13
October

پاک روس تعلقات۔بدلتے ہوئے تناظر میں

تحریر: حماس حمید چوہدری

آج پوری دنیا کی نظریں جنوبی ایشیا پر مرکوز ہیں جہاں جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے دواہم ممالک پاکستان اوربھارت واقع ہیں۔ اگر بھارت کی بات کی جائے تو جب سے نریندر سنگھ مودی نے وزارت عظمٰی کا قلمدان سنبھالا ہے تب سے لے کر اب تک بھارتی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح خطے میں عدم توازن پیدا کرنا ہے چاہے وہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرنے سے ہو یا بلوچستان میں ’را‘ کے ذریعے بغاوت کی تحریکوں کو جنم دینے سے ہو، بہرحال جو ریاست اپنی حدود کے اندر مذہب ، لسانیت یہاں تک کہ انسانیت کا بنیادی توازن بھی برقرار نہ رکھ سکے اس سے خیر کی امید رکھنا محال ہے۔


اگر پاکستان کی بات کی جائے تو 2008ء کے بعد سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہوچکاہے جوکہ ایک حدتک درست بھی تھا اور اس کی وجوہات ما ضی میں ہماری ناکام سیاسی پالیسیاں اور اندرونی دہشت گردی کا بڑھتا ہوا رجحان تھا۔ لیکن پچھلے دو سالوں سے حالات قدرے مختلف ہیں جس کی ایک وجہ خارجہ و قومی سلامتی کے امور پر تمام قومی اداروں کا ایک پیج پر ہونا ہے اور دوسری وجہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے منظور شدہ قومی ایکشن پلان ہے جس کے تحت پاک فوج نے ملک کے چپے چپے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور اب جبکہ وہ آپریشن کامیابی کے حتمی مراحل میں ہے تو ملک کے طول و عرض میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی سرکوبی کے لئے بلا امتیاز کومبنگ آپریشن بھی شروع کیا جا چکا ہے جس نے پاکستان میں دہشت گردی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ کی بطور مشیر قومی سلامتی تقرری بھی ایک کامیاب فیصلہ ثابت ہوا ہے جن کی عسکری و سفارتی کامیابیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

 

pakrustalaq.jpgدنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر پاکستان نے نہ صرف اپنے اندرونی حالات کی بہتری میں بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بھی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سے ایک قدم خطے کے ایک مضبوط ملک روس کے ساتھ تعلقات کو سفارتی سطح پر نیا موڑ دینا ہے۔ یوں پاکستان کی خارجہ پالیسی علاقائی طاقتوں سے بہتر تعلقات کے قیام کی جانب گامزن ہے جس کا نتیجہ سی پیک کی صورت میں ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ اور روس کے ساتھ تاریخی مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد ہے۔ بھارت کے متعدد بار درخواست کرنے کے باوجود روس نے اپنے فوجی جنگی مشقوں میں حصہ لینے کے لئے پاکستان بھیجے ہیں جس کا سہرا پاکستان کی کامیاب فارن پالیسی کو جاتا ہے۔ ان فوجی مشقوں کو سلواکیہ زبان کے لفظ ’’دروزھبا 2016ء‘‘ یعنی ’دوستی 2016 ء‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔


روس اور پاکستان کے تعلقات پچھلی کئی دہائیوں سے سرد مہری کا شکار تھے جس کی ایک بڑی وجہ افغان جنگ اور دوسرا پاکستان کی امریکہ سے ریاستی قربت تھی لیکن حالات نے اس وقت نازک صورت حال اختیار کی جب جون 2015ء میں امریکہ اور بھارت نے دس سالہ دفاعی معاہدے پردستخط کئے اور حالات نے پلٹا اس وقت کھایا جب 2016ء کے آغاز میں امریکی کانگرس نے پاکستان کو ایف۔16 جنگی طیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد پاس کی اور یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کو تشویش ہے کہ پاکستان یہ جنگی طیارے بھارت کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خارجہ پالیسی کا رخ علاقائی طاقتوں بالخصوص روس کی جانب کر دیا۔
پاکستان اور روس کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں جہاں ماضی میں تعلقات پیچیدہ رہے ہیں تو وہاں دونوں ممالک نے خوشحال سفارتی دور کاتجربہ بھی کیا ہواہے۔1991ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلی بار روس نے پاکستان کی جنوبی ایشیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی قرار داد کی مخالفت نہیں کی تھی۔اس کے علاوہ 1993ء میں جموں و کشمیرکی تحصیل بجبھرا میں بھارتی افواج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام پر روس نے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے باعث بھارتی حکام کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔2003ء میں سابق صدر پاکستان جنر ل پرویز مشرف نے روسی صدر کی دعوت پر روس کا ایک کامیاب سرکاری دورہ کیا تھاجس میں دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر کامیاب بات چیت ہوئی اور بہت سے معاشی و تجارتی معاہدوں اور یاد داشتوں پر دستخط بھی ہوئے تھے۔ اس کے علا وہ کچھ عرصہ قبل 2014ء میں پاکستان اور روس نے باہمی فوجی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت 2015ء میں پاکستان نے مشرقی روس میں منعقد ہونے والی روسی وار گیمز میں بھی حصہ لیا تھا اور دوستی 2016 ء جنگی مشقیں بھی اسی معاہدے کا نتیجہ ہیں جبکہ روسی کمپنی ’’روسٹیک کارپوریشن‘‘ 2017 ء میں پاکستان میں ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے 680 میل لمبی گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔


اس تمام صورت حال کو دیکھ کر بھارتی و امریکی صفوں میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان اور روس کے ایک دوسرے کے ساتھ وسیع تر مشترکہ سیاسی و عسکری مفادات جڑے ہوئے ہیں۔یوکرائن اور کریمیا کے مسئلے کی وجہ سے روس کے مغرب سے تعلقات میں بگاڑ چل رہا ہے جس کی وجہ سے اسے خطے میں نئے دوستوں کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کو خطے میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت کو روکنے کے لئے نئی بین الا قوامی دوستیاں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ نیز بین الاقوامی برادری میں پاکستان، روس اور چین کی صورت میں ایک نیا بلاک بنتا دکھائی دے رہا ہے جس کی د و اہم وجوہات ہیں ایک تو بحر ہند اور بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک براہ راست رسائی اور دوسرے روس کی وسطی ایشیا سے ہوتے ہوئے واخان بارڈر کے ذریعے افغانستان تک رسائی ہے۔ اس کے علاوہ اگر روس کو اکنامک کوریڈور سے منسلک کر دیا جائے تو پاکستان کو وسطی ایشیا ئی ممالک اور روسی منڈیوں تک براہ راست رسائی ملنا ممکن ہے ۔ اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے آئے روز پاکستان کی عسکری امداد روک دی جاتی ہے یا کبھی عسکری تجارتی معاہدے معطل کر دیے جاتے ہیں تو اس صورت میں روس کوعسکری ٹیکنالوجی کے حوالے سے مغرب کے متبادل کے طورپر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دنیا میں قیام امن کے لئے پاکستان نے بے تحاشہ قربانیاں دی ہیں اور مزید بھی دینے کے لئے تیار ہے لیکن اب پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت سمجھ چکی ہے کہ ہمیں
Proactive
سفارتکاری کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کی سفارتکاری میں پچھلے چند برسوں میں ایک سیاسی پختگی رونما ہوئی ہے۔ روس کے ساتھ حیرت انگیز طور پر چند سالوں میں اتنے قریبی عسکری تعلقات پیدا کرنا ہماری عسکری پالیسی کی کامیابیوں کا ایک اہم سنگ میل ہے ۔ پاکستان، چین اور روس کا اتحاد اس خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں بے حد مددگار ثابت ہوگا۔ سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعدسے دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ گیا تھا اور امریکہ واحد سپر پاور بن کر ابھرا تھا جس کے باعث ایک خلا پیدا ہوگیا تھا جو آج تک پُر نہیں ہو سکا۔ چین ایک بڑی طاقت بن کر ابھر رہا ہے اور روس بھی بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے جبکہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے لیکن یہ تینوں تن تنہا اس عدم توازن کے خلا کو پُر نہیں کر سکتے اگرچہ تینوں مل کر کام کریں اور ایک بلاک کی شکل اختیار کر لیں تو یہ خلا پُر ہوسکتا ہے اور یہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لئے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر پاکستان نے نہ صرف اپنے اندرونی حالات کی بہتری میں بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بھی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سے ایک قدم خطے کے ایک مضبوط ملک روس کے ساتھ تعلقات کو سفارتی سطح پر نیا موڑ دینا ہے۔ یوں پاکستان کی خارجہ پالیسی علاقائی طاقتوں سے بہتر تعلقات کے قیام کی جانب گامزن ہے جس کا نتیجہ سی پیک کی صورت میں ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ اور روس کے ساتھ تاریخی مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد ہے۔

*****

روس اور پاکستان کے تعلقات پچھلی کئی دہائیوں سے سرد مہری کا شکار تھے جس کی ایک بڑی وجہ افغان جنگ اور دوسرا پاکستان کی امریکہ سے ریاستی قربت تھی لیکن حالات نے اس وقت نازک صورت حال اختیار کی جب جون 2015ء میں امریکہ اور بھارت نے دس سالہ دفاعی معاہدے پردستخط کئے اور حالات نے پلٹا اس وقت کھایا جب 2016ء کے آغاز میں امریکی کانگرس نے پاکستان کو ایف۔16 جنگی طیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد پاس کی اور یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کو تشویش ہے کہ پاکستان یہ جنگی طیارے بھارت کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خارجہ پالیسی کا رخ علاقائی طاقتوں بالخصوص روس کی جانب کر دیا۔

*****

 
08
September

Global Geopolitical Landscape

Written By: Dr. Zafar Nawaz Jaspal

The features of the change in the international politics have become more perceptible during the recent years. Therefore, today, the states' foreign and strategic policies are in a revamping process. The refurbishing progression would certainly reshape the strategic partnerships and military alliances in the near future. The shift in strategic relations intensify security dilemma puzzle in the international relations, amplify arms race among the strategic competitors and affect the existing regional security architecture. Hence, new global geo-political landscape is evolving and thereby necessitating the understanding of the shifts and priorities of the Great Powers’ for constituting promising foreign and strategic policy.


The trends indicate that militarily capable nations would remain important actors in shaping the new global geopolitical landscape. Therefore, it seems imperative to critically examine the Great Powers’ strategic policies. The shift in Great Powers' strategic outlook would directly and indirectly affect the strategic environment of Pakistan. The following discussion briefly spells out the recent developments in the strategic policies of Great Powers including the leading European nations.

 

globalgeo.jpgThe People’s Republic of China is one of the fastest growing Great Powers in 2016. In Asia-Pacific, it has been developing powerful forces capable of deterring and defeating aggression by any state, including the United States. Since last year, it has been signaling that in South China Sea it would not accept external actors' interference. It seems determined to monitor the navigation operations in the South China Sea and continue developing bases on its islands in the sea. This assertive strategy of Beijing has alarmed the island claimants in the region such as Japan, Vietnam, Philippines, etc.


China and Pakistan announced China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) in 2015. The completion of CPEC would be having economic dividends for Pakistan. At the same time, CPEC would provide an alternate and secure trade route to China for trade with Middle East, Africa and South Asia. Of course, it would further strengthen Sino-Pakistan strategic partnership.


Importantly, China has been maintaining bilateral working relations with India. It has very impressive volume of bilateral trade (more than 80 billion U.S. dollars) with India. On August 12, 2016, Chinese Foreign Minister Wang Yi visited India in connection with the preparations for the 8th BRICS Leaders Summit, which would be held in Goa, India, later this year. Despite having impressive economic relations with China, India has been endeavoring to ruin CPEC initiative. Sushma Swaraj conveyed her Chinese visiting counterpart about India’s concerns on the CPEC. Last year Prime Minister Modi also requested Chinese President to terminate this project. The Chinese, however, are very much committed to complete this project.
India has adopted a multilayered approach to thwart the CPEC. After realizing that diplomatically they are incapable to change the Chinese commitment with the CPEC; the Indians have launched a sub-conventional war against Pakistan. India has been sponsoring terrorist attacks in Balochistan and Khyber Pakhtunkhwa to derail CPEC. On August 14, 2016, Balochistan Chief Minister Nawab Sanaullah Zehri claimed: “A handful of miscreants, manipulated by the Indian intelligence agency, are involved in anti-peace activities in Balochistan.” Moreover, Indian leadership has been engaged in maligning Pakistan. On August 12, 2016, Indian Prime Minister Narendra Modi said: “The time has come when Pakistan shall have to answer to the world for the atrocities committed by it against people in Balochistan.” He is maligning Pakistan to camouflage Indian Armed Forces genocide of innocent Kashmiris in the Indian-Occupied Kashmir. The Indian ruling elite's frustration is alarming. It can embroil the region in a violent conflict.


The United States has been endeavoring to maintain its military superiority over any potential rival in the prevalent or restructured geopolitical landscape of the world. Currently, the U.S. Department of Defence (DOD) is working on former Secretary of Defence Chuck Hagel’s November 2014 initiative, i.e., Defence Innovation Initiative, which included the Third Offset Strategy. In addition, DOD has been investing in modernizing its nuclear arsenals and also maturing the missile defence system. For improving its allies' confidence, Washington has been assisting them in improving their military capabilities, too.


The American strategic community considers China as an emerging strategic competitor in the current geopolitical landscape of the world. Hence, Asia-Pacific region has become a geostrategic priority for the Pentagon. Obama Administration’s pivot or rebalance strategy in Asia-Pacific was designed in 2011-12 to contain China. On June 4, 2016, Dr. Ashton Carter, U.S. Secretary of Defence, declared China’s activities in the Asia-Pacific region destabilizing. He stated: “China’s actions in the South China Sea are isolating it, at a time when the entire region is coming together and networking.” He added: “Unfortunately, if these actions continue, China could end up erecting a Great Wall of self-isolation.” He pointed out that Asia-Pacific security network includes bilateral, trilateral and multilateral arrangements. Precisely, Washington has been engaged in constituting a viable military alliance to contain Chinese influence in Asia.


The Indo-U.S. strategic partnership has been receiving a positive impetus from both Modi government and Obama administration. The latter appreciates Modi’s Act East policy and is very much supportive of his Indo-Pacific doctrine. The primary objective of the Americans is to build and encourage India to counter China’s increasing significance in Asia. Therefore, Washington facilitated India’s entry into Missile Technology Control Regime in April 2016; and has been lobbying for its membership of the Nuclear Suppliers Group since 2010. India and United States also concluded the logistic support agreement, the Logistics Exchange Memorandum of Agreement, in April 2016.


Russian Federation has been flexing its muscles to regain its former glory in the global politics. During the last decade, it demonstrated thrice that it would not compromise on areas of its strategic interest. Realizing NATO’s creep towards its borders, it occupied two provinces of Georgia in 2008; annexed Crimea in March 2014; and dispatched troops to support its ally, Bashar al-Assad in Middle East on September 30, 2015. These military efforts manifested Moscow’s confidence in its military muscle as a Great Power and also introduced a destabilizing variable in the Western strategic environment. The United States and NATO failed to check the Russian military adventurism against their partner nations.


According to Russia’s National Security Strategy (a fundamental document of strategic planning) Kremlin seriously sees an imminent threat of armed conflict with the United States and its allies. The U.S. is allegedly threatening Russia in the West, in the East and in the Arctic. Europeans imposed tough sanctions against Russia in the aftermath of Crimea annexation. Notably, England was more vocal in favor of punishing Russia and therefore it excluded itself from Franco-German efforts to find a negotiable solution to the Ukraine problem. Similarly, it maintained a firm stance i.e., Assad to be unseated while United States was looking for a way forward with the Russians on Syria.


Recent development reveals that Russia has been restoring its bilateral relations with England, which were deteriorated in 2006 due to the poisoning of Alexander Litvinenko, a former officer of the Russian Federal Security Service (FSB) and KGB, by Russian intelligence agency in London. Recently, Britishers and Russians have started a process of mending their fences. Prime Minister Theresa May had spoken to Vladimir Putin, and both had agreed to meet in the forthcoming G20 Summit in China. In Asia, the Russian Federation also improved its bilateral relations with China and cultivated better understanding with Pakistan. Despite India’s purchases from American military industrial complexes, Russian Federation has been maintaining pleasant working relations with India.


The Brexit vote instigated Germany and France to deliberate on the next step of “European Security Compact” on June 23, 2016. The French Foreign Minister Jean-Marc Ayrault and German Foreign Minister Frank-Walter Steinmeier issued a joint statement reaffirming their countries’ commitment to “promote a more coherent and a more assertive Europe on the world stage.” They added: “Power politics are back on the world stage and conflict is being imported into our continent. The terrorist threat is growing, feeding on complex networks in and outside Europe and stemming from crisis zones and unstable, war-torn regions all over the world. Europe’s role as a credible force for peace is more important than ever.” On June 5, 2016, French Defence Minister, Jean-Yves Le Drian, proposed at Shangri-La dialogue in Singapore: “the EU should send military ships to ensure open waterways in the territorially disputed South China Sea.” Whereas; at the NATO summit in Warsaw on July 8-9, 2016, both German and French representatives pleaded for keeping NATO as the primary military guarantor of the European security. Thus, it is difficult to measure the European Union military role in the world as well as the degree of autonomy of its global strategy from the United States and NATO at this stage.


To conclude, Pakistan needs to be cognizant of the transformation in the geo-political landscape for securing and maximizing its gains in the anarchical international society.

 

The writer is Associate Professor at School of Politics and International Relations, Quaid-i-Azam University, Islamabad.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
September

The South China Sea – Focus of a New Global Power Struggle

Written By: Zamir Akram

In July 2016, the Arbitration Tribunal of the United Nations Conference on the Law of Sea (UNCLOS) ruled in favour of the Philippines against China on their conflicting claims in the South China Sea. Beijing, which had boycotted the Tribunal’s proceedings, declared that it is not bound by its decision. The Philippines along with its arch ally, the U.S., welcomed the decision.


The Tribunal’s ruling brought into sharp focus the legal aspects of the South China Sea dispute but obviously there is more to this issue which is driven essentially by geo-strategic considerations of the regional players as well as the major powers, especially China and the U.S.


The sea lanes in the South China Sea provide naval passage for 80% of the world’s commercial shipping. The region is also an arena for strategic competition among the major naval forces including the U.S., China and Japan apart from those of the littoral states. The competing claims and strategic interests of these countries, therefore, pose a major threat of confrontation not only among the claimants but more seriously between China and the U.S. Accordingly, the South China Sea can become the focus or centre of a new Cold War between Washington and Beijing just as a divided Germany had been after the end of World War II between the United States and the Soviet Union.

 

thesouthchina.jpgCompeting Claims in the South China Sea
The dispute between the littoral states of the South China Sea is over territory and sovereignty in this area. It involves China, Vietnam, Philippines, Taiwan, Malaysia and Brunei, all of whom have overlapping claims over the ocean areas as well as Islands such as Spratly, Paracel, and the Scarborough Shoal apart from several atolls, reefs and sand-banks. China claims an area defined by its “nine-dash line” South and East from its Hainan province based on sovereignty dating back several centuries. Vietnam contests this claim arguing that it exercised sovereignty over this area since the 17th century. The Philippines make the assertion of territorial claim on the basis of geographic proximity to Spratly and the Scarborough Shoal. Malaysia and Brunei, on the other hand, argue that this area falls within their Exclusive Economic Zone (EEZ) in line with UNCLOS. The most dangerous consequence of these competing and overlapping claims have been several clashes between China and Vietnam, especially over the Spratly and Paracel islands. Meanwhile, China, in a bid to establish its legal and political sovereignty over the area, has launched an ambitious programme of building up its physical presence on several islands and atolls, responding primarily to American naval forays in the region, ostensibly to ensure “freedom of navigation”.


Several attempts have been made to find negotiated solutions among the various claimants. China has consistently offered bilateral negotiations to the other parties, professing to take the bilateral route to a solution. However, the other countries, claiming to be at a disadvantage in negotiations with a powerful country like China, prefer negotiations collectively or multi-laterally through ASEAN. In this context, it is also important to note that the U.S. has not been an “innocent bystander” but has actually encouraged the claimants to seek a multilateral rather than a bilateral approach with China. In a not-too-subtle offer, the U.S. has also suggested its own role to help find solutions, knowing fully well that this is a red line for China.


The Geo-Strategic Context
It is not co-incidental that the dispute in the South China Sea that remained dormant for decades has become an arena of confrontation after the U.S. announced its “Pivot to Asia” policy in 2011. This American “rebalancing” towards Asia from Europe and the Middle East was part of a larger geo-strategic objective of containing China.


The collapse of the Soviet Union in 1990 signalled an end to the international order based on bi-polarity, leaving the U.S. as the pre-eminent global power. The Americans viewed this as their victory, both in ideological and political terms, as their capitalist system had overcome Soviet Communism while on the political level no other power could challenge American supremacy. Thereafter, the U.S. has been committed to ensuring that the unipolar world dominated by the Americans is never challenged. However, American reversals in Iraq and Afghanistan over the last decade at a time when China grew in power and influence, compelled the Obama Administration to pursue the containment of China in order to preserve U.S. global influence.


In pursuit of this objective the Pivot to Asia strategy has sought to strengthen American alliances with existing Asian partners such as Japan, South Korea, Australia and Philippines, while forging new alliances with countries like India, Indonesia and even their erstwhile foe, Vietnam. Other U.S. initiatives such as the New Silk Road proposal and the Trans-Pacific Partnership for trade are arrangements designed to exclude China and complement the rebalancing to Asia policy.


As a result, today the U.S. has strengthened its military presence in the region through building up bases in Australia, Japan and South Korea while a revanchist Japanese government led by Shinzo Abe has been encouraged to revive the Sino-Japanese historical dispute over the Senkaku/Diaoyutai islands. Most recently, the strategic partnership with India, involving U.S.-backed massive military buildup by India has resulted in the acquisition of U.S. military bases in the country, an unprecedented development for a “non-aligned” India to concede. These partnerships are aimed at further strengthening and augmenting the existing U.S. military presence in the Indian and Pacific Oceans that would secure the encirclement of a raising China.


It is in this strategic context that the current potentially volatile disputes in the South China Sea must be viewed. It is not surprising, therefore, that the U.S. fully supports the territorial claims being made by China’s adversaries in the South China Sea. To drive the point home, the U.S. has also actually opposed China's efforts to stake their claim in the region, sent warships to ensure “freedom of navigation” and held naval exercises in the disputed waters by U.S., Japanese and Indian navies, the self proclaimed so called alliances of democracies in the region. The underlying signal to China is that it can be “contained” and encircled by the U.S. and its allies.


Given the strategic importance of the South China Sea lanes to China, it has, of course, reacted to these maneuvers by taking counter measures of its own. Apart from increasing its naval strength and presence in the South China Sea, China has been establishing its physical presence on several islands and atolls. It has also conducted its own naval exercises in the area with Russian naval ships – a cooperative effort that has been facilitated by growing Sino-Russian partnership resulting from Russian concerns about its security interests due to the growing confrontation with the U.S. and NATO countries in Europe, especially resulting from differences over Ukraine and American/NATO military deployments in East European countries such as Poland and Romania.


Another strategic Chinese response has been the pursuit of its “One Belt, One Road” project of which the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) is a crucial part. This grand project seeks to establish linkages for China to Western and Central Asia and from there to Europe. This overland connectivity will provide China with alternative trade routes to augment and even replace the sea lanes through the South China Sea and thereby enable Beijing to neutralize Washington’s efforts to encircle and contain China.


The Emerging Scenario
The ongoing global realignment of the international order triggered by the U.S. to prevent the emergence of any challenge to its unipolar primacy seems to have badly back-fired. In the process, the U.S. has alienated China with which it still has robust economic relations. Predictably, the Chinese have reacted sharply to protect their national interests. An added complication has been the deteriorating U.S./NATO relations with Russia which has generated greater strategic convergence between Moscow and Beijing. As a result, the global environment is characterized by an unstable multi-polar order in which the U.S and its allies in Europe and Asia are actually competing with the China-Russia axis along with their partners.


While the new super-power confrontation at present is not as polarized and sharply divided as in the U.S.-Soviet Union Cold War of the 20th century, the growing competition among the current major powers has greatly reduced the space for cooperation and compromise. Instead, a more deadly round of a new conventional and strategic arms race has ensued between the major stakeholders. In this dangerous environment, the world has clearly been drifting towards a new Cold War, this time not in Europe but in Asia and the focal point of this emerging confrontation is the South China Sea.


Implications for Pakistan
Even through Pakistan is not a party to the disputes in the South China Sea, there are both negative and positive implications of the emerging Cold War on us.
On the negative side, the American strategy to isolate and contain China is a point of divergence with Pakistan in view of our historic and close partnership with China. Even more serious for us is the growing strategic Indo-U.S. partnership against China which has enabled India to greatly enhance its conventional and strategic military capabilities. In order to build-up India as a counter-weight to China, the U.S. is fully supporting and facilitating Indian high-tech conventional weapons acquisitions as well as sensitive technologies for Ballistic Missile Defence systems and ICBMs apart from access to nuclear fuel under the 2008 NSG waiver, which will enable India to greatly increase its nuclear weapons inventory. As a corollary India is also being helped to pursue its dangerous “Cold Start” doctrine to fight a limited conventional war with Pakistan despite the existence of nuclear deterrence.


At the same time, the U.S. has been pursuing its discriminatory policy towards Pakistan’s nuclear programme calling on Islamabad to demonstrate “restraint” while no such demand is being made on India. Similarly, the U.S. is pushing for Indian membership of the NSG to ensure its “de-jure” membership of the nuclear club but opposing the same benefit for Pakistan.


The accumulative impact of these developments has been strategic instability in South Asia, a new round of Pakistan-India arms race and an end to any bilateral dialogue between the two countries.
But there are also few positive outcomes of this emerging scenario for Pakistan. Where Pakistan-U.S. relations have diminished, the space has been taken up by even greater cooperation with China which is a rising economic and military power. Beijing now views its relations with Islamabad as having an even greater strategic value for Chinese national interests. Hence, bilateral cooperation has been greatly increasing and with better preferential treatment. The edifice of this new high intensity cooperation is of course the CPEC which Pakistan currently views as a “game changer”.


The CPEC with over 40 billion USD funding can enable Pakistan to fully realize its potential as a bridge-head for cooperation and connectivity between Central and South Asia as well as East and West Asia.


The evolving international order has also opened up greater opportunities for Pakistan’s relations with Russia. Now that India is firmly in the American camp, Russian policy makers no longer feel bound by their Cold-War era strategic partnership with India and are now more open to promoting relations with Pakistan in all fields, including defence.


Meanwhile, even as the U.S. pursues its untenable policy of “de-hyphenation” of relations with Pakistan and India, the fact remains that Washington will continue to require Islamabad’s cooperation in its counter-terrorism efforts as well as to stabilize Afghanistan. Accordingly, there is a point beyond which the U.S. cannot afford to alienate Pakistan as was recently stated by U.S. Senator John McCain after visiting the region.

 

The writer is a former Ambassador of Pakistan and was Permanent Representative to the UN in Geneva and to the Conference on Disarmament.

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
October

بھارت کی جارحانہ خارجہ پالیسی اور ہائیڈروجن بم پروگرام

تحریر: فرخند اقبال

بھارت جوہری عدم پھیلاؤ کی خاطر قائم نیو کلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ اس گروپ میں شمولیت کے ذریعے اپنے پر امن سول نیوکلئیر پروگرام کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔اس قسم کے دعوے وہ 1974سے پہلے امریکہ اور فرانس کے ساتھ اپنے معاہدوں کے بارے میں بھی کرتا رہا ہے یہاں تک کہ اس نے ایٹمی دھماکے کرکے خود کو ایٹمی طاقت ثابت کردیا۔اب کی بار وہ اس انتہائی اہم گروپ کو استعمال کر کے پہلے سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہائیڈروجن بم پروگرام پر جاری کام کی رفتار تیز کرنا چاہتاہے۔بھارت کی اس وقت سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ کسی طرح خود کو ایک عالمی طاقت ثابت کردے جس کے لئے اس نے خارجی سطح پر انتہائی جارحانہ پالیسی اختیار کی ہوئی ہے جس کی ایک اہم مثال امریکہ کے ساتھ اس کا حالیہ دفاعی معاہدہ
Logistics Exchange Memorandum of Agreement (LEMOA)
ہے جبکہ داخلی سطح پر وہ مبینہ طور پر ہائیڈروجن بم پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ 20جون 2014کو دفاعی و سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے انتہائی معتبر جریدے
IHS Jane146s
نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارت خفیہ طور پر ہائیڈروجن بم بنا رہا ہے جس کے لئے بھارتی ایٹمی سائنسدان میسورمیں واقع
Indian Rare Metals Facility
میں خفیہ طریقے سے یورینیم ہیکسا فلورائیڈ افزودہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو ہائیڈروجن بم بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔اس کے بعد دسمبر 2015میں معروف امریکی ادارے
Center for Public Integrity
نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ بھارت جنوبی ریاست کرناٹکا میں واقع برصغیر کی سب سے بڑی نیوکلیئر تجربہ گاہ میں دیگر ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ہائیڈروجن بم کی تیاری کر رہا ہے، اسی ماہ انتہائی معتبر امریکی جریدے
Foreign Policy
نے بھی ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں بھارت کے ہائیڈروجن بم پروگرام کے بارے میں مختلف انکشافات کئے گئے۔بھارت کے ہائیڈروجن بم پروگرام پر اس کے علاوہ بھی مختلف حلقوں میں گاہے بگاہے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن جوہری عدم پھیلاؤ کی ٹھیکیدار عالمی طاقتیں ایک بار پھر ماضی کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور کسی بھی جانب سے اس معاملے پر سنجیدہ ردّعمل دیکھنے میں نہیں آرہا،اس کے بر عکس امریکہ سمیت کئی اہم ممالک بھارت کو نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔


تاریخ ہمیشہ ہی بھارت کے نیوکلیئر پروگرام پر مہربان رہی ہے۔ بھارت جب ایٹم بم بنانے کی کوششیں کر رہا تھا تو اس وقت کی دو سپر پاورز امریکہ اورسابقہ سویت یونین کے درمیان سرد جنگ جاری تھی، اس وقت دونوں عالمی طاقتیں اس خطّے میں اتحادیوں کی تلاش میں تھیں اور باوجود اس کے کہ امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے اور روس کی کے جی بی اپنی حکومتوں کو بھارت کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں وقتاً فوقتاً خفیہ رپورٹس دیتے رہے لیکن اس وقت دونوں میں کوئی بھی ملک یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ بھارت کے خلاف کوئی سخت موقف اختیار کر کے اسے مخالف کیمپ میں ڈال دے جو کہ اپنی آبادی، معیشت اور جغرافیے کے باعث جنوبی ایشیاء میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔بھارت نے ان حالات کا بھرپور فائدہ اُٹھایا اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرلی۔اب جبکہ وہ ہائیڈروجن بم پر کام کر رہا ہے تو اس وقت بھی خطّہ ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور وہ ایک بار پھر بھرپور طریقے سے عالمی طاقتوں کی ضرورت بنتا جارہا ہے ۔خطّے میں نئے تعلقات استوار ہو رہے ہیں اور وہ
Pivot to Asia
اور
China Containment
جیسی بڑی پالیسیوں کا مہرہ بن رہا ہے جس کی وجہ سے عالمی طاقتیں اس کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں ’’سب اچھا ہے‘‘کا ورد کر رہی ہیں اور اسے مکمل ڈھیل دے رہی ہیں۔
اب ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہر سطح پر تعطل کا شکار ہیں پاکستان نے 16اگست کو بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات نہ کرنے کے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کرنے کی پیشکش کی ، پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ یہ معاہدہ نہ صرف خطّے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لئے بہت اہم ہوگا ،ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعے جنوبی ایشیاء میں اسلحے کی دوڑ سے بچنے کے لئے مزید اقدامات کرنے پر اتفاق رائے پیدا ہونے کے نہ صرف نئے امکانات پیدا ہوں گے بلکہ اس کے ساتھ نیو کلیئر سپلائیرز گروپ میں بھی مثبت پیغام جائے گا جس کی رکنیّت حاصل کرنے کے لئے دونوں ممالک نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔لیکن بھارت نے پہلے کی طرح اس پیشکش کا بھی مثبت جواب نہیں دیا ۔ پاکستان نے 1998میں بھی دونوں ممالک کی جانب سے ایٹمی تجربات کرنے کے بعد بھارت کو
Comprehensive Test Ban Treaty (CTBT)
پر دستخط کرنے کی پیشکش کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس معاہدے پر دستخط کرکے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ لیکن بھارت نے اس وقت بھی اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔


اس وقت پاکستان کی جانب سے ایٹمی تجربات نہ کرنے کے معاہدے کی پیشکش اور بھارت کی جانب سے اس پیشکش کا استرداد کرنا ہر گز کوئی چھوٹا یا معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کی خطّے کے مستقبل کی شکل ترتیب دینے کے لئے جاری پالیسیوں کا عکاس ہے۔ یہ اس بات کا عکاس ہے کہ جنوبی ایشیاء کی دو بڑی طاقتیں اس وقت کس قسم کی علاقائی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور وہ خطّے کے سیاسی و اسٹریٹیجک مستقبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اس میں بیک وقت ایڈجسٹ ہونے اور اسے اپنے حق میں ڈھالنے کے لئے کون کون سے حربے استعمال کریں گے۔ اگر بھارت کی خارجہ پالیسی کا بغور جائزہ لیا جائے تو وہ ایک بہت بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والاغیر وابستگی کا عنصر اب تاریخ کا ذکر بن چکاہے، وہ بھارت جو ماضی قریب میں صرف اس خدشے کی بناء پر امریکہ اور ویت نام کے زیادہ قریب نہیں جارہا تھا کہ اس کی وجہ سے چین اور روس کی ناراضگی مول لینا پڑسکتی ہے ،وزیر اعظم نریندرامودی کی حکومت آنے کے بعدبھارت اس راہ میں بہت بولڈ اقدامات اٹھا رہا ہے۔بھارت کے چین کے ساتھ پائے جانے والے تنازعات پہلے سرحدی سے اقتصادی اور اب اسٹریٹیجک تنازعات میں بدل رہے ہیں۔اب وہ نہ صرف امریکہ بلکہ ایک عرصے سے جاری چین اور امریکہ کے کشمکش میں امریکہ کے حلیف ممالک جاپان اورآسٹریلیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔اس گٹھ جوڑ کی دو اہم مثالیں مئی میں صدر باراک اوبامہ کا امریکہ اور چین کے درمیان بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے میں شامل اہم کردار ویت نام کا دورہ ہے جو کہ امریکہ،ویت نام جنگ کے بعد کسی بھی امریکی صدر کا پہلا دورہ تھا جس میں دونوں ممالک کے درمیان نئے سرے سے تعلقات شروع کرنے کا عہد کیا گیا،جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں اپنے دورہ ویت نام میں ویت نام کو بھارتی ساختہ براہموس میزائل لے جانے کی اہلیت رکھنے والے بحری جہاز خریدنے کے لئے 500ملین ڈالر کا قرضہ دے دیا جسے ویت نام بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے میں چین کے خلاف استعمال کرسکتا ہے، واضح رہے کہ بھارت اس سے قبل جنوری میں بھی ویت نام کو 100ملین ڈالرکا قرض دے چکا ہے جس کا زیادہ تر مقصد بھی دفاعی تھا۔اس کے علاوہ بحر ہند میں پاکستان اور چین کی شدید مخالفت کے باوجود فوجی موجودگی بڑھانا بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک الگ اور ایک اہم باب ہے، جبکہ افغانستان میں اثرورسوخ کو وہ خطّے میں اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل کے لئے لازمی سمجھتا ہے اور وہاں بھی امریکہ اس کی پشت پر آچکا ہے جو کہ خطّے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں بھارت کو اپنا مہرہ بنانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے ۔


اس پورے منظرنامے میں بھارت کا ہائیڈروجن بم پروگرام اور اس کی خارجہ پالیسی کا نئی اپروچ کوئی الگ الگ معاملات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔بھارت اس خطّے کی ایک بالادست طاقت بننا چاہتا ہے اور وہ جس قسم کی جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کی تعمیل کے لئے وہ لازم سمجھتاہے کہ ایٹم بم رکھنے والے ممالک کی گروپ میں شامل ہونے کے بعد اب ہائیڈروجن بم رکھنے والے ممالک کے گروپ میں بھی شامل ہو کرخود کو دفاعی طور پر ایک انتہائی طاقتور ملک ثابت کرکے دیگر ممالک پر نفسیاتی برتری حاصل کرے اور اپنا کھیل کھل کر کھیلے۔بھارت خطّے میں اسلحے کی نئی دوڑ کا آغاز کرکے دیگر ممالک کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا چاہتاہے تاکہ وہ خطّے میں اپنی بالادستی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کا خاتمہ کرسکے۔ ایٹم بم اور ہائیدروجن بم جیسے ہتھیار پوری دنیا کی تباہی کا موجب بننے کے سبب حالیہ تاریخ میں پراکسی وارز کا باعث بن رہے ہیں جس کی اہم مثال شام اور عراق کے تنازعات ہیں جہاں آپس میں برسر پیکار ان ہتھیاروں سے لیس بڑی طاقتیں ایک دوسرے پر براہ راست حملے سے تو گریز کرتی ہیں لیکن طاقت کے توازن کو قائم رکھنے کے لئے دوسرے ممالک کے میدانوں میں ایک دوسر سے نبرد آزما ہیں، اس اصول کے پیش نظر بھارت کے ایسے اقدامات خطّے کے لئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے اور وہ خطّے کو نئے تنازعات میں الجھا دے گا۔یہ صورتحال مزید مخدوش ہوجائے گی اگر بھارت کے نیوکلیئر پروگرام کے جنگی مقاصد کو نظرانداز کرکے اسے نیو کلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت دے دی گئی ۔بھارت اس گروپ کے ذریعے درآمد کرنے والا کچھ فیول دنیا کی آنکھوں میں دھول جھانکنے کے لئے اپنے سویلین ری ایکٹرز میں استعمال کرے گا اور ملک میں پہلے سے موجودفیول کو ہائیڈروجن بم بنانے کے لئے استعمال کرے گا ، یہ اس کی کوئی نئی پالیسی نہیں ہے اس پالیسی پر وہ 2008میں ہونے والے امریکہ-بھارت سول نیوکلئیر معاہدے کے بعد سے عمل پیرا ہے۔

مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بحر ھند میں پاکستان اور چین کی شدید مخالفت کے باوجود فوجی موجودگی بڑھانا بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک الگ اور ایک اہم باب ہے، جبکہ افغانستان میں اثرورسوخ کو وہ خطّے میں اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل کے لئے لازمی سمجھتا ہے اور وہاں بھی امریکہ اس کی پشت پر آچکا ہے جو کہ خطّے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں بھارت کو اپنا مہرہ بنانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے ۔

*****

اس پورے منظرنامے میں بھارت کا ہائیڈروجن بم پروگرام اور اس کی خارجہ پالیسی کا نئی اپروچ کوئی الگ الگ معاملات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔بھارت اس خطّے کی ایک بالادست طاقت بننا چاہتا ہے اور وہ جس قسم کی جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کی تعمیل کے لئے وہ لازم سمجھتاہے کہ ایٹم بم رکھنے والے ممالک کی گروپ میں شامل ہونے کے بعد اب ہائیڈروجن بم رکھنے والے ممالک کے گروپ میں بھی شامل ہو کرخود کو دفاعی طور پر ایک انتہائی طاقتور ملک ثابت کرکے دیگر ممالک پر نفسیاتی برتری حاصل کرے اور اپنا کھیل کھل کر کھیلے۔

*****

 

Follow Us On Twitter