08
January

ہمارا کراچی

تحریر: ڈاکٹر ہمامیر

آداب! قارئین کو نیا سال مبارک ہو۔ 2016شروع ہو گیا ہے اور اپنے ساتھ نئی امیدیں‘ نئی امنگیں‘ نئی روشنی اور نئی تمنائیں لے کر آیا ہے۔ ہر سال کا آغاز عموماً اسی کیفیت میں ہوتا ہے۔ جب ہم نئی سوچ کو پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں، نئے خواب آنکھوں میں بساتے ہیں اور ان کی تعبیر پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیلنڈر میں نیا سال جنوری سے شروع ہوتا ہے مگر شاید اس نئے سال کی مسرت کی کرنیں دسمبر سے ہی دل میں پھوٹنے لگتی ہیں۔


کینیڈا میں دسمبر کا مہینہ کرسمس اور نیوائر منانے سے موسوم ہے۔ اوائل دسمبر سے ہی شاپنگ مال سجائے جاتے ہیں۔ بڑی بڑی سیل لگتی ہے اور سانتاکلاز بچوں میں چاکلیٹ و دیگر تحائف تقسیم کرتے ہیں۔ کرسمس عیسائیوں کا مذہبی تہوار ہے۔ اس موقع پر اشیاء خاص طور پر سستی کر دی جاتی ہیں تاکہ ہر خاص و عام اس موقعے کو خوشی سے منا سکے۔ 50سے لے کر 70فیصد تک کی کمی عام استعمال کی چیزوں پر کی جاتی ہے۔ نیز تحائف دینے کے لئے چاکلیٹ‘ پروفیوم اور دیگر اشیاء بھی سیل پر ہوتی ہیں۔ گراں فروشی‘ ذخیرہ اندوزی کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہوتا۔


دسمبر میں کینیڈا میں سردی بھی خوب پڑتی ہے۔ برف کی دبیز تہیں موسم کی سختی کا احساس دلاتی ہیں۔ اس ٹھنڈے موسم میں ہم نے وطن عزیز جانے کا قصد کیا اور کراچی جانے کے لئے رختِ سفر باندھا جہاں سال کے بارہ مہینے گرمی پڑتی ہے۔ موسم کو تو ایک طرف رکھئے، ہمارے کراچی جانے کے اصل میں کئی اسباب تھے۔ سب سے پہلے تو ہمیں آرٹس کونسل میں ہونے والی سالانہ اُردو کانفرنس میں شرکت کرنی تھی جو عالمی سطح پر اُردو کے حوالے سے سب سے بڑی کانفرنس ہوتی ہے۔ اس عالیشان کانفرنس کی نظامت ہم پچھلے کئی برسوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں اور اس مرتبہ بھی یہ ذمہ داری ہمارے کندھوں پر تھی۔ چار روزہ آٹھویں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت بے شک ہمارے لئے بڑا اعزاز تھا۔ اس کے علاوہ ہمیں بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی کے ایک میوزک شو کی کمپیئرنگ بھی کرنی تھی۔ ان وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم، اور ہمارا خیال ہے سب سے بڑی وجہ، یہ تھی کہ ہماری شدید خواہش تھی کہ 2015کے آخری غروب آفتاب اور 2016کے پہلے طلوع آفتاب کو اپنی سرزمین‘ اپنے وطن‘ اپنے پیارے پاکستان میں دیکھیں۔
وطن جانے کی خواہش بھی کیا کمال شئے ہے۔ سمجھ میں نہیںآتا کن الفاظ میں اس جذبے کو تحریر کریں جو دل میں ہمک ہمک کر پورے وجود میں سرشاری بھر دیتا ہے۔ قریبی عزیز و اقارب کے لئے تحائف کی خریداری‘ سامان کی پیکنگ‘ اپنوں کے پاس جانے کی لگن سب کا اپنا الگ مزا ہے۔

hamarakarachi.jpg
ہم نے گرم کپڑے کینیڈا میں ہی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ بس ایک چمڑے کی جیکٹ احتیاطاً ساتھ رکھ لی۔ تحائف کی بات کریں تو چاکلیٹ‘ کاسمیٹکس اور پرفیوم ہم نے خوب خریدے اپنی بہن اور بھائی کے لئے دو دو سویٹر بھی لئے۔ پیکنگ مکمل ہونے کے بعد جب ہم نے اپنے دو بھاری سوٹ کیسز کا وزن کیاتو ہم حیران ہی رہ گئے کہ آخر کیا پتھر ہم نے بھر لئے ہیں جو اتنا زیادہ وزن ہو گیا۔ وزن مقررہ حد سے زیادہ ہو تو اضافی پیسے لگتے ہیں جس کی ہماری جیب اجازت نہیں دیتی، لہٰذا ہم بہت کھینچ کھانچ کے بالآخر مقررہ وزن تک اپنے بیگز کو لے آئے۔ بس اتنا ضرور ہوا کہ ہمیں اپنا بہت سا سامان نکالنا پڑا۔ ایک ڈر یہ بھی تھا کہ کہیں خدانخواستہ بیگ اِدھر اُدھر نہ ہو جائے کیونکہ گزشتہ برس ہم اس تلخ تجربے سے بھی گزر چکے ہیں۔ جب ٹورنٹو سے براستہ دبئی کراچی پہنچے تو ہمیں پتہ چلا کہ ہمارا ایک بیگ لاپتہ ہے۔ ہم نے متعلقہ ایئر لائن میں شکایت درج کرائی مگر بیگ کا سراغ نہ مل سکا۔ خیر ہم صبر کر کے بیٹھ گئے مگر اس بار ہمیں دھڑکا تھا کہ اگر بیگ کھو گیا تو ساری شاپنگ غارت ہو جائے گی۔ رشتہ داروں کو بھی یقین ہو جائے گا کہ یہ خالی ہاتھ آتی ہے اور بہانہ یہ بناتی ہے کہ بیگ کھو گیا۔


خیر صاحبو! ہم ونکوور سے براستہ امریکی شہر سیاٹل اور پھر دبئی سے ہوتے کراچی پہنچ گئے۔ راستے بھر مسلسل جاگنے اور لگاتار فلمیں دیکھنے کے باعث سردرد کر رہا تھا۔ ہوائی جہاز میں ہمیں بالکل نیند نہیں آتی۔ سفر کے دوران ہمیں ان لوگوں پر رشک آ رہا تھا کہ جو ماحول سے بے خبر‘ بچوں کے شور اور رونے دھونے سے غافل آرام سے کمبل تانے خراٹے لے رہے تھے۔


33گھنٹے کے طویل سفر کے بعد جب تھکے ہارے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے تو سوچا ذرا واش روم جا کے فریش ہو جائیں۔ وہاں گئے تو دیکھا فرش پہ پانی پھیلا ہوا تھا۔ کاکروچ چاروں طرف آزادی سے گھوم رہے تھے۔ ٹشو پیپر بھی موجود نہ تھا۔ اور صفائی پر مامور خاتون ایک کونے میں آرام سے لیٹی خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں۔ ان کے اونچے خراٹے سمع خراشی کر رہے تھے۔ ہم نے سوچا کہیں ہمارے آنے سے محترمہ کی نیند خراب نہ ہو جائے اور ویسے بھی واش روم گندگی کے باعث قابل استعمال نہ تھا، چنانچہ ہم الٹے پاؤں باہر نکل آئے۔ امیگریشن سے فارغ ہوئے تو پھر اگلا مرحلہ سامان کی وصولی کا تھا ہم بیلٹ کے پاس کھڑے ہو گئے، کافی دیر ہو گئی ہمارا سامان نہ آیا۔ ہمیں تشویش ہونے لگی سب کا سامان آ گیا ہمارا آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ برا حال تھا ہمارا۔ کہیں پھر غائب نہ ہو گیا ہو۔ ہزار طرح کے وسوسے آ رہے تھے۔ اور پھر بالآخر یوں ہوا کہ سب سے آخر میں بہت دیر کے بعد ہمارا سامان آ ہی گیا مگر اس حال میں کہ نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔ مال اڑانے کے لئے کسی نے بے دردی سے بیگ کا تیاپانچا کر دیا تھا۔ یہ دوسرا دھچکا تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا کس سے کہیں۔ کیا کہیں۔۔۔۔؟


ہماری فیملی باہر لاؤنج میں ہماری منتظر تھی اور بار بار ہمیں موبائل پہ فون کر رہی تھی۔ ہم دوڑ کے ان کے پاس جانا چاہتے تھے مگر بوجھل قدموں سے بمشکل ٹرالی گھسیٹتے ان کی جانب چلے۔ والدہ سامنے ہی کھڑی نظر آ گئیں۔ ان کو دیکھا تو صحرا سے نخلستان میں آ گئے۔ گلے لگ کر محسوس ہوا کہ روح ہلکی پھلکی ہو گئی ہے۔ سفر کی تھکن‘ سردرد‘ کوفت‘ سب کچھ پل بھر میں غائب ہو گیا۔ اپنے وطن آنے کا‘ اپنے خاندان سے ملنے کا احساس ہر چیز سے زیادہ پیارا ہے۔ دل جیسے خوشی کھل گیا۔
کینیڈا سے کراچی تو ہم پہنچ گئے۔ بس اب ایک مشکل مرحلہ باقی تھا یعنی ہوائی اڈے سے گھر پہنچنا۔ اہلیان کراچی جانتے ہیں کہ رات کو ایئرپورٹ کے راستے میں اکثر مسافر ڈاکوؤں کے ہاتھ لٹ جاتے ہیں۔ الحمدﷲ رینجرز کے آپریشن کے باعث جہاں شہر میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے وہیں راہزنی کی وارداتیں بھی کم ہو گئی ہیں۔ ہم نے آیت الکرسی کا حصار باندھا او رگھر کو روانہ ہوئے۔ راستے بھر سفر کی تفصیلات بتاتے رہے اور لگاتار بولتے رہے۔ آدھے پونے گھنٹے کے بعد گھر پہنچے تو خدا کا شکر ادا کیا کہ سفر بخیروخوبی تمام ہوا۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وطن جانے کی خواہش بھی کیا کمال شئے ہے۔ سمجھ میں نہیںآتا کن الفاظ میں اس جذبے کو تحریر کریں جو دل میں ہمک ہمک کر پورے وجود میں سرشاری بھر دیتا ہے۔ قریبی عزیز و اقارب کے لئے تحائف کی خریداری‘ سامان کی پیکنگ‘ اپنوں کے پاس جانے کی لگن سب کا اپنا الگ مزا ہے۔

*****

ہماری فیملی باہر لاؤنج میں ہماری منتظر تھی اور بار بار ہمیں موبائل پہ فون کر رہی تھی۔ ہم دوڑ کے ان کے پاس جانا چاہتے تھے مگر بوجھل قدموں سے بمشکل ٹرالی گھسیٹتے ان کی جانب چلے۔ والدہ سامنے ہی کھڑی نظر آ گئیں۔ ان کو دیکھا تو صحرا سے نخلستان میں آ گئے۔ گلے لگ کر محسوس ہوا کہ روح ہلکی پھلکی ہو گئی ہے۔ سفر کی تھکن‘ سردرد‘ کوفت‘ سب کچھ پل بھر میں غائب ہو گیا۔ اپنے وطن آنے کا‘ اپنے خاندان سے ملنے کا احساس ہر چیز سے زیادہ پیارا ہے۔ دل جیسے خوشی کھل گیا۔

*****

 
08
January

لطف یہ ہے کہ آدمی عام کرے بہار کو

تحریر: طاہر بھٹی

سردیوں کی شام کو بے منزل آوارگی سے گزارنا ہر کسی کا نصیب بھی نہیں اور ذوق بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔
ہمیں ایک طویل عرصے سے یہ ’علت‘ نصیب ہے۔ کل شام ایک دوست کے ساتھ فورسہائیم کی سیر کو نکلے توکئی جگہوں پر کرسمس کی تیاری کے شاندار انتظامات دیکھے جو اس شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے ہیں۔ ان مناظر نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔


جرمنی کے اس شہر کا پرانا نام گولڈ سٹڈ ہے اور اس کی دولت اور ثروت کی وجہ سے جنگ عظیم میں اس کو تباہ کرنے کی خاص کوشش کی گئی جو اس وقت تو کامیاب رہی اور اس کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا مگر جرمن قوم کی تعمیری قوت نے اس تباہی کو شکست دی اور ملبے کو ایک جگہ پہاڑی کی شکل میں اکٹھا کر کے آنے والی نسلوں کے لئے اپنی قوت ارادی کی یادگار بنا دی اور جیتا جاگتا، فعال اور باوقار شہر پھر سے کھڑا کر دیا۔ اسی شہر کے مرکزی بازار کو کرسمس کے لئے سجایا گیا ہے اور تصویریں اسی سر خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔
دوسری خاص بات یہ کہ ایسے خوشی کے تہواروں پر سامان ’ضرورت‘ سے سٹور لدے ہوتے ہیں مگر اشیا کی قیمتیں 20% سے لے کر 70% تک کم کر دی جاتی ہیں تا کہ لوگ تہوار کی خوشی کو صرف دیکھیں نہیں بلکہ اس میں سے اپنا حصہ بھی لے سکیں۔


جاپان میں ایک زمانے میں یہ دستور تھا کہ کوئی جاپانی دنیا میں کوئی مفید یا خوشنما پودا بھی دیکھتا تو وہ اس کا بیج یا پنیری اپنے ملک کے لئے ضرور ساتھ واپس لاتا تھا۔۔۔۔۔کچھ ایسا ہی جذبہ خاکسار کا بھی ہے کہ جرمنی کی ہر ترقی اور آسودگی کا بیج اور پودا اہل پاکستان کے لئے بھجوایا جائے۔


کراچی روشنیوں کا شہر،
اسلام آباد خوبصورتی میں بین الاقوامی شہرت کا حامل،
لاہور کلچر کا گہوارہ،
کوئٹہ قبائلی رواج کا امین
پشاور سرحدی رسوم کا گڑھ
کشمیر۔۔۔۔۔جنت نظیر اور

lutfhaykadmi.jpg
شمالی علاقہ جات کے حسن کے بیان کے لئے الفاظ کم پڑ جائیں۔۔۔۔لیکن
کسی لمحۂ نا سپاس میں ہم نے اپنا منہ شکران نعمت سے ناشکری کی طرف موڑ لیا اور اپنے بگڑے ہوئے فہم کا نام اچھا سا رکھ کے پوری قوت سے بربادی کی منزل کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔۔۔۔خدا کا احسان ہے کی ابتدائی قربانیوں اور مخلصین کی دعا سے ہمیں وہ’ منزل‘ ابھی تک نہیں ملی۔۔


بھرا پُرا کراچی۔۔۔مگر رہنے کے لئے غیر محفو٭۔۔۔کھلا ڈلا لاہور۔۔۔مگر دھماکے۔ سر سبز اسلام آباد مگر ناکے اور بیرئیر۔
امن سے رہنے اور محبت سے ملنے والے لوگوں کو کیا ہوا؟


مسجدیں خدا کا گھر کہلا تی تھیں مگر وہاں سے نفرت کی منادی شروع ہو گئی۔۔۔اور خدا اور خدا کے رسول کے نام پر ہوئی۔۔
جہاد مسلمانوں کی قومی اور ملی غیرت کا امتیاز تھا جس کی روح کا رعب ہمیشہ کفار پر پڑتا تھا۔۔۔اب وہ اہم اسلامی امتیاز جہلاء کے ہاتھ کھلونا بن گیا اور ریاست منہ تکتی رہی کہ یا اللہ یہ مسلمان اپنی قوم سے جو لڑ مر رہا ہے اسے جہاد کیسے کہیں۔ جس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام رحمت عالم ہے اس کے نام پر انسانوں کا بے دریغ قتل عام؟
جس موت یعنی خودکشی کو اسلام میں حرام کہا گیا ہے اس کو خود کش بمبار جنت کی ضمانت سمجھ رہا ہے۔


اللہ کی تائید نے منہ موڑ لیا۔۔۔
کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطۂ زمیں پر۔
وہی خطۂ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں۔


پچھلے کچھ برسوں کا نقشہ ہے۔۔۔میں نے پنسل سکیچ بنایا ہے رنگ جان بوجھ کے نہیں بھرے۔۔۔۔یہی بہت خوفناک ہے!!
میری آنکھوں کے سامنے اس شہر کے مناظر ہیں جو بہت روشن اور ’دل کش‘ ہیں۔ان بازاروں میں بچے بوڑھے، امیر غریب، مومن کافر، لوکل مہاجر، عوام خواص، مسلمان اور عیسائی سب کے سب بے خوف و خطر گھومیں پھریں گے اور ایک دوسرے کو کرسمس کی مبارکبادیں دیں گے۔۔۔ہم عیدوں پہ اب اپنوں کو یہ کہتے ہیں کہ۔۔۔حالات ٹھیک نہیں۔۔رش والی جگہوں پہ نہ جانا۔۔۔اور جلدی واپس آ جانا۔


یہ خوف اپنے گھر میں کیوں؟
یہ وطن ہمارا ہے۔۔۔ہم ہیں پاسباں اس کے۔۔۔
چاند میری زمیں پھول میرا وطن۔۔۔


اس لئے اب ایسا کچھ کریں کہ یہ ترانے سچ لگیں اور پاکستان ہمارا ہو۔۔۔ہر پاکستانی کا۔۔۔۔ہر شہری کا ہر دیہاتی کا۔۔۔ہر مسلمان کا اورہر عیسائی کا۔
ملک قوموں کی ملکیت اور میراث ہوتے ہیں۔۔۔۔دھڑوں، گروہوں اور فرقوں کے نہیں۔اور قوم یکجہتی سے بنتی ہے باہم دست و گریبان ہجوم پر’ قوم‘ جیسا باوقار لفظ اطلاق ہی نہیں پاتا۔
لاہور پہنچنے کا ارادہ رکھنے والا شخص کتنا ہی بڑا مسلمان اور نیک کیوں نہ ہو وہ پشاور کی سمت سفر کر کے لاہور نہیں پہنچ سکتا۔
اپنی سمت درست کریں۔۔۔محبت سب کے لئے۔۔۔عام کریں۔ انسانوں کے لئے رحمت بنیں۔۔۔بلا امتیاز مذہب و ملت دکھ سکھ میں شریک ہونا سیکھیں اور اسلام کی سلامتی کے پیغام کے ساتھ غیر مسلموں کا اعتماد بحال کریں تو ہمارے شہر بھی امن۔سلامتی اور محبت کا گہوارہ بن سکتے ہیں۔۔۔بقول مولانا حالی۔۔


فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ


شہر نفرتوں سے بستے نہیں اجڑتے ہیں اور ملک نفرتوں سے ترقی نہیں کرتے۔ انبیاء علیہم السلام میں سے ایک کا نام بھی نہیں لیا جا سکتا جو اپنی سچائی کی وجہ سے انسانوں پر جبر اور قہر کی تعلیم دیتے ہوں۔۔۔۔تو آپ اگر نفرت کے بیج بو رہے ہیں تو تعارف کروائیں کہ آپ ہیں کون؟ اور اس کام کے لئے آپ نے پاکستان کو کیوں چنا ہے۔
عام پاکستانی جب زلزلے اور آفات میں ننگے پاوں مدد کے لئے بھاگ کھڑا ہوتا ہے تو عام پاکستانی کو درحقیقت نفرت کسی سے نہیں۔۔اس کے جذبات، اس کی محبت، اس کی خیرخواہی کچھ نادیدہ ہاتھ اچک کے لے گئے ہیں۔۔۔ان عیسائی اقوام کے ملکوں میں جب عید آتی ہے تو یہ ہمیں بڑی خوشدلی سے عید مبارک کہتے ہیں۔ پاکستان سب کا ہے اور عام پاکستانی محبت کا متلاشی بھی ہے اور محبت کو عام بھی کرنا چاہتا ہے۔ نئے سال کی آمد آمد ہے۔ ہلال میگزین مسلح افواج ہی کا نہیں پاکستان کے عوام کا بھی نمائندہ ہے۔۔میں اس کی وساطت سے اہل پاکستان کو محبت کو عام کرنے اور نفرت کو ختم کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ پاکستان کے شہروں اور دیہات میں امن، اخوت،ہمدردی، تعمیر نو، اور باہمی غیر مشروط ہمدردی کی شجر کاری کی مہم چلانے کی دعوت دیتا ہوں۔

یہ جہاد کیوں نہیں کرتے؟؟؟


لطف یہ ہے کہ آدمی عام کرے بہار کو
موجِ ہوائے رنگ میں آپ نہا لئے تو کیا

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
26
December

Climate Change and Water Tower of Asia (A Scientific Perspective)

Published in Hilal English Jan 2014

Written By: Dr M. F. Khokhar and Lokhaiz Ali

Many glaciers and snowpacks around the world are receding. The rates and timing of glacial wasting, the volume of ice melt that causes a net loss of glacier volume, vary and the causes are complex. In most instances there are multiple influences that interact in complicated ways. Glaciers are retreating at different pace in different parts of the world and there are concerns about the consequences for available water supplies. The glaciers of the Hindu Kush-Himalayan (HKH) region are among the largest and most spectacular in the world. Although there is little scientific knowledge and information about the state of the glaciers of the HKH region, with repercussion for future water supplies, there is also significant uncertainty. Concern has been heightened by several highly visible decrees which upon examination proved to be highly qualitative, local in scale and/or to lack any credible scientific basis.

The Hindu Kush-Himalayan (HKH) region extends over 2,000 km from east to west across the Asian continent spanning several countries: Afghanistan, Bangladesh, Bhutan, China, India, Nepal, and Pakistan. This region is the source of numerous large Asian river systems, including the Indus, the Ganges, and the Brahmaputra, which provide water for over a billion people. The surface water of these rivers and associated groundwater constitute a significant strategic resource for all of Asia. Many of the countries in this region are already experiencing physical water scarcity. Existing water stress and projections of population growth have led to concern over possibilities of negative impacts from changes in the availability of water supplies in the coming decades. Water managers across the Himalayan region will confront a host of overlapping socioeconomic, environmental, and policy challenges as they strive to fulfil their societies' future water needs. In many of the great rivers that rise in the Hindu Kush-Himalayan mountains – the Amu Darya, Ganges, Indus, Yellow – total withdrawals nearly equal or even exceed long-term flow balances. Hundreds of millions of people today reside in basins that are essentially “closed.” All of their waters are already being used to meet various human demands and maintain vital ecosystems with little to no spare capacity left over.

The Hindu Kush-Himalayan region, including the Tibetan plateau, also functions as a complex interaction of “atmospheric, cryospheric, hydrological, geological and environmental processes that bear special significance for the Earth's biodiversity, climate and water cycles.” For example, the region plays a prominent role in generating the Asian monsoon system that sustains one of the largest populations on earth. These ecosystem services from the

Himalayan river basins also form the basis for a substantial portion of the region's total GDP (UNEP, 2012). Many studies state that the melting of glaciers is a clear indicator of climate change and note that glacier change is the most visible and obvious indicator of changing temperatures. Temperatures at some locations in the Himalayan region have risen faster than the global average. From 1982 to 2006, the average annual mean temperature in the region increased by 1.5 °C with an average increase of 0.06 °C per year, although the rate of warming varies across seasons and ecoregions. It stands to reason that the rising temperature in the Himalayas would affect glacier melt. However, uncertainty about the current state of Himalayan glaciers and the future state of the climate, as well as an incomplete understanding of the processes affecting Himalayan glaciers under the current climate, make any projections of climate change's impact on glaciers uncertain.

Despite inconsistencies in the published research, there is overall agreement that scenarios indicate a general decrease in ice volumes with retreats occurred mostly in the east, while in the west, the glaciers’ responses are complex, especially around the Karakoram region. Since the 1990s, expansion of some larger glaciers has been observed in the central Karakoram; and some have advanced and thickened indicating an apparently atypical climatic response. The current behaviour of Karakoram glaciers prevents drawing conclusions about how the glaciers will continue to respond in the Karakoram region in the future.

While data are lacking for a good understanding of the patterns of change in the glaciers of the Himalayas, there are some generalizations that can be made about the different regions of this vast area. Zone 1: Mainly in Afghanistan, this area has relatively stable or very slowly retreating glaciers. Zone 2: The Northwestern Himalayas including the Karakoram have highly varied glacier behaviour, with many surge glaciers, many advancing, stable, and retreating snouts and comparatively few large lakes. Glaciers in the Pamir Mountains of Tajikistan are generally retreating while further south, behaviour of the Karakoram glaciers is mixed, but lacking wholesale, rapid disintegration of glacier tongues and rampant lake growth. Zone 3: Mainly in India, southwestern Tibet and western Nepal, this area has mainly stagnating, retreating snouts and time variability with periods of slower retreat for some glaciers during parts of the 20th and 21st centuries. There are fewer lakes than in the eastern Himalayas, but large lakes may be a growing phenomenon as glaciers thin down and tend to stagnate.

Zone 4: Mainly Nepal, Bhutan, Sikkim and southeastern Tibet, this area has many large glacier lakes, especially since the 1960s. Many glaciers are rapidly disintegrating as they stagnate and thin down. Glaciers on the south side generally have more debris cover than they do on the north side. A widely cited estimate shows considerable variation in the contribution of melt water across the river basins fed by Himalayan glaciers, although this varies seasonally and spatially. The importance of melted water contribution also varies by basin: it is extremely important to the Indus Basin, important for the Brahmaputra Basin, but plays modest roles for the Ganges, Yangtze and Yellow Rivers. By region, meltwater contributes 30 % to the total water flow in the eastern Himalayas, 50 % in the central and western Himalayas and 80 % in Karakoram.

There is another unique feature of Himalayan glaciers; Siachen Glacier, the highest battleground on earth, where India and Pakistan have fought intermittently since April 13, 1984. Both countries maintain permanent military presence in the region at a height of over 6,000 metres (20,000 ft). More than 2000 people have died in this inhospitable terrain, mostly due to weather extremes and the natural hazards of mountain warfare. India is controlling most part of the glacier, to include: 70 km long Siachen Glacier and all of its tributary glaciers, as well as the three main passes of the Saltoro Ridge immediately west of the Glacier – Sia La, Bilafond La, and Gyong La. Pakistan controls the glacial valleys immediately west of the Saltoro Ridge.

Indian military operations are not only causing the physical damage (digging trenches, clearing glaciers for settlements and roads for logistic purposes), but their activities have resulted into spewing substantial amount of green house gases and soot particles in such high altitude region of Siachen. This may consequent in further warmer temperature, glacial lake formation and finally accelerating the glacier mass depletion rate. A recent study by Rasull et al., (2008) observed rise in temperature of 4°C over the time period of 1991-2004 and attributed this increase to the presence of army, large vehicular movement and allied activities to setup infrastructure for settlement and logistic purposes (e.g. Rohtang Tunnel etc.) in the area of Siachen Glacier. They further elaborated that human presence in the region has resulted in the thinning of ice and retreat of glacial extent at an alarming rate.

The decay estimates calculated by remote sensing techniques suggests that Siachen Glacier has reduced by 1.9 km in longitudinal extent from 1989 to 2006 along with 17 % thinning of the glacier mass. Additionally, it has resulted in increased number of avalanches in the region. For instance, on 7 April 2012, an avalanche hit a Pakistani military headquarters in the area, burying over 140 Pakistani soldiers and civilian contractors. Beside the frequent natural hazards, the military intervention at Siachen Glacier has also been affecting the neighbouring glaciers such as Gangotri, Miyar, Milan and Janapa which feed huge mass of population downstream on both Indian and Pakistan sides.

In the current scenario of climate change impacts on glaciers; the military withdrawal from Siachen region is mandatory to avoid the foreseen threats of human causalities and Himalayan glaciers retreat. After Gayari incident (avalanche) of April 2012, the then COAS, Gen Kayani offered India to demilitarize Siachen on bilateral basis. Apart from that, Indian military preparedness regarding Siachen Glacier clearly indicates that there is absolutely no sign from the Indian side to withdraw from world's highest battlefield and relocate them according to the 1989 agreement. India needs to think on these lines and plan to vacate the glaciated area as offered by Pakistan. Indians should stop causing environmental havoc to the region. The earlier, the better!

Dr Faheem is a PhD and on the faculty of Institute of Environmental Sciences and Engineering (IESE) at NUST. Mr Lokhaiz is a PhD Scholar at NUST. This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Follow Us On Twitter