16
May

لوک گلوکار جاوید نیازی‘ بابر نیازی

Published in Hilal Urdu May 2016

انٹرویو: عذرا انتصار

پاکستان کے ممتاز لوک گلوکارجناب طفیل نیازی مرحوم کے گلوکار بیٹوں جاوید نیازی‘ بابر نیازی سے ملاقات

فن کسی کی میراث نہیں۔ میں نے یہی سنا ہے اور میں یہی سمجھتی تھی۔ دروازہ کھلا۔ میرے سامنے ایک شائستہ مہذب شخصیت تھی۔ مسکراتا چہرہ۔ میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ میرے سامنے بیشمار ایوارڈز سے سجی ایک دیوارگیرالماری تھی اور دوسری طرف والد صاحب کی ایک قدآدم تصویر۔ ان کے ساتھ ان کے بیٹوں کی تصویریں۔ فن ایک نسل نے دوسری نسل کو منتقل کر دیا تھا۔ ان کی اولاد اُن کی روایات واقدارکی پاسبان بن کر آج بھی ان کا نام دنیا کے سامنے زندہ رکھے ہوئے ہے۔ فن میراث ہوتا ہے، اگر کوئی اس کو سنبھالنے والا، اس کی قدر کرنے والاوارث موجود ہو۔


میرے خیالات بدل گئے تھے۔ طفیل نیازی کے گھرمیں ان کے بیٹوں استاد جاوید نیازی اور استاد بابر نیازی سے ملاقات اور گفتگوکرکے مجھے یقین ہوگیاکہ انسان تو مرجاتاہے مگر اس کا فن اور نام زندہ رہتا ہے۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔


ہلال:۔ طفیل نیازی ایک بہت بڑا نام ہے۔ ان کی جدوجہد کے بارے میں کچھ بتائیے۔
جاوید نیازی:۔ میرے والد جالندھر کے رہنے والے تھے۔پاکستان بننے سے پہلے بھی ان کا بہت نام تھا۔ پارٹیشن میں ان کا بینڈ ختم ہوگیا تھا۔ کچھ عرصہ لاہور رہے۔ پھر ملتان چلے گئے۔ ملتان میں انہوں نے دودھ دہی کی دکان کھول لی۔ دو تین مہینے گزرے کہ تقسیم ہند سے پہلے کا جاننے والا ایک ایس ایچ او ان کے علاقے میں تعینات ہوگیا۔ ایک دن اتفاقاً والد صاحب سے ملاقات ہو گئی تو حیرانی سے بولا کہ طفیل آپ اور یہ دکان؟ آپ توبڑے فنکار ، بڑے کلاکار ہیں۔ والد صاحب کہنے لگے میں کیاکروں میں نے بچے بھی تو پالنے ہیں۔ میرے پاس ساز ہیں نہ ساتھی۔ وہ والدصاحب کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کو سب آلات لے کر دئیے۔ والدصاحب نے اپنے ساتھی اکٹھے کئے دوبارہ ان کا گروپ بن گیا۔ ان لوگوں نے تھیٹر بنا لیا۔ وہاں بڑے غلام علی خاں صاحب بھی اباّ کو آکر سنا کرتے تھے۔ 59ء میں ریڈیو پر آگئے۔ وہ پی ٹی وی کے بانیوں میں سے تھے۔ 72ء میں فیض احمد فیض نے پی سی این اے کی بنیادرکھی اورنیازی صاحب کو لاہور سے اسلام آباد بطور میوزک ڈائریکٹر بلایا لیا۔کافی عرصہ وہاں جاب کی۔ ممتازمفتی، اشفاق احمد،بانوقدسیہ اور عکسی مفتی سے بہت دوستی تھی۔ انہوں نے مل کر آئیڈیا دیا کہ ہمارے لوک ورثہ کو محفوظ کیا جائے۔ لوک ورثہ بنایاگیااور پھر ہم لوگ یہاں شفٹ ہو گئے۔

intertufailniazi.jpg
ہلال:۔ آپ کو ایک لیجنڈ کی اولاد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ کس مزاج کے آدمی تھے؟
جاوید نیازی:۔ بہت فقیرانہ طبیعت تھی ان کی۔ ان میں’’میں‘‘کا عنصر نہیں تھاکہ میں طفیل نیازی ہوں۔والد کے روپ میں ، دوست کے روپ میں، فنکار کے روپ میں کمال تھے۔ اتنا بڑا فنکار اور زندگی میں کوئی سکینڈل نہیں۔ کوزے میں دریا بند تھا۔ ہمیں کہتے تھے شو بز میں تمہارے بہت سے دوست اور چاہنے والے ہوں گے۔ میری کچھ باتیں پلّے باندھ لو تو ساری زندگی عزت کماؤ گے۔ اگر کوئی دوست یا چاہنے والا گھر لے کر جاتا ہے تو وہ تمہیں محبت سے لے کر جائے گا۔۔۔ تو تم اس کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اس گھر کا ماما بن جانا(یعنی اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھنا) تو ساری زندگی عزت کماؤ گے۔ بَلا کے مہمان نواز تھے۔ لوک ورثے میں پورے ملک سے فنکار آتے تھے اور ہمارے گھر ان کا کھانا ضرور ہوتا تھا۔


ہلال:۔ ان کے دوستوں کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جاوید نیازی:۔ بہت بڑے بڑے لوگ ان کے دوست تھے۔ مہدی حسن، میڈم نور جہاں، فریدہ خانم، استاد سلامت علی خان، ہم نے جی بھر کے ان کو سنا،دیکھا،ان کی خدمت کی دعائیں لیں۔ مہدی حسن جب بھی آتے ہمارے ہاں قیام کرتے۔ یہیں ڈرائنگ روم میں ان کا بستر ہوتا، رات کو دیر تک گپ شپ لگتی ، چائے پی جاتی۔ ہارمونیم کھول لئے جاتے۔ ان سے سنتے پھر ان ہی کی طرح گانے کی کوشش کرتے۔ ہم نے ان کا وہ گانا سنا ہے جو وہ اپنی ذات کے لئے گاتے تھے۔ استاد سلامت علی خان، مہدی حسن یا میڈم نور جہاں کے گھرمیں جب بھی خوشی کا کوئی موقع آتا تھا۔ یا کوئی محفل ہوتی تھی تو ان کی سب سے پہلے خواہش ہوتی تھی کہ طفیل نیازی صاحب کو بلایا جائے۔ نصرت فتح علی خان صاحب نے اپنے والد کی ہر برسی پر نیازی صاحب کو بلایااور والہانہ طریقے سے ان کو سنا۔ کلاسیکل سنگرز جب خود گانا سنتے تھے تو میرے والد صاحب کو سنتے تھے۔والد صاحب کہتے تھے گاتے وقت شکل خوبصورت لگنی چاہئے۔ ورنہ کئی لوگ گاتے ہیں تو لگتا ہے کافی تکلیف میں ہیں۔ طفیل صاحب ٹی وی پر آتے تو ٹی وی کو چار چاند لگ جاتے۔ میڈم نور جہاں کہتی تھیں’’طفیل جی ٹیلی ویژن تے یا تسی سوہنے لگدے او یا میں سوہنی لگنی آں۔‘‘


ہلال:۔ طفیل نیازی صاحب نے آپ کی تربیت کیسے کی؟
بابر نیازی:۔ انہوں نے ہمارے ساتھ زبر دستی نہیں کی مگر ان کی خواہش تھی کہ ان کے بچے اس فیلڈ میں آئیں۔ ان کی زندگی بہت مصروف گزری۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔ ہم انہیں کبھی گاڑی نہیں چلانے دیتے تھے۔ ویسے تو وہ گاڑی بہت اچھی چلاتے تھے مگر انہیں ریورس کرنا نہیں آتا تھا۔ ان کی گاڑی میں تانپورہ رکھا ہوتا تھا۔ دوسرے موسیقی کے آلات نہیں ہوتے تھے۔ جی ٹی روڈ سے جاتے تھے۔ ہماری ٹریننگ گاڑی میں ہوئی۔ دوران سفر گاڑی کے ٹائروں کی گونج کے ساتھ طرز بنا لیتے۔خود گاتے پھر ہم سے گانے کو کہتے۔ وہ کہتے تھے یہ سات سُرسات رنگ ہیں۔ان سے پورٹریٹ بنانے کی کوشش کیا کرو۔ ہمیں نہیں پتا یہ سب کیسے ہمارے اندر فیڈ ہوا۔


ہلال:۔ پہلی پرفارمنس کس عمر میں دی اوروالد صاحب کا ری ایکشن کیا تھا؟
جاویدنیازی:۔ پی ٹی وی پر بچوں کا پروگرام شروع ہوا تو ہمیں پہلے آن ائیر ہونے والے بچوں کا اعزاز حاصل ہے۔ہم کلاس ٹو یا تھری میں تھے جب قائداعظم ڈے پرپہلی پرفارمنس دی تھی۔مسز اسلم اظہر پروگرام کی میزبان تھیں۔
یہ اپناقلم ہے اپنا قلم ہے،ہم اپنے قلم کی جنبش سے
سوتوں کو جگاتے جائیں گے
ہم نے اپنے ابا کی زندگی میں ہی ٹی وی پر کام شروع کر دیا تھا۔وہ خوش توہوتے تھے مگر کبھی اظہار نہیں کیا۔لوگ تعریف کرتے تو کہتے تھے کہ میری دعا ہے کہ اچھا گائیں۔ہاں والدہ کو کہا کرتے تھے کہ بچے اچھا گارہے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم بہت محنت کریں اور آؤٹ سٹینڈنگ آرٹسٹ بنیں۔


ہلال:۔ کبھی طفیل صاحب نے آپ کے لئے سفارش کی؟
جاویدنیازی:۔ نہیں کبھی نہیں۔ہم دونوں بھائی ریڈیو میں بی کیٹیگری میں کام کرتے تھے۔ میں نے ایک دن ان سے کہا کہ ہم آپ کے بیٹے ہیں، خلیفہ ہیں اور بی کیٹیگری میں کام کرتے ہیں اور آپ کے شاگردآپ کی سفارش کی وجہ سے اے کیٹیگری میں ہیں تو میرے لئے بھی ایک فون کر دیں۔ کہنے لگے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم آؤٹ سٹینڈنگ آرٹسٹ بنو اور جب تم آؤٹ سٹینڈنگ ہو جاؤ گے تو تمہیں یاد آئے گا کہ میں نے اباّ کی سفارش سے اے کیٹیگری لی تھی۔میرا موڈ خراب ہو گیاتووالدہ سے کہنے لگے کہ بھئی تمہارا بیٹا مجھ سے ناراض ہو گیا ہے۔ والدہ کو وجہ معلوم ہوئی تو کہنے لگیں طفیل صاحب کیا تھا سفارش کر دیتے تو کہنے لگے کہ نہیں بھئی کوئی اور کام مجھ سے کروا لو یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔خیر ہم نے ریڈیو پر کام چھوڑ دیا۔ جشنِ بہاراں ہوا تو ریڈیو والوں نے ہم دونوں بھائیوں کومدعو کیا۔ ہماری پرفارمنس کو بہت پسند کیا گیا۔اس وقت کے ڈی جی نے اسٹیشن ڈائریکٹر سے پوچھا کہ نیازی برادرز ریڈیو پر پروگرام کرتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ جی پہلے کرتے تھے۔تین چار سال سے چھوڑ گئے ہیں۔ اے کیٹیگری ڈیمانڈ کرتے تھے۔ ڈی جی نے کہا بھئی آپ کمال کرتے ہیں یہ لوگ تو آوٹ سٹینڈنگ کے حقدار ہیں۔ انہوں نے اسی وقت آرڈرز کیئے اور ہم آوٹ سٹینڈنگ کیٹیگری میں آگئے۔ پھر اس وقت اباّ کی بات یاد آئی کہ وہ ہمارے بارے میں جو کہتے تھے، کتنا صحیح تھا۔


ہلال:۔ والد صاحب کا نام کس حد تک آسانی کا باعث بنا؟
بابر نیازی:۔ انہوں نے تو بہت جدوجہد کی تھی، ان کی وجہ سے ہمارے لئے میڈیا کے راستے کھل گئے تھے اگروہ نہ ہوتے تو ہمارے لئے تو ٹی وی کے گیٹ سے اندر جانا ہی مشکل ہوتا۔ ان کی وجہ سے ہم بڑی آسانی سے ان اداروں کے اندر چلے گئے۔ مگر آگے آپ کا کام آپ کی پہچان بنتا ہے۔ ایک دفعہ ان کی وجہ سے ہمیں کام تو مل گیالیکن اگر ہماری محنت نہ ہوتی تو ہمیں وہ دوبارہ نہ بلاتے۔ مگر خدا کا شکر ہے لوگوں نے بہت پسند کیا۔ والد صاحب کی زندگی میں بڑی شاہانہ زندگی گزاری تھی۔ کسی قسم کی فکر نہ تھی۔ مگر ان کی وفات کے بعد ان کے نام کو زندہ رکھنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑی۔پہلے پانچ چھ سال تو ایسے گزرے کہ لوگ والدکی تعریف کرتے تھے، ہم چاہتے تھے کہ ہم سے اُن کی خوشبو آئے۔


ہلال:۔ آپ گانوں کی سلیکشن کیسے کرتے ہیں؟
بابر:۔ ہمارے پیچھے بہت بڑا نام ہے،ہمیں اس کاخیال رکھنا ہوتا ہے۔ہم پہلے شاعری دیکھتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ کہیں کہ یہ کیا کیا ہے۔ہم نے ابھی فوج کے لئے نغمہ تیار کیا ہے۔
’’ہم بیٹے پاکستان کے، ہم نکلے سینہ تان کے
ہم ارض وطن کے رکھوالے، ہم پہ کیوں غیر نظر ڈالے
نذرانے دیں ہم جان کے، ہم بیٹے پاکستان کے‘‘
بڑی خوبصورت کمپوزیشن ہے میری۔


ہلال:۔ آپ نے اپنے والد کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے فوک میوزک کا انتخاب کیا؟
جاویدنیازی:۔ ہماری بنیادی تعلیم کلاسیکل ہی ہے۔ والد صاحب بھی کلاسیکل گائک تھے انہوں نے فوک میوزک اس لئے چنا کہ کلاسیکل میوزک لوگوں تک آسانی سے پہنچ جائے۔جو لوگ سمجھتے ہیں وہ طفیل صاحب کو فوک نہیں کہتے۔ہم بھائی گاتے فوک ہیں لیکن اس میں بڑے بڑے راگ کلاسیکل ہوتے ہیں اور بہت مہارت سے گانے پڑتے ہیں۔
بابرنیازی:۔ اصل میں آپ کے پیچھے جو نام ہوتا ہے اس کے فائدے بھی بہت ہوتے ہیں اور نقصان بھی۔یہ نام آپ کے لئے سارے دروازے کھول دیتا ہے۔پھر اس نام کا پاس رکھنا ہوتا ہے۔ میں استاد کا بیٹا ہوں مجھے اس بات کا خیال ہے کہ میں نے اپنے گھر انے کا، اپنے والد صاحب کے نام کا خیال رکھنا ہے۔ کیونکہ اس میں میرے بزرگوں کی سالوں کی محنت اور ریاضت ہے۔پاپ میوزک تو آسان کام ہے میں اسے اپنا کرجلدشہرت حاصل کر لیتا لیکن وہ پچاس ساٹھ سال ضائع ہو جاتے جو میرے بزرگوں نے لگائے تھے۔ مجھ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو گاتے ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟تو میں نے کہا کوئی ایک سو بیس تیس سال۔ تو کہنے لگے کہ ایک سو بیس تیس سال؟آپ کی کتنی عمر ہے۔ میں نے کہا کہ بھئی دیکھیں تیس چالیس سال ہمیں گاتے ہوئے ہو گئے ہیں اور ساٹھ پینسٹھ سال میرے والد صاحب کو۔کیونکہ وہ گانا بھی ہماری رگوں میں شامل ہے۔ وہ تجربہ ہمارے پاس ہے۔ والد صاحب کے بہت سے شاگرد تھے اور وہ بہت اچھا کام کرتے ہیں لیکن بیٹا ہونے کی وجہ سے جینز میں اثرات تو ہوتے ہیں۔لوگ ہم سے ہر قسم کا میوزک ،غزل ، ٹھمری اور لائٹ میوزک سنتے ہیں۔صوفی میوزک میں تو ہمیں پرائڈ آف پرفارمنس بھی ملا ہے۔فوک میوزک چونکہ میرے والد کی چوائس تھی، جب ان کااس میں اتنا بڑا نام بن گیاتو ہمیں لوگوں نے خود بخود ہی اس میں ڈھال دیا کہ یہ فوک میوزک سنگر ہیں۔

intertufailniazi1.jpg
ہلال:۔ آپ بھائیوں کو’’استاد‘‘ کا ٹائٹل کیسے ملا؟
بابرنیازی:۔ مہاراج پٹیالہ نے ہمیں پٹیالہ بلایا بھارت میں سات دن کا فیسٹیول ہوتا ہے اور اس میں سب کلاسیکل پکے راگ گانے والے لوگ ہوتے ہیں۔پاکستان سے ہم دونوں بھائیوں کو بلایاگیا۔جب ہماری پرفارمنس کا دن آیا تو اس دن آ ڈیئنس عام دنوں سے بہت زیادہ تھی۔ہم سٹیج پر گئے تو ہم نے کہا کہ یا تو آپ نے کسی غلط فہمی میں ہمیں بلا لیا ہے یا آپ نے ہمارا میوزک بہت باریک بینی سے سنا ہے۔ ہم آپ کو وہ کلاسیکل سنائیں گے جو ہم نے اپنے والد صاحب سے سیکھا۔ خیر ہم نے گایا اور لوگوں نے بہت زیادہ پسند کیا۔ وہاں ہمیں ایوارڈ اور استاد کا ٹائٹل بھی دیا گیا۔لیکن ہم نے کبھی اپنے نام کے ساتھ استاد نہیں لگایاکیونکہ ہمارے والد صاحب نے بھی کبھی اپنے نام کے ساتھ استاد نہیں لگایا تھا۔


ہلال:۔ والد کے نام کو لے کر چلنا مشکل تھا یا آسان؟
بابرنیازی:۔ ہماری سب سے بڑی ڈیوٹی ہے کہ والد صاحب کا ورثہ سنبھال کر رکھنا ہے۔اس لئے ہم نے انہی سازوں کے ساتھ پرفارم کیا، اب چونکہ زمانہ بدلتا جارہا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی نئی چیزیں استعمال کرنا پڑتی ہیں۔لیکن گائیکی وہی ہے۔اور دعا یہی ہے کہ اچھے طریقے سے ہینڈل کر سکیں۔نئی جینیریشن کے آرٹسٹ ان کی گائی ہوئی چیزیں گارہے ہیں،جیسے’’وان کٹیا‘‘ ابرار الحق نے گایا ’’میں نئی جاناں کھیڑیاں دے نال‘‘ شفقت امانت علی نے گایا۔
بھارت اور پاکستان کی نئی جینیریشن ان کو گارہی ہے۔کیونکہ ہم ان کی گائیکی کو لے کر چل رہے ہیں۔تو یہ میوزک آنے والی نسلوں تک پہنچا۔


ہلال:۔ آپ نے ساری دنیا میں پرفامنس دی کہاں کے شائقین اچھے لگے؟
جاویدنیازی:۔ شائقین ہر جگہ اچھے ہوتے ہیں۔پڑوسی ملک کے لوگ بہت باریکی سے اور ٹیکنیکلی گانا سنتے ہیں۔سب سے زیادہ مزہ لاہور میں گانے میں ہے۔لاہور جیسے شائقین کہیں نہیں ہیں۔بہت اچھا سنتے ہیں اور ادھار نہیں رکھتے۔ اچھا ہو یا بُرا، فوراً بتا دیتے ہیں۔ جس کو لاہور والوں نے مان لیا اسے ساری دنیا مان جاتی ہے۔


ہلال:۔ کیا میوزک آپ کا پروفیشن ہے؟
بابرنیازی:۔ میوزک ہمارا پروفیشن بھی ہے اور پیشن بھی۔ ہمارا اوڑھنا بچھونا میوزک ہی ہے۔یہ ہمارا شوق ہے، ہمارا جنون ہے اور ہماری جاب بھی میوزک ہی ہے۔جب بھی کچھ کرنے کو جی چاہتا ہے ہارمونیم لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔


ہلال:۔ پاکستان میں فوک میوزک کا مستقبل کیا ہے؟
بابرنیازی:۔ فوک میوزک نہ ختم ہونے والی چیز ہے۔یہ کبھی بھی زوال پذیر نہیں ہوسکتا۔جس چیز کا تعلق ہماری زمین سے ، ہماری مٹی سے ہے وہ کیسے ختم ہو سکتی ہے۔ہم جتنا بھی پڑھ لکھ کر انگریزی بول کر ماڈرن ہو جائیں،ہمارے اندرکا دیسی آدمی وہیں کھڑا ہے۔البتہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی صورت بدلتی جا رہی ہے۔ اس میں ڈھولک آگئی، طبلے بجنے شروع ہو گئے۔ یہ وقت کی ڈیمانڈ ہے۔اب ہم نے اس کو ڈرم بیٹ کے ساتھ کیا تو اس کی بات ہی اور ہو گئی۔اس کی صورت ضرور بدلے گی مگر اس کی روٹس وہی رہیں گی۔فوک کا تعلق ہماری زندگی سے ہے یہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔


ہلال:۔ فوک میوزک پاپ میوز ک جتنا پاپولر کیوں نہیں؟
بابرنیازی:۔ یہ پاپولر ہے اسی لئے ابھی تک چلا آرہا ہے۔پرانے گانے اپنے دور میں اس سے کئی گناہ زیادہ پاپولر تھے،جتنے آج کے دور کے گانے ہیں۔پاپ میوزک کی بہت کم عمر ہوتی ہے۔یہ سدا بہار( رہنے والی چیز) نہیں۔آج کے گانے سے دل بہت جلدی بھر جاتا ہے۔ ایک گانا سنگر خود ہی لکھتا ہے، خود ہی کمپوز کر کرتا ہے، خود ہی اس کی ویڈیو بناتا ہے، ایسا گانا دس پندرہ دن یا حد ہو تو ایک مہینہ آپ کے ذہن میں رہتا ہے۔اس کے بعد سننے والا بھول جاتا ہے اور گانا ختم ہو جاتا ہے،پرانے گانے میں پچاس ساٹھ لوگوں کی محنت شامل ہوتی تھی۔ شاعر،کمپوزر،ریکارڈسٹ اورمیوزک کے لئے پورا گروپ ہوتا تھاتوایک گانا بنتا تھا۔ اس گانے کی عمر بھی ساٹھ ستر سال ہوتی تھی۔


ہلال:۔ کیاگاناتربیت سے سیکھا جاسکتا ہے؟
بابرنیازی:۔ بالکل۔ خوبصورت آواز تو خدا کی عطاکی ہوئی نعمت ہے۔باقی دنیا کا ہر کام سیکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے جن کا یہ خاندانی کام نہیں تھا، انہوں نے اس کو سیکھا اور بڑا نام کمایا۔خواجہ انور صاحب اتنے بڑے میوزک ڈائریکٹر سیکھ کر ہی آئے۔یہ جنون کا کام ہے پارٹ ٹائم جاب نہیں ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میں شوقیہ گاتا ہوں۔تو یہ ایسی چیز نہیں ہے۔ ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ اگر دو دن ریاض نہ کریں تو انسان دو مہینے پیچھے چلا جاتا ہے۔میرے والد صاحب ساری زندگی اسی میں محنت کرتے رہے جب آخری وقت آیا تو کہنے لگے یار ابھی تو تھوڑا سا سمجھ میں آیا تھا،وقت ہی ختم ہو گیا ہے۔


ہلال:۔ کیاآپ اپنے بچوں کو بھی میوزک سکھا رہے ہیں؟
جاویدنیازی:۔ زبر دستی نہ والد صاحب نے ہمارے ساتھ کی نہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ہم نے بھی اپنے والد کی عزت اور مقام دیکھا تو چاہا کہ ان جیسے بنیں۔ان کے ساتھ لوگوں کی محبت، پیار اور خدمت ناقابلِ بیان ہے۔ ایک مرتبہ ہم جی ٹی روڈ پر جارہے تھے کہ گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔اس وقت جی ٹی روڈ خالی ہوتی تھی۔ ایک آدمی سائیکل پر جارہا تھا۔ہمیں دیکھ کر واپس آگیا۔والد صاحب کو سلام کر کے پوچھا کہ آپ طفیل نیازی صاحب ہیں؟انہوں نے کہا ہاں۔ان کو مل کر بہت خوش ہوا اور مجھے کہنے لگا مجھے دکھائیں میں گاڑی دیکھتا ہوں۔اس نے مجھ سے پانا لیااو ر سائیکل پر بیٹھ کر نکل گیا۔اب میں پریشان کھڑا ہو گیا۔خیر بیس پچیس منٹ کے بعد دیکھا تو بہت سے لوگ چارپائی تکیے اور گنوں کا گٹھر اٹھا کر آگئے۔وہ آدمی کہنے لگا طفیل نیازی صاحب آپ کو ٹی وی پر دیکھتا ہوں، آج آپ کو حقیقت میں دیکھا تو دل چاہا کہ آپ کو جانے ہی نہ دوں۔ خیر انہوں نے گاڑی کا ٹائر بدلا اور محبت سے رخصت کیا۔ ہم نے لوگوں کی والد صاحب کے ساتھ ایسی والہانہ محبت دیکھی تھی تو ہم لوگ اس لائن میں آگئے۔


ہلال:۔ کیا انٹرنیشنل سطح پر بھی کلا سیکل میوزک اتنا ہی پاپولر ہے؟
بابرنیازی:۔ ہمیں منسٹری آف کلچرنے صوفی ازم فیسٹیول کے لئے نار وے بھیجا۔ وہاں شائقین کی اکثریت ناروے کے لوگوں کی تھی۔حالانکہ اوسلو میں بہت زیادہ پاکستانی اور انڈین کمیونٹی ہے۔ڈھائی تین گھنٹے انہوں نے ہم سے صوفی میوزک جس میں بابا بلھے شاہ، شاہ حسین، غلام فریدکا کلام سنا اور بہت پسند کیا۔ لیکن ہمیں بہت دُکھ ہوا کہ ان کو ہماری شاعری سمجھ ہی نہیں آئی ہو گی۔پروگرام کے بعد ہم نے پروموٹر سے گلہ کیا کہ یہ گورے لوگ ہماری آواز، میوزک انجوائے کر رہے ہیں،مگر شاعری تو ان کی سمجھ میں نہیں آرہی۔تو کہنے لگے یہ سارے لوگ بلھے شاہ، شاہ حسین ،غلام فرید پرپی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔جس لائن کا آپ کو مطلب نہ آئے تو کسی گورے سے پوچھ لیں۔یہ لوگ ہم سے ہماری چیزیں لے گئے ہیں اور ہمیں ستار کے بدلے گٹاراور طبلے کی جگہ ڈرم دے گئے۔ سارنگی لے گئے، ہمیں جینز جو گرز دے گئے ،ہمارے کھسے لے گئے۔ ہالی وڈ فلموں کے بیک گراؤنڈ میں ہمارا میوزک لگاتے ہیں۔


ہلال:۔ ایک فنکار کی حیثیت سے ملکی حالات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
بابرنیازی:۔ میوزک اور سکون کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔کہتے ہیں جس ملک کے سُر بگڑ جائیں اس ملک کے حالات کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ایک وقت تھا اچھا میوزک بنتا تھا۔اس میں ایک سکون ہوتا تھا۔رات دیر تک بے فکری سے باہر گھومتے تھے۔اب جو بے چینی میوزک میں آگئی ہے وہی ملک میں بھی نظر آتی ہے۔ اتنی روشنیاں ہیں مگر رات بارہ بجے کے بعد گھر سے نکلتے ہوئے خوف آتا ہے۔


ہلال:۔ کیا پاکستان میں آرٹسٹ کا مستقبل محفوظ ہے؟
بابرنیازی:۔ آرٹسٹ کا کوئی پرسا ن حال نہیں، حالانکہ کوئی بھی ایونٹ آرٹسٹ کے بغیر نہیں ہو سکتا۔میں ہمیشہ ایک چیز کہتا ہوں کہ آرٹسٹ کی طرف دھیان دیں۔پٹھانے خان جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے گھر والوں کے پاس ان کو سپردِخاک کرنے کے انتظامات نہیں ہو پا رہے تھے۔جن لوگوں کو پرائڈ آف پرفارمنس دیتے ہیں کم ازکم ان کی ذمہ داری تو لینی چاہئے۔ان کا کوئی وظیفہ لگا دیں اورمیڈیکل دیں۔ساتھ ہمسایہ ملک میں حکومت خود پیسے نہیں دیتی۔ملٹی نیشنل کمپنیز کے ذمہ لگا دیتے ہیں۔اگر اسی طرح ہمارے ہاں بھی ملٹی نیشنل کمپنیز کے ذمے لگا دیں توآرٹسٹ کی زندگی آسان ہو جائے گی۔کیونکہ فنکار جب دنیا سے چلا جاتا ہے تو اس کے لئے سپیشل پروگرام کئے جاتے ہیں اور کہاجاتا ہے کہ یہ فنکار ہمارا سرمایہ اورر اثاثہ تھے مگر ان کی زندگی میں توجہ نہیں دی جاتی۔ہم فن کوز ندہ رکھنے کے لئے اپنے زورِ بازو پر لڑ رہے ہیں۔ہم جب 75ملکوں سے ایوارڈ لے کر آرہے تھے تو خیال تھا کہ ہمیں بہت سے لوگ ریسیو کرنے آئیں گے۔خاص طور پر منسٹری آف کلچر والے تو آئیں گے لیکن جب ائیر پورٹ پہ اترے تو صرف امی ہمیں لینے آئیں۔ پی این سی اے آرٹسٹوں کی فلاح و بہبود کے لئے بنا تھا مگر فنکاروں کے لئے کوئی کام نہیں ہو رہا۔


ہلال:۔ فوجی بھائیوں کے لئے پیغام؟
جاویدنیازی:۔ ہم نے آئی ایس پی آر کے لئے ایک نغمہ ’’بیٹے پاکستانی‘‘ تیار کیا ہے۔مزید کام کرنا چاہتے ہیں۔ فوجی بھائیوں سے محبت کے اظہار کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں۔ ان کے لئے ڈھیروں دعائیں۔ہم ان کے شگر گزار ہیں کہ ہماری حفاظت کے لئے جنگلوں بیابانوں میں دن رات کام کر رہے ہیں اور اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔
اپنی جان نذر کروں اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مرد مجاہد تجھے کیا پیش کروں

عذرا انتصار ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لئے بھی لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

فوک میوزک نہ ختم ہونے والی چیز ہے۔یہ کبھی بھی زوال پذیر نہیں ہوسکتا۔جس چیز کا تعلق ہماری زمین سے ، ہماری مٹی سے ہے وہ کیسے ختم ہو سکتی ہے۔ہم جتنا بھی پڑھ لکھ کر انگریزی بول کر ماڈرن ہو جائیں،ہمارے اندرکا دیسی آدمی وہیں کھڑا ہے۔البتہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی صورت بدلتی جا رہی ہے۔ اس میں ڈھولک آگئی، طبلے بجنے شروع ہو گئے۔ یہ وقت کی ڈیمانڈ ہے۔اب ہم نے اس کو ڈرم بیٹ کے ساتھ کیا تو اس کی بات ہی اور ہو گئی۔اس کی صورت ضرور بدلے گی مگر اس کی روٹس وہی رہیں گی۔فوک کا تعلق ہماری زندگی سے ہے یہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔

*****

پروگرام کے بعد ہم نے پروموٹر سے گلہ کیا کہ یہ گورے لوگ ہماری آواز، میوزک انجوائے کر رہے ہیں،مگر شاعری تو ان کی سمجھ میں نہیں آرہی۔تو کہنے لگے یہ سارے لوگ بلھے شاہ، شاہ حسین ،غلام فرید پرپی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔جس لائن کا آپ کو مطلب نہ آئے تو کسی گورے سے پوچھ لیں۔

*****

 
06
June

Dr. Ishrat Hussain

Pakistan has to be part of global economic market as a progressive and responsible nation state. Isolation is no option. We need to change our thinking paradigms while handling economic matters.

Asif Jehangir Raja

Q. You have a long record of holding various appointments related to economic affairs both nationally and internationally. How do you see evolution and progress of Pakistani economy since 1947 till to-date? What went wrong after 1960s once Pakistan achieved highest growth rate in Asia and the gradual deterioration later on, has led us to a point where 4 % claim of GDP appears as a phenomenal achievement?

Answer: We should realize that when we got Pakistan in 1947, the regions/ areas comprising Pakistan were quite backward and not developed by the British Government. Except growing crops, there was not much of economic activity. But since then, we are one of the few developing countries which maintained 5% annual growth rate for over sixty years. Very few countries have this achievement to their credit. In the start, we used to be dependent on P.L. 480 imports for our wheat consumption because we could not even feed 30 million people. (On July 10, 1954, US President Dwight D. Eisenhower signed the Agricultural Trade Development and Assistance Actor Public Law (P.L.) 480 an action which simultaneously created the Office of Food for Peace. The bill, a solution for food deficient, cash-poor countries, created a secondary foreign market by allowing food-deficient countries to pay for American food imports in their own currencies instead of in U.S. dollars.) Today, we, Ma’ Sha’ Allah, not only feed 180 million people but are also the 3rd largest rice exporting country in the world. We are self sufficient in growing sugar, and despite few setbacks the yield is going up, and we have been able to supply all our textile factories from the cotton produced in Pakistan. From 1 million bales of cotton produced during 1950, we are today producing 14 million bales. We used to have 3 million tons of wheat; we now produce 25 million tons of wheat. We are the 4th largest producer of milk in the world.

So Pakistanis have done extremely well. But as you said, Pakistan was considered a model for rest of Asia in 1960s. And had we continued on that path, today we would have been upper middle income country rather than a lower middle income country. Our per capita income would have been US$ 3000-4000 instead of US$ 1350/ 1386. So what went wrong?

First, we gave very low priority to education. If you don't educate your younger generation, you don't have the skills which are needed for a modern economy. So even after 67 years of our history, our literacy rate is only 58-59%. Our female literacy rate is also very low. Half of our population comprises females, most of whom do not take part in productive economic activities. Their participation is 20%, which is very less. No country in the world can progress, if 50% of the women are not contributing towards a productive economy. Look at Vietnam; a country that was shattered badly due to the civil war, but has overtaken us today and are considered one of the most dynamic countries in the world. Only because the female labour participation rate in economic activities is very high.

So to me, lack of education is the first major problem that Pakistan faced. The second problem we faced was nationalization. Mr. Zulfiqar Ali Bhutto, the former Prime Minister of Pakistan, at that point of time, nationalized education, banking, industries, and insurance companies. And, therefore, we reversed whatever we had achieved by then because private sector was behind all industrial development in the country, and once we marginalized/ isolated the private sector from economic activity, the result is in front of us. That was a major setback. The banks became government banks and were giving loans to the people who were cronies of the government who never paid back these loans. No real investment took place in the country.

Unfortunately, the immediate government to follow didn't do anything to reverse the changes made by Mr. Bhutto. The situation continued the same way until 1990s when some privatization and liberalization was seen in the policies. However, the country was hit by political instability during that time; we had four Prime Ministers, interim governments in 90s.

The economy needs political stability which wasn't there at that time. Coming to the period from 2000-2008, when there was some stability and resultantly, the economy grew up. Pakistan was then the third fastest growing economy with the growth rate of 7.5%, only after India and China. Foreign Direct Investment (FDI) in 2007 was US$ 8 billion which was much higher than ever. After 2008, the economy again drifted towards an inverse proportion and there wasn't anybody who could steer the ship that was sailing or gradually sinking in turbulent waters. During the period from 2008-13, we had four finance ministers, four Governors of State Bank, six finance secretaries. You don't run economy like that. In a problematic situation like that, there is a need for strong hands at the steering wheel to safely reach to the shore; that wasn't happening.

Now we hope that this government, which is very much dedicated to the revival of the economy, will be able to do it. At least you have a finance minister who is quite strong and is in command of the situation. So we hope that we will be able to get back from 3% to over 4% of growth next year, leading subsequently to 5% and more in the coming years. The policies and politics are very essential because these provide investors with the confidence that their money is safe and they can get their returns. If you have investment, you will have growth. There is a link between political stability and economic growth.

Q. How much the State Bank of Pakistan is independent in formulating the country's monetary policy? If there are barriers, what institutional mechanism you recommend to safeguard against influence, intrusion and coercion by certain elements?

Answer: In Pakistan we have rules and laws which are excellent as far as the rest of the world is concerned. If someone from Mars arrive here in Pakistan and looks at our laws, rules, regulations and legislation, he will take it to be an ideal world. But the problem lies in practicing those laws.

The State Bank of Pakistan (SBP) is an autonomous body. The Governor is appointed by the President of Pakistan for a fixed term and cannot be removed unless he commits moral turpitude, or is mentally incapacitated. There is no other way that he can be removed. But if government of the day makes him in-effective, then he has no other way but to resign. This is where the gap between the words and actions actually leads to outcomes which are quite contrary.

However, as Governor of SBP, you have autonomy and can do much. During my tenure of six years as Governor of SBP, I enjoyed complete autonomy. I had Board of Governors of the SBP making all the decisions. I had no interference from the government, and whenever I felt so, I went to the President who always supported me. The political support is a source of strength and the Governor can assert himself with this support. But if the Governor goes to the highest authority that does not help him in asserting his autonomy or independence, then things go wrong.

But let me also add that SBP is not autonomous of the government but is autonomous within the government. This is very important as we all have to serve this country. Fiscal policy cannot go in one direction, monetary policy cannot move in another direction, and trade policy cannot go in some other direction. We have a legislative instrument which is Monetary and Fiscal Coordination Board, headed by Finance Minister, and it has a panel of members comprising Governor SBP, Minister of Planning, Minister of Commerce, and Secretary Finance. The Board also has two independent members and presently I am also one of them along with the Vice Chancellor of 'Pakistan Institute of Development Economics' (PIDE).

This forum has to ensure that there is consistency between the monetary policy, the fiscal policy, the trade policy, and the exchange rate policy. This also ensures that all organs are working for the same policy at national level. No financial body is independent of the fiscal policy and it is prerogative of the elected government to set the targets because they have to go back and face the electorates. So this forum works together to meet those objectives.

However, it is also obligatory for Monetary and Fiscal Coordination Board to alert the government about the targets and objectives that are not achievable because of any reason. Any member can have a voice in this forum and government can review its decision based on his suggestion. The Governor always has a voice in the decisions and, at times, his courage to speak also becomes very important.

Q. In the past, the State Bank was criticized for printing currency notes over and above the size of Pakistani economy, and that also caused inflation? In a tough economic situation, what other options in your opinion should have been exercised to save Pakistan from ills of inflation and devaluation of currency?

Answer: The major reason for this situation is fiscal indiscipline. If you have Rs. 500 billion being given every year as untargeted subsidies for the losses of your public sector enterprises and corporations, you will have fiscal deficit ranging to 8% of GDP. How can a country like Pakistan afford to do that?

The external donors will not come in because they carry bad impression of your financial management. You and I will not contribute to that because we think our money will not be utilized properly. The system of tax collection is also working poorly. When you don't collect taxes and spend Rs. 500 billion on subsidies which not only poor but rich also enjoy, the problems do surface at broader level. The vehicles are getting subsidized CNG which should actually be going to the power and fertilizer sector so that country is benefitted. This all is related to the fiscal discipline. Without implementing it, the government will have to go to the banks and borrow from them. This borrowing is inflationary and is not good for common person.

If the taxes are not collected due to lack of political will and subsidies are granted as a regular feature to the loss making corporations to save jobs of few thousand people at the cost of entire population; it cannot be called as good economic management.

Q. What are the structural, institutional and procedural barriers that have caused the non-implementation of various economic reforms particularly introduced by you from 2006-08?

Answer: After completion of my term as Governor SBP, I was assigned by the President to head National Commission on Government Reforms. It was done after realization that implementation capacity of our bureaucracy was very weak and it was further weakening over time due to politicization of civil servants.

While analyzing it, the model of armed forces of Pakistan was closely studied which have successfully excelled in the same environment for over sixty years because of their excellent and transparent human resource management and policies. We came up with proposals that recruitment should purely be done through a competitive process on merit by Public Service Commission, training should be given to individual at different stages of service and if the performance during the training is not up to the mark, then promotion should not be give to that individual. We also suggested that promotion should not only be granted on the basis of ACRs but input by a panel comprising people who have seen you working on ground, must also be made part of promotion summary. The increments in the pay and the related benefits should also be judged through the service record. We also proposed about post retirement benefits to the government servants where, at least, they are assured of a roof once their service is completed.

These recommendations were made after we carried out visit of entire Pakistan in shape of a report that was prepared after efforts of two years’ time. It has now been published by Van Guard publishers as 'Reforming the Government in Pakistan.' I have been suggesting each government to have a look at these recommendations because they are very transformative. But unfortunately, despite the fact that governments recognize the deteriorating standards of civil servants, they are not ready to undertake reforms based on this report.

Interesting fact is that the committee that prepared this report comprised of both government and non- government officials who all desire its recommendations to be implemented. The implementation of these recommendations will have far reaching effects and positive results may start to come, not immediately, but after some time. The political governments, however, are not ready to look beyond their own tenure of five years and are normally not interested to take any projects that may complete in the tenure of other government. But this is very essential for the national cause. There are around 35 thousand officers including accountants, economists, and agriculturists, to name few, who do not belong to any cadre. They are specialists but don't have any prospects of carrier progression. They are frustrated, cynical, do not have any motivation to work, and are stuck in a single grade for years and years. This is a dis-service to the government, as it needs specialists; but the ones available are not much of use because of low motivation level. These are few of the examples that show our lack of commitment to implement policies.

Q. Today Pakistan's foreign loans are over $ 70 billion. Presently Pakistan gets fresh loans to pay the dues of international donors. Going by the same pace, it is likely that soon a point will be reached once it would be difficult to pay the loan installments. Argentina defaulted in 2001 once its foreign loans reached the figure of $ 100 billion. How do you assess this rampant escalation in foreign loans and what can be done to save the situation?

Answer: I don't think that it is the absolute amount. We policy-makers look at is as the External Debt to GDP Ratio and External Debt Servicing Ratio. Are we able to service their debt or not? How much are the government revenues that we have to spend on debt servicing. So it is not the external debt that is creating problems for us because interest rate on these external debts is 1 or 2 or 3%. The real damaging factor is the expensive domestic loans. We have to pay 12 or 13 or even 14% interest on these loans for 3 months or 6 months treasury bills. I am not worried about external loans because that is not as big an issue. This year we had to spend 1000 billion out of the budget for debt servicing; interestingly only 20-30% of this amount went to external debts whereas the rest was spent on expensive internal debt servicing. Although the ratio of the internal debt to the external is 50-50 but the debt servicing, which relates to the payment of interest and the loans itself, is very high for the domestic debt.

So anybody who doesn't follow the intricacies of debt management puts blame on external debt. No! That's not the case. We need not to be worried about external portion of the debt because these are cheap and are to be paid in periods exceeding 10-15 or 20 years. The IMF loan is short term, and reaching IMF is like an individual going to a medical doctor. If you are eating well, exercising well, and if you are not falling sick, you don't need to go to a doctor. But if you are not managing your economy well; your economy is ailing; you cannot repay your bills; you have to then turn to IMF for help.

My contention is that you should have strong financial management to avoid consulting IMF. The loans rendered by IMF are normally not in the interest of any country. IMF loan is short term and doesn't allow you to carry out long term projects as per your own wishes. I don't disagree with IMF when they ask us to have fiscal discipline, to have exchange rate at realistic level, to privatize public enterprises that are losing money and to bring financial discipline in the country. But they also ask you to follow their map in each quarter that binds your hands in exercising your decisions. It is also true to an extent that we take one loan from IMF to pay another one but isn't true in all cases where few external loans are very concessional. We have to put our own house in order to get rid of all domestic and international loans, if we so want. With 1% of population paying taxes, where do we go from here? Government must ensure collection of taxes through improvement in tax collection system, whereby, tax collector also facilitates depositing of the money with the government instead of getting richer himself.

All governments shall have to take the decisions beyond their party and election interest and will have to show political will to improve tax collection. Studies have shown that we can add 50% to the existing tax revenue collection with the same system that exists in Pakistan today. Pakistan is raising 2400 billion through taxes, if raises another 1200 billion within same system, the deficit will be completely wiped off. I don't agree with idea of lowering interest rate by government to get relief in domestic borrowing. Instead, I will suggest focusing and addressing the root cause – raising revenue through tax collection.

Q. How do you see the relation between issues like fiscal discipline, popular politics, subsidies and vested interest groups? In your opinion, privatization is likely to cure few of these ills and bring efficiency in the performance of employers, employees and the organizations/institutions?

Answer: I have also written on this subject that we can't just be for or against privatization. You have to look at each company that what kind of benefits it is bringing to the economy and the society. If there are strategic assets, then they should not be privatized irrespective of the fact that they are beneficial to the economy or not.

But if the state enterprise has competitor in the market then government has no business in running a losing organization and should dr ishrat2immediately privatize that entity. In certain other cases, if there is monopoly of the government, then it should be broken. For example, PTCL had monopoly of telephones, and there was a time when people had to wait for 5-10 years to get a telephone number installed. So we abolished the monopoly of PTCL, brought in private mobile operators and you can have a look at the outcome. Telephone is now available to 128 million people in Pakistan because every company is in competition with the other one and resultantly, people have many options to get connected at a better package of their choice. In this whole scenario, consumer emerges as the sole beneficiary. As of today, the rates of telephone call from Pakistan to USA are cheaper than the other way around. This is an example of successful privatization.

Likewise Pakistan Steel Mills (PSM) should be privatized because there are efficient steel producers in the market whereas PSM is inefficient. Similarly, PIA should be privatized because it is also not performing to the desired levels and is in loss. Its personnel-to-aircraft ratio is worst in the world. The private sector air lines can bring better service to the people. At the moment PIA has a monopoly because Civil Aviation Authority (CAA) is under government and hence, grants many benefits to PIA.

Habib Bank, United Bank and Allied Bank were all privatized. Look at their performance now as compared to the government owned National Bank. Interestingly, the value of government's own shares in these banks and the privatized companies have multiplied many times. In addition, these companies are also paying taxes to the government. Previously government used to give subsidy of Rs. 41 billion to these companies and now, after privatization, things have turned other way around; both for the consumer and for the government. The decision of privatization should be based on case to case, after analyzing each individual company, sector and the market.

Q. In recent times, most of the developing and under developed countries are considering Foreign Direct Investment (FDI) as the panacea of economic development. However, we have also seen sudden collapse of South Asian economies in 1997 and 1999. How to safeguard against such a situation while following FDI strategy?

Answer: Not to the FDI but the crises was more related to the opening up of their capital accounts too quickly without making arrangements to protect domestically. The same countries are doing extremely well today. China, for example, has been a miracle economy, whereby from 1980 till 2013, they have lifted 500 million people out of poverty. They are now the largest economy of the world. Their per capita income was lower than both Pakistan and India in 1980, and today they are the largest exporting nation in the world. How did they do it? Not their own money but through FDI. FDI not only brings money, it brings technology. It brings modern managerial practices.

So China not only let investors benefit, but also absorbed all benefits of FDI for their own Chinese companies. The benefits were transferred even till small towns as they were following same practices as done by foreign companies. That's why FDI is so important. You open up the markets all over the world. If you have a multinational company here, they have international connections. They will take your product and will sale it in different parts of the world, wherever required.

People think wrongly in Pakistan when they say that it is foreign money and we shouldn't be using it. This attitude is not desirable. We have to make a decision which is more basic; whether you want to be part of global economy as a responsible country or you want to cut off from the world, become a local-Pakistan based economy, and become an ostrich with the head in the sand. Pakistan may never prosper with this attitude. There is US$ 23 trillion global market which Pakistan can access as part of global economy. And Pakistan is only US$ 240 billion economy. There is no comparison. Pakistan has no option but to be part of global economic market as a progressive and responsible nation state.

It is very painful to listen to the people when they say, Oh yeah tu baher walon kaa paisa hey (this money belongs to foreign people). If we don't change our mindset, we will have difficulties for our younger generation. Why do we look down upon everything that is foreigner? Korea, China, and even India, have opened up their economies and have benefitted from it. India was completely insolated country till 1991 but the moment they got themselves integrated with world economies, they grew 7-8%, poverty has been reduced in India and they are now considered among the large economies of the world. We should not insolate ourselves. This is basic preposition as far as I am concerned. I think younger Pakistani generation can become work force for the world if we educate them and give them skills. Because developed countries are aging whereas we have surplus young population. Pakistan has massive human capital. We must invest on it and supply it to the international market. With the mindset of doubting anything, coming from foreign will not take us anywhere, is not an ideal and should be changed.

Q. The world's recent economic history is replete with debate and evolution along mercantilism, liberalism and communism. All these approaches have in some way affected the economic policies and modernization plans of many countries like Japan, China, South Korea, Taiwan, etc. In Pakistan, however, debate on liberalism and communism etc could not much take place due to various ideological and cultural taboos. How important it is for our people to think economically and reconstruct the environment that could help us not only successfully compete but gain edge over world's leading economies?

Answer: Socialism and Communism have destroyed countries. The whole Soviet Union and Eastern European countries collapsed because Socialism and Communism were hollowing their economies. They were great military powers but didn't have the economic base. And one fine morning, the complete structure went down.

For example, in Pakistan, as I mentioned earlier, nationalization policy in 1970s did more damage than any other factor. So what we need is to have skilled and educated labour force with level playing field for all based on merit. So that a son of a Havildar can rise to become a General and daughter of a Police Constable can also become Chief Executive Officer (CEO) of some big corporation. The moment we implement 'No Sifarish-No Nepotism-No Connections-No Favouritism' culture, we will have a different country.

Why is it that even after 55 years, Institution of Business Administration (IBA), Karachi is still a model educational institution which has produced almost 50% of the CEOs in Pakistan, and alumnae of this institution are spread all over the world. Only because admission is based on purely merit after strict competitive exam, interviews and classes are held in time, and there is rigorous examination system. People who do not perform are expelled.

Likewise LUMS is a model, Agha Khan University is a model, NUST is a model. The SBP is today graded as the best institution after Armed Forces, why, because the system is merit based. Why Motorway police is different from rest of the police and is performing well; because merit prevails. The debate to introduce any system at the abstract level and discussion to adopt Socialism or Communism or some other system may not fetch desired results. We should look for the best systems being practiced in the world that have allowed them to progress, and should adopt them here in Pakistan.

Q. What short and long term measures you recommend to improve Pakistan's economy?

Answer: Education, education and education; that is the solution to the problems and key to success for Pakistan. An urban middle class educated citizenship will create its own pressures on politicians and public policies. That is the root to the progress.

We should have democracy in the country so there is an orderly transition. In India, for example, Mr. Moodi has been elected because of his performance as Chief Minister of Gujarat whereby young Indians rejected Congress, seeing their poor performance in the economic field. Democracy gives you a choice to pick right or wrong.

Q. Your message that you want to give to the youth of Pakistan through the forum of Hilal magazine?

Answer: I have personally been saying it to the youth of Pakistan that there is no short cut in life. You have to work hard. You have to do your best. You have to equip yourself in whatever profession you are, to the best possible limit. Then the world is yours. But if you are looking for shortcuts, you are looking for connections to get jobs, you are cheating in exams, you are looking for favours to get promoted and if you are avoiding to follow merit; you will ruin Pakistan and you will ruin yourself.

The youth of Pakistan has the capability to become a workforce for the world, but they need to invest in themselves. Today's world is continuous learning. What you learnt in university will be obsolescent in few years time and you have to learn afresh. Process of education never stops. In a highly competitive world, only best and the fittest will move ahead.

06
June

Kiran Khan (International Swimmer)

“Since 2007 till date, I am representing Pak Army at national level and have won many medals. It is always hard work that pays off at the end. Armed Forces are defenders of the frontiers and it is an honour for me to remain associated with Pak Army. I have so far won 80-100 medals at national level after having joined Pakistan Army team. Even while swimming deep into water under the surface, I always think of bringing respect to Pakistan and spirit of Army keeps me going swifter.”

Capt Kanwal Kiani

Q. You started swimming at a very young age, what inspired/attracted you to play with water?

kiran2Answer: Playing with water has been my passion since childhood. As a kid I was not inspired to swim but was attracted more to play in water with all my toys. However, as the time passed and I grew older, I learnt to swim and developed interest for the sport. Interestingly, my father, Khalid Zaman, who was also an international swimmer, wanted me to stay fit and to learn this game to the perfection. He taught me the techniques that put my hard work in correct direction, and was my first coach. The childhood had been full of physical activities. Sense of competition is another angle of my personality. Since the age of three, even at family level, we used to hold different sports’ competitions that kept us energized.

Q. How have your journey been all along to become international level swimmer?

Answer: Swimming is a challenging sport which requires perfect physical fitness to compete at any level. Due to non availability of more swimming pools for females in Pakistan, it was even tougher for me. At the age of 11, during 2011, I represented Pakistan at international level in 3rd World Islamic Games and it was an unforgettable moment when I won two gold medals and hoisted green Pakistani Flag fluttering high. Taking part in Olympics and representing Pakistan worldwide was a dream that has now come true. That was the beginning of a wonderful journey which continues to-date.

Q. How honoured did you feel when you were awarded with Tamgh-i-Imtiaz at the age of 19?

Answer: Throughout my career as a professional swimmer, many ups and downs came but I never left my ground. Receiving the award kiran3of Tamgh-i-Imtiaz was an honour for me and my family. This is the 4th biggest civil award and my nomination came as a surprise to me. But I thank my Allah for bestowing me with many successes. While receiving this award, I, for the first time felt that my hard work finally was recognized and acknowledged.

Q. You have been representing Pakistan Army at National Level. How has this experience been?

Answer: Since 2007 till date, I am representing Pak Army at national level and have won many medals. It is always hard work that pays off at the end. Armed Forces are defenders of the frontiers and it is an honour for me to remain associated with Pak Army. I have so far won 80-100 medals at national level after having joined Pakistan Army team. Even while swimming deep into water under the surface, I always think of bringing respect to Pakistan and spirit of Army keeps me going swifter.

Q. What have been your achievements in terms of medals at national and international level?

Answer: I have won 327 gold, 20 silver and 16 bronze at national level, whereas, at international level, seven gold, 22 silver and 22 bronze medals are on my credit.

Q. How did you maintain balance between studies, family and swimming?

Answer: Swimming is primarily related to the weather. Since I only swim in the season or before any major competition, therefore, it becomes easier to manage time for studies and family. As I live with my family so I don't have to make separate schedule for spending time at home.

Q. What exercises and diet will you recommend for the females to maintain physical fitness?

Answer: We have 1440 minutes in a day; and we only need minimum 30 minutes for exercise to stay healthy and fit. Exercise does not necessarily mean working out at gym. It can be any activity to include swimming, walk, yoga, cycling, badminton any sports of one's choice. To stay fit and healthy, one must keep themselves hydrated all the time with seasonal fresh juices, shakes and even simple water. We must eat more vegetables and should avoid junk food.

Every time you eat or drink, you are either feeding disease or fighting it.

Q. What are your future plans? And when are you planning to get married?

kiran4Answer: I have never planned anything, whatever comes in my way, I just do it. At the moment, I am working on fitness centres that I have opened for females and kids who are overweight and of short height. I have a whole team of doctors and coaches working day and night to assist and help our clients. My marriage is just another talk of town, I will cross the bridge once I will reach it. Although I love my status being single, but when the time comes, In-Sha-Allah I will do it.

Q. How can we promote swimming as a career in Pakistan for both males and females?

Answer: Swimming in Pakistan can only be promoted if arrangements for swimming pools and proper coaching are made available in educational institutions and residential areas. We should have swimming pools in schools where students can learn and improve their techniques simultaneously with studies. At national level, it can only be promoted if government provides appropriate sports’ facilities, at least in every big city with good coaching services.

Q. What message shall you give to the youth of Pakistan from the platform of Hilal magazine?

Answer: I believe that our new generation has bright future with more opportunities coming their way. My message to youth is to stay positive and never to give up.

If you were born in a rich family, that doesn't make you superior over others. Instead, God has given you extra responsibility to take care of those who are not as fortunate as you are.

14
July

منور سعید

Published in Hilal Urdu July 2015

منور سعید کو فلم نگری سے دور رکھنے کے لئے ان کے والد سید مسعود حسن نقوی نے بہت کوشش کی اور شرط عائد کی کہ پہلے ا نجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرو لیکن انجینئرنگ کی مشکل تعلیم بھی منور سعید کی ذات میں چھپے حقیقی فنکار کو دبا نہ سکی اور شوبز میں آ ہی گئے۔ منورسعید ایک خودرو پودے کی طرح ابھرے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے تناور درخت کی صورت اختیار کر گئے جس کی شاخیں ریڈیو، تھیٹر، ٹی وی اور فلم میں پھلی پھولیں۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے قصبہ امروہہ کی سادات بستی کا یہ نوجوان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ادبی ماحول میں پروان چڑھایا اور پاکستانی تفریحی صنعت کے آسمان پر پانچ دہائیوں سے روشن ستارے کی مانند درخشاں ہے۔ اس عظیم فنکار کی زندگی اورفنی کیرئیر کے حوالے سے ہلال کے قارئین کے لئے قاسم علی نے ایک خصوصی انٹرویو کیا جو حسب ذیل ہے۔

سوال: آپ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں ، بچپن کہاں گزرا، تعلیم کہاں مکمل کی ؟

جواب: میری پیدائش امروہہ ضلع مراد آباد ہے ۔ امروہہ اترپردیش (یوپی)کا ایک قصبہ ہے۔ سیدوں کی بستی ہے اورامروہہ سادات کے نام سے مشہور ہے۔ میںیکم جولائی انیس سو اکتالیس میں پیدا ہوا،ہم لوگ بھی سید ہیں، میں نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی پھر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ چلا گیا۔وہاں میں نے بی ایس سی تک پڑھا، پھر انیس سو ساٹھ میں پاکستان آگیا، یہاں آکر میں نے کراچی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سے انیس سو سڑسٹھ میں میری انجینئرنگ مکمل ہوئی ، پھر یہیں کالج میں مجھے آفر ہوئی اور میں پڑھانے لگا۔

سوال: فن اداکاری کو اتفاقیہ جوائن کیا یا باقاعدہ پلاننگ کے تحت اس فیلڈ کا حصہ بنے؟

جواب: میرے والدسید مسعود حسن نقوی بڑے پائے کے ایڈووکیٹ تھے اور اولاد پر ان کابہت رعب اور دبدبہ تھا لیکن بچپن سے میرا شوق اداکار بننا تھا، ابا نے شرط لگائی تھی کہ انجینئرنگ کرلو پھرجو جی چاہے کرتے رہنا، میں نے ان کی شرط پوری کردی، اس کے بعد میں نے یہ پروفیشن اپنالیا ۔

سوال: ابتدا ریڈیو سے ہوئی یا تھیٹر سے، ٹی وی پر کس نے متعارف کروایا؟

intmunawar1.jpgجواب: انیس سو ساٹھ میں جب ہم کراچی منتقل ہوئے توتعلیم کے ساتھ ساتھ میں نے ریڈیو جوائن کرلیا، ساتھ ہی میں خواجہ معین الدین کے گروپ ’’ڈرامہ گلڈ‘‘ سے منسلک ہوگیا۔ مرزا غالب بندر روڈ پر، تعلیم بالغاں، لال قلعے سے لالو کھیت اور وادی کشمیر جیسے ڈراموں میں کام کیا‘ پھر انیس سو سڑسٹھ میں کراچی میں ٹی وی آیا تو وہاں بھی کام شروع کردیا، ٹی وی پر میرا پہلا ڈرامہ’’مجرم‘‘ زمان علی خان نے پروڈیوس کیا تھاپھریہ سلسلہ چل نکلا۔ بے شمار ڈرامے کئے جن کو لاہور میں بھی لوگوں نے دیکھا، انیس سو ستر میں مجھے لاہور سے فلم کی آفر ہوئی، لقمان صاحب اور باری ملک صاحب کی پنجابی فلم تھی ’’ماں دا لال‘‘ جس کے ڈائریکٹر ایم جے رانا تھے ، جگدیش آنند کی فلم ’’صبح‘‘ کی بھی مجھے آفر ہوئی، لاہور منتقل ہونے کے بعد میں نے چاروں میڈیمز میں کام کیا جس میں فلم ، ٹی وی ، ریڈیو اور سٹیج شامل ہیں، میں تقریباً چالیس برس لاہور رہا ، جب فلم پر برا وقت آگیا اور پرائیویٹ پروڈکشنز شروع ہوئیں تو میں کراچی شفٹ ہوگیا ، اسی فیصد ڈرامے کراچی میں ہی بنتے ہیں‘ میں دو ہزار چھ سے کراچی میں ہوں۔

سوال: تحریک آزادی کے رہنما مولانا محمد علی جوہر کی ذات کو آپ نے ٹی وی کھیل ’’ آزادی کے مجرم‘‘ میں پیش کیا ، اس کردار کے لئے آپ نے کیا خاص تیاری کی تھی ؟

جواب: محمد علی جوہر صاحب کی والدہ امروہہ کی تھیں جہاں میں پیدا ہوا تھا اس حوالے سے ان کے خاندان کے لوگوں سے بھی میری کچھ ملاقاتیں رہیں، پھرعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بھی مولانا کا تعلق تھا۔ وہ ہم سے بہت سینئر تھے، میری پیدائش سے پہلے ان کا انتقا ل ہوچکا تھا لیکن ان کے بارے میں بہت پڑھا تو وہ چیز میرے بہت کام آئی۔

سوال: ہمارے ہاں قومی اہمیت یا ہیروز کی قربانیوں پر کھیل اب کیوں نہیں بنتے؟

ہمارے پروڈیوسرز کے دماغ میں یہ بات پھنس گئی ہے کہ وہ کام کرو جس سے ریٹنگ بڑھے ، چاہے جتنا بھی گھٹیا کام کیوں نہ ہو بس ریٹنگ بڑھ جائے ، لہٰذا آج کل جو ڈرامے بن رہے ہیں ان میں نوے فیصد وہ ہیں جن میں طلاقیں ہو رہی ہیں، ساس بہو کا جھگڑا چل رہا ہے، خواتین دیکھتی ہیں،سو اسی ڈگر کا کام ہورہا ہے

جواب: ہمارے پروڈیوسرز کے دماغ میں یہ بات پھنس گئی ہے کہ وہ کام کرو جس سے ریٹنگ بڑھے ، چاہے وہ گھٹیاترین کام ہی کیوں نہ ہو بس ریٹنگ بڑھ جائے ، لہٰذا آج کل جو ڈرامے بن رہے ہیں ان میں نوے فیصد وہ ہیں جن میں طلاقیں ہو رہی ہیں، ساس بہو کا جھگڑا چل رہا ہے، خواتین دیکھتی ہیں،سو اسی ڈگر کا کام ہورہا ہے حالانکہ موجودہ حالات میں حب الوطنی کے حامل ڈراموں کی اشد ضرورت ہے، سرکاری ٹی وی نے تو ہاتھ پاؤں چھوڑ دئیے ہیں ، وہاں پروڈیوسرز نے یہ سوچ لیا ہے کہ شاید پی ٹی وی دیکھتا ہی کوئی نہیں ہے حالانکہ یہ غلط ہے پی ٹی وی آج بھی پی ٹی وی ہی ہے وہ ہمیشہ نمبر ون ہی رہے گا لیکن آپ کچھ کرکے تو دیں۔

سوال: ہمارے فنکاروں کی سیکنڈ لائن کیوں نہیں بن سکی؟

جواب: فنکار دو قسم کے ہوتے ہیں ایک خود ساختہ اور دوسرا بے ساختہ،خود ساختہ جو ہوتے ہیں وہ انگریزی کے بڑے بڑے لفظ بول کے ، مشہور رائٹرز کے نام بول کر گفتگو کرتے ہیں اور ایک طرح سے دھواں اور گرداڑاتے ہیں لیکن یہ گرد کبھی نہ کبھی بیٹھتی ضرورہے، یہ ہمیشہ نہیں رہتی اور جب یہ گرد بیٹھ جاتی ہے تو پھر بے ساختہ فنکار کا چہرہ سامنے آتا ہے اور یہ چہرہ ہمیشہ سامنے رہتا ہے تو انشااللہ انڈسٹری پر پھیلی دھول بھی جلد بیٹھ جائے گی اور بے ساختہ فنکاروں کے چہرے سامنے آئیں گے جو انڈسٹری کو ترقی کی جانب لے کرجائیں گے۔

سوال: تھیٹر اور ریڈیو کا تجربہ ایک فنکار کی تکمیل کے لئے کتنا ضروری ہے ،؟

جواب: بہت ضروری ہے خاص طور پر تھیٹر کا تو بہت ضروری ہے، تھیٹر میں ری ٹیک نہیں ہوتے جو آپ نے کہہ دیا وہی حرف آخر ہے لہٰذا تھیٹر کے فنکار میں احساس ذمہ داری بہت ہوتا ہے،ریڈیو آرٹسٹ کو آواز کے اتار چڑھاؤ کا استعمال سکھا دیتا ہے۔

سوال: ہمارے ہاں ڈرامے بن تو رہے ہیں لیکن اچھے ڈراموں کی تعداد کم کیوں ہے؟

جواب: آج کل ڈراموں میں کوئی محنت نہیں ہوتی، نہ ریہرسلز کا رواج باقی ہے ، اب تو فنکار سکرپٹ کو پڑھنا بھی گوارا نہیں کرتے، سکرپٹ رکھا رہتا ہے اور وہ موبائل پر لگے رہتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک جملہ توڑ توڑ کر ریکارڈ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد جب جوڑ دیا جاتا ہے توسین میں وہ تسلسل نہیں آتا جو آنا چاہئے۔ اب ہماری عادتیں خراب ہیں، ہم آج بھی سکرپٹ مانگتے ہیں جب تک شوٹنگ جاری رہتی ہے، وہ سرہانے رکھا رہتا ہے اور روز رات کو سونے سے پہلے میں اس کو دیکھتا ہوں، اب محنت کا رواج ختم ہوگیا ہے۔ کوالٹی ختم ہوگئی صرف کوانٹٹی باقی ہے، سب پیسے کمارہے ہیں۔

سوال: آپ لوگوں کے پسندیدہ فنکار ہیں یہ بتائیں آپ کے اپنے پسندیدہ آرٹسٹ کون ہیں؟

جواب: دلیپ کمار سب کے فیورٹ رہے ہیں وہی میرے بھی فیورٹ ہیں ، میں ان سے بہت متاثر تھا ، ان کی فلمیں دیکھیں، ان کا کام دیکھا، میں نے کے این سنگھ کوبہت دیکھا ، پران کو دیکھالیکن آج تک میرے کام میں کسی کو ان لوگوں کی چھاپ نظر نہیں آئی، متاثر ہونا اچھی بات ہے لیکن نقل کرنا بری بات ہے۔ کسی کی جلائی ہوئی روشنی میں اپنے لئے راستے بنانے سے بہتر ہے کہ اپنی جلائی ہوئی شمع کی روشنی میں راستہ بنایا جائے تو یہ راستہ آپ کا اپنا ہوگا، کسی کی نقل کرنا آپ کو زندہ نہیں رکھ سکتا۔ اسی لئے مجھ پر آج تک یہ چھاپ نہیں لگی کہ میں دلیپ کے اندازمیں ایکٹنگ کر رہا ہوں یا کسی اور کو کاپی کررہاہوں ۔ میر ا اپنا انداز ہے۔ اچھا ہے یا برا لیکن میرا اپناہے۔

سوال: شاعری سے لگاؤہے؟ پسندیدہ شاعر کون ہے؟

جواب: میرے پسندیدہ شاعرجون ایلیا ہیں جو رشتے میں میرے چچا بھی تھے۔ میری بیوی کے سگے چچا اور میرے ابا کے سگے خالہ زاد بھائی اور میرا ان کے ساتھ بہت وقت گزرا ہے ، ویسے تو جو پرانے شاعر ہیں جیساکہ غالب، لاجواب ، جوش ملیح آبادی، لاجواب ، لیکن جوتاثیر جون ایلیا کے کلام میں ہے وہ کم ہی شعرا کو حاصل رہی ہے ، جون ایلیا کے ہاں آپ کو غالب، میرتقی میر ، فیض یا جوش نظر نہیں آئیں گے کیونکہ جون نے اپنی جلائی ہوئی شمع کی روشنی میں اپنا راستہ بنایا ۔

سوال: موسیقی سے کتنالگاؤہے ؟ پسندیدہ گلوکار کون ہیں؟

جواب: مجھے زیادہ تر کلاسیکل اور سیمی کلاسیکل پسند ہے ، فلم کے حوالے سے بات کریں تو مکیش ، محمد رفیع، لتا منگیشکر ، میڈم نور جہاں ، مہدی حسن ، احمد رشدی ، استاد بڑے غلام علی خان ، استاد امانت علی خان ، فتح علی خان ، حامد علی خان صاحب میرے پسندیدہ ہیں، نصرت فتح علی خان جینیئس تھے لیکن ان کی آوازخراب تھی ، میرے خیال میں وہ بہت بڑے کلاسیکل گائیک نہیں تھے۔ قوال فیملی سے تھے ، کلاسیکل کا تھوڑا بہت علم تھا لیکن وہ جینیئس فنکار تھے، انہوں نے اپنی قوالی کو جس انداز سے انگریزی موسیقی سے ملایا اس سے ان کی آواز امر ہوگئی ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کی آواز میں خامی تھی، ان کی آواز دبی ہوئی تھی‘ بحرحال وہ جینیئس فنکار تھے ۔ انہوں نے بہت نام بھی بنایا، استاد سلامت علی اور استاد نزاکت علی کو سامنے بیٹھ کر سنا ہے ۔ غلام علی کی عمر زیادہ ہوگئی لیکن وہ آج بھی بہت اچھا گاتے ہیں۔

سوال: آپ کے کتنے بچے ہیں اور وہ کیا کر رہے ہیں ؟

جواب: میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ میرا بڑا بیٹاظفر مسعود بڑے اچھے لیول کا بینکر رہا ہے وہ بارکلیز بینک کا ایم ڈی تھا اب اس نے بینک چھوڑ کر اپنی کمپنی بنالی ہے، چھوٹا بیٹابھی بینکر ہے وہ سٹی بینک میں ہے اور اس کی پوسٹنگ ان دنوں الجیریا میں ہے۔ تیسرے بیٹے کا نام علی مسعود سعید ہے وہ میرے نقش قد م پرچلتے ہوئے شوبز کا حصہ بناہے اور ڈائریکشن کررہا ہے۔بیٹی زینب امام سب سے چھوٹی ہے‘ وہ یونیورسٹی آف شکاگو سے ماسٹرز کر رہی ہے۔

سوال : آپ کو کون کون سے اعزاز مل چکے ہیں ؟

جواب: مجھے پاکستان کے تقریباً سبھی ایوارڈ ملے ہیں، مجھے جنر ل پرویز مشرف نے دو ہزار تین میں پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا، انہیں میں بہت پسند بھی کرتا ہوں کیونکہ وہ سچے آدمی ہیں۔بڑے فخر سے میں نے ایوارڈ لیا اور بڑے فخر سے میں نے گھر میں ان کی فوٹو بھی لگا رکھی ہے۔ مجھے نگار ایوارڈ ملا، مجھے گریجویٹ اور بولان ایوارڈ بھی ملے ہیں اور سب سے بڑھ کر عوام کا پیار ملا جس کا میں جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔

سوال: ملک کے موجودہ حالات خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟

جواب: میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس وقت ملک میں جو نظام ہے وہ کافی حد تک ناقص‘ کرپٹ او ر غیرمؤثر ہو چکا ہے۔ اگر نگاہیں اٹھتی ہیں تو صرف پاک فوج کی طرف، اور کسی طرف نہیں ۔۔۔ تو ہمیں ساری اُمیدیں فوج سے ہی وابستہ ہیں۔بس اللہ پاک جوانوں کو کامیابیاں عطا فرمائے، عزتوں سے نوازے، ہمیں آج اتحاد کی بہت ضرورت ہے۔ کچھ لوگوں نے تنقید اور خاص طور پر دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ ہمیں بات کرتے ہوئے اچھے اور برے کی تمیز اور ملکی مفادات کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔

کسی کی جلائی ہوئی روشنی میں اپنے لئے راستے بنانے سے بہتر ہے کہ اپنی جلائی ہوئی شمع کی روشنی میں راستہ بنایا جائے تو یہ راستہ آپ کا اپنا ہوگا، کسی کی نقل کرنا آپ کو زندہ نہیں رکھ سکتا۔

سوال: سرحدوں کے محافظ فوجی بھائیوں کے لئے کیا پیغام ہے؟

جواب: سرحدوں پر متعین ہمارے جوان قوم کے عظیم سپوت ہیں، یہ جاگتے ہیں تو ہم راتوں کو سکون کی نیند سوتے ہیں، ا للہ پاک ہمارے فوجی جوانوں، افسروں اور قیادت کو اپنی امان میں رکھیں اور کامیابیوں سے نوازے‘زلزلہ‘ سیلاب‘ آپریشن ضرب عضب ہرموقع پر ان کی قربانیاں قابل تقلید ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہماری فوج کا وقار ہمیشہ بلند رکھے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Follow Us On Twitter