09
January

ہندوستان میں مسلمانوں کا بدترین استحصال

تحریر: عبد الستار اعوان


اب تک گئو رکھشکوں کے حملوں کے جتنے بھی واقعات پیش آئے ہیں ان کی تحقیقات کا آغاز ایسے نکتے سے کیاجاتا ہے جس سے ملزموں کے بچ نکلنے کی راہیں کھل جاتی ہیں ۔کسی مسلمان کے قتل کو جنونی ہندوئوں کی کارستانی قرار دینے کے بجائے اسے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کا نام دیاجاتا ہے اور ظاہر ہے ہجوم کے نام پر اس طرح کی کارروائی سے کسی کو بھی سزا دلانے میں مدد نہیں مل سکتی ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس ریاستی آشیر باد سے قاتل صاف بچ نکلتے ہیں ۔

بین الاقومی شہرت یافتہ ہندوستانی صحافی اور ادیب خوشونت سنگھ کی کتاب 'دی اینڈ آف انڈیا
(The End of India)
کو ہندوستان میں متنازعہ قرار دیاجاچکاہے کیونکہ انہوں نے اس کتاب میںہندوستانی حکمرانوں ،اداروں اور جنونی ہندوئوں کی تنگ نظری ، تعصب اورپُرتشدد رویوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ انہوںنے بی جے پی کے متعلق لکھا کہ یہ اپنی ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ سے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ اپنا فسطائی ایجنڈ ا چھپانے کے لئے جمہوریت کو استعمال کر تی ہے اور اس کے راہنمائوں کے ہاتھ انسانی خون سے آلود ہ ہیں۔خوشونت سنگھ نے ان خیالات کا اظہار بہت عرصہ پہلے کیا تھا اورآج ان کے اس نظریے کی تصدیق ایک بار پھر ہو رہی ہے کہ ہندوستان کی معروف سیاسی جماعت کانگریس کے راہنما راہول گاندھی نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کے سامنے ہندوستانی حکمرانوں کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ 12ستمبر2017ء کو یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور نریندر مودی انتشار کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں ،ہندوستان میں 'گئو رکھشا'کے نام پر مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی ہے۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں مودی حکومت کی سرپرستی میں کہیں دلتوں کو مارا پیٹا جاتا ہے تو کہیں مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، یہ مودی حکومت کی طرف سے ہندوستان میں نئی چیز ہے جس سے ملک مسلسل خطرات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نفرت اورگروہ بندی کی سیاست میں لاکھوں لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اب ہندوستان میں ان کا کوئی مستقبل نہیں۔


اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں پرجن مختلف حیلے بہانوں سے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان میں ایک اہم ترین 'گئو رکھشا'کاایشو ہے جس کی وجہ سے ہندوستانی مسلمان طویل عرصے سے خوف ،تشدد اور دہشت کی فضا میں زندگی بسر کرنے پر مجبورہیں ۔'گئورکھشا 'کے نام پر مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کا اندازہ صرف اسی ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کانگریس کے راہول گاندھی بھی اس پر خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے ۔' گئو رکھشا' کے نام پر ہندوستان میں جس انداز سے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اس کا تصورہی لرزا دیتا ہے ۔ ہندی زبان میں ''گئو''گائے کو کہتے ہیں اور ''رکھشا''کے معنی ہیں تحفظ 'یعنی گائے کا 'تحفظ' ہے ۔ ہندو عقیدے کے مطابق کرشن جی''خدا کا اوتار ''گائے چراتے اور پالتے تھے لہٰذا ہندو گائے کو مقدس مان کر اس کی حفاظت کرتے ہیںاور اسے ذبح کرنے سے روکتے ہیں۔ہندوستان کی تمام ریاستوں میں گئو رکھشا جیسی متشدد مہم جار ی ہے اور مسلمانوں پر ہونے والے یہ مظالم ہندوستانی میڈیا میں بھی جگہ نہیں لے پاتے کیونکہ انہیں حکومت سے جڑے اپنے کاروباری مفادات زیادہ عزیز ہیں۔
گزشتہ چند ماہ سے گئو رکھشا مہم میں تیزی آئی ہے، تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں اورہندوستانی مسلمانوں میں شدید بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو ا ہے ۔ گئو رکھشا کے حوالے سے ایک ہندوستانی صحافی نے بتایا کہ یہ مظالم کسی مخصوص خطے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں سالہاسال جاری رہتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک سیکڑوں مسلمان ان واقعات میں شہید یا زخمی ہو چکے ہیں لیکن ریاستی اداروں نے ہندو انتہاپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ بجرنگ دَل، وشوا ہندو پریشد،ا ر ایس ایس اور اسی طرح کی دیگر انتہا پسند تنظیمیں ان واقعات میںملوث ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ان واقعات میں کمی بھی آجاتی ہے لیکن کچھ وقفے سے یہ پورا سال ہی جاری رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں تقریبا ً دو درجن کے قریب ایسے واقعات رونماہو چکے ہیں،ایک تازہ واقعے میں دو نوجوانوںکو گائو کشی کے الزام میں ہندوشرپسندوں نے اس وقت حملہ کر کے قتل کر ڈالاجب وہ گائے کی کھال اتار رہے تھے 'بعد میں پتہ چلا کہ مقتولین نے گائے کو ذبح نہیں کیا تھا بلکہ مردہ گائے کی کھال اتار رہے تھے اور وہ بے گناہ تھے۔


گزشتہ دنوں ہندوستانی شہر اورنگ آباد میں اس ظلم کے خلاف ہزار وں مسلمان سڑکوں پر آگئے جن کی قیادت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اوررکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کر رہے تھے ۔ میڈیا کے مطابق اس احتجاج میں پچاس ہزار سے زائد افراد شامل تھے جنہوں نے گائو رکھشا مہم کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔اس موقع پر اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ آئے روز گئو رکھشا کا ڈھونگ رچا کر مسلمانوںکو قتل کیا جاتا ہے اور ان واقعات کی ویڈیو ز گھر گھر پہنچتی ہیں لیکن نریندرمودی پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گئو رکھشا کے نام پر جتنی بھی شدت پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں ان کے خلاف مودی عملی اقدامات نہیں اٹھاتے۔ دوسری جانب مہاراشٹرا ،جھاڑکھنڈ، ہریانہ میںگائے ذبح کرنے کے خلاف سخت قوانین بنائے گئے ہیں تو اس سے مودی اور ان کی حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر کسی کی ماں قتل ہوتی ہے تو اسے ایک سال کی بھی سزا نہیں ہوتی لیکن اگر کہیں گائے ذبح ہو جاتی ہے تو اس پر سات سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی بین الاقوامی میڈیا میں بہت زیادہ رپورٹنگ ہورہی ہے اورا س طرح ہم دنیا کوکوئی اچھا پیغام نہیں دے رہے ۔

hindustanmainmuslim1.jpg


روزنامہ نئی دنیا ہندوستان کا مؤقر قومی جریدہ ہے ، اس نے اپنی حالیہ اشاعت میں بتایا کہ ہر سال عید الاضحی کے موقع پر ملک بھر میں یہ اعلانات ہوتے ہیں کہ مسلمان عید احتیاط کے ساتھ منائیں اور گائے کی قربانی سے پرہیز کریں۔ذبیحہ کے حوالے سے سب سے زیادہ وہ ریاستیں متاثر ہیں جن میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ دوسری طرف اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے وزرات کا منصب سنبھالتے ہی مسلمانوں پر مختلف قسم کی قد غنیں لگانا شروع کر رکھی ہیں۔ہندوستان میں درجن بھر ریاستیں ایسی ہیں جہاں گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی ہے اور سخت قوانین بنائے گئے ہیں،ان میں ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ ، اترکھنڈ ، اتر پردیش، راجھستان ، گجرات ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اور مقبوضہ جموں و کشمیر وغیرہ سرفہرست ہیںجبکہ آٹھ کے قریب ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر جزوی پابندی ہے ۔ گئو رکھشکوں کی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے پیش نظر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت
(AIMMM)
نے علامیہ جاری کیا ہے کہ جن علاقوں میں گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے وہاں مسلمان گائے ذبح نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے لئے مسائل پید ا ہو ں گے اور ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں لیکن دوسری جانب حالت یہ ہے کہ معاملہ صرف یہ نہیں کہ گائے کی قربانی اور ذبیحہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں بلکہ کسی بھی جانور کے گوشت کو گائے کا گوشت ثابت کر کے بھی مسلمانوں کو پھنسایا جاسکتا ہے اور ایسے لاتعداد و اقعات رونما ہو چکے ہیں۔ بعض ریاستوں میں جانور وں کی خریدو فروخت کے حوالے سے بھی مسلمان ریاستی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ بالخصوص عید کے دنوں میں جانوروں کی خریدو فروخت کے معاملے میں مسلمانوں پر زیادہ پابندیاں لگا دی جاتی ہیںاور انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مختلف پا بندیوں کاسامنا رہتا ہے۔


ہندوستانی حکمرانوں اور اداروں کی ہٹ دھرمی دیکھئے کہ جب مسلمان گائے ذبیحہ پر پابند ی کے قانون پر پوری طرح عمل کرتے ہیںتو پھر بھی انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیاجاتا ۔ جیسا کہ حال ہی میں عیدالاضحی کے موقع پر ہندوستانی ریاست جھاڑ کھنڈ سے خبر آئی کہ انتظامیہ نے پچاس کے قریب ایسے اونٹ اپنے قبضے میں لے لئے جو مقامی مسلمان قربانی کی غرض سے لائے تھے ۔ایسے واقعات کے بعد مسلمانوں میں غم وغصہ اور اشتعال پھیلنافطری امر ہے ۔ اسی طرح لکھنؤ میں بھی مقامی حکومت نے فیصلہ کیا کہ گائے اور اونٹ کی قربانی بھی نہیں کر نے دی جائے گی اور سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی گئی کہ اونٹ کی خریدو فروخت کرنے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے ،ممبئی میں بھی اعلان کیا گیا کہ حکومتی اجازت نامے کے بغیر کسی بھی جانور کو ذبح نہیں کیا جا سکتا ، اگر کوئی مسلمان بکرے اور دبنے کو بھی ذبح کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے مقامی انتظامیہ سے این او سی لینا ہوگا ۔


اس ضمن میں معروف ہندوستانی صحافی غضنفر علی خاں کہتے ہیں کہ نریندر مودی نے گزشتہ دنوں تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی ، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ گئو رکھشا کے نام پر ہونے والے مظالم کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ریاستی حکومتوں کا اختیاری مسئلہ ہے ، یعنی انہوں نے مرکزی حکومت کو اس ضمن میں کلی طور پر بری الذمہ قرار دیا ہے ۔ مودی کا یہ کہناکہ گئو رکھشکوں کی زیادتیوں پر قابو پانا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی مرکزی حکومت کو ان واقعات کے لئے ذمہ دار قرار نہیں دیتے۔ یہ صحیح ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ریاستوں کا مسئلہ ہے لیکن حیرت ا س پربھی ہے کہ یہ واقعات ایسی ریاستوں میں ہو رہے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ دوسرے لفظوں میں مودی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ گئو رکھشکوں کے خلاف اگر ریاستیں کارروائی نہیں کرتیں تو اس کی ذمہ داری ان پر ہرگزعائد نہیں ہوگی۔ اس موقع پر مودی نے یہ بھی کہا کہ ''گائو ہندو دھرم میں ایک مقدس چیز ہے'' تو کیااس سے وہ مسلمانوںکو کوئی واضح پیغام دینا چاہتے ہیں اور وہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی گائے کو اسی طرح مقدس سمجھیں ...؟مودی کی یہ بات دراصل ان کے دل کی بات ہے اور ایسا کہہ کر وہ قتل و غارت گری اور متشدد عناصر کی کھلے لفظوں میں حمایت کر رہے ہیں ۔ گئو رکھشکوں کو اپنی من مانی کرنے کے لئے واضح پیغام دینے کے بجائے مودی نے مصلحت سے کام لیا اور ان کی ساری گفتگو کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ وہ گئو رکھشکوں کے لئے انتہائی نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔


پاکستان کے ایک مؤقرقومی جریدے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں عدم برداشت کے بڑھتے واقعات اور گئو رکھشا کے نام پر بے قصو ر و معصوم مسلمانوں کے قتل کا سلسلہ دراز ہو رہا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مودی حکومت نے گئو رکھشکوں کے بھیس میں موجود دہشت گردوں کومسلمانوں کو قتل کرنے کا لائسنس دے رکھا ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کسی بھی واقعے کے بعد مجرموں کے خلاف کارروائی اور حفاظتی اقدامات کے بجائے حکومت اور بی جے پی کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات جاری کئے جاتے ہیں تاکہ شرپسندعناصر کی حوصلہ افزائی ہو ۔ دستور اور قانون کی آڑ میں آر ایس ایس نے پورے ہندوستان میں اپنے کارندوں کا جال بچھا دیا ہے جہاں
Self Defence
کے نام پر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ٹریننگ دی جاتی ہے ۔ اب تک گئو رکھشکوں کے حملوں کے جتنے بھی واقعات پیش آئے ہیں ان کی تحقیقات کا آغاز ایسے نکتے سے کیاجاتا ہے جس سے ملزموں کے بچ نکلنے کی راہیں کھل جاتی ہیں ۔کسی مسلمان کے قتل کو جنونی ہندوئوں کی کارستانی قرار دینے کے بجائے اسے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کا نام دیاجاتا ہے اور ظاہر ہے ہجوم کے نام پر اس طرح کی کارروائی سے کسی کو بھی سزا دلانے میں مدد نہیں مل سکتی ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس ریاستی آشیر باد سے قاتل صاف بچ نکلتے ہیں ۔
کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ہندوستان دنیا بھر میں یہ واویلا کرتا ہے کہ وہ ایک سیکولر ریاست ہے لیکن اس ملک میں بی جے پی جیسی جماعتیںانتہائی متعصبانہ انداز سے مذہب کی سیاست کررہی ہیں اور آر ایس ایس ، وشوا ہندو پریشد اور شیو سینا جیسے متشدد گروہ اور مسلح جتھے اس''سیکولر سٹیٹ''کا سب سے بڑا تعارف ہیں۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کالم لکھتے ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

دربار میں اب سطوتِ شاہی کی علامت
درباں کا عصا ہے کہ مصنف کا قلم ہے
آوارہ ہے پھر کوہِ ندا پر جو بشارت
تمہیدِ مسَّرت ہے کہ طُولِ شبِ غم ہے
جس دھجّی کو گلیوں میں لئے پھرتے ہیں طفلاں
یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا عَلم ہے
جس نور سے ہے شہر کی دیوار دَرخشاں
یہ خونِ شہیداں ہے کہ زرخانۂ جم ہے
حلقہ کئے بیٹھے رہو اِک شمع کو یارو
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے

faiz_ahmed.jpg

فیض احمد فیض۔ غُبارِ ایام

*****

 
07
February

Kashmir Continues to Slip Away from India

Published in Hilal English

Written By: Ahmed Quraishi


Freedom icon Burhan Wani threw the first blow. Now there is no turning back.

• India can either reconcile, save its soldiers; national pride, or invite permanent instability.

• India’s Kashmir policy will invite eventual international intervention.

• India’s defeat in Kashmir is foretold; the shape of this defeat is evovling.

• Kashmiris will never be Indian. If Tamils can refuse Hindi, Kashmiri can and have refused Indian identity.

• International media has broken its silence; Kashmir gets unprecedented coverage since Wani’s murder.

• Kashmir is now part of the world’s collective memory of great freedom movements.

 

 thegrowingindo.jpgBurhan Wani is to Kashmir what Gandhi was to India: the catalyst that led to eventual freedom for an entire nation. Wani and Gandhi gave direction and certainty to freedom movements that long existed before them but never seemed definitive until these two men emerged. Gandhi lived to see freedom, but it was Wani, killed by Indian occupation army execution-style in an extrajudicial murder, who sealed Kashmir’s fate in death.

 

Make no mistake: Wani is one of those men who probably changed the course of history for his people. The protests that rocked Kashmir after his death on July 8, 2016, forced the United Nations to end its silence on Kashmir conflict, led to unprecedented international media coverage, and considerably loosened India’s grip on the strategic region.

 

There is so much that has changed in Kashmir– thanks to Wani. The latest example came just four days prior to New Year 2018 when New Delhi forced the half-million employees of its puppet-government in Kashmir to post pro-India content on social media to shore up Indian image in the valley. The order, issued in Srinagar, the capital of Kashmir, also warned government employees against posting anything ‘anti-national’; code for India-bashing. The social media gag was "an obnoxious, tyrannical and unacceptable insult to employees", Junaid Azim Mattu, spokesman for National Conference, a Kashmiri political party, said in a statement.

 

The strategic community is watching Kashmir slip out of India’s hands. The Diplomat has bluntly said that ‘Kashmir is Slipping Away from India’. The Foreign Policy magazine has published an article titled, ‘India is Losing Kashmir’, and the BBC asked: ‘Is India losing Kashmir?’ The reason the international media is discussing this is simple. It’s because India has lost Kashmir in most ways except the physical control, and that now is a matter of time.

Contact between Kashmiris living under Indian occupation with those in Pakistan and worldwide are increasing. India cannot stop these interactions, and you can be sure that Kashmiris talk about freedom when they meet. Last month, a group of Kashmiri journalists departed from New Delhi airport to a neutral country, Thailand, to meet Kashmiri journalists from Pakistan. Together, they have launched a Jammu & Kashmir Joint Media Forum, or JKJMF. This surge in communication between Kashmiris is part of Kashmir’s baby-steps toward freedom.

 

This is another of Wani’s miracles: he galvanized Kashmiris separated by borders and politics to unite again seventy years later for their joint cause. Many people forget that Kashmir is a resilient cause. Apart from the Palestinian national movement, Kashmir is the only other cause of national identity and self-determination that has survived for this long. After Kashmiris themselves, a lot of the credit for this goes to Pakistan, which has taken the voice of Kashmir internationally, and in the process of doing so has taken great risks, including Indian retaliation in the form of Indian state-sponsored terrorism inside Pakistan across the country’s western fronts, focused on KP and Balochistan. This was India’s tit-for-tat on Kashmir.

 

Basketball Girl

The political ferment inside Kashmir is impressive but you might miss it because of the filters India applies to all news coming out of the region. Take for example how Burhan Wani pushed middle class Kashmiri college girls to take up stone-pelting against Indian soldiers.

 

One particular picture of a Kashmiri girl with a basketball in one hand, carrying a backpack and throwing a stone at Indian soldiers, caught global attention. Even the Indian media could not ignore it, despite its reputation as a media prone to stick to New Delhi’s red lines on Kashmir. The picture was taken near Lal Chowk, in the heart of Srinagar, on April 24, 2017 during a massive pro-freedom rally demanding an end to the Indian rule.

 

The picture shocked India. Told for years that it was only a bunch of bearded religious extremists from Pakistan who were leading Kashmir’s anti-India movement, Indians woke up to see educated, middle class city girls who probably watch Indian and American films, play basketball and cricket, and are confident and assertive, totally rejecting India and Indian identity.

 

Indian magazine, Outlook, called this picture ‘a New Stone Age.’ It ran a special report on this picture titled ‘A Girl, A Basketball, A Stone.’ The magazine’s verdict: “Girl students pelting stones at [Indian] police in the heart of Srinagar marks a shift in the Kashmir unrest’s visual profile.”

 

Another Indian news website published a report explaining to Indian readers ‘why this picture of a schoolgirl pelting stones while holding basketball is going viral in Jammu & Kashmir.’

This change in the ‘visual profile’ of Kashmir conflict was not possible without Burhan Wani.

 

Kashmir Goes International

Another big story of post-Burhan Kashmir is the dramatic change in the way the international media covered Kashmir conflict. Gone are the days when only Pakistan-based news organizations talked about Kashmir. In fact, every week since Burhan Wani died nineteen months ago, the international media has been publishing videos, newspaper stories and pictures from Indian-occupied Kashmir, much to the angst of New Delhi. This coverage has included strongly-worded editorials in The New York Times, and news reports from the ground blasting the Indian army (example: Indian army reaches a new low in Kashmir). It was the NYT that first coined the phrase ‘an epidemic of dead eyes in Kashmir’ in its report that documented actions that could one day be designated as war crimes by India’s occupation in the valley.

 

The coverage in the British, Turkish and Qatari media has been much more extensive. Al Jazeera, the Gulf television channel has produced great creative content on Kashmir, from memes to video articles and detailed reports.

 

When India claimed in October 2016 that it had conducted ‘surgical strikes’ inside Pakistan’s Azad Kashmir, it was the Washington Post that published the best journalistic repudiation of Prime Minister Modi’s claim that his government conducted military operation inside Pakistan.

 

This dynamic international coverage of Kashmir after Burhan Wani should end the common refrain in Pakistan that ‘the world is silent’ on Kashmir freedom movement. The world is no longer silent. In fact, the world is highlighting Kashmir sometimes better than the Pakistani media does.

 

The UN Awakens

Wani’s ultimate sacrifice and the courage shown by Kashmir’s ‘basketball girls’, and by the Kashmiri youth in general, has impacted the United Nations at the highest levels.

 

In September 2016, the United Nations ended its long silence on Kashmir. UN’s top human rights official criticized India at the opening of the 33rd session of UN Human Rights Council in Geneva. The UNHRC included Kashmir in the list of conflicts that required urgent international attention, alongside issues such as Syria and Ukraine. The UN continues to do this, and the High Commissioner for Human Rights is expected to speak again on Kashmir at the March 2018 session of UNHRC.

 

“We continue to receive reports of increasing violence, civilian casualties, curfews and website blackouts in Kashmir,” said UN High Commissioner for Human Rights, Zeid Ra’ad Al-Hussein, who is a member of the Jordanian royal family in his opening statement at the start of the 35th session of UNHRC in June 2017.

 

The opening statements by the UN human rights chief highlights issues that deserve top international attention. For decades, Kashmir slipped out of the list and was forgotten. But starting in September 2016, Kashmir made a surprise return to the UN human rights agenda. Al-Hussein delivered a comprehensive speech at the start of the session, tackling issues as diverse as ISIS, Syria, Israel, Iran and Cuba. The addition of Kashmir came as a surprise. The Kashmiris succeeded in pushing their case forward, and this small step will go a long way. In fact, this moment will be remembered when the Kashmir conflict is finally resolved. 

 

UN’s top rights chief raised Kashmir in his policy statements in September 2016, March, June, and September 2017, and is now expected to do the same in March 2018.

 

The End Game

The Kashmir conflict has reached a stage where the end game is visible. The Kashmiris will achieve some form of end to the Indian military occupation, and possibly succeed in getting a UN-supervised referendum to decide their political future. But this will be an arduous road.

 

The key point is that India can no longer reverse Kashmir’s freedom. This is no longer debatable post-Wani. The freedom movement has cultivated enough critical mass for it to challenge India’s repeated claims that UNSC resolutions have ‘expired’ (UNSC resolutions do not expire; their status can only change through subsequent resolutions).

 

The strategic community is watching Kashmir slip out of India’s hands. The Diplomat has bluntly said that ‘Kashmir is Slipping Away from India’. The Foreign Policy magazine has published an article titled, ‘India is Losing Kashmir’, and the BBC asked: ‘Is India losing Kashmir?’

 

The reason the international media is discussing this is simple. It’s because India has lost Kashmir in most ways except the physical control, and that now is a matter of time.

 

Indian leaders realize they are headed toward the inevitable in Kashmir. Some Indian lawmakers, especially from non-Hindi speaking states, have called for ‘letting Kashmir go’ if that’s what the Kashmiri nation wants. Some Indian politicians have admitted that Kashmir is lost already.

 

It is a human tragedy that a minority of Indian politicians (most of them religious, Hindi-speaking, and come from the ruling state of U.P. in the north) whip up false religious and nationalistic emotions over Kashmir, where Indian army kills innocent civilians and where the Indian military suffers its worst casualties, including suicides and psychological problems as the Indian soldiers fight a losing battle.

 

India holds the key not only to peace in Kashmir but the entire region. India created Kashmir conflict by stalling and rejecting UNSC resolutions. There is no real conflict between Pakistan and India if Kashmir issue is resolved. India is a big enough country to afford the necessary concessions to resolve Kashmir, allow Kashmiris to heal their wounds, and allow Pakistan and India to enjoy the dividends of peace.

 

If India fails to do this, the region will see more instability, and a possible war, which eventually would invite international intervention. That could be humiliating for India. It is better to show leadership, vision and compassion, and resolve the conflict with the Kashmiris and Pakistan.

 

Expecting Pakistan to forget Kashmir is not an option. The physical, historical, cultural, and religious links between Pakistanis and Kashmiris make it impossible to consider this option. A comparable situation does not exist in India, where the vast majority of Indians share no affinity with Kashmiris and, more importantly, the Kashmiris overwhelmingly reject any manufactured affiliation to India.

 

Wani was an internet poster boy for the new generation of Kashmiris. He donned military fatigues for show, as a form of rebellion and rejection of military occupation. He was handsome, well-educated, and Kashmiris loved him. India arrested him alive but it miscalculated his murder as it has miscalculated everything else in Kashmir.

 

Burhan Wani has changed Kashmir forever.

 

The writer is the Executive Director of YFK-International Kashmir Lobby Group, a senior journalist and host of a current affairs TV show at a private TV channel.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it., E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
January

U.S. National Security Strategy and Pakistan: An Appraisal

Written By: Dr. Zafar Nawaz Jaspal


The Trump administration released new “National Security Strategy of the United States of America” on December 18, 2017. It provides an important window into the thinking of Trump administration’s means, ways and ends. It underlines the steady transformation in the global politics that is causing new strategic alliances or partnerships formation. The materialization of new partnerships is advantageous for a few regional actors and alarming for the smaller states, particularly in Asia. Indeed, Trump’s National Security Strategy (NSS) 2017 will not only steward the United States during the next three years, but also immensely influence the global strategic environment. Importantly, it stresses on great power competition with China, flatters India, and snubs Pakistan. The great power’s strategic competition would not only make Pakistan’s strategic environment vulnerable, but also drag it into their strategic theater. In addition, the Trump administration officials’ recent mantra that India is a reliable natural partner and Pakistan is an unreliable partner in South Asia is a critical development. Therefore, the NSS 2017 needs to be taken seriously and the document’s critical examination is imperative for chalking out a befitting coherent strategy to uphold Pakistan’s national interest.


Realistically, the NSS 2017 specifically targeted Pakistan. It claimed, “The United States continues to face threats from transnational terrorists and militants operating from within Pakistan.” Importantly, it reiterates the allegations, which were levied in the Trump Afghanistan and South Asia policy statement on August 21, 2017. He accused: “For its part, Pakistan often gives safe haven to agents of chaos, violence, and terror.” He pointed out: “We can no longer be silent about Pakistan’s safe havens for terrorist organizations, the Taliban, and other groups that pose a threat to the region and beyond. Pakistan has much to gain from partnering with our effort in Afghanistan. It has much to lose by continuing to harbor criminals and terrorists.” On December 21, 2017, during his Afghanistan visit Vice President Mike Pence also stated that “President Trump has put Pakistan on notice.” Secretaries of Defense and State and the National Security Advisor also hinted for punitive measures including stopping U.S. economic and military assistance to Pakistan. These alarming developments have germinated four important interlinked questions: What is NSS 2017? Why is the Trump administration flattering India? Could NSS 2017, President Trump’s South Asia and Afghanistan policy, and other official’s warnings serve the intellectual pretext to impose economic sanctions against Pakistan and conduct extended drone strikes on the Pakistani territory in the near future? What is Pakistan’s response? The following discussion is an attempt to explain the philosophical constructs of the NSS 2017, shift in the American policies in the changing global strategic environment, destabilizing repercussions from the promotion of India and Pakistan’s cautious response.

 

Trump administration is determined to give India a bigger role in Afghanistan. It is blaming Pakistan for its own failure in the region. The people of Pakistan are disturbed by the Trump administration’s repeated mantras of ‘do-more’; ‘placing on notice’.

The philosophical constructs of Trump’s NSS 2017 are ‘internationalism’ blended in principles of ‘realism’. It is a strategy of principled realism that is guided by outcomes, not ideology. It equates the international politics with the Hobbesian world in which sovereign states compete for advantage and militarily advantageous nations coerce the smaller/dependent partners for maximizing their gains. The procurement of modernized high-tech military hardware, therefore, is inevitable to pursue objectives in competitive geopolitical affairs. While confirming the recurrence of the era of balance of power, it echoes the realization that era of United States’ role as the ‘sole super power’ to structure and administer a ‘new world order’ is checkmated by rising China and the assertive Russian Federation. Therefore, it applauds India’s “leadership role in Indian Ocean security and throughout the broader region” to balance China in the Asian strategic setting. Secondly, the NSS document reflects the American frustration due to protracted warfare in Afghanistan, unending war on terrorism, radicalized outfits or lone wolf terrorists’ presence in the American and European societies, crises in west Asia, advancing nuclear arsenal of North Korea and Pakistan’s endeavor for a sovereign foreign policy and its shift towards Eurasian powers. Third, the document also signals Trump administrations apathetic approach towards climate change; promoting democracy and human rights, and disarmament of conventional and nuclear weapons.


The edifice of NSS 2017 document is realism. It “acknowledges the central role of power in international politics, affirms that sovereign states are the best hope for a peaceful world, and clearly defines our national interests.” In theory, realism depicts states as operating in a nasty and brutish Hobbesian world that prompts them to compete for power and influence at the expense of other nations. Sovereign states subordinate or disregard moral principles while pursuing their objectives in the anarchical international society. In such a world sovereign states maximize their gains through competition instead of cooperation. Two senior members of Trump administration, H.R. McMaster, National Security Adviser, and Gary Cohn, Director of the National Economic Council wrote in the Wall Street Journal (May 30, 2017) that the world is “an arena where nations, non-governmental actors, and businesses engage and compete for advantage.” Similar theme was spelled out in the NSS 2017. It expresses distress on the current international economic order because it is disadvantageous for the interest of America. President Trump is convinced that free-trade deals undermine the U.S. national interest and are advantageous for its adversaries. Hence, the United States has to maximize its military strength to play a decisive role in the international geopolitical affairs. This precisely why the Trump administration is inclined towards mercantilist economic philosophy.

 

Pakistan cannot be apathetic to India’s increasing military capability and its role in its Western neighborhood at the behest of the United States. Islamabad’s renunciation of Washington’s attempt to demonstrate India as a great power in South Asia is a source of annoyance for the Trump administration. Therefore, President Trump and his cohorts are accusing and reprimanding Pakistan.

The document reveals the strong leaning of the Trump administration towards internationalism. It says, “An America that is safe, prosperous, and free at home is an America with the strength, confidence, and will to lead abroad.” It also rationalizes the internationalist policy by reminding that in the absence of the American leadership in the aftermath of World War I, the world descended into World War II. “We learned the difficult lesson that when America does not lead, malign actors fill the void to the disadvantage of the United States.” The irony is that during the 2016 presidential election campaign the impression was given that Donald Trump foreign and strategic policy would be influenced by the isolationist norms. As a presidential candidate he stated: “the problems in Europe, Asia, NATO, and Syria, are for others to worry about.” The NSS 2017 document sounds different. It completely discards the isolationist approach in making the United States foreign and strategic policy. Therefore, in the current changing international politics, Washington remains assertive for its leadership to steward the like-minded states, allies and partners.


The NSS 2017 clearly reiterated to endure the United States leadership in the global politics and also identified China and the Russian Federation as strategic competitors of the United States in the twenty-first century. It underscored that: “China and Russia challenge American power, influence, and interests, attempting to erode American security and prosperity.” It added: “China and Russia are developing advanced weapons and capabilities that could threaten our critical infrastructure and our command and control architecture.” The formulation of a favorable balance of power necessitates rebuilding America’s military strength. The NSS 2017 accentuates President Trump’s promised defense spending spree. In February 2017 at MacDill Air Force Base in Florida, he admitted that American troops lacked equipment. Nevertheless, they would see “beautiful new planes and beautiful new equipment.” The NSS 2017 document says: “We will modernize our nuclear enterprise to ensure that we have the scientific, engineering, and manufacturing capabilities necessary to retain an effective and safe nuclear triad and respond to future national security threats.” It also indicated that the United States is deploying a layered missile defense system. The modernization of both conventional and nuclear weapons intensifies the security dilemma puzzle of many states, including China and the Russian Federation, which are pilloried by NSS 2017 as challengers to United States primacy in the global geopolitical affairs.


The United States, today, is aimed for promoting a balance of power that favors the United States, its allies, and its partners. Perhaps, the pursuit of global leadership through the military buildup and constituting strategic partnerships alarm other great powers. They struggle to sustain their influence in their neighborhood. The strategic opposition by other leading powers is natural. On December 19, 2017, Beijing and Moscow decried President Donald Trump’s NSS 2017 as a “Cold War mentality” with an “imperialist character”. Chinese foreign ministry spokeswoman Hua Chunying stated: “We urge the United States to stop intentionally distorting China’s strategic intentions and to abandon outdated notions such as the Cold War mentality and zero-sum game, otherwise it will only harm itself or others.” Kremlin spokesman Dmitry Peskov opined: “The imperialist character of this document is obvious, as is the refusal to renounce a unipolar world, an insistent refusal.” The Chinese and Russians response marked that Trump’s National Security Strategy disturbs both nations and thereby they adopt political, economic and military countermeasures.


The NSS 2017 document exhibits a shift in the American perceptions about the Israeli-Palestinian conflict. Previously, the Americans maintained, “Israeli-Palestinian conflict is the center of the Middle East’s (if not the world’s) troubles”. The new NSS says: “For generations the conflict between Israel and the Palestinians has been understood as the prime irritant preventing peace and prosperity in the region. Today, the threats from jihadist terrorist organizations and the threat from Iran are creating the realization that Israel is not the cause of the region’s problems. States have increasingly found common interests with Israel in confronting common threats.” The alarming variable in the shift is that the current American administration is setting aside the legitimate demand for right of self-determination of the people of Palestine. It is instead diverting the attention of the world towards jihadist terrorists and Iran. Admittedly, the Islamic State had posed a serious threat to entire region. However, currently, it is losing its influence in the Middle East and gaining influence in Afghanistan whereas the Iran issue was baselessly aggregated in the NSS. Many Americans have also expressed their serious concerns over Trump’s Iran policy. This shift in the American policy will be having serious repercussion for the South-West Asia.


The NSS reiterated Washington’s commitment to strengthen India’s military power and enhance its role in the Asian strategic setting. It says, “We welcome India’s emergence as a leading global power and stronger strategic and defense partner. We will seek to increase quadrilateral cooperation with Japan, Australia, and India.” United States, Australia and Japan constituted strategic partnership with India. Indeed, this strategic partnership is to check China’s increasing clout in the global affairs, particularly in Asia-Pacific. China’s assertiveness in South China Sea is a nuisance for United States and its South East Asian allies. Moreover, its increasing naval presence throughout the Indian Ocean irritates India that regarded India Ocean as part of its immediate sphere of influence. On July 10, 2017 the United States, Japan, and India lunched a tri-nation Malabar exercise in the Bay of Bengal. The naval exercise was aimed at achieving deeper military ties between the three nations. In the exercise, the U.S. navy’s largest nuclear-powered aircraft carrier USS Nimitz, the Indian Navy’s solitary aircraft carrier INS Vikramaditya and Japan Izumo-class helicopter carrier participated. They deployed front-line warships, submarines and aircraft as part of the maritime exercise. The U.S. Navy spokesperson stated: “As members of Indo-Asia-Pacific nations, our maritime forces are natural partners, and we look forward to continuing to strengthen our bonds and personal relationships.” Certainly, United States, Japan and India maritime forces cooperation is advantageous for their national interests, but disturbing for the other Indo-Pacific littoral states.


Since the beginning of 21st century, India and United States strategic partnership is on a positive trajectory. The strategic partnership facilitates New Delhi in the pursuit of its regional and global agenda. Washington supports unconditionally New Delhi at the international forums against Pakistan. It facilitated India’s entry into Missile Technology Control Regime in 2016 and Wassenaar Arrangement in 2017. Washington has been lobbying to make New Delhi a full member of Nuclear Suppliers Group (NSG) since May 2016. The former also endorses India’s great power ambitions in South Asia, Indian Ocean and beyond. The NSS 2017 claims: “We will expand our defense and security cooperation with India, a Major Defense Partner of the United States, and support India’s growing relationships throughout the region.” In the political context, the document pointed out, “We will deepen our strategic partnership with India and support its leadership role in the Indian Ocean security and throughout the broader region.” The United States is preparing India to play a regional leviathan role in South Asia and the Indian Ocean to keep in check the increasing influence of China in the region. The NSS promises, “We will help South Asian nations maintain their sovereignty as China increases its influence in the region.” The Americans are deliberately ignoring the fact that a politically and militarily strong India would be perilous for strategic stability in South Asia. India has already unleashed hybrid warfare against its neighboring states, including Pakistan, to pacify their demand for sovereign equality in the regional affairs. New Delhi typically operates below the threshold of conventional warfare, using a blend of military and paramilitary tools, including proxy forces/militants/separatists, cyber tools, and information operations to shape and coerce neighboring states to its advantage. Consequently, India succeeded against its small neighbors. Nevertheless, Islamabad has been resisting New Delhi’s endeavors to establish its hegemony in the region through the conventional and hybrid warfare.


Ironically, the Trump administration does not condemn India’s frequent violations of the Line of Control and butchering of innocent Kashmiris in the Indian Occupied Kashmir (IOK). Conversely, they endorse New Delhi’s claims that the Indian border forces fire at LOC to prevent infiltration of the militants and they are killing terrorists in the Indian Occupied Kashmir. In reality, Indian armed forces are killing innocent civilians on both sides of the LOC. The NSS says “U.S. interests in the region include countering terrorist threats that impact the security of the U.S. homeland and our allies, preventing cross-border terrorism that raises the prospect of military and nuclear tensions, and preventing nuclear weapons, technology, and materials from falling into the hands of terrorists.” It failed to express its concerns over the reckless behavior of the Indian ruling elite. Indian Prime Minister Narendra Modi and Air Force Chief had openly expressed their desire to conduct surgical strikes or hot pursuit against nuclear-armed Pakistan. This hawkish irrational attitude of the Indian leadership is alarming for the South Asian strategic stability. Indeed, it is an accurate conclusion of the NSS 2017 that: “The prospect for an Indo-Pakistani military conflict that could lead to a nuclear exchange remains a key concern requiring consistent diplomatic attention.” India and Pakistan tense relations and formal warmongering to blackmail the latter threaten to spiral into escalated conflict entailing nuclear strike exchanges. Instead of addressing New Delhi’s irresponsible surgical strike mania, the document says: “The United States will also encourage Pakistan to continue demonstrating that it is a responsible steward of its nuclear assets.” It is indirectly raising a questions on the safety and security of Pakistan’s nuclear arsenal when taking the history of Pakistan’s nuclear program into account proves that it is a responsible nuclear weapon state. Pakistan has always handled its nuclear assets responsibly. Islamabad cannot compromise on its nuclear weapons because they are essential to prevent a nuclear attack, non-nuclear strategic attacks, and large-scale conventional aggression.


Realistically, today, America’s military remains the strongest in the world. Despite this the military advantages of the United States are shrinking or limits are exposed in the prevalent global politics. Its mighty military machine has failed to secure unconditional victory in Afghanistan. The continuous Afghan Taliban resistance in Afghanistan is a source of frustration for the Americans. On August 21, 2017, President Trump in his South Asia plan highlighted American frustrations. He stated: “I share the American people’s frustration. I also share their frustration over a foreign policy that has spent too much time, energy, money — and most importantly, lives — trying to rebuild countries in our own image instead of pursuing our security interests above all other considerations.” At various occasions, Trump administration accused Islamabad of providing safe haven to the Afghan Taliban. The Americans have been scapegoating Pakistan to conceal their failure in Afghanistan.


The NSS 2017 completely ignored Pakistan’s sacrifices in the global war on terrorism. It repeats the old mantra of unsubstantiated allegations and unreasonable demands. It demanded, “Pakistan decisive action against militant and terrorist groups operating from its soil.” Pakistan has successfully been conducting military operations like Zarb-e-Azb and Radd-ul-Fasaad against terrorist organizations and their facilitators. It seems that the NSS 2017 the Indian point of view, i.e., ‘cross-border terrorism that raises the prospect of military and nuclear tensions.’ The Government of Pakistan responded candidly without caving into Trump administrations threats. It warned that “unsubstantiated allegations” will only “trivialize Pakistan’s efforts for fighting terrorism.” It also reminded Trump administration: “Pakistan has long been at the forefront in the fight against regional and global terrorism. It is because of Pakistan’s cooperation with the international community, acknowledged and appreciated by the U.S. leadership, that the Al-Qaeda core was decimated from the region.”


The preceding discussion confirms that the Trump administration is determined to give India a bigger role in Afghanistan. It is blaming Pakistan for its own failure in the region. The people of Pakistan are disturbed by the Trump administration’s repeated mantras of ‘do-more’; ‘placing on notice’; ‘U.S. could take unilateral action’; etc. On December 28, 2017, DG ISPR Major General Asif Ghafoor voiced Pakistani’s concerns by saying: “We have done enough and we can’t do it anymore for anyone. It is time Afghanistan and the U.S. do more for Pakistan.” The befitting diplomatic response and Islamabad’s unwillingness to ‘do more’ may enrage President Trump, entailing drone strikes on Pakistani territory. Islamabad categorically stated that any unilateral actions taken inside Pakistan by the U.S. would be met with an emphatic response. General Ghafoor specified: “The armed forces are working with friends and want to continue doing so, but there can be no compromise on our national honor. We do not want a conflict with our friends, but will ensure the security of Pakistan.”


To conclude, Pakistan cannot be apathetic to India’s increasing military capability and its role in its Western neighborhood at the behest of the United States. Islamabad’s renunciation of Washington’s attempt to demonstrate India as a great power in South Asia is a source of annoyance for the Trump administration. Therefore, President Trump and his cohorts are accusing and reprimanding Pakistan. Conversely, Pakistani ruling elite is doing its best to convince the Americans that it is neither interested in undermining American supremacy in the global politics nor desires to quash Pakistan-United States strategic partnership.

 

The writer is Associate Professor at School of Politics and International Relations, Quaid-i-Azam University, Islamabad.
 
10
January

مکالمہ۔تشدّدپسندانہ رویوں کا تریاق

تحریر: ڈاکٹر منہاس مجید

جب بھی فرقہ وارانہ تنازعات کی بات ہوتی ہے تو مغربی ممالک اُسے چودہ سو سال پہلے خلفائے راشدین کے انتخاب کو بنیاد بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سنی شیعہ مسلمان صدیوں تک، باوجود اجتہادی اور فقہی اختلافات کے، باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان اختلافات نے عالمِ اسلام میں بالعموم اور رفتہ رفتہ مشرقِ وسطیٰ میں بالخصوص فرقہ واریت کی شکل اختیار کرلی جس کی مثال سولہویں صدی میں سلطنت فارس اور سلطنت عثمانیہ کی آپس میں جنگیں تھیں‘ تاہم وہ محدود تھیں۔ موجودہ شیعہ سنی تنازعات جو کہ ابتدا میں معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں کچھ عرصہ بعد تشدد کی انتہائی شکل اختیار کر لیتے ہیں مگر ختم پھر بھی نہیں ہوتے اور بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ان کے ختم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تنازعہ جو کسی مخصوص جگہ پر محدود لوگوں کے درمیان شروع ہوا تھااس کے بعد بیرونی عناصر کی مداخلت سے بین الاقوامی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس کی وجوہات اندرونی اور بیرونی مداخلت دونوں ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ بیرونی مداخلت سے پیشتر ہم عالمِ اسلام میں موجودہ خامیوں کا مشاہدہ کریں۔


تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم سے ہی مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔1919 کے مصری انقلاب سے لے کر ترکی کی جنگِ آزادی (1919-1923)تک، عراق کرد تنازعہ (1919-2003)، سعودی عرب یمن جنگ (1934)، عراقی شیعہ بغاوت(1935-36) اور پھر دوسری جنگِ عظیم سے لے کر عراق ایران جنگ اور اس کے بعد کے واقعات جو مسلم ممالک کے درمیان باعث تنازعات رہے ہیں اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ مغربی دنیا آج بھی انہی جنگوں کا حوالہ دیتی ہے اور مسلمانوں کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے اواخر میں جبکہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ اختتام کو پہنچ رہی تھی‘ اس سرد جنگ میں مسلم ممالک کو دونوں طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور ان کے قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ کیا۔ سلیم راشد اپنی کتاب ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد مغرب ایک نئے دشمن کی تلاش میں تھا جس پر وہ اپنے ہتھیاروں کا استعمال کرسکے اور ان کے لئے اسلام اور مسلم امہ سے بہتر دشمن اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی بات کا اعتراف شیرین ہنٹر نے بھی اپنی کتاب’’ دی فیوچر آف اسلام اینڈ ویسٹ‘‘ میں کیا ہے کہ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد اسلام مغرب کے لئے دشمن ہوگا۔ آج فرقہ واریت کی جب بات ہوتی ہے تو ان مذکورہ باتوں کو نظر انداز کرکے فقط مسلمانوں کے اندرونی تنازعات اور اختلافات کو ہی سبب گردانا جاتا ہے اور داعش یا اس طرح کی مسلح تنظیموں کے وجود کو انہی اختلافات کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔


9/11کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملے کے ساتھ ساری دنیادہشت گردی کی لپیٹ میں آجاتی ہے لیکن مٹھی بھر دہشت گردوں کا الزام سارے مسلمانوں پرلگایا گیا کیونکہ وہ مٹھی بھر لوگ’’ مسلمان‘‘ تھے۔ عراق پر حملہ ہوا۔ تیونس، لیبیا، شام، مصر، لبنان عرب سپرنگ کی لپیٹ میں آئے لیکن وہاں وہ امن قائم نہ ہو سکا جیسا کہ امریکہ کی بظاہرخواہش تھی کیونکہ امریکہ کی ڈیموکریٹک پیس تھیوری کے مطابق جہاں جمہوریت ہوگی، وہاں امن ہوگا اور جہاں حکمران مطلق العنان
(Autocratic)
ہیں، وہاں نا انصافی ہوگی۔ جہاں تک مذہبی اقلیتوں کا تعلق ہے چاہے وہ شیعہ سنی ہوں یا دیگر غیر مسلم ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اور ان کی آپس میں لڑائیاں جاری رہتی ہیں۔ مغربی ممالک نے جہاں جہاں اپنی آزاد اقدارمتعارف کرانے کے لئے مسلح جارحیت کا راستہ اپنایا ہے وہاں امن قائم نہیں ہو سکا بلکہ یہ جارحیت مزید بدامنی پھیلنے کا باعث بنی ہے۔


اگر مشرقِ وسطیٰ کا جائزہ لیا جائے تو عراق اور شام میں حکومتی اختیار ختم ہونے پر فرقہ وارانہ تنازعات کا دوبارہ ظہور ہوا جس کے نتیجے میں داعش منظم ہوئی اور عراق میں سنی صوبوں اور شام کے مشرقی علاقوں میں پھیل گئی۔ داعش نے شام میں ریاستی عملداری کے خاتمے اور عراق میں سنی برادری کو سیاسی دھارے سے علیحدہ کرنے کا بروقت اور پورا فائدہ اٹھایا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں کہیں بھی وہ علاقے جو حکومتی دسترس سے باہر رہے ہیں تو اس خلانے دہشت گرد تنظیموں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہاں وہ اپنے مراکز قائم کریں اور وہیں سے وہ دہشت گردی کو پھیلا سکیں۔ اس کے علاوہ ریاستی عملداری کے ختم ہونے سے بیرونی عناصر فائدہ اُٹھا کر اپنے مقاصد پورا کرتے ہیں جیسا کہ عراق اور شام کی صورت حال میں ایران، سعودی عرب، ترکی، قطر، امریکہ، روس اور دیگر ممالک کی مداخلت ہے۔ جب ہم عرب سپرنگ کی بات کرتے ہیں تو یہ تیونس سے لے کر بحرین تک حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی تحریک کا نام ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ آزادی، انصاف اور خوشحالی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ تحریک بھی فرقہ وارانہ تنازعات کا شکار ہوگئی اور اس ناسور نے مختلف ممالک کو فوری طور پر اپنی گرفت میں لے لیا۔اس آگ نے عالمِ اسلام کو دو دھڑوں میں تقسیم کردیا اور ہر ایک فریق دوسرے فریق سے خوفزدہ ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف شکوک و شبہات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ جب شام میں سنی بشارالاسد کی حکومت سے برسرپیکارہیں تو ان کو سعودی عرب اور قطر کی معاونت حاصل ہے دوسری جانب شامی حکومت کو ایران کی بھرپور حمایت حاصل ہے جس میں مالی اور عسکری دونوں تعاون شامل ہیں۔ اسی طرح غیر ریاستی عناصر حزب اﷲ کو ایران جبکہ لیبیا کی رضاکارانہ فورس کو سعودی عرب کا تعاون حاصل ہے۔ بحرین کی شیعہ آبادی جو حکومت کے خلاف بغاوت کر رہی ہے اس کو ایران اور شام کی مدد حاصل ہے جبکہ بحرین کی حکومت کو سعودی عرب کا تعاون حاصل ہے۔ یاد رہے کہ بحرین میں شیعہ آبادی کے خلاف حکومت کا جانبدارانہ رویہ نیا نہیں ہے لیکن عرب سپرنگ ان پر بھی اثر انداز ہو اہے۔


عراق اور شام کے حالیہ تنازعے نے فرقہ وارانہ وفاداریوں کو عیاں کردیا ہے۔ عموماً سیاسی تنازعات فرقہ واریت کا روپ اختیار کرلیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ جیسا کہ ہم مشاہدہ کررہے ہیں ایران اور سعودی عرب کے درمیان ڈرامائی انداز میں ایک نئی سرد جنگ کی طرف جارہا ہے۔ جہاں دونوں اس خطے میں اپنی بالا دستی کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ اب یہ پراکسی وار کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ہر د و فریق فرقہ واریت کی اس جنگ میں اپنے مخالف فریق کے خلاف مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ شام،یمن، عراق سب جگہ صفِ اول کی جنگ فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑی جارہی ہے یعنی شیعہ بمقابلہ سنی حالانکہ یہ ایک فیکٹر ہے جو ہمیں ہر سطح پر نظر آتا ہے۔ اِن تنازعات کی وجہ دیگر بہت سے سٹریٹیجک ایشوز بھی ہیں اور غیر ملکی مداخلت بھی۔


لبنان اور کویت میں عارضی امن تو قائم ہے لیکن فرقہ واریت کی چنگاری کو کبھی بھی ہوا لگ سکتی ہے۔ مسلم دنیا کا آپس میں اختلاف یعنی شیعہ بلاک اور سنی بلاک میں تقسیم ہونا داعش جیسی تنظیم کو پیدا کرنے کا باعث بنا ہے جو بغیر کسی تفریق کے مغرب، شیعہ سنی، ایران حتیٰ کہ سعودی عرب کو بھی اپنا دشمن سمجھتی ہے۔


ان واقعات کے تناظر میں مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ، کے بدلتے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ کے صدر اوبامہ نے اعتراف کیا ہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کو معزول کرنے کے بعد کی صورت حال کی پیش بندی نہ کرنا ان کے عہدِ صدارت کی بدترین غلطی تھی۔ عراق پر حملے کو مغربی سکالرز تاریخ کی ایک بہت بڑی غلطی قرار دے چکے ہیں۔ اوبامہ حکومت کے ایران کے ساتھ کئی دہائیوں کے اختلافات اور پابندیوں کے بعد جوہری توانائی اور دیگر امور پر بات چیت اگرچہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے لیکن مذاکرات کے راستے کو اپنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلحے کا استعمال اختلافات کوحل کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ اس خطے میں جاری بحران کو حل کئے بغیر نکلنا بھی ان پُر تشدد واقعات اور دہشت گردی کی وجہ ہے۔


المختصر یہ بات تو طے ہے کہ امتِ مسلمہ میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی طرح مختلف مسالک اور فرقے موجود ہیں اور ان کے آپس میں کچھ بنیادی اور کچھ فروعی اختلافات کی وجہ سے تنازعات اور اندرونی چپقلش کا ماحول موجود رہتا ہے مگر موجودہ صورتحال میں اور بالخصوص مشرقِ وسطی میں جاری لڑائیاں کچھ اور خفیہ عوامل کی نشان دہی کرتی ہیں۔ تاہم اب ہم اپنا محاسبہ کرنے کے بجائے سارا الزام دوسروں پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ چہ جائیکہ ہم وہ حالات پیدا کریں کہ دوسرے ہماری مدد کے بہانے آکر معاملات کو اور خراب کریں ہمیں چاہئے کہ ہم سب مل کر فی الفور آپس میں مکالمے کا آغاز کریں۔ آپس میں مکالمہ اس نیت کے ساتھ کہ ہم نے مل کر امن و آشتی کے ساتھ رہنا ہے ایک دوسرے کے عقائد اور نظریات کا احترام کرنا ہے اور اپنی موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کو اندرونی جنگ و جدل سے ہر حال میں بچانا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشروں میں بات کرنے کی روایت کی حوصلہ افزائی اور تشدد کی ہر شکل کی حوصلہ شکنی کریں تو امیدِ واثق ہے کہ مسلم آبادیاں آپس میں بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر امن و آشتی کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ
Diversity
یعنی تنوع کو خدا تعالیٰ کی تخلیق کا ایک امر سمجھیں اور یک رنگی‘ یک نسلی اور یک مذہبی ایجنڈے کے بجائے ایک دوسرے کی مثبت صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ معاشرے مختلف طبقات اور رنگ و نسل سے مل کر ہی بنتے ہیں یہ مسلمان علماء کرام‘ دانشوروں اور حکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ نہ صرف مسلمانوں میں موجود فرقہ بندیوں کو تشدد اور جنگ کے راستے پر جانے سے روکیں بلکہ اپنے معاشروں میں بسنے والے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا بھی احترام کریں۔ یاد رکھیں کہ اندرونی جنگیں باقی تمام طرح کی لڑی جانے والی جنگوں سے زیادہ تباہ کن اور ہلاکت خیز ہوتی ہیں۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور اُس میں جاری پراکسی وارز
(Porxy Wars)
کا بہت گہری نظر سے تجزیہ کرنا چاہئے اور اس طرح کی جنگ کو پاکستان سے ہر حال میں دُور رکھنا چاہئے۔ پاکستان کی افواج نے ابھی تک تمام غیرریاستی دہشت گرد گروپوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے مگر اس خطرے کا سدِباب سماجی اور سیاسی سطح پر بھی نہایت ضروری ہے۔ ہمیں ایک پرامن معاشرہ درکار ہے جو صرف پُر امن بقائے باہمی کے اصولوں پرعمل سے ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے اور مکالمہ ان تمام کوششوں کی کنجی ہے۔ ہمیں مکالمے کی طاقت سے تشدد کے رویوں کو روکنا ہو گا۔ آیئے آپس میں بات کریں اور اس موجودہ ہلاکت خیزی کے طوفان کو روکیں جس سے ہماری دشمن قوتیں مسلسل فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

مضمون نگار یونیورسٹی آف پشاور کے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter