08
January

ریچل ۔۔۔ دی نوڈ لز اسپیشلسٹ

تحریر : عفت حسن رضوی

ایک امریکی خاتون کے ساتھ گزارے حیرت بھرے کچھ دنوں کی داستان

 

اس سال کی گرمی امریکا میں کٹی۔ ہم ٹھہرے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مہمان‘ سو انہوں نے امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں رپورٹنگ کا تجربہ کرنے کو بھیج دیا۔
ڈینور ۔۔۔ یعنی ریچل کا ڈینور ،طلائی رنگ کے بال اور روکھی رنگت پر گلابی گالوں والی ریچل سے میری پہلی ملاقات ایک امریکی تھنک ٹینک ورلڈ ڈینور کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے نہایت متعصبانہ سیمینار میں ہوئی، جس میں سابق امریکی سفیر برائے ایران اور پاکستان مسٹر رابرٹ گلوچی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کسی پٹاخوں کی فیکٹری سے تشبیہہ دے چکے تھے۔ وقفہ سوالات میں مائیک پر ایک خاتون کی آواز ابھری جس نے پہلے جی بھر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اعلیٰ سکیورٹی کے حوالے سے سفیر صاحب کی لاعلمی کو لتاڑا، بعد میں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر امریکی ایٹمی حملے کی یاد دلا کر کئی ناپسندیدہ سوال داغ دیئے۔ بحیثیت پاکستانی صحافی اب اس خاتون سے ملنا ناگزیر ہوگیا تھا۔ پروگرام کے اختتام پر میں نے سیاہ لباس میں ملبوس اس کھلکھلاتی سی امریکی خاتون کو اپنا تعارفی کارڈ دے کر کہا: ’’جی میں ہوں پاکستانی سٹار جرنلسٹ، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی مہمان خاص، نائن نیوز ڈینور کی مستعد رپورٹر فلاں فلاں‘‘ جواب میں محترمہ نے مجھے جو وزٹنگ کارڈ دیا اس پر بڑے بڑے حروف میں لکھا ’’ریچل۔۔۔ نوڈلز اسپیشلسٹ‘‘ میرا منہ چڑا رہا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں لاحول پڑھی، نوڈ لز اسپیشلسٹ سے بھلا ہمارا کیا واسطہ۔


اگلے دن میں ہوٹل کے کمرے کے آرام دہ بستر میں دبکی لیٹی تھی کہ کسی نوڈلز اسپیشلسٹ کی ای میل آئی۔ میں جنک ای میل سمجھ کر اسے مٹانے ہی لگی تھی کہ گزشتہ رات کی اٹامک کانفرنس میں شریک نوڈلز والی خاتون یاد آگئی۔ ’’کیا میرے ساتھ ظہرانہ پسند فرمائیں گی‘‘ اللہ کی نعمت سے انکار توبہ توبہ ، میں تیار ہوتی گئی اور گرما گرم نوڈلز کا تصور میرے اعصاب کو مہکاتا رہا۔ کچھ ہی دیر میں ریچل میرے ہوٹل آن پہنچی۔ موصوفہ کی گاڑی خود سے بھی زیادہ دل چسپ تھی۔ بچپن میں مسٹر بین کی گاڑی دیکھی تھی اور اگلی ریچل کی یہ لانسر تھی، چھوٹا فریج،کپڑوں کا ڈھیر، باسکٹ میں پھل، کوہ پیماؤں کے مخصوص جوتے، ہیلمٹ، فولڈنگ سائیکل، گاڑی کی سیٹ سے چھت کو چھوتا کتابوں کا ٹاوراور پتا نہیں کیا کیا کچھ۔۔۔ ٹھیک ٹھاک گرمی تھی میں نے گاڑی کے اے سی بٹن کو ہاتھ لگایا تو وہ ہاتھ میں آگیا ۔۔ ریچل نے جھینپ کے کہا ’’ بٹن ایک بار کپڑے بدلتے ہوئے پاؤں لگنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ گاڑی کا سن روف کھلا ہے کیوں نہ ہم تازہ ہوا کا مزہ لیں‘‘ گاڑی دو چار کلو میٹر چلی تو ریچل نے میرے خاندان کے حوالے سے پوچھا، میں نے کہا ’’ایک بہن فرانس میں‘ ایک انگلستان میں‘ ایک پاکستان میں اور ایک آپ کی گاڑی میں ہے ‘‘ ’’کیا پا کستان کے لوگ اپنی لڑکیوں کو اکیلے باہر بھیج دیتے ہیں؟‘‘ اس سوال کے جواب میں، میں نے محترمہ کی خوب اصلاح فرمائی۔۔۔۔ اگلی باری ریچل کی تھی ’’میرا ایک بھائی شکاگو اور امی ابو واشنگٹن میں ہوتے ہیں‘‘ریچل نے واشنگٹن کے گھر سے لے کر بھائی کے بچوں کے ناموں تک سب سنا ڈالا۔ ریچل نے بتایا کہ اس کی شادی اس کے سیکنڈ کزن سے ہوئی مگر جلد ہی خاندانی جھگڑوں کی نذر ہوگئی۔ اب وہ اکیلی ایک کرائے کے بستر کے بل بوتے پر ڈینور میں ہے کیونکہ اسے پہاڑ کی چوٹیاں سر کرنے کا بلا کی حد تک شوق ہے، سو وہ جب تک میکسیکو اور کولوراڈو کے سب پہاڑ سر نہ کرلے تب تک ڈینور میں رہنے والی ہے۔ ’’اب تم بھی شادی کرلو‘‘ ڈینور ہائی وے کی ایک ڈھلکتی سڑک پر گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے اس نے مجھے مشورہ دیا۔۔۔ مجھے اس وقت وہ ریچل نہیں کوئی رخسانہ باجی لگی ، وہی عام سے مسئلے،ایک سی الجھن اور وہی سلجھن ۔۔ اف خدا میں تو نجانے کیا سمجھتی تھی کہ کیسی طرم خان ہوتی ہوں گی یہ امریکی خواتین ۔۔۔

richalthe.jpg


ظہرانے کا وقت ہوا چاہتا تھا، میرے گمان میں اب بھی گرما گرم نوڈلز تیر رہے تھے، میں نے روایتاً کہا ’’ویسے ہم کسی ریستوران میں کھا لیتے، اتنی تکلف کی کیا ضرورت تھی‘‘ جو جواب ملا وہ ہوش اڑانے کو کافی تھا ، ہماری منزل ڈینور سے ستر کلومیٹر دور بولڈر نامی شہر کے مضافات کا ایک ایسا گھر تھا جس میں سورج کی گرمائش کو پتھروں میں محفوظ کرنے کا ہوم میڈ نظام لگایا گیا تھا، اس گھر میں ہونے والے فنڈ ریزنگ پروگرام میں جو کچھ کھلایا جانا تھا یہ وہی ظہرانہ تھا جس کا وعدہ تھا۔


ابھی بولڈر میں داخل ہی ہوئے تھے کہ پٹرول کا کانٹا صفر پہ آگیا۔ پٹرول پمپ پر کریڈٹ کارڈ ڈال کر پٹرول بھرتے بھرتے ریچل بے ساختہ بولی ’’میرا بال بال قرض میں جکڑا ہے‘‘ (ظاہر ہے یہ انگریزی میں ہی کہا تھا) ریچل نے بتایا کہ وہ سوشیالوجی میں ڈگری یافتہ ہے، کوہ پیمائی تو شوق ہے مگر دو سال کی بے روزگاری سے تنگ آکر حال ہی میں تھائی لینڈ سے نوڈلز میکنگ کا کورس کرکے آئی ہے۔ مگر اب تک اس نوڈلز ایکسپرٹ کو اپنے جوہر دکھانے کا مناسب موقع نہیں مل سکا۔ ریچل نے پھر خالی جیب عیاشی کا ایک نسخہ بتایا، وہ ڈینور کے سماجی حلقوں میں خاصی متحرک ہے ، روز ہی کسی نہ کسی نے کانفرنس، سیمینار فنڈ ریزنگ پروگرام کا انعقاد کر رکھا ہوتا ہے۔ سو وہ وہاں جا کر اچھا کھانا بھی کھا لیتی ہے اور اپنے نوڈلز ایکسپرٹی کی تشہیر بھی ہوجاتی ہے ، کتنا دیسی ٹوٹکہ ہے ویسے۔۔۔


گاڑی ایک بار پھر چلی۔ میں نے ریچل سے آزاد خیال مغربی خواتین، اخلاق باختہ فلموں‘ ثقافت وغیرہ کا سوال کر ڈالا ۔۔ مجھے ریچل کے گھریلو اندازاور دیسی اطوار پریشان ہی تو کر رہے تھے، پھر سوال تو بنتا تھا، ریچل اب اپنے بوسیدہ سے موبائل کے جی پی ایس سسٹم سے رستے تلاش کرنا چھوڑ کر متوجہ ہوگئی۔ ’’جن مغربی عورتوں کو تم نے ہالی وڈ فلموں میں دیکھا وہ شاید تمھیں کسی انگریزی فلم کے سیٹ پر ہی ملیں امریکا کی سڑکوں پہ نہیں‘‘ ریچل نے بتایا کہ تھائی لینڈ میں قیام کے دوران کس طرح ایشیائی حضرات اس کے مغربی لباس کو دیکھ کر یہ مغالطہ کر بیٹھتے تھے کہ وہ کسی ہالی وڈ ہیروئن کی طرح بے باک ہوگی۔ ’’میری پسند، میرے احساسات بالکل تمھاری یا کسی بھی عام ایشیائی خاتون کی طرح ہیں، مجھے بھی اپنی عزت نفس سب سے زیادہ مقدم ہے‘‘۔۔۔ اب کی بار میری آنکھوں کے آگے ڈینور کی ریچل کاریلو، منچن آباد کی باجی رقیہ لگ رہی تھی۔
بولڈر کا وہ عجب سائینٹیفک گھر بھی دیکھ لیا اور وہاں مفتا بھی اڑا لیا۔ اب مجھے ریچل کی صحبت میں ڈینور دریافت کرنے کا مزہ آنے لگا تھا۔


اگلے دن ہم دونوں نے برما سے بے گھر ہوکر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کے مہاجر کیمپ جانے کا پلان بنایا۔ یہ پہلی رمضان کی صبح تھی۔ ریچل نے گاڑی سے اتر کر میرا استقبال ایک تحفے کے ساتھ کیا۔ پتہ چلا کہ رات ہی انٹرنیٹ سرفنگ کے دوران اسے رمضان المبارک کا علم ہوا، سو وہ میرے لئے بھی تحفہ لے آئی، وہ تو بعد میں پتا چلا وہ تحفہ بھی کسی فنڈ ریزنگ پروگرام میں ملنے والا گفٹ ہیمپر تھا۔ سارا دن میں ریچل کی گاڑی میں یہاں وہاں گھومتی رہی۔ اپنی رپورٹنگ بھی کی۔ بہت کچھ دیکھا، مغرب کا وقت ہوا تو میں نے افطار کی فکر کی، مگر اب باری میری تھی، بہت تردد کے بعد گوگل سرچ کر کے ایک حلال فوڈ ریسٹورنٹ ڈینور یونیورسٹی کے قریب ملا، بھوک سے بے حال ریچل اور میں کسی فاقہ کش کی طرح عربک ڈنر پہ ٹوٹ پڑے کھانے کے دوران ریچل کی آواز میں اظہار تشکر بھی تھا اور شرمندگی بھی، کہنے لگی! ’’تم بھی سوچ رہی ہوگی کیسی میزبان ہے جو پاکستان سے آئی ایک مہمان کی دعوت اڑا رہی ہے‘‘ میں نے اس کی حساس طبیعت کو بھانپتے ہوئے موضوع ہی بدل دیا۔ ریچل خالی جیب میری مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی تھی، میں بھلا کیسے احسان جتاتی۔


اگلا دن ریچل کے ساتھ میں نے پائیکس پیک کی چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش کی ، کیا ہی بہترین دن تھا وہ ، واپسی پر میں نے ایک سپر مارکیٹ سے شاپنگ کی، میری شاپنگ کی تعداد اور مقدار دیکھ کہ ریچل نے کچھ عجیب ہی کہا ’’تم کیا پاکستان کے کسی بادشاہ کی بیٹی ہو جو اتنا کچھ خرید رہی ہو‘‘ اب اسے کیا بتاتی کہ یہاں پورے کنبے اور دوستوں نے فرمائشوں کی فہرست تھما رکھی ہے اور ہم ٹھہرے تکلفات میں تکلیفیں اٹھانے والے لوگ ۔۔۔
یہ رات کے شاید آٹھ بجے تھے، پہلے کوہ پیمائی پھر شاپنگ کی تھکن، جسم چور چور ہورہا تھا۔ ریچل نے ہوٹل کے باہر گاڑی روکی تو میں نے اترتے ہوئے ایک بار پھر گرم کافی کی دعوت دی۔۔ تھوڑا سوچنے کے بعد اس نے عجب فرمائش کرڈالی۔ ’’کیا تمھارے ہوٹل روم میں باتھ ٹب کی سہولت ہے ؟‘‘ میں نے کہا کہ یہ فائیو سٹار ہوٹل ہے یہاں شاہانہ باتھ روم ہے۔ ریچل نے بتایا کہ اسے ڈاکٹر نے پٹھوں کی اینٹھن دور کرنے کے لئے اسٹیم باتھ کا نسخہ دیا ہے۔ میں نے ایک مشرقی میزبان کی طرح اپنی اس مخلص مہمان کی پاکستانی چائے سے تواضع کی تو اس نے ایک وعدہ کیا ’’عفت دعا کرو میری کسی چائینز ریسٹورنٹ پر نوڈلز ایکسپرٹ کے طور پر نوکری لگ جائے ، میں اپنا بینک قرض اتارنے کے بعد، تمھارا پاکستان دیکھنے ضرور آوں گی۔۔۔‘‘ اس وقت تو نہ کہہ سکی مگر اب بھی دل کہتا ہے، ریچل کاریلو ، میرے پاکستان کا دامن بھی تم جیسے فراخ دلوں کے لئے پھیلا ہوا ہے۔

(مصنفہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس فیلو، سوانح نگار ، قلمکار اور ایک نجی نیوز چینل میں رپورٹر ہیں)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
05
October

An Interesting Secret of Biological Life

Published in Hilal English

Written By: Dr. Gulfaraz Ahmed

Biologically speaking, life started when some complex chemical molecules in the primordial soup in high energy environment of the hot deep-sea plumes mimicked a biological cell and divided into two. Biological division of a cell is the starting and crowning point of life. Progressively thereafter, the high energy environment led to the explosion from simple single-cell life to complex multicellular forms that include mammals. There are over a trillion cells in the human body and the growth in the growing years and ageing in waning years still takes place at the cell level through healthy division, sluggish division or mutation as the case might be.


When a fertilized egg cell divides at the starting point of conceptual life, slight imperfection in division known as mutation causes genetic variations leading to a wide array of biodiversity. The body remains youthful as long as the adult cells continue to divide efficiently. However, brain cells do not divide as the production of new cells could result in the loss of memory. The synaptic connections continually reformat that maintains the brain health and function. This reformatting takes place during sleep at night and deeper the sleep, better is the mending of the brain. Similarly, cells of the heart muscles also do not divide, possibly because the fresh cells created might not be strong enough to contract to the required extent as the old cells for sustaining the required pressure in the blood vessels. It is now considered that about 3% of the heart cells do divide but that is not enough to repair the damage suffered in a heart attack. If a way could be found to induce the heart cells to divide, it could lead to the repairing of the damage to the heart suffered in an heart attack without any surgical intervention. Rest all cells in the body continue to divide during the life. Progressively with age, cells become sluggish or stop to divide that causes ageing. The retired cells reside next to the active cells which in due course become sites for inflammation that causes myriad problems and damages to the body tissues.

 

It is interesting to know that the optimal level of food is a touch towards starvation than to overeating. When the stomach is empty with a long gap after eating the food, the growth hormones are stimulated which promotes healthy cell division that checks or slows ageing. This condition can be achieved by intermittent fasting for about 16 hours. In practice it is comparable with religious fasting, except that in intermittent fasting one could take simple water any number of times to avoid dehydration.

Human Growth Hormones (HGH) operate at cell level and stimulate active cells to prolong their life of efficient division. The body produces its own growth hormones which provide a good index of ageing in advancing years. Although, one could take HGH as supplements also but this is not as effective in prolonging youthfulness as the body’s own energized growth hormones.


The central idea of this article is that there are ways through which one could stimulate body’s own growth hormones. This secret was revealed during the biological experiment of the procreation of the sheep ‘Dolly’ in 1996 by a team of British scientists. They picked two genetically different types of sheep and started with an egg cell of one sheep but enucleated it by removing the nucleus, leaving only the proteins inside the cell membrane. Then they took the differentiated adult cell from the mammary gland of the second sheep and inserted the nucleus of this adult cell into the enucleated cell of the other sheep. They were trying to grow the clone of the sheep that had provided the adult cell. Cloning of a mammal from its adult cell had never been achieved before this experiment.


During the course of the frustrating experiments, hundreds of attempts led to no breakthrough as the adult cell did not start dividing to replicate life. What they observed in these failed attempts provides a very intelligent clue to the secret of the cell division. When there was excessive protein food around the adult cell nucleus, the cell would grow bigger and bigger, become sluggish and not divide. On the other hand when there was too little protein food, the adult cell became emaciated and died. When they accidently hit upon the optimal level of the protein food, the miracle happened and the cell started dividing that led to the development of 'Dolly'. The sheep lived about six years and produced 5 lambs.


These observations provided an evidence that excessive food protein or very low food protein suppress growth hormones leading to lethargy, inactivity or death of adult cells in human body. It points to the secret of finding an optimal level of food protein to stimulate the health of the body cells. The individuals who consume excessive food suffer from inactive cells which becomes the cause of various health issues and faster ageing. The starvation on the other hand causes early death of body cells leading to the loss of muscles and bone mass that advances the process of ageing.


It is interesting to know that the optimal level of food is a touch towards starvation than to overeating. When the stomach is empty with a long gap after eating the food, the growth hormones are stimulated which promotes healthy cell division that checks or slows ageing. This condition can be achieved by intermittent fasting for about 16 hours. In practice it is comparable with religious fasting, except that in intermittent fasting one could take simple water any number of times to avoid dehydration. Translating it into a daily routine the requirement can be achieved if one takes the last meal of the day along with the required amount of water in the late afternoon at say 5p.m. and the only second meal of the breakfast at 9a.m. Except these two timed meals one observes intermittent fast. Apart from energizing growth hormones it has other spectacular health effects. Between 5p.m. and sleep, say at 9p.m., the food gets digested and there is no need for the heart to continue to pump the blood into stomach during the sleep. When one goes to sleep with all the food digested, the heart, kidneys and the brain all can sleep at night. The sleep is undisturbed and one gets up very fresh the next morning. This quality of sleep is conducive to synaptic reformatting and the repairs in the brain. This routine can improve health, check or slow ageing and increase active hours adding vitality to life.


As a general guide, eating moderately especially in advancing years is a recipe for better health. Most health issues arise from eating excessively especially the unhealthy food. We heard a golden rule from the elders to stop eating, leaving some appetite unsatisfied. Energizing body's own growth hormones is an effective way to slow down ageing and prolong healthy life. Although the humanity continues to make spectacular advances for treating diseases there ought to be sufficient development for promoting a style of life that supports good health in the first place. A flurry of fads, exacerbated by the globally connected social media, often sponsored by vested interest-groups continue to add confusion to what to eat and how much to eat. An intelligent recourse to eating less and selectively would save resources, increase food security and above all promote health and extend useful life span adding to the well-being of the human society. Eating less is the end secret.

 

The writer holds a PhD degree from Stanford University, California USA. He is a former Federal Secretary and has been CEO/Chairman of OGDCL and Chairman NEPRA.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
05
October

Into the Snake Pit

Published in Hilal English

Written By: Nadeem F. Paracha

The Pakistan cricket team hasn’t played a Test match against India since 2006. India considers Pakistan to be an unsafe place to tour and has often accused Pakistan of facilitating ‘terrorism’ in Kashmir. Pakistan accuses India of the same, especially after capturing an Indian spy in 2016 who confessed of funding and facilitating terrorist groups in Balochistan and Karachi.


India’s concern that Pakistan is unsafe for cricket is ironic because never has any Indian cricket squad been threatened with violence in Pakistan; whereas it was in India that the Pakistani cricketers were threatened in 1999, 2013 and then again during the 2016 T20 World Cup held there.

intothesnake.jpg
One of the most prominent examples in this respect stretches back to Pakistan’s 1999 tour of India where it played 3 Test matches. This was Pakistan’s first Test tour of India after 1987. The relations between the two countries had nosedived in 1998 when both the governments conducted multiple nuclear tests.


In January 1999, a 16-men-squad captained by Wasim Akram landed in New Delhi. The players had not even left the city’s Indira Gandhi Airport when reports of a possible attack on the team’s hotel began to circulate. Newspapers had earlier quoted some members of a Hindu nationalist group in Delhi who said they would storm the hotel where the Pakistani players were to stay and put them back on a plane to Pakistan.


Even though the players managed to make it to the hotel, Shiv Sena activists entered the stadium in Delhi (which was to host the second Test) and dug up the pitch, destroying it completely. Then as the Pakistani players flew to Chennai to play the first game, a Hindu nationalist outfit asked the spectators to stay away from the game because they were going to release hundreds of poisonous snakes in the stands.


After the police closely inspected the stands, the Pakistan’s squad reached Chennai’s Chidambaram Stadium to play the team’s first Test match in India after 11 years. The stands were packed with people, even though security personnel could be seen on the concrete gables above the stands and outside Pakistan team’s dressing room.


The pitch had some grass on it but seemed good for batting. Akram won the toss and elected to bat. Saeed Anwar and Shahid Afridi opened the batting for Pakistan. But with the score at 32, Afridi was squared up by a zippy Srinath out-swinger and caught by Ganguly at first slip. At 41 Pakistan lost Anwar and then quickly collapsed to 91 for 5.


Yousaf Youhana (later Muhammad Yousaf) and wicket-keeper Moin Khan stabled things a bit for the tourists and took the score to 154 when Yousaf was trapped LBW. Moin was joined by Akram and both pushed the score to 214 before India managed to dislodge Moin for a gritty 60. However, Pakistan were eventually bundled out for just 238 an hour before the close of the first day’s play. In this hour Indian openers struck a quick 48.


Pakistan got its first breakthrough in the first session of the second day’s play when Akram removed the stylish Laxman with the score at 67. 67 for 1 soon became 71 for 2 when Akram also removed the second opener, Sadagoppan Ramesh. Almost immediately, prodigious off-spinner Saqlain Mushtaq got the prized wicket of Sachin Tendulkar, caught by Saleem Malik. India was now tottering at 72 for 3. Azharuddin went at 103 but Dravid and Ganguly managed to stem the rot and pushed the score past 150 when Dravid fell, padding up to a straight one from Saqlain.


Ganguly’s fifty and some last minute hitting from Sunil Joshi helped India reach 254 (all out), gaining a 26 runs lead. Saqlain picked up five wickets. In its second innings, Pakistan lost Saeed Anwar early and at the end of the second day’s play Pakistan were 34 for 1, just 8 runs ahead.


After the day’s play Akram was quoted by Indian newspapers as saying that Pakistani players were still receiving threats of violence but the team had decided to just concentrate on playing cricket. On day 3 of the Test, Ijaz Ahmed was sent packing very early but Inzamam-ul-Haq and the 20-year-old Shahid Afridi added a quick-fire 92 for the fourth wicket, both sprinting past their fifties in style.


With the score at 139, Inzamam fell but Afridi continued to score freely. He soon posted his first ever Test century. But when Afridi lost his wicket with the score at 279, rest of the batting collapsed. Pakistan were all out for 286. India had 271 to chase with two days of the Test remaining. Now favorites to win the Test, India’s chase began disastrously. Rippers from Akram’s fellow fast bowler Waqar Younus removed the Indian openers cheaply. At the close of the third day’s play, India were reeling at 40 for 2. On day 4, Pakistan reduced India to 82 for 5 by lunch. The Pakistani players were jubilant and enjoyed their lunch. But Akram told a BBC reporter that the political and sporting pressure on his men and him was immense. But now they were sensing a win.


However, after the lunch break, as Tendulkar and Mongia went about repairing India’s innings, Pakistan began to slightly panic. The pair first took India past 150 and then 200. Soon, India just needed 52 to win with five wickets still in hand.


Tendulkar was playing brilliantly; middling the ball and making the Pakistani bowlers (suddenly) look rather ordinary. He quickly reached his century. Mongia began playing his shots as well but with the score at 218 he tried to loft Akram out of the ground but only managed to sky the ball towards Waqar who ran in and held the most important catch at mid-off.


Joshi came in and just blocked, letting a Tendulkar do all the scoring. The pair took the score past 250. Then at 254 India just needed 16 to win and it still had four wickets in hand. Surely, Pakistan was staring at defeat now? It seemed that way until Tendulkar tried to lift Saqlain over mid-on for a boundary. The ball seemed to hang high in the air for ages. Akram ran in and placed himself underneath it and cupped it successfully. A deafening silence descended over the packed stands.


Just two runs later, Pakistan grabbed another two quick wickets, leaving India 14 to get and with just one wicket in hand. The tables were being turned. Srinath and Prasad added two runs and India now needed 12. But Saqlain produced a jumpy off-break to Srinath which the batsman went back to defend. He was successful, but the ball hit the ground and rolled back to hit the stumps. Pakistan won.


It was the most esthetic victory for a team under threat of violence. Even though Pakistan lost in Delhi it came back to post a win in Kolkata. Pakistan’s manager, Shahryar Khan later wrote that this was the tensest and most stressful series he had ever been a part of. He added that relations between the two teams were cordial but the crowds (especially in Delhi and Kolkata) were hostile and threats of violence from Hindu nationalists never stopped. But Pakistan managed to come out the better side.

 

The writer is a Pakistani journalist, cultural critic and satirist. He is the author of a detailed book on Pakistan’s ideological, political & social history, called ‘End of the Past.’

Email This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it..

 
17
February

Recipes

Written By: Kokab Khawaja

Vegetable Crumble

Ingredients

1 kg diced vegetables (carrots, cabbage, cauliflower, mushrooms, etc.)

1 tablespoon butter

½ cup grated cheese

1 cup hot water and 2 chicken cubes

For Crumble

2 tablespoon butter

1 cup bread crumbs

½ cup chopped mixed nuts

Salt and pepper to taste

Method

Fry the vegetables in butter, add water mixed with chicken, cook uncovered until tender • Add cheese and mix well • Mix all the crumble ingredients in a bowl • Place the vegetables in a glass dish • Sprinkle crumble over the vegetables • Bake at 180 oC for few minutes in a pre-heated oven until crumble turns golden brown • Serve hot

Chicken with Almonds

500g chicken breasts cut into fingers

2 egg whites

½ cup almonds (skinned)

1 cup oil

1 cup mushrooms

1 tablespoon ginger garlic paste

2 tomatoes

2 tablespoon cornflour

1 spring onion

Seasoning as required

Method

• Marinate the chicken fingers in whites and salt • Heat one cup oil, fry ½ cup almonds and remove from heat and keep aside • In the same oil, fry the chicken and remove from heat • Take ¼ cup oil from similar oil and fry one tablespoon of ginger garlic paste • Add one cup of tinned sliced mushrooms and 2 tomato’s wedges • Add fried chicken fingers (golden brown) • Add two tablespoons of soya sauce, salt to taste and two levelled tablespoons of cornflour mixed with little water • Add a cup of green onions (1” cut into 1”) • Garnish with sliced fried almonds before serving.

Follow Us On Twitter