07
January

دو ہزار سولہ - نوجوانانِ پاکستان

تحریر : محمود شام

یہ تو پوری دُنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔
ایک ایٹمی طاقت ہے۔
اس کی آبادی کا 60 فی صد 15 سے 35 سال کی عمر کے پاکستانیوں پر مشتمل ہے۔
بہت کم ملکوں کو یہ توانائی، طاقت اور جوانی میسر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر ہم پاکستانی جتنا بھی شکر کریں، کم ہے۔


قوموں کی زندگی میں ساٹھ ستر سال کچھ نہیں ہوتے۔ قوم بننے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ قدرت نے ہمیں بے حساب خزانے عطا کئے ہیں۔ نوجوان آبادی تو اس میں سر فہرست ہے۔ پہاڑوں، ریگ زاروں اور میدانوں میں چھپے تیل، تانبے، سونے، گیس اور قیمتی پتھر انمول ذخیرے ہیں۔ ان معدنیات کو برآمد کرنے کے لئے بھی نوجوانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جوان ذہن، جوان جسم، جاں دل سوز۔


آج ہمارے مخاطب ہمارے یہی بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں ہیں جنہیں ہم اپنا مستقبل کہتے ہیں، جنہیں اب تک ہم نے وہ پُر سکون، محفوظ، پُرامن اور خیال افروز معاشرہ نہیں دیا۔ جس کے وہ اکیسویں صدی میں حقدار ہیں۔ ہم نے انہیں سفر کے وہ ذرائع اور وسائل نہیں دیئے جو ان کے ہم عمر شہریوں کو امریکہ، یورپ، چین اور دوسرے علاقوں میں میسر ہیں جن کا مشاہدہ وہ اس وقت کرتے ہیں جب بیرونِ ملک جاتے ہیں یا وہ فلموں میں، ٹی وی پر، انٹرنیٹ کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ ہم ان کے قصور وار ہیں۔ وہ ہم سے جواب طلب کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ ہمارا اثاثہ ہیں، ہمارا سرمایہ ہیں، ہمارا روشن مستقبل ہیں۔ ہمیں اُمید نہیں یقین ہے کہ وہ جب عملی زندگی میں قدم رکھیں گے، تو ان کے ذہن جدید علوم سے آراستہ ہوں گے۔ اپنی تعلیم، انٹرنیٹ، ٹی وی چینلوں کے ذریعے وہ درپیش چیلنجوں کے مقابلے کی تربیت حاصل کرچکے ہوں گے۔ وہ مسائل کی شناخت بھی کرچکے ہوں گے۔ ان کے حل کے راستے بھی ان کے سامنے ہوں گے۔ حالات سے پنجہ آزما ہونے کے لئے ہماری یہ نسل ہم سے بہتر ہوگی۔


ہمیں اپنی کوتاہیوں پر شرمندہ بھی ہونا چاہئے، اپنے نوجوانوں سے معذرت بھی کرنی چاہئے۔ ہم ملک کو زیادہ آگے کیوں نہیں بڑھا سکے۔ ہماری گزشتہ نسلوں نے ہمیں ورثے میں بہت کچھ دیا ہے، ہمیں غلط اور صحیح کی تفریق بھی بتائی تھی، یہ بھی سکھایا تھا کہ ترقی کی منزل کو کون سے راستے جاتے ہیں۔


بیسویں صدی کے آغاز میں کیا ہمیں یہ بانگ درا نہیں سنائی دی تھی؟ اس وقت کے فلسفی، شاعر اور دل درد مند رکھنے والے اقبالؔ نے کیا ہمیں خبردار نہیں کیا تھا؟
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سرِ دارا


اقبالؔ ہماری نسل کو براہِ راست بھی مخاطب کرتے تھے۔ بہت سے آزادی کے متوالے، سر فروش، بھی اقبالؔ کا یہ درد ہم تک پہنچاتے تھے۔
تمدّن آفریں، خلّاقِ آئینِ جہاں داری
وہ صحرائے عرب یعنی شتر بانوں کا گہوارا
غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے
جہاں گیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا


ان دو مصرعوں میں کتنی صدیاں سمودی گئی ہیں۔ خلفائے راشدین، بنی اُمیہ، بنو عباسیہ، عثمانیہ، سب کی تگ و دو، بصیرت، سفارت، متانت اس ایک مصرع میں بیان کردی گئی ہے۔ غور کیجئے، یہ لفاظی نہیں ہے، جذباتیت نہیں

ہے، حقیقت ہے، تاریخ ہے، جہاں گیر، جہاں دار، جہاں بان، جہاں آراء۔ کیا ہمیں اب ضرورت نہیں ہے کہ سیکھیں جہاں داری کیا ہے؟ جہاں دار کون ہوتا ہے؟ جہاں بانی کیسے ہوتی ہے؟ جہان آرائی کی حدیں کہاں تک ہیں؟!!!
اقبالؔ ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔ ہمارے دل اور ذہن پر دستک دیتا ہے۔
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
ہماری نسل نے ان مصرعوں میں گونجتے سناٹوں کو محسوس کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
نہیں دُنیا کے آئینِ مسلّم سے کوئی چارا
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباکی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا


ہمیں تو بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی احساس دلاتے رہے، ہماری توانائی کا‘ فیصلہ سازی میں ہماری اہمیت کا، نئی مملکت خدادادِ پاکستان کو ترقی یافتہ اقوامِ عالم کی صفوں میں لے جانے کی ذمہ داریوں کا۔
ذرا غور سے سنیں۔ 12 اپریل 1948ء کو وہ پشاور میں اسلامیہ کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کتنی اہم باتیں کہہ رہے ہیں۔ منزل کی طرف جانے والے اصل راستے دکھارہے ہیں۔ پاکستان بننے کے صرف آٹھ ماہ بعد، اپنی رحلت سے چھ ماہ پہلے۔


’’ اس موقع پر فطری طور پر جو خیال میرے ذہن میں چھایا ہوا ہے، وہ تحریکِ پاکستان کے دوران طالب علم برادری کی طرف سے ملنے والی مدد ہے۔ خاص طور پر اس صوبے سے ( یعنی کے پی کے۔ اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ)۔ میں اس صوبے کے عوام کے اس بے مثال اور بر وقت صحیح فیصلے کی اہمیت نہیں بھول سکتا، جو انہوں نے گزشتہ برس ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت کے لئے دیا تھا، اس میں بھی طلبہ کا ہی زیادہ حصّہ تھا۔ مجھے اس حقیقت پر فخر ہے کہ اس صوبے کے عوام کبھی بھی، کسی طرح بھی، پاکستان کے حصول اور آزادی کی جدوجہد میں پیچھے نہیں رہے۔
اب جب ہم نے اپنی قومی منزل حاصل کرلی ہے۔ آپ یقیناًتوقع کررہے ہوں گے کہ میں آپ کو بتاؤں، نصیحت کروں کہ اب ہمارے سامنے اس نئی مملکت کی تعمیر کا انتہائی مشکل اور اہم چیلنج ہے۔ ہمیں اس کو دُنیا کے چند عظیم ترین ملکوں میں سے ایک بنانا ہے۔‘‘


قائدِ اعظم خطاب تو پشاور میں طلبہ سے کررہے تھے لیکن ان کی مخاطب مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں بازوؤں میں نوجوان برادری تھی۔ وہ قیامِ پاکستان میں ان کی جدو جہد پر بار بار نوجوانوں کا شکریہ بھی ادا کررہے تھے۔ اب وہ چاہتے تھے کہ اس جذبے سے وہ استحکام پاکستان کے لئے بھی اپنی توانائیاں صرف کریں۔


’’ کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے اپنا کردار انتہائی شان سے ادا کیا۔ اب جب آپ نے اپنا مقصد حاصل کرلیا ہے۔ اب حکومت آپ کی ہے، ملک آپ کا ہے، جہاں آپ ایک آزاد شہری کی حیثیت سے زندگی گزار سکتے ہیں۔‘‘


آگے دیکھئے۔ یہ نکتہ بہت ہی اہم ہے۔
’’ اب ملک کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل کے لئے آپ کی ذمہ داریاں اور نقطۂ نظر تبدیل ہوجانا چاہئے۔ اب وقت کا تقاضا یہ ہے اور یہ مملکت آپ سے توقع رکھتی ہے کہ اب نظم و ضبط کا معقول احساس پیدا کریں۔ آپ کا کردار قابلِ رشک ہو۔ معاملات میں پہل آپ کا شعار ہو۔ اور تعلیمی پس منظر انتہائی ٹھوس۔ ‘‘


غور کیجئے! 67سال پہلے بانئ پاکستان بر صغیر کے بے مثل قائد اس وقت کے نوجوانوں کو کیا سمجھارہے ہیں۔ کن غلط فہمیوں کی نشاندہی کررہے ہیں جو آ ج کے رویوں پر بھی صادق آتی ہے۔
’’ میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے اقدامات، نا پُختہ اطلاعات، نعروں یا لفاظی پر مبنی نہیں ہونے چاہئیں۔ انہیں دل پر نہ لیں، طوطے کی طرح نہ رٹیں۔ آپ کی درسگاہ آپ کو جو تربیت دیتی ہے، اس کا فائدہ اٹھائیں۔ اپنے آپ کو آنے والی نسلوں کے لیڈر بننے کے لئے تیار کریں۔ یہ غلط خیال دل سے نکال دیں کہ طلبہ کو کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ کوئی نئی بات نہیں بتا سکتا کیونکہ وہ پہلے سے بہت کچھ جانتے ہیں، یہ اندازِ فکر بہت نقصان دہ ہے۔‘‘


نوجوانوں کو ان کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے قائدِ اعظم نے فرمایا۔
’’ آپ کو اندازہ ہونا چاہئے کہ آپ کے لئے نئے شعبے، نئے محکمے اور نئے آفاق انتظار کررہے ہیں، نئے مواقع دستیاب ہیں جہاں لامحدود امکانات ہیں۔ آپ کو اپنی توجہ سائنس،کمرشل بینکنگ، انشورنس، صنعت اور ٹیکنیکل ایجوکیشن پر مرکوز کرنی چاہئے۔‘‘


کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری نسل کو حقیقی مسائل سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ہماری غلطیوں اور خامیوں کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ قائدِ اعظم، قائدِ ملّت اور دوسرے اکابرین نے ہمیں ملک کو درپیش چیلنجوں کا شدت سے احساس دلایا تھا، راستے بھی سُجھائے تھے۔


میں اپنی نسل اور اپنے ہم عصروں کی طرف سے آج کے نوجوانوں سے معذرت کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ انتہائی خوش قسمت ہیں کہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں، پاکستان میں رہتے ہیں، اس عظیم مملکت کے شہری ہیں، اس حسین، خوبصورت اور فطرت کے خزانوں سے مالا مال وطن کے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، نا اُمیدی کا کوئی جواز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت سے نوازا ہے۔ کبھی تدبّر کریں، غور کریں کہ مشرقِ وسطیٰ سے مشرقِ بعید جانے والوں کو پاکستان کے دروازے سے گزرنا پڑتا ہے، ایشیا سے یورپ جانے کے لئے بھی یہی راستہ ہے۔ چین کیوں قراقرم سے گوادر تک اقتصادی راہداری تعمیر کررہا ہے۔ یہ اس کی ضرورت بھی ہے۔ لیکن اس سے فائدہ تو ہم پاکستانیوں کو ہوگا۔ کئی ہزار کلومیٹر پٹی پر کتنے ہوٹل کھلیں گے۔ کتنے کارخانے تعمیر ہوں گے۔ کتنے پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔
کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں۔ کیا آپ نے چینی زبان سیکھ لی ہے۔


اس راہداری کی تعمیر کے دوران جن شعبوں میں مہارت اور تربیت درکار ہوگی، قائدِ اعظم نے 67 برس پہلے ان کی واضح نشاندہی کی تھی۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہ دُنیا میں کئی ملکوں میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، بیلجیم، فرانس، جرمنی، جاپان میں 70 برس سے زیادہ عمر کے مرد اور خواتین اکثریت میں ہیں۔ وہ اگر چہ صحت مند ہیں، بہت سے کام اس بڑھاپے میں بھی کرلیتے ہیں لیکن پھر بھی روزمرہ زندگی میں ایسے کئی ضروری شعبے ہیں جہاں انہیں نوجوانوں کی ضرورت رہتی ہے۔ آپ انٹرنیٹ دیکھتے ہیں، بین الاقوامی ٹی وی چینل دیکھتے ہیں، ریڈیو سنتے ہیں، آپ کو یہ جاننا چاہئے کہ وہاں کن شعبوں میں تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے۔ یہ سب شعبے 67 سال پہلے بھی نوجوانوں کا انتظار کررہے تھے، اب بھی یہ شعبے نوجوانوں کے منتظر ہیں۔ آپ سارے کام کرلیتے ہیں۔ آپ بہت جدو جہد کرتے ہیں بڑی محنت کرتے ہیں۔ آپ میں بہت توانائی ہے لیکن آپ میں سے اکثر کا تعلیمی اور تربیتی پس منظر مضبوط نہیں ہے۔ الیکٹریشن ہیں مگر سند نہیں ہے۔ پلمبر ہیں مگر ڈپلوما نہیں ہے، آپ کے گھریلو حالات ایسے تھے کہ پڑھائی درمیان میں ہی چھوڑنا پڑی۔ کام شروع کرچکے، اس میں مہارت بھی حاصل ہوگئی۔ لیکن آپ کے پاس کوئی تصدیق نامہ نہیں ہے۔ غیر ممالک میں باقاعدہ اسناد درکار ہوتی ہیں۔ یہ ہماری نسل کی کوتاہی ہے، حکمرانوں کی غفلت ہے کہ ووکیشنل ایجوکیشن (پیشہ ورانہ تربیت) کے ادارے بہت کم تعداد میں ہیں۔ اس لئے ہمارے جو محنت کش دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں، انہیں اُجرت کم ملتی ہے۔ حالانکہ وہ ہُنر مندی میں کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔


میں تو کئی بار لکھ چکا ہوں۔ تمہاری جرأتوں کو داد دے چکا ہوں۔ اے جوانانِ وطن! تم جو اپنے دمکتے چہروں، تمتماتی پیشانیوں، جگمگاتی آنکھوں، لچکتے بازوؤں، ستواں جسموں کے ساتھ کرکٹ سٹیڈیموں کے باہر کبھی ٹکٹوں کے انتظار میں کھڑے نظر آتے ہو، کبھی تماشائیوں کی صورت میں اپنے کھلاڑیوں کی اچھی گیند اور پُر زور ہٹ پر پورے جوش اور محبت سے تالیاں بجاتے دکھائی دیتے ہو، معلوم نہیں تم نے کبھی اپنی طاقت، اپنی اہمیت اور اپنی افادیت کا احساس کیا ہے یا نہیں۔ اس وقت اسٹیڈیموں کی رونق تم سے ہے، کھلاڑیوں کی آمدنی تمہاری آمد سے بڑھتی ہے۔ مثالی نظم و ضبط، تحمل سے قوم کا سر تم نے بلند کیا ہے۔ میں تمہاری آنکھوں میں یہ جوش، یہ عزم، یہ چمک، تمہارے بازوؤں میں یہ برق، تمہارے جسموں میں توانائی، تمہاری پیشانیوں پہ یہ ولولے کتنے برسوں سے دیکھتا آرہا ہوں اور انہیں نہ جانے کس کس کی طاقت بنتے پایا ہے۔ تاریخ میں کتنے موڑ آئے ہیں، کبھی ہم روئے ہیں، کبھی مسکرائے ہیں۔ پتہ نہیں تم نے کبھی مڑ کر دیکھا کہ نہیں۔جب تمہاری طاقت مملکت کے مفاد میں استعمال کی گئی تو ہم سب مسکرائے، خوشیاں ہمارا مقدّر بنیں، جب تمہاری طاقت کسی ذات کے مفاد میں خرچ کی گئی تو وہ شخصیت تو مسکرائی مگر قوم روتی رہی ہے۔ تم ہمارے بازو ہو، ہمارا حوصلہ ہو، تم جہاں بھی ہو، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد، مظفر آباد، ملتان، حیدر آباد، سکھر، سیالکوٹ، فیصل آباد، کوہاٹ، مردان، سبّی، لاڑکانہ، خانیوال، نوابشاہ، گھوٹکی، گجرات، روجھان جمالی، جھنگ۔۔۔۔۔ تمہاری نگاہیں بلند ہیں، سخن دلنواز ہیں، جاں پُر سوز ہے۔ تم کہاں نہیں ہو، تم وہاں بھی ہو جہاں وطن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں، وہاں بھی ہو جہاں ایران کی سرحدیں ہم سے ملتی ہیں، جہاں بھارت کی طویل سرحد ہماری سرحد کے ساتھ چلتی ہے، لائن آف کنٹرول چلتی ہے، وہاں بھی تم ہی ہو، کہیں کھیتوں میں ہریالی تم سے ہے، کہیں ملوں کی مشینیں تمہارے دم سے رواں ہیں، کہیں تمہاری موجودگی اور ہر وقت چوکنّے رہنا کتنی آبادیوں کے لئے تحفظ اور سکون کی ضمانت ہے۔ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، دینی مدرسوں میں زندگی تم سے ہے، سرکاری سیکرٹریٹ ہوں، پرائیویٹ کمپنیوں کے دفاتر، سب تمہاری وجہ سے چل رہے ہیں۔ ایک طرف کم سنوں کے لئے تم ایک اُمید ہو، آگے بڑھنے کی وجہ ہو۔ دوسری طرف ڈھلتی عمروں کے لئے تم ایک سہارا ہو۔ اے جوانانِ پاکستان کبھی تم نے جائزہ لیا کہ تمہاری حدّت سے کتنی فصلیں پکیں اور انہیں کاٹ کر کون کون لے گیا۔ مجھ جیسے پاکستانی سیاست کے طالب علم گواہ ہیں کہ کس طرح قائدین تمہارے کندھوں پر سوار ہوکر صدارتی محلّات، وزارتِ عظمیٰ کے ایوانوں میں داخل ہوگئے۔ تم آہنی گیٹوں کے باہر اپنی تمنّاؤں، محرومیوں اور خوابوں کے ساتھ کھڑے رہ گئے۔ تم وطن کی بہار ہو، فصل گل ہو، رنگتیں ہو، خوشبوئیں ہو، مگر ایک دوسرے سے بٹے ہوئے ہو، دور دور ہو۔ قومی سیاسی پارٹیاں ہوں۔ ان کی مقبولیت ہر دلعزیزی تمہارے دم سے ہوتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کا دباؤ تمہاری حمایت سے بڑھتا ہے۔ علاقائی تنظیمیں اپنے پروگرام تمہارے بل بوتے پر پیش کرتی ہیں۔ لسانی تنظیموں کی زبان میں روانی تم سے آتی ہے۔ ان پارٹیوں، جماعتوں، تنظیموں کے سربراہ تو آپس میں ملتے رہتے ہیں لیکن تمہیں کبھی آپس میں ملنے کا موقع نہیں ملتا۔


امیروں کے اونچے علاقے ہوں، وہاں زندگی تم سے ہوتی ہے، کاریں بھگاتے ہوئے، بریکیں لگاتے ہوئے، موبائل فونوں پہ پہروں انگریزیائی اُردو بولتے ہوئے، ایک ہلچل تم سے رہتی ہے۔ متوسط طبقوں میں بغیر سائلنسر کی موٹرسائیکلوں سے اپنے ہونے کا احساس تم ہی دلاتے ہو۔ کبھی ٹیوشنیں پڑھاکر اپنی تعلیم کا خرچ پورا کرتے ہو۔ کچی آبادیوں میں، کچی عمروں میں کبھی خوانچے لگاتے ہوئے، کبھی ہوٹلوں، ریستورانوں پر مصروفِ خدمت، منی بسوں میں لٹکتے، ساتھ ساتھ بھاگتے، ٹرانسپورٹروں کی تجوریاں تم ہی بھرواتے ہو۔ کبھی رکشہ دوڑاتے ہو، کبھی ٹیکسی چلاتے ہوئے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہو، کبھی سیٹھوں، جاگیرداروں، صاحبوں کی لینڈ روورز، کاریں چلاتے، صاف کرتے ہو۔ تم سب ہمارا فخر ہو، ہمارا غرور ہو۔ کبھی تم نے سوچا کہ تم نہ ہو تو یہ سب کچھ چل سکتا ہے؟ زندگی رواں رہ سکتی ہے؟تم وقت کے سینے میں دھڑکتے ہو، جو تم نہ ہو تو زمانے کی سانس رُک جائے، تم جہاں بھی ہو اور تم کہاں نہیں ہو۔ تم ہی پاکستان ہو، تم ہی اس مملکت کا مستقبل ہو۔ اس سفر کی منزل ہو، تحریکِ پاکستان تمہارے عزم سے چلی تھی، پاکستان کا قیام تمہاری پُر جوش شرکت کا نتیجہ تھا اور اب پاکستان کا استحکام بھی تمہاری ہمتوں اور کوششوں سے ہوگا۔ زمانے کے قبیلے کی آنکھ کا تارہ وہی ہے جس کا شباب بے داغ اور ضرب کاری ہے جو ستاروں پر کمند ڈالتا ہے۔


منزلیں بھی منتظر ہیں، ہدف بھی موجود ہیں، ماں کی آغوش بھی ہے، تمہیں شناخت دینے والی مملکت بھی ہے، تمہیں نام دینے والی زمین بھی ہے، دُنیا میں تمہارے کتنے ہم عمر ہیں جو زمین کے لئے ترستے ہیں جن کو وطن کی چھاؤں میسر نہیں ہے۔ تمہیں تو اللہ نے کتنے، کھلے سر سبز میدان، میلوں میل بہتے دریا، ٹھاٹھیں مارتے سمندر، فطرت کے شاہکار ساحل ، سونا اُگلتی زمینیں، گیس، تیل، ریگ زار، برف پوش پہاڑ بخشے ہیں۔ سربراہوں کا کلچر بدلنے کی ضرورت ہے اور تم میں اس کی اہلیت ہے۔ تمہاری آنکھوں میں یہ سپنے ہیں، تمہارے بازوؤں میں یہ بجلیاں ہیں۔
آخر میں پھر اقبال کے الفاظ میں مخاطب ہوکر اجازت چاہوں گا۔


نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
18
December

Handling the Permanent UNSC Seat

Published in Hilal English Jan 2014

Written By: Ahmed Quraishi

By taking itself too seriously on the question of its claim to a permanent Security Council seat, it appears that India has set itself up for disappointment (amounting embarrass-ment) at the international level. The United Nations (UN) reform process should have been about equality, consensus and peace. Instead, it is becoming a narrow matter of national pride, at least in India's case since the other three nations claiming permanent membership status – Japan, Brazil and Germany – have not yet turned this issue into a test for national pride the way India is apparently doing. It is clear by now that New Delhi's claim to a berth with the veto-wielding world powers at the UN does not enjoy majority support within the international community. There are serious reservations on India's past record in maintaining peace in the region, and on its economic and military ability to ensure peace beyond the region.

In New Delhi, Indian diplomats, politicians and the media are convinced that their country has the strongest case for a permanent seat at the United Nations Security Council (UNSC). On social media, Indian citizens can be seen grouching in unison, 'Why is India not sitting with the P5, or the 'Permanent Five' – the United States, Russia, Britain, China, and France – on the UNSC?' India makes its case aggressively and does not miss any opportunity. Professional and trade delegations going abroad are briefed in advance; even student groups are coached to say the right things in front of a foreign audience. Indian commentators and social media activists appear as if reading from the same talking-points memo, probably written inside one of the dusty rooms of the archaic building of the Ministry of External Affairs in New Delhi.

But here is an irony: If India is qualified, well-backed by world powers, and has the strongest case, how come it failed to get elected to a non-permanent seat for nineteen consecutive years, from 1991 to 2010? For these years, most member states of the UN did not deem India fit for a rotational, two-year term on the Security Council. The irony does not end here. Despite years in pushing its case for recognition as a world power, India's record as a rotational non-permanent member barely beats that of Pakistan, a country five times smaller than India. Islamabad is not even offering itself as a contender for a permanent seat. Pakistan has been elected five times to the Security Council and the 2011-2013 term was the sixth. India pulled its seventh term a year earlier, in 2010-2012.

Compared to India's seven stints as a non-permanent member, Japan and Brazil were elected for nine terms each (three for Germany). What this shows is that a relatively smaller country like Pakistan can garner enough support within the United Nations member countries to sit on the Security Council and that this should not automatically translate into a claim to the permanent seat. The fact is that India's case for a permanent seat at the UNSC is not as strong as it seems. In fact, it could be the weakest case within the G4, the grouping created by Japan, Germany, India and Brazil to support each other's bid for a permanent seat. There is no denying that the Security Council needs reform to reflect the balance of power in today's world. The P5 need help in maintaining and enforcing peace worldwide. But the sales pitch of the G4, India included, is one that seeks to perpetuate the elitism that surrounds the P5 status and prolong the denial of equitable representation to important parts of the world, especially to Africa.

In fact, nothing illustrates how India and the G4 are on the wrong side of history than the success that Pakistan and Italy have met with their counter lobbying group, known as Uniting for Consensus, or UfC. The group includes Italy, Pakistan, Argentina, Indonesia, Canada, Iran, South Korea, Turkey, Egypt, Algeria, Spain, and Mexico. When Italy called for a meeting of UfC in Rome in May 2011, a staggering 120 member states of the UN, out of 193, attended.

So, India's bid for veto power on important global decisions at the UN is a long way coming. But even if it comes up for a vote, is India qualified to discharge the responsibilities of maintaining international peace and security? India had no case to permanent Security Council membership in 1945 when the Charter of United Nations was drafted by winning powers in World War II. India was a British colony then. After independence in 1947, India had little in terms of economic and military power to play any role in maintaining world peace. So, it is understandable why none of the WWII victorious powers invited India to the Security Council simply based on India's large geographic size and population.

Even today, if India were to become a part of an expanded UNSC along with Brazil, Germany and Japan, New Delhi would still be among the poorest permanent members of the Council with the lowest human development indicators, and the lowest ability to project economic or military power and influence on the world stage as P5 countries often have to do in pursuit of enforcing the decisions of the world body. If India gets past these questions, it has to answer tough questions about how it has conducted its foreign policy and whether that helped maintain peace and security in its region.

India fails this test. India introduced proxy warfare to South Asia in 1950, merely three years after its decolonization from Britain. It used the wild regions of Afghanistan to mount separatist insurgencies inside Pakistan's western provinces throughout the Cold War. Pakistan, however, never posed any level of threat to India.

In 1974, India introduced nuclear weapons to South Asia, again without provocation from anyone and without any demonstrable fatal threat from any country that could not have been neutralized through conventional means. India continues to have serious border disputes with almost every neighbour. It has gone to war or engaged in some form of armed conflict with most of its neighbours. Pakistan, China, Sri Lanka, Nepal, Bhutan and Bangladesh have all accused India at various times of meddling in those countries' internal affairs through proxy and covert action.

Probably nothing illustrates more the worrying aspects of Indian foreign policy than the 1971 Indian invasion of Pakistan and the subsequent war that ended with India helping break up Pakistan and create Bangladesh. In this international incident, New Delhi created and trained a proxy terror militia on its soil for at least two years with the mission to operate in Pakistan. It unleashed this terror militia when a strategic opportunity presented itself after a chaotic Pakistani election that led to violence and offered India a window to invade. So, basically, Pakistan was invaded by India in the middle of a democratic exercise in Pakistan that went violent, as elections often do in developing countries.

Far from solving world problems at the UNSC, India itself could come up as an agenda item in the Council. The country's entire northeast is wracked by dozens of violent insurgencies that seek independence for those regions from the Indian state. In August 2012, the situation got out of control when ethnic tensions erupted across several Indian cities resulting in a mass exodus. The Time magazine reported the incident with a well justified title, 'India's Northeast: How a Troubled Region May Be a Global Flashpoint.'

The case of Indian Deputy Consul General in New York city, Devyani Khobragade, and the Indian over-reaction to what is a clear case of visa fraud and maid abuse, has forced even the most India-friendly elements in the American establishment to pause and re-think. The episode has given many observers worldwide a chance to watch the Indian policy volatility up close. One of those watchers is Jeremy Carl, a research fellow at Hoover Institution, Stanford University. In an opinion piece for CNN, Carl writes that the case of the diplomat “shines an unflattering light on several elements of India's diplomacy and its politics of privilege.” He concludes: “The intemperate reaction of the Indian government in response shows that, despite its status as an aspiring great power, India still frequently lacks the maturity on the world stage to behave like one.”

We in Pakistan have experienced this aspect of Indian diplomacy many times but were often unfairly accused of inflexibility in resolving disputes with India. For example, consider how India occupied an inhospitable mountain peak in our Northern Areas, called Siachen Glacier, in 1984, violating an implicit understanding between the two countries that such areas will be left untouched. Today India loses dozens of soldiers to the cruel weather in what is known as the world's highest battlefield and has forced Pakistan to take countermeasures. The worst part is that a solution to this limited conflict has been negotiated to the last detail by both sides and is ready to be signed since 2006, but there is no logical explanation from India as to why it is delaying a resolution.

Last, there are the UN Security Council resolutions on Kashmir that India is in violation since 1948 despite solemn commitments to the Council by no less than India's Prime Ministers over a half-century. This is just the tip of the iceberg of issues that render India's race for a permanent seat on the Security Council a matter of concern for some of India's neighbours like Pakistan.

India has a long way to go to demonstrate that it can meet the responsibilities that a permanent seat at the table in the Security Council entails. India can start making amends by changing the way it deals with neighbours, by tempering its sometimes wild foreign policy impulses, and by resolving festering disputes. It is now for India to respond to peace initiatives positively and move away from the path of haughtiness and belligerency.

The writer is a journalist who contributes regularly for print and electronic media and is a senior research fellow at Pakistan Federal Reorganisation Programme. This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
07
January

ایک ادھورا خواب

تحریر: ڈاکٹر یونس جاوید

محلے میں سب سے بڑے دروازے والا گھر سید سردار احمد شاہ کا تھا‘ اس گھر کا صحن بہت کشادہ اور پختہ تھا۔ البتہ کچھ حصہ درختوں ‘ پھولوں اور گلاب کی بیلوں کے لئے مخصوص تھا۔ بائیس مرلوں پہ پھیلا ہوا یہ گھر دومنزلوں پر مشتمل تھا مگر سب لوگ نیچے والی منزل کو ہی استعمال کرتے تھے۔ جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا‘ اس گھر کے بارے میں میری معلومات ہلکی ہوتی گئیں۔ سید سردار احمد شاہ کے چار بیٹے تھے۔ ضیا نثار احمد (پی ٹی وی گئے) صادق۔ حامد مختار احمد اور لیاقت اسرار احمد۔


یہ گھر بچپن میں ہی میرے لئے نہایت خوش کن تھا کہ ’’ماں جی‘‘ اس گھر کا مرکز تھیں۔ سب لوگ‘ اپنے پرائے اور ہم بچے سب ان کو ’’ماں جی‘‘ ہی پکارتے تھے۔ وہ ہر ایک سے شفقت بھرا سلوک کیا کرتیں۔ یوں بھی یہ گھرانا باقی تمام گھرانوں سے مہذب اور کلچرڈ تھا۔ سیدسردار احمد شاہ نے تمام بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔ اُنہیں مکمل توکیا ہی تھا ان کی تربیت بھی کی تھی۔ سب بچے باپ کے فیصلوں پر عمل کرتے کہ یہ گھرانااتحاد اور یگانگت کا مکمل نمونہ تھا۔ اس گھر کا سب سے چھوٹا بیٹا جو مجھ سے تھوڑا سینئر تھا‘ جب آرمی کے لئے منتخب ہوگیااور ٹریننگ کے بعد سیکنڈ لیفٹیننٹ کی یونیفارم پہن کر پہلی مرتبہ گھرلوٹا تو سب کو شہزادہ سالگا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ اس کا نام لاکی نہیں (سید سردار احمد شاہ اسے پیار سے ’’لاکی‘‘ بلاتے تھے اور مجھے یونس کے بجائے یونی‘ بعد میں اس کا پورا نام لیاقت اسرار بخاری سامنے آیا۔)


آج کل بریگیڈیر(ر) لیاقت اسرار بخاری (ستارۂ جرأت)ہیں۔ یونیفارم میں لیاقت اسرار بخاری کو دیکھا تو جی مچل کر رہ گیا۔ جی چاہتا ابھی مجھے یونیفارم مل جائے اور میں آرمی جوائن کرلوں۔ اس وقت لیاقت اسرار ہی میرا آئیڈیل تھا۔ میں دن رات آرمی کے خواب دیکھنے لگا۔ تڑپنے لگا۔نماز کے بعد سجدوں میں دعائیں مانگنے لگا۔ یہ سب ممکن تھا مگر میرے ابا جی نے مجھے قرآن پاک حفظ کرانے والے مدرسے میں داخل کروا کے میرے تمام راستے مسدود کر دیئے تھے۔ میرا کیریئر ہی تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ میرے اندر دن رات ابال اٹھتے تھے۔ مگر یہ نہ ہو سکتا تھا۔ بس اتنا ہوا کہ قومی رضاکاروں کی بھرتی شروع ہوگئی ۔ اُنہی قومی رضا کاروں میں جب والد صاحب بھی شامل ہوگئے اور انہوں نے یونیفارم پہن کر پریڈ کرنا شروع کی تو میری ضد بھی کام کر گئی۔ انہوں نے میرے سائز کی چھوٹی یونیفارم سلوا کر مجھے پہنا دی۔ اور پھر انسٹرکٹر تاجے خان کے پاس اچھرہ تھانہ لے گئے۔ تاجے خان انسٹرکٹر نے خوش آمدید کہا اور میرا شوق دیکھتے ہوئے مجھے پریڈ کرنے کی اجازت دے دی۔

aikadhorakh.jpg
ہماری پریڈ تھانہ اچھرہ کے سامنے والی گراؤنڈ میں ہوا کرتی تھی جسے آج کل شریف پارک کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ شریف پارک موجودہ وزیرِاعظم نواز شریف یا ان کے والد کے نام پر نہیں تھا۔ یہ برج السید کے مالک میاں سعیدکے والد میاں شریف کے نام پر بنا تھا جن کی بہت سماجی خدمات تھیں۔


انسٹرکٹر تاجے خان سخت مزاج کا آدمی تھا۔ کھرا کھرا بولتا تھا۔ غلطی کرنے پر سخت بے عزت کرتا مگر پھرمحبت سے برابر بھی کردیا کرتا۔ شام کو وہ انار کلی ہماری دکان پر آجاتا۔ والد صاحب اس کی تواضع کرتے‘ جس طرح وہ اپنے اساتذہ کی کرتے تھے۔ نگینہ بیکری کے مکھن میں بنے ہوئے کیک رس ایک ٹرے میں بھر کر لائے جاتے۔ چائے کی بڑی چائے دانی اور شامی کباب۔ تاجے خان چائے سے زیادہ اس عزت افزائی پر بہت خوش ہوا کرتا۔ جب والد صاحب اُسے بتاتے ’’تاج صاحب آپ میرے استاد ہیں۔ آپ کا ہم پر بہت حق ہے۔ آپ ہمیں ایسے ہنر سکھارہے ہیں جو ہمارے لئے‘ ہمارے وطن کے لئے اور اپنی پاک سرزمین کے تحفظ کے لئے ضروری ہیں۔ لہٰذا آپ کا حق ہم سے ادا نہ ہوگا۔ یہ تو محبت کا اظہار ہے۔‘‘ تاجے خان بہت زور سے کہا کرتا’’ناں میاں صاحب آپ بہت زیادہ کرتے ہیں۔یہ نہ کیا کریں۔ زیادہ مٹھائی میں کیڑے ہوتے ہیں۔‘‘ ابا جی ہنس کر کر ٹال جاتے۔


میں نے دو مہینوں میں جس شوق‘ لگن اور محنت سے اپنی ٹریننگ مکمل کی اور اپنے اسباق یاد کئے وہ تمام دیگر پریڈ کرنے والوں کے لئے بھی حیران کن تھے۔ تاجے خان کبھی کبھی مثال دیتے ہوئے کہا کرتے ’’شوق پیدا کرو شوق۔ یونس کی طرح شوق۔ ورنہ ڈھیلا کام تو آرمی میں نہیں چلتا۔‘‘ چوتھے مہینے کے بعد ہمارا ٹیسٹ ہوا اور میں زیادہ نمبر لے کر پاس ہوگیا۔ سب سے زیادہ نمبر ہونے کی وجہ سے مجھے فی الحال عارضی طور پر پلاٹون کمانڈر بنادیا گیا۔ میں خوشی سے سرشار ہوگیا۔ اب کسی کسی دن 48 لوگوں کو میرے حوالے کرکے کہا جاتا انہیں کمانڈکرو۔ مثلاً ایک دن آرڈر دیا گیا کہ میں48 لوگوں کو تین منٹ سے ساڑھے چار منٹ کے اندر اندر مسلم ٹاؤن والی نہر کے پل پر لے جاؤں۔ اچھرہ تھانہ سے مسلم ٹاؤن والی نہر ایک میل کے فاصلے پرتھی مگر سمجھ گیا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ میں نے سب کو ایکٹو کرکے کیوئیک مارچ کیا۔


’’لیفٹ رائیٹ‘ لیفٹ رائیٹ دو سو گز تو اسی رفتار سے سب کو چلاتا رہا جب جسمانی طور پر پوری پلٹن گرم ہوگئی تو میں نے ڈبل مارچ کا آرڈرکر دیا۔ ڈبل مارچ کی رفتار صاف ظاہر ہے دُگنی بلکہ جوگنگ کی رفتار سے کچھ زیادہ تھی‘ میں تو ہلکا پھلکا دوڑتا رہا مگرپلاٹون میں لگ بھگ تیس لوگ عمررسیدہ تھے‘ وہ ایک منٹ بعد ہی ہانپنے لگے مگر مجھے آرڈر تھا کہ ہر صورت مقرر وقت کے اندر نہر کے پل پر سب کے ساتھ پہنچنا ہے۔ دِس از آرڈر‘ یہی آرمی کی ٹریننگ ہے‘ یہی ڈسپلن ہے۔ یہی آرڈرماننے کی روح ہے۔ جس کی نقل میں قومی رضاکاروں سے کرانا چاہ رہا تھا۔ موسم معتدل ہونے کے باوجود سب پسینے میں نہانے لگے۔ وہ بابے آنکھوں آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارے بھی کر رہے تھے کہ ’’ہالٹ‘‘ کروا کے سانس برابر کرایا جائے۔ مگر میں نے ڈسپلن کو پیشِ نظر رکھا۔ دوسرا یہ ہم سب کا امتحان بھی تھا۔ جس میں، میں ہی نہیں48 کے 48 لوگ کامیاب ہوئے۔ میں نے سب کو ساڑھے تین منٹ میں ہی نہر کے پل پر پہنچایا دیا تھا۔ سب لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔ نہر لبالب نہ تھی۔ آدھی تھی۔ اتنے میں ایک بہت موٹے مگر صحت مند بابا جی نے دھڑام سے نہر میں چھلانگ لگا دی اور سب کو حیران کردیا۔


بعد میں اس نے بتایا کہ ’’مجھے گرمی زیادہ لگ رہی تھی مگر میرے ساتھی نے مجھ سے شرط بھی لگائی تھی کہ جو نہر میں چھلانگ لگائے گا اسے پانچ روپے دوں گا۔(پانچ روپے اس زمانے میں بڑی رقم تھی) لہٰذا ایک تو میں نے خود کو ٹھنڈا کر لیا ہے دوسرا انعام جیت لیا ہے۔‘‘


تاجے خان انسٹرکٹر جو دیر بعد ہمارے تعاقب میں چلا تھا‘ ڈبل مارچ کرتا ہوا آپہنچا۔ اس نے گھڑی دیکھ کر پہلے میرے لئے ’’ویل ڈن‘ ویل ڈن‘‘ پھر سب کو کھل کر داد دی۔ مگر بابوں نے میری سخت مخالفت کی۔ تاجے خان نے سب کو سمجھاتے ہوئے کہ ’’جوانو! اس کے ’’جوانو‘‘ کہنے سے بہت سے بابے خوش ہوگئے ۔ تاجے خان نے بات بڑھا کر انہیں اور بھی خوش کردیااور کہا’’میرے سپاہیو! پلاٹون کمانڈر نے آرڈر کی تعمیل کی ہے اور ملکی دفاع میں آرڈر ہی سب کچھ ہے۔ آرڈر از آرڈر ‘یہ نہ ہو تو ہمارا ڈسپلن‘ ہماری جنگی حکمتِ عملی‘ ملکی دفاع کسی کام کا نہیں اور اگر یہ سب ہو تو پھرکامیابی ہی کامیابی‘ فتح ہی فتح۔ سو یونس نے جو کیا ہے وہ سب درست ہے۔ آپ سب کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے سب کو ’’سٹینڈ ایزی‘‘ کے بعد دوبارہ بتایا ’’دیکھو میرے جوانو! ہر چند کہ تم آرمی کی نقل کررہے ہو تو یہ بات دل پہ نوٹ کر لو آرمی کا مطلب ہے ’’دو ٹوک آرڈر‘‘ یہ تو معمولی بات تھی جس میں آپ نے کامیابی حاصل کر لی۔ یہاں کے امتحان بڑے سخت ہوتے ہیں۔ کوئلوں میں لال انگارہ ہونے والے لوہے کے ٹکڑے کو پکڑنے کا آرڈر ہوسکتا ہے یا اژدھے کے جبڑوں میں ہا تھ ڈالنے کا۔ جو آرڈر ’اوبے‘ کر گیا وہ منزل پا گیا۔ جو ڈر گیا وہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا۔ یہی آرمی ڈسپلن ہے‘ ڈوآر ڈائی۔‘‘کوئی دلیل‘ کوئی جواز‘ کوئی جھجک کوئی اعتراض کوئی رکاوٹ برداشت ہوتی ہے، نہ کوئی متبادل فیصلہ۔ جب آرڈر ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے عمل۔یہی جنگ ہے۔ یہی جیت ہے۔ یہی فاتح کی پہچان ہے۔‘‘ اتنا کچھ سننے کے بعد بابے پھر بھی بڑبڑاتے رہے بلکہ بعض تو ابھی تک ہانپ رہے تھے۔


انسٹرکٹر تاجے خان نے دوسرے دن کے لئے تمام بابوں کو چن کر آرام کے لئے دو دن کی چھٹی دے دی۔ اور پلاٹون کو نئے سرے سے تربیت دے کر جوانوں سے بھر دیا۔ یہ اَن تھک پریڈ کرنے والی پلاٹون تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے چودہ اگست یومِ پاکستان کو شریف پارک اچھرہ سے علامہ اقبال کے مزار تک سارے لاہور کے رضاکاروں کی پلٹنوں کے ساتھ لیفٹ رائیٹ کرتے تسلسل کے ساتھ منٹو پارک (مینارِ پاکستان) پہنچے تھے اور اس کے بعد علامہ اقبال کے مزار پر ۔کوئی نہ تھکا تھا‘ سب پُرجوش تھے‘ کوئی ایک لمحے کو بھی نہ رکا۔ سب ہشاش بشاش تھے اور میں تو خوش و خرم تھا۔۔مگر سارے جتن کرنے کے باوجود میں آرمی جوائن نہ کرسکتا تھا اور آج تک یہ خواب کانٹا بنائے سینے میں پروئے پھرتا ہوں۔
ایک روز ابا جی مجھے ایک بہت بڑے جلسے میں ساتھ لے گئے۔ چونکہ وہ جلسہ کرنے والوں کی انتظامیہ میں بھی تھے اس لئے انہوں نے بطورِ خاص دو ٹکٹ خریدے تھے جو دس دس روپے کے تھے۔ مگر سب کلاسوں سے مہنگے تھے کہ دریوں پر بیٹھ کر جلسہ سننے والوں کا ٹکٹ چار آنے تھا۔ پنڈال بہت بڑا تھا۔ روشنیاں تھیں اور ہجوم تاحدِ نگاہ۔ میں بچہ ہی تو تھا۔ بچے کی آنکھیں گاؤں کے راستوں کی طرح ہوتی ہیں۔ شام ہوئی اور بند۔ مجھے بہت نیند آرہی تھی‘ مگر مجھے جاگنا پڑ رہا تھا۔ تاہم نیند کا غلبہ شدید تھا۔ اسی اثنا میں شور مچ گیا۔ ’’شاہ جی آگئے‘ شاہ جی آگئے‘‘ پھر نعرے لگنے لگے۔ مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ وہ شاہ جی جن کے لئے لوگ اہلِ جنوں کی طرح منتظر تھے‘ سید عطاء اﷲ شاہ بخاری تھے۔ بہر حال شاہ جی کی تقریر سے پہلے اعلان ہوا کہ فلاں فلاں اپنی نظم کشمیر پر پیش کرے گا۔ دیکھا تو سات آٹھ سال کا بچہ سٹیج پر آکر کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے اس کی نظم کو بے دلی سے سننا شروع کیا۔ بچے کا ترنم مسحور کن تھا پھر بھی لوگوں کو شاہ جی‘ کا انتظار تھا۔ اور لوگ نعرے لگا لگا کر اپنی خواہش کا اظہار کررہے تھے۔


جو نہی لڑکے نے نظم کا یہ مصرعہ پڑھا
کشمیر میں جنت بکتی ہے
کشمیر میں جنت بکتی ہے
سات مرتبہ اس بچے نے مختلف زاویوں سے یہ مصرعہ گا گا کر لوگوں کو گرفت میں لے لیا تھا۔جونہی اس نے اگلا مصرعہ پڑھا یعنی
کشمیر میں جنت بکتی ہے
اور جان کے بدلے سستی ہے


تو لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کے ہجوم میں سمندر کی طرح لہریں جل تھل ہونے لگیں۔ لوگوں نے اس بچے پر نوٹوں اور سکوں کی بارش کردی اور مصرع پڑھنے کے لئے اصرار کرتے رہے۔ سب لوگ اس قدر جوش میں تھے کہ وقتی طور پر سب لوگ اسی نظم میں ڈوب گئے اور شاہ جی کے نعرے مدہم پڑ گئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ابھی سارا ہجوم کشمیر کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا۔ لوگ چیخ رہے تھے‘ نعرے لگا رہے تھے۔ بچے کو سٹیج پر جا جا کر پیار کررہے تھے۔ اتنا ہنگامہ تھا کہ تقریر سے پہلے مجھ پر نیند نے غلبہ پا لیا اور ابا جی نے بھی ہجوم کی جل تھل دیکھتے ہوئے مجھے ملازم کے سپرد کر دیا جس نے مجھے پنڈال سے باہر لا کر ایک چھوٹے خیمے میں سلا دیا جو صرف بچوں کے لئے مخصوص تھا۔ معلوم ہوا کہ شاہ جی کی تقریر رات بھر جاری رہی اور صبح کی اذان ہوتے ہی تمام ہوگئی۔ مگر لوگوں کی پیاس کم نہ ہوئی۔ شاید اسی کا اثر تھا کہ دوسرے ہی دن ایک بہت بڑا جلوس مال روڈ پر آگیا اور ہمارا کاروبار چونکہ انار کلی میں تھا اور والد صاحب کو کشمیر سے خصوصی لگاؤ تھا‘ لہٰذا وہ کشمیر کے لئے ترتیب دیئے گئے اس جلوس کو دیکھنے اور مجھے دکھانے کے لئے مال روڈ پر آگئے۔


میں نے دیکھا جلوس رات والے ہجوم سے کچھ ہی کم تھا۔ ہر عمر اور ہر قبیلے کے لوگ اس میں شامل تھے اور سوائے ہمارے کہ ہمیں اس جلوس کی پہلے سے بالکل خبر نہ تھی‘ سب لوگوں نے سرپر سفید کپڑے لپیٹ رکھے تھے۔ اباجی نے مجھے بتایا کہ ہر شخص نے اپنے سر پر کفن باندھ رکھا ہے اور سب اونچی آواز میں ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے ’’کشمیر کی آزادی یا شہادت‘‘ جلوس آہستہ آہستہ آگے بڑھتا گیا‘ میں دیر تک اور دُور تک اس جلوس کو جاتا ہوا دیکھتا رہا اور آج تک دیکھ رہا ہوں۔


ہم وہیں کھڑے ہیں۔ جلوس اسی رفتار سے چل رہا ہے۔ نعرے بھی ہیں۔ کفن بھی ہیں۔ سبھی کچھ جوں کا توں ہے‘ آج بھی میرے تخیل اور تصور میں وہ جلوس تابندہ اور فروزاں ہے‘ جوش بھی ہے‘ حرارت بھی ہے مگر آدھی صدی گزر جانے کے باوجود ہم قدم نہیں اٹھاپائے۔
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ


میری ضد یہ تھی کہ مجھے بھی ایک اپنے سائز کا کفن لے کر دیا جائے جسے میں سر پر باندھ کر ایسے کسی جلوس میں شریک ہو سکوں مگر ابا جی نے مجھے قومی رضا کاروں والی ایک اور یونیفارم سلوا کر خوش کرنے کا جتن کرلیا اور مجھے ہر صبح شریف پارک میں تاجے خان کی شاگردی تک محدود کردیا۔اور میرے وہ خواب جولیاقت اسرار بخاری کو دیکھ کر پروان چڑھے تھے‘ ادھورے ہی رہے اور سسک سسک کر دم توڑ گئے کہ مجھے اس کٹھن راستے پر چلایا ہی نہ گیا جو میرا آئیڈیل تھا۔


میں آج بھی اس چھوٹی سی وردی کونکال کر دیکھتا ہوں اور آہ بھر کر اٹیچی میں کتابوں میں رکھے پھولوں کی طرح بند کر دیتا ہوں۔
اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اُس نے کیا

مضمون نگار ممتازدانشور‘ ادیب اور ’’اندھیرا اجالا‘‘ سمیت کئی معروف ڈارموں کے خالق بھی ہیں۔
انسٹرکٹر تاجے خان نے دوسرے دن کے لئے تمام بابوں کو چن کر آرام کے لئے دو دن کی چھٹی دے دی۔ اور پلاٹون کو نئے سرے سے تربیت دے کر جوانوں سے بھر دیا۔ یہ اَن تھک پریڈ کرنے والی پلاٹون تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے چودہ اگست یومِ پاکستان کو شریف پارک اچھرہ سے علامہ اقبال کے مزار تک سارے لاہور کے رضاکاروں کی پلٹنوں کے ساتھ لیفٹ رائیٹ کرتے تسلسل کے ساتھ منٹو پارک (مینارِ پاکستان) پہنچے تھے اور اس کے بعد علامہ اقبال کے مزار پر ۔کوئی نہ تھکا تھا‘ سب پُرجوش تھے‘ کوئی ایک لمحے کو بھی نہ رکا۔ سب ہشاش بشاش تھے اور میں تو خوش و خرم تھا۔۔مگر سارے جتن کرنے کے باوجود میں آرمی جوائن نہ کرسکتا تھا اور آج تک یہ خواب کانٹا بنائے سینے میں پروئے پھرتا ہوں۔

*****

سات آٹھ سال کا بچہ سٹیج پر آکر کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے اس کی نظم کو بے دلی سے سننا شروع کیا۔ بچے کا ترنم مسحور کن تھا پھر بھی لوگوں کو شاہ جی کا انتظار تھا۔ اور لوگ نعرے لگا لگا کر اپنی خواہش کا اظہار کررہے تھے۔ جو نہی لڑکے نے نظم کا یہ مصرعہ پڑھا

کشمیر میں جنت بکتی ہے

کشمیر میں جنت بکتی ہے

سات مرتبہ اس بچے نے مختلف زاویوں سے یہ مصرعہ گا گا کر لوگوں کو گرفت میں لے لیا تھا۔جونہی اس نے اگلا مصرعہ پڑھا یعنی

کشمیر میں جنت بکتی ہے

اور جان کے بدلے سستی ہے

تو لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کے ہجوم میں سمندر کی طرح لہریں جل تھل ہونے لگیں۔ لوگوں نے اس بچے پر نوٹوں اور سکوں کی بارش کردی اور مصرع پڑھنے کے لئے اصرار کرتے رہے۔ سب لوگ اس قدر جوش میں تھے کہ وقتی طور پر سب لوگ اسی نظم میں ڈوب گئے اور شاہ جی کے نعرے مدہم پڑ گئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ابھی سارا ہجوم کشمیر کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا۔ لوگ چیخ رہے تھے‘ نعرے لگا رہے تھے۔ بچے کو سٹیج پر جا جا کر پیار کررہے تھے۔

*****

 
08
February

The Wicked Disconnect

Published in Hilal English

Written By: Puruesh Chaudhary

Throughout the education system, children are being taught how to become the best managers for a possible job environment if he or she is lucky in getting the one of his or her desire; come 21st birthday and all of a sudden they are being given crash courses and below average mentorships on ‘entrepreneurial ventures’. It is becoming seemingly obvious that all repetitive jobs will be automated. So what would the next wave of work look like? This wicked disconnect is the ‘Aspiration Deviation Factor’

Could it be possible that we are investing into a future that is in direct contradiction to our facts, reality and the ‘context’ as the New World Order struggles with notions of legitimacy against the urgent sense of acceptability. The understanding of the emerging world order and the people have been classified into bits and bytes. However, the sovereign opportunity lies in the local context.


There’s nothing profound in anything or about anyone unless it is measured by way and means of impact and that too has to be based on principles of trust. Pakistan can be a victim of engineered circumstances, or a champion of its own destiny.

 

thewickeddisc.jpgSo, what reputation does Pakistan have? What’s its character?
These two questions are incredibly significant. They determine integrity, motivation, responsibility, disruption; value-factor all systematically layered and anchored as an indisputable leverage. How the country looks at itself is often not necessary than how the global powers look at it. This stupendous lack of clarity and deliberate ambiguity diminishes credibility over time, increases vulnerabilities creating the institutionalized underpinnings for policy failures, trust deficit, deer in the headlight.

 

The definition of power in the last decade has at a glacial pace redefined. The inverted pyramid is the prism through which we would be required to construct our national security paradigm. Technology, the key driver in this case, can either fuel trust between people and systems or will completely polarize the communities. The bad investments will lead to contextual decay of the society.

The message this year at the Davos 2017 ‘Responsible and Responsive Leadership’ was clear and incisive; it is not anti-globalization rather a wake-up call for the systems to become resilient and not the governable. The pressure is on the leadership and they will be held accountable. Davos leaders agree: share more wealth, or face the consequences. And in the process of this accountability, nations will suffer. They will suffer like they have in the past. Popular sloganeering will be Trumped by ingenuity. In the past, as the population started to increase and technology became cheaper – today the case remains the same – however, the systems and the mindset are still undigitized. Throughout the education system, children are being taught how to become the best managers for a possible job environment if he or she is lucky in getting the one of his or her desire; come 21st birthday and all of a sudden they are being given crash courses and below average mentorships on ‘entrepreneurial ventures’. It is becoming seemingly obvious that all repetitive jobs will be automated. So what would the next wave of work look like? This wicked disconnect is the ‘Aspiration Deviation Factor’ [This term was coined by a 15 year old student at the Buraq Space Camp 2016] – how long will it take for our institutions to adapt to the changing times? The time is now on peoples’ side. The power to connect to create is no longer in the hands of the few.


What is Pakistan’s local context?
In heightened complexities, the literature that substantiates Pakistan’s experiential findings are phenomenally narrow and sorry-speak. The interpretation of chaos and calm indicates that the tools and instruments required for the 21st century knowledge and information systems simply do not exist. The system’s thinking pivots on used futures. This alone is a national security threat which will contribute immensely to the dynamics of fragility. The policy stability can only come from when the system recognizes the need for alternate ‘new-thinking’; trust-based approaches that create the stimulus to focus on attitudes and behaviours.

 

There’s nothing profound in anything or about anyone unless it is measured by way and means of impact and that too has to be based on principles of trust. Pakistan can be a victim of engineered circumstances, or a champion of its own destiny.

Pakistan is generous. But not generous enough. It is shackled in a colonial dream. In the coming ten years it would need to take a critical stock of the investments it will make – this investment whether in form of strategic posturing or public service delivery mechanisms if in contradiction to facts, context and reality would have the potential to translate this investment into liabilities leading to a complete paralysis of systems. Pakistan has a window of 15 years to ramp up its capability across all spectrums. The wall needs to be brought down. The normative constraints that are used as an excuse, are no longer relevant. It would need to strike a balance between what is legitimate and what all that is acceptable, this needs to be streamlined into the national discourse. And there will be no national discourse without bringing in the creative wisdom to infuse indigenous arts, culture and languages. Power has been organized and codified for centuries; now imagine in time and space where it is neither organized nor codified. The definition of power in the last decade has at a glacial pace redefined. The inverted pyramid is the prism through which we would be required to construct our national security paradigm. Technology, the key driver in this case, can either fuel trust between people and systems or will completely polarize the communities. The bad investments will lead to contextual decay of the society.

 

Pakistan is generous. But not generous enough. It is shackled in a colonial dream. In the coming ten years it would need to take a critical stock of the investments it will make – this investment facts, context and reality would have the potential to translate this investment into liabilities leading to a complete paralysis of systems whether in form of strategic posturing or public service delivery mechanisms if in contradiction to Pakistan has a window of 15 years to ramp up its capability across all spectrums. The wall needs to be brought down.

What is Technology to Pakistan?
Beyond WhatsApp and microwave, technology is the one enabler that will help us learn and create opportunities for the country’s future generations. But the time starts now. In the era of hyperconnectivity when almost anything and anyone can be understood in 01001011; the country needs to develop a much more sophisticated understanding and clarity on how it identifies challenges, what contributes towards human judgment and then how should all this be classified and, prioritized for co-creating informed futures.


The sheer sense and scope of responsibilities can only be shared. If it is shared only then the systems will be modernized and equipped to hold decision-makers accountable, until then the space for integrity will continue to shrink. And the pendulum of blame will shift from one political rhetoric to an even worse form of mind-numbing reckless narrative.


The range of incentives could only be explored when data thinks information, thinks knowledge, thinks value, as it continues to remain an iterative process, would give the leadership the ability to navigate through uncertainties with a relative degree of clarity. What is more important than ever before is to benchmark where the country is winning and where it is losing without compromising on the human imperative. To imagine the wicked problems, to come to terms with a gray rhino is as agonizing as winning an honest electorate. Harnessing technological advancements should encourage the decision-makers to graduate their thinking patterns to a higher-order policy approaches; nothing less will be expected of them in the coming decade.

The context is changing fast.

 

The writer is Futures Researcher and Strategic Narrative Professional Founder and President of a think tank AGAHI.

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Twitter: @puruesh

 

Follow Us On Twitter