08
November

پاکستان امریکہ تعلقات۔حقیقت پسندانہ جائزہ ؟

Published in Hilal Urdu

تحریر: محمودشام

امریکہ پاکستان سے اگر چہ کئی ہزار میل دور واقع ہے لیکن 2001سے یہ ہمارا پڑوسی بنا ہوا ہے۔
کون کابل میں آج کل ہے مقیم
دیکھ ہمسائے یوں بدلتے ہیں
عام طور پر کہا جاتاہے کہ ہمسائے نہیں بدلے جاسکتے مگر امریکہ ایسی طاقت ہے جو کہیں بھی اپنی فوجیں اتار کر آس پاس کے ملکوں کی ہمسایہ بن جاتی ہے۔17سال بڑی طویل مدت ہے۔ بچے جوان ہوجاتے ہیں۔


پاکستان کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات قائم ہوئے 70سال ہورہے ہیں۔ 20اکتوبر1947کو ہم رشتہ سفارت میں بندھے تھے۔ آ ج تعلقات میں جو تلخیاں، عدم اعتماد اور کشیدگی ہے، وہ شروع سے چلی آرہی ہے۔ امریکہ کو پاکستان سے اور پاکستان کو امریکہ سے شکایتیں ہمیشہ رہی ہیں اور اتفاق یہ دیکھئے کہ پاکستان اور امریکہ ہمیشہ ایک دوسرے کی ضرورت رہے ہیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے لئے بہت کچھ کیا ہے، لیکن پاکستان کی
contributions
نسبتاً بہت زیادہ ہیں۔ اپنی سلامتی کی قیمت پر، اپنے آپ کو خطرات میں ڈال کر پاکستان نے امریکہ کی انتہائی اہم اور حساس شعبوں میں مدد کی ہے۔
صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کو امریکہ سے حسن سلوک پر بالآخر کتاب لکھنا پڑی۔ انگریزی میں
Masters Friends not
اُردو میں: جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
وزیر اعظم بھٹو نے کہا: سفید ہاتھی میرے خون کا پیاسا ہے۔ صدر جنرل ضیاء نے امریکی امداد کے بارے میںکہا: اونٹ کے منہ میں زیرہ۔
پھر بھی پاکستان اور امریکہ کسی نہ کسی طور ساتھ چلتے رہے لیکن پاکستان کے سوویت یونین کے ساتھ تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔ اس سے بھارت پورا فائدہ اٹھاتا رہا۔ سوویت یونین کے قریب ہوتا رہا۔ اس سے اقتصادی معاہدے بھی کئے گئے اور دفاعی معاہدے بھی ۔ بھارت کی ترقی میں سوویت یونین نے بنیادی کردار ادا کیا۔ صنعتی کارخانے ، دفاعی پیداوار، بھاری اسلحے کی فراوانی میں ماسکو دہلی کی بھرپور مدد کرتا رہا۔


پاکستان سرد جنگ میں بھی امریکہ کا اتحادی رہا ہے۔ بعد میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اب تک بھی امریکہ کا اتحادی ہے اور ہزاروں جانیں قربان کرچکا ہے۔
امریکہ اور چین کو قریب لانے بلکہ پہلا تعارف کروانے میں پاکستان کا مرکزی کردار ہے۔ 1971میں امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسینجر مری سے خفیہ طور پر بیجنگ پہنچے، پھر خفیہ طور پر اسلام آباد واپس آگئے۔ ان دنوں میں کہا گیا کہ وہ علیل ہوگئے ہیں اور مری میں مقیم ہیں۔ چین کے اس خفیہ دورے سے ہی امریکی صدر نکسن کے دورۂ چین کی راہ ہموار ہوئی ۔ صدر یحییٰ خان کے دور میں ہونے والا یہ خفیہ دورہ اگر نہیں ہوتا تو امریکہ اور چین ایک دوسرے کے دشمن بنے رہتے۔ تاریخ کا یہ باب عالمی تعلقات اور بین الاقوامی امور میں،امن کے قیام میں۔ چین اور امریکہ دونوں کے شہریوں، تاجروںاور صنعتکاروں کے لئے فیصلہ کن رہا ہے۔

 

bharatamericataluq.jpgاکیسویں صدی کے پہلے سال میں امریکہ کے جڑواں ٹاورز پر دہشت گردی کے بعد امریکی صدر نے کہا تھا کہ دنیا بدل گئی ہے۔ اس عالمگیر تبدیلی میں بھی امریکہ دہشت گردوں کے خلاف کبھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا تھا اگر پاکستان اس سے تعاون نہ کرتا۔ اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف سے چند ماہ پہلے تو امریکی صدر بل کلنٹن کی برہمی کا یہ حال تھا کہ امریکی صدر نے ان کے ساتھ دورہ پاکستان کے دوران کوئی تصویر بھی نہیں کھنچوائی۔ انہوں نے بند اجلاسوں میں حصہ لیا اور پاکستان قوم سے خطاب کرکے چلے گئے۔ امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی تھیں لیکن جب نائن الیون کا واقعہ ہوا اور پاکستان نے بہت سوچ بچار کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو صدر پرویز مشرف
Man of the Moment
بن گئے۔ ان کا امریکہ میں جس طرح استقبال ہوا، انہیں جو اہمیت دی گئی وہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد پاکستان کے کسی سربراہ کو دی گئی۔ تاریخ بار بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ ایک خود غرض اور مطلب پرست ریاست ہے۔


عام طور پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستانی صدر امریکی وزیر خارجہ کی ایک فون کال پر ڈر گئے اور سب کچھ امریکہ کے حوالے کردیا۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اس سے بہت پہلے پاکستان سے اعلیٰ سطحی وفد افغانستان کے سربراہ ملا عمر سے جاکر ملے تھے اس وقت کے وزیر داخلہ جنرل معین الدین حیدر اس کی سربراہی کررہے تھے ۔ انہیں کہا گیا تھا کہ آپ اسامہ بن لادن کو افغانستان سے رخصت کردیں ورنہ خطّے کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی۔ لیکن ملا عمر نے یہی کہا تھا کہ وہ ہماے مہمان ہیں۔افغان اپنے مہمانوں کو جانے کے لئے نہیں کہتے۔ طالبان حکومت کو سمجھانے کی پہلے سے کوششیں کی گئی تھیں۔ بعد میں پاکستان کے مفاد میں بھی یہی تھا کہ امریکہ سے تعاون کیا جائے ۔ پاکستان بھی دہشت گردی کے حق میں نہیں تھا۔ اس طرح اسلام کی بھی کوئی خدمت نہیں ہورہی تھی۔ اسلام امن و آشتی کا دین ہے۔ وہ بے گناہ انسانوں کی ہلاکت کی اجازت نہیں دیتا۔ اسامہ بن لادن اور ان کے دوسرے ہم خیال لوگوں کی اس روش سے امّت مسلمہ کو سخت نقصان پہنچا ہے۔


یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اس وقت بھارت امریکہ کا اتحادی بننے کو تیار تھا۔ وہی امریکی بمبار راجستھان کے کسی ہوائی اڈے سے اڑتے، پاکستان پر بھی بمباری کرتے ہوئے جاتے۔ افغانستان میں تو بڑی آبادیاں نہیں ہیں، تورا بورا کی غاریں ہیں، پہاڑ ہیں۔ اس لئے وہاں انسانی ہلاکتیں اتنی بڑی تعداد میں نہیں ہوئیں جتنی دوسری صورت میں پاکستان میں ہوسکتی تھیں۔


پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے دوست ممالک سے بھی مشاورت کی۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہوںسے بھی، اخبارات کے مدیران اور مالکان سے بھی۔ انہیں حقیقی صورت حال بتائی گئی ۔ ایڈیٹرز کے ساتھ اس میٹنگ میں مَیں بھی تھا۔ مدیران میں سے صرف مجید نظامی مرحوم نے اس پالیسی سے اختلاف کیا تھا۔ باقی سب نے اسے پاکستان کے مفاد میں قرار دیا تھا۔ البتہ پورا زور دیا تھا کہ اس وقت امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں مصر کی طرح اپنے سارے قرضے معاف کروالینے چاہئیں۔


بہتر سفارت کاری اور کامیاب حکمرانی کے اصول یہ ہیں کہ ہر قوم کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ جب یہ قومیں ملتی ہیں ، مذاکرات کرتی ہیں تو اولین ترجیح ان مفادات کو حاصل ہوتی ہے جو دونوں قوموں کے یکساں ہوتے ہیں۔ جس طرح دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور امریکہ کے مفادات ایک سے ہیں، دونوں کو ایسی تنظیموں سے خطرہ ہے ، امریکہ اور پاکستان دونوں میں یہ وارداتیں ہوچکی ہیں، پاکستان میں ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں۔ پاکستانی فوج اور شہریوں نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں، ان یکساں مفادات پر دونوں ملک اشتراک کرتے ہیں اور ان مفادات کے حصول کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اس کے بعد وہ مفادات آتے ہیں جو یکساں نہیں ہوتے لیکن ان کا آپس میں ٹکرائو بھی نہیں ہوتا۔ ان پر دونوں کو کچھ سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ تعلقات برقرار رہیں، اور کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے۔ لیکن جہاں دونوں کے مفادات آپس میں متصادم ہوں، ٹکرارہے ہوں، وہاں کسی ایک کو اپنے مفاد کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ باہمی مذاکرات میں دیکھا جاتا ہے کہ کون آسانی سے اپنے مفاد کو کچھ عرصے کے لئے مؤخر کرسکتا ہے۔
اب مشکل یہ ہے کہ امریکہ نے تو اپنے مفادات طے کر رکھے ہیں۔ وہ ان کی تکمیل کے لئے ہر ممکن کوشش بھی کرتا ہے اور یہ بھی کہ ان کا کوئی شہری کہیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہے ، اس کی جان کو خطرہ ہے تو وہ اس کی حفاظت کے لئے سفارتی دبائو بھی استعمال کرتا ہے، اپنے فوجی بھی اتار دیتا ہے، میزائل کے حملے بھی کردیتا ہے، غیر فوجی کنٹریکٹر بھی بھیج دیتا ہے ۔پاکستان نے اپنے قومی مفادات واضح طور پر طے نہیں کر رکھے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں میں قومی مفادات پر ہماری پوزیشن بدلتی رہی ہے۔


دو طرفہ تعلقات میں سب سے زیادہ اہم نکتہ یہ ہوتا ہے کہ برابر کی حیثیت سے بات ہو۔ کوئی ملک کتنا بھی دولت مند ہے، کتنی بھی فوجی طاقت رکھتا ہے، آبادی زیادہ ہے۔ اب یہ ملک کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ برابر کی حیثیت سے مذاکرات کرسکتی ہے یا نہیں۔ اگر ملک کے انتظامی سربراہ، منتخب وزیر اعظم کے ذاتی مفادات قومی مفادات پر غالب ہوں گے تو یہ کمزور پڑجائے گا۔ برابری کی حیثیت سے مذاکرات نہیں کرسکے گا اور جو سربراہ صرف ملک کو بالاتر رکھتے ہیں، وہ ہمیشہ برابری کی سطح سے بات کرتے ہیں۔برابر کی پوزیشن اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کسی ملک میں اندرونی طور پر اتحاد ہو، اقتصادی اعتبار سے استحکام ہو، سارے شہریوں کو تعلیم، علاج معالجے ،ٹرانسپورٹ کی سہولتیں یکساں طور پر فراہم کی جارہی ہوں۔ صوبائیت، علاقائیت اور فرقہ واریت نہ ہو۔


اکیسویں صدی اطلاعات کی صدی ہے۔ کائنات سمٹ کر رہ گئی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کردیئے ہیں۔ تجارت، صنعت اور معیشت ہر جگہ آئی ٹی استعمال ہورہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے ملک بھی معاشی طور پر بہت مضبوط ہیں۔ اس لئے وہ بڑی بڑی طاقتوں سے بھی دب کر بات نہیں کرتے۔


امریکہ نے پاکستان سے معاملات میں ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ جب بھی پاکستان پر نازک وقت آیا تو اس نے غیر جانبداری اختیار کرلی۔ 1965میں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو امریکہ غیر جانبدار ہوگیا۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کو بھی اسلحے کی فراہمی روک دی۔ 1971میں جب مشرقی پاکستان میں بھارت کی مداخلت سے حالات خراب ہورہے تھے تو کہا جارہا تھا امریکہ اپنے ساتویں بحری بیڑے کے ذریعے پاکستان کی مدد کرے گا ۔ یہ ساتواں بحری بیڑہ نہیں پہنچا۔ بھارت نے کھلی جارحیت کے ذریعے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرلیا۔ سلامتی کونسل میں شور مچتا رہا۔ روس بھارت کی کھلی سفارتی اور فوجی مدد کرتا رہا۔ امریکہ نے اپنے اتحادی کا ساتھ نہیں دیا۔


امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ہمیشہ مخالفت کی۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسینجر جن کو 1971میں پاکستان نے چین کے خفیہ دورے کی تاریخی سہولت فراہم کی، جس سے دُنیا میں ایک نیا سفارتی نظام قائم ہوا، انہی کسینجر صاحب نے 1972میں پاکستان کے وزیر اعظم کو دھمکی دی کہ اگر ایٹمی پروگرام بند نہ کیا تو تمہیں عبرتناک مثال بنادیا جائے گا اور اس پر امریکہ نے عمل بھی کیا۔جب 1998میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے مجبوراً ایٹمی دھماکے کئے تو اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان پر پریسلر ترمیم کی پابندیاں عائد کردی گئیں۔


آج کل اقتصادیات سیاسیات پر غلبہ اختیار کرگئی ہے۔ امریکہ بھارت سے جو اپنی پینگیں بڑھارہا ہے، اس کے لئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بھارت بڑی مارکیٹ ہے۔ جہاں ایک ارب کے قریب صارفین بستے ہیں۔ اس لئے امریکہ اور مغربی ممالک اس مارکیٹ کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔90کی دہائی سے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ بھارت کے بہت نزدیک ہوگیا ہے۔ پہلے اس نے روس سے محبت کے مزے لوٹے اب امریکہ سے عشق کے لطف اٹھارہا ہے۔

 

بہتر سفارت کاری اور کامیاب حکمرانی کے اصول یہ ہیں کہ ہر قوم کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ جب یہ قومیں ملتی ہیں ، مذاکرات کرتی ہیں تو اولین ترجیح ان مفادات کو حاصل ہوتی ہے جو دونوں قوموں کے یکساں ہوتے ہیں۔

بھارت پاکستان پر دہشت گرد جہادی تنظیموں کی سرپرستی کا الزام عائد کرکے مغربی ممالک کو پاکستان کے خلاف اکساتا رہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔1948سے بھارت نے اس پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1948کی قرار دادوں میں استصواب رائے کی منظوری دی ہوئی ہے کہ کشمیری اپنی قسمت کا خود فیصلہ کریں۔ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کروہاں جعلی انتخابات کا ڈھونگ رچاتا رہتا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کا اتحادی ہونے کے باوجود کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے کوئی سفارتی دبائو نہیں ڈالا۔ 2001 میں نائن الیون کے بعد امریکہ پاکستان کے نئے اشتراک کے وقت امریکہ سے کہا گیا تھا کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کے حل میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، امریکہ نے یہ وعدہ بھی کیا لیکن عملاً کچھ نہیں کیا۔


عالمی طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ کشمیر ایک فلیش پوائنٹ ہے۔ یہاں کسی وقت بھی جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ کشمیری اپنی آزادی کے لئے خود جدو جہد اور جہاد کررہے ہیں۔ بھارت کی 7لاکھ فوج بھی ان کے جذبۂ حریت کو سرد نہیں کرسکی۔ امریکہ نے مسئلہ حل کروانے کے بجائے وہاں جہاد میں مصرف تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر پابندی لگوانے کی سازش میں شرکت کی ہے۔ یوںتو صدر جارج بش، صدر اوباما، سب ہی پاکستان سے مزید اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن اب جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے ان کی طرف سے یہ دبائو شدت اختیار کرگیا ہے ۔


امریکہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے لئے بھی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ وہاں اعلیٰ تعلیم کے لئے جانے والے طلباء و طالبات کے ویزوں کے اجرا میں بھی رُکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس کی وجہ سے وہاں زیر تعلیم پاکستانی طالب علموں کی تعداد پہلے سے بہت کم ہوگئی ہے۔


ان دنوں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پھر کشیدگی اختیار کرچکے ہیں۔ کچھ تو پاکستان کے غیر مستحکم سیاسی اور اقتصادی حالات اس کی وجہ ہیں، دوسرے یہ کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک پاکستان کی فوج اور شہریوں کی ان قربانیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں جو 2001سے اب تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں دی گئیں۔ پھر افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستان کے طول و عرض میں جو خوفناک وارداتیں کیں۔ ایک عرصے تک پاکستان کا ہر شہری خوف زدہ رہا، لیکن پاکستانی فوج کے آپریشن ضرب عضب، پھر آپریشن ردّالفساد میں تمام دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کیا گیا۔ جنرل راحیل شریف کی پُر عزم قیادت پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کی کمان میں تسلسل سے یہ کارروائیاں جاری ہیں۔ عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ، کو اس کا اعتراف کرنا چاہئے۔


اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے عوام یہ فیصلہ کریں کہ ایسے اتحادی کے ساتھ کیا اس عدم اعتماد کے رویے کے ساتھ آگے بڑھا جائے؟ امریکہ کی دہری پالیسیوں کا دبائو قبول کیا جائے؟ فیصلہ کن گھڑی آگئی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھل کر یہ مباحثہ ہونا چاہئے جس میں ماضی میں پاکستان کے نازک موڑوں پر امریکی پالیسیوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں مسلسل 17سال سے پاکستان کی فوج، پولیس، نیم فوجی تنظیموں اور پاکستان کے شہریوں کی قربانیوں کو عالمی برادری کے سامنے لایا جائے۔ بھارت کی سازشوں، بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کی پاکستان میں کارروائیوں، کلبھوشن یادیو کے حوالے سے 'را' کی وارداتوں، افغانستان سے سرحد پار کرکے آنے والے افغان دہشت گردوں کی کارروائیوں کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے۔ اس حقیقت کو سمجھا جائے کہ پاکستان کو اب امریکہ کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی امریکہ کو ہماری ضرورت ہے۔
پاکستان کی پارلیمنٹ پھر امریکہ سے آئندہ تعلقات کی شرائط طے کرے۔


پاکستان نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مسلسل کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی قیادتوں نے بھی پاکستانی فوج کی خدمات اور اقدامات کی بھرپور حمایت کی ہے۔
امریکی عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںسکیورٹی فنڈز کے نام پر انہوں نے ان 17سال میں جو امداد دی ہے، پاکستان کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوئے ہیں،اور یہ امداد ان جانی قربانیوں کا صلہ تو دے ہی نہیں سکتی۔


امریکی عوام کی طرح پاکستانی عوام بھی ایک پُر امن دُنیا میں رہنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے شہری بھی ایک مستحکم معاشرے کے خواہاں ہیں۔ وہ بھی اپنے بیٹوں بیٹیوں ، پوتوں، پوتیوں، نواسوں، نواسیوں کے لئے پُر امن اور دہشت گردی سے پاک ماحول قائم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔
امریکہ کو ایک اچھا دوست اور سچا اتحادی بن کر دو طرفہ تعلقات کو قائم رکھنا چاہئے۔


پاکستان اگر اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو امریکہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا تھا، اور امریکہ کو خطرات ہمیشہ لاحق رہتے۔ پاکستان امریکہ سے امداد کی بھیک نہیں مانگتا، بلکہ اس کی مارکیٹوں تک رسائی چاہتا ہے۔ پاکستان میں امن قائم ہورہا ہے تو صنعتیں بھی بحال ہوں گی، روزگار کی سہولتیں بھی ملیں گی۔ پاکستان کے طالب علموں کے لئے امریکہ میں ویزے کی آسانیاں دی جائیں۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں ، تربیتی اداروں، ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس میں امریکہ کو اپنی امداد بڑھانی چاہئے، اب امریکہ کو مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔


پاکستان اور چین ایک دوسرے کے قریبی دوست ہیں۔ پاکستان نے چین کی عالمی برادری میں رسائی کے لئے بنیادی کردار ادا کیا۔ اب چین اپنے مفادات کے تحت بھی، اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی ترقی کے لئے'' ایک پٹی۔ ایک سڑک'' کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان میں 55ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ اصولاً تو یہ سرمایہ کاری امریکہ کو آج سے کئی عشرے پہلے کرنی چاہئے تھی۔ اب جب چین پاکستان اقتصادی راہداری پر کام شروع ہوچکا ہے تو امریکہ کو اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ اس میں شرکت کرکے اسے مزید مستحکم بنانا چاہئے۔ اپنے محبوب بھارت کو سمجھانا چاہئے کہ سی پیک کے راستے میں رُکاوٹیں کھڑی نہ کرے۔ اس سے بالآخر بھارت کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا۔


پاکستان کو بھی اپنے مفادات کا ببانگ دہل اعلان کرنے اور اس کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی طرح بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ ہم اس جنگ میں بہت قربانیاں دے چکے، ہماری معیشت متاثر ہوئی ہے، ہماری معاشرت تباہ ہوئی ہے۔ امریکہ پر زور دیا جائے کہ وہ ہمارے آبی وسائل، معدنی وسائل کی برآمد اور تعمیر میں سرمایہ کاری کرے۔ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس کے قیام میں پیسہ لگائے۔ امریکہ اور یورپ کی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ کے مطابق کوٹہ دے۔ کشمیر میں استصواب رائے کا اہتمام کروائے۔


تعمیر و ترقی ہی نوجوانوں کو انتہا پسندی سے محفوظ کرسکتی ہے۔ امریکہ پر یہ زور بھی دیا جائے کہ ہمارے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ،داعش اور اس قسم کی تنظیمیں امریکہ اپنے خفیہ مقاصد کے لئے خود تخلیق کرتا ہے١ور ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں جاگزیں یہ شکوک و شبہات اسی وقت دور ہوسکتے ہیں کہ امریکہ اپنی پالیسیوںکو مزید شفاف بنائے اور خطے کے اہم ملکوں کی رائے کو اہمیت دے۔ پاکستان ایک نوجوان آبادی کا ملک ہے۔ اس کی تربیت کا اہتمام پاکستان کی اہم ترجیحات میں ہے۔ یقینا یہ نوجوان صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں امریکہ اور مغربی ممالک کے لئے بھی کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں جہاں نوجوان آبادی بہت کم ہے۔ پاکستان کی نیک نیتی اور
True Potentials
سے امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ باہمی معاملہ فہمی اور باہمی اشتراک سے ہی اس خطّے میں اور پوری دُنیا میں امن قائم ہوگا۔

مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

دوستی کا دعویٰ ہے، دشمنوں سا لہجہ ہے
حد بھی پار کرتے ہو، روز وار کرتے ہو
سازشوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟
خون بھی بہاتے ہو، پیار بھی جتاتے ہو
کتنے گھر گرائے ہیں، کتنے ظلم ڈھائے ہیں
نفرتوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟
سیکڑوں جواں لاشے، ملک بھر میں ہیں بکھرے
دشمنوں سے جنگوں میں، کھوئی تھیں نہ یوں جانیں
وحشتوں کے عادی ہو،کیسے اتحادی ہو؟
مانگتے مدد بھی ہو، چاہتے رسد بھی ہو
دھونس بھی جماتے ہو، حکم بھی چلاتے ہو
دھمکیوں کے عادی ہو،کیسے اتحادی ہو؟
چَین اپنا غارت ہے، کیسی یہ شراکت ہے؟
دہر بھر میں رسوا بھی، طعنوں کا نشانہ بھی
تہمتوں کے عادی ہو،کیسے اتحادی ہو؟

*****

 
08
November

ہندوتواکا پھیلتا ہوا عفریت

Published in Hilal Urdu

تحریر : محمدعلی بیگ

ہندو قوم اپنے جدا گانہ تشخص کو بر قرار رکھنے کے لئے ہمہ وقت نہایت چوکس رہتی ہے۔ بھارت جو کہ ساری دنیا میں ہر وقت سیکولر نظریات کا ڈھنڈورا پیٹتا نظر آتا ہے اور خود کو جمہوریت اور مذہبی رواداری کا علمبر دار کہتا ہے لیکن اگر ہم بھارتی سیاست پر نظر دوڑائیں تو یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ یہ اوراس جیسے دیگر بھارتی دعوے کھوکھلے ، جعلی اور حقیقت کے منافی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلم اور ہندو برِ صغیر میں کئی صدیوں سے آباد ہیں لیکن در حقیقت ہندو اپنے آپ کو اسلام اور مسلمانوں سے جُدا ثابت کر نے کے لئے اور آخر کار مسلمانوں اور اسلام کو ہندومت میں ضم کر نے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔ رحیم اور رام کو ایک ثابت کرنے لئے ہندو پنڈتوں نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا اور شُدھی اورسنگھاٹن کی تحریکیں چلائیں تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنا سکیں مگر ناکام رہے۔
قدرت نے حق اور باطل اور آگ اور پانی کے درمیان ایک دائمی کشمکش رکھی ہے۔ یہ دونوں مخالف قوتیں ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہی ہیں۔ یہی حالات تقسیم سے پہلے برِ صغیر پاک و ہند میں بھی موجود تھے اور آج بھی کئی صورتوں میں موجود ہیں۔ 1923میں ایک ہندوانتہا پسند ''ونیک دمودار سورکار'' نے ہندو مذہب کا ایک اور مگر منفرد انداز پیش کیا اور اس نظریہ کو اپنے ایک مضمون
"Essentials of Hindutva"
میں بیان کیا۔ اس نظریے نے نہ صرف یہ بات کی کہ ہندوستان صرف ہندوئوں کے لئے ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ ہندو اپنے مذہب کی ہر لحاظ سے حفاظت کریں۔ یاد رہے کہ سورکار اُن دنوں ایک انگریز کے لندن میںقتل کے الزام میں قید تھا۔ اِسی طرح سورکار نے 1928میں اپنے ایک کتابچے جس کا نام
"Hindutva: Who is a Hindu?"
ہے کی صورت میں ایک اور نظریہ پیش کیا جس میں اُنھوں نے ہندو مذہب کے ماننے والوں کی ایک مفصل تعریف کر ڈالی اور اکھنڈ بھارت اور بھارت راشٹریہ کے تصورات پیش کئے۔ سورکار نے اس نظریے کی بنیاد تین چیزوں پر رکھی جن میں قومیت، نسل پرستی اور ثقافت شامل ہیں۔ سورکار کے یہ نظریات محض تعصب پرمبنی اور ہندوئوں کی اصل سوچ کے عکاس تھے۔

hunditawakaphelta.jpg
بھارت میں موجود انتہا پسند ہندو ئوں نے خوب چابک دستی سے قومی ثقافت کے نام پر، اور اس کی آڑ میں، ہندو مذہب کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کو مسخ کر نے کا ایک گھنائونا دھندا شروع کر رکھا ہے۔ اس قومی ثقافت نامی سوچ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ حقیقتاً اور خالصتاً ونیک دمودار سورکار کے بڑے بھائی گنیش دمودار سورکار کے ایک مضمون "راشٹرا ممانزا "یعنی ایک ایسی فلاسفی اور نظریاتی اساس جن کی بنیا دیں قومیت (ہندومذہب)میں ہوں ۔ گنیش کے انھی نظریات کو ایک ہندو انتہا پسند
(M.S Golwalkar)
نے اپنی زہر آلود اور تعصبات سے بھری ہوئی کتاب
"We or Our Nationhood Defined (1939)"
میں مزید بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ دسمبر   2017میں انگریزی روزنامہ
Dawn
میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں ایک بھارتی وکیل اور محقق اے۔جی ۔ نورانی نے نہایت مفصل انداز میں ہندوتوا نظریے پر روشنی ڈالی ہے۔
راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ
(Rashtriya Swayamsevak Sang)
ہندوتوا نظریے کی علمبردار جماعت ہے اور اس کی بنیاد 27ستمبر 1925کو ایک شدت پسند ہندو کیشاوبلی رام ہجوار نے رکھی۔ کیا وجہ ہے کہ اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک انتہا پسند ہندو نتھو رام گودسے نے بھارت کے بانی موہن داس گاندھی کو 30جنوری 1948کو قتل کر دیا تھا؟ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ گاندھی نسبتاً حقیقت پسند انسان تھے اور پاکستان کو اس کا جائز حق دینا چاہتے تھے۔ لیکن اس قتل کی ایک وجہ گاندھی کے آستین کے سانپ تھے جن میں پنڈت جواہر لعل نہرو سب سے زیادہ اہم تھے۔ نہرو نے کمال ہوشیاری سے سردار ولب بھائی پٹیل جو کہ نہرو سے زیادہ سیاسی بصیرت رکھتے تھے ،کو دیوار کے ساتھ لگا کر گانگریس پارٹی کی کمان سنبھال لی۔ ایک بھارتی لکھاری رام چندرا گوہا نے اپنی کتاب
"Makers of Modern Asia (2014:125-126)"
میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سردار پٹیل اور پنڈت نہرو میں شدید اختلافات تھے لیکن شاید سردار پٹیل نے خاموشی میں ہی اپنی خیر جانی اور نہرو کو کانگریس کی کمان کرنے دی۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ جواہر لعل نہرو کی مغربی طرزِ تعلیم کے بعد ان کے والد نے انھیں ہندو مذہب کی خوب تعلیم دی اور ایک پنڈت بنا دیا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو جوکہ پنڈ ت موتی لعل نہرو کے بیٹے تھے اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ہندو پنڈت اپنے مذہب میں وہی مقام رکھتے ہیں جو کہ اسلام میں مولانا کو حا صل ہوتا ہے۔ بادی النظرمیں گاندھی کے قتل میں سب سے بڑا ہاتھ جواہر لعل نہرو کا تھا جن کو قتل کا سب سے زیادہ فائدہ بھی حاصل ہو ا تھا۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ گاندھی کے قتل کے بعد جواہر لعل نہرو اوراُن کے بعد اُن کی بیٹی اندرا گاندھی اور پھر اندرا کے قتل کے بعد اُن کے بیٹے راجیو گاندھی کے 1991میں قتل تک انڈین نیشنل گانگریس پر نہرو خاندان بلا شرکتِ غیرے قابض رہا۔ آج بھی راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی اوراُن کے بیٹے راہول گاندھی گانگریس پارٹی پر مکمل طور پر قبضہ کئے ہو ئے ہیں۔ گاندھی جس کو ہندو اپنا باپ اور ایک دیوتا سمجھتے ہیں' کا ایک انتہا پسند ہندو کے ہاتھوں قتل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ بھارت میں حقیقت پسند ہندو بھی مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں ۔
آخر کیا وجہ تھی کہ 1971میں پاکستان کے خالصتاًاندرونی سیاسی مسئلہ کو بنیاد بنا کر بھارت نے پہلے مکتی باہنی کے دہشت گرد وں کو اسلحہ اور تربیت دی اور پھر مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعداُس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے یہ بیان دیا کہ'' آج ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیجِ بنگال میں ڈبو دیا ہے؟'' رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے اتنا بڑابھارت ، پاکستان سے اور خاص طور پر نظریہ پاکستان سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہے؟ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ بھارت کے تمام عقائد و نظریات کھو کھلے اور کھیل تماشے سے زیادہ کچھ بھی نہیں؟ یہاں پریہ بات پڑھنے والوں کے لئے نہایت دلچسپی کا باعث ہو گی کہ مکتی باہنی کومنظم کرنے،محبِ وطن پاکستانیوں کو چُن چُن کر شہید کرنے اور دہشت گردی کی تربیت دینے والے بھارتی آرمی کے میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ 1971کی شورش میں پیش پیش تھے لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ صرف چند سال بعد وہ نام نہاد جمہوری بھارت کی ہندو فوج کی گولیوںاور گولوں کا نشانہ بننے والے ہیں۔ میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ کو محض سِکھ ہونے ، اپنے حقوق کی خاطر آواز اُٹھانے اور جرنیل سنگھ بھنڈراںوالے کے ساتھی ہو نے کی پاداش میںجون 1984 میںبھارتی ریاستی دہشت گردی کے تحت
Operation Blue Star
کے دوران
Golden Temple
میںسیکڑوں ساتھیوں سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ درندگی بھرا فوجی آپریشن پنڈت جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کے حکم پر کیا گیا اورانڈین آرمی کے ایک سکھ میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار کو اس کام پر لگایا گیا جس کا بنیا دی مقصد بھارتی پنجاب میں سکھوں کی طاقت کو کم کرنااور سکھ مذہب کی الگ شناخت کو مدہم کرنا اور کانگریسی ہندو طاقت کو بڑ ھا وا دینا تھا۔ گاندھی خاندان اور شیخ مجیب کے خاندان کااندوہناک انجا م دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قدرت کا انصاف ہو کر رہتا ہے۔
بھارت میں بسنے والے مسلمانوں ، سکھوں، عیسائیوں، ہندوئوںاور خاص طور پر نچلی ذات کے دَلت ہندوئوں کو اب یہ بات جان لینا چاہئے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک دہشت گرد اور نفرت انگیز گروہ ہے جو کہ سیاست کی آڑ میں اپنے انتہا پسند مذہبی عزائم کی تکمیل چاہتی ہے۔ یہ شدت پسند گروہ بھارت کو ایک بند گلی میں دھکیل رہا ہے اور اس کی پالیسیوں کا انجام صرف اور صرف معصوم بھارتی عوام کی تباہی ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی ، اسلام آباد کے ایک پروفیسرمحمد مجیب افضل کی کتاب
"Bharatiya Janata Party and the Indian Muslims (2014)"
بھارت میں موجود مسلمانوں کی حالت ِزار جاننے کے لئے ایک بہتر نسخہ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی اورسَنگھ خاندان کے بارے میں بتاتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی سیاست میں ہندوتوا نظریہ پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ بھارتیہ جنتا سَنگھ کب اور کیسے بھارتی جنتا پارٹی میں تبدیل ہوئی اور اٹل بہاری واجپائی کے
"Soft Hindutva"
اور نریندر مودی کے
"Hard Hindutva"
کے کیا بنیادی مقاصداور اغراض ہیں ۔ پرفیسرنجیب نے یہ بات ثابت کی ہے کہ بی جے پی دراصل سَنگھ خاندان کا سیاسی بازُو اور شاخ ہے۔
ہندوتوا نظریات کے ماننے والوں کے اندھے پن کا ثبوت تو یہ ہے کہ وہ اپنے خلاف کسی قسم کی تنقید اور حتیٰ کہ متضاد رائے بھی برداشت کرنے کو تیا ر نہیں ہیں۔ اگست 2015میں بھارتی ریاست کر ناٹک کی یونیورسٹی کے ایک ہندو پروفیسر ایم۔ایم۔ کلبرگی کو صرف اس بات پر قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ اور بھارتی جنتا پارٹی سمیت تمام انتہا پسند ہندو جماعتوں پر بھارت کی شناخت بدلنے پر کئی بار تنقید کی تھی۔ نہایت شرم کا مقام تو یہ ہے کہ اُن کے قتل کے بعد ریاست مہارشٹرا میں انتہا پسندوں نے کھلے عام جشن منایا ۔
شاید یہ بات انہونی معلوم ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کو سب سے بڑا خطرہ پاکستان یا چین سے نہیں ہے بلکہ بھارت کی سالمیت اور شناخت کو اصل خطرہ انتہا پسند ہندوجماعتوںسے ہے جو کہ ہندو مذہب اوربذاتِ خود ہندوئوں کی سب سے بڑی دشمن ہیں ۔ ایک بھارتی افسانہ نگار اور لکھاری اننتھا مُرتھی
(Ananthamurthy)
کی کتاب
"Hindutva or Hind Swaraj (2016)"
کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ ہندو انتہا پسند تنظیمیں اب پوری طرح سے بھارت میں بر سرِ اقتدار آچکی ہیں اور بھارتی جنتا پارٹی اِن تنظیموں کی نمائندہ سیاسی جماعت ہے۔ اننتھا مرتھی ان بہت سے ادیبوں اور اہلِ سخن میں شامل تھے جنھوں نے یہ کہہ رکھا تھا کہ اگر نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے تو وہ بھارت کو چھوڑ کر کہیں اور سکونت اختیا ر کر لیں گے مگر اُن کی خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ مودی کے2014 میںوزیر اعظم بننے کے چند ماہ بعد وہ دنیا ہی چھوڑ کر چلے گئے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر مغربی
Revisionist
ادیب مثلاً
Noam Choamsky،David Icke
اور
Michael Moore
جیسے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کچھ خفیہ خاندان جیسا کہ
Rockefeller
اور
Rothschild
خاندان دنیا پر پسِ پردہ رہ کر حکمرانی کر رہے ہیں لیکن جمہوری بھارت میں یہ نظریہ ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ موجودہ بھارتی حکومت میں موجود بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگوں کی ایک خاصی تعداد سَنگھ پریوار (خاندان) سے تعلق رکھتی ہے۔ بھارتی نیوز تہلکہ کے صحافی برجیش سنگھ کے2014 کے آرٹیکل کے مطابق نئی دہلی میں قائم ایک تھنک ٹینک نے، جس کا نام
Vivekananda International Foundation
ہے۔ مودی حکومت کوبے شمار بیورو کریٹ فراہم کئے ہیں۔ ان افسران میں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دُووَل، ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائز راروند گپتا، مودی کے پرنسپل سیکریٹری نری پیندرا مشرا، ایڈیشنل پرنسپل سیکریٹری پ۔کے۔مشرااور دہلی کے گورنر انیل باجال کے نام اہم ہیں۔ ان دنوں اس ادارے کے سربراہ بھارتی آرمی کے سابق چیف جنرل نرمال چندر ہیں۔ اس سے پہلے ڈاکٹر اروند گپتا ایک نامور سیکورٹی اور سٹریٹیجک تھنک ٹینک
Institute for Defence Studies and Analysis (IDSA) 
کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ یہ دونوں تھنک ٹینک سَنگھ پریوار کا حصہ ہیں۔

Akhil Bharatiya Vidyarthi Parishad
، آریا سماج،وشوا ہندو پریشد ، بجرنگ دل،شیو سینا،ابھیناو بھارت، راشٹرا سیوکا سمیتی،بھارتیہ کسان سَنگھ،مسلم راشٹریہ منچ،راشٹریہ سکھ سنگت،ہندو ویوک کندرا،سیوا بھارتی،ودیہ بھارتی،بھارتیہ جنتا پارٹی، سناتن سنستھا،
Vivekananda International Foundation

اور

Institute for Defence Studies and Analysis (IDSA)

وہ ادارے ہیں جو کہ راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ کے ساتھ منسلک اور زیرِ سایہ تقریباًپچاس سے زائد چھوٹے بڑے اداروں میں شامل ہیںاور ہندوتوا سوچ کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کے لئے کڑی تگ ودو کر رہے ہیں۔ یہ سَنگھ پریوار کا گھنا اور زہریلا درخت بھارتی جمہوریت پر ایک بد نما داغ اور اس کی خود ساختہ سیکولر شناخت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان اداروں کی بڑھتی ہوئی پُر تشدد کار روائیوں اور دہشت گردی کی وجہ سے ان کے شناختی زعفرانی رنگ پر انھیںعالمی طور پر
Saffron Terrorism
کا مرتکب قرار دیا جا چکا ہے۔ ہندوتوا نظریہ ایک طرف بھارت کی اساس کو آہستہ آہستہ ہلا رہا ہے تو دوسری طرف یہ اشوکا اور گاندھی کے ہندو مذہب کو ایک دہشت گرد اور تنگ نظر نسل پرست سوچ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس سوچ کا اصل نقصان بھارت کو ہوگا اور بیشتر صحیح سوچ رکھنے والے ہندو پروفیسروں اور ادیبوں کے بھارت چھوڑنے سے یہ نقصان نظر آ رہاہے۔ اگر یہ انتہا پسند ہندو مزید طاقت پکڑ گئے تو وہ دن دور نہیں جب بھارت خود بخود ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گایا پھر اس میں موجود مائو نواز جانباز ، ببر خالصہ انٹر نیشنل
،Naxalite-Marxist
سمیت بیس سے زائد علیحدگی پسند تحریکیں الگ الگ وطن کے حصول کے لئے بیرونی امداد طلب کرنے میں حق بجانب ہوں گی۔
بھارت جیسے ملک کے ساتھ دوستی اور امن ایک مشکل کام ہے لیکن دُشمنی مسئلے کا حل ہر گز نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت
"Prisoners of Geography"
ہیںاس لئے پاکستان کے اربابِ اختیا ر پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں نہایت احتیاط برتی جائے۔ جو قوم چانکیہ کوتلیہ کو اپنا سیاسی گرو مانتی ہو اس سے ہمہ وقت ہوشیار رہنا نہایت ضروری ہے۔ بھارتی انتہا پسند حکومت کبھی افغانستان کو پختونستان کا شوشہ چھوڑنے کا کہتی ہے تو کبھی
Durand Line
کو انٹر نیشنل بارڈر تسلیم نہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے اور کبھی تحریکِ طالبان پاکستان کی شکل میں فساد اور وبال کا باعث بنتی ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی اور خاص طور پر سَنگھ پریوار( خاندان) سے حکومتِ پاکستان اور افواج پاکستان کا اندرونی دہشت گردی پر تیزی سے قابو،پاکستان میں بنائے گئے جدید ترین ایٹمی میزائل اور ڈیفنس سسٹمز کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کے علاوہ علاقائی اہمیت اور عالمی اثر و رسوخ بر داشت نہیں ہو رہا اور
Economic Corridor China-Pakistan
جیسے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے بلوچستان میں اپنے دہشت گردوں کو کلبھو شن یادیو کی شکل میں شورشیں بر پا کر نے کا حکم دے رہا ہے۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ گجرات کے نہتے مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی پاکستان کے خلاف اپنے ناپاک مقا صد میں کافی حد تک ناکام ہو چکا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس مایوسی پر شاید راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ یا کوئی انتہا پسند ہندو انفرادی حیثیت میں نریندر مودی کو ایک قربانی کا بکرابنا دے اورپھر اس کا سا را الزام 2002میں ہونے والے گودھرا ٹرین کو آگ لگانے کی طرز پر کسی گمنام بھارتی مسلمان پر لگا دیا جائے۔ یہ سَنگھ پریوار ہی تھا جس نے1984 میں اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں کے ہاتھوںقتل ہونے کے بعد صرف دہلی میںتین ہزار سے زائد سکھوں کا قتل عام کیا، دسمبر 1992 میںتاریخی بابری مسجد کو شہید کیا اور خود2007 میںسمجھوتا ایکسپریس کوپٹرول بم کے ذریعے آگ لگا کر ستر کے قریب پاکستانیوں کوزندہ جلا کر شہید کر دیا اورمنصوبے کے تحت الزام مسلمانوں پر لگا دیا۔
چاہے کوئی کتنا بھی جھٹلائے اور مسلمانوں کے خلاف شور مچائے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مطلق العنان اور سیاہ اور سفید کے مالک مُغلیہ سلطنت کے شہنشاہ اور اُن سے بھی پہلے سلاطینِ دہلی اگر چاہتے تو آج بھارت میں ایک بھی ہندو موجود نہ ہوتابلکہ اس مذہب کو صفحہء ہستی سے ہی مٹا دیا جاتا ۔ لیکن آج نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ نیپال، سری لنکا ، بنگلہ دیش، بھوٹان، فجی اور میانمار میںموجود ہندوئوں کی کثیر تعداد ایک تنگ نظر ہندو کو بھی یہ بات ماننے پر مجبور کر دیتی ہے کہ مسلمان قوم ہر گز تشدد اور انتہا پسند نہ تھی ، نہ ہے اور نہ ہی کبھی یہ درندگی کا راستہ اپنائے گی۔
شاید بہت سے قارئین اس بات سے اختلاف کریں مگر اس تمام تر بحث و مباحثہ کے بعد اختتامی الفاظ میں اس بات کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے کہ ہندو بھارت کی پاکستان دشمنی نوشتہء دیوار ہے ۔ لیکن جب پاکستان میں موجود چند بے ضمیر ،ملکی وعلاقائی اور عالمی معاملات سے بے خبر ،اپنی دھرتی کی محبت اور قدر و قیمت سے بے زار، کروڑوں مسلمانوں کے پاک خون سے نا آشنا ،اپنی تابندہ تاریخ سے لاعلم اورعاقبت نااندیش لوگ بھارت کی تمام تر پاکستان دشمنی کے باوجود سر حد پار جا کر خوشیا ں منانے اور ناچنے گانے کی آرزو کر تے ہیںتو ہر ایک محب وطن پاکستانی کا دل دکھتا ضرور ہے۔ پاکستانی نامور فنکارپاکستان کی
Soft Power
کو بڑھانے کی غرض سے بھارت ضرور جائیں مگر ان میں کلمہء حق کہنے کی جُرات بھی ہونی چاہئے۔ بھارتی شاعر سم پورن سنگھ المعروف گلزار بے شک دونوں ممالک میں امن اور دوستی کا خواب دیکھیں مگر شاید وہ بھی پروفیسر ایم ۔ایم۔ کلبرگی جیسے دیگر لوگوں کا حشر دیکھ کر جنونی اور درندہ صفت ہندو ئوں کے خلاف بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

فاٹا کا مستقبل۔ آپشنز اور خواہشات

Published in Hilal Urdu

تحریر: احسان اﷲ ٹیپو

فاٹا سے تعلق رکھنے والے ممتاز صحافی احسان اﷲ ٹیپو محسود کی فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے ایک پُرمغز تحریر

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ پچھلے سولہ سال سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ 9/11 کے بعد کے حالات نے جس طرح اس خطے کو اپنے لپیٹ میں لیا آج بھی اس سے نکلنے کی تگ و دو ہو رہی ہے۔ فطری حسن، قدرتی وسائل اور زرعی پیداوار سے مالامال اس جنت عرضی کی پہچان دہشت گردی، خودکش حملے، ڈرون، القاعدہ اور طالبان بن گئے۔ صدیوں سے یہاں پہ مقیم مقامی قبائل غیر ملکی شرپسند عناصر کے ہاتھوں یرغمال بن گئے۔ سیکڑوں کی تعداد میں قبائلی عمائدین کو قتل کیا گیا۔ مقامی اور غیرملکی دہشت گردوں کا ایسا گٹھ جوڑ بنا کہ اس سے نہ صرف ملکی بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ فاٹا کس طرح ان دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ان میں 9/11 کے فوراً بعد کے حالات کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی پس منظر بھی ہے۔


پاکستان بننے سے لے کر آج تک قبائلی علاقے کو ریاست نے نظر انداز کیا جو تھوڑی بہت توجہ ملی وہ بھی اس کی مخصوص تزویراتی اہمیت اور حیثیت کی بنا پہ ملی۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ پورا خطہ بنیادی ترقی سے محروم ہو کر صرف عسکری مقاصد تک محدود رہ گیا۔ ایک مخصوص عسکری ذہنیت کو پروان چڑھایا گیا ۔ جس کا نتیجہ پورے فاٹا میں طالبانائیزیشن کی صورت میں نکلا جو کچھ تھوڑی بہت ترقی ہوئی تھی نہ صرف وہ تباہ ہوئی بلکہ بنیادی قبائلی معاشرتی اقدار بھی درہم برہم ہوئیں ۔ فاٹا کی تقریباً 80فیصدآبادی نقل مقانی پر مجبور ہوئی۔


اسی اثنا میں جہاں پاکستانی فوج ایک طرف فاٹا میں مقامی اور دنیا بھر سے آئے ہوئے عسکریت پسندوں سے نبرد آزما تھی تو دوسری طرف پوری قبائلی پٹی میں انتہائی جامع ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جس میں سڑکیں، تعلیمی ادارے، ہسپتال، بجلی اور آب پاشی کے منصوبے اور کھیل کے میدانوں کی تعمیر شامل تھی۔ ان منصوبوں میں بیشتر یا تو مکمل ہو چکے ہیں یا تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ علاقے کی سکیورٹی کی صورت حال میں بھی کافی حد تک بہتری آچکی ہے۔ ویران گائوں، تعلیمی ادارے، کھیل کے میدان پھر سے آباد ہونے لگے ۔ لیکن ان تمام اقدامات کو تقویت اس وقت ملے گی جب فاٹا کے عوام کو بھی باقی پاکستانیوں کی طرح ملکی آئین کے تابع کر دیا جائے گا۔ ان کے بھی بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس محرومی کی سب سے سنگین مثال تقریباً ایک صدی سے لاگو فرنٹیئر کرائم ریگولیشنز ہے۔


پاکستانی آئین سے الگ ، فاٹا کا نظم و نسق ایف سی آر سے چلایا جا رہا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی علاقے میں کسی کو قتل کرے تواس کو جرم نہیں ماناجاتا لیکن اگر کسی نے سرکار کے خلاف اپنے جائز حقوق کے لئے بھی احتجاج کرنے کی کوشش کی تو اسے سنگین جرم سمجھا جاتاہے۔ فاٹا میں عوام کے مجرم کو نہیں، سرکار کے مجرم کو سزا ملتی ہے۔ کسی ایک فرد کے جرم کی سزا صرف اس کے پورے خاندان کو ہی نہیں بلکہ پورے قبیلے کو دی جاتی ہے۔ جس میں قبیلے کے کسی بھی بالغ مرد کو غیرمعینہ مدت کے لئے پابند سلاسل کرنا، اس کی جائداد اور کاروبار کو ضبط کرنا وغیرہ شامل ہے۔


دوسری طرف فاٹا میں مقیم قبائلیوں کو پاکستانی عدالتوں تک رسائی کا حق نہیں ہے۔ فاٹا کے عوام وکیل، دلیل اور اپیل کے بنیادی انسانی حق سے بھی محروم ہیں۔ سرکار کسی کو جرم بتائے بغیر گرفتار کر سکتی ہے۔کئی سالوں تک جیل میں ڈال سکتی ہے، اور سرکار کے اس فیصلے کو مدعی کسی بھی عدالت میں چیلینج نہیں کر سکتا۔ ایف سی آر جیسے جاہلانہ اور غیر انسانی قانون کی پوری دنیا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔
فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ باقی ماندہ پاکستان کے لئے تو ایوان میں قانون سازی کرسکتے ہیں لیکن فاٹا کے لئے نہیں۔ یعنی جتنے بھی بنیادی انسانی حقوق ہیں اور جن کے حصول کو یقینی بنانا ایک جدید تہذیب یافتہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے فاٹا کو پچھلی سات دہائیوں سے ان سے محروم رکھا گیا ہے۔


کچھ عرصہ قبل ایف سی آر کی کچھ شقوں کو تبدیل کیا گیا، لیکن یہ تبدیلی صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہی۔ گراونڈ پر ایف سی آر جوں کا توں موجود ہے۔ پچھلے دو تین سالوں سے قبائلیوں میں اس چیز کا شعور آگیا ہے کہ مکمل پاکستانی بننے کے لئے وہ کسی محنت سے دریغ نہیں کریں گے۔ سیاسی رہنما، قبائلی مشران، علمائے کرام، سول سوسائٹی، طلبائ، ریٹارڈ سول اور عسکری سرکاری ملازمین وغیرہ تقریباً ہر آئینی، سیاسی اور صحافتی فورم پہ پرامن طریقے سے اپنی آواز پہنچانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے بھی ایک اعلیٰ سطحی فاٹا ریفامرز کمیٹی نومبر 2015 میں قائم کی۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات اگست 2016 میں پیش کیں۔ جس میں فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ لیکن کچھ قبائلی عمائدین ، جن کی اب بھی قبائلی علاقے کی معاشرتی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حوالوں سے حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے، کی طرف سے شدید مخالفت سامنے آئی۔
فاٹا میں عوام کی طرف سے اس وقت تین طرح کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔


 خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم ہونا۔ 
 فاٹا کو ایک الگ صوبے کی حیثیت دینا۔ 
 موجودہ حیثیت کو قائم رکھتے ہوئے صرف آئینی اصلاحات کرنا۔ 


جو لوگ فاٹا کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کے حق میں ہیں ان کے کئی دلائل ہیں جس میں سرفہرست یہ کہ فاٹا کا سرکاری انتظامی ڈھانچہ پہلے ہی سے خیبرپختونخوا میں قائم ہے جن میں گورنر ہائوس ، فاٹا سیکریٹریٹ، مختلف ایجنسیوں کے متعلقہ پولیٹیکل ایجنٹس کے صدر دفاتر وغیرہ شامل ہیں۔
دوسرا یہ کہ قبائلیوں کی اکثریت پہلے ہی سے فاٹا سے منسلک خیبر پختونخوا کے بندوبستی اضلاع میں مقیم ہے ، قبائل سے مراعات لے رہے ہیں اور قبائلیوں کی یہ کثیر تعداد غیر ارادی طور پر خود کو فاٹا سے زیادہ خیبرپختونخوا کا حصہ سمجھتے ہیں ۔


فاٹا الگ صوبے بننے کی صورت میں اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ خود اپنا ریونیو جنریٹ کر سکے اور بجٹ بنا سکے۔ اپنے پائوں پہ کھڑا ہونے کے لئے اس کو کافی وقت لگے گا اور معاشی معاملات کے لئے پھر سے اسے وفاق پہ انحصار کرنا پڑے گا۔
اکثریتی قبائلی عمائدین جو کہ الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں ان دلائل کو جوابی دلائل سے رد کرتے ہیں۔
الگ صوبہ بننے کی صورت میں فاٹا کے سینٹ میں ممبران سات سے بڑھ کر تئیس ہو جائیں گے اور انضمام کی صورت میں یہی سات رہیں گے وہ بھی اکثریتی خیبر پختونخوا کی سیٹوں میں گم ہو جائیں گے ۔کیونکہ سینٹ میں ہر صوبے کو برابر سیٹیں ملتی ہیں۔
الگ صوبے کی حیثیت سے فاٹا صوبہ کو
NFC
ایوارڈ سے تقریباً 120 ارب سالانہ ملیں گے انضمام کی صورت میں یہ رقم 70 ارب تک محدود ہو گی۔


الگ صوبے کی صورت میں فاٹا کے اندر بیشتر ملازمتیں مقامی لوگوں کو ملیں گی اپنا گورنر ہو گا اور وزیراعلیٰ بھی ۔ انضمام کی صورت میں غیر قبائلی علاقے کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے ۔ اس سے مزید محرومیاں پیدا ہوں گی۔
اب وہ لوگ جو سٹیٹسں کو قائم رکھنے کے حق میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ صرف آئینی اصلاحات اور علاقے کی ترقی پہ توجہ دی جائے اس مطالبے کی اکثریت روائتی قبائلی رسم و رواج پہ سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی۔
ان کا یہ بھی اعتراض ہے کہ ہمیں اس عدالتی نظام میں جکڑا جا رہا ہے جہاں پر ایک عام مقدمے کو حل ہو نے میں دہائیاں لگتی ہے۔ جبکہ موجودہ جرگہ سسٹم سے بڑی بڑی لڑائیاں بھی مہینوں میں حل ہو جاتی ہیں۔
پٹوار سسٹم کے ذریعے قبائلی علاقے میں زمین کی تقسیم اگر شروع ہوئی تو قبیلوں کے مابین شدید لڑائیوں کا خدشہ ہے۔


میری نظر میں ان تمام مطالبات میں فوقیت اس کو ملنی چاہئے جس کی تائید اکثریتی قبائلی عوام کریں نہ کہ ماضی کی طرح اس پہ باہر سے کوئی مرضی مسلط کریں۔ طالبان نے بھی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی تھی جس کا نتیجہ تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلا۔ موجودہ حالات میں قبائلی علاقے میں جن اقدامات کی اشد ضرورت ہے ان میں آئینی اصلاحات سمیت امن و امان کو برقرار رکھنا، معاشی استحکام لانا اور متاثرین کی بہترین آبادکاری کے لئے اقدامات کرنا ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
February

مودی کے بھارت میں مفلسی کا راج

تحریر: عبد الستار اعوان

گزشتہ دنوں عالمی میڈیا پر ایک خبر گردش کرتی رہی کہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں ایک غریب شخص کو اپنی بیوی کی لاش اٹھا کر 10 کلو میٹر تک طویل سفرکرنا پڑا کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے پیسے نہ ہونے کے باعث اسے ایمبو لنس فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ریاست اڑیسہ کے علاقے کالا ہانڈی کا رہائشی دہارا ماجھی ٹی بی کی بیماری کے باعث بیوی کو سرکاری ہسپتال لے کر گیا جہاں ایک ہفتہ زیر علاج رہنے کے بعد وہ چل بسی، دہارا ماجھی نے ہسپتال انتظامیہ سے بیوی کی لاش گاؤں تک منتقل کرنے کے لئے ایمبولنس فراہم کرنے کی درخواست کی جسے رقم نہ ہونے کے باعث مسترد کردیاگیا۔انتظامیہ کی جانب سے ایمبولنس فراہم نہ کئے جانے پر دھارا ماجھی نے بیوی کی لاش کو ایک چادر میں لپیٹ کر کندھے پر اٹھایا اور60 کلومیٹر دوراپنے گاؤں کی طرف چل پڑا۔ تقریباً دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہاں کی مقامی انتظامیہ نے مذکورہ شخص کی مدد کرتے ہوئے اسے ایمبولینس فراہم کی۔اس دلخراش واقعے کی ویڈیو اور تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد پور ی دنیا میں بھارتی حکمرانوں پر شدید تنقید کی گئی ۔انہی دنوں ایک اور خبر آئی کہ بھارت میں ایک خاتون کھلاڑی نے غربت کے باعث خود کشی کرلی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط میں پوجا کا کہنا تھا کہ وہ غربت اور ہاسٹل کی فیس نہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کر رہی ہے۔ پوجا نے اپنی خود کشی کی وجہ کالج کے ایک پروفیسر کو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے مجھے ہاسٹل میں کمرہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ روز اپنے گھر سے کالج آیا کرو۔ پوجا نے لکھا کہ وہ اتنازیادہ کرایہ برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے والد ایک غریب سبزی فروش ہیں۔ بیس سالہ ہینڈ بال کھلاڑی پوجا پٹیالہ کے گورنمنٹ خالصہ کالج میں زیر تعلیم تھی اور اس کا شمار قومی سطح کے کھلاڑیوں میں ہوتاتھا۔

modikbarat.jpgقارئین ! ایسے الم ناک اوردلخراش واقعات اس ریاست میں آئے روز پیش آتے ہیں جو ہر سال اپنے دفاعی بجٹ میں بے تحاشااضافہ کرتی ہے اور دن رات اس پر جدید اسلحے کی خریداری کا بھوت سوار رہتا ہے ۔ جس وقت میں یہ خبریں پڑ ھ رہا تھا میرے ذہن میں اچانک مودی جی کا ایک بیان گردش کرنے لگا ،ایک موقع پر انہوں نے کہاتھا کہ:’’ پاکستان کو بھارت سے سیکھنا چاہئے کہ غربت اور پسماندگی سے کیسے نبرد آزماہوا جا تا ہے ‘‘۔ ایک عام آدمی مودی جی کا یہ بیان سن کر حیرت زدہ رہ جاتاہے اوروہ سوچتاہے کہ شاید انہیں اپنے ملک میں پھیلی غربت اورا فلاس کا علم نہیں یاپھر جان بوجھ کر حقائق سے آنکھیں چرانا ان کی عادت سی بن گئی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں بھی غربت پائی جاتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے زیادہ بھارت میں لوگ خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے زیادہ غربت بھارت میں ہے ۔ایک مؤقر انگریزی جریدے نے غربت سے متعلق اپنی رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا جہاں غریب طبقے کی آمدنی میں قدرے اضافہ ہورہا ہے جبکہ بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا گیا جہاں اس طبقے کی آمدنی اوسط سے بھی کم رفتار سے بڑھ رہی ہے ۔ جریدے کاکہنا ہے کہ اکیس فیصد بھارتی شہری عالمی بینک کے مقرر کردہ خطِ غربت، یومیہ 1.9 امریکی ڈالر فی کس آمدنی پر، یا اس سے نیچے، زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ پاکستان میں اس کی شرح صرف آٹھ فیصد ہے۔


ایک اور جائزے کے مطابق 26کے قریب غریب ترین افریقی ممالک میں سب سے زیادہ غریب ملک بھارت کو قرار دیا گیا ۔ اوکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو
(Oxford Poverty and Human Development Initiative)
نے اپنی ایک رپورٹ میں غربت کے حوالے سے بھارت کو پسماندہ ریاست دکھا یا ہے ۔ غربت کی پیمائش کے لئے مرتب کی گئی اس رپورٹ میں صحت ، تعلیم ، پینے کے صاف پانی تک رسائی اور بجلی کی دستیابی جیسے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ بھارت ایک پسماندہ ملک ہے۔ آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو کی ڈائریکٹر سبینا الکائرے
(Sahina ALKirey)

کہتی ہیں کہ دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی غریب براعظم افریقہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ جب ہم افریقہ کے 26 غریب ترین ملکوں سے بھارت کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں بھی لوگ اتنے ہی زیادہ غریب اور محرومی کا شکار ہیں جتنا کہ افریقہ میں ‘بلکہ بھارت میں غربت کی شدت افریقی ممالک سے کہیں زیادہ ہے اور یہ پہلو بہت چونکادینے والا اور توجہ طلب ہے۔
جدید اسلحے ، مذہبی تنگ نظری اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کی دوڑمیں شامل بھارت جیسے ملک میں پسماندگی، مفلسی اور غربت کااندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب بھارتی شہر اورنگزیب آباد اور مہاراشٹروغیرہ میں بڑھتی ہوئی غربت کے باعث مخیر حضرات کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت غریب افراد کے لئے ’’روٹی بینک‘‘ کھلنے لگے ہیں جہاں سے غریبوں کو مفت روٹی ملتی ہے۔ایسا اس لئے ہے کہ ریاست اپنے ا ن شہریوں کی بنیاد ی ترین ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ۔
ایک بھارتی جریدے نے لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام
UNDP
(یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام ) کے وضع کردہ پیمانے کے مطابق بھارت کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ عا لمی اداروں نے انسانی ترقی کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے اور غربت کے حوالے سے اعداد و شمار بھارتی حکومت کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ یو این ڈی پی کے مطابق بھارتی ریاستوں گجرات، یوپی، مغربی بنگال اور آسام کے دیہی علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔بھارت میں اقوام متحدہ کے اس ادارے کی کنٹری ڈائریکٹر نے بھارت کے قومی ادارہ برائے دیہی ترقیات کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوں تو بھارت مجموعی طور پر غربت میں کمی کے اپنے ہدف کو پورا کرنے میں لگا ہے لیکن دیہی علاقوں میں غربت و افلاس کئی شکلوں میں نظر آتا ہے، کاشتکاری کے شعبے میں حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور دیہی لوگوں کے لئے روزگار و معاشی ترقی کے مواقع توقع کے مطابق بہتر نہیں ہورہے۔


انہوں نے بھارتی حکمرانوں کے مسلمانوں سے متعلق متعصبانہ اور شدت پسندانہ رویوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں تک مذہبی بنیادوں پر غربت کا سوال ہے تو بھارت میں مسلمانوں میں یہ شرح سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں غربت کی یہ شرح آسام، اتر پردیش، مغربی بنگال اور گجرات کے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل سال 2015ء میں بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن نے بھی د عویٰ کیا تھا کہ ملک میں غریبوں کی modikbarat1.jpgتعداد میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے لیکن شہری علاقوں میں تناسب کے لحاظ سے مسلمانوں میں بدستور غربت بڑھ رہی ہے۔سروے میں مذہب کی بنیاد پر بھی معلومات یکجا کی گئی تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں مسلمان آبادی سب سے زیادہ غریب ، پسماندہ اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے ۔ نوبل انعام یافتہ اور معروف معاشی دانشور امرت سین نے نئی دہلی میں منعقد ایک پروگرام جو حکومت کی طرف سے غربا کو نقد رقم تقسیم کرنے کے منصوبے پر تھا‘کے موقع پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پیسے دینے کی یہ سکیمیں غریبوں کو غذا فراہم کرنے کے حق میں کبھی بہتر نہیں ہو سکتیں جب تک کہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس پالیسی مرتب نہ کی جائے ۔
یونی سیف
(United Nations International Children's Emergency Fund)
بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والا ایک معروف عالمی ادارہ ہے ۔ اس نے
``Children in Urban World``
کے عنوان سے جاری کر دہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ شہری علاقوں میں رہنے والے غریب بچوں کی حالت دیہی علاقوں کے بچوں سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے۔ یونی سیف نے بھارت کے بڑے شہروں میں نہایت غریب افراد پر مشتمل تقریباً پچاس ہزار گندی بستیوں کے متعلق اپنے سروے میں بتایا کہ ان بستیوں میں ہر تین میں سے ایک شخص یا توگندے نالے یا پھر ریلوے لائن کے پاس رہتا ہے جبکہ ان گندی بستیوں اور ان کے آس پاس رہنے والے بچوں کی حالت گاؤں کے بچوں سے بھی بہت بری ہے اور ان بچوں کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں ہو پاتی۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر گندی بستیاں ریاست مہاراشٹر، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور گجرات میں ہیں۔بھارت میں بڑھتی غربت اور غریب بچوں کی حالتِ زار پر توجہ دلاتے ہوئے ممبئی کے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسزکے سربراہ ڈاکٹر پرسو رام کا کہنا ہے کہ بھارت میں غربت کے سبب کم عمر بچوں کی اموات زیادہ ہوتی ہیں ۔ڈاکٹر پرسو رام کے مطابق بھارت میں تیزی سے پھیلتی ہوئی غربت سے سب سے زیادہ دلت اور مسلمانوں کے بچے متاثر ہورہے ہیں۔


قارئین ! مندرجہ بالا سطور میں ہم نے مستند عالمی اور بھارتی اداروں اور ماہرین کی چند ہوشربا رپورٹس اور تازہ خبروں کی روشنی میں نریندر مودی کے بھارت میں غربت،افلاس ، تنگدستی، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی اور پسماندگی کا ایک مختصر سا جائزہ لیا ہے، ہمارے خیال سے ان اداروں کی رپورٹس اور جائزوں کویکسر مسترد کرنا قرین انصاف نہیں ہوگا ۔ ان رپورٹس کی بابت جب پڑوسی ملک کے چند صحافیوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں پھیلی غربت اورمفلسی کے حوالے سے انہیں کافی قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس عنوان پرابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پور ی ریاست میں پسماندگی کی صورتحال اس سے بھی بری ہے،بالخصوص دیہات اور دو ر دراز کے علاقوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں۔یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ یہ حالت ایک ایسے ملک کی ہے جس کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مضبوط ترین جمہوری ، فوجی، معاشی اور اقتصادی ریاست ہے اور اگر کسی ملک نے غربت اور پسماندگی سے نبرد آزماہونا ہے تو وہ بھارت کو رول ماڈل قرار دیتے ہوئے اور اس سے کچھ سیکھ کر ان چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے ۔


بہر کیف پڑوسی ملک کی مودی سرکار اوراس کے ساتھیوں کو چاہئے کہ اپنے بھاری بھر کم فوجی بجٹ اور دہشت گرد ہندو تنظیموں کو نوازنے کے لئے مختص رقم میں سے کچھ حصہ غریبوں کی روٹی اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے بھی نکالیں۔اپنے ملک سے دہشت گرد اور تنگ نظر ہندو تنظیموں کو ختم کرکے صحت ، روزگار اور تعلیم کے معاملات پرتوجہ دینے کے ساتھ ساتھ نفرت آمیز رویوں کا خاتمہ کرکے اقلیتوں اور غریبوں کو جینے کا حق دیجئے وگرنہ زمینی حقائق یہ بتارہے ہیں کہ اگر تختِ دلی نے ان اہم بنیادی انسانی مسائل کی جانب توجہ نہ دی تو اس کی یہ مجرمانہ غفلت اس کے گلے کاپھندا بن جائے گی اور حکمرانوں کے انسانیت دشمن اور مسلم، عیسائی ، سکھ دشمن اقدامات آخر ایک دن بھارتی وجود کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔ یوں اس ریاست کے لئے اپنی بقاکی جنگ لڑنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter