07
January

جنگ ،عورت اورعلامہ اقبال کی تین نظمیں

تحریر: حمیرا شہباز

ہر چند ابن آدم نے دنیا کے تقریباً تمام فسادات بلکہ جنگوں کی بنیادی وجہ حوا کی بیٹی کو قرار دیا ہے لیکن اس امر سے بھی مفر نہیں کہ ’’وار وکٹمز‘ یعنی ’’متاثرینِ جنگ‘‘ میں بہت بڑی تعداد خود خواتین کی شمار کی گئی ہے۔ جنگ کے نتیجے میں عورت کو کہیں زندگی کی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی درپیش ہے تو کہیں چادر اور چار دیواری سے محرومی کا سامنا ہے ۔ لیکن فقط جنگ کی وجہ‘ اور جنگ کے متاثرین ہونے کے علاوہ جنگ میں دفاعی محاذ پر ڈٹے رہنا بھی عورت کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ بظاہر پاکستان میں کم و بیش گزشتہ ایک دہائی سے دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں ظاہری محاذوں پر پاکستان کی دفاعی افواج کے دلیر جوان سینہ سپر ہیں۔ لیکن ان کے گھروں کی خواتین کو بھی ایک بڑے جہاد کا سامنا ہے۔


کلام اقبال کا معجزہ ہے کہ پڑھنے والے کو اپنے لئے اس سے ربط کا کوئی نہ کوئی حوالہ ضرور مل جاتا ہے۔ ہر محب وطن کو علامہ محمداقبال کی شاعر سے نسبت ضرور ہے۔ دفاع پاکستان میں اگر خواتین کے کردار پر نظر ڈالوں تو مجھے علامہ اقبال کی تین نظمیں خواتین کی شان میں دکھائی دیتی ہیں اور فکر اقبال کے عصری تناظر میں اُن کی اہمیت مجھ پر عیاں تر ہو جاتی ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ نظمیں تقریباً ایک صدی قبل علامہ محترم نے آج کے پاکستان کے دفاع میں خواتین کے عسکری کردار کو ذہن میں رکھ کر لکھی ہوں۔


اگر دفاع پاکستان میں عسکری سطح پر عورت کے براہِ راست عمل دخل پر نظر ڈالی جائے تو وہ اس فوج کی ایک سپاہی معلوم ہوتی ہے جس کی سالار ’’فاطمہ بنت عبداللہ‘‘ ہے، جس کے نصیب میں حیاتِ جاوداں تو اس کی شہادت کے ثمر کے طور پر رقم کردی گئی تھی لیکن اقبال نے اس کو اپنی ایک نظم کا موضوع بنا کر زندہ تر پائندہ تر کردیا۔


فاطمہ! تو آبروئے امتِ مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
یہ سعادت حورِ صحرائی! تری قسمت میں تھی
غازیانِ دیں کی سقائی تیری قسمت میں تھی
یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر
ہے جسارت آفرین شوقِ شہادت کس قدر
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یارب، اپنی خاکستر میں تھی!

janaurataurallama.jpgفاطمہ بنتِ عبداللہ عرب کے قبیلہ البراعصہ کے سردار شیخ عبداللہ کی گیارہ سالہ بیٹی تھی جو1912 میں جنگ طرابلس میں غازیوں کو پانی پلاتی شہید ہوگئی تھی ۔ یہ قبیلہ اپنے اثرورسوخ میں دیگر قبائل سے بڑھ کر تھا۔ اس قبیلے کے تمام افراد جنگ طرابلس میں شہید ہوئے۔ اگرچہ بہت سی عرب خواتین نے اس جنگ میں حصہ لیا لیکن فاطمہ ان سب میں سے اس لئے ممتاز ہے کیونکہ وہ سب سے کمسن تھی۔ یہ جنگ جون1912 (دوسری روایت کے مطابق ستمبر1911) میں شروع ہوئی۔ جب بارہ ہزار اطالوی سپاہیوں نے زوارہ (طرابلس پر) حملہ کیا تو ان کے مقابلے میں عرب اور ترک سپاہیوں کی تعداد فقط تین ہزار تھی۔ لیکن اطالوی فوج کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ دوران جنگ فاطمہ بنت عبداللہ چار زخمی مجاہدوں کو پانی پلا رہی تھی کہ ایک اطالوی سپاہی نے اس کم سن مجاہدہ کو شہید کر دیا۔ علامہ اقبال نے اس کم سن دختر عرب کی شہادت سے متاثر ہو کر ایک نظم لکھی جو اب ’’بانگ درا‘‘ کی شان ہے۔ اس نظم نے دنیا میں اس کمسن شہید کا نام امر کر دیا۔


آج پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والی ہر لڑکی فاطمہ بنت عبداﷲ کی سپاہ میں شامل ہے اور اس لشکر میں تازہ ترین بھرتی افواج پاکستان کی جنگجو ہواباز مریم مختار کی ہے جس نے اپنی تربیتی پرواز میں طیارے کو فنی خرابی کی بنا پر آبادی سے دور تر گرانے کی کوشش میں جام شہادت نوش کیا اور اقبال کی نظم ’’فاطمہ بنت عبداﷲ‘‘ کے یہ اشعار پاکستان کی فضائی دفاعی سرحدوں میں گونجتے سنائی دیتے ہیں۔


رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے
ذرہ ذرہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے
تازہ انجم کا فضائے آسماں میں ہے ظہور
دیدۂِ انساں سے نامحرم ہے جن کی موج نور
جو ابھی ابھرے ہیں ظلمت خانۂِ ایام سے
جن کی ضَو ناآشنا ہے قیدِ صبح و شام سے
جن کی تابانی میں انداز کہنِ نَو بھی ہے
اور تیرے کوکبِ تقدیر کا پرتوَ بھی ہے


ایک تو یہ بیٹیاں ہیں جو’’ قوموں کے کوکب تقدیر کا پرتوَ‘‘ ہیں اور حب الوطنی میں اپنے فرائض سے بخوبی سبکدوش ہوتی ہیں اور ایک وہ مائیں ہیں جن کے لخت جگر جنگ کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ان ماؤں کو تو صبر آ جاتا ہے جن کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے فرائض منصبی کے پیش نظر کسی نہ کسی جنگی محاذ پر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ لیکن ان ماؤں کا کیا جن کے جگر گوشوں کو دہشت گردی کے عفریت نے بے سبب نگل لیا، جن بچوں کی معصومیت پر فرشتے بھی نازاں ہوں اور جن کی نوخیز جوانی پر خزاں کو بھی پیار آتا ہو، ان کی ماؤں کا کیا؟


16دسمبر 2014 کو اے پی ایس پشاور کے سانحے میں ماؤں نے اپنے لال بے سود گنوا دیئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ جن ماؤں نے اپنے نور چشم کھوئے ہیں ان کی آنکھوں میں نیند کیوں کر آتی ہو گی۔ لیکن اگر آتی بھی ہو گی تو کچھ ایسے ہی خواب دکھاتی ہو گی جیسا کہ ’’ماں کا خواب‘‘ علامہ اقبال نے قلم بند کیا ہے:


میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
اس تاریک مقام میں اس ماں کو اپنا وہ بیٹا دکھائی دیتا ہے جس کو اس نے بے سبب کھو دیا۔
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیئے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
دیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا


اس ماں نے اپنا بیٹا کسی طبعی موت یا آسمانی آفت کے سبب نہیں کھویا بلکہ وہ جو شمع علم کو فروزاں رکھے ہوئے تھا، اس کی زندگی کے چراغ کو سفاکیت اور درندگی نے گل کیا تھا۔ اس بچے کی ماں خواب میں بھی اس بچے کے چراغ کو گل پاتی ہے۔ ماں اپنے بچے سے گلہ کرتی ہے:


کہا میں نے پہچان کر‘ میری جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!
جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ‘ اچھی وفا تم نے کی!


وہ روشنی کا ہم سفر اس تاریکی میں دھکیلا گیا تھا لیکن وہ مطمئن ہے کہ وہ حیات ابدی کی جانب رواں دواں ہے‘ ہاں مگر اس کا دیا ضرور بجھا ہوا ہے اور وہ اپنی ماں سے یہ کہنے پر مجبور ہے کہ:


جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی میری
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے!


علامہ اقبال کی تیسری نظم ’’صبح کا ستارا‘‘ جنگ سے متاثرہ خواتین کے اس طبقے سے متعلق ہے جو شاید سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ اس نظم کے ادبی محاسن اپنی جگہ پر‘ مگر نظم کا مضمون نہایت منفرد اور بے نظیر ہے۔ اقبال کی سوچ کا جہاں بہت وسیع ہے۔ وہ بلندیوں کے مکین‘ سورج‘ چاند‘ ستاروں کے درد آشنا بھی ہیں۔ ’’صبح کے ستارے‘‘ کی داستان کچھ یوں ہے ۔ صبح کا پیامبر‘ صبح کا ستارہ جسے قرآن میں ’’نجم الثاقب‘‘ قرار دیاگیا ہے جو بظاہر اہل جہاں کے لئے ایک نئے روشن دن کی نوید لاتا ہے، کون جانتا ہے کہ اس کا دکھ کیا ہے؟ صبح کی آمد کا اعلان خود اس کے لئے پیام موت ہے۔ نوید سحر کا پیامبر اپنے مقام اور کام دونوں سے مطمئن نہیں۔ وہ اپنی بلندی سے بیزار ہے اور زمین والوں کی پستی پر رشک کرتا ہے۔ ہر روز کا مرنا جینا اس کا مقدر ہے۔


لطف ہمسائیگی شمس و قمر کو چھوڑوں
اور اس خدمت پیغامِ سحر کو چھوڑوں
میرے حق میں تو نہیں تاروں کی بستی اچھی
اس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھی
آسمان کیا‘ عدم آباد وطن ہے میرا
صبح کا دامنِ صد چاک کفن ہے میرا
میری قسمت میں ہے ہر روز کا مرنا جینا
ساقیِ موت کے ہاتھوں سے صبوحی پینا
نہ یہ خدمت‘ نہ یہ عزت‘ نہ یہ رفعت اچھی
اس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظلمت اچھی
میری قدرت میں جو ہوتاتو نہ اختر بنتا
قعر دریا میں چمکتا ہوا گوہر بنتا


صبح کا ستارہ خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ اختر ہوتا‘ گوہر ہوتا‘ اور اک روز دریا کی گہرائیوں سے نکل کر کسی حسیں کے گلے کا ہار بن جاتا۔ یہ صبح کا ستارہ پہلے تو کسی ملکہ کے تاج کی زینت یا بادشاہ سلیمان کے ہاتھ کی انگشتری میں جڑے نگینے کی قسمت پر رشک کرتا ہے مگر پھر وہ سوچتا ہے کہ یہ نگینہ بھی تو آخر پتھر ہی ہے، جس کی قسمت میں ٹوٹنا ہے۔ صبح کا ستارہ ایسی زندگی کا خواہاں ہے جس میں موت کا تقاضا نہ ہو۔ اسے لگتا ہے کہ زینت عالم ہونے سے بہتر ہے کہ میں کسی پھول پر شبنم بن کر گر جاؤں۔


واں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا
چھوڑ کر بحر کہیں زیب گلو ہو جاتا
ہے چمکنے میں مزا حسن کا زیور بن کر
زینتِ تاجِ سرِبانوئے قیصر بن کر
ایک پتھر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا
خاتمِ دستِ سلیماں کا نگین بن کے رہا
ایسی چیزوں کا مگر دہر میں ہے کام شکست
ہے گہرہائے گراں مایہ کا انجام شکست
زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل
کیا وہ جینا ہے کہ ہو جس میں تقاضائے اجل
ہے یہ انجام اگر زینتِ عالم ہو کر
کیوں نہ گر جاؤں کسی پھول پہ شبنم ہو کر!


وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کسی کی پیشانی پر افشاں بن کر چمکوں یا کس مظلوم کی آہوں کا شرارہ بن جاؤں۔ الغرض وہ اپنے لئے بہت سے نئے مقامات تلاش کرتاہے مگر اس کا شوق ’’ابدیت‘‘ کہیں پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ بالآخر آسماں کے اس روشن ستارے کو اپنی منزل زمین پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ اشک بن کر اس بیوی کی آنکھ سے ٹپک جانا چاہتا ہے جس کا شوہر حب الوطنی سے سرشار‘ زرہ میں مستور‘ میدان جنگ کی جانب رواں ہے۔ شوہر کی رضا نے اس بیوی کو تاب شکیبائی دی ہے اور آنکھوں کو حیا نے طاقت گویائی دی ہے۔ صبح کے اس ستارے کو اپنی منزل قریب دکھائی دیتی ہے کہ جب شوہر کو جنگ کے لئے رخصت کرتے ہوئے لاکھ ضبط کے باوجود اس بیوی کے دیدۂ پرنم سے وہ اشک بن کر ٹپک جائے اور خاک میں مل کر ابدی حیات پا جائے اور عشق کاسوز زمانے کو دکھا دے۔


کسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں میں رہوں
کسی مظلوم کی آہوں کے شراروں میں رہوں
اشک بن کر سرمژگاں سے اٹک جاؤں میں
کیوں نہ اس بیوی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں میں
جس کا شوہر ہو رواں‘ ہو کے زرہ میں مستور
سوائے میدانِ وغا، حب وطن سے مجبور
یاس و امید کا نظارہ جو دکھلاتی ہو
جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو
جس کو شوہر کی رضا تاب شکیبائی دے
اور نگاہوں کو حیا طاقت گویائی دے
زرد، رخصت کی گھڑی، عارضِ گلگوں ہو جائے
کشش حسن غم ہجر سے افزوں ہو جائے
لاکھ وہ ضبط کرے پر میں ٹپک ہی جاؤں
ساغر دیدہ پُرنم سے چھلک ہی جاؤں
خاک میں مل کے حیاتِ ابدی پا جاؤں
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جاؤں


شاعروں نے عورت کو ماں اور بیٹی کی حیثیت سے تو بہت سراہا ہو گا لیکن کلام اقبال میں ایک بیوی کے سوز عشق کا بیان بے مثال ہے۔ آج پاکستان کے حالات میں افواج پاکستان کا کردار ہمیشہ سے زیادہ متحرک ہے۔ حب الوطنی سے سرشار پاکستان کا ہر وہ محافظ جو اپنی جان ہتھیلی پر سجائے رہتا ہے اور ہر نیا دن اس کے لئے عشق کے اور امتحان لاتا ہے، بے شک اس کا مقام ستاروں کی گزرگاہ سے بہت آگے ہے۔ ان فوجیوں کے بہتے خون کی سرخی ان کے اپنوں کے رخسار تو زرد کر دیتی ہے مگر صبح وطن کا ستارہ ہمیشہ روشن رہتا ہے۔
دفاع وطن تمام اہل وطن کا فریضہ ہے۔ کسی کے لئے یہ فرض منصبی ہیں تو کسی کے لئے نسبی۔ عورت بھی وطن کی بیٹی، محبان وطن کی ماں کی حیثیت سے یا محافظین وطن کی شریک حیات ہونے کی حیثیت میں دفاع وطن کی جنگ کو اپنی زندگی کی جنگ سمجھ کر بہت حوصلے اور ہمت سے لڑتی ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مصروف زندگی میں سے کبھی تھوڑا سا وقت نکال کر یہ سوچ سکے کہ جن والدین نے اپنی جانباز بیٹیاں وطن پر وار دیں‘ جن ماؤں نے اپنے مستقبل کے سہارے درندوں کے ہاتھوں بکھرتے دیکھے ہوں، جن بیویوں نے کمال ضبط سے حب وطن سے سرشار اپنی زندگی کے ساتھی جنگ پر رواں کئے ہوں ان کا کیا مقام ہے؟ اور یہ جان سکے کہ عورت فقط وجہ جنگ اور متاثرین جنگ ہی نہیں بلکہ مقابل و مدافع جنگ بھی ہے

حمیرا شہباز ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

janaurataurallama1.jpg
 
07
January

عقل بمقابلہ عشق

تحریر: یاسر پیرزادہ

حسن البصری اپنے شاگردوں کو مسجد میں لیکچر دے رہے تھے لیکچر اپنے اختتام کو تھا کہ اچانک ایک طالب علم نے عجیب ساسوال داغ دیا ۔کہنے لگا: ’’استاد محترم! ہمارے ہاں ایک جماعت ایسی پیدا ہو چکی ہے جس کا ماننا ہے کہ گناہ کبیرہ کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے جبکہ دوسری طرف لوگوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے والے کے لئے بھی نجات کا دروازہ کھلا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جیسے کسی کافر کی عبادت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح کسی مسلمان کا گناہ اسے کوئی ایسا نقصان نہیں پہنچا سکتا جس کی تلافی نہ ہوسکے ‘آپ کی رائے میں سچائی کا راستہ کیا ہے ؟‘‘اس سے پہلے کہ حسن البصری جواب دیتے ‘حاضرین میں سے ایک نوجوان اٹھا اور بولا:’’گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے والا شخص ایمان کے دائرے سے باہر سمجھا جائے گااور نہ ہی وہ سچا مسلمان مانا جائے گا‘اسے ایمان اور کفر کے درمیان کی ایک ’’منزل‘‘ میں رکھا جائے گا ۔‘‘ یہ کہنے کے بعد وہ نوجوا ن مسجد کے دوسرے سرے کی جانب گیا اور وہاں موجود طلبا کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے لگا۔ نوجوان کا نام واصل ابن عطا تھا۔حسن البصری نے ایک نگاہ اس کی جانب ڈالی اور بولے ’’ یہ شخص ہم میں سے نکل گیا‘‘۔اس وقت سے واصل ابن عطا اور ان کے پیروکاروں کو ’’معتزلین‘‘کہا جاتا ہے ‘ واصل ابن عطا ’’المعتزلہ‘‘ تحریک کا بانی ہے۔

 

یہ شخص بلا کا ذہین تھا ‘ اس نے مذہب کو عقلی بنیاد پر پرکھنے کی روایت ڈالی اور دقیق دینی اور فلسفیانہ موضوعات پر ایسی رائے دی جس نے عام مسلمان کو بے حد متاثر کیا ۔واصل کی گردن ذرا لمبی تھی جسے دیکھ کر عمر ابن عبید نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’ایسی لمبی گردن والے شخص میں کوئی خیر نہیں ہو سکتی۔‘‘واصل عربی کا حرف ’’ر‘‘ نہیں بول سکتا تھا لہٰذا گفتگو میں اس بات کاخاص خیال رکھتا کہ زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ پھسل جائے جس میں ’’ر‘‘ آتا ہو‘ مگر اس کے باوجود اس قدر روانی سے بولتاکہ سننے والے دنگ رہ جاتے۔اس نے ایک ضخیم مقالہ بھی تحریر کیا مگر اس پورے مقالے میں کہیں ایک جگہ بھی ’’ر‘‘ کا استعمال نہیں کیا۔واصل کی عقلیت پسندی اس کے عقائد میں جا بجا جھلکتی ہے۔مثلاً انسان کی مجبوری و مختاری کے مسئلے پر وہ اپنی رائے یوں دیتا ہے کہ خدا عاقل اور انصاف پسند ہے ‘شر اور نا انصافی اس کی صفات میں شامل کی ہی نہیں جا سکتیں ‘اس بات کا جواز کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو جس بات کا حکم دے اس کی مرضی اس کے بر عکس ہو‘ لہٰذا خیر اور شر‘کفر و الحاد‘ فرمانبرداری اور گناہ اس کی مخلوق کے اعمال ہیں ‘یعنی مخلوق ہی اپنے اعمال کی خالق و مختارہے لہٰذا انہی کی بنیاد پر اسے سزا و جزا کا حقدار ٹھہرایا جائے گا‘یہ ناممکن ہے کہ غلام کو آقا کی طرف سے کوئی ایسا حکم بجا لانے کو کہا جائے جو اس کے بس سے باہر ہو‘بندے کو وہی کرنے کو کہا جاتا ہے جس کی وہ استطاعت رکھتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے عظیم مفکر ابن حزم نے واصل کے ان خیالات کے بارے میں کہا تھا کہ معتزلین نے انسان کی مجبوری و مختاری کے مسئلے پر نہایت عمدہ کام کیا ہے ‘اگر انسان کو اپنے معاملات میں کلی طور پر مختار مان لیا جائے تو شریعت کی عمارت کا وجود قائم نہیں رہ سکتا۔

 

معتزلین کی عقلیت پسندی میں بظاہر بڑی کشش نظر آتی ہے مگر ان کے ناقدین کی رائے میں ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے ان تمام تصورات کو رد کر دیا جو عقل کے پیمانے میں سموتے نہیں تھے ۔وہ یہ بات نظر انداز کر گئے کہ عقل انسانی بھی اسی طرح خدا کا ایک تحفہ ہے جیسے انسان کو ودیعت کی گئیں دیگر حسیات۔جس طرح انسان کے دیگر ذرائع علم کی اپنی حدود ہیں اسی طرح عقل کی بھی کچھ حدود ہیں اور ضروری نہیں کہ آفاقی سچائی عقل سے ہی سمجھ میں آ جائے۔ بقول شیکسپئیر :

"There are more things in heavan and earth, Horatio, than are dreamt of in your philosophy"

 

عباسی حکمرانوں ‘خاص طور سے خلیفہ مامون الرشید ‘نے معتزلین کی کافی سرپرستی کی اور عقلیت پسندی کو عوامی سطح پر روشناس کروایا۔معتزلین سچائی اور حقیقت کو محض عقل کی کسوٹی

پر ہی پرکھنے پر مصر رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے ایمان کوبھی خالصتاً فلسفے کے انداز میں جانچنا شروع کر دیا۔ انہوں نے یہ حقیقت یکسر بھلا دی کہ مذہب کے بنیادی عقائد کو کبھی بھی عملاً منطقی اعتبار سے جانچا نہیں جا سکتااور نہ ہی ان کا عقلی ثبوت مہیا کیا جا سکتا ہے ۔مذہب کے بنیادی عقائد کا تعلق چندفوق الادراک سچائیوں سے ہے جنہیں پہلے ہمیں وحی کی بنیادپر ماننا پڑے گا ‘اس کے بعد انسانی عقل کی حدود شروع ہوں گی۔ اگر ہم ہر عقیدے کو ہی عقل کی کسوٹی پر جانچیں گے تو یہ کسوٹی اس کے لئے درست نہیں ہوگی کیونکہ عقل ایمان کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے ۔اس ضمن میں کانٹ کی دلیل دلچسپ ہے۔ ‘کانٹ کے زمانے میں چرچ خدا کے بیٹے کا وجود ثابت کرنے کے لئے عقلی دلائل تلاش کر رہا تھا مگر کامیاب نہیں ہو پایا۔کانٹ نے پادریوں کی مشکل حل کر دی۔ اس نے کہا کہ خدا نے انسان کو پیور ریزن دی ہے پیور ریزن ودیعت نہیں کی‘ پریکٹیکل ریزن ہمارے مسائل تو حل کر سکتی ہے مگر خدا کی ذات کا تعلق پیور ریزن سے ہے اور وہ ہمیں نہیں ملی۔

 

عارف اور عالم دونوں ہی سچائی کے راستے تک لے جاتے ہیں مگر عارف کا ذریعہ عرفان ہے جبکہ عالم کا عقل ‘یہ ذرائع درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی۔ مولانا روم کے بقول عقلی استدلال شیطانی بھی ہو سکتا ہے اور رحمانی بھی ‘مگر غلطی کے امکان کے باوجود انسان نے ترقی کی ہے ۔چونکہ یہ دنیا احساسات کی دنیا ہے اس لئے علم کے اس ذریعے کو فوقیت دی جاتی ہے جو عقل پر مبنی ہے ۔دوسری طرف عرفان کا تعلق صرف مذہب سے نہیں بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی وجدان سے کام لیا جاتا ہے ‘یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ہم کوئی فیصلہ عقلی اعتبار سے درست معلوم ہونے کے باوجود اس لئے نہیں کرتے کہ دل نہیں مانتا حالانکہ اس کی کوئی عقلی توجیح نہیں ہوتی۔

 

عقل و عشق کے معرکے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم وجدان کا قائل ہونے کے لئے بھی بہرحال عقلی دلائل کا ہی سہارا لیتے ہیں‘تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عقل اور عشق دونوں کی منزل ایک ہی ہے مگر بقو ل اقبال ‘عقل ہمیں دھیرے دھیر ے اس مقام تک لے جاتی ہے جبکہ عشق ایک ہی جست میں تمام منازل پار کر لیتا ہے ‘ اسی لئے روز مرہ زندگی کے فیصلے ہمیں عقل کی رو سے کرنے چاہئیں جبکہ بڑے فیصلے دل سے کرنے چاہئیں ۔وہ مقام کب آتا ہے جب دل سے فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے ‘اس کا ذکر پھر کبھی۔

نوٹ :اس کالم میں معتزلین کے بارے میں حقائق ‘پروفیسر میر ولی الدین‘ عثمانیہ یونیورسٹی ‘ حیدر آباد دکن‘کے مقالے سے حاصل کئے گئے ہیں۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

aqalbmaqbla.jpg
 
26
December

Balochistan: As I see it

Published in Hilal English Jan 2014

Written By: Shahid Ali Khan Baloch

Balochistan is always projected as an area having many problems. For the last decade or so it has turned into a playing field of different regional and global powers. Intelligence agencies of different countries have been using politically and ideologically half-baked, directionless and unemployed Baloch youth for their vested geo-political interests. The Baloch youth, acting under catchy slogans, are used as a fuel in a battle to control major geographical choke points, resource-rich areas and their major possible routes. In addition to logistic and financial help of the foreign actors, the moral and political assistance from few media elements, civil society activists and certain political parties, have placed these foreign funded separatists at a much advantageous position as they have managed to divert public opinion in their favour despite their crimes against national security and common people in Balochistan. These armed groups have mainly focused on soft targets in Baloch-dominated areas to remain alive in news headlines and create problems in Balochistan. Firstly, they started targeting non-Baloch teachers, doctors, engineers and labourers. But when it became harder for them to find anymore such soft target, they switched to Baloch political workers, teachers, doctors and tribal elders. They acted on a simple formula; whoever is not following your political line, or has some personal or tribal clash with you, just go and target him. Once he is targeted, declare him an ISI Agent and claim responsibility of his killing by using a foreign-gifted satellite phone and harass his family and friends. Till 2008, these separatists received a considerable attention from a segment of Baloch political workers, civil society and common masses. But once they started targeting innocent Baloch people because they had faith in Federation of Pakistan or they had tribal or individual differences with these terrorists, the people of Balochistan started to shed away shadows of fear and dared to speak against them in public. With the passage of time the victims of these foreign–funded terrorism started to get united and mobilised. Now, by this time, the people are strong enough to force these elements to vacate certain areas including Quetta, Mastung, Kalat, Dera Bugti, Kohlu and Khuzdar.

At present, one can safely claim that only pro-federation majority is the only stakeholders in Balochistan issue. Anti-state camp is represented by Hairbiyaar Marri, Brahamdagh Bugti, Dr. Allah Nazar and Javed Mengal. While pro-state camp is led by Sarfraz Bugti, Shafique Mengal and Siraj Raisani. The cause of concern here is to unfold the fact that our so-called independent media, civil society and political parties, following the traditional rhetoric are denying to accept existence of the important pro-Pakistan stakeholders in Balochistan. It is about time that they should also change their prejudiced lenses and should acknowledge the role, contribution and importance of these pro-federation Baloch figures fighting disgruntled elements in Balochistan. Irony of fact is that they are targeted by anti-state elements and our so-called independent media and vibrant civil society, because they are pro-Pakistan. In today's media activism, one hardly finds representation of the community which is torch-bearer of resistance against those who are resisting writ of the state in Balochistan. In the most cases, we see either nationalists or least bothered federalists speaking their brand of Balochistan conflict.

Amid this whole scenario, if one wants to move towards a serious and genuine conflict analysis in Balochistan, he needs to be mindful of the fact that it is not Balochistan of 1960s and 1970s when just few tribal nawabs (chieftains) were the only stakeholders. A major difference between present situation and past movements is the active role of youth. In majority of cases, small groups of youth operate independently under a loose command. In such a situation, they get influenced by petty local considerations and end up in using this foreign-funded political infrastructure to settle their non-political individual issues. Due to leadership role of youngsters at this level, a clear manifestation of reactionary and immature decision-making has been noticed in militant groups. Killing of innocent people including teachers and doctors, destroying electricity polls and targeting relief activities during recent Awaran earthquake are examples of the immature decision-making. Such policies on one hand have resulted in complete isolation of militants and on other hand have paved the way for emergence of a strong reaction against these terrorists from within the Baloch society. If we analyse the main targets of these armed groups during past three four years, it will become evident that in more than 70% cases, they have targeted people associated with Sarfaraz Bugti, Shafique Mengal or Siraj Raisani. So, this situation boils down to a point that if we speak of major stakeholders of present conflict within boundries of Pakistan, these are three, namely: Pakistani Government, Baloch militants and their pro-state Baloch opponents in Balochistan. So, if there is any attempt of reconciliation excluding these pro-state activists, it will prove ephemeral and will burst into pieces like a bubble and may lead to law and order situation in the province. Once weaken, these pro-federation elements will be easily targeted by the militants.

So, the need of the hour and writing on the wall requires us to open our minds and eyes to see the changing political circumstances in Balochistan and acknowledge and appreciate role of the new major stakeholders in the issue. Our national security and ground realities demand to re-think, re-visit, and re-formulate our understanding of Balochistan conflict by keeping in mind these new dynamics for a sustainable conflict-resolution. It is need of the hour to give due respect and consideration to all forces in Balochistan to strike a pragmatic balance among different stakeholders. Just holding talks with foreign-funded elements and pushing in isolation to patriot factions in Balochistan will not serve the purpose and will turn the things from bad to worse. It will simply mean that we have given our national fate, destiny and pride in hands of those who, in collusion with their foreign masters, want to destabilise Pakistan. If such mindset persists and continues to flourish, God forbid there may be times when no one from Balochistan dares to take name of Pakistan, let alone standing against its enemies. Today, the people of Balochistan denounce these militant groups and stand united to fight them. The people of Balochistan only deserve due share in the power structure of the federation. They must be fully supported to live in peace and harmony, and continue participating in prosperity and well-being of Pakistan.

Follow Us On Twitter