09
November

سکردو۔زمین پر جنت

تحریر: عمران علی ملک

قدرت نے ارضِ وطن پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جس میں سب سے اہم یہاں کی آب و ہوا اور سال بھر کے دوران رنگ بدلتے موسم ہیں۔
جون کا آغاز ہوتے ہی یہاںگرمی کی شدید لہر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ آسمان سے سورج گرمی برساتا ہے تو زمین بھی تپش کی شدت سے آگ کا منظر پیش کرتی ہے ۔ ایسے میں شمالی علاقہ جات کی سیاحت کا رجحان بڑھ جاتا ہے ۔ دہشت گردی کی لہر نے پورے ملک سے سیاحت کا سلسلہ تقریباً ختم کر دیا تھا لیکن پاک فوج کی جرأت مندانہ کارروائیوں اور بیش بہا قربانیوں سے وطن عزیز ایک بار پھر سیاحت کے لئے محفوظ مقام بن چکا ہے۔ سیاحت کی بات ہو تو گلگت بلتستان کسی جنت سے کم نہیں۔ویسے تو بلتستان کا ہر علاقہ قدرتی مناظر میں اپنی مثال آپ ہے لیکن ان میں سکردو ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

skerdozamen.jpg
اسلام آباد سے سکرودو کے لئے فضائی سفر کی سہولت بھی موجود ہے۔ پی آئی اے کی پروازیں روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں لیکن موسم خراب ہونے کی صورت میں پروازیں منسوخ کر دی جاتی ہیں۔ اسلام آباد سے سکردو کا زمینی سفر قراقرم ہائی وے کے ذریعے ہوتا ہے ۔دہشت گردی کے دوران یہ سفر قدرے غیر محفوظ تھا مگر پاک فوج اور ایف سی کے زیر نگرانی یہ سفر قافلوں کی شکل میں جاری رہا۔ راستوں میں بھی جگہ جگہ ایف سی اہلکار ڈیوٹی دیتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سنگلاخ چٹانوں میں بنا کسی سائے کے ڈیوٹی دیتے اہلکار وں کر دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وطنِ عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے یہ جوان کس قدر پُر عزم ہیں۔ پاک فوج کی جرأت مندانہ کارروائیوں کی وجہ سے اب یہ سفر انتہائی محفوظ ہے ۔
جگلوٹ اور گلگت سے سکردو تک پہنچنے کے لئے واحد زمینی راستہ 167 کلومیٹر، گلگت ـسکردو روڈ ہے ۔ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ یہ دشوار گزار راستہ ہے مگر سکردو کے ڈرائیور نہایت مہارت سے ڈرائیونگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گلگتـ سکردو روڈ میں ایک جانب فلک بوس پہاڑ ہیں تو دوسری جانب زمین کی تہوں میں دریائے سندھ بہہ رہا ہے۔ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے کبھی یہ راستہ منقطع بھی ہو جاتا ہے ۔ جس کو ایف ڈبلیو او کم سے کم وقت میں ٹرانسپورٹ کے لئے بحال کردیتی ہے۔


سکردو میں اپریل کے آخر میں بہار کا آغاز ہوتے ہی سیاحت کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ اپریل سے ستمبر تک سیاحت کا بھرپور موسم ہوتا ہے۔ سیاح سکردو کا رُخ کرتے ہیں۔ اکتوبر میں یہ حسین وادی سفید چادر اوڑھنا شروع کر دیتی ہے اور رفتہ رفتہ ہر طرف برف ہی برف دکھائی دیتی ہے ۔


سکردو شہر سے 50فٹ بلند پہاڑ پر واقع قلعہ کھرپوچو اپنے ڈیزائن اور محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس قلعے کی بناوٹ ایسی ہے کہ اس سے پورا سکردو شہر بآسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔ نیز اس قلعے سے دریائے سندھ اور اس کے پیچھے بلند و بالا پہاڑ اتنہائی دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔


کھرپوچو کے عقب میں واقع گائوں ننگ سوق کو ''آرگینک ویلج'' کا نام دیا گیا ہے۔اس گائوں میں آج تک مصنوعی اشیاء سے پاک 100فیصد قدرتی اجناس استعمال کی جاتی ہیں ۔اس گائوں میں نہ تو سرکاری بجلی ہے اور نہ ہی کوئی سڑک موجود ہے۔گائوں تک پہنچنے کا واحد راستہ انتہائی دشوار گزار ہے جہاں سے پیدل گزرنا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں تھا مگر پاک فوج نے اب اس راستے کو قدرے آسان بنانے کے لئے لکڑی کے پُل بنا دئیے ہیں ۔
سکردو سے شگر جاتے ہوئے ایک نہایت ہی خوبصورت مقام سے گزرتے ہیں یہ ایک صحرا ہے جو کولڈ ڈیزرٹ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دریائے سندھ کے ساتھ کئی میلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس صحرا کے درمیان سے گزرتی سڑک اور پس منظر میں خوبصورت پہاڑ ایک دلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں۔


وادیٔ شگراور شگر فورٹ
وادٔ شگر بلتستان کی ایک خوبصورت وادی ہے ۔یہ 170کلومیٹر رقبے پر محیط ہے۔ جونہی اس وادی میں داخل ہوں یہاں ایک خاص قسم کی خوشبو آپ کا استقبال کرتی ہے ۔ پہاڑوں سے گرتے جھرنے اس کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ وادٔ شگر سے دریائے شگر گزرتا ہے جو آگے جا کر دریائے سندھ میں ضم ہو جاتا ہے۔ اس وادی میںسب سے مشہور مقام شگر فورٹ اور شگر پیلس ہے۔ اس کو بلتی زبان میں ''پھونک کھر'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ''چٹان پر محل'' یہ بلتستان کے فن تعمیر کا ایک خوبصورت شاہکار ہے۔ آج کل یہاں ایک میوزیم بنا دیا گیا ہے اور پیلس کی عمارت کا کچھ حصہ ایک ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وادٔ شگر میں قائم مسجد امبوریک کا شمار بلتستان کی قدیم ترین مساجد میں ہوتا ہے۔ اس مسجد کی بنیاد سید امیر کبیر علی ہمدانی نے رکھی اور یہ آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔یونیسکو نے اس مسجد کو کلچرل ایوارڈ بھی دیا ہے ۔


شنگریلا جھیل
کچورہ گائوں میں موجود ہونے کی وجہ سے اس جھیل کا اصل نام کچورہ جھیل ہے۔ یہاں 1983میں قومی ایئر لائن کا ایک طیارہ گر گیا تھا جس کو کسی نے خرید کر ایک ریسٹورنٹ میں تبدیل کر دیا اور اس کا نام شنگریلا رکھا۔ ''شنگری لا ''تبتی الفاظ کا مجموعہ ہے جس کا مطلب ہے ''زمین پر جنت''۔ جھیل کے کنارے یہ اپنی نوعیت کا منفرد ریسٹورنٹ ہے جو اپنی انفرادیت کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔ چاروں جانب پہاڑوں میں گھرے اس خوبصورت مقام پر جائے بغیر سکردو کی سیاحت مکمل نہیں سمجھی جا سکتی ۔


اپر کچورہ جھیل
یہ انتہائی شفاف پانی کی ایک وسیع و عریض جھیل ہے کچورہ۔ شنگریلا جھیل سے کئی گنا بڑی جھیل ہونے کے ساتھ ساتھ کافی گہری بھی ہے ۔ اس کی گہرائی 280فٹ ہے۔ یہ انتہائی خوبصورت تفریحی مقام ہے ۔سر سبز درختوں میں گھرے کچے راستے ٹریکنگ کے شوقین حضرات کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ لیکن ناکافی سہولیات اور قدرے دشوار گزار راستے کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی آمدورفت کم ہوتی ہے۔
سکردو شہر سے 40کلومیٹر دور وادیء کھرمنگ میں منٹھوکھا آبشارواقع ہے ۔ اس کی اونچائی زمین سے 180فٹ ہے۔ دورونزدیک سے لوگ یہاں تفریح کے لئے آتے ہیں۔ آبشار سے اُڑتی پھوار ہوا میں شامل ہو کر انتہائی دلفریب نظارہ پیش کرتی ہے۔


منٹھال بُدھا راک
سکردو۔ سدپارہ روڈ پر سکردو سے 3کلومیٹر دور منٹھال گائوں میں واقع یہ گرینائٹ کا چٹان نما پتھر ہے جس کی اونچائی تقریباً50فٹ ہے ۔اس چٹان کے درمیان میں بُدھا کی ایک بڑی اور اطراف میں کئی چھوٹی تصاویر کندہ کی گئی ہیں۔


دیوسائی نیشنل پارک
دیوسائی (جنات کی سرزمین) استور اور سکردو کے درمیان دنیا کے دوسرے بڑے میدان ہیںجو سطح سمندر سے 13,497فٹ بلند ی پر واقع ہیں ۔ یہ میدان 3000مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔ دیوسائی کو بلتی زبان میں ''غبیارسہ'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ''گرمیوں کی جگہ''کیونکہ اس علاقے تک رسائی گرمیوں کے صرف 3مہینے ہی ممکن ہوتی ہے۔ دیوسائی کو 1993میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ یہاں برفانی چیتا، برائون ریچھ، مرموٹ، مارخور، ہڑیال اور باز کی کئی نسلیں پائی جاتی ہیں۔ سرسبز گھاس کی چادر اوڑھے ان میدانوں میں رنگا رنگ خوبصورت پھولوں ، اُڑتی تتلیوں ، خوشبوئوں اور بہتے پانیوں سے جو نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے وہ یہاں آنے والوں کو ہمیشہ کے لئے اپنا اسیر کر لیتا ہے۔


سکردو پاکستان کے سیاحتی مقامات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں برف پوش پہاڑوں کو چھو کر گزرنے والی ہوا ئوں کا احساس ہی تن بدن میں تازگی پیدا کر دیتا ہے ۔ پہاڑوں سے گرتے جھرنوں سے اُٹھنے والی ٹھنڈی پھوار سانسوں کو ایسی تازگی بخشتی ہے کہ روح تک ٹھنڈک محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہاں کی وادیوں میں ایک خاص خوشبو سے سانسیں بھی مہک جاتی ہیں اور انسان اُس خوشبو کو کبھی بھی بُھلا نہیں سکتا۔ یہاں سیب ، چیری، خوبانی ، آلوبخارہ، انجیراور بادام کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ سکردو کی خوبصورتی کی طرح یہاں کے لوگ بھی لالچ سے دور ، انتہائی خوش اخلاق اور پُر امن ہیں۔محنت کا رجحان بچوں اور بڑوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔ بچے بہت ملنسار اور تعلیم کے شوقین ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے کئی کئی میل کا سفر بھی پیدل کرتے ہیں۔سیاحت کے دلدادہ سکردو جانے کے بعد کبھی اس کے سحر سے نکل نہیں پائیں گے۔جیسا کہ ایک نغمے کے بول کچھ یوں ہیں 
ایک بار جو آئے …
دل یہاں رہ جائے …
جانا چاہے نہ پھر یہاں سے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
November

Decorating Homes Tastefully (Thinking Out of the Box)

Written By: Maria Khalid

decorating homes1We often marvel at how the architecture and design together create an amazing landscape of a house. Every small element always relates to the larger form where they coexist. Although good sense of design existed in every age and culture but it transmutes into something more modern as the time progresses. We long for beauty and elegance along with utility and practicality of anything in question all our life. Aesthetics and interior designing go hand in hand. The beautification of space and optimal utilization to me is the inbuilt human capability. Beautiful things develop from a tiny bud and mature into prime beauty. We as humans want to save the essence of this prime beauty into designing and that brings the masterpiece out, something class apart that is to be cherished by the human race generation after generation. In economics we start everything from consumer behaviour. It is that one aspect of humans that sets everything in line from what to produce and what not to. While choices of customers and emerging trends are reflected by what is available in the furniture showrooms; the designers also tend to keep the customers in mind. Muhammad Ali Riaz, the owner of a decorating homes2private furniture shop in Rawalpindi, while commenting on the latest trends said, “Interior decoration can augment the ambiance of your home. With a little modification in interiors, you can not only revive the surroundings, but give your space an engaging or attractive glance. But making such amusing changes is not as simple as you think it is.” He goes on to say, “What our clients demand is comfort, furniture being economical and third, durable. Besides, many people are looking for bright colours instead of dull earthly ones. Furniture, colour scheme, flooring, wall and window treatments may differ from room to room. High gloss finishing is in high demand these days.” We should rather use the word comfortable luxury for what people desire nowadays but furniture is one part. What matters more in interior designing and architecture is space utilization, ample supply of natural air and cross ventilation coupled with exclusive looks. The interior designing industry for residence is growing at a slow pace in Pakistan. If you search for the designers in America, many would emerge depending on the work they have done and the accolades they got. However there isn't enough recognition in Pakistan owing to the fact that there aren't many customers because of the poor economic condition of the common people. Mr. Kazim Hassan, the CEO of a private interior designing consultancy says, “Now there is a trend of designer houses in Karachi, Lahore and Islamabad, where customers want turnkey solutions from purchase of land, construction, and interior design to furniture, accessories and landscaping. Mostly clients living abroad want such type of packages in Pakistan.” “The interior design services are normally considered for the privileged class but when a person spends even for a small house, it should be spent properly. Just like if you take medicine at your own without consulting a doctor, it will damage your health.” He added. Although interior designing is considered to be a complete art, however following can be helpful in giving your home a touch of class:-

Design should be in harmony with the surroundings, the environment you live in and the temperature. However, adding a

little sense of space using sliding screens and transparent doors can do wonders.

Painting walls or adding wallpapers defines the space and makes a great background to showcase art and lamps.

Use different textures while keeping a balance.

Dramatic lighting looks elegant such as tray ceilings and a huge chandelier in the centre.

You can make best use of pictures and photos. Bring life to the walls by putting one or many gilded frames together on a colour painted wall, same or varying sizes depending upon your taste.

If you don't have taste of photographs, calligraphy also looks amazing on the walls.

For fall 2014, go cozy with rugs and plush cushions, preferably floral, chintz or ethnic. You can also try out well-designed upholstered furniture.

The warm and cool colour palettes will add to the beauty.

07
November

Secret to Staying Young and Healthy

Written By: Dr. Anum Hussain

How do you define beauty? If you ask this simple question from different age groups you may get a diverse response. For example, a teen’s reply would be different from a 25-years-old adult. Their answers will be based on a certain defined criteria set in their minds, for instance; skin tone, height, and hair, whilst others would decide based on different factors of persona like self-belief, speaking style, dressing sense, etc. but this isn't the end; additionally you may receive responses like beauty is directly proportional to age. According to them, if he/she crosses certain line of age then they aren't eligible to be called beautiful and sadly majority of the crowd would assume this false belief as a universal criteria. Now you must be thinking a doctor would provide you a catalogue of anti-aging treatments like botox, rehydrating fillers, meso-therapy, photo-facials, non-surgical facelifts and a never ending list of treatments. Being a doctor I clearly admire the outstanding progress in medical and health science. Allow me discuss some vital facets that are normally neglected in the process of achieving beauty targets or simply looking young.


Take a deep breath and accept the fact that aging is a natural process and there's no direct or inverse relation between age and beauty, Why? Because the former is simply a number and latter is a mixture of mind and personality. This growing old process affects every single cell of your body including all your internal and external organs. In general skin is the largest external organ of human body and usually this organ is our main concern. With advancing age skin becomes fragile, bruised, tough, and slack due to thinning of dermis and loss of support around the blood vessels. So in case you are thinking about the usage of anti-aging creams or are in search of anti-aging treatments and you think it is going to make you younger then please take a moment here and think about those billions or trillions body cells that make your other vital organs like heart, kidneys, liver, muscular tissues, and bones, etc. They are also growing old. Don’t they need anti-aging treatment too? Now you need to understand this phenomenon just like you are worrying about your nasolabial fold lines, crow feet, sagging cheeks or wrinkles etc., you should pay equal attention to your whole body because this aging process is targeting it all.


It is very crucial to maintain weight according to BMI because a lot of health conditions are directly associated with weight gain and it can be a major cause of the underlying conditions. In the process of growing old, it becomes difficult to get rid of excess weight as your muscle tissues certainly shrink and lose mass. Your ligaments and tendons might also end up inflexible with age and may lose tone, even with everyday exercise. You could have constrained strength and endurance required for exercise. Hormonal changes in older women and men may contribute to muscle loss. This gradual decline in musculoskeletal system directly affects your activities of daily living (ADLs) and limit your physical activities, which in turn causes slowdown of your metabolism and ultimately leads to unburned calories that are likely to become fat deposits. The fat deposits further deteriorate your another major body system i.e., cardiovascular system. With advancing age, blood vessels also undergo aging process including arterial stiffening and thickening. These structural changes play important part in developing hypertension (high blood pressure). The fats already stored in the body due to limited physical activity build up inside the arteries. This accumulation of fat is known as atherosclerosis. It speeds up the process of aging in arteries leading to further fatty buildup and narrowing which may result in blocking major arteries that supply blood to heart and brain and the results could be devastating i.e., heart attack or stroke. Now you can clearly see all body systems are interconnected and problem in one directly affects another. But it is not very difficult to overcome these age related issues – all you need is a little attention and time for your body.

 

Growing older is no regret but dying before one’s actual death is. There is no rewind button in life, so value the time you have and value the gift of life. Avoid negativity and add positivity. Don’t limit yourself under the label of age to live a purposeful and healthy life.

First of all, it is important to monitor your weight on regular basis. If you notice any fluctuation you can take measures. I mentioned earlier that as you are growing old you lose muscle mass so add proper amount of protein in your diet plan e.g., meat, poultry, fish, salmon, trout (contains heart healthy omega 3 fats), eggs, beans and nuts etc. Also your bone health is important for maintaining your overall musculoskeletal system so dairy food with calcium and vitamin D must be a portion of your diet plan.


It is important to maintain recommended cholesterol levels to avoid fatty buildup in blood vessels. Total cholesterol level (lower than 200mg/dl) LDL i.e., low density lipoprotein or bad cholesterol (100mg/dl or low) HDL i.e., high density lipoprotein or good cholesterol (40mg/dl or high) and triglycerides (149mg/dl or low). Like protein we also need fats for our body but this is mandatory to choose right fat or heart healthy fat. Saturated fat or animal fat raises cholesterol level so strictly avoid butter, cream or cream based sauces, hard margarine fats on meat, processed meat like sausages, burgers, cake, chocolates, heavy cream, milk etc. Monounsaturated fats found in olive oil, peanut oil, unsalted peanuts, cashew nuts and almond help replace saturated fats with monounsaturated fats and protect your heart as it lowers cholesterol. Polyunsaturated fat also reduces cholesterol level and is found in oily fish (omega 3 fat), sunflower oil (omega 6 fat), sesame oil, walnuts and hazelnut. But you must always keep in mind that all these types of fats, either saturated or unsaturated, contain equal amount of fat and calories so it is essential to avoid their excessive use. It is better to go for small meals rather than heavy meals because your metabolism slows down as you age but never go much longer than 3 hours without eating.


Hydration is important as nearly all of your systems in body depend on water. Moreover, this is a tip for anyone who wants to lose weight. With advancing age, the hypothalamus (which controls our hunger and thirst) becomes desensitized and our body can easily mistake thirst for hunger, which causes us to eat more than we actually need. Dehydration leads to high cholesterol, (produces more cholesterol to prevent water loss from cell), high blood pressure (because blood becomes thicker causing resistance to blood flow in arteries), constipation, tiredness, fatigue and weight gain. So, drink plenty of water (best is about 8 glass/day). You can also compensate by eating hydrating food i.e., cucumber, watermelon, bell pepper, pineapple, carrots, apple, grapefruit etc.


Balance food intake with proper physical activity. If you think skipping above mentioned dietary ingredients or in other words “starvation” will prevent the side effect of accumulation in the body, you are totally wrong because on one side your body needs all the above nutrients to keep your body systems young and healthy and on the other side your body also needs to utilize these calories in the form of physical activity. Make your schedule and assign one hour of the day for physical activity. It can include mild fitness programs like walking at medium pace, or swimming to strength training programs. My recommendation is to choose the activity according to your body needs e.g., if your task is weight loss at 35 or 45 you can freely engage in heavy exercises but if you are above 60 you must keep in mind that now your bones have lost much calcium and muscle mass. Moreover, if you are having any comorbid condition (hypertension, coronary artery disease etc.), you should prefer modified plan according to your body demand; better if it is under the supervision of a trainer. Don’t skip this portion because physical activity has direct effect on all of your body systems, so picking the best one according to your body demand will be beneficial. Set some goals and tasks before starting any fitness program.


Alcohol and smoking are the root cause of many medical conditions ranging from mild to life threatening conditions. They not only cause serious damage to respiratory system but also adversely affect our other body systems including circulatory, immune and reproductive systems. If you are a smoker or alcoholic, you have two choices: either arrange your bills for a long stay in hospital or simply quit this habit.


Just like your physical health is important, your mental wellbeing should also be part of your goals. Whatever your age is, value yourself and avoid self-criticism. Make time for your hobbies even if you find time once in a week. Communicate with good and ambitious people because your company has an effect on your lifestyle and your goals. Meeting with positive people will have a positive effect. Good company will not only motivate you but also boost your energy for your tasks. Break monotony and try new things or modify your existing activities like change your walking track, meet new people or add some recreational trips even if it is only once in a month. Stress is a part of life, whatever the age is, it can strike you anywhere, anytime, the important thing is to know how to cope with it. Check out triggers for your stress and how you react. It can help you to avoid triggers and learn how to manage them. Avoid overthinking because nothing is permanent, whatever the reason of your stress. Always keep in mind that everything will get better although it can take some time. The best approach in adverse situations is to avoid taking stress that will ultimately lead to anxiety and depression, further deteriorating your physical health. Try to think positive because “problem isn’t a problem until the mind says it’s a problem”


Growing older is no regret but dying before one’s actual death is. There is no rewind button in life, so value the time you have and value the gift of life. Avoid negativity and add positivity. Don’t limit yourself under the label of age to live a purposeful and healthy life.

 

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
November

جامعات

تحریر: محمد امجد چوہدری

طلباء و طلبات کو شدت پسندوں کے ہتھکنڈوں سے آگاہ رکھنے کی ضرورت

درسگاہیں اور علم گاہیں کسی معاشرے کو باشعور، منظم اور مہذب بنانے میں ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ قوموں کی اجتماعی ترقی اور خوشحالی میں ان کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ جامعہ کراچی کا شمار پاکستان کے ان اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے صحیح معنوں میں معمار قوم کا کردار ادا کیا اورآج بھی جدید تقاضوں کے مطابق نوجوانان وطن کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے میں پیش پیش ہے۔ بارہ سو ایکٹر رقبے پر مشتمل اس یونیورسٹی کا قیام1951ء میں عمل میں لایا گیا ۔صرف دو شعبوں سے تدریسی اور تحقیقی کام کا آغاز کرنے والی یہ جامعہ آج سائنس اور آرٹس کے53 مختلف شعبوں اور عالمی طرز کے20جدیدترین تحقیقاتی سنٹر ز اور انسٹی ٹیوٹس پر مشتمل ہے جہاں 24ہزار سے زائد طلباء و طالبات 800سے زائد قابل اساتذہ اوردرس و تدریس کے اڑھائی ہزارسٹاف کی زیرنگرانی اپنی علمی و تحقیقی پیاس بجھا رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تدریسی وتحقیقی معیار میں جامعہ کراچی کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہے۔اس کے فارغ التحصیل طلباء قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے ہیں۔ جامعہ کراچی کی ترقی اور ارتقاء کے عمل میں اس کے دُوراندیش اساتذہ کی محنت و قابلیت اور انتظامیہ کی کوششوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ تعلیمی ادارے علم وعمل اور آگہی و شعور کے مرکز ہوتے ہیں، اسی لئے تو ملک دشمن عناصر کا اولین نشانہ بھی یہی ہوتے ہیں۔پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستان کی ہر وہ شے جو ہمارے وقار، ترقی اورروشن مستقبل کی علامت سمجھی جاتی ہے، دہشت گردوں کے نشانے پر رہی۔ کراچی سے خیبر تک انہوں نے معصوم شہریوں اور سیکورٹی اداروں پر حملے کئے۔ تعلیمی ادارے خاص طور پر ان کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ وہ نہ صرف انہیں نشانہ بنا رہے تھے بلکہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے میں بھی مصروف عمل تھے۔اسی بھنور میں جامعہ کراچی کو بھی دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہاں بھی شدت پسندی، بدامنی اور بے یقینی کے بیج بونے کی کوشش کی گئی تاہم طلباء و طالبات کی ہوشمندی، اساتذہ کی مستعدی، انتظامیہ کے تعاون اور سکیورٹی فورسز کی کڑی نگرانی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ خاص طور پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان (ستارہ امتیاز) یہاں کے بہت سے مسائل جن میں انتظامی اور مالی قابل ذکر ہیں، حل کرنے میں انتہائی اہم کردار اداکررہے ہیں۔وہ نباتات کے استاد ہیں اور یونیورسٹی کو سرسبزوشاداب اور پھلتا پھولتا دیکھنے کی متمنی ہیں۔ اسی لئے بعض معاملات خاص طور پر فنڈنگ اور مالی خسارے کے لحاظ سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں مگر شدید مالی مسائل ہماری رہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی یونیورسٹی کو اتنی رقم دی جائے جتنی کہ ایک عام یونیورسٹی کو فراہم کی جاتی ہے تو پچیس سال میں انقلابی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ جس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں ترقی اور علوم میں تبدیلی و جدت آرہی ہے، ہم بھی اپنے ملک کو اس سے ہمکنار کر سکتے ہیں ۔یہ تبھی ممکن ہے جب ہمیں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا اثر کراچی یونیورسٹی پر بھی پڑتا ہے۔ جب ہمیں کھل کر بات کرنے کی اجازت ہوگی، جب ہمیں پروفیشنل بحث و مباحثے کی اجازت ہوگی، جب ہمیں پیشہ ورانہ مضامین میں تحقیق کرنے کے لئے مالی آزادی ہوگی، توہم پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور کامیاب بنانے میں بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس تناظر میں کراچی یونیورسٹی پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان پر سرمایہ کاری ہے۔ یونیورسٹی کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی پروفیسرڈاکٹر محمد اجمل خان نے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ وہ اس حوالے سے رینجرزکے کردار کے معترف ہیں۔ان کا کہنا ہے کراچی یونیورسٹی آپریشن ردالفساد کا ایک
Main Component
ہے۔ یہاں جو چند لوگ فساد کرکے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان سے نجات ضروری ہے اور اس سلسلے میں رینجرز اپنا مؤثر کردار ادا کررہے ہیں۔ وہ جامعہ کو سکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مشکوک افراد پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ اس طرح ان تمام مجموعی کوششوں سے جامعہ کراچی کو شدت پسندی کا لیبل لگا کر اس کی ساکھ کو متاثر کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ تاہم اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ دہشت گرد عناصر ہماری کمزوریوں کی تاک میں ہیں۔ وہ پاکستان کے مستقبل کو تاریک کرنے کا موقع ہرگز ضائع نہیں کرتے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے نوجوانوں کے شعور میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہے۔ پاک فوج دہشت گردوں سے براہ راست نبردآزما ہونے کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں بھی بہت سے اقدامات اٹھارہی ہے۔

jamiat.jpg

گزشتہ دنوں جنرل ہیڈکوارٹرز میں ''شدت پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کے کردار'' کے موضوع پر ایک سیمینار بھی منعقد کیا گیا جس میں پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، اساتذہ اور طلباء نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو شکست دی جاچکی، شدت پسندی کو شکست دینے کے لئے ہمارے تعلیمی ادارے اور میڈیا معاشرے کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ ہم باہمی تعاون سے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے والی قوتوں کو شکست دیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی گزشتہ دنوں جامعہ کراچی کا دورہ کیا اور طلباء سے خطاب بھی کیا۔ طلباء سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلباء منفی چیزوں پر دھیان نہ دیں اوروالدین کے خواب پورے کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر میں چاہوں کہ سب لوگ دنیا کو میری نظر سے دیکھیں تو میں بنیاد پرست نہیں انتہا پسند کہلائوں گا۔ جب میں دوسروں کو اپنے نظریات ماننے پر مجبور کروں تو تشدد پسند یا دہشت گرد کہلائوں گا۔مجھے کسی کو ثابت نہیں کرنا کہ میں مسلم ہوں ، یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے، مسلمان ہونے کے لئے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں، عمل سے ثابت کریں۔اس طرح کے سیمینارزاور کانفرنسیں یقینا ہمارے نوجوانوں کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہتھکنڈوں کے بارے میں مؤثر طور پر باخبر اور باشعور رکھتی ہیں۔ بہرحال جامعہ کراچی علم کا ایک ایسا رواں چشمہ ہے جس نے پاکستان کی تعمیر سے استحکام تک ایک ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ یہ چشمہ اسی طرح رواں رہ کر ملک کی ترقی اور استحکام کو دوام بخشتا رہے گا۔

 

Follow Us On Twitter