08
November

محمد قوی خان

انٹرویو: قاسم علی

فن اور فنکار کا رشتہ وطن اور اس کی ثقافت سے بہت گہرا ہوتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کی اپنی ایک پہچان ہے۔ جس پر ہمیں فخر ہے۔ دوسروں کے نقل کرنے والے جلد ناکام ہو جائیں گے۔

قوی خان پاکستان کے ان ورسٹائل فنکاروں میں شامل ہیں جن کی شخصیت کا جادوفنون لطیفہ کے چاروں شعبوں ریڈیو، تھیٹر ، ٹی وی اور فلم میں سر چڑھ کر بول رہا ہے انہیں فنی دنیا کا حصہ بنے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ بیت گیا لیکن وہ آج بھی کیرئیر کے آغاز جیسی لگن اور جذ بے کے ساتھ کام میں مصروف ہیں اور ریٹائرمنٹ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ قوی خان اپنی زندگی کو '' جہد مسلسل '' قرار دیتے ہیں انہیں بدلتے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کا فن بخوبی آتا ہے۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پی ٹی وی سے آن ائیر ہونے والے پہلے ڈرامے میں '' ہیرو'' کا کردار ادا کرنے کا اعزاز بھی قوی خان کو حاصل ہے۔ قوی صاحب اگرچہ انتہائی کم گو انسان ہیںلیکن ہلال کے قارئین کے لئے انہوں نے بے تکلف گفتگو کی اور اپنے نجی اور پیشہ ورانہ زندگی پر کھل کر بات کی جو پیش خدمت ہے ۔

mqavikhan.jpg
سوال: آپ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں ، بچپن کہاں گزرا ، تعلیم کہاں مکمل کی ؟
میری پیدائش 13 نومبر 1942کوشاہ جہاں پور انڈیا میں ہوئی، میرے والد محمد نقی خان محکمہ پولیس میں ملازم تھے اور ان دنوں شاہ جہاں پور میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ بعد میں ہم پشاور منتقل ہوگئے جہاںگورنمنٹ ہائی سکول پشاوراور ایڈورڈ کالج سے میں نے تعلیم مکمل کی۔میں نے 7برس کی عمر میں ریڈیو پاکستان سے کام کا آغاز کردیا تھا اور تب سے لے کر آج تک وہ سلسلہ جاری ہے۔ ہمارا گھرپشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان کے بالکل قریب تھا۔ ہمارے محلے میںاُس زمانے کے ریڈیو پاکستان پشاور کے مشہورآرٹسٹ شیخ شریف کی رہائش بھی تھی جن کا پروگرام '' قہوہ خانہ'' سبھی بڑے شوق سے سنتے تھے ، ایک دن انہوں نے مجھے سکول سے واپس آتے گلی میں دیکھا تو بولے: بیٹا آپ ریڈیو پر بچوں کے پروگرام کا حصہ بنو گے، میں نے ڈرتے ڈرتے ہاں کہا، یوں میرا ریڈیو سے رشتہ قائم ہوا ، شیخ شریف کو لینے کے لئے ریڈیو کی جو گاڑی آتی میں بھی اسی میں آیا جاتا کرتا تھا۔ ابتدا میں جاکر میں بیٹھا رہتا تھا ، کام ہوتا دیکھا کرتا تھا اور پھر واپس آجایا کرتا تھا۔ پھر '' نانی اماں '' کے عنوان سے ہفتہ وار ایک پروگرام شروع ہوا جس میں ایک بوڑھی عورت اپنے نواسے ، نواسی کو کہانی سنایا کرتی تھی میں اس پروگرام کا حصہ بنا ۔ پھر کیا ہوا، گھوڑا کیوں گرگیا ، شہزادی نے تیر کیوں چلایا ، وہ کیسے مرگیا وغیرہ میرے ڈائیلاگ ہوا کرتے تھے۔ مجھے ایک پروگرام کا معاوضہ 5روپے ملتا تھا جسے لے کر میں گاڑی میں بیٹھتا تھا اور بھاگ کر گھر آجاتا تھا۔ اس زمانے میں مجھے پورے مہینے کا جیب خرچ ایک روپیہ ملتا تھا اور باقی 19روپے میں گھر دے دیتا تھا۔


سوال:ریڈیو سے ٹی وی تک کا سفر کیسے طے ہوا؟
الفاظ کے تلفظ ، ادائیگی ، زیر زبر کا فرق ، گفتگو کا قرینہ و سلیقہ میں نے ریڈیو پاکستان سے سیکھا اور کالج کی تعلیم کے دوران بھی ریڈیوپر کام کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہا پھر میں 1961میں لاہور آگیا ۔ میں نے پانچ چھ برس بینک میں ملازمت بھی کی لیکن چونکہ میرے پاس ریڈیو پاکستان کا این او سی تھا تو میں نے ریڈیو لاہور پر کام کا سلسلہ جاری رکھا پھر میں نے الحمرا تھیٹر اور اوپن ائیر تھیٹر میں اداکاری کے جوہر دکھائے، رفتہ رفتہ مجھے فلم میں کام کرنے کا موقع بھی میسر آگیا 1964میں میری پہلی فلم '' رواج'' ریلیز ہوئی جسے دلجیت مرزا صاحب نے بنایا تھا ، '' رواج'' میں ولن کا کردار میں نے ادا کیا ساتھ ہی پروڈکشن میںدلجیت مرزا کو اسسٹ بھی کیا تھا جس سے مجھے فلم میکنگ کی باریکیوں کو سمجھنے میں کافی مدد ملی ، اسی دوران لاہور میںپاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہورہا تھا ، میں نے کام کے لئے فوری اپلائی کیا جلد ہی مجھے یہ پیغام ملا کہ پاکستان ٹیلی ویژن سے جو پہلاکھیل ''نذرانہ'' آن ائیر جائے گا اس میں ہیرو کا کردار میں ادا کروں گا تو وہ میرے لئے تاریخ بن گئی جو اب تک ہے ۔ اس کھیل کو نجمہ فاروقی نے تحریر کیا تھا اور فضل کمال نے ڈائریکٹ کیا تھا، میرے ساتھ کنول حمید نے ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔ پھر میں نے 1966 میں بینک کی جاب چھوڑ دی اور تمام تر توجہ فن اداکاری پر مرکوز کردی ، ریڈیو، ٹی وی ، تھیٹر اور فلم ہر میڈیم میں مجھے کام ملتا رہا اور میں نے اس سلسلے میں بریک نہ آنے دی۔ ایک زمانے میںمجھ پر فلم میکنگ کا جنون طاری ہوگیا جس کی تکمیل کے لئے میں نے بارہ فلمیں بھی بنائیںجو زیادہ اچھی نہیں گئیں اس ناکامی نے مجھے زندگی کے نشیب و فراز سے بخوبی آشنا کروایا لیکن اس سارے سفر میں ٹیلیویژن نے مجھے تھامے رکھا ، ہم دونوں نے ایک دوسرے کا دامن نہیں چھوڑا۔اب تک 54برس ہوگئے ہیں میں نان اسٹاپ ٹی وی پر کام کررہا ہوں اور ہر ہفتے میں کسی نہ کسی چینل پر ضرور آن ائیر ہوتا ہوں ۔ میں نے زندگی میں کوئی بزنس نہیں کیا ، کوئی پراپرٹی نہیں بنائی۔ اداکاری ہی میرا جنون رہا جس سے مجھے رزق کا سامان بھی مہیا ہوتا رہا۔ میں پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اوپر نہیں پہنچ گیا بلکہ میرا سفر تو جہد مسلسل کی عملی مثال ہے، پہلی کے بعد دوسری پھر تیسری سیڑھی مرحلہ وار عبور کیں۔


سوال: آپ بلاشبہ پاکستان میں فن اداکاری کے بانی فنکاروں میں شامل ہیں یہ بتائیے گاتھیٹر اور ریڈیو کا تجربہ ایک فنکار کی تکمیل کے لئے کتنا ضروری ہے ؟
میں سمجھتا ہوں کہ ریڈیو اور تھیٹر کی اہمیت بنیادی ستون سے کم نہیںہے اس کا تجربہ ہونے سے آپ کے کام میں و ہی پختگی آتی ہے جیسے ستونوں کے ساتھ عمارت مستحکم کھڑی رہتی ہے۔ آرٹسٹ کوعلم ہونا چاہئے کہ مکالمہ کہنے کے کیا اسرار ورموز ہیں ، تھیٹر ہال میں جو 600آدمی آپ کو لائیو دیکھ رہے ہیں ان کی ڈیمانڈ کیاہے اورٹی وی ناظرین کے سامنے کیسے آنا ہے۔ آوازکی پچ، باڈی لینگوئیج، کیمرہ ہینڈلنگ ، خود اعتمادی اور ہر میڈیم کاباہمی فرق، یہ سب علوم تجر بے سے ہی حاصل ہوتے ہیں اورسب سے بڑھ کر فنکار کا زمانے میںآنے والی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل ہونا بہت ضروری ہے ، جیسے کچھ سالوں بعد کیمرے بدل جاتے ہیں ، لائٹس بدل جاتی ہیں، لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آجاتی ہے ، لباس اور گفتگو کا انداز بدل جاتاہے، ویسے ہی آرٹسٹ کو وقت کے ساتھ ان تبدیلیوں کو اپنا لینا چاہئے ورنہ وہ زمانے کے ساتھ چل نہیں پائے گا۔ میرا یقین ہے کہ ریڈیو او ر تھیٹرکا تجربہ ہونے کی وجہ سے میں نے اتنے برس کام کرلیا ورنہ خامیاں اورکوتاہیاں تو مجھ میںبھی بہت ہیں اور مکمل تو صرف میرے مالک کی ذات ہے ۔


سوال: ہمارے ہاںاچھے ڈرامے بن تو رہے ہیں لیکن ماضی جیسے کلاسک کھیل اب کیوں نظر نہیں آتے ۔؟
اصل میں سارا سسٹم سپلائی اور ڈیمانڈ پر مبنی ہے۔ جنریشن تبدیل ہوچکی ہے اور آج کی آڈئینس کی ڈیمانڈ کچھ اور ہے اسی طرح کمرشلزم کے اثرات بھی ہیں۔ اب دیکھیں آج کے ڈرامے
Woman Dominated
ہیں ۔ میں ان دنوں جس کھیل کی ریکارڈنگ کر وا رہا ہوں وہ بھی ایسے موضوع کا احاطہ کرتاہے ، عورتوں کی کہانیاں ہیں اور ہماری خواتین ایسے کھیل بڑے شوق سے دیکھتی ہیں۔ ہوا جس طرف ہوپتنگ اسی طرف جاتی ہے اس لئے آج کل خواتین کے موضوعات کھیلوں میں حاوی نظر آتے ہیں ، انہی کو کمرشل ملتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ ٹھیک بھی ہے کیونکہ ہمارے ہر گھر میں ایک کہانی ہوتی ہے جنہیں روایات ، اقدار اور وقار کے ساتھ اصلاحی انداز میں سامنے لانا چاہئے تاکہ عوام کے دلوں میں تعمیری سوچ پروان چڑھے۔

mqavikhan1.jpg
سوال: غیر ملکی ڈراموں سے پاکستانی ڈراموں کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے؟
میں تو اس چیز کا قائل ہوں کہ باہر دیکھنے کے بجائے پہلے آپ اپنے آنگن کی اچھی طرح صفائی کر لیں، گھر سے گلی کارخ کریں اس کی دیکھ بھال کریں پھر سڑک کی صفائی ستھرائی بھی ہماری ذمہ داری ہے اس کے بعد آپ کسی اور جانب دیکھیں ابھی ہم اپنی دیوار سے آگے نکلے نہیں ہیں اپنے معیار کو مثالی بنایا نہیں ہے اور باہر کی ثقافتی یلغار کے آگے ڈھیر ہوگئے ہیںجو مناسب نہیںہے۔ فن اور فنکار کا رشتہ وطن اور اس کی ثقافت سے بہت گہرا ہوتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کی اپنی ایک الگ پہچان ہے۔ جس پر ہمیں فخر ہے۔ دوسروں کی نقل کرنے والے جلد ناکام ہو جائیں گے۔


سوال: ''اندھیرا اجالا'' کا شمار پاکستان کے مقبول ترین اور کلاسک کھیلوں میں ہوتا ہے اس میںکام کرنے کا فیصلہ آپ نے اپنے والد سے متاثر ہوکرکیا تھا؟
جی ہاں اور یہ یونیفارمز مجھے ویسے ہی بہت پسند ہیں، جب بھی آپ کسی پولیس آفیسر یا آرمی کے جوان سے ہاتھ ملائیں توآپ کو محسوس ہو گا کہ آپ نے کسی مضبوط ترین شخصیت سے ہاتھ ملایا ہے ، ان کے ہاتھ سے ہی ان کی محنت ، جدوجہد ، ان کے کام اور پیشے سے لگن کا پتہ چل جاتا ہے تو مجھے اللہ نے موقع دیا تو میں نے کوشش کی کہ اس کھیل کے ذریعے عوام کی تفریح کے ساتھ مثبت پیغامات دئیے جائیں اور بفضلِ اللہ بڑی کامیابی سے بھی ہمکنار ہوا، اس میں دکھائی جانے والی کہانیاں زیادہ تر سچی اور اصلی ہوتی تھیں پھر وہ بند اس لئے ہوا کہ ہمارے رائٹر بیمار ہوگئے تھے ساتھ میں وہ پی ایچ ڈی بھی کر رہے تھے لیکن ایسے ڈراموں کی ہمارے معاشرے کو اشد ضرورت ہے ، ان کو بند ہونا ہی نہیں چاہئے ۔اندھیرا اجالا کی کامیابی میں بنیادی کریڈٹ اسکرپٹ اور ڈائریکٹر کا ہے۔


سوال: آپ کے بچے کیا کر رہے ہیں ، انہوں نے ٹی وی یا فلم انڈسٹری کو کیرئیر کے طور پر کیوں نہیں اپنایا؟
میرے دو بیٹے(محمد عدنان قوی ، مہران قوی) اور دو بیٹیاں ہیں۔ بیٹوں نے ابتدا میں ٹی وی پر کچھ کام کیا تھا جیسا اشفاق احمد کا کھیل تھا '' من چلے کا سودا'' ، لیکن میں نے محسوس کیا کہ بچوں کو پہلے اپنی تعلیم مکمل کرنی چاہئے چنانچہ ایک آئی ٹی کی طرف نکل گیا اور دوسرا ڈاکٹر بن گیا اس وقت دونوں کینیڈا میں مقیم ہیں ، دونوں بیٹیاں بھی شادی کے بعد بیرون ملک سیٹل ہیں میں نانا ، دادا بن چکا ہوں ، بچے مجھے ملنے آتے رہتے ہیں اور میں بھی اکثر ان کے پاس جاتا ہوں۔


سوال: شاعری سے لگاؤہے پسندیدہ شاعر کون ہے؟
جی بالکل مرزاغالب میرے پسندیدہ شاعرہیں۔اس کے علاوہ احمد فراز بھی مجھے پسند ہیں انکا تعلق ریڈیو پاکستان پشاور سے تھا وہ وہاں ڈیوٹی آفیسر تھے اور ان کے لکھے کھیل'' ساحل کی ریت'' میں کام بھی کیا تھا وہ مجھے بچپن سے بھی جانتے تھے بلکہ میں اسلام آباد کی ایک تقریب میںمدعو تھا وہاں میں ان کا شعر پڑھ رہا تھا کہ
''ہر ایک خواہش روتی رہتی ہے '' میںدوسرا مصرعہ بھول گیا مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ پیچھے کھڑے ہوئے ہیں ۔وہ پیچھے سے آئے مجھے گلے لگایا اور دوسرا مصرعہ خود پڑھا '' میرے اندر بارش ہوتی رہتی ہے''۔


سوال: موسیقی سے کتنالگاؤہے ، فیورٹ سنگر کون ہیں؟
مجھے سیمی کلاسیکل موسیقی سے لگاؤ ہے اور پرانے اساتذہ کو میں شوق سے سنتا ہوں، نصرت فتح علی خان ،فتح علی خان اور عصر حاضرکے گلوکاروں میں سے سجاد علی مجھے بہت پسند ہے اس کے گیتوں سے طبیعت خوش ہوجاتی ہے ۔


سوال: ہمارے ہاں فنکاروں کی سیکنڈ لائن کیوں نہیں بن پاتی اور ہماری فلم ڈرامے کے اثر سے باہر کیوں نہیں نکل رہی؟
اصل میں سیکنڈ لائن بنانے ہی نہیں دی جاتی ، یہاں پر اگر کسی کو مقام و مرتبہ ملتا ہے تو یہ بھی بہت مشکل سے ملتا ہے ، یہ شوبز فیلڈ ہی ایسی ہے ۔سینئرز بھی رہنمائی نہیں کرتے چنانچہ سٹارز تو چند ایک ہی بنتے ہیں باقی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی محنت رائیگاں چلی جاتی ہے ۔ فلم ڈرامے کے اثر سے رفتہ رفتہ نکلے گی ٹیکنالوجی کی ترقی نے پروڈکشن کا پورا نظام ہی بدل دیا ہے، اب نہ نیگیٹو رہا، نہ ڈویلپنگ ، پرنٹنگ کی مشینیں رہیں نہ پروجیکٹر والے پرانے سنیما رہے ، لوگ محنت کر رہے ہیں رفتہ رفتہ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔


سوال : آپ کو کون کون سے اعزازار مل چکے ہیں ؟کوئی اور اعزاز حاصل کرنے کی تمنا باقی ہے؟
اعزاز تو مجھے سارے مل چکے ہیں ، ریڈیو،تھیٹر ، ٹی وی اور فلم ہر شعبے میں مجھے علیحدہ علیحدہ ایوارڈز دئیے گئے ہیں اور اب مجھے صرف ایک اعزاز چاہئے اور وہ ہے میرے مالک کی نظر کرم ، میری تمنا ہے کہ مالک کائنات مجھ سے راضی ہوجائیں۔


سوال: پاک فوج آج کل دہشت گردوں سے جنگ میں مصروف ہے ، ان کی قربانیوں کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
زندگی اور موت کا مالک تو رب کائنات ہے لیکن اگر غازی اور شہید کا مقام اور رتبہ پڑھ لیا جائے اور پڑھ کر سمجھ لیا جائے تو بلاشبہ ہر شخص غازی اور شہید بننے کو تیار ہوجائے اور ملک وقوم کے لئے اس سے بڑی خدمت یا قربانی ہو ہی نہیں سکتی کہ آپ اپنی سرزمین اور کروڑوں لوگوں کی حفاظت کے لئے بے لوث اپنی جان دے دیتے ہیں۔ ان عظیم لوگوں کو دیکھتے ہی سلام پیش کرنا چاہئے کیونکہ یہ ہماری سرحدوں کے علاوہ ہماری عزتوں ، اقدار اورمال و متاع کے محافظ بھی ہیں۔ یہ بہت عظیم لوگ ہیں۔ میں جب ان کو دیکھتا ہوں تو دیکھتا ہی رہ جاتا ہوں جذبات سے میری آنکھوں میںبے اختیار آنسو آجاتے ہیں۔
سرحدوں پر جو ہمارے بہادر اور غیور فرزندہماری حفاظت کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیںدر حقیقت وہ ہمارے سر کا تاج اور فخر ہیں ہر روز ہماری دعاؤ ں میں ان کا خصوصی ذکر رہتا ہے، ہمارے جذبات ، احساسات اور سب کچھ ان عظیم لوگوں کے لئے ہیں، ہماری سرحدوں ، عزتوں ، سبز ہلالی پرچم اور ملک و قوم کے محافظ سے بڑا شخص اس معاشرے میں کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ خاکی وردی زیب تن کئے یہ فرزند قوم کا قابل فخر سرمایہ ہیں اور جو شہادت کا رتبہ پالے ان کے لئے تو دین و دنیااور آخرت میں جنت کا مقام ہے سبحان اللہ ، سبحان اللہ اسی لئے میں نے کہا ہے کہ جو سمجھ جائے تووہ بھی اس مقام و مرتبے کو پانے کی خواہش رکھے۔ان بہادر فرزندوں کی عزت و تکریم کے لئے میرے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں اور ساری قوم کے یہی جذبات ہیں۔ میں نے جوانی میں فوجی بھائیوں کے لئے سرحدوں پر جاکر بہت سے پروگرام کئے ہیں آج بھی اگر مجھے بلایا جائے تو میں ساری مصروفیت ترک کرکے فوراً پہنچ جاؤں گا، میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں۔ یہ ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔
میں نے ایک فلم'' پاسبان '' بنائی تھی جس میں دو شعر پاک فوج کی نذر کئے تھے۔
قسم ہے شہیدوں کے لہو کی
قسم زندگی کی، قسم آبرو کی
گھر اپنا کسی کو جلانے نہ دیں گے
وطن پر کوئی آنچ آنے نہ دیں گے
پاکستان زندہ باد ، افواج پاکستان پائندہ باد۔


سوال: رواں برس پاکستانی قوم نے اپنی آزادی کی سترہویں سالگرہ کا جشن منایا آپ بتائے کہ ہم اپنے ملک کے لئے کیا کر سکتے ہیں اور کیا کرنا چاہئے؟
میرا خیال ہے کہ ہر باشعور آدمی کوگھر میں اپنی یہ عادت بنا لینی چاہئے کہ وہ ہر روز صبح اٹھ کر اپنے بچوں کو آزاد وطن کی اہمیت سے روشناس کروائے اس کو بتائے کہ کس طرح اس کے آباء واجداد نے پاک سرزمین کو حاصل کرنے کے لئے بے انتہا قربانیاں دیںاور کسی ایک موضوع پر چار لائنوں کا درس بچے کو لازمی دیا کرے۔ جیساکہ پاکستان کو حاصل کرنے میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار ، علامہ اقبال کا خواب آزادی وغیرہ اگر سارے لوگ ایسا سوچ لیں کہ ہم نے ایسا کرنا ہے تو اس قوم میں جذبہ حب الوطنی ، آزاد سرزمین کی اہمیت اور ترقی کی لگن اتنی ہوجائے گی کہ جب وہ شعور کی منزل تک پہنچے گا تو اس کو پاک وطن کی زمین کا ایک ایک انچ اپنی جان سے عزیز تر ہوگا، یہ مجھ سمیت تمام قوم بالخصوص والدین کا فرض ہے اور ہمیں اپنی ذمہ داری لینا پڑے گی۔ صبح ناشتے کے وقت یہ کام ہونا چاہئے اور ٹی وی پر بھی حب الوطنی پر مبنی پروگرام آنے چاہئیں ۔تربیت کے حامل مختصر پروگراموں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونا چاہئے جیسا پہلے پی ٹی وی پر ہوا کرتا تھا۔ میں آپ کو اپنے ایک پروگرام کا بتاتا ہوںجس کا دورانیہ صرف ایک منٹ ہوتا تھا جس میں میں بچوں کو نصیحت کیا کرتا تھا جیسے میں باغ کی سیر کر رہا ہوتا ہوں تو کوئی بچہ میرے پاس سے گزرتا ہے تو میں اس کو روک کر کہتا ہوں کہ بیٹا بڑوں کو سلام کرکے گزرا کرو۔السلام علیکم کہہ کرمیں آگے بڑھ جاتا ہوں اوروہ بچہ مجھے دیکھتا رہتا ہے اس کا اثراتنا ہوا تھا کہ کئی سال کے بعد میں ماڈل ٹاؤن پارک میں جا رہا تھا کہ میرے پاس سے ایک صاحب گزرے تو انہوںنے کہا السلام علیکم ، میں نے اسے دیکھا تو بولا سلام کرلیا کرتے ہیںقوی صاحب ، فوراً میرے ذہن میں اس بچے کی تصویر آئی تو میں نے آگے بڑھ کر اس سے مصافحہ کیا تو جوبات اچھی ہو دل پر اثر کرتی ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
30
December

Justice (Retired) Dr Javed Iqbal

Interview By: Asif Jehangir Raja

Question: I shall request you to share few memories of Allama Iqbal with us?

Answer: I was twelve years old when Allama Iqbal died in 1938. So I couldn't get much time to spend with him but his personality left a great impact on me which I still carry to this date. Dr Allama Iqbal was a man of values who took pride in own culture, own dress, own language and wanted me to retain my own identity. It was a time when the British were ruling the Subcontinent, so I wasn't allowed to wear English dress, hats and, anything that was English, was banned for me. He was a simple person and to inculcate similar characteristic in me, he had even fixed the price limit for me to purchase dresses, shoes and personal belongings. He had much focus on my character building and discipline and, didn't allow me to visit cinemas. I wasn't also allowed to stay out of home during dark hours.

He was polite in his handling and there was hardly a moment when I saw him angry or annoyed. To express his displeasure on my any action, he mostly used mild expressions and normally uttered these two words: Ahmaqq (foolish) and Bay-waqoof (moron). I was little naughty in my childhood and often moved out barefooted in the courtyard. He always forbade me from doing so. However, my mother was strict and at times subjected me to beating but never let my father to do that! (There was a definite glimpse of smile, fondness and respect in Dr Javed Iqbal eyes while recollecting these particular golden moments).

Dr Allama Iqbal was fond of music. He occasionally asked me to sing his poems to him. A person from 'Hijaz' (a Khush Ilhaan Hijazi), used to frequently visit him. Allama Iqbal would ask him to recite Holy Qur'aan and while he recited, Allama Iqbal used to weep. I was often asked to be present during this by Allama as he advised me to recite Qur'aan like him. He advocated simplicity and felt happy to know that I had slept on floor instead of bed on any day.

On the fateful night before he died at 5 a.m. on 21 April 1938, I went to him at about 10 p.m. His friend, Chaudhry Muhammad Hussain was sitting beside him. His eyesight had been affected by then due to cataract and was unable to even recognize me. As I entered the room, he asked “kaun hey” (Who is there?). I replied “mein Javed hoon” (I am Javed). He laughed and said “Javed baan kar dikhao” (be like Javed), because literal meanings of Javed are 'eternity'. He then asked Chaudhry Hussain to facilitate me to read his book 'Javed Nama' which is addressed to the younger generation of Muslims. This was probably his last advice to me before his sad demise.

Question: Quaid-i-Azam must be a frequent visitor to Allama Iqbal. Do you have any memories of him?

Answer: Meeting Mr. Jinnah was always an honour for me. During 1936, Quaid-i-Azam was due to visit our home. On that day, Allama asked me to be ready by 4 p.m. and also told me to bring an autograph book. He probably wanted to honour the Quaid and give him an impression of being a well known figure among all age groups. After meeting Quaid-i-Azam, I requested him for autograph that he granted. Then he asked me in English, “Do you also write poetry?” My reply was negative and he asked another question, “What are you going to do when you grow up?” I stayed quiet and while laughing he looked at my father and said, “He doesn't answer.” Allama Iqbal replied to him, “He won't answer. He is waiting for you to tell him what he is to do.” Personality of Jinnah left a great impact on me and I always took him as a role model.

Question: Please explain us the views of Allama Iqbal about the nature and type of a separate nation state for the Muslims of the Subcontinent?

Answer: In my opinion, thoughts of a separate state were floated much earlier than Iqbal's address at Allahabad. Sir Syed Ahmed Khan was the first Muslim leader who raised awareness about population divides between Hindus and Muslims. He gave his point of view through these distinct arguments;

• If democratic order is placed in order by British in the Subcontinent, Muslims shall be the one at loss being in minority.

• The situation between both communities can improve, if some formula of power sharing based on equality is evolved and implemented. But he was fearful of its non implementation owing to lack of population balance between the both.

brig javaid 1Iqbal claimed that he understood Sir Syed Ahmed Khan's concept completely. Iqbal went further ahead by suggesting that the areas of Muslim majority be amalgamated as a separate state. Allama suggested and advocated to initiate the movement to separate Sindh from Bombay Presidency and to introduce reforms in Balochistan and NWFP (now KPK).

When the 'Urdu-Hindi' controversy surfaced in Uttar Pradesh (UP) in 1867, where Hindus of Banaras presented a request to their government regarding the replacement of Urdu with Hindi. Sir Syed Ahmed Khan told the then Commissioner, Mr Shakespeare, that these two communities might never survive together because of their differences and owing to the negative attitude of the Hindus.

The attitude of Hindus towards the Muslims was one of the reasons that resulted in demand for a separate homeland, Pakistan. Muslim leadership was always friendly and initially talked of autonomy that later converted into demand of a separate Muslim state. Jinnah's Fourteen Points after the First Round Table Conference were rejected by Moti Lal Nehru (father of Pandit Jawaharlal Nehru). He didn't agree despite efforts by the British as well. Similarly same demands for autonomy were put forth in the Cabinet Mission Plan in 1946 which were accepted by Jinnah but rejected by Nehru. Even Nehru's attitude has of late been criticized by Jaswant Singh in his book, 'Jinnah: India-Partition-Independence' who has held him responsible for a partition that was against the interests of Hindus.

In nutshell, attitude of Hindus was the main reason that compelled our leaders to seriously think for a separate homeland. Quaid's presentation of 'Fourteen Points' and acceptance of the Cabinet Mission Plan bears testimony to the positivity of the then Muslim leadership but Hindus were not ready to accommodate Muslims in any way.

I am often asked a question that what did Muslims achieve through a separate homeland. And I always reply that even at a time when the Subcontinent was one, Hindus were not ready to tolerate and accommodate the demands of the Muslims in any way. Their attitude was likely to even become worst after departure of British.

Question: Do individual and collective interests interpreted in the domain of a modern nation state contradict or conflict with a higher ideology and philosophy that goes beyond these confines? Or in other words, how realpolitik responds to a sublime idealism?

Answer: Iqbal derived his concept of an Islamic democratic state from Meesaq-e-Madina. He wanted Pakistan to be model state for rest of the Muslim world. He neither wanted a secular democracy nor did he think of a theocracy.

Iqbal always thought of a 'Spiritual Democracy'. By spiritual democracy he meant a state which can accommodate and protect people from all religions and sects. As a member of Punjab Legislative Council, Allama Iqbal proposed formulation of a law which was meant to punish people committing “Toheen-e-Baniyan-e-Adiyaan”, means a law to punish anyone who commit blasphemous acts against any religion.

This concept was derived by Iqbal from Meesaq-e-Madina. It was that document in which the Prophet (PBUH) allowed religious freedom to everyone residing in Madina. Iqbal understands it as a Spiritual Democracy and wanted it to be basis of the separate Muslim state. I recently delivered a lecture in Oman on a related theme, 'What is an ideal Islamic democratic state'. I focused my opinions and ideas through the thoughts of Iqbal. Few leaders didn't agree to my point of view but some of them have invited me to discuss this theme further with their scholars. The much debated speech of Quaid-i-Azam delivered on 11 August 1947, which people interpret as his message and desire to establish a secular state, is basically based on Meesaq-e-Madina. Lord Mountbatten, the Last Viceroy of India, once asked Quaid-i-Azam about his idea to govern Pakistan based on the principles of Mughal Emperor Akbar. Jinnah replied him, “No, we have learnt and derived our democratic values from Holy Prophet (PBUH).” He was basically hinting at Meesaq-e-Madina.

Question: Please enlighten us about the concept of 'khudi'? Does it see a Man rising above any material concern and economic interdependence and existing as a self-survivor? How it responds to a present day society immersed in over consumption and gross production net?

Answer: The concept of Khudi is a metaphysical concept. Iqbal placed worth of a human being much above the status that we think ourselves to be at. Iqbal thought that Allah has breathed his soul in humans. The Man through rising from self can reach a sublime position that he becomes a part of eternal reality. The man is submerged in the reality in a way that he is not separated from the Divine Will. Citing example of Masjid-e-Qartaba in the same context, Iqbal believed that it wasn't humanly possible to construct such a masterpiece and thought of some Divine force assisting them. I always believe the same way. Similarly in the case of Hazrat Dawood who sang so well that even birds used to assemble to listen to him which is reflection of Divine manifestation.

Similarly Iqbal emphasized humans to be creative through his book Javed Nama where, in a poem, he delivers a message from Allah to the humans, that anyone who is not creative is a sinner for not having exercised the powers granted by Him. Iqbal emphasized on ‘change, change and change’ concept that brings an end to the jamood (status quo) and results in progress.

Question: Do human 'found truth', philosophy and ideals are limited to a particular time and space? How we see them relevant to changing realities and perceptions?

Answer: Philosophy is kind of an exercise which is related to the reason and consciousness. It is related to ideals and not directly to the everyday life. The thoughts and practical thinking of people like Iqbal does have linkage with some philosophical base. Basically philosophy is a loose term that includes metaphysics as well as ethics or, anything else. Philosophy isn't related to a particular time and space. People who make statues of their thinkers and heroes should actually try to study them and follow them. The process of change should be a regular feature.

Question: Does Allama's advocacy of Ijtihad meant rejection of tradition and to what extent?

Answer: Ijtihad doesn't mean to prevent changes in all matters. No. It means that the issues meriting change must undergo the requisite transformation. It is related to the Mu’amalat (routine affairs of a human life) but not with the Ibadat (religious obligations). The change is important to tackle the emerging realities of time and space. Human journey cannot remain tied to the antiquity for all the times. According to Allama the creativity and change for a better construction is the essence. It is through creativity that Man fulfils Divine manifestation. It is not through blindly following the tradition but through a constructive change commensurate with time and space that Man takes forward the journey according to God's Will. If we look around, there are many Muslim societies that have introduced many changes according to the needs of present times. We have examples of Tunisia, Indonesia etc. For example, Indonesia has brought so many changes in their day-to-day affairs in accordance with changing environments. Hillary Clinton, former US Secretary of State, has on record stated that women enjoy exemplary privileges and status in Indonesia which should be followed by other countries as well. It is through Ijtihad that a Muslim country, Indonesia, has introduced changes in rules other than basic religious obligations.

Question: How can we overcome challenges of intolerance and extremism?

Answer: Extremism has affected our society from every angle. Islam doesn't permit its people to kill others for whatever reasons. Writ of the State must be established and negotiations with these extremists must be made from the position of strength. All segments of the society have to play their role in transforming our society as tolerant and accommodative. We can never progress with the label of an extremist and intolerant society.

Question: How can we achieve national integration?

Answer: There are many ways to achieve it. The language can play a very vital role in this. The Quaid-i-Azam, who himself couldn't speak Urdu properly, declared it as a national language. Iqbal always talked of unity. We need to promote Iqbalian thinking in ourselves. Unfortunately our universities do not have 'Iqbal Chairs' that can help people to understand his vision. Likewise Madrassas should also be affiliated with universities so that concept of unified syllabus can be promoted and unity can be achieved.

30
December

A Dialogue with Syed Anwar Mahmood on 1971 Debacle

Written By: Asif Jehangir Raja

Question: You spent most of your time in Bangladesh before and during 1971. How do you explain the environment of erstwhile East Pakistan in 1971?

Answer: Yes! I spent most part of my early life in East Pakistan and was brought up in that part of the country. I obtained my early education from Cadet College Faujdarhat, located near Chittagong (the institution was built in 1958 under President Ayub Khan). I was an employee of United Bank Limited (UBL) in East Pakistan before taking up my exams of Central Superior Services (CSS). I am a witness to whatever happened in East Pakistan in 1971. I was there till 15th November 1971 before boarding my flight to Karachi to take up my training in the Civil Services Academy. The people of East Pakistan were politically very aware. They were aware of their rights, could never easily be subjugated and were basically pro-Bengali and not pro-Indians. In short, they were for themselves.

The populace of pre-1971 East Pakistan can be categorized in three segments as: 1) A small minority of Hindus who opted to stay in East Pakistan after the partition. They were mostly pro-Indians and were also supported again by a very smaller minority within Muslims. 2) Pro-Pakistan people, and 3) A population that was pro-Bengali but not anti Pakistan. I am not ready to accept the fact that people of East Pakistan were pro-Indians. No! They were never. As I said earlier, they were up for their own cause. However, there is no denying to the fact that India benefitted from the situation and exploited it to her advantage. The environment during 1971 was very tense. Government was almost non-existent after 1st March 1971 and political workers of Awami League had taken over the control of East Pakistan beyond military cantonments whereas the strength of Pakistan Army, at that time, was little too less to handle the situation. People were no longer safe due to the law and order situation which had been created by Mukti Bahini and the Awami League activists.

Question: You were residing with family in East Pakistan in 1971. How do you recall those days?

Answer: It was a very tragic and traumatic time. Situation started getting tense from 1st March 1971 onward. My mother and siblings were in Chittagong whereas my father was in another town and I was in Dhaka. Two days later, on 3rd March, me and one of my cousins travelled to Chittagong via train to bring our family to Dhaka. The news coming from relatives and friends in different parts of the country were not good. Many known people went missing or were injured or killed in the mayhem.

Luckily our family was safe and while we were making efforts for our safe return to Dhaka, my two Bengali juniors of Cadet College days also joined in helping us. We reached back safely and after few days my family flew to Karachi, whereas I and my father stayed back. Later in November 1971, I moved to Karachi to join the Civil Services whereas my father also reached Karachi on two weeks Eid leave and then didn't get a chance to return. Those three weeks till 26th March were very tense and volatile. In sheer anger, any non Bengali or Punjabi (people of all other four provinces were called as Punjabi in East Pakistan) was attacked by Mukti Bahinis and their associates. In this wave, thousands of non Bengalis were killed. I and a friend made it a point to visit the Tejgaon Railway Station near Dhaka every evening to pick up the injured and displaced people. We used to drive them in our own car to the camps or hospitals. This continued until 26th March. By then more strength of Pakistan Army was flown to help and secure people and a crackdown was ordered on the night of 25/26 March.

I shall quote an incident of 1st March 1971. Pakistan was playing a four day cricket match against a Commonwealth XI at the Dhaka stadium. March 1st was the last day of the match. During the lunch break, we moved out to have food from the shops adjacent to the stadium. There was crowd of people at one of the pan shops listening to the radio. All of a sudden I noticed disturbance around that shop followed by slogans. Upon inquiring, it was revealed that Radio Pakistan, in its midday news bulletin, had just announced about President Yahya Khan's decision to postpone the inaugural session of the newly elected National Assembly which was to meet in Dhaka two days later. Due to the size of its population, East Pakistan had more number of seats in the parliament as against the combined seats of the four provinces in West Pakistan. Awami League, that had won majority of seats in the elections from East Pakistan, was in a position to form government in the centre without support of any other political party.

The postponement of National Assembly session was received by East Pakistanis (Bengalis) as a move to rob them of their right to form an elected government. It was a readymade crowd watching the match that moved across to the nearby Purbani Hotel, led by Tufail Ahmed, the President of Awami League's students' wing called 'Chatro League'. Sheikh Mujib Ur Rahman was in the hotel presiding over a session of Executive Council of his party. Tufail went in the hotel and brought out Sheikh Mujib Ur Rahman. He demanded Mujib to declare independence there and then, to hoist the flag of Bangladesh, and to address the crowd.

However, Sheikh Mujib Ur Rahman refused to do all three on 1st March 1971. He waved to the crowd and asked them to calm down. I believe that by asking the elected leader from East Pakistan to form the government at centre would have saved the situation. If we can now allow the unprecedented autonomy to the provinces under the 18th Amendment, why could not we let the party with the largest number of elected seats to form the government in 1971? Ironically, due to 18th Amendment the state has even transferred the responsibility of health and education to the provinces, the subjects of great importance, which are even kept at central level by a developed and large country like USA. Under this very 18th Amendment we have created a situation, where the provinces today are richer and stronger than the federation.

Question: On one side it is said that economic inequality created a sense of deprivation in East Pakistan that led to discontent and separation and on the other hand it has also been observed that government of Pakistan had undertaken massive developmental work in East Pakistan after 1947. What led to the situation that resulted in 1971 debacle?

Answer: Yes! The development did take place in East Pakistan but pace of the progress was much slower than that of West Pakistan. Bengalis always compared it with the progress that took place in West Pakistan and carried the feelings of deprivation. Bengalis believed that the pace of development in East Pakistan was much slower than in the Western Wing. The Indians skillfully exploited this sentiment and sense of deprivation. The country lacked in leadership after Quaid-i-Azam. The decisions were not taken with foresight and prudence. More so, many politically incorrect decisions were taken which provoked negative sentiments within the masses. First and foremost was in 1954 when the elected government of United Front in East Bengal was dissolved. In addition, why was then 'One Unit' created in 1955?

Then name of the province was changed from East Bengal to East Pakistan without any consultation with the leadership and people of the province. The government should have conducted referendum in East Bengal to know the willingness of the local populace which was never done. Recently the NWFP has been renamed as Khyber Pakhtunkhwa with consent of the Provincial Assembly and local people. It prompted Sheikh Mujeeb Ur Rehman to call on the floor of Constituent Assembly that word 'Bengal' was now left only in the 'Bay of Bengal'. In 1969, when the 'One Unit' was undone by the government, it should principally have reverted to the 1955 position which it did not.

Question: In your assessment, what was the role of foreign countries in turning situation against Pakistan in East Pakistan?

Answer: There was full scale involvement of India in East Pakistan. Indians exploited the already politically volatile situation to their benefit and facilitated the disintegration of Pakistan. Mukti Bahinis were trained by India. The Indians did not only train but also physically supported the sabotage and subversion activities inside the country. Indians left no stone unturned to damage Pakistan by exploiting our follies. I think Indians have not yet been able to forget and reconcile with the partition and their hatred towards us appears now and then in different shapes. When your own house is in disorder, enemy will surely take the advantage. The Indian political leadership, its army and its media joined hands to do exactly that and succeeded in dismembering Pakistan.

On 7th September 1965, a day after war broke out, there were huge anti India protests on the roads of Dhaka by students of almost all institutions. Thousands of people participated in these protests and I was also one of them, marching on the roads. This anti Indian sentiment was even multiplied when news of Indian bombardment at a town in East Pakistan spread among people. During that war, the people of Bengal stood fully behind the government of Pakistan.

However, I must say that even years after separating from Pakistan the sentiments against India have not subsided in what is now Bangladesh. Here I will quote few incidents.

I visited Bangladesh in 1985 for the first time after 1971 to witness final match of Asian Cup Hockey Tournament between Pakistan and India. Before start of the match, I went to a shopping mall with the name of Bait ul Mukarram with a friend. I asked the shopkeeper as to who would emerge as victorious from the match and he instantly replied in Bengali, “Amara jeet Bhoo – ”, meaning “we will win”. I was surprised and asked him that Bangladesh wasn’t playing, then whom was he referring to? He said, “Pakistan jeet Bhoo – ”, meaning “Pakistan will win”. So even after 14 years of disintegration, anti India feelings were prevalent. I also want to quote another incident of 1993, when I visited Bangladesh in connection with re-union of my Cadet College. I was taken on a drive-out by an old Bengali friend (a retired Major from Pakistan and later, Bangladesh Army) who used to be my room-mate at Dhaka University, and was later elected as the member of Bangladesh Parliament and had also served as a Minister. While we were driving in the suburbs of Dhaka in the month of January, we came across few units of Bangladesh Army busy in their field training. I cracked a joke with him that all Army exercises and training are carried out with a perception of an enemy, and then whom were they training against. And his instant reply was, “Don’t you know? Of course, it is India”.

Question: It is believed that the complete local population of the East Pakistan did not want to be separated and it was triggered by few. What are your comments at this?

Answer: Yes! It is true. As I said earlier, not all of the people wanted separation. But out of fear of Mukti Bahni, other militants and the prevalent political environment, they remained quiet. But now, as I interact with my friends from Bangladesh, they express great nostalgia for those days once the two Wings were one country and also quietly refer to the unfair deal that they are now being subjected to by their mighty neighbour and especially mention construction of huge dams by India that have dried up Bangladeshi rivers.

Question: Was Government of Pakistan allowed to function by Mukti Bahini after 1st March 1971? What was the situation on ground?

Answer: No. Government of Pakistan wasn't allowed to function after 1st March. Government officials were forced to take orders from Sheikh Mujeeb or party leaders of Awami League. It was a mutiny against the State. Even within Army, Bengali soldiers were provoked by Mukti Bahini to take up arms against Punjabis (West Pakistanis). Army was confined to the cantonments due to their less strength. After arrival of more troops, Army started operations from 25/26th March onward and subsequently, managed to restore peace in major cities and towns. However, it was extremely difficult for the Army to completely check the cross-border movement. The Army troops were less in number whereas they were required to guard a very long porous border with India. The porous border was extremely conducive to a guerrilla like warfare that was fully backed by India. The difficult terrain, forests, rivers, lakes and climate all compounded the difficulties for Pakistan Army. It became extremely difficult to sustain the logistic support. Along with other difficulties, the logistics difficulties compounded by two factors: internally, due to sabotage activities it became extremely difficult to maintain a far stretched army, and, externally Indians denied a direct access between two parts of the country separated by 1000 miles. The PIA had to operate its flights to Dhaka via Sri Lanka. For any army to fight a successful war, the whole hearted support of the local population is very vital. Unfortunately, the fast paced events and the shortsightedness of our leadership was in no way helpful for Pakistan Army which was suddenly faced with hostile local population.

Question: In your opinion why we could not counter Indian propaganda effectively?

Answer: Indians had been working on various fronts for very long to promote their anti Pakistan agenda. Our own mistakes on ground helped Indians achieving their designs against us. The world appeared willing to believe stories of atrocities spun by Indian media. When military operation started against the people who had taken law in their hands, foreign journalists were asked to leave East Pakistan. As a result, they all packed up and camped in Calcutta. They did not have direct access to the information and were dependent on feed back by India which also facilitated in promotion of Indian perspective of this issue at international level and turned international sentiments against us.

Question: In your views, how we should have tackled Indian intrusion and subsequent aggression, and how could we have resolved domestic issues to avoid such a tragedy?

Answer: The best way was to hand over government to Awami League after their land slide victory in elections. There was no harm in having a Prime Minister from East Pakistan if the party had won majority. The interest of Pakistan would have been served better had East Pakistan been allocated more than its share to bridge the gap that existed in the income level of the two Wings. This would have served to create the goodwill among East Pakistanis for the people from West Pakistan. We must remember that domestic unrest paves the way for foreign intrusion. India was clever enough to exploit the situation. Muslims ruled the Subcontinent as a minority for almost eight centuries. Hindus always carry this grudge and it may take centuries to change their mindset.

Even now India is involved in unrest in Balochistan and other areas. But Indian propaganda and media is so strong that negative Indian role is never exposed. Everyone one in the media talks about Mumbai incident and maligns Pakistan, but we have heard very little of the Samjhota Express incident and the terrorism unleashed by Hindu extremists. Indian extremist attitude will grow further in the days to come as is evident from the rise of certain political elements and their brazen hostility towards Muslims living in India and Pakistan. We must have peace with India, but with dignity, honour and on the basis of sovereign equality.

We must remember that our forefathers left their homes, businesses and properties and came to Pakistan for the sake of respect and dignity that was difficult to maintain in a Hindu majority state. Their vision and sacrifices must not be forgotten so easily and so quickly. I fail to understand that why are we shy of exposing the accesses committed by India to the world community? The quest for peace is not a one way street. Both the countries should meet each other halfway.

Question: What lessons we should apply to bring peace in many troubled areas in Pakistan under present circumstances? Any suggestions for national integration and progress of the country.

Answer: To me, the most important factor to achieve national integration and progress is by following true democratic norms in the country. This can only be ensured through formation of democratic and empowered local governments at district and union council levels. Democratic culture will never take roots unless we raise the structure from bottom-up. This system should be made a permanent feature through constitutional amendments. The benefits of provincial autonomy must travel down to the people at the lowest administrative level of the province. We must carryout review of our governance system of last 65 years. The flaws that kept us away from progress must be reviewed in the best interest of the country.

Moreover, I support creation of more provinces on administrative grounds, not on ethnic basis. It shall bring more prosperity in all parts of Pakistan.

08
December

جب جذبے ہوں جواں

تحریر: صبا زیب


برطانیہ میں منعقد ہ بین الاقوامی کیمبرین پیٹرول میں پاکستان آرمی نے چار مرتبہ گولڈ میڈل حاصل کیا۔ رواں برس گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ٹیم کے ساتھ ایک ملاقات

 

ایکسرسائزکیمبرین پیڑول کا نام سنتے ہی ویلز کا یخ بستہ موسم، سنگلاخ پہاڑ اور دنیا کے سخت جان فوجی ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے ذہن میں آنے لگتے ہیں۔ انہی فوجیوں میں پاکستانی فوج کے جوان بھی شامل ہیں جو ملک کے اندر تو دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہیں ہی۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک سے باہربھی بین الاقوامی سطح پر دنیا کی بڑی فوجوں کے ساتھ مقابلے میں اپنی ہمت اور دلیری کا سکہ بٹھا رہے ہیں۔ مسلسل تیسری بار ایکسرسائزکیمبرین پیڑول میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے پاکستانی فوجی عام فوجی تو نہیں ہو سکتے کیونکہ اس ایکسرسائز میں ایک ہزار سے زائد برطانیہ کے فوجی اور 28بین الاقوامی فوجی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔برطانوی فوج کی 160بریگیڈ ہر سال اس مقابلے کومنعقد کرواتی ہے۔
ایکسرسائزکیمبرین پیڑول کا ایونٹ اپنے انداز کا ایک منفرد اور دنیا کا سب سے بڑا فوجی ایونٹ ہے۔ یہ ایک
Long Range
پیٹرول مشق ہے جس کا دورانیہ 48گھنٹے ہوتا ہے۔ اس میں تقریباً 50میل تک کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس میں حصہ لینے والوں میں
Navigation
کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ جسمانی برداشت کو بھی جانچا جاتا ہے۔ اس
Patrol
کا آغازبرطانوی فوج نے 1960میں کیا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان نے 2005 سے اس میں حصہ لینا شروع کیا اور اب تک گیارہ بار اس
Patrol
میں حصہ لے چکا ہے۔

jbjazbayhun_jawan.jpg
پاکستانی فوج کی 59پنجاب رجمنٹ نے کیمبرین پیٹرول میں دوسری بار حصہ لیا اور دونوں بار گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے لئے ٹیم کے انتخاب کا معیار یہ ہے کہ پہلے پاکستان میں مختلف ٹیموں کے مابین لوکل سطح پر مقابلے منعقد کروائے جاتے ہیں جنہیں پاس کرنے کے بعد آرمی کی سطح پر ایک مقابلہ رکھا جاتا ہے جو ٹیم اس مقابلے میں جیتتی ہے وہ کیمبرین پیٹرول میں حصہ لیتی ہے۔ انگلینڈ جانے سے پہلے اس ٹیم کی ٹریننگ ایسے علاقوں میں کی جاتی ہے جو ویلز کے علاقے سے ملتے جلتے ہوں تاکہ وہاں جا کر ٹیم موسم کی سختی کو برداشت کر سکے۔ ایکسرسائز کیمبرین پیٹرول میں 59 پنجاب رجمنٹ کی گیارہ رکنی ٹیم نے حصہ لیا۔ جن میں میجر جواد جمیل، کیپٹن محمدعثمان افضل، لیفٹیننٹ عبدالرحیم، حوالدار بابر عدیل، حوالدار غلام مصطفی، نائیک محمدآصف، لانس نائیک قیصر عباس، لانس نائیک ناصر علی، لانس نائیک محمداشفاق، سپاہی وقاص احمد اورسپاہی محمدنذیر شامل ہیں۔ اس ٹیم کی ٹریننگ جونیئر لیڈرز اکیڈمی شنکیاری میں کی گئی۔ میجر جواد جو کہ اس ٹیم کے انتظامی انچارج تھے، نے بتایا کہ ہم مقابلہ شروع ہونے سے تقریباً 10-15 دن پہلے وہاں چلے جاتے ہیں۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم ویلز کے موسم کے عادی ہو جاتے ہیں۔ پھر مشترکہ ٹریننگ شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ ایسے ہتھیار استعمال کرنا ہوتے ہیں جو ہمارے لئے نئے ہوتے ہیں کیونکہ مقابلے میں ہتھیار ہمیں
U. K. Army
کے استعمال کرنا ہوتے ہیں۔ کچھ
Drills
بھی ہمیں ان کے ساتھ کرنی ہوتی ہیں۔ ان سے کچھ سیکھتے اور
Adopt
کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی ٹیم
U. K.
جاتی ہے تو اس کی میزبانی کوئی برطانوی رجمنٹ کرتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کی میزبانی پچھلے تین سالوں سے 32انجینئرز کر رہی ہے۔


ٹیم کپتان ،کیپٹن محمد عثمان افضل نے بتایا کہ ان کے لئے ویلز میں سب سے بڑا چیلنج وہاں کا شدید سرد موسم تھا۔ اس لئے وہاں کچھ بھی آسان نہیں تھا۔ کچھ اہداف ایسے تھے کہ جن تک پہنچنے کے لئے پانی سے بھی گزرنا پڑتا تھا بلکہ وہاں جگہ جگہ پانی تھا۔ راستوں میں پانی اتنا تھا کہ پائوں پورے کا پورا اندر دھنس جاتا اور چاریا پانچ کلومیٹر چلنے کے بعد جرابیں تبدیل کرنی پڑتی تھیں۔ وہاں اچانک بارش شروع ہو جاتی یا اچانک دھوپ نکل آتی۔ موسم کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔کیپٹن عثمان کا کہنا تھا کہ شائد ہی کوئی ایسا ملک ہو جس نے مسلسل تین بار
Cambrian Patrol
میں گولڈ میڈل جیتا ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان آرمی کتنی پروفیشنل ہے۔
Cambrian Patrol
میں جب
Task
دیا جاتا ہے تو بہترین نتائج حاصل کرنے کے لئے ایک ماڈل بنایا جاتا ہے۔ اس ماڈل کو دیکھ کر ہی ٹیم کیپٹن اپنے ساتھیوں کو احکامات دیتا ہے۔ ہمارا اس بار بنایا گیا ماڈل بھی بہت پسند کیا گیا اور اسے بیسٹ ماڈل کہا گیا۔
کیپٹن عثمان نے بتایا کہ ہر ٹیم میں 8افراد حصہ لیتے ہیں جبکہ 2افراد ایسے ہوتے ہیں جو ایمرجنسی کی صورت میں ٹیم میں شامل کئے جاتے ہیں۔ کچھ ٹیمیں دس بارہ گھنٹوں میں ہی
disqualify
ہو جاتی ہیں بہت لوگ زخمی ہو جاتے ہیں اگر ایک ٹیم میں دو سے زیادہ لوگ زخمی ہو جائیں تو وہ ٹیم مقابلے سے نکل جاتی ہے۔ ہر سال نئی چیزیں شامل کی جاتی ہیں اس کے لئے ہم ایک
Broad Training
کرتے ہیں۔ جس میں ہم زیادہ سے زیادہ چیزیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مستقبل میں نئی ٹیم کے گولڈ میڈل لینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میجر جواد نے کہا کہ
Cambrian Patrol
پر جانے والی ٹیم کو چاہئے کہ وہ اپنی ٹریننگ کو بہت اچھی طرح پورا کریں اور جونیئر لیڈرز اکیڈمی جو کہ اس ٹریننگ کی ذمہ دار ہے کو چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ تجربہ کار اور کوالیفائیڈ سٹاف کے ساتھ ساتھ پہلے سے جیتی ہوئی ٹیموں کو بھی اس ٹریننگ کا حصہ بنائیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ وسائل کو بروئے کار لانا چاہئے کیونکہ اس
Patrol
میں صرف جسمانی فٹنس ہی نہیں بلکہ ذہنی تندرستی اور استعداد بھی دکھانی ہوتی ہے۔ کیپٹن عثمان کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ ہماری اکیڈمی کا ٹریننگ لیول بہت اچھا ہے۔ اسے ایسے ہی کام کرنا چاہئے اور ساتھ ساتھ تجربہ کار لوگوں کو بھی لازمی شامل کرنا چاہئے۔ ٹیم کو بھی چاہئے کہ پوری ایمانداری کے ساتھ ٹریننگ حاصل کرے اور ملک و قوم کے لئے فخر کا باعث بنیں۔

sipwaqas.jpg
سپاہی وقاص احمد
ہمارے لئے یہ بہت ہی فخر کی بات تھی کہ ہماری یونٹ دوسری بار اس مقابلے کے لئے جا رہی تھی اور جب ہم نے دوسری بار بھی گولڈ میڈل حاصل کر لیا تو یہ فخر دوگنا بڑھ گیا کہ یہ نہ صرف ہماری یونٹ بلکہ ہمارے ملک کے لئے بھی اعزاز تھا۔

naikmasif.jpg
نائیک محمد آصف
ہمارے لئے یہ اس لئے بھی قابل فخر ہے کہ ہم نے نہ صرف اس سال گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ پچھلے سال کے گولڈ میڈل کا دفاع بھی کیا اور اس کے لئے ہم اﷲتعالیٰ کے جتنے بھی شکرگزار ہوں کم ہے۔

naiknabar.jpg

حوالدار بابر عدیل
2005سے ہم اس
Cambrian Patrol
میں حصہ لے رہے ہیں۔ اب تک پاک فوج کے جوان چار مرتبہ گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں جو ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ اس میں ہماری محنت کے ساتھ ساتھ قوم کی دعائوں کا حصہ بھی ہے۔ خاص طور پر انگلینڈ میں مقیم پاکستانیوں نے ہمارے لئے بہت دعائیں کیں۔

 

Follow Us On Twitter