07
December

An Afternoon with a Khaki Abroad

Written By: Dr. Amineh Hoti

Imet Major Uqbah from Pakistan Army at Kristiane Baker’s sufi-flavoured dinner in Central London where we were all introduced to Salman Sahib, the direct descendant of the great sufi saint of Ajmer Sharif, Khwaja Moinuddin Chishti. Subsequently, Major Uqbah invited my husband, Arsallah, my son, Ibrahim and myself to visit him at Sandhurst Military Academy, UK where he was based for two years.


Major Uqbah was the first ever Muslim and only Pakistani teaching at Sandhurst. At the station, Major Uqbah himself came to receive us in his smart Pakistan Army khaki uniform and green hat. The Pakistani flag badge on his uniform shirt glittered proudly on his chest. We drove off in his Mercedes car towards Sandhurst as he explained all the historical buildings and the very distinguished people who were at Sandhurst. Major Uqbah told there were many Pakistani students at Sandhurst Academy. Like Major Uqbah, I admired the English method of education and training which attracted so many students from around the world to its schools, universities and training centres.

 

anafternonnwith.jpgMajor Uqbah walked us through Sandhurst’s halls and corridors which were aligned with numerous pictures of soldiers and battles from the subcontinent. The pictures below show an array of officers, including those in battle.


One of the main entrances led to a large hall where the name “Waziristan” was engraved on one of the stained glass windows: a Pukhtun soldier stood proudly with his patkay and his rifle and looked straight into the eyes of the beholder. As a young girl I spent a few happy years in Waziristan as my father was posted as Political Agent in Wana and Tank areas of Waziristan. My childhood memories of playing with the children of local Wazirs who were always proud, friendly and helpful are still fresh.


In another room of Sandhurst accessible only to senior army officers, there were placed souvenirs from different countries: Pakistan had gifted a small bronze statue of a rider tent-pegging on a fast riding horse chasing his target.


In a time when Pakistan’s image abroad has not been most desirable in the media, I was impressed with the respect Major Uqbah received: English students and soldiers saluted him and even politely and respectfully stopped for him on their way. Major Uqbah always had a friendly greeting in return for each one of them. But Major Uqbah said he drew the line of loyalty. In the entrance hall, there was a striking large painting of Her Majesty the Queen and her family. Major Uqbah told that he did not take his oath at the feet of this painting. Perhaps, there was nothing personal against the royal family, but the oath taken under the Green Flag has always held deep meaning for a Pakistani soldier and nothing can subsitute that.


After a very ‘English lunch’ of fish and chips in the formal hall, and tea in the private rooms of the ‘officers only’, which reminded me of the formalities of Oxbridge Colleges, we visited the library.


Major Uqbah showed us the books he had donated on the Quaid-i-Azam, the founder of Pakistan, who was a lawyer trained in England and who had fought hard for the rights of minorities, which resulted in the second largest Muslim nation on earth, Pakistan. Maj Uqbah also showed us his name honoured under the title “Overseas Sword” along with the names of others.


In reciprocity, I donated our Centre’s peacebuilding textbooks to the library on Teaching Acceptance with the hope that young cadets will learn about an inter-disciplinary method of peace-building and also learn to fight for peace, not just by the sword, but with the more powerful tools of respect and empathy for other nations and peoples. It was a wonderful visit to Sandhurst Academy and the fact that Major Uqbah showed us around in the best possible manner-Pakistani hospitality made this trip very special for us all.

 

The author is a PhD in Social Anthropology, University of Cambridge. Presently she is Director at Centre for Dialogue and Action, FCCU, Lahore.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
December

خان صاحب

تحریر: مجاہد بریلوی

منفرد لہجے اور من موہنی شخصیت کے رومانوی شاعر منیر نیازی کا ذکر کرنے کے لئے مجھے خاصا پیچھے جانا پڑے گا۔ پچاس کی دہائی میں فراق، جوش، فیض اور جگر کے بعد جو نئی نمائندہ شاعروں کی فصل سامنے آئی اُن میں حبیب جالب، منیر نیازی، احمد فراز، احمد مشتاق، مصطفیٰ زیدی، ناصر کاظمی، ظہیر کاشمیری اور پھر ذرا بعد میں ظفر اقبال، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور افتخار عارف تک آتے آتے معذرت کے ساتھ چند اہم نام ذہن پر زور ڈالنے پر بھی یاد نہیں آ رہے۔ ان تمام محترم و مکرم شعراء میں ہمارا زیادہ تعلق شاعرِ عوام حبیب جالب سے تھا اور اُس کا اولین سبب نظریاتی تھا مگر بعد میں اُس پر ذاتی تعلق اس حد تک غالب آگیا کہ جو اُن کی زندگی کے آخری دنوں تک رہا۔ آشنائی تو خیر احمد فراز اور منیر نیازی سے بھی تھی مگر جیسا کہ پہلے کہا اس میں اتنی قربت اور گرمجوشی نہ تھی۔ ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ جب 1981 میں پریس کلب کے پہلے جوائنٹ سیکریٹری اور اگلے تین سال سیکریٹری رہے تو سال میں کم از کم دو' تین مشاعرے ضرور کروانے ہوتے۔ اب ایک ''جالب صاحب'' سے تو مشاعرہ ہو نہیں سکتا تھا۔ غالباً مارچ 1981 کے لگ بھگ کی بات ہو گی، جالب صاحب جیل میں تھے۔ باقی شعراء کو تو راضی کر لیا مگر منیر نیازی نے لاہور کے کافی ہائوس میں کھڑے ہو کر اپنے غصیلے لہجے میں کہا ''اوئے تو تو ''جالب'' کے علاوہ کسی کو شاعر نہیں مانتا، اب میرے بغیر کراچی میں مشاعرہ کر کے دکھا''۔ ساتھ میں کھڑے ہمارے دوست شاعر یوسف کامران ہماری مدد کو آئے اور سمجھانے کے انداز میں منیر نیازی سے کہا ''یہ لاہور اور کافی ہائوس کی روایت نہیں۔۔ ابھی یہ نوجوان ہے کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ کی عظمت کا اسیر ہو جائے گا''۔ اس پر منیر نیازی کے سُرخ تپتے چہرے پر روایتی مسکراہٹ بکھرنے لگی۔ گلے لگایا اور یوسف کامران کی ڈیوٹی لگائی کہ ''شامیں ایہنوں نال بٹھانا اے''۔ منیر نیازی کراچی آئے۔ مشاعرے سے پہلے جو پریس کلب کے کمیٹی روم میں محفل جمی تو پھر جنہیں منیر نیازی کی محفلوں میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے وہ جانتے ہیں کہ ''اُن کے سامنے کسی اور کا چراغ نہیں جلتا''۔ منیر نیازی جاہ و جمال کا خوبصورت پیکر تھے۔ ہما شما تو کیا مرزا غالب کو بھی شاعر نہیں مانتے تھے۔ ٹیلی وژن کے ایک انٹرویو میں منیر احمد شیخ نے منیر نیازی سے کہا کہ ''منّو بھائی کا کہنا ہے کہ اگر منیر نیازی کے سامنے مرزا غالب کی شاعری کی بھی تعریف کر دی جائے تو وہ بُرا مانتے ہیں''۔ منیر نیازی نے فرمایا ''وہ صحیح کہتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو خبیث روحوں سے بچانے کے لئے اپنی ذات کے گرد خود پسندی کی فصیلیں کھڑی کر رکھی ہیں''۔ منّو بھائی منیر نیازی کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں کہ ایک روز بڑی سنجیدگی سے منیر نیازی نے پوچھا ''یہ بات کس حد تک درست ہے کہ پاکستان کا خواب علامہّ اقبال نے دیکھا تھا؟'' عرض کیا کہ ''میں نے بھی یہی سُنا ہے''۔ کہنے لگے ''اگر یہ صحیح ہے تو کل سے اس ملک کا سارا نظام مجھے سنبھالنا پڑے گا کیونکہ ایک شاعر کے خواب کو کوئی دوسرا شاعر ہی پورا کر سکتا ہے''۔ جن شعرائِ کرام سے ہمارا قریبی تعلق اور شب و روز کی تفصیلی صحبتیں رہیں اُن میں بیشتر کو دیکھا کہ عمر کے پچاس کے پیٹے تک قابلِ برداشت ہوتے مگر ساٹھ یعنی سٹھیانے کی عمر کو پہنچنے کے بعد اُن کے ساتھ وضع داری کے باوجود ایک گھنٹہ گزارنا مشکل ہو جاتا۔ جہاں تک منیر نیازی کا تعلق تھا کہ جنہیں اُن کے قریبی احباب ''خان صاحب'' کہتے تھے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بزلہ سنج اور گریس فُل ہوتے گئے۔ بلکہ اُن کی شاعری کا سفر بھی آگے بڑھتا گیا۔ فیض صاحب جب لینن پیس پرائز لے کر واپس لوٹے تو لاہور کے ادیبوں، شاعروں کی ایک بڑی تعداد اُن کے استقبال کے لئے ریلوے اسٹیشن پر موجود تھی جن میں منیر نیازی بھی تھے۔ اُن کے ایک قریبی رفیق اطہر ندیم نے ان کے بالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قدرے افسوس سے کہا ''خان صاحب! آپ کے تقریباً سارے بال سفید ہو گئے ہیں''۔ جس پر خان صاحب نے اپنے کرارے لہجے میں کہا کہ ''ہاں کچھ خواتین کا خیال ہے کہ میں پہلے سے زیادہ گریس فُل ہو گیا ہوں''۔ مگر چند دن بعد ہی یہی سوال پاک ٹی ہائوس کے باہر کسی اور شخص نے کیا تو خان صاحب تقریباً برس پڑے اور کہا ''تم مجھے ایک نا پُختہ، لااُبالی لڑکے کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہو؟ تم مجھ میں میچورٹی نہیں دیکھنا چاہتے؟'' سوال کرنے والا سہم کر رہ گیا۔ منیر نیازی کی ذاتی باتوں کے حوالے سے ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جسے بیان کرتے ہوئے میں اُن کی شاعری کو تو پیچھے ہی چھوڑ آیا۔ ہئے ہئے کیا غزل۔۔ کیا نظم۔۔
میری ساری زندگی کو بے ثمر اُس نے کیا
عمر میری تھی مگر اُس کو بسر اُس نے کیا
شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اُس نے منیر
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اُس نے کیا
khansab.jpgچاہتا ہوں میں منیر اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس قدر مشکل نہ ہو
منیر نیازی محفلوں کے نہیں مشاعروں کے شاعر تھے۔ اپنے اشعار سُناتے ہوئے ایک عجیب وارفتگی اُن پر چھا جاتی۔ خان صاحب کی ایک خامی جو بعد میں خوبی بن گئی کہ اُنہیں اشعار خود یاد نہیں رہتے یا پھر وہ شعر بھولنے کی عادت اُن کا ایک ایسا تُرپ کا پتہ بن گئی کہ جس سے وہ مشاعرہ لوٹ لیتے۔ اب اِدھر منیر نیازی اُٹھ کر ایک خاص ادا سے مائیک کے سامنے آئے۔۔ خاموشی سے اِدھر اُدھر دیکھا۔۔ فرمائشی آوازیں لگ رہی ہیں اور خان صاحب ہیں کہ توڑ توڑ کر ایک ایک مصرعہ پڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر اِس نظم کے بغیر تو اُنہیں اُٹھنے ہی نہیں دیا جاتا کہ جسے منیر نیازی نہیں سامعین کورس کی صورت میں پڑھا کرتے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کیا نظم ہے اُس پر منیر نیازی کا ایک ایک مصرعہ کے ایک ایک لفظ کو اٹک اٹک کر پڑھنا:۔
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو
اُسے آواز دینی ہو، اُسے واپس بُلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اُس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے، کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ، اُس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

مرزا غالب سے لے کر منیر نیازی تک، ساری زندگی اُن کا سب سے بڑا مسئلہ روزی روزگار ہی رہا۔ مرزا کو انگریز سرکار سے وظیفہ تو ملتا تھا مگر اس کے لئے کیسے کیسے انہوں نے مصائب اُٹھائے۔ ایک بار جب یہ وظیفہ مہینوں بند رہا تو اس کے لئے کلکتہ میں مہینوں پڑے رہے۔ اپنی وظیفہ خواری پر مرزا نے کیا مضمون باندھا ہے۔
غالب وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
منیر نیازی نے بھی کبھی کوئی باقاعدہ نوکری نہیں کی۔ واحد ذریعہِ آمدنی مشاعرے ہی تھے۔ پاکستانی فلموں کا یہ اچھا دور تھا۔ قتیل شفائی، حبیب جالب، احمد راہی اور منیر نیازی کی نظمیں، غزلیں معقول معاوضے میں لی جاتیں جس سے بہرحال وقتی طور پر انہیں خوشحالی میسر آتی۔ فلم شہید کا گیت
اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
تو آج بھی مقبولِ عام گیت ہے۔ چلتے چلتے منیر نیازی کی سادگی اور معصومیت کا ایک واقعہ سُن لیں۔ 60 کی دہائی میں نیا نیا ٹی وی آیا تھا۔ اُن دنوں خاص طور پر لاہور میں انڈین ٹی وی ''دور درشن'' بڑے شوق سے دیکھا جاتا تھا۔ ایک دن ہمارے بھولے بھالے منیر نیازی نے دوستوں کو شام کو دعوت دی کہ آج پنجابی کی مشہور شاعرہ، پنجابی شعراء پر ایک پروگرام کر رہی ہیں۔ منیر نیازی بہرحال اردو کے ساتھ پنجابی کے بھی مستند شاعر تھے۔ شام کو صحن میں چھڑکائو ہوا۔ میز پر ٹی وی سیٹ رکھا گیا ساتھ میں دیگر لوازمات کا بھی اہتمام تھا۔ امرتا پریتم پنجابی کی بڑی شاعرہ تو تھیں ہی مگر خوبصورتی میں بھی کم نہ تھیں۔ بلھّے شاہ سے پروگرام شروع ہوا۔ منیر نیازی ساتھ بیٹھے دوستوں سے کہنے لگے ''کیا خوبصورت شاعرہ ہے''۔ بلھّے شاہ کے بعد وارث شاہ کا ذکر آیا حتیٰ کہ اُستاد دامن اور احمد راہی تک کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ امرتا جی نے کہا ''یوں تو اور بھی پنجابی کے پاکستان میں قابلِ ذکر شاعر ہیں مگر پروگرام میں اتنا وقت نہیں کہ اُن کا ذکر کیا جائے''۔ اس پر خان صاحب نے انتہائی غصے سے گلاس دیوار پر مارتے ہوئے کہا ''اوئے کتنی بد صورت عورت ہے''۔
خان صاحب آپ جیسے شاعر جب اسّی کی پیڑھی میں بھی جائیں تو لگتا یہی ہے کہ ''آپ جلدی چلے گئے'' کہ آپ کے بعد ''آپ جیسا'' کوئی دوسرا نہ آیا اور شاید آئے گا بھی نہیں کہ شاعر تو ہیں مگر اُن کے نام تو انگلیوں پر ہی آتے ہیں۔ میر، غالب، اقبال، فیض، فراق، جوش، جالب اور منیر نیازی۔

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ککھ چوریہ کہانی ہم سب کی ہے

attaulhaq.jpg

گزشتہ روز ہم دونوں دوست آوارہ گردی کے موڈ میں تھے۔ سارا دن بلامقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے رہے۔ میرا یہ دوست مال و منال، شہرت اور معاشرے میں اعلیٰ مقام کے باوجود ابھی تک عوامی مزاج کا حامل ہے چنانچہ آوارہ گردی کے لئے ہم نے لکشمی چوک میں جا کر چانپیں کھائیں، کشمیری چائے پی اور پھر گاڑی ایک طرف پارک کرکے پیدل چل پڑے۔ اس روز ہمیں پیدل چلنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ شاید اس لئے کہ بہت عرصے بعد اس کا موقع ملا تھا۔ لکشمی چوک میں بے پناہ رونق تھی۔ مالشئے، تماش بین، کھابہ گیر، فقیر، نشئی، بے فکرے ہر قسم کے لوگ ریکارڈنگ کے شور شرابے میں اپنے اپنے دھیان میں مگن تھے۔ میں اورمیرا دوست مالٹوں کی ایک ریڑھی کے پاس رک گئے۔
کیا خیال ہے مالٹے نہ کھائے جائیں؟
نیکی اور پوچھ پوچھ میں نے کہا اور پھر ہم دونوںں مالٹوں پر پل پڑے۔ ریڑھی والا مالٹے چھیل چھیل کر اور کاٹ کاٹ کر پلیٹ میں رکھتا چلاجاتا تھا اور ہم کھاتے چلے جاتے تھے۔ ہم اس روز عجیب طرح کی جنونی کیفیت میں مبتلا تھے بالآخر ہم نے ہاتھ کھینچ لئے۔ میں مالٹے گنتا جارہا تھا ہم نے بیس مالٹے کھائے تھے!
میرے دوست نے ریڑھی والے سے پوچھا: کتنے پیسے؟
ریڑھی والے نے کہا: کتنے مالٹے بنے؟
میرے دوست نے ایک لمحے کے توقف کے بعد جواب دیا: بارہ
ریڑھی والے کے چہرے پرشک کی ایک لکیر سی پھیلی لیکن اس نے بغیر کسی تکرار کے بارہ مالٹوں کے پیسے وصول کئے اوراپنی ریڑھی پر بچھی بوری کے نیچے رکھ دیئے۔
میں نے اپنے دوست کی طرف ملامت بھری نظروں سے دیکھا مگر اس نے آنکھیں جھکادیں۔ ہم دونوں خاموشی سے کار تک آئے۔ رستے میں ہم نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کی۔ بس دونوں ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے رہے!
یہ میرے دوست کی کہانی ہے۔ یہ میری کہانی ہے۔ یہ آپ سب کی کہانی ہے اورشاید ہر بشر کی کہانی ہے کبھی وہ لکھ کی چوری نہیں کرتا اور کبھی ککھ کی چوری پر راغب ہوجاتا ہے۔ انسان کو اپنی پارسائی پر غرور نہیں کرناچاہئے بلکہ ہر لمحہ شیطان الرجیم کے حملوں سے پناہ مانگتے رہنا چاہئے۔۔
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
(عطا الحق قاسمی کی ایک تحریر سے اقتباس)

*****

 
19
December

Are Video Games Making People Smarter?

Written By: Schezre Syed

Body sewed onto a chair, joystick clenched in hands, thumbs drumming tirelessly on a combination of buttons while the eyes remain riveted to a hypnotic display screen – having once tasted the thrill of a game, one can hardly go back. With such magnetism it’s no surprise that gaming is a billion dollar industry. But for all the ineludible allure, does the video game carry anything more than mere entertainment value? Is it making people wiser? To answer that, we have to understand the journey of the video game.

The industry of gaming is a lucrative one. Over the past six decades it has come a long way from the displays that consisted of only graphic/vector drawing or panel of lights, involving not more than one simple task or mission. Since its golden age in the 70s, theirs has been a world of 8-bit, 32-bit, 64-bit and 128-bit graphics, with plots so elaborate that the production and programming teams consist of an assortment of audio/visual technicians and artists as varied as those involved in the making of a commercial movie. Professionals from all walks of life are involved in their designing process, broadening storylines and emulating real life situations.

video games2

As technology made its way from official locations to our homes and eventually our pockets, so did the video game transfigure itself and seep into almost every piece of gadgetry. There was a time when one could only be found playing a video game on a coin-slot machine in an arcade or a gaming console attached to a TV. While those forums are as popular as ever, one can be as devout or as casual a consumer as one wants by choosing their platform. Cell phones offer gaming applications (Apps) that present a range of levels not only within a particular game, but also for the amount of effort required to ace it. It is interesting to note that simple game plans have proved to be as addictive (if not more) as those with detailed back stories and stages. People who may not even consider themselves gamers can be found toying with their phones for hours, hell-bent on completing a puzzle, a redundant task or firing birds at snickering opponents.

Since the introduction of the internet, the fraternity is ever-expanding. Players find themselves taking their sessions online and battling or teaming up with people scattered all over the world. It seems as though once a player logs his gaming session onto the net, they find themselves free of caste, creed and assume an alias that enlists them into an international coven. Moreover, online or not, these games are known to help social development in people with an autism spectrum disorder. By providing an environment that stimulates such learning without the need of direct human contact, they eliminate the biggest cause of stress to a child or adult with a disorder.

Video games have been under scrutiny for being too violent or explicit in vulgarity and aggression. These infotainment machines have been accused of turning teens into adrenalin junkies who may even find daily life too mundane without the profit-induced atmosphere that the pseudo-real gaming world offers. While there being a certain amount of truth, many studies have failed to find a correlation between those attitudes and video games. In fact, psychologists argue in favour of the application of video games. Not only have puzzles, trivia and informative content been trickling into gaming plots, but even with the creativity displayed in different types of games, an environment is created that is highly conducive to learning. Whether one is choosing a game for themselves or their children, they can also screen the content and (from an ever-growing directory) choose the one most appropriate to their requirements.

What sets this art apart from any other is the requirement of a certain amount of skill from the consumer to allow them to access to next stage. One needs to be the player of a certain caliber and that can only be attained if they try their hand at the game and fail over and over, only to try again. It makes the players jump all sorts of hoops and can still deny them the complete experience if they do not deliver. By offering small prizes along the way, it evokes the feeling that they almost had it, and that if they try just one more time, success is ensured. Moreover, to master the craft requires focus. Gamers are expected to have cat-like reflexes while employing exemplary hand-eye coordination – all of which need not be inherent, but can be developed with practice. This improves the sense of self-worth a person has, since it keeps challenging children and adults to work harder, be better and truly earn the prize. Not to mention, it enhances their critical thinking abilities, while making them faster and more determined problem solvers.

Among the biggest arguments against video games states is that they promote a lifestyle with lack of any physical activity. While moderation is paramount to tackling most of such complaints, it is evident that the gaming industry has been listening. Over the years, it seems to be overcoming its own shortcomings, all the while wowing audiences with its ingenuity in creativity, concept and design. For example games such as the ‘Nintendo WII’ make the players involve their bodies in order to play.

The industry is revered by a high percentage of teens, with adults joining their ranks increasingly. Dissuading them from playing the games means denying their power as invaluable sources of entertainment and education. They need to be recognized for their potential and we need to be smarter consumers to extract full benefits. By studying humans, this art is evolving and thus playing its part in improving our experience and lifestyle. Are we truly listening to it and playing ours?
Writer is an Art Graduate, art curator and visual artist who focuses on understanding the impact of pop culture on society.

Follow Us On Twitter