08
January

ریچل ۔۔۔ دی نوڈ لز اسپیشلسٹ

تحریر : عفت حسن رضوی

ایک امریکی خاتون کے ساتھ گزارے حیرت بھرے کچھ دنوں کی داستان

 

اس سال کی گرمی امریکا میں کٹی۔ ہم ٹھہرے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مہمان‘ سو انہوں نے امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں رپورٹنگ کا تجربہ کرنے کو بھیج دیا۔
ڈینور ۔۔۔ یعنی ریچل کا ڈینور ،طلائی رنگ کے بال اور روکھی رنگت پر گلابی گالوں والی ریچل سے میری پہلی ملاقات ایک امریکی تھنک ٹینک ورلڈ ڈینور کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے نہایت متعصبانہ سیمینار میں ہوئی، جس میں سابق امریکی سفیر برائے ایران اور پاکستان مسٹر رابرٹ گلوچی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کسی پٹاخوں کی فیکٹری سے تشبیہہ دے چکے تھے۔ وقفہ سوالات میں مائیک پر ایک خاتون کی آواز ابھری جس نے پہلے جی بھر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اعلیٰ سکیورٹی کے حوالے سے سفیر صاحب کی لاعلمی کو لتاڑا، بعد میں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر امریکی ایٹمی حملے کی یاد دلا کر کئی ناپسندیدہ سوال داغ دیئے۔ بحیثیت پاکستانی صحافی اب اس خاتون سے ملنا ناگزیر ہوگیا تھا۔ پروگرام کے اختتام پر میں نے سیاہ لباس میں ملبوس اس کھلکھلاتی سی امریکی خاتون کو اپنا تعارفی کارڈ دے کر کہا: ’’جی میں ہوں پاکستانی سٹار جرنلسٹ، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی مہمان خاص، نائن نیوز ڈینور کی مستعد رپورٹر فلاں فلاں‘‘ جواب میں محترمہ نے مجھے جو وزٹنگ کارڈ دیا اس پر بڑے بڑے حروف میں لکھا ’’ریچل۔۔۔ نوڈلز اسپیشلسٹ‘‘ میرا منہ چڑا رہا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں لاحول پڑھی، نوڈ لز اسپیشلسٹ سے بھلا ہمارا کیا واسطہ۔


اگلے دن میں ہوٹل کے کمرے کے آرام دہ بستر میں دبکی لیٹی تھی کہ کسی نوڈلز اسپیشلسٹ کی ای میل آئی۔ میں جنک ای میل سمجھ کر اسے مٹانے ہی لگی تھی کہ گزشتہ رات کی اٹامک کانفرنس میں شریک نوڈلز والی خاتون یاد آگئی۔ ’’کیا میرے ساتھ ظہرانہ پسند فرمائیں گی‘‘ اللہ کی نعمت سے انکار توبہ توبہ ، میں تیار ہوتی گئی اور گرما گرم نوڈلز کا تصور میرے اعصاب کو مہکاتا رہا۔ کچھ ہی دیر میں ریچل میرے ہوٹل آن پہنچی۔ موصوفہ کی گاڑی خود سے بھی زیادہ دل چسپ تھی۔ بچپن میں مسٹر بین کی گاڑی دیکھی تھی اور اگلی ریچل کی یہ لانسر تھی، چھوٹا فریج،کپڑوں کا ڈھیر، باسکٹ میں پھل، کوہ پیماؤں کے مخصوص جوتے، ہیلمٹ، فولڈنگ سائیکل، گاڑی کی سیٹ سے چھت کو چھوتا کتابوں کا ٹاوراور پتا نہیں کیا کیا کچھ۔۔۔ ٹھیک ٹھاک گرمی تھی میں نے گاڑی کے اے سی بٹن کو ہاتھ لگایا تو وہ ہاتھ میں آگیا ۔۔ ریچل نے جھینپ کے کہا ’’ بٹن ایک بار کپڑے بدلتے ہوئے پاؤں لگنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ گاڑی کا سن روف کھلا ہے کیوں نہ ہم تازہ ہوا کا مزہ لیں‘‘ گاڑی دو چار کلو میٹر چلی تو ریچل نے میرے خاندان کے حوالے سے پوچھا، میں نے کہا ’’ایک بہن فرانس میں‘ ایک انگلستان میں‘ ایک پاکستان میں اور ایک آپ کی گاڑی میں ہے ‘‘ ’’کیا پا کستان کے لوگ اپنی لڑکیوں کو اکیلے باہر بھیج دیتے ہیں؟‘‘ اس سوال کے جواب میں، میں نے محترمہ کی خوب اصلاح فرمائی۔۔۔۔ اگلی باری ریچل کی تھی ’’میرا ایک بھائی شکاگو اور امی ابو واشنگٹن میں ہوتے ہیں‘‘ریچل نے واشنگٹن کے گھر سے لے کر بھائی کے بچوں کے ناموں تک سب سنا ڈالا۔ ریچل نے بتایا کہ اس کی شادی اس کے سیکنڈ کزن سے ہوئی مگر جلد ہی خاندانی جھگڑوں کی نذر ہوگئی۔ اب وہ اکیلی ایک کرائے کے بستر کے بل بوتے پر ڈینور میں ہے کیونکہ اسے پہاڑ کی چوٹیاں سر کرنے کا بلا کی حد تک شوق ہے، سو وہ جب تک میکسیکو اور کولوراڈو کے سب پہاڑ سر نہ کرلے تب تک ڈینور میں رہنے والی ہے۔ ’’اب تم بھی شادی کرلو‘‘ ڈینور ہائی وے کی ایک ڈھلکتی سڑک پر گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے اس نے مجھے مشورہ دیا۔۔۔ مجھے اس وقت وہ ریچل نہیں کوئی رخسانہ باجی لگی ، وہی عام سے مسئلے،ایک سی الجھن اور وہی سلجھن ۔۔ اف خدا میں تو نجانے کیا سمجھتی تھی کہ کیسی طرم خان ہوتی ہوں گی یہ امریکی خواتین ۔۔۔

richalthe.jpg


ظہرانے کا وقت ہوا چاہتا تھا، میرے گمان میں اب بھی گرما گرم نوڈلز تیر رہے تھے، میں نے روایتاً کہا ’’ویسے ہم کسی ریستوران میں کھا لیتے، اتنی تکلف کی کیا ضرورت تھی‘‘ جو جواب ملا وہ ہوش اڑانے کو کافی تھا ، ہماری منزل ڈینور سے ستر کلومیٹر دور بولڈر نامی شہر کے مضافات کا ایک ایسا گھر تھا جس میں سورج کی گرمائش کو پتھروں میں محفوظ کرنے کا ہوم میڈ نظام لگایا گیا تھا، اس گھر میں ہونے والے فنڈ ریزنگ پروگرام میں جو کچھ کھلایا جانا تھا یہ وہی ظہرانہ تھا جس کا وعدہ تھا۔


ابھی بولڈر میں داخل ہی ہوئے تھے کہ پٹرول کا کانٹا صفر پہ آگیا۔ پٹرول پمپ پر کریڈٹ کارڈ ڈال کر پٹرول بھرتے بھرتے ریچل بے ساختہ بولی ’’میرا بال بال قرض میں جکڑا ہے‘‘ (ظاہر ہے یہ انگریزی میں ہی کہا تھا) ریچل نے بتایا کہ وہ سوشیالوجی میں ڈگری یافتہ ہے، کوہ پیمائی تو شوق ہے مگر دو سال کی بے روزگاری سے تنگ آکر حال ہی میں تھائی لینڈ سے نوڈلز میکنگ کا کورس کرکے آئی ہے۔ مگر اب تک اس نوڈلز ایکسپرٹ کو اپنے جوہر دکھانے کا مناسب موقع نہیں مل سکا۔ ریچل نے پھر خالی جیب عیاشی کا ایک نسخہ بتایا، وہ ڈینور کے سماجی حلقوں میں خاصی متحرک ہے ، روز ہی کسی نہ کسی نے کانفرنس، سیمینار فنڈ ریزنگ پروگرام کا انعقاد کر رکھا ہوتا ہے۔ سو وہ وہاں جا کر اچھا کھانا بھی کھا لیتی ہے اور اپنے نوڈلز ایکسپرٹی کی تشہیر بھی ہوجاتی ہے ، کتنا دیسی ٹوٹکہ ہے ویسے۔۔۔


گاڑی ایک بار پھر چلی۔ میں نے ریچل سے آزاد خیال مغربی خواتین، اخلاق باختہ فلموں‘ ثقافت وغیرہ کا سوال کر ڈالا ۔۔ مجھے ریچل کے گھریلو اندازاور دیسی اطوار پریشان ہی تو کر رہے تھے، پھر سوال تو بنتا تھا، ریچل اب اپنے بوسیدہ سے موبائل کے جی پی ایس سسٹم سے رستے تلاش کرنا چھوڑ کر متوجہ ہوگئی۔ ’’جن مغربی عورتوں کو تم نے ہالی وڈ فلموں میں دیکھا وہ شاید تمھیں کسی انگریزی فلم کے سیٹ پر ہی ملیں امریکا کی سڑکوں پہ نہیں‘‘ ریچل نے بتایا کہ تھائی لینڈ میں قیام کے دوران کس طرح ایشیائی حضرات اس کے مغربی لباس کو دیکھ کر یہ مغالطہ کر بیٹھتے تھے کہ وہ کسی ہالی وڈ ہیروئن کی طرح بے باک ہوگی۔ ’’میری پسند، میرے احساسات بالکل تمھاری یا کسی بھی عام ایشیائی خاتون کی طرح ہیں، مجھے بھی اپنی عزت نفس سب سے زیادہ مقدم ہے‘‘۔۔۔ اب کی بار میری آنکھوں کے آگے ڈینور کی ریچل کاریلو، منچن آباد کی باجی رقیہ لگ رہی تھی۔
بولڈر کا وہ عجب سائینٹیفک گھر بھی دیکھ لیا اور وہاں مفتا بھی اڑا لیا۔ اب مجھے ریچل کی صحبت میں ڈینور دریافت کرنے کا مزہ آنے لگا تھا۔


اگلے دن ہم دونوں نے برما سے بے گھر ہوکر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کے مہاجر کیمپ جانے کا پلان بنایا۔ یہ پہلی رمضان کی صبح تھی۔ ریچل نے گاڑی سے اتر کر میرا استقبال ایک تحفے کے ساتھ کیا۔ پتہ چلا کہ رات ہی انٹرنیٹ سرفنگ کے دوران اسے رمضان المبارک کا علم ہوا، سو وہ میرے لئے بھی تحفہ لے آئی، وہ تو بعد میں پتا چلا وہ تحفہ بھی کسی فنڈ ریزنگ پروگرام میں ملنے والا گفٹ ہیمپر تھا۔ سارا دن میں ریچل کی گاڑی میں یہاں وہاں گھومتی رہی۔ اپنی رپورٹنگ بھی کی۔ بہت کچھ دیکھا، مغرب کا وقت ہوا تو میں نے افطار کی فکر کی، مگر اب باری میری تھی، بہت تردد کے بعد گوگل سرچ کر کے ایک حلال فوڈ ریسٹورنٹ ڈینور یونیورسٹی کے قریب ملا، بھوک سے بے حال ریچل اور میں کسی فاقہ کش کی طرح عربک ڈنر پہ ٹوٹ پڑے کھانے کے دوران ریچل کی آواز میں اظہار تشکر بھی تھا اور شرمندگی بھی، کہنے لگی! ’’تم بھی سوچ رہی ہوگی کیسی میزبان ہے جو پاکستان سے آئی ایک مہمان کی دعوت اڑا رہی ہے‘‘ میں نے اس کی حساس طبیعت کو بھانپتے ہوئے موضوع ہی بدل دیا۔ ریچل خالی جیب میری مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی تھی، میں بھلا کیسے احسان جتاتی۔


اگلا دن ریچل کے ساتھ میں نے پائیکس پیک کی چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش کی ، کیا ہی بہترین دن تھا وہ ، واپسی پر میں نے ایک سپر مارکیٹ سے شاپنگ کی، میری شاپنگ کی تعداد اور مقدار دیکھ کہ ریچل نے کچھ عجیب ہی کہا ’’تم کیا پاکستان کے کسی بادشاہ کی بیٹی ہو جو اتنا کچھ خرید رہی ہو‘‘ اب اسے کیا بتاتی کہ یہاں پورے کنبے اور دوستوں نے فرمائشوں کی فہرست تھما رکھی ہے اور ہم ٹھہرے تکلفات میں تکلیفیں اٹھانے والے لوگ ۔۔۔
یہ رات کے شاید آٹھ بجے تھے، پہلے کوہ پیمائی پھر شاپنگ کی تھکن، جسم چور چور ہورہا تھا۔ ریچل نے ہوٹل کے باہر گاڑی روکی تو میں نے اترتے ہوئے ایک بار پھر گرم کافی کی دعوت دی۔۔ تھوڑا سوچنے کے بعد اس نے عجب فرمائش کرڈالی۔ ’’کیا تمھارے ہوٹل روم میں باتھ ٹب کی سہولت ہے ؟‘‘ میں نے کہا کہ یہ فائیو سٹار ہوٹل ہے یہاں شاہانہ باتھ روم ہے۔ ریچل نے بتایا کہ اسے ڈاکٹر نے پٹھوں کی اینٹھن دور کرنے کے لئے اسٹیم باتھ کا نسخہ دیا ہے۔ میں نے ایک مشرقی میزبان کی طرح اپنی اس مخلص مہمان کی پاکستانی چائے سے تواضع کی تو اس نے ایک وعدہ کیا ’’عفت دعا کرو میری کسی چائینز ریسٹورنٹ پر نوڈلز ایکسپرٹ کے طور پر نوکری لگ جائے ، میں اپنا بینک قرض اتارنے کے بعد، تمھارا پاکستان دیکھنے ضرور آوں گی۔۔۔‘‘ اس وقت تو نہ کہہ سکی مگر اب بھی دل کہتا ہے، ریچل کاریلو ، میرے پاکستان کا دامن بھی تم جیسے فراخ دلوں کے لئے پھیلا ہوا ہے۔

(مصنفہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس فیلو، سوانح نگار ، قلمکار اور ایک نجی نیوز چینل میں رپورٹر ہیں)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
17
February

Recipes

Written By: Kokab Khawaja

Vegetable Crumble

Ingredients

1 kg diced vegetables (carrots, cabbage, cauliflower, mushrooms, etc.)

1 tablespoon butter

½ cup grated cheese

1 cup hot water and 2 chicken cubes

For Crumble

2 tablespoon butter

1 cup bread crumbs

½ cup chopped mixed nuts

Salt and pepper to taste

Method

Fry the vegetables in butter, add water mixed with chicken, cook uncovered until tender • Add cheese and mix well • Mix all the crumble ingredients in a bowl • Place the vegetables in a glass dish • Sprinkle crumble over the vegetables • Bake at 180 oC for few minutes in a pre-heated oven until crumble turns golden brown • Serve hot

Chicken with Almonds

500g chicken breasts cut into fingers

2 egg whites

½ cup almonds (skinned)

1 cup oil

1 cup mushrooms

1 tablespoon ginger garlic paste

2 tomatoes

2 tablespoon cornflour

1 spring onion

Seasoning as required

Method

• Marinate the chicken fingers in whites and salt • Heat one cup oil, fry ½ cup almonds and remove from heat and keep aside • In the same oil, fry the chicken and remove from heat • Take ¼ cup oil from similar oil and fry one tablespoon of ginger garlic paste • Add one cup of tinned sliced mushrooms and 2 tomato’s wedges • Add fried chicken fingers (golden brown) • Add two tablespoons of soya sauce, salt to taste and two levelled tablespoons of cornflour mixed with little water • Add a cup of green onions (1” cut into 1”) • Garnish with sliced fried almonds before serving.

09
February

An Army Officer’s Love for Books: The Biggest Library Collection in South Asia

Written By: Dr. Amineh Hoti

As the habit of reading books seems to become a thing of the past, with the pervasive use of internet and computers, I was delighted to have the privilege to get my hands really dirty whilst cleaning up and dusting a few old books of the Nawab, or Lord of Hoti, Lieutenant Colonel Muhammad Akbar Khan Hoti – the paternal grandfather of my husband, Arsallah Khan Hoti. Akbar Khan Hoti was son of Khwaja Muhammad Khan Hoti. Born in 1885, Akbar Khan Hoti was a smart army officer who studied at Chief’s College (now Aitchison), Lahore, and at the Imperial Cadet Corps, Dehradun.


In 1904-5, he joined the Indian land forces and accompanied Sir Louis Dane’s mission to Afghanistan where he was on special duty with the Amir of Afghanistan in 1907. He was Orderly Officer to Inspecting Officer, Frontier Corps, Peshawar in 1907-8. He served with the Imperial troops in Egypt in 1914, and in Gallipoli in 1905. And with the 3rd Ambala Cavalier Brigade in France in 1916. Finally he retired as Major in 1922 while he was member of the Council of State of India. Sir Akbar was awarded a KBE in 1931.

 

anarmyoff.jpgDespite his military background, foreign travels and many commitments, he dreamed to build a library, which would hold almost every book on every subject published. He had taken pains during his lifetime to collect a large and a most impressive collection of books, ordering books from far and wide at personal expense. His library in Hoti, Mardan, built of some of the finest woodwork in the region, would grow to become larger than life. The famed U.S. Foreign Service officer who once served in Pakistan, James W. Spain, had remarked that this was one of the largest libraries in South Asia at the time (Spain, James W., The Way of the Pathans: 1973). It is undoubtedly a national treasure of Pakistan, the value of which must be reaffirmed in our modern, fast-paced world.


What often gets lost in today's world is the rich value of books. They help us with acquiring and appreciating different perspectives and celebrating diversity. They open our minds and help us delve into different times and different ideas in ways that no other medium can quite match. They are our best teachers and friends. And at this time when so many in Pakistan and around the world feel lost in the swirls of the modern world, books can fetch us back our human values and ideals.

 

anarmyoff1.jpgThe Nawab’s collection of books was breathtaking because it spanned over such a diverse range of topics. For instance, on religion alone, the collection ranged from a 1957 Holy Bible to more contemporary works. For example, there was a book on History of the New Testament Times: the Time of Jesus (London: 1878). I found one fascinating old book, Christian Dear, published and printed in London by James Parker and Co., owned by John Slater, and signed by him in 1876, which began with the wisdom of a Biblical verse from Isaiah XXX. 15: “In quietness and in confidence shall be your strength”. Another book called David of Judah (London: 1937) by Richard Blaker, stated in its subtitle, “Out of the strong came forth sweetness”.


I had heard that the Nawab had in his library the hand written Qurans by the emperors of Mughal India with their seal on them. I even learned there were also some precious Arabic and Persian books in the original collection, and even a handwritten manuscript by the great Pashtun scholar, Khushal Khan Khattak. The Nawab’s collection revealed a refreshing reverence for different faiths and the knowledge that they can pass to us regardless of our own belief systems. Just think of the rich quotes from the Bible and other sacred texts above and their deep universality. This is a practice which we could all learn to adopt from Akbar Khan.


One surprise though was the discovery of a book titled Mahomedan Law by Moulvi Mahomed Yusoof Khan Bahadur. Although it was an old book dating back to 1895 the title was an objectionable misnomer for Muslims especially because it was written by a supposed Moulvi, or Islamic religious scholar. Apart from going along with an orientalist image of his own faith, he was androcentric in his laws on women and Islam.


The Nawab’s collection of historical texts spanned the globe and the great expanse of human history. Peoples of All Nations consisted of volumes of fascinating descriptions of people from Palestine to Russia and so forth. There were also several volumes of The Cambridge Modern History (1907) books, from the Story of Spain to the Story of Venice. The Story of Spain, Al Andalus, was particularly thrilling for me, as I had visited Spain on my research project Journey into Europe with my father, Professor Akbar S. Ahmed. Al Andalus gave the world an idea of coexistence called La Convivencia, where people of different faiths and cultures, as one humanity, could live together in mutual respect and focus on creativity, knowledge and art. This was a brilliant culture – a model for today’s world – that one does not need a flight to Spain to learn all about. All one needs is a good book on the history of the era, one which could easily be found in so rich a library.


Continuing the historical tour de force offered by this library, another book, Historians’ History of the World Vol VIII (London: 1907), covered a wide array of topics ranging from “The Scope and Influence of Arabic History” to the Crusades. This was a beautifully bound book, reflecting the practice of a century ago of publishers to take great trouble giving the inner covers of a book a marbled effect, creating a work of visual art to go along with their written word. Another work, titled Racism by the Law, by Magnus Hirschfeld (1938), teaches, “Racial fanaticism” is “a phantom that bodes destruction”. The book continues: “There may be no defence against gas attack but there is a defence against false ideas, which can be dispelled by critical truths”. This book is a “critical counter-blast to the poison of racial fanaticism”. This is just more evidence that the lessons needed for our divided modern world are hiding within the pages of old books that just need some tender care to spring back to life.


For the romantic and thoughtful, there was a book on The Romantic Folk Tales of Pakistan by Behram Tariq and another on the Ninety Short Tales of Love and Women from the Arabic (London: 1928). To give a flavour of this rich collection, here is a small story from Ninety Short Tales, called The Afflicted Palm Tree by Nuzhat-ul-Udaba: “I saw in a certain land two palm trees, and one of them was dead. The other groaned and wept for a long time, so that the caravans that passed drank of its tears and watered their beasts with them, thinking that they came from some hidden spring”. As these tales reveal, we need to take this story of Akbar Khan’s love of books to the younger generations – some of whom may be undoubtedly struggling with facing a consumerist world dominated by materialism and superficiality and some of whom could use some philosophical conversations and fables like the ones posed by ul-Udaba: what is the story about? On what level can it be read and interpreted? As a lover pining for his lost love or simply the ignorance of mankind who blame their life’s good fortunes on the idea of fate.


The measure of a successful society is through its love and respect for books: all societies that have libraries and value books grow strong and prosperous, as Al Andalus did with its multiple magnificent libraries. Furthermore, Muslims, have long valued books, just like their Abrahamic and non-Abrahamic brothers and sisters. Indeed, the Quran, the book of God, is derived from Iqra (read) in which God says, “Today I have perfected your religion for you” because in the Quran, God demonstrates how He values thought, reason and knowledge. God even calls all human beings who have knowledge “Ahl-e-Aql” i.e., “People of Thought”. Muhammad Asad, the famed translator of the Quran, whose grave I visited in Granada, Spain, dedicated his Quranic translation to “People who Think”. As Pakistan is a Muslim majority country, it too must come to once again value books.


Yet sadly, books seem to be losing their value around the globe. Children today spend a large part of their time on their gadgets and access the world through the internet. One wealthy English speaking Pakistani woman whom I asked what she was reading, answered, “I do not read. Full Stop!” Mr. Barmak Pazhwak, who has spent years promoting peace in Pakistan and Afghanistan and who works at the U.S. Institute of Peace, once told me that during war in Afghanistan his ancestral books at home were used by soldiers to make fire and keep themselves warm in winter. This saddened me. Nawab Akbar Khan’s priceless books too have suffered similar adversity – apparently they have become food for termites, they have been stolen and sold in the Islamabad market for minimal sums, and some have simply been discarded. While some remain in private homes of his descendants, they are very little read by those who give full focus to material consumerist goods – such as designer shoes and bags.


Akbar Khan had written a number of booklets and also interestingly drawn up his genealogy from the time of Adam, literally naming every ancestor in line. One of his little booklets is his Presidential Address in Simla 1933 on the 15th of September in which he writes: “No one in Athens should prefer wealth to virtues but should always prefer virtues to wealth” (page 4), but he also adds, “the path of righteousness and truth is full of dangers, and is extremely difficult to traverse” (page 11). In this speech he addresses a Shi’a audience and quotes Jesus. In his words, he seemed to reflect great tolerance and acceptance of the ‘Other’. He writes, “According to Islam, Muslims should not interfere with any place where people worship their God, be it a church, temple, fire-temple or any other place of worship”. He also seemed to be compassionate about women and the elderly saying, “No Muslim army has the right to molest females, the aged, children, the priests or to destroy their crops, gardens or buildings of any kind”.


In line with Sufi tradition, he even quotes the interfaith Muslim saint, Mian Mir, who laid the foundation stone of the Sikh temple in Amritsar. Indeed Mian Mir, whose grave I have visited in Lahore, was the teacher of Prince Dara Shikoh – the eldest and favourite son of Mughal Emperor Shah Jahan. Dara Shikoh himself wrote on inter-cultural understanding, such as his book Majma Al Bahrain. Despite being brought up as the next Mughal Emperor, Dara Shikoh kept his humble attitude in all his spiritual and profound writings. Because Nawab Akbar Hoti was treading the path of tolerance, I was highly impressed by him. In this booklet he openly celebrates and yearns for “religious tolerance” (page 16) and he says “may it be that the same tolerance and unity [that once existed] again be witnessed amongst” the people of what is now the South Asian region. Olaf Caroe writes that Akbar Khan Hoti was “a man of great learning in history and philosophy, Islamic and other, he was the possessor of what was probably the finest private library north of Delhi… and he often did unlooked-for kindnesses to the poor and needy, concealing his generosity from the public gaze” (Olaf Caroe, The Pathans, pg 425-427).


Apart from his generosity and charitable spirit, the most valuable, special legacy of Akbar Khan Hoti, known for his great writings on accepting the other, is his effort in acquiring knowledge (ilm) and his love of books. This collection of books covering a diverse array of topics shows his sense of acceptance and of his appreciation of diversity. What made Akbar Khan Hoti a great leader and a great human being was not the shoes he wore or the bag he carried, but his work quenching the human thirst for knowledge. If coupled with humility, this message will resonate not just for his descendants but also for younger Pakistanis and for all global citizens. As our forbearers did, we all must rediscover books and begin to value them for the wonderful treasures and companions they are.

 

The author is a PhD in Social Anthropology, University of Cambridge. Presently she is Director at Centre for Dialogue and Action, FCCU, Lahore.
 

Follow Us On Twitter