Towards a Green Pakistan

Published in Hilal English Jan 2014

Written By: Lt Col Shah Jahan

Air pollution is continuously affecting the human health adversely. The degenerating conditions of the atmosphere due to reduction of Ozone gas layer are accelerating the level of carbon dioxide beyond acceptable limits which is highly injurious to human life and the plants. It is well established fact that air pollution can be controlled effectively by intensive afforestation. The earth conferences held in Brazil and USA during 1992 and 1997 respectively have also affirmed the need for a large scale afforestation programme throughout the World.

In 1994, Government of Pakistan (Ministry of Environment) planned excessive afforestation in order to increase forest cover in the country which was less than 6% of total area at that time. Afforestation greatly contributes towards national economy both directly and indirectly. It facilitates overall pollution control, environment protection and natural camouflage & concealment during war. In order to achieve these objectives, Pakistan Army, to assist civil government, has always been at the forefront to take active part in trees' – plantation campaigns both inside the cantonments' limits and outside.

Pakistan Army was assigned to plan and implement this project in different areas. Rachna Doab Afforestation Project commonly known as RDAP, was undertaken by Pak Army initially in Punjab. The afforestation on 34,407 Acres / Avenue Miles (AVM) is continuing since July 1995 onward. The Project was suspended in June 2011 due to devolution of sponsoring ministry to the provinces under the 18th Amendment in the Constitution. However, units / formations are determined to achieve the designated goal gradually even without the provision of Government funds. Above 80 % survival rate of planted trees has been achieved as assessed by 'Monitoring and Evaluation' (M&E) team of Federal Government comprising members from the Planning Commission,

Ministry of Environment, Punjab Forest Department and Pakistan Forest Institute Peshawar. Extracts from the M&E report prepared by Dr Raza Ul Haq (Central Silviculturist), Pakistan Forest Institute, Peshawar during April – May 2003 are:- “Some of the acquired land was under the control of illegal occupants. The recovery of these lands and its afforestation was a creditable job done by the Army.” (Page 1 of Report.)

“It is a matter of great satisfaction that the physical targets in the field are going according to schedule and in some cases advance progress of work has been observed during the visit. This is due to the sincere and devoted efforts of the team responsible for the afforestation programme deputed on the job by Mangla Corps. Acquisition of land and timely completion of physical targets is commendable job. (Page 7-8 of Report) Afforestation on 250 sites in ten civil districts of Punjab province has definitely improved the ecology of these areas to a great extent.

The eco-system has been restored on barren, arid, water-logged and saline-sodic soils handed over by government departments to the Army. The planted lands are showing topographically, edaphically, climatically and ecologically changes which are quite visible now when juvenile plants and saplings have turned into thick forests. The lands prior to plantation under RDAP had been encroached. After retrieval of illegally occupied lands, plantation with numerous species has been carried out in the most planned manner. The main planted species are Shisham, Eucalyptus, Kikar, Siris, Bakain, Jaman, Willow, Sukh Chain, Ipple Ipple etc. Bed / potted nurseries containing thousands of plants were raised by the respective formations in afforestation areas as well as in respective cantonments for meeting the requirements of fresh plantation / re-stocking.

The officers and men affiliated with the project have worked day and night to make it a success story. Till now, 17 soldiers have laid their lives during the execution of this gigantic project. RDAP besides, increasing the percentage of jungles in the country, will go a long way in improving the environment of the areas.


تہذیبوں کے درمیان تصادم کا خاتمہ

تحریر: فرخنداقبال

’’جب ہم تہذیب کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد کیا ہوتی ہے؟ تہذیب ایک تمدّنی جوہر ہے ۔ دیہات، خطّے، نسلی گروہ، قومیّتیں، مذہبی گروہ یہ سب اپنے اندر مختلف نوعیّت کی ثقافتوں کی آماجگاہیں ہوتی ہیں۔ جنوبی اٹلی کے ایک گاؤں کی ثقافت شمالی اٹلی کے کسی گاؤں کی ثقافت سے مختلف ہو سکتی ہے لیکن یہ دونوں اٹلی کی مشترکہ ثقافت میں بہت ساری مشابہتوں کی حامل ہوتی ہیں جو انہیں جرمنی کے کسی گاؤں سے مختلف بناتی ہیں۔اسی طرح یورپی معاشرے اپنے اندر بہت ساری یکساں ثقافتی قدریں رکھتے ہیں جس کی بناء پر یہ معاشرے عرب یا چینی معاشروں سے مختلف قرار پاتے ہیں۔ لیکن یہ عرب، چینی یا مغربی معاشرے آگے چل کر مزید کسی وسیع تر ثقافتی دائرے کا حصّہ نہیں بنتے بلکہ یہ بذات خود ایک تہذیب کو تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب تک آکر انسانی گروپنگ کا عمل رُک جاتا ہے کیونکہ یہ تاریخ، زبان، مذہب، روایات،اداروں اور انسان کی ذیلی سطح پر خود وابستگی جیسے عناصر کواپنے اندر سمو لیتی ہے۔(بعض ماہرینِ سماجیات کے خیال میں اگر ہم تہذیب سے صرف ایک قدم آگے چلے جائیں تو ہم ہیومینیٹی کے دائرے میں پاؤں رکھ دیتے ہیں، لیکن ہم یہاں شناخت کی بات کر رہے ہیں اور یہ شناخت ہیومینیٹی ہی کے دائرے کے اندر کار فرما ہے) یہی وجہ ہے کہ تہذیب اعلیٰ ترین سطح پر ایک انسانی گروہ کو دوسرے انسانی گروہ سے مختلف بنا دیتی ہے۔ اب ہر انسان کی اپنی شناخت کے مختلف لیول ہوتے ہیں ، مثال کے طور پر روم کا ایک باشندہ اپنا تعارف ایک رومن شہری۔۔ایک اطالوی۔۔ ایک کیتھولک۔۔ ایک عیسائی۔۔ایک یورپی۔ یا ایک مغربی باشندے کے طور پر کر سکتا ہے یعنی وہ ایسا کرتے ہوئے اپنی انتہائی ابتدائی سطح کی شناخت سے لے کر انتہائی آخری سطح کی شناخت تک جا سکتا ہے۔‘‘ ( سیموئیل پی۔ ہنٹنگٹن)
’’تہذیبی شناخت کی اہمیّت مستقبل میں بہت بڑھ جائے گی اورسات یا آٹھ بڑی تہذیبوں کے درمیان باہمی عمل دنیا میں بڑی تبدیلیاں لائے گا۔اس میں مغربی، کنفیوشس (چینی)،جاپانی، اسلامی، ہندو، سلیوک آرتھو ڈاکس، لاطینی امریکی اور غالباً افریقی تہذیبیں شامل ہیں۔ مستقبل کے انتہائی اہم تنازعات ان تہذیبوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دینے والی فالٹ لائنز پر پیدا ہوں گے۔‘‘

( سیموئیل پی۔ ہنٹنگٹن)
امریکی پولیٹیکل سائنٹسٹ سیموئیل پی۔ہنٹنگٹن کی تھیوری ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ شاید سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سیاسی حلقوں، بین الاقوامی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور تعلیمی اداروں میں بکثرت زیر بحث رہنے والا موضوع ہے جس نے دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں نصاب کا درجہ حاصل کیا ہے۔بعض سیاسی ماہرین کے مطابق یہ موجودہ دور کے علم سیاسیات کا وہ متنازعہ ترین نظریہ ہے جس سے لاکھ اختلاف کے باوجود مفر ممکن نہیں۔ یہ حقیقت اس سے بھی آشکارا ہوتی ہے کہ جب بھی بین الاقوامی سیاست میں کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو سیاسی مبصرین کے درمیان یہ ایک ہاٹ ٹاپک بن جاتا ہے۔ایسا ہی کچھ ماہ نومبر میں پیش آنے والے واقعات کے بعد ہو رہا ہے۔زیر نظر تحریر میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ یہ تھیوری بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں کہاں پلیس ہوتی ہے؟
امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کے خاتمے کے بعد طاقت کا توازن بگڑنے کے باعث دنیا تیزی کے ساتھ تبدیل ہونے لگی۔9/11 کے بعد امریکہ نے جب مغربی ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی تو بین الاقوامی سیاست میں نت نئے تنازعات نے جنم لیا اور نئی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔2001 میں جب سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان پر امریکہ اور نیٹو ممالک کے حملے کو نئی صلیبی جنگ کا نام دیا اور اس کے بعد 2003 میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کو جواز بنا کر عراق پر چڑھائی کردی تو اس وقت ہی یہ سوچ پروان چڑھنے لگی تھی کہ روس کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف اسلامی دنیا ہے۔اسی امریکی حملے نے آگے چل کر پوری دنیا کا نقشہ بدلنا تھا۔ اس حملے کے بعد افغانستان میں لڑنے والے غیر ملکی ’’جہادیوں‘‘ کی بڑی تعداد نے عراق کا رُخ کیا جبکہ دوسرے خطوں میں لڑنے والے جنگجو بھی عراق میں جمع ہوگئے۔ اس جنگ کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور امریکہ بھی زیادہ دیر تک یہاں ٹک نہیں سکا اور عبوری حکومتوں کے بعداسلامک دعویٰ پارٹی کے سیکرٹری جنرل نوری المالکی کے ہاتھوں میں اقتدار تھما کر وہاں سے اپنی فوجیں نکال لیں۔ یہ حکومت اس اہل نہیں تھی کی ملک میں جاری شورش کا خاتمہ کرتی۔اس دوران ’’عرب بہار‘‘ کی ہوا چلی اور خطّے کے دوسرے ممالک بھی اپنے اپنے مرکزی اقتدار سے محروم ہوگئے جس سے ہر طرف ایک انارکی پھیل گئی اور یوں یہ خطّہ عالمی طاقتوں کے لئے ایک ’’سینڈوچ‘‘ بن گیا۔ تیل و گیس اور دوسرے قدرتی ذخائر سے مالا مال اس خطّے میں اب اگرایک طرف عالمی طاقتیں کھل کر اپنے مفادات کا کھیل کھیلنے لگیں تو دوسری جانب یہ خطّہ دہشت گرد عناصر کا بھی گڑھ بن گیا جہاں داعش جیسی تنظیم نے جنم لیا جس کی طاقت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔نومبر کے پہلے عشرے میں مصر میں ایک روسی طیارے کے گر کر تباہ ہوجانے کے واقعے نے جس میں سوار 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی اور اس کے بعد ماہ نومبر ہی کی 13 تاریخ کو اسی گروپ کے جنگجوؤں کا فرانس کے دارالحکومت پیرس کے چھ مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کرنے جن میں 130 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ، ایک بار پھر 20 ویں صدی کے آخری عشرے میں منظر عام پر آنے والی سیموئیل پی- ہنٹنگٹن کی تھیوری ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کو موضوع بحث بنا دیا۔ ان دو واقعات پر مغربی دنیا کی جانب سے شدید ردّ عمل دیکھنے میں آیا۔اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل میں پیرس حملوں پر شدید غم و غصّے کا اظہار کیا گیا اور داعش کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے لئے ایک قرار داد منظور کی گئی۔مغربی ممالک کے رہنماؤں اور عوام نے فرانس کے ساتھ خیر سگالی اور غمگساری کے جذبات کا اظہار کیا، اسی طرح کے مناظر جنوری میں پیرس میں چارلی ہیبڈو میگزین پر ہونے والے حملے کے بعدبھی دیکھنے میں آئے تھے۔ اس اثناء میں جب عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے پیرس حملوں کو تیسری عالمی جنگ کا آغاز قراردے دیا تو مسلم دنیا میں شدّت سے یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ پیرس حملوں سے صرف ایک روز قبل بیروت میں ہونے والے دھماکوں جن میں 43 افراد ہلاک اور ڈھائی سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے ،پر اتنا شدید ردّعمل دیکھنے میں کیوں نہیں آیا؟اس سے صرف ایک ماہ قبل ترکی میں ہونے والے دو بم دھماکوں پر جن میں دو سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے ، مغرب نے اتنا واویلا کیوں نہیں مچایا؟ اس کے علاوہ فلسطین ، عراق، لیبیا، شام، مصر، یمن ،کشمیر اور افغانستان میں کئی برسوں سے جاری بے گناہ مسلمانوں کے قتل و غارت پر مغرب نے چپ کیوں سادھی ہوئی ہے؟ یہیں سے پرانی بحث نئی پیرایوں میں شروع ہو گئی۔

اب ایک بار پھر ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کے نظریے پر یقین رکھنے والے سیاسی مبصرین سلسلہ در سلسلہ ہونے والے یہ واقعات اسلام اور مغرب کے درمیان تصادم کی جانب پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ان کے مطابق دنیا اس زمانے کی دو بڑی تہذیبوں اسلام اور مغرب کے درمیان تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہ اس کی مثال میں مسلمانوں کے دورِ عروج کے دوران 11ویں صدی سے لے کر 15ویں صدی تک مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہونے والی صلیبی جنگوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں مغرب اسلام کو دنیا پر اپنی حاکمیّت برقرار رکھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ وہ مغرب میں اسلام اورمسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات کا خصوصی طور سے ذکر کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں مغربی ممالک میں آج کل اسلام مخالف پراپیگنڈا زور پکڑ رہا ہے۔ جنوری کے مہینے میں فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کا اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے خاکے شائع کرنا اور حال ہی میں امریکہ کے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بن کارسن کا یہ بیان کہ ’’کسی مسلمان کو امریکہ کا صدر نہیں بننا چاہئے‘‘اس کی تازہ مثالیں ہیں۔اس گروہ کے مبصرین اپنے دفاع میں نظریہ ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کے خالق سیموئیل پی۔ ہنٹنگٹن کی اسی پیش گوئی کا سہارا لے رہے ہیں جس کے مطابق اس تصادم میں چینی اور روسی تہذیبوں کا جھکاؤ مغرب مخالف فریق کی جانب ہوگا، اگر دیکھا جائے تو دنیا کے موجودہ بدلتے ہوئے منظرنامے میں ان کا جھکاؤ واضح طور پر پاکستان، ایران جو کہ اس زمانے کی طاقتور اسلامی ریاستیں ہیں کی جانب ہے اگرچہ پاکستان کو فی الوقت مغربی ممالک کا ایک اچھا دوست ہی سمجھا جا رہا ہے لیکن اس حلقے کے مطابق عالمی سیاست میں بڑھتے ہوئے چین او ر روس کے کردار کے باعث مستقبل قریب میں پاکستان کا شمار بھی مغرب مخالف بلاک میں ہوگا۔ دوسری جانب اس تھیوری کا ابطال کرنے والے وہ سیاسی مبصرین ہیں جو ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کے نظریے کو عملی شکل میں ڈھلتے ہوئے نہیں دیکھ رہے۔ وہ اپنے دفاع میں مغرب کا مشرق وسطیٰ بالخصوص شامی تنازعے سے فرار اختیار کرنے والے تارکین وطن، جو کہ مذہب کے لحاظ سے مسلمان ہیں ،کو اپنے ہاں پناہ دینے کی مثال پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا میں اگر جاری جنگ و جدل کا تعلق اسلام اور مغرب کے درمیان ٹکراؤ، دوسرے لفظوں میں تصادم سے ہے تو پھر مغرب کیوں ان تارکین وطن کو اپنے ہاں ٹھہرا رہا ہے جبکہ خود مسلمان ملکوں کا اس لحاظ سے کردارکچھ زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ان کی رائے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اس وقت عالم اسلام کے تمام ممالک بھی آپس میں خوشگوار تعلقات نہیں رکھتے بلکہ کئی اہم معاملات میں کچھ اہم اسلامی ممالک ایک دوسرے کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں ہاتھ دئیے کھڑے نظر آتے ہیں۔یہی مکتب فکر یہاں ایک دوسری مثال کا بھی سہارا لیتا ہے۔ ان کے مطابق اگر تہذیبوں کے درمیان تصادم حقیقی ہے تو پھر کیوں ایسا ہے کہ مغرب اور کئی اسلامی ممالک آپس میں قریبی سیاسی، سفارتی، معاشی، تجارتی اور امدادی تعلقات رکھتے ہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ سیموئیل پی۔ ہنٹنگٹن کی بیان کردہ فالٹ لائن کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار نہیں کر لیتے؟

دیکھا جائے تو دونوں ہی گروہ اپنے حق میں مضبوط دلائل پیش کر رہے ہیں لیکن اگر ہم بنظر غائر یہ جائزہ لیں کہ موجودہ عالمی سیاست کا نظام کن بنیادوں پر استوار ہے تو ہمیں فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔دراصل حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بین الاقوامی سیاست پہ چل رہی ہے اور یہ تھیوری صرف اپنے مفاد کو پوجتی ہے۔مذہب، اخلاقیات، انسانی قدریں، یا سیموئیل پی۔ہنٹنگٹن کی زبان میں تہذیب کہہ لیں، یہ سب یہاں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔یہاں ہر ملک اپنے مفادات کے تابع ہے ، یہاں کی خارجہ پالیسی میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی مستقل دشمن۔ اس تھیوری کی نمائندگی کرنے والے ایک سیاسی مفکر تھامس ہابزنے کہا تھا کہ ’’انسان فطری طور پر خود غرض ہے۔‘‘ یہ اس کی سرشت میں شامل ہے کہ یہ طاقت کے حصول کے پیچھے بھاگے گا۔ لہٰذا ہم کہ سکتے ہیں کہ اس وقت سبھی ممالک اپنی پالیسیاں صرف اور صرف اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر بنا رہے ہیں جس میں اگر کوئی مقصد ہے تو صرف اور صرف طاقت کا حصول اور اپنا مفاد، باقی کچھ نہیں۔

مضمون نگار ایک معروف صحافی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.


Cleaning The Margalla Hills

Published in Hilal English Jan 2014

Written By: Shamaim Bajwa

International Mountain Day was observed on 11th December, 2013. Mountains are a source of freshwater, energy and food – resources that will be increasingly scarce in coming de-cades. However, mountains are also extremely vulnerable to climate change, deforestation, land deg-radation and natural disasters.

NUST Environment Club (NEC), one of the central societies of National University of Sciences and Technology (NUST), organized a 'Hiking Trip & Walk' at Trail-3 of Margalla Hills, Islamabad. The sole purpose of this hiking trip was to spread awareness about the importance of mountains, their preservation and conservation. This event took place on 8th December, 2013 with approximately 100 people in attendance which included students and faculty members from NUST.

Upon arriving at the venue, a briefing about the International Mountain Day and it's importance was given by Mr. Munir Ahmed, Director DEVCOM. Later all participants were divided into five groups and a group leader was appointed for each.

Trail-3 is a famous and old hiking track of Margalla Hills. The initial phase of the climb was a little tough and strenuous but after a while, the difficulty of the track was soon forgotten. As we moved further up, we were struck by the grandeur and loveliness of the mountains. The higher we went, the more beautiful our surroundings became. The view of Islamabad from the mountain track was simply breathtaking. The three-hour tiring hike was worth every drop of sweat and every bit of trouble that we had on our way.

It was not only hiking but a cleanup drive as well. Each individual was handed over a garbage bag to collect the trash on the track. The groups reached the top point of the track, Monal, in different time brackets. But all of us had one observation is common; the hills were littered with different type of waste papers, cigarette butts, wrappers and what all and what not. We all need to understand the importance of keeping our surroundings clean, especially these mountains. It was painful to note that people had thrown waste in the open despite availability of waste bins. We need to improve our civic sense.

The lunch arrangements for the hikers were made by the management. Nothing beats pizza after a tiring calorie burning hike that was served to us for lunch.

After lunch we descended to the starting point by using similar track. This trip was both enlightening and exciting. It gave everyone a chance to seriously consider the importance of preserving mountains in their original shape.

The writer is a student at NUST and pursuing degree in Environmental Engineering. This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Caveats of Health Informatics: Glimpsing Through IT Panels

Written By: Col Faysal Nawaz Janjua

Health Informatics (HI) is seen worldwide as one of the effective disciplines for enhancing the efficacy of medical procedures and promptly meeting the widening healthcare demands. Moreover, adoption rates of IT systems are exponentially increasing in healthcare sectors across the world. It is also commonly believed that healthcare IT systems improve patients’ satisfaction, enhance clinicians’ efficiency and lessen the impact of human resource shortages in healthcare sectors.


These [IT] systems are mission critical systems and are implemented in dynamic and peculiar environments of hospitals. Therefore, specific issues and actors that shape these environs deserve attention and consistent guidance respectively. The success of implementation process is as important as healthcare IT systems themselves; since these healthcare systems and their integrated applications cause huge risks of failure; and the effect of error is enormous, making these systems completely different from normal IT projects. The risk becomes even larger when such systems are deployed in multiple intra-load sharing hospitals which are scattered over wide areas. From a change management perspective, an interesting job of the project manager is “to get the unwilling to do the impossible for the ungrateful”.


One of the prime slip-ups expected from change managers is assuming the “finish line” at the end of the project. Hence management efforts and resources are restricted till the system implementation stage whereas; one critical stage of healthcare IT system rollout is the monitoring and management of “change” after successful implementation of the IT systems. Organizational change involves heavy risks, as the consequences of change are usually less eminent than the consequences of not changing. In such environments, when there is slight difference between perceptions of current situations and aspiration levels, the need for change is hardly recognized.


During the early stage of implementation, changes in clinician's productivity may require extra staff and to be able to make continuous adjustments. Another important factor during change process is to discern the difference between the organizational noise that comes due to change or reflects real problems, so that the organizational inertia is addressed accordingly. The literature identifies communication in healthcare individuals as often "informal, disorganized and variable". If cooperation is not part of the organizational culture, individuals will not fully participate in cooperative work. Furthermore, the complexities and required inter-dependencies of the medical processes make healthcare IT systems more intricate in their performance outcomes. Therefore, healthcare IT systems are not considered a cost-effective option, due to their complicated development and implementation process; and reduced success rate of acceptance by healthcare users.


Innovative healthcare providers are moving away from focusing heavily on acute care and instead shifting their focus to proactive care which cannot be possible without utilizing IT in healthcare sectors. Devoid of a defined care plan, medical errors often sneak through the cracks of disorganized healthcare IT systems and eventually lean processes fail. Lean, in its simplest terms, is about increasing value by eliminating waste. Untapped abilities and creativity of front line workers is a huge waste in healthcare. One of the challenges, that lean addresses, is the fact that waste is often not where we think it is.


Guiding principles for Health Sector Executives & Change Managers for Seamless Implementation of Health Informatics Projects are: Flexibility. "People believe software to be flexible, and therefore they flex it. They flex it beyond reasonable boundaries." (J. Millar). A related problem for IT projects, also stemming from the intangible nature of software is abuse of the perceived flexibility of software. The inability to visualize the boundaries of what is possible or practical in IT encourages people to change their mind more frequently than they might do for engineering projects where constraints are obvious.


Complexity. Complexity can be a significant obstacle to successful design and delivery of IT projects. As stated by G. Robinson: "On a large software project one is lucky if one person in 50 has anything resembling an overall understanding of the conceptual structure of the project, and divinely blessed if that person has the ability to explain it in lay terms."


Uncertainty. Many complex IT systems seek to undertake or augment tasks previously carried out by people. There can be great difficulty in elucidating clear requirements for such systems, since the outcome of any software project is necessarily uncertain and there is no problem “producing” software – the problem is knowing what to produce.


Software and Failure. "In my experience when things go wrong there is always somebody in the organization who knew they were going to go wrong. The question is how do you create an environment in which those who know it’s going to go wrong feel able to say so and then get a proper hearing?" (G. Robinson). In a software project you don’t finish any task until the whole task is complete. Requirements Management


"Humans are very poor at saying precisely what they do want and extraordinarily talented at recognizing what they don’t want." (M. Lunt). Requirements’ definition is one of the most critical, and most challenging, stage of the project. Many projects fail due to flaws in the elucidation of requirements, others fail because the requirements have become obsolete by the time the project is delivered. "Do not try to achieve everything in the first implementation. Get a working system implemented – the experience of using it generally changes your view of what you want it to do." (P. Haren). Lack of Clarity of Purpose


"Without strict project control mechanisms, projects either never end or end up as camels which should have been horses". (D. Ball). Any project or initiative is destined for trouble if its objectives and purposes are unclear. "Value the experience of failure – you have just spent a fortune on a very expensive lesson." (D. Dalcher).


Inadequate Executive Support. The organization’s leaders may be committed to the undertaking yet not demonstrate that commitment. Tough project decisions may get made in a way that shows the leaders are not as serious as their rhetoric, because when push came to shove, they caved in. Absence of Credence in the Project. At times the objectives are very clear, but the members of the organization are not convinced that the project is worth doing at all. Because the project will change the work life of many members and require that they participate in design and implementation, they need to be sufficiently convinced that the project will improve their lives or is necessary if the organization is to thrive. "If you have an incorrect architecture it does not matter what else you bring to the project, it will probably be doomed to failure." (H. Lilleniit).


Organizational Inertia. Clinical work has been described as mostly "unpredictable and non-routine". Dealing with multiple uncertainties is a challenge for clinicians. Even when the organization is willing to engage in a project, inertia can hinder it. People are busy and stressed; they may imagine that an uncertain outcome cannot be a good outcome.


Recognition & Apposite Reward System. Aspects of organizational policies, incentives, and practices can hinder a project. The organization’s incentive system may not be structured to reward multidisciplinary behaviour. An integrated delivery system may have encouraged its member hospitals to be self-sufficient. As a result, management practices that involve working across hospitals never matured, and the organization does not know how (even if it is willing) to work across hospitals.


Dearth of Forthrightness. Organizations can create environments that do not encourage healthy debate. Such environments can result when leadership is intolerant of being challenged or has an inflated sense of its worth and does not believe that it needs team effort to get things done. Absence of climate that encourages conflict and can manage conflict, means that initiative problems will not get resolved.


Project Complexity. Sometimes complex projects disappear in an organizational mushroom cloud. The complexity overwhelms the organization and causes the project to crash suddenly. Many curves will be thrown the project’s way as the implementation unfolds and people realize their mistakes and understand what they failed to understand initially.


Failure to Respect Uncertainty. Significant organizational change brings a great deal of uncertainty with it. The leadership may be correct in its understanding of where the organization needs to go but the belief that a particular outcome is certain can be a problem in itself. Agility and the ability to detect when a change is not working and to alter its direction are very important.


Initiative Undernourishment. There may be a temptation, particularly as the leadership tries to accomplish as much as it can with obvious constraints. The leadership may believe that such bravado will make the team work extra hard and, through heroic efforts, complete the project in a grand fashion. However, bravado may turn out to be bellicose stupidity. This approach may doom a project, despite the valiant efforts of the team to do the impossible.


Invisible Progress. Sometimes initiatives are launched with great fanfare. Speeches are made outlining the rationale for the initiative. Then nothing seems to be happening. If possible, the project should seek to produce a series of short-term deliverables, even if they are small. Organizational commitment is like a slowly leaking balloon; it must be constantly re-inflated.


Organizational Baggage. Some organizations have no history of competence in making significant organizational change. They never master staying the course over years during the execution of complex agendas. This taints the credibility of newly proposed initiatives and helps ensure that organizational acceptance will be weak.


Failure to Anticipate Short-Term Disruptions. When processes are changed, there is a shakeout period as staff adjusts and learns how to make new processes work well. This can degrade organizational performance and balls will be dropped in many areas. The organization can misinterpret these problems as a sign that the initiative is failing. Listening closely to the issues and suggestions of the front line is essential during this time.



While Implementing HI applications there are embedded and unbounded number of assumptions. Most of which are not decisions that you have taken, but things that you have not thought about. As victor Hugo states: “Nothing is more powerful than an idea whose time has come”.

The writer is MS in Computer Software Engineering & Engineering Project Management from NUST & Melbourne Uni Australia respectively.
We know why projects fail; we know how to prevent their failure – so why do they still fail?" (Cobb’s Paradox)



Follow Us On Twitter