07
January

عقل بمقابلہ عشق

تحریر: یاسر پیرزادہ

حسن البصری اپنے شاگردوں کو مسجد میں لیکچر دے رہے تھے لیکچر اپنے اختتام کو تھا کہ اچانک ایک طالب علم نے عجیب ساسوال داغ دیا ۔کہنے لگا: ’’استاد محترم! ہمارے ہاں ایک جماعت ایسی پیدا ہو چکی ہے جس کا ماننا ہے کہ گناہ کبیرہ کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے جبکہ دوسری طرف لوگوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے والے کے لئے بھی نجات کا دروازہ کھلا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جیسے کسی کافر کی عبادت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح کسی مسلمان کا گناہ اسے کوئی ایسا نقصان نہیں پہنچا سکتا جس کی تلافی نہ ہوسکے ‘آپ کی رائے میں سچائی کا راستہ کیا ہے ؟‘‘اس سے پہلے کہ حسن البصری جواب دیتے ‘حاضرین میں سے ایک نوجوان اٹھا اور بولا:’’گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے والا شخص ایمان کے دائرے سے باہر سمجھا جائے گااور نہ ہی وہ سچا مسلمان مانا جائے گا‘اسے ایمان اور کفر کے درمیان کی ایک ’’منزل‘‘ میں رکھا جائے گا ۔‘‘ یہ کہنے کے بعد وہ نوجوا ن مسجد کے دوسرے سرے کی جانب گیا اور وہاں موجود طلبا کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے لگا۔ نوجوان کا نام واصل ابن عطا تھا۔حسن البصری نے ایک نگاہ اس کی جانب ڈالی اور بولے ’’ یہ شخص ہم میں سے نکل گیا‘‘۔اس وقت سے واصل ابن عطا اور ان کے پیروکاروں کو ’’معتزلین‘‘کہا جاتا ہے ‘ واصل ابن عطا ’’المعتزلہ‘‘ تحریک کا بانی ہے۔

 

یہ شخص بلا کا ذہین تھا ‘ اس نے مذہب کو عقلی بنیاد پر پرکھنے کی روایت ڈالی اور دقیق دینی اور فلسفیانہ موضوعات پر ایسی رائے دی جس نے عام مسلمان کو بے حد متاثر کیا ۔واصل کی گردن ذرا لمبی تھی جسے دیکھ کر عمر ابن عبید نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’ایسی لمبی گردن والے شخص میں کوئی خیر نہیں ہو سکتی۔‘‘واصل عربی کا حرف ’’ر‘‘ نہیں بول سکتا تھا لہٰذا گفتگو میں اس بات کاخاص خیال رکھتا کہ زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ پھسل جائے جس میں ’’ر‘‘ آتا ہو‘ مگر اس کے باوجود اس قدر روانی سے بولتاکہ سننے والے دنگ رہ جاتے۔اس نے ایک ضخیم مقالہ بھی تحریر کیا مگر اس پورے مقالے میں کہیں ایک جگہ بھی ’’ر‘‘ کا استعمال نہیں کیا۔واصل کی عقلیت پسندی اس کے عقائد میں جا بجا جھلکتی ہے۔مثلاً انسان کی مجبوری و مختاری کے مسئلے پر وہ اپنی رائے یوں دیتا ہے کہ خدا عاقل اور انصاف پسند ہے ‘شر اور نا انصافی اس کی صفات میں شامل کی ہی نہیں جا سکتیں ‘اس بات کا جواز کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو جس بات کا حکم دے اس کی مرضی اس کے بر عکس ہو‘ لہٰذا خیر اور شر‘کفر و الحاد‘ فرمانبرداری اور گناہ اس کی مخلوق کے اعمال ہیں ‘یعنی مخلوق ہی اپنے اعمال کی خالق و مختارہے لہٰذا انہی کی بنیاد پر اسے سزا و جزا کا حقدار ٹھہرایا جائے گا‘یہ ناممکن ہے کہ غلام کو آقا کی طرف سے کوئی ایسا حکم بجا لانے کو کہا جائے جو اس کے بس سے باہر ہو‘بندے کو وہی کرنے کو کہا جاتا ہے جس کی وہ استطاعت رکھتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے عظیم مفکر ابن حزم نے واصل کے ان خیالات کے بارے میں کہا تھا کہ معتزلین نے انسان کی مجبوری و مختاری کے مسئلے پر نہایت عمدہ کام کیا ہے ‘اگر انسان کو اپنے معاملات میں کلی طور پر مختار مان لیا جائے تو شریعت کی عمارت کا وجود قائم نہیں رہ سکتا۔

 

معتزلین کی عقلیت پسندی میں بظاہر بڑی کشش نظر آتی ہے مگر ان کے ناقدین کی رائے میں ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے ان تمام تصورات کو رد کر دیا جو عقل کے پیمانے میں سموتے نہیں تھے ۔وہ یہ بات نظر انداز کر گئے کہ عقل انسانی بھی اسی طرح خدا کا ایک تحفہ ہے جیسے انسان کو ودیعت کی گئیں دیگر حسیات۔جس طرح انسان کے دیگر ذرائع علم کی اپنی حدود ہیں اسی طرح عقل کی بھی کچھ حدود ہیں اور ضروری نہیں کہ آفاقی سچائی عقل سے ہی سمجھ میں آ جائے۔ بقول شیکسپئیر :

"There are more things in heavan and earth, Horatio, than are dreamt of in your philosophy"

 

عباسی حکمرانوں ‘خاص طور سے خلیفہ مامون الرشید ‘نے معتزلین کی کافی سرپرستی کی اور عقلیت پسندی کو عوامی سطح پر روشناس کروایا۔معتزلین سچائی اور حقیقت کو محض عقل کی کسوٹی

پر ہی پرکھنے پر مصر رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے ایمان کوبھی خالصتاً فلسفے کے انداز میں جانچنا شروع کر دیا۔ انہوں نے یہ حقیقت یکسر بھلا دی کہ مذہب کے بنیادی عقائد کو کبھی بھی عملاً منطقی اعتبار سے جانچا نہیں جا سکتااور نہ ہی ان کا عقلی ثبوت مہیا کیا جا سکتا ہے ۔مذہب کے بنیادی عقائد کا تعلق چندفوق الادراک سچائیوں سے ہے جنہیں پہلے ہمیں وحی کی بنیادپر ماننا پڑے گا ‘اس کے بعد انسانی عقل کی حدود شروع ہوں گی۔ اگر ہم ہر عقیدے کو ہی عقل کی کسوٹی پر جانچیں گے تو یہ کسوٹی اس کے لئے درست نہیں ہوگی کیونکہ عقل ایمان کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے ۔اس ضمن میں کانٹ کی دلیل دلچسپ ہے۔ ‘کانٹ کے زمانے میں چرچ خدا کے بیٹے کا وجود ثابت کرنے کے لئے عقلی دلائل تلاش کر رہا تھا مگر کامیاب نہیں ہو پایا۔کانٹ نے پادریوں کی مشکل حل کر دی۔ اس نے کہا کہ خدا نے انسان کو پیور ریزن دی ہے پیور ریزن ودیعت نہیں کی‘ پریکٹیکل ریزن ہمارے مسائل تو حل کر سکتی ہے مگر خدا کی ذات کا تعلق پیور ریزن سے ہے اور وہ ہمیں نہیں ملی۔

 

عارف اور عالم دونوں ہی سچائی کے راستے تک لے جاتے ہیں مگر عارف کا ذریعہ عرفان ہے جبکہ عالم کا عقل ‘یہ ذرائع درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی۔ مولانا روم کے بقول عقلی استدلال شیطانی بھی ہو سکتا ہے اور رحمانی بھی ‘مگر غلطی کے امکان کے باوجود انسان نے ترقی کی ہے ۔چونکہ یہ دنیا احساسات کی دنیا ہے اس لئے علم کے اس ذریعے کو فوقیت دی جاتی ہے جو عقل پر مبنی ہے ۔دوسری طرف عرفان کا تعلق صرف مذہب سے نہیں بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی وجدان سے کام لیا جاتا ہے ‘یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ہم کوئی فیصلہ عقلی اعتبار سے درست معلوم ہونے کے باوجود اس لئے نہیں کرتے کہ دل نہیں مانتا حالانکہ اس کی کوئی عقلی توجیح نہیں ہوتی۔

 

عقل و عشق کے معرکے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم وجدان کا قائل ہونے کے لئے بھی بہرحال عقلی دلائل کا ہی سہارا لیتے ہیں‘تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عقل اور عشق دونوں کی منزل ایک ہی ہے مگر بقو ل اقبال ‘عقل ہمیں دھیرے دھیر ے اس مقام تک لے جاتی ہے جبکہ عشق ایک ہی جست میں تمام منازل پار کر لیتا ہے ‘ اسی لئے روز مرہ زندگی کے فیصلے ہمیں عقل کی رو سے کرنے چاہئیں جبکہ بڑے فیصلے دل سے کرنے چاہئیں ۔وہ مقام کب آتا ہے جب دل سے فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے ‘اس کا ذکر پھر کبھی۔

نوٹ :اس کالم میں معتزلین کے بارے میں حقائق ‘پروفیسر میر ولی الدین‘ عثمانیہ یونیورسٹی ‘ حیدر آباد دکن‘کے مقالے سے حاصل کئے گئے ہیں۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

aqalbmaqbla.jpg
 
26
December

Balochistan: As I see it

Published in Hilal English Jan 2014

Written By: Shahid Ali Khan Baloch

Balochistan is always projected as an area having many problems. For the last decade or so it has turned into a playing field of different regional and global powers. Intelligence agencies of different countries have been using politically and ideologically half-baked, directionless and unemployed Baloch youth for their vested geo-political interests. The Baloch youth, acting under catchy slogans, are used as a fuel in a battle to control major geographical choke points, resource-rich areas and their major possible routes. In addition to logistic and financial help of the foreign actors, the moral and political assistance from few media elements, civil society activists and certain political parties, have placed these foreign funded separatists at a much advantageous position as they have managed to divert public opinion in their favour despite their crimes against national security and common people in Balochistan. These armed groups have mainly focused on soft targets in Baloch-dominated areas to remain alive in news headlines and create problems in Balochistan. Firstly, they started targeting non-Baloch teachers, doctors, engineers and labourers. But when it became harder for them to find anymore such soft target, they switched to Baloch political workers, teachers, doctors and tribal elders. They acted on a simple formula; whoever is not following your political line, or has some personal or tribal clash with you, just go and target him. Once he is targeted, declare him an ISI Agent and claim responsibility of his killing by using a foreign-gifted satellite phone and harass his family and friends. Till 2008, these separatists received a considerable attention from a segment of Baloch political workers, civil society and common masses. But once they started targeting innocent Baloch people because they had faith in Federation of Pakistan or they had tribal or individual differences with these terrorists, the people of Balochistan started to shed away shadows of fear and dared to speak against them in public. With the passage of time the victims of these foreign–funded terrorism started to get united and mobilised. Now, by this time, the people are strong enough to force these elements to vacate certain areas including Quetta, Mastung, Kalat, Dera Bugti, Kohlu and Khuzdar.

At present, one can safely claim that only pro-federation majority is the only stakeholders in Balochistan issue. Anti-state camp is represented by Hairbiyaar Marri, Brahamdagh Bugti, Dr. Allah Nazar and Javed Mengal. While pro-state camp is led by Sarfraz Bugti, Shafique Mengal and Siraj Raisani. The cause of concern here is to unfold the fact that our so-called independent media, civil society and political parties, following the traditional rhetoric are denying to accept existence of the important pro-Pakistan stakeholders in Balochistan. It is about time that they should also change their prejudiced lenses and should acknowledge the role, contribution and importance of these pro-federation Baloch figures fighting disgruntled elements in Balochistan. Irony of fact is that they are targeted by anti-state elements and our so-called independent media and vibrant civil society, because they are pro-Pakistan. In today's media activism, one hardly finds representation of the community which is torch-bearer of resistance against those who are resisting writ of the state in Balochistan. In the most cases, we see either nationalists or least bothered federalists speaking their brand of Balochistan conflict.

Amid this whole scenario, if one wants to move towards a serious and genuine conflict analysis in Balochistan, he needs to be mindful of the fact that it is not Balochistan of 1960s and 1970s when just few tribal nawabs (chieftains) were the only stakeholders. A major difference between present situation and past movements is the active role of youth. In majority of cases, small groups of youth operate independently under a loose command. In such a situation, they get influenced by petty local considerations and end up in using this foreign-funded political infrastructure to settle their non-political individual issues. Due to leadership role of youngsters at this level, a clear manifestation of reactionary and immature decision-making has been noticed in militant groups. Killing of innocent people including teachers and doctors, destroying electricity polls and targeting relief activities during recent Awaran earthquake are examples of the immature decision-making. Such policies on one hand have resulted in complete isolation of militants and on other hand have paved the way for emergence of a strong reaction against these terrorists from within the Baloch society. If we analyse the main targets of these armed groups during past three four years, it will become evident that in more than 70% cases, they have targeted people associated with Sarfaraz Bugti, Shafique Mengal or Siraj Raisani. So, this situation boils down to a point that if we speak of major stakeholders of present conflict within boundries of Pakistan, these are three, namely: Pakistani Government, Baloch militants and their pro-state Baloch opponents in Balochistan. So, if there is any attempt of reconciliation excluding these pro-state activists, it will prove ephemeral and will burst into pieces like a bubble and may lead to law and order situation in the province. Once weaken, these pro-federation elements will be easily targeted by the militants.

So, the need of the hour and writing on the wall requires us to open our minds and eyes to see the changing political circumstances in Balochistan and acknowledge and appreciate role of the new major stakeholders in the issue. Our national security and ground realities demand to re-think, re-visit, and re-formulate our understanding of Balochistan conflict by keeping in mind these new dynamics for a sustainable conflict-resolution. It is need of the hour to give due respect and consideration to all forces in Balochistan to strike a pragmatic balance among different stakeholders. Just holding talks with foreign-funded elements and pushing in isolation to patriot factions in Balochistan will not serve the purpose and will turn the things from bad to worse. It will simply mean that we have given our national fate, destiny and pride in hands of those who, in collusion with their foreign masters, want to destabilise Pakistan. If such mindset persists and continues to flourish, God forbid there may be times when no one from Balochistan dares to take name of Pakistan, let alone standing against its enemies. Today, the people of Balochistan denounce these militant groups and stand united to fight them. The people of Balochistan only deserve due share in the power structure of the federation. They must be fully supported to live in peace and harmony, and continue participating in prosperity and well-being of Pakistan.

07
January

ا یک تھی سکینہ

تحریر: حمید اختر یو ایس اے

سان برنارڈینو (امریکہ) میں حالیہ پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کے پس منظر میں لکھی جانے والی ایک تحریر

سکینہ نے دروازے کے برابر میں عمودی کھڑکی پر لٹکے پردے کو تھوڑا سا ہٹا کر دیکھا تو باہر گہری دھند کی دبیز چادر میں لپٹی ہر شے اُسے دُھندلی دُھندلی دکھائی دی۔ رات سے جاری بارش کے باعث سڑک پر جگہ جگہ پانی کھڑا تھا۔ اس دھندلائے منظر میں کچھ فاصلے پر بجلی کے کھمبے ٹمٹماتی زرد روشنی کے ہالے کے گرد بارش کے قطرے چھوٹے چھوٹے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی سڑک پر کھڑے پانی کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔


سکینہ نے فوراً پردہ نیچے گرا دیا۔ اُس نے بستر پر رکھے اپنے سیاہ بیگ کا، جسے اُس نے رات کو ہی تیار کرلیا تھا، ایک بار پھر جائزہ لیا۔ سورج طلوع ہونے میں ابھی چند گھنٹے باقی تھے۔ لیکن اُس کی منزل کافی دور تھی لہٰذا اُسے اپنے پروگرام کے مطابق فوراً نکلنا تھا۔ اگرچہ موسم ناموافق تھا لیکن اُس کے مضبوط ارادے کی پختگی کے سامنے کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی تھی۔
وہ بے چینی سے کمرے میں چکر لگاتے ہوئے بارش کے تھمنے کا انتظار کرنے لگی۔ سکینہ کا تعلق پاکستان کے ایک متوسط مذہبی گھرانے سے تھا۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں ہنسی خوشی مگر مطمئن زندگی گزار رہی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کا باپ حال ہی میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوا تھا۔ سکینہ ایک ذہین طالبہ تھی۔ پڑھائی میں ہمیشہ نمایاں رہی۔ کالج کے سالانہ امتحان میں امتیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد سکینہ کے والدین نے اُس کے مستقبل کے لئے بڑے بڑے خواب دیکھنے شروع کردیئے۔ وہ بیٹی کی خواہش کے مطابق اُسے اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونِ ملک بھیجنا چاہتے تھے۔ سکینہ کی خواہش بھی یہی تھی لیکن اُن کے وسائل اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہ اکلوتی بیٹی کی خواہش کی تکمیل کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رقم سے وہ کوئی چھوٹا سا گھر خریدنا چاہتے تھے تاکہ زندگی کے باقی دن سکون و آرام سے گزار سکیں۔ لیکن پھر دونوں میاں بیوی نے باہمی مشورے سے اپنی اس خواہش کا گلا گھونٹ کر ساری جمع پونجی سے سکینہ کو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھجوانے کا فیصلہ کر لیا۔


اس طرح کچھ ہی عرصے میں سکینہ کے اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ کے باعث اُسے امریکہ کی ایک ممتاز یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اورپھر ضروری دستاویزات کی تیاری کے سارے مراحل طے ہو جانے کے بعد سکینہ والدین کی دعاؤں کے ساتھ امریکہ آگئی۔ اُسے رہنے کے لئے یونیورسٹی ہوسٹل میں ہی جگہ مل گئی۔ اس کا میل جول بہت کم تھا۔ کلاس سے فارغ ہونے کے بعد وہ زیادہ تر وقت ہوسٹل کے اپنے چھوٹے سے کمرے میں ہی گزارتی۔ گو اُس کے اس تنہائی پسند رویے کے باعث اس کے ہم جماعت طلباء و طالبات اُس سے کھنچے کھنچے رہتے لیکن وہ اس صورت حال سے بالکل بے نیاز اپنی پڑھائی میں مگن تھی۔ فارغ اوقات میں قریب ہی واقع اسلامی فلاحی مرکز جا کر اُن کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی۔

aikthisakeena.jpg
اس طرح اپنے گھر سے کوسوں دور اپنے مقصد کے قریب رہ کر وہ مطمئن زندگی گزار رہی تھی۔ وقت یوں ہی اپنی رفتار سے چلتا رہا۔دن مہینوں اور مہینے سالوں میں ڈھلتے گئے۔ آج گھر سے نکلے اُسے تقریباًتین سال ہو چکے تھے اور اس کی تعلیم مکمل ہونے میں چند ماہ ہی باقی تھے۔ ماں باپ بھی بے صبری سے اُس کا انتظار کررہے تھے۔۔۔
سکینہ نے ایک بار پھر کھڑکی سے پردہ سرکا کر باہر کا جائزہ لیا۔ اب بارش کا زور کسی حد تک کم ہو چکا تھا۔ اُس نے عجلت میں دیوار پر نصب آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے لباس اور سیاہ رنگ کے حجاب کو درست کیا۔ پھر پلٹ کر جلدی سے بیگ اٹھا کر اُسے اپنی کمر پر کس لیا اور دروازہ کھول کر نکل گئی۔


وہ تیز تیز چلنے لگی۔ لیکن کمر پر لٹکے بیگ کی وجہ سے اُسے تیز چلنے میں دقت محسوس ہو رہی تھی۔ اُسے کچھ ہی فاصلے پر ٹرین پکڑنا تھی۔ ہر سُو پھیلی دھند کے باعث دُھندلائے ماحول میں کہیں کہیں گاڑیوں، اور سٹورز کی مدھم روشنیاں نئی صبح کی نوید دے رہی تھیں۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتے گھبراہٹ میں بار بار اپنے دائیں بائیں۔ اور پیچھے مڑ کر دیکھ کر تسلی کرلیتی۔ وہ اس سے پہلے اتنی سویرے کبھی ہوسٹل سے باہر نہیں نکلی تھی۔وہ جلد ہی ٹرین سٹیشن پہنچ گئی اور طویل سیڑھیاں اُتر کر آگئی۔ چھٹی کا دن ہونے باعث پلیٹ فارم پر تقریباً ہُو کا عالم تھا۔ محض چند لوگ کہیں کہیں بینچوں پر بیٹھے تھے۔ وہ بے تابی سے ٹرین کا انتظار کرنے لگی۔


اتنے میں اُس نے دو سیاہ فام درازقد نوجوانوں کو سیڑھیاں اُتر کر پلیٹ فارم پر آتے دیکھا۔ مضبوط جسم کے مالک یہ نوجوان دیکھنے میں کافی مستعد اور چاق چوبند لگ رہے تھے۔ وہ تجسس کے انداز میں پلیٹ فارم پر موجود ہر کسی کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ ایک نے کالے رنگ کا سیاہ دراز کوٹ پہن رکھا تھا جبکہ دوسرا چمڑے کی جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔ اُن کی نظریں سکینہ پر مرکوز ہو گئیں۔ سکینہ اس صورتِ حال سے گھبرا گئی اور کنکھیوں سے اُن کی جانب دیکھا۔ اُس نے محسوس کیا کہ وہ مسلسل اُسے گھور رہے ہیں۔ اپنی اس گھبراہٹ کو چھپانے کے لئے اُس نے سینہ پُھلا کر ایک لمبی سانس لیتے ہوئے چہرے پر اعتماد لانے کی کوشش کی اور پھر اُن سے ذرا ہٹ کر کھڑی ہوگئی۔ اتنے میں دور سے اندھیرے میں اُسے روشنی کا ایک ہالہ دکھائی دیا جس کے قریب آتے ہی ایک بے ہنگم شور کے ساتھ ٹرین آکر رُکی۔ دروازہ کھلتے ہی وہ جلدی سے سوار ہوگئی۔ ڈبے میں محض چند مسافر ارد گرد سے بے نیاز اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے اخبار یا پھر کتاب بینی میں مصروف تھے۔ سکینہ بھی الگ سے ایک خالی نشست پر بیٹھ گئی۔


دونوں سیاہ فام نوجوان بھی اس سے ذرا فاصلے پر سامنے کی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ اُن کا رُخ سکینہ کی جانب تھا۔ سکینہ نے اپنا حجاب درست کیا اور ارد گرد کے ماحول سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے دوسری جانب دیکھنا شروع کردیا۔ ٹرین ہر چند منٹ بعد کسی سٹیشن پرچندلمحوں کے لئے رُکتی۔ اس طرح ہر نئے سٹیشن پر مسافروں کی نشست و برخاست کا سلسلہ جاری رہا لیکن وہ دونوں سیاہ فام نوجوان بدستور اپنی نشستوں پر براجمان تھے۔ بالآخر وہ سٹیشن بھی آن پہنچا جہاں سکینہ نے اُترنا تھا۔ ٹرین رُکتے ہی جیسے ہی دروازے کھلے وہ فوراً اُتر کر تیز تیز قدم اُٹھاتی ہوئی سٹیشن کے صدر دروازے سے نکل کر باہر سڑک پر آگئی۔


صبح صبح سڑک قدرے سنسان تھی۔ کہیں کہیں ہاتھوں میں کافی کے کپ تھامے کوئی اِکا دُکا افراد سرجھکائے پاس سے گزر جاتے۔ سکینہ نے اگر چہ ابھی تک پیچھے مڑ کر نہیں دیکھاتاہم اُس کے چہرے پر پریشانی کے آثار موجود تھے۔ اُس نے حجاب سے ڈھکی اپنی پیشانی پر پسینہ محسوس کرتے ہوئے اپنے بائیں ہاتھ کی پشت سے دبا کر اُسے خشک کرنے کی کوشش کی۔ مرکزی شاہراہ سے ہٹ کر ایک بغلی گلی میں آتے ہی اُس نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی دو سیاہ فام نوجوان جو اُس کا پیچھا کررہے تھے۔ اس صورت حال نے اُسے پریشان کر دیا۔ وہ گھبرا کر تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ اُس نے محسوس کیا پیچھا کرتے افراد اور اس کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے۔ اُس نے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر یکدم دوڑنا شروع کردیا۔ انہوں نے اُسے رُکنے کو کہا لیکن سکینہ اور بھی تیز بھاگنے لگی۔ انہوں نے ایک بار پھر اُسے رُکنے کو کہا۔ اس بار اُن کے لہجے میں تلخی نمایاں تھی لیکن بجائے رُکنے کے وہ سرپٹ بھاگنے لگی۔ لیکن اُس کی کمر پر لٹکا بھاری بیگ تیز بھاگنے میں رکاوٹ تھا۔ وہ اُسے خود الگ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن ۔۔۔ پھر سناٹے کو چیرتی ہوئی پشت سے آئی اور ایک بے رحم گولی اُس کے سر کے آر پار ہوگئی اور وہ ایک بے جان پتھر کی مانند اوندھے منہ زمین پر گری۔ کچھ ہی دیر میں سارا منظر ایک ہنگامی صورت حال کا نقشہ پیش کرنے لگا۔ ہر جانب سے پولیس کی گاڑیوں نے اپنے چلچلاتے سائرنوں کے ساتھ سارے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ خون میں لت پت سکینہ کی لاش زمین پر پڑی تھی۔ پولیس نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر کسی کو بھی لاش کے نزدیک جانے سے روک دیا۔ سکینہ کی کمر سے جُڑا سیاہ رنگ کا بیگ اور سرپر حجاب سب کی توجہ کا مرکز تھا۔


کچھ ہی دیر میں تمام نیوز چینلز پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح گردش کرنے لگی کہ خفیہ پولیس نے ایک حجاب پوش خود کش حملہ آور نوجوان مسلمان لڑکی کو دھماکا کرنے سے پہلے ہی گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ہر طرف ایک سنسی سی پھیل گئی۔ اگرچہ جائے حادثہ پر کئی گھنٹے تک پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے تحقیقات کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد بالآخر علاقے کو محفوظ قرار دے کر کھول دیا گیا۔ لیکن پورا دن اور رات گئے تک یہی خبر ہرچینل کے نیوز بلٹن کی زینت بنتی رہی ۔ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے لئے یہ ایک کٹھن وقت تھا۔ اگرچہ ابھی تک مقتولہ کی مکمل شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی لیکن پاکستانی میڈیا پر نشر ہونے کے بعد اس خبر نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ امریکہ میں مقیم بچیوں کے والدین ایک اضطراب اور بے چینی کی سی کیفیت میں مبتلا ہوگئے۔ سب کی زبان پر ایک ہی سوال تھا۔آخر کون تھی یہ لڑکی۔۔۔۔؟ اضطراب کا یہ سلسلہ تقریباً چوبیس گھنٹے جاری رہا۔


بالآخر اگلے روز صبح امریکی سکیورٹی اداروں نے ایک نیوز بریفنگ میں سکینہ کے بارے میں تمام معلومات کے ساتھ ساتھ اُس کے بیگ سے برآمدہونے والی اشیاء کو دکھاتے ہوئے معذرت کے ساتھ یہ بیان جاری کیا۔
’’کل صبح سکیورٹی اہلکاروں نے ایک لڑکی جو اپنے ساتھ ایک مشکوک بیگ اٹھائے ہوئے تھی کافی دور تک پیچھا کیا۔ اُنہوں نے اُسے بار بار رُکنے کو کہا۔ جب آخری وارننگ پر بھی وہ نہ رُکی تو ریاستی قانون کے تحت سکیورٹی اہلکاروں کومجبوراً گولی چلانا پڑی۔ یہ ایک افسوسناک عمل تھا۔ لیکن شہر میں ایک حالیہ دہشت گردی کی وار دات کے پیش نظر جس میں دونوجوان مسلمان میاں بیوی نے معذور افراد کی بحالی کے مرکز میں کئی بے گناہ لوگوں کو جس طرح ہلاک کیا اُس کے پیشِ نظر سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے اس طرح کا ردِ عمل ضروری تھا۔ پھر انہوں نے سکینہ کے بیگ سے برآمد ہونے والی اشیاء دکھانی شروع کیں جن میں جوس اور دودھ کے چند ڈبوں کے ساتھ ایک پمفلٹ بھی انہوں نے دکھایا جس پر تحریر تھا۔۔


’’کل صبح دس بجے بفلو پارک سان برنارڈینو میں بے گھر اور ضرورت مند افراد کے لئے ایک تقریب میں اُن کی ضرورت کی اشیاء تقسیم کی جائیں گی۔ اُس کے بعد سٹی ہال کے باہر سان برنار ڈینو کے واقعے میں مارے جانے والے بے گناہ افراد کی یاد میں پھول سجانے کے ساتھ ساتھ موم بتیاں روشن کی جائیں گی۔‘‘


یہاں پریس بریفنگ کا اختتام ہوا۔۔ لیکن کیا معلوم کہیں ایسی ہی ایک معصوم سکینہ کی دردناک کہانی کا آغاز ہو چکا ہو۔۔۔ کون ہے سکینہ کا قاتل امریکی سکیورٹی اہلکار یا مذہب کے لبادے میں چھپے وہ گھناؤنے مکروہ چہرے جو نہتے اور معصوم لوگوں کے خلاف دہشت گردی کرکے پوری دنیا میں نفرت کا نشان بنے ہوئے ہیں۔۔۔ ذرا سوچئے

حمید اختر فلم‘ ریڈیو اور ٹی وی کے حوالے سے ایک معروف نام ہے۔ آپ نے بی بی سی اور وائس آف امریکہ کے لئے بھی کام کیا اور ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter