10
February

علاقائی تعاون۔ مگر کیسے؟

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی شروعات نومبر 2011 میں ہوئیں۔ کانفرنس کا مقصد ایک مخلصانہ پلیٹ فارم بنانا تھا جس کے ذریعے نتیجہ خیز علاقائی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ افغانستان کو مرکز گفتگو بنا کر اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان تمام مشترکہ مشکلات اور چیلنجزجو کہ افغانستان خاص کر اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ممالک کو درپیش ہیں ان کا بہتر حل تلاش کرنا تھا۔ مرکزی خیال یہی تھا کہ محفوظ اور مستحکم افغانستان ہی اس تمام خطے کی ترقی اور خوش حالی کا ضامن ہو گا۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں جو کہ استنبول سلسلہ بھی کہلاتا ہے کل چودہ ممالک شامل ہیں۔ تمام اہم علاقائی ممالک اس کے ممبر ہیں جبکہ 17معاون ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس کے ساتھ بارہ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بطور معاون موجود ہیں۔ یہ تنظیم تین بنیادی مسائل یا معاملات جو کہ سیاسی مشاورت‘ اعتماد سازی کے اقدامات اور علاقائی تنظیموں سے تعاون ہیں،کی طرف مرکوز ہے۔
ماضی میں کچھ اس سے ملتی جلتی ایک کانفرنس
European Conference on Security & Cooperation
جو کہ یورپ میں سکیورٹی اور تعاون کے نام سے جولائی 1973 میں شروع کی گئی تھی۔ سرد جنگ کے زمانے میں ایسی کانفرنس کا انعقاد ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں مشہور زمانہ ہیلسنکی معاہدے پر اگست 1975 میں دستخط ہوئے۔ اسی کانفرنس نے آگے جا کر یورپی تنظیم برائے سکیورٹی اور تعاون کا روپ دھار لیا۔
OSCE
اس وقت دنیا کی سب سے بڑی علاقائی سکیورٹی کی تنظیم بن چکی ہے۔ جس کے 57ممالک ممبر ہیں۔ ہارٹ آف آیشیا کانفرنس شروع کرنے کے پیچھے ممکن ہے
OSCE
کاَ کامیاب انعقاد پیش نظر ہو۔ اس وقت ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی ’6سال کے عرصے میں‘ 6کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔ استنبول، کابل، الماتی، (قازقستان)،بیجنگ اور اسلام آباد جبکہ آخری یعنی چھٹی کانفرنس امرتسر میں 5دسمبر کو منعقد ہوئی۔


چھٹی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے پہلے پاک بھارت تعلقات بدترین سطح پر پہنچ چکے تھے۔ 2016 کے وسط میں کشمیر کے مقبوضہ علاقے میں تحریک آزادی میں مزید شدت اس وقت آئی۔ جب برہان مظفر وانی کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ بھارت اپنی تمام تر ریاستی زور اور طاقت کے باوجود کشمیریوں کی حق خودارادی کی تحریک کو دبا نہ سکا۔ بھارت نے بڑھتی ہوئی تحریک کو پاکستان حمایتی قرار دیتے ہوئے سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا اور دو سطح پر پالیسی بنائی۔ پہلی سطح پر دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا کیا جانے لگا کہ پاکستان کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی تحریک آزادی کی مالی اور فوجی معاونت کر رہا ہے اور ساتھ ہی تمام تر ریاستی اور فوجی قوت اور ظلم و تشدد سے کشمیریوں کی تحریک کچلنے کی کوشش کی جانے لگی اور دوسری سطح پرلگاتار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارت کی جانب سے تقریباً 250سے زائد مرتبہ کنٹرول لائن پار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی دوران بھارت نے پاکستان میں پہلے سے طے شدہ سارک سربراہ کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے حلیف ممالک افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی اس بائیکاٹ میں شامل کر لیا۔ نتیجتاً پاکستان نے سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کر دی۔ اس پس منظر میں پاکستانی حکومت کے سامنے یہ سوال کھڑا تھا کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرے یا بھارت کی طرح اس کا بائیکاٹ کرے۔ لیکن پاکستان کے شرکت نہ کرنے سے کانفرنس ملتوی نہ ہونی تھی کیونکہ اس میں 13دوسرے ممالک بھی شامل تھے۔


حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان کو بھارت کی طرح غیرذمہ دارانہ رویہ نہیں اختیار کرنا چاہئے۔ پاک بھارت کشیدگی مذاکرات سے ختم ہو گی نہ کہ ایک دوسرے سے بات چیت بالکل ختم کر دینے سے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مفادات ہیں اور امرتسر کانفرنس کا مقصد افغانستان اور وہاں پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کرنا تھی۔ تیسرے یہ کہ اس وقت بھارت کی پالیسی پاکستان کو خطے میں اور دنیا بھر سے الگ تھلگ کرنا ہے تو اس کا بہترین توڑ یہی ہے کہ پاکستان اس کانفرنس میں شرکت بھی کرے اور اپنا حصہ بھی ڈالے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت سے تمام معاملات پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ میں یہ فورم
CAREC (Central Asian Regional Economic Cooperation)
کی بھی حمایت کرتا ہے اور
HOA
کے ممبر
CAREC
کے ممبر بھی ہیں لہٰذا کانفرنس میں شرکت کرنے سے
CAREC
میں بھی شمولیت مزید فعال ہو گی۔
چنانچہ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر محترم سرتاج عزیز امرتسر پہنچے۔ ان کا پرتپاک استقبال پاکستانی ہائی کمشنر نے کیا۔ تاہم سرتاج عزیز کو آدھ گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ بھارتی حکومت کی سردمہری پاکستانی مندوب کے پہنچتے ہی نظر آنے لگی۔


کانفرنس کا موضوع افغانستان تھا خاص کر اس میں موجود دہشت گردی سے نمٹنا تھا۔ پاکستان افغانستان تعلقات اس کانفرنس میں زبردست پلٹا کھا گئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں دہشت گردی کا سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔ان کے مطابق ہمیں سرحد پار پاکستان سے ہونی والی دہشت گردوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے 50کروڑ ڈالر کی امداد کا جو وعدہ کیا تھا اسے چاہئے کہ وہ رقم پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے خرچ کرے۔ ان کے مطابق کچھ عناصر اب بھی دہشت گردی کو پناہ دے رہے ہیں۔ طالبان نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ نہ ملتی تو ایک ماہ بھی نہ چل پاتے۔ انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ کر رہا ہے انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایک ایشیائی یابین الاقوامی تنظیم ان دہشت گرد کارروائیوں پر کڑی نگاہ رکھے جو پاکستان کی شہ پر کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان میں افیون کی کاشت کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا کہ افیون کی کاشت پاکستان افغانستان ملحقہ سرحدی علاقوں میں ہی ہو رہی ہے لہٰذا اس میں بھی پاکستان ہی ملوث ہے ۔حالانکہ افیون کی کاشتکاری مکمل طور پر افغانستان میں ہو رہی ہے۔


اشرف غنی کا ایسے وقت میں پاکستان پر الزامات دراصل ان کی اپنی ناکامیوں کی وجہ سے ہے۔ اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت اپنی کمزور اور ناکام پالیسیوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ اس وقت وہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لئے بھارت کو نجات دہندہ سمجھ بیٹھی ہے۔ لیکن بھارت اور اشرف غنی یہ بھول گئے ہیں کہ ان کی حکومت کا دائرہ کار کابل یا اس سے ملحقہ کچھ تھوڑے سے علاقے پر رہ گیا ہے۔ جب وہ افیون کی کاشت پر اپنی بے بسی بتا رہے تھے تو دراصل وہ یہ بھی بتا گئے کہ ان علاقوں پر ان کا کنٹرول ہی نہیں ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کا افغانستان میں اثر و رسوخ ختم کرنے کے لئے تقریباً 2ارب ڈالر کی امداد دی ہے اور اس سے خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن اس کے حمایت یافتہ اشرف غنی محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہندوستان امریکہ سے بھی فائدہ لے رہا ہے۔ امریکہ ہندوستان دفاعی معاہدہ دراصل اس بڑھتی ہوئی دوستی کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔


پاکستان کے نمائندے سرتاج عزیز نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ الزامات کا کھیل ختم ہونا چاہئے۔ کیونکہ الزامات کی بجائے ٹھوس اور مضبوط اقدامات ہی علاقائی تنازعات ختم کر سکتے ہیں اور یہ کہ پاکستان نے کانفرنس میں آنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ پاکستان اس خطے میں اور خاص کر افغانستان میں امن لانے کے لئے مخلص ہے۔ سرتاج عزیز کی تقریر میں تشنگی باقی رہی۔ اگر وہ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے دنیا کو ریاستی دہشت گردی یعنی بھارتی مظالم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ نشاندہی کر دیتے تو کچھ مذائقہ نہ تھا۔ پھر جب بات افغانستان ہی کی ہو رہی تھی تو افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں دراندازی اور دہشت گردوں کی آمد اور پاکستان میں ہونے والے کئی ہولناک دہشت گردی کے واقعات جس میں سینکڑوں بے گناہ اپنی جان سے گئے، خاص کر آرمی پبلک سکول کا واقعہ ان کو یاد دلانے سے دنیا کے ممالک اور لوگ کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتے۔بہرحال روسی نمائندے نے سرتاج عزیز کی تقریر کی تعریف کی اسے انتہائی تعمیری اور دوستانہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان پر الزامات اور تنقید کو ناپسند کیا اور اسے مسترد کر دیا۔ پاکستان کو کئی دوست ممالک خاص کر ایران، ترکی ملائشیا وغیرہ کی طرف سے کسی قسم کی تعریف یا پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر کسی تبصرہ کا انتظارہی رہا۔


بھارتی سرد مہری اور رویے سے دل برداشتہ سرتاج عزیز فوراً ہی وطن واپس پہنچنے اور اسی رات کو پریس کانفرنس میں بھارتی غیر سفارتی اور انتہائی ہتک آمیز رویے کے بارے میں ذرائع ابلاغ اور عام لوگوں کو معلومات دیں ان سب باتوں کے باوجود حکومت پاکستان اس کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلہ کو صحیح گردانتے ہوئے کانفرنس کو کامیاب قرار دیتی رہی۔
کانفرنس کے آخری اعلامیے کا ایک حصہ پاکستان کے لئے اچھا نہیں تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں بالخصوص افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں مبینہ دہشت گرد گروپوں کا نام لیا گیا ہے اور ان کی پرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان میں داعش، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ، لشکر طیبہ، جیش محمد، جمعیت الاحرار اور حزب اﷲ شامل ہیں۔ ان میں سے کتنی تنظیمیں پاکستان میں بنائی گئیں۔ جبکہ کئی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکسان کو ٹھکانہ بنایا ہوا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں اس پورے خطے میں ہونے والی دہشت گردی کا مرکز پاکستان ہے اور افغانستان صرف ایک مظلوم تماشائی بن گیا ہے۔ جس کی سرزمین دہشت گردوں کے استعمال میں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان میں سے بیشتر تنظیمیں امریکہ کی تخلیق کردہ ہیں۔ جن کو افغانستان میں مختلف ادوار میں یا مختلف علاقوں کی ضرورت کے پیش نظر تخلیق کیا گیا ور بعد میں غیرفعال کرنے کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اب پاکستان کو (الزام ڈال کر) اس میں شامل کر دیا گیا۔


مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بھی دنیا اور خاص کر مہاجرین کے ملک افغانستان کو شکرگزار اور پاکستان کا احسان مند ہونا چاہئے نہ کہ تنقید کا نشانہ بنائے۔
بھارتی ابلاغ عامہ نے بھی پاکستان کی شمولیت کو سراہنے کی بجائے اس پر کڑی تنقید کی بلکہ پاکستان کے ساتھ غیرسفارتی رویے پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کی ناکامی کہا۔ سوال یہ ہے کہ سرتاج عزیز کی جگہ اگر پاکستانی سفیر اس کانفرنس میں شرکت کرتے تو کیا اس وقت بھارت کا اور افغانستان کا رویہ مختلف ہوتا۔ یقیناًنہیں تو پھر بھارت سے معاملات اتنے آگے بڑھانے سے کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینے کے لئے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ وہی بین الاقوامی برادری ہے جس کی رائے کشمیریوں کے اوپر ڈھائے گئے بھارتی مظالم بھی نہ بدل سکے۔ پچھلے چھ مہینے سے جس طرح کشمیری عوام پر ظلم و ستم ہو رہا ہے جب یہ مظالم بھارت کے متعلق ان کی رائے نہ بدل سکے تو پاکستان کی

HOA

کانفرنس میں شمولیت کیا بدل سکے گی۔ بین الاقوامی برادری کی سردمہری اور کشمیر کو اہمیت نہ دینا دراصل بھارت کے بارے میں ایک قائم شدہ رائے ہے جو ہندوستان کی تمام پر تشدد کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود تبدیل نہیں ہوسکی ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے اشرف غنی کی حکومت حقیقی طور پر ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔ جس کا دائرہ کار کابل تک ہی محدود ہے۔ اشرف غنی کا کانفرنس میں بیان ’بھارت کی شہ پر اور امریکہ کی رضامندی سے‘ ہی ممکن تھا کیونکہ وہ بہت جلدی اپنے موقف تبدیل کر لیتے ہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے وہ پاکستان کو ایک برادر ملک سمجھ رہے تھے۔


کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔


پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ بھارت اور افغانستان سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اچھے تعلقات صرف اور صرف برابری کی بنیاد پر ہی ممکن ہیں۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے

*****

کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔

*****

 
10
February

ماسکو کانفرنس

Published in Hilal Urdu

تحریر: حماس حمید چوہدری

کہتے ہیں کہ مسئلہ چاہے کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو اس کا حل مذاکرات کی میز پرہی نکلتا ہے۔پچھلے کچھ سالوں سے اہلِ علم اور سیاسی دانشور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جس پختگی کا ذکر کر رہے تھے اس کا عملی مظاہرہ 27 دسمبر2016ء کو روس کے دارالحکومت ماسکو کی یخ بستہ فضاؤں میں منعقد کئے گئے پاکستان ،چین اور روس کے مشترکہ اجلاس میں نظر آیا۔اس اجلاس کا ایجنڈا دو اہم نکات پر مشتمل تھا، ایک تو افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا اور دوسرا پاک چین اقتصادی راہداری میں روس کی شمولیت کے لئے راہ ہموار کرنا۔


واشنگٹن اور نئی دہلی کی بڑھتی قربتیں دیکھ کر ماسکونے سفارتی سرگرمیوں کا رخ اسلام آباد کی جانب موڑ دیا ہے اور پاکستان نے بھی سفارتی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موقع سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قدرتی طور پر پاکستان خطے میں چین کا سب سے بڑا اور اہم اتحادی ہے جبکہ روس چین کے ساتھ ا سٹریٹجک شراکت داری بڑھانے کا خواہش مند ہے جس کے لئے اسے پاکستان کا تعاون درکار ہے ۔اسی سلسلے میں پاکستان ، روس اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا آغاز ہوا اور دو خفیہ مذاکراتی مرحلوں کے بعد ستائیس دسمبر کوماسکو میں اسی مذاکراتی کڑی کے تیسرے مرحلے کا ایک کانفرنس کے ذریعے انعقاد کیا گیا جس میں خطے کی سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور خاص طور پر افغانستان کے اندر قیام امن کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا ۔ سہ ملکی گروپ میں افغانستان کی شمولیت کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا جبکہ ایران بھی جلد اس منصوبے کا حصہ ہو گا تاہم بھارت کو اس اتحاد میں شامل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ دریں اثناء روسی میڈیا کے مطابق پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری (اب امریکہ میں پاکستانی سفیر)کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کو چاہئے کہ مفاہمت کے حصول کی خاطر طالبان کے ساتھ پرامن مذاکرات کے حوالے سے عوام میں قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

maskoconfer.jpgتینوں ممالک اس حقیقت کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ خطے کی ترقی کا دارومدار افغانستان میں امن سے مشروط ہے جبکہ افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر پاکستان سمیت خطے کے دیگر تمام ممالک کو تشویش لاحق ہے ۔ماسکو کانفرنس میں داعش جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے اور مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔کانفرنس کے بعد پاکستان کا یہ موقف بھی سامنے آیا کہ امریکہ افغانستان میں امن قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے اس لئے پاکستان اب خطے کے دیگر ممالک کے تعاون سے افغانستان میں سیا سی استحکام اور امن لانے کی بھرپورکوشش کرے گا جبکہ کانفرنس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ کی نمائندہ ماریہ زخارووا کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان پر امن مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لئے بعض پابندیوں میں لچک اور نرمی دکھانے کی بھی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں وہ اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


سفارت کاری کا ایک اصول ہے کہ اس ہاتھ دو اور اس ہاتھ لو اور پاکستان انتہائی محتاط انداز میں اس اصول پر عمل پیرا ہے۔ افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان اور روس کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئی تھیں اور ماضی میں بھارت روس کا اتحادی اور اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار رہا تھا لیکن پچھلے کچھ عرصے کے دوران بھارت اور امریکہ کی نزدیکیاں بڑھنے سے روس کو خطے میں نئے دوستوں کی ضرورت ہے اور اس کے لئے پاکستان بہترین آپشن ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ چین کی مدد سے تعمیر ہونے والی اقتصادی راہداری اور گوادر بندرگاہ کے ذریعے گرم پانیوں تک براہ راست رسائی ہے۔ اقتصادی راہداری بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کے لئے ہر روز نت نئے منصوبے بنانے میں مصروف ہے اور ان حالات میں روس کو اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کا مطلب ہے کہ پاکستان اور چین کے ساتھ ساتھ روس بھی اقتصادی راہداری کے روٹس اور منصوبوں کی حفاظت کرے گا اور اس کے علاوہ پاکستان میں روسی سرمایہ کاری بھی بڑھے گی اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو روسی منڈیوں تک براہ راست رسائی بھی ملے گی۔


ماسکو کانفرنس کے ایجنڈے کا دوسرا اہم نکتہ پاک چین اقتصادی راہداری میں روس کی شمولیت کے لئے راہ ہموار کرنا ہے جس کے تحت پاکستان نے روس کو گوادر بندرگاہ کے استعمال کی اجازت دیدی ہے ۔پاکستان اور روس کی قربت اس وقت ہی بڑھنا شروع ہو گئی تھی جب بھارت کے بارہا منع کرنے کی درخواست کے باوجود روس نے مشترکہ فوجی مشقوں کے لئے اپنے فوجی پاکستان بھیجے تھے۔ پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی تعاون اس وقت بڑھانے کا موقع ملا جب روس نے 2014ء میں پاکستان کے لئے دفاعی سازو سامان خریدنے کی پابندی کو نرم کیا۔یہ وہ وقت تھا جب بھارت امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری بڑھانے میں مصروف تھا اوراسی وجہ سے روس اور بھارت میں فاصلے پیدا ہوئے جبکہ اس خلا کو پاکستان نے انتہائی احتیاط کے ساتھ پُر کیا جس سے پاک چین اور روس کے سہ ملکی اتحاد کی راہ ہموارہوئی ہے ۔


پاکستان ، چین اور روس تین ملکی اتحاد میں چین اقتصادی لحاظ سے مضبوط ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان اور روس دونوں کے لئے اہم اکنامک ڈرائیور ثابت ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان خطے میں اپنے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے اس لئے چین اور روس دونوں اپنی اقتصادی پالیسیوں کی تکمیل کے لئے پاکستان کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تعاون کو بین الاقوامی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔کئی دہائیوں کے تعطل کے بعد دونوں ملک اپنے تعلقات کو استوار کرنے جا رہے ہیں ۔پاکستان پر امریکی دباؤ کم کرنے کے لئے ایسا کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ پچھلے پندرہ ماہ کے دوران پاکستان کے کئی اعلیٰ سول و فوجی افسران باہمی تعلقات کی مضبوطی کے لئے ماسکو کا دورہ کر چکے ہیں جس کے نتیجے میں ہی پاکستان اور روس کے درمیان چار ایم آئی۔35 جنگی ہیلی کاپٹروں کی پاکستان کو فروخت کا معاہدہ طے پایا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ امریکہ کی بھارت نواز پالیسیو ں نے پاکستان کو امریکہ کا متبادل ڈھونڈنے پر مجبور کیا ہے۔اسی طرح روس جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا حامل ملک ہے جو کہ پاکستان اور چین دونوں کے لئے مغربی دفاعی سازو سامان کا متبادل بھی ہو سکتا ہے جبکہ روس ایک عرصے سے خلیجی ریاستوں کے گرم پانیوں تک رسائی کا خواہشمند رہا ہے جس کے لئے اسے افغانستان میں جنگ بھی لڑنا پڑی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا اورآج پاکستان نے روس کواقتصادی راہداری میں شمولیت کی دعوت دے کر خود اسے گرم پانیوں تک رسائی کا موقع فراہم کیا ہے جسے روس کسی قیمت پر بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔


موجودہ صورتحال میں دونوں ملکوں میں پر امن دیرپا تعلقات خطے میں امن اور استحکام کا باعث بنیں گے اور ماسکو کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی جب بات آتی ہے تو دوستی اور دشمنی جیسا کوئی لفظ وجود نہیں رکھتا بلکہ سارا مفادات کا کھیل ہوتاہے اور پاکستان کو بھی یہ بات سمجھ آچکی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی دیکھ کر یہ بات صاف معلوم ہو رہی ہے کہ پاکستان کو اب ملکی مفاد سے غرض ہے اور اس کے لئے وہ کسی بھی ریاست کسی بھی ملک سے ہاتھ ملانے کے لئے تیار ہے اور ہونا بھی اسی طرح چاہئے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
February

شام کی صورتِ حال اور عالمی سیاست

Published in Hilal Urdu

تحریر : محمد علی بیگ

شام کی روز بروز بدلتی صورت حال ایک عالمی مسئلہ ہے جو کہ شاید عظیم طاقتوں کی اَنا کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ اگر ہم اس غور طلب معاملے پر ایک تنقیدی نظر دوڑائیں تو اس کی جڑیں عرب دنیا میں اٹھنے والے
Spring Revolution
سے ملتی ہیں۔ اس انقلاب نے جہاں عرب دنیامیں کئی دہائیوں سے بیٹھے حکمرانوں کو چلتا کیا وہیں پر یہ شام میں ایک خونریز جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ 2011 کے شروع میں حقوق اور جمہوری نظام کے حق میں نکالے جانے والے جلوس اور ریلیاں اب ایک منظم اور باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہیں جو کہ اقوام متحدہ کے کردار اور فعال ہونے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ بہت سے محقق اور تبصرہ نگار یہ خیال کرتے ہیں کہ بشارالاسد کے خلاف نکالے جانے والے غم و غصے میں امریکہ کا کردار کلیدی ہے۔


روسی صدر پیوٹن کا یہ فیصلہ کہ وہ ہر قیمت پر بشارالاسداور اس کی حکومت کا دفاع کریں گے نے شام کو جنگِ کوریا اور ویت نام جیسا بنا دیا ہے۔ مگر یہ بات قابلِ دید ہے کہ پیوٹن کا یہ فیصلہ ایک عمل نہیں بلکہ شام کے لئے امریکی خارجہ پالیسی کا ردِ عمل ہے۔ یہ روسی صدر کا ایک مصمم اور غیر متزلزل ارادہ ہے کہ مغربی ممالک کی تمام تر مخالفت کے باوجود وہ شامی صدر کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اپنی تمام تر کو ششوں کے با وجودروس کے حمایت یافتہ بشا ر الاسد شام کے صرف پچیس فیصدحصے پر کنٹرول برقرار رکھ سکے ہیں۔ شامی صدر کو روس کے علاوہ ایران، عراق اور حزب اللہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔
1991میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یہ خیال کیا جانے لگا تھاکہ اب امریکہ ایک تن تنہا سپر پاور بن گیا ہے اور حتیٰ کہ ایک امریکی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر
Francis Fukuyama
نے اپنی مشہور کتاب
The End of History
بھی لکھ ڈالی اورشاید یہ خیال ظاہر کیا کہ اب امریکی طاقت کی بدولت جنگ ہونا نہایت مشکل اور ناممکن ہے۔ اس کتاب کے جواب میں ایک اور امریکی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر
Samuel Huntington
نے اپنی کتاب
The Clash of Civilizations
پیش کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ ہونے والی جنگیں نسل اور تہذیب کی بنیا د پر لڑی جائیں گی۔ مگر شام کے گھمبیر حالات اور روسی صدر پیوٹن کے عزم نے ان دونوں حضرات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری تو کچھ عرصہ پہلے تک بات چیت کی ناکامی کی صورت میں اپنے
Plan-B
کو بھی پیش کر چکے ہیں جس کے تحت امریکہ نے شام کی خود مختار ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا خاکہ پیش کیا۔ یہ بات حیران کن ہے کہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب
Sergey Lavrov
سے کئی ملاقاتیں کیں جن کی بنیا دی وجہ شاید شام میں امریکی آپریشنل اور سٹریٹجک کمزوریاں ہیں۔
یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ سیز فائر کے بعد17ستمبر 2016کو امریکہ نے شامی افواج پر دیر الزور کے مقام پر ایک شدید فضائی حملہ کیا جس میں تقریباً62شامی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس حملے نے نہ صرف شامی فوج کو نقصان پہنچایا بلکہ داعش کے جنگجوؤ ں کے لئے راستہ بھی ہموار کیا۔ یہ کیا ماجراہے کہ اگر ہم اُس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے2009-13کے بیانات کو دیکھیں تو وہ صاف طور پر یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ ہم جنگجوؤں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ بشارالاسد کے بے رحمانہ اور مطلق العنان نظامِ حکومت کے خلاف لڑ سکیں۔
Wiki-Leaks
کے جولیان آسانج نے بھی ہیلری کلنٹن کے دوہرے معیار کا پردہ چاک کردیااور وہ تمام خفیہ دستاویزات عام کر دیں جن میں داعش کو اسلحے کی فراہمی اور تربیت سے متعلق معلوما ت تھیں۔ چند روسی اور عالمی ماہرین یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بدنامِ زمانہ گوانتاناموبے جیل سے بیشتر قیدیوں کو خفیہ طور پر رہا کر کے داعش اور النصرہ فرنٹ میں شامل کیا گیااور اب وہی امریکی تربیت یافتہ جنگجو شام میں فساد کا باعث بن رہے ہیں۔
شاید یہ ایک حقیقت ہے کہ شام کے معاملے سے پہلے بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عالمی نظام
Unipolar
ہے یعنی اس نظام میں صرف ایک سُپر پاور (امریکہ) موجود تھا۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادکے برعکس اور اجازت کے بغیر 2003میں عراق پر حملہ کیا ۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ امریکہ ایک بار پھر شام میں عراق والی مثال دہرائے گا اور بشار الاسد کو صدام حسین کی طرح تختہ دار پر لٹکائے گا۔ تاہم امریکہ ایسا کرنے سے بوجوہ باز رہا۔
جولائی 2016میں ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت‘ روس اور ترکی کو بہت قریب لے آئی ہے۔ یاد رہے کہ نومبر 2015میں ترک فضائیہ نے روسی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا تھا جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں شدید تناؤ تھا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے نیٹو اور امریکہ کا ہاتھ تھا۔ کیو نکہ اُس وقت روسی فضائیہ امریکہ نواز باغیوں پر کاری ضرب لگانے میں مصروف تھی۔ اب پیوٹن اور طیب اوردگان ایک سمت جا رہے ہیں جس کا بنیا دی مقصد داعش اور امریکہ نواز کُرد باغیوں کا خاتمہ ہے جو کہ ترکی میں بیشتر بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔ ایک امریکی صحافی
David Swanson
نے فروری 2016میں اپنے آرٹیکل میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شام میں سیزفائر امن کے لئے نہیں بلکہ دونوں اطراف اس کو اپنے اپنے حامی متحارب گروپوں کو اسلحہ اور دیگر چیزیں فراہم کر نے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔
اگر ہم شام میں ہونے والے تمام قتل و غارت گری سے قطعِ نظر اس معاملے کو عالمی سیاست کے تناظر میں دیکھیں تو ہم یہ بات ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ صورتِ حال صدر پیوٹن کی ایک عظیم سیاسی ،سفارتی اور فوجی فتح ہے۔ روسی افواج شام میں اپنے تمام جدید ترین اسلحے کو استعمال کر رہی ہیں اور اس کی آپریشنل استعدادِ کار کو پرکھ رہی ہیں۔ روسی فوج نے اپنے نہایت جدید ایئر ڈیفنس سسٹم S-400اور ایس - 300کوشام میں آپریشنل کر کے امریکی اور اتحادی فوجوں کی فضائی مہم کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس مسئلے کی بدولت امریکہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے
Tomahawk
کروز میزائل استعمال کرے گا لیکن روسی ایئر ڈیفنس سسٹم ان کروز میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کردینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس سے ایک طرف اگر روسی آپریشنل اور سٹریٹجک برتری نظر آئے گی تو دوسری طرف امریکی فوج کی حقیقی طاقت کی قلعی کُھل جائے گی۔ روسی سسٹم نے حقیقتاًشام میں امریکی فضائی افواج کونا قابلِ استعمال کردیا ہے۔
حَلب
(Aleppo)
کی حالیہ لڑائی میں ایک دلچسپ واقعہ دیکھنے میں آیا جب امریکہ نواز شامی باغیوں نے ایک امریکی ساختہ
BGM-71 TOW
اینٹی ٹینک میزائل سے روسی ساختہ جدید ترین ٹی - 90ٹینک کو نشانہ بنایا۔ ایک طرف تو اس واقعہ سے یہ بات بالکل صاف دکھائی دیتی ہے کہ شام کی لڑائی متحارب گروہوں کی نہیں بلکہ امریکہ اور روس کے درمیان ہے ۔ دوسری طرف اس واقعے سے ایک حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ جدید ترین امریکی اینٹی ٹینک میزائل اپنی پوری ٹیکنالوجی اور قابلیت کے باوجودروسی ٹی - 90ٹینک کو تباہ کرنے میں ناکام رہا اور ٹینک کا عملہ محفوظ رہا۔ اس واقعے نے امریکی میزائل اور اسلحہ سازکمپنی
Raytheon
کو ایک نئی کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ روس اپنے جدیدترین ایس یو - 34 اور ایس یو - 35 طیاروں کو بھی شام میں استعمال کر رہا ہے۔ روس اب تک تقریباً پانچ سو ملین ڈالرشام کی جنگ پر خرچ کر چکا ہے اور لتا قیہ اور طرطوس میں قائم کئے جانے والے بحری اور فضائی فوجی اڈے شاید اس خرچ کے علاوہ ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ روسی افواج کی مشرقِ وسطیٰ میں تمام تر سرگرمیاں ا مریکی سینٹرل کمانڈکے لئے شدید دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔ روس نے2014میں
Crimea
کے واقعے کے بعدعالمی سیاسی پنڈتوں کی پیش گوئیوں کے بر عکس ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دکھائی ہے کہ وہ ایک موثر عالمی طاقت ہے ۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام کی لڑائی رُوس کے جدید ترین اسلحے کے لئے ایک شو روم کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اس کے ہتھیاروں کی برآمدات ریکارڈ 56بلین ڈالر کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ہم ایک نیو کولڈ وارکے دور سے گزر رہے ہیں۔ جہاں امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار ہیں اور ایک دوسرے کواور شاید پوری دنیا کو داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں سے مسلسل ڈرانے میں مصروف ہیں۔ در حقیقت داعش اور القاعدہ جیسے نان اسٹیٹ ایکٹرز ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہیں اور بجائے ان گروپوں کو ختم کرنے کے، ان کی آڑ میں اپنے مفادات کاتحفظ کیا جا رہا ہے ۔ آج بھی
Realpolitik ،Thucydides
اور
Machiavelli
کے اصول عالمی سیاست پر چھائے ہوئے ہیںیعنی اپنی پالیسی کو حالات کے مطابق شکل دینا اور پھر ان حالات سے فائدہ اٹھانا۔
شام کی تمام تر صورت حال مجموعی طور پر امریکہ کے مفادات کے خلاف ثابت ہو رہی ہے۔ بھارت، جو کہ روس کا خود ساختہ اور تاریخی دوست ہونے کا بھی دعویدار ہے، نے بھی شام پر روسی مؤقف کی کھل کر حمایت نہیں کی جیساکہ روس نے1971کی جنگ میں بھارت کی نہ صرف کھل کر حمایت کی بلکہ امریکی بحری بیڑے کو مشرقی پاکستا ن کی فوجی امداد سے مکمل طور پر باز رکھا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی جس کی بنیاد ہمیشہ سے
Hedging
کے اصول پر منحصر رہی ہے اب شاید اسے مہنگی پڑ رہی ہے اور اس کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہو ئی قربتیں روس اور پاکستان کو قریب لارہی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ شام میں عالمی طاقتوں کی پنجہ آزمائی کا اصل فائدہ روس ، چین اور ترکی کو ہو رہا ہے۔ تاہم اس کشمکش میں پاکستان، چین اور روس کے مزید قریب آ گیا ہے۔ حال ہی میں بھارت میں ہونی والی
BRICS
کانفرس میں وزیراعظم نریندر مودی کو ایک بڑا دھچکا لگا جب روس اور چین نے پاکستان پردہشت گردی کے بھارتی بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا۔ یہ تمام واقعا ت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی برادری نے داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن ضربِ عضب کے کردار کو سراہا ہے اور امن کے لئے اس کی نیک نیت کوششوں کی بھر پور حمایت کی ہے۔
یہ رائے قائم کر نا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کم از کم مزید سات سے آٹھ سال جاری رہے گی۔ کیونکہ اس جنگ میں شامل کوئی بھی فریق عارضی جنگ بندی کے لئے بھی تیا ر نہیں ہے۔ یہ رائے تمام فریقین کے نزدیک ایک حقیقت ہے کہ جنگ بندی یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیاں درحقیقت اُن کے دشمنوں کو مضبوط ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس تمام حالت کو
Clausewitz
کے نظریہ
Fog of War
کی مدد سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے جس کے مطابق جنگ افراد ، قوموں اور لیڈروں کے سوچنے اور سمجھنے پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ دُھند نما دُھواں نظر کی حد کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی بد اعتمادی اور غیر یقینی کی کیفیت کو بھی جنم دیتا ہے اور یہ کیفیت فیصلہ سازی کے عمل کو بہت حد تک متا ثر کرتی ہے۔اگر ہم ایک نظر رُوسی اور امریکی (مغربی )میڈیا پر ڈالیں تو ان دونوں کی آپس کی چپقلش اس بات سے ثابت ہو جاتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف زہر اُگلنے میں ہمہ وقت مصروف نظر آتے ہیں۔ امریکی تمام حالات کا ذمہ روس اور روسی تمام تر ملبہ امریکہ اور مغربی طاقتوں پر ڈال دیتے ہیں۔ ان سب باتوں کو سننے اور پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر حقیقت کیا ہے۔
امریکہ دنیا میں جمہوریت کے پھیلاؤ اوراظہارِ رائے کی آزادی کا خواہشمند ہے اور امریکی نظریہ ء
Manifest Destiny
شاید امریکی حکومت کو اس قدر عزیز ہے کہ وہ اس کی خاطر قوموں کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے سے گریز نہیں کرتی۔ برطانوی اور امریکی افواج نے اِسی خواہش پر پہلے صدام حسین کے پُرامن عراق کا بیڑہ غرق کیا اور پھر معمر قذافی کے خوشحال لیبیا کو آگ اور خون میں نہلا دیا۔ لیبیا اور عراق میں لگنے والی آگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ صدر پیوٹن کے متعلق نیو یارک ٹائمزکے ایک صحافی Steven Lee Myers
نے ایک کتاب
The New Tsar
لکھ ڈالی۔ جس میں انھوں نے صدر پیوٹن کو ایک نیا ’’زار‘‘ قرار دیا اور یہ کہا کہ وہ روس کی عالمی طاقت کو بڑھانے کے لئے تشدد کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔ امریکہ یا روس دونوں شام کے اندرونی مسئلے کو ایک علاقائی جنگ بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن شاید اصل ذمہ دار امریکہ ہے جس نے شام پر عراق کی طرح کا یَک طرفہ حملہ کرنے کا عندیہ 2011میں دے دیا تھا۔ یہ بات بھی امریکی اور مغربی ممالک کی سازشوں کا پردہ چاک کرتی ہے کہ شام کے خالصتاً سیاسی مسئلے کو سُنی اور شیعہ کے درمیان فساد بنا کر رکھ دیا گیا ہے اور اب اس لڑائی میں سعودی عرب اور ایران آمنے سامنے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے عالمِ اسلام کی طا قت مکمل طور پر منقسم ہو چکی ہے۔
ایک امریکی ماہر سیا سیات
John Mearsheimer
نے 2004میں اپنے آر ٹیکل
Why China's Rise will not be Peaceful
میں یہ کہا تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت جارحانہ عزائم کے لئے ہے۔ لیکن اس آرٹیکل کے بارہ سال گزرنے کے باوجود چین نے کسی مقام پر بھی کوئی فوجی کارروائی نہیں کی اور حتیٰ کہ امریکہ اور جاپان کے ساتھ بھی تجارت کا راستہ اختیار کیا۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ چین اس معاملے میں اپنا کر دار ادا کرے۔ روس اور امریکہ دونوں بلکہ پوری دنیا چین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اورتمام اقوامِ عالم یہ بات ذہن نشین کر چکی ہیں کہ اب چین کو عالمی سیا ست میں اس کا مقام دینا پڑے گا۔ چین شام میں امن فوج کی سر براہی کرے اور قیامِ امن کے فوری بعد ملک میں عالمی برادری کے مبصرین کی نگرانی میں آزاد اور شفاف الیکشن کرائے جائیں تا کہ شامی عوام اپنے حکمرانوں کا انتخاب خود کر سکیں۔ روس اور امریکہ چاہے کتنے ہی مذاکرات کر لیں مگر شاید مزید پانچ سال بھی شام کے مسئلے کا حل نہ ڈھونڈ پائیں گے۔ شاید یہ بات بہت سے لوگ
Utopian
اور نا قابلِ عمل خیال تصور کریں۔ مگر تقریباً چھ سال کی خانہ جنگی ، پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کی ہلاکت ، اربوں ڈالر کے انفراسٹرکچرکی تباہی اور لاکھوں انسانوں کی ہجرت اور سب سے بڑی بات کہ سپر طاقتوں اور علاقائی طاقتوں کی باہمی چپقلش کا یہ واحد حل ہے۔

مضمون نگار نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ایم فل کر رہے ہیں۔

(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)

 
10
February

نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور بھارتی سیاست

Published in Hilal Urdu

تحریر: مستنصر کلاسرا

1974میں بھارتی ایٹمی تجربے نے خاص طور پر جنوبی ایشیا میں ایک بے چینی پیدا کر دی تھی۔ یہ تجربہ اس خطے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور پھراس کی مسلسل بڑھوتری کی پہلی کڑی ثابت ہوا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جس نے ایک غیرایٹمی خطے کو ایٹمی دوڑ میں شامل کر دیا۔ بھارت کے اس اقدام نے اقوام عالم کو ایک ایسا ادارہ بنانے پر مجبور کر دیا جو مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی کاروبار کی شناخت اور پرامن مقاصد کے نام پر پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کو دور کر سکے۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام عالم ایک ادارہ بنانے میں کامیاب ہوئیں جسے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا نام دیا گیا۔


نیوکلیئرسپلائرز گروپ کے رکن ممالک میں امریکہ، جاپان، چین، برطانیہ، ترکی اور کینیڈا سمیت کم و بیش 48ممالک شامل ہیں۔ سال 2016-17 کے لئے این ایس جی کی صدارت ریپبلک آف کوریا کے پاس ہے۔ اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے چنداصول و ضوابط بنائے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں۔
i۔ ایٹمی مواد ترسیل کرنے کی مکمل صلاحیت۔
ii۔ این ایس جی کی طرف سے دی گئی تمام ہدایات پر پابندی اور ان پر من و عن عمل کرنا۔
iii۔ ایک یا ایک سے زیادہ نیوکلیئرنان پرولیفریشن معاہدوں کا پابند ہونا۔
iv۔ مقامی برآمدات کے کنڑول سسٹم کی مکمل پاسداری این ایس جی کی مکمل ہدایات کے مطابق کرنا۔
v۔ مہلک ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور ان کی ترسیل کی مشینری کی بیرونی منتقلی کو روکنے کی عالمی کوششوں کی حمایت کرنا۔
یہ وہ چند بنیادی اصول و ضوابط ہیں جن کے تحت کوئی ملک اس گروپ کا رکن بن سکتا ہے۔ اب اگر کوئی ملک ان ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش کرے گا تو یہ ان ممالک کے ساتھ ناانصافی ہو گی جو ان ضوابط پر عمل کرنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہوئے اور دوسرا اس گروپ کی اپنی شفافیت پر سوال اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔
نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کے لئے بہت ہی سادہ سے اصول و ضوابط وضع کئے گئے ہیں جن پر کوئی بھی ملک پورا ترنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش نے ایک عجیب سازشی فضا پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر 2008 میں بھارت کو دی گئی چند خاص رعایات کے بعد تو یہ صورتحال اور مسموم ہوتی جا رہی ہے۔ دیگر اسباب کے علاوہ سب سے اہم اور بڑی وجہ مغرب میں موجود کاروباری لابی ہے جو کہ مستقبل قریب میں بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ دوسری وجہ رعایات دینے کی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جیسا کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ کا سب سے بڑا مقصد ایٹمی ٹیکنالوجی کی ترسیل ان ممالک میں روکنا ہے جو یا تو پہلے سے اسے استعمال کر رہے ہیں یا پھر بین الاقوامی ایٹمی تحفظ کے ادارے کے قوانین کے مطابق عمل نہیں کر رہے جن میں بھارت بھی شامل ہے۔ بھارت میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کا ایٹمی مواد یا ری ایکٹر ابھی مکمل کنٹرول میں نہیں ہے۔


نئے بدلتے حالات اور عالمی برتری کی دوڑ میں امریکہ اور بھارت ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ اس بات پر کسی کو شک نہیں کہ امریکہ اور بھارت سول نیوکلیئرڈیل کے بعد اب ایک دوسرے کے سٹریٹجیک پارٹنرز ہیں۔ نیوکلیئرسپلائرز گروپ میں شمولیت کے حوالے سے بھی بھارت کو امریکی پشت پناہی اور حمایت حاصل تھی۔ ایک اور بات جو یہاں قابل ذکر ہے کہ اگرچہ 11اور 12نومبر 2016کو این ایس جی کے حوالے سے ایک میٹنگ ہوئی تھی اور مختلف ممالک کی رائے کو اگر مدنظر رکھیں تو بھی بھارت کی مخالفت میں بہت سے ممالک تھے جن میں خاص طور پر آئرلینڈ، چین اور آسٹریا نے بھارت کے خلاف اپناموقف بدلنے سے انکار کیا اور اصول و ضوابط پر اترنے والے تمام ممالک کو اس میں شامل کرنے پر زور دیا۔ یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ نومبر 2016میں این ایس جی کی میٹنگ سے پہلے تک اگر بھارت این ایس جیمیں شمولیت کے لئے بڑے ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو پھر اس نے دوبارہ سے اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست کیوں دے دی؟ شاید وہ اس لئے کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کی اپنی خواہش زندہ رکھ سکے۔ بالکل اسی طرح اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو بھی اس گروپ میں شامل ہونے کی اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔


نیوکلیئرسپلائرزگروپ کے تناظر میں بھارت اور امریکہ کی جانب سے یہ تاثر بھی عام کرنے کی کوشش کی گئی کہ چین نے پاکستان کو این ایس جی میں شمولیت پر اُکسایا اور پاکستان تو جیسے نیوکلیئرگروپ میں شامل ہونا ہی نہیں چاہتا تھا۔ یہ تاثر پروپیگنڈے پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے تو بھارت کی اس گروپ میں شمولیت سے پہلے ہی 2004میں
Export Control Act
پر عمل شروع کر دیا تھا۔ ایک اور تاثر جو پاکستان کے خلاف دیا گیا کہ پاکستان نے صرف بھارت کو دیکھتے ہوئے این ایس جی میں شمولیت کی درخواست دی یہ بھی سراسرجھوٹ کا ایک پلندا اور من گھڑت بات تھی کیونکہ این ایس جیمیں شمولیت کے قواعد و ضوابط کے مطابق پاکستان کو بتایا گیا کہ کوئی بھی
Non-NPT
ملک اس گروپ میں شامل ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا لیکن جب بھارت کو امریکہ کی طرف سے مئی میں اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے درخواست دینے کا کہا گیا تو پاکستان نے 6دنوں کے اندر اندر 300صفحات پر مشتمل ایک مکمل دستاویز بنا کر اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست دی۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ پاکستان نے اپنا ہوم ورک پہلے سے کیا ہوا تھا۔ ظاہر ہے بھارت اگر
Non-NPT
ہوتے ہوئے اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے درخواست دے سکتا ہے جس کا اپنا نیوکلیئرپروگرام بھی بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے قوانین کے مطابق محفوظ نہیں سمجھا جاتا تو پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں تو دنیا محفوظ اور موثر ہونے کا اعتراف بھی کرتی ہے تو پھر پاکستان یا دیگر ایسی اہلیت کے ممالک اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیوں نہیں کر سکتے۔ یہ تو اب بین لاقوامی کمیونٹی کو سوچنا ہو گا کہ چند ممالک کے ساتھ برتی گئی ناانصافی دنیا میں عدم توازن بڑھائے گی اور دنیا میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گی۔

نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کے لئے بہت ہی سادہ سے اصول و ضوابط وضع کئے گئے ہیں جن پر کوئی بھی ملک پورا ترنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش نے ایک عجیب سازشی فضا پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر 2008 میں بھارت کو دی گئی چند خاص رعایات کے بعد تو یہ صورتحال اور مسموم ہوتی جا رہی ہے

*****

نومبر 2016میں این ایس جی کی میٹنگ سے پہلے تک اگر بھارت این ایس جیمیں شمولیت کے لئے بڑے ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو پھر اس نے دوبارہ سے اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست کیوں دے دی؟ شاید وہ اس لئے کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کی اپنی خواہش زندہ رکھ سکے۔ بالکل اسی طرح اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو بھی اس گروپ میں شامل ہونے کی اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔

*****

 

Follow Us On Twitter