسجد، داتا گنج بخش مسجد سمیت متعدد عمارات ترک معماروں کا کام ہیں اور اسلام آباد سے لے کر لاڑکانہ تک متعدد شاہراہیں، بانئ ترکی اتاترک کے نام سے منسوب ہیں۔


اس بدلتی دنیا میں جو یک محوریت سے مختلف علاقائی، تجارتی اور سٹریٹجک پارٹنرشپ میں بدل رہی ہے، ترکی اور پاکستان دو اہم ممالک ہیں۔ پاکستان جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیا کا اہم ترین ملک اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور مسلم دنیا کی طاقت ور ترین وار مشینری رکھنے والا ملک ہے۔ اس خطے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایک سنگم کی سی ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے دہانے پر بدلتی دنیا میں نیا کردار حاصل کررہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ تعلقات اور چین کا بڑھتا ہوا عالمی کردار اِن تعلقات کو اوربھی بڑھا رہا ہے۔ ایسے ہی ترکی مشرقِ وسطیٰ کاایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ملک ہے۔ تعلیم، ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بعد دوسری اہم وار مشینری رکھنے والا، نیٹو کا دوسرا بڑا حصہ دار ہے۔ لہٰذا ان دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات اب اس بدلتی دنیا میں ایک نیا علاقائی اور عالمی توازن بنانے میں نظرانداز نہیں کئے جاسکتے۔


اگر ہم اس سارے خطے پر سرسری نگاہ دوڑائیں تو اس خطے میں اہم ترین ممالک میں چین، روس، بھارت، پاکستان اور ترکی یک محوریت سے ملٹی پولر دنیا میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے جا رہے ہیں۔ اس میں ترکی اور پاکستان تقریباً تمام علاقائی اور عالمی معاملات میں ایک صف میں کھڑے ہیں۔ دونوں ممالک کے یہ آئیڈیل تعلقات درحقیقت ایک فطری اتحادی کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگر افغانستان کے مسئلے میں ترکی اپنے ازبک نسلی تعلقات کے حوالے سے اور نیٹو کا رکن ہونے کے ناتے ایک خاص سیاسی مقام رکھتا ہے تو اسی طرح افغانستان، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون ہے۔ 9/11 کے بعد ترکی اور پاکستان، افغانستان کے مسئلے پر ایک دوست اور اتحادی کے طور پر بیشتر معاملات میں ایک موقف پر رہے اور ہم نے دیکھا دونوں دوست ممالک افغانستان میں عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کے علاوہ اپنے طور پر بھی مصروفِ کارہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک بڑی عالمی طاقتوں کے علاوہ بھی کئی علاقائی اور عالمی معاملات کو سلجھانے میں کوشاں ہیں۔


ترکی اور پاکستان متعدد شعبوں میں شریکِ کار ہیں خصوصاً دفاعی حوالے سے، لیکن ان گہرے تعلقات سے ہم مزید فوائد بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ خصوصاً تعلیم، صحت، صنعت، تجارت اور زراعت کے شعبوں میں۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی زراعت کو جدید بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لئے ترکی کی زرعی ترقی و صنعت سازی سے مستفید ہوا جا سکتا ہے اور اسی طرح تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں بھی۔ میں پچھلی تین دہائیوں سے ترکی کی سیاست، تاریخ، ثقافت، تہذیب اور معاشرت کو سمجھنے میں مصروف ہوں۔ میرا یہ یقین ہے کہ اگر ہمارے پالیسی ساز، درج بالا شعبوں میں، ایک دوسرے سے تیزرفتاری سے تعاون بڑھائیں تو پاکستان اس منزل کو چند سالوں میں چھو سکتا ہے جس کا خواب ہر پاکستانی دیکھتا ہے، یعنی ایک جدید تعلیم یافتہ، صنعتی اور مضبوط معیشت رکھنے والا ملک۔ ضرورت صرف سنجیدگی اور فیصلہ کرنے کی ہے۔ اس حوالے سے ترکی میں پاکستان کے سفیر سہیل محمود کا یہ جملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان ترکی تعلقات شان دار تاریخ رکھتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے ہمہ وقت آبیاری کی ضرورت ہے۔ سہیل محمود، انقرہ میں اور ترک سفیر صادق بابر گرگن پاکستان میں سفارتی حوالے سے بے مثال کردار ادا کررہے ہیں۔ ان دونوں سفارت کاروں کو میں نے ان دو روایتی دوستوں کے تعلقات کو سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے عروج پر پایا لیکن ان سفارتی کوششوں کے علاوہ پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے ان شعبوں میں تعاون کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے جو ہماری حکومت کے ایجنڈے میں زیادہ نمایاں نہیں، یعنی تعلیم، ٹیکنالوجی، علمی وادبی تحقیق، زراعت اور صنعت۔ اور اسی طرح ہم ترکوں کے ساتھ متعدد شعبوں میں اپنے تجربات شیئر کرسکتے ہیں، خصوصاً اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹرز اور آئی ٹی کے شعبے میں۔ اگر دونوں ممالک میں اہل فکر ودانش سے متعلق لوگوں کا
Exchange
پروگرام شروع کر دیا جائے تو دونوں ممالک جلد ہی اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جس سے یہ اہم مسلم ریاستیں دیگر مسلم دنیا کی رہنمائی کرسکتی ہیں۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
January

A New Fairness Needed !

Written By: Syed Muhammad Ali

Obama administration wanted the world to pursue Nuclear Zero while it exceptionally built up India militarily. Similarly, how Donald Trump looks at Obama’s “Pivot to Asia” strategy will not only determine the peace, security and stability of Asia in general and South Asia in particular but also the long-term U.S. economic interests associated with Asia-Pacific.

The tumultuous month of November 2016 will long be remembered in world history. The election victory of Donald Trump in the U.S. Presidential elections led to nationwide protests and stunned Washington’s key allies including the UK, Germany, France and Japan. If Donald Trump manages to keep his promise and actually demands from NATO and other key allies to dig deeper into their own pockets, to ‘do more’ themselves for their individual security needs and depend less on Washington, it would reflect an unprecedented ‘U.S. security commitment fatigue’ and growing significance of domestic economic concerns for the new Republican administration. A declining U.S. security commitment towards both its traditional Western European and East Asian allies by the new Republican administration could encourage them to shed their own nuclear restraint and accelerate their individual efforts towards their heightened national security needs.


Another major event within four days of the U.S. election, somewhat eclipsed by Trump’s historic victory over Mrs. Clinton, is the signing of an extraordinary nuclear deal between Japan and India. The Japanese nuclear deal is unique and extraordinary for five reasons. First, Japan is the only country in the world which has actually suffered two nuclear attacks during war and its sterling commitment towards non-proliferation and principled stance on arms control has traditionally been exemplary. However, the signing of this new deal, despite India possessing the developing world’s largest and oldest unsafeguarded nuclear program, now raises new questions regarding the future of these Japanese commitments. Second, this latest deal would help expedite various additional nuclear deals that the other States have earlier signed with India. Both French company Areva and U.S. nuclear giant Westinghouse use key Japanese components such as reactor vessels for their reactors. Third, this deal has been put together even more hurriedly than the Indo-U.S. nuclear deal by compressing the 123 Agreement, reprocessing, administrative arrangements and NSG into one. This is perhaps to ensure its swift implementation before the Obama administration leaves office. Four, this deal has a cursory mention of principled Indian Non-Proliferation Treaty (NPT) adherence and hardly expects a significant non-proliferation commitment, sans non-testing of nuclear weapons by New Delhi, in return for exceptional Japanese technological access and support. Five, this deal symbolizes the growing strategic Indo-Japanese partnership and reflects their mutual desire to counter-balance China in East Asia and Asia-Pacific.


Another significant and related event was the NSG’s meeting held in Vienna on November 11 to discuss the “technical, legal and political aspects of Non-NPT States’ Participation in the NSG”. According to informed sources, although the U.S. tried its best to gain maximum support for Indian’s NSG membership, a large number of member States including Russia, said that further discussions were still needed before individual membership cases could be evaluated. This indicates that the support for a criteria-based approach for considering additional members is growing and gaining momentum within the 48-nation group managing the international nuclear trade and cooperation.

 

A declining U.S. security commitment towards both its traditional Western European and East Asian allies by the new Republican administration could encourage them to shed their own nuclear restraint and accelerate their individual efforts towards their heightened national security needs.

The impression some observers have attempted to internationally present is that basically the tussle between the U.S. and China will eventually determine the outcome of the new NSG membership cases. However, the outcome of this latest meeting indicates that the reality is far more complex than popularly presented. The divisions between the three camps supporting exceptional membership, criteria-based membership and swing states are starker and deeper than initially anticipated, and achieving consensus by either group is not likely in the foreseeable future. Therefore, Obama administration’s agenda of hurriedly making India an NSG member before the Democrats’ term runs out has essentially failed.


This provides the incoming Republican administration with an opportunity to look at all Democrat-led initiatives and agendas afresh and with skepticism. Obama administration wanted the world to pursue Nuclear Zero while it exceptionally built up India militarily. Similarly, how Donald Trump looks at Obama’s “Pivot to Asia” strategy will not only determine the peace, security and stability of Asia in general and South Asia in particular but also the long-term economic interests associated with Asia-Pacific. Amidst serious domestic economic challenges, militarizing Asia-Pacific excessively and further escalating tensions with China could increase, not reduce threats to the long-term U.S. vital economic interests associated with Asia-Pacific.


Throughout history the Republicans have traditionally maintained a more careful balance in the delicate and complex U.S. relationship with both Pakistan and India than the Democrats. The presidencies of President Nixon, Reagan, Bush Senior and Bush Junior have demonstrated a better U.S. understanding of Pakistan’s regional security concerns towards India, leading to a relatively more stable regional order, reduced tensions, better crisis management and lower nuclear escalation risks.


One hopes that the new Republican administration will seek and shape a fresh and more prudent security agenda towards both Asia-Pacific and South Asia, which can make the nuclear-armed region more stable and less conflict-prone. It should include a comprehensive review of the U.S. policy towards South Asia and a fresh approach based on supporting a robust composite dialogue between New Delhi and Islamabad, sustainable cooperation with Pakistan in its efforts to defeat terrorism and stabilize Afghanistan, and supporting simultaneous NSG membership for both Pakistan and India. This new security agenda will enable the Republican administration to devote its attention, energies, resources and capabilities towards more urgent and graver challenges to the U.S. national security such as terrorism, ISIS, managing relations with China and Russia and putting its own house in order. Like always, ignoring Pakistan instead of working with it, will harm and not improve U.S. long-term national security interests both regionally and globally.

 

The writer is a Senior Research Fellow at the Center for International Strategic Studies, Islamabad.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
January

CPEC: From Idea to Pragmatic Evolution

Written By: Dr. Kamal Monnoo

World economy faced uncertainties and pessimism in 2017 over a series of “black swan” moments like Brexit and Donald Trump’s election in 2016 on a protectionist agenda. Mr. Trump’s recent move of pulling USA out of the Paris Climate Deal adds to this uncertainty, which in turn creates a vacuum of global leadership that presents ripe opportunities to allies and adversaries alike to reorder the world’s power structure. And the likely contender is, of course, China. The Chinese are eager to fill this evolving void that Washington is leaving behind – on everything from setting the rules of trade and environmental standards to financing the infrastructure projects that will give Beijing vast influence. Almost to the end of the year, unlike the rest of the world, China instead saw positive developments in the global economy. It firmly believes that as its dominance on the world stage grows, the outcome from its push on trade and connectivity will further strengthen the global markets despite the current challenges and opportunities they face.
China's GDP achieved a 6.9 percent growth year-on-year based on comparable prices in the first quarter of this year, according to data issued by the Chinese National Bureau of Statistics on April 17, 2017. From the perspective of the world economic pattern, this is an economic performance beyond extensive market expectations and its biggest effect will be to further consolidate China's status as the world's economic stabilizer and economic engine. For countries like Pakistan where China is already investing around $50 billion (a figure which is likely to increase over time) under CPEC (China-Pakistan Economic Corridor) the implications of this rising Chinese global dominance are likely to be more profound. Also, the much talked about (overwhelming) Chinese presence in the country could come about much quicker than anticipated. Trouble is that the Pakistani public may not be fully ready for it. Since the present Pakistan government has been rather vague about what the CPEC precisely entails – relying more on generic marketable terms like development, jobs, investment, friendship, etc. – the mistrust amongst a segment of Pakistanis on the eventual impact of this endeavor on their lives does exist. After all, China is not an NGO coming to Pakistan to distribute jobs and aid packages; nor is it a philanthropist bringing free help without demanding anything in exchange. The CPEC cause is further hurt from active propaganda by some skeptics and foreign foes (for example, India) citing that the entire CPEC initiative is designed specifically for the benefit of the Chinese – with any benefit to Pakistan being merely from a spillover effect. According to them and going by recent news items published in the western press on the real objectives of the CPEC plan, they opine China intends to cane out an elongated economic enclave within Pakistan, run mostly by the Chinese for the Chinese. Pakistan benefits mostly by leasing out or in some cases literally surrendering its natural assets, thus taking them out of the hands of the Pakistani people and handing them over to the Chinese corporations. They argue that CPEC is an invasive economic project, which will greatly diminish Pakistan’s authority over its own land and resources, and allow China an almost unrestrained access to its ports and other key assets. While it may bring significant infusion of capital into Pakistan, in the long run – if this unveiled master plan is implemented – the Chinese corporations may very well be taking a lot more capital out of the country than what they effectively brought in!

 

In many ways, CPEC provides the advantage of being an “early harvest” program where people of Pakistan will not have to wait too long to see its positive results. A significant chunk of people-centric projects – Orange Line, Yellow Line, power plants and road networks – will be operational before 2020 and as their outcome starts pouring in and improving lives of Pakistanis, the public belief in CPEC will strengthen giving it more impetus and longevity. CPEC, if dealt judiciously, will tend to be a big unifying force for Pakistan.

Propaganda aside, on a more realistic note, amidst lack of transparency on part of the government in CPEC’s implementation and a lot of noise being raised from provinces other than Punjab, this all important investment bonanza for Pakistan may fast become grey than purple. The absence of a professional and autonomous apex board for overseeing all CPEC activities is not helping things either. In addition, it is unfortunate as it appears that with the passage of time both the Pakistani and Chinese marketers of this project are losing the plot on successfully creating a positive perception on CPEC. In a recent sitting with the Pakistani businessmen, the Chinese ambassador to Pakistan Sun Weidong stated that China has little interest in importing goods manufactured in Pakistan. Explaining the reasons to a gathering of leaders of the Federation of Pakistan Chambers of Commerce and Industry (FPCCI) in Islamabad, he opined that behind the China-Pakistan trade imbalance the main cause relates to the fact that Pakistan is either just not producing the goods that are needed in China or it simply does not have the capacity to do so. He admitted that under the current circumstances, unless there is a major policy shift in Pakistan or China, the Chinese corporations would garner the major chunk of the resultant economic activity. The thinking confirms rising concerns that Pakistani businesses may have little to gain in coming years, because it would largely benefit Chinese businesses. It may be pertinent to mention here that Pakistan's exports to China have been continuously falling from USD 2.69 billion in 2013-14 to USD 1.9 billion in 2015-16. There is a fear lurking that a time will soon come when the Chinese will start dictating terms and priorities rather than negotiating them. As an increasing number of Chinese enterprises acquire stakes in Pakistan's economy, and as the government takes out more and more loans from Chinese state-owned banks for supporting its balance-of-payments, in the process the space to negotiate and protect Pakistan interests naturally diminishes.


Furthermore, it is always important to be mindful of the reality that CPEC is not entirely a manifestation of the mutual desire of China and Pakistan to expand economic ties, but primarily of the larger global vision of China to revive the ancient Silk Route, returning China to the glory days of the Ming Dynasty when China literally dominated global trade. This vision is pursued through the OBOR (One Belt, One Road) initiative. Within the OBOR, so far, CPEC is the largest investment outlay by China, but this could change. Also, there are larger Chinese strategic interests at play here: a) Shortest, quickest and cheapest access to the Arabian Sea, b) With presence in Gwadar the ability to control, police and safeguard (where required) oil interests of China, which is the largest oil consumption economy in the world today, and last but not least, c) Help the grand development transition from East to West within China where such an effort will not only lift the under-developed western areas of China out of poverty and help resolve some long standing/traditional secessionist issues, but more importantly, also significantly add to the buying power of a big chunk of Chinese population, thereby boosting the overall Chinese endeavor to sustainably remain on the present economic growth path through shoring up its domestic consumption. These are few of the observations and opinions that critics of CPEC raise at various forums. These need to be suitably addressed to achieve the desired positive objectives from the project.


However, regardless of what the critics may have to say, there are clear winners in CPEC both for China and Pakistan. Following are of some these clear advantages to both China and Pakistan.


Advantages for China
As already mentioned above, while the CPEC is surely monumental for Pakistan, it at the same time also carries a number of advantages for China. Primarily, it constitutes an integral part of China’s broader vision to assert itself as the leading economic power through the OBOR initiative that seeks to physically connect China to its markets in Asia, Africa, Europe and beyond. The New Silk Road will link China with Europe through Central Asia and the Maritime Silk Road to ensure a safe passage of China’s shipping through the Indian Ocean and the South China Sea. CPEC will in effect connect China with virtually half of the population of the world.


Access to the Indian Ocean via Gwadar will enable China’s ships to bypass Malacca Strait and overcome its “Malacca Dilemma”. Development of Gwadar seaport and improvement of the infrastructure in the hinterland would help China sustain its permanent presence in the Gulf of Oman and the Arabian Sea.

 

The fact that China is opting to place its bets on Pakistan as one of the key pivots in its OBOR vision effectively means that with the right management and leadership skills Pakistan can emerge as the main corridor to not only China and Central Asia, but also the aspiring South Asian economies.

While the new silk roads are bound to intensify ongoing competition between India and China – and to a lesser extent between China and the USA – practically they will always be an asset on ground benefitting all regional stakeholders and thereby strengthening and cultivating increased Chinese influence in Central Asia in particular and the Asia continent and the world in general.


Advantages for Pakistan
Foremost, CPEC brings much needed investment in the Pakistani economy, which if harnessed prudently will be the harbinger of new opportunities for Pakistan and help it in spurring inclusive growth, in-turn creating jobs and reducing poverty. The scale of capital investment coupled with Chinese expertise of undertaking large-scale projects makes CPEC a potential game changer and cements China’s role in securing Pakistan’s stability and security.


Chinese investment under CPEC will help in not only expanding Pakistan’s GDP, but also by acting as a catalyst to its GDP growth. A consistent inflow of large-scale foreign direct investment will greatly help Pakistan to improve its perception-cum-image with other investors. It will signal that Pakistan is open for business and a safe and productive place to do business in. With CPEC becoming functional, Pakistan’s geo-strategic security interests will become directly aligned with those of China, consequently releasing much of the pressure that is currently being exerted from next-door neighbors, India and Afghanistan. Pakistan may be in a better position to engage other developed economies once its own economy is performing better.


CPEC is likely to have a natural spillover effect on further improvement in Pak-China defence and nuclear cooperation. The success of Sino-Pak partnership is also likely to ultimately attract Afghanistan into the CPEC fold and if this happens, the development can have a positive impact on relations with Afghanistan. China, Pakistan and Afghanistan, all have a shared interest in the stabilization of Afghanistan because the main threat to the realization of the OBOR vision comes from the terrorist groups.


In many ways, CPEC provides the advantage of being an “early harvest” program where people of Pakistan will not have to wait too long to see its positive results. A significant chunk of people-centric projects – Orange Line, Yellow Line, power plants and road networks – will be operational before 2020 and as their outcome starts pouring in and improving lives of Pakistanis, the public belief in CPEC will strengthen giving it more impetus and longevity. CPEC, if dealt judiciously, will tend to be a big unifying force for Pakistan.


It is a God sent opportunity for Pakistani businesses and the corporate sector to meaningfully connect to perhaps the most robust economy of the world and that too with one with whom we share borders. China today has a GDP of $ 18 trillion on a Purchasing Power Parity (PPP) basis. It has one of the largest foreign currency reserves of $3.6 trillion. It is the largest exporter of the world with $2.34 trillion annual exports and 3rd largest importer with annual imports of $1.96 trillion. It is the largest trading partner with more countries than any other economy of the world, including the USA. China today leads the initiative as being one of the main financiers of the developing world – recently creating the AIIB (Asian Infrastructure Investment Bank) – and its overseas investments today exceed $20 trillion. It has the world’s highest savings rate that gives it the strength to create its own resources for investments home and abroad. The fact that China is opting to place its bets on Pakistan as one of the key pivots in its OBOR vision effectively means that with the right management and leadership skills Pakistan can emerge as the main corridor to not only China and Central Asia, but also the aspiring South Asian economies. If we can get our house in order, the access to the rich Chinese market comprising of 1.5 billion people, immense knowledge and innovation, and the world’s largest pool of capital deployment, can provide us with the opportunity we have always been dreaming of.


CPEC, in the long-term, may also kick-start South Asian Association for Regional Cooperation (SAARC) as other South Asian economies are bound to get attracted to the benefits of connectivity to this expanding economic train. CPEC provides Pakistan with a chance to learn from the Chinese and to even involve them, where necessary, in order to resurrect the Pakistani state run enterprises. China, today, presents the best model on how to combine private sector entrepreneurial choices with state’s power and resources.


According to a Gallup survey, China’s staggering economic growth has been fuelled not only by the attempt to replace a socialist “command economy” with one built along market lines, but also by an extraordinary commitment to hard work among the people of the Middle Kingdom. Harvard theologian Michael Novak argues that certain Confucian values are similar to those analyzed by Max Weber in the Protestant Ethic and The Spirit of Capitalism (1904). In a Pakistani society, which is overtly ritualistic, introduction of Confucian values and Chinese work ethics can be extremely beneficial in driving operational efficiencies.


Challenges for Pakistan
Having listed the advantages, it will nevertheless be prudent to recognize that mentioned below are some of the simultaneously occurring main challenges that Pakistan will face against the planned investments under CPEC:


• No real expertise to handle inflows of such magnitudes totaling $50 billion.
• Lack of human resource and a professional apex structure to transparently and professionally
• Manage CPEC’s implementation.
• Resultant future debt servicing issues.
• CPEC can adversely hit our current account deficit by ballooning imports.
• Erosion of domestic/home industry.
• Political/provincial bickering adding to disunity in Pakistan.
• Pressure on external account once profits and re-payment start flowing out, with present currency swap arrangements being inadequate.
• Diminished negotiating power, given our political and military dependence cum reliance on China and also due to lack of other investment options with us at present.


Further, one must also take into account some concerns that arose from the experiences of other countries, which have been recent recipients of investments:


Recent Chinese investments in Sri Lanka have not generated the kind of returns they originally envisaged. For example, the four-lane highway leading out of the town of Hambantota and the boondoggles built and financed by China beyond and along this highway have thus far failed to generate the kind of economic activity required to justify the payback on the debt accumulated against these projects: A 35,000-seat cricket stadium, an almost vacant $1.5 billion deep water port and a 16 miles inland airport at the cost of $209 million stands as amongst the world’s emptiest international airports.


Mattala Rajapaksa International Airport, the second largest in Sri Lanka, designed to handle a million passengers per year, currently receives only about a dozen passengers per day. Projects like Mattala are not driven by local economic needs but by remote stratagems. When Sri Lanka’s 27-year civil war ended in 2009, the president at the time, Mahinda Rajapaksa, worked on the idea of turning his poor home district into a world-class business and tourism hub to help its moribund economy. China was happy to oblige. Hambantota sits in a very strategic location, just a few miles north of the vital Indian Ocean shipping lane over which more than 80 percent of China’s imported oil travels. However, so far no travellers have come, only the bills. The Mattala airport has annual revenues of roughly $300,000 but now it must repay China $23.6 million a year for the next eight years according to Sri Lanka’s Transport and Civil Aviation Ministry. Overall, around 90 percent of the country’s revenues go in servicing debt. To relieve its debt crisis, Sri Lanka has put its ‘white elephants’ (unsustainable investments) up for sale. In late July 2017, the Sri Lankan government agreed to give China control of the deep water port – a 70 percent equity stake over 99 years – in exchange for writing off $1.1 billion of the island’s debt. And, China has promised to invest another $600 million to make the port commercially viable. However, this was not done originally. Likewise, outcomes emerging from the experiences of Indonesia, Nigeria and lately Kenya (where an inter-connecting railways has been built at a colossal cost) are not of encouraging economic dividends.


To conclude, the economic-cum-geo-political reality is that the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC), with an enormous potential to ultimately deliver up to $62 billion of bilateral developmental projects between Pakistan and China, can be a “game changer” not only for Pakistan, but also for entire South Asia. The economic corridor will connect Pakistan’s Gwadar Port in Balochistan with Kashgar in the northwestern Chinese province of Xinjiang through several extensive networks of roads and various other infrastructure projects. This project has become a “flagship project” of China’s Silk Road Economic Belt. Launched in 2015 and intended, at least on paper, to be finished by 2030, the CPEC has of late figured regularly in Pakistan’s economic and national security discourse. Many hope the project will prove to be a win-win for both countries. China is expected to save millions of dollars every year through increased access to the Indian Ocean and the creation of a shorter route for energy imports from the Middle East. The project holds great potential to not only boost China’s domestic economy, but also enhance its geopolitical clout and improve regional stability. Pakistan is also understandably pleased. The excitement felt among political and economic circles stems to a large degree from Pakistan’s wobbly economic performance in recent years, where the country has been failing to meet its GDP targets. For the Pakistani government, the project promises an economic boost and a potential solution to the country’s currently feeble socio-economic structure. Many hope CPEC will result in: an expanded infrastructure in the country, the introduction of large-scale hydro, solar, thermal, and wind-driven projects fit to tackle the country’s severe energy crisis, and perhaps also a transnational rail system.


Moreover, this project will help Islamabad elevate its strategic partnership with China. Care needs to be taken that from the very start that Pakistan safeguards its long-term economic interests in a way that projects undertaken today do not become the cause of pain tomorrow.

 

The writer is an entrepreneur and economic analyst.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

IBOs Conducted by FC Balochistan in Different Areas of Balochistan

cpecfromidea.jpgFC Balochistan conducted IBOs in Rustam Darbar, Dera Bugti and Killi Deba areas on December 11, 2017. 6 terrorists of TTP were apprehended. Recovered explosives, arms and ammunition including anti-personal mines, detonators and communications equipment. In Punjab Pakistan Rangers Punjab with Police and intelligence agencies conducted IBOs in Attock, Rawalpindi and Sargodha. 12 terrorist facilitators were apprehended. number of illegal weapons/ammunition were also recovered.

 

 

 

 
09
January

بیت المقدس : سلامتی کونسل کا فیصلہ؟

تحریر: ڈاکٹرشائستہ تبسّم

امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم کو، جہاں بیت المقدس واقع ہے، اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا اور امریکی سفارت خانہ کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کا بھی اعلان کردیا۔ اس اعلان نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ اسرائیل کے سوا شائد ہی کوئی ملک ہو جس نے امریکی صدر اور انتظامیہ کے اس فیصلے کی مخالفت یا مذمت نہ کی ہو۔ یہ فیصلہ نہ ہی کوئی انجانے میں کی گئی غلطی ہے اور نہ ہی جلد بازی کا کوئی نتیجہ، بلکہ انتہائی سوچا سمجھا اور پوری تیاری کے بعد کیا جانے والا فیصلہ ہے۔ موجودہ امریکی صدر نے اپنی الیکشن مہم کے دوران اس طرف واضح اشارہ کیا تھا لیکن اس وقت انتخابی پنڈتوں نے اس مسئلہ کو زیادہ اہمیت نہ دی تھی اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ کر دکھائے گا جو اس کے پیش رو نہ کرسکے اور وہ حقیقت میں کر گزرا۔
بیت المقدس اس وقت دنیا کی سیاست کا اہم علاقہ اور موضوع ہے۔ اور اگر یہ بھی کہا جائے کہ افرادکی سب سے بڑی تعداد کا مذہبی مرکز ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اسلام، یہودیت اور عیسائی مذاہب کے افراد اس علاقے کو مقدس مانتے ہیں۔ مسلمان اس کو قبلہ اول، عیسائی اس جگہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور باقی زندگی اسی علاقے میں بسر کرنے کی وجہ سے اور یہودی اپنے پیغمبران اور تبرکات کی وابستگی کی وجہ سے بیت المقدس کو مقدس ترین مقام گردانتے ہیں۔ لہٰذا عیسائیوں اور یہودیوں کی مذہبی رسومات بھی اسی شہر سے وابستہ ہیں۔

baitulmaqdas.jpg
1948 میں اسرائیل کا قیام ایک غیرقانونی طریقے سے عمل میں لایاگیا کیونکہ ایک باقاعدہ منظم منصوبہ بندی کے تحت فلسطینی باشندوں کوان کے وطن سے بے دخل کرکے یہاں دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر بسایاگیا۔ اسرائیل کو مقدس سرزمین پر بحیثیت ریاست قائم کرنے والا برطانیہ بذریعہ
Balfour Declaration
اور قیام کے صرف گیارہ منٹ بعد تسلیم کرنے والا امریکہ تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ تقریباً پوری مغربی دُنیانے اسرائیل کے قیام کی حمایت کی تھی ۔ اسرائیل بحیثیت مملکت تسلیم کرلیاگیا لیکن مظلوم فلسطینیوں نے جدوجہد جاری رکھی اور اسرائیل کے قیام سے اب تک چار جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہر جنگ کے بعد اسرائیل کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے اور فلسطین سکڑتا چلا گیا۔1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے بیت المقدس پر مکمل قبضہ کرلیاتھا، حالانکہ اس سے قبل مشرقی حصہ اُردن کے پاس تھا۔ یہی نہیں شام کا گولان کی پہاڑیوں سے معرکہ سینائی اور اردن کا مغرب اُردن کے قبضے سے نکل گیا۔ یہ علاقے بعد میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ 1978 اور دوسرے معاہدوں سے ان عرب ممالک کو واپس مل گئے لیکن اسرائیل نے بیت المقدس اپنے قبضے میں رکھا۔حالانکہ متعدد ممالک نے کبھی بھی اسرائیل کے قبضے کو قانونی طور پر تسلیم نہ کیاتھا۔
اقوامِ عالم نے اقوامِ متحدہ میں کئی قرار دادیں پاس کرائیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی قبضہ غیرقانونی ہے۔ مثلاً قرارداد 21)181نومبر(1947، جنرل اسمبلی11)194دسمبر(1948 اور9)303دسمبر(1949،سلامتی کونسل 21)252مئی(1968 اور جنرل اسمبلی28) 32/5 اکتوبر (1977 اس کے ساتھ سلامتی کونسل قرارداد 20)453جولائی (1979 اور465 (یکم مارچ(1980 اور 30)476جون(1980 بہت اہم ہیں جن کے مطابق اسرائیِل ایک قابض ملک ہے جس نے ارضِ فلسطین پر فوجی قبضہ کیا ہے اور بین الاقوامی قانون کا ایک مستند اصول یہ بھی کہتا ہے کہ قابض طاقت کسی بھی صورت میں معزول حکومت کا نظام خود مختاری نہیں بدل سکتی۔ اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی قرار داد478 اہم ہے جس میں یہ واضح کہا گیا تھا کہ اسرائیلی اقدامات مشرقِ وسطیٰ کے امن میں ایک شدید رکاوٹ ہیں اور ممبر ممالک اپنے سفارتی مشن کو یروشلم سے واپس بلا لیں۔ یہاں امریکہ اسرائیل کے تعلقات کی ایک اور حقیقت یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگی کہ 1972 سے2011 کے درمیان امریکہنے39مرتبہ اسرائیل کو بچانے کے لئے سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال کیا ہے۔


جہاں تک یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا سوال ہے امریکن انتظامیہ نے1995 میں ایک ایکٹ (قانون) منظور کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا اور ساتھ ہی امریکی سفارت خانے کی وہاں منتقلی کی منظوری بھی دی تھی لیکن مختلف امریکی صدور اس فیصلے پرعملدرآمد نہ کرسکے۔ بلکہ امریکہ، اسرائیل فلسطین امن مذاکراتی عمل میں پیش پیش رہا اور کچھ مراحل پر اس کی طرف سے ضمانت داراور غیر جانبدار فریق کا تاثر بھی دیا گیا۔ اس سارے عمل سے کسی صورت یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ تمام امریکی صدور اور تمام امن مذاکرات صرف ایک ظاہری عمل تھا جن کی حقیقت میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ دوئم امن مذاکرات میں مجموعی طور پر تقریباً تمام معاملات میں کچھ نہ کچھ پیش رفت ہو رہی تھی سوائے بیت المقدس کے مستقبل پرجس کا معاہدہ نہیں ہو پا رہا تھا کیونکہ فلسطین اور اسرائیل دونوں ہی بیت المقدس کو اپنے حصے میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ حالانکہ مختلف منصوبوں میں اس بندش کو حل کرنے کے لئے تجاویز پیش کی گئیں مثلاً فہد منصوبہ(شاہ فہد سے منسوب) قابلِ ذکر ہے۔ جس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت یروشلم ہو اور 1967 میں قبضہ ہونے والے علاقوں کی بازیابی کے ساتھ مشروط کیاگیا تھا۔ غرض تمام تجاویز اور امن منصوبوں کی تکمیل اور کامیابی کا دار و مدار یروشلم اور بیت المقدس سے منسلک تھا۔ ایسے میں امریکی صدر کے اعلان نے نہ صرف پوری دنیا میں تہلکہ مچادیا بلکہ مسلم امہ کو اذیت میںبھی مبتلا کردیا ہے۔


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کے کیا مقاصد ہیں؟ کیا واقعی یہ فیصلہ جلدبازی میں کیاگیا یا امریکی انتظامیہ بالکل امید نہیں کررہی تھی کہ اس کا کیا ردِ عمل آئے گا؟
امریکی صدرکا یہ اعلان انتہائی حساب کتاب کے بعد اور ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب اس سے زیادہ فوائد حاصل کئے جاسکتے ہوں۔ امریکہ اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے۔ یہ اس کاسپرپاور و جودہی ہے جس کے بَل پر صرف امریکہ ہی نے جاپان پردوبار ایٹم بم گرایا۔ مختلف ممالک کے پاس ایٹم بم موجود ہیں لیکن استعمال صرف امریکہ نے کیا۔ یہ طاقت کا غرور ہی ہے کہ ایک ایسے مسئلے پر جو پہلے 70 سالوں سے بندشوں کا شکار تھا ، امریکہ نے اعلان کردیا اور اپنی واضح پالیسی بنا دی۔ امریکی مندوب نے سلامتی کونسل میں14 مخالف ووٹ ڈالے جانے پر جو بیان دیا وہ امریکی غرور کی واضح دلیل ہے۔ انہوںنے کہا یہ امریکہ کی بے عزتی ہے جس کو بھولا نہیں جائے گا۔ شاید اسی لئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ ایساکام ہے جو پہلے کوئی نہ کرسکا۔


اس فیصلے کے اندرونی اور سیاسی عوامل بھی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے خاندان میں یہودیوں کی بھرمار ہے۔ خاص کر ان کا داماد ایک متعصب یہودی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہودیوں نے امریکہ کے معاشی، دفاعی اور سیاسی معاملات کو بہت حد تک قابو کیا ہوا ہے۔ یہودی سرمایہ کار اس وقت امیر ترین اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک ہیں۔ دفاعی معاملات بھی اس سے مختلف نہیں ہیں اور یہی سرمایہ کاری سیاسی دھارے کا تعین بھی کرتی ہے۔ امریکہ نے 1984 سے آج تک اسرائیل کو 127.4 بلین ڈالر کی فوجی امداد دی ہے۔ امریکہ ہی کی مدد سے اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کی ایک فوجی قوت بن گیا ہے۔ یہودی لابی امریکی سیاست میں ایک انتہائی اہم کردار رکھتی ہے۔
ٹرمپ کی انتخابی بنیاد، قدامت پسندلوگ تھے خاص کرانجیل مسیحی جو کہ مذہبی اور جذباتی طور پر اسرائیل سے وابستہ ہیں۔ یہاں یہ خاص امر ہے کہ ایسے لوگ سیاسی پارٹی سے بالاتر مذہبی طور پر سوچتے ہیں۔ یعنی اگر دیکھا جائے تو اس وقت امریکیوں کی بڑی تعداد ٹرمپ کے فیصلے پر خوش ہے۔


ناخوش تو صرف مسلم ممالک کے افراد ہیں۔ تقریباً تمام مسلم ممالک میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور امریکی پالیسیوں کی مذمت کی۔ ترکی نے بھی
OIC
کا ہنگامی اجلاس استنبول میں طلب کیا، جس میں مذمتی قرار دادیں منظور کی گئیں۔
وقت کے لحاظ سے یہ اعلان اس وقت آیا ہے جب تقریباً تمام مشرقِ وسطیٰ شدید بحران میں ہے۔کوئی بھی عرب ملک عسکری طور پر اور اندرونی خلفشار کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف لڑنے یا کسی قسم کا اتحاد بنانے کے قابل نہیں ہے۔ عراق پر امریکہ قابض ہے۔ شام میں خانہ جنگی جاری ہے۔ مصرمیں امریکہ نوازجنرل سیسی کی حکومت ہے۔ لیبیا کی حالت بھی شام سے مختلف نہیں ہے۔ لبنان میںموجودہ حزب اﷲ نے اسرائیل کو مزاحمت دے رکھی ہے لیکن ساتھ ہی حزب اﷲ شام میں ایک شیعہ طاقت کے طور پر حکومت، مخالف گروہوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے جبکہ حماس ایک منظم گروپ ہونے کے باوجود مصر کی سخت پالیسیوں اور سعودی عرب کی طرف سے امداد کی بندش کی وجہ سے شاید اسرائیل کے لئے اتنی مشکلات نہ پیدا کرسکے۔ اس سارے پس منظر کے ساتھ اگر دیکھا جائے تو امریکی فیصلہ اسرائیل کے حق میں جاتا ہے۔ اسرائیل کے لئے اتنا اچھا موقع نہیں ہو سکتا جب اس کے تمام پڑوسی (عرب) ممالک اندرونی مسائل میں گھرے ہونے کی وجہ سے اجتماعی لائحہ عمل نہ بنا سکیں۔


امریکہ کے اس فیصلے کے اثرات نہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات پر پڑیں گے بلکہ مسلم دنیا پر بھی نظر آئیں گے۔ ایک لمبے عرصے کے بعد سلامتی کونسل میں امریکہ تنہا نظر آیا جب انتہائی قریبی اتحادی برطانیہ، فرانس اور جاپان نے امریکہ کے خلاف ووٹ دیا جس کوامریکہ نے اپنی بے عزتی جانا۔ یہ معاملات اتنی آسانی سے حل نہیں ہوں گے۔ ممکن ہے اس کی دونوں طرف سے کچھ قیمت ادا کرنی پڑے۔ ایک پیغام تو واضح ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ اس حمایت کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔
دنیا میں جاری آزادی کی تحریکیں اور خاص کر فلسطین کی آزادی کی تحریک کو یقینا دوام ملے گا لیکن اسرائیل بھی مزید سختی سے انہیں کچلنے کی کوشش کرے گا اور جب بھی اسرائیل بیت المقدس کے مسلم کنٹرولڈ حصے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے گا مزید خون بہے گا۔ جس کے لئے فلسطین کے لوگ یقینا تیار ہوں گے لیکن دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک کو بھی اس مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالنا چاہئے۔ شاید اسی خون خرابے اور جدو جہد سے فلسطین میںآزاد ریاست کی کرن پھوٹ نکلے۔


سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ جو کہ اس وقت ایک بڑی طاقت ہے اور ایک جمہوری ملک بلکہ جمہوریت کا چیمپیئن ہے، وہ اگر مظلوم اقوام، خاص کر فلسطینی عوام اس خاص کیس میں اور کشمیری بھی، ان پہ ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز نہ اٹھائے گا بلکہ آواز دبانے والا ہوگا تو اس کے اتحادی یا غیر اتحادی جہاں پر ایسی تحریکیں اٹھ رہی ہیں، وہ بھی امریکہ کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی آواز ہے یہ ایک دنیا کی اکثریتی اقوام کی آواز ہے کہ امریکہ کا فیصلہ غلط ہے۔ اسے نظر انداز کرنا کسی بھی ملک کے لئے ممکن نہیں۔ چاہے وہ امریکہ جیسی سُپر پاور ہی کیوںنہ ہو۔ اس امریکی فیصلے کے اثرات اندرونی طور پر زیادہ مہلک ہو سکتے ہیں۔ امریکہ تنہائی کی طرف جارہا ہے۔ جیسا کہ 18 دسمبر کی سلامتی کونسل کی قرار داد سے واضح ہے کہ14 مخالف ووٹ امریکہ اپنی خود مختاری پر ضرب گردان رہا ہے۔بعدازاں جنرل اسمبلی میں قرارداد پر ووٹنگ نے امریکہ کے اس اقدام کی بین الاقوامی برادری کی جانب سے مخالفت پر مہر ثبت کردی ہے۔ چہ جائیکہ امریکہ اپنے اقدام پر نظر ثانی کرتا، وہ دھمکیوں پر اُترآیا۔ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے تقریباً دنیا کے تمام ممالک کو دھمکی دینے کا اچھوتا کام شاید امریکہ یا صدر ٹرمپ ہی کرسکتے ہیں۔ اس طرز کی جارحانہ پالیسز اور سیاست دنیا کی تاریخ میں نئی نہیں ہے، مگر ہر بار ایسے اقدامات دُنیا کی تباہی کا باعث ہی بنے ہیں۔ لہٰذا بیت المقدس صرف مذہب اسلام کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی امن سے بھی جُڑا ہوا ہے۔ دنیا کے تماممالک کو امریکہ کے اس طرزِ عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا اور مناسب اقدام اٹھانے ہوں گے تاکہ دنیا کو اکیسویں صدی میں کسی بڑی جنگ کی تباہی سے بچایا جاسکے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئر پرسن ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter