08
January

گھر کی حفاظت

تحریر: منیراحمدبلوچ

پٹٹری سے اترے ہوئے معاشروں، قوموں اور کھونٹے سے اکھڑے ہوئے چوپایوں کو پوری طرح سنبھلنے اور ایک بار پھر پوری قوت اور ہمت سے اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہونے کے لئے عرصہ درکار ہوتا ہے۔ ایسے معاشروں اور قوموں کی کیفیت تلاطم خیز موجوں سے نبردآزما ہوئی کشتی کی سی ہوتی ہے جسے ساحل تک پہنچنے کے لئے نہ جانے کتنے غوطے کھانے پڑتے ہیں اگر اس کشتی کے مسافر افراتفری اور ہڑبونگ سے کام لینے والے نہ ہوں اور اس کے ملاح ہنر مند ہوں تو وہ اسے گرداب سے نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن اگر وہ اس کشتی میں خود ہی سوراخ کرنے لگیں اور ملاح بھی کام چوری‘ اکتاہٹ اور تھکاوٹ کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ کشتی میں سوراخ کرنے والوں کے ہمدرد بننے لگیں تو پھر کوئی بہت بڑا طوفان نہیں ایک معمولی سی شوخ لہر بھی کشتی اور اس کے مسافروں کونگلنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔


بابا جی نے برسوں کی محنت سے ایک بڑا اور خوبصورت سا گھر بنایا لیکن انہیں اس میں زیا دہ عرصہ رہنا نصیب نہ ہوا اور وہ جلد ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی اولادیں ان میں رہنے لگیں۔ وقت گزرتا رہا گھر کا رنگ و روغن اترنا شروع ہو گیا۔ کچھ دیواروں سے پلستر بھی اترنے لگا لیکن گھر والوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی، ان کے اخراجات تھے کہ دن بدن بڑھتے گئے، کام کی جانب توجہ نہ ہونے کے برابر رہ گئی، جب جمع پونجی ختم ہونے لگی تو گھر کو بینک میں گروی رکھ کر قرضہ لے لیا لیکن بجائے اسے اپنے کاروبار میں لگانے کے اسے بھی اللّوں تللّوں میں ضائع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ با با جی کی برسوں کی محنت نیلامی کے اشتہاروں میں سب کے سامنے آ گئی۔ وہ گھر جس کی بنیادیں اور دیواریں تو مضبوط تھیں لیکن گھر والوں کی عدم توجہ اور فضول قسم کی عیاشیوں سے اس قدر کمزور ہو گئیں کہ آئے دن اس کی خرید میں دلچسپی رکھنے والی پارٹیاں دندنانے لگیں۔


عرصہ گزراچینی شہنشاہ نے آئے روز کی بیرونی یلغار سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے فیصلہ کیا کہ چین کے گرد ایک اونچی اور مضبوط دیوار بنا ئی جائے۔ شہنشاہی فیصلہ ہوتے ہی پوری قوم اس کی تعمیر میں جت گئی۔ برسوں کی کٹھن محنت اور بھاری سرمائے سے تعمیر کی جانے والی یہ عظیم اور مشہور زمانہ دیوارِ چین اس قدر مضبوط اور بلند تھی کہ کوئی بھی اس کی تسخیر کا تصوّر بھی نہیں کرتا تھا۔ چاروں جانب مشہور ہو گیا کہ اسے پار کرنا کسی بھی بیرونی دشمن کے لئے نا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ چین کی اس وقت کی شہنشاہیت بھی اپنے اس عجوبے پر مطمئن ہو گئی لیکن اس کے با وجود مختلف وقتوں میں تین سے زائد مرتبہ بیرونی حملہ آور چین کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو ئے۔ یہ بیرونی حملہ آور دیوار چین پھلانگ کر یا اسے گرا کر اندر داخل نہیں ہوئے بلکہ ہر دفعہ حملہ آور ہونے والی فوجوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس دیوار کے مختلف حصوں پر تعینات چینی پہریداروں کو بھاری رشوت دیتے ہوئے اپنے ساتھ ملایا، جنہوں نے ان کے لئے چپکے سے دروازے کھول دیئے... چین کی اس وقت کی اشرافیہ نے اپنے اردگرد حصار قائم کرنے کے لئے عظیم دیوار تو بنا دی لیکن بدقسمتی سے قوم کے کچھ افراد کا وہ کردار تعمیر نہ کر سکی جو انہیں باور کراتا کہ وطن کی محبت اور عزت کی کبھی بھی کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی۔

 

gharkihafazat.jpgاپنے گرد حفاظتی حصار اور اسلحے کے ڈھیروں سے کسی ملک کی حفاظت نہیں ہو تی بلکہ غیرت و حمیت اور مضبوط کردار سے ہوتی ہے۔ چین کی اس وقت کی اشرافیہ کے لوگ بھول گئے کہ ملک کے دفاع کے لئے دیوار چین کی تعمیر کے ساتھ اپنے ملک کے شہریوں کا کردار بھی مضبوط اور بہتر بنانا ضروری تھا۔ وہ حکومتیں تومدت ہوئی کب کی گزر گئیں لیکن چین میں ایک عظیم انقلاب کے ذریعے ماؤزے تنگ اور چو این لائی جیسی قیا دت سامنے آئی تو انہوں نے اپنا کردار سب کے سامنے رکھتے ہوئے چین کے ہر ایک فرد کو پیغام دے دیا کہ اس ملک میں جینے اور رہنے کا ایک ہی رستہ ہے کہ اپنے وطن سے، وطن کے اسباب سے، وطن کے دفاع سے اور وطن کے وقار سے دل کی گہرائیوں تک وفاداری نبھانا ضروری ہے۔


روزمرہ کے اپنے کردار اور گفتار کو بہترین معاشرے کا حصہ بنا دو کیو نکہ اس کے بغیر اس ملک میں رہنے اور جینے کا کوئی فائدہ نہیں اور ایسے لوگ جو ملک قوم اور اس کے وقار کا سودا کرتے ہیں انہیں ’ننگِ دین‘ ’ننگِ وطن‘ کے نام سے صدیوں پکارا جاتا ہے ۔ 1850 میں امریکہ کے صدر ہنری کلے نے کہا تھا کہ مجھے امریکہ کی صدارت نہیں بلکہ صداقت چاہئے یہ امریکی صدر صدارت سے دستبرداری کے لئے تو تیار تھا لیکن سچائی کا دامن چھوڑنا اسے قطعی گوارہ نہیں تھا... اور یہی آج کے پاکستان کی سب سے اہم ضرورت ہے۔


آج خوش قسمتی سے اﷲ سبحانہ‘ وتعالیٰ نے ہمارے گرد ایک زبردست قسم کی ایٹمی دیوار قائم کی ہوئی ہے جس نے ہم کو اس خوف سے بے فکر کیا ہوا ہے کہ دشمن ہماری جانب قدم بڑھا سکتا ہے لیکن اس ایٹمی دیوار کے ساتھ اگر ہم اپنے اردگرد اپنے معاشرے اور ملک کے مجموعی ماحول اور ذرائع ابلاغ کو سامنے رکھیں تو ہر چیز مصنوعی، کھوکھلی اور بنا وٹی سے لگتی ہے۔ اگر کسی قوم کے نظریے اور اس کی تہذیب و تمدن کو تباہ کرنا ہو تو اس کے لئے تین طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس قوم کے خاندانی نظام کو تباہ کر دو ، اس قوم کے تعلیمی نظام کا حشر نشر کر دو اور اس قوم کے رول ماڈل اور ان کی تعلیمات کو دفنا دو۔ مؤرخ کی کہی ہوئی یہ باتیں سامنے رکھیں اور پھر غور کریں ...کہ آج ہم کتنے فرقوں میں بٹ چکے ہیں اور اس کے لئے ہم اور ہمارے اب تک کے تمام حکمران سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ وقت گواہ ہے کہ ہر حکومت اور سیا سی جماعت نے اپنی مخصوص طرزِ سیاست کو سہارا دینے کے لئے اپنے اپنے ملاؤں کو پالا ہوا ہے اور یہ وہ ملا ہیں جنہوں نے اپنی مربی حکومت کے ذریعے اپنے اپنے اداروں میں داخل ہونے والوں کو تعصب اور مقابل سے نفرت کی آگ میں جلاکر کوئلہ بنا دیا ہے یہ ہلکے سے اشارے پر کسی کو بھی بھسم کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور جن کا استعمال ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔


افسوس کہ کسی نے یہ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ہمارے مدرسوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبأ و طالبات کو کس قسم کا ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کے اساتذہ انہیں اجتماعی اور انفرادی محفلوں میں کس قسم کی تعلیم دے رہے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹی کے پروفیسر کس قسم کا رجحان لئے ہوئے ہیں۔ ان کے زیر مطالعہ کس قسم کی کتابیں رہتی ہیں۔ نصابی کتابوں کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی صورت حال کے بارے میں ان کا نقطہ نظر کس قسم کا ہے۔ سب نے اس سب سے اہم مسئلے سے آنکھیں ہٹائے رکھیں، جن کے نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔


ہمارے ملک کے سکالر، مذہبی رہنما، سائنسدان، وہ سیا سی اور قومی رہنما جو بلا کسی شک و شبہ کے اس ملک کا سرمایہ تھے جن کی صداقت اور دیا نت کی مثالیں دی جا تی تھیں، انہیں اس طرح نظر انداز کر دیا گیا کہ وہ معاشرے میں اپنا مقام ڈھونڈنے کے بجائے وہ معاشرہ ہی ڈھونڈتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے جس کا انہوں نے خواب دیکھ رہا تھا، جس کی ترتیب درست کرنے کے لئے وہ ا س کی تراش خراش میں مصروف رہے۔ ہم جنہیں مفتی بنانے کا سو چ رہے تھے وہ مفتے بن کر کسی نہ کسی چوکھٹ پر بکھر گئے۔ہمارا کوئی رہنما ہی نہ رہا، کوئی آئیڈیل اگر تھا بھی تو اس کے بارے میں جو کچھ منہ میں آیا زور شور سے کہنا شروع کر دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو گہنا کر رکھ دیا گیااور یہ تو کوئی گورکھ دھندے والی بات ہی نہیں ہے کہ جب خاندان کا تصور مٹ جائے، جب استاد کا مقام اور مرتبہ ایک بھیک منگے اور سوالی کا سا ہو جائے، اور جب اس ملک کی فکری اور نظریاتی بنیادوں کے لیڈران اپنی عزت بچانے کے لئے پناہ گاہوں کی تلاش میں مصروف ہو جائیں تو پھر نئی نسل کیا سیکھے گی؟ اور کس سے سیکھے گی؟ اور پھر جن سے وہ نیا سبق لے گی وہ سبق صداقت کا نہیں ہو گا، شجاعت کا نہیں ہو گا اور نہ ہی عدالت کا ہو گا۔ وہ منافقت کا ہو گا صرف منا فقت کا ... آج ہماری قوم جس طرح ایک نئی کروٹ لے رہی ہے اور چھ ستمبر کی رات جنرل راحیل شریف نے راولپنڈی جی ایچ کیو میں بھارتی آرمی چیف اور نریندر مودی کی دھمکیوں کا جس طریقے سے جواب دیا ہے اس سے ملک اور قوم میں ایک حوصلہ پیدا ہوا ہے اور یہی حوصلہ قوموں کی آبیاری کرتا ہے ۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
26
December

Conquering the heights

Published in Hilal English Jan 2014

Written By: Maria Mir Kashif

Weekend is a time when one may tends to relax in his/her own way and may browse through websites and TV channels to look for something interesting. During the last weekend, while I was switching channels on the TV, something forced me to stop – it was airing of news about a female rock climber from Pakistan, Ms. Nazia Parveen by a private TV channel. The list of achievements of this girl took me by surprise and I was curious to know about her. It was heartening to know about the accomplishments she has undertaken at such a young age; and I was convinced yet again that, in a man's world; a woman can attain whatever she desires with constant hard work and dedication.

Nazia Parveen, a young and energetic girl, belongs to Bajaur Agency of the Federally Administered Tribal Areas (FATA). Her father, Subedar Gul Zaman is proudly serving in Pak Army. She didn't realize her potential in rock climbing until she went on a field trip organised by her college and tried to climb a rock as an adventure. She enjoyed the activity and decided to take it up more often. Hailing from the Tribal Areas, it was a difficult decision for her to participate in these sports activities frequently. But her father backed her and with support of her family, this courageous lady decided to excel in the field of rock climbing.

Till that time, she had never taken any formal training or classes for the rock climbing activity; however, after participating in a rock climbing competition on International Women's Day in 2010; she joined “The Adventure Club Pakistan” for regular training in this field. Nazia won her first of this kind of competition in October 2010, and only two months later, she won her second rock climbing competition on International Mountain Day. She became the national champion for Sport Climbing during 2011, 2012 and 2013 and, has never looked back since then. She has so far won 28 national level rock climbing competitions in a row; and is still working her way up to the glory.

Nazia won the 'Chenab Rock Climbing Competition' with distinction and completed the climb in very less timings as compared to her competitors. She also holds the record for climbing with the best time in both male and female categories; a proud female to have this honour. The list of her achievements doesn't end here as she was selected as instructor of rock climbing at 'The Adventure Club Pakistan'. She is also being supported by the Club to take advanced rock climbing training to polish her skills and bring more successes to the country. Nazia is all set for her international exposure and will participate in Bouldering competition in Singapore. She will also be the first female from Pakistan to represent the country in rock climbing at international level.

Nazia is also interested in archery, trekking and camping. She has also got an elementary paragliding license and is a good player of badminton, basketball and handball. Apart from this, a Polish channel is also working on a documentary with her which has been named “Women in the End of the World”.

Nazia represents a Pakistan that is often ignored particularly by the Western media. Her family, particularly her father, also deserves appreciation that despite hailing from conservative society of FATA, he encourages his daughter to participate in various levels of competitions. A woman can surpass all the hurdles once she makes it her goal; and this is exactly what Nazia Parveen has proved to all of us!

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
26
December

Fauji Fertilizer Company at a Glance

Published in Hilal English Jan 2014

Fauji Fertilizer Company (FFC) links its well being with the prosperity of Pakistan. FFC is an associated concern of Fauji Foundation. It contributes 43% of its profits towards welfare projects of Fauji Foundation which is a trust setup for the welfare of ex-servicemen and their dependents. It is incorporated under The Charitable Endowments Act, 1890 and its aim and structure of governance is managed as notified by the Government of Pakistan. FFC works as an independent private organization run on modern corporate lines having no connection with Pakistan Army in terms of authority or finances. FFC's visionary management in 1978 decided to enter into Fertilizer sector to help Pakistan ensure food security and now it has diversified itself to cater for national demands. In view of shortage of electricity and energy crisis in Pakistan, FFC developed Pakistan's first Wind Power Project and created a new way for others to follow. The 50MW Wind Power Project at Jhampir started feeding electricity to National Grid on 16 May 2013. This has provided new avenues for attracting foreign investment in Pakistan for alternate energy projects.

Al-Hamd Foods was acquired by FFC to safeguard the fruit / vegetable wastage and encourage the farmers. Al-Hamd foods will provide fresh and quality healthy food preservation mechanism to the people. FFC now has major shareholding in Askari Bank in its endeavors to provide financial solutions to the Pakistani entrepreneurs.

FFC professional management has always shown key priority in long term sustainable resource management through a mix of civilian professionals (Engineers, Marketing, IT and Financial Experts) and ex-servicemen in administrative positions. FFC has consistently remained in the list of top 25 best performing companies of Pakistan consecutively for 16 years since 1994 and is one of the highest tax payers of the country.

FFC spends substantially in helping out the deprived people of this country in education, health and related fields. The organization has adopted many government schools located close to the plants. FFC provide free books, stationary to its students, teacher's pay and even undertake construction of the classrooms. It also offers free education to selected students at top institutions like LUMS and FC College. Moreover, the CSR (Corporate Social Responsibility) programs at FFC arrange free medical camps.

FFC is an organization which looks much beyond the scope of its profitability while entering into any business deal and also expect other organizations to come forward and contribute to help Pakistan grow.

Follow Us On Twitter