08
January

ریچل ۔۔۔ دی نوڈ لز اسپیشلسٹ

تحریر : عفت حسن رضوی

ایک امریکی خاتون کے ساتھ گزارے حیرت بھرے کچھ دنوں کی داستان

 

اس سال کی گرمی امریکا میں کٹی۔ ہم ٹھہرے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مہمان‘ سو انہوں نے امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں رپورٹنگ کا تجربہ کرنے کو بھیج دیا۔
ڈینور ۔۔۔ یعنی ریچل کا ڈینور ،طلائی رنگ کے بال اور روکھی رنگت پر گلابی گالوں والی ریچل سے میری پہلی ملاقات ایک امریکی تھنک ٹینک ورلڈ ڈینور کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے نہایت متعصبانہ سیمینار میں ہوئی، جس میں سابق امریکی سفیر برائے ایران اور پاکستان مسٹر رابرٹ گلوچی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کسی پٹاخوں کی فیکٹری سے تشبیہہ دے چکے تھے۔ وقفہ سوالات میں مائیک پر ایک خاتون کی آواز ابھری جس نے پہلے جی بھر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اعلیٰ سکیورٹی کے حوالے سے سفیر صاحب کی لاعلمی کو لتاڑا، بعد میں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر امریکی ایٹمی حملے کی یاد دلا کر کئی ناپسندیدہ سوال داغ دیئے۔ بحیثیت پاکستانی صحافی اب اس خاتون سے ملنا ناگزیر ہوگیا تھا۔ پروگرام کے اختتام پر میں نے سیاہ لباس میں ملبوس اس کھلکھلاتی سی امریکی خاتون کو اپنا تعارفی کارڈ دے کر کہا: ’’جی میں ہوں پاکستانی سٹار جرنلسٹ، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی مہمان خاص، نائن نیوز ڈینور کی مستعد رپورٹر فلاں فلاں‘‘ جواب میں محترمہ نے مجھے جو وزٹنگ کارڈ دیا اس پر بڑے بڑے حروف میں لکھا ’’ریچل۔۔۔ نوڈلز اسپیشلسٹ‘‘ میرا منہ چڑا رہا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں لاحول پڑھی، نوڈ لز اسپیشلسٹ سے بھلا ہمارا کیا واسطہ۔


اگلے دن میں ہوٹل کے کمرے کے آرام دہ بستر میں دبکی لیٹی تھی کہ کسی نوڈلز اسپیشلسٹ کی ای میل آئی۔ میں جنک ای میل سمجھ کر اسے مٹانے ہی لگی تھی کہ گزشتہ رات کی اٹامک کانفرنس میں شریک نوڈلز والی خاتون یاد آگئی۔ ’’کیا میرے ساتھ ظہرانہ پسند فرمائیں گی‘‘ اللہ کی نعمت سے انکار توبہ توبہ ، میں تیار ہوتی گئی اور گرما گرم نوڈلز کا تصور میرے اعصاب کو مہکاتا رہا۔ کچھ ہی دیر میں ریچل میرے ہوٹل آن پہنچی۔ موصوفہ کی گاڑی خود سے بھی زیادہ دل چسپ تھی۔ بچپن میں مسٹر بین کی گاڑی دیکھی تھی اور اگلی ریچل کی یہ لانسر تھی، چھوٹا فریج،کپڑوں کا ڈھیر، باسکٹ میں پھل، کوہ پیماؤں کے مخصوص جوتے، ہیلمٹ، فولڈنگ سائیکل، گاڑی کی سیٹ سے چھت کو چھوتا کتابوں کا ٹاوراور پتا نہیں کیا کیا کچھ۔۔۔ ٹھیک ٹھاک گرمی تھی میں نے گاڑی کے اے سی بٹن کو ہاتھ لگایا تو وہ ہاتھ میں آگیا ۔۔ ریچل نے جھینپ کے کہا ’’ بٹن ایک بار کپڑے بدلتے ہوئے پاؤں لگنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ گاڑی کا سن روف کھلا ہے کیوں نہ ہم تازہ ہوا کا مزہ لیں‘‘ گاڑی دو چار کلو میٹر چلی تو ریچل نے میرے خاندان کے حوالے سے پوچھا، میں نے کہا ’’ایک بہن فرانس میں‘ ایک انگلستان میں‘ ایک پاکستان میں اور ایک آپ کی گاڑی میں ہے ‘‘ ’’کیا پا کستان کے لوگ اپنی لڑکیوں کو اکیلے باہر بھیج دیتے ہیں؟‘‘ اس سوال کے جواب میں، میں نے محترمہ کی خوب اصلاح فرمائی۔۔۔۔ اگلی باری ریچل کی تھی ’’میرا ایک بھائی شکاگو اور امی ابو واشنگٹن میں ہوتے ہیں‘‘ریچل نے واشنگٹن کے گھر سے لے کر بھائی کے بچوں کے ناموں تک سب سنا ڈالا۔ ریچل نے بتایا کہ اس کی شادی اس کے سیکنڈ کزن سے ہوئی مگر جلد ہی خاندانی جھگڑوں کی نذر ہوگئی۔ اب وہ اکیلی ایک کرائے کے بستر کے بل بوتے پر ڈینور میں ہے کیونکہ اسے پہاڑ کی چوٹیاں سر کرنے کا بلا کی حد تک شوق ہے، سو وہ جب تک میکسیکو اور کولوراڈو کے سب پہاڑ سر نہ کرلے تب تک ڈینور میں رہنے والی ہے۔ ’’اب تم بھی شادی کرلو‘‘ ڈینور ہائی وے کی ایک ڈھلکتی سڑک پر گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے اس نے مجھے مشورہ دیا۔۔۔ مجھے اس وقت وہ ریچل نہیں کوئی رخسانہ باجی لگی ، وہی عام سے مسئلے،ایک سی الجھن اور وہی سلجھن ۔۔ اف خدا میں تو نجانے کیا سمجھتی تھی کہ کیسی طرم خان ہوتی ہوں گی یہ امریکی خواتین ۔۔۔

richalthe.jpg


ظہرانے کا وقت ہوا چاہتا تھا، میرے گمان میں اب بھی گرما گرم نوڈلز تیر رہے تھے، میں نے روایتاً کہا ’’ویسے ہم کسی ریستوران میں کھا لیتے، اتنی تکلف کی کیا ضرورت تھی‘‘ جو جواب ملا وہ ہوش اڑانے کو کافی تھا ، ہماری منزل ڈینور سے ستر کلومیٹر دور بولڈر نامی شہر کے مضافات کا ایک ایسا گھر تھا جس میں سورج کی گرمائش کو پتھروں میں محفوظ کرنے کا ہوم میڈ نظام لگایا گیا تھا، اس گھر میں ہونے والے فنڈ ریزنگ پروگرام میں جو کچھ کھلایا جانا تھا یہ وہی ظہرانہ تھا جس کا وعدہ تھا۔


ابھی بولڈر میں داخل ہی ہوئے تھے کہ پٹرول کا کانٹا صفر پہ آگیا۔ پٹرول پمپ پر کریڈٹ کارڈ ڈال کر پٹرول بھرتے بھرتے ریچل بے ساختہ بولی ’’میرا بال بال قرض میں جکڑا ہے‘‘ (ظاہر ہے یہ انگریزی میں ہی کہا تھا) ریچل نے بتایا کہ وہ سوشیالوجی میں ڈگری یافتہ ہے، کوہ پیمائی تو شوق ہے مگر دو سال کی بے روزگاری سے تنگ آکر حال ہی میں تھائی لینڈ سے نوڈلز میکنگ کا کورس کرکے آئی ہے۔ مگر اب تک اس نوڈلز ایکسپرٹ کو اپنے جوہر دکھانے کا مناسب موقع نہیں مل سکا۔ ریچل نے پھر خالی جیب عیاشی کا ایک نسخہ بتایا، وہ ڈینور کے سماجی حلقوں میں خاصی متحرک ہے ، روز ہی کسی نہ کسی نے کانفرنس، سیمینار فنڈ ریزنگ پروگرام کا انعقاد کر رکھا ہوتا ہے۔ سو وہ وہاں جا کر اچھا کھانا بھی کھا لیتی ہے اور اپنے نوڈلز ایکسپرٹی کی تشہیر بھی ہوجاتی ہے ، کتنا دیسی ٹوٹکہ ہے ویسے۔۔۔


گاڑی ایک بار پھر چلی۔ میں نے ریچل سے آزاد خیال مغربی خواتین، اخلاق باختہ فلموں‘ ثقافت وغیرہ کا سوال کر ڈالا ۔۔ مجھے ریچل کے گھریلو اندازاور دیسی اطوار پریشان ہی تو کر رہے تھے، پھر سوال تو بنتا تھا، ریچل اب اپنے بوسیدہ سے موبائل کے جی پی ایس سسٹم سے رستے تلاش کرنا چھوڑ کر متوجہ ہوگئی۔ ’’جن مغربی عورتوں کو تم نے ہالی وڈ فلموں میں دیکھا وہ شاید تمھیں کسی انگریزی فلم کے سیٹ پر ہی ملیں امریکا کی سڑکوں پہ نہیں‘‘ ریچل نے بتایا کہ تھائی لینڈ میں قیام کے دوران کس طرح ایشیائی حضرات اس کے مغربی لباس کو دیکھ کر یہ مغالطہ کر بیٹھتے تھے کہ وہ کسی ہالی وڈ ہیروئن کی طرح بے باک ہوگی۔ ’’میری پسند، میرے احساسات بالکل تمھاری یا کسی بھی عام ایشیائی خاتون کی طرح ہیں، مجھے بھی اپنی عزت نفس سب سے زیادہ مقدم ہے‘‘۔۔۔ اب کی بار میری آنکھوں کے آگے ڈینور کی ریچل کاریلو، منچن آباد کی باجی رقیہ لگ رہی تھی۔
بولڈر کا وہ عجب سائینٹیفک گھر بھی دیکھ لیا اور وہاں مفتا بھی اڑا لیا۔ اب مجھے ریچل کی صحبت میں ڈینور دریافت کرنے کا مزہ آنے لگا تھا۔


اگلے دن ہم دونوں نے برما سے بے گھر ہوکر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کے مہاجر کیمپ جانے کا پلان بنایا۔ یہ پہلی رمضان کی صبح تھی۔ ریچل نے گاڑی سے اتر کر میرا استقبال ایک تحفے کے ساتھ کیا۔ پتہ چلا کہ رات ہی انٹرنیٹ سرفنگ کے دوران اسے رمضان المبارک کا علم ہوا، سو وہ میرے لئے بھی تحفہ لے آئی، وہ تو بعد میں پتا چلا وہ تحفہ بھی کسی فنڈ ریزنگ پروگرام میں ملنے والا گفٹ ہیمپر تھا۔ سارا دن میں ریچل کی گاڑی میں یہاں وہاں گھومتی رہی۔ اپنی رپورٹنگ بھی کی۔ بہت کچھ دیکھا، مغرب کا وقت ہوا تو میں نے افطار کی فکر کی، مگر اب باری میری تھی، بہت تردد کے بعد گوگل سرچ کر کے ایک حلال فوڈ ریسٹورنٹ ڈینور یونیورسٹی کے قریب ملا، بھوک سے بے حال ریچل اور میں کسی فاقہ کش کی طرح عربک ڈنر پہ ٹوٹ پڑے کھانے کے دوران ریچل کی آواز میں اظہار تشکر بھی تھا اور شرمندگی بھی، کہنے لگی! ’’تم بھی سوچ رہی ہوگی کیسی میزبان ہے جو پاکستان سے آئی ایک مہمان کی دعوت اڑا رہی ہے‘‘ میں نے اس کی حساس طبیعت کو بھانپتے ہوئے موضوع ہی بدل دیا۔ ریچل خالی جیب میری مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی تھی، میں بھلا کیسے احسان جتاتی۔


اگلا دن ریچل کے ساتھ میں نے پائیکس پیک کی چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش کی ، کیا ہی بہترین دن تھا وہ ، واپسی پر میں نے ایک سپر مارکیٹ سے شاپنگ کی، میری شاپنگ کی تعداد اور مقدار دیکھ کہ ریچل نے کچھ عجیب ہی کہا ’’تم کیا پاکستان کے کسی بادشاہ کی بیٹی ہو جو اتنا کچھ خرید رہی ہو‘‘ اب اسے کیا بتاتی کہ یہاں پورے کنبے اور دوستوں نے فرمائشوں کی فہرست تھما رکھی ہے اور ہم ٹھہرے تکلفات میں تکلیفیں اٹھانے والے لوگ ۔۔۔
یہ رات کے شاید آٹھ بجے تھے، پہلے کوہ پیمائی پھر شاپنگ کی تھکن، جسم چور چور ہورہا تھا۔ ریچل نے ہوٹل کے باہر گاڑی روکی تو میں نے اترتے ہوئے ایک بار پھر گرم کافی کی دعوت دی۔۔ تھوڑا سوچنے کے بعد اس نے عجب فرمائش کرڈالی۔ ’’کیا تمھارے ہوٹل روم میں باتھ ٹب کی سہولت ہے ؟‘‘ میں نے کہا کہ یہ فائیو سٹار ہوٹل ہے یہاں شاہانہ باتھ روم ہے۔ ریچل نے بتایا کہ اسے ڈاکٹر نے پٹھوں کی اینٹھن دور کرنے کے لئے اسٹیم باتھ کا نسخہ دیا ہے۔ میں نے ایک مشرقی میزبان کی طرح اپنی اس مخلص مہمان کی پاکستانی چائے سے تواضع کی تو اس نے ایک وعدہ کیا ’’عفت دعا کرو میری کسی چائینز ریسٹورنٹ پر نوڈلز ایکسپرٹ کے طور پر نوکری لگ جائے ، میں اپنا بینک قرض اتارنے کے بعد، تمھارا پاکستان دیکھنے ضرور آوں گی۔۔۔‘‘ اس وقت تو نہ کہہ سکی مگر اب بھی دل کہتا ہے، ریچل کاریلو ، میرے پاکستان کا دامن بھی تم جیسے فراخ دلوں کے لئے پھیلا ہوا ہے۔

(مصنفہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس فیلو، سوانح نگار ، قلمکار اور ایک نجی نیوز چینل میں رپورٹر ہیں)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
August

Yalghaar: Exterminating Enemies from the Soil

Published in Hilal English

Written By: Maryam Razzaq

Pakistan’s Film Industry is developing by leaps and bounds, and it would be no exaggeration to call Yalghaar one of the most promising movies of the year so far. The movie by Hassan Waqas Rana not only made a big buzz in the Pakistani Box Office but also made an impact worldwide. The subject of the film is both timely and close to Pakistanis’ hearts. Yalghaar (assault/attack) is based on a true story: the story of a 76-hour long military operation successfully conducted by Pakistan Army in the ‘Piochar’ region of Swat.


Yalghaar goes on to follow the lives of the young, passionate officers and soldiers who are ever-ready to sacrifice their lives for the defence of their country and safety of their people. The movie is also a tribute to the slain children of the 2014 APS Attack. It connects with the masses and eloquently portrays the criminal psychology and the nefarious designs of the Taliban to implement self-conceived agenda. The movie revolves around the lives of the soldiers who when have to choose between family and country, choose Pakistan; for the very purpose of their existence lies in the security and wellbeing of their motherland.

 

yalgharrefilm.jpgThe movie features some of the top actors of the Pakistani media fraternity, with Shaan in the lead role and others including Humayun Saeed, Ayub Khoso, Adnan Siddiqui, Bilal Ashraf, Armeena Khan, Aleeze Nasser and Sana Bucha doing justice to their characters and bearing enormous energy and patriotism ever-to-doubt the realism of the events. The powerful direction coupled with highly professional cinematography made the film a treat to watch. The movie explicitly describes the valor, will and sacrifices of our soldiers and their families to harness peace and stability in our homeland and dispels all elements of evil forces trying to plague the social fabrics of our state.


The later half of the movie is captivating to the extent that will fill one’s heart with pride, and eyes with tears. The emotions exhibited by the actors and the resonance of the background music generates electrifying effects on the viewers especially the song ‘Ay Watan Pyaray Watan’ with its concept along with lyrical splendor and rhythmic brilliance compels re-watching the movie with same zeal and interest. The movie closes with the pictures of the APS Attack victims shaking one to the core and leaving the audience spellbound for hours.


The success of this movie is a testimony of the fact that people of Pakistan cherish and acknowledge the services of their Armed Forces in combating the menace of terrorism. Yalghaar is a must-watch for anyone who wants to fathom and appreciate the price our men in uniform pay for our safety.
A few comments from the viewers are as follows:

 

Abdul Muquisit: abdulmuq.jpgWe as a nation have come a long way. The uphill task of fighting and defeating our enemies at internal front has been commendably done by our Armed Forces. The menace of terrorism has been valiantly fought and Yalghaar in this respect is a phenomenal movie which not only revives patriotism in the hearts of the viewers but also highlights the struggle and sacrifice of our soldiers.

 

Sundas Shahid: Yalghaar is a star-studded action flick with a strong storyline. Tagline of the movie depicts that for a soldier, Pakistan is above everything and nothing can stop the soldiers from fulfilling their duties. When the nation needs them, they won’t think twice even if they have to sacrifice their lives. Director Hassan Rana wants us to realize what an average soldier goes through in order to serve the country while making decisions between his duty and family whilst we comfortably live our lives.

 

Mahram Razzaq: Yalghaar is literally a treat for one’s soul. It is a movie so close to reality, the reality that we are often ignorant of. It shows how difficult the life of a soldier is and how he’d always keep Pakistan before everything. The moral of the movie is clearly narrated that while we move on to live our lives fearlessly and comfortably, one shall never forget the sacrifices our officers and soldiers make for our safety. Yalghaar has a perfect splendor of drama, romance, light comedy and action. A wonderful job done by Hassan Rana and the team!

 

Ifrah Tabassum: Yalghaar is a major feat undertaken by its makers. And they did a superb job at that; handling a huge cast and also such a sensitive topic. Bilal Ashraf’s performance was particularly commendable. I hope to see more such ventures taken up by Pakistani film industry.

 

Marium Nida: As the words say, the movie Yalghaar literally turned out to be the most anticipated movie of the year. Each and every second of the movie got the adrenaline going and the selection of cast made it better. The storyline, scenes, sequence and the direction were amazing. In a nutshell, it was an amazing experience. Keep making such kind of movies.

 

Sarim Fatmi: Yalghaar, as the name depicts, is a symbol of aggression and will to fight against the enemies of Pakistan. The movie is a fine blend of sacrifices unsung heroes of Pakistan Army have made in war on terror and the brutality of terrorists. It also highlights how our fearless military stepped in to get the people out of despair. Yalghaar has all sorts of emotions; from love, humor to action and sacrifice that are deeply rooted inside a soldier. The leading roles in the movie are of General Officers that depict the tradition of 'leading from the front'.

 

Shaheera Hassan: The movie shows true picture of how much of a price military families pay, what circumstances they face when a husband, a father or a brother goes to operational areas. All this is heart-breaking yet inspiring.

 

Khushnood Baig: Yalghaar is an amazing movie. I simply loved it. Bravo!

 
E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter