14
July

منور سعید

Published in Hilal Urdu July 2015

منور سعید کو فلم نگری سے دور رکھنے کے لئے ان کے والد سید مسعود حسن نقوی نے بہت کوشش کی اور شرط عائد کی کہ پہلے ا نجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرو لیکن انجینئرنگ کی مشکل تعلیم بھی منور سعید کی ذات میں چھپے حقیقی فنکار کو دبا نہ سکی اور شوبز میں آ ہی گئے۔ منورسعید ایک خودرو پودے کی طرح ابھرے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے تناور درخت کی صورت اختیار کر گئے جس کی شاخیں ریڈیو، تھیٹر، ٹی وی اور فلم میں پھلی پھولیں۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے قصبہ امروہہ کی سادات بستی کا یہ نوجوان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ادبی ماحول میں پروان چڑھایا اور پاکستانی تفریحی صنعت کے آسمان پر پانچ دہائیوں سے روشن ستارے کی مانند درخشاں ہے۔ اس عظیم فنکار کی زندگی اورفنی کیرئیر کے حوالے سے ہلال کے قارئین کے لئے قاسم علی نے ایک خصوصی انٹرویو کیا جو حسب ذیل ہے۔

سوال: آپ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں ، بچپن کہاں گزرا، تعلیم کہاں مکمل کی ؟

جواب: میری پیدائش امروہہ ضلع مراد آباد ہے ۔ امروہہ اترپردیش (یوپی)کا ایک قصبہ ہے۔ سیدوں کی بستی ہے اورامروہہ سادات کے نام سے مشہور ہے۔ میںیکم جولائی انیس سو اکتالیس میں پیدا ہوا،ہم لوگ بھی سید ہیں، میں نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی پھر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ چلا گیا۔وہاں میں نے بی ایس سی تک پڑھا، پھر انیس سو ساٹھ میں پاکستان آگیا، یہاں آکر میں نے کراچی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سے انیس سو سڑسٹھ میں میری انجینئرنگ مکمل ہوئی ، پھر یہیں کالج میں مجھے آفر ہوئی اور میں پڑھانے لگا۔

سوال: فن اداکاری کو اتفاقیہ جوائن کیا یا باقاعدہ پلاننگ کے تحت اس فیلڈ کا حصہ بنے؟

جواب: میرے والدسید مسعود حسن نقوی بڑے پائے کے ایڈووکیٹ تھے اور اولاد پر ان کابہت رعب اور دبدبہ تھا لیکن بچپن سے میرا شوق اداکار بننا تھا، ابا نے شرط لگائی تھی کہ انجینئرنگ کرلو پھرجو جی چاہے کرتے رہنا، میں نے ان کی شرط پوری کردی، اس کے بعد میں نے یہ پروفیشن اپنالیا ۔

سوال: ابتدا ریڈیو سے ہوئی یا تھیٹر سے، ٹی وی پر کس نے متعارف کروایا؟

intmunawar1.jpgجواب: انیس سو ساٹھ میں جب ہم کراچی منتقل ہوئے توتعلیم کے ساتھ ساتھ میں نے ریڈیو جوائن کرلیا، ساتھ ہی میں خواجہ معین الدین کے گروپ ’’ڈرامہ گلڈ‘‘ سے منسلک ہوگیا۔ مرزا غالب بندر روڈ پر، تعلیم بالغاں، لال قلعے سے لالو کھیت اور وادی کشمیر جیسے ڈراموں میں کام کیا‘ پھر انیس سو سڑسٹھ میں کراچی میں ٹی وی آیا تو وہاں بھی کام شروع کردیا، ٹی وی پر میرا پہلا ڈرامہ’’مجرم‘‘ زمان علی خان نے پروڈیوس کیا تھاپھریہ سلسلہ چل نکلا۔ بے شمار ڈرامے کئے جن کو لاہور میں بھی لوگوں نے دیکھا، انیس سو ستر میں مجھے لاہور سے فلم کی آفر ہوئی، لقمان صاحب اور باری ملک صاحب کی پنجابی فلم تھی ’’ماں دا لال‘‘ جس کے ڈائریکٹر ایم جے رانا تھے ، جگدیش آنند کی فلم ’’صبح‘‘ کی بھی مجھے آفر ہوئی، لاہور منتقل ہونے کے بعد میں نے چاروں میڈیمز میں کام کیا جس میں فلم ، ٹی وی ، ریڈیو اور سٹیج شامل ہیں، میں تقریباً چالیس برس لاہور رہا ، جب فلم پر برا وقت آگیا اور پرائیویٹ پروڈکشنز شروع ہوئیں تو میں کراچی شفٹ ہوگیا ، اسی فیصد ڈرامے کراچی میں ہی بنتے ہیں‘ میں دو ہزار چھ سے کراچی میں ہوں۔

سوال: تحریک آزادی کے رہنما مولانا محمد علی جوہر کی ذات کو آپ نے ٹی وی کھیل ’’ آزادی کے مجرم‘‘ میں پیش کیا ، اس کردار کے لئے آپ نے کیا خاص تیاری کی تھی ؟

جواب: محمد علی جوہر صاحب کی والدہ امروہہ کی تھیں جہاں میں پیدا ہوا تھا اس حوالے سے ان کے خاندان کے لوگوں سے بھی میری کچھ ملاقاتیں رہیں، پھرعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بھی مولانا کا تعلق تھا۔ وہ ہم سے بہت سینئر تھے، میری پیدائش سے پہلے ان کا انتقا ل ہوچکا تھا لیکن ان کے بارے میں بہت پڑھا تو وہ چیز میرے بہت کام آئی۔

سوال: ہمارے ہاں قومی اہمیت یا ہیروز کی قربانیوں پر کھیل اب کیوں نہیں بنتے؟

ہمارے پروڈیوسرز کے دماغ میں یہ بات پھنس گئی ہے کہ وہ کام کرو جس سے ریٹنگ بڑھے ، چاہے جتنا بھی گھٹیا کام کیوں نہ ہو بس ریٹنگ بڑھ جائے ، لہٰذا آج کل جو ڈرامے بن رہے ہیں ان میں نوے فیصد وہ ہیں جن میں طلاقیں ہو رہی ہیں، ساس بہو کا جھگڑا چل رہا ہے، خواتین دیکھتی ہیں،سو اسی ڈگر کا کام ہورہا ہے

جواب: ہمارے پروڈیوسرز کے دماغ میں یہ بات پھنس گئی ہے کہ وہ کام کرو جس سے ریٹنگ بڑھے ، چاہے وہ گھٹیاترین کام ہی کیوں نہ ہو بس ریٹنگ بڑھ جائے ، لہٰذا آج کل جو ڈرامے بن رہے ہیں ان میں نوے فیصد وہ ہیں جن میں طلاقیں ہو رہی ہیں، ساس بہو کا جھگڑا چل رہا ہے، خواتین دیکھتی ہیں،سو اسی ڈگر کا کام ہورہا ہے حالانکہ موجودہ حالات میں حب الوطنی کے حامل ڈراموں کی اشد ضرورت ہے، سرکاری ٹی وی نے تو ہاتھ پاؤں چھوڑ دئیے ہیں ، وہاں پروڈیوسرز نے یہ سوچ لیا ہے کہ شاید پی ٹی وی دیکھتا ہی کوئی نہیں ہے حالانکہ یہ غلط ہے پی ٹی وی آج بھی پی ٹی وی ہی ہے وہ ہمیشہ نمبر ون ہی رہے گا لیکن آپ کچھ کرکے تو دیں۔

سوال: ہمارے فنکاروں کی سیکنڈ لائن کیوں نہیں بن سکی؟

جواب: فنکار دو قسم کے ہوتے ہیں ایک خود ساختہ اور دوسرا بے ساختہ،خود ساختہ جو ہوتے ہیں وہ انگریزی کے بڑے بڑے لفظ بول کے ، مشہور رائٹرز کے نام بول کر گفتگو کرتے ہیں اور ایک طرح سے دھواں اور گرداڑاتے ہیں لیکن یہ گرد کبھی نہ کبھی بیٹھتی ضرورہے، یہ ہمیشہ نہیں رہتی اور جب یہ گرد بیٹھ جاتی ہے تو پھر بے ساختہ فنکار کا چہرہ سامنے آتا ہے اور یہ چہرہ ہمیشہ سامنے رہتا ہے تو انشااللہ انڈسٹری پر پھیلی دھول بھی جلد بیٹھ جائے گی اور بے ساختہ فنکاروں کے چہرے سامنے آئیں گے جو انڈسٹری کو ترقی کی جانب لے کرجائیں گے۔

سوال: تھیٹر اور ریڈیو کا تجربہ ایک فنکار کی تکمیل کے لئے کتنا ضروری ہے ،؟

جواب: بہت ضروری ہے خاص طور پر تھیٹر کا تو بہت ضروری ہے، تھیٹر میں ری ٹیک نہیں ہوتے جو آپ نے کہہ دیا وہی حرف آخر ہے لہٰذا تھیٹر کے فنکار میں احساس ذمہ داری بہت ہوتا ہے،ریڈیو آرٹسٹ کو آواز کے اتار چڑھاؤ کا استعمال سکھا دیتا ہے۔

سوال: ہمارے ہاں ڈرامے بن تو رہے ہیں لیکن اچھے ڈراموں کی تعداد کم کیوں ہے؟

جواب: آج کل ڈراموں میں کوئی محنت نہیں ہوتی، نہ ریہرسلز کا رواج باقی ہے ، اب تو فنکار سکرپٹ کو پڑھنا بھی گوارا نہیں کرتے، سکرپٹ رکھا رہتا ہے اور وہ موبائل پر لگے رہتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک جملہ توڑ توڑ کر ریکارڈ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد جب جوڑ دیا جاتا ہے توسین میں وہ تسلسل نہیں آتا جو آنا چاہئے۔ اب ہماری عادتیں خراب ہیں، ہم آج بھی سکرپٹ مانگتے ہیں جب تک شوٹنگ جاری رہتی ہے، وہ سرہانے رکھا رہتا ہے اور روز رات کو سونے سے پہلے میں اس کو دیکھتا ہوں، اب محنت کا رواج ختم ہوگیا ہے۔ کوالٹی ختم ہوگئی صرف کوانٹٹی باقی ہے، سب پیسے کمارہے ہیں۔

سوال: آپ لوگوں کے پسندیدہ فنکار ہیں یہ بتائیں آپ کے اپنے پسندیدہ آرٹسٹ کون ہیں؟

جواب: دلیپ کمار سب کے فیورٹ رہے ہیں وہی میرے بھی فیورٹ ہیں ، میں ان سے بہت متاثر تھا ، ان کی فلمیں دیکھیں، ان کا کام دیکھا، میں نے کے این سنگھ کوبہت دیکھا ، پران کو دیکھالیکن آج تک میرے کام میں کسی کو ان لوگوں کی چھاپ نظر نہیں آئی، متاثر ہونا اچھی بات ہے لیکن نقل کرنا بری بات ہے۔ کسی کی جلائی ہوئی روشنی میں اپنے لئے راستے بنانے سے بہتر ہے کہ اپنی جلائی ہوئی شمع کی روشنی میں راستہ بنایا جائے تو یہ راستہ آپ کا اپنا ہوگا، کسی کی نقل کرنا آپ کو زندہ نہیں رکھ سکتا۔ اسی لئے مجھ پر آج تک یہ چھاپ نہیں لگی کہ میں دلیپ کے اندازمیں ایکٹنگ کر رہا ہوں یا کسی اور کو کاپی کررہاہوں ۔ میر ا اپنا انداز ہے۔ اچھا ہے یا برا لیکن میرا اپناہے۔

سوال: شاعری سے لگاؤہے؟ پسندیدہ شاعر کون ہے؟

جواب: میرے پسندیدہ شاعرجون ایلیا ہیں جو رشتے میں میرے چچا بھی تھے۔ میری بیوی کے سگے چچا اور میرے ابا کے سگے خالہ زاد بھائی اور میرا ان کے ساتھ بہت وقت گزرا ہے ، ویسے تو جو پرانے شاعر ہیں جیساکہ غالب، لاجواب ، جوش ملیح آبادی، لاجواب ، لیکن جوتاثیر جون ایلیا کے کلام میں ہے وہ کم ہی شعرا کو حاصل رہی ہے ، جون ایلیا کے ہاں آپ کو غالب، میرتقی میر ، فیض یا جوش نظر نہیں آئیں گے کیونکہ جون نے اپنی جلائی ہوئی شمع کی روشنی میں اپنا راستہ بنایا ۔

سوال: موسیقی سے کتنالگاؤہے ؟ پسندیدہ گلوکار کون ہیں؟

جواب: مجھے زیادہ تر کلاسیکل اور سیمی کلاسیکل پسند ہے ، فلم کے حوالے سے بات کریں تو مکیش ، محمد رفیع، لتا منگیشکر ، میڈم نور جہاں ، مہدی حسن ، احمد رشدی ، استاد بڑے غلام علی خان ، استاد امانت علی خان ، فتح علی خان ، حامد علی خان صاحب میرے پسندیدہ ہیں، نصرت فتح علی خان جینیئس تھے لیکن ان کی آوازخراب تھی ، میرے خیال میں وہ بہت بڑے کلاسیکل گائیک نہیں تھے۔ قوال فیملی سے تھے ، کلاسیکل کا تھوڑا بہت علم تھا لیکن وہ جینیئس فنکار تھے، انہوں نے اپنی قوالی کو جس انداز سے انگریزی موسیقی سے ملایا اس سے ان کی آواز امر ہوگئی ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کی آواز میں خامی تھی، ان کی آواز دبی ہوئی تھی‘ بحرحال وہ جینیئس فنکار تھے ۔ انہوں نے بہت نام بھی بنایا، استاد سلامت علی اور استاد نزاکت علی کو سامنے بیٹھ کر سنا ہے ۔ غلام علی کی عمر زیادہ ہوگئی لیکن وہ آج بھی بہت اچھا گاتے ہیں۔

سوال: آپ کے کتنے بچے ہیں اور وہ کیا کر رہے ہیں ؟

جواب: میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ میرا بڑا بیٹاظفر مسعود بڑے اچھے لیول کا بینکر رہا ہے وہ بارکلیز بینک کا ایم ڈی تھا اب اس نے بینک چھوڑ کر اپنی کمپنی بنالی ہے، چھوٹا بیٹابھی بینکر ہے وہ سٹی بینک میں ہے اور اس کی پوسٹنگ ان دنوں الجیریا میں ہے۔ تیسرے بیٹے کا نام علی مسعود سعید ہے وہ میرے نقش قد م پرچلتے ہوئے شوبز کا حصہ بناہے اور ڈائریکشن کررہا ہے۔بیٹی زینب امام سب سے چھوٹی ہے‘ وہ یونیورسٹی آف شکاگو سے ماسٹرز کر رہی ہے۔

سوال : آپ کو کون کون سے اعزاز مل چکے ہیں ؟

جواب: مجھے پاکستان کے تقریباً سبھی ایوارڈ ملے ہیں، مجھے جنر ل پرویز مشرف نے دو ہزار تین میں پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا، انہیں میں بہت پسند بھی کرتا ہوں کیونکہ وہ سچے آدمی ہیں۔بڑے فخر سے میں نے ایوارڈ لیا اور بڑے فخر سے میں نے گھر میں ان کی فوٹو بھی لگا رکھی ہے۔ مجھے نگار ایوارڈ ملا، مجھے گریجویٹ اور بولان ایوارڈ بھی ملے ہیں اور سب سے بڑھ کر عوام کا پیار ملا جس کا میں جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔

سوال: ملک کے موجودہ حالات خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟

جواب: میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس وقت ملک میں جو نظام ہے وہ کافی حد تک ناقص‘ کرپٹ او ر غیرمؤثر ہو چکا ہے۔ اگر نگاہیں اٹھتی ہیں تو صرف پاک فوج کی طرف، اور کسی طرف نہیں ۔۔۔ تو ہمیں ساری اُمیدیں فوج سے ہی وابستہ ہیں۔بس اللہ پاک جوانوں کو کامیابیاں عطا فرمائے، عزتوں سے نوازے، ہمیں آج اتحاد کی بہت ضرورت ہے۔ کچھ لوگوں نے تنقید اور خاص طور پر دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ ہمیں بات کرتے ہوئے اچھے اور برے کی تمیز اور ملکی مفادات کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔

کسی کی جلائی ہوئی روشنی میں اپنے لئے راستے بنانے سے بہتر ہے کہ اپنی جلائی ہوئی شمع کی روشنی میں راستہ بنایا جائے تو یہ راستہ آپ کا اپنا ہوگا، کسی کی نقل کرنا آپ کو زندہ نہیں رکھ سکتا۔

سوال: سرحدوں کے محافظ فوجی بھائیوں کے لئے کیا پیغام ہے؟

جواب: سرحدوں پر متعین ہمارے جوان قوم کے عظیم سپوت ہیں، یہ جاگتے ہیں تو ہم راتوں کو سکون کی نیند سوتے ہیں، ا للہ پاک ہمارے فوجی جوانوں، افسروں اور قیادت کو اپنی امان میں رکھیں اور کامیابیوں سے نوازے‘زلزلہ‘ سیلاب‘ آپریشن ضرب عضب ہرموقع پر ان کی قربانیاں قابل تقلید ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہماری فوج کا وقار ہمیشہ بلند رکھے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
07
August

Interview Mr. Zafar Hilaly

Today, the challenge we face from the east, in terms of lethality, is no different than the one we face from the west. Both of them are existential challenges.

Asif Jehangir Raja

Mr. Zafar Hilaly is a renowned diplomat who had been Pakistan's Ambassador to several countries. His father Agha Hilaly migrated from India and is considered among pioneers of Pakistan Foreign Service. His uncle Agha Shahi was also a famous diplomat. In line with his family traditions, Zafar Hilaly also joined Pakistan Foreign Service. Besides other prestigious portfolios, he remained Special Secretary to the Prime Minister. He is a security and political analyst who regularly contributes for print & electronic media.

Hilal: This year we are celebrating 68th Independence Day of Pakistan. Your father Agha Hilaly migrated from India and is considered among pioneers of Pakistan's Foreign Service. He is also known to have close acquaintance with Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah. What are your memories of early days of Pakistan and what your father shared with you, particularly, with reference to dynamic leadership of Quaid-i-Azam?

ZH: On the 68th anniversary of our independence, it's worth recalling that many did not think we would exist for as long as we have. In fact, on or about our first anniversary in August 1948, Nehru declared that Pakistan would not have a life span of more than 25 years. And just the other day, Richard Armitage, the former US Deputy Secretary of State, said he was not sure whether Pakistan would last a further 25 years. A spate of recent books by American think tanks and former diplomats also hold out the prospect of Pakistan's impending demise. Well, Nehru was proved wrong; and there is every reason to believe that the other doomsayers will also have to eat their own words.

Yes indeed my father migrated from India to live in a part of the subcontinent he scarcely knew and had never visited, only because he believed in Jinnah and his cause. In fact, along with the others whom you describe as the 'pioneers' of Pakistan he, and his brother, Agha Shahi, readily gave up all they owned, including over a score of houses on a street named after their own father (Agha Abdullah) in Bangalore for the sake of Jinnah's Pakistan. I say this because when in 1950, as a very young boy, I grumbled to my mother about the modest accommodation assigned to us by government in Karachi, when compared to the virtual palace in which we lived in Bangalore, she suggested I keep quiet lest my father overhear. Later, when I finally did summon up the courage to ask father why he had decided to leave all his worldly possessions in India to trek to Pakistan; his answer, in one word, was, 'Jinnah', adding, 'and I have never regretted that decision.'

Yes, my father Agha Hilaly worked fairly closely with Jinnah as Pakistan's first de facto chief of protocol in 1948, although he never thought of himself as a 'friend' of Jinnah or even an 'acquaintance'; he was too much in awe of Jinnah to consider himself in those terms, besides he was much younger. It's probably more accurate to describe him as a devoted follower, a 'murid', if you like, of the man he revered as 'the Quaid'. My father's reminiscences of working with Jinnah were many. I recall him remarking that Jinnah had no patience for the interminable pleasantries and aimless banter exchanged with foreign dignitaries during courtesy calls and how the Quaid had fretted because, for instance, his half-hour long meeting with the Saudi monarch in 1948 had consisted of nothing but pleasantries. He also recalled Jinnah feeling irked that the Shah of Iran, a young man in 1948, seemed so tongue tied during their meeting that he hardly uttered a word. Luckily the Foreign Secretary (or was it the Foreign Minister at the time?), who was also present at the meeting, came to the rescue and the meeting concluded on a pleasant note.

What impressed my father about the Quaid was the meticulous attention he paid to detail. There was nothing 'airy- fairy' about the Quaid. He wanted his subordinates to be 'boned up' on all aspects of the projected meeting, the proposals under discussion and to brief him, if the need arose. Apparently, Jinnah was fastidious in just about everything he did, including dress, deportment and his selection of words and phrases. Some of the Quaid's attributes must have rubbed off on my father because on one occasion, I recall him telling me (1961), with considerable pride that an Indian journal had declared him the 'best dressed Ambassador (High Commissioner) in New Delhi'. Sensing I was unimpressed by the accolade he had earned my father remarked, 'you don't seem to appreciate how important it is for a diplomat to be well dressed. By dressing well you not only tell a lot about yourself but also show respect for whomever you are meeting.' I suspect he recalled Jinnah too believing that. Of course, much has changed since then, though not in some countries like Italy, as I discovered. There, even today, 'Clothes maketh the man', as the saying goes.

Hilal: Quaid-i-Azam was known for Hindu-Muslim unity. Similarly, initially Dr. Allama Muhammad Iqbal also demanded for more political representation and economic rights for Muslim community. How do you view role of Hindu leadership and movements for Hindu revivalism that pushed Muslim leadership to the conclusion that it would be detrimental to the future of Muslims of the subcontinent to live alongside a highly prejudiced and narrow-minded Hindu majority in one country.

ZH: Yes, indeed, the attitude of Hindu nationalists in the Congress Party had a key role to play in the creation of Pakistan. Some believe, and I agree, that their role was unwittingly, of course, even greater than some Muslim League leaders, for example, the (Hindu) refrain that in an independent India the will of the (Hindu) majority would invariably prevail. It caused a great deal of concern among Muslims who feared for their future at the hand of Hindu revivalists (like Vallabhai Patel) who had come to dominate Congress policies. Even Nehru, who was considered more 'secular' than the rank and file Congress Party leader, was not prepared to accept that Muslim concerns had to be addressed and their fears assuaged if India was to remain united. Nehru believed that the time had come for Muslims to lump it, as it were, and accept Hindu dominance just as, I suppose, the Hindus had accepted Muslim (MUGHAL) rule. Jaswant Singh has pointed out how Jinnah, once known as the 'Ambassador of Hindu Muslim unity' among his fellow Congress Party members was slighted and made to feel unwanted in Congress by Nehru in the 1930s because he felt that Muslim apprehensions should not be ignored. Of course, the breaking point between Jinnah and Nehru and, in a sense, between Muslim and Hindu India came later, in 1946, when having accepted Jinnah's conditions for a united India, Nehru went back on his word very shortly afterwards. It was then that Jinnah declared he had no trust in Nehru, or the Congress, and that henceforth the Muslim League, of which he was by now the undisputed leader, would settle for nothing less than partition.

Frankly, that was probably just as well because, as we now know, Hindu bigots in Congress wished to reclaim India exclusively for the Hindus. For them even Mahatma Gandhi was far too accommodating of the Muslim viewpoint and, hence, an obstacle to militant Hindu rule, which is why, as we now know, he was assassinated by a Hindu fanatic (Naturam Godse) in 1947.

Hilal: Pakistan began its journey with virtually no economic assets, meagre share of defence forces and non-existent civilian bureaucracy. However, today despite enormous challenges, Pakistan has achieved many successes. How do you view this journey from a 14 August 1947 to 14 August 2014?

ZH: To say Pakistan began her independent journey with few, if any, assets is a gross understatement. I recall being told the Foreign Office did not even have paper for notes, summaries, etc. or the wherewithal to purchase them at the time of independence because the funds supposed to have been released for Pakistan's use had been withheld by India. Instead rolls of toilet paper served as writing material in the Foreign Office for several weeks after independence. So yes, the saga of Pakistan's rise, in the teeth of unremitting Indian hostility and the denial of her assets is one that deserves recounting, especially when we consider that the task was made infinitively more difficult by the huge influx of refugees that partition triggered and the administrative chaos that created for a fledgling nation.

But while succeeding generations must not forget all that, and the other travails and vicissitudes our elders endured, and how well we have done to reach the stage where we are at today, the fact is we are out of the woods as yet. In fact, the challenges we face today, at the hands of local and foreign zealots, and cunning enemies in neighbouring countries are, if anything, as serious a challenge to our independence and territorial integrity as any that we have faced in the 67 years since we gained our freedom. In other words, Pakistan's history is still in the process of being made. The present, therefore, is not the time for self–congratulations although, Inshahllah, that time too will come. The present is the time to make history and to make history bend in our direction.

Hilal: You have served for a long time in Pakistan's Foreign Service. Your father, Agha Hilaly, and paternal uncle Agha Shahi also remained top civil servants for Pakistan. In your opinion, what are major achievements of our foreign policy and where things went wrong that could have been avoided, or a better course had been chosen to safeguard Pakistan's national interests?

ZH: Pakistan's greatest foreign policy success has been the relationship we have been able to forge with China. It is in every respect an exemplary relationship and moreover one that ensures peace can subsist in our volatile environment notwithstanding India's hegemonic hilalyaspirations and crude attempts to impose her fiat on the smaller nations of the region. But we would do well to remember that like much else in life friendship too, much like loyalty, has to be continually nourished. It must not be taken for granted; hence, it is gratifying to see that every sphere of government and, in particular, the armed forces striving to maintain the closest possible cooperation with China.

Our gravest foreign policy failure has been our inability to convince the world that, like so many other people, Kashmiris too must be permitted the right of self-determination, as was promised to them by India, Pakistan and the UN itself in numerous UNSC resolutions. The Kashmir cause is a great moral cause but somehow it has not caught the imagination of the world like ending apartheid in South Africa did not long ago. Our stance that the Kashmir dispute must be settled peacefully in accordance with the wishes of the Kashmiri nation is the right one and we must not, merely for the sake of pleasing India, or a phony peace, give up our principled stance or forsake the Kashmiris.

As great a failure has been our inability to forge the closest possible relations with our neighbours, Iran and Afghanistan. The fault is not entirely ours, especially in the case of Afghanistan, which stubbornly lays claim to Pakistan territory and connives with India to harm Pakistan. But that said, had we made the right kind of approaches to Kabul earlier, like we did in the last days of the Daoud regime (1978) and generally shown more imagination in handling Kabul, who can say we would not have succeeded in overcoming the suspicion and distrust that presently sour relations. Indeed, matters have reached a pass today that both countries not only accuse each other of harbouring and providing succor to their respective enemies but also actively helping them to launch attacks against the other. I have always believed our policy towards Afghanistan should be non-interventionist, trade oriented, non ideological, focused on genuine national interests and undergirded by an inflexible bias towards neutrality in other people’s wars and repeatedly pointed this out to the powers that be while I was in service. Needless to say it earned me no kudos.

However, it is the vital relationship with Iran that we have consistently failed to get right and has been our greatest foreign policy failure. It has deprived us of the vast economic benefits that an assured supply of energy would generate for the economy and the improvement it would bring about in the quality of the people’s lives. It beggars the imagination that 67 years on, not a single oil pipeline links energy-starved Pakistan with an oil exporting country of the magnitude of neighbouring Iran. It is no less astonishing, given our geographical location, common religion and cultural ties that not a single bilateral treaty binds the two countries to come to the assistance of the other in times of peril or need. We have signed defence treaties and joined alliances with countries seven seas away from Pakistan but not even one with our neighbour Iran. The lapse is so glaring and logically so inexplicable that I, for one, have never been able to discover a plausible explanation.

Another failure was the decision, very soon after independence, to take the side of the West in the ongoing cold war at that time. We were seen as having sold ourselves to the West and although few believe, it caused any lasting damage, which was not the case. The Soviet Union, for example, was alienated and blocked all moves in the UNSC to implement the resolutions of the Security Council on Kashmir although earlier these had been passed unanimously. Moreover, at a key moment during the Bangladesh crisis, the Soviet Union signed a military alliance with India, in effect giving India military cover to invade East Pakistan without having to worry about the Chinese and US reaction.

Both Agha Hilaly and Agha Shahi were strongly opposed to the uncritical relationships Pakistan forged with the West during the Cold War. Agha Hilaly nearly lost his job over his opposition to Pakistan joining SEATO. And it was Agha Shahi who finally persuaded ZA Bhutto to adopt a non-aligned posture when it came to choosing between the capitalist and communist worlds rather than be too clever by half and promise unstinted support to the West out of one corner of his mouth and the same to the Soviets out of the other corner as Bhutto would do on occasions. Eventually in 1982, Agha Shahi resigned as Foreign Minister, ostensibly on health grounds, but actually because of differences over the direction of our Afghan policy and the posture, our leaders adopted towards the US.

Again, it was Agha Shahi who masterminded the UN campaign to win China's admission and, as it happened, it was Agha Hilaly who acted as the messenger/ adviser to both Presidents, Yayha Khan and Nixon, in the now historic rapprochement between China and the US. As a measure of US gratitude President Nixon offered Agha Hilaly US citizenship, which he politely declined. However, he did accept Prime Minister Chou en Lai's invitation to pay an 'official' visit to China even though he was by then (1974) a private citizen, having retired from service two years earlier. The invitation to pay an official/state visit, as PM Chou reminded Agha Hilaly during a dinner in his honour, was 'a unique invitation' and indeed since then a Chinese prime minister has not extended a similar invitation to any 'private' Pakistani citizen.

Hilal: You remained Pakistan's ambassador to Italy, Yemen and Nigeria. In your view, what are the essentials for a successful diplomacy and a diplomat?

ZH: To be a good diplomat one need to have a cool head, a cold heart, a smiling countenance (preferably) and a facile pen, in other words, good powers of expression and excellent communication skills. But that's not all, he also needs to have a profound knowledge of the host country's history and geography and an innate ability to discern where important differences exist, and if no solution can be found, how best to manage them, so that relations remain on an even keel. In other words, to dwell on the positive things that draw the two countries together and do everything that will help reduce friction. All of which requires experience and the right training and background. But just as you cannot clap with one hand so a diplomat's efforts to bolster relations with the country of his accreditation will flounder if he receives no support from his parent office or the government of the day. Alas, regrettably, that happens all too often, as I know from personal experience.

Hilal: Today Pakistan is facing internal as well as external threats. How do you view security challenges for Pakistan from eastern and western neighbours?

ZH: Today, the challenge we face from the east, in terms of lethality, is no different than the one we face from the west. Both of them are existential challenges; let us make no mistake about that. And both must be met with a judicious mix of diplomacy, discussion, state manoeuvring and force. However, we face another challenge, which you have not mentioned, although it is no less vital to our survival, and that is the challenge posed by poor governance and bad leadership. And it is this challenge that should take precedence over the external challenges because if we can get governance right, and are able to meet the very basic requirements of our people, the other challenges will become much easier to confront and the prospects of success immeasurably improved.

Hilal: Over a period of time Indians are following a diplomatic pattern whereby they emphasize on normalization of trade and socio-cultural relations with Pakistan without even mentioning of core issues between two countries. How do you see peace prospects in South Asia with a hegemonic India not ready to listen to others' grievances?

ZH: Precisely because the Indians are behaving in the manner you have correctly described, I see the prospects of improved relations with India as virtually nil. On the other hand, recent developments suggest the possibilities of greater confrontation and perhaps even conflict is very real. The election of Modi is a clear sign of popular bellicosity in India when it comes to dealing with Pakistan; the hysteria of the Indian media and the propaganda against Pakistan whenever there is an incident on the border or LOC; and the proclivity of Indian Army Chiefs to threaten Pakistan every now and then all suggest that India is spoiling for a fight. In the circumstances, I won't be surprised if the very first incident on the border, or perhaps a false flag operation, will result in a major trial of strength. It is for this reason that on no account can we afford to see our defences weaken even as India's massive rearmament programme gathers speed and new weapon systems are inducted, in particular new anti- missile weaponry. We must do whatever is needed to maintain an effective defence capability knowing that there are no prizes for having the second best military in a war. Meanwhile, Indian plans to weaken and bleed Pakistan by supporting anti Pak elements in Afghanistan and Balochistan are becoming more evident by the day. The seven Indian consulates located in the Afghan provinces bordering Pakistan reveal the nature and intent of Indian moves. These consulates are not there to promote tourism. Interestingly there are nearly a million Indian origin persons in Britain but India has only two consulates there whereas it has seven in Afghanistan although there are only 2160 Indians residing in Afghanistan.

And as India's presence in Afghanistan has expanded, so has Indian support for the Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP). It's no coincidence that cross border raids on Pakistan by TTP elements sheltering in Afghanistan have multiplied. Just as it's no coincidence that cooperation between the strongly India backed Kabul regime and the TTP has intensified, so much so that the second senior most figure in the TTP, Latifullah Mehsud was arrested by American forces while travelling in the company of a senior Afghan intelligence official. It seems it's only a question of time before the Pak-Afghan border region is transformed into an Afghanistan-India-Pakistan battleground with India actively backing Afghanistan. It's not, therefore, surprising that in the reckoning of some 'The Great Game' in Afghanistan has already resumed with new players and others are preparing to enter the fray to safeguard their own interests.

India is also busy improving relations with China to dilute the Pak-China alliance and further bolstering her strategic alliance with the US. Both moves are meant to ensure that Pakistan remains, in relative terms, militarily weak and diplomatically isolated. There is nothing cool, dispassionate or ritualistic about our antagonism with India. There is no clash of political ideologies or systems. What we have is historical and religious hatred on an unprecedented scale at a time when both countries are in the throes of full-blooded nationalism. India and Pakistan may want to escape from their history and geography but seem unable to do so. It's like a Greek tragedy. Both know the end but seem powerless to prevent it.

Hilal: How do you see post-2014 Afghanistan?

ZH: Afghanistan was never really a state in the accepted sense of the word. It only emerged as a country of sorts in the mid eighteenth century when Ahmed Khan, leader of the Abdali contingent in the Persian army of Nadir Shah, carved out a barrier between Persia and a crumbling Mughal Empire in India which was later to evolve into a buffer zone between Czarist Russia and British India. We could see Afghanistan disappear on the political map if the Pushtuns, Uzbeks and Tajik decide to link up with the other central Asian entities bearing their names or form their own autonomous republics. On the other hand, if Afghanistan were to fall under Taliban sway, a succession of radicalized states could come into being. Conversely if Afghanistan were to fall under Indian influence, India would be able to challenge Pakistan from the east and the west. I think Afghanistan's future is really up in the air and we will have to wait and see who the latest elections will bring to power, the extent of his support and how he proposes to deal with Pakistan.

Hilal: Your suggestions to combat religious extremism, sectarianism and ethnic militancy in Pakistan?

ZH: The only answer to combatting extremism, sectarianism and ethnic militancy is education, education and education. But even a revamped educational system won't work unless a holistic approach is adopted and planning at national, rather than provincial, a new/reformed system is implemented on an all Pakistan basis. In other words, every school in the country, including the most remote school in the Kaghan valley, must come within the purview of the new system and a central authority, which should also require the registration of all madarassahs and the strict supervision of their curricular and teaching methods. Moreover, funding of schools and madarassahs should, as a matter of course, be in the knowledge of the national education authorities and made available to the public on request.

Of course, the adoption of a new national education system will require an amendment to the Constitution, which presently designates education as a provincial subject. It may also require the creation of a special separate service perhaps called the Education Service of Pakistan with recruitment undertaken by the Central Public Service Commission for candidates with prescribed qualifications.

Only a good educational system will allow us to tackle the other major ills that afflict society such as indiscipline, corruption, social injustice, the cult of mediocrity, etc. And also tackle the cancer of ethnicity/ provincialism, which is so damaging to social morality and national unity. The greatest sufferer of provincialism is the nation itself because it has to contain the legitimate grievance of a wronged citizen; accommodate the incompetence of a favoured citizen and, most importantly, endure the decline of morale and efficiency caused by an erratic system of performance and reward. It's a bit like picking a 'Third and Fourth XI' to represent the country while ignoring the 'First XI' and still hoping to win the World Cup. A good yardstick to measure the quality of the country's leadership, and its political system, is the government's interest in education. It is no accident that with the exception of China, not one non-democratic country has even one university rated among the top 200 universities in the world. In fact, before Hong Kong's return to China, the best-ranked Chinese university ranked 47th in the world and given Russia's long history of dictatorship the best ranked Russian university today is ranked 210th. The obvious lesson to derive from these statistics is that when a leadership's base is narrow, higher education is for the children of the powerful: when it is big, it is for the betterment of everyone.

Hilal: It is often said that strong institutions are important for continuity of democracy in the country. As a political analyst, in your view how we can make our institutions strong so that they can perform in line with state's interests than any other temporary political consideration or influence?

ZH: I don't think I am qualified to address this question. But, what I would say, as someone who has had the opportunity to observe the working of governments at close quarters, is that the trouble with Pakistan, and our institutions, is simply and squarely a failure of leadership. There is nothing basically wrong with the Pakistani character. There is nothing wrong with the laws and the Constitution. There is not even anything wrong with our institutions and how they function. What is wrong is simply the unwillingness or inability of our leaders to rise to their responsibility and especially to the challenge of personal example, which is the hallmark of true leadership. I believe the character of one man at the top can bring about that quantum of change in a society that could be transforming. Jinnah did it and the pity is that 67 years on we await his true successor. Let me also add that the difference between different forms of government, like a dictatorship and democracy, is mostly a convenient fiction. Governments do not differ in kind but only how broad based they are, in other words, in the number of essential supporters. The size of this group determines almost everything about politics: what leaders can get away with and the quality of life (and misery) under them for the population as a whole.

Hilal: What message you would like to give to the youth of Pakistan on this Independence Day through pages of Hilal?

ZH: Reject those people, policies and habits, which cripple our chances of becoming a modern, progressive, tolerant and democratic Muslim country. Reject the world and slogans of make believe and unrealistic expectations because that's the commonest manifestation of under development. Don't believe that somehow through the power of prayer alone your problems will be solved. Admit that although your country is presently not a great country it can become one and that your generation will have to toil, and sweat, and fight, and die to make it great. And then ask Allah for the strength to make you do all that.

20
October

حسینہ معین

انٹرویو : عذرا انتصار

haseenamoeen.jpg

 

حسینہ معین پاکستان کی معروف ڈرامہ رائٹر ہیں۔ اُن کا نام سپرہٹ ڈرامے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔دل کی تاروں کو چھیڑتی محبت‘ نازک احساسات کی ترجمانی کرتے ڈائیلاگ اور اعلیٰ پائے کے مزاح کی جو کوالٹی

حسینہ نے دی آج تک کوئی ان کی ہمسری نہ کر سکا۔ماہنامہ ہلال کے لئے ان سے کی جانے والی گفتگو پیشِ خدمت ہے۔

 

س۔ ہمیں اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے،بچپن کیسا گزرا؟

ج۔ میرابچپن عام بچوں کی طرح گزرا۔ ہم لوگ 5 بہنیں اور 3 بھائی تھے۔میں اپنے والدین کی چوتھی اولاد تھی۔میرے والد صاحب کوبیٹیوں سے بہت محبت تھی۔نانا، نانی،چچا،چچی،ماموں، خالائیں بہت پیار کرنے والے لوگ تھے۔ میرے والد آرمی میں سویلین سائیڈپر تھے۔ قیامِ پاکستان کے موقع پران کو آپشن دیا گیا تھا کہ آپ پاکستان میں رہیں گے یا انڈیا میں؟تو میرے والد نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ ہمیں بذریعہ ٹرین بمبئی بھیجا گیا۔ گارڈز ہمارے ساتھ تھے۔ہم لوگ چھوٹے چھوٹے تھے۔ بڑا مزا آرہا تھا‘ٹرین کی چھکا چھک کے ساتھ‘ ہم بچوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ہم بھاگ کر کبھی ایک سیٹ پر جا بیٹھتے کبھی دوسری پر۔ ہمارے لبوں پر ایک ہی نعرہ تھا ’’پاکستان زندہ باد‘‘ جس کو سن کر ماں کی چھلکتی آنکھوں کے ساتھ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ جاتی۔ ماں کو اپنے عزیزوں سے بچھڑنے کا دُکھ تھا اور ہمیں اپنے آزاد وطن پاکستان جانے کی خوشی۔ میرا پہلا سفر، میری پہلی ہجرت، میری پہلی محبت، میرا پاکستان ٹھہرا۔۔۔۔۔

 

پاکستان پہنچنے کے بعد والد صاحب کی ٹرانسفر پنڈی میں ہوئی تھی۔ سارا شہر خالی تھا‘ ہمیں ایڈمنسٹریشن والوں نے کہا آپ جو مکان کہیں گے ہم کھول دیں گے۔لیکن والد صاحب رضا مند نہ ہوئے کیونکہ اس میں لوگوں کا سامان رکھا ہوا تھا‘ تو شروع میں آکر ہوٹل میں رہے۔بعد میں گھر کرائے پر لیا ۔یہاں جو پڑوسی بچے ملے ان کے ساتھ کھیل کود میں وقت اچھاگزرا۔ زندگی اس وقت بڑی خوبصورت لگتی تھی۔

 

س۔ تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ج۔ بعدمیں میرے والد صاحب کا تبادلہ لاہور ہو گیا۔ میٹرک میں نے ماڈل ٹاؤن سکول لاہور سے کیا تھا۔اس کے بعد کراچی چلے گئے۔میرے مین سبجیکٹس اردواورانگریزی لٹریچر تھے‘ جو مجھے بہت پسند تھے۔ ماسٹرز جنرل ہسٹری میں کیا‘ اس کے ساتھ بی ایڈ بھی کیا۔ ڈاکٹر محمود حسین ہمارے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے۔بہت پیارے انسان تھے اورمیرا بہت خیال کرتے تھے۔ سکول‘ کالج‘ یونیورسٹی کا دور میری زندگی کا بہترین دور تھا۔کالج میں‘ میں بہت شرارتی تھی‘ مجھے دِیول کہا جاتا تھا۔ہماری پرنسپل مسز رشید احمد بہت اچھی تھیں۔اکثر میری شکایت ہو جاتی تھی اور مجھے آفس میں بلا لیا جاتا وہ مجھے دیکھ کرکہتیں تم پھر آگئیں،لیکن کوئی سزا نہ دیتیں، وہ کہتی تھیں یہ بچی اتنی معصومیت سے شرارت کرتی ہے کہ کچھ کہنے کو جی نہیں کرتا۔

 

haseenamoeen1.jpg

س۔زمانہء طالب علمی میں کیا بننا چاہتی تھیں؟

ج۔میں کچھ بھی نہیں بننا چاہتی تھی۔ میرا کوئی خواب نہیں تھا۔ (ہنستے ہوئے)۔جب میٹرک کا امتحان ہو رہا تھاتو میری والدہ پریشان حال گھومتی تھیں اور میری بڑی بہنوں سے کہتی تھیں کہ خدا کے لئے اسے کچھ پڑھا دو۔ جس طرح یہ کھیلتی پھرتی ہے یہ تو پاس تک نہیں ہو سکتی۔ہم لوگ ماڈل ٹاؤن کی سڑکوں پر کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔پڑھائی کا خیال تک نہیں تھا۔

 

س۔لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟

ج۔اس وقت ٹی وی تو تھا نہیں اس لئے ریڈیو ہی سنا کرتے تھے ۔کالج کے زمانے میں ہی مجھے لکھنے کا موقع ملا۔ اس وقت میں سیکنڈ ائیر میں تھی۔ شان الحق حقی کی بیگم سلمیٰ آپاہماری اردو کی لیکچرر تھیں۔انہیں اندازہ تھاکہ میری اردو بہت اچھی ہے۔ جب ریڈیو پاکستان سے طلباوطا لِبات کا جشن تمثیل ہوا تو ہمارے کالج میں ایک لیٹر آیا کہ20منٹ کا ایک ڈرامہ چاہئے۔ سلمیٰ آپا نے مجھے لکھنے کو کہا۔میں نے کہاکہ ڈرامہ تو مجھے لکھنا ہی نہیں آتا۔وہ کہنے لگیں‘ جو کچھ سوچتی ہو وہ لکھ دو۔ میں نے کالج میں بیٹھ کر ہی دو تین دن میں ایک کامیڈی لکھی‘جوسلمیٰ آپا نے بھجوا دی۔آغا ناصر صاحب نے وہ ڈرامہ پڑھا‘ ان کو بہت اچھا لگا۔ انہوں نے اس کوخود پروڈیوس کیااورمیرے پہلے ڈرامے کو ہی انعام مل گیا۔یہ وہ موقع تھا جواللہ نے مجھے دیا۔ بی اے تک میں ریڈیو پاکستان کے لئے ڈرامے لکھتی رہی۔یونیورسٹی جا کر یہ سلسلہ رک گیا۔انہی دنوں جب ٹی وی آیا تو ان لوگوں نے میرا ریڈیو کاایک ڈرامہ بھول بھلیاں لیا اورمجھے کہا کہ اسے ٹی وی کے لئے لکھوں۔ ڈرامہ کامیاب ہو گیا۔یہ پہلا موقع تھا جب میں لوگوں کے سامنے آئی۔ اس کے بعد میں نے عید کا خصوصی کھیل’’عیدمبارک‘‘لکھا۔رومینٹک کامیڈی تھی، اس میں نیلوفر، علیم اور شکیل تھے۔ خوش قسمتی سے وہ بھی کامیاب ہو گیا۔اس کے بعد مجھے عظیم بیگ چغتائی کی کتاب پر ماڈرن دور کے مطابق سیریل لکھنے کو کہا گیا تو میں نے اسے ’’شہزوری‘‘کے نام سے لکھا۔اس زمانے میں یہ ڈرامہ بہت مشہوراور کامیاب ہوا۔اس میں مَیں نے اپنا ایک جملہ ’’میں بہت برا آدمی ہوں۔‘‘شامل کیا‘ یہ ڈائیلاگ بہت مقبول ہوا۔

 

س۔ کامیابی کے حصول میں کبھی کوئی مشکل پیش آئی؟

ج۔ مجھے ہمیشہ خدا نے کامیابی دی‘ میں نے اس کے لئے کبھی کوئی کوشش نہیں کی۔نہ ہی میں کبھی کسی کے پاس سکرپٹ لے کر گئی۔مواقع مجھے خود ہی ملتے چلے گئے۔خدا نے جس کو جو بنانا ہوتا ہے وہ بنا دیتا ہے۔جیسے کالج میں تھی تو ریڈیو سے پیغام آگیا۔یو نیورسٹی سے فارغ ہوئی تو ٹی وی والوں نے بلا لیا۔جب ’’شہزوری‘‘ختم ہوئی تو مجھے ایک اور ناول کی ڈرامائی تشکیل کرنے کو کہا گیا۔ میں نے کہا کہ میں ایک اور یجنل سٹوری لکھنا چاہتی ہوں۔ سکرپٹ پروڈیوسر نے کہا کہ ٹی وی پر ہفتے میں ایک ڈرامہ لکھا جاتا ہے۔وہی ریکارڈ ہوتا ہے۔ اگر آپ درمیان میں رُک گئیں تو کیا ہوگا۔ تو میں نے کہا ایسا نہیں ہو گا۔ انشاء اللہ۔ پھر میں نے ان کو ’’کرن کہانی‘‘لکھ کر دی۔جب میں نے ڈرامہ ’’پرچھائیاں‘‘ لکھا اور اس کی پہلی قسط دیکھی تو مجھے اس کی پروڈکشن اورکاسٹ پسند نہیں آئی۔ حالانکہ یہ ڈرامہ بہت بڑے پروڈیوسر نے کیا تھا۔ میں نے مزید لکھنے سے انکار کر دیا۔ لوگ حیران رہ گئے،کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے اس کاتو اعلان ہو چکا ہے۔ اس وقت کے لوگ بہت عزت اور خیال کرنے والے تھے۔ مجھے کہا گیا آپ بتائیں کہ کس سے ڈرامہ کروائیں گی۔ تومیں نے کہا کہ یہ ڈرامہ شیریں اور محسن علی ریکارڈ کریں گے۔ اسلام آباد سے ساحرہ کاظمی اور راحت کاظمی کو بلایا گیا اور انہوں نے اس ڈرامے میں کام کیا۔حالانکہ اس وقت ان کی بچی مشکل سے چار یا پانچ مہینے کی تھی۔ پرچھائیاں بہت کامیاب رہا۔ میں ان پروڈیوسرصاحب کی بڑائی کا اعتراف ضرور کروں گی کہ وہ ایک لفظ زبان پر نہیں لائے ۔

 

ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔میرے د ل کی نیک تمنائیں اور خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔اللہ ان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔اور ایک خواہش ہے کہ وہ میرے ملک کو بچا لیں کیونکہ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے اور فوج ہمارے ملک کی محافظ۔

 

س۔ کس ڈائریکٹر اور پروڈیوسر نے آپ کے ڈرامے کو بہترین شکل دی؟

ج۔ محسن اور شیریں، شہزاد خلیل ،ساحرہ کاظمی اوررعنا شیخ۔ شروع میں محسن علی اور شیریں ڈرامہ پروڈیوس کرتے۔ انکل عرفی‘ پرچھائیاں، بندش اور دھند پروڈیوس کیا۔بد قسمتی سے شیریں بیمار پڑگئی اسے کینسر ہو گیا۔وہ لندن چلی گئی۔اس کی وفات کے بعد میں نے سال بھر کام نہیں کیا۔شعیب منصور نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے لئے کچھ لکھیں۔ میں ان کے بارے میں کچھ تذبذب کا شکار تھی کہ یہ اتنے چھوٹے سے ہیں‘ پتہ نہیں کر بھی پائیں گے یا نہیں۔تو انہوں نے کہا کہ آپ ایک موقع دے کر تو دیکھیں۔ جس دن میں نے ہامی بھری کہ چلو تمہارے لئے کچھ لکھ دوں گی۔تو شعیب منصور نے باقاعدہ سجدہ شکر ادا کیا کہ آپ نے حامی تو بھری۔ ’’ان کہی‘‘ میں نے ان کے لئے لکھا۔اس میں محسن صاحب بھی شامل تھے۔کیونکہ شہناز شیخ نے جب سنا کہ شعیب منصورکریں گے تو اس نے کہا یہ تو بہت چھوٹے سے ہیں، یہ کیسے کریں گے تو میں نے کہا کہ نہیں محسن صاحب بھی ہیں۔ پھر میں نے شہزاد خلیل صاحب کے ساتھ ڈرامہ ’’تنہائیاں‘‘کیا۔

میرے ساتھ یہ بات بھی بہت عجب رہی کہ میرے ساتھ دو ڈائیریکٹرز کام کرتے تھے اور میں اکیلی لکھتی تھی۔اتنا اتفاق ہونا بہت کم ہوتا ہے ۔ ’’ان کہی‘‘ کو شعیب اور محسن علی نے کیا۔پھر ان لوگوں کا تبادلہ ہو گیا۔ ’’تنہائیاں‘‘ شہزاد خلیل صاحب نے کیا۔پھر ساحرہ کے ساتھ ’’دھوپ کنارے‘‘ اور ’’آہٹ‘‘ کیا۔ ’’آہٹ‘‘ پاپولیشن کے متعلق تھااور اس وقت پاپولیشن کا نام لینا ہی بہت خطرناک تھا۔ایک تنظیم کی خواتین ہمارے پاس آئیں کہ آپ نے فحش نگاری کی ہے۔میں نے کہاکہ اگر پریگننٹ عورت کو دکھانا فحش نگاری ہے تو پھر پوری دنیا ہی فحش ہے۔ اس کے بعد خواجہ نجم الحسن کے ساتھ تاریخی کھیل ’’تان سین‘‘ کیا۔جو بہت کامیاب رہا۔ ایک انڈین سنگر نے مجھ سے کہا کہ اس کے سارے گانے آپ کو فری میں کر کے دینے کو تیار ہوں۔میں نے کہا یہ انڈیا اور پاکستان کا معاملہ ہے‘ اس میں مشکل ہو جاتا ہے‘ میں پھر کبھی آپ سے کام کرواؤں گی۔

 

س۔ آپ کا ہر ڈرامہ اور ہر ہیروئن سپر ہٹ ہوتی تھی‘ اس کی کیا وجہ ہے؟

ج۔ وہ اس لئے کہ ہم نئی لڑکی ڈھونڈ کر لاتے تھے‘جو ہمیں پسند آجاتی تھی۔ اس کے گھر جاکر گھر والوں کی خوشامد کر کے ان کو رضا مند کر کے لاتے تھے۔ شہناز کو میں نے دیکھا ہوا تھا وہ میری بڑی فین تھی۔ میں اور شعیب ان کے گھر پہنچ گئے ،جب میں نے ’’ان کہی‘‘کے لئے اسے کہا تو اس نے انکار کر دیا۔ میں نے کہاکہ اگر تم یہ کریکٹر نہیں کرو گی تو ہم ’’ان کہی‘‘کریں گے ہی نہیں، اس پر اس نے کہا کہ،اچھا ڈائیریکٹر کا بتائیے تو میں نے شعیب کے ساتھ محسن علی کا نام لے لیا کہ شاید مرعوب ہو جائے۔محسن علی صاحب کا کام اتنا زیادہ تھا کہ وہ فوراً راضی ہو گئی۔اس طرح شہناز کو لائے۔ شہلا احمد کو انکل عرفی میں لائے۔ ہمارے جاننے والوں کی بچی تھی۔ ان کے والد کی بہت خوشا مد کی۔ اسی طرح نادیہ خان کی امی کو میں نے ڈرامہ ’’پل دو پل‘‘ کے لئے فون کیا۔ نادیہ کے والد فوجی افسر تھے۔ ان کی امی نے کہا کہ دیکھئے نادیہ کے والد کی اجازت کے بغیر میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ میں نے کہا پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ریکارڈنگ میں‘ میں ساتھ ساتھ ہوتی ہوں۔ آپ ان کے والد سے پوچھ لیجئے۔ اسی شام ان کی امی کا فون آگیاکہ نادیہ کے والد کہہ رہے ہیں کہ اگر حسینہ کا ڈرامہ ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ نادیہ بہت اچھی بچی تھی۔ہماری ٹیم بہت اچھی تھی۔ہم لوگ ایک فیملی کی طرح کام کرتے تھے۔آج کل پیسے اور سفارش کے زور پر کام چل رہا ہے۔ہمارے زمانے میں نہ کسی کو پیسے کی پروا تھی نہ سفارش کی۔

 

س۔ اتنی ساری ہیروئنوں میںآپ کی پسندیدہ ہیروئن کون تھی؟

ج۔ شہناز شیخ اور شہلا احمد ۔

 

س۔ ڈرامہ سلسلے کا کیاسلسلہ تھا؟

ج۔ اس کے لئے مرینہ نے آکر مجھ سے اجازت لی کہ ہم اس کا سیکوئیل بنا رہے ہیں۔پہلے تو میں اسے منع کرتی رہی کہ ایک دفعہ جو چیز ہٹ ہو جائے اسے دوبارہ نہیں بنانا چاہئے کیونکہ وہ دوبار ہ ویسی نہیں بنتی۔لوگ اسے تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں۔اس کے اصرار پر میں نے مشورہ دیا کہ تم کوئی بہت اچھا ڈائریکٹر لو کیونکہ شہزادخلیل صاحب بہت اچھے ڈائریکٹر تھے، انہوں نے ڈرامے کو سنبھالا تھا۔تم اس کو سنبھال نہیں پاؤ گی۔ انہیں دنوں مجھے بیرونِ ملک جانا تھا۔میری غیر موجودگی میں ان لوگوں نے محمد احمد سے لکھوایااور خود ہی کر لیا۔ ظاہر ہے وہ خراب ہی ہونا تھا۔ میں نے مرینہ سے کہا کہ اس ڈرامے میں سے میرا نام نکال دو تو مشکل یہ پڑ گئی کہ جن لوگوں نے سپانسر کیا تھا، انہوں نے کہا کہ اگرحسینہ کا نام نہ ہوا تو ہم لیں گے نہیں۔ اس پریشانی کے عالم میں مرینہ میرے پاس آکر روئی تو میں نے کہا کہ چلو جیسا بھی ہے جانے دو مگر میں نے دیکھا نہیں۔کیونکہ میں کسی چیز کو خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔

 

س۔ آپ نے کبھی کوئی ناول یا افسانہ لکھا؟

ج۔ میں نے ایک ناول لکھا ہے ’’پل صراط کا سفر‘‘لکھنے کی بڑی چاہ ہے، دل بھی چاہتا ہے مگر ڈرامے لکھنے کی وجہ سے وقت ہی نہیں ملتا۔لیکن لکھوں گی ضرور انشاء اللہ۔

 

س۔ آپ کے ڈراموں میں دل کو چھو لینے والی محبت کی کوالٹی نظر آتی ہے تو کیا کبھی خو دبھی محبت کی ؟

ج۔جی ہاں بالکل میں نے بھی محبت کی ،یہ بڑی پرسنل سی چیزہوتی ہے۔اگرآپ کا دل سچا ہو اور آپ ہر جذبے میں سچے ہوں تو محبت بھی سچی ہوتی ہے۔نفرت بھی سچی ہوتی ہے نفرت کرنا تو خیر میں نے سیکھا ہی نہیں۔اسی لئے آپ کو شاید میرے کرداروں میں منفی کردارکبھی نہیں ملیں گے۔

 

میڈیا کا اثربہت گہرا ہوتا ہے۔آج کل کے بچوں کو آپ کیا دکھا رہے ہیں۔اگر بچوں کو الزام دیں گے تو غلط ہے۔ماں باپ،بہن بھائی سب عشق کر رہے ہیں۔ راتوں کو مل رہے ہیں گھر وں سے بھاگ رہے ہیں۔ اگر اس قسم کی چیزیں دکھائیں گے تو پھرکیا انجام ہو گا۔آج کل ایسی ایسی چیزیں دکھائی جا رہی ہیں،کہ ڈر لگتا ہے کہ اگر بچے نے اس کا مطلب ہی پوچھ لیا تو کیا جواب دیں گے؟

 

س۔ شادی؟

ج۔ امی کی خواہش تو تھی کہ میں شادی کروں۔مگر مجبور نہیں کیا ان کا خیال تھا میں خود کرلوں گی اور خود میں نے کی نہیں۔

 

س۔ آپ کے ڈراموں میں مزاح کا معیار سب سے جدا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

ج۔ بقول شیکسپئیر کے ٹریجڈی اور کامیڈی کے درمیان ایک بہت باریک سی لکیر ہوتی ہے۔اگر آپ اس لائن کو کراس کر دیں گے تو تریجڈی کامیڈی بن جاتی ہے اور کامیڈی ٹریجڈی بن جاتی ہے۔اسی طرح مزاح اور پھکڑ پن میں بھی باریک سی لکیر ہوتی ہے۔اگر آپ اس کو کراس کر جائیں گے تو مزاح پھکڑ پن بن جائے گا۔آج کل جوکچھ دکھایا جا رہا ہے‘ معافی چاہتی ہوں‘ وہ مزاح نہیں ہے‘ کچھ اور ہے۔آپ نے مشتاق احمد یوسفی،شفیق الرحمن اور ابن انشا کا مزاح پڑھا ہو گا۔ تہذیب، تمیز اوراطوار ہم گھر سے سیکھتے ہیں۔

 

س۔ لکھتی کب ہیں؟ کیا شاعری کی طرح اس کا بھی نزول ہوتا ہے؟

ج۔ سب کچھ خدا کی طر ف سے ہوتا ہے اگر انسان چاہے تو خود سے ایک جملہ بھی نہیں لکھ سکتا۔میں ہمیشہ رات کے وقت لکھتی ہوں۔رات کو سکون ہوتا ہے۔جتنا چاہیں لکھیں۔میں فلی یوز کرتی ہوں اپنے آپکو۔جب ٹی وی کے لئے لکھتی تھی تو کمرہ ملا ہوا تھا‘خاموشی ہوتی تھی۔

 

س۔ آپ نے بہت شروع سے ڈرامہ لکھا ،پہلے اور آج کے ڈرامے میں کیا فرق محسوس کرتی ہیں؟

haseenamoeen2.jpg

ج۔ میں نے سیکنڈ ائیر سے لکھنا شروع کیا۔یونیورسٹی کے بعد سے اب تک لکھ رہی ہوں ۔پہلے زمانے اور آج کی چیزوں میں جو فرق ہے وہی فرق ڈرامے میں بھی ہے۔آجکل ڈسپوزیبل چیزیں بنتی ہیں۔بے تحاشہ ڈرامے بن رہے ہیں‘ نہ کسی کو ان کا نام یاد ہوتا ہے نہ کردار۔کمرشل دور ہے ،مارکیٹنگ کے لوگ ڈرامہ خریدتے ہیں۔صرف ریٹنگ کا خیال کیا جاتا ہے۔سب سے بڑی چیز جو ہو رہی ہے،وہ یہ کہ ڈرامے میں عورتوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے۔کبھی گھر سے نکالا جا تا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ اس سے ریٹنگ بڑھتی ہے۔کیا گھروں میں ایساہوتا ہے اتنی بد تہذیبی آگئی ہے ۔میں نے توآج تک نہیں دیکھی۔ہر ایک میں ایک ہی کہانی چل رہی ہے۔دو لڑکیاں ایک آدمی‘ دو آدمی ایک لڑکی، سا س بہو کا جھگڑا، ماں بیٹی کا جھگڑااور اب تو خیر دوسرے معاملات اتنے کھلم کھلا دکھائے جا رہے ہیں کہ لگتا ہے ہر گھر میں ہی کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے۔لڑکی سکول سے بھاگ کر لڑکے کے ساتھ بائک پر جارہی ہے۔بہنیں ایک دوسرے کو کاٹ رہی ہیں،ایک بہنوئی کے لئے لڑ رہی ہیں‘پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے۔ اسی طرح ایک بہن کی غیر موجودگی میں دوسری کا نکاح کر کے رخصتی پہلے والے کی کر دی۔ہم حیران پریشان دیکھ رہے ہیں اگر یہ حالات ہیں تو کیا کہہ سکتے ہیں۔ میں توڈرامہ دیکھتی ہی نہیں‘ جو کبھی اتفاقاً نظر پڑی وہی بتا رہی ہوں۔

 

س۔ پاکستانی ڈرامے کا بہترین دور؟

ج۔ ٹی وی آنے سے لے کر 90 کی دہائی کے کچھ سال تک ٹھیک رہا‘ پھر اس کے بعد حالات بگڑنا شروع ہو گئے۔میں نے ضیاالحق کے دور میں پرچھائیاں لکھا تھا۔کسی نے اعتراض نہیں کیا۔کیونکہ اگر آپ ڈھکی چھپی بات سلیقے سے کریں گے ، تو وہ بری نہیں لگتی۔

 

س۔ میڈیا معاشرے پر کس حد تک اثرانداز ہوتاہے؟

ج۔ میڈیا کا اثربہت گہرا ہوتا ہے۔آج کل کے بچوں کو آپ کیا دکھا رہے ہیں۔اگر بچوں کو الزام دیں گے تو غلط ہے۔ماں باپ،بہن بھائی سب عشق کر رہے ہیں۔راتوں کو مل رہے ہیں گھر وں سے بھاگ رہے ہیں۔اگر اس قسم کی چیزیں دکھائیں گے تو پھرکیا انجام ہو گا۔آج کل ایسی ایسی چیزیں دکھائی جا رہی ہیں،کہ ڈر لگتا ہے کہ اگر بچے نے اس کا مطلب ہی پوچھ لیا تو کیا جواب دیں گے؟ اور مزاحیہ ڈراموں کا انداز بالکل پھٹیچر ہے۔ جس میں بہت غلط جملے استعمال ہوتے ہیں۔ گالیاں تک دی جاتی ہیں۔ حرکات و سکنات خراب ہیں‘اس کو مزاح نہیں کہتے۔

 

س۔ اس چیز کو کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟

ج۔ اس کو صرف چینل والے کنٹرول کر سکتے ہیں۔لیکن ا ن کو صرف پیسا بنانا ہے ان کو فکر نہیں ہے کہ یہ اخلاقی گراوٹ آگے چل کر کیا رنگ لائے گی۔ ہم بھارت کی نقل کر رہے یں۔ہماری جو شناخت تھی کہ یہ پاکستانی ڈرامہ ہے‘ وہ ختم ہو گئی ہے۔پاکستانی ڈرامہ دیکھیں تو کبھی وہ انڈین لگتا ہے کبھی ترک۔ ہر چیز کا منہ پیسے سے بند کیا جاتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو اب تک یہ سب کچھ رک چکا ہوتا۔

 

س۔ انڈین اورترک ڈرامے جو آج کل دکھائے جا رہے ہیں ان کے بارے میں کیا کہیں گی؟

ج۔ ترکی اور انڈیا کے چلے ہوئے پرانے ڈرامے ان کو سستے مل جاتے ہیں۔ وہ خرید لاتے ہیں۔ڈبنگ کرکے چلا دیتے ہیں‘ ان میں بعض اچھے بھی ہوتے ہیں۔انڈیا کا کلچر دیکھیے کہ وہ اتنی بھاری ساڑھی اور زیورپہن کر کچن میں کا م کرتی نظر آتی ہیں۔اسی کا اثر ہے کہ ہمارے ہاں فل میک اپ اورآئی شیڈ کے ساتھ لڑکی جاگتی ہے۔میں تو حیران ہوتی ہوں کہ ڈائریکٹر کدھر ہے‘ کیا وہ سو رہا ہے؟

 

س۔ نئے لکھنے والوں میں کوئی رائٹر جو آپ کو پسند ہو؟

ج۔ بھئی سچ بات بتاؤں میں نے تو اب ٹی وی دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔کبھی دیکھنے بیٹھوں تو عورتوں پر کیا جانے والا تشدد میں نہیں دیکھ سکتی۔میں نے40سال تک کوشش کی کہ عورت مضبوط ہو گی‘ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گی‘ اپنا مقام بنائے گی‘ اپنا حق لے گی۔وہ ساری چیزیں ایک دم سے ختم ہو گئیں ہیں،اب نہ تو اس کا کوئی حق رہا نہ مقام‘ نہ عزت۔سب کچھ ختم کر دیا گیا۔میں تو بہت مایوس ہو گئی ہوں۔

 

س۔ آپ نے آئی ایس پی آر کے لئے کام کیا؟

ج۔ میں فوجیوں سے بہت متاثر ہوں۔ انہوں نے میرا بہت خیال رکھا۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ پر مجھے بلایا۔اعزازی طور پرکاکول میں مجھے بلایا،لکھنے کی فرمائش کی۔ اب میں ان کے لئے لکھوں گی۔خاص طور ان فوجیوں کے لئے جو اپنی جان داؤ پر لگا کر ہماری حفاظت کے لئے لڑ رہے ہیں۔

 

س۔ آپ نے خود اداکاری نہیں کی؟

ج۔ نہیں ۔مجھے شوق نہیں ہے،اور شاید میں کر بھی نہیں پاتی کیونکہ میں بہت شرمیلی ہوں۔

 

س۔ زندگی میں خود پر کب فخرمحسوس ہوا؟

ج۔ مجھے وکٹری سٹینڈ بہت پسند تھا۔میں اپنے سکول میں ہونے والی سپورٹس میں حصہ بھی لیتی تھی لیکن وکٹری سٹینڈ تک کبھی نہیں پہنچی ۔جس وقت مجھے پرائڈ آف پرفارمنس دیا گیاس اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ میں وکٹری سٹینڈ پر کھڑی ہوں اورواقعی میں نے کچھ کیاہے۔

 

س۔ پسندیدہ رائٹر؟

ج۔ خلیل جبران اور بہت سے انگلش رائٹرز۔

 

س۔ پسندیدہ شاعرَ ؟

ج۔غالب، میر درد،سودا ،داغ، فراق ،مجاز ،احمد فراز،پروین شاکر، امجد اسلام امجداورفیض بہت زیادہ پسند ہیں۔

 

س۔ موسیقی سے لگاؤ ہے؟

ج۔ بہت زیادہ،مہدی حسن،لتا ، آشا بھوسلے میرے پسندیدہ گلو کار ہیں۔

 

س۔ اب تک کتنے ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں؟

ج۔ اللہ کا فضل ہے ہر سیریل پر ایوارڈ ملا۔ایوارڈزسے الماری بھر چکی ہے۔

 

س۔ آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

ج۔ دعائیں۔میرے ماں باپ کی ،دوستوں کی ، بھائی بہنو ں کی ان کے بچوں کی سب کی دعا ئیں میرے ساتھ ہیں۔میری ماں ہمیشہ نماز پڑھنے کی تلقین کرتی تھیں۔ انہوں نے سکھایاکہ دعا مانگنے سے سب کچھ مل جاتا ہے۔آپ یقین رکھیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ آپ کی بہتری کے لئے ہو رہا ہے،اور جو نہیں ہورہا اس میں بھی آپکی ہی بہتری ہے تو آپ خوش رہیں گے۔

 

س۔فوجی بھائیوں کے لئے کوئی پیغام؟

ج۔مجھے فوج بہت پسند ہے۔یہ ہماری پر سکون نیند کے لئے راتوں کو جاگتے ہیں اور ہماری حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔میرے د ل کی نیک تمنائیں اور خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔اللہ ان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔اور ایک خواہش ہے کہ وہ میرے ملک کو بچا لیں کیونکہ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے اور فوج ہمارے ملک کی محافظ ہے۔

 

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
04
October

Pak-China Friendship: The Epitome of Cultural Harmony

Written By: Maryam Razzaq

Interview with Dr. Zhang Daojian,Head of Confucius Institute Islamabad

China has been a time-tested friend of Pakistan and it acknowledges Pakistan’s historical recognition of China’s republican transition in 1949. While people of both countries enjoy traditional eastern cultures, their state-to-state relations are cemented at an even deeper level to harmonize the geo-strategic policies affecting the geo-political situation. The sincerity and loyalty to national interests of each other, reflected and exhibited at different forums of world, is a testimony of the everlasting cordial relations between the two countries.

 

pakchinafriend.jpgThe start of new era in the shape of CPEC ushering the financial and developmental activity in recent past has been the result of trust, confidence and belief between the two nations. CPEC will be instrumental in exchange of ideas, technical expertise, elevating the quality of life and above all, fusion of culture in the shape of language, values and way of life. The major barrier of effective communication i.e. language has been amply addressed and for this purpose Confucius Institute Islamabad was established in 2005, through collaboration of Hanban Headquarter, Beijing Language and Culture University, and National University of Modern Languages. It is the first Confucius Institute in the Islamic world which has won the award “Confucius Institute of the Year” four times, “Individual of the Year” twice, and also won “Confucius Institute Pioneer Prize” in 2015. It was also honored as the “Model Confucius Institute” in 2016. The main job of Confucius Institute is to teach Chinese language and promote Chinese culture in Pakistan. Not only it is a center for teaching but also a center for cultural exchange in Pakistan.


While Pakistan congratulates China on celebrating its 68th National Day, Dr. Zhang Daojian, Head of Confucius Institute Islamabad was interviewed to represent a common view of Chinese on this auspicious occasion especially with reference to people of Pakistan.


Q: Pakistan and China have the most cordial and strengthened relations at state-level. How do you see people-to-people relations between the two nations?
In the past five years, I have spent most of my time in Pakistan and so, I can say with conviction that people of Pakistan are the most welcoming and kind people I have ever known. In China, we call Pakistan as, “Iron Pakistan”. In Chinese language, this phrase is used to describe the most loyal and most faithful friends who will never betray each other. To promote the people-to-people communication between Pakistan and China, our Confucius Institute organizes a Summer Camp of around 100 campers to visit China every year. Also, I believe that the individual-level relations and people-to-people contact between Pakistan and China is destined to further improve with the actualization of CPEC.


Q: With CPEC fully operational, how do you see cultural fusion between the two nations?
I would like to use the phrase “cultural communication” rather than “cultural fusion”, because “fusion” seems to make two cultures become one. The facts are not like that. Communication means bilateral benefits. Communication enriches both cultures instead of fusing them into one. With CPEC’s operationalization, our ties will further deepen and contact will increase manifold, which is why we shall put in extra effort to shorten the time needed for cultural adaptation. Language teaching is one of most effective ways to solve the problem.

 

pakchinafriend1.jpgQ: How do you see the future of Pak-China friendship under the changing geopolitical settings?
I personally see the future of Pak-China friendship rising from higher than the Himalayas to higher than the skies. We have a famous proverb in China that says, “Cope with shifting events by sticking to a fundamental principle”. I believe, one fundamental principle of China’s foreign policy is to sustain Pak-China friendship. You can read it in the announcement from different Chinese leaders on the relationship between Pakistan and China. Now, with the promotion of CPEC, the ties in politics, economy and culture between two countries have greatly improved. We understand each other better and trust each other more than ever before. So I believe that in the future, Pak-China friendship will further strengthen. So even though, leaders change regularly in both countries, the friendship will never change.


Q: Pakistan and China’s growing economic and security ties have been criticized by few regional and international players. In your view what are the challenges?
Any great project comes with a lot of challenges. We have a saying in Chinese language that “a tall tree catches the wind”. I think the challenges emerge from all sides, the international actors and their interests, the cultural and language barriers, the problem of interest distribution and so on. But, in my opinion, we should listen to the critics and do research to promote the CPEC for its ultimate success. Challenges will not cease to exist so we basically need to be vigilant, make predictions and try to avoid the likely mistakes.


Q: Besides sound economic policies, which other factors, particularly cultural, have helped in China’s phenomenal economic growth?
That’s a very good question. Allow me to explain in cultural terms that what led China to develop its economy so fast. Chinese people have a great tradition of ‘home-state feelings’, which is the feeling and enthusiasm that leads you to love your country and hometown and family members. When the Chinese work hard to earn money, they don’t do so for themselves but for the whole family, their hometown and the country. Chinese wouldn’t waste their money rather they’d spend on someone in dire need of it. If one becomes successful in economy, he would like to leave the big cities and come back to his hometown to help the town fellows. That’s one of the reasons why Chinese people’s wealth accumulation develops so fast.


Q: Chinese civilization is one of the oldest civilizations. How do you see issues of terrorism, violence, and instability at regional and global level? And what measures do you suggest for a peaceful future?
I believe lack of communication and poverty are two of the main reasons for these problems. We should make efforts to eliminate poverty and increase the international communication and exchanges in political, economic and cultural fields. Pakistan and China set a great example to the whole world by close cooperation in these areas. CPEC is the project collaborated by both countries to increase economic activity and eliminate poverty. Confucius Institutes (CIs) aim to increase cultural communication between two countries. At present, there are four CIs in Pakistan and more are expected to be launched soon. I hope the CIs play a role in clearing misunderstandings and improving understandings. Meanwhile, NUML set up a branch in Xinjiang Normal University, NUML International Center of Education (NICE) which is functional now. Such Institutes are bridges to communicate between countries. We need more bridges.


Q: Decades of Pak-China strategic partnership are a thorn in the enemy’s eyes. What would you like to say on that?
I believe that Pak-China friendship will not harm anyone else’s interests, and we won’t be anyone’s enemies. The wisdom of both countries can deal with any problem. Five Principles of Peaceful Coexistence (mutual respect for each other’s territorial integrity and sovereignty, mutual non-aggression, mutual non-interference in each other’s internal affairs, equality and cooperation for mutual benefit, peaceful co-existence) are Chinese government’s fundamental policy. Therefore, maybe some countries are hostile to Pak-China relations, we should make clear that we are peaceful powers, and we’d like to promote co-prosperity in the region and the world.


Q: CPEC is already termed as a “Game Changer” for the region, what more, in your opinion, can Pak-China friendship do for the wellbeing of the region?
There is no doubt that CPEC will bring benefits for all interested parties. China and Pakistan envisage making the region stable and prosperous. We wish to improve the economic conditions of Pakistan and China as well as the region. Both countries are willing to share CPEC facilities with international partners in order to fetch common benefits and improve people to people contacts.


Q: How has your experience been living in Pakistan?
It’s quite pleasant and memorable. As you know I live here and consider Pakistan as my second home. I love it and enjoy my life here. Everybody is very kind to me. Whenever someone comes to know, I am a Chinese, they would call me “brother” and take photos with me. Pakistani people are very kind and loving. Let me share a story. This January, when I went to Wagah Border with my family members, I met a middle-aged Pakistani man who didn’t speak much English. I was parking my car and he was in his van. He was very happy to see a Chinese around and so he hugged me. Then he asked me if I had had lunch to which I said, no. What happened next really moved me. The man went back to his van without a word and brought some Naans (bread) to us. I knew that was his lunch so I refused at first but as he insisted, I took his food. That is a great example of what I have experienced in Pakistan. And I want the world to know how kind these Pakistanis are.


Q: On a lighter note, Pakistani and Chinese cultures are already amalgamating, how close do you see our Chinese foods to the actual Chinese food? Also, what is your favorite food from Pakistan?
It’s a very interesting question. There are four major Chinese cuisine: Shangdong Cuisine, Sichuan Cuisine, Cantonese Cuisine and Jiangsu Cuisine. I like them all but my favorite is my wife’s cooking, which is quite personalized. The Chinese food in Pakistan is very special and localized, for example in Chinese food, we seldom use curry but in Pakistan curry is used a lot. The Pakistani food in China also has to make some changes to meet the local taste. Globalization and localization indeed go side by side.


My favorite Pakistani food is Barbecue. It’s really amazing. I visit some Barbecue restaurants regularly. Sometimes, I feel myself just like a greedy child when I sit before the delicious mutton. I keep telling myself to eat less else I would put on weight but the mesmerizing smell of the Barbecue makes me fall prey to the temptation. Lassi is my favorite Pakistani drink. I have loved it since my first days in Pakistan.


Q: On China’s 68th National Day which also marks 66 years of Pak-China friendship, what message would you like to give to the people of China?
Long Live Pak-China Friendship! Pakistan is developing very fast, I have witnessed it! Please come to Pakistan to create a new life! Start your new career here! Start your new Business here!

 

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter