23
December

(حنا دلپذیر(مومو

 

اداکار کا کمال یہ ہے کہ آنسو کیریکٹر کی آنکھ سے نہیں بلکہ دیکھنے والے کی آنکھ سے گرنا چاہئے۔

ہر آرٹسٹ کو اپنے مشاہدے کو بڑھانے کے لئے اکیڈمی ضرور جوائن کرنی چاہئے یا پھر ریسرچ کرنی چاہئے۔

کائنات کی تخلیق کا مقصد ہی محبت ہے‘ اﷲ کی تمام مخلوقات سے محبت کریں۔

بچوں‘ بڑوں اور بوڑھوں کے پسندیدہ کردار ’’مو مو‘‘کی باتیں۔

 

ہر صبح ایک آواز میرے کانوں پر دستک دیتی ’’اُٹھو صاحبو!نماز نیند سے بہتر ہے۔ اپنے رب کو راضی کر لو۔‘ ‘ یہ آواز دل پر اثر کرتی اور نیند سے بوجھل آنکھیں ایک دم سے کھل جاتیں۔ اپنے رب کو راضی کرنے کی خواہش بستر سے اٹھا دیتی۔ ہم گھر میں اکثر ذکر کرتے کہ نجانے یہ کون ہے جس کی صدا گلیوں میں گونجتی ہے۔ اس راز کا پردہ میرے والد کی وفات کے بعد اُٹھا۔ جب ان کے ایک دوست ہمارے گھر آئے اور کہنے لگے کہ آج میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ ورنہ ہر صبح دلپذیر صاحب اور میں لوگوں کو نماز کے جگانے کے لئے دور دور تک جایا کرتے تھے۔ میری والدہ اکثر والد صاحب سے پوچھتیں کہ نماز تو ساڑھے پانچ بجے ہوتی ہے۔ آپ چار بجے اٹھ کر کہاں چلے جاتے ہیں۔ تو وہ کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ میرے والد صاحب خوش گلو تھے۔ وہ اذان دیتے تو جی چاہتا سنتے ہی رہیں۔

حنادل پذیر کی آواز ان کے والد کی محبت سے سرشار تھی۔ مومو کے کردار اور نام سے پہچانی جانے والی حنا دل پذیر کے اصل نام سے شاید اتنے لوگ واقف نہیں‘ لیکن مومو کو ساری دنیا جانتی، پہچانتی اور محبت کرتی ہے۔ فن کی دنیا میں قدم رکھتے ہی کامیابیوں سے ہمکنار ہونے والی شخصیت جن کا نام ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ آیئے آج آپ کی ملاقات اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوش گفتا ر اوربا وقار حنا دلپذیرسے کرواتے ہیں۔

س۔ آپ کے نام اور کام کو تو سب لوگ جانتے اور پہچانتے ہیں۔ لیکن ہم آپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟

ج۔ میرے والد مرحوم کا تعلق ایبٹ آباد (ہزارہ)سے تھا۔ جبکہ میری والدہ کے آباء واجداد یوپی مراد آباد سے تھے۔ ہم چھ بہنیں ہیں اور ہمارا بھائی کوئی نہیں ہے۔ گھر کا ماحول بہت پر سکون تھا۔ والدین پڑھے لکھے انتہائی دانشمند تھے۔ انہوں نے ہمیں ہر قسم کے حالات میں مطمئن اور پر سکون رہناسکھایا۔ کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ والد صاحب کی اپنی بہت بڑی لائبریری تھی والدہ کی اپنی۔ ان کی دیکھا دیکھی ہم بہنوں نے بھی شیلفوں میں اپنی پسند کی کتابیں سجا کر اپنی لائبریریاں بنائی ہوئی تھیں۔ ہمارے گھر میں کھلونوں سے زیادہ کتابیں ہوتی تھیں۔ گھر پر میوزک اور مشاعرے کی محفلیں بھی ہوتی تھیں۔ لیکن نماز کا بہت زیادہ اہتمام کیا جاتا۔ بلکہ ہمارے خاندان میں نماز نہ پڑھنے والوں کو بڑی عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

س۔ آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ج۔ میں نے کراچی سے میٹرک کیا۔ میرے والد پہلے PIA میں کام کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے ایمریٹس ایئر لائن جوائن کر لی اور ان کا تبادلہ دبئی میں ہو گیا‘ تو وہاں سکائی لائن کالج سے انٹر کیا۔ کلینیکل سائیکالوجی میں ماسٹرز کیا۔ آج کل میں کوانٹم فزکس میں ماسٹرز کر رہی ہوں۔ یہ میرا پسندیدہ سبجیکٹ ہے۔ سائیکالوجی میں ماسٹرز کرنے کے بعد بڑی کوشش کی کہ مجھے جاب مل جائے۔ لیکن نجانے مجھے جاب کیوں نہیں ملی۔

س۔ شادی کیسے ہوئی پسند کی تھی یا اریجنڈ؟

ج۔ شادی مکمل اریجنڈ تھی۔ انٹر کے بعد میری شادی ہو گئی تھی جو چھ سال چلی۔ پھر وہ ختم ہو گئی تو میں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ میرا چھوٹا سا بیٹا بھی تھا میرے ساتھ۔ اب تو ماشاء اللہ وہ بڑا ہو گیا ہے۔ اس نے میٹرک کا امتحان دیا ہے اور بہت اچھے نمبر لئے ہیں۔ اصل میں قصور میرے شوہر کا بھی نہیں تھا۔ جس نتیجے پر میں پہنچی ہوں کہ میرے سابقہ شوہر کی مینٹل گروتھ ان کی عمر کے مطابق نہیں تھی۔ جب آپ کی مینٹل اپروچ نہ ہو تو آپ سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ ان کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان سے کیا ہو گیا ہے‘ وہ بُرے آدمی نہیں تھے‘ مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ انہوں نے مجھے اچھے طریقے سے رکھا۔ ہاں مشکل وقت بھی آئے۔ لیکن میری والدین کی دعائیں تھیں کہ مطمئن رہ کر گزار دیا۔

س۔ ڈرامے کی طرف کس طرح آئیں؟

میں سب سے پہلے سیلوٹ کرتی ہو ں اپنی فوج کو۔ یہ ہیں تو ہم ہیں۔ ہم چین کی نیند سوتے ہیں کیونکہ یہ سرحدوں پر جاگتے ہیں۔ ان کی زندگی بہت مشکل اور پُر خطر ہے۔ اپنی ملک کی عزت و آبرو کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ اندھیری راتوں میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ تاکہ ہم اپنے گھروں میں سکون کی نیند سو سکیں۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے جو میں جواب میں انہیں دے سکوں۔ سوائے اس کے کہ اے راہِ حق کے شہیدو‘ وفا کی تصویرو تمہیں وطن کی ہوائیں سلا م کہتی ہیں یہی میرے جذبات ہیں۔ ہم اپنی فوج کی جتنی عزت کریں اس پر جتنا مان کریں کم ہے۔ ہم چھ بہنیں ہیں ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے۔ تویہ سب فوجی بھائی میرے اپنے بھائی، میرا فخر، میرا مان ہیں۔ ان کے لئے میرے دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو سلامتی دے ان کے حوصلے بلند رکھے۔ سب کے لئے بہت بہت محبت۔ میری دعائیں ان کے

ساتھ ہیں۔

momo2

ج۔ شادی ختم ہونے کے بعد جب میں واپس کراچی آئی تو مجھ پر ایک بچے کی ذمہ داری بھی تھی۔ میرے والدین ان دنوں امریکہ میں تھے۔ لیکن مجھے یہ گوارا نہیں تھا کہ کوئی میری مدد کرے۔ اس کے

لئے مجھے خود کام کرنا تھا۔ میں نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز ہر جگہ لیکچرر شپ کے لئے اپلائی کیا‘ لیکن مجھے کہیں ملازمت نہ ملی۔ کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا۔ لکھنے کا مجھے بچپن سے شوق تھاتو میں نے ایک کہانی لکھی اور وہ دینے کے لئے ’’ہم‘ ‘ ٹی وی کے دفتر گئی۔ ہوا یہ کہ جب میں سکرپٹ دینے گئی تو بڑی مشکل سے آدھا راستہ پیدل چل کر گئی کیونکہ پیسے تو میرے پاس ہوتے نہیں تھے۔ اس دن بارش بھی تھی۔ جب وہاں پہنچی تو پتہ چلا کہ بارش کی وجہ سے زیادہ تر لوگ چھٹی کر چکے تھے۔ میں نے اس طرح سے کچھ کہاکہ بھئی یہ رکھا ہے میرا ڈرامہ، کرنا ہے یا نہیں، جو بھی ہے مجھے ابھی بتا دیں۔ میں اتنی تکلیف نہیں اُٹھا سکتی کہ بار باراتنی دور آؤں۔ تو بجائے کہانی لینے کے فصیح باری خان جنہوں نے ’’برنس روڈ کی نیلوفر ‘ ‘ لکھا تھا‘ کہنے لگے آپ ڈرامے میں کام کریں گی؟ میں نے کہا کہ میں نے تو کبھی ٹی وی پر کام نہیں کیا۔ (البتہ دبئی میں تھیٹر کیا ہواتھا۔ ریڈیو پر آٹھ سال کام کیا تھا۔ ریڈیو ایشیا،دبئی میں لکھنے، پروگرام اور ڈرامے کا مجھے تجربہ تھا۔ ) تو میں نے کہا کہ آپ نے اپنا ڈرامہ فلاپ کرواناہے۔ وہ بولے نہیں بس آپ نے یہ رول کرنا ہے۔ فی الحال ہم آپ کو پندرہ ہزار دیں گے۔ مجھے اپنے بیٹے کی فیس دینی تھی میں نے سوچاکہ کر لیتی ہوں۔ مجھے کس نے دیکھنا ہے۔ وہ ڈرامہ میں نے کیا پھر میں نے جیو کا ڈرامہ کیا ’’میری ادھوری محبت‘ ‘ نورالہدیٰ شاہ کا سکرپٹ تھا۔ اس میں ایک ہندو عورت کا کردار تھا۔ تو میں نے کہا کہ ہندو فیملی کو اتنی صاف اردو نہیں بولنی چاہئے‘ تو میں نے سارا سکرپٹ ہندی میں بدل دیا۔ سیریل’’یہ زندگی ہے‘ ‘ بھی لوگوں کو پسندآیا۔ بہت سارے ٹیلی پلے کئے۔ بہت ساری زندگیاں جینے میں بہت مزہ آتاہے۔

س۔ پہلے ڈرامے کا تجربہ کیسا رہا؟

ج۔ مجھے تو پہلے ڈرامے میں بھی یہی خوف تھا کہ میں نہیں کر پاؤں گی اور اب بھی یہ ہی حال ہوتا ہے۔ پہلی مرتبہ ہی اتنے بڑے بڑے لوگ میرے سامنے تھے۔ عابد علی جیسے بڑے انسان کے آگے اداکاری کرنا بہت مشکل تھا۔ مجھے تو ٹینشن سے بخارہی ہو گیا۔ ڈائیلاگ یاد نہیں ہو رہے تھے۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ یہ کس کو کاسٹ کر لیا ہے۔ اس کو ڈائیلاگ ہی یاد نہیں ہو رہے۔ خیر میں ڈرامہ کر کے آگئی اور جب یہ آن ایئر ہوا تو اگلے دن میرے فون کی گھنٹی رُک ہی نہیں رہی تھی۔

ہم امریکہ شو کرنے کے لئے جا رہے تھے۔ میں نے دیکھاکہ سب نے اپنے پاسپورٹ اپنی ہتھیلیوں میں اس طرح پکڑے تھے کہ وہ نظر نہ آئے مگر مجھے لگا کہ یہ ہی میری پہچان ہے۔ مجھے خوشی تھی کہ میں پاکستانی ہوں اور میرے ہاتھ میں ہرے رنگ کا پاسپورٹ ہے۔ وہاں جا کر شو کیا تو لوگوں کی اتنی محبت ملی کہ بیان نہیں کر سکتی اور وہ بچے جو اردو نہیں جانتے تھے وہ چیخ رہے تھے مومو آنٹی آئی لَوّْ یو۔ تومجھے اپنے دل کے اطمینان پر فخر ہوا۔

س۔ مومو کا کردار کیسے شروع ہوا؟

ج۔ بلبلے کی 25قسطیں چل چکی تھیں۔ چھبیسویں قسط میں مجھے نبیل کا فون آیا کہ آپ نے ایک قسط کرنی ہے۔ میری ماں کا کریکٹر ہے جو فیصل آباد سے آتی ہے۔ میرے ذہن میں ایک کیریکٹر ابھرا کہ ماں کو ایسا ہونا چاہئے جو بہت معصوم، سیدھی اوربیوقوف عورت ہو۔ جس کی اپنی سمارٹنس نہ ہو۔ پھر میں نے اس کا حلیہ ڈیزائن کیا۔ ایسا چشمہ منگوایا جس میں آنکھیں بڑی بڑی نظر آئیں۔ جب چشمہmomo3 لگایا تو مجھے کچھ نظر ہی نہ آیا۔ کبھی زمین قریب نظر آتی تھی اور کبھی کوئی گڑھا نظر آتا تھا۔ گرنے سے بچنے کے لئے میں پاؤں گھسیٹ کر چلتی تھی تو آٹومیٹیکلی وہ چال بن گئی جو بے حد پسند کی گئی۔ یہ انسپائیریشن میں نے ’’فائینڈنگ نیمو‘ ‘ کارٹون فلم میں ایک کیریکٹرسے لی تھی جو شارک کے منہ کے سامنے کھڑے ہوکر کہتی تھی ’’میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے‘ ‘ مجھے یہ بات بہت اچھی لگتی تھی۔ تو مومو بھی ایک ایسا کیریکٹر بن گیا‘ جسے ڈرخوف ہے ہی نہیں۔ جو اللہ توکل پر چلتی ہے۔ بعض اوقات میں نے کنگھی بھی نہیں کی ہوتی۔ سر پر دوپٹہ رکھا‘ لپ سٹک لگائی اور ڈرامہ کر دیا۔ اس سے مجھے فائدہ بہت ہوتا ہے کہ میرا وقت بچ جاتا ہے۔ لوگوں اور بچوں نے خاص طور پر اسے پسند کیا۔

ایک مرتبہ تھیلسیمیا کے مریض بچوں سے ملنے کے لئے مجھے بلایا گیا۔ ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ ہم نے ان بچوں کو ڈرامہ بلبلے دکھایااور بچے خوب ہنسے‘ اس کے بعد ان کا بلڈ ٹیسٹ لیا گیا تو پتہ چلا ان کے ریڈ بلڈ سیلز(RVCs) کی گروتھ ہونا شروع ہو گئی ہے۔ تو میں اپنے اندر ہی سجدے میں گر گئی کہ میرے کام سے لوگ خوش ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے۔

س۔ کیا شاعری کی طرح اداکاری کا بھی نزول ہوتا ہے؟

ج۔ کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ میں نے قدوسی صاحب کی بیوہ کیا۔ وہ بہت مشکل ڈرامہ تھا۔ اس کے سب گیٹ اپ اور پروفائل ڈیزائننگ میں نے خود کی۔ میرے پاس کوئی گیٹ آپ آرٹسٹ نہیں ہوتا۔ پر فارمنگ آرٹ یا کوئی بھی کری ایشن یا انوویشن ایسی چیز ہے جو ہمارے وکیبلری میں نہیں ہوتی۔ اس کا نزول ہوتا ہے تو پھر لوگ کہتے ہیں کہ یہ کوئی ایجاد ہے۔ کوئی نئی بات ہے۔

س۔ ڈرامہ سائن کرتے وقت کیا چیز دیکھتی ہیں؟

ج۔ کہانیاں تو سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔ میرے لئے اہم بات یہ ہے کہ سکرپٹ کس طرح سے لکھا گیاہے جو بھی سٹوری آتی ہے ایسا نہیں ہوتا کہ ہم نے اس کو پہلے کبھی سنا نہ ہو۔ لیکن اپنا اپنا اسلوب، اپنا طرزِ تحریر ہوتا ہے۔ جو بات کو ایک نیا رنگ دیتا ہے۔ ہمارے پاس رائٹرز کی کمی ہے۔ ایک زمانہ تھا پی ٹی وی کے دور میں بہت اچھے رائٹرز ہوا کرتے تھے۔ اب تو بہت کم لوگ ہیں۔ میں سکرپٹ پر سمجھوتا نہیں کر سکتی۔ ورنہ میرا تو ایک دن بھی فارغ نہ گزرے۔

س۔ اداکاری اور نخرہ لازم و ملزوم ہے۔ آپ بھی نخرے کرتی ہیں؟

ج۔ نہیں۔ اگر نخرہ کریں گے پھر اداکاری نہیں ہو سکتی۔ اس شعبے میں اپنے آپ کو مٹانا پڑتا ہے اور جب اپنے آپ کو مٹا دیتے ہیں تو پھر نخرے بھی چلے جاتے ہیں۔ اگر آپ اندر سے مٹے ہوئے نہ ہوں تو دنیا آپ کو مٹا دیتی ہے۔

س۔ کہا جاتا ہے کہ اس فیلڈ میں پیسہ بہت ہے،کیا واقعی ایسا ہے؟

ج۔ جی ہاں، پیسہ بہت ہے۔ لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ جب کسی کوپیسے کی حرص ہوتی ہے‘ پیسہ اس سے بھاگ جاتا ہے۔ یہ بڑی negative energy ہے۔ ورنہ تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ گاڑی سے پیٹرول اور کچن میں سے آٹا کبھی ختم نہ ہو۔ کیونکہ رزق کا وعدہ تو اللہ نے کیا ہوا ہے۔ مگر ہمارایہ خوف کہ آٹا اور پیٹرول ختم نہ ہو جائیں‘ اس کو ختم کر دیتا ہے اور جو اس کے پیچھے نہیں بھاگتے ان کے مقدر کا لکھا ان کے پیچھے آتا ہے۔ <ْ/p>

س۔ آپ کا ہر کردار سپر ہٹ ہوتا ہے ؟کیا اچھی اداکاری کے لئے مشاہدہ اہمیت رکھتا ہے؟

ج۔ اصل میں ہر کردار کی ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ کیونکہ میں نے کیریکٹر بیسڈ ڈرامے زیادہ کئے ہیں اور میری کوشش ہوتی ہے کہ اس میں ایک پوائنٹ کی بھی کمی نہ رہے۔ اگر میں گاؤں کی عورت بنی ہوں اور میں نے ہاتھوں اور ناخنوں پر فرینچ مینی کیور کیا ہوا ہے تو وہ مجھے اندر سے کھا جائے گا۔ ایک عورت چا ہے وہ کچھ بھی ہو ‘ سبزی یا کھلونے بیچنے والی‘ اس کو کیسا ہونا چاہئے‘ کون سا وقت اس پر کیسا گزرا ہوگا، کیاکیا اس کے دل پر گزری ہو گی‘ کس چیز کو اس نے کیسا محسوس کیا ہو گا‘ یہ سوچنے میں بڑا وقت لگتا ہے۔ جوچیز جیسی ہو اس کو ویسا ہی لگناچاہئے۔ ہم چیزوں کو بہت خوبصورت بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن مجھے زیادہ اچھا لگتا ہے کہ چیزیں اپنے اصل کی طرح ہوں۔ ڈرامہ مٹھو اور آپا میں مٹھو کے کیریکٹر کے لئے مجھے دس جوڑے دیئے گئے۔ میں نے کہا کہ مٹھو ایک غریب عورت ہے۔ جس کوبھائی نے اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔ اس کاکوئی ذریعہِ آمدن نہیں ہے۔ عید کے عید بھائی جوڑا بنا دیتا ہو گا۔ میں نے چار جوڑے رکھ کر باقی واپس کر دیئے۔

س۔ کیا ٹریننگ سے اداکاری سکھائی جا سکتی ہے؟

ج۔ نہیں، اداکاری سکھائی نہیں جا سکتی۔ یہ ٹیلنٹ یا تو ہوتاہے یا نہیں ہوتا۔ ہا ں جس میں ہو اس کو اس کی ایتھیکس(ethics) اور کنٹرول سکھایا جا سکتا ہے۔ اگرآپ کوئی بہت مظلوم کردار ادا کر رہے ہوں جس پر بہت ظلم ہو رہا ہے اداکار کا کمال یہ ہے کہ آنسو کیریکٹر کی آنکھ سے نہیں بلکہ دیکھنے والے کی آنکھ سے گرنا چاہئے۔ ہر آرٹسٹ کو اپنے مشاہدے کو بڑھانے کے لئے اکیڈمی ضرورجوائن کرنی چاہئے یا پھر ریسرچ کرنی چاہئے۔

س۔ زندگی کا وہ لمحہ جب خود پر فخر محسوس ہوا ہو؟

ج۔ ہم امریکہ شو کرنے کے لئے جا رہے تھے۔ میں نے دیکھاکہ سب نے اپنے پاسپورٹ اپنی ہتھیلیوں میں اس طرح پکڑے تھے کہ وہ نظر نہ آئے مگر مجھے لگا کہ یہ ہی میری پہچان ہے۔ مجھے خوشی تھی کہ میں پاکستانی ہوں اور میرے ہاتھ میں ہرے رنگ کا پاسپورٹ ہے۔ وہاں جا کر شو کیا تو لوگوں کی اتنی محبت ملی کہ بیان نہیں کر سکتی اور وہ بچے جو اردو نہیں جانتے تھے وہ چیخ رہے تھے مومو آنٹی آئی لَوّْ یو۔ تومجھے اپنے دل کے اطمینان پر فخر ہوا۔

س۔ زندگی کا یادگار واقعہ؟

ج۔ اسلام آباد اور کراچی کے ٹائم میں تھوڑا فرق ہے۔ ایک دفعہ میں اسلام آباد سے کراچی جارہی تھی۔ میں اپنے ٹائم کے حساب سے کاؤنٹر پر پہنچی تووہاں موجود خاتون بولیں کہ پلین توچل پڑا ہے آپ لیٹ ہو گئی ہیں۔ اتنے میں ایک صاحب دوڑے دوڑے آئے کہ ’’مومو اپنا بورڈنگ کارڈدیجئے جلدی سے‘ ‘ پھر میں نے دیکھا کہ جہاز واپس مڑا، سیڑھی لگی اور جب میں جہاز میں گئی تو کیپٹن نے اعلان کیا کہ ’’اور ہمارے ساتھ موجود ہیں مومو۔ ویلکم مومو‘ ‘ ۔ لوگوں نے تالیاں بجائیںیہ سب ان کی محبت ہے۔ اسی طرح ایدھی صاحب کے ریٹائرڈ ہوم میں ہم کچھ سین کرنے کے لئے گئے تو وہاں موجود ہوش و حواس سے بیگانہ خواتین مومو ، مومو کہہ کر مجھ سے لپٹ گئیں۔

س۔ آپ کی کامیابی کا راز ؟

ج۔ صبر،قناعت اور خوش رہنا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب آپ لوگوں کی دعا ئیں ہیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ نماز بر وقت ادا کروں مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ کوشش کرتی ہوں کہ میرا قلب ہر وقت میرے رب کی طرف رہے۔ اللہ کی قدرت لامحدود ہے جو اس نے دیا میں اس پر خدا کا شکر ادا کرتی ہوں اور جو نہیں ملتا اس کے لئے یہ سوچ کر کہ یہ میرے لئے بہتر نہیں ہوگا یہ وہی جانتا ہے۔ اس کے لئے بھی خدا کی شکر گزار رہتی ہوں۔

س۔ فلموں میں کام کرنے کا ارادہ ہے؟

ج۔ ارادہ تو نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی پسند کا سکرپٹ ملا تو کر بھی لوں گی۔

س۔ ہر اداکارآپ کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔ آپ کس کے ساتھ کرنا چاہتی ہیں؟

ج۔ مجھے ہمیشہ بہت اچھے لوگ ملے ہیں۔ عظمیٰ گیلانی بہت پیاری لگتی ہیں‘ ان کی ادا کاری میں بہت ڈیپتھ ہے‘ ان کے ساتھ کام کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ہمارے ہاں بہت اچھے اورٹیلنٹڈ لوگ ہیں۔ اگر ان کو اچھے سکرپٹ مل جائیں تو بہت اچھا کام کریں۔

س۔ پسندید اداکار

ج۔ انتھونی کوئین کی ادا کاری بہت پسند ہے۔ وہ اللہ کے بہت نوازے ہوئے انسان لگتے ہیں۔

س۔ کتنے ملکوں کی سیر کی؟

ج۔ بہت زیادہ۔ ٹریولنگ کا بہت شوق ہے۔ بے تحاشہ جگہوں پر گئی ہوں۔ کسی بھی ملک میں جا کر میری خواہش ہوتی ہے کہ میں سب سے پہلے وہاں کے میوزیم دیکھوں۔ اس کے بعد میں کوشش کرتی ہوں کہ ان کی گلی محلے کی زندگی کا مشاہدہ کروں۔ مجھے تفریح گاہوں میں جانے کی خواہش نہیں ہوتی۔ ترکی بہت پسند ہے۔ پاکستان کا مقابلہ کسی ملک سے نہیں کر پاتی۔ کیونکہ جہاں بھی جاؤں دس پندرہ دن بعد بے چین ہوجاتی ہوں کہ اپنے ملک واپس جاؤں۔

س۔ پسندیدہ رائٹر؟

ج۔ قدرت اللہ شہاب کا ’’شہاب نامہ‘ ‘ بہت پسند ہے۔ اشفاق احمد ،بانو آپا ،ڈپٹی نذیراحمد، عصمت چغتائی اور منٹو سب بہت با کمال ہیں‘ سب کی کتابیں پڑھتی ہوں۔

س۔ شعروشاعری سے دلچسپی؟

ج۔ شاعری بہت پسند ہے۔ غالب پسندیدہ شاعر ہیں۔ ان جیسا تو کوئی ہے ہی نہیں۔

س۔ لوگوں کو ہنسانے والی خود کب ہنستی ہے؟

ج۔ آرام سے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر، بہت آسانی سے۔

س۔ زندگی کا دکھ؟

ج۔ کوئی نہیں۔ ہاں یہ خیال ضرور آتا ہے۔ کہ والد اگر زندہ ہوتے تو ان کی خدمت کرتی۔

س۔ مستقبل کے ارادے؟

ج۔ جو ابھی آیا نہیں اس کے بارے میں کیا کہوں۔ یہی ایک لمحہ زندگی ہے جو میرے پاس ہے وہی اچھا ہے۔

س۔ زندگی میں محبت کی؟

ج۔ سب سے کی۔ محبت بہت ضروری ہے۔ کائنات کی تخلیق کا مقصد ہی محبت ہے۔ اللہ کی تمام مخلوقات سے محبت۔

س۔ آج کل ہمارے اداکار اینکر پرسن بن کر بھی پروگرام کر رہے ہیں۔ آپ کا بھی ایسا کوئی ارادہ؟

ج۔ اگر ایساکچھ ہو ا تو ضرور کروں گی‘ شایدکچھ ٹاک شو کروں۔

س۔ ملکی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

ج۔ ہمیں باہمی اتفاق کی ضرورت ہے۔ یہ جو گڑ بڑ پھیلی ہوئی ہے۔ سب ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ مجھے اس سے اختلاف ہے۔ جب ہر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہمارا مقصد پاکستان کی بقا ہے تو آپس میں لڑتے کیوں ہیں۔

س۔ فوجی بھائیوں کے نام کوئی پیغام؟

ج۔ میں سب سے پہلے سیلوٹ کرتی ہو ں اپنی فوج کو۔ یہ ہیں تو ہم ہیں۔ ہم چین کی نیند سوتے ہیں کیونکہ یہ سرحدوں پر جاگتے ہیں۔ ان کی زندگی بہت مشکل اور پُر خطر ہے۔ اپنی ملک کی عزت و آبرو کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ اندھیری راتوں میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ تاکہ ہم اپنے گھروں میں سکون کی نیند سو سکیں۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے جو میں جواب میں انہیں دے سکوں۔ سوائے اس کے کہ اے راہِ حق کے شہیدو‘ وفا کی تصویرو تمہیں وطن کی ہوائیں سلا م کہتی ہیں

یہی میرے جذبات ہیں۔ ہم اپنی فوج کی جتنی عزت کریں اس پر جتنا مان کریں کم ہے۔ ہم چھ بہنیں ہیں ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے۔ تویہ سب فوجی بھائی میرے اپنے بھائی، میرا فخر، میرا مان ہیں۔ ان کے لئے میرے دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو سلامتی دے ان کے حوصلے بلند رکھے۔ سب کے لئے بہت بہت محبت۔ میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

 

15
December

یوسف کمال سے شکیل تک

تحریر: خدیجہ محمود

ویسے تو دیو مالائی کہانیوں کو انسانی تخیل کی اختراع سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کو دیکھ کر، ان سے مل کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ دیومالائی کہانیوں کے کسی کردار نے حقیقت کا روپ لے لیا ہے اور انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہوتا کہ قدرت نے ان کو کتنے حسین رنگ اور کتنے دلکش روپ سے نوازا ہے۔ میں بات کر رہی ہوں اداکار شکیل کی جن کا اصل نام یوسف کمال ہے۔ یوسف کمال سے شکیل تک کے سفر کی روداد ہلال کے قارئین تک پہنچانے کے لئے ہم نے اُن سے جو گفتگو کی وہ پیش خدمت ہے۔

 

intyousafkamal.jpgسوال: شکیل ہمیں اپنے اب تک کے سفر کے حوالے سے کچھ بتائیے؟
جواب: میرا پیدائشی نام یوسف کمال ہے۔ جب شوبز میں آیا تو اﷲ بخشے میرے استاد یوسف صاحب جنہوں نے مجھے فلموں میں متعارف کروایا تھا انہوں نے مجھے یہ نام دیا جس سے آپ سب مجھے جانتے ہیں۔ دنیا مجھے شکیل کے نام سے جانتی ہے ماسوائے میرے گھر والوں کے۔ پیدائش میری بھوپال کی ہے۔ آبائی وطن میرا لکھنؤ ہے۔ والدہ کی طرف سے میں آدھا پٹھان ہوں۔ ننھیال کا بتاتا چلوں کہ میرے چارماموں ہیں اور سب کے سب فوجی، اس کے بعد ان کی اولاد وہ بھی فوج میں ہے۔ تو میرے خانوادے کا ایک بڑا حصہ فوج سے تعلق رکھتا ہے۔ میرے نانا جان کا تعلق بھوپال سے تھا۔ ایک خاص عرصے کے بعد وہ بھوپال کے
Army Chief
ہو گئے تھے۔ اس زمانے میں اس عہدے پر
Brigadier General
رینک کے افسر کو فائز کیاجاتا تھا۔کہا جاتا تھا میرے نانا بریگیڈیئر جنرل عبدالقیوم خان عرف صولت تھے،آج بھی بھوپال میں میراآبائی مکان صولت منزل آباد ہے۔ میرے تایا بھی فوج میں میجر تھے۔ شادی ہوئی تو وہ بھی فوجی خاندان میں ہوئی۔ میری بیوی ایک فوجی کی intyousafkamal1.jpgبیٹی اور ایک شہید کی بہن ہیں۔ 1952 میں ہم ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ اس کے بعد سے اب تک سارا وقت کراچی میں گزارا۔ یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر اس پیشے سے وابستہ ہو گیا۔ ابتدا ریڈیو پاکستان میں بچوں کے پروگرام سے کی۔ اس کے بعد پھر تھیٹر۔ ریڈیو میں میرے استاد مشہور کالم نگار اور ڈرامہ نگار مرحوم نصراﷲ خان صاحب تھے۔ میں بہت خوش قسمت رہا ہوں کہ مجھے زندگی کے ہر موڑ پر بہترین لوگ ملے۔ اساتذہ، دوست سبھی بہت قابل ملے۔ یہ بھی اﷲ کا بڑا کرم ہے کہ کالج لائف کے بعد تشہیر کے شعبے سے بھی وابستہ رہا۔ ریڈیو اور تھیٹر میں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کے بعد فلم میں قدم رکھا۔ میں نے فلم میں کام کرنے سے پہلے اپنے استاد کے سامنے یہ شرط رکھی تھی کہ میں اپنی جاب نہیں چھوڑوں گا۔ کیونکہ مجھے نہیں پتا تھا کہ میں فلم میں کامیاب ہوتا ہوں کہ نہیں لہٰذ اس وقت میری بات مان لی گئی۔ فلم کا نام تھا ’’ہونہار‘‘ اس فلم میں میرا کردار بگڑے بھائی کا تھا بڑا بھائی پڑھ لکھ کر اعلیٰ عہدے پر فائز ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد میں ٹیلی ویژن میں آیا اور اب تک جو میری شناخت ہوئی ہے وہ ٹی وی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ کیونکہ شوبزکے اندر کئی شعبے ہیں ریڈیو، تھیٹر، فلم، ٹی وی، ماڈلنگ وغیرہ۔اﷲ تعالیٰ نے بہت عزت سے نوازا ہے۔ اس تمام سفر میں لوگوں سے بہت محبت اورعزت ملی۔ان پانچ دہائیوں میں جو میں نے کام کئے اس کے صلے میں حکومت پاکستان سے مجھے تمغہ حسن کارکردگی، اس کے بعد لائف ٹائم، اس کے بعد ستارۂ امتیاز اور اب اسی سال صدر پاکستان نے اعترف فن کا ایوارڈ دیا۔ یہ سب اﷲ کا کرم ہی تو ہے زندگی بہت اطمینان سے گزر رہی ہے۔


سوال: یہ تو پروفیشنل زندگی کی بات ہو گئی۔ ذاتی زندگی کے بارے میں بھی قارئین ہلال کو بتائیے۔
جواب: میرے دو بچے ہیں حرا اور حیدر، دونوں ماشاء ﷲ سے تعلیم یافتہ ہیں۔ شادیاں ہو گئی ہیں۔ اب صرف اتنی خواہش ہے کہ جتنی زندگی باقی رہ گئی ہے اس میں اﷲ کو راضی کروں۔ اور اﷲ کو راضی کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی خلق کو راضی کرو۔ ویسے میں اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بننا چاہتا۔ لیکن گاہے بگاہے میں فلاحی کاموں میں حصہ لیتا رہا ہوں۔ اس ملک پر جب بھی افتاد پڑی اپنے تئیں، اپنی بساط کے مطابق میں نے ہاتھ پیر مارے۔ جب 2005 میں زلزلہ آیا تو اس وقت بھی اپنی پاک فوج کے تعاون سے ہی میں مختلف علاقوں میں گیا۔
کوئی میری اس بات سے اتفاق کرے یا نہ کرے مجھے اس کی کوئی پروا بھی نہیں ہے کہ اگر اس ملک میں کوئی ادارہ ہے جو جو ادارہ کہلانے کے لائق ہے تو وہ فوج ہے۔ یہ سب میں اپنے ذاتی تجربات کی بناء پر ہی کہہ رہا ہوں ہماری فوج میں لوگ بہت پروفیشنل ہیں ذہنی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی۔ زبان کے بھی پکے اور عمل کے بھی۔ اور یہ سب میں نے آزمایا ہوا ہے۔ میرا فوج سے لگاؤ اور ان کی جانب جھکاؤ اسی وجہ سے ہے۔

intyousafkamal2.jpgسوال: آپ کا اتنا لگاؤ اور جھکاؤ فوج کی طرف ہے تو آپ نے خود فوج کیوں نہیں جوائن کی۔
جواب: یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ اگر میں نے فوج جوائن نہیں کی تو میرالگاؤ اور جھکاؤ فوج کی جانب نہیں ہو سکتا۔ میرے سسر کی بڑی خواہش تھی کہ ان کے تینوں بیٹے فوج میں جائیں کیونکہ وہ خود فوجی تھے بڑا بیٹا فوج میں بھیج دیا۔ جو 22سال کی عمر میں 71کی جنگ میں شہید ہو گیا۔ اس کے باوجود ان کا اصرار تھا کہ وہ دوسرے بیٹے کو بھی فوج میں بھیجیں گے اور انہوں نے دوسرے بیٹے کو بھی بھیج دیا۔ وہ کور آف سگنلز میں میجر تھے کہ بیماری کی وجہ سے اﷲ کو پیارے ہو گئے۔ میرے سسر بلوچ رجمنٹ کے سب سے سینئر آفیسر تھے۔ ان کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ بلوچ رجمنٹ نے ان کو ان کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل بلایا تھا۔ اور ان کے لئے بہت بڑی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ فوج اپنے سینئرز کو بے تحاشا عزت دیتی ہے اور پھر جب ان کا انتقال ہوا تو آخری رسومات کا سارا انتظام بلوچ رجمنٹ نے سنبھالا اور ہمیں کچھ بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے خود اپنے فوجی کو جس شان سے اﷲ کے سپرد کیا وہ شاید الفاظ میں بیان نہ ہو پائے۔


سوال: آپ اپنے شعبے سے کسی حد تک مطمئن ہیں جس سے آپ وابستہ ہیں؟
جواب: اپنے پروفیشن میں کام کرتے ہوئے مجھے ایک اندرونی اطمینان سا ہوتا ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں
Inner Satisfaction
جو آپ کے اندر تسکین کی خواہش ہوتی ہے تو مجھے بھی تسکین کا احساس ہوتا ہے کیونکہ میں جو کام کرتاہوں دل سے کرتا ہوں۔ اگر آپ کسی کام میں انوالو نہ ہوں اور اُس میں آپ کا جنون شامل نہ ہو تو بات نہیں بنتی۔


سوال: ایک ڈرامہ ’’اس گلی نہ جاویں‘‘ پرفارم کرتے ہوئے آپ پر ایک کیفیت طاری ہو گئی تھی ایسے لگتا تھا جیسے آپ اس کردار میں کھو گئے ہوں۔ ایسا کوئی اور کردار بھی ہے جس کو کرتے ہوئے آپ اسی طرح کھو گئے ہوں۔؟
جواب: جب پی ٹی وی واحد چینل ہوا کرتا تھا تو اس وقت کم و بیش میں نے جتنے بھی کھیل کئے ان میں سے کوئی بھی کھیل ایسا نہیں کہوں گا کہ جبراً کیا ہو۔ جو کردار بھی کیا دل سے کیا اور اﷲ کا ہمیشہ مجھ پر یہی کرم رہا ہے کہ مجھے ہمیشہ بہترین رائٹر اور بہترین ڈائریکٹر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ میری خوش قسمتی رہی ہے کہ مجھے ہمیشہ اچھے کردار ملے۔ اتنے عرصے میں کبھی یکسانیت کا شکار نہیں ہوا مجھ پر ایک خاص قسم کی چھاپ نہیں لگی۔

intyousafkamal3.jpg
سوال: چھاپ تو نہیں لیکن پرنس چارمنگ، چاکلیٹی ہیرو اس طرح کے القابات تو ہمیشہ ہی آپ کو ملے ہیں۔
جواب: ہاں چھاپ لگی بھی تھی کہہ سکتی ہو۔ جب میں نے کام کی ابتدا کی تھی یعنی ٹی وی اور فلموں میں آیا تو اس وقت عمر کے حساب سے ہیرو کے ہی زمرے میں آتے تھے اس لئے میں نے ہمیشہ ہیرو کا ہی رول کیا۔ اس کے بعد جب مستقل ہی یہ رول ملے تو میں تنگ آ گیا جو ابھی آپ سے کہا کہ جو القابات تھے، چاکلیٹی ہیرو اور دوسرے القابات تو اس زمانے میں ایک چینل پی ٹی وی ہی تھا اور پرنٹ میڈیا بہت
Strong
تھا انہوں نے مجھ پر یہ لیبل چسپاں کرنا شروع کر دیئے ۔ گلیمربوائے ، رومانٹک پرنس چارمنگ، میں کہتا تھا کہ بھائی میں ایک سنجیدہ ایکٹر ہوں اﷲ تعالیٰ نے یہ کرم کر دیا کہ ان دنوں اﷲبخشے شیریں عظیم کو وہ حسینہ معین کا ایک سیریل کر رہی تھیں، ’انکل عرفی‘ اس میں انہوں نے مجھے کاسٹ کر لیا۔


سوال: سب سے پہلا کھیل کون سا تھا، وہاں سے شروع کرتے ہیں۔
جواب: سب سے پہلا ٹی وی پر میرا کھیل محترمہ حسینہ معین کا لکھا ہوا تھا، ’’نیا راستہ‘‘۔ نیلوفر عباسی جو اس زمانے میں نیلوفر علیم ہوتی تھیں، وہ میرے ساتھ رول میں تھیں پھر حسینہ کاہی لکھا ہوا’’تمہیں عید مبارک‘‘ کیا پھر ’شہزوری‘ کیا وہ بھی حسینہ معین کا ہی لکھا ہوا اور ان تینوں میں میرے ساتھ نیلوفر عباسی ہی تھیں۔ میرا اور حسینہ کا ٹی وی کا سفر ایک ساتھ ہی شروع ہوا۔ ان کا سب سے پہلا کھیل میں نے کیا۔ سب سے پہلا سیریل بھی میں نے کیا اور بحیثیت اداکار ان کے لکھے ہوئے سب سے زیادہ کھیل میں نے ہی کئے تو جب انکل عرفی کی باری آئی تو اس زمانے میں میری عمر انکل والی تو تھی ہی نہیں۔ مگر میں داد دیتا ہوں ان لوگوں کو کہ ان کی سوچ تھی کہ ایک ایسے آدمی کو ہم نے لے کر آنا ہے جو انکل بھی لگے اور اس میں ایک خاص قسم کی رومانیت بھی ہونی چاہئے۔ جب مجھ سے یہ کردار ڈسکس کیا گیا تو میں نے نام تجویز کئے کہ محمود علی بھائی ہیں۔ قوی خان صاحب ہیں تو شیریں عظیم نے مجھے کہا کہ شکیل اگر آپ نے یہ تجاویز دینی ہیں توآپ باہر چلے جائیں۔ ہم سوچ لیتے ہیں۔ آپ جا سکتے ہیں۔ میں باہر چلا آیا۔ یہ سوچتا ہوا کہ کمال کی خواتین ہیں۔ مشورہ بھی لے رہی ہیں اور جب میں نے مشورہ دیا تو یہ سننے کو ملا۔ ایک ہفتے کے بعد مجھے پی ٹی وی سے فون آیا۔ جب میں پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ انکل عرفی کا رول آپ کر رہے ہیں۔ میں حیرت زدہ تھا کہ اب یہ کیا ہوا۔ خیر پھر سب کچھ طے ہوا کہ کیا کرنا ہے۔ میک اپ کیا ہو گا ۔

Get up

intyousafkamal4.jpg

کیا ہو گا۔ انکل عرفی کا جو کردار تھا اس نے میرے کیریئر کو بدل کر رکھ دیا۔ چھاپ جو مجھ پر تھی وہ اﷲ کے کرم سے مٹ گئی اور میں لوگوں کو یہ بتانے میں کامیاب ہو گیا کہ میں صرف ایک رومانٹک ہیرو ہی نہیں ہوں بلکہ ایک سنجیدہ اداکار بھی ہوں۔ وہ سیریل بھی بہت ہٹ ہوا۔ جو میری فرنچ کٹ تھی وہ فیشن میں آ گئی اور لوگ فرنچ کٹ ڈاڑھی رکھنے لگے۔ بس پھر سلسلہ چلتا ہی رہا۔ مجھے مختلف قسم کے کردار ملے اور ایک سے ایک بڑھیا لکھے والے جن میں اشفاق احمد‘ بانو قدسیہ‘ فاطمہ ثریا بجیا‘ حسینہ معین‘ امجد اسلام امجد‘ اصغر ندیم سید ہیں اور ایک نام انور مقصود۔ میں سمجھتا ہوں کہ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ اداکار جن کو اس طرح کے لوگوں کے تخلیق کئے ہوئے کردار کرنے کو ملتے ہیں اس طرح ہر کردار ایک پہچان بن جاتا ہے۔ آنگن ٹیڑھا کے محبوب صاحب اور انور مقصود کا ہی ایک اور تحریر کردہ کھیل ’کالونی 52‘ میں نانا خالو کا رول کیا تھاجس نے میرے گلیمر کی چھاپ کو مٹا دیا اور نہایت ہی خوفناک قسم کا آدمی نانا خالو بنا دیا اور یقین مانیں کہ وہ کردار کرتے ہوئے مجھے بے انتہا لطف آیا۔ میرے کیرئیر کے بہترین کرداروں میں نانا خالو ایک یادگار کردار ہے۔ لیکن باقی کردار بھی اﷲ کے فضل سے بہترین تھے۔ شہزوری کا طیفی‘ زیر زبر پیش کا کھلنڈرا سا لڑکا‘ انکل عرفی، ان کہی کا تیمور، لیکن میںیہ سارا کریڈٹ اپنے ساتھیوں کو دوں گا کیونکہ مجھے ٹیم لاجواب ملی اور ان سب سے مجھے اتنی محبتیں ملی ہیں۔ فن اور عشق میں سچائی ضروری ہے۔ سچائی اور لگن وہ جذبے ہیں جو ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ ڈرامہ معاشرے کی عکاسی کرتا ہے مگر اس کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج ضروری ہے کہ فن کی دنیا امن کی دنیا کے حصول میں اپنا کردار ادا کرے۔


سوال: ساتھی فنکاروں میں سب سے زیادہ کس سے سیکھنے کا موقع ملا۔
جواب: بیگم خورشید مرزا کے ساتھ کے میں نے بہت کام کیا تھا اور میں نے ان کو بہت
Idealize
کیا تھا۔ اﷲ بخشے اس عمر میں بھی ان کی بہت
Professional
اپروچ تھی جب
Set
پر آتی تھیں تو ان کو پورا ڈرامہ ازبر ہوتا تھا صرف اپنا کردار ہی نہیں پورا ڈرامہ، اس کے علاوہ اﷲ بخشے کمال احمد رضوی صاحب کے ساتھ میں نے بہت کم کام کیا ہے۔ دو اسٹیج ڈرامے کئے۔ میرے ٹی وی کیرئیر میں دو خواتین کا بہت بڑا حصہ ہے اور ان پر اعتراضات بھی ہوئے کہ یہ ان کا من پسند ہیرو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حسینہ نے جتنے بھی کھیل لکھے ہیں ان میں سب سے زیادہ کھیل میں نے ہی کئے ہیں اور سب ہی کھیل مقبول ہوئے اور حسینہ کا ہی تحریر کردہ کھیل پرچھائیاں جو پاکستان ٹیلی ویژن کا سب سے پہلا کلرڈ کھیل بھی ہے، میں نے ہی کیا۔ یعنی جب بھی پی ٹی وی کی تاریخ لکھی جائے گی کہیں نہ کہیں میں ضرور ہوں گا۔ اسی طرح سے بجیا کے کھیل جو میں نے کئے افشاں، انا، عروسہ، آگہی، ساوری ، سسی پنوں اور بہت سارے سٹیج کے کھیل۔


سوال: کس ساتھی فنکار کے ساتھ کام کرتے آپ کو زیادہ اچھا لگا۔
جواب: سب سے پہلے تو نیلوفر عباسی کے ساتھ کام کیا تو بہت ہی مختصر وقت میں ہماری اتنی اچھی
Chemistry
اور ذہنی ہم آہنگی ہو گئی تھی کہ میں یہ اعتراف فخریہ کرتا ہوں کہ میں نے نیلوفر عباسی سے بہت کچھ سیکھا ہے کیونکہ نیلوفر ریڈیو کی بہت اچھی آواز ہے۔ ان کی ادائیگی میں جو بے ساختگی تھی اس نے مجھے بڑا
Inspire
کیا۔ ایک بات میں ضرور شیئر کروں گا اپنے پڑھنے والوں سے کہ جب ہم شروع شروع میں ٹی وی پر آئے تو بطور ہیرو ہیروئن آئے، اس وقت کنور آفتاب صاحب نے کہا کہ یہ فلم انڈسٹری نہیں ہے کہ جوڑی ہٹ جا رہی ہے بلکہ کیوں نہ یہ کہا جائے کہ یہ
Pair
بہت مقبول ہو گیا ہے۔ تو تھوڑے دنوں کے بعد ہی ہمیں ایک ڈرامے میں کاسٹ کیا گیا اور اس میں ہم بطور بہن بھائی کے سامنے آئے تو ہم نے وہ کردار بھی اتنی ہی خوبی سے نبھائے۔ بعد میں انکل عرفی میں شہلا اور ان کہی میں شہناز شیخ کے ساتھ بھی اچھی ہم آہنگی رہی۔

intyousafkamal5.jpg
سوال: آج کے ڈرامے اور اس وقت کے ڈرامے میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں۔
جواب: میں نے اس وقت بھی کام کیا ۔ اﷲ کا کرم ہے۔ میں آج بھی کام کر رہا ہوں۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ
Black and White
والا فرق ہو گیا ہے۔ اس وقت سب لوگ اس بات سے بے نیاز ہو کر کام کرتے تھے کہ اس کا بڑا رول ہے اور اس کی زیادہ مقبولیت ہے یا میری مقبولیت ہے۔ مطلب نمبر 1 کی دوڑ اور ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کیا جاتا تھا۔ سب ایک ٹیم کے طور پر کام کرتے تھے اور سب کے ذہن میں یہی بات ہوتی تھی کہ پروگرام اچھا ہونا چاہئے۔ اب بھی اچھا کام ہو رہا ہے نئے لکھنے والے آ رہے ہیں اوربہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی اس پرانے وقت کا ٹیم ورک جو تھا اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔


سوال: آپ شوبز میں تھے جہاں آپ کے پاس مواقع تھے کہ شادی پسند کی کر سکتے کیا آپ نے شادی اپنی پسندسے ہی کی؟
جواب: خالص ارینج میرج ہے۔ میری والدہ کی پسند سے ہوئی لیکن میری والدہ حیات نہیں رہیں میری شادی تک۔ میں اﷲ کا بہت شکرگزار ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے زندگی کا بہترین ہمسفر عطا کیا ہے۔ بہت اچھا ساتھ مل گیا۔ دونوں بچوں کی شادی ہو گئی۔ ماشاء اﷲ میرے 3نواسے نواسیاں ہیں۔ بڑی نواسی
O-level
کر رہی ہے ۔ 14سال کی ہے۔ اﷲ نے زندگی میں سب کچھ عطا کیا ہے کسی چیز کی کمی نہیں ہے زندگی میں۔


سوال: فون پر آپ نے بتایا تھا کہ آپ نے پاک فوج کے لئے بھی کھیل کئے ہیں وہ کون سے ہیں؟
جواب : ہاں اچھا یاد دلایا۔ پی ٹی وی نے جب یہ سلسلہ شروع کیا تو نشانِ حیدر کا جو سب سے پہلا کھیل تھا کیپٹن سرور شہید اس میں لیڈنگ رول سلیم ناصر نے کیا تھا۔ ہم اس بات پر فخر کر رہے تھے کہ ہم اس کھیل میں کام کر رہے ہیں جو ہماری پاک فوج کے ایک شہید پر بن رہا ہے۔ میں تھا طلعت حسین تھے، عثمان پیرزادہ تھے۔ پھر پاکستان نیوی کے لئے دو کھیل تھے۔ ایک سیریل تھا، سمندر جاگ اٹھا اور دوسرا ہماری 1965 کی فتح کا معرکہ ’’آپریشن دوارکا‘‘ ہاں ایئرفورس کے لئے میں نے ابھی تک کوئی کھیل نہیں کیا۔ خواہش ضرور ہے لیکن مجھے یہ خوشی ہے کہ یہ تھوڑا بہت جو میر
اContribution
ہے یہ ایک طرح سے میری پاک فوج کے لئے اظہار عقیدت ہے۔


سوال: کیا محسوسات تھے آپریشن دوارکا کرتے ہوئے کیونکہ ایک تو پاک افواج سے آپ کی عقیدت اور پھر اس ڈرامہ میں کمانڈنٹ کا رول اور وہ بھی اپنی فتح کی داستان۔
جواب : محسوسات کیا بتاؤں ایک تو میں 1965کی جنگ دیکھ چکا تھا۔ 71کی جنگ دیکھ چکا تھا۔ وہ ولولہ اور جوش جو اس زمانے میں میں نے دیکھا تھا اور خود
Experience
کیا تھا وہ ساری چیزیں میرے ذہن میں تھیں۔ میں خوفناک حد تک
Nationalist
ہوں، ابھی بھی اگر کہیں پاکستان کی بات آ جاتی ہے کوئی ملی نغمہ جس میں میرے پاکستان کی بات ہو۔ قومی ترانہ ہو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔میں اپنے ملک کے لئے بہت جذباتی انسان ہوں۔


سوال: پاک فوج کے لئے آپ کا کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: (مسکراتے ہوئے) اپنوں کے لئے پیغام نہیں دیا جاتا ان کو دعائیں دی جاتی ہیں۔ اﷲ کے بعد اگر کوئی اس ملک کی حفاظت کر رہا ہے تو وہ ہے ہماری پاک فوج اور میرا رواں رواں ان کے لئے دعا گو ہے۔

خدیجہ محمود میڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

کوئی میری اس بات سے اتفاق کرے یا نہ کرے مجھے اس کی کوئی پروا بھی نہیں ہے کہ اگر اس ملک میں کوئی ادارہ ہے جو جو ادارہ کہلانے کے لائق ہے تو وہ فوج ہے۔ یہ سب میں اپنے ذاتی تجربات کی بناء پر ہی کہہ رہا ہوں ہماری فوج میں لوگ بہت پروفیشنل ہیں ذہنی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی۔ زبان کے بھی پکے اور عمل کے بھی۔ اور یہ سب میں نے آزمایا ہوا ہے۔ میرا فوج سے لگاؤ اور ان کی جانب جھکاؤ اسی وجہ سے ہے۔

*****

فن اور عشق میں سچائی ضروری ہے۔ سچائی اور لگن وہ جذبے ہیں جو ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ ڈرامہ معاشرے کی عکاسی کرتا ہے مگر اس کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج ضروری ہے کہ فن کی دنیا امن کی دنیا کے حصول میں اپنا کردار ادا کرے۔

*****

 

Follow Us On Twitter