08
November

پاکستان کی اندرونی دفاعی لائن کو بھی مضبوط کیجئے

تحریر: محمود شام

ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غربت، بے روزگاری، اخلاقیات و آداب کی پامالی، حکمران طبقوں کی بد دیانتی، زندگی کی معقول سہولتیں نہ ہونے کے سبب مایوسی بڑھ رہی ہے۔ جس سے نفسیاتی امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ سیاستدانوں کی آپس کی چپلقش اور ٹاک شوز میں بے ہنگم شور و غل اوربے نتیجہ بحثوں کی وجہ سے عام شہری اور خاص طور پر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت زیادہ افسردہ ہوجاتے ہیں۔ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں اُمید کی خوشبو‘ روشن مستقبل کی نوید اور ملکی کامیابیوں کی بشارت صرف فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات سے آتی ہے۔ ہر پاکستانی فوج کی طرف دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔


بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کے خلاف جو پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں۔ جس طرح کے بیانات دئیے جارہے ہیں یہ خلاف توقع نہیں ہیں کیونکہ نریندر مودی کی پرورش جس مسلمان دشمن اور ہندو عصبیت کے ماحول میں ہوئی ہے۔اس کے نتیجے میں اسی قسم کا متعصب، انسانیت سے متصادم اور امن و سلامتی کا قاتل کردار ہی تیار ہونا چاہئے تھا۔ میں نے نریندر مودی کے خاندان‘بچپن‘ لڑکپن‘ پنڈتوں‘ سنیاسیوں کے ساتھ گزرے لمحات کے بارے میں کتابیں پڑھی ہیں۔ اس بھیانک ماضی سے اسی قسم کی لڑاکااور شدت پسند پروڈکٹ بننے کی اُمید کی جاسکتی تھی۔ تعجب ہوتا اگر ان غاروں‘ جنگلوں‘ کچی بستیوں اور گندگی بھرے محلوں سے کوئی اچھی اقدار والا انسان برآمد ہوتا۔


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی شعبہ‘ کوئی ادارہ یا کوئی یونیورسٹی بھارت کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی۔ کیا کسی نے قبل از وقت یہ اندازہ کیا تھا کہ ایک ایسا مسلمان دشمن اور انسانیت سے نفرت کرنے والا ’’ہندوتوا‘‘ کا پر چارک بھارت کا سیاہ و سفید کا مالک بننے والا ہے۔ اس سے خطے میں کتنی وحشتیں رونما ہوں گی‘ طاقت کا توازن بگڑے گا اورانسانیت کی اعلیٰ اقدار خطرے میں پڑیں گی۔ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ کہ وہ ایسے امکانات سے عوام کو، اور متعلقہ اداروں کو با خبر بلکہ خبردار بھی کرتے رہیں۔ بھارت میں الیکشن سے بہت پہلے مودی کے بارے میں کافی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ کچھ اپنے طور پر اور کچھ بی جے پی نے خود غیر ملکی اخبار نویسوں اور مصنفوں سے لکھوائی بھی تھیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت بھارت کی طرف سے جو جارحانہ پالیسی اختیار کی جارہی ہے وہ صرف بھارتی وزیر اعظم کی ذاتی نفرتوں تک محدود ہے یا پورا بھارت اسی خود کش موڈ میں ہے۔ یہ بھی کہ اس اشتعال اور دیوانہ پن کے کیا اسباب ہیں۔

 

بھارت کی فوجی پیش قدمی کا جواب تو پاکستان کی فوج پوری طرح دے سکتی ہے۔ بھارت کے پس پردہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کی سیاسی قیادت‘ یونیورسٹیوں‘ علماء‘ تاجر تنظیموں اور صنعتی اداروں کو سرگرم ہونا ہے۔ وہ سیکٹر نامزد کرنے ہوں گے، جہاں پاکستان بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ سر فہرست دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔ قدرتی وسائل مثلاً ریکوڈک وغیرہ سے معدنیات کی دریافت اور برآمد‘ جاگیرداری اور سرداری کا خاتمہ اور زیادہ انتظامی یونٹ یعنی نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے

پاکستان کی طرف سے کامیاب ایٹمی تجربات اور بعد میں میزائلوں کے ایک لا متناہی سلسلے نے پاکستان کو باہ سے محفوظ کردیا تھا۔ اس لیے جنوبی ایشیا میں بھی اور عالمی سطح پر یہ باور کیا جارہا تھا کہ بھارت اب سرحدوں پر کسی چھیڑ چھاڑ کا متحمل نہیں ہوگا۔ لیکن بھارت کا ایک بڑا حصّہ پاکستان کو دل سے ایک الگ وحدت تسلیم نہیں کرتا۔ وہاں باقاعدہ یہ فکر پائی جاتی ہے کہ پاکستان بھارت ماتا کے جسم کو کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ اس لیے وہ ایک طرف اپنی نئی نسلوں کو مسلمانوں کے بارے میں گمراہ کن خیالات سے متاثر کرتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کو اپنے لئے ایک مستقل خطرہ قرار دیتا ہے۔ اس کے لئے مسلسل نئی نئی کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ فلمیں بنائی جاتی ہیں اور ٹی وی ڈرامہ سیریل تخلیق کئے جاتے ہیں۔


پاکستان جب باہر سے محفوظ ہوگیا۔ اس کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجا لانے کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ جنہوں نے آج سے 42سال پہلے یہ یقین کرلیا تھا کہ پاکستان بھی ایٹم بم بناسکتا ہے۔ 1998میں اس کے عملی مظاہرے سے یہ حقیقت پوری دنیا پر اجاگر ہوگئی۔ اب ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمارے سیاسی قائدین تو اس کے بعد ایسے مطمئن ہوئے کہ انہوں نے وطن کی فکر ہی ترک کردی۔ اپنے خزانے بھرنے لگے۔ پاکستان کے عوام کو جو مسائل درپیش تھے۔ بجلی کی کمی‘ پانی کی قلّت‘ بیشتر صنعتوں کا فقدان اور روزگار کے معقول مواقع نہ ملنا وہ ان سب سے بے نیاز‘ اپنے کارخانے بیرون ملک لگاتے رہے۔ اپنے کروڑوں پاؤنڈ بیرونی ملکوں میں جمع کرواتے رہے۔


لیکن دوسری طرف بھارت نے پاکستان کو باہر سے محفوظ ہونے پر پاکستان کو اندر سے غیر محفوظ کرنے کی ٹھان لی۔ جس کے لیے پاکستان میں فرقہ ورانہ تقسیم‘ لسانی تفریق اور علاقائی نا انصافی نے بہت ہی سازگار فضا تعمیر کر رکھی تھی۔ مغربی ملکوں نے وہاں کی یونیورسٹیوں اور میڈیا نے بھی پاکستان کے ایک بڑے حلقے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ بھارت کو پاکستان پر بہت سبقت حاصل ہے کیونکہ وہاں حکومت کی تبدیلی ہمیشہ انتخاب سے ہوتی ہے۔ وہاں فوج کبھی خود اقتدار پر قابض نہیں ہوتی۔ پاکستان میں بہت سی ایسی تنظیمیں، این جی اوز، سامنے آگئیں جو پاکستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار فوجی آمریت کو ٹھہراتی تھیں۔ اس طرح بھارت کو بہت آسانی سے ایسا ماحول مل گیا جس میں وہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرسکتا تھا۔ اس کے لیے افغانستان سے بھی بہت مدد مل گئی۔ افغان عوام اور مہاجرین کے لئے پاکستان کی طرف سے بہت کچھ کرنے کے باوجود افغان شہریوں میں پاکستان کے خلاف نفرتیں پیدا کی گئیں۔ اس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا بھی بہت دخل ہے مذہبی شدت پسندی کو سیاسی اسلام کہا گیا۔ لیکن ان غارت گروں کے پیچھے بھی پاکستان دشمنوں کا پراپیگنڈہ اور مالی تعاون شامل ہے۔

 

بھارت کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کیا جارہا ہے۔ بلکہ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘ کتنی سادگی معصومیت ہے۔ انڈیا کی فلمیں تو پاکستان کے سنیما گھروں میں پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں لیکن پاکستانی فلموں کو انڈیا کے سنیما گھروں میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ انڈیا کے ٹی وی چینل پاکستان کی فلمیں نہیں دکھاتے۔

جمہوریت اور آمریت کے درمیان مقابلے کا ذہنی تاثر بہت ہی منطقی‘ سیاسی‘ اور اخلاقی طور پر پھیلایا گیا۔ اس میں میڈیا‘ اینکر پرسنزاور کالم نویسوں سب کا دخل ہے۔ اس بحث میں ہم پاکستان کا تاریخی‘ عمرانی اور سماجی پس منظر بھول جاتے ہیں۔ یہاں کی مختلف وحدتوں کی سرشت اور فطرت کونظر انداز کردیتے ہیں۔ سیاسی حکمرانوں کی ناکامی اور نا اہلی کو فراموش کردیتے ہیں جب انتظامی خلا پیدا ہوتا ہے تو کسی نہ کسی طاقت ور ادارے کے لئے اس خلا کو پُر کرنا عین فطری ہوتا ہے۔ یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ 1947سے اب تک یکے بعد دیگرے بر سر اقتدار آنے والی قومی سیاسی جماعتوں نے مستحکم سیاسی جمہوری معاشرہ تعمیر نہیں کیا۔ خود ان جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ بد ترین قسم کی آمریت ہے۔ تو یہ جماعتیں ملک میں مستحکم جمہوری ماحول کیسے تخلیق کرسکتی ہیں۔ اس طرز استدلال سے میں یہ بتانے کی کوشش کررہا ہوں کہ جمہوریت اور آمریت میں یا سیاسی پارٹیوں اور فوج میں مقابلے کی تکرار نے ہمارے ہاں بھارت کو ایک جمہوری آئیڈیل کے طور پر منوایا۔ وہاں کے میڈیا کو ہم مثالی آزاد میڈیا قرار دینے لگے۔ وہاں کی عدلیہ کو مثالی انصاف گاہیں سمجھنے لگے۔ وہاں کے تعلیمی اداروں کو رول ماڈل خیال کرنے لگے۔ وہاں کی فلمی صنعت کو دُنیا کی کامیاب ترین فلم انڈسٹری ماننے لگے۔


اتنا دھواں پھیلادیا گیا‘ اتنی دُھند بکھیر دی گئی کہ ہم دُنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں غربت کی دلدل میں پھنسے کروڑوں انسانوں کو بھول گئے۔ کشمیر میں اس جمہوریت کے لگائے گئے زخموں‘ بسائے گئے قبرستانوں اور گرائی گئی لاشوں کو جمہوریت اور آمریت کی بحث میں پس پشت ڈالتے گئے۔
میں معافی چاہتا ہوں کہ یہ زخم ہرے کررہا ہوں لیکن یہ حقیقت ہے۔ انہی مباحث میں ہم نے پاکستان کو اندر سے کمزور کیاہے۔ آج کے حقائق یہ ہیں کہ پاکستان پر ہزاروں ارب کے قرضے ہیں۔ ہم ابھی ان قرضوں پر لگے سود کی قسطیں ادا کررہے ہیں۔ اصل زر ہماری آنے والی نسلیں واپس کریں گی۔ غربت کا عالم یہ ہے کہ کئی کروڑ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ کرپشن میں ہم سر فہرست ملکوں میں ہیں۔ بجلی کی قلّت کے باعث صنعتیں دوسرے ملکوں کو منتقل ہورہی ہیں۔ بڑے ڈیم بنانا ہماری ضرورت تھی اسے سیاسی مسئلہ بناکر ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ حالانکہ اربوں روپے اس کی امکانی رپورٹوں پرخرچ کئے گئے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ زوروں پر ہے۔ یہ کون لوگ تھے جو اس شدت پسندی کا شکار ہوئے۔ ہم نے اندازہ نہیں کیا ۔ شروع میں ان کی سرپرستی کی وہ اب ہماری سا لمیت کے در پے ہوگئے۔


شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن ابھی حتمی نتائج کا انتظار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی حکومتوں کو ان علاقوں میں کام کرنا چاہئے تھا۔ جہاں خود کش بمباروں کی فصلیں کاشت کی جارہی ہیں وہاں دل اور دماغ جیتنے چاہئیں تھے لیکن اس حوالے سے بہت کم کام ہورہا ہے۔
بھارت کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کیا جارہا ہے۔ بلکہ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘ کتنی سادگی معصومیت ہے۔ انڈیا کی فلمیں تو پاکستان کے سنیما گھروں میں پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں لیکن پاکستانی فلموں کو انڈیا کے سنیما گھروں میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ انڈیا کے ٹی وی چینل پاکستان کی فلمیں نہیں دکھاتے۔ اسی طرح بھارت کے فلمی اداکاراؤں کو تو ہمارے ٹی وی چینلوں پر اشتہارات میں مختلف مصنوعات فروخت کرتے دکھایا جارہا ہے، ہمارے شہروں میں بھی ان کے ہورڈنگز لگے ہوئے ہیں۔ بھارتی اداکار‘ اداکارائیں پاکستان میں مقبول کروائی جارہی ہیں لیکن بھارت کے کسی ٹی وی چینل یا کسی شہر کی دیواروں پر پاکستان کے اداکار و اداکارائیں نظر نہیں آتے ہیں ٹھیک ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن اس طرح فن یک طرفہ بھی نہیں ہوتا۔ کیا پاکستان کی سر زمین، شعر و ادب، افسانہ نویسی اور کردار نگاری کے حوالے سے بانجھ ہوگئی ہے؟کیا ہمارے ہاں حسین ماڈل لڑکے لڑکیاں نہیں ہیں؟


اس طویل تمہید کے ذریعے میں نے اپنا درد اس لیے بکھیرا ہے کہ بھارت کو ہر پہلو سے سمجھنا ضروری ہے۔ یقیناًوہاں بھی انسان بستے ہیں۔ انہیں نیست و نابود کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اللہ کاشکر ہے کہ ہم باہر سے محفوظ ہیں۔ سمجھنا یہ ہے کہ بھارت اب چھیڑ چھاڑ کررہا ہے تو اس کے سیاسی مقاصد کیا ہیں۔ کیا وہ کشمیر میں مزاحمت سے دُنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے؟ کیا وہ بڑھتی ہوئی غربت سے دنیا کی توجہ کسی اور طرف مرکوز کرنا چاہتا ہے؟ بھارت اگر فوجی جارحیت کرے گا تو کیا ہماری فوج اس کے لئے پوری طرح تیار ہے؟ ہمارے پاس جذبے کی کمی ہے نہ اسلحے کی۔ پھر ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہیں۔ آج کل کے دَور میں دُنیا کسی بھی بین الاقوامی سرحد پر کسی فوجی جھڑپ کے حق میں نہیں ہے۔ یہ بھارت بھی بخوبی جانتا ہے ۔ اس لئے پاکستان پر بھارت کا بڑے پیمانے پر فوجی حملہ اس کا مقصد ہو ہی نہیں سکتا۔


بھارت کا اصل ہدف پاکستان کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی تیز رفتار تعمیر سے روکنا ہے کیونکہ اس کی تعمیر اور اس پر تجارتی آمدورفت سے پاکستان اندر سے بھی محفوظ ہوجائے گا۔بھارت کا مقصد پاکستانی قوم کو مزید تقسیم کرنا ہے۔ ثقافتی یلغار کو جاری رکھنا ہے، پاکستان کے عوام کو یہ احساس دلانا ہے کہ باہر سے محفوظ ہونے کے باوجود آپ اندر سے غیر محفوظ ہیں۔


بھارت کی فوجی پیش قدمی کا جواب تو پاکستان کی فوج پوری طرح دے سکتی ہے۔ بھارت کے پس پردہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کی سیاسی قیادت‘ یونیورسٹیوں‘ علماء‘ تاجر تنظیموں اور صنعتی اداروں کو سرگرم ہونا ہے۔ وہ سیکٹر نامزد کرنے ہوں گے، جہاں پاکستان بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ سر فہرست دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔ قدرتی وسائل مثلاً ریکوڈک وغیرہ سے معدنیات کی دریافت اور برآمد‘ جاگیرداری اور سرداری کا خاتمہ اور زیادہ انتظامی یونٹ یعنی نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے۔
باہر سے محفوظ اور مستحکم پاکستان اسی وقت تک دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہ سکتا ہے جب تک اس کی دوسری دفاعی لائن مستحکم ہے۔ دوسری دفاعی لائن کا استحکام سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔ اس طرف جتنی توجہ ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔ زیادہ تر وہ میگا پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں جن میں بہت زیادہ فنڈز لگتے ہیں، اس سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے۔ ہمارے شہریوں کی اکثریت مایوس اور غیر مطمئن ہے اور نفسیاتی امراض بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں یعنی بلدیاتی اداروں کو اختیارات کے ساتھ اقتدار دیا جائے۔ ان کی بہترین کارکردگی شہریوں کو مطمئن کرے گی اور مایوسیوں کو بڑی حد تک ختم کرے گی۔ہر شہر، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں زندگی کو آسان بنایا جائے‘ مفت اور لازمی تعلیم‘ مفت علاج اور اچھی محفوظ سرکاری ٹرانسپورٹ بلدیاتی ادارے فراہم کریں۔


ہماری یونیورسٹیوں کو اپنے اپنے علاقوں کے خام مال‘ فصلوں‘ روایات اور میراث پر تحقیق کرنی چاہئے۔ روزگار کے وسائل پیدا کرنے کی سفارشات دینی چاہئیں۔ تاکہ مختلف علاقوں سے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ کم ہو۔ کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد پر دباؤ نہ بڑھے۔
مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کے لئے سیکورٹی اور طاقت کا استعمال دائمی نہیں ہوسکتا۔ اصل ہدف یہ ہے کہ دل اور دماغ جیت کر شدت پسندی کی طرف جانے کے رُجحانات روکے جائیں۔ سیاسی جماعتوں اور علماء کو مل کر اس ہدف کو حاصل کرنا چاہئے۔


زیادہ صوبے بناکر بہتر انتظامی وحدتیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ نا انصافی کے مواقع کم کئے جاسکتے ہیں۔
یہ تاثر دل سے نکال دینا چاہئے کہ ہم انڈیا کے مقابلے میں رقبے میں‘ آبادی میں اور فوجی طاقت میں بہت چھوٹے ہیں۔ دُنیا میں بہت چھوٹی چھوٹی قومیں بڑے ہمسایوں کے برابر زندہ ہیں اور ترقی کررہی ہیں۔ اصل طاقت اکیسویں صدی میں علم ہے‘ ٹیکنالوجی ہے، رقبہ، آبادی اور بڑی فوج نہیں ہے۔ پاکستان جس علاقے میں واقع ہے اس کی اپنی صدیوں پر محیط تاریخ ہے۔ وہ زیادہ دیر بھارت کا حصہ نہیں رہا ہے۔اس حصّے کی اپنی الگ اور خود مختار معیشت رہی ہے۔ ہم اپنے ادب‘ تاریخ‘ ثقافت اور تمدّن کا جائزہ لیں تو ہم مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے زیادہ قریب رہے ہیں۔


ہمارا محل وقوع بھارت سے کہیں بہتر اور حساس ہے۔ پاکستان میں نوجوان آبادی کا تناسب بھارت سمیت کئی ملکوں سے بہتر ہے ۔اپنے اپ کو پہچانیے۔ ترجیحات کے تعین اور اس پر برق رفتاری سے عمل کی ضرورت ہے۔پاکستان، ہماری عظیم سرزمین، صدیوں سے ایک الگ جغرافیائی وحدت ہے جسے انڈس ویلی کہا جاتا ہے۔ 5ہزار برس کی قدیم تہذیبیں ہڑپّہ، ٹیکسلا، موہنجو دڑو، اسی خطّے میں ہیں۔ 8ہزار سال پرانی تہذیب مہرگڑھ بھی اسی علاقے میں ہے۔ ہماری اپنی صدیوں پرانی شناخت ہے۔ آخری دینِ متین، اسلام، سے ہمکنار ہونے کے بعد ہماری یہ تہذیب اور زیادہ مستحکم اور مالا مال ہوگئی ہے۔ اس میں عرب ادب و ثقافت کے رنگ بھی شامل ہوگئے۔ اس لئے ہمیں اپنی تہذیب پر اپنے آپ پر مکمل اعتماد اور فخر ہونا چاہئے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

لفظ امید ہوتے ہیں


آؤ ایک بات سمجھ لیں
کہ لفظ صرف لکھنے کے نہیں ہوتے
آرائش نہیں ہوتے‘ زیبائش نہیں ہوتے
عمل کی برکتوں سے خالی
فن کی آلائش نہیں ہوتے
لفظ تو مقدس سپوت ہوتے ہیں
زمین پر زندہ وجود ہوتے ہیں
فکر و فقر کے مارے‘ حب الوطنی کے شہ پارے
آسمانوں پر نہیں‘ ہم میں موجود ہوتے ہیں
لفظ امید ہوتے ہیں
وطن کی فصیل ہوتے ہیں
لفظ کی حرمت کی قسم
آؤ کے تن بیچ دیں۔ من بیچ دیں
ایستادہ صلیبوں پر جسم بیچ دیں۔ جاں بیچ دیں
کہ میرے وطن پر کڑا وقت آن پڑا ہے
آؤ کہ سب غرض کی آلائشوں کے انبار
کہیں دور جا کے دفن کر آئیں
اپنی خلوتوں کی آسائشوں اور جسم کی آسانیوں کو
وطن کی خاک وخوں کر آئیں۔ وطن کے نام کر آئیں
آؤ قربان ہو جائیں
کہ میرے وطن پر کڑا وقت آن پڑا ہے

طاہر محمود

*****

 
10
October

Indo-U.S. Logistics Agreement and its Implications

Written By: Taj M. Khattak

LEMOA would lay a framework which would enable India and U.S. to reciprocally share military logistics which would greatly help in furthering their staying power over extended distances. Besides, LEMOA, they have also inked Communications Interoperability and Security Memorandum Agreement (CISMOA) and Basic Exchange and Co-operation Agreement (BECA) for geo-spatial co-operation. CISMOA would allow India an access into U.S.’ proprietary encrypted communications equipment and systems for secure communications with Indian naval, ground and air assets. BECA meanwhile would facilitate geo-spatial co-operation and allow sharing sensitive data to assist targeting and navigation.

*****

In the words of Secretary Carter, these ‘three fundamental agreements’ will guide U.S.’ high technology co-operation with India. He has also referred to it as ‘an anchor of global security’. The U.S. hasn’t done too well to improve global security wherever else it dropped its anchor in recent times like in Afghanistan, Iraq, Somalia and Yemen to name a few places. The regional countries therefore see this development as yet another move for expansionist designs and hegemony considering that India ranks number two globally in procurement of arms. For the foreseeable future, these and other Indo-U.S. accords are likely to stay as a constant in regional politics and warrant robust policy responses to counter their impact and reach.

*****

India and U.S. have recently signed a Logistics Exchange Memorandum of Agreement (LEMOA) which could have far reaching implications for the region in the prevailing environments of their strategic relationship. It was first proposed by Washington in 2004 but resisted by the Congress-led United Progressive Alliance (UPA) government for reasons of being too intrusive, compromising country’s ‘non-aligned stance’ in international arena and irking neighboring China and Russia.


The proposal was fast-tracked after Prime Minister Modi came into power and the ensuing bonhomie between the two leaders – Modi has met Obama seven times in last three years, on one forum or the other, and Obama has visited India twice in his eight years of presidency – a first for any U.S. President. In their joint strategic vision in 2015, the two leaders envisaged their countries as important drivers for broad-based regional prosperity and global growth. They agreed to build a partnership to support increased connectivity for sustainable and inclusive development as well as poverty alleviation. The agreement calls for deeper co-operation between two militaries through sharing of each other’s logistic support bases, with no provisions of stationing troops yet, but there is obviously more than what meets the eye.

 

LEMOA would lay a framework which would enable India and U.S. to reciprocally share military logistics which would greatly help in furthering their staying power over extended distances. Besides, LEMOA, they have also inked Communications Interoperability and Security Memorandum Agreement (CISMOA) and Basic Exchange and Co-operation Agreement (BECA) for geo-spatial co-operation. CISMOA would allow India an access into U.S.’ proprietary encrypted communications equipment and systems for secure communications with Indian naval, ground and air assets. BECA meanwhile would facilitate geo-spatial co-operation and allow sharing sensitive data to assist targeting and navigation.


Unlike the Cold War era alignments, these agreements are specific – for U.S. it is against China and for India against Pakistan. It is not clear how this will affect India’s strategic nuclear submarines program which is strongly and irrevocably tethered to Russian nuclear industry. Under an ‘Information Exchange’ accord, a team of U.S. Navy officials recently visited Cochin shipyard where India’s first indigenous aircraft carrier (IAC-1) is under construction and the project was facing technical difficulties. LEMOA will further boost that initiative.

 

indouslogic.jpg

Under a new maritime security dialogue, which addresses cross-cutting security and foreign policy issues, India and U.S. have concluded a ‘White Shipping Agreement’ (WSA), ostensibly to improve maritime domain awareness but in plain words it will allow India and U.S. to exchange information about ships in their respective waters. It has been agreed to classify ships into three categories, i.e., white (commercial), grey (naval) and black (illegal vessels). The Indian Navy’s Information Management and Analysis Centre (IMAC) at Gurgaon would act as the nodal center for WSA related activities. Whether or not, joint U.S.-Indian Navy patrols in Indian Ocean and South China Sea (SCS), which are presently being resisted by India, materialize in the future remains to be seen.

 

India is already violating the spirit of United Nations Convention on the Law of the Sea (UNCLOS) by requiring 24 hours prior notice for ships carrying hazardous and dangerous cargos like oil, chemicals, noxious liquids, and radio-active material to enter its Exclusive Economic Zone (EEZ). In other words it is endeavoring to ‘territorialize’ its EEZ when UNCLOS only grants sovereignty over living and non-living resources on or under the seabed but below surface of water. Since both India and U.S. see global terrorism through their own foggy prisms, WSA will give added impetus to this abuse of internationally recognized principle of right of innocent passage in oceans of the world.

 

India, a non-claimant and extra-regional actor, has grossly overstated its interest when it sent a naval task force for an extended deployment into SCS, including joint participation with other non-claimant Japan and U.S. Navy in ‘Exercise Malabar’ off Okinawa. U.S. has wooed regional claimant Vietnam by lifting lethal weapons sale restrictions to exert further pressure on China.

The agreement pledges safeguarding maritime security and ensuring freedom of navigation and over-flights throughout the region including South China Sea (SCS). It emphasis on enhancing energy transmission, free trade, people-to-people contact and development of infrastructure and connectivity linking South, South East, and Central Asia, The two sides called upon all parties to avoid threat or use of force and pursue resolution of territorial and maritime disputes through peaceful means in accordance with universally recognized principles of international law, including the UNCLOS.


The SCS reference is unambiguously pointed towards China which has laid historic claims to Spratly and Paracels islands. For China, the facilities on Fiery Cross Reef in middle of the sea is crucial as it serves the purpose of an ‘unsinkable aircraft carrier’, as it were, for protection of its energy lifeline and seaborne trade comprising raw material and finished products from its major industrial centers heading for or emerging from Malacca Straits. Shanghai alone handles the highest volume of global trade valued at U.S. $ 2 trillion annually. This protection becomes critical since out of the two entry/exit points in Indian Ocean, the one at Straits of Hormuz in Persian Gulf is controlled since 1995 by the U.S. through its Fifth Fleet in Bahrain and the other, Malacca Straits, by India through its tri-services Andaman and Nicobar Command (ANC) at Port Blair.


The SCS territorial dispute dates back to 1887 when France (as colonial power) and China signed ‘China-Vietnam Boundary Accord’ which recognized China as rightful owner of Paracels and Spratlys islands. After World War II, when former President Harry Truman extended U.S. control of continental shelf to unspecified limits, claiming all natural resources and other South American nations extended their claim to 200 nautical miles; China also re-asserted its claim to these islands and produced its now famous 9-dash map.

 

In their joint vision, Obama and Modi also pledged common commitment to Universal Declaration of Human Rights (UDHR). This would be funny, were it not a serious matter. Secretary Kerry recently forgot to counsel his hosts in New Delhi against perpetuating worst form of state sponsored terrorism in Kashmir but President Obama remembered human rights in Laos which created much furor and reflected just how much even its close allies are frustrated with U.S. duplicity.

Beijing’s historic claim is now being challenged by the U.S. through conducting what it calls ‘freedom of navigation’ operations’ (FONOP) in SCS. Recently, after a large scale Chinese presence in SCS which included aircraft carrier, modern ships and submarines, the U.S. conducted its FONOP-3 which also constituted an aircraft carrier, modern ships and submarines. The FONOP-3 has now been followed by a joint exercise by Russian and Chinese Navies. The U.S. naval maneuvers are clearly intimidation tactics as there is nothing in Permanent Court of Arbitration’s award on SCS which supports a mandatory congressional assessment negating China’s sovereign claim and justify military action if it contemplated one.


India, a non-claimant and extra-regional actor, has grossly overstated its interest when it sent a naval task force for an extended deployment into SCS, including joint participation with other non-claimant Japan and U.S. Navy in ‘Exercise Malabar’ off Okinawa. U.S. has wooed regional claimant Vietnam by lifting lethal weapons sale restrictions to exert further pressure on China.


Whether or not, joint U.S.-Indian Navy patrols in Indian Ocean and South China Sea, which are presently being resisted by India, materialize in the future remains to be seen. But LEMOA will help such deployments which are violations of reasonable principles of geo-political moderation which heighten regional tensions when need of the hour is to demilitarize and diffuse the situation through diplomacy. Interestingly, USA has not ratified UNCLOS even though it has no maritime territorial dispute with any country but rarely misses an opportunity to call upon others to resolve disputes in accordance with this law.


In their joint vision, Obama and Modi also pledged common commitment to Universal Declaration of Human Rights (UDHR). This would be funny, were it not a serious matter. Secretary Kerry recently forgot to counsel his hosts in New Delhi against perpetuating worst form of state sponsored terrorism in Kashmir but President Obama remembered human rights in Laos which created much furor and reflected just how much even its close allies are frustrated with U.S. duplicity.


In the words of Secretary Carter, these ‘three fundamental agreements’ will guide U.S.’ high technology co-operation with India. He has also referred to it as ‘an anchor of global security’. The U.S. hasn’t done too well to improve global security wherever else it dropped its anchor in recent times like in Afghanistan, Iraq, Somalia and Yemen to name a few places. The regional countries therefore see this development as yet another move for expansionist designs and hegemony considering that India ranks number two globally in procurement of arms. For the foreseeable future, these and other Indo-U.S. accords are likely to stay as a constant in regional politics and warrant robust policy responses to counter their impact and reach.


The Indo-U.S. nuclear deal has already affected delicate strategic stability in the region, which, in tandem with U.S. support for India’s membership of Nuclear Suppliers Group (NSG) and UNO, could be further exacerbated by LEMOA. For some corrections in the strategic imbalance in the short term perspective, it would make sense to move close to our all weather friend China. However, with burgeoning Indo-China trade, it is quite likely that Sino-Indian geo-economics imperative may over shadow Sino-Pak geo-strategic and geo-political considerations. This, despite CPEC, could constrain China from embracing Pakistan any tighter than we would wish and might come sooner than we anticipate.


Before that tipping point reaches, we need to address our known internal shortcomings and re-set our national compass to weather the storms in the turbulent times ahead.

 

The writer is a retired Vice Admiral of Pakistan Navy.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

افغانستان موجودہ حالات کے تناظر میں

تحریر: عقیل یوسف زئی

افغانستان کی سیکورٹی کے متعلق حالات نے غیرمتوقع طور پر بہت خطرناک شکل اختیار کر لی ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ یہ شورش زدہ ملک ایک بار پھر بدترین بدامنی کا شکار ہونے والا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کے نصف سے زائد صوبوں (تقریباً 18) میں طالبان نے ماہ اکتوبر کے دوران حملے کئے۔ جس کے نتیجے میں فریقین کے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور حالات اتنے خراب ہونے لگے ہیں کہ ایک حالیہ اجلاس کے دوران نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈروں نے افغان حکومت کو تجویز پیش کی کہ اگر ان کی فورسز طالبان کی پیش قدمی روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں تو عالمی فورسز کو پھر سے مختلف صوبوں میں طلب کیا جائے۔ ایک اور ذرائع کے مطابق نیٹو کے سربراہ نے اپنے ہیڈکوارٹر کو لکھے گئے ایک خط یا رپورٹ میں حالات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر طالبان کی حالیہ پیش قدمی جاری رہی تو ملک پھر سے انارکی کی لپیٹ میں چلا جائے گا اور انٹرنیشنل فورسز کو پھر سے میدان میں اترنا پڑے گا۔ مذکورہ مراسلے میں نیٹو حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں کوئی مؤثر قدم اُٹھائیں۔ امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن کے کابل میں واقع دفتر کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف معتبر امریکی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مارچ سے اگست تک کے چار پانچ مہینوں کے دوران افغانستان میں ناقابل یقین حد تک ریکارڈ اموات ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق ان چند مہینوں کے اندر افغان فورسز، پولیس اور طالبان کے درمیان دو طرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں 4000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 7000سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ سال 2001 کے بعد جاری جنگ کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں قرار دی جا رہی ہیں۔ چار مختلف مواقع پر پولیس نے طالبان کے گروپوں کے سامنے ہتھیار بھی ڈالے ہیں۔

 

afghanmojoda.jpg

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ نے ایک حالیہ اجلاس کے دوران صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے بین السطور میں یہ بتانے کی کوشش بھی کی کہ انٹرنیشنل فورسز کی تعداد یا مراکز کم کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حملوں اور قبضوں کی تعداد میں اضافہ اس معاہدے کے بعد دیکھنے میں ملا جو کہ حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان طے پایا ہے۔ حملوں ہی کا نتیجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے حزب اسلامی کو متعدد مراعات دینے اور اخراجات کے لئے 40لاکھ ڈالرز کے مطالبے کی 10لاکھ کی پہلی قسط ادا کرنے کے باوجود پارٹی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کابل آنے سے گریزاں ہیں اور ان کے آنے میں تاخیر کی بنیادی وجہ سیکورٹی سے متعلق وہ خدشات ہیں جن سے کابل جیسا مرکزی شہر بھی محفوظ یا مبرا نہیں ہے۔ اگرچہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کا قطر دفتر پھر سے فعال ہونے لگا ہے اور طالبان افغان حکومت کے نمائندوں کی بعض اہم ملاقاتوں کی خبریں بھی زیرگردش ہیں مگر کارروائیاں پھر سے کم یا ختم نہیں ہو پا رہیں۔

 

اور ایک درجن سے زائد صوبے بدامنی اور حملوں کی زد میں ہیں۔ قطر پر اسس کے بارے میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں ملاعمر کے بھائی ملا عبدالمنان اور افغان انٹیلی جنس کے سربراہ معصوم ستانکزی کی بھی ملاقات ہوئی ہے۔ ان ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فریقین نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور یہ کہ اس ملاقات میں ایک امریکی نمائندہ بھی موجود تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ امن لانے کی ایک بڑی مگر آخری کوشش ہے اور اگر یہ ناکام ہوئی تو جنگ کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ یہ بات انتہائی خطرناک ہے کہ اس دوران افغانستان بدترین بدامنی اور دوطرفہ حملوں اور کارروائیوں کی زد میں رہا جبکہ طالبان نے سال 2015 اور 2016 کے دوران پہلی بار اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر نہ صرف یہ کہ تین صوبوں کے کئی اہم شہر اور علاقوں پر قبضہ کیا بلکہ بیک وقت ایک درجن سے زائد صوبوں میں کارروائیاں بھی کیں اور مختلف صوبوں میں ان کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس اور وزارت داخلہ کی تفصیلات کے مطابق ان حملوں میں اس وقت شدت آ گئی جب افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان مفاہمتی فارمولے کے تحت معاہدہ ہوا اور یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ گلبدین حکمت یار چند روز میں کابل پہنچنے والے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران طالبان نے جن صوبوں میں موثر کارروائیاں کیں ان میں فراہ، پکیتا، خوست، ننگرہار، غزنی، بغلان، بادغیس، پنچ شیر، قندوز خازیاں، ہلمند اور متعدد دیگر صوبے شامل ہیں۔ طالبان نے عرصہ دراز کے بعد پہلی دفعہ پنج شیر پر بھی حملے کئے۔ حالانکہ یہ وہ صوبہ رہا ہے جہاں مثالی امن رہا۔ اور حالت یہ رہی کہ یہاں نیٹو یا امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ دوسری طرف طالبان نے ترکمانستان کی سرحد پر واقع صوبہ یعنی بادغیس میں گزشتہ دنوں کے دوران اتنے حملے کئے کہ افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان آمدورفت اور اشیا کی ترسیل کا سلسلہ بھی روک دیا گیا۔

 

امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن کے کابل میں واقع دفتر کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف معتبر امریکی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مارچ سے اگست تک کے چار پانچ مہینوں کے دوران افغانستان میں ناقابل یقین حد تک ریکارڈ اموات ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق ان چند مہینوں کے اندر افغان فورسز، پولیس اور طالبان کے درمیان دو طرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں 4000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 7000سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

اور ترکمانستان نے سرحد پر اپنی فورسز کی تعداد بھی بڑھائی۔ بادغیس ہی میں درجنوں پولیس اہلکاروں نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور کئی چیک پوسٹیں رضاکارانہ طور پر ان کے حوالے کیں۔ یہی صورت حال ایک اور صوبے قندوز میں بھی دیکھنے کو ملی۔ جہاں پر مرکزی شہر کے علاوہ نصف سے زائد اضلاع پر عملاً طالبان قابض ہو چکے ہیں اور صوبائی دارالحکومت کے متعدد علاقے بھی ان کے قبضے میں ہیں ۔قندوز کے حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ اتحادی افواج کے سربراہ جنرل جان نکسن نے اتوار کے روز افغان فورسز کے چیف جنرل عبداﷲ جبسبی کے ساتھ قندوز کا دورہ کیا اور صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ قندوز چند ماہ قبل بھی تقریباً 10روز تک طالبان کے قبضے میں رہا تھا۔ قندوز، بادغیس، فراہ اور پنج شیر جیسے اہم اور سرحدی صوبوں میں طالبان کی کامیاب کارروائیوں نے افغان فورسز کے علاوہ تاجکستان اور ترکمانستان جیسے پڑوسی ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایرانی سرحد کے ساتھ واقع اہم صوبہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہا ۔ اس صوبے کے متعدد علاقے بھی طالبان کے قبضے میں چلے گئے ہیں اور یہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ ننگرہار بھی داعش اور طالبان کے مسلسل حملوں اور فورسز کی جوابی کارروائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ اس صورت حال کا اگر تجزیہ کیا جائے تو افغانستان کے تقریباً تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں پر طالبان کی سرگرمیاں اور کارروائیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دوسری طرف وزارت داخلہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران افغان اور اتحادی فورسز نے 68بڑے آپریشن کئے جس کے نتیجے میں 1895طالبان اور داعش جنگجو مارے گئے جبکہ 3000زخمی ہوئے۔ دفاعی ماہرین طالبان کی حالیہ کارروائیوں کو بڑی تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق افغانستان سمیت متعدد دیگر ممالک میں جاری بدامنی اور بعض عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والی شورشوں نے دنیا کے امن اور مستقبل کے بارے میں نہ صرف متعدد سوالات پیدا کئے ہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کو تشویش میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سال 2015-16 کے دوران عالمی دہشت گردی کے واقعات میں جہاں ایک طرف 30فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

 

ایرانی سرحد کے ساتھ واقع اہم صوبہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہا ۔ اس صوبے کے متعدد علاقے بھی طالبان کے قبضے میں چلے گئے ہیں اور یہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ ننگرہار بھی داعش اور طالبان کے مسلسل حملوں اور فورسز کی جوابی کارروائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ اس صورت حال کا اگر تجزیہ کیا جائے تو افغانستان کے تقریباً تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں پر طالبان کی سرگرمیاں اور کارروائیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔

 

عالمی طاقتیں باہمی دشمنیاں نبھانے کے لئے کمزور اور پسماندہ اقوام ممالک کو بے دردی کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں جبکہ دنیا کی سیاست اور معیشت کا رخ موڑنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اس ڈرٹی گیم میں پورا حصہ ڈالتی آ رہی ہیں۔ ہمارے خطے میں جاری جنگ کی شدت میں کمی تو آئی ہے مگر یہ ختم نہیں ہوئی۔

وہاں دنیا کے تقریباً 20ممالک مسلسل حملوں کی زد میں رہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اب بھی یہ ہے کہ اہم اور متاثرہ ریاستوں کی سطح پر ان عوامل اور اسباب کے خاتمے کے لئے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے جس کے باعث عالمی اور علاقائی امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ عالمی طاقتیں باہمی دشمنیاں نبھانے کے لئے کمزور اور پسماندہ اقوام ممالک کو بے دردی کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں جبکہ دنیا کی سیاست اور معیشت کا رخ موڑنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اس ڈرٹی گیم میں پورا حصہ ڈالتی آ رہی ہیں۔ ہمارے خطے میں جاری جنگ کی شدت میں کمی تو آئی ہے مگر یہ ختم نہیں ہوئی۔ آثار بتا رہے ہیں کہ ہم ایک بار پھر انٹرنیشنل پراکسی وارز کی سیریز کا نشانہ بننے والے ہیں۔ کیونکہ ہماری جغرافیائی اہمیت خطے میں بڑی طاقتوں کی موجودگی اور خطے میں قدرتی وسائل کے لامحدود ذخائر وہ عوامل اور ذرائع ہیں جن کے باعث ہماری اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض عالمی کردار اور ان کے سپانسرز اس کوشش میں ہیں کہ عدم استحکام کی صورت حال کو قائم رکھ کر ان لامحدود وسائل پر ان کے قبضے کے امکانات کو کسی نہ کسی صورت میں یقینی بنایا جائے۔ متعدد عالمی سروے بتاتے ہیں کہ پاکستان کے فاٹا، پختونخوا اور بلوچستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 6سے 8 ٹریلین ڈالرز کے ناقابل یقین قدرتی وسائل کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کے قدرتی ذخائر کا حجم بھی تقریباً اتنا ہی بتایا جاتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے چھپے خزانوں کا تخمینہ 10ٹریلین ڈالرز بھی لگایا جائے تو یہ اس جانب اشارہ ہے کہ یہ دنیا کا امیرترین خطہ ہے۔ دوسری طرف یہی حالت وسطی ایشیائی ریاستوں کی بھی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے کے ساتھ عالمی معیشت کا نہ صرف مستقبل وابستہ ہے بلکہ عالمی معیشت کے ٹھیکیدار یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہاں امن ہو اور یہ ممالک ان ذخائر سے فائدہ اٹھا کر دنیا کی توجہ کا مرکز بننے کے علاوہ لیڈنگ رول نبھانے کے قابل ہو جائیں۔خطے میں روس، امریکہ، چین اور ہندوستان جیسے اہم ممالک کی موجودگی بھی امن اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بادی النظر میں دکھائی یہ دے رہا ہے کہ اس تناظر میں بھی افغانستان کی صورت حال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس صورت حال نے پاکستان کے لئے بھی خطرات بڑھا دیئے ہیں اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ پاک افواج افغانستان کے ساتھ بارڈر میکنزم کو مکمل فعال بنانے میں بہت سنجیدہ دکھائی دیتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وطن کا ناز


عسکر پاک، دنیا میں، عجب اک آن رکھتی ہے
یہ اعلیٰ ظرف رکھتی ہے، یہ اونچی شان رکھتی ہے
یہ سب افواج عالم سے الگ پہچان رکھتی ہے
ہر اک ساعت یہ باندھے جنگ کا سامان رکھتی ہے
کہ شاعر اور نغمہ خواں اسے رخشندہ کہتے ہیں
یہ مہروماہ سے روشن اسے تابندہ کہتے ہیں
وطن کا ناز ہے یہ قوم کی آنکھوں کا تارا ہے
یہ ارض پاک کے ہر فرد کا مخلص سہارا ہے
جہاں مشکل گھڑی میں دیس نے اس کو پکارا ہے
وہاں لبیک حاضر ہوں فقط اس کا یہ نعرہ ہے
اسے دیکھو میدانِ جنگ میں کیسے یہ لڑتی ہے
یہ پوچھو جا کے دشمن سے گلا کیسے پکڑتی ہے
سبھی کو عزم و ہمت کا کٹھن رستا دکھایا ہے
وفا کا درس، غیرت کا سبق اس نے پڑھایا ہے
امن میں جنگ میں ہر کام کا بِیڑا اٹھایا ہے
یہ وہ چھکا ہے جس نے ہار سے سب کو بچایا ہے

 

نائب صوبیدار ریاض عاقب کوہلر

*****

 
10
October

How India Can Make Peace in Kashmir?

Written By: Ahmed Quraishi

The current Kashmir crisis has shattered every myth the world has come to know and believe about the oldest pending conflict since the Second World War. It is proven now that India does not control Kashmir and has a tenuous control at best over the state it invaded in 1947 and later illegally annexed. The world is no longer silent and ignorant about Indian human rights violations. The unarmed Kashmiris did and can break the siege and force the world to see what India wants to hide. And the United Nations can intervene and force a solution despite Indian non-cooperation.


The seven million Kashmiris of Kashmir Valley have effectively unsettled the world's second largest standing army. Today, Kashmir is the world's biggest peaceful civil disobedience movement to end a military occupation. The irony is that India, which produced Gandhi, a symbol of peaceful civil disobedience against British rule, is today a repressive and violent military occupier, in many ways far worse than the British colonizers. (The Indian army is accused of using rape as a tool of war in Kashmir, according to human rights organizations, and the government in New Delhi is quick to create laws that protect Indian soldiers involved in gang rapes and other war crimes.)

 

 

howindiacanmake.jpgIndia cannot defeat freedom in Kashmir any more than Britain could defeat the Indian quest for freedom seventy years ago.


India has failed to pacify Kashmir in seven decades and, short of an outright military-led genocide, cannot continue to forcibly maintain the status quo.


The Indian mismanagement of Kashmir conflict and the latest crisis betrays a high level of political and military immaturity in New Delhi that belies India's claim to big-power status. What's worse, the continued Indian mismanagement and wrong policy choices promise to destabilize a highly militarized region and entangle world powers already busy in Syria and other conflicts.


India has failed to resolve Kashmir issue and is unable or unwilling to act responsibly to end the conflict. An international intervention has become inevitable.

 

It is time that India offloads its Kashmir Burden and rids itself and the region of the source of incessant conflict for the past 69 years. The ruling elite in New Delhi should listen to Indian voices of reason that believe India should let the Kashmiris go.

The UN Has Spoken
The September 13 statement of UN High Commissioner for Human Rights Zeid Ra'ad Al-Hussein ends more than half-century of international silence on Kashmir conflict. It is a landmark development that settles the Indian claim over Kashmir being Indian territory (it is not, the High Commissioner has referred to Indian-administered Kashmir), and opens the door to international diplomacy to resolve the conflict.


In brief, the top international bureaucrat overseeing the global humanitarian system linked India to the use of excessive force in Kashmir reminded New Delhi that his office awaits Indian invitation to a UN fact-finding mission to Srinagar to meet victims, and declared that Kashmir requires an impartial international probe into the role of Indian army in the disputed region.


These were the High Commissioner's exact words:
“Two months ago, I requested the agreement of the Governments of India and Pakistan to invite teams from my Office to visit both sides of the line of control: in other words the Indian-administered Jammu and Kashmir and Pakistan-administered Kashmir. We had previously received reports, and still continue to do so, claiming the Indian authorities had used force excessively against the civilian population under its administration. We furthermore received conflicting narratives from the two sides as to the cause for the confrontations and the reported large numbers of people killed and wounded. I believe an independent, impartial and international mission is now needed crucially and that it should be given free and complete access to establish an objective assessment of the claims made by the two sides. I received last Friday a letter from the Government of Pakistan formally inviting an OHCHR team to the Pakistani side of the line of control, but in tandem with a mission to the Indian side. I have yet to receive a formal letter from the Government of India. I therefore request here and publicly, from the two Governments, access that is unconditional to both sides of the line of control.”

 

howindiacanmake1.jpgThis UN statement brought Kashmir back to international limelight after decades of neglect, alerted the community of international human rights activists and defenders to the urgency in Kashmir, put world powers on notice, and most importantly marked the failure of Indian diplomacy to convince the world of its position on Kashmir conflict.


The UN High Commissioner for Human Rights was delivering a policy statement at the start of the 33rd session of Human Rights Council at Geneva. This also was the first statement at the beginning of the second decade of the Council. Besides Kashmir, the statement dealt with Syria, Crimea, and other international conflicts.


The Indian response to the UN High Commissioner was immature, shocking and irresponsible, considering that it comes from a country that wants world-power status and thinks it should have a permanent seat in UN Security Council. Ajit Kumar, the Indian permanent representative at the Human Rights Council, made a confusing and disjointed statement. Kashmir belongs to India, he said, then went on to protest why the UN High Commissioner used the term ‘Indian-administered Kashmir’. He tried to win international sympathy by playing the Largest-Democracy Card (LDC), claiming that the Indian occupation setup in Kashmir was democratically elected.

 

India cannot defeat the idea of freedom. Countries more powerful than New Delhi have tried and failed in the past. Kashmir never was and will never be part of India. There is so much bad blood now between Kashmiris and Indians, especially after July 8, that coexistence does not seem possible.

Considering the fast-deteriorating situation between Pakistan and India because of the killings of the civilian population in Kashmir at the hands of the Indian army, diplomats, journalists and rights defenders expected a wiser response from India.


Indian Compulsions
Logically speaking, India has every reason to resolve Kashmir at this stage. New Delhi should have welcomed the opportunity of intervention by UN Human Rights Council. The High Commissioner gave Indian government a face-saving exit from a crisis that is getting out of Indian hands, if it has not already. Prime Minister Modi is facing Indian army commanders every day who tell him to pull out their soldiers from crowd-management assignments in Indian-occupied Kashmir. Indian generals tell Modi it is not their job to act as a riot police, and that the only solution they can offer at this stage is to start opening fire on every group of Kashmiri civilians peacefully protesting against Indian rule.


There is another stronger reason why India should accept a UN intervention after the September 13 statement of UN High Commissioner for Human Rights. After the attack on an Indian occupation army camp at Uri, near the temporary ceasefire line known as Line of Control, some Indian army commanders reportedly want to offset their failure in taming Kashmir by encouraging New Delhi to start a war against Pakistan. They have two ready pretexts: one is the Uri attack; and second is Modi government's ready-made charge that the massive civil disobedience movement and uprising in Kashmir is ‘orchestrated’ by Pakistan.


The UN High Commissioner's statement can save India from the warmongers in the government, like Ajit Doval, the national security advisor, and from some in the military who want to push India to an all-out war to cover up for failures in Kashmir. They also hope that war would end the Kashmir freedom movement and help India to subjugate Kashmiris for several more decades.


Kashmir entangles five of the nine known nuclear powers in the world – Pakistan, India and China directly, and United States, Russia indirectly. When India threatened war, Moscow sent Russian Army contingent to Islamabad for scheduled military exercises, turning down Modi's request to cancel the exercises.


Why Prime Minister Modi would not take the chance offered by the UN High Commissioner to extricate himself and his demoralized army from the Kashmir quagmire is anybody’s guess.


Kashmir Damages India's International Standing
With the UN breaking its silence on Kashmir (aside from the statement by UN High Commissioner for Human Rights, the UN Secretary-General has twice issued statements on Kashmir since July), the international media is disparaging India on Kashmir. New Delhi has not experienced this level of bad press in decades. Gains made by spending hundreds of millions of dollars on image-enhancing advertising campaigns, like ‘Incredible India’ and ‘Made in India’, could wipe out because of tensions and instability.


The American magazine, Quartz, boldly singled out Ajit Doval, the militant Indian national security advisor, for criticism for the tensions in the region in its September 18 report titled, ‘Doval Doctrine: Narendra Modi’s aggressive stand on Pakistan might make India more vulnerable to terror.’


The Guardian and Al-Jazeera have boldly covered Indian Army's attacks and killings of the civilian population in Kashmir with blunt headlines such as, ‘India is blinding young Kashmiri protesters – and no one will face justice,’ published by The Guardian on July 18.


The New York Times Editorial Board has written twice on Kashmir in two months. On both occasions, the paper has come down hard on India, going even to the extent of calling key allies of Modi's ruling party as ‘irresponsible’ for warmongering.


Within India itself, voices of dissent are growing. Few Indians are interested in Kashmir outside the Hindi Belt, the minority Hindi-speaking regions of North India that dominate the government and army in New Delhi. Many non-Hindi speaking Indians, who are in majority, feel Kashmir is a matter of ego for North Indian Hindi-speaking rulers. The Hindi-speaking ruling elite often gets derided for fixation on Kashmir and Pakistan, and is giving little attention to serious issues of health, poverty and social development that plague India.


Kashmir has cost India dearly. Wars and tensions related to this conflict have played a role in stopping India from winning support for a permanent seat in UN Security Council and membership in the Nuclear Suppliers Group.


India's Kashmir Burden
It is time that India offloads its Kashmir burden and rids itself and the region of the source of incessant conflict for the past 69 years. The ruling elite in New Delhi should listen to Indian voices of reason that believe India should let the Kashmiris go.


India cannot defeat the idea of freedom. Countries more powerful than New Delhi have tried and failed in the past. Kashmir never was and will never be part of India. There is so much bad blood now between Kashmiris and Indians, especially after July 8, that coexistence does not seem possible.


Any well wisher of India would ultimately give the same advice: India should heed the call of UN High Commissioner for Human Rights, allow a fact-finding mission to visit the victims in Kashmir. This will help start a process of healing in Kashmir and the region. The next steps could include withdrawal of the Indian army from the region. At a later stage, Pakistan could join India and the UN in finding a political solution, which could end in some form of a referendum supervised by the United Nations for Indian Occupied Kashmir and Azad Kashmir to decide their fate in accordance with UNSC resolutions.


This process will be arduous and will require the sustained commitment of India, Pakistan and the UN, but it is possible. Anything less than this will probably not be acceptable to the Kashmiris and the cycle of deaths and war could continue.


With the door to diplomacy opened by the United Nations, India should get on the right side of history and make things right for itself, for Kashmir, and for peace in the region and the world.

 

The author is a writer, journalist, researcher. He works on Kashmir for YFK-International Kashmir Lobby Group.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter