11
January

ہم سب کی جنگ

تحریر: انوار ایوب راجہ

''کرامت حسین کو یونیورسٹی میں سب کیری کہتے تھے اور وہ ان چند ایک نوجوانوں میں سے تھا جو آئی ڈینٹٹی کرائسس کا شکار تھے۔ کرامت عرف کیری اچھا طالب علم تھا مگر بہت کچے ذہن کا تھا۔ وہ اپنی برطانوی شناخت، اپنی پاکستانی شناخت اور اپنے مذہبی عقائد کے درمیان ایک سینڈویچ تھا اور یہی اس کا المیہ تھا۔'' ولی بھائی خاموش ہوئے تو میں نے پوچھا ''اس کیری کا ہم سے کیا تعلق ؟ ہم تو آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا دنیا میں ہونے والی جنگیں ہماری ہیں ؟''


'' میں تمھارے سوال کی طرف آ رہا ہوں۔'' ولی بھائی نے بات جاری رکھی ''کرامت کی کہانی سن لو تمہیں اپنا محاذ چننے میں آسانی ہو گی۔'' میں نے معذرت کی اور میں موسیٰ ، شین اور شیری کے ساتھ خاموشی سے بیٹھ گیا اور کرامت کی کہانی سننے لگا۔


ولی بھائی بولے ''ایک روز کرامت یونیورسٹی میں کچھ نوجوانوں کو ملا جو تبلیغ کر رہے تھے۔ انہوں نے جعلی فقیری کا جال بچھایا ہوا تھا اور جو کوئی بھی ان کے جال میں پھنستا وہ اسے اپنے پیر صاحب کا پتہ دیتے۔ یہاں کوئی تصوف والی بات نہیں تھی، بس مرد بھرتی ہو رہے تھے۔ کرامت بھی بھرتی ہو گیا۔ اس نے پیر صاحب کا پتہ لیا اور ایک شام ان کے آستانے پر حاضر ہوا۔برطانیہ میں اس قدر شاندار پیر خانہ دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوا اور ایک دو ملاقاتوں میں وہ بھرتی ہونے کے ساتھ ساتھ پیر کی ہر بات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے لگ گیا۔ آغاز میں کرامت کا کام پیر کے جلسوں میں مہمانوں کی دیکھ بھال کرنا تھا، پھر آہستہ آہستہ جب کرامت قابل یقین مریدوں کی فہرست میں آیا تو اس کی، بقول خلیفہ جیمز کے، تربیت کی گئی۔ پیر کے خلیفے ماڈرن تھے اور ان کے نام ہیری، جیمز، جمی اور ٹیری تھے کیونکہ جب وہ پیر کے مرید بنے تو ان کی اپنی پہچان ہارون سے ہیری، جمشید سے جیمز ، جمال سے جمی اور طارق سے ٹیری ہو چکی تھی اور پیر اس پر خوش تھا کیونکہ یہ اس کی مارکیٹنگ کے لیے بہت سود مند نام تھے۔''
''ہارون سے ہیری ، جمشید سے جیمز، جمال سے جمی اور طارق سے ٹیری؟ کتنی عجیب بات لگتی ہے۔ یہ پیر صاحب کوئی مافیا تھے ؟ موسیٰ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔


''مافیا نہیں آشرم ، ایک آماجگاہ جہاں سے پریشان حال لوگ خیر خریدنے آتے تھے، جہاں تھوڑی سے کوشش سے بہت سے دکھی لوگوں کے راز کریدے جاتے اور بدلے میں انہیں مزید غم اور تکالیف کے تعویذ پلائے جاتے۔ خیر اس میں لوگوں کا بھی قصور ہے، جب آپ کا ایمان کمزور ہو، توکّل ا ﷲ کی ذات کے بجائے گدیوں سے جڑ جائے تو نتیجہ ہمیشہ خوف ناک ہوتا ہے، جیسے کرامت کا ہوا۔'' ولی بھائی نے وضاحت کی۔
''کیا یہ پیر کوئی اَن پڑھ شخص تھا یا اس کے پاس کوئی جن تھا، یا یہ کالا جادو کرتا تھا ؟'' شین نے پوچھا۔


''نہیں وہ ایک اکائونٹنٹ تھا بلکہ ڈاکٹر، آپ اسے ایک بیرسٹر بھی کہہ سکتے ہیں، کبھی کبھی تو لگتا تھا یہ کسی یونیورسٹی کا پروفیسر ہے، ایک مکمل پیکیج، ایک بہروپیا بھی ہم کہہ سکتے ہیں، مگر مکمل بہروپیا اور اس کے بہروپ میں یہ سب لوگ چھپے تھے۔ آپ اس سے جس موضوع پر بات کریں اس کے پاس جواب ہوتا تھا۔'' ولی بھائی نے شین کے سوال کا جواب دیا اور بات جاری رکھی۔ ''مگر یہ کمال اس کا نہیں تھا، یہ کمال تھا خلیفوں کا جو ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھتے رہتے اور اکثر رات کو سنوکر کھیلتے ہوئے پیر صاحب کو حالات حاضرہ سناتے۔ پیر صاحب کے دو گھر تھے، ایک گھر جہاں صرف مرید اور عوام پیر صاحب سے ملنے آتے اور ایک گھر پیر صاحب کے آرام کے لئے تھا۔ پیر صاحب کی کوئی تین یا چار بیگمات تھیں اور سب کے لئے الگ الگ دن تھے۔ ان سب کے اپنے اپنے گھر تھے اور اپنی اپنی باری پر، یہ خواتین جنھیں مائی صاحبہ کہا جاتا، تشریف لاتیں اور پیر صاحب کے ساتھ وقت گزارتیں مگر رات کو پیر صاحب اپنے خلیفوں کے ساتھ سنوکرضرور کھیلتے اور یہیں انہیں حالات حاضرہ سے آگاہی حاصل ہوتی۔ پیر صاحب کا کمال یہ تھا کہ ان کی یادداشت بہت اچھی تھی اور یہی ان کی طاقت تھی۔ پیر صاحب نماز روزہ بھی حساب کا کرتے بس کہتے کہ انسان کو اپنے من میں رب ڈھونڈنا چاہئے اور بہت سے نوجوان اپنے من کی تلاش میں قرآن سے رجوع کرنے کے بجائے پیر کے در سے انوارات کی تلاش کرنے لگے۔ خیر کرامت آہستہ آہستہ پیر کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ پیر ان سب کو اپنی آنکھوں کا تارا بناتا جن کی سلیٹ خالی ہوتی کیونکہ خالی سلیٹوں پہ عبارتیں مرضی کی لکھی جاسکتی ہیں، مگر جب سلیٹ پر کچھ سیدھی ترچھی لکیریں ہوں اور بہت بار کچھ نہ کچھ لکھا گیا ہو تو اپنی مرضی کی عبارت لکھنے کے لئے جگہ ڈھونڈنی پڑتی ہے اور اگر جگہ نہ ملے تو مایوسی کے ساتھ ساتھ لکھنے والی کی صلاحیتوں کو پرکھنے والے سامنے آ جاتے ہیں اور یہ وہ خوف تھا جس سے پیر ہر بار دوچار رہتا اس لئے خاص مریدو ں میں صرف وہی شامل تھے جن کی سلیٹوں پر پیر نے خود عبارت لکھی تھی، وہ پیر کے روبو ٹ تھے، جہاں چاہا بھجوا دیا، جسے چاہا سڑک پہ رسوا کروا دیا اور جب دل کیا ان روبو ٹوں کی بیٹریاں نکالیں اور انہیں مستقبل کے لئے سنبھال کر رکھ لیا۔ جیسے ماڈلز اور سیاستدانوں میں مقابلہ ہوتا ہے جیسے دو پہلوان آپس میں لڑتے ہیں ویسے ہی پیری مریدی کی دنیا کا کاروبار چلتا ہے، پیر پیر کا ویری ہوتا ہے اور جب دلیل سے یہ لوگ بات سمجھا نہیں پاتے تو ان کے روبوٹ کام آتے ہیں۔''
''ویری انٹرسٹنگ ولی بھائی، پھر کیا ہوا ؟ شیری نے پوچھا۔''


''کچھ نہیں ہوا بس ایک روبو ٹ تیار ہو گیا، جس کی سلیٹ پر جو عبارت لکھی تھی اس نے اس کے ذہن اور سوچوں پر قبضہ کر لیا اور کرامت اٹھارہ انیس سال کی عمر میں پیر کا جانثار مرید ہو گیا۔'' ولی بھائی نے کیٹل کا بٹن دبایا اور ہاتھ کے اشارے سے سب کو اپنا اپنا کپ لانے کو کہا اور خود چائے بناتے ہوئے بولے ''ایک روز کرامت کسی سڑک پر اپنے پیر کے لئے مرید بھرتی کر رہا تھا، اس روز کرامت کا چاچا سلیم جو ایک دوکان میں ڈلیوری کا کام کرتا تھا کچھ دیر آرام کے لئے اپنے ٹرک میں آ کر لیٹ گیا۔ اسے کسی مانوس سی آواز نے جگایا، اس نے ایک مدت بعد کرامت کو دیکھا تو اس کی آنکھیں جیسے پھٹ کر باہر آ گئیں۔ اس نے دیکھا کہ ہمیشہ خوش لباس رہنے والا کیری عجیب حُلیے میں تھا۔ اس نے بال بڑھا لئے تھے اور اس کا حلیہ ایسا تھا کہ اس سے خوف آتا تھا۔ سلیم ٹرک سے نکلا، اس نے کرامت کو بازو سے پکڑا اور سیدھا اپنے بھائی یعنی نیک محمد کے گھر پہنچا اور اس نے کرامت سے سختی سے پوچھا کہ وہ کن کاموںمیں پڑ گیا ہے۔ کرامت نے اپنے چا چا کو غصے سے دیکھا اور بولا 'چا چا مجھے نہ سمجھا! کیا اچھا ہے اور کیا نہیں، میں بالغ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ میرا انتخاب اچھا ہی ہو گا، یہ دنیا دھوکا ہے اور میں نے، تو نے اور میرے باپ نے بس اپنا وقت برباد کیا ہے۔ چلو میں تمہیں دکھاتا ہوں اصل دنیا کیا ہے چلو میرے پیر کے گھر میں تم سب کو جنت دلوانے کی گارنٹی دیتا ہوں، نیک محمد صوفے پر لیٹا ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا،لگتا تھا وہ پہلے ہی کشتیاں جلا چکا تھا۔


''دیکھ کرامتے پتہ نہیں تجھے کون سا بخار ہوا ہے جو تو ایسی جھلی باتیں کر رہا ہے۔ بیوقوفا! یہ لمبی لمبی کاروں والے پیر نہیں ڈھونگی ہیں۔ یہ اللہ کے چور ہیں، یہ ایمان بھی لوٹتے ہیں اور مال بھی، کون سا ولی ورلڈ ٹور کرتا ہے، اللہ کے کس فقیر نے کبھی دنیا کی خواہش کی ہے، کیا یہ سب کچھ سیرت کے منافی نہیں جو یہ ڈھونگی لوگ کرتے ہیں، یاد رکھ بیٹا عامل اور فقیر میں فرق ہے۔'' سلیم نے کرامت کو سمجھا نے کی کوشش کی۔


کرامت بھڑک اٹھا اور بولا، ''چچا میں اندھا نہیں ہوں مجھے لگتا ہے تمھاری روحانی تربیت نہیں ہو پائی اس لئے تم ایسے کہہ رہے ہو، ور نہ کیا تمہیں سب کچھ نظر نہیں آ رہا۔ مرشد کی کرامتیں کیا کسی سے پوشیدہ ہیں؟ وہ میرا دوست ظفر حاجی صاحب کا بیٹا، وہ سید ہیں۔ ظفر ایک نیک لڑکا ہے، کہتا تھا ہمیں کسی کے در سے کیا ملے گا ہم تو خود سید ہیں اور پھر جب اس پر پولیس کیس بنا تویہ میرے مرشد کا کمال ہے کہ تحقیقات کرنے والے ہی اندھے ہو گئے۔ کسی پولیس، تھانے، کورٹ کو اس کے خلاف کچھ نہ ملا بلکہ خلیفہ ٹیری نے پیر صاحب کے کہنے پر شہر کا سب سے بڑا وکیل بھی کیا اور آج ظفر کی سب مرادیں اسی آستانے سے پوری ہوتی ہیں۔ پچھلے ماہ ماسی بلقیس کی بیٹی کی شادی بھی مرشد کی نظر کرم کی بدولت ہوئی۔ حمید کی بیوی کو ڈاکٹروں نے بانجھ قرار دیا اور پھر وہ بھی مرشد تک پہنچا تجھے پتہ ہے اس کے گھر پچھلے ہفتے ہی بیٹا ہوا ہے، یہ میرے مرشد کے تعویذ کا کمال ہے۔ کیا یہ کافی نہیں کہ شہر کے امیر ترین لوگ مرشد کے آستانے سے جڑے ہیں۔ مرشد کا ایک اشارہ ان سب کے لئے حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ مرشد ورلڈ ٹور پر جاتے ہیں تو مقصد سیر و سیاحت نہیں ترویج دین ہوتا ہے۔ مرشد کا خطاب ٹی وی پہ چلتا ہے، مرشد تین چار زبانیں بولتے ہیں، کیا یہ فقیری کی سند نہیں کہ ہزاروں مریدوں کا ظاہر باطن روشن ہو گیا ہے۔ یا خدایا تیرا کتنا کرم ہے کہ مجھے میرا مرشد مل گیا۔''


سلیم نے کرامت کو انگلی کے اشارے سے خاموش کروایا اور بولا ''بکواس نہ کر کرامتے، تو میرے ہاتھوں میں پلا ہے، تیرے کان میں میں نے بانگ دی تھی، مجھے نہ سمجھا بیٹا فقیری کیا ہوتی ہے، یہ سب تیرے باپ کا قصور ہے، نیک محمد تم کچھ کیوں نہیں بولتے ؟ نیک محمد تم بھول گئے اصل فقیر، اصل ولی کون ہوتا ہے ؟اور ہاں اولاد، رزق اور اسباب کی امید صرف اﷲکے در سے ہونی چاہئے، کچھ بول نیک محمد ۔۔۔''
نیک محمد نے ہاتھ کے اشارے سے اپنی بے بسی کا اظہار کیا جبکہ کرامت نے اپنے باپ کی لاچاری کو اپنے مرشد کا کمال بتایا اور بولا۔ ''ایک روز بابا بھی مرشد کے خلاف بولا تھا آج دیکھ لو کیسی چپ لگی ہے۔ چچا اب مرشد کے خلاف کچھ نہ کہنا یہ نہ ہو تیری بھی زبان بند ہو جائے۔ میرے مرشد نے پانچ سال ٹوٹی ہوئی قبر میں چلا کاٹا ہے، وہ قبرستان جاتا ہے تو مردے اس سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ مرشد کے خلیفے کہتے ہیں کہ مرشد کا دیدار ہو جائے تو حج کا ثواب ہوتا ہے اور اگر مرشد کسی کا ہاتھ پکڑ لیں تو سمجھیں رب نے خود اس شخص پر کرم کیا ہے۔۔۔۔''


جیسے ہی کرامت نے یہ کہا سلیم نے با آواز بلند استغفار پڑھی اور کرامت کو پیٹنا شروع کر دیا، کرامت لہولہان ہو گیا مگر اپنے پیر کے حق میں بولتا رہا اور سلیم استغفار پڑھتے پڑھتے زار و قطار رونے لگ گیا اور بولا۔ ''او ظالم تو یہ کیا کہہ رہا ہے، کہاں مکہ مدینہ اور کہاں یہ تیرا ڈھونگی پیر جس کی قوت عملیات کی بدولت ہے یہ دنیا کا طالب کسی کو معرفت اور حقیقت کی روشنی سے منور کیسے کر سکتا ہے ؟ ا ﷲ تجھے ہدایت دے ورنہ موت دے دے، تو وہاں پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ہے۔''


کرامت نیک محمد کے قابو میں پہلے ہی نہیں تھا اور اسے اس کے واپس لوٹنے کی امید بھی نہیں تھی۔ آج سلیم نے کرامت کی جو درگت بنائی اس کے بعد کرامت کی طرف سے کسی بھی قسم کے ردعمل کی امید کی جا سکتی تھی مگر رو بو ٹ کیا کر سکتا ہے۔ اس رات کرامت گھر سے بھاگ گیا اور اپنے پیر کے آستانے پر جا پہنچا۔ اس نے خلیفہ جیمز کو ساری داستان سنائی۔ خلیفہ کرامت کو پیر کے پاس لے گیا۔ پیر نے کرامت کو گلے لگایا اور مشورہ دیا کہ اسے اپنے چچا اور باپ کے خلاف پولیس کو شکایت کرنی چاہئے۔ کرامت نے پیر کے مشورے کو حکم کا درجہ دیا اور خلیفہ جیمز کے ساتھ پولیس اسٹیشن جا پہنچا۔ پولیس اسٹیشن پہنچنے تک کرامت کا غصہ کم ہو چکا تھا اور بار بار وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اس کے پیر نے اسے اس کے والد اور چچا کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروانے کو کیوں کہا ؟ کرامت نے رپورٹ درج کروائی اور واپس آستانے پر آ گیا۔ دوسرے دن اسے لگا کہ اسے اپنے باپ اور چچا کے خلاف شکایت واپس لے لینی چاہئے لہٰذا وہ واپس پولیس اسٹیشن پہنچ گیا اور اس نے شکایت واپس لے لی۔


ولی بھائی اٹھے اور ایک بار پھر سے کیٹل میں پانی ڈالنے لگے تو موسیٰ بولا ''کہانی ختم ؟ میں ابھی بھی کنفیوز ہوں، اس ساری کہانی میں ہم سب کہاں فٹ ہوتے ہیں اور سوال عالمی جنگوں کا تھا اس میں کیری کی کہانی، اس کے گھریلو معاملات اور اس کی پیر پرستی کا کیا تعلق ہے ؟'' ولی بھائی بولے، ''تعلق ہے موسیٰ اور کس نے کہا کہانی ختم ہو گئی ہے، ابھی تو کہانی کا آغازہوا ہے۔''


ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا جب کرامت نے شکایت واپس لی تب تک بہت دیر ہو چکی تھی، پولیس اس کے چچا اور والد کو آٹھ گھنٹے تک حوالات میں بند رکھنے کے بعد ان کا انٹرویو لے چکی تھی مگر جب کرامت نے اپنا بیان واپس لے لیا تو پولیس کے پاس ان دونوں کو حوالات میں بند رکھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ کرامت نے واپس گھر جانے کا سوچا مگر اسے اس کے والد کی طرف سے پیغام موصول ہوا جس میں اس نے کرامت کو اپنے گھر میںواپس قبول نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ اب کرامت کا ایک ہی ٹھکانہ تھا اور وہ پیر کا آستانہ تھا۔ کرامت ان دنوں بے روزگار تھا اور پیر کے آستانے پر بھی کچھ دنوں تک سر چھپانے کے علاوہ اس کا نہ کوئی دوست تھا اور نہ ہی کوئی رشتہ دار جو اس کی مدد کرتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب عرب سپرنگ کا آغاز ہوا۔


''آپ کا مطلب ہے تیونس سے اُٹھنے والی تحریک جس نے پوری عرب دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا ؟'' شین نے پوچھا۔
''ہاں ہاں! میں اسی تحریک کی بات کر رہا ہوں، دیکھو دنیا میں نظام کیسے بدلتے ہیں، تیونس میں عرب بہار شروع ہوئی اور اس کا آغاز ایک شخصی قربانی سے ہوا۔ 26 سالہ محمد بوزیزی کو ایک پولیس والے نے تذلیل کا نشانہ بنایا وہ ایک پھل فروش تھا مگر غیرت والا تھا۔ اس غیرت مند نے اس تذلیل کے ساتھ زندہ رہنے کے بجائے خود کو ایک سرکاری عمارت کے سامنے احتجاج میں آگ لگا لی اور اس آگ کے شعلوں میں پورا مشرقِ وسطیٰ اور عرب دنیا جھلس کر رہ گئی۔ تیونس، مصر، لیبیا، شام، یمن کے ساتھ ساتھ عراق اور دیگر ملکوں میں وہ تبدیلیاں آئیں کہ عرب دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا۔پہلے یہ تحریک تھی مگر پھر یہ شدت پسندی اور دہشت گردی کی نرسری بن گئی۔''
''وہ کیسے؟'' شیری نے پوچھا ۔


''جہاں بادشاہت ہوتی ہے، جہاں حکمران ظالم ہوتے ہیں، جہاں عوام یا جمہور کو تذلیل کا سامنا ہوتا ہے، جہاں کچھ لوگ ریاست کے تمام وسائل پر قابض ہوتے ہیں اور جہاں نا انصافی اور مطلق العنانیت ریاست کا مزاج ہوتا ہے وہاں ایسے ہی انقلاب ابھرتے ہیں اور اپنے انجام پر دہشت گرد تحریکوں کا روپ اپنا لیتے ہیں۔ بس شام اور عراق ایسے دو ممالک ہیں جہاں دنیا کے پاور بروکرز نے شدت پسندی کے کاروبار کو ایک کارپوریٹ کی شکل دے دی اور ان بروکرز کے ایجنٹوں نے یورپ میں ریکروٹمنٹ کا کام شروع کر دیا۔ ان کا نشانہ ایسے پس منظر رکھنے والے نوجوان مرد اور عورتیں تھیں جو آئی ڈینٹٹی کرائسس کا شکار اور گمراہ تھے۔ یورپ میں ایک المیہ یہ ہے کہ کچے ذہنوں کو ماہر اور چرب زبان انتہا پسند نفرت کا بُت بنا دیتے ہیں اور یہ تب سے ہو رہا ہے کہ جب سے ہالی وڈ نے ویتنام کی ہاری ہوئی جنگ کو افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کا لحاف اوڑھانے کی کوشش میں بہت سے جان ریمبو اور راکی بلبو پیدا کئے۔ '' ولی بھائی نے بات جاری رکھی ''کچھ روز اپنے پیر کے آستانے پر رہنے کے بعد کرامت کو احساس ہوا کہ وہ اب پیر کی آنکھ کا تارا نہیں رہا، کوئی پیر ہو یا سیاستدان، مفت کوئی کسی کو کچھ نہیں دیتا اور خاص کر جب کسی کو روٹی، چھت اور تحفظ دینا پڑ جائے تو عقیدت بوجھ بن جاتی ہے اور پھر کون کسی کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ خلیفے پیر کے لئے مرید گھیر گھیر کر لاتے اور مرید پیر کا بینک بیلنس تھے۔ پیر کی سب سے بڑی کمائی ان کارو باری لوگوں سے ہوتی تھی جو ایک دوسرے پر تعویذ کرواتے یا کسی نہ کسی اسکینڈل کو سلجھانے میں مدد لیتے۔ ان امیر لوگوں کی دو زندگیاں تھیں اور ان کی بیگمات کا بھی یہی حال تھا۔ بس کچھ ہی دنوں میں کرامت پر بہت سے راز کھل گئے اسے پیر اور خلیفوں کی ذاتی زندگیوں کو جب قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو اس نے یہاں سے بھی راہِ فرار اختیار کی اور پھر سے ایک نئی منزل کی تلاش میں نکل پڑا.......۔''


جیسے ہی شام میں انتہا پسندی عروج پر پہنچی تو انتہا پسند تنظیموں نے یورپ میں اپنی بھرتی کا عمل تیز کر دیا مگر بھرتی کا طریقہ بدل دیا۔ اب بھرتی کرنے والے باریش مرد نہیں بلکہ خوبرو حسینائیں تھیں جنہوں نے مایوس اور پہلے سے باغی ذہنیت رکھنے والے نوجوانوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسایا اور جہاد کے لئے عراق اور شام لے گئیں۔ یہ ماڈرن ریکروٹمنٹ کا طریقہ کارپوریٹ شدت پسندی کا ایک نیا ہتھیار تھا جو کچھ عرصے کے لئے بہت کارگر ثابت ہوا اور مختلف راستوں سے یہ نوجوان ایک ایسی جنگ کا حصہ بننے شام اورعراق پہنچے جس کا خاتمہ خیر پر نہیں ہوناتھا ۔اس جنگ میں ہمیں پتہ ہے کہ 400,000 شام کے شہری لقمۂ اجل بنے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، اسی طرح عراق میں مرنے والے شہریوں کی تعداد 260,000 سے زیادہ ہے۔ ان میں غیر ملکی جنگجو کتنے تھے اس کا شائد کبھی کسی کو مکمل علم نہ ہو سکے۔ یورپ کی حکومتوں کے لئے یہ جنگجو ایک بہت بڑا چیلنج ہیں، اب تو یورپ کی بہت سی حکومتیں اس بات کو مان چکی ہیں کہ ان کے اپنے نظام میں کہیں نہ کہیں کوئی شگاف ہے یا خرابی کہ وہ ان نوجوانوں کو سمجھنے میں ناکام ہوئے۔


کرامت جب پیر کے آستانے سے مایوس باہر کی دنیا میں اپنے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے نکلا تو اس کی ملاقات سیمی سے ہوئی، سیمی کا اصل نام کسی کو بھی معلوم نہیں، مختلف شہروں اور علاقوںمیں یہ مختلف ناموں سے جانی جاتی تھی۔ سیمی کرامت کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی اور اسے لگا کہ اسے ایک سچا دوست مل گیا۔ کچھ ہی ملاقاتوں میں سیمی نے کرامت کو اپنی زلفوں کا اسیر کر لیا۔ وہ اکثر ایک پارک میں ملتے اور یہاں کچھ فاصلے پر دو مرد ان پر نظر رکھتے۔یہ کارپوریٹ بغیر چیک اینڈ بیلینس کے نہیں چل سکتی تھی اور یہاں بھی جب سیمی یا کوئی بھی خاتون نئے شکار کی تلاش میں نکلتی تو ان کی نگرانی کی جاتی۔ کارپوریٹ کا جال اب دنیا میں پھیل رہا ہے، ایشیا سے افریقہ اور یورپ سے امریکہ تک جہاں جہاں ممکن ہے کارپوریٹ اپنے کام میں لگی ہے۔ اس کے مقاصد اور اہداف دونوں ہی غیر انسانی اور غیر جمہوری ہیں۔


ایک روز سیمی نے کرامت کی ملاقات جیزی سے کروائی، لمبے قد اور مضبوط جسم والا جیزی کارپوریٹ کا دوسرے درجے کا ریکروٹمنٹ اہلکار تھا۔ سیمی کا کام زمین ہموار کرنا تھا جبکہ جیزی کا کام اس ہموار زمین میں نفرت کے بیج بونا تھا۔ سیمی نے اپنا کام کر دیا تھا اب جیزی کو زیادہ وقت نہ لگا اور اس نے کرامت کو ایک عالمی جنگ میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ اس نے دن رات اس پر کام کیا، اس کے ذہن سے سوچ اور جسم سے روح نکال کر نفرت کا ٹائم بم فٹ کر دیا۔ افسوس کرامت انتہا پسندی کا ٹائم بم بن گیا جس نے کبھی نہ کبھی پھٹنا تھا ، ولی بھائی خاموش ہوگئے۔


شین اٹھی اور ولی بھائی کے پاس آ گئی، اسے ولی بھائی کی آنکھوں میں آنسو نظر آئے اور وہ بولی ''سر! آپ آبدیدہ ہو گئے، کیا کرامت آپ کا کوئی رشتہ دار تھا؟''
''ہاں یہ ساری امت بلکہ یہ ساری انسانیت میری رشتہ دار ہے، کسی کو حق نہیں کہ میرے رب کی انسانیت کے خلاف کوئی منصوبہ بنائے، کسی کو اختیار نہیں کہ کسی کا بھی قتل کرے، یہ میرا نہیں، میرے رب کا حکم ہے، ایک انسان کا قاتل پوری انسانیت کا قاتل ہے اور کارپوریٹ والے اگر کسی کو بھی گمراہ کر کے کسی بھی انسان کا قتل دین امن کے نام پر کرتے ہیں تو آنکھ نہیں روح بھی تڑپ اٹھتی ہے۔'' ولی بھائی نے جواب دیا۔
''کرامت کا کیا ہوا سر؟'' موسیٰ نے پوچھا۔


''کچھ نہیں، وہ کچھ ہی دنوں میں ترکی کے راستے سے شام پہنچا، کارپوریٹ نے اس کا تمام خرچ اٹھایا اور اس کو باقاعدہ تربیت دی گئی، اس کو ہتھیار استعمال کرنا سکھائے، اس کے ہاتھ خون میں ایسے رنگے کہ قتل اس کا مشغلہ بن گیا اور وہ کارپوریٹ کی میڈیا کمپین کا حصہ بھی بنا۔ کارپوریٹ کی ہر ویڈیو میں کرامت اور کچھ اور انگریزی، جرمن، اسپینش اور فرینچ بولنے والے نوجوان ہتھیار لہراتے اوروں کو کارپوریٹ کا حصہ بننے کی دعوت دیتے۔ یہی کارپوریٹ کا ہدف تھا اور ان کے کاروبار کی حکمت عملی مگر کرامت اور اس جیسے نوجوان اس امر سے ناواقف تھے کہ ان سب کا متبادل مارکیٹ میں موجود تھا۔ لہٰذا جب کبھی کوئی کارپوریٹ کے لئے بوجھ بنتا تو اسے مار دیا جاتا یا اس کا حتمی استعمال کیا جاتا اور خرچ کی ہوئی رقم سود سمیت واپس لے لی جاتی ''ولی بھائی تھوڑے خاموش ہوئے تو شیری نے پوچھا ۔''کرامت زندہ ہے ؟ اور سیمی کا کیا ہوا؟''


''ہاں کرامت زندہ ہے اور پچھلے ہفتے اس کے ماں باپ کو مطلع کیا گیا ہے کہ کارپوریٹ نے اسے اب اپنا قیدی بنا لیا ہے اور کبھی وہ اسے انسانی شیلڈ کے طوراستعمال کرتے ہیں اور کبھی اس کی رہائی کے لئے اس کے آبائی ملک سے تاوان طلب کرتے ہیں جبکہ سیمی آج بھی کسی نئے شکار کی تلاش میں مصروف ہو گی........یہ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے، یہ ہم سب کی جنگ ہے، اس جنگ کی بھٹی کا ایندھن ہمارے بچے ہیں اور ان کے تحفظ کے لئے ہمیں لڑنا ہے، اپنی اپنی سرحد کے دفاع کے لئے لڑنا ہے، ہمیں ہتھیار سے نہیںعلم کے ذریعے اپنے دین اور دنیا کے دشمنوں سے لڑنا ہے اور اپنے بچوں کو تنہا نہیں چھوڑنا ورنہ کوئی جعلی عامل یا کوئی انتہا پسند انہیں اپنے عزائم کے لئے استعمال کرے گا اور ہم آہستہ آہستہ سب کھو دیں گے۔'' ولی بھائی اٹھے اور کمرے سے باہر چلے گئے اور مجھے میری جنگ کا محاذ دکھا گئے ۔
(وضاحت : اس کہانی کے تمام کردار فرضی ہیں ،کرداروں اور کرداروں کے ناموں کا کسی شخص یا اشخاص سے مماثلت رکھنا محض اتفاق ہو گا )

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
26
December

Balochistan: As I see it

Published in Hilal English Jan 2014

Written By: Shahid Ali Khan Baloch

Balochistan is always projected as an area having many problems. For the last decade or so it has turned into a playing field of different regional and global powers. Intelligence agencies of different countries have been using politically and ideologically half-baked, directionless and unemployed Baloch youth for their vested geo-political interests. The Baloch youth, acting under catchy slogans, are used as a fuel in a battle to control major geographical choke points, resource-rich areas and their major possible routes. In addition to logistic and financial help of the foreign actors, the moral and political assistance from few media elements, civil society activists and certain political parties, have placed these foreign funded separatists at a much advantageous position as they have managed to divert public opinion in their favour despite their crimes against national security and common people in Balochistan. These armed groups have mainly focused on soft targets in Baloch-dominated areas to remain alive in news headlines and create problems in Balochistan. Firstly, they started targeting non-Baloch teachers, doctors, engineers and labourers. But when it became harder for them to find anymore such soft target, they switched to Baloch political workers, teachers, doctors and tribal elders. They acted on a simple formula; whoever is not following your political line, or has some personal or tribal clash with you, just go and target him. Once he is targeted, declare him an ISI Agent and claim responsibility of his killing by using a foreign-gifted satellite phone and harass his family and friends. Till 2008, these separatists received a considerable attention from a segment of Baloch political workers, civil society and common masses. But once they started targeting innocent Baloch people because they had faith in Federation of Pakistan or they had tribal or individual differences with these terrorists, the people of Balochistan started to shed away shadows of fear and dared to speak against them in public. With the passage of time the victims of these foreign–funded terrorism started to get united and mobilised. Now, by this time, the people are strong enough to force these elements to vacate certain areas including Quetta, Mastung, Kalat, Dera Bugti, Kohlu and Khuzdar.

At present, one can safely claim that only pro-federation majority is the only stakeholders in Balochistan issue. Anti-state camp is represented by Hairbiyaar Marri, Brahamdagh Bugti, Dr. Allah Nazar and Javed Mengal. While pro-state camp is led by Sarfraz Bugti, Shafique Mengal and Siraj Raisani. The cause of concern here is to unfold the fact that our so-called independent media, civil society and political parties, following the traditional rhetoric are denying to accept existence of the important pro-Pakistan stakeholders in Balochistan. It is about time that they should also change their prejudiced lenses and should acknowledge the role, contribution and importance of these pro-federation Baloch figures fighting disgruntled elements in Balochistan. Irony of fact is that they are targeted by anti-state elements and our so-called independent media and vibrant civil society, because they are pro-Pakistan. In today's media activism, one hardly finds representation of the community which is torch-bearer of resistance against those who are resisting writ of the state in Balochistan. In the most cases, we see either nationalists or least bothered federalists speaking their brand of Balochistan conflict.

Amid this whole scenario, if one wants to move towards a serious and genuine conflict analysis in Balochistan, he needs to be mindful of the fact that it is not Balochistan of 1960s and 1970s when just few tribal nawabs (chieftains) were the only stakeholders. A major difference between present situation and past movements is the active role of youth. In majority of cases, small groups of youth operate independently under a loose command. In such a situation, they get influenced by petty local considerations and end up in using this foreign-funded political infrastructure to settle their non-political individual issues. Due to leadership role of youngsters at this level, a clear manifestation of reactionary and immature decision-making has been noticed in militant groups. Killing of innocent people including teachers and doctors, destroying electricity polls and targeting relief activities during recent Awaran earthquake are examples of the immature decision-making. Such policies on one hand have resulted in complete isolation of militants and on other hand have paved the way for emergence of a strong reaction against these terrorists from within the Baloch society. If we analyse the main targets of these armed groups during past three four years, it will become evident that in more than 70% cases, they have targeted people associated with Sarfaraz Bugti, Shafique Mengal or Siraj Raisani. So, this situation boils down to a point that if we speak of major stakeholders of present conflict within boundries of Pakistan, these are three, namely: Pakistani Government, Baloch militants and their pro-state Baloch opponents in Balochistan. So, if there is any attempt of reconciliation excluding these pro-state activists, it will prove ephemeral and will burst into pieces like a bubble and may lead to law and order situation in the province. Once weaken, these pro-federation elements will be easily targeted by the militants.

So, the need of the hour and writing on the wall requires us to open our minds and eyes to see the changing political circumstances in Balochistan and acknowledge and appreciate role of the new major stakeholders in the issue. Our national security and ground realities demand to re-think, re-visit, and re-formulate our understanding of Balochistan conflict by keeping in mind these new dynamics for a sustainable conflict-resolution. It is need of the hour to give due respect and consideration to all forces in Balochistan to strike a pragmatic balance among different stakeholders. Just holding talks with foreign-funded elements and pushing in isolation to patriot factions in Balochistan will not serve the purpose and will turn the things from bad to worse. It will simply mean that we have given our national fate, destiny and pride in hands of those who, in collusion with their foreign masters, want to destabilise Pakistan. If such mindset persists and continues to flourish, God forbid there may be times when no one from Balochistan dares to take name of Pakistan, let alone standing against its enemies. Today, the people of Balochistan denounce these militant groups and stand united to fight them. The people of Balochistan only deserve due share in the power structure of the federation. They must be fully supported to live in peace and harmony, and continue participating in prosperity and well-being of Pakistan.

07
January

ا یک تھی سکینہ

تحریر: حمید اختر یو ایس اے

سان برنارڈینو (امریکہ) میں حالیہ پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کے پس منظر میں لکھی جانے والی ایک تحریر

سکینہ نے دروازے کے برابر میں عمودی کھڑکی پر لٹکے پردے کو تھوڑا سا ہٹا کر دیکھا تو باہر گہری دھند کی دبیز چادر میں لپٹی ہر شے اُسے دُھندلی دُھندلی دکھائی دی۔ رات سے جاری بارش کے باعث سڑک پر جگہ جگہ پانی کھڑا تھا۔ اس دھندلائے منظر میں کچھ فاصلے پر بجلی کے کھمبے ٹمٹماتی زرد روشنی کے ہالے کے گرد بارش کے قطرے چھوٹے چھوٹے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی سڑک پر کھڑے پانی کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔


سکینہ نے فوراً پردہ نیچے گرا دیا۔ اُس نے بستر پر رکھے اپنے سیاہ بیگ کا، جسے اُس نے رات کو ہی تیار کرلیا تھا، ایک بار پھر جائزہ لیا۔ سورج طلوع ہونے میں ابھی چند گھنٹے باقی تھے۔ لیکن اُس کی منزل کافی دور تھی لہٰذا اُسے اپنے پروگرام کے مطابق فوراً نکلنا تھا۔ اگرچہ موسم ناموافق تھا لیکن اُس کے مضبوط ارادے کی پختگی کے سامنے کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی تھی۔
وہ بے چینی سے کمرے میں چکر لگاتے ہوئے بارش کے تھمنے کا انتظار کرنے لگی۔ سکینہ کا تعلق پاکستان کے ایک متوسط مذہبی گھرانے سے تھا۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں ہنسی خوشی مگر مطمئن زندگی گزار رہی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کا باپ حال ہی میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوا تھا۔ سکینہ ایک ذہین طالبہ تھی۔ پڑھائی میں ہمیشہ نمایاں رہی۔ کالج کے سالانہ امتحان میں امتیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد سکینہ کے والدین نے اُس کے مستقبل کے لئے بڑے بڑے خواب دیکھنے شروع کردیئے۔ وہ بیٹی کی خواہش کے مطابق اُسے اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونِ ملک بھیجنا چاہتے تھے۔ سکینہ کی خواہش بھی یہی تھی لیکن اُن کے وسائل اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہ اکلوتی بیٹی کی خواہش کی تکمیل کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رقم سے وہ کوئی چھوٹا سا گھر خریدنا چاہتے تھے تاکہ زندگی کے باقی دن سکون و آرام سے گزار سکیں۔ لیکن پھر دونوں میاں بیوی نے باہمی مشورے سے اپنی اس خواہش کا گلا گھونٹ کر ساری جمع پونجی سے سکینہ کو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھجوانے کا فیصلہ کر لیا۔


اس طرح کچھ ہی عرصے میں سکینہ کے اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ کے باعث اُسے امریکہ کی ایک ممتاز یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اورپھر ضروری دستاویزات کی تیاری کے سارے مراحل طے ہو جانے کے بعد سکینہ والدین کی دعاؤں کے ساتھ امریکہ آگئی۔ اُسے رہنے کے لئے یونیورسٹی ہوسٹل میں ہی جگہ مل گئی۔ اس کا میل جول بہت کم تھا۔ کلاس سے فارغ ہونے کے بعد وہ زیادہ تر وقت ہوسٹل کے اپنے چھوٹے سے کمرے میں ہی گزارتی۔ گو اُس کے اس تنہائی پسند رویے کے باعث اس کے ہم جماعت طلباء و طالبات اُس سے کھنچے کھنچے رہتے لیکن وہ اس صورت حال سے بالکل بے نیاز اپنی پڑھائی میں مگن تھی۔ فارغ اوقات میں قریب ہی واقع اسلامی فلاحی مرکز جا کر اُن کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی۔

aikthisakeena.jpg
اس طرح اپنے گھر سے کوسوں دور اپنے مقصد کے قریب رہ کر وہ مطمئن زندگی گزار رہی تھی۔ وقت یوں ہی اپنی رفتار سے چلتا رہا۔دن مہینوں اور مہینے سالوں میں ڈھلتے گئے۔ آج گھر سے نکلے اُسے تقریباًتین سال ہو چکے تھے اور اس کی تعلیم مکمل ہونے میں چند ماہ ہی باقی تھے۔ ماں باپ بھی بے صبری سے اُس کا انتظار کررہے تھے۔۔۔
سکینہ نے ایک بار پھر کھڑکی سے پردہ سرکا کر باہر کا جائزہ لیا۔ اب بارش کا زور کسی حد تک کم ہو چکا تھا۔ اُس نے عجلت میں دیوار پر نصب آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے لباس اور سیاہ رنگ کے حجاب کو درست کیا۔ پھر پلٹ کر جلدی سے بیگ اٹھا کر اُسے اپنی کمر پر کس لیا اور دروازہ کھول کر نکل گئی۔


وہ تیز تیز چلنے لگی۔ لیکن کمر پر لٹکے بیگ کی وجہ سے اُسے تیز چلنے میں دقت محسوس ہو رہی تھی۔ اُسے کچھ ہی فاصلے پر ٹرین پکڑنا تھی۔ ہر سُو پھیلی دھند کے باعث دُھندلائے ماحول میں کہیں کہیں گاڑیوں، اور سٹورز کی مدھم روشنیاں نئی صبح کی نوید دے رہی تھیں۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتے گھبراہٹ میں بار بار اپنے دائیں بائیں۔ اور پیچھے مڑ کر دیکھ کر تسلی کرلیتی۔ وہ اس سے پہلے اتنی سویرے کبھی ہوسٹل سے باہر نہیں نکلی تھی۔وہ جلد ہی ٹرین سٹیشن پہنچ گئی اور طویل سیڑھیاں اُتر کر آگئی۔ چھٹی کا دن ہونے باعث پلیٹ فارم پر تقریباً ہُو کا عالم تھا۔ محض چند لوگ کہیں کہیں بینچوں پر بیٹھے تھے۔ وہ بے تابی سے ٹرین کا انتظار کرنے لگی۔


اتنے میں اُس نے دو سیاہ فام درازقد نوجوانوں کو سیڑھیاں اُتر کر پلیٹ فارم پر آتے دیکھا۔ مضبوط جسم کے مالک یہ نوجوان دیکھنے میں کافی مستعد اور چاق چوبند لگ رہے تھے۔ وہ تجسس کے انداز میں پلیٹ فارم پر موجود ہر کسی کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ ایک نے کالے رنگ کا سیاہ دراز کوٹ پہن رکھا تھا جبکہ دوسرا چمڑے کی جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔ اُن کی نظریں سکینہ پر مرکوز ہو گئیں۔ سکینہ اس صورتِ حال سے گھبرا گئی اور کنکھیوں سے اُن کی جانب دیکھا۔ اُس نے محسوس کیا کہ وہ مسلسل اُسے گھور رہے ہیں۔ اپنی اس گھبراہٹ کو چھپانے کے لئے اُس نے سینہ پُھلا کر ایک لمبی سانس لیتے ہوئے چہرے پر اعتماد لانے کی کوشش کی اور پھر اُن سے ذرا ہٹ کر کھڑی ہوگئی۔ اتنے میں دور سے اندھیرے میں اُسے روشنی کا ایک ہالہ دکھائی دیا جس کے قریب آتے ہی ایک بے ہنگم شور کے ساتھ ٹرین آکر رُکی۔ دروازہ کھلتے ہی وہ جلدی سے سوار ہوگئی۔ ڈبے میں محض چند مسافر ارد گرد سے بے نیاز اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے اخبار یا پھر کتاب بینی میں مصروف تھے۔ سکینہ بھی الگ سے ایک خالی نشست پر بیٹھ گئی۔


دونوں سیاہ فام نوجوان بھی اس سے ذرا فاصلے پر سامنے کی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ اُن کا رُخ سکینہ کی جانب تھا۔ سکینہ نے اپنا حجاب درست کیا اور ارد گرد کے ماحول سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے دوسری جانب دیکھنا شروع کردیا۔ ٹرین ہر چند منٹ بعد کسی سٹیشن پرچندلمحوں کے لئے رُکتی۔ اس طرح ہر نئے سٹیشن پر مسافروں کی نشست و برخاست کا سلسلہ جاری رہا لیکن وہ دونوں سیاہ فام نوجوان بدستور اپنی نشستوں پر براجمان تھے۔ بالآخر وہ سٹیشن بھی آن پہنچا جہاں سکینہ نے اُترنا تھا۔ ٹرین رُکتے ہی جیسے ہی دروازے کھلے وہ فوراً اُتر کر تیز تیز قدم اُٹھاتی ہوئی سٹیشن کے صدر دروازے سے نکل کر باہر سڑک پر آگئی۔


صبح صبح سڑک قدرے سنسان تھی۔ کہیں کہیں ہاتھوں میں کافی کے کپ تھامے کوئی اِکا دُکا افراد سرجھکائے پاس سے گزر جاتے۔ سکینہ نے اگر چہ ابھی تک پیچھے مڑ کر نہیں دیکھاتاہم اُس کے چہرے پر پریشانی کے آثار موجود تھے۔ اُس نے حجاب سے ڈھکی اپنی پیشانی پر پسینہ محسوس کرتے ہوئے اپنے بائیں ہاتھ کی پشت سے دبا کر اُسے خشک کرنے کی کوشش کی۔ مرکزی شاہراہ سے ہٹ کر ایک بغلی گلی میں آتے ہی اُس نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی دو سیاہ فام نوجوان جو اُس کا پیچھا کررہے تھے۔ اس صورت حال نے اُسے پریشان کر دیا۔ وہ گھبرا کر تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ اُس نے محسوس کیا پیچھا کرتے افراد اور اس کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے۔ اُس نے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر یکدم دوڑنا شروع کردیا۔ انہوں نے اُسے رُکنے کو کہا لیکن سکینہ اور بھی تیز بھاگنے لگی۔ انہوں نے ایک بار پھر اُسے رُکنے کو کہا۔ اس بار اُن کے لہجے میں تلخی نمایاں تھی لیکن بجائے رُکنے کے وہ سرپٹ بھاگنے لگی۔ لیکن اُس کی کمر پر لٹکا بھاری بیگ تیز بھاگنے میں رکاوٹ تھا۔ وہ اُسے خود الگ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن ۔۔۔ پھر سناٹے کو چیرتی ہوئی پشت سے آئی اور ایک بے رحم گولی اُس کے سر کے آر پار ہوگئی اور وہ ایک بے جان پتھر کی مانند اوندھے منہ زمین پر گری۔ کچھ ہی دیر میں سارا منظر ایک ہنگامی صورت حال کا نقشہ پیش کرنے لگا۔ ہر جانب سے پولیس کی گاڑیوں نے اپنے چلچلاتے سائرنوں کے ساتھ سارے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ خون میں لت پت سکینہ کی لاش زمین پر پڑی تھی۔ پولیس نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر کسی کو بھی لاش کے نزدیک جانے سے روک دیا۔ سکینہ کی کمر سے جُڑا سیاہ رنگ کا بیگ اور سرپر حجاب سب کی توجہ کا مرکز تھا۔


کچھ ہی دیر میں تمام نیوز چینلز پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح گردش کرنے لگی کہ خفیہ پولیس نے ایک حجاب پوش خود کش حملہ آور نوجوان مسلمان لڑکی کو دھماکا کرنے سے پہلے ہی گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ہر طرف ایک سنسی سی پھیل گئی۔ اگرچہ جائے حادثہ پر کئی گھنٹے تک پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے تحقیقات کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد بالآخر علاقے کو محفوظ قرار دے کر کھول دیا گیا۔ لیکن پورا دن اور رات گئے تک یہی خبر ہرچینل کے نیوز بلٹن کی زینت بنتی رہی ۔ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے لئے یہ ایک کٹھن وقت تھا۔ اگرچہ ابھی تک مقتولہ کی مکمل شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی لیکن پاکستانی میڈیا پر نشر ہونے کے بعد اس خبر نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ امریکہ میں مقیم بچیوں کے والدین ایک اضطراب اور بے چینی کی سی کیفیت میں مبتلا ہوگئے۔ سب کی زبان پر ایک ہی سوال تھا۔آخر کون تھی یہ لڑکی۔۔۔۔؟ اضطراب کا یہ سلسلہ تقریباً چوبیس گھنٹے جاری رہا۔


بالآخر اگلے روز صبح امریکی سکیورٹی اداروں نے ایک نیوز بریفنگ میں سکینہ کے بارے میں تمام معلومات کے ساتھ ساتھ اُس کے بیگ سے برآمدہونے والی اشیاء کو دکھاتے ہوئے معذرت کے ساتھ یہ بیان جاری کیا۔
’’کل صبح سکیورٹی اہلکاروں نے ایک لڑکی جو اپنے ساتھ ایک مشکوک بیگ اٹھائے ہوئے تھی کافی دور تک پیچھا کیا۔ اُنہوں نے اُسے بار بار رُکنے کو کہا۔ جب آخری وارننگ پر بھی وہ نہ رُکی تو ریاستی قانون کے تحت سکیورٹی اہلکاروں کومجبوراً گولی چلانا پڑی۔ یہ ایک افسوسناک عمل تھا۔ لیکن شہر میں ایک حالیہ دہشت گردی کی وار دات کے پیش نظر جس میں دونوجوان مسلمان میاں بیوی نے معذور افراد کی بحالی کے مرکز میں کئی بے گناہ لوگوں کو جس طرح ہلاک کیا اُس کے پیشِ نظر سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے اس طرح کا ردِ عمل ضروری تھا۔ پھر انہوں نے سکینہ کے بیگ سے برآمد ہونے والی اشیاء دکھانی شروع کیں جن میں جوس اور دودھ کے چند ڈبوں کے ساتھ ایک پمفلٹ بھی انہوں نے دکھایا جس پر تحریر تھا۔۔


’’کل صبح دس بجے بفلو پارک سان برنارڈینو میں بے گھر اور ضرورت مند افراد کے لئے ایک تقریب میں اُن کی ضرورت کی اشیاء تقسیم کی جائیں گی۔ اُس کے بعد سٹی ہال کے باہر سان برنار ڈینو کے واقعے میں مارے جانے والے بے گناہ افراد کی یاد میں پھول سجانے کے ساتھ ساتھ موم بتیاں روشن کی جائیں گی۔‘‘


یہاں پریس بریفنگ کا اختتام ہوا۔۔ لیکن کیا معلوم کہیں ایسی ہی ایک معصوم سکینہ کی دردناک کہانی کا آغاز ہو چکا ہو۔۔۔ کون ہے سکینہ کا قاتل امریکی سکیورٹی اہلکار یا مذہب کے لبادے میں چھپے وہ گھناؤنے مکروہ چہرے جو نہتے اور معصوم لوگوں کے خلاف دہشت گردی کرکے پوری دنیا میں نفرت کا نشان بنے ہوئے ہیں۔۔۔ ذرا سوچئے

حمید اختر فلم‘ ریڈیو اور ٹی وی کے حوالے سے ایک معروف نام ہے۔ آپ نے بی بی سی اور وائس آف امریکہ کے لئے بھی کام کیا اور ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter