17
February

Caring About Hair

Written By: Hermaine Khan

They say the best thing is to look natural, but it takes makeup to look natural. I believe God has made everyone unique and beautiful in their own way and makeup should not be used to hide yourself, but to enhance what you already have. I love the confidence that makeup gives a girl, the shine in her eyes, the natural blush on her cheeks and a smile that radiates confidence. It gives me immense pleasure to see my clients smile when they look at themselves.

For a makeup artist, a face is as serious a business as is an aircraft to a pilot. My journey in makeup started in the year 2011 when I decided to pack my bags and moved to Los Angeles. I became part of a city where everyone had a dream. I joined ‘LA Makeup Academy’ and that’s when my life started to develop, I started to grow, I began to learn. Learning fills us with light and positivity and I am fortunate to have clients and loved ones who fill me with even more light each day. In this article, i would be telling you about ‘Banana Homemade Hair Mask’ and few tips to take care of your hair. Banana Homemade Hair Mask

Ingredients:

• Two overripe bananas

• A tablespoon of coconut oil

• A table spoon of olive oil

• A table spoon of honey

Method:

• Blend two ripe bananas very smoothly until there are absolutely no chunks or weeny banana pieces. You must be having time to spare for the fine blending.

• Add the honey, coconut and olive oil to your delicious mixture and blend again.

• Slather the smoothie into your scalp and lengths of your hair and let it settle and sink into your scalp for at least five minutes.

• Rinse thoroughly well with warm water. Take your time to comb through, removing any pieces (especially if you didn't blend until there was no room for small chunks)

• You can do a final rinse with some good conditioner

Nutrifying Egg Hair Mask Benefits:

• Protein. Nourishes the hair roots for hair growth.

• Fatty Acids. Gives your hair a natural glossy shine.

• Potassium. For healing dry damaged hair.

• Vitamin A. Prevents hair breakage.

• Vitamin D. Prevents hair loss and balding.

• Vitamin B12. For hair growth.

Keep your hair healthy

• Look for hair products containing glycerine as it infuses moisture into every hair kind, which in turn, reduces dandruff. Dandruff and hair loss may also be caused by zinc deficiency so a number of shampoos also contain zinc.

• Losing 50 to 100 strands of hair is considered pretty normal but once you start losing more, its time to be very gentle with your hair as it may turn into bald spots. Along with taking other measures, do not comb your hair while wet.

• When you wash hair, use lukewarm or cold water as hot water may damage hair tips and hair may get dry and de-shaped.

• Blow drying the hair and straightening with flat iron are sometimes required but can be reserved for special occasions and working days. If subjected to frequent heating and dying, the proteins are weakened making hair look brittle and fragile.

• Proper intake of water increases cell turnover thus making the hair softer and comparatively healthier.

• Hair follicles can be kept active with a hair massage for a few minutes daily as it promotes circulation in your scalp.

• Rubbing green tea into the hair helps with hair growth while preventing hair loss as the tea has anti-oxidants in it. Brew two green tea bags into a cup of water. Once the tea cools down slightly, apply it to your hair. Leave it for an hour, then rinse thoroughly.

• Very coarse and brittle hair may require hot oil treatments, since the heat activates the oil and locks it into hair strands.

• High levels of stress may result in hair fall. Meditation can restore the hormonal balance while exercise and sports also help reducing stress and also help in reducing hair fall.

• Your daily diet must have the balance of certain vitamins and minerals as these also help the hair to have what is required to be healthy, shiny and fresh-looking.

• Healthy sleeping routine regulates hair growth as the blood flows evenly throughout the scalp.

The writer is a make up specialist based in Islamabad.
10
January

میریا ڈھول سپاہیا

Published in Hilal Urdu

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965 کی جنگ کے دوران تخلیق کئے گئے قومی نغموں کا ایک احوال اس وقت کے پروڈیوسرریڈیو پاکستان لاہور کی زبانی

ستمبر1965کورات کی تاریکی میں بھارت نے لاہور کے بارڈر پر اچانک حملہ کر دیا۔ تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی بہادر فوج کے شانہ بشانہ یک جان ہو کر اُٹھ کھڑی ہوئی اور عملی طور پر تاریخ میں جو کردار مسلح افواج کے ساتھ ساتھ ثقافتی ابلاغ کے محاذ پر اس ادارے یعنی ریڈیو پاکستان لاہور نے کیا وہ ایک سنہری باب ہے۔ ستمبر1965کی جنگ کا جب بھی ذکر ہوتا ہے اس حوالے سے پاکستان کی فنکار برادری کا ذکر بھی ضروری ہے۔ جس میں ملکہ ترنم نورجہاں کے علاوہ میوزیشنز، شعراء کرام سب کی ایک ہی سوچ تھی کہ ہم سب نے مل کر دشمن کے ناپاک ارادوں کو ملیا میٹ کرنا ہے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کی میری اس منتخب ٹیم میں جو لوگ شمار کئے جا سکتے ہیں اُن کے نام یہ ہیں۔ استاد صادق علی مانڈ کلارنٹ نواز، سارنگی نواز، ناظم علی (طبلہ نواز)، محمد صابر، (گھڑا) رحمت خان(وائلن) مراد حسین ہاشمی، سردار لطیف، ہارمونیم ماسٹر منو، سرود نواز فیض فرید، بانسری نواز خاور حسین (خادم) اورسرمنڈل پر، پرویز مہدی یہ میوزیشنز کی ٹیم تھی جو صرف ملکہ ترنم نورجہاں کے ترانوں کے لئے وقف تھی۔ سب نے بڑی محبت اور دل جمعی سے کام کیا۔ ایسا جذبہ قابل دید تھا۔ ہم سب لوگ صبح صبح ریڈیو سٹیشن آ جاتے اور رات تک کام جاری رہتا۔ یقین مانیں اﷲ تعالیٰ کی رحمت و برکت سے ملک و قوم کے لئے کام کرتے ہوئے سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا جس کی وجہ سے ہم اتنے اچھے ترانے پیش کرنے میں کامیاب ہوئے۔
جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ جنگ ستمبر 65 کے دوران ملکہ ترنم نورجہاں نے ریڈیوپاکستان لاہور سے نغمے پیش کئے۔ ہر ایک نغمے کی علیحدہ کہانی ہے۔ اس مہینے سب سے پہلے ترانے کا ذکر کرتا ہوں۔ ان تمام ترانوں کو پیش کرنے کا شرف مجھے حاصل ہے۔ پہلا ترانہ تھا۔
’’میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں‘‘

meryadolsyapa.jpg
جنگ ستمبر 65کو شروع ہوئی مگر ملکہ ترنم نورجہاں کے نغموں کی ریکارڈنگ 8ستمبر کو شروع ہوئی۔ اس کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ 8ستمبر 65 کو ملکہ ترنم نورجہاں نے ریڈیو اسٹیشن لاہور ٹیلیفون کیا کہ میں نورجہاں بول رہی ہوں۔اس وقت ملک و قوم کو میری آواز کی ضرورت ہے۔ میں ریکارڈنگ کے لئے ریڈیو اسٹیشن آنا چاہتی ہوں۔ اس وقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر شمس الدین بٹ(مرحوم) کو یقین نہ آیا اور ٹیلیفون بند کر دیا۔ دوبارہ ٹیلیفون آیا تو دوسری طرف مشہور میوزک کمپوزر حسن لطیف بول رہے تھے۔ کہنے لگے: بٹ صاحب! میں میڈم نورجہاں کے گھر سے بول رہا ہوں۔ میڈم نورجہاں واقعی ریکارڈنگ کے لئے آنا چاہتی ہیں۔ اسٹیشن ڈائریکٹر نے کہا کہ فوراً تشریف لے آئیں۔ ہم آپ کے جذبہ حب الوطنی کی داد دیتے ہیں۔ ہم آپ کی آواز میں ترانے ریکارڈ کر کے فوراً نشر کریں گے۔


اس وقت 25کے قریب پروڈیوسرزلاہور اسٹیشن پر کام کر رہے تھے۔ اس عظیم کام کو کرنے کے لئے اسٹیشن ڈائریکٹر کی نظر مجھ پر پڑی۔ حکم دیا کہ فوراً پروڈیوسر محمداعظم خان کو بلائیں۔ مجھے محترم بٹ صاحب نے کہا کہ میڈم نورجہاں آ رہی ہیں، آپ خود گیٹ پر جا کر ان کو ریسیو کریں اور فوراً میرے پاس لے آئیں۔ کچھ دیر کے بعد میڈم تشریف لے آئیں اور میں اسٹیشن ڈائریکٹر کے کمرے میں لے کر گیا۔ وہاں پر ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں اسٹیشن ڈائریکٹر، صوفی تبسم اور ناصر کاظمی موجود تھے۔ فیصلہ ہوا کہ آج کا دن ضائع نہ کیا جائے، آج ہی پہلا نغمہ ریکارڈ ہو جائے۔ میرے لئے بطور پروڈیوسر یہ بہت بڑا امتحان تھا اور عزت کی بات تھی۔ میں نے اﷲپاک سے دعا مانگی اور کام شروع کر دیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پہلا نغمہ کون سا ریکارڈ کیا جائے۔ میرے ذہن میں یہی آیا کہ وطن کے سپاہی کی شان میں نغمہ ہونا چاہئے۔ میرا دھیان فوراً صوفی تبسم کی طرف گیا کیونکہ وہ بہت عظیم شاعر تھے۔ میں نے درخواست کی کہ صوفی صاحب ہمیں سپاہی کی شان میں نغمہ لکھ کر دیں۔ صوفی صاحب نے کمال ذہانت کے ساتھ مجھے یہ نغمہ لکھ کر دیا۔ ’’میرا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں‘‘ میں فوراً اپنی ریکارڈنگ ٹیم جو میں نے تمام میوزیشن سے منتخب کی تھی، کو لے کر آڈیو سٹوڈیو میں چلا گیا۔ اتفاق سے اس دن میرے دوست اور کلاسیکی فنکار سلیم حسین آئے ہوئے تھے۔ ان سے میں نے درخواست کی کہ اس نغمے کی دھن بنائیں۔ سلیم حسین نے بہت مہارت اور خوبی سے اس کی دھن بنائی۔ حسن لطیف (کمپوزر) نے بھی اس میں مدد کی۔ اب مسئلہ انتروں کا کہ کم از کم تین انترے ہونے چاہئیں۔ میڈم نورجہاں نے کہا کہ اعظم انترہ لائیں۔ میں بھاگا بھاگا صوفی تبسم کے پاس گیا اور کہا نغمے کی دھن بن گئی ہے، انترے چاہئیں۔ مجھے صوفی صاحب نے جواب دیا بیٹا میرے اندر کوئی مشین لگی ہوئی ہے اوپر سے انترہ آئے گا تو لکھ کر دوں گا۔ تقریباً دو گھنٹے کے بعد انترہ لکھ کر دیا اور ساتھ ہی حکم دیامیرے لئے اور سگریٹ بھیج دو۔ اس طرح یہ نغمہ تمام دن میں لکھا گیا۔ کمپوز ہوا اور رات تک اس کی ریکارڈنگ مکمل ہوئی۔ مجھے بٹ صاحب یعنی ہمارے اسٹیشن ڈائریکٹر نے کہا کہ اپنے باقی تمام پروگراموں کی فکر چھوڑو اور صرف میڈم نورجہاں کو اٹینڈ کرو اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھو۔ ناراض ہو کر نہ چلی جائیں۔ میرے لئے یہ بہت بڑا امتحان تھا کہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول فنکارہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ نعرہ تکبیر بلند کیا اور پہلے نغمے کی ریکارڈنگ شروع کر دی۔ ریکارڈنگ مکمل ہونے کے بعد فوری طور پر اس کو تسلسل کے ساتھ نشر کرنے کا اہتمام کیا۔ صبح ہونے تک ہمیں اس نغمے کو بار بار نشر کرنے پر اچھا ریسپانس ملا اور ہماری ہمت بڑھ گئی اور اس نغمے کو سُن کر ہماری مسلح افواج کے جوانوں کے حوصلے بلند ہوئے اور لڑائی میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا ہو گیا۔


میں یہاں یہ بھی عرض کروں کہ موسیقی فطرت انسانی کا ازلی رجحان ہے اور اس کا دل و دماغ پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ یہ تھی پہلے نغمے کی کہانی اس طرح دوسرے نغموں کی کہانی آئندہ شمارے میں تحریر کروں گا۔

اے وطن
اے وطن تیرے ہمیشہ ہی وفا دار رہیں گے
تیری حرمت کے سدا یونہی طلب گار رہیں گے
وعدہ کرتے ہیں تیری خاک کو ہم لے کر آج
دل سے ہم تیری وفاؤں کے پرستار رہیں گے
آنے دیں گے نہ کبھی آنچ تیری دھرتی پر
دشمنوں کے لئے ہم صورتِ تلوار رہیں گے
تجھ پر ہم گیت کتابوں میں یونہی لکھیں گے
جاں نثاراں تیری زمیں کے‘ قلم کار رہیں گے
تیری سرحد کی حفاظت پہ ہیں مامور جواں
قوم سو جائے مگر یہ سدا بیدار رہیں گے

یاسمین کنول

*****

 
08
March

Armed Forces And The Media: New Challenges

Published in Hilal English Feb 2014

Written By: Javed Jabbar

As conventional mainstream media continue to pervade the globe, as new media through the internet and cell phones aim to place humanity virtually inside an envelope, our Armed Forces in general and the Pakistan Army in particular face challenges, both traditional, and entirely new. Are the speed and quality of response adequate to meet the urgency of the challenges? In times when the civil, political, and elected structures of Pakistan are asserting a new principle that the military should operate within a civil-led democratic discipline, any possible response to the new challenges should be built on a close, creative and constructive partnership between the civil and military structures. This cohesion should cover both the policy and operational aspects of defence strategy as well as specifically focus on how the civil and military segments of the state can most effectively co-operate to address the unprecedented advance of media into virtually all realms of state and society.

Even during phases when there is neither internal violent conflict nor violent conflict with external elements, the relationship of the military with media remains important. To reinforce stability and to ensure that the state remains secure and that the absence of violence, internal or external, is not a deceptive and misleading calm, optimal co-ordination between the civil and military spheres regarding a unified, singular state relationship with the media becomes a vital pre-requisite. Indeed, only if there is such a well-planned co-ordination in times of peace and normalcy, can there be order and clarity in times of internal and external conflicts and when, as in open war, reality is clouded by fog, and truth is often the first casualty. It is another matter that truth is always a complex and elusive condition to define, truth is not necessarily the first objective of any strategic communication objectives. The requirements of propaganda, psychological warfare and disinformation as part of the methods and tactics to confuse and defeat internal and external threats can make the articulation and the projection of the truth a secondary and even forgettable priority! Through the Directorate of Inter-Services Public Relations (ISPR) there is a permanent mechanism already provided for the conduct of communication between the Armed Forces and the media, and with the society. ISPR Directorate holds regular briefings, issues press releases, arranges for off-the-record sessions between top commanders and media persons and, when necessary, ISPR’s spokesman appear personally in the media.

However, while such activities and initiatives are essential and should continue, there is a need to explore options for introducing new ways to give media-based communication, as distinct from direct, word-of-mouth, inter-personal communications, a central and pivotal position in the conventional structure of the formations of the Armed Forces. Equally, while gradually asserting the civil, political framework to be the discipline within which the military should operate, there is a need for the civil policy sphere and within it, the civil information sphere, to significantly improve its own knowledge and understanding of the military's internal domain and civil capacity to handle the specialized task of communication with media and other segments on military issues. The critical starting point of building co-operation in times of peace and normalcy is that both civil and military leadership should develop trust and respect for each other's roles and responsibilities. Such mutuality and reciprocity of trust would transmit the correct signals to all officers and personnel and reduce reservations and hesitations.

Difficulties in trust-building exist between institutions in all states of the world. This particular phenomenon is not peculiar to Pakistan alone. Even within the military spheres, there tends to be a lack of co-ordination and complete trust between relevant wings of all the three services, though there have been improvements over the past 30 years. In countries with advanced state systems, mature democracies and those with far more transparency than in our country, there are recurrent problems caused by deferring perceptions of related institutions in the security and military spheres, leave alone between the civil and military spheres. This absence of cohesion in such countries also extends to another highly sensitive subject such as foreign policy. For instance, there have been notable instances in USA when the White House deliberately kept the State Department and its Ambassadors in other countries ignorant about initiatives being conducted with foreign countries by the advisors or emissaries of the President. In Pakistan, with a comparatively poor record of minimal co-ordination between institutions and office-holders, the luxury of by-passing institutional processes, be it in normal times or in abnormal times, is unaffordable. In recognition of the pervasive impact of media on all kinds of perceptions, is it time for the Ministry of Defence, the Joint Staff Headquarters and the Pakistan Army to consider the creation of a Media Corps? The formation of this new component would provide to all the other corps and formations a co-equivalent forum that integrates the communication imperative into all related units and elements and facilitates internal and external functions relevant to communication and media.

A Media Corps, unlike the conventional Corps that possess and deploy the physical instruments of defence and attack, would specialize in the formulation, application, transmission and monitoring of concepts, themes, expositions and on the production of content for media that would advance the operational objectives of tri-services and promote the over-all strategic role and impact of the Armed Forces in any given situation, be it the rendering of relief during a natural disaster, be it the combating the internal insurgency, or be it the defence of territorial frontiers. At the same time, a Media Corps would stress rather than weaken the importance of communications and media as cross-cutting concerns that are of utmost relevance to all other corps, formations and units of the Army and of the Armed Forces. The concept of a Media Corps with an internal command structure, defined functions and its position in relation to other corps will obviously obligate a detailed study to enable debate, deliberation and refinement.

At this time, suffice is to say that a new approach to communication by the military and about the military to different audiences and target groups is required. This new approach should reflect the new idiom, ethos and realities of a world and a country facing increased volatility and uncertainty. The traditional, formal, rigid, often-predictable formats and terminologies used to project the military in the media and in the public domain have either lost credibility or have become redundant and out-of-sync with times of great flux and change. Discrepancies between, on the one hand, the harsh realities of violent and internal conflicts as being witnessed currently in many parts in Pakistan and in which the military and the paramilitary forces and also the civil police are paying the priceless cost of life itself for the defence of our country, and on the other hand, the conventional manner and tone in which media are used to project these realities best illustrate the need for a new approach to communications.

Unlike the military domain where the scope for nuance and ambiguity is extremely restricted or non-existent, the civil domain and the domain of media as a whole are replete with ambivalence, shades of grey and implicit meanings rather than explicit statements. Without losing the precision and the discipline that are inherent to the military domain, there is considerable scope for progressive change and improvement in the substance and the style of military communication with the media and the public to better harmonize with the ferment and fever of the 21st century. In attempting any new initiative, the leaders and managers of the transition will bear in mind that new information, or the use of new ways to communicate information have the potential to destabilize order and certainty. But given careful preparation, observance of transitions made by other militaries in advanced and in still- advancing countries, the Pakistan Armed Forces have the institutional capacity to address the new challenges.

The writer is a renowned media personality who has served as minister in three Federal Cabinets and has been a Senator. He has to his credit, thirteen books and monographs comprising his writings and material compiled/edited by him on a range of subjects. www.javedjabbar.com

Follow Us On Twitter