08
August

آپریشن خیبر4 ......ایک اہم معرکہ

Published in Hilal Urdu

تحریر: عبد الستار اعوان

افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ حربی صلاحیتوں پر قوم کوہمیشہ نازرہا ہے ۔ محافظانِ وطن کی کامیابیوں ، کامرانیوں اور جرأتوں پر مبنی داستانوں کو قلمبند کرنا آسان نہیں ، بلاشبہ اس قوم کے ایک ایک فرد کے دل میں پاک فوج کی جو محبتیں بسی ہیں، ان کے پیچھے عزم و ہمت اور قربانیوں کی طویل داستانیں ہیں۔ سیلاب اور زلزلہ متاثرین کی بحالی ہو یا سیاچن سے لے کر وزیرستان ، بلوچستان اور ملک کے چپے چپے پر دہشت گردوں کے خلا ف نبردآزماہونے کا معاملہ ‘ ہمارے جری سپاہی کبھی پیچھے نہیں رہے اور ہماری افواج سے وابستہ ہر ایک مردِ مجاہد نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر دھرتی کے دفاع و سلامتی کے لئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ۔ افواج پاکستان کی انہی قربانیوں کی بدولت ہی قوم ان پر فخر کرتی ہے ۔


نائن الیون کے بعد جس وقت دشمن طاقتوں نے ہمیں اندرونی طور پر کھوکھلاکر کے ہماری سلامتی کو چیلنج کیا یہ تو ہمارے بہادر سپاہی ہی تھے جو دشمن کی راہ میں سدِ سکندر ی بن گئے ، انہوں نے دشمن کا یہ چیلنج قبول کیا اور صرف اللہ پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے اور اپنی فطری بہادری کو کام میں لاتے ہوئے دہشت گردی کے ناسور کو تقریباًجڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ وطن عزیز کو بھارت اور چند دوسرے ملکوں نے ایک تھکا دینے والی جنگ میں الجھانے کی پوری پوری منصوبہ بندی کی تھی لیکن آفریں ہے دھرتی کے محافظوں پر کہ انہوں نے دشمن کے عزائم کوناکام کر دیا اور کھوکھرا پار سے لے کر لائن آف کنٹرول تک اور وزیرستان و بلوچستان سے لے کر اس ملک کے ایک ایک چپے تک کی حفاظت کا حق ادا کر دیا ۔

optkhyberfour4.jpg
ضرب عضب کی کامیابی کے بعد دہشت گردوں نے افغانستان میں پناہ لے لی۔ طالبان کے علاوہ آئی ایس آئی ایس کے دہشت گرد بھی اس علاقے میں نمودار ہوئے بلکہ افغانستان میں انہوں نے مضبوط اڈے قائم کر لئے۔
دہشت گردوں کا بیس کیمپ چونکہ افغانستان ہے اور سرحد پار سے ہی دہشتگرد ہمارے مختلف شہروں میں داخل ہو کر معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں ، لہٰذا ضروری تھاکہ پاک افغان سرحد پر کڑی نظر رکھی جائے، بارڈر ایریا پر دہشت گردی کے مراکز کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور افغانستان سے پاکستان آنے والے خفیہ راستوں اور پہاڑی دروں پراپنی گرفت مضبوط کی جائے ‘چنانچہ حال ہی میں پاک فوج کی جانب سے خیبر ایجنسی کے بلندوبالا پہاڑوں اور دشوار گزار وادیوں میں ’آپریشن خیبر فور‘ کے نام سے شروع کیا جانے والا فیصلہ کن آپریشن اسی سلسلے کی ایک اہم ترین کڑی ہے ۔ اس کارروائی میں افواج پاک کے تمام گروپس اوردستے بشمول ایس ایس جی حصہ لے رہے ہیں ۔ 16جولائی2017ء سے جاری یہ آپریشن تیزی سے کامیابی کی جانب بڑھ رہاہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق درجنوں دہشت گرد ہلاک جبکہ دو جوان عبد الجبار اورمحمدیاسر شہادت کا رتبہ حاصل کر چکے ہیں۔سپیشل سروسز گروپ کی بھرپور معاونت سے ہمارے جوانوں نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے انہیں بھاری نقصان پہنچایا اور 90مربع کلومیٹرکا علاقہ کلیئر کروالیا ہے ، آپریشن کے دوران بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی گئیں، درجنوں ٹھکانے تباہ کئے گئے اور ہمارے محافظوں نے بھاگتے دشمن کاتعاقب کرتے ہوئے اس پر کاری ضرب لگائی ہے۔


آپریشن خیبر فور کے دوران وادی راجگال میں ہمارے جری محافظوں نے خطرناک اور دشوار ترین دروں، غاروں اور محفوظ پناہ گاہوں میں گھس کر دشمن کو انجام تک پہنچایا اور اس وادی کو کلیئر کیا ۔ راجگال خیبر ایجنسی کا سب سے دشوار گزار علاقہ ہے ،اس سے ملحقہ پہاڑی علاقے گھنے جنگلات اوردشوار گزارراستوں پر مشتمل ہیں۔یہاں سپن کئی چوٹی پر موجود دو اہم ترین سپرائی اور ستار کلے نامی درے بھی دہشت گردوں سے خالی کروا لئے گئے ہیں ان دروں کو دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں داخلے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ سپن کئی چوٹی پر قبضہ رکھنے کے لئے دہشت گردوں نے سخت مزاحمت کی لیکن ایس ایس جی کے فولاد صفت کمانڈوزنے انہیں پسپا ہونے پر مجبورکردیا۔ علاقہ بھر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو توپخانوں ، ہیلی کاپٹروں اور پیدل فوجی دستوں نے نشانہ بنایااور انہیں نشان عبرت بنا دیا ۔ بارہ ہزار فٹ اونچی چوٹی بریخ محمد کنڈیارو کاکنٹرول سنبھال کر چیک پوسٹ قائم کر کے سبزہلالی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔فوجی ترجمان کے مطابق یہ بلند ترین چوٹی علاقے پر نظر رکھنے کے لئے استعمال کی جارہی تھی اور اب اس پر فوجی قبضے سے پورے علاقے میں دہشت گردوں پر نظر رکھنا ممکن ہو گیا ہے ۔ عسکری ماہرین اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔


جس وقت یہ سطور قلمبند کی جار ہی ہیں’آپریشن خیبر فور ‘نہایت سرعت کے ساتھ کامیابی کی جانب گامزن ہے اور دہشت گردوں پر یہ سرزمین تنگ ہو رہی ہے۔ہمارے سربکف مجاہدین کی اس تازہ ترین حربی کارروائی سے امید باندھی جا سکتی ہے کہ اس سے دہشت گرد وں کایقینی طور پر مزید صفایا ہوگااور ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور کے یہ الفاظ بہت جلد حقیقت کا روپ دھاریں گے کہ’’ باہمت پاکستان کو کوئی نہیں ہرا سکتا اور اس دھرتی کے چپے چپے پر امن قائم ہوگا۔‘‘

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کا لم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
August

مذہب سے جذباتی وابستگی اور اس کا غلط استعمال

Published in Hilal Urdu

تحریر: ملیحہ خادم

مذہب انسان کی زندگی کا وہ حساس پہلو ہے جس پروہ شاذ ونادر ہی کوئی سمجھوتہ کرتاہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مذہب سے انسان کی دلی یا جذباتی وابستگی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اچھے یا بُرے معنوں میں مذہب کے نام پر آسانی سے جذبات سے کھیلا جاسکتا ہے۔ یہ ہی وہ نکتہ ہے جو انسانی جبلت کے نرم خو یا متشدد پہلو کوابھارتا ہے۔ کسی بھی مذہب میں تشدد کی اجازت نہیں اور نہ ہی ناحق خون بہانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے لیکن پھربھی اس کے اندر موجود فالٹ لائنز اصل تعلیمات کو زلزلے کی طرح ہلا کرنت نئی تشریحات یا توجیہات سامنے لے آتی ہیں اسی لئے تقریباً ہر مذہب کی تاریخ میں کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں بے جا تشدد اور جاہلانہ رسوم ورواج کا دور دورہ رہا ہے ۔ ایسے معاملات میں غلطی ادیان کی نہیں ہوتی بلکہ عقائد کی توڑمروڑکرکی جانے والی تشریح اس کی ذمہ دار ہوتی ہے۔


اسلام کے ساتھ بھی یہ ہی ہورہا ہے۔ صدیوں سے جو فقہی یا مسلکی اختلافات اسلام کے دائرے میں گھوم رہے تھے، وہ اب اپنے مدارسے نکل کر باہر آگئے ہیں اور ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں جو انہیں اپنی مرضی کی اشکال میں ڈھالتے رہتے ہیں لہٰذا اسلام کے نام لیوا آج پوری دنیا میں اپنی شناخت کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ موجودہ دور میں مسلمان اور دہشت گردی آپس میں یوں گڈمڈ ہو رہے ہیں کہ کسی کو دین اسلام کی صحیح تعلیمات سمجھاتے ہوئے صبح سے شام ہو جائے لیکن رات کو دنیا کے جس کونے میں دہشت گردی کی کارروائی ہوتی ہے اُس کاذمہ دار بدقسمتی سے مسلمان ہی نکلتا ہے۔ اس کے بعد الفاظ زبان کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر مسلمان مزید مشکوک ہوجاتے ہیں ۔

پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے جاری دہشت گردی میں مذہب کا ہی استعمال کیا گیا ہے۔ ملک دشمن دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں نے اس ذہانت اور مکاری سے اسلام کا نام اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئے استعمال کیا کہ عام آدمی صحیح اور غلط کی تمیز کرنے میں ہی الجھن کا شکار ہوگیا۔ ہم نے بلا تفریق مذہب اور مسلک کے ایک ایک دن میں کئی کئی سو لاشیں اٹھائیں لیکن پھر بھی کتنے ہی سادہ لوح پاکستانی اسلام کے نام پر کھیلے جانے والے اس مکروہ کھیل کو سمجھ نہ سکے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے جاری دہشت گردی میں مذہب کا ہی استعمال کیا گیا ہے۔ ملک دشمن دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں نے اس ذہانت اور مکاری سے اسلام کا نام اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئے استعمال کیا کہ عام آدمی صحیح اور غلط کی تمیز کرنے میں ہی الجھن کا شکار ہوگیا۔ ہم نے بلا تفریق مذہب اور مسلک کے ایک ایک دن میں کئی کئی سو لاشیں اٹھائیں لیکن پھر بھی کتنے ہی سادہ لوح پاکستانی اسلام کے نام پر کھیلے جانے والے اس مکروہ کھیل کو سمجھ نہ سکے۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے زمانے میں ہی پاک فوج نے دشمن کی اس چال کو سمجھتے ہوئے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں آپریشن شروع کردیئے تھے تاہم اس گھمبیر نظریاتی جنگ میں ہر قدم پھونک کر رکھنا پڑرہا تھا کیونکہ دشمن کے ظاہری حلیے نے بہت سے معصوم ذہنوں کو کشمکش میں مبتلا کردیا تھا ۔ یادش بخیر اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ انسانی خول میں چھپے ان حیوانوں سے لڑتے ہوئے جب فوج کے جوان شہید ہوتے تو کئی لوگ دانستہ یا نا دانستہ یہ سوال کھڑا کردیتے کہ اپنے ہی بھٹکے ہوئے مسلمان بھائیوں سے لڑنے والے ان فوجیوں کو شہید کہنا یا ان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے بھی یا نہیں؟
یہ وہ مقام تھا کہ جب دنیا پاکستان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا چکی تھی۔ بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیز ’’را‘‘ اور
’’NDS‘‘
انتہائی کامیابی سے پاکستانیوں کے دل و دماغ کو مسلمان اورکافر، شیعہ اور سنی کی تقسیم سے دوچار کررہی تھیں لیکن چونکہ ناکامی کا لفظ ہماری مسلح افواج کے لئے بنا ہی نہیں ہے اس لئے آپریشن ضرب عضب نے سرحد پار سے ہدایت اور حمایت یافتہ اس نام نہاد مذہبی ڈرامے کے اصل غلیظ کرداروں کا پردہ چاک کردیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کتنے قلیل عرصے میں محدود وسائل کے ساتھ لڑی جانے والی اس جنگ نے پاک آرمی کے سینے پر شہیدوں اور غازیوں کے خون سے مزین فتح کے تمغے سجانے شروع کردیئے۔


خدا کے فضل سے اب وطن عزیز سے دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ مساجد سے لے کر چرچ اور تعلیمی اداروں سے لے کر تفریح گاہوں تک پھیلی ہزاروں شہادتوں نے کافی حد تک شکوک ختم کر دیئے ہیں لیکن ابھی بھی ہم ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہے ہیں، اب بھی کچھ ضمیر فروش فرقہ اور مذہب کی جمع تفریق میں مصروف ہیں۔ ذی عقل خوب جانتے ہیں کہ جو آگ باہر سے لگائی جاتی ہے، اسے ایندھن اندر سے بھی ملتا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے کے منافقانہ رویے تشدد اور انتہاپسندی کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتے رہتے ہیں۔ ہم جذباتی لوگ ہیں جو بغیر سوچے سمجھے وقتی ابال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مردان یونیورسٹی کا طالبعلم مشعال اس کی تازہ مثال ہے جو چند لوگوں کے اکسائے ہوئے جوشیلے اور جذباتی ہجوم کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایسے کتنے ہی واقعات ہماری معاشرتی زندگی کی بدصورتی دنیا کے سامنے عیاں کرتے رہتے ہیں اور ہم حیلے بہانوں سے ایسی حرکتوں کی تاویلیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کو بھی بڑے اہتمام سے مذہبی منافرت پھیلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کے عقائد میں غیر ضروری عیوب بھی اپنا فرض سمجھ کر تلاش کرتے ہیں۔


لیکن اب ہمیں سب اچھا ہے کی گردان چھوڑ کر اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرکے اپنے کل کو بہتر بنانا ہوگا۔ ہمیں معاشرے میں ایک دوسرے کے عقیدے، فرقے اور نظریے کے لئے گنجائش پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ غیرمسلموں کے آئینی اور عائلی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ ہمارے یہاں توہین مذہب کو لوگ ذاتی بغض اورانا کی تسکین کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ مذہب سے وابستگی کو ہم بسا اوقات انتہا پرلے جاکر اپنے نظریات اور عقائد دوسرے پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں سماجی چیک اینڈ بیلنس کا نظام، قانون کی عملداری کے ذریعے مؤثر بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی نفرت انگیزانتہا پسندانہ تقریر اور تحریر کو فروغ نہ دے سکے۔


تحمل، برداشت اور رواداری وہ واحد کنجی ہے جو ہمیں دائمی امن کے راستے پر لے جائے گی۔ ہمارے علماء اور دانش ور حضرات کو لفّاظی کے بجائے حقیقی معنوں میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا نیز فرقہ اور مسلک کی بنیاد پر ہونے والے شرانگیز اجتماعات کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی، تب ہی پُر امن پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا کیونکہ یاد رکھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ موجودہ امن پاک آرمی کی بے مثال کارکردگی کا مرہونِ منت ہے لیکن فوج ہروقت گلیوں اور چوراہوں کی حفاظت کے لئے کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے گلی کوچوں کی حفاظت کا ذمہ خود بھی لینا ہوگا تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہوسکے۔ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا بصورت دیگر اُجرتی قاتل مذہب کا نقاب چڑھا کر کبھی مسلم اکثریت کی مساجد اور امام بارگاہوں میں خون بہائیں گے تو کبھی اقلیتوں کی خوشیوں پر نقب زنی کرتے رہیں گے۔

مضمون نگار:ملیحہ خادم فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

*****

 
10
February

مودی کے بھارت میں مفلسی کا راج

تحریر: عبد الستار اعوان

گزشتہ دنوں عالمی میڈیا پر ایک خبر گردش کرتی رہی کہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں ایک غریب شخص کو اپنی بیوی کی لاش اٹھا کر 10 کلو میٹر تک طویل سفرکرنا پڑا کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے پیسے نہ ہونے کے باعث اسے ایمبو لنس فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ریاست اڑیسہ کے علاقے کالا ہانڈی کا رہائشی دہارا ماجھی ٹی بی کی بیماری کے باعث بیوی کو سرکاری ہسپتال لے کر گیا جہاں ایک ہفتہ زیر علاج رہنے کے بعد وہ چل بسی، دہارا ماجھی نے ہسپتال انتظامیہ سے بیوی کی لاش گاؤں تک منتقل کرنے کے لئے ایمبولنس فراہم کرنے کی درخواست کی جسے رقم نہ ہونے کے باعث مسترد کردیاگیا۔انتظامیہ کی جانب سے ایمبولنس فراہم نہ کئے جانے پر دھارا ماجھی نے بیوی کی لاش کو ایک چادر میں لپیٹ کر کندھے پر اٹھایا اور60 کلومیٹر دوراپنے گاؤں کی طرف چل پڑا۔ تقریباً دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہاں کی مقامی انتظامیہ نے مذکورہ شخص کی مدد کرتے ہوئے اسے ایمبولینس فراہم کی۔اس دلخراش واقعے کی ویڈیو اور تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد پور ی دنیا میں بھارتی حکمرانوں پر شدید تنقید کی گئی ۔انہی دنوں ایک اور خبر آئی کہ بھارت میں ایک خاتون کھلاڑی نے غربت کے باعث خود کشی کرلی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط میں پوجا کا کہنا تھا کہ وہ غربت اور ہاسٹل کی فیس نہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کر رہی ہے۔ پوجا نے اپنی خود کشی کی وجہ کالج کے ایک پروفیسر کو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے مجھے ہاسٹل میں کمرہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ روز اپنے گھر سے کالج آیا کرو۔ پوجا نے لکھا کہ وہ اتنازیادہ کرایہ برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے والد ایک غریب سبزی فروش ہیں۔ بیس سالہ ہینڈ بال کھلاڑی پوجا پٹیالہ کے گورنمنٹ خالصہ کالج میں زیر تعلیم تھی اور اس کا شمار قومی سطح کے کھلاڑیوں میں ہوتاتھا۔

modikbarat.jpgقارئین ! ایسے الم ناک اوردلخراش واقعات اس ریاست میں آئے روز پیش آتے ہیں جو ہر سال اپنے دفاعی بجٹ میں بے تحاشااضافہ کرتی ہے اور دن رات اس پر جدید اسلحے کی خریداری کا بھوت سوار رہتا ہے ۔ جس وقت میں یہ خبریں پڑ ھ رہا تھا میرے ذہن میں اچانک مودی جی کا ایک بیان گردش کرنے لگا ،ایک موقع پر انہوں نے کہاتھا کہ:’’ پاکستان کو بھارت سے سیکھنا چاہئے کہ غربت اور پسماندگی سے کیسے نبرد آزماہوا جا تا ہے ‘‘۔ ایک عام آدمی مودی جی کا یہ بیان سن کر حیرت زدہ رہ جاتاہے اوروہ سوچتاہے کہ شاید انہیں اپنے ملک میں پھیلی غربت اورا فلاس کا علم نہیں یاپھر جان بوجھ کر حقائق سے آنکھیں چرانا ان کی عادت سی بن گئی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں بھی غربت پائی جاتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے زیادہ بھارت میں لوگ خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے زیادہ غربت بھارت میں ہے ۔ایک مؤقر انگریزی جریدے نے غربت سے متعلق اپنی رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا جہاں غریب طبقے کی آمدنی میں قدرے اضافہ ہورہا ہے جبکہ بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا گیا جہاں اس طبقے کی آمدنی اوسط سے بھی کم رفتار سے بڑھ رہی ہے ۔ جریدے کاکہنا ہے کہ اکیس فیصد بھارتی شہری عالمی بینک کے مقرر کردہ خطِ غربت، یومیہ 1.9 امریکی ڈالر فی کس آمدنی پر، یا اس سے نیچے، زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ پاکستان میں اس کی شرح صرف آٹھ فیصد ہے۔


ایک اور جائزے کے مطابق 26کے قریب غریب ترین افریقی ممالک میں سب سے زیادہ غریب ملک بھارت کو قرار دیا گیا ۔ اوکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو
(Oxford Poverty and Human Development Initiative)
نے اپنی ایک رپورٹ میں غربت کے حوالے سے بھارت کو پسماندہ ریاست دکھا یا ہے ۔ غربت کی پیمائش کے لئے مرتب کی گئی اس رپورٹ میں صحت ، تعلیم ، پینے کے صاف پانی تک رسائی اور بجلی کی دستیابی جیسے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ بھارت ایک پسماندہ ملک ہے۔ آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو کی ڈائریکٹر سبینا الکائرے
(Sahina ALKirey)

کہتی ہیں کہ دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی غریب براعظم افریقہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ جب ہم افریقہ کے 26 غریب ترین ملکوں سے بھارت کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں بھی لوگ اتنے ہی زیادہ غریب اور محرومی کا شکار ہیں جتنا کہ افریقہ میں ‘بلکہ بھارت میں غربت کی شدت افریقی ممالک سے کہیں زیادہ ہے اور یہ پہلو بہت چونکادینے والا اور توجہ طلب ہے۔
جدید اسلحے ، مذہبی تنگ نظری اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کی دوڑمیں شامل بھارت جیسے ملک میں پسماندگی، مفلسی اور غربت کااندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب بھارتی شہر اورنگزیب آباد اور مہاراشٹروغیرہ میں بڑھتی ہوئی غربت کے باعث مخیر حضرات کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت غریب افراد کے لئے ’’روٹی بینک‘‘ کھلنے لگے ہیں جہاں سے غریبوں کو مفت روٹی ملتی ہے۔ایسا اس لئے ہے کہ ریاست اپنے ا ن شہریوں کی بنیاد ی ترین ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ۔
ایک بھارتی جریدے نے لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام
UNDP
(یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام ) کے وضع کردہ پیمانے کے مطابق بھارت کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ عا لمی اداروں نے انسانی ترقی کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے اور غربت کے حوالے سے اعداد و شمار بھارتی حکومت کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ یو این ڈی پی کے مطابق بھارتی ریاستوں گجرات، یوپی، مغربی بنگال اور آسام کے دیہی علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔بھارت میں اقوام متحدہ کے اس ادارے کی کنٹری ڈائریکٹر نے بھارت کے قومی ادارہ برائے دیہی ترقیات کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوں تو بھارت مجموعی طور پر غربت میں کمی کے اپنے ہدف کو پورا کرنے میں لگا ہے لیکن دیہی علاقوں میں غربت و افلاس کئی شکلوں میں نظر آتا ہے، کاشتکاری کے شعبے میں حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور دیہی لوگوں کے لئے روزگار و معاشی ترقی کے مواقع توقع کے مطابق بہتر نہیں ہورہے۔


انہوں نے بھارتی حکمرانوں کے مسلمانوں سے متعلق متعصبانہ اور شدت پسندانہ رویوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں تک مذہبی بنیادوں پر غربت کا سوال ہے تو بھارت میں مسلمانوں میں یہ شرح سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں غربت کی یہ شرح آسام، اتر پردیش، مغربی بنگال اور گجرات کے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل سال 2015ء میں بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن نے بھی د عویٰ کیا تھا کہ ملک میں غریبوں کی modikbarat1.jpgتعداد میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے لیکن شہری علاقوں میں تناسب کے لحاظ سے مسلمانوں میں بدستور غربت بڑھ رہی ہے۔سروے میں مذہب کی بنیاد پر بھی معلومات یکجا کی گئی تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں مسلمان آبادی سب سے زیادہ غریب ، پسماندہ اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے ۔ نوبل انعام یافتہ اور معروف معاشی دانشور امرت سین نے نئی دہلی میں منعقد ایک پروگرام جو حکومت کی طرف سے غربا کو نقد رقم تقسیم کرنے کے منصوبے پر تھا‘کے موقع پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پیسے دینے کی یہ سکیمیں غریبوں کو غذا فراہم کرنے کے حق میں کبھی بہتر نہیں ہو سکتیں جب تک کہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس پالیسی مرتب نہ کی جائے ۔
یونی سیف
(United Nations International Children's Emergency Fund)
بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والا ایک معروف عالمی ادارہ ہے ۔ اس نے
``Children in Urban World``
کے عنوان سے جاری کر دہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ شہری علاقوں میں رہنے والے غریب بچوں کی حالت دیہی علاقوں کے بچوں سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے۔ یونی سیف نے بھارت کے بڑے شہروں میں نہایت غریب افراد پر مشتمل تقریباً پچاس ہزار گندی بستیوں کے متعلق اپنے سروے میں بتایا کہ ان بستیوں میں ہر تین میں سے ایک شخص یا توگندے نالے یا پھر ریلوے لائن کے پاس رہتا ہے جبکہ ان گندی بستیوں اور ان کے آس پاس رہنے والے بچوں کی حالت گاؤں کے بچوں سے بھی بہت بری ہے اور ان بچوں کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں ہو پاتی۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر گندی بستیاں ریاست مہاراشٹر، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور گجرات میں ہیں۔بھارت میں بڑھتی غربت اور غریب بچوں کی حالتِ زار پر توجہ دلاتے ہوئے ممبئی کے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسزکے سربراہ ڈاکٹر پرسو رام کا کہنا ہے کہ بھارت میں غربت کے سبب کم عمر بچوں کی اموات زیادہ ہوتی ہیں ۔ڈاکٹر پرسو رام کے مطابق بھارت میں تیزی سے پھیلتی ہوئی غربت سے سب سے زیادہ دلت اور مسلمانوں کے بچے متاثر ہورہے ہیں۔


قارئین ! مندرجہ بالا سطور میں ہم نے مستند عالمی اور بھارتی اداروں اور ماہرین کی چند ہوشربا رپورٹس اور تازہ خبروں کی روشنی میں نریندر مودی کے بھارت میں غربت،افلاس ، تنگدستی، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی اور پسماندگی کا ایک مختصر سا جائزہ لیا ہے، ہمارے خیال سے ان اداروں کی رپورٹس اور جائزوں کویکسر مسترد کرنا قرین انصاف نہیں ہوگا ۔ ان رپورٹس کی بابت جب پڑوسی ملک کے چند صحافیوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں پھیلی غربت اورمفلسی کے حوالے سے انہیں کافی قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس عنوان پرابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پور ی ریاست میں پسماندگی کی صورتحال اس سے بھی بری ہے،بالخصوص دیہات اور دو ر دراز کے علاقوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں۔یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ یہ حالت ایک ایسے ملک کی ہے جس کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مضبوط ترین جمہوری ، فوجی، معاشی اور اقتصادی ریاست ہے اور اگر کسی ملک نے غربت اور پسماندگی سے نبرد آزماہونا ہے تو وہ بھارت کو رول ماڈل قرار دیتے ہوئے اور اس سے کچھ سیکھ کر ان چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے ۔


بہر کیف پڑوسی ملک کی مودی سرکار اوراس کے ساتھیوں کو چاہئے کہ اپنے بھاری بھر کم فوجی بجٹ اور دہشت گرد ہندو تنظیموں کو نوازنے کے لئے مختص رقم میں سے کچھ حصہ غریبوں کی روٹی اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے بھی نکالیں۔اپنے ملک سے دہشت گرد اور تنگ نظر ہندو تنظیموں کو ختم کرکے صحت ، روزگار اور تعلیم کے معاملات پرتوجہ دینے کے ساتھ ساتھ نفرت آمیز رویوں کا خاتمہ کرکے اقلیتوں اور غریبوں کو جینے کا حق دیجئے وگرنہ زمینی حقائق یہ بتارہے ہیں کہ اگر تختِ دلی نے ان اہم بنیادی انسانی مسائل کی جانب توجہ نہ دی تو اس کی یہ مجرمانہ غفلت اس کے گلے کاپھندا بن جائے گی اور حکمرانوں کے انسانیت دشمن اور مسلم، عیسائی ، سکھ دشمن اقدامات آخر ایک دن بھارتی وجود کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔ یوں اس ریاست کے لئے اپنی بقاکی جنگ لڑنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
February

بحرہند میں امن کا فروغ

تحریر: محمد اعظم خان

سمندر کے ذریعے بڑی تعداد میں نقل و حمل نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ فضائی نقل و حمل سے تقریباً 163گنا سستی بھی ہے۔ 90 فیصد بین البراعظمی سامان کی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے جو کہ تقریباً 15ملین کنٹینرز کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور یہ کنٹینرز سا لانہ 200ملین سے زائد مرتبہ بحری سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے 38ہزار سے زائد تجارتی جہاز سمندری راستوں کے ذریعے 4500سے زائدبین الاقوامی بندرگاہوں کے درمیان ایک عالمگیر رابطے کا باعث بنتے ہیں۔
68.56ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا بحرہند دنیامیں تیسرا بڑا بحر ہے جو زمین کی سطح کے تقریباً 20فی صد حصے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔47ممالک کے ساحلوں اور کئی جزیروں کا مسکن بحر ہند جغرافیائی خدوخال کی وجہ سے بہت اہم ہے۔

behrhindmainmut.jpgبحر ہندمیں سالانہ تقریباً ایک لاکھ جہاز ایک وسیع علاقے کا سفر کرتے ہیں اور یہ بحر دنیا میں‘ وزن کے اعتبار سے‘ سامان کی بڑی مقدار میں نقل و حرکت کا بحر مانا جاتا ہے۔ یہ بحر دنیا کے طویل سفر کرنے والے مال بردار جہازوں کی نقل و حمل کے لئے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً نصف بحری آمدو رفت اور پیٹرولیم مصنوعات کی80 فیصد سے زائد نقل و حمل اسی بحر کے ذریعے ہوتی ہے۔ دنیا کے تیل کا 65فیصد حصہ اور گیس کے 35فیصد ذخائر بحر ہند کے ساحلی ممالک میں واقع ہیں۔ کئی ممالک کی تجارتی آمدو رفت اسی بحرکے ذریعے ہوتی ہے۔ امریکہ ، فرانس اور جاپان، خلیج سے توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں ۔ مشرق سے مغرب کابحری تجارتی راستہ جو عین شمالی بحرِ ہند سے گزرتا ہے، دنیا کا اہم ترین تجارتی راستہ ہے اور ہزاروں جہاز ہر وقت اس پر رواں رہتے ہیں ۔
اکیسویں صدی اپنے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے بے مثال مواقع لائی ہے لیکن یہ مواقع سیاسی اور معاشی بد نظمی اور عدم استحکام جیسے خطرات سے دوچار ہیں ۔ دنیا کی قومی معیشتوں کے حوالے سے ان میں سے 80کی دہائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ، توانائی اور صنعتی خام مال کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔نتیجہ یہ کہ اس صورت حال نے بین الاقوامی تجارت کو بہت تیزی کے ساتھ بحری تجارتی راستوں کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، بحری قزاقی، سمندری وسائل کے استحصال،معاشی نظام میں بگاڑ اورعالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کے پس منظر میں عالمی سکیورٹی، اقتصادیات اور ماحول کو لاحق مختلف النوع خطرات میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے،جس کے لئے مشترکہ اورزیرک سوچ کی ضرورت ہے۔ بحری تجارت میں ہر ملک شامل ہے اور اس کی حفاظت تمام شراکت داروں کی مربوط حکمت عملی کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔


سا ل2007سے پاک بحریہ کی جانب سے منعقد ہ امن مشقیں اور انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس مغربی بحرہند میں میری ٹائم سکیورٹی کو بہتر بنانے کی جانب ایک غیر معمولی قد م ہے۔ ’’امن‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی انگریزی میں
’’Peace‘‘
کے ہیں۔اس مشق کا سلوگن ’’ امن کے لئے متحد
، Together for Peace‘‘
ہے جو اس مشق کی بنیاد بنا۔2007 سے منعقدہ ہرمشق میں عالمی بحری افواج اور مندوبین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔مشق امن 2007میں عالمی بحری افواج کے14 جہازوں، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی 2ٹیموں اور 21ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ سال 2009میں منعقدہ دوسری امن مشق میں14جہازوں، 2 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسزکی9ٹیموں اور 27ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ مارچ2011میں منعقد ہونے والی تیسری امن مشق میں 11 جہازوں، 3 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی اور میرینز کی 3 ٹیموں اور 28ممالک کے43مندوبین نے شرکت کی۔ امن مشقوں کے سلسلے کی چوتھی مشق امن 2013میں 12جہازوں ،2ایئر کرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی6ٹیموں اور29ممالک کے 36 مندوبین نے شرکت کی۔
امن مشقوں کے انعقادکامقصد معلومات کے تبادلے اور باہمی دلچسپی کے اُمور بشمول میری ٹائم سکیورٹی کے مسائل ،دہشت گردی کے خاتمے اور انسانیت کی مدد جیسے آپریشنزپر یکساں سوچ کوفروغ دینا ہے۔ مشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فضا،سمندر اور زیر سمندر خطرات سے نبردآزمائی کے لئے مشترکہ مہارتوں کے فروغ اور مختلف مشقوں کے ذریعے سپیشل آپریشنز فورسز کی مہارتوں میں اضافے کا حصول بھی ان مشقوں کے انعقاد کے مقاصد میں شامل ہے۔


امن مشقوں کا انعقاد پاکستان نیوی کا ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ کثیر مقاصد کے حصول کی حامل یہ مشقیں خطے میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی بحری افواج کے ساتھ پاک بحریہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہیں ۔ امن مشقوں کے انعقاد سے نہ صرف علاقائی قوت کے طور پرپاک بحریہ کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اتحادی ممالک کا پاک بحریہ پر اعتماد بھی بڑھا ہے۔مشق امن 2017کا انعقاد اس اعتمادمیں مزید اضافے کا باعث ہوگا ۔مشق امن 2017 میں 35ممالک سے زائد جہاز، ایئرکرافٹ، ہیلی کاپٹرز، سپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو نا کا رہ بنانے والی ٹیمیں، میرینز پر مشتمل ٹیمیں اور مندوبین شرکت کریں گے۔ مشق امن 2017 میں اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت پاکستان کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے لئے کی جانے والی کوششوں پر عالمی برادری کے اعتماد و یقین اور مستقبل میں پاکستان اور پاک بحریہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 

Follow Us On Twitter