11
February

انور مسعود

انٹرویو : عذرا انتصار

’’آپ کو اتنی عزت اور شہرت ملے گی جس کے بارے میں آپ اس وقت سوچ بھی نہیں سکتے۔‘‘ زائچہ نویس کی نظریں زائچے کی لکیروں میں الجھی ہوئی تھیں اور میرا ذہن گجرات کی گلیوں میں بھٹکتا ہوا اس دروازے پر جا پہنچاجہاں میری ماں میرے انتظار میں بیٹھی تھی۔مجھے دیکھتے ہی میرا چہرہ ہاتھوں میں تھاما‘پیشانی پر بوسہ دیا اور بولیں


کسی کے آنے کی ہم لے کے آس بیٹھے ہیں
نگاہیں در پہ لگیں ہیں‘ اداس بیٹھے ہیں
میری والدہ کو شاعری اور ادب سے بہت لگاؤ تھا ۔


’’آپ کی شادی انتہائی کامیاب رہے گی۔‘‘ شادی کے بعد آپ کے حالات(بہتری کی جانب)اس طرح بدلیں گے جیسے سکرین پر سین بدلتے ہیں۔‘‘ زائچہ نویس کی آواز کے ساتھ ہی صدیقہ کی روشن اور مسکراتی ہوئی نگاہیں میری نظروں کے سامنے آگئیں۔صدیقہ ایم اے فارسی میں میری کلاس فیلو اورفارسی سو سائٹی کی وائس پریزیڈنٹ تھیں جبکہ میں یونین کا جنرل سیکریٹری تھا، کالج اور پرشیئن سوسائٹی کے انتظامی امور کے بارے میں مشوروں میں اکثر اس سے ملاقات ہوتی تھی اور مجھے صدیقہ کی شخصیت میں کشش اور جاذبیت محسوس ہوتی تھی۔ایک بار صدیقہ نے مجھ سے کہا تھا کہ’’میں آج تک کسی کی آوازاور اندازِ بیان سے متاثر نہیں ہوئی لیکن آپ کی آواز اور اندازِ بیان نے مجھے اس حد تک مسحور کیا ہے کہ میں آپ کے سامنے اس کا اظہار کرنے پر مجبور ہوں‘‘میں نے اپنے جذبات کا محتاط اظہار صدیقہ کے سامنے کچھ یو ں کیا


میں تو قائم ہوں تیرے غم کی بدولت ورنہ
یوں بکھر جاؤں کہ خود ہاتھ نہ آؤں اپنے
اس کے جواب میں صدیقہ نے اقبال کا یہ شعر پڑھ دیا تھا۔
در طلب کوش ومدہ دامنِ امید ز دست
دولتے ہست کہ یابی سرِ راہے گاہے


(ترجمہ:تو طلب اور جستجو جاری رکھ اور امید کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑ۔ممکن ہے کہ یہ دولت تجھے سرِراہ مل جائے۔)

’’آپ کے پانچ بچے ہوں گے،تین لڑکے اور دو لڑکیاں۔آپ کا منجھلا بیٹاایک منفرد اور قابلِ تحسین کام کرے گا‘‘

esmuskrahat.jpg

میں ڈیرہ غازی خان میں تھاتو ایک امام مسجد نے میرا زائچہ لکھا ‘انہوں نے کہا کہ جب آپ کی شادی ہو گی آپ کے حالات اس طرح بدلیں گے جس طرح سکرین پر تصویریں بدلتی ہیں۔دوسری بات یہ کہ آپ کے پانچ بچے ہوں گے۔ دو بیٹیاں اور تین بیٹے ہوں گے اور آپ کا منجھلا بیٹا ایک عجیب کام کرے گا۔ تیسری بات یہ کہ اللہ آپ کو اتنی شہرت دے گا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکیں گے اور یہی ہوا میرے حالات اسی طرح بدلے میری بیگم میرے لئے خوش بخت ثابت ہوئی۔ میرے بیٹے عما ر مسعود کے نام اور کام کو ساری دنیا جانتی ہے اور خد ا نے مجھے اتنی شہرت اور عزت دے دی ہے کہ اگر خدا مجھے ایک اور زندگی بھی دے تو بھی میں اس زندگی کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ مجھے ساری دنیا سے مشاعروں میں بلایا جاتا ہے۔اتنی محبت‘ اتنی پذیرائی کہ میں پریشان ہو جاتا ہوں کہ میں ان کو کیا سناؤں۔ لوگوں کو میری شاعری زبانی یاد ہے۔یہ اللہ کا کرم ہے۔


کہاں کی سیر نہ کی توسنِ تخیل پر
ہمیں تو یہ بھی سلیماں کے تخت ایسا تھا

انور مسعود شاعری کی دنیا کا ایک بڑا نام اور مزاحیہ شاعری ان کی پہچان ہے جولوگوں کے دل و دماغ مسحور کر دیتی ہے۔شاعری تو بہت سے لوگ کرتے ہیں لیکن ساحر کوئی کوئی ہوتا ہے۔برِ صغیر پاک و ہند بلکہ پوری دنیا میں جانے پہچانے مشہور مزاحیہ شاعر انور مسعود کی ہلال کے لئے کی جانے والی خصوصی گفتگو پیشِ خدمت ہے۔

 

س۔اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے؟
ج۔میں گجرات (پاکستان) میں پیدا ہوا۔ چار بہنوں اور دو بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں۔میرے والد صنعت کار تھے۔میں نے ابتدائی تعلیم گجرات سے حاصل کی ۔پھر والد صاحب کاروبار کے سلسلے میں لاہور چلے گئے۔چھٹی جماعت تک لاہور میں پڑھا۔ان کا لاہور میں بہت اچھا کاروبار تھا ۔کاروبار میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں مگر جب ان کا نقصان ہو ا تووہ برداشت نہ کر سکے اوراس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا دنیا سے دل اچاٹ ہو گیا‘ وہ دنیاوی زندگی سے کٹ گئے اور صوفی بن گئے اور سارا بوجھ مجھ پر آگیاتھا۔پھر والد صاحب گجرات واپس آئے تو باقی تعلیم گجرات میں ہی حاصل کی میٹرک فرسٹ ڈویژن سے کیا۔ میرے والدین مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے مگر جو اللہ کو منظور ۔۔۔


زمیندار کالج سے ایف اے کے امتحان میں کالج میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور سکالر شپ حاصل کیا۔ پھر بی اے میں فرسٹ کلاس اور سلور میڈل کے ساتھ سکالر شپ حاصل کیا۔مالی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور گجرات سے چھ میل کے فاصلے پر ایک قصبے کنجاہ کے پرائیویٹ سکول میں ملازمت کر لی۔اس سکول میں کسی زمانے میں ڈپٹی نذیر احمد نے بھی پڑھایا تھا۔وہاں کام کرنا میرے لئے فخر کی بات تھی۔ دو سال بعد اسلامیہ کالج میں ایم اے انگلش کرنے گیامگر بد قسمتی سے داخلے کی تاریخ گزر چکی تھی۔حمید علی خان وہاں پرنسپل تھے۔ انہوں نے کہا اگر وقت پر آجاتے تو مجھے خوشی ہوتی مگر اب کوئی صورت نہیں تو میں نے اورئینٹل کالج میں فارسی میں داخلہ لے لیا۔فارسی زبان سے مجھے شروع سے لگاؤ تھا۔ پھر میں نے ایم اے فارسی میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔اچھی پوزیشن کی وجہ سے ملازمت جلدی مل گئی۔


س۔آپ کی زندگی میں زیادہ اثرات آپ کی والدہ کے ہیں یا والد صاحب کے؟
ج۔میرے والد کی طرف سے مجھے تصوف کی طرف رجحان ملا ۔میرے بعض اشعار میں صوفی ازم جھلکتا ہے جیسے
؂ اس نے پیکر میں نہ ڈھلنے کی قسم کھائی ہے
میرے والد کی دعائیں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں ۔وہ مجھے کہتے تھے کہ خدا تمہیں بہت شہرت اور مقام دے۔


س۔آپ نے شاعری کی ابتداء کب کی؟
ج۔میری نانی شاعرہ تھیں۔ لوگ انہیں استانی صاحبہ کہتے تھے۔ان کا نام کرم بی بی اورعاجز ان کا تخلص تھا۔ان کا دیوان بھی چھپ چکا ہے۔والدہ بہت قابل اور ذہین خاتون تھیں۔لفظ شناس تھیں۔میرے تایا عبداللطیف افضل شاعر تھے۔گھر کا ماحول ادبی تھا۔اب بزرگوں کا کچھ اثر توبچوں پر بھی پڑتا ہے۔


س۔شاعری میں استادکسے مانتے ہیں؟
ج۔استادی شاگردی کا زمانہ اب نہیں رہا۔البتہ جن لوگوں نے میری حوصلہ افزائی کی ان میں احمد ندیم قاسمی ، پیر فضل اور بہت سے شعراء ہیں۔


س۔پہلا شعر کس عمر میں کہا تھا؟
ج۔میری پہلی باقاعدہ نظم ’’میری پہلی نظم ‘‘کے نام سے اپنی کتاب ایک دریچہ ایک چراغ کے آخر میں لکھی ہے۔میں سمجھتا ہوں اس کا ایک شعر جو میرا پہلا شعر تھا‘ میری ساری شاعری پر آج بھی محیط ہے۔
یہ جو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہے
یہ رونے کو چھپانا ہوتا ہے


س۔شعر کیا ہے؟
ج۔شعر جگنو ہے،پھول ہے،ستارہ ہے۔فن ہوتا ہی حسن پیدا کرنے کے لئے ہے ۔آپ بات کو کتنے خوبصورت انداز سے بیان کرتے ہیں۔
میرا لکھاں دا وکدا تکیہ
جے ہنجواں دا مل پیندا
اگر آنسوؤں کی قیمت پڑتی تو میرا تکیہ لاکھوں میں بکتا۔یہ بات کرنے کا ایک ڈھنگ ہے۔

esmuskrahat1.jpg
س۔ہم نے سنا ہے کہ شاعری کانزول ہوتا ہے‘ کیا یہ سچ ہے؟
ج۔ شروع شروع میں ایسا ہوتا ہے۔ بعد میں محنت کرنی پڑتی ہے۔ قدرت آپ کی رہنمائی ضرور کرتی ہے۔آپ کو احساس دلا دیتی ہے کہ آپ کے اندر یہ ٹیلنٹ ہے۔علامہ اقبال سے کسی نے کہا کہ مجھے آپ کا یہ شعر بہت پسند ہے تو فرمایا میں نے اس شعر کو 78 مرتبہ کاٹ کر لکھا۔اچھا شعر کہنا مشکل کام ہے۔شعر کے بہت عجیب تجربے ہوتے ہیں خاص طور پر جوانی میں ایسے تجربے بہت ہوتے ہیں۔جیسے میں نے نیند میں شعر کہے، جب اٹھا تو یاد تھے۔


؂ بہت چوما ہے اپنا ہاتھ میں نے
تیرے پاؤں کے نیچے آگیا تھا
یہ شعر میں نے سوتے میں کہاتھا۔


س۔کیا محبت کے بغیر شاعری نا ممکن ہے؟
ج۔با لکل درست ۔محبت کی مختلف شکلیں ہیں۔فیض صاحب نے اپنی محبت کو وطن سے منسلک کر دیا۔ماں سے محبت ،اولاد سے محبت ا ور سب سے بڑی محبت جو اقبال نے کہا کہ حضور ﷺ سے محبت ہے۔آپ ﷺ سے محبت کا مطلب زندگی کے بہترین انداز سے محبت ہے۔زندگی میں تجربے ہوتے ہیں۔مگر فانی وجود سے محبت بھی فانی ہی ہوتی ہے۔اصل محبت باقی سے ہے جو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔میں نے محبت بھی کی اور شاعری بھی، میری بیوی بھی ایک تجربہ ہے مگر کامیا ب تجربہ ۔

(ہنستے ہوئے۔)


س۔آپ نے شاعر ی کے لئے پنجابی زبان کا ہی انتخاب کیوں کیا؟
ج۔میرے ایک استاد چوہدری افضل حسین نے مجھے پنجابی میں لکھنے کو کہا۔ پہلے میں صرف اردو میں شعرکہتا تھا۔اس زمانے میں مشاعروں میں طرح مصرع دیا جاتا تھا اور ہم لوگ شعر لکھ کر لے جایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ میں نے اپنے پڑوسی کی بھینس پر ایک نظم لکھی۔جس میں اس کی جوانی‘ خوبصورتی،اس کی اداؤں اور اس کے نینوں کو اس طرح سے بیان کیا کہ اچھا خاصا ہنگامہ ہو گیا۔وہ لوگ مار پیٹ کرنے کے لیے لاٹھیاں لے کر آگئے۔خیر بڑی مشکل سے صلح صفائی ہوئی اور صلح نامہ کے طور پر میں نے وہ نظم پھاڑ دی‘ اس وقت میں ایف اے میں تھا ۔مگر اگلے دن دوبارہ لکھ کر کالج میں سنائی تو میرے استاد کہنے لگے کہ بھئی تمہارا بھینس کامطالعہ تو کمال ہے۔اسی طرح گجرات کے ایک بڑے شاعر پیر فضل نے کہا کہ تم پنچابی شاعری کرو ۔


س۔آپ مزاحیہ شاعری اتنی سنجیدگی سے کیسے کرتے ہیں؟
ج۔ہنسنے کے علاوہ میرے پاس چارہ ہی نہیں تھا۔میرے لئے درد چھپانا مشکل ہو گیا تھا‘ میں نے ہنس کے چھپایا۔اس مسکراہٹ کے پیچھے آنسوؤں کی جھالریں ہیں۔بندہ اس لئے بھی تو ہنستا ہے نا!کہ کسی کو کچھ پتہ نہ چلے۔میرا مزاح مکئی کے دانوں کی طرح ہے‘ مکئی جب جلنے لگتی ہے تو ہنسنے لگتی ہے مجھے یوں لگتا ہے جیسے بادل کا ٹکڑا میرے اندر داخل ہو گیا ہو‘جب اس میں بجلی چمکتی ہے تو وہ ہنستا ہوا لگتا ہے اور جب وہ برسنے لگتا ہے تو وہ روتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔یوں میری شاعری رونے لگتی ہے۔


ْس۔آپ کو بھی رونا آتا ہے؟
ج : اصل میں میں نے عوامی سطح پر زندگی بسر کی ہے۔میں نے لوگوں کے غربت کے دکھ سکھ بہت قریب سے دیکھے ہیں۔۔مجھے پتہ ہے کہ بھوک کیا ہے۔کیونکہ میں نے وہ دن گزارے ہیں لیکن اللہ نے صبر عطا کیا اور آج کسی چیز کی کمی نہیں۔میں نے اپنی فارسی کی ایک نظم یونان میں ایرانی سفیر کو سنائی تو وہ رونے لگا۔
میرے کئی مصرعے آپ سنیں گے تو ہنس پڑیں گے لیکن وہی میں دوسری دفعہ پڑھوں تو آپ حیران ہو جائیں گے۔
؂

جب میری پہنچ میں کوئی سودا ہی نہیں
پھر کس لئے لگتا ہے یہ میلا میرے آگے


س۔زندگی کا سب سے بڑا دکھ جس نے شاعری کی شکل اختیار کر لی؟
ج۔میں نے بڑی غربت کے دن گزارے ۔وہ میرا بڑا دکھ تھا۔
؂ تو نے پوچھا ہے مجھے درد کہاں ہوتا ہے
اک جگہ ہو تو بتاؤں کہ یہاں ہوتا ہے


میں بیمار ماں کے لئے دوائی کا انتظام نہ کر سکتا تھا۔والد صاحب نے بچوں کی ذمہ داری نہ لی اورساری ذمہ داریاں میرے اوپر آگئیں۔
(انور صاحب سراپا درد بن گئے ۔دکھ الفاظ کی صورت ان کے لہجے سے رسنے لگے۔)
مجھے اس ملک کا بھی بڑا دکھ ہے کہ جس مقصد کے لئے ہم نے ملک حاصل کیا تھا وہ مقصد ابھی حاصل نہیں ہو سکا ۔جو بھی آیا اس کواس مقصد سے ہٹاتا رہا۔


ہم کو درپیش ہیں اتنے مسائل انور
ان کو گننے بھی جو بیٹھیں تو زمانے لگ جائیں
کوئی تدبیر اسی ایک پریشانی کی
جو بکھرے ہوئے شاپر ہیں ٹھکا نے لگ جائیں


میں جس ملک میں رہتا ہوں اس کا دکھ میرا دکھ ہے ۔میرا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ ہم نے جو فلاحی مملکت بنانی تھی،وہ نہ بن سکی۔جاگیر داری اس کا پیچھانہیں چھوڑتی۔


س۔آپ کی نظم ’’بنیان‘‘ سن کر سامعین ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں‘وہیں امبڑی سننے والوں کے آنسو نہیں تھمتے؟
ج۔یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔وہ میرے ہی کلاس کے لڑکے تھے،جو دیرسے آئے تھے اور میرے پوچھنے پرجو وجہ بتائی تو میں سن ہو کر رہ گیا۔ یہ واقعہ تو ہو گیا لیکن اس نے مجھ پر بہت اثر کیا۔میں اسے سوچتا رہتا اور لکھتا رہتا۔میں دس سال تک اس نظم کو لکھتا رہا مگر مطمئن نہ ہو ا ۔ان دنوں میں پنڈی گھیب میں تھاتو اس رات کی تنہائی میں اس نظم نے کہا کہ اٹھو اور مجھے لکھو اور اس طرح ''امبڑی ''تخلیق ہوئی۔


بنیان میں نے پانچ منٹ میں لکھی ۔جب میں نے پہلی مرتبہ لکھی تو احمدندیم قاسمی کہنے لگے مجھے کوئی چیز سناؤ میں نے ’’بنیان ‘‘سنائی تو تھوڑی دیر بعد کہنے لگے ’’انور میں ایک اور فرمائش کروں‘‘میں نے کہا’’حکم کریں‘‘ تو کہنے لگے ایک مرتبہ پھر سناؤ۔


س۔آپ کا انداز بیان جدا گانہ ہے،اس کی کیا وجہ ہے؟
ج۔یہ میرا فطری انداز ہے ۔ شعوری نہیں ۔پڑھنا بھی ایک فن ہے۔آواز اور لہجے میں اس وقت تک اثراور برکت پیدا نہیں ہوتی جب تک لہو کی دھار اس میں شامل نہیں ہوتی۔
’’معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود‘‘
میں بہت کم مطمئن ہوتا ہوں۔بڑے بڑے لوگ شعرپڑھتے ہیں‘ تلفظ ٹھیک‘ زیروبم ٹھیک‘ توقف ٹھیک‘ پھر بھی تاثر پیدا نہیں ہوتا ۔جو میری نقل کرتے ہیں وہ بناوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔


س۔آپ نے دنیا بھر میں مشاعروں میں شرکت کی ۔کہاں کے سامعین آپ کو زیادہ پسند آئے؟
ج۔میں کسی بھی ملک میں جاتا ہوں اور داد سمیٹتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس سے زیادہ پذیرائی ہو ہی نہیں سکتی تھی اور جب اگلے ملک میں جاتا ہوں تو پہلے ملک کی پذیرائی ہیچ لگتی ہے۔میں کہتا ہوں کہ میں نے کسی شاعر کو اتنی داد ملتے ہوئے دیکھی نہیں ہے جتنی مجھے ملتی ہے۔حفیظ جالندھری نے ایک مرتبہ میرے بارے میں کہا کہ
’’انور مسعود کی شاعری میری حسرت اظہار ہے۔‘‘خاص طور پر یونیورسٹی اورکالجوں کے نو جوان بہت پسند کرتے ہیں۔میرا نظریۂ شعر یہ ہے کہ میں ایسا شعر کہوں جسے دودھ دہی بیچنے والا دکان دار بھی پسند کرے۔ریڑھی والا بھی اور اسی مصرعے کو وائس چانسلر سنے تو وہ بھی پسند کرے۔جو لوگ اپنے آپ کو مشکل بنا دیتے ہیں وہ اپنے قارئین کا حلقہ محدود کر لیتے ہیں۔میر کا شعر میرا ماٹو ہے


؂ شعر میرے ہیں گو خواص پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے


ٹالسٹائی نے کہا ہے کہ کسی ادبی فن پارے کی اہمیت اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ اس نے زیادہ سے زیادہ کتنے لوگوں کو متاثر کیا۔میں نے لوگوں کے ہونٹوں سے باتیں لے کر ان کے کانوں کو واپس کرنے کی کوشش کی ہے اور خدا نے اس میں بہت برکت ڈالی ہے۔


س۔اب تک کتنی کتابیں لکھ چکے ہیں؟
ج۔میری پنچابی نظموں کی کتاب ''میلہ اکھیاں داں ''اس کے 68 ایڈیشن آچکے ہیں۔ اردو میں سنجیدہ شاعری بھی کی۔ نعتیہ کلام بھی ’’باریاب کلام‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔اس میں اردو ‘پنچابی اور فارسی کی نعتیں ہیں۔چودہ پندرہ کتابیں چھپ چکی ہیں۔لیکن جو بڑا کام اللہ نے مجھ سے کروایاوہ میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ کی سیف الملوک کا ترجمہ ہے جو پنچاب گورنمنٹ نے مجھ سے کروایا۔میں نے بچپن میں میاں صاحب پرایک نظم لکھی تھی اور کہا تھا کہ’’ اس درگاہوں میاں صاحب میں نیءں خالی جانا۔‘‘
تو یوں لگتا ہے کہ میری دعا قبول ہو گئی۔ احمد ندیم قاسمی جب بھی مجھے ملتے تو کہتے’’ مجھے وہ نظم سناؤ‘‘ وہ کہتے تھے کہ تم وہاں سے خالی نہیں آئے۔سیف الملوک کا ترجمہ کرنے میں مجھے تین سال لگے۔یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ان کے دس ہزار اشعار کا ترجمہ میں نے اردو میں کیا۔نثر میں میری کتاب ’’فارسی ادب کے چند گو شے’’بڑی اہم کتاب ہے۔اس کے بارے میں مشتاق احمد یوسفی نے کہا تھا ‘‘ کہ گر فاصلہ کم نہ ہوتا اور میری یہ عمر نہ ہوتی تو میں انور مسعود سے جا کر فارسی سیکھتا۔‘‘


س۔علامہ اقبال کی شاعری نے قوم میں ایک امنگ پیدا کی۔آپ کا کیا خیال ہے کہ آج کے اس الیکٹرانک دور میں اب بھی شاعری اسی طرح سے لوگوں پر اثر کر سکتی ہے؟
ج۔اقبال کے پائے کا کوئی شاعر نہیں۔
’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ‘‘
یہ اقبال کا ہی دور ہے۔ایران میں ایک استاد سے میں نے اقبال کے بارے میں رائے لی تو بولے کہ ’’زود آمد‘‘ کہ جلدی آگیا یعنی آنے والا سارا زمانہ اسی کا ہے۔عبد المغنی انڈیا کے بہت بڑے نقاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقبال دنیا کا سب سے بڑا شاعر ہے۔وہ اس کتاب کا مفسر ہے جو دنیا کی سب سے بڑی کتاب ہے۔وہ قرآن کو بیان کرتا ہے۔اقبال نے محنت بھی بہت کی ہے۔جب تک آپ لفظ کی حقیقت کو نہیں جانتے آپ اس کا صحیح استعمال نہیں کر سکتے۔میر تقی میر اور غالب کے درمیان ایک سو سال کا فاصلہ تھا۔غالب اور اقبال کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔بہت سے ستارے بجھتے ہیں تو سورج نکلتا ہے۔


س۔پنجابی میں بابا بلھے شاہ‘ وارث شاہ ،سلطان باہو،میاں محمد بخش اور دیگر شعراء کی روایت چلی آرہی ہے ۔آج کے دور کے پنچابی شعراء میں سے ایسے چند نام جو یاد رکھے جائیں گے یا آپ جن کے کام سے متاثر ہیں؟
ج۔ایسے لوگ موجود ہیں ’’اسیر عابد‘‘ نے پنچابی میں ترجمے کا کام کیا ہے۔انہوں نے غالب کے دیوان کا پنچابی میں ترجمہ کیا اورکمال کیاہے۔ایسا لگتا ہے کسی نے لاہورمیں بیٹھ کرپنجابی شاعری کی ہواور غالب نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہو۔اسی طرح تجمل کلیم پنچابی کے بہت اچھے شاعر ہیں۔لیکن بابا بلھے شاہ ، وارت شاہ ،سلطان باہو، بابا فرید کے پائے کا شاعر کوئی نہیں۔


س۔آپ نے محبت کی شادی کی؟مزاحیہ شاعری کرتے ہیں تو مزاجاََکیسے ہیں؟کبھی غصہ بھی آتا ہے؟
ج۔غصہ آنافطری بات ہے۔ہر انسان کی طرح مجھے اور بیگم کو بھی آتا ہے۔لیکن ہم نے کبھی اس کو دیر تک نہیں رکھا۔ ہماری شادی کی پچاسویں سالگرہ ہوئی ہے۔


س۔آپ کے سارے بچے قابل ہیں۔بچوں کی تربیت میں کس چیز کا خیال رکھا؟
ج۔بچوں کی تربیت میری بیگم نے کی۔مجھے مشاعروں اور فنکشنز سے فرصت ہی نہیں ملی ۔میرے سسر کے ذہن میں ایک ہی خیال تھا کہ ان کی اولاد پڑھی لکھی ہو،اور یہی جذبہ اور شوق میری بیگم کے دل میں تھا۔میرے خاندان میں تو پڑھائی کا کوئی رواج نہیں تھا۔لڑکی تو دور کی بات ہے‘ لڑکوں کو پڑھانابھی برا سمجھا جاتا تھا۔کیونکہ وہ صنعت کار تھے۔میں امتحانوں میں بچوں کی مدد کروا دیتا تھا۔بیگم نے پورے خلوص سے انہیں پڑھایا ۔بڑا بیٹا امجد اسلام امجد کا داماد ہے۔عمار کو آپ جانتے ہیں۔چھوٹا میرے ساتھ رہتا ہے۔دو بچیاں ہیں دونوں پروفیسر ہیں۔


س۔یاد گار واقعہ؟
ج۔میں طواف کر رہا تھا۔ایک لڑکا مجھے غور سے دیکھتا رہا ۔پھر میرے پاس آکر بولا ’’آپ بھی یہیں ہیں؟‘‘ تو میں نے کہا: ہاں جی! خدا نے مجھے بھی بلایا ہے۔ تو کہنے لگا مجھے پتہ نہیں تھاآپ یہاں ہیں‘ میں نے ابھی آپ کے نام کا عمرہ کیا ہے۔ یہ میری زندگی کا بہترین ایوار ڈ تھا۔لوگ گلہ کرتے ہیں کہ دنیا قدر نہیں کرتی ۔ دنیا بہت قدر کرتی ہے۔میری اتنی قدر ہوئی کہ میں اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔اس طرح مجھے فیصل آباد میں ایک مشاعرے میں بلایا گیا‘ وہاں لڑکوں نے مجھے ہار پہنایا جس پر لکھا ہو ا تھا’’شادی مبارک‘‘تو بیگم صاحبہ کہنے لگیں یہ ہار پہن کر اکیلے ہی آگئے ہیں۔


س۔زندگی کا وہ لمحہ جب خود پر فخر محسوس ہو اہو؟
ج۔اس کا مجھے انتظار ہے۔کہ خدا میری کوتاہیوں کو بخش کر مجھے معاف کر دے ۔اس کو قرآن نے بھی فوزالعظیم کہا ہے۔اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں۔دنیاوی کامیابیاں خاصی ہیں۔


س۔کتنے ممالک کی سیر کی؟
ج۔میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں کبھی گجرات سے باہر بھی جا سکوں گا۔مگر میں نے شاعری کے تخت پر بیٹھ کر دنیا بھر کی سیر کی۔


س۔اب تک کتنے ایوارڈحاصل کر چکے ہیں؟
ج۔بے شمار۔مجھے تعلیمی میدان میں بھی ایوارڈ ملے ۔بی اے میں بیسٹ سٹوڈنٹ کا ایوارڈ ملا ۔ایم اے میں گولڈ میڈل حاصل کیا اور1999میں مجھے پرائڈ آف پر فارمنس کا ایوارڈ ملا۔رفیق تارڑ صاحب مجھے تمغہ پہناتے ہوئے کہنے لگے کہ مجھے آپ کی نظمیں بہت اچھی لگتیں ہیں۔صدر ممنون حسین صاحب نے مشاعرہ کروایا اور میرے ساتھ تصویر بنوانے کی فرمائش کی ۔یہ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے۔حال ہی میں امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں جشن انور مسعود منایا گیا۔کیلیفورنیا میں مجھے''لِونگ لیجینڈ ''کا ایوارڈ دیا گیا۔ یہ بھی اللہ کا کرم ہے ‘وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے۔


س۔آپ کو سیاست سے لگاؤ ہے؟
ج۔عملی سیاست سے نہیں ہے لیکن ملک کے سیاسی حالات سے بے خبر نہیں رہتا اور یہ حالات مجھ پراثر انداز ضرور ہوتے ہیں۔
ان پہ مٹی ضرور ڈالیں گے
جو مسائل بھی سر اٹھائیں گے
سوچتا ہوں کہ چوہدری صاحب
اتنی مٹی کہاں سے لائیں گے


سب لوگ مفاد پرست ہیں الیکشن ہوں تو دھاندلی کے الزامات ۔پھر میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت اس ملک میں کیونکر آسکتی ہے جہاں لوگ پڑھے لکھے نہ ہوں ؟دو چیزیں بہت ضروری ہیں۔ایک تو یہ کہ ووٹ کا حق پڑھے لکھے باشعور لوگوں کو ملنا چاہیے دوسرا یہ کہ الیکشن میں حصہ لینے کے لئے بھی کوئی معیار ہونا چاہئے‘امیدوار میں اتنی قابلیت اور صلاحیت ہونا ضروری ہے کہ وہ مسائل کا ادراک کر سکے۔ہمارے یہاں خاندا نی سیاست فروغ پا چکی ہے۔وہی لوگ بھیس بدل بدل کر آرہے ہیں۔


س۔ملکی حالات کی بہتری کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
ج۔جو قائد اعظم نے کیا تھا۔انہوں نے پاکستانی قوم کی تشکیل کی‘ اس وقت فرقہ بندی اور گروہ بندی نہیں تھی۔انہوں نے اتحاد اور تنظیم پر زور دیا۔ شہد کی مکھیاں بھی اکٹھی ہو کر شہد بنا لیتی ہیں۔اس وقت ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے۔ہمیں ایک دیانت دار بندہ چاہئے۔قوت والا اور پاور والا ہماری تقدیر بدل سکتا ہے۔


س۔آپ ملکی حالات سے مطمئن ہیں؟
ج۔اگر مطمئن ہو جاؤں تو میری شاعری ہی ختم ہو جائے گی۔حالات کی بہتری کے لئے ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے۔


س۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک کون سا وقت ملک کے لئے اچھا تھا؟
ج۔قائد اعظم صاحب اورعبدالرب نشتر کا دور۔ہمارے ہاں اگر کوئی ترقی ہوئی ہے تو ایوب خان کے دور میں ہوئی ہے۔


س۔پسندیدہ سیاست دان؟
ج۔قائد اعظم ۔میں چھ سات سال کا تھا تو میں نے قائد اعظم کو لاہور میں دیکھا۔والد صاحب نے مجھے اٹھایا ہوا تھا۔دبلے پتلے قائد اعظم کی آنکھوں کی بے پنا ہ چمک مجھے ابھی تک یاد ہے۔اور آنکھوں میں چمک مقصد سے آتی ہے۔سید ابو اعلیٰ مودودی کی شخصیت سے بھی میں بے حد متاثر ہوں‘وہ ایک بڑے عالمِ دین تھے۔


س۔فوجی بھائیوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
ج۔ہمارا یہ ادارہ قابلِ احترام ہے۔جنگ کے دوران میں نے ترانے بھی لکھے ہیں۔
خشکی پہ سمندر میں ہواؤں میں لڑے ہیں
ہم لوگ ہیں شہباز فضاؤں میں لڑے ہیں
یہ ہمارے محافظ ہیں۔ان کی سب سے بڑی ڈیوٹی ہے وطن کی حفاظت کرنا۔مشکل کی ہرگھڑی میں وہ ہمارا ساتھ دیتے ہیں ،ہماری حفاظت کرتے ہیں اسی طرح جب بھی موقع آتا ہے عوام بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔فوج کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہئے۔ سیاست سے احتراز فوج کے ادارے کی عزت ووقار میں اضافے کا باعث بنا ہے۔

انٹرویو نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لئے بھی لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

شعر جگنو ہے،پھول ہے، ستارہ ہے۔فن ہوتا ہی حسن پیدا کرنے کے لئے ہے ۔

*****

فانی وجود سے محبت بھی فانی ہی ہوتی ہے۔اصل محبت باقی سے ہے جو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

*****

میرا مزاح مکئی کے دانوں کی طرح ہے‘ مکئی جب جلنے لگتی ہے تو ہنسنے لگتی ہے مجھے یوں لگتا ہے جیسے بادل کا ٹکڑا میرے اندر داخل ہو گیا ہو‘جب اس میں بجلی چمکتی ہے تو وہ ہنستا ہوا لگتا ہے اور جب وہ برسنے لگتا ہے تو وہ روتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یوں میری شاعری رونے لگتی ہے۔

*****

آواز اورلہجے میں اس وقت تک اثر اور برکت پیدا نہیں ہوتی جب تک لہو کی دھار اس میں شامل نہیں ہوتی۔

*****

میرا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ ہم نے جو فلاحی مملکت بنانی تھی،وہ نہ بن سکی۔

*****

میرا نظریۂ شعر یہ ہے کہ میں ایسا شعر کہوں جسے دودھ دہی بیچنے والا دکان دار بھی پسند کرے۔ریڑھی والا بھی اور اسی مصرعے کو وائس چانسلر سنے تو وہ بھی پسند کرے۔

*****

میر تقی میر اور غالب کے درمیان ایک سو سال کا فاصلہ تھا۔غالب اور اقبال کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔بہت سے ستارے بجھتے ہیں تو سورج نکلتا ہے۔

*****

ٹالسٹائی نے کہا ہے کہ کسی ادبی فن پارے کی اہمیت اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ اس نے زیادہ سے زیادہ کتنے لوگوں کو متاثر کیا۔میں نے لوگوں کے ہونٹوں سے باتیں لے کر ان کے کانوں کو واپس کرنے کی کوشش کی ہے اور خدا نے اس میں بہت برکت ڈالی ہے۔

*****

 
09
February

Meeting the Legends - Abdul Sattar Edhi and Bilquis Edhi

Written By: Maj. Kanwal Kiani

We often get inspirations from some extraordinary people around us and thus they become our role models – but not necessarily everyone gets a chance to meet these icons and get to know about their life experiences.


In the context of Pakistan, when we think about social services, one name immediately strikes our minds – Abdul Sattar Edhi. Like many others he is my role model, too – I had never thought in life that one day I would get a chance to meet him.


It was a Friday afternoon, when Hilal team entered the main Headquarters near Boltan Market Karachi. After entering a big hall and introduction, I asked the young lady at reception about him, she pointed her finger and said, ‘he is sitting on your left’.


And he was no different from the image we always see on TV screens. Dressed in simple dark grey shalwar kameez, wearing Quaid-i-Azam cap – an eminent persona with a grey white beard, sharp features and frail body, whom we all know as Abdul Sattar Edhi; a saint among ordinary people like us, an emblem of hope for many poverty-stricken people of Pakistan.

 

metlegd.jpgAfter a couple of minutes his youngest son Faisal Edhi took us into a modest yet impressive office festooned with pictures of M.A. Jinnah, an old family photograph of Abdul Sattar Edhi, and certificates by different international organizations along with posters of public service messages.


It was not an interview but a conversation with the family, and Abdul Sattar Edhi despite his ailment took part, sharing his life occurrences with Hilal team while listening to Faisal Edhi.
Born in 1928 in Bantva (a small town in Kathiawar, India), at the age of 20, he joined a charitable trust run by the Memons, the community to which his family belonged. He was dismayed when saw that the organization only helped their own community. He then decided to work for humans regardless of faith, class, identity – he aimed to serve humanity – and he does so successfully. He preaches to be a human and love the humanity.


He was taught to help people at very little age, when his mother used to give him two paisa's and advised to give one to the needy and keep other as his pocket-money. Later he learnt how to take care of sick, when his mother was bedridden due to paralyses. That was certainly the foundation stone which shaped him into the living legend he is today.


Now 87, Edhi started his charity work 60 years ago with an old van converted into an ambulance, and set out on numerous life-saving missions. He set up homes for the mentally-retarded and old people when observed them mistreated by families, opened orphanages when saw children sleeping with dogs on footpaths, built dispensaries and homes when found women in distress and raised thousands of unwanted or illegal infants.


"I have travelled 72 countries of the world but could not find any country like ours and nation as Pakistanis. Edhi foundation has never accepted donations offered by either own or foreign governments. Whenever I needed money, I begged people of Pakistan and they contributed generously. I incalculably worked for almost 55 years of my life for humanity – now I have gone weak and old, cannot contribute physically but I do supervise my son Faisal, who is managing the foundation,” told Edhi sahib in a feeble voice.

 

metlegd1.jpg“People sometimes don't understand the true concept of charity, and doubt my efforts and sincerity. Some of the money and jewelry that we had collected for poor people was robbed on gun point. People asked whose amanat was it? That was amanat of deprived and needy people of Pakistan that was amanat we had gathered through begging. My religious beliefs are also questioned…. Alhamdulillah I am Muslim, I offer five time prayers and I always seek help and guidance from Allah and He has been very kind to me. But besides all I always care for humanity; not only for Muslims or Pakistanis. Things were never easy for me and my family, but we always remain self-effacing,” he further added.


As he said his ‘religion’ is humanitarianism, so for people who doubt his religious morality may have a look on the activities performed under the patronage of Edhi Trust, they would be surprised to note the unison between tasks of Edhi Foundation and true practices of our religion. So does his actions not speak louder move words?


Long ago, one day when he was passing by a market, he saw a badly beaten-up man lying helplessly on the road, people were gathered around but nobody tried to save his life and just watched him die. He decided that day, that he would take care of dead, wounded, too. Today everyone knows that even if its armed fight going on anywhere, people fighting would stop and let Edhi ambulance rescue wounded and pickup the dead.


Here I would like to share what he narrated in his autobiography by Tehmina Durrani, published in 1996, about recovering the stinking cadavers "rivers, from inside wells, from road sides, accident sites and hospitals… When families forsook them, and authorities threw them away, I picked them up… Then I bathed and cared for each and every victim of circumstance."
While sharing his feelings Faisal Edhi told Hilal, "I was very attached with my father, although he had no time for us, but I used to wait for him especially in Ramadan. At the age of 13, I went to USA for studies but came back after 3 years as I wanted to work with Edhi sahib and thus became his right hand. This task though involves immense hard work and sacrifices, but with supervision of Edhi sahib we are trying to continue the services the way he have been doing in the past."


Faisal Edhi further shared that Edhi sahib always treated the kids in the centres and his own children equally. "You can figure it out with one little example that I wanted to have a bicycle and a small motor car but Edhi sahib did not buy one for me," and said, "it would be unjust if I give you one, and not to my hundreds of kids." He has spent his entire life in the service of mankind, without personal benefits or gain, and taught us the same values he has been following throughout." He has won many national and international certificates and awards for his meritorious humanitarian services not only inside Pakistan but wherever in the world calamities occur, but he has no lust for fame," added Faisal.


In 1964 Edhi sahib married Bilqis who worked as a nurse at the Edhi dispensary. They have four children two daughters and two sons. She had been managing orphanages, maternity homes, girls’ hostels and nursing homes under the banner of Edhi Foundation. As Faisal Edhi is helping his father, likewise their eldest daughter has become a helping hand of her mother Bilqis Edhi.


While talking to Bilqis Edhi whom Edhi sahib calls his strength, we asked about the life journey she has been spending with the icon of humanity. "He has spent his life to help others. Regardless of knowing about his commitments, sometimes I used to complain that he never gives time to our own children, but gradually we learnt to live with it. He missed his daughter's wedding, he did not attend funeral of our grandson Bilal, whom he loved more than his kids.”

 

metlegd2.jpgLet me share this most heartrending incident that jolted our family and you can evidently see what kind of a person Edhi sahib is. It was July 9, 1992 when he was going to Ghotki to help people dead or injured as a result of train accident and our grandson Bilal died. He was the youngest son of my eldest daughter Kubra. And we loved him more than our own kids. The love and affection Edhi sahib had for Bilal, was never seen for his own kids. He still says that Bilal was part of his heart and after Bilal he would not be able to love anyone. Although he had seen sufferings of other people too many times but the pain he went through after seeing Bilal’s burnt body, was unbearable. He was burnt by a psycho patient Irshad who, with her children, was living in our home.

 

Just to take revenge from my daughter Kubra that why she complained of her ill-discipline, she burnt my six-year-old grandson alive with scorching water that too on eid day. But instead of taking any action against her, Edhi sahib sent her for treatment in on other centre and asked us to forgive her, too. How the life with a person who always loved and respected humanity, could be an easy one? We never spent time together as family but learnt true spirit of sacrifice from him. He always trusted me for bringing up our children and he still likes when I take care of the abandoned children until they are adopted by someone. When asked about for how long they keep track of such children she replied, "maximum of 5 to 6 years, as we get busy with other kids coming into the centres but the parents do apprise us about the kids, send us their pictures and sometimes bring them to meet us.”


When I asked about how the organization is working on that large scale without government funding, she told about the policy of Edhi Foundation and said, “Whenever international donors offer us donations we politely either refuse or distribute in the same country, since we get enough from Pakistanis, we do not take money from government or from abroad.”


Upon asking about likes and dislikes of Edhi sahib she told, "He has always led a simple life, with undemanding eating habits. Usually he takes pieces of old bread in the morning, and raw cooked vegetable or any daal (pulse) in meals. When we were newly married, my friends used to make fun of him eating chapati with water-melon, but I never mind that as I knew my husband." I was very immature when we got married, but he was always kind and tolerant.


While commenting on Operation Zarb-e-Azb Edhi sahib appreciated the efforts of Pak Army and said, "Pak Fauj under the leadership of Gen Raheel Sharif is fighting for a peaceful Pakistan, the soldiers are helping humanity, we are with them, my all prayers are with them for success of this noble cause."


“Today when I look back into my life, I don't feel any regrets, I attained whatever I wished for, Allah has always been so helpful and kind.” Though every word of Edhi sahib is a message for us but he through platform of Hilal, specially wanted to pass on to the youth that humbleness is the most distinctive trait for humans, so be humble, love humanity and be a human.


Upon leaving the premises of Edhi Headquarters, and spending a half day, I really felt honoured meeting a brutally honest, simple and a very compassionate man. Who has transferred his saint host philosophy in his future generation, too. We pray for his speedy recovery and long healthy life, as someone else may not be able to serve mankind the way he is doing.

Awards Conferred upon Abdul Sattar Edhi

National Awards

• Shield of Honour by Pakistan Army (E & C).
• Honorary Doctorate Degree by Institute of Business Administration, 2006.
• Khidmat Award by Pakistan Academy of Medical Sciences.
• Human Rights Award by Pakistan Human Rights Society.
• Pakistan Civic Award by Pakistan Civic Society, 1992.
• Nishan-e-Imtiaz by Government of Pakistan, 1989.
• The Social Worker of Sub-Continent by Government of Sindh, 1989.

 

International Honours

• Magsaysay Award for Public Service from Philippines.
• International Balzan Prize for Humanity, Peace and Brotherhood from Italy, 2000.
• Hamdan Award for volunteers in Humanitarian Medical Services from UAE, 2000.
• Paul Harris Fellow from Rotary International Foundation, 1993.
• Largest Voluntary Ambulance Organization of the World by Guinness Book of World Records, 2000.
• International Lenin Peace Prize for services in the Armenian earthquake disaster from Russia (former USSR), 1988.

*****


Future Project:

Today the Edhi Foundation has approximately 550 ambulances, including two planes and a helicopter. Currently, he is building a system of roadside medical aid centres, each with an emergency vehicle, every 35 miles along Pakistan’s highways, from Khyber to Karachi.

Quick Bites

• Passion: Serving Humanity
• Favourite Song: Dukhaaey dil jo kisi ka wo aadmi kia hai
• Favourite Fruit: Mango
• Best Companion: Biliqis Edhi
• Most Favourite Kid: Faisal Edhi

*****

 
17
February

Larger than life

Mr Athar Yad Ali is a brave citizen who, in a daring action on January 3, 2015, managed to stop a driver-less 22 wheeler truck, whose brakes had failed at Salt Range, Motorway. His action prevented men and material losses and speaks volumes about his courage and sense of responsibility as a citizen.

Interview By: Asif Jehangir Raja

Q. The video of your brave action of halting a driver-less heavy truck at the Salt Range area on the Motorway on Jan 3, 2015 went viral on web. Please share the details of the incident with us.

My wife, two sons and I were on the Motorway, enroute to Lahore from Islamabad, when we noticed an unmanned 22 wheeler truck making its way down the road in an abnormal manner. After observing it for some time in the back view mirror, it became evident that the brakes of the truck had failed. Moreover, we also noticed that the truck was without driver meaning that the driver had probably jumped off after noticing the brake failure. The Salt Range is one of the most dangerous portions for any kind of traffic, especially the heavy vehicles, on the Motorway. An unmanned truck could cause man and material losses and to the vehicles commuting on the Motorway. My children were making a video of the truck. After hoping for the truck to come to a halt which wasn’t happening, I noticed a slope coming which could cause a lot of damage and then within a spilt-second I decided that I had to stop it before it was too late.

Q. In the video, your children and family is heard advising you not to attempt any such adventure. What prompted you to take such a decision despite opposition?

My children were making a video of the truck. However after seeing that the truck just wasn’t stopping and there was a slope ahead, I decided to be more than a mere spectator and took charge of the situation. So I got off from my car and mounted on the truck. If the truck wasn't stopped it could have led to a disastrous situation. I didn't want to leave this to chance and took my chance; and all praise to Allah, it paid off.

Q. How did you manage to stop the truck on a slope whose brakes had failed?

It was essentially a very basic Physics law that I applied to stop the truck. After jumping behind the steering wheel, I kept swerving the truck into the divider and used the tyres fixed on the roadside wall to break the momentum which slowed its speed. I continued doing so for about 2 kilometers and eventually the truck came to a halt.

Q. Were you fearful at any moment of your brave action? What were your feelings while you were undergoing this action?

Honestly, it was the use of cool logic under pressure. Once you take the decision to put yourself in a seemingly dangerous situation, you have to eliminate all fears and replace them with logic; that is the only way to come out of it unscathed.

Q. Did you attempt any brave action of similar nature in your life previously?

Yes, on several occasions.

Q. How does your family feel now?

Besides being relieved that nothing happened to me, they are proud of me.

Q. You have attained height of fame after this incident. What are your feelings?

I didn't intend for the fame to come to me. It was a split second decision that I took to prevent the terrible accident and something that I thought might help others.

Honestly, I am not a hero. I only hope that any Pakistani who could be involved in a similar situation would surely act to help. I just hope that people take this as an inspiration and should help our fellow countrymen and the nation. All praise to Allah, the Almighty.

Q. What is your message for the readers of Hilal?

To always put the needs of others before yours for the greater goal of peace, prosperity and unity of the country. We are all citizens of this great country that we live in and we need to work for peace and harmony. Remember our deeds are accounted for, good and bad. So every chance one gets, should increase the good.

Pakistan is passing through challenging times and terrorism has hit us hard. As member of the civil society, we all shall remain vigilant, and upon watching any suspicious terrorist activity, must inform the concerned authorities and also make all efforts to stop such individuals from barbaric acts.

Long Live Pakistan!

 

12
January

عربی اور فارسی کے مقابلے میں اُردو میں زیادہ جاندار ادب تخلیق ہوا ہے۔ افتخار عارف

Published in Hilal Urdu

انٹر ویو : صبا زیب

افتخار عارف کا نام ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ وہ نہ صرف پاکستان میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بھی لوگ ان کے مداح ہیں۔ وہ اپنے فن میں پختگی رکھنے والے منفرد ادیب ہیں۔ اپنا تجربہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو کوئی تشنگی نہیں رہتی۔ انہوں نے پاکستان میں ادب کی ترویج میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں مہردونیم، حرف بریاب، فیض بنام افتخار عارف اور انتخاب کلام فیض شامل ہیں۔ حال ہی میں وہ 3سال ایران میں ای سی او کے پہلے غیر ایرانی صدر کی خدمات انجام دے کر پاکستان آئے تو انہیں فوراً ہی ادارہ ترقی قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کر دیا گیاہے۔ اس سے پہلے وہ اس ادارے کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اکادمی ادبیات کے چیئرمین کے طور پر بھی پاکستانی ادب اور ادیبوں کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ ہم نے اپنے قارئین کے لئے افتخار عارف سے گفتگو کی جو قارئین کے لئے یقیناًدلچسپی کا باعث ہوگی۔

 

intiftakhararif.jpgسوال : ہمارے قارئین کے لئے اپنے بارے میں بتائیں خاص طورپر ادبی حوالے سے کہ یہ سفر کب اور کیسے شروع ہوا ؟
جواب: میری پیدائش21 مارچ1943 کو لکھنو میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم درسِ نظامی کے مدرسہ نظامیہ فرنگی محل سے حاصل کی۔ جوبلی سکول لکھنو سے سکول کی تعلیم حاصل کی یہ اس زمانے کا بہت مشہور سکول تھا۔ اس سکول میں شوکت صدیقی(ادیب، ڈرامہ نویس) نے بھی پڑھا تھا۔ انٹر میڈیٹ کے بعد لکھنو یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے وہاں بہت قابل اور بڑے اساتذہ سے پڑھنے کا موقع ملا جن میں پرویز احتشام، نور الحسن ہاشمی، رادھا مکھر جی وغیرہ شامل ہیں۔
ایم اے کرنے کے بعد 1965 میں پاکستان آیا۔ غریب گھرانے سے تعلق تھا۔ میری پرورش نانا نے کی۔ والدہ شیعہ جب کہ والد حنفی مسلک سے تھے۔ میں نے اپنی زندگی بہت مشکل حالات میں گزاری۔ لالٹین کی روشنی میں پڑھائی کرتا تھا۔ اسی زمانے میں میری نظر کمزورہوگئی لیکن ان سب مشکلات کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور آخر کار ایم اے کرلیا۔


1965 میں جب میں پاکستان آیا تو سب سے پہلے ریڈیو کی طرف گیا۔ وہاں میں نے اردو اور ہندی میں خبریں پڑھنا شروع کیں‘ہر بلیٹن کے 10 روپے ملتے تھے۔
میری اردو اچھی تھی اور تلفظ بھی صاف تھا ۔آہستہ آہستہ ریڈیو پر مختلف پروگرام ملنے لگے۔ ریڈیو کے لئے خدیجہ نقوی اور ایس ایم سلیم کے ساتھ ایک ڈرامہ کیا۔ جب ٹی وی آیا تو ٹی وی میں چلے گئے وہاں کسوٹی کے نام سے ایک پروگرام کیا جس میں میرے ساتھ ضیاء محی الدین اور قریش پور جیسے بڑے نام تھے۔ اس زمانے میں کسوٹی بہت مقبول ہوا اور کسوٹی کے ساتھ مجھے بھی شہرت ملی۔


جہاں تک ادبی سفر کی بات ہے تو شعر کہنا بچپن سے ہی شروع کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ شعر یاد آتے ہیں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لکھنو میں ہر شخص شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا۔ بچے بچے کو سیکڑوں کی تعداد میں شعریاد ہوتے تھے۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت ہوا جب میں شاہ عبدالرحمن سندھی کے مزار پر جاتا تھا۔ وہاں فارسی میں قوالیاں ہوتی تھیں اور مجھے بھی اس وقت فارسی کے بہت سے شعر یاد تھے۔ پھر جب پاکستان آیا تو اپنا گھر، گھر والے اور اپنا شہر یاد آتا تو اُن کی یاد میں شاعری شروع کردی اس طرح 1984 میں مہر دونیم کے نام سے پہلی شاعری کی کتاب آگئی۔


سوال : آپ آج کل کس پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں؟
جواب: ابھی پچھلے دنوں جب میں ایران میں تھا تو میں نے اپنے نئے شعری مجموعے پرکام کرنا شروع کیا۔ باغ گل سخ کے نام سے یہ شعری مجموعہ مارچ2017 تک مکمل ہو جائے گا۔

intiftakhararif1.jpg
سوال : پچھلے دنوں آپ ایران میں رہے، کیسا لگا آپ کو ایران اور وہاں کے لوگ؟
جواب: ایران میرے مزاج کے بہت قریب ہے وہاں کے لوگوں کی گفتگو، ان کا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا سب مجھے بہت پسند ہے۔ وہاں کے لوگ خوش لباس ہیں اور گھر کی آرائش کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی پودے لگائے جاتے ہیں۔ وہاں لوگوں میں کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں لیکن ان میں وطن پرستی بہت زیادہ ہے۔ ملکی مفادپر سب اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہو جاتے ہیں اور وہاں کے ادب میں بھی آپ کو یہ سب نمایاں نظر آئے گا۔
سوال : آپ کو لکھنے کے لئے کیا چیز راغب کرتی ہے۔ لکھنے کے لئے کیا خاص موڈ کا ہونا ضروری ہے؟
جواب: ہر انسان دوسرے سے جدا ہے اور میرا ایمان ہے کہ لکھنے کی توفیق اﷲ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں کسی موڈ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے لگتاہے کہ میری تقدیر میں تھا کہ میں شاعر ہوتا اور میری تخلیق کا مقصد بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ میں شاعری کرتا اور لکھتا۔۔۔
سوال :آپ خود کیا پڑھتے ہیں اور پسندیدہ رائٹرز کون سے ہیں؟
جواب: میں پہلے تو شاعری، اسلامی تاریخ، بڑی تہذیبوں کی تاریخ وغیرہ پڑھتا تھا لیکن آج کل میرا
Biographies
پڑھنے کی طرف رجحان کافی زیادہ ہوگیا ہے۔ بڑے اور مشہور لوگوں کی Biographies
‘ اس کے علاوہ شاعروں اور ادیبوں کی
Biographies
پڑھتا ہوں اور یہ بائیو گرافیز پڑھنے کا اتنا شوق ہے کہ اکثر اپنے دوستوں سے، مختلف ممالک سے منگوا کر پڑھتا ہوں۔ اس کے علاوہ پروگریسو رائٹرز کو بہت پڑھتا ہوں
World Poetry
خاص طور پر
Russian Poetry
کو ،انگلش ترجمے کے ساتھ، بھی پڑھتا رہاہوں۔
سوال : کیا ہمارے ہاں ایسا ادب فروغ پا رہا ہے جو آج سے پچاس سال بعد بھی اپنی شناخت قائم رکھ سکے؟
جواب: ہرزمانے میں بے شمار ادیب اور شاعر لکھ رہے ہوتے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو 20/30سال بعد بھی باقی رہیں۔ بڑے رائٹرز وہ ہوتے ہیں جو اپنے زمانے سے
relevant
ہوں اور آنے والے وقتوں کو بھی اپنی لکھائی میں
Relate
کریں، جیسے علامہ اقبال کے زمانے میں اور بھی بہت سے لوگ تھے جو شاعری کرتے تھے لیکن علامہ اقبال کی شاعری اُس وقت اور حالات کے بہت قریب تھی لیکن اس شاعری کو ہم آج بھی پڑھیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ آج کی ہی بات ہو رہی ہے۔بابا بلھے شاہؒ اور سلطان باہوؒ کولوگآج بھی پڑھتے ہیں ۔ لکھا ہوا لفظ ہی باقی رہتا ہے اور اسے ہی دوام حاصل ہے۔ہر لکھنے والا جب لفظ لکھ رہا ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کوئی معجزہ سرانجام دے دیا ہے۔ لیکن یہ ایک
Illusion
ہی ہوتا ہے۔ چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو باقی رہتے ہیں۔
سوال: نئے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر یا شاعر؟
جواب:۔ آج کل بہت سے لوگ اچھا لکھ رہے ہیں جیسے ذیشان ساحل، عباس تابش، یاسمین حمید، حمیرا رحمن اور بہت سے دوسرے۔
سوال:۔ الیکٹرانک میڈیا اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے بعد کہا جاتا ہے کہ کتاب پڑھنے کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں کس حد تک سچائی ہے۔ جس معاشرے میں کتاب نہ پڑھی جائے کیا وہاں اچھی شاعری اور نثر فروغ پا سکتی ہے؟
جواب:۔ زمانہ ایک جگہ پر نہیں رہتا۔ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ اس میں توازن آتا جاتا ہے۔ جیسے ایک زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن آیا اس وقت لوگ اس کی نشریات شروع سے لے کر آخر تک دیکھتے تھے۔ پھر وی سی آر کا زمانہ آیا۔ اسی طرح آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اس میں بھی توازن آ جائے گا۔ کتابوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ان کو پڑھنا اچھا لکھنے کے لئے ضروری ہے۔

 

intiftakhararif2.jpg

سوال : آپ اکادمی ادبیات کے چیئرمین بھی رہے ہیں جو ایک مضبوط ادبی حوالہ ہے۔ آپ نے اس ادارے کی ترقی کے لئے کیا اقدامات کئے ؟
جواب: اکادمی ادبیات کے مقاصد طے شدہ ہیں۔ اس کا مقصد ادب اور ادیبوں کے لئے کام کرنا ہے۔ لہٰذا میں نے بڑے منصوبوں پرکام کیا۔ مثلاً 100 سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت اور فن پر کتابیں لکھوا کر شائع کیں۔ اس سریز کا نام ’’پاکستان کے معمار‘‘ تھا۔ اس میں اُردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، پشتو اور ہندکو زبانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر ایک ایک کتاب لکھوائی۔ یہ سیریز طلباء اور طالبات کے ساتھ جہانِ دانش میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ انگریزی میں
Pakistani Literature
کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس میں مختلف زبانوں کے لٹریچر کو انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔ اقبالیات کے 100سال کے نام سے ایک کتاب اردو اور انگریزی میں شائع کی۔
سوال : پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے جس کے اثرات ہر شعبہ زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ کیا شعرو ادب بھی اس سے متاثر ہو رہا ہے؟کیا ہمارا ادیب اس لڑائی میں اپنا کردار ادا کررہا ہے؟
جواب: کوئی بھی ایسا واقعہ نہیں ہوتا جس کے اثرات قومی ادب پر نہ پڑیں آج کل ہر واقعہ میڈیا پر اتنا زیادہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ادیب، شاعر یا دانشور بولے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دہشت گردی اور اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر آج کا شاعر یا ادیب کچھ نہ لکھے۔ بہت سے شاعروں نے کئی نظمیں لکھیں۔ اس پر مضامین بھی چھپے اور ناول بھی لکھے جا رہے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی قومی واقعے سے اہلِ قلم دور نہیں رہ سکتے اور معاشرے پر ان کی رائے یقیناًاثر انداز ہوتی ہے۔
سوال : کیا ہمارا ادب صرف سماجی رویوں کی اصلاح تک محدود رہا یا انسان کے سیاسی اور معاشی مسائل کا ادراک بھی رکھتا ہے۔
جواب:ادیب کا کام ہے سماجی رویوں کی اصلاح کرنا وہ تو ادیب اور شاعر کررہے ہیں لوگوں کے معاشرتی ومعاشی مسائل کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے شاعر اور ادیب خود اپنے بہت سیمعاشی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
سوال : آپ عالمی ادب میں کس سے متاثر ہیں؟
جواب: میری نوجوانی میں ترقی پسند تحریک عروج پر تھی لہٰذا میں نے ترقی پسند ادیبوں کو ہی زیادہ پڑھا۔ غیرملکی ادیبوں کی کتابوں کے ترجمے بھی پڑھے اور انہیں براہ راست بھی پڑھا۔ ترقی پسند ادیب ہی میرے لئے رول ماڈل رہے۔ اقبال کے بعد
Pablo Nerubr
، ناظم حکمت،
Oddan
، فیض احمد فیض اور محمود درویش پسندیدہ شاعر ہیں ۔ ناول نگاروں میں مارکیز، میلان کندیرا، کنتھر گراس اور ڈرامہ نگار وں میں
Brish
اور بیکر پسند ہیں۔ ان سب کو ایک طالب علم کی حیثیت سے پڑھا اور سمجھنے کی کوشش کی۔
سوال : فارسی اور عربی میں کیا اردو زبان سے بہتر ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا اقدامات کئے جائیں کہ اردو میں بھی دیگر زبانوں کی طرح کا ’’پاورفل‘‘ ادب تخلیق کیا جا سکے۔
جواب: گزشتہ پچاس سالوں میں پاکستان میں بہت اچھا ادب تخلیق کیا گیا۔ شاعری، افسانہ، ناول، مزاح، سوانح اور تحقیقی کتب کا بڑا ذخیرہ سامنے آیا۔ البتہ پڑھنے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ لوگوں کا کتب پڑھنے کی طرف رجحان بہت کم ہو گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ عربی اور فارسی کے مقابلے میں اردو میں زیادہ جاندار ادب تخلیق ہوا ہے اور شائع بھی ہوا ہے۔ اردو ادب کے مواد میں تنوع رہا۔ اس کی وجہ ادب کے لئے آزادانہ فضا بھی ہے۔
سوال : آخر میں ہلال کے قارئین اور فوجی بھائیوں کے لئے کوئی پیغام؟
جواب : فوج کے ساتھ میرا تعلق ہمیشہ سے ہی بہت اچھا رہا ۔ تقریباً ہر سپہ سالار نے مجھے بہت عزت دی اس لئے ہمیشہ ہی ان لوگوں کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ اﷲ سب کو اپنی امان میں رکھے اور انہیں ترقی اور عزت سے نوازے۔

جہاں تک ادبی سفر کی بات ہے تو شعر کہنا بچپن سے ہی شروع کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ شعر یاد آتے ہیں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لکھنو میں ہر شخص شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا۔ بچے بچے کو سیکڑوں کی تعداد میں شعریاد ہوتے تھے۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت ہوا جب میں شاہ عبدالرحمن سندھی کے مزار پر جاتا تھا۔

*****

ہر انسان دوسرے سے جدا ہے اور میرا ایمان ہے کہ لکھنے کی توفیق اﷲ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں کسی موڈ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے لگتاہے کہ میری تقدیر میں تھا کہ میں شاعر ہوتا اور میری تخلیق کا مقصد بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ میں شاعری کرتا اور لکھتا۔۔۔

*****

100 سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت اور فن پر کتابیں لکھوا کر شائع کیں۔ اس سریز کا نام ’’پاکستان کے معمار‘‘ تھا۔ اس میں اُردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، پشتو اور ہندکو زبانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر ایک ایک کتاب لکھوائی۔ یہ سیریز طلباء اور طالبات کے ساتھ جہانِ دانش میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ انگریزی میں

Pakistani Literature

کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس میں مختلف زبانوں کے لٹریچر کو انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔

*****

آج کل ہر واقعہ میڈیا پر اتنا زیادہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ادیب، شاعر یا دانشور بولے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دہشت گردی اور اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر آج کا شاعر یا ادیب کچھ نہ لکھے۔ بہت سے شاعروں نے کئی نظمیں لکھیں۔ اس پر مضامین بھی چھپے اور ناول بھی لکھے جا رہے ہیں۔

*****

 

Follow Us On Twitter