08
January

ریچل ۔۔۔ دی نوڈ لز اسپیشلسٹ

تحریر : عفت حسن رضوی

ایک امریکی خاتون کے ساتھ گزارے حیرت بھرے کچھ دنوں کی داستان

 

اس سال کی گرمی امریکا میں کٹی۔ ہم ٹھہرے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مہمان‘ سو انہوں نے امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں رپورٹنگ کا تجربہ کرنے کو بھیج دیا۔
ڈینور ۔۔۔ یعنی ریچل کا ڈینور ،طلائی رنگ کے بال اور روکھی رنگت پر گلابی گالوں والی ریچل سے میری پہلی ملاقات ایک امریکی تھنک ٹینک ورلڈ ڈینور کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے نہایت متعصبانہ سیمینار میں ہوئی، جس میں سابق امریکی سفیر برائے ایران اور پاکستان مسٹر رابرٹ گلوچی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کسی پٹاخوں کی فیکٹری سے تشبیہہ دے چکے تھے۔ وقفہ سوالات میں مائیک پر ایک خاتون کی آواز ابھری جس نے پہلے جی بھر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اعلیٰ سکیورٹی کے حوالے سے سفیر صاحب کی لاعلمی کو لتاڑا، بعد میں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر امریکی ایٹمی حملے کی یاد دلا کر کئی ناپسندیدہ سوال داغ دیئے۔ بحیثیت پاکستانی صحافی اب اس خاتون سے ملنا ناگزیر ہوگیا تھا۔ پروگرام کے اختتام پر میں نے سیاہ لباس میں ملبوس اس کھلکھلاتی سی امریکی خاتون کو اپنا تعارفی کارڈ دے کر کہا: ’’جی میں ہوں پاکستانی سٹار جرنلسٹ، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی مہمان خاص، نائن نیوز ڈینور کی مستعد رپورٹر فلاں فلاں‘‘ جواب میں محترمہ نے مجھے جو وزٹنگ کارڈ دیا اس پر بڑے بڑے حروف میں لکھا ’’ریچل۔۔۔ نوڈلز اسپیشلسٹ‘‘ میرا منہ چڑا رہا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں لاحول پڑھی، نوڈ لز اسپیشلسٹ سے بھلا ہمارا کیا واسطہ۔


اگلے دن میں ہوٹل کے کمرے کے آرام دہ بستر میں دبکی لیٹی تھی کہ کسی نوڈلز اسپیشلسٹ کی ای میل آئی۔ میں جنک ای میل سمجھ کر اسے مٹانے ہی لگی تھی کہ گزشتہ رات کی اٹامک کانفرنس میں شریک نوڈلز والی خاتون یاد آگئی۔ ’’کیا میرے ساتھ ظہرانہ پسند فرمائیں گی‘‘ اللہ کی نعمت سے انکار توبہ توبہ ، میں تیار ہوتی گئی اور گرما گرم نوڈلز کا تصور میرے اعصاب کو مہکاتا رہا۔ کچھ ہی دیر میں ریچل میرے ہوٹل آن پہنچی۔ موصوفہ کی گاڑی خود سے بھی زیادہ دل چسپ تھی۔ بچپن میں مسٹر بین کی گاڑی دیکھی تھی اور اگلی ریچل کی یہ لانسر تھی، چھوٹا فریج،کپڑوں کا ڈھیر، باسکٹ میں پھل، کوہ پیماؤں کے مخصوص جوتے، ہیلمٹ، فولڈنگ سائیکل، گاڑی کی سیٹ سے چھت کو چھوتا کتابوں کا ٹاوراور پتا نہیں کیا کیا کچھ۔۔۔ ٹھیک ٹھاک گرمی تھی میں نے گاڑی کے اے سی بٹن کو ہاتھ لگایا تو وہ ہاتھ میں آگیا ۔۔ ریچل نے جھینپ کے کہا ’’ بٹن ایک بار کپڑے بدلتے ہوئے پاؤں لگنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ گاڑی کا سن روف کھلا ہے کیوں نہ ہم تازہ ہوا کا مزہ لیں‘‘ گاڑی دو چار کلو میٹر چلی تو ریچل نے میرے خاندان کے حوالے سے پوچھا، میں نے کہا ’’ایک بہن فرانس میں‘ ایک انگلستان میں‘ ایک پاکستان میں اور ایک آپ کی گاڑی میں ہے ‘‘ ’’کیا پا کستان کے لوگ اپنی لڑکیوں کو اکیلے باہر بھیج دیتے ہیں؟‘‘ اس سوال کے جواب میں، میں نے محترمہ کی خوب اصلاح فرمائی۔۔۔۔ اگلی باری ریچل کی تھی ’’میرا ایک بھائی شکاگو اور امی ابو واشنگٹن میں ہوتے ہیں‘‘ریچل نے واشنگٹن کے گھر سے لے کر بھائی کے بچوں کے ناموں تک سب سنا ڈالا۔ ریچل نے بتایا کہ اس کی شادی اس کے سیکنڈ کزن سے ہوئی مگر جلد ہی خاندانی جھگڑوں کی نذر ہوگئی۔ اب وہ اکیلی ایک کرائے کے بستر کے بل بوتے پر ڈینور میں ہے کیونکہ اسے پہاڑ کی چوٹیاں سر کرنے کا بلا کی حد تک شوق ہے، سو وہ جب تک میکسیکو اور کولوراڈو کے سب پہاڑ سر نہ کرلے تب تک ڈینور میں رہنے والی ہے۔ ’’اب تم بھی شادی کرلو‘‘ ڈینور ہائی وے کی ایک ڈھلکتی سڑک پر گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے اس نے مجھے مشورہ دیا۔۔۔ مجھے اس وقت وہ ریچل نہیں کوئی رخسانہ باجی لگی ، وہی عام سے مسئلے،ایک سی الجھن اور وہی سلجھن ۔۔ اف خدا میں تو نجانے کیا سمجھتی تھی کہ کیسی طرم خان ہوتی ہوں گی یہ امریکی خواتین ۔۔۔

richalthe.jpg


ظہرانے کا وقت ہوا چاہتا تھا، میرے گمان میں اب بھی گرما گرم نوڈلز تیر رہے تھے، میں نے روایتاً کہا ’’ویسے ہم کسی ریستوران میں کھا لیتے، اتنی تکلف کی کیا ضرورت تھی‘‘ جو جواب ملا وہ ہوش اڑانے کو کافی تھا ، ہماری منزل ڈینور سے ستر کلومیٹر دور بولڈر نامی شہر کے مضافات کا ایک ایسا گھر تھا جس میں سورج کی گرمائش کو پتھروں میں محفوظ کرنے کا ہوم میڈ نظام لگایا گیا تھا، اس گھر میں ہونے والے فنڈ ریزنگ پروگرام میں جو کچھ کھلایا جانا تھا یہ وہی ظہرانہ تھا جس کا وعدہ تھا۔


ابھی بولڈر میں داخل ہی ہوئے تھے کہ پٹرول کا کانٹا صفر پہ آگیا۔ پٹرول پمپ پر کریڈٹ کارڈ ڈال کر پٹرول بھرتے بھرتے ریچل بے ساختہ بولی ’’میرا بال بال قرض میں جکڑا ہے‘‘ (ظاہر ہے یہ انگریزی میں ہی کہا تھا) ریچل نے بتایا کہ وہ سوشیالوجی میں ڈگری یافتہ ہے، کوہ پیمائی تو شوق ہے مگر دو سال کی بے روزگاری سے تنگ آکر حال ہی میں تھائی لینڈ سے نوڈلز میکنگ کا کورس کرکے آئی ہے۔ مگر اب تک اس نوڈلز ایکسپرٹ کو اپنے جوہر دکھانے کا مناسب موقع نہیں مل سکا۔ ریچل نے پھر خالی جیب عیاشی کا ایک نسخہ بتایا، وہ ڈینور کے سماجی حلقوں میں خاصی متحرک ہے ، روز ہی کسی نہ کسی نے کانفرنس، سیمینار فنڈ ریزنگ پروگرام کا انعقاد کر رکھا ہوتا ہے۔ سو وہ وہاں جا کر اچھا کھانا بھی کھا لیتی ہے اور اپنے نوڈلز ایکسپرٹی کی تشہیر بھی ہوجاتی ہے ، کتنا دیسی ٹوٹکہ ہے ویسے۔۔۔


گاڑی ایک بار پھر چلی۔ میں نے ریچل سے آزاد خیال مغربی خواتین، اخلاق باختہ فلموں‘ ثقافت وغیرہ کا سوال کر ڈالا ۔۔ مجھے ریچل کے گھریلو اندازاور دیسی اطوار پریشان ہی تو کر رہے تھے، پھر سوال تو بنتا تھا، ریچل اب اپنے بوسیدہ سے موبائل کے جی پی ایس سسٹم سے رستے تلاش کرنا چھوڑ کر متوجہ ہوگئی۔ ’’جن مغربی عورتوں کو تم نے ہالی وڈ فلموں میں دیکھا وہ شاید تمھیں کسی انگریزی فلم کے سیٹ پر ہی ملیں امریکا کی سڑکوں پہ نہیں‘‘ ریچل نے بتایا کہ تھائی لینڈ میں قیام کے دوران کس طرح ایشیائی حضرات اس کے مغربی لباس کو دیکھ کر یہ مغالطہ کر بیٹھتے تھے کہ وہ کسی ہالی وڈ ہیروئن کی طرح بے باک ہوگی۔ ’’میری پسند، میرے احساسات بالکل تمھاری یا کسی بھی عام ایشیائی خاتون کی طرح ہیں، مجھے بھی اپنی عزت نفس سب سے زیادہ مقدم ہے‘‘۔۔۔ اب کی بار میری آنکھوں کے آگے ڈینور کی ریچل کاریلو، منچن آباد کی باجی رقیہ لگ رہی تھی۔
بولڈر کا وہ عجب سائینٹیفک گھر بھی دیکھ لیا اور وہاں مفتا بھی اڑا لیا۔ اب مجھے ریچل کی صحبت میں ڈینور دریافت کرنے کا مزہ آنے لگا تھا۔


اگلے دن ہم دونوں نے برما سے بے گھر ہوکر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کے مہاجر کیمپ جانے کا پلان بنایا۔ یہ پہلی رمضان کی صبح تھی۔ ریچل نے گاڑی سے اتر کر میرا استقبال ایک تحفے کے ساتھ کیا۔ پتہ چلا کہ رات ہی انٹرنیٹ سرفنگ کے دوران اسے رمضان المبارک کا علم ہوا، سو وہ میرے لئے بھی تحفہ لے آئی، وہ تو بعد میں پتا چلا وہ تحفہ بھی کسی فنڈ ریزنگ پروگرام میں ملنے والا گفٹ ہیمپر تھا۔ سارا دن میں ریچل کی گاڑی میں یہاں وہاں گھومتی رہی۔ اپنی رپورٹنگ بھی کی۔ بہت کچھ دیکھا، مغرب کا وقت ہوا تو میں نے افطار کی فکر کی، مگر اب باری میری تھی، بہت تردد کے بعد گوگل سرچ کر کے ایک حلال فوڈ ریسٹورنٹ ڈینور یونیورسٹی کے قریب ملا، بھوک سے بے حال ریچل اور میں کسی فاقہ کش کی طرح عربک ڈنر پہ ٹوٹ پڑے کھانے کے دوران ریچل کی آواز میں اظہار تشکر بھی تھا اور شرمندگی بھی، کہنے لگی! ’’تم بھی سوچ رہی ہوگی کیسی میزبان ہے جو پاکستان سے آئی ایک مہمان کی دعوت اڑا رہی ہے‘‘ میں نے اس کی حساس طبیعت کو بھانپتے ہوئے موضوع ہی بدل دیا۔ ریچل خالی جیب میری مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی تھی، میں بھلا کیسے احسان جتاتی۔


اگلا دن ریچل کے ساتھ میں نے پائیکس پیک کی چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش کی ، کیا ہی بہترین دن تھا وہ ، واپسی پر میں نے ایک سپر مارکیٹ سے شاپنگ کی، میری شاپنگ کی تعداد اور مقدار دیکھ کہ ریچل نے کچھ عجیب ہی کہا ’’تم کیا پاکستان کے کسی بادشاہ کی بیٹی ہو جو اتنا کچھ خرید رہی ہو‘‘ اب اسے کیا بتاتی کہ یہاں پورے کنبے اور دوستوں نے فرمائشوں کی فہرست تھما رکھی ہے اور ہم ٹھہرے تکلفات میں تکلیفیں اٹھانے والے لوگ ۔۔۔
یہ رات کے شاید آٹھ بجے تھے، پہلے کوہ پیمائی پھر شاپنگ کی تھکن، جسم چور چور ہورہا تھا۔ ریچل نے ہوٹل کے باہر گاڑی روکی تو میں نے اترتے ہوئے ایک بار پھر گرم کافی کی دعوت دی۔۔ تھوڑا سوچنے کے بعد اس نے عجب فرمائش کرڈالی۔ ’’کیا تمھارے ہوٹل روم میں باتھ ٹب کی سہولت ہے ؟‘‘ میں نے کہا کہ یہ فائیو سٹار ہوٹل ہے یہاں شاہانہ باتھ روم ہے۔ ریچل نے بتایا کہ اسے ڈاکٹر نے پٹھوں کی اینٹھن دور کرنے کے لئے اسٹیم باتھ کا نسخہ دیا ہے۔ میں نے ایک مشرقی میزبان کی طرح اپنی اس مخلص مہمان کی پاکستانی چائے سے تواضع کی تو اس نے ایک وعدہ کیا ’’عفت دعا کرو میری کسی چائینز ریسٹورنٹ پر نوڈلز ایکسپرٹ کے طور پر نوکری لگ جائے ، میں اپنا بینک قرض اتارنے کے بعد، تمھارا پاکستان دیکھنے ضرور آوں گی۔۔۔‘‘ اس وقت تو نہ کہہ سکی مگر اب بھی دل کہتا ہے، ریچل کاریلو ، میرے پاکستان کا دامن بھی تم جیسے فراخ دلوں کے لئے پھیلا ہوا ہے۔

(مصنفہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس فیلو، سوانح نگار ، قلمکار اور ایک نجی نیوز چینل میں رپورٹر ہیں)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
17
February

Recipes

Written By: Kokab Khawaja

Vegetable Crumble

Ingredients

1 kg diced vegetables (carrots, cabbage, cauliflower, mushrooms, etc.)

1 tablespoon butter

½ cup grated cheese

1 cup hot water and 2 chicken cubes

For Crumble

2 tablespoon butter

1 cup bread crumbs

½ cup chopped mixed nuts

Salt and pepper to taste

Method

Fry the vegetables in butter, add water mixed with chicken, cook uncovered until tender • Add cheese and mix well • Mix all the crumble ingredients in a bowl • Place the vegetables in a glass dish • Sprinkle crumble over the vegetables • Bake at 180 oC for few minutes in a pre-heated oven until crumble turns golden brown • Serve hot

Chicken with Almonds

500g chicken breasts cut into fingers

2 egg whites

½ cup almonds (skinned)

1 cup oil

1 cup mushrooms

1 tablespoon ginger garlic paste

2 tomatoes

2 tablespoon cornflour

1 spring onion

Seasoning as required

Method

• Marinate the chicken fingers in whites and salt • Heat one cup oil, fry ½ cup almonds and remove from heat and keep aside • In the same oil, fry the chicken and remove from heat • Take ¼ cup oil from similar oil and fry one tablespoon of ginger garlic paste • Add one cup of tinned sliced mushrooms and 2 tomato’s wedges • Add fried chicken fingers (golden brown) • Add two tablespoons of soya sauce, salt to taste and two levelled tablespoons of cornflour mixed with little water • Add a cup of green onions (1” cut into 1”) • Garnish with sliced fried almonds before serving.

06
February

The Pakistani Identity

Published in Hilal English Feb 2014

Written By: Col Ehsan Mehmood Khan

Contextualizing Identity

A person or a group is known by some linkages, associations, relationships, expressions and attributes. All these combine to create a view what is called identity in the simplest known terms. Usually considered as part of the social sciences, such as sociology and social psychology, it is now classified as a political expression, too. Ken Browne, in Introduction to Sociology (Policy, 2011), notes 16 different factors that play their part in crafting an individual's identity. These include: age, gender, region, religion, ethnic group, mass media, gender preferences, nationality, fashion flavour, family, friends, leisure activities e.g. sports and hobbies, occupation and workplace, income and social class, health, and education. Amidst a set of multiple identities, a person often has an overarching identity. This may be called a mono-identity, which can be referred to as the solitary character for a given purpose or due to certain expression. Several identities linked with a single individual contribute to what can be called multi-identity.

Nationality, or nationalism, is one of the identities a person must have in the contemporary international system, which is made up of sovereign states. According to Chaim Gans (The Limits of Nationalism, Cambridge, 2003), nationalism takes two forms: statist and cultural. In cultural nationalism, the members of a group, community or society adhere to a common culture and have a shared history. Cultural nationalism may be sub-statist in nature, albeit not in all cases. In some cases, such as Pakistan, cultural diversities intermix to craft a dominant cultural construct. In such cases, cultural nationalism and statist nationalism are seen on the same page. The statist nationalism is based on the nation state. The culture, nationality and identity revolve around the state we live in. Whereas the cultural nationalism is often rooted in the shared past, the statist nationalism is anchored in the shared future. Statist nationalism has grown stronger due to its political linkage and international recognition. In point of fact, it has appropriated the notion of nationalism in a matter that the sub-statist cultural nationalism is now being referred to as sub-nationalism by a host of scholars and sociologists. More so, nationalism has emerged as strongest among the identities an individual may have. Thus, it can be said that identity is unbreakably tagged with nationalism.

The Pakistani Identity

The state of Pakistan with this name is virtually seven decades old. However, the Pakistani identity is centuries old. This fact needs to be evaluated deeper and can be studied from various angles. Key ones are being discussed here.

• The Historical Identity. The historical roots of Pakistan go back by nearly 7,000 years in the form of the geological past of the Indus Basin. The areas forming part of Pakistan today, evolved into a compact region around the Indus River, its tributaries and distributaries. This speaks of the historical identity of Pakistan. Pakistan, as we see today, came into being based on the two-nation theory that the Muslims and the Hindus, the two majority communities in the Subcontinent, are two different nations. The Muslims, the second largest majority of the Subcontinent, have ruled the region for over a millennium. This too is an important section in the string of historical identity of Pakistan.

• The Geographical Identity. Located between the Arabian Sea, Balochistan Plateau, Koh-e-Sulaiman, Safed Koh, Koh Hindu Kush, Pamir, Karakoram, Himalayas, and cutting across the plains of Punjab, the Cholistan Desert and the Thar Desert, Pakistan is a case for distinct geographical identity. As a geographical entity, Pakistan has existed for thousands of years. The geography indeed links the past, present and future of Pakistan.

• The Archeological Identity. The excavation of similar prehistoric settlements from all four provinces of Pakistan i.e. the Punjab, Sindh, Balochistan and Khyber-Pakhtunkhwa, and the parts under federal administration, makes a case for an archeological identity of Pakistan. The region existed in the form of Indus Valley Civilization, a Bronze Age Civilization that flourished from 3,300 BC to 1,300 BC in the areas forming part of Pakistan now. This may be called the archeological identity of Pakistan.

• The Religious Identity. Pakistan is home to people from various religious communities such as Muslims, Christians, Hindus, Sikhs and Parsi, etc. However, Islam being the religion of the majority and the country being an Islamic republic makes a sound case for religious identity, too. To this end, it is relevant to quote Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah, who is cited to have said, “Pakistan came into being the very day when the first Hindu became a Muslim.” (Muhammad Asif Malik, Ideology and dynamics of politics in Pakistan, Emporium, 2001).

• The Political Identity. Pakistan that came into being on 14 August 1947 is a sovereign political entity on the political map of the world, and thus the political identity of its citizens. Pakistan came into being through a politico-constitutional process and evolved into a democracy through a long winding process. The populations of democratic nation states comprise citizens, not subjects. So is the case of Pakistani citizenry. Pakistanis, across the globe, are known by the inscription on their passport: Islamic Republic of Pakistan. Undoubtedly, Pakistan faces a host of socio-economic and politico-security issues. But so do all other countries of the world, whether big or small, and developed or developing. The difficulties and dilemmas that we face bring us further closer to our nucleus: the Pakistani identity. There is always a gargantuan opportunity in every crisis that is seemingly big. So is the case of Pakistan today. The law and order situation is a shared pain of the populace, is cementing the Political Identity indirectly.

• The Cultural Identity. With some local cultural miscellany and diversity, Pakistan has a distinct national culture, which has indeed existed for centuries. The areas constituting Pakistan have had similar dresses, eating habits, customs, social standards, folklores and literature. Albeit countless, a few legendary literary figures of Pakistan who contributed in the literature of Pakistani languages such as Urdu, Punjabi, Pashto, Kashmiri, Sindhi, Baloch, Brahvi, Chitrali / Khowar, Shina, Seraiki, and others are as follows: Khwaja Farid-ud-Din Ganj-Shakar (1173–1266), Khushal Khan Khattak (1613–1689), Sultan Bahu (1628–1691), Rehman Baba (1653–1711), Baba Bulleh Shah (1680–1757), Shah Abdul Latif Bhittai (1689–1752), Waris Shah (1722–1798), Sachal Sarmast (1739–1829), Mian Muhammad Bakhsh (1830–1907), Allama Dr Muhammad Iqbal (1877–1938), Agha Hashar Kashmiri (1879–1935), Faiz Ahmad Faiz (1911–1984), Saadat Hassan Manto (1912–955), Mir Gul Khan Naseer Baloch of Nuskhi (1914–1983), Ashfaq Ahmed (1925–2004), Ahmad Faraz (1931–2008), Atta Shad Baloch (1939–1997), Parveen Shakir (1952–1994), and Rehmat Aziz Chitrali (b.1973).

• Linguistic Identity. Although language is an inescapable part of any culture, it merits distinction with regard to identity of a people. Like other nation states in the world, Pakistan too has linguistic diversities. Urdu is the lingua franca of Pakistan. Some 69 other languages are spoken in the country. All these present various bright colours and dazzling shades of Pakistan's linguistic basket. Pakistan faces no language barrier as against what is encountered by some communities in intercultural relations. Linguistic diversity is a source of strength. It is desired. All rivers flow into the sea and in turn seas are the part of ocean. This diversity is never in conflict with the national identity. It rather fortifies the cultural identity of Pakistan. Likewise, various ethnicities such as the Punjabi, Sindhi, Pashtun, Balochi, Brahvi, Seraiki, Qabaili, Kashmiri, Gilgiti, Balti, Chitrali, Swati, Kohistani and all others. (Pardon me for having missed out any of the ethnicities due to space limitations.) All are inalienable part of the Pakistani identity, whether mentioned here or otherwise. A homogeneous Urduized culture does exist within the diversities that have been mentioned.

• The Pakistani Identity. All above facets may be called the sections of the string of Pakistani identity. Pakistan is the identity of its individual citizens, linguistic communities, ethnic groups, regions and provinces. It is sovereign identity linking all federating units. It is a mark of the statist nationalism of the people of Pakistan. It is also the pictogram of cultural nationalism of the entire Pakistani populace. The myth of the Subcontinental culture and the folklores of Mahabharta sink into the sea of fabrication when tested by the scholars like Aitzaz Ahsan (The Indus Saga and the Making of Pakistan, Oxford, 1996) on the epistemic gauge of justification and scientific yard of rationality. Indus and India remain to be poles apart, as apart as are Peshawar and Pune, Panjgur and Patna, Karachi and Kolkata, Bhawalpur and Bangalore, Muzaffarabad and Mumbai, Chagai and Calicut, Gilgit and Gwalior, Islamabad and Delhi, and Kakul and Dehra Dun. Indus is the identity of Pakistan. It is diabolical to link Indus and India. India or any other country seeking to create some linkage with Indus River, Indus Delta, Indus Basin, Indus Valley Civilization or the heritage of Indus is indeed trying to take light from the glittering galaxy of Pakistani identity.

Why the Pakistani Identity?

Why must the Pakistanis have the Pakistani Identity has been illustrated in Figure-2. With shared history, geography, culture, economy, security and social problems, Pakistani populace is destined to have a shared future. This defines as to what and who the Pakistanis are, why does Pakistan exist, and how does it evolve into an identity. Thus, identity is also a reflection of a shared destiny, shared fortune and shared future. The Upshot The Pakistani identity has all archetypical attributes of a national identity as seen by the nations around the world. Pakistan is a historical, geographical and sovereign reality. Being sixth most populous country in the world with over 180 million people and 36th largest country in territorial area with 796,095 square kilometres of landmass marked by desired diversities, Pakistan is also an economic reality to reckon with. Pakistan is sixth largest in production of wheat in the world, sixth largest in production of mangoes, 12th largest rice producer but third largest rice exporter, fifth largest tobacco producer, and third largest cotton producer in the world. According to the Food and Agriculture Organization (FAO) statistics, Pakistan's ranking in other food items is as follows: chickpea, second; apricot, fourth; sugarcane, fifth; onion, fifth; and tangerines, mandarin oranges and clementine, eighth. All this makes a case for an economic identity of Pakistan for its own populace and other nation states part of the contemporary international system.

All said, it is responsibility of all Pakistanis – citizenry, civil society, media, public institutions and the representative governments – to play their respective role towards fortification of the national identity. Media has already played a noteworthy role in bringing the people from all communities, parts and provinces of Pakistan closer. The transformative role taken up by media can further reinforce the Pakistani identity in face of challenges, both internal and external. The Pakistanis must have firm belief in each other's strengths and sincerity. All ethnicities and communities of the country have extraordinary potentials, strengths and qualities. Pakistan's diversities are incomparably gorgeous such as Peshawari Kebab, Sindhi Biryani, Balochi Sajji, Lahori Karahi and Kashmiri Tea. The ports are located in Sindh and Balochistan, the industry is in Sindh and Punjab, the source of transport is in Khyber-Pakhtunkhwa and Balochistan, water comes down from Kashmir and Gilgit-Baltistan, and so on. The people of different parts have different virtues and qualities. All these combined can steer the nation on the road to success. Conviction and confidence are the imperatives. To sum up, everyone – an individual and communities – long for identity, for which they do not hesitate to offer supreme sacrifices, even of their lives. The Pakistani identity certainly provides for that.

 

The writer is a PhD (Peace and Conflict Studies) scholar, author of Human Security of Pakistan (published 2013) and co-author of Kashmir: Looking Beyond the Peril (published 2014). This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Follow Us On Twitter