10
April

مل کر آگے بڑھنا ہے

Published in Hilal Urdu

تحریر: طاہرہ جالب

کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور منصوبہ بندی کرنے کے لئے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے اور اعداد و شمار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی آبادی کیا ہے؟ کتنے گھرانے ہیں ؟ کتنے افراد ہیں ؟ ملک میں کتنے ادارے ہیں ؟ تعلیمی اداروں کی تعداد کیا ہے ؟ صحت کے اداروں کی تعداد کیا ہے؟ سماجی بہبود کے کون کون سے ادارے کام کررہے ہیں۔ خوراک، زراعت، صنعتی ترقی اور افرادی قوت کیا ہے ؟ غرضیکہ ہر شعبے کی تنظیم و تشکیل کے لئے دیگر عوامل کے علاوہ مردم شماری پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے ملک کا مستقبل یقینی اورمحفوظ ہو جاتا ہے۔ ملک کی ترقی و تعمیر کا انحصار بھی مردم شماری پر ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک سیاسی ، سماجی ، معاشرتی اور معاشی طور پر ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ اپنے اندر بسنے والوں کی تعداد ، تعلیم، سماجی حیثیت اور معاشی کیفیت کے بارے میں بنیادی معلومات نہ رکھتا ہو۔ درست اعداد و شمار حاصل کرنے کے بعد حکومت اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہترین پلاننگ کرتی ہے۔ مثلاً تعلیم کے شعبے میں تعلیمی پلاننگ جس سے معلوم ہو گا کہ کتنے افراد خواندہ ہیں اور کتنے ناخواندہ، کتنے مرد تعلیم یافتہ ہیں، کتنی خواتین تعلیم یافتہ ہیں اورکتنے افراد زیر تعلیم ہیں۔ جو سہولیات تعلیمی اداروں میں میسر ہیں اس کے اعداد و شمار سے الگ معلومات ملیں گی۔ مردم شماری کے ذریعے ہنر اور فنی مہارتوں کے بارے میں رحجان کا اندازہ لگا کر ملک میں ایسی صنعتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے جن کے لئے مستقبل میں افرادی قوت دستیاب ہو سکے۔ ذرائع آمد و رفت کے منصوبے بنانے کے لئے حکومت انہی اعداد و شمار کو استعمال کرتی ہے تاکہ ضرورت کے مطابق نقل و حمل کی ترقی کا پروگرام ترتیب دے کر معاشی اور معاشرتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔


اس کے علاوہ شرح افزائش کا اندازہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر زرعی پیداوار کی طلب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور غذائی قلت اور گرانی کو دور کیا جا سکتاہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی مردم شماری کے صحیح اعداد و شمار پر انحصار کرتی ہے۔ ملک کی ترقی کے لئے جو منصوبہ بندی کی جاتی ہے مردم شماری اس کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے اور درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔

 

milkaragybehna.jpgاگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلے دو ہجری میں مدینہ شہر میں مردم شماری کرائی گئی۔ عہدِ رسالتؐ میں وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام قائم کیا گیا جس کے تحت صاحبِ حیثیت افراد سے خیرات و صدقہ لے کر معاشرے کے ضرورت مند افراد میں منصفانہ طور پر تقسیم کئے گئے۔ اس کے بعد 15 ہجری میں حضرت عمر فاروقؓ نے باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ قبلِ مسیح رومن سلطنت نے فوجی اور سیاسی مقاصد اور جائیداد کی رجسٹریشن کے لئے پہلی مرتبہ رومن تہذیب میں باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ پھر باب الایران ، مصر ، چین اور جنوبی امریکہ میں مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مردم شماری کروائی گئی۔ مسلم ممالک میں شہر کوفہ میں بھی مردم شماری کے شواہد ملتے ہیں۔ جرمنی میں چودھویں صدی عیسوی میں بہت منظم طریقے سے مردم شماری کروائے جانے کا ریکارڈ ملتا ہے۔ پندرھویں صدی عیسوی میں سپین میں باقاعدہ مردم شماری کی گئی۔ کینیڈا ، امریکہ اور سویڈن اس مردم شماری کے مؤجد ہیں جو آج کل ہوتی ہے۔ مردم شماری ہر دس سال بعد لازمی قرار دی گئی ہے۔


19 سال کے وقفے کے بعد پاکستان میں چھٹی مردم شماری ہو رہی ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے بعد 2008 میں یہ عمل ضروری تھا۔ مگر اب تک یہ مسئلہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان گیند کی طرح اچھالا جاتا رہا ہے۔ آخر کار سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہو چکا ہے جوملک کی معیشت کو بہتر طور پر چلانے کے لئے ممد و معاون ثابت ہو گا۔ ملک بھر میں 15مارچ 2017 سے شروع ہونے والی مردم شماری 2 مراحل میں مکمل ہو گی۔ چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 63اضلاع پہلے مرحلے میں 15 مارچ سے 13اپریل تک خانہ اور مردم شماری ہو گی۔ باقی 88 اضلاع اور علاقوں میں مردم شماری دوسرے مرحلے میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


19 سال بعد ہونے والی مردم شماری پر اعتراضات آنے شروع ہو گئے ہیں۔ سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کے درمیان ایک دوسرے کی نسبت زیادہ کی جنگ ہے تو بلوچستان میں افغان مہاجرین کو شمار کرنے پر بھی اعتراضات موجود ہیں۔ گویا چھٹی مردم شماری کا انعقاد پھر ایک مرتبہ چند شبہات کے ماحول میں کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس امر میں دو لاکھ فوجی اور ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب سول ملازمین کی شمولیت کافی حد تک شفافیت لائے گی۔ اس بار مردوں اور عورتوں کے علاوہ خواجہ سراؤں کو بھی گنا جائے گا۔ اگر اس بار مردم شماری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گیا تو نہ صرف منصوبہ بندی کرنا آسان ہو گی بلکہ صوبوں اور اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم بھی درست اور منصفانہ ہو گی۔
موجودہ مردم شماری کا فیصلہ اوراس کی
Execution
ایک بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے مگر اس تمام کوشش میں پاک آرمی کے رول کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی۔ موجودہ حالات میں پاک فوج کو بہت سے محاذوں پر بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں روایتی اور غیر روایتی دونوں شامل ہیں۔ ایک طرف اندرونی محاذ پر آپریشن ردالفساد کا آغاز کردیاگیا ہے جس کے اہداف یقینی طور پر ایک بھرپور عمل کے متقاضی ہیں۔ موجودہ آپریشن صر ف پاک افغان سرحد پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں فسادیوں کے تمام نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو لائن آف کنٹرول پر جارحانہ رویوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ یہ ہماری افواج کی مستعدی اور پیشہ ورانہ قابلیت ہی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی’’ سرجیکل سٹرائیک‘‘ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہی رہا۔ مگر ہمیں یہ دشمن کے عزائم کی خبر ضرور دیتا ہے کہ اگر بس چلے تو دشمن کوئی بھی کارروائی کرنے سے باز نہیں رہے گا۔ ان تمام کمٹمنٹس کے ساتھ جو پاکستان دشمنوں کی پیدا کردہ ہیں۔ پاک فوج کی ایک نہایت مناسب تعداد ہمیشہ اپنی ٹریننگ میں بھی مصروف عمل رہتی ہے۔ غرضیکہ ان حالات میں دو لاکھ فوج کو سپیئر کرنا دراصل ان کی ایک اضافی ذمہ داری بن جاتا ہے جس کو اٹھانے کے لئے پاک فوج کی ہائی کمان سے لے کر ایک سپاہی تک سب نے خیر مقدم کیا ہے۔


موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی مردم شماری کے بارے میں مشترکہ پریس کانفرنس جس میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں‘ ایک قومی یکجہتی اور سول ملٹری تعلقات میں مثالی ہم آہنگی کی غماز بھی تھی۔ میجر جنرل آصف غفور نے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مردم شماری کی افادیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ پاک آرمی اور عوام کے درمیان ایک لازوال رشتہ ہے۔ اس مردم شماری کے دوران پاک فوج کے جوان ہر گھر کے دروازے تک آئیں گے۔ اس عمل کے دوران بے شک
Data Collection
بھی ہوگی مگر یہ پاک فوج کی طرف سے اپنی عوام کے لئے ایک جذبہ خیرسگالی کا پیغام بھی ہوگا۔ اب جب کہ مردم شماری کی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے جو کامیابی سے جاری ہے، تو ہمیں اطمینان رکھنا چاہئے کہ حکومت اور افواج کی یہ کاوش ضرورآنے والے دنوں میں پاکستان کی ترقی میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
April

پُرامن اور بہتر مستقبل کی شاہراہ پر گامزن شمالی وزیرستان

Published in Hilal Urdu

تحریر: عقیل یوسف زئی

ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کے حالیہ دورۂ وزیرستان کے بعد ہلال کے لئے خصوصی تحریر

شمالی وزیرستان ہر دور میں مختلف تحاریک‘ سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر صدیوں سے مقیم پشتون قبائل کا اپنا الگ مزاج اور طرز حیات رہا ہے۔ اس پس منظر نے اس علاقے کو دوسروں سے ممتاز بنا دیا ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد شمالی وزیرستان عالمی سیاست کے علاوہ تبصروں، خبروں اور تجزیوں کا بڑا مرکز بنا رہا۔ بنوں سے کچھ ہی فاصلے پر واقع یہ ایجنسی طویل عرصے تک نہ صرف ریکارڈ درون حملوں بلکہ غیرملکی جنگجوؤں اور جہادی تنظیموں کی آماجگاہ بنی رہی۔ اسی ایجنسی کو اس حوالے سے بھی بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے کہ اس کے آخری سرے پر غلام خان نامی وہ کراسنگ پوائنٹ یا سرحد موجود ہے جس کے ذریعے افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک آسانی کے ساتھ پہنچا جا سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کا ہیڈکوارٹر میران شاں بنوں سے محض 61کلومیٹر جبکہ غلام خان 79کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ غلام خان سے کچھ فاصلے پر خوست صوبہ واقع ہے۔ میران شاہ سے کابل 277، دوشنبہ 860 جبکہ تاشقند 1414کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا اور بھی آسان ہو جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان کا یہ عالمی روٹ پاکستان‘ بلکہ پورے برصغیر اور وسط ایشیا کے لئے سب سے مناسب اور قریب ترین راستہ ہے۔ 2001کے بعد جب افغانستان میں ایک پیچیدہ اور علاقائی جنگ کا آغاز کیا گیاتو جنوبی اور شمالی وزیرستان پر مشتمل یہ اہم جغرافیائی پٹی اس سے بری طرح متاثر ہوئی۔ پاکستانی طالبان کے علاوہ عرب‘ ازبک‘ چیچن اور تاجک جنگجو تنظیموں نے اس پورے علاقے کو یرغمال بنا کر رکھ دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے لاکھوں قبائلی باشندوں ان کے مشران‘ تعلیم یافتہ حلقوں اور تاجروں کو دوطرفہ حملوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف ڈرون حملوں کے ذریعے یہاں کے باشندوں کو بدترین عدم تحفظ اور خوف سے دو چار ہونا پڑا۔ اگر یہ کہا جائے کہ شمالی وزیرستان اپنے لوگوں کے لئے کئی برسوں تک نوگوایریا بنا رہا تو غلط نہیں ہو گا۔ ایک وقت میں یہ علاقہ فقیر آف ایپی کی جدوجہد اور مزاحمت کے باعث برطانیہ اور اس کے مخالف کیمپ کے لئے جتنی اہمیت اختیار کر گیا تھا‘ نائن الیون کے بعد ویسی ہی صورتحال پھر سے بنی رہی۔ اور شمالی وزیرستان اپنوں کے علاوہ غیروں کی سازشی سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز بنا رہا۔ 10تحصیلوں پر مشتمل اس ایجنسی کے اہم مراکز یا علاقوں میں میران شاہ کے علاوہ میر علی‘ رزمک‘ شوال‘دتہ خیل اور غلام خان شامل ہیں۔ یہ ایک پرخطر پہاڑی خطہ مگر انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جبکہ یہاں رہنے والے قبیلے نہ صرف صدیوں پر محیط تاریخ رکھتے ہیں بلکہ ان کو خطے کی سیاست اور معیشت کے علاوہ ثقافت کے فروغ میں ہر دور میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ 2002 کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل اصرار کرتے رہے کہ اس ایجنسی میں بھرپور آپریشن کرایا جائے تاہم اس کا آغاز 2014میں کیا گیا۔ جو کہ نہ صرف کامیاب رہا بلکہ اس پر عالمی اطمینان کی شرح بھی تسلی بخش رہی اور اب یہ علاقہ ریاستی رٹ میں لایا جا چکا ہے۔ جون 2014 کو شروع کئے گئے آپریشن کے نتیجے میں 10لاکھ کے لگ بھگ لوگ بنوں‘ ڈی آئی خان‘ کوہاٹ اور پشاور سمیت دیگر علاقوں میں نقل مکانی کر گئے۔ فورسز نے مرحلہ وار مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جہاں پر موجود مضبوط دہشت گرد ٹھکانے تباہ کئے گئے۔ نوگوایریاز کو ریاستی رٹ میں لایا گیا اور ان علاقوں میں مستقل طور پر فورسز تعینات کی گئیں جہاں سے طالبان لشکروں کی دو طرفہ آمدورفت اور سرگرمیاں ممکن تھیں۔ عوام نے حکومت اور فورسزکا ساتھ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ امن اور ریاستی رٹ کی خواہش میں نہ صرف یہ کہ جان و مال دے کے بے مثال قربانیاں دیں بلکہ ڈھائی سال تک مہاجرت کے مصائب بھی خندہ پیشانی سے برداشت کئے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تقریباًتمام علاقے میں ریاستی رٹ بحال کی جا چکی ہے۔ لیویز نہ صرف پوری صلاحیت کے ساتھ فوج کی معاونت کر رہی ہیں بلکہ تمام سرکاری ادارے بھی تیزی کے ساتھ فعال ہونے لگے ہیں۔ آپریشن سے قبل سول اداروں کا علاقے میں وجود ہی ختم ہو کر رہ گیا تھا ۔ 80فیصد علاقے پر لشکروں یا جہادی تنظیموں کا قبضہ اور غلبہ تھا بلکہ سرکاری دفاتر اور اہلکار جان بچانے کے لئے بنوں میں ڈیرے ڈال چکے تھے۔ آپریشن کے بعد سرکاری اداروں کی بحالی پر توجہ دی گئی اور ویران دفاتر پھر سے بحال ہونے لگے۔ اگرچہ اب بھی حکومت کوسہولیات کی فراہمی اور اداروں کی بھرپور معاونت میں کئی مشکلات اور دشواریوں کے علاوہ فنڈز اور وسائل کی کمی جیسے حالات کا سامنا ہے تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ ریاستی ادارے کی واپسی کے علاوہ زندگی کی رونقیں تیزی کے ساتھ بحال ہوتی نظر آ رہی ہیں اور تعمیر نو کا کام بھی جاری ہے۔ سرکاری سرپرستی میں‘ فوجی حکام کی معاونت کے ساتھ‘ بحالی اور تعمیر کا کام سست ہی سہی مگر کافی حد تک اطمینان بخش قرار دیا جا رہا ہے۔

puramanaurbehter.jpg
23مارچ کی تقریبات کے سلسلے میں میران شاہ کے یونس خان سپورٹس کمپلیکس میں ایک شاندار پریڈ کے علاوہ کھیلوں اور ثقافتی پروگرامز کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ فوجی حکام‘ اہلکاروں کے علاوہ تقریباً 20ہزار مقامی لوگ‘ طلباء اور نوجوان شریک ہوئے۔ اس تقریب میں دوسروں کے علاوہ جنرل آفیسرز کمانڈنگ میجر جنرل اظہر حیات اور پولیٹیکل ایجنٹ کامران آفریدی بطور خاص شریک ہوئے۔ جنرل اظہر حیات نے اس موقع پر کہا کہ وہ امن کے قیام میں فورسز کے کردار کے علاوہ عوام کی معاونت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںٖ جن کے عزم اور کوششوں سے نہ صرف علاقے سے دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن ہوابلکہ متاثرین کی واپسی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے جرگوں، جنازوں اور سرکاری تنصیبات کے علاوہ تعلیمی مراکز اور ہسپتالوں کو بھی نہیں بخشا۔ تاہم اب ان کو پھر سے یہاں گھسنے نہیں دیا جائے گا اور اس خطے کو امن اور ترقی سے ہمکنار کرکے مثالی اور پرامن علاقہ بنایا جائے گا۔ بعد ازاں صحافیوں سے تفصیلی بات چیت میں پی اے کامران آفریدی نے ان فیصلوں کی تفصیلات بتائیں جو کہ حکومت نے علاقے کی ترقی کے لئے شروع کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عسکری حکام کی معاونت اور مشاورت سے عوام کے تحفظ اور علاقے کی ترقی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ ماضی کے حالات و واقعات کی تلافی کی جا سکے۔


جی او سی میجر جنرل اظہر حیات اور پی اے کامران آفریدی نے صحافیوں کے ساتھ اپنی خصوصی نشستوں کے دورران بتایا کہ افغانستان جانے والے وزیرستانی باشندوں کی واپسی کے لئے بہت جلد ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا تاکہ ان کو باعزت طریقے سے ان کے علاقوں میں واپس لا کر بسایا جائے۔ ان کے بقول تقریباً 90فیصدآئی ڈی پیز واپس آ چکے ہیں۔ اب ان کی بحالی اور علاقے کی تعمیر نو پر توجہ دی جا رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کے سلسلے کو تیز کرنے کے لئے اسلام آباد اور پشاور کے اعلیٰ حکام اور اداروں کو زیادہ سے زیادہ وسائل کی فراہمی پر قائل کیا جائے تاکہ عملی اقدامات کے ذریعے نہ صرف یہ کہ برسوں تک حالات کے جبر کا شکار ہونے والے لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں بلکہ ان کو یہ باورکرایا جائے کہ حکومت امن کے قیام اور سہولیات کی فراہمی میں سنجیدہ ہے۔ دونوں اعلیٰ حکام نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے لوگوں کے اقتصادی مسائل حل کرنے اور غلام خان سرحد کو دوبارہ کھولنے کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ اس روٹ کو پھر سے فعال بنایا جائے اور اس کے ذریعے مقامی آبادی کو کاروبار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ دونوں اعلیٰ عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ جن لوگوں کے گھر، مارکیٹیں اور دکانیں متاثر ہو ئیں ان کی از سر نو تعمیر کا کام شروع ہے اور حکومت اس سلسلے میں نقصانات کے ازالے کے لئے قابل ذکر اور اطمینان بخش اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوشش کر رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان کے ٹی ڈی پیز کو مردم شماری کے دوران وزیرستان ہی کے شہری قرار دینے کے لئے متعلقہ اداروں کے ساتھ ایک فارمولے کے پلان کے ذریعے یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے شہری حقوق اور وسائل کا حصہ دار بننے کا راستہ ہموار کر کے انہیں ہر قسم کے وسائل اور حقوق سے مستفید کیا جائے۔ ان کے مطابق سول اور عسکری ادارے باہمی مشاورت کے ذریعے جہاں ایک طرف علاقے کے امن اور ریاستی رٹ کی بحالی کے لئے یکسو ہو کر کام کر رہے ہیں وہاں تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں میں بھی مشاورت سے کام لیا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ وزیرستان کے انتظامی ڈھانچے کے علاوہ یہاں کی معاشرت اور معیشت کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے۔


قبل ازیں مقامی عمائدین، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں نے آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امن کے قیام پر مکمل اعتماد اور اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں اور کاموں کو مستقل امن کے لئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کی شکایات اور ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے شمالی وزیرستان کے لئے جاری منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے اور جن لوگوں کے گھروں، مارکیٹوں اور کاروبار کو نقصان پہنچا ہے اس کی فوری تلافی کی جائے ان کے مطابق وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ شدت پسند یا ان کے حامی پھر سے ادھر کا رخ کریں کیونکہ یہ لوگ انسانیت، پاکستانیت اور قبائل کے دشمن رہے ہیں اور ان کے منفی عزائم نے اس خطے کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو وہ حقوق اور وسائل دیئے جائیں جو کہ پاکستان کے دوسرے شہریوں اور علاقوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے 23مارچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے پروگرامز ہوتے رہیں گے تاکہ اس جنگ زدہ وزیرستان کے باسیوں کو خوشی اور تفریح کے مواقع ملتے رہیں اور ایسے پروگرامز کے ذریعے عوام اور ریاستی اداروں کو یکجا ہونے کا موقع بھی ملتا رہے ۔


قدرتی وسائل میں قبائل برابر کے حصہ دار
فاٹا اور وزیرستان کی تاریخ میں غالباً پہلی دفعہ یہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ قدرتی وسائل یا معدنیات جن علاقوں میں دریافت ہوں گے وہاں کے مقامی باشندوں یا عوام کو نہ صرف ایک مناسب رائلٹی دی جائے گی بلکہ ترجیحی بنیادوں پر ان کو ملازمتیں بھی دی جائیں گی۔ اس سلسلے میں شمالی وزیرستان کے متعلقہ حکام نے گزشتہ دنوں تحصیل بویہ کے علاقے محمد خیل میں دریافت کے گئے قیمتی معدنیات (کاپر) کی آمدن میں سے مقامی قبائل یا لوگوں میں 18فیصد کی رائلٹی کے چیک تقسیم کئے۔ حکام کے مطابق معدنیات اور دیگر قدرتی ذخائر جس بھی علاقے میں دریافت ہوں گے‘ وہاں کے عوام کو 18فیصد کے حساب سے رائلٹی دی جائے گی اور لیزنگ کمپنیوں کو باقاعدہ اس فیصلے کا پابند بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک فارمولے کے تحت یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جس علاقے میں معدنیات کا کوئی مرکز دریافت ہو گا وہاں کے عوام کو ملازمتیں دی جائیں گی اور لیبر اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بھی ان کو دی جائیں گی تاکہ اس طریقے سے مقامی آبادی کو نہ صرف پروڈکشن میں حصہ دار بنایا جائے بلکہ ان کو روزگار اور ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کئے جائیں۔ حکام کے مطابق وزیرستان میں کرومائیٹ ، کاپر‘ کوئلے، تیل،جپسم اور متعدد دیگر قدرتی معدنیات کے لامحدود وسائل، ذخائر موجود ہیں اور ان ذخائر کی لیزنگ کا سلسلہ تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ دیگان نامی علاقے میں بھی رائلٹی کی مد میں گزشتہ دنوں لوگوں میں چیک تقسیم کئے گئے۔


شمالی وزیرستان میں 60ہزارسکیورٹی اہلکار متعین
اعلیٰ سرکاری حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں فوج اور پیراملٹری فورسز کی بڑی تعداد متعین کی گئی ہے جبکہ اہم علاقوں کے پہاڑوں پر درجنوں مورچے بھی بنائے گئے ہیں تاکہ علاقے اور یہاں کے عوام کو محفوظ بنایا جائے۔ حکام کے مطابق اس وقت اس اہم ایجنسی میں تقریباً 60ہزار سکیورٹی اہلکار موجود ہیں جن میں 35000 لیویز بھی شامل ہیں۔ لیویز‘ فوجی جوانوں کے شانہ بشانہ سڑکوں اور چوٹیوں پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ان کی فعالیت اور کارکردگی کو عوام کے علاوہ فوجی حکام بھی سراہتے آ رہے ہیں۔


آپریشن ضرب عضب کے باقاعدہ آغاز سے قبل شمالی وزیرستان سے غلام خان کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے افغانستان والے ہزاروں خاندانوں کی پاکستان واپسی کا دوبارہ آغاز اپریل کے پہلے ہفتے کے دوران متوقع ہے اس مقصد کے لئے اعلیٰ سول اور فوجی حکام کے درمیان ایک باقاعدہ شیڈول کے لئے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ اعلیٰ فوجی اور سول حکام نے گزشتہ روز میران شاہ میں غیررسمی بات چیت کے دوران بتایا کہ افغانستان جانے والے متاثرین کی واپسی میں تاخیر اس لئے ہوئی کہ ایک تو ان کی غیرمعمولی چیکنگ لازمی تھی جس کے لئے غیرمعمولی وقت درکار تھالہٰذا واپسی دو تین مراحل میں مکمل ہوئی ان مراحل کے دوران لوگوں کے درمیان تعداد کم رہی جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں مسلسل حملوں کی وجہ سے سرحد سیل کی گئی اور متاثرین کی بحالی میں بعض انتظامی رکاوٹیں حائل رہیں تاہم توقع کی جانی چاہئے کہ متاثرین کی واپسی کا سلسلہ پھر سے شروع ہو سکے گا اور اب کی بار کوشش کی جائے گی کہ تمام لوگ واپس آ جائیں ۔متعلقہ حکام نے استفسار پر بتایا کہ آپریشن سے قبل یا اس کے دور ان شمالی وزیرستان سے تقریباً 12000 خاندان غلام خان کے راستے افغانستان کے سرحدی صوبے خوست منتقل ہو گئے تھے۔ آپریشن کی تکمیل اور ٹی ڈی پیز کی واپسی کے اعلان کے بعد دو تین مراحل کے دوران تقریباً 1800سے زائدخاندان اپنے علاقوں میں واپس آ گئے۔ تاہم 9000 کے قریب خاندان اب بھی افغانستان میں مقیم ہیں۔ حکام کے مطابق اگر ملک میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ نہیں چل پڑتا اور حالات نارمل رہتے تو اب تک ان خاندانوں کو واپس لایا جا چکا ہوتا۔ اگر چہ غیرمعمولی صورت حال کے باعث یہ سلسلہ تاخیر کا شکار ہوا تاہم اب ان کی واپسی کے لئے ایک اور فیز کا آغاز ہونے والا ہے جس کے دوران ان کی واپسی اور بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔ حکام نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ غلام خان کے کراسنگ پوائنٹ کو دوبارہ کھولنے کے آپشن اور امکان کا بھی اعلیٰ سطحی جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے ہزاروں افراد کا روزگار اور کاروبار اس روٹ سے وابستہ ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ایک مربوط طریقہ کار کے مطابق دونوں جانب کی عام آمدورفت کے علاوہ تجارت کا سلسلہ بھی جلد بحال ہو سکے۔


بنوں اور بعض دیگر علاقوں میں آباد ٹی ڈی پیز کی مکمل واپسی کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ٹی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی کا سلسلہ جاری ہے تاہم دوسری طرف مقامی عمائدین صحافیوں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی کے باوجود ٹی ڈی پیز کی واپسی سست روی کا شکار ہے اور اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہزاروں گھر مسمار کئے جا چکے ہیں اور گھروں کی تعمیر کے لئے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس میں چند خامیاں بھی ہیں۔ ان کے مطابق اب بھی تقریباً 40فیصد ٹی ڈی پیز واپسی کے منتظر ہیں جو واپس آ گئے ہیں ان میں سے کچھ یا تو رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں یا عارضی بنیادوں پر خیمے لگا کر حکومتی امداد کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق ابھی حکومتی کارندوں کے مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاک فوج نے اپنا رول ادا کردیا ہے۔ اب باقی اداروں پر منحصر ہے کہ وہ روایتی سست روی اور بیوروکریٹک ڈیلے کی وجہ سے حاصل شدہ کامیابیوں کے ثمر حاصل کریں‘ نہ کہ اپنے عمل سے اُن کے حُسن کو گہنا دیں۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ کا پروگرام بھی پیش ک رتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

’’اے مری سَر زمیں !‘‘
کس قدر پُرکشش‘ کس قدر دلنشیں‘ یہ بہاریں تری‘ یہ نظارے ترے
تُو ہے کتنی حسیں‘ اے مری سَرزمیں‘ کوہ و صحرا تلک کتنے پیارے ترے
تُوہے ماں کی طرح مُونس و مہرباں‘ تجھ سے آباد و شاداں ہمارا جہاں
تُو نسیمِ سحر از کراں تا کراں‘ تُجھ میں اُڑتے پھریں ہم غبارے ترے
تُجھ سے جب بھی کبھی دُور جانا پڑا‘ دل جدائی میں تیری تڑپتا رہا
ہم سراپا وفا‘ بندگانِ صفا‘ تُوہے دریا تو ہم ہیں کنارے ترے
تجھ کومیلی نظر سے جو دیکھے کوئی‘ تُجھ سے دَست و گریباں جو ہو مُدعی
اُس سے ہو جائے اپنی لڑائی کھلی‘ ہم ہیں شمشیر کے تیز دھارے ترے
تیری بنیاد دینِ مبیں پر پڑی‘ تو عطائے خدا‘ تو دعائے نبیﷺ
فکرِ اقبالؒ ‘ و قائدؒ کے صدقے ملی‘ تیرا اصغر پرےؔ جائے وارے ترے
خواجہ محمداصغر پرے

*****

 
10
April

بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی تعصب کی آگ

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

1971ء کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔بنگلہ دیش آج کی دنیا کی حقیقت ہے ۔ پاکستان نے بہت جلد بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تھا اور دونوں ممالک نے مختلف معاہدوں پر بھی رضامندی سے دستخط کئے تھے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے نہ ختم ہونے والے الزامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرلی ہے۔ خاص کر موجودہ بنگلہ دیشی حکومت گزشتہ تمام حکمرانوں پر بازی لے گئی ہے۔


مارچ کے پہلے ہفتے میں حکومت بنگلہ دیش نے پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پیش کی جو بلا مخالفت منظور ہوگئی۔ اس قرارداد میں25 مارچ کا دن ’’یومِ نسل کشی‘‘ کے طور پر منانے کی منظوری دی گئی۔یہ دن 25 مارچ 1971 کے دن کی یاد میں منایا جائے گا جب بقول حکومتِ بنگلہ دیش افواجِ پاکستان نے آپریشن سرچ لائٹ کے تحت بنگالیوں کا قتل عام کیا اور بلاامتیاز بنگالیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔


25مارچ کو افواجِ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کی حقیقت کیا ہے۔ بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے لگایا گیا یہ الزام کہ تین لاکھ نہتے بنگالیوں کا قتل عام کیا گیا۔ کیا واقعی یہ حقیقت ہے یا فسانہ۔۔۔ ان سب سوالات کے جوابات کے لئے بہتر ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ اور غیر جذباتی تحقیق کی جائے اور پوری دیانتداری سے گزرے ہوئے حالات کا جائزہ لیا جائے۔

Genocide
یا نسل کشی کا مطلب ایک منظم سازش کے تحت کسی گروہ یا قوم کی پوری نسل کو ختم کردیناہے۔ اس گروہ کی بنیاد نسلی یا مذہبی ہو سکتی ہے۔ جن کو بے دریغ اور بلاتفریق صرف ایک خاص گروہ سے تعلق کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اُتار دیاجائے تاکہ اس گروہ کا خاتمہ ہو سکے۔ 90 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد سربیا اور کروشیا نے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ بنگلہ دیش میں یہ خیال 1990 کی دہائی کے بعد زیادہ شدو مد سے اُبھرا۔


اب جبکہ تین لاکھ بنگالیوں کے نام نہاد قتل عام کی یاد میںیومِ نسل کشی منانے کا اعلان کیاگیا ہے بذاتِ خود ناقابلِ یقین ہے۔ یہ تین لاکھ کی تعداد کا حوالہ بنگلہ دیش کے سابق صدر مجیب الرحمن کے ڈیوڈفراسٹ کو دیئے گئے انٹر ویو میں استعمال کیا گیا تھا جو آج کے بنگلہ دیش میں آسمانی صحیفے کے طور پر بار ہا استعمال کیا جاتا ہے۔ روزنامہ ہندو نے بھی حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں یہ تعداد 26,000 ہے۔ کلکتہ سے تعلق رکھنے والی شرمیلا بوس
نے اپنی کتاب
Dead Reckoning:Memories Of 1971
میں تیکنیکی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق یہ یک طرفہ تصویر ہے۔ کیونکہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ اس طرح ہوا ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں کہاں گئیں۔ انہوں نے تین لاکھ کی تعداد کو ایک جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں کسی سطح پر ثابت نہ ہوسکیں اور نہ ہی کسی سرکاری رپورٹ میں اس تعداد کا حوالہ یا ثبوت موجود ہے۔ خاص کر ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے کے بارے میں شدید تحفظات موجود ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا سے بھی اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ڈاکٹر سجاد حسین جو کہ ڈھاکہ یونیورسٹی اور راج شاہی یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر تھے انہوں نے اپنی یادداشتیں
The Wastes of Time
کے نام سے شائع کرائی ہیں۔ انہوں نے یہ واضح نشاندہی کی ہے کہ اس وقت ڈھاکہ یونیورسٹی میں تاریکی اور سائے کا راج تھا۔ اساتذہ کے آفس اور کلاس روم مکتی باہنی کے کیمپ میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں مسلح تربیت اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے ٹارچر سیل قائم کئے گئے تھے۔ جہاں تک تدریسی سٹاف کا قتل اورطلباء سے جھڑپ اور قتل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر شرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ان تمام واقعات کی کوئی تفصیل نہیں ملتی بلکہ حقیقتاً جھڑپ کا آغاز بنگالی طلبہ کا غیر بنگالی طلبہ پر حملے سے ہوا تھا جس کو قابو میں لانے کے لئے پاک فوج کے دستے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ اگر ڈاکٹر سجاد حسین کی کتاب کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو معاملات، خاص کر بنگالی طلبہ کا جنون اور نفرت بہت واضح طور پر سمجھ آتے ہیں۔ بنگالی عوام کا قتلِ عام اور ملک میں انتشار کی اس پوری کہانی میں بھارت کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ بھارت کا پوری تحریک میں انتہائی اہم اور فعال رول تھا۔ اس بات کا اعادہ مختلف بھارتی لیڈران نے عوام اور ذرائع ابلاغ کے سامنے کیا ہے، جس میں مرار جی ڈیسائی‘ راہول گاندھی‘ بنگلہ دیش کے سابق سپیکر شوکت علی اور بھارتی ڈی جی ایف آئی میجر جنرل زیڈ اے خان شامل ہیں، کہ بھارت کا بنگلہ دیش تحریک میں مدد کرنے کا مقصد پاکستان توڑنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ شدید انتشار پھیلانا- عوامی رائے کو پاکستان مخالف کرنے کے لئے آسان ہدف نہتے عوام ہی بنے کیونکہ جب عوام کے جان و مال کو خطرہ ہوگا تب ہی نفرت کی آگ زیادہ بھڑکے گی اور مخالفت زیادہ پھیلے گی۔ اس انتشار کی ذمہ داری، جیسا کہ اس معاملے میں ہوا اگر پاکستان پر ڈال دی جائے تو ایسی نفرت اور انتشار پر قابو پانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔


ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتی مداخلت صرف1970 اور1971میں شروع ہوئی۔ یقیناًیہ سازش سالوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی کئی سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔1970 میں تو بھارتی حکومت کھل کر سامنے آئی تھی کئی سالوں سے اسلحے کی برآمد اور مسلح تربیت شروع ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی بھارتی جاسوسی کی نتظیم را کے افراد مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلانے کا کام شروع کر چکے تھے۔ پاکستان کو توڑنا بھارت کا اولین ہدف رہا ہے۔ کیا آج کے بنگالی اسکالر کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا اس ہدف کی تکمیل میں بھارت نے ہر ممکن حربے استعمال نہ کئے ہوں گے چاہے اس کے لئے کتنے ہی بنگالیوں کو قتل کرنا پڑا ہو یا عورتوں کی بے حرمتی کرنی پڑی ہو۔


مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں مکتی باہنی کا کردار بہت اہم ہے۔ ان کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ مکتی باہنی کی فوجی تربیت اور اسلحہ کہاں سے آیا۔ یہی نہیں مکتی باہنی کی صورت میں ایک بہت بڑی تعداد میں بھارتی فوجی لڑائی میں شامل تھے۔ مکتی باہنی وہ دہشت گرد تنظیم تھی جس نے عوام کا بے دریغ قتل عام اور لوٹ مار کی۔ خاص کر دیہاتوں اور چھوٹے قصبوں میں اور دور دراز علاقوں میں جہاں وہ بے یارومددگار تھے۔ کئی شہری علاقوں میں نہتے بنگالیوں کو پاک فوج نے بچایا۔ ڈھاکہ گزٹ کے اگست‘ دسمبر1971 کاReview کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 76,000 کی تعداد میں بنگالی مرد اور عورتوں کو مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے کارکنوں نے موت کے گھاٹ اتارا ( منیراحمد
‘(Bangla Desh Myth Exploded
سب سے اہم بات جس کی نشاندہی شرمیلابوس نے بھی کی ہے کہ مرنے والوں کی زیادہ تعداد بہاریوں یا غیر بنگالیوں کی تھی جو یقیناًپاکستان فوج کا نشانہ نہیں بنے تھے۔ بقول بنگلہ دیشی حکام کے پاک فوج بنگالیوں کا قتل عام کررہی تھی تو کیا اس تین لاکھ کی تعداد میں زیادہ تر بہاریوں یا غیر بنگالوں کی ہے جو کہ بلاشبہ مکتی باہنی کے تعصب کا شکار ہوئے۔


ایک اور اہم نکتہ جو بارہا اٹھایا جاتا ہے۔ وہ نہتے اور غیر تربیت یافتہ ہونے کا ہے۔ مکتی باہنی کے افراد نہ ہی نہتے اور نہ ہی غیر تربیت یافتہ تھے بلکہ وہ ببانگِ دہل اور مسلح جدو جہد کررہے تھے۔ آج بھی 1971 کی یادداشتوں میں مکتی باہنی کے رضاکاروں کی تربیت اور مسلح کرتے ہوئے تصاویر موجود ہیں۔ جس سے اس تنظیم کی ساخت اور مقاصد کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ اس بات کا اعادہ مجیب الرحمن نے اپنی 9 جنوری1972کی تقریر میں کیا تھا۔ انہوں نے مکتی باہنی کے چھاپہ ماروں سے ہتھیار پھینکنے کی اپیل کی مگر اس یقین دہانی کے ساتھ کہ دشمنوں کا صفایا کرنے کی ذمہ داری باضابطہ فورسز کے حوالے کردی جائے گی۔ ایک طرف تو بنگلہ دیش ایک مغالطے میں تین لاکھ افراد کے قتل کی ذمہ داری پاک فوج پر ڈال رہی ہے لیکن ان لاتعداد غیر بنگالی‘ پاکستان سے محبت کرنے والے افراد اور ان کے خاندانوں کا جس طرح قتل عام کیا گیا ان کے خون کا حساب کون دے گا جو تعصب کی بھینٹ چڑھ گئے اور جن کی قربانیوں کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ جیسا کہ مجیب الرحمن کی 9 جنوری کی تقریر سے واضح ہے کہ ملکی سطح پر باضابطہ دہشت گردی کا اعلان اور حکم دے دیا گیا تھا۔


اس تعصب اور نفرت کی آگ صرف شہروں اور سویلین علاقوں تک محدود نہ تھی بلکہ بنگالی فوجیوں نے اپنے ساتھی غیر بنگالی فوجیوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا۔ جن کی تعداد بھی تاریخ کے صفحات سے غائب کردی گئی یا وہ بھی پاک فوج کے کھاتے میں ڈال دی گئی۔


اس تمام معاملے کی ایک غیر جانبدارانہ ریسرچ کی ضرورت ہے لیکن ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے47 سالوں میں بنگلہ دیش میں یہ معاملہ قوم پرستی پر مبنی دیومالائی بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان اور اس کی حمایت میں بات کرنا ایک جرم بنا دیا گیا ہے۔ خاص کر جب حال ہی میں پاکستان سے محبت کے جرم میں سیاسی لیڈران کو تختہ دار تک پر چڑھا دیا گیا۔ جب کہ ان کا جرم بھی ثابت نہ ہو سکا تھا۔ آج بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ کی حکومت ایک جمہوری آمریت کی مثال ہے۔ وہاں حکومت مخالف بڑی سیاسی جماعتیں خاص کر بی این پی اور جماعت اسلامی جن مقدمات میں الجھی ہوئی ہیں اُن میں سے زیادہ تر کا تعلق1971 کے واقعات سے ہے ایسے وقت میں یہ جماعتیں اپنی بقا کی جدو جہد میں ہیں اور خود کو زیادہ محب وطن ثابت کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ لہٰذا ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی دہشت گردی کی فضا قائم ہو‘ پاکستان پر جمع کی ہوئی قرار داد کی مخالفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کے باوجود 350 کے ایوان میں 56 اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔


موجودہ حکومت پاکستان مخالفت پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہے پاکستان مخالف اقدامات کرکے بھارت سے زیادہ تعلقات بڑھائے جارہے ہیں۔ تاکہ نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی فوائد بھی حاصل کئے جاسکیں۔ یہ ایک الگ عنوان ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات آگے جاکر کن کن مسائل اور پیچیدگیوں کا شکار ہونے جارہے ہیں۔بلکہ فی الوقت شیخ حسینہ اپنے آئندہ ماہ اپریل میں شروع ہونے والے دورے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔


بھارت اور بنگلہ دیش کا ایک مشترکہ مقصد یقیناًنہ صرف پاکستان کو دنیا بھر کے سامنے ایک
rogue
ریاست کے طور پر پیش کرنا ہے بلکہ ساتھ ہی پاک فوج کو ناتجربہ کار اور غیر پیشہ ورانہ ادارہ ثابت کرنا بھی ہے۔
موجودہ بنگلہ دیشی حکومت نفرت کا ایک ایسا جال بُن رہی ہیں جس میں آہستہ آہستہ پوری قوم پھنستی جارہی ہے۔ یہ قوم پرستی جس کی بنیاد پر اُنہوں نے پاکستان سے علیحدگی کی اسی طرح کی نفرت ہی کے بل بوتے پر پروان چڑھتی ہے۔ متعصب قوم پرستی کی ایک صاف مثال جرمن قوم اور ہٹلر کی ہے۔ جو اپنے تعصب اور قوم پرستی میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ یہ قوم پرستی دوسری قوموں سے برتری اور انتقام کی صورت اختیار کرگئی کہ جرمن کو تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ حسینہ کا طرزِ حکومت اور ان کی بنگالی قوم پرستی اور نفرت اس ملک و قوم کو کہیں اس نہج پر نہ لے جائے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ بچے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
اساتذہ کے آفس اور کلاس روم مکتی باہنی کے کیمپ میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں مسلح تربیت اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے ٹارچر سیل قائم کئے گئے تھے۔ جہاں تک تدریسی سٹاف کا قتل اورطلباء سے جھڑپ اور قتل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر شرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ان تمام واقعات کی کوئی تفصیل نہیں ملتی بلکہ حقیقتاً جھڑپ کا آغاز بنگالی طلبہ کا غیر بنگالی طلبہ پر حملے سے ہوا تھا جس کو قابو میں لانے کے لئے پاک فوج کے دستے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے

*****

ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتی مداخلت صرف1970 اور1971میں شروع ہوئی۔ یقیناًیہ سازش سالوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی کئی سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔1970 میں تو بھارتی حکومت کھل کر سامنے آئی تھی کئی سالوں سے اسلحے کی برآمد اور مسلح تربیت شروع ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی بھارتی جاسوسی کی نتظیم را کے افراد مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلانے کا کام شروع کر چکے تھے۔

*****

 
10
February

مودی کے بھارت میں مفلسی کا راج

تحریر: عبد الستار اعوان

گزشتہ دنوں عالمی میڈیا پر ایک خبر گردش کرتی رہی کہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں ایک غریب شخص کو اپنی بیوی کی لاش اٹھا کر 10 کلو میٹر تک طویل سفرکرنا پڑا کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے پیسے نہ ہونے کے باعث اسے ایمبو لنس فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ریاست اڑیسہ کے علاقے کالا ہانڈی کا رہائشی دہارا ماجھی ٹی بی کی بیماری کے باعث بیوی کو سرکاری ہسپتال لے کر گیا جہاں ایک ہفتہ زیر علاج رہنے کے بعد وہ چل بسی، دہارا ماجھی نے ہسپتال انتظامیہ سے بیوی کی لاش گاؤں تک منتقل کرنے کے لئے ایمبولنس فراہم کرنے کی درخواست کی جسے رقم نہ ہونے کے باعث مسترد کردیاگیا۔انتظامیہ کی جانب سے ایمبولنس فراہم نہ کئے جانے پر دھارا ماجھی نے بیوی کی لاش کو ایک چادر میں لپیٹ کر کندھے پر اٹھایا اور60 کلومیٹر دوراپنے گاؤں کی طرف چل پڑا۔ تقریباً دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہاں کی مقامی انتظامیہ نے مذکورہ شخص کی مدد کرتے ہوئے اسے ایمبولینس فراہم کی۔اس دلخراش واقعے کی ویڈیو اور تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد پور ی دنیا میں بھارتی حکمرانوں پر شدید تنقید کی گئی ۔انہی دنوں ایک اور خبر آئی کہ بھارت میں ایک خاتون کھلاڑی نے غربت کے باعث خود کشی کرلی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط میں پوجا کا کہنا تھا کہ وہ غربت اور ہاسٹل کی فیس نہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کر رہی ہے۔ پوجا نے اپنی خود کشی کی وجہ کالج کے ایک پروفیسر کو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے مجھے ہاسٹل میں کمرہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ روز اپنے گھر سے کالج آیا کرو۔ پوجا نے لکھا کہ وہ اتنازیادہ کرایہ برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے والد ایک غریب سبزی فروش ہیں۔ بیس سالہ ہینڈ بال کھلاڑی پوجا پٹیالہ کے گورنمنٹ خالصہ کالج میں زیر تعلیم تھی اور اس کا شمار قومی سطح کے کھلاڑیوں میں ہوتاتھا۔

modikbarat.jpgقارئین ! ایسے الم ناک اوردلخراش واقعات اس ریاست میں آئے روز پیش آتے ہیں جو ہر سال اپنے دفاعی بجٹ میں بے تحاشااضافہ کرتی ہے اور دن رات اس پر جدید اسلحے کی خریداری کا بھوت سوار رہتا ہے ۔ جس وقت میں یہ خبریں پڑ ھ رہا تھا میرے ذہن میں اچانک مودی جی کا ایک بیان گردش کرنے لگا ،ایک موقع پر انہوں نے کہاتھا کہ:’’ پاکستان کو بھارت سے سیکھنا چاہئے کہ غربت اور پسماندگی سے کیسے نبرد آزماہوا جا تا ہے ‘‘۔ ایک عام آدمی مودی جی کا یہ بیان سن کر حیرت زدہ رہ جاتاہے اوروہ سوچتاہے کہ شاید انہیں اپنے ملک میں پھیلی غربت اورا فلاس کا علم نہیں یاپھر جان بوجھ کر حقائق سے آنکھیں چرانا ان کی عادت سی بن گئی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں بھی غربت پائی جاتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے زیادہ بھارت میں لوگ خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے زیادہ غربت بھارت میں ہے ۔ایک مؤقر انگریزی جریدے نے غربت سے متعلق اپنی رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا جہاں غریب طبقے کی آمدنی میں قدرے اضافہ ہورہا ہے جبکہ بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا گیا جہاں اس طبقے کی آمدنی اوسط سے بھی کم رفتار سے بڑھ رہی ہے ۔ جریدے کاکہنا ہے کہ اکیس فیصد بھارتی شہری عالمی بینک کے مقرر کردہ خطِ غربت، یومیہ 1.9 امریکی ڈالر فی کس آمدنی پر، یا اس سے نیچے، زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ پاکستان میں اس کی شرح صرف آٹھ فیصد ہے۔


ایک اور جائزے کے مطابق 26کے قریب غریب ترین افریقی ممالک میں سب سے زیادہ غریب ملک بھارت کو قرار دیا گیا ۔ اوکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو
(Oxford Poverty and Human Development Initiative)
نے اپنی ایک رپورٹ میں غربت کے حوالے سے بھارت کو پسماندہ ریاست دکھا یا ہے ۔ غربت کی پیمائش کے لئے مرتب کی گئی اس رپورٹ میں صحت ، تعلیم ، پینے کے صاف پانی تک رسائی اور بجلی کی دستیابی جیسے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ بھارت ایک پسماندہ ملک ہے۔ آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو کی ڈائریکٹر سبینا الکائرے
(Sahina ALKirey)

کہتی ہیں کہ دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی غریب براعظم افریقہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ جب ہم افریقہ کے 26 غریب ترین ملکوں سے بھارت کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں بھی لوگ اتنے ہی زیادہ غریب اور محرومی کا شکار ہیں جتنا کہ افریقہ میں ‘بلکہ بھارت میں غربت کی شدت افریقی ممالک سے کہیں زیادہ ہے اور یہ پہلو بہت چونکادینے والا اور توجہ طلب ہے۔
جدید اسلحے ، مذہبی تنگ نظری اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کی دوڑمیں شامل بھارت جیسے ملک میں پسماندگی، مفلسی اور غربت کااندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب بھارتی شہر اورنگزیب آباد اور مہاراشٹروغیرہ میں بڑھتی ہوئی غربت کے باعث مخیر حضرات کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت غریب افراد کے لئے ’’روٹی بینک‘‘ کھلنے لگے ہیں جہاں سے غریبوں کو مفت روٹی ملتی ہے۔ایسا اس لئے ہے کہ ریاست اپنے ا ن شہریوں کی بنیاد ی ترین ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ۔
ایک بھارتی جریدے نے لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام
UNDP
(یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام ) کے وضع کردہ پیمانے کے مطابق بھارت کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ عا لمی اداروں نے انسانی ترقی کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے اور غربت کے حوالے سے اعداد و شمار بھارتی حکومت کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ یو این ڈی پی کے مطابق بھارتی ریاستوں گجرات، یوپی، مغربی بنگال اور آسام کے دیہی علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔بھارت میں اقوام متحدہ کے اس ادارے کی کنٹری ڈائریکٹر نے بھارت کے قومی ادارہ برائے دیہی ترقیات کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوں تو بھارت مجموعی طور پر غربت میں کمی کے اپنے ہدف کو پورا کرنے میں لگا ہے لیکن دیہی علاقوں میں غربت و افلاس کئی شکلوں میں نظر آتا ہے، کاشتکاری کے شعبے میں حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور دیہی لوگوں کے لئے روزگار و معاشی ترقی کے مواقع توقع کے مطابق بہتر نہیں ہورہے۔


انہوں نے بھارتی حکمرانوں کے مسلمانوں سے متعلق متعصبانہ اور شدت پسندانہ رویوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں تک مذہبی بنیادوں پر غربت کا سوال ہے تو بھارت میں مسلمانوں میں یہ شرح سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں غربت کی یہ شرح آسام، اتر پردیش، مغربی بنگال اور گجرات کے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل سال 2015ء میں بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن نے بھی د عویٰ کیا تھا کہ ملک میں غریبوں کی modikbarat1.jpgتعداد میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے لیکن شہری علاقوں میں تناسب کے لحاظ سے مسلمانوں میں بدستور غربت بڑھ رہی ہے۔سروے میں مذہب کی بنیاد پر بھی معلومات یکجا کی گئی تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں مسلمان آبادی سب سے زیادہ غریب ، پسماندہ اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے ۔ نوبل انعام یافتہ اور معروف معاشی دانشور امرت سین نے نئی دہلی میں منعقد ایک پروگرام جو حکومت کی طرف سے غربا کو نقد رقم تقسیم کرنے کے منصوبے پر تھا‘کے موقع پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پیسے دینے کی یہ سکیمیں غریبوں کو غذا فراہم کرنے کے حق میں کبھی بہتر نہیں ہو سکتیں جب تک کہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس پالیسی مرتب نہ کی جائے ۔
یونی سیف
(United Nations International Children's Emergency Fund)
بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والا ایک معروف عالمی ادارہ ہے ۔ اس نے
``Children in Urban World``
کے عنوان سے جاری کر دہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ شہری علاقوں میں رہنے والے غریب بچوں کی حالت دیہی علاقوں کے بچوں سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے۔ یونی سیف نے بھارت کے بڑے شہروں میں نہایت غریب افراد پر مشتمل تقریباً پچاس ہزار گندی بستیوں کے متعلق اپنے سروے میں بتایا کہ ان بستیوں میں ہر تین میں سے ایک شخص یا توگندے نالے یا پھر ریلوے لائن کے پاس رہتا ہے جبکہ ان گندی بستیوں اور ان کے آس پاس رہنے والے بچوں کی حالت گاؤں کے بچوں سے بھی بہت بری ہے اور ان بچوں کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں ہو پاتی۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر گندی بستیاں ریاست مہاراشٹر، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور گجرات میں ہیں۔بھارت میں بڑھتی غربت اور غریب بچوں کی حالتِ زار پر توجہ دلاتے ہوئے ممبئی کے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسزکے سربراہ ڈاکٹر پرسو رام کا کہنا ہے کہ بھارت میں غربت کے سبب کم عمر بچوں کی اموات زیادہ ہوتی ہیں ۔ڈاکٹر پرسو رام کے مطابق بھارت میں تیزی سے پھیلتی ہوئی غربت سے سب سے زیادہ دلت اور مسلمانوں کے بچے متاثر ہورہے ہیں۔


قارئین ! مندرجہ بالا سطور میں ہم نے مستند عالمی اور بھارتی اداروں اور ماہرین کی چند ہوشربا رپورٹس اور تازہ خبروں کی روشنی میں نریندر مودی کے بھارت میں غربت،افلاس ، تنگدستی، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی اور پسماندگی کا ایک مختصر سا جائزہ لیا ہے، ہمارے خیال سے ان اداروں کی رپورٹس اور جائزوں کویکسر مسترد کرنا قرین انصاف نہیں ہوگا ۔ ان رپورٹس کی بابت جب پڑوسی ملک کے چند صحافیوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں پھیلی غربت اورمفلسی کے حوالے سے انہیں کافی قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس عنوان پرابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پور ی ریاست میں پسماندگی کی صورتحال اس سے بھی بری ہے،بالخصوص دیہات اور دو ر دراز کے علاقوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں۔یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ یہ حالت ایک ایسے ملک کی ہے جس کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مضبوط ترین جمہوری ، فوجی، معاشی اور اقتصادی ریاست ہے اور اگر کسی ملک نے غربت اور پسماندگی سے نبرد آزماہونا ہے تو وہ بھارت کو رول ماڈل قرار دیتے ہوئے اور اس سے کچھ سیکھ کر ان چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے ۔


بہر کیف پڑوسی ملک کی مودی سرکار اوراس کے ساتھیوں کو چاہئے کہ اپنے بھاری بھر کم فوجی بجٹ اور دہشت گرد ہندو تنظیموں کو نوازنے کے لئے مختص رقم میں سے کچھ حصہ غریبوں کی روٹی اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے بھی نکالیں۔اپنے ملک سے دہشت گرد اور تنگ نظر ہندو تنظیموں کو ختم کرکے صحت ، روزگار اور تعلیم کے معاملات پرتوجہ دینے کے ساتھ ساتھ نفرت آمیز رویوں کا خاتمہ کرکے اقلیتوں اور غریبوں کو جینے کا حق دیجئے وگرنہ زمینی حقائق یہ بتارہے ہیں کہ اگر تختِ دلی نے ان اہم بنیادی انسانی مسائل کی جانب توجہ نہ دی تو اس کی یہ مجرمانہ غفلت اس کے گلے کاپھندا بن جائے گی اور حکمرانوں کے انسانیت دشمن اور مسلم، عیسائی ، سکھ دشمن اقدامات آخر ایک دن بھارتی وجود کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔ یوں اس ریاست کے لئے اپنی بقاکی جنگ لڑنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter