11
April

عطاء الحق قاسمی

Published in Hilal Urdu April 2017

انٹرویو : او یس حفیظ

خیال ایک پکا ہوا پھل ہوتاہے ‘ جسے وقت پر نہ اُتارا جائے تو زمین پر گر کر گل سڑ جاتا ہے

عطاء الحق قاسمی کی ایک ظاہری پہچان تو مزاح نگار کی ہے مگر آپ کی شخصیت کی جہتیں اس قد ر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ آپ صفِ اول کے کالم نگار ہیں، باکمال شاعر ہیں، بے مثل ادیب ہیں‘ بہترین ڈرامہ نویس ‘ شاعر اور کامیاب منتظم بھی ہیں۔ ویسے تو آپ کی جائے پیدائش امرتسر ہے اور اس نسبت سے آپ ’’امبر سریے‘‘ ہیں مگر آپ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی نے مکمل لاہورئیے کو دیکھنا ہے تو آپ کو دیکھ لے کیونکہ ذات اور شخصیت کے اعتبار سے آپ پر اندرون لاہورئیے کا گمان ہوتا ہے۔ آپ ’’کھلے ڈُلے‘‘ مزاج کے آدمی ہیں اور اپنے منفرد شگفتہ اندازِ گفتگو سے محفل کو کشتِ زعفران بنانے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہلال کے لئے آپ کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔


سوال: اپنے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: میں یکم فروری 1943کو امرتسر کے ایک کشمیری علمی گھرانے میں پیدا ہوا۔ میرے سے پہلے کئی بیٹیاں تھیں اس وجہ سے میں بہت لاڈلا تھا، اتنا لاڈلا کہ میرا نک نیم ’’شہزادہ‘‘160پڑ گیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ میں نے اپنی ابتدائی زندگی شہزادوں ہی کی طرح بسر کی۔ میرے والد مولانا بہاء الحق قاسمی مشہور عالم دین تھے جو قیامِ پاکستان کے وقت امرتسر سے ہجرت کر کے وزیرآباد آگئے اور یہاں پر سکول ٹیچر مقرر ہو گئے۔

interattraullhaq.jpgمیری زندگی کے دس سال وزیر آباد کے بکریانوالہ کوچہ میر چونیاں میں گزرے اور پھر باقی زندگی لاہور میں۔ اس باقی زندگی میں دو سال امریکا کے شہر سینٹ لوئیس میں بطور فوڈ اینڈ بیوریجزمنیجر، دوسال اوسلو (ناروے) میں بطور سفیر اور تین مہینے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں بطور سفیر اپنی خدمات انجام دیں۔ لاہور تقریباً 25سال ماڈل ٹاؤن میں گزارے۔ کچھ عرصہ اچھرہ کے ونڈسر پارک میں ایک کرائے کے مکان میں رہا۔ تقریباً 25سال ہی اقبال ٹاؤن میں اپنے تعمیر کردہ گھر میں ہنسی خوشی بسر کئے اور اب تقریباً پندرہ برس سے ڈیفنس کے ای ایم ای سیکٹر میں رہائش پذیر ہوں۔ وزیر آباد کے ایم پی پرائمری اسکول غلہ منڈی سے پانچ جماعتوں کے بعد چھٹی جماعت میں گورو کوٹھا کے ہائی سکول میں داخلہ لیا اور اس کے بعد ہم لاہور شفٹ ہوگئے۔ میٹرک ماڈل ہائی سکول ماڈل ٹاؤن سے کیا۔ بی اے، ایم اے او کالج لاہور سے کیا جبکہ ایم اے (اردو ادب) پنجاب یونیورسٹی اوریئنٹل کالج سے کیا۔ 35سال نوائے وقت سے منسلک رہا اور اس کے ساتھ ساتھ ایم اے او کالج میں لیکچرار شپ بھی کی۔ اب ایک طویل عرصے سے جنگ میں کالم لکھ رہا ہوں اس تمام عرصے میں پوری دنیا میں بسلسلہ تقریبات شرکت کے لئے جاتا رہا ہوں۔ آٹھ سال الحمراء آرٹس کونسل میں بطور چیئرمین اپنی خدمات انجام دی ہیں اور اب گزشتہ ایک برس سے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی ) کا چیئرمین ہوں۔


سوال: اپنے بچپن اور فیملی کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: ہم آٹھ بہن بھائی ہیں، چھ بہنیں اور دو بھائی۔ والد اور والدہ کو ملا کر ہم دس افراد تھے۔ بڑے بھائی اور دو بہنیں وفات پا چکی ہیں۔ میں فرسٹ ائیر میں تھا جب میری والدہ کا انتقال ہوا اور والد کا انتقال 1987میں ہوا تھا۔ میری والدہ کافی بیمار رہتی تھیں انہوں نے کئی سال علالت میں گزارے اور ابا جی کا ہاتھ کافی بھاری تھا (مسکراتے ہوئے) وہ چونکہ استاد تھے اس لئے ڈنڈا بھی ساتھ رکھتے تھے لیکن میں بہت لاڈلا تھا، اس لئے میری تمام تر نالائقیوں کے باوجود انہیں مجھ سے بہت محبت تھی۔ ذرا سی بیماری کی صورت میں وہ مجھے اپنے کندھوں پر بٹھا کر ہسپتالوں کے چکر لگاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میرے پاؤں پر پھوڑا نکل آیا تو انہوں نے مجھے زمین پر پاؤں نہیں رکھنے دیا لیکن اپنی والدہ کا سوچ کر آج بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے میری نالائقی کے دن تو بہت دیکھے لیکن عین جوانی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے ہمیشہ یہ پشیمانی رہی کہ وہ مجھے ترقی کرتا دیکھنے کے لئے اس دنیا میں موجود نہ تھیں۔


سوال: آپ کا والد کے ساتھ دہرا رشتہ تھا، محبت کا بھی اور ڈانٹ ڈپٹ کا بھی؟
جواب : ان کی ڈانٹ میں بھی پیار تھا اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی ڈانٹ نے ہی مجھے صحیح راستہ دکھایا، ان کی محبت کے منظر آج بھی میری آنکھوں سے نہیں ہٹتے، میرے والد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ انہوں نے زندگی سادگی سے گزاری اور ہمیں بھی سادگی کا درس دیا۔ وہ ہمیں اپنی اور اپنے خاندان کی انگریزوں کے خلاف جدوجہد کے قصے سناتے تھے، پرانی تاریخ سے ایسے ایسے واقعات ڈھونڈ کر لاتے جن سے ہم میں انسانیت بیدار ہو، ہم اچھی اقدار کو اپنائیں۔ وہ ایک قدآور عالم دین اور پرجوش خطیب تھے۔ جب وہ وزیر آباد میں سکول ٹیچر تھے توجامعہ اشرفیہ کے بانی مفتی محمد حسن نے جو کہ میرے والد کے استاد بھی تھے اور دادا کے شاگرد بھی، انہوں نے میرے والد سے کہا کہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی جامع مسجد میں آپ کی ضرورت ہے، آپ یہاں آ جائیں۔ چنانچہ میرے والد صاحب نے پیشکش قبول کر لی اور ہم لاہور ماڈل ٹاؤن میں آ کر آباد ہو گئے اور میرے والد ماڈل ٹاؤن مسجد میں خطیب مقرر ہو گئے۔ یہیں ماڈل ٹاؤن میں ایک واقعہ بھی پیش آیا، ہوا یوں کہ میرے والد نے مسجد میں کچھ سخت خطبات دیئے، جس پر چند لوگوں نے ان سے درخواست کی کہ آپ بس نماز پڑھا دیا کریں باقی کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے والد نے ان سے کہا کہ ’’میں صبح ناشتے میں چائے کا ایک کپ اور رس لیتا ہوں، دوپہر کو بھی روکھی سوکھی کھاتا ہوں، رات کو دال چاول کھا کر سو جاتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور جس دن میری ضروریات میں اضافہ ہو جائے گا اس دن میں آپ کی بات پر غور ضرور کروں گا‘‘۔ ابا جی کی باتوں کا لوگوں پر بہت اثر ہوا،نتیجتاً مسجد میں نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ ابا جی کی ایک ذاتی لائبریری تھی جس میں ہر مذہب اور ہر مسلک کی کتابیں تھیں اور یہیں سے مجھے کتابوں کا شوق بھی ہوا، میں نے وہ ساری کتابیں پڑھیں جس کے بعد خدا نے ذہن کشادہ کر دیا۔ ابا جی کی خودداری اور عظمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ کچھ سال قبل ماڈل ٹاؤن کے قبرستان کی تحقیق کرنے کے لئے ایک محقق بھیجے گئے۔ انہوں نے قبرستان کی تاریخ کا جائزہ لیا، پرانی دستاویزات کو کھنگالا، وہاں انہیں بہت سے دیگر کاغذات کے ہمراہ میرے اباجی کا ایک خط بھی ملا۔ لکھا تھا ’’آپ مجھے جو تنخواہ دیتے ہیں وہ میری ضروریات سے بہت زیادہ ہے براہِ کرم اس میں تخفیف کر دی جائے‘‘۔ انہیں کتنی تنخواہ ملتی ہو گی، اندازہ لگا لیجئے وہ اس پر بھی خوش تھے اور اسے بھی زیادہ تصور کرتے تھے۔ آج کے مادہ پرست دور میں انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے مگر نیت نہیں بھرتی۔ دل بھر جاتا ہے مگر اکاؤنٹ نہیں بھرتے اور اسی پیسہ کمانے کی دوڑ نے ملک میں بدعنوانی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔


سوال: ادبی سفر کا آغاز کب اور کہاں سے کیا، پہلا شعر کب کہا، کہاں شائع ہوا؟
جواب: ادب کی طرف رحجان تو شروع سے ہی تھا، پہلی کوشش سکول کے زمانے میں ہی کی تھی، پہلا شعر کب کہا یہ تو یاد نہیں لیکن ادبی زندگی کا آغاز ساتویں یا آٹھویں جماعت سے ہو گیا تھا، جب اسکندر مرزا کے دور میں ہونے والی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے پس منظر میں میرے اندر چھپے ہوئے مزاح نگار نے انگڑائی لی اور میں نے ’’ہلال پاکستان‘‘ کے ایڈیٹر کے نام ایک شگفتہ سا مراسلہ بھیج دیا جو من و عن چھپ گیا۔ اس سے بہت حوصلہ ملا۔ پہلی باقاعدہ نثری تحریرغالباً 1959ء میں مولانا کوثر نیازی کے اخبار روزنامہ شہاب میں شائع ہوئی تھی اور پھر ہم کسی شہاب ثاقب کی طرح ان کے صفحات پر ٹوٹ پڑے۔ میں اس وقت سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا جب شہاب کے صفحات پر میرا کالم ’’کچھ یوں ہی سہی‘‘ کے عنوان سے چھپنا شروع ہو گیا تھا۔


سوال: شاعری میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں، اپنی تحریروں میں کبھی اصلاح لی؟
جواب: ہر گز نہیں کیونکہ میں مانتا ہوں کہ شاعر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ میں نے شاعری میں کبھی کسی کی شاگردی اختیار نہیں کی، کسی سے آج تک اصلاح نہیں لی۔ مجھے یہ بھی علم نہیں کہ شعری اوزان اور تقطیع وغیرہ کیا ہیں لیکن ان سب کے باوجود میں نے بہت کم بے وزن شعر کہا ہے۔


سوال: کیا چیز لکھنے کی جانب راغب کرتی ہے؟
جواب: خیال، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ خیال ایک پکا ہوا پھل ہوتا ہے، جسے وقت پر نہ اتارا جائے تو یہ زمین پر گر کر گل سڑ جاتا ہے۔ جب میرے ذہن میں کوئی اچھا آئیڈیا آتا ہے، میں فوراً اسے نوٹ کر لیتا ہوں اور اس پر لکھنے لگ جاتا ہوں۔ میرے لئے سب سے زیادہ مشکل کام فرمائشی لکھنا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی میرے پاس آ کر کہتا ہے کہ فلاں موضوع یا فلاں چیز پر آپ کو لکھنا چاہئے لیکن میرے سے نہیں لکھا جاتا اور اس کے برعکس کبھی کبھی کوئی پوری چیزکوئی غزل،کالم، تحریر وغیرہ خود بخود نازل ہو جاتی ہے۔


سوال: آپ شاعر بھی ہیں، ادیب بھی ہیں، ڈرامہ رائٹر بھی ہیں، کالم نگاری بھی کرتے ہیں اور سفارت کاری بھی کر چکے ہیں۔ خود کو کیا کہلوانا پسند کرتے ہیں؟
جواب: بنیادی طور پر میں صرف ایک طنز و مزاح نگار ہوں۔ میرے ہر کام‘ خواہ وہ کالم ہوں، خاکے ہوں، ڈرامے ہوں یا کچھ اور، ان میں آپ کو طنز و مزاح ہی نظر آئے گا۔ شگفتہ تحریریں میرا جنون ہیں، میں لکھتا بھی شگفتہ ہوں، پڑھتا بھی شگفتہ ہوں باتوں میں بھی شگفتگی ہی ملے گی البتہ میری تحریروں کی شگفتگی کے نیچے اداسی بھی چھپی ہوتی ہے اور اس میں طنز بھی ہوتا ہے۔


سوال: سکول کے زمانے میں ذہین طالب علم تھے یا بس نارمل تھے؟
جواب: میں اصل میں انتہائی نالائق طالب علم تھا، (نہایت پرجوش لہجے میں) میٹرک میں بڑی مشکل سے پاس ہوا، سیکنڈ ڈویژن آئی تھی، ایف اے میں تھرڈ ڈویژن تھی، بی اے میں سپلی آ گئی تھی، جب ایم اے میں تھا تو اردو کے ایک پرچے میں فیل ہو گیا تھا مگر پھر دوبارہ امتحان دے کر کلیئر کیا۔
سنا ہے کہ سعادت حسن منٹو بھی اردو میں فیل ہو گئے تھے۔ اپنے شعبے کا ماسٹر اپنے ہی شعبے کے امتحانات میں ناکام ضرور ہوتا ہے۔ سجاد باقر رضوی ہمارے استاد تھے۔ ایک روز انہیں پتہ نہیں کیا سوجھی انہوں نے ایم اے اردو کے لئے فیس جمع کرا دی۔ پھر وہ اُسی پرچے میں فیل ہو گئے جو وہ ہمیں پڑھاتے تھے۔


سوال: اس سے تو یہ مطلب ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں خامیاں موجود ہیں جو بچوں کی ذہانت کا پتا چلانے میں ناکام رہتا ہے؟
جواب: میں خود بھی استاد رہا ہوں، مجھے علم ہے کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ نوجوانوں کی تعلیمی صلاحیتوں کے یکسر الٹ ہے۔ ہمیں اب اس سسٹم کو ختم کر دینا چاہئے۔ اب معروضی سسٹم وقت کا تقاضا ہے۔ اس میں طالب علم کو وسیع معلومات حاصل کرنا پڑتی ہیں، اس کا دماغ تیز ہوتا ہے، کسی بھی نکتے کے ہر پہلو پر غور کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔


سوال: آج تو آپ پر اردو میں مقالے لکھے جا رہے ہوں گے؟
جواب: جی بالکل، کم از کم 8 طالب علم میری شخصیت، کالم نگاری اور دوسرے کئی پہلوؤں پر ایم فل کا تھیسز لکھ کر ڈگری لے چکے ہیں، کئی تو پی ایچ ڈی بھی کر رہے ہیں۔


سوال: آپ خود ادیب ہیں، آپ کے بھائی (ضیاء الحق قاسمی) مشہور مزاحیہ شاعر تھے،آپ کا بیٹا بھی رائٹر ہے، کیا ادب آپ کے خون میں شامل ہے؟
جواب: بالکل، میں یہی سمجھتا ہوں کہ ادب ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے۔ میری تین پھپھیاں (پھوپھیاں) تھیں اور تینوں کشمیری زبان کی شاعرہ تھیں۔ ادب تو ہمارا ورثہ ہے۔ اس سے محبت ہمارے خون میں شامل ہے۔ ایک ہزار سال سے ہمارا خاندان ادب کی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ ’’تاریخ اقوام کشمیر‘‘ ایک مستند ترین دستاویز قسم کی کتاب ہے جس میں بہت سے دوسرے صاحبان ادب کے ساتھ میرے جد امجد سے لے کر والد تک سب کا ذکر محفوظ ہے۔ مجھ پر آ کر یہ سلسلہ اس حد تک بدلا ہے کہ اب مذہبی اور معاشرتی سنجیدگی میں مزاح نگاری کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے۔ میرا بڑا بیٹا یاسر (پیرزادہ) بھی لکھتا ہے، دوسرا بیٹا علی قاسمی بھی رائٹر ہے۔


سوال: کیا ہمارا موجودہ ادب یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اپنی افادیت برقرار رکھ سکے؟
جواب: میرے خیال میں یہ ایک مشکل سوال ہے اور فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ میں یہ مانتا ہوں کہ کچھ ادب وقتی بھی ہوتا ہے جسے فی زمانہ پر تو بہت پذیرائی ملتی ہے مگر وہ جب وقت کے دھارے میں آتا ہے تو اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال میرزا ادیب کے خطوط کی ہے جسے اُس زمانے میں تو بہت شہرت ملی مگر آج ان کا اتنا ذکر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کچھ لوگ اپنے دور میں بہت نظر انداز ہوتے ہیں جیسے نظیر اکبر آبادی مگر بعد میں نقادوں نے ان کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جیسے ان سے بڑا کوئی شاعر ہی پیدا نہ ہوا ہو لیکن آج پھر ان کی شاعری پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ گلہ کرتے بھی پائے جاتے ہیں کہ ہمیں نظرانداز کیا جاتا ہے حالانکہ یہ فیصلہ عوام کرتے ہیں اور اچھا ادب کبھی بھی نظر انداز نہیں ہو سکتا۔


سوال: موجودہ شاعروں، ادیبوں میں آپ کو کون پسند ہے؟
جواب: میرے سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر تو علامہ اقبالؒ ہیں جن سے مجھے عشق ہے۔ پھر سنجیدہ شاعری میں منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض اور جون ایلیا پسند ہیں۔ مزاحیہ شاعری میں دلاور فگار، ضمیر جعفری، انور مسعود اور اکبر الٰہ آبادی پسند ہیں۔ مزاح نگاروں میں سب سے زیادہ تو مشتاق احمد یوسفی صاحب پسند ہیں، خدا ان کی عمر دراز کرے لیکن وہ آج کل لکھ نہیں رہے اور قرۃ العین حیدر بھی پسند ہیں۔


سوال: عالمی ادیبوں میں کون پسند ہے، کسے پڑھتے ہیں؟
جواب: میں زیادہ تر مزاح ہی پڑھتا ہوں۔ عالمی ادیبوں میں ٹی ایس ایلیٹ اور مارک ٹوئن پسند ہیں۔بالخصوص مارک ٹوئن کا وہ جملہ بے حد پسند ہے کہ ’’بچپن میں ہم اتنے غریب تھے کہ ایک کتا بھی نہیں خرید سکتے تھے، رات کو جب کوئی آہٹ ہوتی تھی تو ہم سب گھر والوں کو باری باری بھونکنا پڑتا تھا‘‘۔


سوال: ہمارے ہاں کتاب اور مطالعے کی روایت کم کیوں ہو گئی ہے؟
جواب: میں اس بیان کو سرے سے ہی رد کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں کتاب نہیں بکتی یا اس کی روایت کم ہو گئی ہے۔ اس طرح کی باتیں صرف وہ لوگ یا وہ شاعر کرتے ہیں جن کی اپنی کتابیں نہیں بکتیں۔ ہمارے ملک میں اتنے زیادہ ’’بک فیئرز‘‘ اور کتاب میلے ہوتے ہیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں اور ہر کتاب میلے میں کروڑوں کی کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔


سوال: کیاہمارا موجودہ ادب ہمارے منفی سماجی رویوں کی اصلاح کر رہا ہے؟
جواب: ادب ہمیشہ ’’اِن ڈائریکٹ‘‘ بات کرتا ہے، یہ کبھی بھی ڈائریکٹ بات نہیں کرتا۔ یہ
’between the lines‘‘
بات کرتا ہے اور دنیا کا کوئی ادب ایسا نہیں ملے گا جس میں کوئی نہ کوئی پیغام نہ چُھپا ہو۔ دنیا میں جتنے انقلاب آئے ان کے پیچھے بہت بڑا ہاتھ ادب کا بھی ہے البتہ ادب کے اصلاح کرنے کا طریقہ ہومیو پیتھک ہے۔


سوال: حال ہی میں عدلیہ کی جانب سے اردو کو دفتری زبان بنانے اور مقابلے کے امتحان اردو میں لینے کے فیصلے سامنے آئے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے ادب کی ترویج و ترقی پر بھی کوئی اثر ہو گا؟
جواب: ہمارے ادیب تو اردو میں ہی لکھتے ہیں، وہ انگریزی میں تو لکھتے نہیں کہ اس فیصلے سے کوئی فرق پڑے لیکن میں دل و جان سے اس فیصلے کی تائید کرتا ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ محض انگریزی کی وجہ سے بہت سے قابل افراد روند دئیے جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر نہایت نالائق لوگ اوپر آ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی صرف انگریزی ہی اچھی ہوتی ہے اور پتا انہیں ’’ککھ‘‘ نہیں ہوتا۔


سوال: باقاعدہ کالم نگاری کب شروع کی؟
جواب: کالم نگاری تو شہاب کے زمانے میں ہی شروع ہو گئی تھی، بعد میں نوائے وقت جوائن کر لیا، وہاں کالم نگاری کے ساتھ ساتھ سنڈے میگزین میں فیچر بھی لکھتا تھا، ہر مہینے باقاعدگی سے اس کام کے 323 روپے ملتے تھے۔


سوال: آپ کے فکاہیہ کالم کو آپ کے والد صاحبہ کی تائید حاصل تھی؟
جواب: ویسے تو میرے والد میرے کالم کو ’’خرافات‘‘ کہتے تھے لیکن پڑھتے بھی ضرور تھے۔ ایک دفعہ جب میں امریکا میں تھا تو میں نے ایک کالم لکھا جس میں مَیں نے لکھاکہ ’’ہماری ہاں جنسی گھٹن بہت زیادہ ہو گئی ہے جس کا مظاہرہ پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر عام دیکھنے کو ملتا ہے بلکہ اب تو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ جانوروں کی عصمت بھی محفوظ نہیں رہی‘‘۔ جب یہ کالم چھپا تو میرے والد میرے سے ناراض ہو گئے، وہ فوراً مجید نظامی مرحوم کے پاس گئے کہ آپ نے یہ کالم شائع ہی کیوں کیا، انہوں نے سمجھایا کہ میں نے ایک نوجوان کے خیالات سمجھ کر اسے چھاپ دیا ہے، اس کے بعد انہوں نے مجھے خط لکھا کہ فوری طور پر اپنے ان خیالات سے توبہ کرو۔ آخر کو میں بھی انہی کا بیٹا تھا، میں نے انہیں 26صفحوں پر مشتمل خط لکھا جس میں ان کی لائبریری میں موجود کتابوں سے بے شمار حوالے دئیے اور اپنے موقف کا اعادہ کیا، جس پر وہ مان گئے۔ جہاں تک بات تائید کی ہے تو مجھ سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب کالموں میں دس پندرہ دن کا ناغہ ہو جاتا تو مجھے بلا کر پوچھتے ’’یار تیری وہ خرافات ان دنوں نہیں چھپ رہیں‘‘ میں سمجھ جاتا کہ انہیں میرا کالم پسند ہے لیکن حوصلہ افزائی کا انداز دوسروں سے مختلف ہے۔


سوال: کالم نگاری کے حوالے سے کوئی دلچسپ واقعہ جو آپ سنانا چاہیں؟
جواب: ویسے تو بے شمار واقعات ہیں لیکن میں آپ کو اپنے ’’لمبریٹا‘‘ سکوٹر کا واقعہ سناتا ہوں جو میں نے 70sمیں قسطوں پر لیا تھا، مگر قسطیں پوری ہونے سے پہلے ہی یہ سکوٹر چوری ہو گیا۔ اس پر میں نے ’’محترم چور صاحب‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھ دیا۔ یہ کالم اتنا مقبول ہوا کہ پاکستان کے ہر بڑے کالم نگار نے اس پر کالم لکھا۔ ابنِ انشاء نے لکھا، احمد ندیم قاسمی نے لکھا، انتظار حسین نے لکھا۔ اس زمانے میں مساوات اخبار میں سہیل ظفر نے بھی اس پر کالم لکھا۔ چور گھبرا گیا کہ ’’میں نے کس قوم کو للکارا ہے‘‘ اور وہ میرا سکوٹر واپس کر گیا۔ جس پر میں نے بعد میں ایک اور کالم لکھا ’’چور صاحب آپ کا شکریہ!‘‘۔ اس کالم میں مَیں نے لکھا کہ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے سکوٹر واپس کر دیا، میں نے تو ابھی اس کی قسطیں بھی پوری نہیں دی تھیں لیکن میں پریشان ہوں کہ آپ نے کس کا کالم پڑھ کر سکوٹر واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے ’’مساوات‘‘ میں سہیل ظفر کا کالم پڑھ کر اسے پارٹی کا حکم سمجھا اور سکوٹر واپس کر دیا۔ وہ زمانہ اتنا رواداری کا تھا کہ کسی نے بھی اسے مائنڈ نہیں کیا بلکہ جب سہیل ظفر مجھے ملے تو ہم ہنس ہنس کر دہرے ہو گئے۔


سوال: امریکا کیوں جانا ہوا تھا؟
جواب: اگر صحیح پوچھیں تو آوارہ گردی کرنے گیا تھا۔ اس زمانے کے میرے سارے دوست امریکا چلے گئے تھے میں اکیلا ہی تھا جو اس ’’جوگا‘‘ نہیں تھا کہ ٹکٹ بھی خرید سکتا۔ نوائے وقت کی سب ایڈیٹری کے دوران میں نے ایک ففٹی سی سی موٹرسائیکل خرید لی تھی۔ اس سواری کو موٹرسائیکل میں نے خود قرار دیا ہے ورنہ اسے ’’پھٹپھٹی‘‘ کہا جاتا تھا۔ میں نے پندرہ سو روپے میں یہ بائیک فروخت کی۔ کچھ پیسے والد محترم سے اور کچھ بھائی جان ضیاء الحق قاسمی سے لئے اورپیدل ہی یورپ کے لئے روانہ ہو گیا۔ پیدل ان معنوں میں کہ جہاز کی بجائے بسوں، ٹرینوں، ٹرکوں اور لفٹ وغیرہ لے کر لکسمبرگ تک پہنچا اور وہاں سے ایک جہاز کی سستی ترین ٹکٹ لی اور امریکا جا اترا۔ لاہور سے نیویارک پہنچنے پر میرے چھ ہزار روپے یعنی چھ سو ڈالر خرچ ہوئے۔ اس زمانے میں ایک ڈالر دس روپے کا تھا۔

interattaulhaq1.jpg
پردیس میں جاتے ہی روٹی، کپڑا اور مکان کی ضرورت پڑتی ہے۔ قریب ہی ایک ہسپتال میں بلڈ ٹیکنیشن کی سیٹ خالی تھی، میں وہاں انٹرویو کے لئے چلا گیا۔ ڈاکٹر نے پوچھا نام کیا ہے، میں نے نام بتایا، پھر اس نے پوچھا کتنے پڑھے لکھے ہو۔ میں نے کہا، ایم اے اردو لٹریچر۔ اس نے کہا کل سے نوکری جوائن کر لو۔ (زوردار قہقہہ) مجھے امریکی نظام صحت پر آج بھی ہنسی آتی ہے۔ایمبولینسیں، حادثات یا فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو ایمرجنسی میں وہاں لایا کرتی تھیں اور میں انہیں خون لگاتا تھا۔ انتہائی نازک کام تھا لیکن اللہ نے مجھےُ سرخرو کیا۔ شاید ابا جی کی دعائیں تھیں جنہوں نے مجھے محفوظ رکھا۔ کچھ عرصہ بعد ایک ہوٹل جوائن کر لیا۔ پھر امریکہ میں بڑے ہوٹل میں فوڈ اینڈ بیوریجز منیجر کی نوکری مل گئی۔


مگر امریکہ میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ میری عدم موجودگی میں میرے والد (والدہ تو پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں)کو کچھ ہوگیا تو میں کیسے خود کو معاف کروں گا۔ پھر یہ سوچ بھی بے چین کرتی تھی کہ اگر مجھے خود کو کچھ ہو گیا تو یہاں گوروں کے قبرستان میں دفن ہونا پڑے گا جبکہ میں تو اپنے ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں دفن ہونا چاہتا تھا جہاں درود و سلام کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ پھر ایک سوچ یہ بھی تھی کہ میں امریکا میں شادی کرتا ہوں تو ممکن ہے کل کو میری نسل میں سے کسی کا نام ’’پیرزادہ پیٹر قاسمی‘‘ ہو اور ہمارے خاندان کی ایک ہزار سالہ دینی پس منظر کی تاریخ کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے۔ حالانکہ ہمارے خاندان کے شاگردوں میں ماضی بعید میں حضرت مجدد الف ثانیؒ اور ماضی قریب کی تاریخ میں امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور بانی جامعہ اشرفیہ مفتی محمد حسنؒ کے علاوہ سیکڑوں علما و مشائخ کا نام شامل ہے۔ چنانچہ دو سال امریکا میں رہنے کے بعد میں نے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ حالانکہ وہاں میں نے جو کمایا تھا وہ وہیں سیر و سیاحت پر خرچ کر دیا تھا۔ دوستوں نے کافی سمجھایا لیکن میں نے ایک نہیں سنی اور واپسی کا رخت سفر باندھ لیا۔ واپسی کے لئے بھی میں نے مشکل راستہ چنا اور امریکا سے بائی ایئر یورپ اور یورپ سے بائی روڈ پاکستان کے لئے روانہ ہو ا۔ ملکوں ملکوں گھومتے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے میں یورپین ملکوں سے ہوتا ہوا ترکی اور ترکی سے ایران پہنچا جس کے سرحدی قصبے سے ٹرین کے ذریعے میں کوئٹہ اور پھر کوئٹہ سے لاہور پہنچا۔ میں نے گھر والوں کو سرپرائز دینے کا سوچا تھا۔ اس وقت شام کا وقت تھا جب میں نے اپنے گھر کی بیل پر انگلی رکھی اور تھوڑی دیر بعد میرے اباجی نے دروازہ کھولا۔ انہوں نے مجھے اچانک اپنے سامنے پایا تو خوشی سے ان کا چہرہ دمک اٹھا۔اس وقت ابا جی کے چہرے پر جو خوشی اور مسکراہٹ تھی، وہ مجھے آج بھی نہیں بھولی۔


سوال: کالج میں پڑھانے کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟
جواب: مجھے دلی طور پر تو شروع سے ٹیچنگ سے لگاؤ تھا کیونکہ نوجوان ذہنوں کو پروان چڑھانے میں جو سکون اور مسرت ہے وہ میں نے کسی اور کام میں نہیں محسوس کی۔ بچوں کی ذہنی تربیت کرنا بنیادی فرائض کا حصہ سمجھتا ہوں۔ جب مجھے ٹیچنگ کی پیشکش ہوئی تو میں نے اپنے ایک دوست سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیکچرر شپ اور کالم نگاری کے اوقات الگ الگ ہیں، دونوں میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یوں میں بیک وقت کالم نگار اور لیکچرر بن گیا۔ میں تو خود بھی یہی چاہتا تھا چنانچہ ہم آہنگی اور یکسانیت کے باعث دونوں ملازمتیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔


سوال: پہلی کتاب کب منظر عام پر آئی۔
جواب: روزنِ دیوار کے نام سے میرے کالموں کا پہلا مجموعہ غالباً 1972-73میں منظر عام پر آیا تھا۔ میں نے کبھی اپنے کالموں کی کتاب میں وقتی نوعیت کے کالم شامل نہیں کئے۔ چراغ حسن حسرت اگرچہ واقعتا بہت بڑا نام ہے۔ میں نے بہت شوق سے ان کے انتخاب کی کتاب خریدی مگر مجھ سے پڑھی نہیں گئی کیونکہ تمام حوالے اور واقعات پرانے زمانے کے تھے۔ میں ان کے طنز کے پیچھے چھپے ہوئے واقعے کو سمجھ ہی نہ سکا۔ ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لئے میں نے ہمیشہ اپنے کالموں کی کتاب میں تخلیقی نوعیت کے کالم شامل کئے ہیں۔ اب تک میری کوئی ڈیڑھ درجن کتابیں آ چکی ہیں، جن میں طنز و مزاح کی کتابیں بھی ہیں اور سفرنامے بھی۔


سوال: ڈرامہ نگاری کی طرف کیسے آئے۔
جواب: اتفاق سے۔ (مسکراتے ہوئے) اور یہ بھی اتفاق کی بات ہے کہ میں نے زندگی میں کوئی کام پلاننگ سے نہیں کیا۔ لوگ پوچھتے ہیں آپ کو ٹی وی کے لئے لکھنے میں کون کون سی مشکلات پیش آئیں مگر میرے ساتھ یہ معاملہ بالکل نہیں تھا۔ میں کالم لکھتا تھا جب میرے ایک دوست نے ٹی وی کے لئے ڈرامہ لکھنے کو کہا میں نے انکار کر دیا اورکہا کہ میں ڈرامہ نگار نہیں ہوں۔ وہ ہمیشہ ڈٹے رہتے، بار بار اصرار کرتے کہ ایک بار ڈرامہ لکھ کر تو دیکھیں۔ پھر مجھے کہا گیا کہ آپ کے کالموں میں ڈائیلاگ اور ڈرامہ موجود ہوتا ہے۔ ان کے اصرار پر میں نے پہلا ڈرامہ علی بابا چالیس چور لکھا۔ ویسے تو یہ بچوں کا ڈرامہ تھا لیکن بڑے بھی اسے بڑے شوق سے دیکھتے تھے، اس کے بعد میں نے ایک ڈرامہ ’’اپنے پرائے‘‘ لکھا مگر اس کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا کیونکہ اس وقت حکومت کی جانب سے پی ٹی وی پر خاصی سختی کی گئی تھی، ضیاء جالندھری اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے، ایک روز انہوں نے لاہور اور کراچی کا دورہ کیا۔ لاہور سٹیشن سے میرا ڈرامہ چل رہا تھا اورکراچی میں انور مقصود کے ڈرامے ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ انہوں نے میرے ڈرامے کے ایک کردار اور آنگن ٹیڑھا میں سلیم ناصر کے کردار پر اعتراض کیا کہ آپ قوم کو بدتمیزی سکھا رہے ہیں۔ خوب ’’کھچائی‘‘ کے بعد انہوں نے دونوں کرداروں کو نکالنے کا حکم دیا۔ لاہور سٹیشن والوں نے فوری طور پر مان لیا اور ڈرامے پر قینچی پھیر دی مگر کراچی سٹیشن نے دلیری دکھائی، اور چونکہ، چنانچہ سے کام لیتے ہوئے قطع برید کرنے کے بجائے ڈرامے کو اپنے حساب سے آن ایئر کیا۔ ’’اپنے پرائے‘‘ کے بعد میں نے نہ لکھنے کی ٹھان لی لیکن پھر مجھے لکھنا پڑ گیا۔ پھر خواجہ اینڈ سنز لکھا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ ڈالے، اس کے بعد میں نے شب دیگ لکھا جس کے کرداروں ’’کاکا منا‘‘ اور ’’انکل کیوں‘‘ کو بہت شہرت ملی، ایک اور ڈرامے کے کردار پروفیسر اللہ دتا اداس کو بھی لوگوں نے بہت پسند کیا۔ پھر ’’حویلی‘‘ لکھا، ’’شیدا ٹلی‘‘ لکھا، کچھ اور ڈرامے اور لانگ پلے لکھے، اس کے بعد دو ڈرامے پرائیویٹ سیکٹر کے لئے بھی لکھے۔ میرے سارے ڈرامے سفید پوش طبقے کی نمائندگی کرتے تھے، میں نے کبھی ڈراموں میں بڑی کوٹھیاں، لمبی گاڑیاں نہیں دکھائیں بلکہ میں تو اس طرح کے گلیمر کو میڈیا کی دہشت گردی سمجھتا ہوں۔


سوال: سفارت کاری کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ جہاں بھی جاؤں، جو بھی کروں کچھ ایسا کروں کہ پتا لگے کچھ تبدیلی آئی ہے، ناروے میں میرے ہوتے ہوئے سفارت خانے کے دروازے ہر پاکستانی کے لئے کھلے تھے اور لوگ بلا جھجک میرے پاس آیا کرتے تھے بلکہ ایک بار تو یہ افواہ اڑی کہ سفیر صاحب ’’گرون لینڈ‘‘ میں جو کہ اوسلو کا نواحی علاقہ ہے اور پاکستانیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں۔ ناروے میں سفیر کو صدر جتنا درجہ حاصل ہوتا ہے اور یہ بات ملک کے وقار کے خلاف سمجھی گئی۔ پہلے پہل تو میں خاموش رہا مگر جب بات زیادہ بڑھ گئی تو ایک دن جمعے کو میں شہر کی سب سے بڑی مسجد میں چلا گیا اور وہاں جا کر اپنا آبائی کام کیا یعنی خطبہ دیا۔ میں نے کہا کہ جب سے میں اوسلو آیا ہوں، تب سے کوئی نہ کوئی سیکنڈل سننے کو ملتا ہے، اب کی بار میرا سیکنڈل سامنے آیا ہے کہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ کھانا کھاتے پایا گیا ہوں۔ میں یہاں کوئی صفائی دینے نہیں آیا بلکہ یہ بتانے آیا ہوں کہ میری ساری زندگی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ گزری ہے، میری زندگی کا یہ حصہ بھی انہی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ گزرے گا اور جب میں پاکستان واپس چلا جاؤں گا تو انہی لوگوں کے پاس جاؤں گا اور میری دعا ہے کہ جب میں مروں تو جاگیرداروں اور وڈیروں کے ساتھ اٹھائے جانے کی بجائے انہی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ اٹھایا جاؤں۔ میں آج بھی اکثر پیدل اندرون لاہور میں چلا جاتا ہوں تاکہ مجھے میرا ماضی نہ بھولے۔ ناروے کی سفارت کاری کے دوران پوری پاکستانی کمیونٹی ہر کام کے لئے میرے ساتھ کھڑی تھی، آج جب مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ ہمارے پاکستانی ناروے میں کتنے منظم اور کتنے متحد ہیں۔ وہ اپنے ملک سے کس قدر محبت کرتے ہیں اس کا اندازہ یہاں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔


سوال: آپ آٹھ سال تک الحمراء آرٹس کونسل کے چیئر مین رہے، وہاں ایسا کیا کام کیا جسے آپ اپنا امتیازی کام کہہ سکیں؟
جواب: وہاں تو بہت سارے کام کئے لیکن اگر کام کا ذکر کرنا مقصود ہو تو میں دو بڑے کام گنواؤں گا۔ اول تو میں نے انٹرنیشنل لٹریری فیسٹیولز کروائے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا، دوسرا یہ کہ میں نے فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں ایوارڈز شروع کروائے۔ اس کے علاوہ میں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کام شروع کیا اور پہلے ایک اشتہار شائع کیا کہ 35سال کی عمر تک کے افراد اپنا کلام بھیجیں۔ پورے پاکستان سے نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا، ہم نے ان میں سے اچھے شاعروں کا انتخاب کیا، انہیں لاہور بلوایا، ان کا مشاعرہ کروایا، ان کو معاوضہ دیا، ان کے لئے ورکشاپس کروائیں جس میں انہیں شعری اصناف کے بارے میں تعلیم دی گئی، پھر ان کے منتخب کلام کو ان کی تصویر اور مختصر سوانح پر مشتمل خاکے کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کیا گیا جسے ’’ذرا نم ہو‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن جس کام کی مجھے ذاتی خوشی ہے وہ یہ کہ مجھے چونکہ اقبالؒ سے عشق ہے، اس لئے میں نے الحمراء میں اقبال کا مجسمہ بنوا کر نصب کروایا۔ پہلے پہل اس کی بے پناہ مخالفت دیکھنے میں آئی مگر آج لوگ وہاں جا کر سیلفیاں لے رہے ہوتے ہیں۔


سوال: اب پی ٹی وی کے لئے آپ کیا کام کرنا چاہ رہے ہیں؟
جواب: پی ٹی وی میں میری ساری توجہ پروگرامنگ پر ہے۔ میرے نزدیک پی ٹی وی کا سب سے پلس پوائنٹ ’’ناسٹلجیا‘‘ ہے چنانچہ ایک تو ہم نے پرانے کلاسیک ڈرامے شروع کئے ہیں لیکن جو اس سے بڑا کام میں نے کیا اور جس کا میں نے آتے اعلان کیا تھا وہ یہ تھا کہ میرا وَن پوائنٹ ایجنڈا ’’اِن ہاؤس‘‘ پروڈکشن ہے۔ میرے سے پہلے 26سٹوڈیو ویران پڑے تھے، ملازم بے کار تھے، پی ٹی وی میں الو بولا کرتے تھے، سارا کام باہر سے لے کر چلا رہے تھے، میں نے سارے سٹوڈیو کھلوائے اور اِن ہاؤس پروڈکشن شروع کی۔ اب جو سہ ماہی آن ائیر ہے اس میں سارے پروگرام ہمارے اپنے چل رہے ہیں۔


سوال: موجودہ حالات میں آپ پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟
جواب: میں تو بے پناہ پُر امید شخص ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ زندگی میں مجھے جو کچھ ملا ہے، صرف اس لئے ملا ہے کہ نہ تو میں کبھی اداس ہوا ہوں اور نہ کبھی مایوس ہوا ہوں۔ اور اب تو میں اپنی آنکھوں سے پاکستان کو ترقی کرتا دیکھ رہا ہوں۔ آپ دیکھئے کہ آزادی کے وقت ہمارے پاس کیا تھا اور آج ہم کہاں ہیں، غریب سے غریب شخص کے حالات میں بھی کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ ایک وقت تھا ہم لوگوں کے پاس جوتے نہیں ہوتے تھے، سڑکیں نہیں تھیں، ہسپتال نہیں تھے، آج آپ عالمی سروے رپورٹیں اٹھا کر دیکھ لیں وہ یہ کہتی ہیں کہ اگر یہ تسلسل جاری رہا تو 2025میں پاکستانی معیشت یورپی ممالک کے مدمقابل کھڑی ہو گی۔ اگر جمہوری تسلسل برقرار رہا اور تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے رہے تو یہ ملک بہت ترقی کرے گا۔


سوال: ابھی حال ہی میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات دیکھنے کو ملے، پنجاب اسمبلی کے باہر خود کش حملہ ہوا، سندھ میں لال شہباز قلندرؒ کے مزار پر حملہ ہوا، آپ اس نئی لہر کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب: یہ ہمارے کچھ طالع آزماؤں کے بوئے ہوئے بیج ہیں، ماضی میں جان بوجھ کر مذہبی منافرت کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔ اگرچہ اس میں غیرملکی طاقتوں اور پڑوسی ملک کی سازشیں بھی شریک ہیں لیکن استعمال ہمارے اپنے لوگ ہو رہے ہیں۔ اب بھی کچھ ایسے فکری مراکز موجود ہیں جہاں مذہب کی غلط تشریحات سے نوجوانوں کے کچے ذہنوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے اور پھر انہیں ہمارے ہی خلاف استعمال کیا جاتا ہے مگر ہمارے ریاستی اداروں بالخصوص فوج نے جس قدر قربانیاں دی ہیں اس سے حالات بہت پُر امید ہیں۔


سوال: اپنا کون سا شعر سب سے زیادہ پسند ہے؟
جواب: اپنے شعروں میں مجھے ایک شعر بہت پسند ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری ساری زندگی کا نچوڑ یہ شعر ہے، میں نے اپنی پوری زندگی اس شعر کے مطابق گزاری ہے۔
اک صدا دے کے میں لوٹ آیا عطاؔ
اس نے اندر سے جب یہ کہا، کون ہے؟
(پنجابی میں) نہیں تے ناں سہی،

(زوردار قہقہہ)


سوال: آپ کا پسندیدہ لیڈر کون سا ہے؟
جواب: یقیناًمیرے پسندیدہ لیڈر قائداعظم محمد علی جناح ہی ہیں جن کے پاس ایک ویژن تھا، ایک لگن تھی، لیکن اگر موجودہ سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو آپ کے پاس بہت محدود آپشن ہے۔ کچھ جماعتیں لسانیت کی بنیاد پر چل رہی ہیں، کچھ مذہب کا نعرہ لگا رہی ہیں، کچھ قومیت کے پردے میں چھپی ہوئی ہیں، میں ان سب لوگوں کے ساتھ تو چل نہیں سکتا۔ ہمارے کچھ اچھے اور ٹیلنٹڈ سیاستدان بھی ہیں مگر وہ اپنے آپ کو ضائع کر رہے ہیں جس وجہ سے آپ کی آپشن بہت محدود ہو جاتی ہے اور میری سیاسی وابستگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔


سوال: ماشاء اللہ آپ ایک ہمہ جہت اور بہت کامیاب زندگی گزار رہے ہیں، اپنی زندگی کی روشنی میں نوجوانوں کو کیا پیغام دیں گے؟
جواب: میں ہمیشہ ایک ہی پیغام دیا کرتا ہوں کہ اپنے وسائل میں خوش رہیں، اگرچہ دولت ایک بڑا وسیلہ ہے مگر اس کی غیر موجودگی میں بھی خوش رہنے کی ہزار ہا چیزیں ہیں، آپ کے پاس آنکھیں ہیں، ہاتھ، پیر ہیں، عقل ہے، سوچ ہے، فکر ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اس پر اکتفا کر کے بیٹھ جائیں بلکہ زیادہ کے لئے کوشش کرتے رہیں لیکن کسی خواہش کے غلام نہ بنیں جب آپ خواہشوں کی غلامی پر اتر آئے تو پھر آپ گھٹیا سے گھٹیا کام بھی کریں گے۔


سوال: فوجی بھائیوں اور ہلال کے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: فوجی بھائی جس طرح ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔
ایک دعائیہ غزل
خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہونا چاہئے
اس نظامِ زر کو اب برباد ہونا چاہئے
ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم
جگنوؤں کو راستہ تو یاد ہونا چاہئے
خواہشوں کو خوب صورت شکل دینے کے لئے
خواہشوں کی قید سے آزاد سے ہونا چاہئے
ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے
عرض کرتے عمر گزری ہے عطاؔ صاحب جہاں
آج اُس محفل میں کچھ ارشاد ہونا چاہئے

 
05
May

Dr Maria Sultan

Published in Hilal English May 2014

“The nuclear assets of Pakistan are fully secured and placed under one of the best Command & Control systems in the world.”

Dr Maria Sultan is the Chairperson and the Director General of the South Asian Strategic Stability Institute (SASSI) University. She was the founding co-director of the SASSI Unit at the Bradford Disarmament Research Centre (BDRC), University of Bradford. Dr Sultan is a specialist in South Asian nuclear arms control and disarmament issues, weapon systems development and strategic stability. She has been published widely in academic journals, news dailies and books. Earlier, Dr Sultan worked as the Assistant Editor in an English daily ‘The Muslim’. She is also a visiting faculty member at various universities.

Asif Jehangir Raja

Q. Pakistan, despite pressures, has not favoured international talks on Fissile Material Cutoff Treaty (FMCT) since the Conference on Disarmament (CD) held in May 2009 due to the concerns about India's recently enhanced ability to expand its nuclear arsenal. What is background of this issue and what can be the implications for Pakistan?

Answer: The nuclear programme of any country is to be seen in the security context in which it was initiated. In case of Pakistan, there are no two opinions; Pakistan built its nuclear capability for deterrence purposes. Pakistan did not want its conventionally superior adversary at Eastern border to wage an un-announced war. Few say that power difference between Pak-India forces is 7:1, which is way too much. Nonetheless, we have always been able to counter that threat on conventional plane.

The nuclear explosion by India in 1974 changed security dynamics of the region. The threat perception for Pakistan had changed so accordingly it also started building up its nuclear credentials and deterrence capability. It was in 1998, after Indian testing of nuclear weapons, Pakistan also carried out its tests. But even before the nuclear tests, in 1996, the world had initiated a new mandate through Comprehensive Test Ban Treaty (CTBT). This was the time when terminology of T3 states (The Threshold States) for Pakistan, India and Israel was surfaced which was later abolished after nuclear tests in 1998.

During 1995's Conference on Disarmament (CD), 'Shannon Mandate' asked member countries to impose ban on the production of fissile material for nuclear weapons or other nuclear explosive devices. In 1999, USA and India had signed strategic partnership which focused on four steps in ten years time: a) US and India will cooperative in development of Anti Ballistic Missile (ABM) Systems; b) there will be high tech trade and military collaboration between both countries; c) US and India will sign civil nuclear deal in future; and, d) exchanges of advance technologies between both countries. But because of 1998 nuclear tests and 'Next Steps in Strategic Partnership' (NSSP) signed between US and India, we saw FMCT debate getting off line in Pakistan-India context despite the fact that Shannon Mandate was accepted by all parties.

The decade from 1999-2009 saw development of Indo-US Nuclear Deal and culmination of four things:-

•On the space technology, USA and India had collaboration on ABM Systems which simply meant that India was being given offensive missile capability for defensive purposes. So the ban under the Missile Technology Control Regime (MTCR), both for Pakistan and India, was suddenly lifted because of NSSP.

•The Joint Ventures (JV) between USA and India in terms of using Indian nuclear manpower and nuclear market for future. We saw US-Indian nuclear deal which, by nature is bilateral, but in reality is multilateral. Because for the first time, India was given access to acquire nuclear technology for peaceful purposes from all members of International Atomic Energy Agency (IAEA) without accepting international bindings and official legal agreements required for such deals.

•As a special case, India was permitted to acquire strategic fuel reserve required for construction of nuclear plants. According to the estimates, around 1.5 tons of strategic fuel would be given to India for construction of these plants which is also enough to manufacture 400 nuclear weapons per year.

•As per nuclear deal, the fuel cycle for civil and military use was to be separated that India hasn't done so far. Moreover, the source for the military and civil nuclear fuel is same and India has placed eight of its nuclear reactors under safeguard out of 14, which means the other reactors can be used for manufacture of weapons.

Out of this nuclear deal, India was granted all benefits; it had a strategic nuclear fuel reserve, eight un-guarded nuclear facilities, and access to global nuclear technology. So Pakistan had to re-calibrate its threat matrix. The nuclear concessions offered to India meant that the only country which FMCT could target, was Pakistan. So in 2009, Pakistan took a very clear stance with four points in focus: a) ABM system developments that India was doing; b) US-India nuclear deal and resultant nuclear weapon development in India; c) Indian declaration that in case of any terrorist attack inside their territory, she may carry out retaliatory attacks on Pakistan within 96 hours; and, d) Trade of high technologies between India and Israel, India and other countries which could potentially be used against Pakistan. And the speed with which advance military gadgets are being handed to India.

So the whole pressure on Pakistan to be part of FMCT talks was meaningless. Both Pakistan and India have maintained that they had have unilateral moratorium but what is the use of that if India is being supplied with all nuclear facilities that can help in expansion of its nuclear arsenal. Pakistan's nuclear programme is based on minimum credible deterrence which is a dynamic concept and one has to remain abreast with the developments at regional level. Deterrence is based on three fundamental concepts: ability to penetrate enemy defences, ability to survive an enemy attack, and survivability of Command & Control strategy. Pakistan thought that all these elements were being questioned so it didn't support FMCT talks.

Q. Pak-China nuclear cooperation leaped forward with the announcement by China to build two nuclear reactors near Karachi. How do you view this peaceful deal in the backdrop of energy crises in Pakistan and the negative propaganda against this cooperation by few international quarters?

Answer: The propaganda campaign that we are now facing has been focused on construction of K-2 (Karachi Coastal Power Project-2) and K-3 (Karachi Coastal Power Project-3), which were inaugurated by the Prime Minister in November 2013.

There are a few reasons for this propaganda: a) these projects are advanced 1100 MW nuclear power plants whereas Chashma projects were 300 MW reactors; b) K2 & K3 have commercially more viable designs; and, c) these are 3rd generation nuclear power plants which means that inbuilt design features have been added to cater for threats from an air attack or even tsunami (the highest tsunami height expected in Karachi is about 2.8 m above sea level, while the K-2 and K-3 ground level is 12 m above the mean sea level).

In terms of nuclear technology, power and capacity enhancement, these are one of the advanced nuclear plants in the world. The world can't much criticize these projects as Pak-China nuclear cooperation is protected by 'grandfather clause,' a nuclear agreement done between Pakistan and China during 1990s. It states that China can build nuclear power projects inside Pakistan to meet its energy requirements and these facilities will be safeguarded.

So technically Pakistan entered in a market which was previously dominated by 12 countries, and very few countries possess nuclear power plant designs which are 1100 MW and above. It includes Areva from France, General Electric from USA, South Koreans, Russians, and Chinese. Energy experts expect 100 more nuclear plants to be built world over in the coming years to meet the energy requirements of 187 countries. So Pakistan might look for Middle East and African energy markets to explore in the coming years.

K2 & K3 projects are likely to be completed by the year 2019 and will be able to generate electricity at Rs. 5 per unit which is way too cheap than other generation methods except water. Coming to safety and security parameters of these projects; Pakistan is among few countries which have independent regulators, and has experience of handling nuclear material with safety for many decades. Pakistan knows how to operate nuclear reactors, has self sufficiency and excellence in handling and re-processing nuclear materials, and can do fabrication of nuclear fuel. These projects are located 40 km away from city and are cleared from all angles of safety. Even if there is some nuclear accident, normal security protocols are taken within 20 km range whereas these are far away.

Moreover, Pakistan's civil nuclear facilities are under safeguards of International Atomic Energy Agency (IAEA) whose Director General also visited Pakistan recently.

Q. Briefly explain us about significance of the US-India nuclear deal that was signed eight years ago. What has it achieved so far and what are implications for Pakistan?

Answer: This nuclear deal has accorded India a de jure status, recognizing that India has nuclear fuel cycle which is dedicated for maria2weapons' development. It has also given India access to global nuclear technology market as a recipient state. USA is now building a case for India to be given access to global nuclear energy market as a supplier state. US also wants India to become member of Nuclear Export Control Regimes; the Nuclear Suppliers Group (NSG), the Missile Technology Control Regime (MTCR), the Australia Group and the Wassenaar Arrangement. It can be critical for Pakistan if materialized, because India, as a member, can block Pakistan's access to dual use of nuclear technology under the consensus rule. Also as a result of this deal, India has been granted access to huge amount of nuclear materials without any concrete international pre-bindings and official agreements and hence can be misused by them. As we saw in case of ABM systems collaboration, India launched its first mission to space which had earlier been stopped few decades ago because India could not get cryogenic engines from Russia due to the NSG guidelines and technology denial regimes. But as a result of ABM collaboration, India could do it in less than four years.

This deal will also lead to more joint collaboration between India and US on strategic and military front. The modernization of Indian Military as a result of any such cooperation will have serious implications on strategic balance of this region and will encourage India to pursue more offensive doctrines like Cold Start Doctrine (CSD) etc. The speed with which India is being supported by international community to emerge as a regional power after this nuclear deal is a point of concern. India's aggressive posture towards neighbours and her tendency to interfere in other country's internal affairs has seen on rise in last few years. Pakistan has, number of times, expressed concerns over India's involvement in terrorist activities in Balochistan, FATA, and her efforts to destabilize situation along Pak-Afghan border. Probably India is quite confident that whatever activities she resorts to in the neighbouring countries, she will not be questioned by international community.

This is happening at the moment. India is being given role by the international community, far bigger than the responsibility, that it is willing to share.

Q. Pakistan has, over the years, laid a comprehensive Command & Control System for its nuclear assets. How do you view safety of Pakistan's strategic assets?

Answer: When we talk of nuclear safety and security, we have to see it in two different dimensions. There are different parameters when you talk of nuclear safety and security for civilian purposes and these are different when we watch it for military purposes. The problem arises when we use civilian safety parameters for military purposes. For a non-nuclear weapon state, security and safety credentials essentially means one thing: nuclear materials are not diverted for military purpose, nuclear materials do not get into the hands of terrorists and non-state actors, nuclear materials are safe and secure, and the nuclear storage sites and equipment are secured. Talking of military aspect of safety of nuclear weapons for a nuclear state, it has multiple dimensions: a) nuclear material has already been designed into a nuclear weapon so it is never used when you don't want it; b) nuclear weapon is always there when you want it; c) nuclear weapon should be able to penetrate enemy defences; d) nuclear weapons should survive enemy attack; and, e) nuclear weapons are properly battle integrated in the battle plans and follow a delegated Command & Control Mechanism. The concept that nuclear weapons or missiles can be stolen and misused is out of place. Nuclear safety is altogether a different concept and focuses on different dimensions.

The nuclear assets of Pakistan are fully secured and placed under one of the best Command & Control systems in the world. Starting from National Command Authority to the level of storage and safety of the sites, a comprehensive system with multiple tears of command has been put in place. A separate security force has also been raised which is fully trained and equipped to secure strategic assets of Pakistan.

Q. How do you view the potency of threat from India after introduction of Cold Start Doctrine (CSD) in their strategy?

Answer: I would say it is an over ambitious, dangerous and a destabilizing doctrine that has changed the threat matrix between Pakistan and India. This concept basis itself on assumption that Pakistan will either not react or will respond at a limited scale against any adventure by India. It is also based on assumption that India will be able to contain international response and will be able to monitor battlefield close enough to launch reserves as and when they desire at a short notice. However fact remains that battle plans start changing instantly after firing of first bullet and no plan can remain intact during heat of the battle.

Indian chain of command in case of nuclear strike is surprisingly unique. The Indian National Security Advisor, who also heads intelligence agencies, will advise Indian Prime Minister to carry out nuclear strike, who will then take this matter to Indian Cabinet for approval. The point of concern in this case is the channel of feedback for Indian National Security Advisor, who presumably, shall base his recommendation on intelligence input alone to suggest nuclear strike. Technically, we are dealing with a country whose nuclear Command & Control system is intelligence-led. Nowhere in the world decision about nuclear strikes are taken on intelligence feedback alone. There is always a military input on the basis of which national decision-making is done.

The Indian Cold Start Doctrine has four issues: a) Indian political leadership will delegate the powers to Indian Military, which will delegate it to Pivot Corps and decision of war will further go down to Integrated Battle Groups, which will be placed close to the borders (so who will choose the timings of the battle?); b) the belief that they can control every aspect of the battle; c) they are not calculating and not taking into consideration any potent response from Pakistan; d) their belief that Pakistan is willing to fight a conventional war at the expense of Pakistan without using nuclear weapons at will.

Pakistan has already made it clear through the forum of National Command Authority (NCA) that it will respond to any battle situation as per requirements and will not compromise on security of Pakistan.

Q. With the Indian involvement in Afghanistan and growth of US alliance with India, where do you assess power game twisting in the region with the possible implications for Pakistan?

Answer: I believe that India has been given a role in Afghanistan far outreaching to perform as an internationally responsive actor in a globally chaotic region. I think India is one country that has not paid the price of Afghan war. Pakistan, NATO countries, USA and other countries paid the share of Afghan war in blood, in kind, and in resolve. India on the other hand has neither financially paid for the war nor understands the dynamics of instability in Afghanistan. India is also unaware of the cultural and tribal background in which Afghan conflict has developed. They feel that at this moment, they are in a opportunistic and safely placed position. They just have to give financial support to some projects and, to date, have pledged to give US$ 760 million for the projects. However, they have delivered 40% of this pledged amount on ground. Pakistan has also given US$ 360 million so far for different projects in Afghanistan.

Indians also want to train Afghan National Army (ANA). But ANA is facing many problems that include proper training, well established chain of command, logistic issues, ethnic divisions and lack of faith in future role. According to US reports, around 46000 soldiers of ANA desert each year. So if India wants to come and train them in these circumstances, can they stay for long in Afghanistan? What role will they be playing? Moreover, in case of any problems in the post-2014 Afghanistan and presence of Indian Army at that particular time frame, busy in training the ANA; probably the time for Indians to pay for the cost of Afghan conflict will begin then.

Q. What is your assessment of the situation in the region after withdrawal of forces from Afghanistan? How do you see the future map of the region and how can Pakistan safeguard its interest?

Answer: This will be critical. To me, NATO forces are both sign of strength and weakness; both the sign of stability and instability for Afghanistan. Once they leave Afghanistan, the world will be again witnessing the essential nature of Afghan state and society. Afghan society and state by nature are tribal; meaning that no war in Afghanistan can go beyond tribal lines. That means the world in general and the region in particular will have to face multiple wars in Afghanistan.

To achieve peace in Afghanistan for longer duration, the ANA and other security forces will be of crucial importance. For sustainability of these forces, foreign aid will be required. And in the absence of foreign aid coming, things may turn difficult and ugly for everyone in the neighbourhood. There is an apparent dichotomy in handling the situation in post-2014 Afghanistan. For example, counter terrorism (CT) operations will be led by US forces (could be CIA!), whereas, counter insurgency (CI) operations will be carried out by the ANA (under NATO, and may be, Indian Army influence!!). So there will be two parallel missions led by two centres of power. More so, how will Afghan state maintain its basic structure? Who will be funding that? The ratio of the aid suggests that US$ 68.2 billion were kept aside for Afghanistan in last 13 years. Out of this amount, only US$ 24.2 billion has actually been received by Afghans. So there is corruption and many other issues, people are dealing with in Afghanistan.

Then is also an element of unpredictability and (probable) unacceptability of Afghan election results. So if there are peace negotiations in Afghanistan, people will want some stake in that. They will want to be considered as part of the power matrix. So in that case, Afghan results will have to be expanded. People will have to be brought into power in order to share the power. Once you do that then the fragility of Afghan state structure will be at forefront. This means that in case of chaos at national level, stability will have to be achieved within internal border lines of each tribe. This also means that each tribal leader or warlord would like to secure his area. And once doing so, we are looking at multiple intra-wars within tribes and among tribes.

Pakistan has the realization of the situation and wishes for internal stability of Afghanistan. However, in case of internal wars, Pakistan will be looking at this situation with few concerns in mind. There should be broad based de-escalation of situation in Afghanistan. That is only possible if the basic contours of ethnic divide are understood in power corridors. If Pashtuns are a dominating factor, they should be represented in the same ratio. Since Afghanistan is more like a tribal oriented state and society, tribal confederation has to dominate more than the ethnic confederation. Another important point of concern for Pakistan will be the drug control. Estimates suggest that US$ 83bn of drugs are passed over to different countries from Afghanistan per year. Similarly, Pakistan will not afford influx of more Afghan refugees. Pakistan shall desire that old refugees should return to Afghanistan and should participate in their nation building. Another important issue for Pakistan is the border management. There are approximately 300 crossing points at Pak-Afghan border. Pakistan wants a fundamental and affirmative action against those who cross these points illegally. We do not want Afghan soil to be used against Pakistan for any terrorist or other negative activity. For that we will take no exceptions. Whether it is the Islamic Movement of Uzbekistan or TTP or safe havens in Nuristan or Kunar, Afghan Government will have to take stern action.

Q. Briefly explain us the external and internal security challenges Pakistan is facing today? How should Pakistan go about in handling these challenges?

Answer: Pakistan has now evolved to deal with the non-kinetic warfare as the most central threat for us. We are facing both conventional and internal threat and threat has expanded over time for Pakistan. We are evolving to use various national policy and power tools. It also means that use of proper laws and necessary legislation is of primary importance. We have seen its utility in ongoing War on Terror. The present-day unconventional war is no longer an event but is a process. So while we deal the imminent threats, we also have to look at process, too.

Next is the ability to perform on information domain which will come through strategic culture. If you do not understand who you are, you cannot respond the way you can. So the threat matrix has to be understood in that context, with parallel ideas and parallel narratives. Moreover the threat has to be seen in terms of institutional credibility. Because now centre of gravity for the attack by both internal and external forces, extra regional forces, and international forces, is the credibility of institutions. And the defeat mechanism is implosion. Whichever side creates implosion, will win. If we are able to create implosions in the processes and sub-processes that lead to terrorist activities, we are the successful party. If they are able to create implosion, within the processes and sub-processes which do not allow the state and state institutions to function, we are the ones who will fail.

In short, the threats for Pakistan are: Institutional credibility that is linked to governance issues, that is linked with the ability of institutions to perform, your ability to generate a narrative, your ability to look how processes are linked, and select application of kinetic force to increase lethality, where people, who create resistance, are personally targeted whether they are inside institution or outside it to create the desired effect. Information campaign to malign them is another method that we should actually be prepared for. There is an international normative framework under which these things have been operative.

So we have to understand what are the norms which have been created for non-kinetic effect and how we need to respond. We should take responsibility to the ability which we can absorb. Do not over commit or under perform. For Pakistan, threat matrix is complicated, not easy. We need to understand that Pakistan is being attacked by four fault lines; Karachi, based on political landscape; the majority being attacked by minority, FATA; ethnic, and economic divide lines within provinces.

Q. What in your opinion should be the strategy to achieve peace in FATA?

Answer: The best way to handle such situations is to ensure that public is on your side. People in FATA should also assist forces in border management to ensure long term peace. Those people need to be communicated and educated that peace can be ensured by state of Pakistan and not by the terrorists. If there are any governance issues, state of Pakistan should take full responsibility in resolving them. New actors will have to be created as old system has died with time. Education can be best tool for long-term peace in FATA and educating women can even be more significant. Because the enemies are supported by external forces who have invested money in them and are supporting them to destabilize Pakistan. The shortest possible route in bringing peace and key to success will be better border management. We will have to switch as a hard border state from soft border state. The problems in FATA will have to be dealt at political, economic and military front.

08
May

The World No. 1

Published in Hilal English May 2017

Written By: Maryam Razzaq

An interview with the team "TAME" from NUST which won the first place in Stanford Longevity Design Challenge 2017.

 

As we went on the stage and took out the Pakistani flag everyone just stood up from their place and clapped for us. It was a moment that filled our hearts with indescribable love and respect for our country. The world acknowledged our success as we proved to them that innovation is not limited to a geographic region.

 

Acceptance to divine’s will is a tool of contentment. While contentment brings happiness and acceptance to life, the same also halts the very endeavor and struggle one makes to change and improve the current situation. The case of elderly persons with physical impairment like tremors is an example where society has widely accepted their condition with no recourse to treat and cure.

 

theworldno1.jpgAmazingly, a group of students from NUST has embarked upon a project to develop and introduce a device called TAME-Tremor Acquisition and Minimization which seeks to develop wearable technology for the suppression of real-time pathological tremors without hindering the voluntary movement of the patient.


The students Arsalan Javed, Awais Shafiq and Hooriya Anum not only qualified to present their project at Stanford Longevity Design Challenge 2017, held in Stanford University California but they also won the competition defeating the world’s top universities including the Massachusetts Institute of Technology (MIT), Cornell University, Virginia Tech, University of Sao Paulo, Beijing University and Stanford University itself . Their achievement of raising our national flag at such a prestigious platform filled every Pakistani’s heart with pride.


The initiative and the progress made by this group of young students so far has to be shared with different segments of society to provoke their thoughts and invite the assistance they can offer to the group to materialize their project. Therefore Hilal arranged an interview with the group and salient of discussion are as under.

 

theworldno12.jpgQ. Firstly can you explain to the readers what your project was about?
Hilal’s readers may have an idea about tremors. It’s a human body disorder which involves unintentional, involuntary, rhythmic muscle movement including to-and-fro movements (oscillations) of one or more parts of the body commonly affecting the movement of hands, arms, head, face, voice, trunk, and legs. The tremor of hands is especially the most disabling one. So, what we created as our Final Year Project (FYP) is a device called TAME-Tremor Acquisition and Minimization. It is a wearable device which seeks to diagnose and suppress the involuntary movement of the muscles thus controlling pathological tremors.


Q. When did you start working on this project and what was the motivation behind it?
We started this project back in December 2015 as our FYP and what motivated us was that we could relate to it at a personal level as we actually saw this particular disease of tremors in our families and friends leading them to struggle with the basic daily tasks. And thus we wanted to find an engineering-based solution for the disease.


Q. Tell us something about your journey from NUST to Stanford Longevity Design Challenge?
Awais: It has been a long journey as research and innovation take their time. During our graduation we didn’t expect much from our project since being engineering students we had little knowledge of medicines but what we had in mind was that we wanted to make a difference. We wanted to use our engineering knowledge to help the people who couldn’t do their basic tasks. With that motivation in mind we did what we could. And Alhamdulillah we came up with a minimal viable product which we tested in Fauji Foundation Hospital on a couple of patients. And Stanford Longevity Design Challenge was a perfect fit for us because the whole theme and purpose of it was to optimize the lives of human beings.


Hooriya: The journey from our final year project in graduation till now has literally been a roller coaster ride because we have faced a lot of difficulties to be able to make this bio-medical device; from finding enough research on it to practically making and experimenting it, keeping the limits in mind. The journey was never easy but Alhamdulillah our work and persistence paid off.


Arsalan: More than anything this has truly been a great learning experience. Today, we are entirely different people than what we were one-and-a-half-year ago. This journey has not only made us better engineers but also better people.


Q. What was it like to be winning against the world’s top universities including the very prestigious Massachusetts Institute of Technology (MIT), Cornell University, Virginia Tech, University of Sao Paulo, Beijing University and Stanford University itself?
Arsalan: No doubt the challenge was really daunting because it wasn’t like some of the top, but the top universities of the world were competing against us. We took it as an exciting challenge.


Hooriya: I would say we were quite anxious. It was interesting; the teams were very confident as some of them had their products ready while others had their research to share. The only thing that kept us going was that we had to represent Pakistan and pay back to the country what it has given us.

 

Awais: Just the feeling itself of being at such a prestigious institute and competing against the world’s top universities was something I can’t really put into words. And I think this never could have been possible without my team. Our prime objective at that time was not as much to win but to represent our country in the best possible way. We were nervous standing next to the top ranked universities and when our name was called as the winners, we were definitely overjoyed.

 

Winner of Stanford Longevity Design Challenge –Team "TAME" from NUST meets COAS

theworldno14.jpgNUST students who bagged the first position at Stanford Longevity Design Challenge held in California, USA on March 30, 2017, met Chief of Army Staff General Qamar Javed Bajwa in GHQ. 20 countries participated in the competition. The theme for participants was to focus on improving the quality of life for individuals ageing in their homes. 3-member NUST team comprising of Awais Shafiq, Hooriya Anam and Arslan Javed was selected to top 9 teams from different universities across the world by a panel of judges of industries from Silicon Valley. NUST team designed Tremor Acquisition and Minimization (TAME) and defeated MIT, Virginia Technology, Stanford, Sao Paulo, Brazil, Waterloo, Canada, Cornell, California, Berkeley and Beijing universities in final stage held at Stanford University. TAME is a wearable device for real time pathological wrist tremor suppression to enable tremor patients perform their routine task without assistance. COAS congratulated the team on this outstanding achievement. "Our youth is our asset and we are proud of their achievement for keeping the green flag high", COAS emphasized.


Q. Watching you on TV surely filled our hearts with pride; how did you feel, holding and waving our national flag at such a prestigious platform?
As we went on the stage and took out the Pakistani flag, everyone stood up from their place and clapped for us. It was a moment that filled our hearts with indescribable love and respect for our country. The world acknowledged our success as we proved to them that innovation is not limited to a geographic region. We knew at that very moment that it wasn’t just us who had won but Pakistan had won. We had won for the country which enabled us to be who we were today, it was for the nation that supported us, it was for the institute that opened avenues for us, it was for the teachers who instilled knowledge in us, and it was for all those people who invested in us.


Q. How has your experience been at NUST?
Arsalan: It might sound cheesy but NUST is the best thing that has ever happened to me. There is so much to learn over here. You get exposed to not only a lot of research but the environment that NUST provides helps you to interact at international level.


Hooriya: I will second Arsalan’s opinion that NUST exposed us to international platforms and different avenues. Not only it has helped us academically but also has groomed us to be the people that we are today.


Awais: Well, apart from the study point of view it is absolutely true that whatever I am today is because of this prestigious institute. The ability to present at a platform like Stanford and the confidence to deliver among the tech leaders has all come from this university.


Q. What would you like to say about the faculty and your supervisor?
We went with the idea of TAME to Dr. Raza Kazmi who was very supportive and we couldn’t have done this without him. He is the one who connected us to the Fauji Foundation Hospital and there in Foundation University Islamabad we met Dr. Khalid, Dr. Tassawur Hussain, Dr. Rabiya and Dr. Saira. Dr Khalid and Dr. Tassawur are like celebrity doctors. And I think it is because of them that we were able to expedite the Ethical Committee review which gave us access to the patients.


Q. Are you satisfied with your final project or would you like to further improve it?
TAME for now is in the prototype phase. Although the minimal viable device that we have made has been widely accepted, the final product still needs to be made and launched in the market. So we are working on it constantly.


Secondly, as we are satisfied with our project, our main focus is to make it affordable for all the tremor patients. So we are already working to further improve it.


Q. You must have received offers from various companies for assisting you in materializing your project and converting the TAME prototype into an actual product. So, how do you plan to do that?
Well we certainly have gotten a lot of offers from big names but one of the problems in Pakistan is that people like to play it safe. They prefer to invest in software because it gives you a lot of return. For hardware you actually need a lot of money to make something. And since this is specifically a bio-medical project, there is limited capital, limited resources and limited mentorship available for taking it to the next level.


After the graduation we received multiple job offers which we rejected as we wanted to further work on our project to convert it from prototype to a real time device available in the market. This device can certainly be made in Pakistan but due to limited resources the time span to actualize it and bring it to the market will be relatively long. We have actually been offered sponsorship from abroad so let’s see.


Q. What was the biggest challenge you had to overcome to get your project completed?
Hooriya: The biggest challenge for me I guess was getting the Ethical approvals. Also, even after having made the device and setting its algorithm and everything, one cannot be sure if it will function unless it is tested upon a human patient.


Arsalan: I think I’d second Hooriya that the biggest challenge in our way was to get the Ethical approval and then test the device on patients.


Awais: The biggest challenge for me I’d say was to actually make the device.


Q. Did you have several ideas for your project or TAME was the one you settled on straight away?
Well we can go on and on about this. This team has been together for more than three years and we have done a lot of projects together. The focus has always been on learning, we have won quite a few competitions before TAME, of which some were in healthcare and other in counter-terrorism department. We were initially confused whether to pursue TAME as our FYP as it was to be a bio-medical product and we had little or no medical knowledge. But like we said we could relate to the tremor disease and thus we finally settled on TAME.


Q. Is TAME, the wearable device for controlling pathological tremors one of its kind and how effective is it to practically control tremors?
There is no product currently in the market for suppressing tremors and as we progressed along, there were certain prototypes that were using different techniques but then again they are still in the prototype phase. However, we must point out that just a small amount of research has been done on this particular technique for this particular disease. But there is no such product in the market.


And well the prototype that we used to experiment on tremor patients in Fauji Foundation Hospital yielded us positive results. And in many cases we could actually see the visual suppression of the tremors while in all of the cases we could actually see the tremor patients successfully performing their everyday tasks. So, if we consider the ability of the patients to overcome tremors the merit of success, then we can say that our project has been successful and effective.


Q. When can the world expect this miraculous prototype to develop into a product and be available in the market?
Actually we are working on a bio-medical product and the problem attached is that before bringing it into the market and getting it approved for different standard testing, we have to generate a specific dataset i.e., we have to test it on say three hundred patients and once the results are found positive only then we can get it approved and certified by the standard testing authorities in Pakistan. Right now we can’t say the exact time it will take to bring this product to market but hopefully soon.


Q. 100,000 U.S. Dollars is a big amount, have you planned on how to spend this huge prize money?
It was our prize money and not a research grant so on a lighter note we could do whatever we want. But as a matter of fact as we have this money, we are going to use it to the advantage of our project just as we have done with prize money before.


Q. What advice would you give to students who aspire to achieve big for the country like you have?
Arsalan: Well, I personally believe that though we belong to a developing country, we have no dearth of talent. Given the right environment and the right opportunities we can and we will take the world by storm. The only message I would give to all the Pakistanis out there is that don’t stop trying. Don’t be daunted by a task which seems impossible and just go for it. Well as Hooriya says, what’s the worst that can happen?

 

theworldno13.jpgHooriya: Yeah well that was my message, thanks for copying it Arsalan (chuckles). My message would especially be to the girls that don’t shy away from opportunities because you can achieve everything as big as your male counterparts could or even better since you can be more persistent than the guys (chuckles). And to the parents I would especially request to let their daughters choose the field they’d like to join. Girls can be engineers, too.


Awais: While these two people sitting beside me are brilliant students, I have always been an average student but with that I have also been sincere to myself. I try to learn what is being taught to me. I try to polish my practical skills although I am not that focused on the theoretical part of the degree but I believe that I am a good engineer because I can practically apply my skills and learning into real world problems. And to the students I’d say that we often complain that there are a lot of problems in Pakistan but what we need to realize is that these problems are opportunities for us that only need to be recognized. So yeah, dream big and do your best to materialize it.

 

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
13
May

انٹر ویو انتظار حسین

Published in Hilal Urdu May 2015

معاشرے میں امن اس طرح سے ممکن ہے کہ ادب ، آرٹ اور فلسفے کوفروغ دیں ، افسانہ یا ناول آپ کو تشدد کے لئے نہیں اُکسائے گایہ تو امن کے پجاری ہیں، جمالیاتی علوم پر زور دئیے جانے کی ضرورت ہے، آپ کا نظام تعلیم ایسا ہونا چاہئے کہ تشدد کا راستہ خود بخود رُک جائے۔

ادیب ایسا مشورہ دے رہا ہوتا ہے جو اور ذرائع سے حاصل نہیں ہوتا

نامورادیب انٹر ویو انتظار حسین کی باتیں

انتظارحسین اردو ادب کی کہکشاں کا ایک روشن ستارہ ہیں۔ فکشن اورجدید افسانے پر ان کے انداز بیان کے دُور رَس اثرات ہیں، قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کے تجربے کو جس طرح سے انہوں نے ماڈرن ٹیکنیک سے ہم آہنگ کرکے بیان کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ انتظار صاحب نے افسانے کی ایک نئی روایت کا نہ صرف آغاز کیا بلکہ اس کو مضبوط اور مستحکم بھی بنایا۔ان کی تحریروں کے موضوعات اگرچہ لامحدود نہیں لیکن ان کا اپنا ایک خاص اسلوب ہے جس کی پذیرائی عالمی سطح پر کی گئی ہے۔ دو ہزار تیرہ میں انتظار حسین ’’ مین بُکر پرائز‘‘(Man Booker Prize) کے لئے دنیا بھر سے نامزد کئے گئے دس نامور ادیبوں میں شامل تھے جبکہ اگلے ہی برس فرانسیسی حکومت نے انہیں اپنااعلی سول ایوارڈ ’’آرڈر آف آرٹس اینڈ لٹریچر ‘‘ عطا کیا، وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ادیب ہیں۔ انتظارحسین عمر کی نوے بہاریں دیکھ چکے ہیں ان کا تخلیقی سرمایہ پانچ ناولوں اور افسانوں کے سات مجموعوں پر محیط ہے، ہلال نے اپنے قارئین کے لئے انتظارحسین سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے جو پیش خدمت ہے۔

سوال: آپ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں؟ بچپن کہاں گزرا؟ تعلیم کہاں پائی؟

int_intezar_hassan1.jpgجواب: میری پیدائش دیبائی ضلع بلند شہر کی ہے۔ میں نے ایسے زمانے میں آنکھ کھولی کہ نئی زندگی ہمارے قصبے سے کوسوں دُور تھی، نئے آلات یا سائنسی ایجادات وہاں تک پہنچی ہی نہیں تھیں۔ وہ تو ہندوستان میں ہی دیر سے آئیں اور قصبوں میں اور بھی دیرسے پہنچیں۔تو میں نے ایسے قصبے میں ہوش سنبھالا جہاں بیل گاڑی چلتی تھی، یکے چلتے تھے اور نئی سواری ہم نے سائیکل دیکھی۔ پھر ہم نے سائیکل چلائی اور اس کے بعد ہم نے لاری دیکھی جسے آپ آج بس کہتے ہیں، سٹیشن تھا لیکن بہت دُور تھا یعنی ہم ریل کی سیٹی کی آواز نہیں سن سکتے تھے، ریل گاڑی کی شکل اس وقت دیکھی جب اس میں سفر کرنے کا موقع میسر آیا، گاوَں میں ریڈیو نہیں تھا، ٹیلی ویژن تو بہت ہی بعد میں آیا۔ ریڈیو سے میرا تعارف میٹرک کے بعد ہوا جب میں اپنے قصبے سے نکل کر میرٹھ گیا،وہاں مجھے پتا چلا کہ ریڈیو بھی ہوتا ہے، فلم بھی میں نے میرٹھ میں ہی جا کر دیکھی،ہم نے تو ایک ایسی فضا میں ہوش سنبھالا کہ درخت تھے اور پرندے تھے، سائیکل سواری کے طور پر استعمال ہوتی تھی، موٹر کار پورے علاقے میں ایک آدھ ہوتی تھی۔

سوال: ابتدائی تعلیم کس ادارے سے حاصل کی ؟

جواب: میرے والد نے مجھے گھر میں ہی زیادہ پڑھایا، دیبائی سے ہمارا خاندان ہاپڑ آگیا، یہ بھی میرٹھ ضلع کا ایک قصبہ تھا لیکن قدرے ترقی یافتہ تھا۔یہاں میں آٹھویں کلاس میں ڈائریکٹ سکول داخل ہوا، اس سے پہلے کے مدارج میرے والد نے گھر میں ہی مجھے مکمل کروا دئیے تھے وہ مجھے نویں کلاس میں داخل کروانا چاہتے تھے لیکن سکول والوں نے کہا کہ یکایک نویں کلاس میں داخلے کا کوئی تصور نہیں ہے، آسان حل یہ ہے کہ ہم آپ کا امتحان لیں گے جسے آپ نے پاس کیا تو آٹھویں جماعت میں داخل کرلیں گے، تو میں نے میٹرک تک تین سال سکول میں گزارے، گورنمنٹ سکول میں داخلہ بھی نہیں ملا تھا تاہم ایک ہندو مشنری سکول میں داخلہ ملا جہاں میری سکول کی تعلیم کے تین سال مکمل ہوئے۔ پھر میں میرٹھ کالج چلا گیا جہاں میں نے گریجویشن مکمل کی۔ میرٹھ کالج سے ہی میں نے اردو لٹریچرمیں ماسٹرز مکمل کیا۔

سوال: لکھنے کی جانب کیسے مائل ہوئے کیا کسی سے متاثر ہوکر لکھنے کا آغاز کیا تھا ؟

جواب: مجھے دوران تعلیم ہی ادب سے دلچسپی ہوگئی تھی، اس زمانے میں غالب تو کورس میں تھا، اس کو تو پڑھنا ہی تھا یا پھر غزل کہہ لیں یا فکشن‘ افسانے میں پریم چند‘انہی کو پڑھ کر ادب میں دلچسپی پیدا ہوتی چلی گئی۔ اس وقت شاعری میں زیادہ دلچسپی تھی کہ ہم غالب کو پڑھ رہے ہیں ، میر کو پڑھ رہے ہیں یا اقبال کو پڑھ رہے ہیں، ہمارے لئے نئی شاعری اقبال کی تھی کیونکہ اقبال غالب سے بالکل الگ قسم کے شاعر ہیں اور بڑے شاعر ہیں۔ پھر ہم نے جب ہوش سنبھالا تو پتا چلا ایک نئی تحریک شروع ہوچکی ہے جس میں فیض ہیں، راشد ہیں، میر اجی ہیں۔جب ہم نے ان کو پڑھنا شروع کیا تو ہماری دلچسپی اور بڑھی اور ہم نئے ادب سے آشنا ہوئے۔

ہم نے مغرب سے اچھی باتیں لی ہیں اور اچھی باتیں لینی چاہئیں‘ چاہے جس تہذیب میں بھی ہوں۔ لیکن جس آزادی کا وہاں تصور ہے وہ ہمیں قابل قبول نہیں، ہمارے ہاں اخلاق کا اپنا ایک تصور ہے‘ اپنی اخلاقی اور مذہبی اقدارہیں‘ تو ہماری نسوانی آزادی کی شکل بہرحال مغرب کی نسوانی آزادی سے مختلف ہوگی۔ اور توازن یہی ہے کہ ہم ان سے اچھے پہلولیں۔

سوال: آپ کا شمار اُردو ادب کے ’’لِونگ لیجنڈز‘‘ میں ہوتا ہے۔ آپ بے شمار کتابوں کے خالق ہیں۔ آپ اس طویل اور کامیاب سفر کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: اب لِونگ لیجنڈہوں یا نہیں یہ تو مجھے پتا نہیں ہے لیکن میرا بہرحال ایک طویل سفر ہے بس یوں سمجھ لیجئے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ میں نے ایک لکھنے والے کی حیثیت سے جنم لیا۔ سن سینتالیس اڑتالیس سے میں اس عمل میں شریک ہوں اور جو برا بھلا کام ہے آپ کے سامنے ہے ۔۔۔ تو میں اس کے بارے میں خودکیا کہوں۔ کبھی ناقدری کا شکارنہیں رہا نہ ہی کبھی اس ضمن میں کوئی شکایت ہوئی بس اتنا کہوں گا کہ ہمارے ہاں ناشروں کی وجہ سے ادب خاصی مشکلات کا شکار رہا ، رائلٹی کے مسائل رہے ، کتاب کا دوسرا ایڈیشن نہیں آیا کرتا تھا۔ کہتے تھے بک ہی نہیں رہی کتاب۔ اب کتابوں کا دوسرا ایڈیشن آتا ہے ، رائلٹی بھی مل جاتی ہے، حالات قدرے بہتر ہیں۔ لیکن اگرماضی میں ناشروں کا رویہ ذرا بہتر ہوتا تو ادب کے زیادہ فروغ پانے کی گنجائش تھی۔ ناشر نے لکھنے والے کی حوصلہ افزائی نہیں کی، ان کی وجہ سے رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اگرچہ مجھے ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن میں نے دیکھا کہ اچھے اچھے لکھنے والے اس مشکل کا شکار رہے۔ ان کی کتابیں نہیں چھپ سکیں۔ایک مصنف جب ناول لکھتا ہے تو وہ توقع کرتا ہے کہ اس کو وہ ناشر ملے جو کتاب چھاپنے کے لئے تیار ہو اور وہ اس کو رائلٹی بھی دے۔ کیونکہ ناول کو پورا وقت دینا پڑتا ہے، بعض اوقات اس میں سالوں لگ جاتے ہیں پھر اس کی رائلٹی نہ ملے تو ناول پنپ نہیں سکتا ۔ناشروں نے ناول کی سرپرستی نہیں کی کیونکہ وہ پاپولر لٹریچر کی طرح کا ناول چاہتے تھے جس کو ہم ادب میں شمار نہیں کرتے۔ ناول اور افسانہ دو الگ چیزیں ہیں۔ ہمارے ہاں اردو ادب میں چلنے والی تحریکوں میں زیادہ زور افسانے پر رہا، افسانے کے سلسلے میں ہم ناشروں کے محتاج نہیں تھے ، رسالے نکل رہے تھے اور رسالے ناشروں کے نہیں تھے۔ افسانہ لکھ کر رسالے کو د ے دیا، اس نے شائع کردیا، معاوضہ بیس پچیس روپے مل جاتا تھا۔ ہمارے ہاں شروع سے رسالے کی روایت بڑی پختہ رہی ہے۔ مخزن سے آپ شروع ہوجائیں اور اب تک رسالے نکل رہے ہیں افسانہ اسی لئے یہاں پنپا کیونکہ انہیں اظہار کا میڈیم میسر تھا جبکہ اگر ناشرہی رسالے نکال رہے ہوتے تو ان کے ساتھ بھی ناول جیسا مسئلہ ہوتا۔

سوال:آپ کا خاندان 1947میں ہجرت کرکے پاکستان آیا۔ آپ کی تحریروں پر بھی ہجرت اور بٹوارے کے گہرے نقوش ملتے ہیں۔ اپنی تحریروں کے اس اسلوب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: میں پہلے آگیا تھا، میرا خاندان بعد میں رفتہ رفتہ یہاں آیا۔ اپنی تحریروں کے بارے میں میری رائے کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ نقاد اس ضمن میں بہتر رائے دے سکتے ہیں۔ویسے میں نے تقسیم کے وقت پیش آنے والے واقعات کو افسانوں میں بھی لکھا ہے ، ناول میں بھی بیان کیا ہے اورجس طریقے سے میں نے وہ صورتحال دیکھی جیسا تجربہ ہوا اور جس طریقے سے میں نے وہاں سے لوگوں کے قافلے آتے دیکھے کہ وہ یہاں آرہے ہیں اور وہاں ان کی بستیاں اُجڑ رہی ہیں، لوگ یہاں آباد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، تو یہ بڑا ابتلا کا زمانہ تھا۔ یہاں آکر بہت پریشان ہونا پڑتا تھا، لوگ اپنے اچھے اچھے گھر چھوڑ کر آئے اور یہاں انہیں جھگیوں میں رہنا پڑا، ہجرت اپنے ساتھ جو پریشانیاں لاتی ہے ان سے گزرے اور پھر رفتہ رفتہ آباد ہوئے، یہ قوم کا ایک پورا تجربہ ہے جو میری کہانیوں میں آتا ہے، افسانوں میں آتا ہے۔ اس زمانے میں افسانوں کا موضوع ہی یہی ہوتا تھا کہ فسادات ہیں، تشدد ہو رہا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ رہے ہیں۔ یہی کہانیوں کا موضوع تھا، اس پر پورے پورے ناول لکھے گئے۔تقسیم ہندمنٹو کے افسانوں کا خاص موضوع رہا ہے، خدیجہ مستور کا ناول ہے، ہمارے ہاں پارٹیشن لٹریچر کی ایک پوری روایت ہے، اردو میں اس موضوع پرسب سے زیادہ لکھا گیا ہے، ہندی سمیت دیگر زبانوں میں بھی لکھا گیاہے ۔

سوال: آپ کا ادبی کام بہت انمول ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اُردو اور انگریزی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھے ہیں۔ کیا آپ کالم نگاری کو بھی ادب نگاری کے احاطے میں دیکھتے ہیں؟

int_intezar_hassan2.jpgجواب: ادب سے کالم کا کوئی تعلق نہیں، یہ تو پیشہ ہے۔میری جو کالم نگاری ہے، وہ صحافت کا حصہ ہے، اسے میں ادب کے ساتھ گڈمڈ نہیں کرتا، دونوں الگ الگ اصناف ہیں۔ کیونکہ میں اخبار میں ملازمت کرتا تھا، میں نے سب ایڈیٹنگ سے شروع کیا، تراجم کئے، ڈیسک پر کام کیا، پورا وقت گزارا،پھر رفتہ رفتہ مجھے یہ احساس ہوا کہ کالم نگاری میرے لئے مناسب شعبہ ہے، خبروں کے کام سے پھر میں نکل آیا اور سارا زور کالم نگاری پر ہی دیا۔ صحافت میں میرے کیرئیر کاآغاز امروز سے ہوا، میں نے کچھ فیچر لکھے، لیکن اصل میں میری جاب سب ایڈیٹنگ کی تھی جس میں میرے لئے زیادہ گنجائش نہیں تھی کہ میں نیوز ایڈیٹر بن جاتا، کیونکہ میرے اندر وہ قابلیت نہیں تھی۔ وہاں میں ہمیشہ سب ایڈیٹر ہی رہتا لیکن میں نے جب فیچر لکھے، دیگر تحریریں لکھیں تو رفتہ رفتہ یہ احساس ہوا کہ کالم نگاری کا شعبہ میرے لئے زیادہ مناسب ہے پھر میں کالم نگار ی میں آگیا جب میں نے مشرق کو جوائن کیا تو خالص کالم نگارکی حیثیت سے جوائن کیا، میراکام صرف کالم لکھنا تھا، باقی اخبار کے کسی شعبے سے میرا کوئی ناتا نہ تھا، تو میں یہی کہوں گا کہ کالم خالصتاً صحافت کی صنف ہے ، ادب کی صنف ہے ہی نہیں۔

سوال:آپ کو پاکستان‘ بھارت‘ مشرقِ وسطیٰ میں بہت سے ایوارڈز ملے۔ آپ کو فرانس کی جانب سے فرنچ سول ایوارڈ بھی دیا گیا۔ بہت زیادہ خوشی کون سا ایوارڈ لینے پر محسوس ہوئی؟

جواب:فرانس نے مجھے جو ایوارڈ دیا۔ اس کی بہت اہمیت ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تک مغرب میں اردو ادب کو شناخت نہیں ملی تھی، اسے بطور زبان قبول نہیں کیا گیا تھا ، آپ انگریزی میں لکھیں تب آپ کی تحریر قابل غور ہوگی۔ یہ جو انعامات کا سلسلہ شروع ہوا جیسے بُکر پرائز ہے، یہ تیسری دنیا کے جو مصنف انگریزی میں لکھ رہے ہیں ان کا کام ایوارڈ کمیٹی کے پیش نظر ہوتا تھا۔ تو بھارت کے رائٹروں کو ایوارڈ بھی ملے لیکن ہمارے ہاں کبھی کوئی قابل ذکر ایوارڈ نہیں آیا۔ میرے لئے حیران کن واقعہ تھا کہ بکر پرائز کی نامزدگیوں میں میرا نام آگیا۔میں نے پوچھا یہ کیسے ہوگیا کیونکہ بکرپرائز تو صرف انگریزی ناولوں کے لئے ہے تو پتا چلا کہ جب ان پر اعتراض ہوا کہ تھرڈ ورلڈ کے لوگوں کی اپنی زبانیں ہیں اور ان کا نمائندہ ادب ان کی اپنی زبانوں میں ہے تو بکرپرائز والوں نے انٹرنیشنل ایوارڈ کا سلسلہ شروع کیا اس وجہ سے ہمارانام آگیا، پھر ہمیں قبول کیا گیا، بلایا گیا، دس میں سے ایک کو ایوارڈ دینا تھا جو انہوں نے دے دیا، لیکن اس سے فرق یہ پڑاکہ جو مشرقی زبانوں کے لوگ ہیں، ان کا وہ کام ان کے سامنے آیا جو ترجمہ ہوتاتھا ۔ مکمل کام ترجمہ نہیں ہوتا تو سارا کام ان کے پیش نظر کیسے آتا اور پھر ترجمے کا معیار بھی معنی رکھتا ہے کہ اچھا ترجمہ ہوا ہے یا برا ترجمہ ہوا ہے ، ہمارے ہاں اچھے ترجمے بہت کم ہوئے ہیں تو ہم ان کے مقابلے میں کسی حوالے سے نہیں آسکتے تھے کیونکہ ان کا پورا کام ہے اور اوریجنل کام ہے۔ ہمارا ترجمہ شدہ کام ہے جس کاصرف ایک حصہ پیش نظرہے۔ تو جتنا مل گیا غنیمت ہے لیکن فرانس نے ایوارڈ ایسے نہیں دیا۔ انہوں نے ہمارا جو بھی کام ہے، وہ دیکھا ہوگا ، ترجمے دیکھے ہوں گے، پھر انہوں نے ہمارا جو اوریجنل کام ہے، اسے پرکھا ہوگا، وہ کیا ہے؟ کس قسم کا ہے؟ کیونکہ فرانس والے تو اس طریقے سے انعام نہیں دیتے، جیسے ہمارے ہاں دیتے ہیں، وہاں تو اکیڈمی آف لیٹرز ہے اور پوری چھان بین کرکے انعام دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ہمارا پوراکام دیکھا، ممکن ہے کہ اردو کا کوئی ماہر بھی انہوں نے انگیج کیا ہوکہ اردو کا جو کام ہے اس کی رپورٹ دیں۔ باقی انگریزی کا ترجمہ شدہ کام تو ہے ہی ۔ تو وہ انعام ملا جو ہمارے لئے زیادہ فخر کا باعث ہے ایک تو یہ کہ اردو کو تسلیم کیا گیا ساتھ ہی اردو والے کو مغرب کی طرف سے پہلی بار انعا م ملا۔اس کی اپنی اہمیت ہے مجھے یہ خوشی ہوئی کہ میں پہلا آدمی ہوں جسے اردو دان کے طور پر مغرب کا یہ ایوارڈ دیا گیا۔مجھے اردو فکشن رائٹر کے طور پر انہوں نے مانا اور انعام دیا تو میرے لئے یہ بہت خوشی کی بات ہے۔

سوال: آپ نے دنیا بھر کے ادب کا مطالعہ کر رکھا ہے۔ آپ نے دیگر زبانوں کے ادب کے اُردو زبان میں تراجم بھی کئے۔ کیا آپ ترجمے کو ’لٹریری ورک‘ کا حصہ گردانتے ہیں؟

جواب: یہ تو اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ترجمہ کیا کر رہے ہیں میں نے تو زیادہ تر ان تحریروں کا ترجمہ کیا ہے جو ادب سے متعلق ہیں۔ایک آدھ کتاب ایسی ہے جس کا ادب سے براہ راست تعلق نہیں ہے لیکن بالواسطہ طورپر ہے۔جیسے میں نے فلسفے کی ایک کتاب کا ترجمہ کیا تو فلسفے کا تعلق بالواسطہ طور پر ادب سے ہے اور میں اسے ادبی سرگرمی کا حصہ سمجھتا ہوں۔ باقی میں نے ناول ترجمے کئے ہیں، افسانوں کا ترجمہ کیا ہے تو میں اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بھی میری ادبی سرگرمی کا حصہ ہے۔

سوال: ایک دور تھا کہ پاکستان میں ترقی پسند تحریک کا بہت شہرہ تھا۔ کیا آج بھی ادب میں ترقی پسندی کا رواج موجود ہے؟

جواب: وہ تو ایک تحریک شروع ہوئی جس نے اپنی منازل طے کیں اوراس نے بڑا عروج بھی پایا، قیام پاکستان کے ابتدا کے سالوں میں یہ تحریک بڑے عروج پر تھی تو اس نے اپنا رول ادا کیا۔ اب وہ ایک تحریک کے طور پر زندہ نہیں ہے بلکہ آپ کی ادبی تحریک کا حصہ ہے لیکن اس نے لکھنے والوں کے خیالات کو متاثر کیا، اس میں تبدیلی لائے، ہمارے ادب میں ان کا اپنی جگہ پر حصہ ہے۔ اگرچہ مجھے اس تحریک سے اختلافات تھے اور میں کبھی اس تحریک کا حصہ نہیں رہا۔ لیکن وہ بڑی تحریک تھی جس نے اردو ادب کو بہت کچھ دیا۔ سیاسی سماجی شعور اسی تحریک کی دین ہے۔ جیساہمیں ارد گردبھی دیکھنا چاہئے کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے، سیاست میں کیا ہورہا ہے، ہمیں اس کے بارے میں لکھنا چاہئے، تحریک نے ایک قسم کا پس منظر دیا ۔

سوال: آپ کی نظر میں ہمارے ادیب کا سماج کی ترویج‘ ترقی اور اصلاح میں کیا رول رہا ہے؟ اور کیا ادیب کا اس عمل کوئی حصہ ہوتا ہے یا ادیب کا کام خالصتاً ادب کی تخلیق ہے۔

جواب: دیکھئے رول تو یہی ہے کہ ہم اس معاشرے میں بیٹھ کر ایسا کام کر رہے ہیں جو زیادہ مقبول نہیں ہے لیکن جب ہم کہانی لکھتے ہیں یا شعر کہتے ہیں تو گویا ہم قومی زندگی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں، کیونکہ اس کے بغیر تو قومیں بنتی ہی نہیں ہیں۔ شائستہ اور مہذب قوموں کا اپنا ادب بھی ہوتا ہے، فنون لطیفہ کی باقاعدہ روایت ہوتی ہے۔ تو جب مصور تصویر بناتا ہے تو سماجی موضوع لے یا نہ لے لیکن وہ تصویر آپ کی قومی زندگی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہوتی ہے۔جب میں افسانہ لکھتا ہوں تو لازم نہیں ہے کہ میں سماجی مسئلے پر ہی لکھوں، یا سیاسی موضوع پر لکھوں لیکن میں کہانی لکھ رہاہوں اور وہ اچھی کہانی لکھی گئی ہے تو وہ تو ایک طریقے سے قومی زندگی میں میرا حصہ بن جاتی ہے۔میرے خیال میں ادیب کا حصہ بھی یہی ہے کہ وہ کام ایسا کر رہا ہے جو دوسرے نہیں کر رہے تو وہ تو آپ کی تہذیبی زندگی میں ایک رول ادا کر رہا ہوتا ہے۔ آپ کو ایک ایسا شعور دے رہا ہے جو ووسرے ذرائع سے حاصل نہیں ہوتا۔جب آپ ادب پڑھتے ہیں، تصویریں دیکھتے ہیں‘ موسیقی سنتے ہیں تو آپ کو جمالیاتی شعور آتا ہے جو آپ کی قومی زندگی کی بقا او ر نشوونما کے لئے بہت ضروری بھی ہے تو ہم اپنا جو کام کر رہے ہیں اس کام کے ذریعے ہم قومی زندگی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، اس کی ترقی کو تیز کررہے ہیں۔’ادب برائے ادب‘ ہو یا ’ادب برائے زندگی‘ وہ ادب ہے۔ ادب ہونا اوّلین بات ہے، باقی ثانوی باتیں ہیں۔ لیکن وہ کہانی لکھ رہا ہے ، شعر لکھ رہا ہے تو وہ قومی زندگی میں اضافہ کرکے اپنا حصہ ڈال رہا ہے، شعور کی تربیت کر رہا ہے۔جیسے میں نے عشقیہ کہانی لکھی ہے تو عشق خود ادب کا بڑا موضوع رہا ہے، شاعری کا موضوع رہا ہے۔ تو اگر کہانی اچھی ہے تو میں نے انسانی زندگی کو ایک نیا شعور دینے کی کوشش کی ہے کیونکہ انسانی زندگی میں عشق کا اپنا ایک مقام ہے۔

سوال: آپ بحیثیت دانشور مغربی اور مشرقی تہذیبوں کا موازنہ کیسے کریں گے۔

جواب: یہ لمبا موضوع ہے لیکن اگر ہم مختصر بات کریں تو ہماری تہذیب مشرقی ہے، مشرق کی اپنی کچھ بڑی تہذیبیں ہیں جیسے اسلامی تہذیب ہے۔ اس کے ساتھ بدھسٹ تہذیب ہے‘ ہندو تہذیب ہے پھر چینی تہذیب ہے، مشرق بڑی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ ہماری اسلامی تہذیب کے مختلف حصے ہیں کیونکہ اسلام عرب تک محدود نہیں رہا،وہ تو ایران تک پہنچا، ہندوستان تک آیا، پھر آگے بھی گیا تو یہاں مسلمانوں کی جو تہذیب بنی اسے ہم ہند اسلامی تہذیب کہتے ہیں۔ ایرا ن میں جو اسلام گیا تو وہاں ایرانین اسلامی تہذیب وجود میں آئی تو یہ مختلف رنگ ہیں‘ اسلامی تہذیب کے۔ مشرقی اور مغربی تہذیب کا بنیادی فرق بڑاواضح ہے۔ مغربی تہذیب کے دوسر چشمے ہیں، ایک عیسائیت اور دوسرا یونانی تہذیب۔ ان دو سرچشموں سے مغرب کی تمام تہذیبوں نے اپنی شکل بنائی، اس کی نشوونما ہوئی۔ ہمارے سرچشمے مختلف ہیں، ہمارا سر چشمہ اسلام ہے اور ہندوستان میں جو قدیم تہذیب تھی اس کے بعد تو فرق آتا چلا گیا۔ جب ہم مسلمان آئے تو ان کا جو قدیم ہندو فلسفہ تھا وہ وجدان کا فلسفہ تھا، اسی طرح چینیوں کے اپنے بڑے دماغ تھے۔ مثلاً تاؤازم وغیرہ، پھر یہ بدھ ازم کی جو تحریک ہے اس کی پیدائش کی سرزمین تو ہندوستان ہے لیکن یہاں اس کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو اس نے دوسرے ملکوں میں جاکر اپنا سکہ جمایاتو چین میں، جاپان میں سری لنکا میں پھلی پھولی اوربڑی تہذیب کے طور پر منظر عام پر آئی ۔

سوال: ارتقا اور انقلاب عمومی طور پر معاشرے میں تبدیلی کی اپروچز بیان کی جاتی ہیں۔ آپ کے خیال میں عام انسان کی آزادی‘ معاشی خوشحالی‘ انصاف اور سماجی برابری کے حصول کے لئے کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے؟

جواب: دیکھیں اصلاحی حوالے سے تحریکیں تو چلتی رہتی ہیں اور ان کا مقصد لوگوں کی اصلاح ہی ہوتا ہے اور وہ مختلف حوالوں سے اپنا اپنا حصہ ڈالتی رہتی ہیں اور اس سے ہماری ذہنی تربیت ہوتی چلی جاتی ہے اور ہمارے رویوں میں تبدیلی آتی چلی جاتی ہے۔ اصلاح یا برابری کا تصور تو اب آیا ناں جب سوشل ازم آیاکہ معاشرہ زوال کی طرف جا رہا ہے اس میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس میں مزدور کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو یہ شعور سوشل ازم کی تحریک نے دیا کہ مزدور کو بھی اپنا حصہ ملنا چاہئے، عورت کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ سوشل ازم ہم نے اختیار کیاہویا نہ کیا ہولیکن اس کے اثرات سے یہ خیالات ہماری سوچ کا حصہ بن گئے۔

سوال: عورت اور مرد کے رشتے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا مغرب کے معیار کی آزادی فیملی یونٹ کو متاثر کرتی ہے؟ توازن کا راستہ کون سا ہے؟

جواب: مغرب کی اپنی تہذیب ہے، ان کے اپنے معیار ہیں،ان کے بعض معیارات کو ہم قبول کرسکتے ہیں، کیونکہ ہمارے ہاں جب ہم نے دیکھا کہ عورت پردے کے اندر بیٹھی ہوئی ہے اور اسے تعلیم بھی نہیں مل رہی، وہ سکول نہیں جاسکتی، کالج نہیں جاسکتی تو یہ ہم نے مغرب سے سیکھاکہ ان کے سکول ہونے چاہئیں، کالج ہونے چاہئیں اور پھر ایک منزل ایسی آنی چاہئے کہ مخلوط تعلیم ہو۔اب یونیورسٹی میں تو یہ نہیں ہوتا کہ عورتوں کو پردے میں ہی ساری تعلیم دی جائے حالانکہ شروع میں مَیں نے پنجاب یونیورسٹی میںیہ دیکھا ہے کہ استاد جب پڑھانے آتے تھے تولڑکیاں پردے میں بیٹھی ہوتی تھیں، خاص طور پر اردو کی کلاس میں، یہ مقبول طریقہ تھا لیکن اب یہ نہیں ہے، آپ اوریئنٹل کالج میں جائیں وہاں اب پردہ نہیں ہے۔ توہم نے مغرب سے اچھی باتیں لی ہیں اور اچھی باتیں لینی چاہئیں‘ چاہے جس تہذیب میں بھی ہوں۔ لیکن جس آزادی کا وہاں تصور ہے وہ ہمیں قابل قبول نہیں۔ ہمارے ہاں اخلاق کا اپنا ایک تصور ہے‘ اپنی اخلاقی اور مذہبی اقدارہیں‘ تو ہماری نسوانی آزادی کی شکل بہرحال مغرب کی نسوانی آزادی سے مختلف ہوگی۔ اور توازن یہی ہے کہ ہم ان سے اچھے پہلولیں۔لیکن یہ جو عورت کو پوری آزادی ملنی چاہئے‘ یہ غور طلب بات ہے۔ ہمارے مذہب نے طلاق کا حق عورت کو پہلے ہی دے رکھا ہے باقی مذاہب میں عورت کو یہ حق حاصل نہیں۔ ہندو مذہب میں عورت کے طلاق حاصل کرنے کا تصور نہیں ہے، ان کے وہاں جو سول قانون ہے اس کے حوالے سے طلاقیں ہوجاتی ہیں مگر مذہب اجازت نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں مذہب اجازت دیتا ہے۔

سوال: ہمارا دب کلاسیکی روایت پر چل رہا ہے یا اپنی نئی راہیں متعین کر چکا ہے؟

جواب: کلاسیکی روایت ہمارے ساتھ ہے اور ساتھ ہی نئی راہیں ہیں،جیسے ترقی پسند تحریک کا ذکرکیا۔ شاعری میں نئی تحریکیں آئیں کہ غزل کے خلاف ایک ردِّ عمل ہوا تو اس ردِّ عمل میں یہ ہو اکہ ہمارے ہاں نئی سوچ او ر فارمزآئی، نظم آزاد آئی، نظم معرہ آئی ، پہلے تو ہمارے ہاں غزل، غز ل اور غزل ہوتی تھی لیکن اب ہمارے ہاں مختلف اصناف ہیں، نئی اصناف ہیں جو ہم نے مغرب سے مستعار لی ہیں اور ہمارا فکشن تو ہے ہی مغرب کی دین ۔۔۔بلکہ اس حد تک ہوا کہ ہم نے اپنی پرانی روایت کو فراموش کردیا، اس کا احیاء اب ہورہا ہے، اب داستانوں کو دہرایا جا رہا ہے، ان کے انگریزی ترجمے ہو رہے ہیں۔

سوال: ہمارے ہاں آج کل جیسا ادب تخلیق ہورہاہے، شاعری، نثر یا افسانے میں‘ اس کا معیار کیسا ہے؟

جواب: معیار تو بدلتے رہتے ہیں، اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔جیساکہ گروپ تحریک کے طور پر آتے ہیں۔ جیسے ہماری ایک نسل تھی جس میں ناصر کاظمی، منیر نیازی، ظفر اقبال، اشفاق احمد، اے حمید، قرۃ العین حیدر آئیں لیکن اس وقت انتشار زیادہ ہے، میڈیا کی طرف لکھنے والوں کا رخ زیادہ ہوگیا ہے، انہیں یہ نظرآتا ہے کہ یہاں معاوضہ بھی مل رہا ہے اب جو افسانہ لکھ رہا ہے، شاعری لکھ رہا ہے، اسے معاوضہ کیا ملنا، وہ تو نیکی کر دریا میں ڈال والا کام ہے۔ وہ تو ایک جذبہ آپ سے لکھواتا ہے جسے تخلیقی جذبہ کہہ لیں۔ آپ یہ نہیں سوچتے کہ معاوضہ آپ کو کیا ملے گا، اس کے بعد آپ مطالبے کرتے ہیں کہ ناشر آپ کی تحریر سے فائدہ اٹھائے گا تو کچھ رائلٹی مجھے بھی ملنی چاہئے لیکن لکھتے وقت ذہن میں پیسہ کمانے کا عنصر شامل نہیں ہوتا۔ پیسہ کمانے والے ادب کو کمرشل ادب کہنا زیادہ مناسب ہے وہ اصلی ادب نہیں ہوتابلکہ ہم توکمرشل لٹریچر کو لٹریچر ہی نہیں سمجھتے۔

سوال: تخلیقی عمل میں مطالعے اور مشاہدے کا کیا ربط ہے؟

جواب: مطالعہ اور مشاہدہ دونوں بے حد ضروری ہیں، محض مطالعہ نہیں ہونا چاہئے مشاہدہ بھی اتنا ہی ضروری ہے تب جاکر آپ ادیب بنتے ہیں۔ ہمارے بعض غزل گو کہتے ہیں کہ ہم پڑھتے ہی نہیں ہیں وہ نہایت بے وقوف لوگ ہیں ، اگر آپ غزل لکھ رہے ہیں تو آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ آپ سے پہلے غالب گزرے ہیں، میر گزرے ہیں، محض ٹیلنٹ پر انحصار کرنا ٹھیک نہیں، ٹیلنٹ آپ کا اسی وقت نشوونما پاتا ہے جب آپ اپنی روایت سے شناسائی حاصل کریں ، پہلے جو گزر چکے ہیں انہیں دیکھیں، پڑھیں،تبھی آپ کے ٹیلنٹ کی نشوونما ہوگی اور آپ کی ذہنی تربیت ہوگی۔

سوال: آج کل کیا مصروفیت رہتی ہے؟ وقت کن سرگرمیوں میں گزرتا ہے؟

جواب: زیادہ تر وقت مطالعے اور لکھنے لکھانے میں صرف ہوتا ہے، باقی ادبی فیسٹیولز بہت ہو رہے ہیں، وہاں کبھی کبھار جانے کا موقع مل جاتا ہے، ابھی بھارت گئے وہا ں ہمیں بڑا حوصلہ ملا۔ لگتا تھا کہ بھارت میں اردو ختم ہورہی ہے لیکن ہم نے وہاں اردو کی بہت پذیرائی دیکھی، ایک ایسا ادارہ قائم ہو اہے وہاں جسے کسی مسلمان نے نہیں بنایا اور وہ سارا اردو ادب کمپیوٹرائزکر رہاہے۔ ہمارا کلاسیکی اردو ادب تو نول کشور نے چھاپا تھا جسے انہوں نے کمپیوٹرائز کردیا اور اب جدید ادب کی جانب آرہے ہیں، ساتھ ہی وہاں داستان گوئی کا فن زندہ ہو رہا ہے ، کیا ہندو ، کیا مسلمان یا عیسائی‘ سبھی مل کر داستان گوئی سن رہے ہیں اور یہ احیا دہلی سے ہورہا ہے، الٰہ آباد میں ہمارا ایک محقق بیٹھا تھا شمس الرحمان فاروقی، انہوں نے طلسم ہوشربا کی پوری داستان پر کام کیا اور پھر کئی نوجوان ایسے آئے جنہوں نے اس داستان کو انگریزی میں ترجمہ کرنا شروع کردیا اور پھر وہ ایڈیشن چھپے، وہ بک رہے ہیں، اور اسی کے اثرات سے دو ایسے نوجوان پیدا ہوئے جو داستان گو ہیں،وہاں داستان گوئی کی محافل بڑا رش لے رہی ہیں۔ وہاں اور ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو اردو سے واقف نہیں، انہوں نے ہندی یا انگریزی ہی پڑھ رکھی تھی۔ میں ان کی دلچسپی پر حیران تھا، سو ہمیں احساس ہو اکہ ایسا نہیں کہ اردو ایک طبقے میں وہاں مقید ہوگئی ہوبلکہ یہ تو پھل پھول رہی ہے اور غالب جس طریقے سے وہاں پاپولر ہوا ہے وہ ایک عجیب ماجرا ہے۔ اشرافیہ اس بات پر فخر محسوس کرتی ہے کہ ان کے ہا ں غالب کے ریکارڈز ہیں۔ جیسے سہگل نے غالب کو گایا ہے یا دیگربڑے مغنیوں نے اپنی آواز سے تو غالب کو کہیں سے کہیں پہنچادیا یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے۔

سوال: کیا ہمارا ادب دہشت گردی کی زدمیں آیا ہے؟دہشت گردی کی لہر سے جنم لینے والے موضوعات ہمارے ادب کا حصہ بن رہے ہیں؟

جواب: بالکل بن رہے ہیں،ان کے خلاف لکھا گیا ہے شاعری میں، خاص طورپر بہت اچھی نظمیں لکھی گئی ہیں،زہرہ نگاہ کی نظمیں ہیں، کشورناہید کی نظمیں ہیں، فہمیدہ ریاض کی نظمیں ہیں، لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے، افسانے بھی لکھے گئے ہیں۔

سوال: ہم معاشرے میں تشدد اور انتہا پسندی کو کیسے ختم کرسکتے ہیں؟

جواب: معاشرے میں امن اس طرح سے ممکن ہے کہ ادب ، آرٹ اور فلسفے کوفروغ دیں ، افسانہ یا ناول آپ کو تشدد کے لئے نہیں اُکسائے گایہ تو امن کے پجاری ہیں، جمالیاتی علوم پر زور دئیے جانے کی ضرورت ہے، آپ کا نظام تعلیم ایسا ہونا چاہئے کہ تشدد کا راستہ خود بخود رُک جائے۔

سوال: دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: اس وقت پاک فوج جو فریضہ سر انجام دے رہی ہے یہ بہت اہم بلکہ انتہائی اہم ہے، ایک عرصے کے بعد ہمیں یہ احساس ہوا کہ فوج شاید ہماری نجات دہندہ ہے۔ اس سے پہلے جو چل رہا تھا ، یا جو تشدد ہورہا تھا، سیاسی لیڈران کی ہمت نہیں تھی کہ وہ دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ، بلکہ مذاکرات کی بات کرتے تھے۔ تو پہلی مرتبہ فوج نے سٹینڈ لیا۔ ہمارا آرمی چیف راحیل شریف بھی نیا آیا ہے تو اس نے آتے ہی جو سٹینڈ لیا اس سے ہم میں حوصلہ پیدا ہوا اور ساتھ ہی آپریشن شروع کردیا گیا۔ اب دہشت گرد بھاگتے پھر رہے ہیں اس سے ہمیں یہ احساس ہو اکہ یہ جو آشوب کا دور تھا اب ختم ہوجائے گا۔ فوج کا رول بہت اہم ہے اور اسی پر ہمار ی قومی بقا کا انحصار بھی ہے۔ اگر ہم دہشت گردی کے فتنے کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو گویا یہ ہماری قومی زندگی کا احیا بھی ہوگا۔

سوال: سرحدوں پر متعین جوانوں کے لئے کوئی پیغام؟

جواب: ہم ان کے لئے دعاگو ہیں کیونکہ وہ ایسا مبارک فریضہ سر انجام دے رہے ہیں جو ادا کرنے کی ہمت ابھی تک ہم میں پیدا نہیں ہو سکی۔ وہ قوم کی زندگیوں کی حفاظت کررہے ہیں اللہ انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter