21
January

بانوقدسیہ

تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔

عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سواکچھ نہیں ہوتا۔

bano qudsia1جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔

رزقِ حلال کا پیغام اسلام کو باقی ادیان سے ممتاز کرتا ہے۔ یہی نقطہ راجہ گدھ لکھنے کی تحریک بنا۔

جب معاشرہ مکمل آزادی مانگے گا تو وہ مغرب کے رنگ میں ڈھل جائے گا۔

بانو قدسیہ عصر حاضر میں اردو ادب کی ایک معتبر ادیبہ ہیں۔ ان کی تخلیقات دنیائے ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں جو قارئین کے شعور سے ہم کلام ہوکر انہیں مقصد حیات سے آشنا کرتی ہیں۔ ان کی تحریریں اردو ادب کا حسن اور زندگی کی علامت ہیں۔ ہلال نے اکتوبر کے شمارے میں اشفاق احمد کی یادوں کے حوالے سے بانو قدسیہ کے ساتھ ایک گفتگو شائع کی گئی تھی جس میں ان کی اپنی شخصیت کے متعلق بات چیت نہیں گئی تھی جس کے پیش نظر بانوقدسیہ کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا جارہا ہے۔ اس انٹرویو میں زندگی اور اس سے منسلک اہم موضوعات پر بانو قدسیہ سے گفتگو کی گئی ہے جسے پڑھ کر بانو قدسیہ کی فکر اور نظریہ حیات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

سوال: کیا آج کا اُردو ادب‘ کلاسیکی ادب سے جُڑا ہوا دکھائی دیتا ہے یا یہ اپنی نئی راہیں متعین کرچکا ہے۔

جواب: اردو ادب نئی راہوں پر چل چکا ہے اوراپنی پچھلی راہوں کے ساتھ بھی متصل ہے۔ کوئی نئی راہ بذات خود نہیں بنتی جب تک پرانی راہ کا وجود نہ ہو۔ یقین کریں اگر آپ تاریخ کو بھلا دیں گے تو چار ہزارسالوں کی روایات اور کہانیاں ختم ہوجائیں گی، یہ باقی نہیں بچیں گی۔ سوجوکچھ آپ آج ہیں، اسی طرح چار ہزار سال پہلے کا آدمی بھی ہوگا ،یہ اس چیز کا عکاس ہے کہ انسان تاریخ سے جڑا ہوا ہے اور علیحدہ اس طرح کہ انسان ہر عہد میں نئی راہوں سے متعارف ہوجاتا ہے، نئی چیزیں سیکھتا ہے اور آگے کی جانب سفر جاری رہتا ہے۔

سوال : آپ کی نظر میں اچھا ادب اور ادیب کن خصوصیات کا حامل ہوتا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے ایک ہی خصوصیت ہے دونوں چیزوں کی اور وہ سچ ہے۔اگر سچ لکھے گا تو سچا ادیب ہوگا۔اس کا اپنا سچ ، مانگا ہوا سچ نہیں کہ فلاں مسلک سے متاثر ہوکر میں نے یہ سچ کہا، سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

سوال:جدید اردو ادب میں تصوف کی آمیزش واصف علی واصف، اشفاق احمد ، قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی اور آپ کے ہاں نمایاں ملتی ہے۔اس کے محرکات کیا تھے؟

جواب: ادب میں تصوف یا اس کے علاوہ کسی بھی نظریے کی آمیزش کی نہایت سادہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ لکھنے والے کا عملی زندگی میں جس طرح کے لوگوں سے ملنا جلنا اور رابطہ ہوتا ہے ان کی بودوباش، پرتَو اور عکس کسی نہ کسی سطح پر تخلیق کار کی تحریروں میں ضرور دکھائی دے گا۔ جہاں تک تصوف کی آمیزش کا تعلق ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ اس نظریے میں اتنی قوت ہے کہ یہ آنے والے دور میں بھی جاری رہے گا اور خود کو منوائے گا۔

سوال : اردو ادب گروہ بندیوں کا شکار رہا ۔ ترقی پسند تحریک اور پھر دائیں بازو یا بائیں بازو کے دانشور کی اصطلاح بھی رہی۔ آپ پراور اشفاق صاحب پر کسی گروہ کی کوئی خاص چھاپ دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟

bano qudsia2جواب: اس کی وجہ ہے کہ ہم اپنی سوچ سے منسلک رہے،ہم نے دائیں بائیں نہیں دیکھا کہ تحریکیں کیا چل رہی ہیں، ان کے ساتھ مل کر ہم نے مضبوط ہونے کی کوشش نہیں کی۔ دائیں یا بائیں بازو کی تحریک سے ہم اس لئے بھی منسلک نہیں ہوئے کیونکہ ہماری سوچ آپس میں ایک دوسرے سے منسلک تھی۔ تنقید نگار بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا ہم پر ایک دوسرے کی چھاپ بھی آئی ہے یا نہیں۔

سوال : اشفاق صاحب اور آپ کا ساتھ ایک عہد کی علامت ہے۔ اشفاق صاحب کی بحیثیت ادیب اور انسان کن خاص خاص یادوں کو ہمارے قارئین سے شیئر کرنا پسند کریں گی؟

جواب: میں نے اشفاق صاحب پرایک پوری کتاب ’’راہ رواں‘‘ لکھی ہے، اس کو پڑھ لیں، میری ساری یادیں، زندگی کے خوبصورت لمحات آپ تک پہنچ جائیں گے، آپ کو پتا چل جائے گا کہ میں ان کو کیسا انسان، ساتھی اور کیسا ادیب سمجھتی ہوں۔انہوں نے ہر لمحے میری رہنمائی کی بلکہ میںیہ کہو ں تو بہتر ہے کہ مجھے بنانے والے ہی اشفاق صاحب ہیں۔ میں اپنی کتاب میں یہ بات بہت تفصیل سے لکھ چکی ہوں۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو ایک دن صبح اشفاق صاحب کچن میں آئے، میں وہاں پر کھانا پکا رہی تھی، مجھے کہنے لگے: قدسیہ ذرا میرے پاس باہر آجائیے۔ مجھے لے کرلان میں چلے گئے وہاں دو کرسیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ ہم ان پر بیٹھ گئے، گفتگو شروع ہوئی تو اشفاق صاحب نے مجھے کہا کہ یہ جو سارا دن باورچی خانے میں وقت ضائع کرتی ہوکیا کوئی نوکرانی نہیں ہے ایسی جو کھانا وغیر ہ پکا سکے؟ میں نے کہا: جونی بہن ہیں وہ پکاتی ہیں،میں ان کی مدد کرتی ہوں، کہنے لگے یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ آپ ان کی مدد کرتی ہیں لیکن تم کیا کوئی اور کام کرسکتی ہو؟ میں نے کہا، سوچ کر بتاتی ہوں۔ ایک منٹ میں نے سوچا پھرمیں نے کہا ہاں میں لکھ سکتی ہوں شاید، کہنے لگے تو پھر لکھتی کیوں نہیں؟ میں نے کہا، پانچویں میں مَیں نے آخری افسانہ لکھا تھا۔ کہنے لگے کیا نام تھا اس کا؟ میں نے کہا فاطمہ، تو انہوں نے کہا کہ کل سے دوبارہ لکھنا شروع کرواور باورچی خانہ چھوڑ دو ہمیشہ کے لئے۔میں نے کہا، یہ میں کیسے کرسکتی ہوں تو بولے آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔ کہنے لگے ایک شرط اور ہے جس وقت آپ نے لکھنا ہے اس وقت کسی سے نہیں ملنا۔جس طرح اگر مچھلیوں کو ایک وقت پر کھانا ڈالنا شروع کریں تو وہ روز عین اسی وقت پر پانی کی سطح پر آتی ہیں، اسی طرح خیالات کی بھی روٹین بن جاتی ہے جب آپ چار بجے لکھنے بیٹھتے ہیں اور سوچنا شروع کرتے ہیں تو اسی وقت خیالات آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ نے اپنی روٹین نہیں توڑنی، اس وقت آپ کا باپ آئے ، والدہ آئے یا بھائی آئے آپ نے کسی سے نہیں ملنا، اسی میں کئی لوگوں کو میں نے ناراض بھی کیا لیکن اپنی روٹین کو میں نے قائم رکھا۔ اب دیکھ لیجئے پچیس کتابیں کیسے لکھی گئیں مجھے نہیں معلوم۔

سوال : راجہ گدھ اردو ادب کی ممتاز تخلیقات میں سے ایک ہے۔ راجہ گدھ میں کردار‘ معاشرہ اور انسانی اقدار ایک شعوری اور لاشعوری ارتقا کی حدود اور سمت کی جانب سفر کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ راجہ گدھ کے پیغام کو کس طرح مختصراً بیان فرمائیں گی۔

جواب: نئی نسل کو تو میں صرف اتنا بتانا چاہوں گی کہ راجہ گدھ عجیب طرح سے میرے اوپر نازل ہوئی۔ یہ اسی (80) کی دہائی کی بات ہے۔ امریکہ نے ہمیں مرعوب کرنے کے لئے ایک ایکسچینج پروگرام دیاجس میں کچھ پاکستانی ادیبوں کو امریکہ لے جایاجاتا اور وہاں کے کلچر سے متعارف کروایا جاتا۔پھر کچھ امریکی ادیب پاکستان آتے اور یہاں کے گھروں میں رہتے۔ اسی طرح اشفاق احمد امریکہ میں ہیس فیملی کے پاس ٹھہرے اور واپسی پر باب ہیس کو اپنے ساتھ لائے جسے ہمارے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ باب ہیس امریکیوں کی طرح اپنے آپ کو اعلیٰ مخلوق تصور کرتا تھا۔ جب صبح ناشتہ ہوجاتا bano qudsia3تو وہ روز مجھ سے سوال کرتا کہ اسلام باقی مذاہب سے اچھا اور برتر کیسے ہے؟ اس میں ایسی کون سی بات ہے جو باقی مذاہب میں نہیں ہے تومیں چونکہ تیار نہیں ہوتی تھی اس طرح کے سوالوں کے لئے، سو میں عورتوں کی طرح غلط سلط جواب دے دیا کرتی جو اس کو متاثر نہ کرپاتے ۔ میں کہتی اللہ ایک ہے تو وہ ہنسا کرتا اور کہتا کہ کیوں دوسرے مذاہب میں اللہ تین چار ہیں‘ میں لاجواب ہوجاتی۔ دوسرے دن کچھ اور اسی طرح کا سوال کرتا جن سے میں پریشان بھی ہوجاتی کہ اس کو کیا مناسب جواب دوں۔ ہمارے باغیچے میں سندری کا ایک درخت ہوتا تھاجس سے سارنگی بنتی ہے۔ ایک دن عصر اور مغرب کے درمیان میں وہاں کھڑی تھی تو میں نے دعا کی کہ اللہ پاک مجھے ایسا علم عطا کر جس سے میں اس کے تمام سوالوں کا جواب دے سکوں تو سندری کے درخت میں سے سارنگی کی آواز بولی: رزق حرام، رزق حرام، رزق حرام۔ میں سمجھ نہیں سکی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ درخت میں سے آواز آئی کہ اگر آپ اپنے بچوں کو رزق حرام کھلائیں گے تو آپ کی آنے والی نسلیں پاگل ہوجائیں گی، دیوانہ ہوجائیں گی۔ جب اگلے دن میری اس سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام نے ایک ایسا پیغام دیا ہے جو کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیا: کہنے لگا بتائیے کون سا، اس نے سر کے اوپر ایرانی ٹوپی پہن رکھی تھی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ رزق حرام نہ کھانا ورنہ تمہاری آنے والی نسلیں دیوانی ہوجائیں گی۔اور پھر وہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کرسکیں گی، وہ شراب بھی پئیں گے، وہ عورتوں کے پاس بھی جائیں گے اور وہ اپنے بچوں سے اچھا سلوک بھی نہیں کریں گے، سارے کام ہوں گے۔وہ کہتا ہے رُک جائیے، رُک جائیے۔ پھر وہ اُٹھا اور دروازہ کھول کر باہر چلا گیا، دس منٹ کے بعد اندر آیا اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ سندری کے درخت سے مجھے یہ فیض حاصل ہوا جس کو باب نے بھی مانا اور کہا کہ واقعی کسی اور مذہب میں یہ بات حکم کی صورت میں نہیں آئی۔ دوسرے دن صبح میں چھت پر صفائی کے لئے گئی، وہاں بارش ہورہی تھی۔ میں نے سوچا کوئی چیز بھیگ نہ رہی ہو، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک کاپی پڑی ہوئی تھی جس پر موٹا موٹا خوبصورت لکھا ہوا تھا راجہ گدھ اس کو میں نے اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔ سو چھت پر بیٹھ کر میں نے اس کتاب کو لکھا اور نئی نسل کے لئے راجہ گدھ کا پیغام بھی یہی ہے کہ رزق حلال سب سے بڑی نعمت ہے۔

سوال : آپ اپنے اب تک کے ادبی سفر کو کس طرح سے دیکھتی ہیں؟

جواب: یہ کام میرا نہیں ، یہ میرے پڑھنے والے اور تنقید نگاروں کا کام ہے کہ وہ میرے کام کو پرکھیں، اس پر رائے دیں۔اب میرا دل لکھنے کو نہیں کرتا ، میری آنکھیں خراب ہیں اور میرا چھوٹا بیٹا اسیر خان میرے ساتھ رہتا ہے جس کی زندگی میں نے تباہ کر رکھی ہے۔یہ اپنے سارے کام چھوڑ کر مجھے توجہ دیتا ہے اور میں ساری زندگی اس کی احسان مند رہوں گی کیونکہ اس نے اپنا سب سے قیمتی وقت، اپنی جوانی کا وقت میرے اوپر صرف کیا ہے۔

سوال : دورِ جدید میں آپ کیا سمجھتی ہیں کہ اُردو ادب کی کون سی صنف کا مستقبل زیادہ تابناک ہے۔ نئی نسل کا رجحان کس جانب زیادہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ ’سٹ کام‘ (Sitcom)کی طرف رجوع زیادہ ہے۔کیونکہ لوگ شام تک اپنی مصروفیات سے اس قدر تھک جاتے ہیں کہ وہ ہنسنا چاہتے ہیں، بولنا چاہتے ہیں، بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ صرف ایسی ہی چیزوں سے ہوسکتا ہے اور دوسرے ویڈیو ٹیکنالوجی کا دور ہے توسٹ کام ہی نسبتاًسب سے زیادہ مناسب جا رہا ہے۔ نئی نسل بھی اسی جانب راغب ہے اور نئی سوچ کو دیکھنا چاہتی ہے، موضوعات چاہے مشرق سے آئیں یا مغرب سے۔

سوال : آپ نے اب تک زندگی میں بہت کچھ لکھا بلکہ ماشاء اﷲ بہت زیادہ لکھا۔ کیا کوئی ایسا پراجیکٹ ہے جو آپ لکھنا چاہتی ہیں لیکن اب تک نہ لکھ پائی ہوں۔

جواب: میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ اپنے حساب سے تو میں نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے لیکن کچھ کتابیں سوجھ جائیں تو اسکے متعلق میں لکھ بھی لوں۔ میں مطالعہ تو کرتی ہوں لیکن اب زیادہ لکھ نہیں پاتی کیونکہ میری آنکھ کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے میں اچھی طرح سے دیکھ نہیں سکتی تو زیادہ توجہ سے کوئی کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔

سوال : آپ اُردو ادب کے مستقبل کو کیسا دیکھتی ہیں؟

جواب: مستقبل ہمیشہ درخشاں ہوتا ہے کیونکہ اردو بنانے والوں نے اس پر بہت محنت کی ہے اور عرصہ دراز سے اس کی تمام اصناف میں اچھا کام ہورہا ہے تو یہ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ اردو زبان کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ جس معیار کا ادب تخلیق ہورہا ہے اس کے بارے میں وہ نسل زیادہ بہتر رائے دے سکتی ہے جس کے لئے وہ لکھا گیا ہے۔اگر ان کو پسند آیا اور انہوں نے سمجھا معیاری ہے تو اچھا ادب ہوگا ورنہ نہیں۔شاعری ہو یا نثر دونوں اصناف میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے اور ہوتا آیا ہے، اس وقت یہ تنقید نگار بھی نہیں بتا سکتے کہ اچھا کام ہو رہاہے یا برا۔

سوال: ہماری قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عفریت کا سامنا ہے۔ کیا اس جنگ نے بین الاقوامی ادب اور بالخصوص پاکستانی ادب پرکوئی نقوش مرتب کئے ہیں۔؟

جواب: آپ کا کیا خیال ہے اثر نہیں آیا؟ نہیں ایسا بالکل نہیں۔ ہمارا ادیب دہشت گردی کی زد میں آیا ہے لیکن ہمارا ادب بہت متاثر ہونے والا نہیں ہے، وہ اپنی راہیں خود متعین کرلیتا ہے، راستے بنا لیتا ہے اور اپنی راہوں پر آگے نکل جاتا ہے۔بڑی شاہراہ سے چھوٹے راستے جنم لیتے ہیں، یہی صورت حال ہمارے اردو ادب کی ہے، نئے موضوعات نکل رہے ہیں، لیکن اردو ادب اپنی بنیادوں پر بھی قائم و دائم ہے۔

سوال :بانو آپا آپ نے روحانیت اور تصوف پر بہت لکھا۔ آپ اپنی زندگی کے اس حصے میں ہیں جہاں معرفت خدا آشنائی تک لے جاتی ہے۔آپ بتائیے کہ یوں تو حقیقی خدا کی تلاش بہت سے انسانوں کی جستجو رہی ہے ، مگر آپ کے خیال میں خدا تک پہنچنے کا عملی راستہ کیا ہے؟

جواب: خدا تک پہنچنے کا جو عملی راستہ ، صوفیائے کرام کے ہاں ملتا ہے وہ مخلوقِ خدا سے محبت کا راستہ ہے۔اشفاق صاحب کا اور میرا‘ جس طرح کے بزرگوں سے رابطہ رہا اُنہوں نے کبھی بھی ہمیں وظائف نہیں بتائے، چلہ کشی کی طرف راغب نہیں کیا۔وہ صرف ایک ہی بات پر زور دیتے تھے کہ مخلوقِ خدا کا خیال رکھو،وہ فرمایا کرتے تھے ’’تمہارے ہاتھ گندے اور دل صاف ہونا چاہئے۔‘‘مخلوق کی خدمت میں ہاتھ گندے اور دل کی صفائی سے مراد یہ کہ آپ کا دل ہر طرح کے حسد، کینہ، رنجش، گلے شکووں سے پاک ہونا چاہئے۔ حضرت اویس قرنی ؒ سے کسی نے پوچھا’’ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مرتبے سے نوازا ہے ، تو آپ نے کون سے ایسے وظائف کئے ہیں ہمیں بھی بتائیے۔‘‘ آپؒ نے فرمایا کہ میں نے تو کوئی وظائف نہیں کئے ، میں نے تو ساری زندگی صرف اپنی ماں کی خدمت کی ہے‘‘۔صوفیا کرام فرماتے ہیں کہ جب آپ کے سامنے کوئی سوال پیش کیا جاتا ہے تو اس سوال کا تعلق علم وادب کے علاوہ ضرورت اور مدد سے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔ دراصل اس سوال کی صورت میں خدا کا خط آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہوتا ہے ، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس سوال کا جواب کس طریقے اور سلیقے سے دیتے ہیں۔

سوال:معیشت ، معاشرت اور روحانیت انسانی زندگی کے اہم جزو ہیں۔ یہ آپس میں کس طرح مربوط ہیں؟

جواب: معیشت، معاشرت اور روحانیت بلاشبہ انسانی زندگی کے بہت اہم جزو ہیں، یہ تمام اجزاء آپس میں کس طرح مربوط ہیں، اس کا فہم و ادراک ہمیں اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب ہم روحانیت کوعملی طور پر اپناتے ہیں۔ عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔

سوال:عورت اور مردکا رشتہ آپ کیسے بیان کریں گی؟

جواب: عورت اور مرد کے رشتے سے متعلق میرا بیان میری تحریروں میں واضح طور پر موجود ہے۔ میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں ایک عرصے سے لکھتی آرہی ہوں کہ عورت خالص عارفِ دنیا ہوتی ہے اور مرد عارفِ مولا ہوتا ہے۔ عورت کی دلچسپی اور لگاؤ کا رجحان مرد کی نسبت اپنے بچوں کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ جو مرد، عورت کے بچوں سے لگاؤ کا اظہار کرتا ہے وہ عورت کے دل کا دروازہ کھول کر مکمل طور پر اس میں داخل ہو جاتا ہے۔ عموماً مرد ایسا نہیں کرتے، مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔ ماں کے سواباقی رشتوں میں عورت، مرد کے رستے میں حائل ہی رہتی ہے۔ اگر مرد کسی طورخانگی زندگی کے بکھیڑوں سے خود کو بچانے میں کامیاب ہو جائے تو پھر وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا ۔ اس کی بلند پروازی لامحدود رفعتوں سے آشنا ہوتی جاتی ہے۔

سوال : خاندان کی فعالیت معاشرے کے عمومی توازن کے لئے کتنی ضروری ہے اور موجود ہ دور میں خاندان کو منتشر ہونے سے کیسا روکا جائے؟

جواب: خاندان کی فعالیت معاشرے کے توازن کے لئے بے حد وحساب ناگزیر ہے، مگر موجودہ عہد میں خاندان میں توازن قائم رکھنا دشوار ہو تا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اس مسئلے کو اس نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ کنبے بڑے ہوتے جا رہے ہیں اور ان کے رہنے کے لئے جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ تنگی داماں نے وسعتِ نظر پر بڑے بُرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ مگراس سلسلے میں اشفاق صاحب اور میرا نقطہ نظر شروع سے یہی رہا ہے کہ تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ میرے خیال میں ہمارا فوکس تعلیم کے ساتھ تربیت پر ہونا چاہئے ، اس سے توازن بھی برقرار رہے گا ، خاندان اور معاشرہ ہر طرح کے انتشار سے بھی محفوظ رہے گا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سبھی کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے

(آمین)

سوال: نوجوان لڑکیوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی جس سے وہ انفرادی اور معاشرتی سطح پر آگے بڑھ سکیں؟

جواب: دیکھیں جو انسان اپنی معاشی یا معاشرتی مسائل کا ذکر کرتے ہیں وہ عموماً حکم نہ ماننے والے لوگ ہوتے ہیں، جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا عورتیں اکثر اپنے شوہروں سے لڑتی جھگڑتی رہتی ہیں، اگر وہ ان کو مجازی خدا سمجھ لیں تو سارے مسائل ہی حل ہوجائیں، اور لڑکیوں کو بھی یہی طرز عمل رکھنا چائیے ، جتنا لڑنا ہے شادی سے پہلے ماں باپ سے لڑلیں کہ میں نے اس سے شادی نہیں کرنی کسی اور سے کرنی ہے۔ لیکن شادی ہوجانے کے بعد لڑائی کرنا ٹھیک نہیں، شوہر مجازی خدا ہوتا ہے اس کی بات ردکرنا ٹھیک نہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بات ماننے سے زندگی میں برکتیں آ جاتی ہیں۔

اﷲ پاک کی توفیق حاصل ہو تو زندگی میں سلیقہ آ جاتا ہے۔

سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

12
January

عربی اور فارسی کے مقابلے میں اُردو میں زیادہ جاندار ادب تخلیق ہوا ہے۔ افتخار عارف

انٹر ویو : صبا زیب

افتخار عارف کا نام ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ وہ نہ صرف پاکستان میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بھی لوگ ان کے مداح ہیں۔ وہ اپنے فن میں پختگی رکھنے والے منفرد ادیب ہیں۔ اپنا تجربہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو کوئی تشنگی نہیں رہتی۔ انہوں نے پاکستان میں ادب کی ترویج میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں مہردونیم، حرف بریاب، فیض بنام افتخار عارف اور انتخاب کلام فیض شامل ہیں۔ حال ہی میں وہ 3سال ایران میں ای سی او کے پہلے غیر ایرانی صدر کی خدمات انجام دے کر پاکستان آئے تو انہیں فوراً ہی ادارہ ترقی قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کر دیا گیاہے۔ اس سے پہلے وہ اس ادارے کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اکادمی ادبیات کے چیئرمین کے طور پر بھی پاکستانی ادب اور ادیبوں کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ ہم نے اپنے قارئین کے لئے افتخار عارف سے گفتگو کی جو قارئین کے لئے یقیناًدلچسپی کا باعث ہوگی۔

 

intiftakhararif.jpgسوال : ہمارے قارئین کے لئے اپنے بارے میں بتائیں خاص طورپر ادبی حوالے سے کہ یہ سفر کب اور کیسے شروع ہوا ؟
جواب: میری پیدائش21 مارچ1943 کو لکھنو میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم درسِ نظامی کے مدرسہ نظامیہ فرنگی محل سے حاصل کی۔ جوبلی سکول لکھنو سے سکول کی تعلیم حاصل کی یہ اس زمانے کا بہت مشہور سکول تھا۔ اس سکول میں شوکت صدیقی(ادیب، ڈرامہ نویس) نے بھی پڑھا تھا۔ انٹر میڈیٹ کے بعد لکھنو یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے وہاں بہت قابل اور بڑے اساتذہ سے پڑھنے کا موقع ملا جن میں پرویز احتشام، نور الحسن ہاشمی، رادھا مکھر جی وغیرہ شامل ہیں۔
ایم اے کرنے کے بعد 1965 میں پاکستان آیا۔ غریب گھرانے سے تعلق تھا۔ میری پرورش نانا نے کی۔ والدہ شیعہ جب کہ والد حنفی مسلک سے تھے۔ میں نے اپنی زندگی بہت مشکل حالات میں گزاری۔ لالٹین کی روشنی میں پڑھائی کرتا تھا۔ اسی زمانے میں میری نظر کمزورہوگئی لیکن ان سب مشکلات کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور آخر کار ایم اے کرلیا۔


1965 میں جب میں پاکستان آیا تو سب سے پہلے ریڈیو کی طرف گیا۔ وہاں میں نے اردو اور ہندی میں خبریں پڑھنا شروع کیں‘ہر بلیٹن کے 10 روپے ملتے تھے۔
میری اردو اچھی تھی اور تلفظ بھی صاف تھا ۔آہستہ آہستہ ریڈیو پر مختلف پروگرام ملنے لگے۔ ریڈیو کے لئے خدیجہ نقوی اور ایس ایم سلیم کے ساتھ ایک ڈرامہ کیا۔ جب ٹی وی آیا تو ٹی وی میں چلے گئے وہاں کسوٹی کے نام سے ایک پروگرام کیا جس میں میرے ساتھ ضیاء محی الدین اور قریش پور جیسے بڑے نام تھے۔ اس زمانے میں کسوٹی بہت مقبول ہوا اور کسوٹی کے ساتھ مجھے بھی شہرت ملی۔


جہاں تک ادبی سفر کی بات ہے تو شعر کہنا بچپن سے ہی شروع کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ شعر یاد آتے ہیں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لکھنو میں ہر شخص شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا۔ بچے بچے کو سیکڑوں کی تعداد میں شعریاد ہوتے تھے۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت ہوا جب میں شاہ عبدالرحمن سندھی کے مزار پر جاتا تھا۔ وہاں فارسی میں قوالیاں ہوتی تھیں اور مجھے بھی اس وقت فارسی کے بہت سے شعر یاد تھے۔ پھر جب پاکستان آیا تو اپنا گھر، گھر والے اور اپنا شہر یاد آتا تو اُن کی یاد میں شاعری شروع کردی اس طرح 1984 میں مہر دونیم کے نام سے پہلی شاعری کی کتاب آگئی۔


سوال : آپ آج کل کس پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں؟
جواب: ابھی پچھلے دنوں جب میں ایران میں تھا تو میں نے اپنے نئے شعری مجموعے پرکام کرنا شروع کیا۔ باغ گل سخ کے نام سے یہ شعری مجموعہ مارچ2017 تک مکمل ہو جائے گا۔

intiftakhararif1.jpg
سوال : پچھلے دنوں آپ ایران میں رہے، کیسا لگا آپ کو ایران اور وہاں کے لوگ؟
جواب: ایران میرے مزاج کے بہت قریب ہے وہاں کے لوگوں کی گفتگو، ان کا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا سب مجھے بہت پسند ہے۔ وہاں کے لوگ خوش لباس ہیں اور گھر کی آرائش کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی پودے لگائے جاتے ہیں۔ وہاں لوگوں میں کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں لیکن ان میں وطن پرستی بہت زیادہ ہے۔ ملکی مفادپر سب اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہو جاتے ہیں اور وہاں کے ادب میں بھی آپ کو یہ سب نمایاں نظر آئے گا۔
سوال : آپ کو لکھنے کے لئے کیا چیز راغب کرتی ہے۔ لکھنے کے لئے کیا خاص موڈ کا ہونا ضروری ہے؟
جواب: ہر انسان دوسرے سے جدا ہے اور میرا ایمان ہے کہ لکھنے کی توفیق اﷲ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں کسی موڈ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے لگتاہے کہ میری تقدیر میں تھا کہ میں شاعر ہوتا اور میری تخلیق کا مقصد بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ میں شاعری کرتا اور لکھتا۔۔۔
سوال :آپ خود کیا پڑھتے ہیں اور پسندیدہ رائٹرز کون سے ہیں؟
جواب: میں پہلے تو شاعری، اسلامی تاریخ، بڑی تہذیبوں کی تاریخ وغیرہ پڑھتا تھا لیکن آج کل میرا
Biographies
پڑھنے کی طرف رجحان کافی زیادہ ہوگیا ہے۔ بڑے اور مشہور لوگوں کی Biographies
‘ اس کے علاوہ شاعروں اور ادیبوں کی
Biographies
پڑھتا ہوں اور یہ بائیو گرافیز پڑھنے کا اتنا شوق ہے کہ اکثر اپنے دوستوں سے، مختلف ممالک سے منگوا کر پڑھتا ہوں۔ اس کے علاوہ پروگریسو رائٹرز کو بہت پڑھتا ہوں
World Poetry
خاص طور پر
Russian Poetry
کو ،انگلش ترجمے کے ساتھ، بھی پڑھتا رہاہوں۔
سوال : کیا ہمارے ہاں ایسا ادب فروغ پا رہا ہے جو آج سے پچاس سال بعد بھی اپنی شناخت قائم رکھ سکے؟
جواب: ہرزمانے میں بے شمار ادیب اور شاعر لکھ رہے ہوتے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو 20/30سال بعد بھی باقی رہیں۔ بڑے رائٹرز وہ ہوتے ہیں جو اپنے زمانے سے
relevant
ہوں اور آنے والے وقتوں کو بھی اپنی لکھائی میں
Relate
کریں، جیسے علامہ اقبال کے زمانے میں اور بھی بہت سے لوگ تھے جو شاعری کرتے تھے لیکن علامہ اقبال کی شاعری اُس وقت اور حالات کے بہت قریب تھی لیکن اس شاعری کو ہم آج بھی پڑھیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ آج کی ہی بات ہو رہی ہے۔بابا بلھے شاہؒ اور سلطان باہوؒ کولوگآج بھی پڑھتے ہیں ۔ لکھا ہوا لفظ ہی باقی رہتا ہے اور اسے ہی دوام حاصل ہے۔ہر لکھنے والا جب لفظ لکھ رہا ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کوئی معجزہ سرانجام دے دیا ہے۔ لیکن یہ ایک
Illusion
ہی ہوتا ہے۔ چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو باقی رہتے ہیں۔
سوال: نئے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر یا شاعر؟
جواب:۔ آج کل بہت سے لوگ اچھا لکھ رہے ہیں جیسے ذیشان ساحل، عباس تابش، یاسمین حمید، حمیرا رحمن اور بہت سے دوسرے۔
سوال:۔ الیکٹرانک میڈیا اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے بعد کہا جاتا ہے کہ کتاب پڑھنے کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں کس حد تک سچائی ہے۔ جس معاشرے میں کتاب نہ پڑھی جائے کیا وہاں اچھی شاعری اور نثر فروغ پا سکتی ہے؟
جواب:۔ زمانہ ایک جگہ پر نہیں رہتا۔ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ اس میں توازن آتا جاتا ہے۔ جیسے ایک زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن آیا اس وقت لوگ اس کی نشریات شروع سے لے کر آخر تک دیکھتے تھے۔ پھر وی سی آر کا زمانہ آیا۔ اسی طرح آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اس میں بھی توازن آ جائے گا۔ کتابوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ان کو پڑھنا اچھا لکھنے کے لئے ضروری ہے۔

 

intiftakhararif2.jpg

سوال : آپ اکادمی ادبیات کے چیئرمین بھی رہے ہیں جو ایک مضبوط ادبی حوالہ ہے۔ آپ نے اس ادارے کی ترقی کے لئے کیا اقدامات کئے ؟
جواب: اکادمی ادبیات کے مقاصد طے شدہ ہیں۔ اس کا مقصد ادب اور ادیبوں کے لئے کام کرنا ہے۔ لہٰذا میں نے بڑے منصوبوں پرکام کیا۔ مثلاً 100 سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت اور فن پر کتابیں لکھوا کر شائع کیں۔ اس سریز کا نام ’’پاکستان کے معمار‘‘ تھا۔ اس میں اُردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، پشتو اور ہندکو زبانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر ایک ایک کتاب لکھوائی۔ یہ سیریز طلباء اور طالبات کے ساتھ جہانِ دانش میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ انگریزی میں
Pakistani Literature
کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس میں مختلف زبانوں کے لٹریچر کو انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔ اقبالیات کے 100سال کے نام سے ایک کتاب اردو اور انگریزی میں شائع کی۔
سوال : پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے جس کے اثرات ہر شعبہ زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ کیا شعرو ادب بھی اس سے متاثر ہو رہا ہے؟کیا ہمارا ادیب اس لڑائی میں اپنا کردار ادا کررہا ہے؟
جواب: کوئی بھی ایسا واقعہ نہیں ہوتا جس کے اثرات قومی ادب پر نہ پڑیں آج کل ہر واقعہ میڈیا پر اتنا زیادہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ادیب، شاعر یا دانشور بولے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دہشت گردی اور اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر آج کا شاعر یا ادیب کچھ نہ لکھے۔ بہت سے شاعروں نے کئی نظمیں لکھیں۔ اس پر مضامین بھی چھپے اور ناول بھی لکھے جا رہے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی قومی واقعے سے اہلِ قلم دور نہیں رہ سکتے اور معاشرے پر ان کی رائے یقیناًاثر انداز ہوتی ہے۔
سوال : کیا ہمارا ادب صرف سماجی رویوں کی اصلاح تک محدود رہا یا انسان کے سیاسی اور معاشی مسائل کا ادراک بھی رکھتا ہے۔
جواب:ادیب کا کام ہے سماجی رویوں کی اصلاح کرنا وہ تو ادیب اور شاعر کررہے ہیں لوگوں کے معاشرتی ومعاشی مسائل کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے شاعر اور ادیب خود اپنے بہت سیمعاشی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
سوال : آپ عالمی ادب میں کس سے متاثر ہیں؟
جواب: میری نوجوانی میں ترقی پسند تحریک عروج پر تھی لہٰذا میں نے ترقی پسند ادیبوں کو ہی زیادہ پڑھا۔ غیرملکی ادیبوں کی کتابوں کے ترجمے بھی پڑھے اور انہیں براہ راست بھی پڑھا۔ ترقی پسند ادیب ہی میرے لئے رول ماڈل رہے۔ اقبال کے بعد
Pablo Nerubr
، ناظم حکمت،
Oddan
، فیض احمد فیض اور محمود درویش پسندیدہ شاعر ہیں ۔ ناول نگاروں میں مارکیز، میلان کندیرا، کنتھر گراس اور ڈرامہ نگار وں میں
Brish
اور بیکر پسند ہیں۔ ان سب کو ایک طالب علم کی حیثیت سے پڑھا اور سمجھنے کی کوشش کی۔
سوال : فارسی اور عربی میں کیا اردو زبان سے بہتر ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا اقدامات کئے جائیں کہ اردو میں بھی دیگر زبانوں کی طرح کا ’’پاورفل‘‘ ادب تخلیق کیا جا سکے۔
جواب: گزشتہ پچاس سالوں میں پاکستان میں بہت اچھا ادب تخلیق کیا گیا۔ شاعری، افسانہ، ناول، مزاح، سوانح اور تحقیقی کتب کا بڑا ذخیرہ سامنے آیا۔ البتہ پڑھنے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ لوگوں کا کتب پڑھنے کی طرف رجحان بہت کم ہو گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ عربی اور فارسی کے مقابلے میں اردو میں زیادہ جاندار ادب تخلیق ہوا ہے اور شائع بھی ہوا ہے۔ اردو ادب کے مواد میں تنوع رہا۔ اس کی وجہ ادب کے لئے آزادانہ فضا بھی ہے۔
سوال : آخر میں ہلال کے قارئین اور فوجی بھائیوں کے لئے کوئی پیغام؟
جواب : فوج کے ساتھ میرا تعلق ہمیشہ سے ہی بہت اچھا رہا ۔ تقریباً ہر سپہ سالار نے مجھے بہت عزت دی اس لئے ہمیشہ ہی ان لوگوں کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ اﷲ سب کو اپنی امان میں رکھے اور انہیں ترقی اور عزت سے نوازے۔

جہاں تک ادبی سفر کی بات ہے تو شعر کہنا بچپن سے ہی شروع کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ شعر یاد آتے ہیں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لکھنو میں ہر شخص شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا۔ بچے بچے کو سیکڑوں کی تعداد میں شعریاد ہوتے تھے۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت ہوا جب میں شاہ عبدالرحمن سندھی کے مزار پر جاتا تھا۔

*****

ہر انسان دوسرے سے جدا ہے اور میرا ایمان ہے کہ لکھنے کی توفیق اﷲ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں کسی موڈ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے لگتاہے کہ میری تقدیر میں تھا کہ میں شاعر ہوتا اور میری تخلیق کا مقصد بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ میں شاعری کرتا اور لکھتا۔۔۔

*****

100 سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت اور فن پر کتابیں لکھوا کر شائع کیں۔ اس سریز کا نام ’’پاکستان کے معمار‘‘ تھا۔ اس میں اُردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، پشتو اور ہندکو زبانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر ایک ایک کتاب لکھوائی۔ یہ سیریز طلباء اور طالبات کے ساتھ جہانِ دانش میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ انگریزی میں

Pakistani Literature

کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس میں مختلف زبانوں کے لٹریچر کو انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔

*****

آج کل ہر واقعہ میڈیا پر اتنا زیادہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ادیب، شاعر یا دانشور بولے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دہشت گردی اور اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر آج کا شاعر یا ادیب کچھ نہ لکھے۔ بہت سے شاعروں نے کئی نظمیں لکھیں۔ اس پر مضامین بھی چھپے اور ناول بھی لکھے جا رہے ہیں۔

*****

 
29
December

شطرنج ذہنی ورزش کے لئے بہترین ہے

Published in Hilal Urdu Jan 2014

ورلڈ امیچر چیس چیمپئن شپ میں چھٹی پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑی قیصر اقبال کی ہلال سے گفتگو

پاکستانی کھلاڑی قیصر اقبال نے یونان میں ہونے والی ورلڈ امیچر چیس چیمپین شپ 2013میں چھٹی پوزیشن حاصل کی اور پاکستان پہلی بار ٹاپ ٹین کی لسٹ میں شامل ہو گیا۔اس سلسلے میں ان سے کی جانے والی گفتگوپیشِ خدمت ہے۔

سوال۔اپنے خاندانی اور تعلیمی پس منظرکے بارے میں بتائیے؟

جواب۔میں ملتان میں پیدا ہوا ۔میرے والد صاحب سول انجینئر تھے۔ میں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔پاکستان ائر فورس کا لج سرگودھا سے ایف ایس سی کیا۔پھر الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کر نے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم رہا۔ان میں ساؤتھ عریبیہ(یمن اور اس سے ملحقہ علاقے)، بنگلہ دیش، امریکہ اور کینیا، کے ممالک شامل ہیں۔ 2010 میں پاکستان واپس آکر نادرا میں بحیثیت ڈائریکٹر ایکسیس کنٹرول سسٹم (DIRECTOR ACCESS CONTROL SYSTEM) جاب شروع کی۔

سوال۔آپ کو شطرنج کھیلنے کا شوق کیسے ہوا؟

جواب۔میرے پر نانا حکیم عبد الکریم آل انڈیا چیس چیمپئن تھے ۔میں نے اپنے والد صاحب کے ساتھ گھرمیں گیارہ بارہ سال کی عمرمیں شطرنج کھیلنا شروع کی۔اس کے بعد کالج اور ڈسٹرکٹ لیول پر کھیلا۔ سوال۔شطرنج(CHESS)کو بادشاہوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے؟اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟ جواب۔جی بالکل ایسا ہی ہے۔آپ دیکھیں چین نے شطرنج (CHESS) ایجاد کی انہو ں نے دنیا پر حکومت کی ۔ اس گیم کو عرب،روم،یورپ،اورا مریکہ نے اپنایا اور کھیلا اورانہوں نے دنیا پر حکومت کی۔ اسی طرح اگرآپ نے کسی سوسائٹی کو جج کرناہو کہ ان کی تعلیمی قابلیت و استعداد کیسی ہے تو آپ ان کیCHESSریشو دیکھ لیں کہ وہ کتنا CHESSکھیلتی ہیں۔آپ کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کتنی کامیاب ہے۔

سوال۔پریکٹس کیسے کرتے ہیں؟

جواب۔اسلام آباد‘ راولپنڈی میں چیس ایسوسی ایشن کے کلب ہیں اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر آن لائن گیم کھیلی جاتی ہے۔جس میں دنیا بھر کے کھلاڑی موجود ہوتے ہیں۔

سوال۔آپ نے نیشنل لیول پر کتنے مقابلے جیتے؟

جواب۔پاکستان میں‘ میں تین سال سے جیت رہا ہوں ۔نادرا کا INTERNAL CHESS SPORTS GALLAمیں نے جیتا ۔رحما ن ملک اس وقت ملک کے وزیرِ داخلہ تھے۔انہوں نے مجھے پہلا انعام دیا۔اس کے بعد انٹر نیشنل امیچر چیس آرگنائیزیشن ورلڈ چیمپین شپ 2013میںیونان میں کھیلنے کے لئے مجھے بھیجا گیا۔اس سلسلے میں ،میں دو نام لوں گا۔ان میں سے ایک طارق ملک چیئر مین نادرا اور دوسرے گوہر احمد خان جوکہ ڈائیریکٹر جنرل ہیں جنہوں نے مجھے سپانسر کیا۔

سوال۔انٹرنیشنل لیول پر چیس کھیلنے کے لئے کیا چیز سب سے زیادہ ضروری ہے؟

جواب۔پروفیشنل لیول کی CHESSکے لئے پریکٹس کے ساتھ ساتھ سٹڈی اور نالج بہت ضروری ہے جو کہ انٹر نیٹ پر آسانی سے دستیاب ہے۔چیس کے گرینڈ ماسٹرز نے اپنے تجربات سے کچھ ایسی TECHNIQUES بتائی ہیں جو مخالف کی چال کا مقابلہ کرنے کے لئے کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔جن کا علم ہونا بہت ضروری ہے تا کہ بہترین گیم کھیلی جا سکے۔

سوال۔کھیل کے دوران پریشر میں ہوتے ہیں؟

جواب۔جب تک آ پ فو کس نہ ہوں دنیا کی کوئی گیم بھی نہیں جیت سکتے۔خاص طور پر انٹرنیشنل لیول پر جب آپ اپنے ملک کے لئے کھیل رہے ہوتے ہیں تو تھوڑی ٹینشن تو ہوتی ہے۔

سوال۔انٹرنیشنل امیچرچیمپین شپ 2013میں کتنے ممالک نے شرکت کی؟

جواب۔اس مقابلے میں38ممالک نے شرکت کی۔میں پاکستان کی تاریخ میں پہلا کھلاڑی ہوں جس نے فائنل راؤنڈ کیلئے پہلی مرتبہ کوالیفائی کیا۔ سوال۔مقابلے کے دوران سب سے زیا دہ خوشی کب ہوئی تھی؟ جواب۔جب میں نے سوئیڈن کے کھلاڑی کو ہرایا تو بہت خوشی ہوئی۔لیکن جب میں نے ورلڈ نمبر ون کھلاڑی BINDER OLEG کے خلاف ڈرا کیا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔کیونکہ وہ نا قابلِ شکست کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔

سوال۔ ہمارے ملک میں CHESSمقبول ہو اس کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

ج۔بچوں کی ذہنی نشو نماکے لئے اسے سکول لیول پر شروع کرنا چاہئے کیونکہ CHESS IS THE BEST MEDICINE FOR BRAIN۔ جرمنی میں ریاضی میں کمزور بچوں کو CHESSکا تین ہفتوں کا کورس کروایا جاتا ہے ۔جس میں وہ صرف CHESS کھیلتے ہیں ۔اس کے بعد انہیں ریاضی کی تعلیم دی جاتی ہے۔سکول لیول پر بچے کھیلیں، مقابلے جیتیں۔اس طرح ٹیلنٹ تلاش کرنے میں آسانی ہو گی اور ہمیں انٹرنیشنل لیول کے کھلاڑی آسانی سے مل جائیں گے۔

سوال۔CHESSکیسا کھیل ہے سستایا مہنگا؟

جواب۔یہ ایک انتہائی سستا کھیل ہے۔اس کے لے آپ کو کسی گراونڈ کی ضرورت نہیں۔آپ کسی بھی جگہ بیٹھ کر گیم شروع کر سکتے ہیں۔

سوال۔ کرکٹ کے کھلاڑیوں کو تو جیتنے پر بہت انعام ملتے ہیں آپ کو بھی کچھ فائدہ ہوا؟

جواب۔جی ہاں مجھے اپنے ادارے اور ایک اور آرگنائزیشن جنہوں نے مجھے سپانسر کیا ان کی طرف سے انعام ملا ۔

سوال۔ مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟

جواب۔2014میں ورلڈ امیچرچیس چیمپین شپ میں دوبارہ شرکت کروں گا اور کوشش ہو گی کہ میں اپنے ملک کے لئے گولڈ میڈل جیت کے لاؤں ۔

سوال۔ CHESSکے علاوہ آپ کو کون سی گیم پسند ہے؟

جواب۔مجھے کرکٹ اور گالف پسند ہے۔ وسیم اکرم اور سچن ٹنڈلکر میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔

سوال۔پڑھنے والوں کے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب۔ہمیں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہئیے اور تعلیم کو عام ہونا چاہئے۔ اس کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
08
January

مستنصر حسین تارڑ

تحریر: گفتگو: قاسم علی

پی ٹی وی کی صبح کی نشریات میں چاچا جی کازندہ دل کردار مستنصر حسین تارڑ کی شخصیت کا صرف ایک حوالہ ہے کیونکہ ان کی ذات کی سحر انگیزی کو ایک درجے میں مجتمع کرنا ممکن ہی نہیں۔ سفرنامہ، ناول ،کالم، ڈرامہ نگاری اور ٹی وی میزبانی تو ایک طرف مستنصر حسین تارڑ نے لگ بھگ تین چار سو ڈراموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھارکھے ہیں ۔ چاچا جی یہ کہنے میں ذرا بھی عار نہیں محسوس کرتے کہ وہ بنیادی طور پر آوارہ گرد ہیں اور حادثاتی طور پر ادیب بن گئے۔ نگر نگر گھومنا، پہاڑوں پر جانا، مطالعہ اور تخلیق ان کے من پسند مشاغل ہیں۔ خود ادیب ہونے کے باوجود شاعروں کی مخالفت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تحریر کااسلوب اور اندازِبیان اتنا مسحور کن کہ دنیا کی کئی ممالک کی جامعات میں ان کی نثر اردو نصاب کا حصہ ہے۔ ان کی دو کتابیں زیر تکمیل ہیں جبکہ علالت سے صحتیابی کے بعد وہ آ ج کل پھر پہاڑوں کی سیرکاپروگرام ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ ہلال نے اپنے قارئین کے لئے مستنصر حسین تارڑ کا تفصیلی انٹرویو کیا ہے جو حسب ذیل ہے۔

 

سوال: سعادت حسن منٹو کے آپ ہمسائے رہے ہیں کیا انہیں دیکھ کر یا آئیڈیل سمجھ کر ادبی دنیا سے ناطہ جوڑا؟

جواب:مجھے بچپن میں ادیب بننے کا قطعی طور پر کوئی شوق نہیں تھا۔میں اگر لٹریچر یا میڈیاکی دنیا میں آیا تو یہ محض ایک اتفاق ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ میں حادثاتی ادیب ہوں ، ایک منصوبہ بند یا پلینڈ ادیب نہیں ہوں، بچپن میں مجھے بہت ساری چیزوں کا شوق تھا ، میں سکے جمع کرتا تھا، ڈاک کے ٹکٹ جمع کرتا تھا، فلمی ہیروئنز کی تصاویر جمع کرتا تھا، ایکٹنگ کا شوق تھا حالانکہ اس وقت مجھ میں اداکاری کا زیرو ٹیلنٹ تھا۔ چنانچہ شوق تو بہت سارے تھے لیکن ان میں پڑھنے کا شوق جو تھا وہ بہت شدت کے ساتھ تھا اور وہ ابھی تک اسی شدت کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی ایک دن مطالعے کے بغیر گز ر جائے۔ اس لئے حادثاتی طور پر میں ادیب بن گیا۔ اس کی تفصیل میں کیا جانا‘ بس میں انیس سو اٹھاون میں برطانیہ میں تھا وہاں سے نوجوانوں کا ایک وفد سوویت یونین گیا ، وہاں یوتھ فیسٹیول تھا مجھے بھی اس وفد میں شامل کرلیاگیا۔میں اس وقت شایداٹھارہ برس کا تھا۔ ہم پہلے لوگ تھے جو پاکستان سے سوویت یونین گئے۔ اس زمانے میں سوویت یونین آئرن کرٹن کہلاتا تھااور اس کے اندر پاکستانیوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ ہم شروع سے ہی امریکہ کے قریب رہے ہیں ، بہر حال جب میں واپس آیا تو نوائے وقت کے مجید نظامی صاحب کو کسی طرح پتا چلاکہ پاکستانی نوجوان سوویت یونین کا وزٹ کرکے آیا ہے‘ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ آ پ سفر نامہ لکھ کرسوویت یونین میں ہونے والے مشاہدات کو قارئین تک پہنچائیں، مجھے اس کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن میں نے ’’ لندن سے ماسکو تک‘‘ کے نام سے سفرنامہ لکھنے کی کوشش کی۔اس زمانے میں ہفتہ وار رسالہ ’’قندیل‘‘ بہت مقبول تھا جس میں وہ سفرنامہ تصاویر کے ساتھ تین اقساط میں شائع ہوا۔ یہ میری پہلی تحریر تھی، میں کچھ سال مزید برطانیہ رہا اور پھر واپس آگیا۔ بعض اوقات ابتدائی کامیابی بھی آپ کے سفر کو آسان بنادیتی ہے یہی میر ے ساتھ ہوا ، ’’نکلے تیری تلاش میں‘‘ اور ’’ فاختہ‘‘ کے کچھ حصے ماسکو یونیورسٹی کے اردو نصا ب میں شامل ہوگئے جو تیس پینتیس سال سے ہیں ویسے بھی اس کا چرچہ کافی ہوا تو اس سے آہستہ آہستہ آگے چلنا شروع کیا ، پھر آپ کو لت پڑجاتی ہے کیونکہ ادب ایک نشہ سا ہی ہے۔

 

سوال : حادثاتی ادیب سے مشقتی ادیب تک کا سفر کیسے طے کرلیا؟

جواب:میں خود کو مشقتی ادیب اس لئے کہتا ہوں کیونکہ نثر بنیادی طور پر مشقت طلب کام ہے ، میر ے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ میں شاعروں کے خلاف ہوں، بغض رکھتا ہوں۔ یہ بالکل صحیح ہے اور میں اس بات کو ماننے سے انکار نہیں کرتا لیکن میں برے شاعروں کے خلاف ہوں جو زبردستی اپنا کلام سناتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ہیں، میرے پاس ہر مہینے لگ بھگ تیس چالیس کتابیں آتی ہیں جن میں ایک یا دو نثر کی ہوتی ہیں باقی سب شاعری کے مجموعے ہوتے ہیں، خود فراز جیسا شاعریہ کہتا تھا کہ یار تارڑ ہم ہوائی جہاز میں سفر کر رہے ہوتے ہیں اورواش روم میں جاتے ہیں تب بھی ہمیں مصرعے موضوع ہونے لگتے ہیں لیکن نثر کے لئے ایسا بالکل نہیں ہے ، نثر لکھنے کے لئے میں چالیس برس سے روزانہ اپنی میز پر شام سات سے رات بارہ بجے تک مشقت کرتا ہوں ، بیٹھنا بھی مشقت سے کم نہیں،پوری توجہ لکھائی پر دینا جبکہ باقی دنیا انجوائے کر رہی ہے، فنکشنز میں جار ہی ہے، میل ملاپ کر رہی ہے اور آپ اپنے پراجیکٹ پر سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بڑی نثر دس فیصد مشاہدہ ہوتی ہے جبکہ باقی نوے فیصد پسینہ ہوتی ہے اس لئے نثر نگار مشقتی ہوتے ہیں۔

 

سوال: آپ بچوں کے پسندیدہ میزبان رہے ہیں ، کچھ اپنی ابتدائی زندگی اور تعلیم کے متعلق بتائیں؟

جواب : میری پیدا ئش یکم مارچ انیس سو انتالیس کو لاہور میں ہوئی۔ پہلے مجھے مسجد میں داخل کروایا گیا جہاں میں نے قرآن پاک پڑھا، نماز سیکھی لیکن حسب معمول مولانا کا جو پرتشدد رویہ تھا اس نے مجھے بہت باغی کردیا، اس کے بعد میں رنگ محل مشن ہائی سکول آیا جہاں ایک بالکل مختلف ماحول ملا۔ وہاں ہمیں انگریز خواتین اساتذہ نے پڑھایا ، کرسیاں اور بنچ میسر آئے ، اس زمانے کے لحاظ سے بہت ماڈرن اسکول تھا۔ اس کے بعد میرے والد صاحب نے گکھڑ میں ایک سیڈفارم ’رچنا نرسری فارم‘ قائم کیا۔گکھڑ میرا ننھیال بھی ہے والد صاحب ہمیں دو سال کے لئے وہاں لے گئے‘ وہاں پر میں سرکاری سکول میں داخل ہوا جو مکمل طور پر ٹاٹ سکول تھا‘ وہاں پر مجھے خاصی پرابلم ہوتی تھی کیونکہ میرا گھرانہ معاشی طور پر قدرے آسودہ تھا، میرے نانا بھی نمبر دار تھے چنانچہ میں سکول میں لٹھے کی شلوار اور اس کے اوپر چھوٹی سی اچکن پہن کر جاتا تھا جبکہ میرے کچھ ہم جماعت لمبی قمیض پہنتے تھے کہ شاید نیچے کچھ نہ پہننا پڑے۔ وہ مجھے چھیڑتے رہتے تھے اور ہمیشہ سونے کی چڑیا کہتے تھے۔ میں روتا ہوا گھر آتا تھا۔ اس کے بعد میں پھر رنگ محل مشن ہائی سکول آیا۔ یہاں پر مجھے پینڈو کہا جانے لگا کیونکہ گاؤں میں رہنے سے میرا لہجہ پنجابی ہو گیا تھا۔ تو میں نے ساری عمر سونے کی چڑیا اور اس پینڈو کے درمیان گزاری ہے ، مجھے کہیں بھی کھلے دل سے قبول نہیں کیا گیا نہ شہر والوں نے کیا نہ گاؤں والوں نے کیا۔ اس کے بعدمسلم ماڈل ہائی سکول پھر گورنمنٹ کالج گیا، پھر انگلینڈ ٹیکسٹائل کے لئے ڈپلومہ کیا ، ڈپلومہ کم اور پانچ چھ سال آوارہ گردی زیادہ کی۔میری تعلیم والدین کی خواہش کے مطابق کچھ زیادہ پختہ نہیں ہوئی۔ لیکن ہوایہ کہ میں نے لوگوں کے نزدیک جو بے مقصد زندگی گزاری کہ ٹینٹ اٹھایا ہوا ہے اور ہائیکنگ ہورہی ہے‘ آوارگی ہی تھی ناں۔کیونکہ ان دنوںیہ (پاکستان میں) نہیں ہوتا تھا ، میں پہلا پاکستانی تھا جو ٹینٹ لے کر نکلا اورلفٹیں لے کر انگلینڈ اور یورپ کی سیر کی‘ پھر باقی زندگی بھی اسی طرح گزرتی رہی تو میرے وہ تجربات لٹریچر میں میرے بہت کام آئے کیونکہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو‘ یہ دعوے کی بات نہیں ہے‘ جتنا میرا دنیا گھومنے کا تجربہ تھا وہ اب جاکر لوگوں کو ہو رہا ہے‘ جب سے باہر کے ممالک میں مشاعرے پڑھے جانے لگے ہیں۔ وہ کہتے ہیں تارڑ ٹھیک ہی لکھتا تھا۔ نگر نگر گھومنے کے تجربے نے مجھے بہت کچھ دیا، میرے لٹریچر میں یور پ بھی ہے ، ایشیا بھی ہے ، گاؤ ں بھی ہے ،شہر بھی ہے۔ ناول کے لئے آپ کو طوائف سے لے کر ولی اللہ تک کے درمیان انسانیت کے جتنے رنگ ہیں ان کا تجربہ بڑا ضروری ہے، تجربے سے یہ مراد نہیں کہ آپ کوٹھے پر جانا شروع کردیں مطلب کہ آپ کو آگاہی ہو۔۔۔۔۔اور نہ ہی آپ ولی اللہ بن جائیں صرف آگاہی،۔۔۔۔ جب تک آپ کے پاس یہ نہیں ہوگا آپ اچھا یا بڑا ناول نہیں لکھ سکتے۔

 

mustanserhus.jpg

سوال:سفرنامہ ، ناول ، ڈرامہ نگاری ، کالم نویسی اور ٹی وی میزبانی اتنے فرائض کیسے سر انجام دے لئے آپ نے؟

جواب : ہمارے ہاں یہ بڑی پرابلم ہے کہ آدمی پر مہر لگا دی جاتی ہے کہ یہ ناول نگار ہے، کالم نویس ہے یا افسانہ نگار ہے پھر اسے الماری میں بند کردیا جاتا ہے کہ یہ برینڈ ہوگیا ہے۔ جس طرح مویشی کو برینڈ کرتے ہیں اسی طرح ادیب کو بھی برینڈ کرنا چاہتے ہیں، بدقسمتی سے میں اس تقسیم میں آتا نہیں ہوں، میرا ہمیشہ یہی جواب ہوتا ہے کہ اگر آپ نے مجھے برینڈ کرنا ہے تو یہ کہہ لیں کہ میں بنیادی طور پر ایک آوارہ گرد ہوں۔ کبھی میں افسانے کی گلی میں جا نکلتا ہوں (ابھی میرا افسانوی مجموعہ ’’پندرہ کہانیاں‘‘ آیا ہے) کبھی سفرنامے کی جانب ، کبھی ڈرامہ ، کبھی کالم، یہ مختلف گلیاں ہیں جن میں میں گھومتا پھرتا رہتا ہوں لیکن کسی گلی میں زیادہ دیر قیام نہیں کرتا‘ کیونکہ بنیادی طور پر میں آوارہ گرد ہوں۔

 

سوال:روسی ادیبوں سے آپ کی محبت مثالی ہے ان کے انداز بیاں اور اسلوب نے آپ کو کس حد تک متاثر کیا؟

جواب: بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر میں نے سبھی کو پڑھا ہے لیکن روسی ادب کے دو ادیبوں ٹالسٹائی اور دوستووسکی کاکام تو لاجواب ہے‘ مطلب یہ ہے کہ آپ جب دنیا کے دس بہترین ناولوں کی فہرست بناتے ہیں تو ٹاپ پر ’’وار اینڈ پیس‘‘ ہی آتا ہے ، جو ٹاپ پر’ ’’ وار اینڈ پیس‘‘ کو نہیں لاتے وہ ’’ دی برادرز کارمازوف‘‘ کو لے آتے ہیں مگر پہلی پوزیشن روسیوں کے پاس ہی رہتی ہے، میری پسندیدگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کی روسیوں کا مزاج مشرقی ہے‘ اس میں جو اداسی ہے اور موت کی نزدیکی۔۔۔ یعنی موت کے قریب جا کر زندگی بسرکرنا اور ایک ذلت آمیز زندگی بسرکرنا۔۔۔ یہ آپ کو رشیئن لٹریچر میں بھرپور ملے گا۔ان کے اور ہمارے معاشرتی حالات میں کافی مماثلت ہے۔ ہماری طرح وہ بھی جذباتی ہیں۔ جلدی بھڑک اٹھتے ہیں اور ایک دم محبت میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں‘ شاید یہی وجہ تھی کہ میں ان کی جانب زیادہ متوجہ ہوا کیونکہ وہ میری قلبی واردات کے قریب تھا جبکہ جو مغربی یا امریکی تخلیق کار ہیں وہ ہماری ثقافت سے تھوڑا دور ہیں‘ اگرچہ ان میں بھی میرے بہت سارے پسندیدہ نام ہیں۔ لاطینی امریکہ کے رائٹرز میں بھی مشرقی اداسی موجود ہے۔ بنیادی طور پر ادب اداسی کو مجتمع کرنے کا نام ہے، تمام باب اداسی کی مختلف پرتوں کو کھولیں یہ لٹریچر کی خوبصورتی ہے اور کسی بڑے آدمی نے یہ کہا تھا کہ بڑا ناول وہ ہوتا ہے جس کو پڑھنے کے بعد آپ خود کو اداس محسوس کریں۔ طمانیت محسوس نہ کریں بلکہ ایک خاص اداسی آپ کے اندر آجائے۔

 

سوال: آپ کی تحریریں پاکستانیت کے پیغام سے بھرپور ہیں ، کیا آپ نے تخلیق کے عمل میں کسی نظرئیے کو فالو کیا ہے؟

جواب: میں جوکچھ ہوں اسے پاکستانیت کہہ لیں یا سرزمین سے لگاؤکہہ لیں‘ مگر یہ فطری ہے۔ میں زبردستی یا کسی مفاد کی خاطر نظریات کے پرچار کا قائل نہیں ہوں۔ میرا ماننایہ ہے کہ یہ میری اپنی سرزمین ہے اور اس کے جتنے بھی قدرتی عوامل ہیں ، جو درخت ہیں جو پہاڑ ہیں، ساری سرزمین کے جتنے مناظر ہیں، جتنی خوشبوئیں ہیں،جتنے جانور ہیں، جتنی خوراکیں ہیں وہ سب مجھ پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انہوں نے ہی میرے ناول اور سفرناموں میں آنا ہوتا ہے۔ مثلاً اگر آ پ مجھے کہیں کہ میں علی گڑھ کے بیک گراؤنڈ کے ساتھ ایک ناول لکھ دوں تو میں نہیں لکھ سکوں گا۔۔۔ہاں گوجرانوالہ ، پنڈی یا کوئٹہ کی بات اور ہے۔ میرا نظریہ صرف یہ ہے کہ اس سرزمین کے ساتھ جو میری وابستگی ہے وہ فطری ہے یعنی مجھے چار پانچ دفعہ برطانیہ براستہ سڑک جانے کا اتفاق ہوا ہے تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ واپسی پر میں طورخم بارڈر پر انٹر ی کے وقت سجدے میں نہ گیا ہوں اور میں نے زمین کو چوما نہ ہو‘ یہ میں پاکستانیت کے لئے نہیں کررہا ، یہ میرے اندر اپنی سرزمین کے لئے اداسی ہے لیکن میں نے اس کی تصویر کبھی نہیں کھنچوائی، یہ کبھی نہیں ہو اکہ میںیو این او گیا ہوں اور وہاں میں نے اپنے ملک کا پرچم تلاش نہ کیا ہو۔

 

سوال: اب تک کتنے ممالک یا براعظموں کے سفر کر چکے ہیں اور سب سے خوبصورت کس کوپایا؟

جواب: میں نے بہت زیادہ سفر نہیں کیا میری بیوی نے ایک دن بہت اچھی بات کہی تھی کہ تم نے اتنے ملک نہیں دیکھے جتنا شور مچایا ہوا ہے، یہ بالکل ٹھیک ہے کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جہا ں بھی گیا ہوں میں نے وہاں کا سفرنامہ لکھ دیا اب باہر کے سفرنامے بیس پچیس تو ہوں گے پھرتیرہ چودہ سفرنامے شمالی علاقہ جات کے بھی ہیں تو لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ یہ ہروقت گھومتا پھرتا رہتا ہے۔ حالانکہ میرا خیال ہے کہ پوری دنیا کا پانچ فیصد بھی میں نے نہیں دیکھا، دنیا بہت بڑی ہے ساؤتھ امریکہ ایک بالکل الگ دنیا ہے میں وہاں گیا ہی نہیں ، افریقہ ہے ، ساؤتھ ایسٹ ایشیا ہے تو یہ واضح ہے کہ میں نے اتنا زیادہ نہیں دیکھا لیکن میری نسل کے جو لوگ تھے ان سے بہت زیادہ دیکھا ہے۔

 

سوال: پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو آپ کا محبوب کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، اس محبت کی وجہ کیا ہے؟

جواب: محبت کی کبھی کوئی توجیہہ نہیں ہوتی ، آپ کسی سے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ آپ کو فلاں خاتون یا شے سے محبت کیوں ہوگئی ہے۔ اس ’کیوں‘ کا کوئی جواب نہیں ہوتا بس آپ کے اندرفطری جذبہ آجاتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت مجھے لگتا ہے کہ شاید میں نے شگروادی میں دریائے برالڈو کے کنارے کسی چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونا تھا لیکن میں لاہور میں پیدا ہوگیا۔ تو ہر شخص کو مختلف جگہوں پر جاکر احساس ہوتا ہے کہ شاید میں کبھی یہاں پر آیا ہوں اور وہ ایک علیحدہ ہی فلاسفی ہے کہ ایساکیوں محسوس ہوتا ہے۔ میں نے بہت بار یہ محسوس کیا ہے جب میں شمال کی وادیوں میں کسی گاؤں گیا ہوں تو مجھے وہ جانا پہچانا لگا ہے کہ شاید یہ وہی گاؤں ہے جہاں میں نے پیدا ہونا تھا تو ’کیوں‘ کا کوئی جواب نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپریشنز کے ایک طویل سلسلے کے بعد ابھی مجھے دوبارہ زندگی دی ہے۔ پچھلے ہفتے میں فائنل چیک اپ کے لئے گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کے اندر ایک بلاکیج ہے اس کو ہم ہٹا دیں گے تو پھر آپ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے، میں نے اس سے پہلا سوال یہی پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں کہ کیا اس کے بعد میں پہاڑوں پر جاسکتا ہوں؟ تو میری صحت مند ی کی خواہش پہاڑوں پر جانے سے منسلک ہے اس سے نہیں کہ میں کھانا پینا کروں گا، مزے کروں گا یا چھٹیاں مناؤں گا بس پہاڑوں پر جانے کی خواہش ہے اور میں نے ہراموش جھیل پر جانے کاپروگرام بنایا ہوا ہے، اس برس اگر زیادہ سردی نہ ہوئی تو ضرور جاؤں گا وگرنہ زندگی نے وفا کی تو اگلے برس لازمی جانا ہے۔

 

سوال: پاک چائنا اکنامک کاریڈور آپ کے محبوب علاقوں سے گزرے گی آپ کے خیال میں اس منصوبے سے وہاں کی ثقافت اور روایات پر کیسے اثرات آئیں گے؟

جواب: دیکھیں جی کوئی بھی سڑک اپنے ساتھ مثبت اور منفی اثرات لے کر آتی ہے۔ اب ماہر معاشیات یا سیاستدانوں کو زیادہ تفصیلات کا پتا ہوتا ہے کہ کیا ہونا ہے ، منصوبے کے درپردہ عوامل کیا ہیں۔آخر چین اتنا پیسہ کیوں خرچ رہا ہے‘ وہ صرف آپ کے لئے یہ سب نہیں کررہا ، اس کے اپنے بھی کوئی نہ کوئی مفاد ہوں گے اور ہونے چاہئیں، لیکن اگر ہم شاہراہ قراقرم کو دیکھیں تو اس نے شمال میں روز مرہ زندگی کو مکمل طورپر تبدیل کردیا ہے۔بالکل الگ علاقے کو دنیا سے جوڑ دیا ہے۔ جب میں پہلی مرتبہ وہاں گیا تھا تو وہاں کوئی چیز نہیں تھی ، نہ بجلی تھی ، نہ فریج تھی ، آپ کو دودھ نہیں ملتا تھا ،آٹا نہیں ملتا تھا لیکن اب جا کر آپ دیکھیں کہ ہنزہ کے نیچے جو شہر آبادہے وہ اتنا ہی بڑا ہے جتنا لاہور کا شاہ عالم اور وہاں اتنی ہی چیزیں ملتی ہیں جتنی یہاں ممکن ہیں۔ وہاں روزگارکے مواقع بڑھے ہیں‘ لوگوں کو کاروبار کرنے کا پلیٹ فارم ملا ہے اور جب ایک سڑک گزرتی ہے تو اس کے ا وپر سے گزرنے والی ٹریفک معاشی خوشحالی لے کر آتی ہے‘ کیونکہ اس ٹریفک نے وہاں رکناہے ، وہاں سے خریداری کرنی ہے‘کھانا کھا نا ہے ، چائے پینی ہے ، ثقافتوں کا تبادلہ بھی ہونا ہے۔ تومیری رائے میں تو یہ بہت بڑا اور زبردست منصوبہ ہے لیکن میرے خیال میںیہ سارا کاریڈور اتنی جلدی نہیں بنے گا جتنا کہا جا رہا ہے کیونکہ اگر آپ نے شمالی علاقہ جات دیکھے ہیں تو اس میں تعمیراتی کام مکمل ہونے میں کئی کئی سال لگ جاتے ہیں۔عطا آباد جھیل والے علاقے کی مثال سامنے ہے اور خوش قسمتی سے میں نے کاشغر سے کاشغرگان اور کاشغرگان سے خنجراب تک سفر کیا ہوا ہے۔ اِدھر سے بھی اُدھر گیا ہواہوں اور چائنا سے بھی اُدھر آیاہوا ہوں۔ کاشغر سے خنجراب تک کا علاقہ میرے ذہن میں یہ تھا کہ اسی طرح پہاڑی علاقہ ہوگا جیسا پاکستان والی طرف کا ہے، موڑ ہوں گے ، دریا ہوں گے اور بڑا مشکل سفر ہوگالیکن اس کے برعکس وہاں بالکل میدان ہے۔ وہ شاہراہ سیدھی آتی ہے کہیں تھوڑی سی چڑھائی ہے جیسا قراقل جھیل کے علاقے میں دس منٹ کی چڑھائی آتی ہے پھر آپ خنجراب پہنچ جاتے ہیں۔ چنانچہ ادھر کوئی پرابلم نہیں ہے سب کچھ بنا ہوا ہے ، اصل مسئلہ ہمیں یہاں شمالی علاقہ جات میں ہونا ہے، رائے کوٹ تک کا علاقہ تو بنا ہوا ہے‘ رائے کوٹ سے پھر حویلیاں تک اور پھر حویلیاں سے آپ جب گوادر جاتے ہیں تو اس میں وقت لگتا ہے۔ یہ دو تین سال کا کام تو نہیں کم از کم آٹھ دس سال اس منصوبے کے مکمل ہونے میں لگ جانے ہیں۔

 

سوال : پی ٹی وی پر آپ کے مارننگ پروگرام نے ایک جنریشن کو متاثر کیا ہے آج کے مارننگ شو بھی آپ کی نظر سے گزرتے ہیں ، کیا کمی بیشی محسوس کرتے ہیں؟

جواب: میرا یہ نظریہ ہے کہ ہر عہد اپنے ساتھ اپنی اقدار اور ثقافتی روایات لے کر آتا ہے جس کے حساب سے لوگوں کی پسند بھی تبدیل ہوتی جاتی ہے‘ میرے مارننگ شو کا اس زمانے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ ایک تو اس وقت میرا شو اکلوتا تھا اگر کوئی اور ہوتا تو ہم اس سے کمپئیر کرتے۔مجھے یقین ہے کہ جس طرح کا شو میں تب کرتا تھا اگر اب کروں تو کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ نہ تو میں رقص کرسکتا ہوں ، نہ میں نخرے دکھا سکتا ہوں ، میر ے پاس بہت زیادہ لباس بھی نہیں ہیں‘ نہ میں شادی کی رسو م کے بارے میں کچھ جانتا ہوں جو اس وقت مارننگ شو کا مقبول حصہ ہیں۔ جولوگ یہ کر رہے ہیں وہ ٹھیک کررہے ہیں کیونکہ ان کا شو چل رہا ہے اور ہمارے ہاں ریٹنگ ہی کامیابی کی دلیل ہے۔ ایکٹرز زیادہ بہتر انداز میں شوز کر رہے ہیں کیونکہ کمپئیرنگ کے لئے اداکاری آنا بھی ایک شرط ہے ،اس کے ساتھ آپ کو رائٹر بھی ہونا چاہئے، سکرپٹ رائٹر بھی ہونا چاہئے اس کے بعد انفارمیشن آتی ہے جس کی اب ضرورت بھی نہیں رہی کیونکہ وہ تو آپ کو کمپیوٹر سارا کچھ دے دیتا ہے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ جتنے بھی کمپئیرز ہیں ان کے پاس انفارمیشن ہے بھی نہیں۔ مثلاًایک دفعہ مجھے ایک مارننگ شو میں شرکت کے لئے دبئی بلوایا گیا اور وہاں میرے تعارف ان الفاظ سے ہوا کہ میں پاکستان کے تمام مارننگ شو کا باپ ہوں تو میں نے ان کی تصحیح کچھ یوں کی کہ جتنے بھی مارننگ شوز چل رہے ہیں وہ سب تو میر ے نہیں ہیں صرف ایک آدھ بچہ میرا ہے۔میں ان کی ذمہ داری نہیں لیتا کیونکہ انہوں نے اپنا ہی حساب کتاب کیا ہوا ہے، میں کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہا ، بات صرف یہ ہے کہ ہمارے شوز گزرے زمانے کے لحاظ سے ٹھیک تھے ، آج کے شوز موجودہ زمانے کے لحاظ سے ہیں، مجھے آپ منہ مانگی رقم بھی دیں تو پھر بھی میں ایسے شوز کا حصہ نہ بنوں جیسے ہمارے ہاں رمضان کے دوران ہوتے ہیں اور عوام کو تحائف کا لالچ دے کر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔میں صرف ایسے شو کی میزبانی کرنا چاہوں گا جس سے عوام کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کوئی بہتری آسکے۔ایسا کام نہ ہونے کی وجہ سے میں شو نہیں کررہا دوسرا ٹی وی میڈیم نوجوانوں کے لئے زیادہ موزوں ہے، میں اتنا زیادہ بوڑھا نہیں ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ پرانے لوگوں کو چمٹا نہیں رہنا چاہئے نئی جنریشن کو مواقع اور وقت ملنا چاہئے۔

 

سوال: آپ نے دنیابھر کا سفر کیا۔ آپ نے اپنے سفری تجربات کو سفرناموں کے قالب میں بھی ڈھالا۔ آپ نے سفرکو کس حد تک مفید پایا؟

جواب : میں نے اپنی عمر کے لحاظ سے سفرنامہ لکھا اور وہی جذبات بیان کئے جیسے ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ میں ایک لاابالی کچے ذہن کا فوری طور پر محبت میں مبتلا ہوجانے والانوجوان جوکہ میں تھا‘ بجائے اس کے میں ثابت کرتا کہ میں اس وقت افلاطون تھا اور دریائے سین کے کنارے بیٹھ کر کسی فلسفے پر غورکرتا تھا یہ تو بکواس ہوتی۔پھر جب میری شادی ہوگئی تو سفر نامے میں میرے بچے آنے شروع ہوگئے۔پھر میں نے اپنی فیملی کے ساتھ سفر کیا تو اس عمر کے احساسات کو میں نے سفرنامے میں لکھا۔ پھر جب بچے بڑے ہوکر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوئے تو میں اکیلا ہوگیا او ر میں نے دوستوں کے ساتھ جانا شروع کردیا تو اس احساس کولکھا۔اس طرح لکھنے کا ایک لطف تو یہ ہے کہ آ پ زندگی کے مختلف مراحل کا لطف اٹھاتے ہیں‘ جو اہم چیز میں بتانا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی سفر جو دس دن کا ہوتا ہے یا پندرہ دن کا ، سفرنامے لکھتے ہوئے آپ اس کو دوبارہ سے زندہ کرتے رہتے ہیں، ابھی میرے تین سفرنامے آئے ہیں آسٹریلیا ، امریکہ اور راکا پوشی نگرکا۔ دو تقریباً تیار ہیں‘ ایک سندھ کا اور ایک پنجاب کا، سندھ اور پنجاب کے سفر صرف ایک ایک دن کے ہیں ، میں صبح سویرے دوستوں کے ساتھ نکلا اور شام کو واپسی ہوگئی اب ہوتا یہ ہے کہ سفر کے دوران پیش آنے والا واقعہ ایک لمحے میں رونما ہوجائے لیکن جب آپ اس کو لکھنے بیٹھتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس کو بیان کرنے میں آپ کو دو دن لگ جائیں اس کا مطلب ہے کہ وہ چند لمحے دو دنوں پر مشتمل ہیں۔ اس کی واضح مثال میراسفرنامہ’’ غار حرا میں ایک رات‘‘ ہے۔غار حرا میں گزری ایک رات کو میں نے سات آٹھ ماہ میں لکھا، اس کی منصوبہ بندی کی اور پھر ہر لمحے کے جذبے کو محسوس کرکے لکھا تو دینی طورپر، جذباتی طور پر، یا تصوراتی طور پر، میں نے وہاں ایک رات نہیں آٹھ ماہ گزارے۔چنانچہ یہ سفر نامہ لکھنے کی خوبصورتی ہے کہ ہم گزرے لمحات کو دوبارہ سے جیتے ہیں اورپانچ لمحوں کو پانچ دنوں پر محیط کردیتے ہیں۔

 

سوال:ایک دور تھا کہ پاکستان میں ترقی پسند تحریک کا بہت شہرہ تھا۔ کیا آج بھی ادب میں ترقی پسندی کا رواج موجود ہے؟

جواب: دیکھیں یہ ایک قسم کا رویہ ہوتا ہے ، مختلف تحریکیں آتی ہیں جو اپنے انجام کو پہنچ کر ختم ہوجاتی ہیں لیکن ان کے اثرات موجود رہتے ہیں، مثال کے طورپر مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ آپ کے استاد کون تھے ، استاد سے مراد جن کے کام کو پڑھا اور اس سے سیکھا تو وہ سارے کے سارے ترقی پسند تھے کیونکہ ان دنوں بڑے ادیب تھے ہی ترقی پسند۔مثلاً آپ راجندر سنگھ بیدی کو لے لیں ، کرشن چندر کو لے لیں یا جتنے بھی شاعر ہیں ان کو لے لیں وہ سارے کے سارے ترقی پسندہیں اور ان سے ہم نے سیکھا۔ میں کمیونسٹ کبھی نہیں رہا لیکن میں ہمیشہ ترقی پسند رہا ہوں اور باآوازبلند رہا ہوں کیونکہ نبی کریم ؐ کے ساتھ عقیدت کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ مولانا حسرت موہانی کہا کرتے تھے کہ میں مارکسسٹ مسلمان ہوں۔ آج کے ادب میں ترقی پسندی کارواج اس طرح نہیں ہے لیکن اس کے اثرات کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں کیونکہ یہ ایک مثبت تحریک تھی۔ ترقی پسندی تو یہ تھی کہ انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کی جائے ، کولونیئل پاور کے اثر سے نکلا جائے‘ اب یہ نقطہ نظر صحیح ثابت ہورہا ہے ، ترقی پسندی یہی تھی کہ لوگ سوویت یونین کا ساتھ دیتے تھے کیونکہ باقی قوتیں تو قابض قوتیں تھیں اور آپ نے ان کا ساتھ تو نہیں دینا تھا ، سوویت یونین ان طاقتوں کی مخالفت کرتا تھا۔ اب سوویت یونین کے نہ ہونے سے کتنی پرابلمز ہوئی ہیں۔ جیسے امریکہ کو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ فلسطینیوں کا یہ حال کبھی نہ ہوتا اگر سوویت یونین موجود ہوتا۔ تو اس لئے وہ مثبت تحریک تھی جس کے اثرات اب بھی موجودہیں۔

 

سوال:آپ کی نظر میں ہمارے ادیب کا سماج کی ترویج‘ ترقی اور اصلاح میں کیا رول رہا ہے؟ اور کیا ادیب کا اس عمل کوئی حصہ ہوتا ہے یا ادیب کا کام خالصتاً ادب کی تخلیق ہے؟

جواب : بنیادی طو رپر ادب انقلاب لاتا نہیں ہے۔ وہ ان عوامل کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے رد عمل میں انقلاب آتا ہے۔ ادب خود تلوار لے کر میدان میں نہیں نکلتا بلکہ اس کا کام تو شعور اور آگاہی پیدا کرنا ہوتاہے چنانچہ وہ شعور کہاں تک انقلاب کے لئے معاون ثابت ہوتا ہے، لیوٹالسٹائی کی مثال لے لیں‘ میں نے ماسکو میں اس کی ساری ریاست دیکھی ہے‘ایک رات وہ اٹھتا ہے بوری کے کپڑے پہنتا ہے اور کہتا ہے میں کسان کے طورپر زندگی بسر کروں گا۔ مجھے یہ زندگی نہیں گزارنی۔ وہ بڑے لوگ تھے جبکہ آج کل مسائل اور ہیں ، میں ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ میرے دشمن پہلے ہی بہت ہیں۔دوستووسکی نے اپنے معاشرے کے بارے میں جو کچھ لکھا ،چیخوف نے یا دوسرے بڑے رائٹرز نے جو لکھا، اس کو پڑھ کر لوگوں میں شعور آیا کہ تبدیلی کی ضرورت ہے تو یہ واضح ہے کہ ادیب خود میدان جنگ میں نہیں اترتا‘ وہ میدان جنگ میں اترنے کی ترغیب دیتا ہے۔

 

سوال :معیشت‘ معاشرت اور روحانیت انسانی زندگی کے اہم جزو ہیں۔ یہ آپس میں کس طرح جڑے ہوئے ہیں؟

جواب: ان عوامل کو اگر جوڑنا ہوتو یہ ایک بہت بڑا کاروبار بن جاتا ہے۔ روحانیت سب سے زیادہ تیز فروخت ہونے والاجزو ہے۔ میں نے سارا پاکستان دیکھا ہے جس تیزی سے روحانیت فروخت ہورہی ہے اور لوگ متمول ہورہے ہیں‘روحانیت کے فلسفے سے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔اشفاق احمد صاحب کے انتقال کے بعد میر ے پاس کچھ لوگ آئے انہوں نے ایک اشارہ سا دیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم ہر جمعرات کو آپ کے پاس آجایا کریں اور یہاں پر ایک محفل ہوجائے۔ میں نے انہیں واضح کیاکہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ، میں ایک نارمل انسان ہوں جو چھوٹے موٹے گناہ سے بھی لطف اندوز ہوتا ہوں اور نیکیاں کرنے کی بھی کوشش کرتا ہوں لیکن مجھ میں روحانیت والا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ مجھے اس کرسی پر مت بٹھائیں حالانکہ وہ بڑی منافع بخش سیٹ ہے اور بڑا آسان کام ہے لیکن میں نے انکار کردیا۔ بنیادی روحانیت جس کو ’’سپرچیوئل ازم‘‘ کہتے ہیں اور جو مولانا روم سے آئی ہے اورعلامہ اقبالؒ سمیت سارے پنجابی شاعروں کو ملی ہے‘ وہ ہے کیا‘ وہ عقیدے سے بالاتر ہوکر انسان کو انسان سمجھنا اور اس کی عزت کرنا ہے تو میری کتابیں بھی انسان کو انسان سمجھتی ہیں اور لوگوں کو خوشی سے ہمکنا ر کرتی ہیں۔ یہ تو طے ہے اور اب مجھے اس روحانیت کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اپنی طرز کی روحانیت ہی ہے۔

 

سوال:عورت اور مرد کے رشتے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ کیا مغرب جیسی آزادی فیملی یونٹ کو متاثر کرتی ہے۔ توازن کا راستہ کون سا ہے؟

جواب: ایک تو ہم مغرب سے بڑے خوفزدہ ہیں اور اس کے خلاف شوروغل بھی برپا رہتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ مغرب بھی انسانی اقدار پر اسی طرح عمل پیرا ہے جس طرح ہم بلکہ کئی حوالوں سے وہاں ہم سے بھی بہتر انسانی اقدار ہیں۔ ہم ننانوے فیصد تک مغربی زندگی گزار رہے ہیں، ہمارا لباس ، رہن سہن، ناشتے کا انڈا سلائس سب مغربی ہے‘ ہاں لیکن ان کی اخلاقی اقدار اپنی ہیں۔دوسرا فیملی یونٹ کا نظریہ اب پوری طرح ٹوٹتا جارہا ہے کیونکہ گزرتے وقت کے ساتھ معاشی خوشحالی آپ کے اخلاقی کردار میں بھی تبدیلی لاتی ہے۔ آپ ان اخلاقی اقدار پر قائم نہیں رہ سکتے جن پر آپ پہلے تھے۔ چنانچہ اب آپ غور کریں تو زیادہ تر لوگ شادی کے بعد الگ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، ہرعورت کا سب سے بڑا خواب بھی یہی ہے۔جوائنٹ فیملی سسٹم کی خواہش رکھنے والی عورت آپ کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔میں تو ایسی کسی بہو یا بیٹی سے نہیں ملا ، پہلے ایک ایک گھر میں کئی کئی نسلیں چلتی تھیں اب صورت حال بدل گئی ہے ، میرے گھر کی مثال لے لیں‘ اسے میں نے چھتیس برس پہلے اپنے ہاتھوں سے بنایا ، اب میرے بیٹے نے ڈیفنس میں گھر بنایا اور وہاں شفٹ ہوگیا، سب کچھ عارضی سا ہوگیا ہے ، مستقل مزاجی نہ گھروں میں رہی ہے نہ رشتوں میں ، نہ اخلاق میں۔میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ہرپچاس برس کے بعد آپ کا فیشن تبدیل ہوجاتا ہے۔ آپ کے کھانے کے طریقے تبدیل ہوجاتے ہیں۔ آپ کی اخلاقیات تبدیل ہوجاتی ہیں ، سچ کی تعریف تبدیل ہوجاتی ہے ، حتیٰ کہ مذہبی اطوار تبدیل ہوجاتے ہیں۔ بہت ساری چیزیں ہیں جن میں میرے سامنے تبدیلی آئی ہیں ، میری والدہ برقعہ پہنتی تھیں جب ان کی تھوڑی زیادہ عمر ہوئی تو انہوں نے چادر لے لی‘ اب یہ نہیں ہے کہ خدا نخواستہ ان کے اخلاق میں کوئی مسئلہ ہوگیا ، یہ صرف وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلی ہے۔ اس کے بعدمیری شادی ہوئی تو میری بیوی برقعہ پہنتی تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو کیا پسندہے میں برقعہ لے لوں یا چادر لے لوں؟ میں نے کہا جس چیز میں تم خوش رہ سکتی ہووہ کرو‘تم ایک کے بجائے دو برقعے پہن لو تو پھر بھی تم مجھے اتنی ہی عزیز رہوگی۔

 

سوال:اپنی زندگی کے تجربے کی روشنی میں آپ نئی نسل کو رہنمائی کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب: میں ارتقا پر یقین رکھتا ہوں اور میرا مانناہے کہ ہماری نئی نسل ذہنی اور جسمانی اعتبار سے ہم سے بہت بہتر ہے، وہ اپنے دل سے فیصلے کرتی ہے اور چیزوں کے بارے میں ہم سے زیادہ آگاہ ہے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو پیغام دیں کہ بابا جی ایسا کیا کریں اور ایسا ہوتا ہے ، میرے دونوں بیٹے سول سروس میں ہیں اور ان کے پڑھنے کا اندازمجھ سے جدا تھا۔ ہم تو پڑھائی کے وقت ریڈیو کے قریب بھی نہیں جاتے تھے لیکن وہ کانوں پر ہیڈ فون لگا کرساتھ ہی جھومتے بھی تھے اورسوالوں کے جواب بھی نکالتے تھے اور سی ایس پی افسر بھی ہوگئے، اگر میں ان پر اپنا طریقہ مسلط کرتا تو وہ غلط ہوتا اسی طرح آگے ان کے بچے اور زیادہ ایڈوانس ہیں۔ نئی نسل کی جدت پسندی اچھی چیز ہے۔ دوسرے پاکستان کا جو بھی نقصان ہوا وہ ہم بزرگوں اور بابوں نے کیا ہے ،نئی نسل کا تو کوئی ہاتھ ہی نہیں۔ اس طرح میں سمجھتا ہوں کہ آج کے فن کارہمارے عہد کے فن کاروں سے زیادہ بہتر ہیں، آج میں جب ڈرامے دیکھتا ہوں تو ان کے اسکرپٹس بہت برے ہوتے ہیں لیکن فن کار اپنی اداکاری سے ان کو کمال بنا دیتے ہیں۔ ڈائیلاگ ڈلیوری ، پروڈکشن کوالٹی ہر چیز کمال‘ ہم ان سے سیکھ سکتے ہیں نئی نسل نے ہم سے کیا سیکھنا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter