13
October

چین اور علاقائی سلامتی

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان

رواں سال اگست کے مہینے میں چین کے صوبہ سنکیانگ کے دارالحکومت اُورومچی میں پاکستان، چین، افغانستان اور تاجکستان کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں پاک فوج کے سربراہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، چین کے سنٹرل ملٹری کمیشن کے رکن جنرل فینگ فنگ ہوئی افغان فوج کے سربراہ جنرل قدم شاہ شاہیم اور تاجکستان کے چیف آف سٹاف جنرل
E.A.Cobidrzoda
نے شرکت کی۔ یہ اہم اجلاس جنرل فینگ کی دعوت پر بلایا گیا تھا اور جیسا کہ اس میں شریک ممالک سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد چین کی سربراہی میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان وسیع تر بنیادوں پر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ ان دونوں خطوں میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور علیٰحدگی پسندی کے خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔ چاروں ممالک نے ان پر اتفاق کیا کہ ان دونوں خطوں کی سلامتی ، امن اور ترقی کے لئے دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانا اشد ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لئے اجلاس میں چاروں ممالک پر مشتمل ایک فورم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کے ذریعہ رکن ممالک کے درمیان نہ صرف خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا جائے بلکہ رکن ممالک کی سکیورٹی فورسز کی تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔


اگرچہ چین اور ان تین ممالک کے درمیان دہشت گردی، انتہاپسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف تعاون کے لئے دو طرفہ بنیادو ں پر پہلے ہی کئی معاہدات موجود ہیں اور ان کے تحت عملی تعاون بھی جاری ہے۔ لیکن چار ملکوں کی اعلیٰ ترین فوجی قیادت کا یہ اجلاس نہ صرف خطے میں سلامتی کے لئے بڑھتے ہوئے خدشات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی اشارے ملتے ہیں کہ تجارت اور اقتصادی تعاون کے شعبوں کو فروغ دینے کے لئے کوششوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی شعبوں میں بھی خطے کے ممالک ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں۔ جہاں تک دو طرفہ بنیادوں پر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کا تعلق ہے تو اس کی سب سے نمایاں مثال دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور چین کے درمیان جاری تعاون ہے۔ دونوں ممالک اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے نہ صرف ایک دوسرے سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں بلکہ دہشت گردوں کے حملوں کی روک تھام کے لئے پاکستان اور چین کی فوجوں کے درمیان تعاون کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس جنگ کو زیادہ موثرطریقے سے لڑنے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان متعدد مرتبہ بری، بحری اور فضائی فوجی مشقیں بھی ہو چکی ہیں۔ مئی 2013 میں چین کے موجودہ وزیراعظم لی چی کوانگ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا بیرونی دورہ تھا جس کے لئے انہوں نے جنوبی ایشیا کو منتخب کیا تھا۔ پاکستان میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہو چکا تھا تاہم کامیاب ہونے والی پارٹی یعنی پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے ابھی وزارت عظمیٰ کا عہدہ نہیں سنبھالا تھا اس کے باوجود چینی وزیراعظم کی پاکستان آمد اور نومنتخب سیاسی قیادت کے ساتھ اُن کی بات چیت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاک چین دوستی اور تعلقات پر پاکستان کے اندرونی حالات اثر انداز نہیں ہوتے۔ اپنے پاکستان کے دورے کے دوران ہی چینی وزیراعظم نے جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا وہاں انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان اکنامک کا ریڈور کی بھی تجویز پیش کی۔ اس کے علاوہ اُن کے اسی دورے کے دوران پاکستان اور چین نے سکیورٹی کے شعبے، خاص طور پر گلگت اور بلتستان میں مشترکہ سرحد پر چیکنگ اور کنٹرول کے لئے بعض اقدامات پر اتفاق کیا۔ ان اقدامات میں سرحد کے دونوں جانب سے آنے والے افراد کی چیکنگ، ویزہ کنٹرول اور غیرقانونی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لئے سرحدی چوکیوں کے قیام کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ گزشتہ تین برس میں پاکستان اور چین نے بارڈرمینجمنٹ اور کنٹرول کے شعبے میں تعاون کو کافی مضبوط کر لیا ہے۔ اب دونوں ملکوں کی سکیورٹی افواج سرحد پر مشترکہ گشت کرتی ہیں تاکہ دہشت گرد اس سرحد کو استعمال نہ کر سکیں۔


اسی طرح چین اور افغانستان کے درمیان بھی سکیورٹی کے شعبے میں تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2001 کے بعد سے چین نے اگرچہ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ بنیادوں پر تجارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کر رکھے ہیں لیکن افغانستان میں جاری جنگ اور امن و مصالحت کے قیام کے ضمن میں چین نے ہمیشہ غیرجانبدارانہ موقف اختیار کر رکھا تھا۔ تاہم افغانستان اور پاکستان دونوں کی خواہش ہے کہ چین افغانستان میں امن کے قیام میں زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی نے 2014 میں منتخب ہو کر جن ممالک کا سب سے پہلے دورہ کیا تھا اُن میں چین شامل تھا۔ چینی حکام اور خصوصاً صدر ژی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے دوران افغان صدر نے افغانستان میں چین کے فعال کردا ر کی درخواست کی تھی اور اس کے بدلے سنکیانگ میں علیحدگی پسندوں کے خلاف مدد کی پیش کش کی تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق چین میں افغان صدر کی آمد سے چند روز قبل افغان حکام نے ایک درجن کے قریب علیحدگی پسندوں کو جو افغان حکام کے دعوے کے مطابق پاکستان سے سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوئے تھے، کو چینی حکام کے حوالے کیا تھا۔ سنکیانگ میں علیحدگی پسندی کی تحریک چین کے لئے ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس تحریک کی پشت پناہی کرنے والے چند افراد امریکہ میں بھی مقیم ہیں اور چونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں کی سرحدیں سنکیانگ سے ملتی ہیں اس لئے اسلام آباد اور کابل کی طرف سے علیحدگی پسندوں کے خلاف تعاون چین کے لئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے چین نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے مقصد کے لئے تعاون میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو بڑھا دیا ہے۔ یہ تعاون چین کی طرف سے افغانستان کو مالی امداد کے علاوہ ملک میں مزید سرمایہ کاری اور افغان پولیس کی تربیت اور غیر حربی سامان کی فراہمی پر مبنی ہے۔ لیکن چین ابھی تک افغانستان میں جاری خانہ جنگی میں غیرجانبداری کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے۔ جہاں ایک طرف چین نے افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات استوار کرنے کے علاوہ افغانستان کے معدنی ذخائر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے، وہاں چین نے افغانستان کی موجودہ حکومت سے برسرپیکار افغان طالبان کے ساتھ بھی رابطہ قائم کر رکھا ہے۔

حالیہ برسوں میں چین نے بھی افغان طالبان کے ساتھ روابط میں اضافہ کر دیا ہے گزشتہ جولائی میں قطر میں مقیم افغان طالبان کے ایک وفد نے چین کا جو دورہ کیا تھا وہ ان ہی روابط کا ایک حصہ ہے اور ان کا مقصد افغانستان میں بین الاقوامی برادری، پاکستان اور افغان حکومت کے اشتراک سے امن او رمفاہمت کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ افغانستان میں قیام امن اور استحکام کو فروغ دینے میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ چارملکوں (چین، امریکہ، پاکستان اور افغانستان) پر مشتمل گروپ، جسے کوآڈری لیٹرل کوآرڈینیشن گروپ کا نام دیا گیا ہے، چین کی کوششوں سے ہی معرض وجود میں آیا تھا۔ اس گروپ کے زیراہتمام جولائی 2015 میں مری میں طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔ اگرچہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد دوسرا دور منعقد نہ ہو سکا لیکن گروپ ابھی قائم ہے اور اس میں شامل ممالک باہمی مشاورت کے لئے ملتے رہتے ہیں۔ گزشتہ فروری میں گروپ کا چوتھا اجلاس کابل میں ہوا تھا جس میں افغان مسئلے سے متعلقہ تمام فریقین سے بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ یہ گروپ اور اس کا کردار بھی علاقائی سلامتی کو فروغ دینے کی کوششوں کی ایک کڑی ہے۔ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں موثر طورپر حصہ لینے کے لئے چین نے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے اور وہ ہے یانگ ژی چی کی بطور خصوصی نمائندہ اس خطے کے لئے تقرری۔ پاکستان پر مشتمل خطے میں امن اور سلامتی سے متعلقہ جو بھی مذاکرات کیو۔ سی ۔ جی یا کسی اور فورم کے تحت ہوتے ہیں مسٹر یانگ اُن میں چین کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کرتے ہیں۔


پاکستان اور افغانستان کے علاوہ چین نے وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ بھی دو طرفہ اور کثیرالجہتی بنیادوں پر وسیع اور مستحکم تجارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ ان میں ایک فورم شنگھائی تعاون کی تنظیم ایس سی او بھی شامل ہے۔ شنگھائی تعاون کی تنظیم چین روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ پاکستان اور بھارت میں بھی بطور مستقل رکن شامل ہے۔ مستقل اراکین کے علاوہ مبصر ممالک کی بھی ایک بڑی تعداد شنگھائی تعاون تنظیم کے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے مزید دو اور ممالک یعنی افغانستان اور نیپال بھی شامل ہیں۔ اس طرح ایشیا کے ان دو بڑے خطوں یعنی جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان مختلف شعبوں مثلا ٹرانسپورٹ، توانائی، تجارت، مواصلات اور عوامی رابطوں کو فروغ دینے کے عمل کو فروغ دینے میں شنگھائی تعاون کی تنظیم ایک کلیدی کردار ادا کر نے کی پوزیشن میں آ چکی ہے اور پاکستان کے نکتہ نظر سے یہ کردار اس لئے خصوصی طور پر خوش آئند ہے کہ اس میں چین بھرپور دلچسپی لے رہا ہے۔


وسطی ایشیائی ریاستیں سابقہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے سے پہلے روس کا حصہ تھیں اب بھی ان ریاستوں کے نہ صرف سڑک ریلوے اور ہوائی سروس کے ذریعے روس کے ساتھ رابطے ہیں بلکہ معاشی اور سکیورٹی شعبوں میں بھی ریاستیں بہت حد تک روس پر انحصار کرتی ہیں۔ مثلا تاجکستان جو وسائل کے لحاظ سے وسطی ایشیا میں غریب ترین ملک سمجھا جاتا ہے کی آمدنی کا بیشتر حصہ روس میں کام کرنے والے تاجک باشندوں کی طرف سے بھیجی ہوئی رقوم پر مشتمل ہے لیکن روس کی معیشت کو درپیش مسائل کی وجہ سے اس آمدنی میں کمی آ رہی ہے اور تاجکستان کی معیشت اس سے متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورت حال میں تاجکستان کی مدد کے لئے چین نے ملک میں سرمایہ کاری کی پیش کش کی ہے اور اس سلسلے میں ابتدائی طور پر 6بلین ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے پر تاجکستان کی حکومت کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ نہ صرف رقبے بلکہ قدرتی اور معدنی وسائل کے لحاظ سے قازقستان کو پورے خطے کی معیشت اور علاقائی تعاون کے منصوبوں میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ جس طرح وزیراعظم لی نے دسمبر 2012 میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا کر سب سے پہلے جنوبی ایشیا (پاکستان اور بھارت) کا دورہ کر کے اس خطے کی چین کے لئے اہمیت کو واضح کیاتھا اسی طرح صدرژی نے بھی ستمبر 2013 میں قازقستان اور وسطی ایشیا کی دیگر ریاستوں کا دورہ کر کے اس خطے کی چین کے لئے بڑھتی ہوئی اہمیت کو نمایاں کیا تھا۔ قازقستان کے دورے کے دوران چینی صدر نے قازقستان کی حکومت کے ساتھ 5بلین ڈالر تیل فروخت کے معاہدے پر بھی دستخط کئے تھے۔ یہ تیل ایک طویل پائپ لائن جس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے کے ذریعے چین کے مغربی علاقوں میں پہنچا جائے گا۔ اس کے علاوہ قدیم شاہراہ ریشم بحال کرنے کے منصوبے وَن بلٹ ون روڈ کے تحت چین پورے وسطی ایشیا میں سڑکوں، ریلویز اور پائپ لائنوں کا ایک جال بچھانے کے لئے 16.3 بلین ڈالر کی امداد فراہم کر رہا ہے۔


وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ابھرتے ہوئے جیوپولیٹیکل نقشے کی روشنی میں ان خطوں کے ممالک کے لئے امن‘ داخلی استحکام کا قیام اور اس کے لئے دہشت گردی انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف جنگ کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے دونوں خطوں کے ممالک نہ صرف تجارت اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے لئے بھی باہمی صلاح مشورے جاری ہیں۔ تاکہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی جیسے خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ عوامی جمہوریہ چین ان کوششوں میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی طرح خطے کے دیگر ممالک نے بھی چین کے اس نمایاں کردار کو سراہا ہے۔ کیونکہ دیگر بڑی طاقتوں کے برعکس چین کی علاقائی پالیسی‘ مساوی سلوک‘ باہمی احترام‘ باہمی مفاد اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے احتراز پر مبنی ہے۔ سنکیانگ کے دارالحکومت اورومچی میں چین، پاکستان ، افغانستان اور تاجکستان پر مشتمل کاؤنٹرٹیررازم اتحاد کی ان کوششوں کی ابتدائی شکل ہے۔ امید ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے میں دونوں خطوں کے ممالک پر مشتمل اس نوعیت کا ایک وسیع تر اتحاد معرض وجود میں آ جائے گا۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

جہاں تک دو طرفہ بنیادوں پر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کا تعلق ہے تو اس کی سب سے نمایاں مثال دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور چین کے درمیان جاری تعاون ہے۔ دونوں ممالک اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے نہ صرف ایک دوسرے سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں بلکہ دہشت گردوں کے حملوں کی روک تھام کے لئے پاکستان اور چین کی فوجوں کے درمیان تعاون کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

*****

چار ملکوں کی اعلیٰ ترین فوجی قیادت کا یہ اجلاس نہ صرف خطے میں سلامتی کے لئے بڑھتے ہوئے خدشات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی اشارے ملتے ہیں کہ تجارت اور اقتصادی تعاون کے شعبوں کو فروغ دینے کے لئے کوششوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی شعبوں میں بھی خطے کے ممالک ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں۔

*****

افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں موثر طورپر حصہ لینے کے لئے چین نے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے اور وہ ہے یانگ ژی چی کی بطور خصوصی نمائندہ اس خطے کے لئے تقرری۔ پاکستان پر مشتمل خطے میں امن اور سلامتی سے متعلقہ جو بھی مذاکرات کیو۔ سی ۔ جی یا کسی اور فورم کے تحت ہوتے ہیں مسٹر یانگ اُن میں چین کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کرتے ہیں۔

*****

وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ابھرتے ہوئے جیوپولیٹیکل نقشے کی روشنی میں ان خطوں کے ممالک کے لئے امن‘ داخلی استحکام کا قیام اور اس کے لئے دہشت گردی انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف جنگ کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے دونوں خطوں کے ممالک نہ صرف تجارت اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے لئے بھی باہمی صلاح مشورے جاری ہیں۔ تاکہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی جیسے خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔

*****

 
08
September

Iran-Pakistan: An Optimistic Analysis

Written By: Didier Chaudet

Regardless of how the diplomatic links may evolve over time, Iran and Pakistan have many reasons to be friendly towards one another. And the reasons for that are so much connected to each nation’s interests that it should help overcome any problem between the two countries.


Tehran and Islamabad have fierce competitors/enemies in their respective regional environments. For Iran it is very clear that Saudi Arabia is now a fierce competitor: Riyadh is concerned over Iran’s possibility to rise to the point of becoming the main regional power in the Middle East, or at least a force able to counter any policy deemed negative from an Iranian point of view. On important issues like the Syrian war, stability in Iraq, civil war in Yemen, the nuclear question in Iran, even on an economic front related to oil prices, Saudis and Iranians strongly oppose one another. The only country in the region as afraid as Saudi Arabia by Iranian ambitions is Israel. Israelis and Saudis will continue to oppose Iranians in the years to come, as long as Iran is an independent nation eager to be a true regional power, influential in the Middle East. Moreover, Turkey and some Arab nations linked to Saudi Arabia do not see Iran as a possible partner. It means that on its Western flank, the Persian nation cannot count on friendly relationships to secure its borders. Its only true friends, Iraq and Syria, are very weak states with problems of their own. In such a situation, it is very important for Tehran to secure its other borders. A good relationship with Pakistan is key to secure its Eastern flank.

 

iranpak.jpgAs for Pakistan, it has only two real threats for its national security: India and Afghanistan. From India the direct threat is a classic one, coming from an unfriendly state. Afghanistan is a more complex issue; even if some Afghan official structures can be used for anti-Pakistan activities, the main problem coming from the north is the fact that Afghanistan is a very weak state. Hence anti-Pakistan terrorist groups like TTP can find in Afghanistan a safe haven, and radical elements, as well as criminal groups, can use the Afghan chaos to their advantage (most importantly by financing themselves, thanks to drug trafficking). The borders with India and Afghanistan are problematic, to say the least: Kabul refuses to recognize the “Durand Line”, whichever regime is in charge (the Taliban included); and as long as there is no real compromise on Kashmir, Pakistan’s “Alsace-Lorraine”, tensions in India-Pakistan will remain high.


In comparison, there is no such level of tension between Islamabad and Tehran. Of course, there are some issues regarding Baloch separatists/terrorists. But in fact, Pakistan and Iran need to help each other to make sure their Baloch territories are secure, and to oppose sectarian tensions in both countries. The Iranian Baloch separatist and terrorist group, Jundallah, which was very active against Iran security forces in Sistan-Baluchestan during the second half of the decade 2000 has been decapitated. There are some tensions between Pakistanis and Iranians at the border, sometimes. Both sides cannot hermetically close a 900-km border, hence terrorists do between Iran and Pakistan what they do between Afghanistan and Pakistan: switching from one country to the other in order to strike and avoid capture. Peace in the Baloch areas in Pakistan and Iran will continue to need a solid counter-terrorism cooperation between the two countries.


Peace in Afghanistan can only be possible if Iran and Pakistan work together. The U.S. has been unable to win the peace in this country even after 14 years of presence. It is linked, in no small part, to the fact that it refused to accept this country’s geography. Afghanistan is not an island, what happens there is strongly linked to its regional environment. In particular Pakistan and Iran are the two countries that have the strongest historical, cultural, economic and human links with Kabul. But for ideological reasons the W. Bush administration refused to cooperate with the Islamic Republic of Iran. Despite this, American security services were able to build a link with the Northern Alliance. After the disastrous speech about “Axis of Evil” (2002), pinpointing Iran as an enemy, the only logical move for the U.S. should have been to treat Pakistan as the very important ally it was, in order to best deal with the Afghan issue. Indeed, if Iran has strong influence in few parts of Afghanistan, Pakistan has had strong links with the Pashtun-dominated areas. But it seems that power-brokers in D.C. thought that after 9/11, Pakistan would forget its own particular security concerns and geopolitical interests in the name of the American “War on Terror”. It explains in a nutshell why has there been friction between Americans and Pakistanis since 2002. And now, because of the nature of U.S. ideological approach to the Afghan conflict, the Afghan regional environment is still in danger of a spillover of the Afghan problems. Iran and Pakistan have both been working hard to make sure their reach in Afghanistan goes beyond their usual areas of influence. They both accepted the fact that peace will be possible only by negotiation and compromise with the Taliban. They both need more stability in Afghanistan in order to make sure the Chinese economic projects towards its west become reality, as it will mean trade opportunities for the whole region. Hence, in the coming years, if Tehran and Islamabad focus on their own self-interest, they will have a growing relationship, partly based on common interests in Afghanistan, knowing only they together can bring peace to this difficult neighbour.


Could Particular Obstacles Hurt the Iran-Pakistan Relationship?
Hence from what one can see, Iran and Pakistan could easily have a good relationship, in the name of their respective self-interests. Does it mean that friendship will always dominate the bilateral relationship or that said relationship will necessarily be easy to manage? Of course not:


• The relationship between Iran and India, or between Pakistan and Saudi Arabia or the U.S., could have a negative impact on the links between Iran and Pakistan.
• There is a risk that terrorists, or some external actors, might try to push the two countries to oppose each other.
• There are, broadly speaking, possibilities of misunderstandings that could bring tensions. It is not uncommon in a regional environment where security-related and geopolitical tensions are so numerous.
Problems related to misunderstandings are real. In the two countries, some policy-makers and analysts might have more prejudices than knowledge about their nation’s neighbour. It is actually striking to see that same journalists and academics in the two countries have been influenced by the American approach towards their countries. Hence some Iranian experts might copy their American colleagues on the Afghan issue, and some Pakistani academics might see the Iranian regime as “irrational”, an approach that comes straight from some influential American think tanks and media. Besides, some local sectarian actors might want to use those prejudices to push the two countries to oppose each other. Such risks will have to be taken into account without being exaggerated. It is common to hear a rather positive analysis about Iran from experts in Pakistan. And there is a general understanding in Iran that to picture Islamabad as an enemy would not only be wrong but it would be counterproductive for Iran’s national interests.


But what about Pakistan’s relationship with Saudi Arabia, Iran’s arch competitor in the Middle East? Or Iran’s friendship with India, the main security problem for Pakistan? Here a careful analysis can help us not to fall into a Manichean vision of international relations.


Indeed, Pakistan and Saudia have a strong historical relationship. Riyadh has opposed the secession of East Pakistan becoming Bangladesh in 1971 and it was an important ally against the Soviet invasion of Afghanistan in the 1980. It has been financially generous more than once, and Pakistan Army has been a protective force for the Kingdom at least since 1982, when a military protocol was signed between the two countries. A former Pakistani Ambassador to the Kingdom, Naeem Khan, once famously said that for the Pakistani leadership, such strong links make Saudi security a personal matter for his country. But it does not mean that Saudi Arabia controls the Pakistani military or civilian elite. A clear proof of that was when Pakistan refused to be part of the Saudi war on Yemen.


Hence, it would be a caricature to imagine a Riyadh-Islamabad “axis” against Iran. And it would be equally wrong to imagine a New Delhi-Tehran alliance against Pakistan. India and Iran have a rather friendly relationship, but it is a pragmatic one: the Indians are interested in Iran’s oil and gas, the Iranians are interested in India as a market. But none of them want an alliance. Indeed, for India, one of the most important countries in the Middle East is, in fact, Saudi Arabia. Like Pakistan, it wants to find a diplomatic equilibrium between the two Middle Eastern countries. And it is common sense for the Indians to think this way: Saudi Arabia alone is one-fifth of this country’s oil imports, it is its major supplier in crude oil. In the name of realpolitik, besides Saudi Arabia, the other important partner for the Indians in the Middle East is Israel, Iran’s arch enemy. Last, but not least, India did not hesitate to push aside its traditional “friendship” with Iran when it was pressured by the U.S. to do so, under the W. Bush administration in particular. Even under Obama, the Indians made clear which friendship they valued the most: it explains why they abandoned the idea to be linked to Iran’s gas, thanks to a “Peace Pipeline” between Iran, Pakistan and India, in 2009. The American-Indian bilateral relationship is much more important to New Delhi than any supposed friendship with the Islamic Republic of Iran. But the latter also showed that it would not sacrifice its relationship with Pakistan or with China in the name of an alliance that actually does not exist.


Actually the only real obstacle for a positive analysis is the use by a third actor, at the border between Iran and Pakistan, of tensions that might arise. From what one can say reading open sources, it appears that the terrorist/separatists from Sistan-Baluchestan have been no more than a few hundreds. And thanks to Pakistan’s help to track down their leadership, they have lost the unity they got for a while being under the group called Jundallah. Hence they do know that they cannot break Tehran’s control on Iranian Baluch lands by guerilla tactics or terrorism. But if they can make the Iranian military at the border tense enough by attacking them and then retreating inside Pakistani territory, they would get a chance to push the two countries to oppose each other, may be violently. And indeed, there has been some clashes at the Iran-Pakistan borders, and Pakistani Baloch citizens complained of Iranian bombing and intrusion. The same way Iran regularly asks Pakistan for more action at the border to stop terrorists to hide in Pakistan after striking in Sistan-Baluchestan. But one can only notice that even during strong tensions, the two countries have been able to stay rational and avoid a spiral of violence. Security-related cooperation at the border seems to have grown strongly over the last two years, despite one-off issues. And actually very recently, the fear of the threat caused by Daesh has pushed the two countries to strengthen their relationship.


Of course, Iran and Pakistan need to be careful of the fact that it is not only the non-state actors who can try to create problems at their common border. There have been rumors coming from Iran, that the USA helped Jundallah in the past. There is no proof of this, and even if it was during the W. Bush administration, such a support would have been a short-sighted move as the so called jihadist group was weak and strongly connected to criminal elements running the regional drug smuggling. But it appears that there are such rumors for a reason: as explained in the very serious Foreign Policy journal, in the article “False Flag” (January 13, 2012), the “CIA agents” who tried to recruit the Jundullah to support destabilization inside Iran were in fact Mossad agents. Israel and Iran are strongly opposed to each other, so the analysis and the information given in this important article were not totally news. But it confirmed the fear that a third state would not hesitate to use destructive forces at Iran-Pakistan border for information or geopolitical gain. Even if little information emerged on Iran’s recent answer about RAW’s activity in Chabahar, also in Sistan-Baluchestan, the very fact that there was an answer to Islamabad by Tehran, gives at least the impression that the Iranians and the Pakistanis see eye-to-eye on this subject. If the Iranians had not believed the Pakistani point of view on the Indian services in Sistan-Baluchestan, it would have been easy to leak such information to the local or international media. It is a testimony of Iran-Pakistan strong relationship that despite what is known by Iran and Pakistan of RAW’s and Mossad’s activities, the two countries have chosen dialogue and cooperation rather than trading accusations. It is a symbol of diplomatic maturity that augurs well for the future.


Hence it appears that naturally, Iran and Pakistan could have a good, friendly relationship. But it is said that it takes two to tango. It means that nothing can happen without the will of the two entities make it work. The Pak-Iran relationship is no exception. It is in their own interest, actually, to build stronger links, may be to the point of a strategic relationship. But the fact that there is much to gain for those two neighbours to be friendly with each other does not mean there is no need for any particular effort. Here the said effort would be, in fact, particularly simple: there is a need of political will from the leaderships of the two countries. The idea of political will includes being strong enough to avoid the lobbying of a third party who would benefit from tensions between Iran and Pakistan. If the leaderships in Islamabad and Tehran are able to achieve to build at least a relationship based on limited trust and efficient cooperation, it would mean economic and security-related gains of great importance for those two important nations. And a better defence of national interests.

 

The writer is Editing Director of CAPE (Center for the Analysis of Foreign Policy). He is also a non-resident Scholar for IPRI (Islamabad Policy Research Institute). He is a specialist on geopolitical/security-related issues in Central Asia and South-West Asia (Iran, Afghanistan, Pakistan).

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
October

مسئلہ کشمیر، چند تاریخی حقائق

تحریر: محمد اویس الحسن خان

جنت نظیر وادئ کشمیر کے بارے میں زبانِ زد عام سیکڑوں کہانیوں اور کہاوتوں سے قطع نظر تاریخی طور پر یوسف شاہ چک وہ آخری کشمیری حکمران تھا جسے مغلوں نے شکست دے کر کشمیر فتح کیا۔ جب18ویں صدی عیسوی میں مغلیہ شہنشاہیت کا سورج غروب ہونے لگا تو افغانوں نے درانی عہد میں کشمیر ان کے ہاتھوں سے چھین لیا۔ بعد میں یہی افغان سکھ فوج سے شکست کھا گئے اور یوں کشمیر پر سکھوں کی حکومت قائم ہوگئی۔ انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے بہروپ میں ہندوستان میں اپنے قدم جما چکے تھے۔ سامراجی عزائم کے تحت انہوں نے جب کشمیر پر حملہ کیا تو سکھ ان سے شکست فاش کھانے پر مجبور ہوگئے لیکن انگریزوں کو دقت یہ پیش آئی کہ وہ اس خوبصورت وادی کا کیا کریں گے کیونکہ اس وقت ان کے پیشِ نظر بر صغیر پر مکمل قبضہ کرکے یہاں کے وسائل کو لوٹ کھسوٹ کرکے جدید صنعتی انگلستان کی ترقی یقینی بنانا تھا۔ اسی باعث انہوں نے سکھوں سے بطور خراج وادی کے عوض ڈیڑھ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا لیکن سکھ اتنی بڑی رقم کا بندوبست نہ کر سکے اور وادی کا قبضہ انگریزوں کو دے دیا۔انگریز سکھ جنگ کے دوران ایک سکھ جرنیل نے اپنی قوم سے غداری کا ارتکاب کرتے ہوئے انگریزوں کی مدد کی تھی جس کے باعث انگریز جنگ جیتنے میں کامیاب رہے تھے اس لئے انگریزوں نے اس غدار سکھ جرنیل کو نوازنے کے لئے بدنام زمانہ معاہدے کے تحت16 مارچ 1846 کو جنت ارضی اور اس میں بسنے والے لاکھوں زندہ انسانوں سمیت محض 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض بیچ دی۔ اس غدار سکھ جرنیل کا نام گلاب سنگھ تھا جو کہ ڈوگرہ قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔ گلاب سنگھ (1846-1857)کے بعد رنبیر سنگھ (1857-1885)، پرناب سنگھ (1885-1925) اور ہری سنگھ (1925-1949) حکمران بنے۔ تقسیم بر صغیر کے وقت آخر الذکر مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر کا حکمران تھا جس کی نا عاقبت اندیشی اور جاہلیت کے باعث آج تک کشمیر جنت ارضی ہو کر بھی بھارتی افواج کی دہکائی ہوئی دوزخ میں جل رہا ہے۔ اس بارے میں تفصیلی روشنی ڈالنے سے پہلے کشمیر کا جغرافیہ اور اس کی تزویراتی اہمیت کا اجمالی تذکرہ کر دیا جائے تو مناسب معلوم ہوگا۔ ریاست جموں و کشمیر بنیادی طور پر 7 بڑے ریجنوں پر مشتمل رہی ہے۔

maslakash.jpgوادی کشمیر، جموں، کارگل، لداخ، بلتستان، گلگت اور پونچھ شامل ہیں۔ جن میں ان کے علاوہ درجنوں چھوٹے چھوٹے ریجنز بھی موجود ہیں جن کو ملا کر ریاست کا کل رقبہ84ہزار471مربع میل بنتا تھا۔ یہ ریاست دنیا کے تین عظیم الشان پہاڑی سلسلوں یعنی قراقرم، ہمالیہ اور کوہ ہندو کش سے منسلک تھی۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی کشمیر اس مقام پر واقع ہے جہاں پر اس کی سرحدیں دنیا کے اہم ملکوں یعنی پاکستان، بھارت، چین اور افغانستان سے بھی ملتی ہیں۔

14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا ۔ 15 اگست کو مہاراجہ ہری سنگھ نے

Stand-Still Agreement

پیش کیا۔پاکستان نے اسے بلا تامل قبول کر لیا لیکن بھارت نے روایتی مکاری کے سبب اس کو قبول نہ کیا۔ حقیقت یہ تھی کہ مہاراجہ اور بھارتی حکومت نے آپس میں مکارانہ ساز باز کر رکھی تھی اس لئے کشمیر کی ریاست اپنے مسلمان عوام پر بالخصوص مظالم کے پہاڑ ڈھاتی تھی۔ کشمیری مسلمانوں نے جب اس جبر کے خلاف آواز اٹھائی تو مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج اور پولیس نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے اور بے دریغ قتل عام کیا۔ اس پر محسود اور آفریدی قبائل کے جانباز جنگجوؤں نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے وادی میں گھس کر جہاد شروع کر دیا اور 22 اکتوبر 1947 کو جب بحران پونچھ شروع ہوا تو وہ بارہ مولا تک پہنچ گئے ۔بزدل مہاراجہ نے گھبرا کر بھارت سے مدد مانگ لی۔جس پر پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق بھارت نے الحاق کا مطالبہ کر دیا ۔مہاراجہ نے سازباز کے عین مطابق وادی کے عوام کی رائے کے بالکل برعکس وادی کا الحاق بھارت سے کردیا۔ جس کو جواز بنا کر پہلے سے تیار بیٹھی بھارتی افواج فوراً وادی میں گھس گئی اور بدترین قتل و غارت گری شروع کر دی ۔ بعض اہم محققین کے مطابق بھارتی فوج الحاق کے اس ڈاکومنٹ پر دستخط سے پہلے ہی کشمیر میں داخل ہو چکی تھی جو کہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جس پر بعد میں پاکستان اور بھارت کی جنگ چھڑ گئی ۔ پاکستانی افواج نے کشمیری مجاہدین کی مدد سے آزاد کشمیر کا علاقہ واگزار کرا لیا جبکہ گلگت بلتستان نے پاکستان سے الحاق کے لئے اپنی جنگ خود لڑی۔ ابھی یہ جنگ جاری تھی کہ بھارت کو صاف لگا کہ وادی اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی تو وہ بھاگم بھاگ روتا پیٹتا یکم جنوری 1948 کو اقوام متحدہ جا پہنچا اور جنگ بندی کی اپیل کر دی ۔ 17جنوری کو سلامتی کونسل نے جنگ بندی کی قراد داد پاس کردی۔ جنگ بند ہوگئی۔ لائن آف فائر سیزفائرلائن قرار پائی۔20 جنوری کو پاکستان بھارت کمیشن بنا دیا گیا ۔ 5 اگست 1948 اور یکم جنوری 1949 کی قراردادوں کی روشنی میں پوری ریاست کشمیر کو متنازعہ علاقہ قراد دیا گیا ۔ کمیشن نے بھی اپنی سفارشات پیش کیں جس کی رو سے دونوں ممالک کو اپنی اپنی افواج کو وادی سے نکال لینے کا کہا گیا تاکہ کشمیر میں آزادانہ حق خود ارادیت کے انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے ۔ پاکستان نے اس بات کو قبول کیا لیکن بھارت نے روایتی چالاکی و مکاری کا مظاہرہ کیا اور لیت و لعل سے کام لیا۔اقوام متحدہ کی 17 اپریل 1948، 13اگست 1948، 5جنوری 1949 اور 23 دسمبر 1952 کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور قرار یہ پایا کہ استصواب رائے کے تحت کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے گا۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ مہاراجہ کی پیش کردہ جس دستاویز کے تحت بھارتی افواج کشمیر میں گھس گئی تھیں اس دستاویز کی بھی بنیادی ترین شق یہ تھی کہ جونہی کشمیر سے مسلمان قبائلی جنگجوؤں کو نکالا جائے گا تو بھارتی افواج بھی کشمیر کو خالی کر دیں گی۔

maslakash1.jpg

تب کشمیر میں بذریعہ ریفرنڈم عوام کی رائے معلوم کی جائے گی جس کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا ۔لیکن ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے کے مصداق چاہے وہ دستاویز ہو یا اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادیں، بھارت نے کسی ایک کو بھی درخوراعتنا نہیں جانا بلکہ ہٹ دھرمی اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کا استحصال جاری رکھے ہوئے ہے اور ریاستی اداروں کی بربریت اور سفاکیت کی وہ مثالیں قائم کی ہیں کہ دنیا چنگیز خان اور ہلاکو خان کی درندگی بھول بیٹھی ہے۔ یکم جنوری 1949 کو بھارت پاک جنگ کا سیز فائر ہوا۔65% رقبے پر بھارت نے قبضہ کر رکھا ہے جبکہ باقی ماندہ حصہ پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ 1971کی جنگ کے بعد شملہ معاہدہ کے تحتسیزفائر لائن کو ہی لائن آف کنٹرول کا درجہ دے دیا گیا ۔1957 میں بھارت نے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں اور مسلمہ و مروجہ بین الاقوامی ضابطوں اور اصولوں کو نہایت بے شرمی کے ساتھ پس پشت ڈال کر اپنے دستور میں ترمیم کردی اور شق 370 کے تحت کشمیر کو دستور کا حصہ بنا کر اسے خصوصی حیثیت دے دی ۔جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کی سیاسی مخاصمت میں اضافہ ہوگیا جو بالآخر 1965 کی جنگ کا سبب بنا۔یکم فروری 1966 کو معاہدہ تاشقند ہوا اور جنگ بندی ہوگئی۔ 1971 کی جنگ براہ راست کشمیر کے مسئلے کے باعث تو نہیں ہوئی لیکن اس کے تانے بانے اسی پیچیدہ مسئلے سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ بھارت نے اپنی روایتی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں ننگی جارحیت کا ارتکاب کیا اور یوں پاکستان کا مشرقی بازو اس سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش کے نام سے ابھرا۔ 1947 سے 1980 تک پھر 1980 سے 1989 تک بھارت نے کشمیر میں مکروہ سیاسی کھیل کھیل کر کشمیری عوام کو بہلانے پھسلانے کے کئی گھناؤنے حربے استعمال کئے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا کشمیری عوام پر بھارتی بدنیتی کھلتی چلی گئی اور وہ اس گندے کھیل کو بہتر طور پر سمجھنا شروع ہوگئے۔ بھارت نے اس دوران وہاں کے ابن الوقت سیاست دانوں کو خرید کر کٹھ پتلی حکومتیں بنائیں لیکن وہ عوام کے دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔1989 میں کاروان آزادی کچھ ایسی آن بان اور شان سے از سر نو عازم،منزل،آزادی ہوا کہ ساری دنیا اپنی آنکھیں مل مل کر دیکھنے پر مجبور ہوگئی۔آزادی کے متوالوں نے سر پر کفن باندہ لئے اور اس راہ دشوار کی ہر تکلیف کو نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کرنے لگے۔دوسری طرف بھارتیوں نے اپنی درندگی اور سفاکیت کی انتہا کردی۔ آٹھ لاکھ فوج تعینات کر کے اس کو ہر طرح کے ستم کی کھلی چھٹی دے دی۔ جس نے ہزاروں عفت مآب خواتین کی عصمت دری کے نہایت مکروہ اور گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا اور نوجوان کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ بچوں،بوڑھوں الغرض ہر طبقہ فکر کے لوگوں کی جان و مال کو فوجی بوٹوں اور بندوقوں کی سنگینوں پر رکھے ہوئے ہے۔ کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں۔

 

سترہ سال پہلے ایک بار پھر یہی مسئلہ کشمیر چوتھی پاک بھارت جنگ یعنی جنگ کارگل کا سبب بنا۔اس جنگ میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔ مئی 1998 میں دونوں ممالک ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی ملک بن چکے ہیں۔جبکہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرجُوں کا تُوں موجود ہے ۔یہ دنیا کا وہ واحد مسئلہ ہے جو 69 برس گزر جانے کے بعد بھی حل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نہایت پیچیدگی کا رخ اختیار کر گئے ہیں۔ یوں پوری دنیا ایک ممکنہ ایٹمی جنگ کے سنگین خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔ یہ سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ لاکھوں زندہ انسانوں کے بنیادی حقوق کی بات ہے۔ایک طرف غاصب بھارتی افواج ہیں جو لاکھوں کشمیریوں کو ریاستی دہشت گردی کے تحت غلام بنانے پہ تلی ہوئی ہیں اور ایک لاکھ سے زائد کشمیری جوانوں کا قتل بھی کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مالی نقصان اور املاک کے نقصان کا کچھ حساب و شمار نہیں۔ تازہ ترین بہیمانہ تشدد کے واقعات میں بے گناہوں کا ماورائے عدالت قتل عام کیا جا رہا ہے اور اس وقت پوری وادی بھڑکتی ہوئی دوزخ بنا دی گئی ہے۔ جبکہ ان سارے دہشت گردانہ اقدامات کے باوجود کشمیری بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کے جذبہ حریت کو سرد نہیں کیا جا سکا۔انتہا تو یہ ہے کہ خود بھارتی سیاستدان بھارتی حکومت پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔گانگریسی رہنما راہول گاندھی بے اختیار چیخ اٹھا کہ خدا مودی کو جہالت سے نجات دے۔ یہی وہ بھارتی جہالت اور دہشت گردی پر مبنی کارروائیاں ہیں جنہوں نے جنت ارضی کو دوزخ بنا رکھا ہے اور وہ پچھلے 69 سالوں سے کشمیریوں کے جان و مال سے سنگین کھیل کھیل رہے ہیں اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت، دینے سے انکاری ہیں۔ حالیہ بدترین ریاستی تشدد پر او آئی سی سمیت اقوام عالم کے سب سے بڑے ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی آواز بلند کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جائے۔ غیور کشمیری عوام نے لاکھوں جانوں اور عصمتوں کی بے مثال قربانیاں دے کر دنیا کو بتلا اور دکھلا دیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی انسانی حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ چاہے انہیں اس کی کتنی ہی قیمت چکانی پڑے۔ پاکستان کشمیریوں کی تحریک کو بنیادی انسانی حقوق کی تحریک سمجھتا ہے اور مظلوم بے بس کشمیریوں کی ہر اخلاقی مدد کو اپنا فرض عین گردان کر دنیا بھر میں ان کے حق کی پر زور وکالت بھی کرتا ہے۔ آج کے اس اکیسویں صدی کے سبھی مہذب معاشروں اور نمائندہ پلیٹ فارمز کا اولین فرض ہے کہ وہ اس دہائیوں پرانے انسانی مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرا کر انسانیت کے ماتھے سے رسوائی کا داغ مٹا دیں اور دنیا کو ممکنہ ایٹمی جنگ کے خطرے سے نجات دلائیں۔ ایسا کرنے میں کشمیری عوام کی تو بھلائی ہے ہی ہے ساتھ ساتھ پاکستان بھارت اور دنیا بھر کے انسانوں کو ایٹمی جنگ کی ہولناکیوں سے بھی بچانے کا راز بھی مضمر ہے۔

مضمون نگار حالات حاضرہ سے متعلق موضوعات پر لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بھارتیوں نے اپنی درندگی اور سفاکیت کی انتہا کردی۔ آٹھ لاکھ فوج تعینات کر کے اس کو ہر طرح کے ستم کی کھلی چھٹی دے دی۔ جس نے ہزاروں عفت مآب خواتین کی عصمت دری کے نہایت مکروہ اور گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا اور نوجوان کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ بچوں،بوڑھوں الغرض ہر طبقہ فکر کے لوگوں کی جان و مال کو فوجی بوٹوں اور بندوقوں کی سنگینوں پر رکھے ہوئے ہے۔ کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں۔

*****

اقوام متحدہ کی 17 اپریل 1948، 13اگست 1948، 5جنوری 1949 اور 23 دسمبر 1952 کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور قرار یہ پایا کہ استصواب رائے کے تحت کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جا ئے گا۔

*****

 
13
October

سوشل میڈیا۔ منفی پروپیگنڈے سے ہوشیار رہئے

تحریر: خاور سعید

جب سے نریندر مودی کی بھارت پر حکومت آئی ہے تب سے اس نے اپنے مقرر کردہ دفاعی مشیروں کی مشاورت سے پاکستان کے خلاف ’جارحانہ دفاع‘ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ اس پالیسی کی بازگشت ہمیں قبائلی علاقہ جات، کراچی اور بلوچستان میں مسلح دہشت گرد جتھوں کی صورت میں، پشاور، کوئٹہ، سوات، چارسدہ، مردان وغیرہ میں دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی صورت میں، مذہبی عناصر کی آڑ میں فرقہ وارانہ کارروائیوں کی صورت میں، معاشی معاشرتی ثقافتی و صحافتی حملوں کی صوت میں، علاقائی و قومیت پرستی کے انتہا پسندانہ رجحانات کو بڑھاوا دینے کی صورت میں اور پڑوسی ممالک سے ٹکراؤ کروانے کی حکمت عملی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ مگر آپریشن ضرب عضب، کلبھوشن نیٹ ورک کا خاتمہ اور کراچی میں سیاسی جماعتوں کی آڑ میں دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نپٹ کر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ہندوستانی جارحانہ دفاع کی پالیسی کو تقریباً ناکام بنا چکے ہیں۔

 

اس جارحانہ دفاع کی پالیسی کا ایک جزو جھوٹا پروپیگنڈا کرنا بھی ہے۔ اس حکمت عملی کی بنیاد اس سادہ اصول پر رکھی گئی کہ جھوٹا پروپیگنڈا کرو اور اس نفاست اور جارحانہ انداز سے مسلسل پروپیگنڈا کرو کہ سچ لگنا شروع ہو جائے۔ اس حکمت عملی پر عملدرآمد کے لئے بھارت سرکار نے اپنی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کو لامحدود فنڈز مہیا کئے ہیں اور یہ انڈین خفیہ ایجنسی بھرپور طریقہ کار سے ان فنڈز کا استعمال کرتی بھی رہی ہے اور ابھی بھی جارحانہ انداز سے کر رہی ہیں۔اس حکمت عملی کی بنیاد چار ستونوں پر رکھی گئی ہے۔

soicialmed.jpg

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پروپیگنڈے کی حکمت عملی کی تربیت دینے کے لئے جن اصولوں کومدنظر رکھا گیا ہے ان میں سوشل میڈیا پر مقامی ذات اور قبائلی ناموں سے جعلی آئی ڈیز بنانا، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے لئے صفحات اور گروپ بنانا، سوشل میڈیا پر ٹارگٹ بنائے گئے لوگوں کے بارے میں منفی اشتہارات بنانا، سوشل میڈیا پر سنسنی خیز مواد لکھوا کر پروپیگنڈا کرنا، پروپیگنڈے میں تیزی کے لئے تصاویر اور ویڈیوز کو گرافکس کی مدد سے بڑھاچڑھا کر سوشل میڈیا پر پیش کرنا، پوری حکمت عملی کو اپ ڈیٹ پالیسی کے مطابق نئی شکل دینا اور ہدف بنائی گئی نوجوان نسل سے براہِ راست بات چیت کرنا کہ وہ پروپیگنڈا مہم کو ایک عظیم مقصد سمجھ کر اس کا حصہ بنیں، شامل ہیں۔

 

اس حکمت عملی کے پہلے تین ستونوں پر جارحانہ انداز سے عملدرآمد کے لئے شروعات میں انڈین خفیہ اداروں کو جز وقتی کامیابی ملی مگر پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی اور کاری ضرب سے ریاست پاکستان کی حدود کے اندر مسلسل ناکامی سے دو چار اور لاچار رہے۔ (تاہم بیرونی ممالک میں اینٹی پاکستان حکمت عملی پر اپنے تنخواہ دار کارندوں اور ایجنٹس کے ذریعے را ابھی تک مصروف ہے۔) خطے میں جاری پراکسی وار کی صورت حال کو اگر مدنظر رکھا جائے تو دشمن ممالک کے خفیہ ادارے پاکستان کے بارے میں پروپیگنڈے کے لئے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پالیسی کو جارحانہ انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس پروپیگنڈا حکمت عملی کے لئے بے پناہ فنڈز مخصوص کئے گئے ہیں اوربہت بڑی سرمایہ کاری بھی کی گئی ہے۔ پاکستان کے خلاف سب سے مہلک اور زہریلا پروپیگنڈا سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔ کیونکہ اول تو اس کی پہنچ اور دسترس ہر عمر کے افراد بالخصوص نوجوانوں تک بذریعہ سمارٹ فون ہو چکی ہے۔ دوسرا یہ آزادانہ ذریعہ اطلاعات و نشریات ہے کہ جس پر کوئی سنسر شپ نہیں کوئی پابندی نہیں اوراس کے ذریعے چوبیس گھنٹے مسلسل پروپیگنڈا ہو سکتا ہے۔ اور ماضی میں کیا گیا تمام پروپیگنڈا محفوظ بھی رہتا ہے نیز اس وجہ سے بار بار اور ہمیشہ ہر وقت اس پروپیگنڈا کی اثرانگیزی رہتی ہے۔

 

اس مقصد کے لئے تقریباً پانچ سو ایسے پڑھے لکھے انڈین نوجوانوں کو سوشل میڈیا پروپیگنڈا کی تربیت دے کر ملازمتیں دی گئیں جن کو اردو اور انگلش لکھنے پڑھنے سمجھنے اور سمجھانے پر عبور حاصل ہے۔ اس کے علاوہ کچھ کو پنجابی، سندھی، بلوچی، براہوی اور پشتو جیسی مقامی زبانوں پر عبور ہے۔ دو سو سے زائد بیرون ملک مفرور اور پوشیدہ ہاتھ دہشت گرد تنظیموں کے کارکنان قائدین اور میڈیا مینجمنٹ سیلز بھی اس انڈین فنڈ حکمت عملی کا عملاً حصہ بن چکے ہیں ا ور انڈین خفیہ ادارے ان خفیہ دہشت گرد عناصر پر بھی روزانہ کی بنیادوں پر بھاری سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچ قومیت کے نام پر ہمیں سوشل میڈیا پر ایسے ہزاروں اکاؤنٹس اور آئی ڈی ملتی ہیں جو کہ درحقیقت فیک ہیں۔ ان کے ذریعے دراصل انڈین فنڈز پر پلنے والے عناصر پاکستان کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں۔ پاکستان کی ان مختلف قومیتوں کے حقوق اور ترقی کی جنگ لڑنے والے یہ کوئی حقیقی بلوچ، پشتون، سندھی یا مہاجر افراد نہیں ہیں بلکہ را اور این ڈی ایس کے گماشتے ہیں جو پاکستان سے باہر بیٹھ کر مذموم پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پروپیگنڈے کی حکمت عملی کی تربیت دینے کے لئے جن اصولوں کومدنظر رکھا گیا ہے ان میں سوشل میڈیا پر مقامی ذات اور قبائلی ناموں سے جعلی آئی ڈیز بنانا، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے لئے صفحات اور گروپ بنانا، سوشل میڈیا پر ٹارگٹ بنائے گئے لوگوں کے لئے اشتہارات بنانا، سوشل میڈیا پر سنسنی خیز مواد لکھوا کر پروپیگنڈا کرنا، پروپیگنڈے میں تیزی کے لئے تصاویر اور ویڈیوز کو گرافکس کی مدد سے بڑھاچڑھا کر سوشل میڈیا پر پیش کرنا، پوری حکمت عملی کو اپ ڈیٹ پالیسی کے مطابق نئی شکل دینا اور ہدف بنائی گئی نوجوان نسل سے براہِ راست بات چیت کرنا کہ وہ پروپیگنڈا مہم کو ایک عظیم مقصد سمجھ کر اس کا حصہ بنیں، شامل ہیں۔

 

-1 پروپیگنڈا بذریعہ مین سٹریم میڈیا

یعنی اخبارات ، رسائل وجرائد، الیکٹرانک/ نیوز چینلز، صحافیوں، اینکر پرسنز کالم نگاروں دانشوروں، صحافی تنظیموں کے ذریعے زہریلا پروپیگنڈا کرنا اور مسلسل کرتے رہنا۔ انڈیا کا ایک مقامی زبان میں ریڈیو چینل کھولنا بھی اس پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔

-2پروپیگنڈا بذریعہ پرنٹڈ/ پبلشڈ میٹیریل

یعنی پمفلٹس، لیفلٹس، اسٹیکرز، کتابچوں، بینرز، کتابوں، اشتہارات کے ذریعے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کرنا۔

-3ون ٹو ون ٹیکٹیکل پروپیگنڈا

یعنی ہڑتالوں، ہنگاموں کے اعلانات، بھوک ہڑتالوں، پریس کانفرنسز، نعرے بازی، فقرے بازی، جنگی / انقلابی نغموں و ترانوں، جوشیلی تقاریر، لانگ شارٹ اینڈ پیدل مارچز، میٹنگز، پریس و دیگر کانفرنسز محافل وال چاکنگز خطابت کے ذریعے اور اجتماعی طور پر پروپیگنڈا کرنا۔

-4آن لائن پروپیگنڈا بذریعہ سوشل میڈیا و انٹرنیٹ

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اپنے طریق کار کے مطابق استعمال کر کے صبح و شام چوبیس گھنٹے مسلسل ٹارگیٹڈ پروپیگنڈا کرنا اور مسلسل پروپیگنڈا جاری رکھنا۔

 

پراکسی وار، جوکہ سوشل میڈیا و انٹرنیٹ کے ذریعے جاری ہے، کے لئے جن پلیٹ فارمز کو استعمال کیا جا رہا ہے ان میں ویب سائٹس بلاگز و سمارٹ فونز اینڈ چینلز، یوٹیوب اور بہت سی دوسری ویڈیو سائیٹس، ٹویٹر انسٹاگرام اور واٹس ایپ، فیس بک آئی ڈیز پیجز اینڈ گروپس نمایاں ہیں۔ اینٹی پاکستان پروپیگنڈے والی تمام ویب سائٹس اور بلاگز کو کنٹرول کرنا اور ان کو بلاک کرنا حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اور اس قسم کی تمام تخریبانہ ویب سائٹس اور بلاگز کو گورنمنٹ آف پاکستان کے متعلقہ ادارے اپنی جغرافیائی حدود کے اندر اکثربلاک کرتے رہتے ہیں اور پاکستان کے اندر اس پلیٹ فارم سے پروپیگنڈا کافی حد تک ناکام ہو چکا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں ان کو بلاک کرنا یا ختم کرنا پاکستان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اس لئے دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا سائٹس اور بلاگز بدستور اپنا پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یوٹیوب پر موجود اکثر ویڈیو چینلز مسلسل پاکستان کے خلاف اپنا پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسیز عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ان چینلز کے پاکستان سے ملتے جلتے اور مقبول عام نام رکھتی ہیں تاکہ نوجوان اور عوام اس کے نام سے گمراہ ہو جائیں اور یقین کے ساتھ سمجھنے لگیں کہ شاید یہ پاکستان سے ہی آپریٹ اور اپ ڈیٹ ہوتے ہیں۔ ایڈیٹ شدہ تصویروں، گمراہ کن ویڈیوز اور ہندی انداز کلام میں اردو کی سنسنی

خیز آوازوں کے ساتھ، دستاویزی فلمیں بنا کر منفی خیالات کی ترویج کرنا، جذبات کو ابھارنا اور ان کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلانا مقصود ہے۔ ٹویٹر اور انسٹاگرام کو استعمال کرتے ہوئے فرضی ناموں کے ساتھ فیصلہ ساز اور مشہور افراد، نامور صحافتی شخصیات اور اداروں کو اپنے ساتھ ساتھ

Tag

کر کے ان تک زہریلا پروپیگنڈا اور ان کی سوچ میں تغیر لانا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔

 

جدید ٹیکنالوجی کے دور میں فیس بک ایک ایسا ذریعہ اور پلیٹ فارم ہے جو پوری دنیا کے ہر کونے میں ہر عمر اور ہر رنگ و نسل کے افراد میں مقبول عام ہے۔ دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان کے اندر بالخصوص اس کی اہمیت اور گراس روٹ پینی ٹریشن کو سمجھتے ہوئے بھارت نے اپنی جارحانہ سائیکلووجیکل پروپیگنڈا سٹریٹیجی میں اس پلیٹ فارم کو خصوصی اہمیت دی ہوئی ہے۔ انڈین سوشل میڈیا پروپیگنڈا ٹیمیں فرضی اور جعلی اسلامی ناموں، قومی و قبائلی ناموں، جعلی تعارف اور جعلی تصاویر کے ساتھ مسلسل اپنا مذموم پروپیگنڈا بذریعہ فیس بک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جعلی ناموں سے پیجز گروپس بنا کر ان پر اپنی مرضی کا ممبر بنانا تاکہ سب تک آسانی سے پروپیگنڈا پہنچ سکے۔ اپنی فرضی آئی ڈیز کے ساتھ ان سے دوستی بڑھانا اور ان سے پرائیویٹ بات چیت کے ذریعے اپنا آلہ کار بنانے کی کوشش کرنا اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کی طرف مائل کرنا شامل ہے۔

 

اس سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پروپیگنڈے میں جن ایشوز کو ترویج دی گئی ہے ان میں چند درج ذیل ہیں

*دہشت گردانہ کارروائیاں ‘ گھات لگا کر حملہ کرنے ‘ دہشت گردی کی تربیت‘ ہتھیاروں کی نمائش اور بم دھماکوں وغیرہ کی ویڈیوز اور تصاویر کو دکھا کرناپختہ ذہنوں کو مسلح جدو جہد کی جانب مائل کرنا۔

*دہشت گرد رہنماؤں و قائدین کے انٹرویوز‘ تقاریر‘ لائف سٹائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔

*دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مقابلے میں جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کو ہیرو اور نجات دہندہ بنا کر واویلا کرنا۔

*دہشت گرد گروپوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ممبران بن کر پہاڑوں ‘ جنگلوں یا انڈر گراؤنڈ (روپوش) افراد ‘ بیرون ممالک میں فراری کیمپس میں دہشت گردی کی ٹریننگ لینے والے تخریب کاروں کو مسنگ پرسن بنا کر ان کی گمشدگی اور جھوٹی تعداد کا واویلا کرنا۔

*جوان لڑکیوں اور بچوں کو مظلوم بنا کر پروپیگنڈا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا‘ بلکہ مسلسل استعمال کرنا اور اس قدر استعمال کرنا کہ ایک ہدف کردہ مخصوص علاقے میں کمیونٹی میں غیرت کے نام پر اشتعال و غم و غصہ کو پروان چڑھایا جاسکے۔

*بیرون اور اندرون ملک پانچ دس افراد کو اکٹھا کرنا اور پیسے دے کر مظاہرے کروانا اور فراڈ نمائندگان سے انٹرویوز لینا اور ان کو عام کرکے پروپیگنڈا کرنا (اس طریقۂ کار سے ان ممالک کی صحافتی تنظیموں ‘ نمائندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو متوجہ کرنا بھی پروپیگنڈے کا حصہ ہے)

*قومیت پرستی اور علاقائی تعصبات کو ہوا دینا‘ تاریخ کو مسخ کرکے بیان کرنا‘ معاشی ترقی کے بڑے منصوبہ جات اور معدنی وسائل کے خلاف زہرپھیلانا۔

*جنگی و انقلابی ترانوں کو مکس اپ کرکے پاکستان مخالف سرگرمیوں کی دستاویزی فلمیں بنانا اور پھر ان کی تشہیر کرنا۔

*مرکزی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا (بالخصوص انڈین میڈیا) میں لکھوائے اور چھپوائے گئے آرٹیکلز، اداریئے، خبریں اور الیکٹرانک میڈیامیں کئے جانے والے پروپیگنڈے‘ ٹاک شوز‘ پروگرامز‘ انٹرویوز کے کلپس اور تراشے بنا کر جلد سے جلد پھیلادینا۔

*لاشوں کو گرافیکلی ڈیزائن اور ڈیویلپ کرکے پھرایڈیٹنگ اور ری ٹچنگ کرکے ان کو مسخ شدہ بنا کر مقبول عام کرنا اور پھر اس بنیاد پر ریاست پاکستان‘ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس انڈین تخریبی پروپیگنڈا حکمتِ عملی کو بروقت اور جارحانہ طور پر مستقل مزاجی کے ساتھ ایک بہترین‘ جامع‘ کل وقتی‘ اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی کے ساتھ کاؤنٹر کیا جائے۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین اور اداروں ‘ سو ل سوسائٹی‘ طالب علموں‘ صحافتی تنظیموں‘ سیاسی جماعتوں اور ان کے ممبران و نمائندگان‘ نوجوانان و عوام پاکستان‘ بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانیوں وغیرہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے جارحانہ انداز میں اس کا جواب دیا جاسکے اور اس حکمت عملی کو اسی طور پر ناکام اور زمین بوس کیا جاسکے ‘ جس طریقہ کار سے انڈین

Offensive Defense

کی پالیسی ناکامی کی جانب گامزن ہے۔

مضمون نگار انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفارمیشن سیکورٹی ایکسپرٹ اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہماری جنگ

وطن کے دشمن طرح بدل کے
وطن پہ اب وار کر رہے ہیں
وطن کے بیٹے لہو سے اپنے
چمن کو گلزار کر رہے ہیں
عجب تھا نقشہ میرے وطن کا
اِدھر دھماکہ‘ اُدھر دھماکہ
اُجاڑ ڈالی تھیں مسجدیں بھی
عوام غم سے بِلک رہے ہیں
وطن کے بیٹوں نے پھر یہ ٹھانی
عدو رہے گا کہ ہم رہیں گے
جنہوں نے بستی اُجاڑ ڈالی
اُنہی کو تاراج ہم کریں گے
ہے عزمِ کامل زمانہ سُن لے
کسی بحث میں نہ ہم پڑیں گے
کسی کی ہوگی ہماری ہے اب
یہ جنگ ہر حال میں ہم لڑیں گے
وطن ہی دیں ہے سعیدؔ اپنا
اٹھاؤ پرچم لگاؤ نعرہ
وطن کے باسی وطن کے بیٹے
وطن کی حرمت پر کٹ مریں گے


لیفٹیننٹ کرنل سعیداحمد بھٹی

*****

 

Follow Us On Twitter