12
January

عربی اور فارسی کے مقابلے میں اُردو میں زیادہ جاندار ادب تخلیق ہوا ہے۔ افتخار عارف

انٹر ویو : صبا زیب

افتخار عارف کا نام ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ وہ نہ صرف پاکستان میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بھی لوگ ان کے مداح ہیں۔ وہ اپنے فن میں پختگی رکھنے والے منفرد ادیب ہیں۔ اپنا تجربہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو کوئی تشنگی نہیں رہتی۔ انہوں نے پاکستان میں ادب کی ترویج میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں مہردونیم، حرف بریاب، فیض بنام افتخار عارف اور انتخاب کلام فیض شامل ہیں۔ حال ہی میں وہ 3سال ایران میں ای سی او کے پہلے غیر ایرانی صدر کی خدمات انجام دے کر پاکستان آئے تو انہیں فوراً ہی ادارہ ترقی قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کر دیا گیاہے۔ اس سے پہلے وہ اس ادارے کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اکادمی ادبیات کے چیئرمین کے طور پر بھی پاکستانی ادب اور ادیبوں کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ ہم نے اپنے قارئین کے لئے افتخار عارف سے گفتگو کی جو قارئین کے لئے یقیناًدلچسپی کا باعث ہوگی۔

 

intiftakhararif.jpgسوال : ہمارے قارئین کے لئے اپنے بارے میں بتائیں خاص طورپر ادبی حوالے سے کہ یہ سفر کب اور کیسے شروع ہوا ؟
جواب: میری پیدائش21 مارچ1943 کو لکھنو میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم درسِ نظامی کے مدرسہ نظامیہ فرنگی محل سے حاصل کی۔ جوبلی سکول لکھنو سے سکول کی تعلیم حاصل کی یہ اس زمانے کا بہت مشہور سکول تھا۔ اس سکول میں شوکت صدیقی(ادیب، ڈرامہ نویس) نے بھی پڑھا تھا۔ انٹر میڈیٹ کے بعد لکھنو یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے وہاں بہت قابل اور بڑے اساتذہ سے پڑھنے کا موقع ملا جن میں پرویز احتشام، نور الحسن ہاشمی، رادھا مکھر جی وغیرہ شامل ہیں۔
ایم اے کرنے کے بعد 1965 میں پاکستان آیا۔ غریب گھرانے سے تعلق تھا۔ میری پرورش نانا نے کی۔ والدہ شیعہ جب کہ والد حنفی مسلک سے تھے۔ میں نے اپنی زندگی بہت مشکل حالات میں گزاری۔ لالٹین کی روشنی میں پڑھائی کرتا تھا۔ اسی زمانے میں میری نظر کمزورہوگئی لیکن ان سب مشکلات کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور آخر کار ایم اے کرلیا۔


1965 میں جب میں پاکستان آیا تو سب سے پہلے ریڈیو کی طرف گیا۔ وہاں میں نے اردو اور ہندی میں خبریں پڑھنا شروع کیں‘ہر بلیٹن کے 10 روپے ملتے تھے۔
میری اردو اچھی تھی اور تلفظ بھی صاف تھا ۔آہستہ آہستہ ریڈیو پر مختلف پروگرام ملنے لگے۔ ریڈیو کے لئے خدیجہ نقوی اور ایس ایم سلیم کے ساتھ ایک ڈرامہ کیا۔ جب ٹی وی آیا تو ٹی وی میں چلے گئے وہاں کسوٹی کے نام سے ایک پروگرام کیا جس میں میرے ساتھ ضیاء محی الدین اور قریش پور جیسے بڑے نام تھے۔ اس زمانے میں کسوٹی بہت مقبول ہوا اور کسوٹی کے ساتھ مجھے بھی شہرت ملی۔


جہاں تک ادبی سفر کی بات ہے تو شعر کہنا بچپن سے ہی شروع کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ شعر یاد آتے ہیں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لکھنو میں ہر شخص شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا۔ بچے بچے کو سیکڑوں کی تعداد میں شعریاد ہوتے تھے۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت ہوا جب میں شاہ عبدالرحمن سندھی کے مزار پر جاتا تھا۔ وہاں فارسی میں قوالیاں ہوتی تھیں اور مجھے بھی اس وقت فارسی کے بہت سے شعر یاد تھے۔ پھر جب پاکستان آیا تو اپنا گھر، گھر والے اور اپنا شہر یاد آتا تو اُن کی یاد میں شاعری شروع کردی اس طرح 1984 میں مہر دونیم کے نام سے پہلی شاعری کی کتاب آگئی۔


سوال : آپ آج کل کس پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں؟
جواب: ابھی پچھلے دنوں جب میں ایران میں تھا تو میں نے اپنے نئے شعری مجموعے پرکام کرنا شروع کیا۔ باغ گل سخ کے نام سے یہ شعری مجموعہ مارچ2017 تک مکمل ہو جائے گا۔

intiftakhararif1.jpg
سوال : پچھلے دنوں آپ ایران میں رہے، کیسا لگا آپ کو ایران اور وہاں کے لوگ؟
جواب: ایران میرے مزاج کے بہت قریب ہے وہاں کے لوگوں کی گفتگو، ان کا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا سب مجھے بہت پسند ہے۔ وہاں کے لوگ خوش لباس ہیں اور گھر کی آرائش کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی پودے لگائے جاتے ہیں۔ وہاں لوگوں میں کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں لیکن ان میں وطن پرستی بہت زیادہ ہے۔ ملکی مفادپر سب اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہو جاتے ہیں اور وہاں کے ادب میں بھی آپ کو یہ سب نمایاں نظر آئے گا۔
سوال : آپ کو لکھنے کے لئے کیا چیز راغب کرتی ہے۔ لکھنے کے لئے کیا خاص موڈ کا ہونا ضروری ہے؟
جواب: ہر انسان دوسرے سے جدا ہے اور میرا ایمان ہے کہ لکھنے کی توفیق اﷲ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں کسی موڈ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے لگتاہے کہ میری تقدیر میں تھا کہ میں شاعر ہوتا اور میری تخلیق کا مقصد بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ میں شاعری کرتا اور لکھتا۔۔۔
سوال :آپ خود کیا پڑھتے ہیں اور پسندیدہ رائٹرز کون سے ہیں؟
جواب: میں پہلے تو شاعری، اسلامی تاریخ، بڑی تہذیبوں کی تاریخ وغیرہ پڑھتا تھا لیکن آج کل میرا
Biographies
پڑھنے کی طرف رجحان کافی زیادہ ہوگیا ہے۔ بڑے اور مشہور لوگوں کی Biographies
‘ اس کے علاوہ شاعروں اور ادیبوں کی
Biographies
پڑھتا ہوں اور یہ بائیو گرافیز پڑھنے کا اتنا شوق ہے کہ اکثر اپنے دوستوں سے، مختلف ممالک سے منگوا کر پڑھتا ہوں۔ اس کے علاوہ پروگریسو رائٹرز کو بہت پڑھتا ہوں
World Poetry
خاص طور پر
Russian Poetry
کو ،انگلش ترجمے کے ساتھ، بھی پڑھتا رہاہوں۔
سوال : کیا ہمارے ہاں ایسا ادب فروغ پا رہا ہے جو آج سے پچاس سال بعد بھی اپنی شناخت قائم رکھ سکے؟
جواب: ہرزمانے میں بے شمار ادیب اور شاعر لکھ رہے ہوتے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو 20/30سال بعد بھی باقی رہیں۔ بڑے رائٹرز وہ ہوتے ہیں جو اپنے زمانے سے
relevant
ہوں اور آنے والے وقتوں کو بھی اپنی لکھائی میں
Relate
کریں، جیسے علامہ اقبال کے زمانے میں اور بھی بہت سے لوگ تھے جو شاعری کرتے تھے لیکن علامہ اقبال کی شاعری اُس وقت اور حالات کے بہت قریب تھی لیکن اس شاعری کو ہم آج بھی پڑھیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ آج کی ہی بات ہو رہی ہے۔بابا بلھے شاہؒ اور سلطان باہوؒ کولوگآج بھی پڑھتے ہیں ۔ لکھا ہوا لفظ ہی باقی رہتا ہے اور اسے ہی دوام حاصل ہے۔ہر لکھنے والا جب لفظ لکھ رہا ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کوئی معجزہ سرانجام دے دیا ہے۔ لیکن یہ ایک
Illusion
ہی ہوتا ہے۔ چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو باقی رہتے ہیں۔
سوال: نئے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر یا شاعر؟
جواب:۔ آج کل بہت سے لوگ اچھا لکھ رہے ہیں جیسے ذیشان ساحل، عباس تابش، یاسمین حمید، حمیرا رحمن اور بہت سے دوسرے۔
سوال:۔ الیکٹرانک میڈیا اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے بعد کہا جاتا ہے کہ کتاب پڑھنے کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں کس حد تک سچائی ہے۔ جس معاشرے میں کتاب نہ پڑھی جائے کیا وہاں اچھی شاعری اور نثر فروغ پا سکتی ہے؟
جواب:۔ زمانہ ایک جگہ پر نہیں رہتا۔ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ اس میں توازن آتا جاتا ہے۔ جیسے ایک زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن آیا اس وقت لوگ اس کی نشریات شروع سے لے کر آخر تک دیکھتے تھے۔ پھر وی سی آر کا زمانہ آیا۔ اسی طرح آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اس میں بھی توازن آ جائے گا۔ کتابوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ان کو پڑھنا اچھا لکھنے کے لئے ضروری ہے۔

 

intiftakhararif2.jpg

سوال : آپ اکادمی ادبیات کے چیئرمین بھی رہے ہیں جو ایک مضبوط ادبی حوالہ ہے۔ آپ نے اس ادارے کی ترقی کے لئے کیا اقدامات کئے ؟
جواب: اکادمی ادبیات کے مقاصد طے شدہ ہیں۔ اس کا مقصد ادب اور ادیبوں کے لئے کام کرنا ہے۔ لہٰذا میں نے بڑے منصوبوں پرکام کیا۔ مثلاً 100 سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت اور فن پر کتابیں لکھوا کر شائع کیں۔ اس سریز کا نام ’’پاکستان کے معمار‘‘ تھا۔ اس میں اُردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، پشتو اور ہندکو زبانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر ایک ایک کتاب لکھوائی۔ یہ سیریز طلباء اور طالبات کے ساتھ جہانِ دانش میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ انگریزی میں
Pakistani Literature
کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس میں مختلف زبانوں کے لٹریچر کو انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔ اقبالیات کے 100سال کے نام سے ایک کتاب اردو اور انگریزی میں شائع کی۔
سوال : پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے جس کے اثرات ہر شعبہ زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ کیا شعرو ادب بھی اس سے متاثر ہو رہا ہے؟کیا ہمارا ادیب اس لڑائی میں اپنا کردار ادا کررہا ہے؟
جواب: کوئی بھی ایسا واقعہ نہیں ہوتا جس کے اثرات قومی ادب پر نہ پڑیں آج کل ہر واقعہ میڈیا پر اتنا زیادہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ادیب، شاعر یا دانشور بولے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دہشت گردی اور اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر آج کا شاعر یا ادیب کچھ نہ لکھے۔ بہت سے شاعروں نے کئی نظمیں لکھیں۔ اس پر مضامین بھی چھپے اور ناول بھی لکھے جا رہے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی قومی واقعے سے اہلِ قلم دور نہیں رہ سکتے اور معاشرے پر ان کی رائے یقیناًاثر انداز ہوتی ہے۔
سوال : کیا ہمارا ادب صرف سماجی رویوں کی اصلاح تک محدود رہا یا انسان کے سیاسی اور معاشی مسائل کا ادراک بھی رکھتا ہے۔
جواب:ادیب کا کام ہے سماجی رویوں کی اصلاح کرنا وہ تو ادیب اور شاعر کررہے ہیں لوگوں کے معاشرتی ومعاشی مسائل کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے شاعر اور ادیب خود اپنے بہت سیمعاشی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
سوال : آپ عالمی ادب میں کس سے متاثر ہیں؟
جواب: میری نوجوانی میں ترقی پسند تحریک عروج پر تھی لہٰذا میں نے ترقی پسند ادیبوں کو ہی زیادہ پڑھا۔ غیرملکی ادیبوں کی کتابوں کے ترجمے بھی پڑھے اور انہیں براہ راست بھی پڑھا۔ ترقی پسند ادیب ہی میرے لئے رول ماڈل رہے۔ اقبال کے بعد
Pablo Nerubr
، ناظم حکمت،
Oddan
، فیض احمد فیض اور محمود درویش پسندیدہ شاعر ہیں ۔ ناول نگاروں میں مارکیز، میلان کندیرا، کنتھر گراس اور ڈرامہ نگار وں میں
Brish
اور بیکر پسند ہیں۔ ان سب کو ایک طالب علم کی حیثیت سے پڑھا اور سمجھنے کی کوشش کی۔
سوال : فارسی اور عربی میں کیا اردو زبان سے بہتر ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا اقدامات کئے جائیں کہ اردو میں بھی دیگر زبانوں کی طرح کا ’’پاورفل‘‘ ادب تخلیق کیا جا سکے۔
جواب: گزشتہ پچاس سالوں میں پاکستان میں بہت اچھا ادب تخلیق کیا گیا۔ شاعری، افسانہ، ناول، مزاح، سوانح اور تحقیقی کتب کا بڑا ذخیرہ سامنے آیا۔ البتہ پڑھنے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ لوگوں کا کتب پڑھنے کی طرف رجحان بہت کم ہو گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ عربی اور فارسی کے مقابلے میں اردو میں زیادہ جاندار ادب تخلیق ہوا ہے اور شائع بھی ہوا ہے۔ اردو ادب کے مواد میں تنوع رہا۔ اس کی وجہ ادب کے لئے آزادانہ فضا بھی ہے۔
سوال : آخر میں ہلال کے قارئین اور فوجی بھائیوں کے لئے کوئی پیغام؟
جواب : فوج کے ساتھ میرا تعلق ہمیشہ سے ہی بہت اچھا رہا ۔ تقریباً ہر سپہ سالار نے مجھے بہت عزت دی اس لئے ہمیشہ ہی ان لوگوں کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ اﷲ سب کو اپنی امان میں رکھے اور انہیں ترقی اور عزت سے نوازے۔

جہاں تک ادبی سفر کی بات ہے تو شعر کہنا بچپن سے ہی شروع کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ شعر یاد آتے ہیں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لکھنو میں ہر شخص شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا۔ بچے بچے کو سیکڑوں کی تعداد میں شعریاد ہوتے تھے۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت ہوا جب میں شاہ عبدالرحمن سندھی کے مزار پر جاتا تھا۔

*****

ہر انسان دوسرے سے جدا ہے اور میرا ایمان ہے کہ لکھنے کی توفیق اﷲ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں کسی موڈ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے لگتاہے کہ میری تقدیر میں تھا کہ میں شاعر ہوتا اور میری تخلیق کا مقصد بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ میں شاعری کرتا اور لکھتا۔۔۔

*****

100 سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت اور فن پر کتابیں لکھوا کر شائع کیں۔ اس سریز کا نام ’’پاکستان کے معمار‘‘ تھا۔ اس میں اُردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، پشتو اور ہندکو زبانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر ایک ایک کتاب لکھوائی۔ یہ سیریز طلباء اور طالبات کے ساتھ جہانِ دانش میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ انگریزی میں

Pakistani Literature

کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس میں مختلف زبانوں کے لٹریچر کو انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔

*****

آج کل ہر واقعہ میڈیا پر اتنا زیادہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ادیب، شاعر یا دانشور بولے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دہشت گردی اور اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر آج کا شاعر یا ادیب کچھ نہ لکھے۔ بہت سے شاعروں نے کئی نظمیں لکھیں۔ اس پر مضامین بھی چھپے اور ناول بھی لکھے جا رہے ہیں۔

*****

 
29
December

شطرنج ذہنی ورزش کے لئے بہترین ہے

Published in Hilal Urdu Jan 2014

ورلڈ امیچر چیس چیمپئن شپ میں چھٹی پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑی قیصر اقبال کی ہلال سے گفتگو

پاکستانی کھلاڑی قیصر اقبال نے یونان میں ہونے والی ورلڈ امیچر چیس چیمپین شپ 2013میں چھٹی پوزیشن حاصل کی اور پاکستان پہلی بار ٹاپ ٹین کی لسٹ میں شامل ہو گیا۔اس سلسلے میں ان سے کی جانے والی گفتگوپیشِ خدمت ہے۔

سوال۔اپنے خاندانی اور تعلیمی پس منظرکے بارے میں بتائیے؟

جواب۔میں ملتان میں پیدا ہوا ۔میرے والد صاحب سول انجینئر تھے۔ میں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔پاکستان ائر فورس کا لج سرگودھا سے ایف ایس سی کیا۔پھر الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کر نے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم رہا۔ان میں ساؤتھ عریبیہ(یمن اور اس سے ملحقہ علاقے)، بنگلہ دیش، امریکہ اور کینیا، کے ممالک شامل ہیں۔ 2010 میں پاکستان واپس آکر نادرا میں بحیثیت ڈائریکٹر ایکسیس کنٹرول سسٹم (DIRECTOR ACCESS CONTROL SYSTEM) جاب شروع کی۔

سوال۔آپ کو شطرنج کھیلنے کا شوق کیسے ہوا؟

جواب۔میرے پر نانا حکیم عبد الکریم آل انڈیا چیس چیمپئن تھے ۔میں نے اپنے والد صاحب کے ساتھ گھرمیں گیارہ بارہ سال کی عمرمیں شطرنج کھیلنا شروع کی۔اس کے بعد کالج اور ڈسٹرکٹ لیول پر کھیلا۔ سوال۔شطرنج(CHESS)کو بادشاہوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے؟اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟ جواب۔جی بالکل ایسا ہی ہے۔آپ دیکھیں چین نے شطرنج (CHESS) ایجاد کی انہو ں نے دنیا پر حکومت کی ۔ اس گیم کو عرب،روم،یورپ،اورا مریکہ نے اپنایا اور کھیلا اورانہوں نے دنیا پر حکومت کی۔ اسی طرح اگرآپ نے کسی سوسائٹی کو جج کرناہو کہ ان کی تعلیمی قابلیت و استعداد کیسی ہے تو آپ ان کیCHESSریشو دیکھ لیں کہ وہ کتنا CHESSکھیلتی ہیں۔آپ کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کتنی کامیاب ہے۔

سوال۔پریکٹس کیسے کرتے ہیں؟

جواب۔اسلام آباد‘ راولپنڈی میں چیس ایسوسی ایشن کے کلب ہیں اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر آن لائن گیم کھیلی جاتی ہے۔جس میں دنیا بھر کے کھلاڑی موجود ہوتے ہیں۔

سوال۔آپ نے نیشنل لیول پر کتنے مقابلے جیتے؟

جواب۔پاکستان میں‘ میں تین سال سے جیت رہا ہوں ۔نادرا کا INTERNAL CHESS SPORTS GALLAمیں نے جیتا ۔رحما ن ملک اس وقت ملک کے وزیرِ داخلہ تھے۔انہوں نے مجھے پہلا انعام دیا۔اس کے بعد انٹر نیشنل امیچر چیس آرگنائیزیشن ورلڈ چیمپین شپ 2013میںیونان میں کھیلنے کے لئے مجھے بھیجا گیا۔اس سلسلے میں ،میں دو نام لوں گا۔ان میں سے ایک طارق ملک چیئر مین نادرا اور دوسرے گوہر احمد خان جوکہ ڈائیریکٹر جنرل ہیں جنہوں نے مجھے سپانسر کیا۔

سوال۔انٹرنیشنل لیول پر چیس کھیلنے کے لئے کیا چیز سب سے زیادہ ضروری ہے؟

جواب۔پروفیشنل لیول کی CHESSکے لئے پریکٹس کے ساتھ ساتھ سٹڈی اور نالج بہت ضروری ہے جو کہ انٹر نیٹ پر آسانی سے دستیاب ہے۔چیس کے گرینڈ ماسٹرز نے اپنے تجربات سے کچھ ایسی TECHNIQUES بتائی ہیں جو مخالف کی چال کا مقابلہ کرنے کے لئے کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔جن کا علم ہونا بہت ضروری ہے تا کہ بہترین گیم کھیلی جا سکے۔

سوال۔کھیل کے دوران پریشر میں ہوتے ہیں؟

جواب۔جب تک آ پ فو کس نہ ہوں دنیا کی کوئی گیم بھی نہیں جیت سکتے۔خاص طور پر انٹرنیشنل لیول پر جب آپ اپنے ملک کے لئے کھیل رہے ہوتے ہیں تو تھوڑی ٹینشن تو ہوتی ہے۔

سوال۔انٹرنیشنل امیچرچیمپین شپ 2013میں کتنے ممالک نے شرکت کی؟

جواب۔اس مقابلے میں38ممالک نے شرکت کی۔میں پاکستان کی تاریخ میں پہلا کھلاڑی ہوں جس نے فائنل راؤنڈ کیلئے پہلی مرتبہ کوالیفائی کیا۔ سوال۔مقابلے کے دوران سب سے زیا دہ خوشی کب ہوئی تھی؟ جواب۔جب میں نے سوئیڈن کے کھلاڑی کو ہرایا تو بہت خوشی ہوئی۔لیکن جب میں نے ورلڈ نمبر ون کھلاڑی BINDER OLEG کے خلاف ڈرا کیا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔کیونکہ وہ نا قابلِ شکست کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔

سوال۔ ہمارے ملک میں CHESSمقبول ہو اس کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

ج۔بچوں کی ذہنی نشو نماکے لئے اسے سکول لیول پر شروع کرنا چاہئے کیونکہ CHESS IS THE BEST MEDICINE FOR BRAIN۔ جرمنی میں ریاضی میں کمزور بچوں کو CHESSکا تین ہفتوں کا کورس کروایا جاتا ہے ۔جس میں وہ صرف CHESS کھیلتے ہیں ۔اس کے بعد انہیں ریاضی کی تعلیم دی جاتی ہے۔سکول لیول پر بچے کھیلیں، مقابلے جیتیں۔اس طرح ٹیلنٹ تلاش کرنے میں آسانی ہو گی اور ہمیں انٹرنیشنل لیول کے کھلاڑی آسانی سے مل جائیں گے۔

سوال۔CHESSکیسا کھیل ہے سستایا مہنگا؟

جواب۔یہ ایک انتہائی سستا کھیل ہے۔اس کے لے آپ کو کسی گراونڈ کی ضرورت نہیں۔آپ کسی بھی جگہ بیٹھ کر گیم شروع کر سکتے ہیں۔

سوال۔ کرکٹ کے کھلاڑیوں کو تو جیتنے پر بہت انعام ملتے ہیں آپ کو بھی کچھ فائدہ ہوا؟

جواب۔جی ہاں مجھے اپنے ادارے اور ایک اور آرگنائزیشن جنہوں نے مجھے سپانسر کیا ان کی طرف سے انعام ملا ۔

سوال۔ مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟

جواب۔2014میں ورلڈ امیچرچیس چیمپین شپ میں دوبارہ شرکت کروں گا اور کوشش ہو گی کہ میں اپنے ملک کے لئے گولڈ میڈل جیت کے لاؤں ۔

سوال۔ CHESSکے علاوہ آپ کو کون سی گیم پسند ہے؟

جواب۔مجھے کرکٹ اور گالف پسند ہے۔ وسیم اکرم اور سچن ٹنڈلکر میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔

سوال۔پڑھنے والوں کے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب۔ہمیں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہئیے اور تعلیم کو عام ہونا چاہئے۔ اس کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
08
January

مستنصر حسین تارڑ

تحریر: گفتگو: قاسم علی

پی ٹی وی کی صبح کی نشریات میں چاچا جی کازندہ دل کردار مستنصر حسین تارڑ کی شخصیت کا صرف ایک حوالہ ہے کیونکہ ان کی ذات کی سحر انگیزی کو ایک درجے میں مجتمع کرنا ممکن ہی نہیں۔ سفرنامہ، ناول ،کالم، ڈرامہ نگاری اور ٹی وی میزبانی تو ایک طرف مستنصر حسین تارڑ نے لگ بھگ تین چار سو ڈراموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھارکھے ہیں ۔ چاچا جی یہ کہنے میں ذرا بھی عار نہیں محسوس کرتے کہ وہ بنیادی طور پر آوارہ گرد ہیں اور حادثاتی طور پر ادیب بن گئے۔ نگر نگر گھومنا، پہاڑوں پر جانا، مطالعہ اور تخلیق ان کے من پسند مشاغل ہیں۔ خود ادیب ہونے کے باوجود شاعروں کی مخالفت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تحریر کااسلوب اور اندازِبیان اتنا مسحور کن کہ دنیا کی کئی ممالک کی جامعات میں ان کی نثر اردو نصاب کا حصہ ہے۔ ان کی دو کتابیں زیر تکمیل ہیں جبکہ علالت سے صحتیابی کے بعد وہ آ ج کل پھر پہاڑوں کی سیرکاپروگرام ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ ہلال نے اپنے قارئین کے لئے مستنصر حسین تارڑ کا تفصیلی انٹرویو کیا ہے جو حسب ذیل ہے۔

 

سوال: سعادت حسن منٹو کے آپ ہمسائے رہے ہیں کیا انہیں دیکھ کر یا آئیڈیل سمجھ کر ادبی دنیا سے ناطہ جوڑا؟

جواب:مجھے بچپن میں ادیب بننے کا قطعی طور پر کوئی شوق نہیں تھا۔میں اگر لٹریچر یا میڈیاکی دنیا میں آیا تو یہ محض ایک اتفاق ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ میں حادثاتی ادیب ہوں ، ایک منصوبہ بند یا پلینڈ ادیب نہیں ہوں، بچپن میں مجھے بہت ساری چیزوں کا شوق تھا ، میں سکے جمع کرتا تھا، ڈاک کے ٹکٹ جمع کرتا تھا، فلمی ہیروئنز کی تصاویر جمع کرتا تھا، ایکٹنگ کا شوق تھا حالانکہ اس وقت مجھ میں اداکاری کا زیرو ٹیلنٹ تھا۔ چنانچہ شوق تو بہت سارے تھے لیکن ان میں پڑھنے کا شوق جو تھا وہ بہت شدت کے ساتھ تھا اور وہ ابھی تک اسی شدت کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی ایک دن مطالعے کے بغیر گز ر جائے۔ اس لئے حادثاتی طور پر میں ادیب بن گیا۔ اس کی تفصیل میں کیا جانا‘ بس میں انیس سو اٹھاون میں برطانیہ میں تھا وہاں سے نوجوانوں کا ایک وفد سوویت یونین گیا ، وہاں یوتھ فیسٹیول تھا مجھے بھی اس وفد میں شامل کرلیاگیا۔میں اس وقت شایداٹھارہ برس کا تھا۔ ہم پہلے لوگ تھے جو پاکستان سے سوویت یونین گئے۔ اس زمانے میں سوویت یونین آئرن کرٹن کہلاتا تھااور اس کے اندر پاکستانیوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ ہم شروع سے ہی امریکہ کے قریب رہے ہیں ، بہر حال جب میں واپس آیا تو نوائے وقت کے مجید نظامی صاحب کو کسی طرح پتا چلاکہ پاکستانی نوجوان سوویت یونین کا وزٹ کرکے آیا ہے‘ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ آ پ سفر نامہ لکھ کرسوویت یونین میں ہونے والے مشاہدات کو قارئین تک پہنچائیں، مجھے اس کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن میں نے ’’ لندن سے ماسکو تک‘‘ کے نام سے سفرنامہ لکھنے کی کوشش کی۔اس زمانے میں ہفتہ وار رسالہ ’’قندیل‘‘ بہت مقبول تھا جس میں وہ سفرنامہ تصاویر کے ساتھ تین اقساط میں شائع ہوا۔ یہ میری پہلی تحریر تھی، میں کچھ سال مزید برطانیہ رہا اور پھر واپس آگیا۔ بعض اوقات ابتدائی کامیابی بھی آپ کے سفر کو آسان بنادیتی ہے یہی میر ے ساتھ ہوا ، ’’نکلے تیری تلاش میں‘‘ اور ’’ فاختہ‘‘ کے کچھ حصے ماسکو یونیورسٹی کے اردو نصا ب میں شامل ہوگئے جو تیس پینتیس سال سے ہیں ویسے بھی اس کا چرچہ کافی ہوا تو اس سے آہستہ آہستہ آگے چلنا شروع کیا ، پھر آپ کو لت پڑجاتی ہے کیونکہ ادب ایک نشہ سا ہی ہے۔

 

سوال : حادثاتی ادیب سے مشقتی ادیب تک کا سفر کیسے طے کرلیا؟

جواب:میں خود کو مشقتی ادیب اس لئے کہتا ہوں کیونکہ نثر بنیادی طور پر مشقت طلب کام ہے ، میر ے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ میں شاعروں کے خلاف ہوں، بغض رکھتا ہوں۔ یہ بالکل صحیح ہے اور میں اس بات کو ماننے سے انکار نہیں کرتا لیکن میں برے شاعروں کے خلاف ہوں جو زبردستی اپنا کلام سناتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ہیں، میرے پاس ہر مہینے لگ بھگ تیس چالیس کتابیں آتی ہیں جن میں ایک یا دو نثر کی ہوتی ہیں باقی سب شاعری کے مجموعے ہوتے ہیں، خود فراز جیسا شاعریہ کہتا تھا کہ یار تارڑ ہم ہوائی جہاز میں سفر کر رہے ہوتے ہیں اورواش روم میں جاتے ہیں تب بھی ہمیں مصرعے موضوع ہونے لگتے ہیں لیکن نثر کے لئے ایسا بالکل نہیں ہے ، نثر لکھنے کے لئے میں چالیس برس سے روزانہ اپنی میز پر شام سات سے رات بارہ بجے تک مشقت کرتا ہوں ، بیٹھنا بھی مشقت سے کم نہیں،پوری توجہ لکھائی پر دینا جبکہ باقی دنیا انجوائے کر رہی ہے، فنکشنز میں جار ہی ہے، میل ملاپ کر رہی ہے اور آپ اپنے پراجیکٹ پر سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بڑی نثر دس فیصد مشاہدہ ہوتی ہے جبکہ باقی نوے فیصد پسینہ ہوتی ہے اس لئے نثر نگار مشقتی ہوتے ہیں۔

 

سوال: آپ بچوں کے پسندیدہ میزبان رہے ہیں ، کچھ اپنی ابتدائی زندگی اور تعلیم کے متعلق بتائیں؟

جواب : میری پیدا ئش یکم مارچ انیس سو انتالیس کو لاہور میں ہوئی۔ پہلے مجھے مسجد میں داخل کروایا گیا جہاں میں نے قرآن پاک پڑھا، نماز سیکھی لیکن حسب معمول مولانا کا جو پرتشدد رویہ تھا اس نے مجھے بہت باغی کردیا، اس کے بعد میں رنگ محل مشن ہائی سکول آیا جہاں ایک بالکل مختلف ماحول ملا۔ وہاں ہمیں انگریز خواتین اساتذہ نے پڑھایا ، کرسیاں اور بنچ میسر آئے ، اس زمانے کے لحاظ سے بہت ماڈرن اسکول تھا۔ اس کے بعد میرے والد صاحب نے گکھڑ میں ایک سیڈفارم ’رچنا نرسری فارم‘ قائم کیا۔گکھڑ میرا ننھیال بھی ہے والد صاحب ہمیں دو سال کے لئے وہاں لے گئے‘ وہاں پر میں سرکاری سکول میں داخل ہوا جو مکمل طور پر ٹاٹ سکول تھا‘ وہاں پر مجھے خاصی پرابلم ہوتی تھی کیونکہ میرا گھرانہ معاشی طور پر قدرے آسودہ تھا، میرے نانا بھی نمبر دار تھے چنانچہ میں سکول میں لٹھے کی شلوار اور اس کے اوپر چھوٹی سی اچکن پہن کر جاتا تھا جبکہ میرے کچھ ہم جماعت لمبی قمیض پہنتے تھے کہ شاید نیچے کچھ نہ پہننا پڑے۔ وہ مجھے چھیڑتے رہتے تھے اور ہمیشہ سونے کی چڑیا کہتے تھے۔ میں روتا ہوا گھر آتا تھا۔ اس کے بعد میں پھر رنگ محل مشن ہائی سکول آیا۔ یہاں پر مجھے پینڈو کہا جانے لگا کیونکہ گاؤں میں رہنے سے میرا لہجہ پنجابی ہو گیا تھا۔ تو میں نے ساری عمر سونے کی چڑیا اور اس پینڈو کے درمیان گزاری ہے ، مجھے کہیں بھی کھلے دل سے قبول نہیں کیا گیا نہ شہر والوں نے کیا نہ گاؤں والوں نے کیا۔ اس کے بعدمسلم ماڈل ہائی سکول پھر گورنمنٹ کالج گیا، پھر انگلینڈ ٹیکسٹائل کے لئے ڈپلومہ کیا ، ڈپلومہ کم اور پانچ چھ سال آوارہ گردی زیادہ کی۔میری تعلیم والدین کی خواہش کے مطابق کچھ زیادہ پختہ نہیں ہوئی۔ لیکن ہوایہ کہ میں نے لوگوں کے نزدیک جو بے مقصد زندگی گزاری کہ ٹینٹ اٹھایا ہوا ہے اور ہائیکنگ ہورہی ہے‘ آوارگی ہی تھی ناں۔کیونکہ ان دنوںیہ (پاکستان میں) نہیں ہوتا تھا ، میں پہلا پاکستانی تھا جو ٹینٹ لے کر نکلا اورلفٹیں لے کر انگلینڈ اور یورپ کی سیر کی‘ پھر باقی زندگی بھی اسی طرح گزرتی رہی تو میرے وہ تجربات لٹریچر میں میرے بہت کام آئے کیونکہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو‘ یہ دعوے کی بات نہیں ہے‘ جتنا میرا دنیا گھومنے کا تجربہ تھا وہ اب جاکر لوگوں کو ہو رہا ہے‘ جب سے باہر کے ممالک میں مشاعرے پڑھے جانے لگے ہیں۔ وہ کہتے ہیں تارڑ ٹھیک ہی لکھتا تھا۔ نگر نگر گھومنے کے تجربے نے مجھے بہت کچھ دیا، میرے لٹریچر میں یور پ بھی ہے ، ایشیا بھی ہے ، گاؤ ں بھی ہے ،شہر بھی ہے۔ ناول کے لئے آپ کو طوائف سے لے کر ولی اللہ تک کے درمیان انسانیت کے جتنے رنگ ہیں ان کا تجربہ بڑا ضروری ہے، تجربے سے یہ مراد نہیں کہ آپ کوٹھے پر جانا شروع کردیں مطلب کہ آپ کو آگاہی ہو۔۔۔۔۔اور نہ ہی آپ ولی اللہ بن جائیں صرف آگاہی،۔۔۔۔ جب تک آپ کے پاس یہ نہیں ہوگا آپ اچھا یا بڑا ناول نہیں لکھ سکتے۔

 

mustanserhus.jpg

سوال:سفرنامہ ، ناول ، ڈرامہ نگاری ، کالم نویسی اور ٹی وی میزبانی اتنے فرائض کیسے سر انجام دے لئے آپ نے؟

جواب : ہمارے ہاں یہ بڑی پرابلم ہے کہ آدمی پر مہر لگا دی جاتی ہے کہ یہ ناول نگار ہے، کالم نویس ہے یا افسانہ نگار ہے پھر اسے الماری میں بند کردیا جاتا ہے کہ یہ برینڈ ہوگیا ہے۔ جس طرح مویشی کو برینڈ کرتے ہیں اسی طرح ادیب کو بھی برینڈ کرنا چاہتے ہیں، بدقسمتی سے میں اس تقسیم میں آتا نہیں ہوں، میرا ہمیشہ یہی جواب ہوتا ہے کہ اگر آپ نے مجھے برینڈ کرنا ہے تو یہ کہہ لیں کہ میں بنیادی طور پر ایک آوارہ گرد ہوں۔ کبھی میں افسانے کی گلی میں جا نکلتا ہوں (ابھی میرا افسانوی مجموعہ ’’پندرہ کہانیاں‘‘ آیا ہے) کبھی سفرنامے کی جانب ، کبھی ڈرامہ ، کبھی کالم، یہ مختلف گلیاں ہیں جن میں میں گھومتا پھرتا رہتا ہوں لیکن کسی گلی میں زیادہ دیر قیام نہیں کرتا‘ کیونکہ بنیادی طور پر میں آوارہ گرد ہوں۔

 

سوال:روسی ادیبوں سے آپ کی محبت مثالی ہے ان کے انداز بیاں اور اسلوب نے آپ کو کس حد تک متاثر کیا؟

جواب: بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر میں نے سبھی کو پڑھا ہے لیکن روسی ادب کے دو ادیبوں ٹالسٹائی اور دوستووسکی کاکام تو لاجواب ہے‘ مطلب یہ ہے کہ آپ جب دنیا کے دس بہترین ناولوں کی فہرست بناتے ہیں تو ٹاپ پر ’’وار اینڈ پیس‘‘ ہی آتا ہے ، جو ٹاپ پر’ ’’ وار اینڈ پیس‘‘ کو نہیں لاتے وہ ’’ دی برادرز کارمازوف‘‘ کو لے آتے ہیں مگر پہلی پوزیشن روسیوں کے پاس ہی رہتی ہے، میری پسندیدگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کی روسیوں کا مزاج مشرقی ہے‘ اس میں جو اداسی ہے اور موت کی نزدیکی۔۔۔ یعنی موت کے قریب جا کر زندگی بسرکرنا اور ایک ذلت آمیز زندگی بسرکرنا۔۔۔ یہ آپ کو رشیئن لٹریچر میں بھرپور ملے گا۔ان کے اور ہمارے معاشرتی حالات میں کافی مماثلت ہے۔ ہماری طرح وہ بھی جذباتی ہیں۔ جلدی بھڑک اٹھتے ہیں اور ایک دم محبت میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں‘ شاید یہی وجہ تھی کہ میں ان کی جانب زیادہ متوجہ ہوا کیونکہ وہ میری قلبی واردات کے قریب تھا جبکہ جو مغربی یا امریکی تخلیق کار ہیں وہ ہماری ثقافت سے تھوڑا دور ہیں‘ اگرچہ ان میں بھی میرے بہت سارے پسندیدہ نام ہیں۔ لاطینی امریکہ کے رائٹرز میں بھی مشرقی اداسی موجود ہے۔ بنیادی طور پر ادب اداسی کو مجتمع کرنے کا نام ہے، تمام باب اداسی کی مختلف پرتوں کو کھولیں یہ لٹریچر کی خوبصورتی ہے اور کسی بڑے آدمی نے یہ کہا تھا کہ بڑا ناول وہ ہوتا ہے جس کو پڑھنے کے بعد آپ خود کو اداس محسوس کریں۔ طمانیت محسوس نہ کریں بلکہ ایک خاص اداسی آپ کے اندر آجائے۔

 

سوال: آپ کی تحریریں پاکستانیت کے پیغام سے بھرپور ہیں ، کیا آپ نے تخلیق کے عمل میں کسی نظرئیے کو فالو کیا ہے؟

جواب: میں جوکچھ ہوں اسے پاکستانیت کہہ لیں یا سرزمین سے لگاؤکہہ لیں‘ مگر یہ فطری ہے۔ میں زبردستی یا کسی مفاد کی خاطر نظریات کے پرچار کا قائل نہیں ہوں۔ میرا ماننایہ ہے کہ یہ میری اپنی سرزمین ہے اور اس کے جتنے بھی قدرتی عوامل ہیں ، جو درخت ہیں جو پہاڑ ہیں، ساری سرزمین کے جتنے مناظر ہیں، جتنی خوشبوئیں ہیں،جتنے جانور ہیں، جتنی خوراکیں ہیں وہ سب مجھ پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انہوں نے ہی میرے ناول اور سفرناموں میں آنا ہوتا ہے۔ مثلاً اگر آ پ مجھے کہیں کہ میں علی گڑھ کے بیک گراؤنڈ کے ساتھ ایک ناول لکھ دوں تو میں نہیں لکھ سکوں گا۔۔۔ہاں گوجرانوالہ ، پنڈی یا کوئٹہ کی بات اور ہے۔ میرا نظریہ صرف یہ ہے کہ اس سرزمین کے ساتھ جو میری وابستگی ہے وہ فطری ہے یعنی مجھے چار پانچ دفعہ برطانیہ براستہ سڑک جانے کا اتفاق ہوا ہے تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ واپسی پر میں طورخم بارڈر پر انٹر ی کے وقت سجدے میں نہ گیا ہوں اور میں نے زمین کو چوما نہ ہو‘ یہ میں پاکستانیت کے لئے نہیں کررہا ، یہ میرے اندر اپنی سرزمین کے لئے اداسی ہے لیکن میں نے اس کی تصویر کبھی نہیں کھنچوائی، یہ کبھی نہیں ہو اکہ میںیو این او گیا ہوں اور وہاں میں نے اپنے ملک کا پرچم تلاش نہ کیا ہو۔

 

سوال: اب تک کتنے ممالک یا براعظموں کے سفر کر چکے ہیں اور سب سے خوبصورت کس کوپایا؟

جواب: میں نے بہت زیادہ سفر نہیں کیا میری بیوی نے ایک دن بہت اچھی بات کہی تھی کہ تم نے اتنے ملک نہیں دیکھے جتنا شور مچایا ہوا ہے، یہ بالکل ٹھیک ہے کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جہا ں بھی گیا ہوں میں نے وہاں کا سفرنامہ لکھ دیا اب باہر کے سفرنامے بیس پچیس تو ہوں گے پھرتیرہ چودہ سفرنامے شمالی علاقہ جات کے بھی ہیں تو لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ یہ ہروقت گھومتا پھرتا رہتا ہے۔ حالانکہ میرا خیال ہے کہ پوری دنیا کا پانچ فیصد بھی میں نے نہیں دیکھا، دنیا بہت بڑی ہے ساؤتھ امریکہ ایک بالکل الگ دنیا ہے میں وہاں گیا ہی نہیں ، افریقہ ہے ، ساؤتھ ایسٹ ایشیا ہے تو یہ واضح ہے کہ میں نے اتنا زیادہ نہیں دیکھا لیکن میری نسل کے جو لوگ تھے ان سے بہت زیادہ دیکھا ہے۔

 

سوال: پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو آپ کا محبوب کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، اس محبت کی وجہ کیا ہے؟

جواب: محبت کی کبھی کوئی توجیہہ نہیں ہوتی ، آپ کسی سے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ آپ کو فلاں خاتون یا شے سے محبت کیوں ہوگئی ہے۔ اس ’کیوں‘ کا کوئی جواب نہیں ہوتا بس آپ کے اندرفطری جذبہ آجاتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت مجھے لگتا ہے کہ شاید میں نے شگروادی میں دریائے برالڈو کے کنارے کسی چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونا تھا لیکن میں لاہور میں پیدا ہوگیا۔ تو ہر شخص کو مختلف جگہوں پر جاکر احساس ہوتا ہے کہ شاید میں کبھی یہاں پر آیا ہوں اور وہ ایک علیحدہ ہی فلاسفی ہے کہ ایساکیوں محسوس ہوتا ہے۔ میں نے بہت بار یہ محسوس کیا ہے جب میں شمال کی وادیوں میں کسی گاؤں گیا ہوں تو مجھے وہ جانا پہچانا لگا ہے کہ شاید یہ وہی گاؤں ہے جہاں میں نے پیدا ہونا تھا تو ’کیوں‘ کا کوئی جواب نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپریشنز کے ایک طویل سلسلے کے بعد ابھی مجھے دوبارہ زندگی دی ہے۔ پچھلے ہفتے میں فائنل چیک اپ کے لئے گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کے اندر ایک بلاکیج ہے اس کو ہم ہٹا دیں گے تو پھر آپ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے، میں نے اس سے پہلا سوال یہی پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں کہ کیا اس کے بعد میں پہاڑوں پر جاسکتا ہوں؟ تو میری صحت مند ی کی خواہش پہاڑوں پر جانے سے منسلک ہے اس سے نہیں کہ میں کھانا پینا کروں گا، مزے کروں گا یا چھٹیاں مناؤں گا بس پہاڑوں پر جانے کی خواہش ہے اور میں نے ہراموش جھیل پر جانے کاپروگرام بنایا ہوا ہے، اس برس اگر زیادہ سردی نہ ہوئی تو ضرور جاؤں گا وگرنہ زندگی نے وفا کی تو اگلے برس لازمی جانا ہے۔

 

سوال: پاک چائنا اکنامک کاریڈور آپ کے محبوب علاقوں سے گزرے گی آپ کے خیال میں اس منصوبے سے وہاں کی ثقافت اور روایات پر کیسے اثرات آئیں گے؟

جواب: دیکھیں جی کوئی بھی سڑک اپنے ساتھ مثبت اور منفی اثرات لے کر آتی ہے۔ اب ماہر معاشیات یا سیاستدانوں کو زیادہ تفصیلات کا پتا ہوتا ہے کہ کیا ہونا ہے ، منصوبے کے درپردہ عوامل کیا ہیں۔آخر چین اتنا پیسہ کیوں خرچ رہا ہے‘ وہ صرف آپ کے لئے یہ سب نہیں کررہا ، اس کے اپنے بھی کوئی نہ کوئی مفاد ہوں گے اور ہونے چاہئیں، لیکن اگر ہم شاہراہ قراقرم کو دیکھیں تو اس نے شمال میں روز مرہ زندگی کو مکمل طورپر تبدیل کردیا ہے۔بالکل الگ علاقے کو دنیا سے جوڑ دیا ہے۔ جب میں پہلی مرتبہ وہاں گیا تھا تو وہاں کوئی چیز نہیں تھی ، نہ بجلی تھی ، نہ فریج تھی ، آپ کو دودھ نہیں ملتا تھا ،آٹا نہیں ملتا تھا لیکن اب جا کر آپ دیکھیں کہ ہنزہ کے نیچے جو شہر آبادہے وہ اتنا ہی بڑا ہے جتنا لاہور کا شاہ عالم اور وہاں اتنی ہی چیزیں ملتی ہیں جتنی یہاں ممکن ہیں۔ وہاں روزگارکے مواقع بڑھے ہیں‘ لوگوں کو کاروبار کرنے کا پلیٹ فارم ملا ہے اور جب ایک سڑک گزرتی ہے تو اس کے ا وپر سے گزرنے والی ٹریفک معاشی خوشحالی لے کر آتی ہے‘ کیونکہ اس ٹریفک نے وہاں رکناہے ، وہاں سے خریداری کرنی ہے‘کھانا کھا نا ہے ، چائے پینی ہے ، ثقافتوں کا تبادلہ بھی ہونا ہے۔ تومیری رائے میں تو یہ بہت بڑا اور زبردست منصوبہ ہے لیکن میرے خیال میںیہ سارا کاریڈور اتنی جلدی نہیں بنے گا جتنا کہا جا رہا ہے کیونکہ اگر آپ نے شمالی علاقہ جات دیکھے ہیں تو اس میں تعمیراتی کام مکمل ہونے میں کئی کئی سال لگ جاتے ہیں۔عطا آباد جھیل والے علاقے کی مثال سامنے ہے اور خوش قسمتی سے میں نے کاشغر سے کاشغرگان اور کاشغرگان سے خنجراب تک سفر کیا ہوا ہے۔ اِدھر سے بھی اُدھر گیا ہواہوں اور چائنا سے بھی اُدھر آیاہوا ہوں۔ کاشغر سے خنجراب تک کا علاقہ میرے ذہن میں یہ تھا کہ اسی طرح پہاڑی علاقہ ہوگا جیسا پاکستان والی طرف کا ہے، موڑ ہوں گے ، دریا ہوں گے اور بڑا مشکل سفر ہوگالیکن اس کے برعکس وہاں بالکل میدان ہے۔ وہ شاہراہ سیدھی آتی ہے کہیں تھوڑی سی چڑھائی ہے جیسا قراقل جھیل کے علاقے میں دس منٹ کی چڑھائی آتی ہے پھر آپ خنجراب پہنچ جاتے ہیں۔ چنانچہ ادھر کوئی پرابلم نہیں ہے سب کچھ بنا ہوا ہے ، اصل مسئلہ ہمیں یہاں شمالی علاقہ جات میں ہونا ہے، رائے کوٹ تک کا علاقہ تو بنا ہوا ہے‘ رائے کوٹ سے پھر حویلیاں تک اور پھر حویلیاں سے آپ جب گوادر جاتے ہیں تو اس میں وقت لگتا ہے۔ یہ دو تین سال کا کام تو نہیں کم از کم آٹھ دس سال اس منصوبے کے مکمل ہونے میں لگ جانے ہیں۔

 

سوال : پی ٹی وی پر آپ کے مارننگ پروگرام نے ایک جنریشن کو متاثر کیا ہے آج کے مارننگ شو بھی آپ کی نظر سے گزرتے ہیں ، کیا کمی بیشی محسوس کرتے ہیں؟

جواب: میرا یہ نظریہ ہے کہ ہر عہد اپنے ساتھ اپنی اقدار اور ثقافتی روایات لے کر آتا ہے جس کے حساب سے لوگوں کی پسند بھی تبدیل ہوتی جاتی ہے‘ میرے مارننگ شو کا اس زمانے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ ایک تو اس وقت میرا شو اکلوتا تھا اگر کوئی اور ہوتا تو ہم اس سے کمپئیر کرتے۔مجھے یقین ہے کہ جس طرح کا شو میں تب کرتا تھا اگر اب کروں تو کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ نہ تو میں رقص کرسکتا ہوں ، نہ میں نخرے دکھا سکتا ہوں ، میر ے پاس بہت زیادہ لباس بھی نہیں ہیں‘ نہ میں شادی کی رسو م کے بارے میں کچھ جانتا ہوں جو اس وقت مارننگ شو کا مقبول حصہ ہیں۔ جولوگ یہ کر رہے ہیں وہ ٹھیک کررہے ہیں کیونکہ ان کا شو چل رہا ہے اور ہمارے ہاں ریٹنگ ہی کامیابی کی دلیل ہے۔ ایکٹرز زیادہ بہتر انداز میں شوز کر رہے ہیں کیونکہ کمپئیرنگ کے لئے اداکاری آنا بھی ایک شرط ہے ،اس کے ساتھ آپ کو رائٹر بھی ہونا چاہئے، سکرپٹ رائٹر بھی ہونا چاہئے اس کے بعد انفارمیشن آتی ہے جس کی اب ضرورت بھی نہیں رہی کیونکہ وہ تو آپ کو کمپیوٹر سارا کچھ دے دیتا ہے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ جتنے بھی کمپئیرز ہیں ان کے پاس انفارمیشن ہے بھی نہیں۔ مثلاًایک دفعہ مجھے ایک مارننگ شو میں شرکت کے لئے دبئی بلوایا گیا اور وہاں میرے تعارف ان الفاظ سے ہوا کہ میں پاکستان کے تمام مارننگ شو کا باپ ہوں تو میں نے ان کی تصحیح کچھ یوں کی کہ جتنے بھی مارننگ شوز چل رہے ہیں وہ سب تو میر ے نہیں ہیں صرف ایک آدھ بچہ میرا ہے۔میں ان کی ذمہ داری نہیں لیتا کیونکہ انہوں نے اپنا ہی حساب کتاب کیا ہوا ہے، میں کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہا ، بات صرف یہ ہے کہ ہمارے شوز گزرے زمانے کے لحاظ سے ٹھیک تھے ، آج کے شوز موجودہ زمانے کے لحاظ سے ہیں، مجھے آپ منہ مانگی رقم بھی دیں تو پھر بھی میں ایسے شوز کا حصہ نہ بنوں جیسے ہمارے ہاں رمضان کے دوران ہوتے ہیں اور عوام کو تحائف کا لالچ دے کر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔میں صرف ایسے شو کی میزبانی کرنا چاہوں گا جس سے عوام کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کوئی بہتری آسکے۔ایسا کام نہ ہونے کی وجہ سے میں شو نہیں کررہا دوسرا ٹی وی میڈیم نوجوانوں کے لئے زیادہ موزوں ہے، میں اتنا زیادہ بوڑھا نہیں ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ پرانے لوگوں کو چمٹا نہیں رہنا چاہئے نئی جنریشن کو مواقع اور وقت ملنا چاہئے۔

 

سوال: آپ نے دنیابھر کا سفر کیا۔ آپ نے اپنے سفری تجربات کو سفرناموں کے قالب میں بھی ڈھالا۔ آپ نے سفرکو کس حد تک مفید پایا؟

جواب : میں نے اپنی عمر کے لحاظ سے سفرنامہ لکھا اور وہی جذبات بیان کئے جیسے ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ میں ایک لاابالی کچے ذہن کا فوری طور پر محبت میں مبتلا ہوجانے والانوجوان جوکہ میں تھا‘ بجائے اس کے میں ثابت کرتا کہ میں اس وقت افلاطون تھا اور دریائے سین کے کنارے بیٹھ کر کسی فلسفے پر غورکرتا تھا یہ تو بکواس ہوتی۔پھر جب میری شادی ہوگئی تو سفر نامے میں میرے بچے آنے شروع ہوگئے۔پھر میں نے اپنی فیملی کے ساتھ سفر کیا تو اس عمر کے احساسات کو میں نے سفرنامے میں لکھا۔ پھر جب بچے بڑے ہوکر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوئے تو میں اکیلا ہوگیا او ر میں نے دوستوں کے ساتھ جانا شروع کردیا تو اس احساس کولکھا۔اس طرح لکھنے کا ایک لطف تو یہ ہے کہ آ پ زندگی کے مختلف مراحل کا لطف اٹھاتے ہیں‘ جو اہم چیز میں بتانا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی سفر جو دس دن کا ہوتا ہے یا پندرہ دن کا ، سفرنامے لکھتے ہوئے آپ اس کو دوبارہ سے زندہ کرتے رہتے ہیں، ابھی میرے تین سفرنامے آئے ہیں آسٹریلیا ، امریکہ اور راکا پوشی نگرکا۔ دو تقریباً تیار ہیں‘ ایک سندھ کا اور ایک پنجاب کا، سندھ اور پنجاب کے سفر صرف ایک ایک دن کے ہیں ، میں صبح سویرے دوستوں کے ساتھ نکلا اور شام کو واپسی ہوگئی اب ہوتا یہ ہے کہ سفر کے دوران پیش آنے والا واقعہ ایک لمحے میں رونما ہوجائے لیکن جب آپ اس کو لکھنے بیٹھتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس کو بیان کرنے میں آپ کو دو دن لگ جائیں اس کا مطلب ہے کہ وہ چند لمحے دو دنوں پر مشتمل ہیں۔ اس کی واضح مثال میراسفرنامہ’’ غار حرا میں ایک رات‘‘ ہے۔غار حرا میں گزری ایک رات کو میں نے سات آٹھ ماہ میں لکھا، اس کی منصوبہ بندی کی اور پھر ہر لمحے کے جذبے کو محسوس کرکے لکھا تو دینی طورپر، جذباتی طور پر، یا تصوراتی طور پر، میں نے وہاں ایک رات نہیں آٹھ ماہ گزارے۔چنانچہ یہ سفر نامہ لکھنے کی خوبصورتی ہے کہ ہم گزرے لمحات کو دوبارہ سے جیتے ہیں اورپانچ لمحوں کو پانچ دنوں پر محیط کردیتے ہیں۔

 

سوال:ایک دور تھا کہ پاکستان میں ترقی پسند تحریک کا بہت شہرہ تھا۔ کیا آج بھی ادب میں ترقی پسندی کا رواج موجود ہے؟

جواب: دیکھیں یہ ایک قسم کا رویہ ہوتا ہے ، مختلف تحریکیں آتی ہیں جو اپنے انجام کو پہنچ کر ختم ہوجاتی ہیں لیکن ان کے اثرات موجود رہتے ہیں، مثال کے طورپر مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ آپ کے استاد کون تھے ، استاد سے مراد جن کے کام کو پڑھا اور اس سے سیکھا تو وہ سارے کے سارے ترقی پسند تھے کیونکہ ان دنوں بڑے ادیب تھے ہی ترقی پسند۔مثلاً آپ راجندر سنگھ بیدی کو لے لیں ، کرشن چندر کو لے لیں یا جتنے بھی شاعر ہیں ان کو لے لیں وہ سارے کے سارے ترقی پسندہیں اور ان سے ہم نے سیکھا۔ میں کمیونسٹ کبھی نہیں رہا لیکن میں ہمیشہ ترقی پسند رہا ہوں اور باآوازبلند رہا ہوں کیونکہ نبی کریم ؐ کے ساتھ عقیدت کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ مولانا حسرت موہانی کہا کرتے تھے کہ میں مارکسسٹ مسلمان ہوں۔ آج کے ادب میں ترقی پسندی کارواج اس طرح نہیں ہے لیکن اس کے اثرات کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں کیونکہ یہ ایک مثبت تحریک تھی۔ ترقی پسندی تو یہ تھی کہ انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کی جائے ، کولونیئل پاور کے اثر سے نکلا جائے‘ اب یہ نقطہ نظر صحیح ثابت ہورہا ہے ، ترقی پسندی یہی تھی کہ لوگ سوویت یونین کا ساتھ دیتے تھے کیونکہ باقی قوتیں تو قابض قوتیں تھیں اور آپ نے ان کا ساتھ تو نہیں دینا تھا ، سوویت یونین ان طاقتوں کی مخالفت کرتا تھا۔ اب سوویت یونین کے نہ ہونے سے کتنی پرابلمز ہوئی ہیں۔ جیسے امریکہ کو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ فلسطینیوں کا یہ حال کبھی نہ ہوتا اگر سوویت یونین موجود ہوتا۔ تو اس لئے وہ مثبت تحریک تھی جس کے اثرات اب بھی موجودہیں۔

 

سوال:آپ کی نظر میں ہمارے ادیب کا سماج کی ترویج‘ ترقی اور اصلاح میں کیا رول رہا ہے؟ اور کیا ادیب کا اس عمل کوئی حصہ ہوتا ہے یا ادیب کا کام خالصتاً ادب کی تخلیق ہے؟

جواب : بنیادی طو رپر ادب انقلاب لاتا نہیں ہے۔ وہ ان عوامل کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے رد عمل میں انقلاب آتا ہے۔ ادب خود تلوار لے کر میدان میں نہیں نکلتا بلکہ اس کا کام تو شعور اور آگاہی پیدا کرنا ہوتاہے چنانچہ وہ شعور کہاں تک انقلاب کے لئے معاون ثابت ہوتا ہے، لیوٹالسٹائی کی مثال لے لیں‘ میں نے ماسکو میں اس کی ساری ریاست دیکھی ہے‘ایک رات وہ اٹھتا ہے بوری کے کپڑے پہنتا ہے اور کہتا ہے میں کسان کے طورپر زندگی بسر کروں گا۔ مجھے یہ زندگی نہیں گزارنی۔ وہ بڑے لوگ تھے جبکہ آج کل مسائل اور ہیں ، میں ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ میرے دشمن پہلے ہی بہت ہیں۔دوستووسکی نے اپنے معاشرے کے بارے میں جو کچھ لکھا ،چیخوف نے یا دوسرے بڑے رائٹرز نے جو لکھا، اس کو پڑھ کر لوگوں میں شعور آیا کہ تبدیلی کی ضرورت ہے تو یہ واضح ہے کہ ادیب خود میدان جنگ میں نہیں اترتا‘ وہ میدان جنگ میں اترنے کی ترغیب دیتا ہے۔

 

سوال :معیشت‘ معاشرت اور روحانیت انسانی زندگی کے اہم جزو ہیں۔ یہ آپس میں کس طرح جڑے ہوئے ہیں؟

جواب: ان عوامل کو اگر جوڑنا ہوتو یہ ایک بہت بڑا کاروبار بن جاتا ہے۔ روحانیت سب سے زیادہ تیز فروخت ہونے والاجزو ہے۔ میں نے سارا پاکستان دیکھا ہے جس تیزی سے روحانیت فروخت ہورہی ہے اور لوگ متمول ہورہے ہیں‘روحانیت کے فلسفے سے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔اشفاق احمد صاحب کے انتقال کے بعد میر ے پاس کچھ لوگ آئے انہوں نے ایک اشارہ سا دیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم ہر جمعرات کو آپ کے پاس آجایا کریں اور یہاں پر ایک محفل ہوجائے۔ میں نے انہیں واضح کیاکہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ، میں ایک نارمل انسان ہوں جو چھوٹے موٹے گناہ سے بھی لطف اندوز ہوتا ہوں اور نیکیاں کرنے کی بھی کوشش کرتا ہوں لیکن مجھ میں روحانیت والا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ مجھے اس کرسی پر مت بٹھائیں حالانکہ وہ بڑی منافع بخش سیٹ ہے اور بڑا آسان کام ہے لیکن میں نے انکار کردیا۔ بنیادی روحانیت جس کو ’’سپرچیوئل ازم‘‘ کہتے ہیں اور جو مولانا روم سے آئی ہے اورعلامہ اقبالؒ سمیت سارے پنجابی شاعروں کو ملی ہے‘ وہ ہے کیا‘ وہ عقیدے سے بالاتر ہوکر انسان کو انسان سمجھنا اور اس کی عزت کرنا ہے تو میری کتابیں بھی انسان کو انسان سمجھتی ہیں اور لوگوں کو خوشی سے ہمکنا ر کرتی ہیں۔ یہ تو طے ہے اور اب مجھے اس روحانیت کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اپنی طرز کی روحانیت ہی ہے۔

 

سوال:عورت اور مرد کے رشتے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ کیا مغرب جیسی آزادی فیملی یونٹ کو متاثر کرتی ہے۔ توازن کا راستہ کون سا ہے؟

جواب: ایک تو ہم مغرب سے بڑے خوفزدہ ہیں اور اس کے خلاف شوروغل بھی برپا رہتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ مغرب بھی انسانی اقدار پر اسی طرح عمل پیرا ہے جس طرح ہم بلکہ کئی حوالوں سے وہاں ہم سے بھی بہتر انسانی اقدار ہیں۔ ہم ننانوے فیصد تک مغربی زندگی گزار رہے ہیں، ہمارا لباس ، رہن سہن، ناشتے کا انڈا سلائس سب مغربی ہے‘ ہاں لیکن ان کی اخلاقی اقدار اپنی ہیں۔دوسرا فیملی یونٹ کا نظریہ اب پوری طرح ٹوٹتا جارہا ہے کیونکہ گزرتے وقت کے ساتھ معاشی خوشحالی آپ کے اخلاقی کردار میں بھی تبدیلی لاتی ہے۔ آپ ان اخلاقی اقدار پر قائم نہیں رہ سکتے جن پر آپ پہلے تھے۔ چنانچہ اب آپ غور کریں تو زیادہ تر لوگ شادی کے بعد الگ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، ہرعورت کا سب سے بڑا خواب بھی یہی ہے۔جوائنٹ فیملی سسٹم کی خواہش رکھنے والی عورت آپ کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔میں تو ایسی کسی بہو یا بیٹی سے نہیں ملا ، پہلے ایک ایک گھر میں کئی کئی نسلیں چلتی تھیں اب صورت حال بدل گئی ہے ، میرے گھر کی مثال لے لیں‘ اسے میں نے چھتیس برس پہلے اپنے ہاتھوں سے بنایا ، اب میرے بیٹے نے ڈیفنس میں گھر بنایا اور وہاں شفٹ ہوگیا، سب کچھ عارضی سا ہوگیا ہے ، مستقل مزاجی نہ گھروں میں رہی ہے نہ رشتوں میں ، نہ اخلاق میں۔میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ہرپچاس برس کے بعد آپ کا فیشن تبدیل ہوجاتا ہے۔ آپ کے کھانے کے طریقے تبدیل ہوجاتے ہیں۔ آپ کی اخلاقیات تبدیل ہوجاتی ہیں ، سچ کی تعریف تبدیل ہوجاتی ہے ، حتیٰ کہ مذہبی اطوار تبدیل ہوجاتے ہیں۔ بہت ساری چیزیں ہیں جن میں میرے سامنے تبدیلی آئی ہیں ، میری والدہ برقعہ پہنتی تھیں جب ان کی تھوڑی زیادہ عمر ہوئی تو انہوں نے چادر لے لی‘ اب یہ نہیں ہے کہ خدا نخواستہ ان کے اخلاق میں کوئی مسئلہ ہوگیا ، یہ صرف وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلی ہے۔ اس کے بعدمیری شادی ہوئی تو میری بیوی برقعہ پہنتی تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو کیا پسندہے میں برقعہ لے لوں یا چادر لے لوں؟ میں نے کہا جس چیز میں تم خوش رہ سکتی ہووہ کرو‘تم ایک کے بجائے دو برقعے پہن لو تو پھر بھی تم مجھے اتنی ہی عزیز رہوگی۔

 

سوال:اپنی زندگی کے تجربے کی روشنی میں آپ نئی نسل کو رہنمائی کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب: میں ارتقا پر یقین رکھتا ہوں اور میرا مانناہے کہ ہماری نئی نسل ذہنی اور جسمانی اعتبار سے ہم سے بہت بہتر ہے، وہ اپنے دل سے فیصلے کرتی ہے اور چیزوں کے بارے میں ہم سے زیادہ آگاہ ہے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو پیغام دیں کہ بابا جی ایسا کیا کریں اور ایسا ہوتا ہے ، میرے دونوں بیٹے سول سروس میں ہیں اور ان کے پڑھنے کا اندازمجھ سے جدا تھا۔ ہم تو پڑھائی کے وقت ریڈیو کے قریب بھی نہیں جاتے تھے لیکن وہ کانوں پر ہیڈ فون لگا کرساتھ ہی جھومتے بھی تھے اورسوالوں کے جواب بھی نکالتے تھے اور سی ایس پی افسر بھی ہوگئے، اگر میں ان پر اپنا طریقہ مسلط کرتا تو وہ غلط ہوتا اسی طرح آگے ان کے بچے اور زیادہ ایڈوانس ہیں۔ نئی نسل کی جدت پسندی اچھی چیز ہے۔ دوسرے پاکستان کا جو بھی نقصان ہوا وہ ہم بزرگوں اور بابوں نے کیا ہے ،نئی نسل کا تو کوئی ہاتھ ہی نہیں۔ اس طرح میں سمجھتا ہوں کہ آج کے فن کارہمارے عہد کے فن کاروں سے زیادہ بہتر ہیں، آج میں جب ڈرامے دیکھتا ہوں تو ان کے اسکرپٹس بہت برے ہوتے ہیں لیکن فن کار اپنی اداکاری سے ان کو کمال بنا دیتے ہیں۔ ڈائیلاگ ڈلیوری ، پروڈکشن کوالٹی ہر چیز کمال‘ ہم ان سے سیکھ سکتے ہیں نئی نسل نے ہم سے کیا سیکھنا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
05
February

Dr Maleeha Lodhi

Published in Hilal English Feb 2014

“In an era of strategic flux only competent states will thrive”

• Globalization has turned security into a complex affair. Economic power has to back and complement military strength.

• To capitalize on opportunities, Pakistan must empower itself internally.

• Pakistan’s menu on the security agenda is very heavy and will need leadership and vision to execute.

Dr Maleeha Lodhi is a political scientist, diplomat, journalist and academician. She had been the High Commissioner of Pakistan to the United Kingdom and prior to that, twice as Pakistan’s Ambassador to the United States. She was Resident Fellow at John F. Kennedy School, Harvard University and a Public Policy Scholar at the Woodrow Wilson Center for International Scholars in Washington. She also served as a member of the United Nations Secretary-General's Advisory Board on Disarmament Affairs. She has also been editor of two newspapers in Pakistan. Her exclusive interview about different security related issues affecting Pakistan at national and international horizon was conducted for Hilal’s readers.

Asif Jehangir Raja

Q. How do you describe international security setting in post-Cold War scenario? Does it necessitate any change particularly in small states' security paradigm that often revolved around alliance and reliance on one of the power blocs?

Answer: We have gone past a post-Cold War world. What is this new era and how do we describe it? It is an era of strategic flux where world is in transition. What is it transitioning to? We don't know yet. But what we do know is that the global power is shifting from the maleeha2West primarily to China, and also, as the expression goes, from West to the Rest. At the same time power is dispersing among states and away from the states. States do not enjoy the authority once they did due to the globalized and borderless world we live in. So if you look at what the international scenario or context is, this is defined by three major features; first, the power shift from the West to China as the economic centre of gravity moves to Asia. The second defining trend is the pace and velocity of technological change, which is transforming everyone's life. This leads me to the third feature. Power is devolving from the state to the individuals who are becoming more empowered thanks to the electronic and social media, the communications revolution and the new networked technology.

So we are looking at a world fundamentally different from what is called the post-Cold War world. That world was fairly predictable and there were many certainties. The world which we live in today has fewer certainties, yet it is a world of great promise and opportunity. It is also a world of great challenges. And when you ask what this world offers to the small or medium sized states and what kind of security arrangements should these states have, we are returning to a bi-polar era where states had to line up with one or the other power, and the world was divided into two camps. Today’s world is moving in a multipolar direction.

This multipolarity is not only among states. The world has many poles of power, where power is not held by states but increasingly shared with large corporations, media or other organisations and non-state actors. So we are witnessing a very different kind of world which actually provides great deal of opportunity for small states if they are competent, efficient and have the capacity to innovate, and if they have what is increasingly the currency of power in the global system economic power. If small and medium states are economically strong, they can aspire to play a more significant role in the international system.

When we look at the world in next 20-25 years, we see two poles on the economic matrix, China and the United States. However, on the other fronts, there will be other poles. Time will tell as to how states will leverage themselves in this new world with two economic poles and other poles based on other indices of power. I think the challenge is great but so is the opportunity. Globalization is offering more and varied possibilities to transform themselves, become internationally relevant and more prosperous.

Q. Today's world is globalized and economically interdependent. What does this mean for international politics? How do you see smaller states exercising political and economic sovereignty in this scenario?

Answer: The assumption that economically interdependence will automatically lead to politically integration is not being borne out. We see two trends existing side by side. The first is economic interdependence that is increasing in a globalized and shrinking world. But alongside that we are also witnessing an assertion of national sovereignty. We are not seeing economic interdependence leading to the nations foregoing national sovereignty. For example, in order to negotiate better trade deals, nations assert themselves and benefit as a result. Also we see the co-existence of strategic competition and economic interdependence. So the assumption that economic interdependence will make strategic competition disappear has not materialized. The best example is the Sino-US relationship, which has elements of economic engagement but also strategic competition, especially after the US announced its policy of rebalancing or pivoting to Asia.

Q. In 1980s in general and particularly at the end of the Cold War in 1991, China appears to be following the policy of engagement and economic cooperation with the US? How does China figure out as a power centre supporting the countries that face estranged relations with the US?

Answer: The fundamental driver of China's international and foreign policy is its unwavering commitment to the goal of economic development and progress, and its objective of becoming a global economic power. That's where the policy of peaceful co-existence and engagement with the West comes from. It stems from the domestic strategic goal of lifting millions of people from poverty, that China has managed to do, and also ensuring that it makes the transition from a developing country, as it still calls itself so, to a developed nation.

And because this strategic goal overrides everything else, China has been following a policy of engagement with the West and it does not want to see any turbulence in global politics as well in its relations with the United States. At the same time China believes the US sees it maleeha3as a future strategic challenger and therefore believes that the US is following a dual track policy, of engaging and containing China.

The Chinese are responding to this dual track policy but at the same time seeking to maintain a stable relationship with the US to achieve their domestic goals. This is a good example that we, in Pakistan, should closely follow, even emulate. I am saddened when people in our country continue to look to the West for models whereas we have China's example before us. Like every other country, Pakistan must follow its own distinct path, but China shows us how to follow a single goal of domestic strengthening and how to align foreign policy goals with domestic goals so as to achieve both. You strengthen yourself domestically and economically so that you can act more effectively on the international scene. You can't do the reverse. I don't think China will encourage countries to have hostile relations with the US when Beijing itself wants a non-hostile relationship with the West. China will protect its interests and it draws a line at where its vital interests lie when dealing with Western countries. I think China also urges other countries to select and follow their own path to development and not look outside, just like it has done. When the Chinese Premier visited Pakistan, he repeated the advice his predecessors had given to Pakistani leaders: identify the path of development that you wish to follow and then stick to it, and don't allow anybody else to impose or dictate to you from outside. But if you don't choose your path, outsiders will have the ability and means to dictate to you.

Q. How much has globalization affected the state and do you foresee any other manifestation replacing or rendering the state irrelevant in the future? What are the challenges in this regard?

Answer: We are witnessing a trend where the state's monopoly of power is being eroded, both vertically and horizontally, in other words erosion from within and outside as we live in an increasingly borderless world. However the state still remains a formidable source of power, both in the international system and geographical boundaries. The state, in the foreseeable future, will remain the main actor in the international system and I don't think that the rise of other diverse actors, whether non-state or other actors, are going to displace the state. The state will continue to be there, but with its authority eroded. So it will have to find new ways to exercise its power and establish control over its territory, and search for the best possible vehicle to preserve and protect its interests in an increasingly interconnected and interdependent world. A balance will have to be struck between defending and protecting national sovereignty and the imperative of international cooperation, which often requires foregoing a bit of sovereignty. Competent states will strike the right balance. States that are incompetent have a very bleak future; it is not just economic or military power, which determines a country's strength and well being. It is how efficiently a state performs both nationally and in the international system, that determines its fortunes.

If we apply this lesson to Pakistan, we must rebuild state institutions because over a period of time the state's writ has eroded. For example, the core functions of state are the power to tax, the power to maintain law and order and deliver basic services to citizens. All these have been decaying. We must rebuild them if Pakistan is to become a competent state responsive to the needs of its people. And competent so as to deliver to people what they want. People want, as those elsewhere in the world do, security, economic opportunities, provision of basic amenities including education, and a secure, brighter future for their children. To achieve this, Pakistan must strengthen itself internally, raise resources and rebuild state institutions that have lost credibility over a period of time. Our governments must remain responsive to what people want rather than seek narrow political gains.

Q. What is the actual potential of Indo-US Strategic Partnership and how does it affect other states in the region?

Answer: Even before the US announced its policy of pivoting or rebalancing to Asia, it was felt that Washington was moving in a direction where it sought to contain China's rise. This implied that the US would start lining up countries as allies that could be potential counterweights to China. There was a feeling in the region including Pakistan that India might emerge in that US-assigned role of a strategic counterbalance to China. Now much as the US may have wanted to do that, and it struck a civilian nuclear deal with India for that purpose. India's own behaviour in the last several years suggested that while it was happy to leverage America's outreach to Delhi it did not want to play the role of US pawn in any new great game or new cold war.

We, in Pakistan, have to carefully assess the extent of any role that India might play in America's containment of China strategy. India's expansive economic relations with China are important to factor in. The annual trade between India and China is now around one hundred billion dollars. India would not want to jeopardize its economic relationship with China for the sake of acting as a counterweight in the strategy of an extra-regional power. But it might still play off US anxiety about China and seek Western support to build India as a global power. For example it will use US support to try to get a permanent seat in United Nations Security Council (UNSC), if there is ever that body is reformed.

Pakistan is certainly affected by certain aspects of the strategic partnership between India and US. The Civilian Nuclear Deal between the two has had adverse consequences for Pakistan's security and for the strategic equilibrium in the region. We all know that this deal destabilized the nuclear deterrence established between both countries after the nuclear tests of 1998. This disturbed the strategic stability of the region. Later, India emboldened by US support, also began to evolve proactive military doctrines directed against Pakistan, which posed new security challenges for us. Naturally Pakistan had to take steps to respond to that and restore strategic equilibrium.

The Indo-US strategic relationship will have to be watched very carefully and Pakistan will have to respond what it believes will be any adverse consequences for its security. At the same time, Pakistan will have to be careful and not exaggerate the significance of this relationship. Panic is never a good foundation for any policy. And frankly there is nothing to panic about as Pakistan has the strategic means to defend itself against external aggression.

Q. If Central Asia is seen as an 'economic hub' by the West, and India as an 'Investment Destination', then how do you see the West approaching the countries that serve as 'Trade Corridor' from Central Asia to India? How should these states safeguard their legitimate interests?

Answer: We have to recognize that many competing visions have been articulated for future regional economic cooperation. For example, the US has talked about the New Silk Road which they believe should link India with the economies of Central Asia and which also envisages regional economic ties between Afghanistan, Central Asian states and India through transit trade facilities which Pakistan is supposed to provide. But we have to recognize that China opposes this idea, and instead called for promoting the ancient Silk Road as the means for regional cooperation. I agree that you don't have to create a New Silk Road, which is driven by the strategic interests of outsider powers. We have to take into consideration regional aspirations and historic linkages among states of our region and also respect the Shanghai Cooperation Organization's (SCO) vision for regional cooperation. I don't think we should accept that there is only one vision, which will be implemented and will materialize. We have to see how the regional states themselves respond to these competing visions. I believe that regional initiatives that are indigenous will have a chance of success, not those imposed from outside or that have a strategic purpose to contain China. It is too early to say that how states might line up because we simply don't know which vision will muster more support and become a reality.

Q. How do you see Indian and Chinese investment in Afghanistan? Any possible convergence of economic interests by the two in post-2014 Afghanistan?

Answer: Both India and China have played and are going to play very different roles in Afghanistan. But before I answer your question let me say that among almost all states in the region, including Pakistan, China, Iran and India, no country wants to go back to the bad old days of the 1990s when Afghanistan became an arena of proxy conflict between neighbouring states. I don't think that any country wants the revival of a 1990s-type situation because it had such devastating consequences for the entire region, especially Pakistan. After Afghanistan, it was people of Pakistan that suffered the most. It is in that context that we should look for possibilities for regional cooperation to help stabilise Afghanistan. If we start to look at Afghanistan as an arena for strategic competition, I don't think that any country will be a winner. India has sought to build relations with Afghanistan on the basis of traditional ties as well as their assistance to Afghanistan's economic development. I have no issue with if this is what Afghanistan wants, as this is their sovereign decision. It is any military or security role for India in Afghanistan that is of concern to Pakistan. As for pressure on Pakistan, this the country can handle. For example the issue of opening the transit trade route can be settled through negotiations. Nothing is for free.

There is no need to be apprehensive and we need to view regional economics as an opportunity. We need to see how best we can maximize our advantage. Like any other country, we are not a static entity. When the world around us is dynamic and it is changing, we must adapt and adjust to changing realities while protecting our interests. Fear is the worst foundation to base any kind of policy, whether security or foreign. It must be predicated much more on positivity while of course, keeping our security interests in mind. The largest foreign investment in Afghanistan is still represented by projects in which China has a stake. But their two major projects are currently on the hold due to the security situation. Pakistan should look at long-term goals and see how best can we take advantage of the economic interest that China or others may have in Afghanistan. This will help promote regional stability.

Q. How much independent, influential and credible is Russian support in any international power game affecting a smaller state?

Answer: The Syrian crisis has marked the re-assertion of Russian diplomacy. The US, duly backed by the UK and France, was contemplating military action against Syria on the issue of the alleged use of chemical weapons. It was a Russian initiative to find a diplomatic solution that led to an avoidance of military conflict, which to me was a win-win situation for everyone. Although the Syrian crisis is not yet over, it provided an avenue for the Russians to assert themselves and become a more active diplomatic player on the international scene. But in the next 20-25 years, I do not foresee any tripolar system, if I can call it that. I see two economic poles, China and United States, and then I see other countries playing an influential role depending on the particular issue. So when you say that Russia can somehow be a promoter or protector of small countries, it depends which country are you talking about. Some countries, in Russia's near abroad like Ukraine do look to Russia for support but I don't think many others do beyond that.

Q. What are the security challenges for Pakistan in near and distant future?

Answer: Let me start by saying that Pakistan's security calculus, like that of any other country, is not static. It changes in response to the changing environment. The security calculus of any country is the sum total of its goals, the resources it has, and the environment. The goals may not change, but resources often do. And the environment changes, too.

If you look at Pakistan's security environment from that perspective, the country faces formidable challenges. These challenges are diverse and many; non-traditional challenges, traditional challenges, hard threats, soft threats as well as direct and indirect threats to our security. The most pressing and urgent challenge is internal. The internal threat to our security comes from deteriorating law and order and a stagnant and ailing economy. Unless the economy grows the threat to social stability will heighten. Pakistan needs to seriously address this internal challenge to its security and stability. Law and order, as you know, is threatened by the forces of violent extremism that Pakistan must defeat. Whether it defeats them through persuasion and talks or tougher law enforcement or a combination of the two, this is critical for Pakistan's future. While dealing with the domestic challenge, Pakistan cannot ignore the external threats to its security for the east and the west.

Despite Pakistan's efforts to revive broad based dialogue with India and pursue a policy of peace and normalisation, the response from the Indian side has been less than encouraging. India has refused to revive the composite dialogue and says that she will only talk on the two 'Ts' , trade & terrorism, not other issues. That poses a great diplomatic challenge for Pakistan, as it must ensure that normalization efforts also involve the resolution of disputes. From a security perspective, Pakistan has to assess what India's conventional military and strategic build up means for Pakistan and it has to devise appropriate responses.

Pakistan has already taken important steps to ensure its security in response to this build up. Pakistan doesn't have to match missile with missile and tank for tank. But it does need credible conventional and nuclear deterrence to secure itself against any adventure from the east. On the western front, we are in a year of transitions in Afghanistan. This is an uncertain transition and we don't know how this will play out. Therefore the security challenge on the western front might intensify in the next year or two. Pakistan would want to avert to the degree it can, any throwback to the 1990s, when the civil war in Afghanistan engulfed the region and destabilized Pakistan. Pakistan doesn't want 2014 to become other 1989. But it also doesn't want to see 2014 becoming 1996, when the Taliban seized Kabul by force of arms.

Pakistan is opposed to any armed group seizing power by violent means. That is why it has long advocated a political settlement that accommodates all Afghan groups. It has promoted a peace process vigorously during the last 2-3 years. The rationale is very simple; Pakistan wants to see peace in Afghanistan as early as possible, a peace that endures. It wants the war to end before all foreign combat forces leave Afghanistan in December 2014. If the war doesn't end by then, the possibility of a low intensity conflict or even a civil war looms larger with the danger of spilling over into our side of the border. This could entail a fresh influx of refugees and further destabilization of our border regions. Pakistan's menu of issues it needs to deal with on the security front is very heavy. The sources of threats are multiple; both internal and external. Pakistan needs to navigate and negotiate this security situation very carefully. The civilian government must lead but it must also ensure that our security institutions are on board and that there is a national consensus on how best to address these varied security threats.

Q. In the past it has been observed that the Indian leadership is not ready to show any flexibility on Kashmir, Siachin and Sir Creek issues. Often peace rhetoric for international audience is replaced with a belligerent stance keeping in mind domestic audience and momentary political gains. How should the peace process be conducted to achieve stability in the region?

Answer: Pakistan and India both need a peace process that is comprehensive and which addresses the issues and concerns that both countries have with one another. The composite dialogue process that was evolved in 1997 and has continued off and on since then, still offers the best framework for a comprehensive peace process. It involves eight issues that are of priority for both countries. But in the last year or two, India has refused to revive this comprehensive broad based peace process. It wants to cherry pick and select issues, which suits its interests. That is not realistic or sustainable. Even if India is able to get Pakistan to respond to one or two issues of its priority, the dialogue process will not be sustainable. After a while the process will run out of momentum when outstanding issues are not addressed. Common sense dictates that durable peace can be built only when the disputes that divide the two countries are addressed on a fair and just basis. One side cannot dictate the agenda as well as the pace of the talks. There have to be steps from both countries to address each others' concerns and at the same time to resolve the disputes between them.

We have seen in our past history, for example during the 1980s, when Pakistan was preoccupied by the situation created by the Soviet invasion of Afghanistan, all disputes were frozen while the normalization continued. But that didn't stop the Kashmiri uprising from taking place. So when you have a festering dispute like that, even if you put disputes into deep freeze, they will re-emerge in one form or another. Consider another example: tensions in the past year on the Line of Control (LOC). These tensions or violations that occur are inherent in the unresolved dispute in Kashmir. As the Kashmiris say, this line has been drawn in the heart of Kashmir. We need realism on Delhi's part and a recognition that might does not make right.

Q. How should Pakistan evolve a strategy to address the problems of terrorism and religious extremism in Pakistan?

Answer: The fundamental premise for any approach to counter the forces of violent extremism has to be the Constitution of Pakistan. It is within this framework that we must seek to contain these forces and make sure that they do not challenge the state's writ. Fundamentally also, unless governance is substantially improved, there will always be forces that will seek to fill the vacuum in ungoverned places or spaces. Where people feel they have grievances these are often used as alibis by violent extremists to impose their view or agenda.

To confront a multidimensional threat requires that policy responses are also multifaceted. The appropriate approach should be holistic and comprehensive. This needs a 'whole-of-government’ approach. All elements of national power have to be deployed political, military, economic and law enforcement has to be combined with efforts to defeat the extremists' ideology by an effective counter-narrative. We also need to anchor our anti-terrorism and counter-extremism policy within a comprehensive national security strategy. The country doesn't have one at present. We have defence, foreign and economic policies and a patchwork of internal law and order responses, but this doesn't add up to a national security strategy. That has to integrate these components of policy in disciplined pursuit of clearly articulated goals and priorities. It has to be more than a sum of these parts and provide an overarching, strategic focus to them.

As for the country's anti-militancy campaign, this has made gains but the overall effort has taken the form, more of fire fighting than a coherent strategy. The political and administrative effort too has been weak in the post-military operation phase. These weaknesses have to be corrected to establish a sustainable environment that prevents the return of militants to areas cleared of them. This is a very challenging area, which requires great deal of thought, and of course action. I think Pakistan has gained lot of experience in this battle and this experience has to be put into effect through a comprehensive national security strategy, which must be based on public consensus and strengthened state capacity to deal with it. Building stronger state capacity refers as much to laws and law enforcement, including judicial enforcement, as the ability to provide effective governance and essential services to citizens.

Follow Us On Twitter