11
February

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

تحریر: سیدہ شاہدہ شاہ

جہلم شہر سے راولپنڈی کی طرف بذریعہ سڑک آئیں تو جہلم شہر سے چند کلومیٹر دور ایک قصبہ کالاگوجراں آتا ہے۔ سڑک کے داہنے کنارے ایک اونچی سی بلڈنگ پر ایک بورڈ لگا ہوا ہے۔ جس پرجلی حروف میں لکھا ہے ’’کیپٹن معظم علی شہید ہسپتال۔‘‘جہلم شہر کی اس دھرتی پر وہ کڑیل جوان شہید معظم علی ابدی نیند سو رہا ہے۔ جو جب تک زندہ تھا تو سیاچن جیسے مشکل ترین اور سرد ترین محاذ پر دشمن کوناکوں چنے چبواتا رہا اور جب شہید ہوا تو دشمن نے وائرلیس پر اس پیغام سے شہید کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ آج ہم نے اس آہنی انسان کو ایچ ائی ٹی کر لیا جو ہمیں بے حد تنگ کئے ہوئے تھا۔

 

اس کہانی کے ہیرو کیپٹن معظم علی کی داستان کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب اس شہید کے والد ڈاکٹر میجریوسف اختر اپنی عسکری زندگی کے سلسلے میں اردن کے ایک شہر کرک میں تعینات تھے۔ ایک روز ڈاکٹر میجر یوسف کو اس کی ماموں زاد بہن کا خط ملا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ انہیں ملے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ میجر یوسف اختر کے گھر بیٹا پیدا ہو گا اس کا نام معظم علی رکھنا۔ چنانچہ 13اکتوبر 1972 کو میجر یوسف کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی اور خواب کی بشارت کے مطابق اُس کا نام معظم علی رکھا گیا۔ بچپن کی دنیا بڑی ہی سہانی بڑی ہی خوبصورت ہوتی ہے۔ نہ فکر فردا‘ نہ غم روزگار‘ بس ہنسنے کھیلنے کے مستقبل کے سہانے سپنے دیکھنے کی عمر ہوتی ہے۔ مگر معظم علی کا رحجان شروع سے ہی دوسرے بچوں سے مختلف تھا۔ اتنی چھوٹی عمر میں ہی ان کی خوبصورت آنکھوں نے فوجی بننے کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے تھے۔ ان کے دادا جو انجینئر تھے، ان کی بڑی خواہش تھی کہ ان کا یہ پیارا سا پوتا معظم علی بھی انجینئر بنے۔ مگر معظم علی نے اوائل عمری میں ہی اپنے آپ کو فوجی بننے کے لئے وقف کر دیا تھا۔ شہادت کا شوق لڑکپن سے ہی یوں بدرجہ اتم عود کر آیا تھا کہ پانچویں چھٹی میں ہی وہ اپنی کاپیوں پر جابجا علامہ اقبال کے اس شعر کو جلی حروف میں لکھا کرتے۔

 

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

shadathay.jpg

7اکتوبر 1990کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں جائن کی 15اکتوبر 1992 کو اپنی عسکری تربیت مکمل کر کے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور 35پنجاب رجمنٹ میں اپنے عسکری فرائض سرانجام دینے لگا۔ معظم علی کو بچپن سے ہی شہادت کا بڑا شوق تھا۔ شاید اس لئے کہ آنکھ کھولتے ہی معظم علی کو اپنے والدین کے ساتھ حضرت شعیب ؑ ، حضرت ہارونؑ ، حضرت زید بن حارثؓ، حضرت عبداﷲؓ اور حضرت جعفر طیارؓ کے مزارات پر حاضری کی سعادت حاصل ہوئی اور پھر جب ذرا ہوش سنبھالا اورسلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے مزار پر جب حاضری کا موقع ملا تو وہ بری معصومیت اور حیرت سے اس دربار کو دیکھ رہا تھا۔ ان تمام برگزیدہ ہستیوں کا ہی فیضان تھا کہ دس گیارہ سال کی عمر میں ہی وطن کی محبت کا جذبہ اس کی رگ رگ میں یوں سرایت کر گیا تھا کہ جب بھی پاکستان کا قومی ترانہ بجتا تو وہ پورے اہتمام سے مٹھیاں بند کر کے سیدھا ساکت کھڑا ہو جاتا خواہ کوئی اور کھڑا ہو یا نہ ہو۔ پاکستان سے محبت کی یہ انتہا ہی تھی کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی معمولی سی بھی بات نہیں سن سکتا تھا اور لڑنے مرنے پر آ جاتا تھا۔

 

آرمی جوائن کرنے کے بعد اس کی یونٹ سیاچن محاذ پر بھیج دی گئی۔ تمام دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سیاچن عسکری نقطہ نظر سے انتہائی خطرناک اور سردترین محاذ ہے۔ وہاں فوجی تو ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار ہوتے ہی رہتے ہیں مگر موسم سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے۔ جو بلاامتیاز ہر کس و ناکس کو نگلنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ سیاچن کی خطرناک پوسٹوں میں ایک پوسٹ تابش بھی ہے۔ پاکستان آرمی کی یہ پوسٹ تقریباً بیس ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے اور دشمن نے اس کو اپنی دو پوسٹوں اکبر اور رانا کے ذریعے جو کہ تابش پوسٹ سے بلند ہیں، گھیر رکھا ہے۔ حتیٰ کہ تابش پوسٹ سے بیس کیمپ کی طرف آنے کا راستہ بھی دشمن کی نظر میں ہے۔ معظم علی کو شہادت کی اتنی شدت سے تمنا تھی کہ جنوری 1995میں سیاہ چن سے جب معظم علی اپنی بڑی بہن اسماء کی شادی پر آیا تو اپنے آبائی گاؤں روہتاس میں دادا ابو کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بعد بہن کو ایک طرف لے کر سرگوشی سے کہا کہ باجی جب میں شہید ہو جاؤں تو مجھے دادا ابو کی قبر کے ساتھ دفن کروانا۔ ایک روز اپنی ماں سے بڑے لاڈ سے کہنے لگا۔ ماں، اﷲتعالیٰ ماؤں کی دعائیں ضرور قبول فرماتا ہے، میری شہادت کی دعا کرنا۔ شہادت کا یہ متوالا ایک روز جب اس کے ابو میجر یوسف اختر مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے، توکہنے لگا ابو میری شہادت کی دعا کریں۔ عملی زندگی میں کیپٹن معظم علی شہید ایک عظیم انسان تھا۔ سیاچن پر ہی ایک رات ایک سپاہی بیمار ہو گیا۔ اس کو آرام کرنے کے لئے خود رائفل پکڑ کر بطور سنتری ڈیوٹی دیتا رہا۔ شہادت کی شدت سے طلب اور سیاچن جہاں کی پوسٹنگ پر بڑے بڑوں کا پِتّہ پانی ہونے لگتا ہے،وہاں پر مستقل ڈٹے رہناکہ شہادت کی منزل پا لے، یہ دونوں وہ خواہشات تھیں جو معظم علی کی ترجیحات میں پہلے نمبر پر تھیں۔ تابش پوسٹ پر معظم علی کی ڈیوٹی کا عرصہ نومبر 1994میں پورا ہو چکا تھا اور وعدے کے مطابق اسے دوبارہ وہاں نہیں جانا تھا۔ مگر فروری 1995 میں سیاچن میں اپنی یونٹ میں چھٹی سے واپس جا کر پہلا کام اس نے یہ کیا کہ یونٹ کے سی او لیفٹیننٹ کرنل محمد محمود بٹ سے بہت اصرار کر کے اپنے آپ کو دوبارہ تابش پوسٹ پر تعینات کروا لیا۔ استفسار پر یہ بتایا کہ سچی بات یہ ہے کہ میرا دل یہاں سے کہیں اور جانے کو نہیں چاہتا۔ برف پوش پہاڑ اتنے بلند ہیں اور آسمان اتنا صاف اتنا نزدیک نظر آتا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ خدا بھی قریب بہت قریب ہے۔ اس ماحول میں اس فضا میں مجھے اتنی اپنائیت محسوس ہوتی ہے کہ شاید میری آرزو پوری ہو جائے مجھے شہادت نصیب ہو جائے۔

shadathay1.jpg

اور پھر وہ وقت آ ہی گیا جس کی آرزو بچپن سے ہی معظم علی کے دل میں مچل رہی تھی۔ 15مئی 1995کا وہ دن جب معظم علی ارض وطن کی حرمت کی خاطر برفیلے پہاڑوں کی بلندیوں پر وطن کے لئے قربان ہو گیا۔12مئی کو سیکٹر کمانڈر نے خبردار کیا کہ دشمن کا فائر آنے والا ہے۔ چنانچہ 14مئی کی صبح سے دشمن کا متوقع فائر آنا شروع ہو گیا۔معظم علی اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دشمن کی پوزیشن تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ 14مئی ہی کی شام دشمن نے فائر بند کر دیا۔ تمام وقت الرٹ رہنے اور فائر کروانے سے معظم علی کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ صبح سے کھایا پیا بھی کچھ نہ تھا۔ رات کو میجر افتخار کا فون آیا کہ صبح دشمن کا فائر پھر آئے گا، الرٹ رہیں۔ پندرہ مئی کی صبح طلوع ہوئی تو دس اور گیارہ بجے کی درمیان متوقع فائر آنے لگا۔ گیارہ بجے کے قریب معظم اپنے بنکر سے نکل کر بائیں ہاتھ گیا جدھر گن تھی۔ کچھ ہی دیر بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ دشمن نے راکٹ فائر کیا تھا۔ معظم علی شہید ہو چکا تھا۔ دایاں بازوں کندھے سے ذرا نیچے اڑ گیا تھا۔ پیٹ اور سینے پر ان گنت زخم تھے اور دونوں ٹانگیں گھٹنوں سے ذرا نیچے چور چور ہو چکی تھیں۔ اس طرح 15مئی 1995 کو دن گیارہ بج کر دو منٹ پر شہادت کی تلاش کا وہ سفر ختم ہو گیا جو 13اکتوبر 1972 رات نو بجے اس شہید نے اس دنیا میں آ کر شروع کیا تھا۔ شہید کا جسد خاکی جب جہلم لایا گیا تو جہلم گیریژن کے آفیسرز کے علاوہ پنڈی سے بہت سارے آفیسرز تشریف لائے جن میں کئی جنرل صاحبان بھی شامل تھے۔ ایک خلقت تھی جو نوجوان شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے آئی تھی۔ ان میں ایک ایسا بوڑھا بھی تھا جو تابوت کے قریب کھڑا حسرت سے کہہ رہا تھا۔ ’’بیٹے جب تم رسول پاکﷺ کے سامنے جاؤ تو میرا بھی سلام کہنا‘‘ اور پھر وہ رو پڑا اور کہا ’’پتر تیری عمر مرنے کی نہیں تھی۔‘‘

 

شہادت کے دس دن بعد اس کے بھائی ہارون کو خواب میں معظم علی نظر آیا تو بھائی نے پوچھا سناؤ بھائی معظم اس دنیا سے جانے کے بعد تجھ پر کیا بیتی۔ معظم نے جواب دیا کہ شہید ہو کر جب وہ اﷲ کے حضور پہنچا تو وہاں حضرت امام حسینؓ نے اسے شربت کا پیالا دیا اور حضرت فاطمہؓ نے اسے کہا کہ یہ لو خزانے کی چابیاں۔ دو سال قبل شہید کے والدکو ان کے ایک دوست ملے جنہوں نے بڑے وثوق سے انہیں یہ بتایا کہ وہ حج کے لئے گئے تھے تو وہاں معظم علی نے اس کے ساتھ حج کیا ہے۔

 

شہادت سے کچھ دن پہلے شہید معظم علی نے اپنے والد میجر (ر) یوسف اختر سے کہا کہ جب میں شہید ہو جاؤں تو میرے جو واجبات ملیں ان کو کسی ایسے کام میں خرچ کریں جو صدقہ جاریہ ہو۔ چنانچہ ان کے واجبات جو کہ ساڑھے آٹھ لاکھ بنتے تھے، ان سے الصادق میموریل کے نام سے ایک ٹرسٹ کا آغاز کیا گیا جہاں خواتین کو سلائی کڑھائی اور دیگر فنون دستکاری سکھائے جاتے ہیں۔

یوں تقریباً بائیس سالہ معظم علی شہید عہد شباب میں شہداء کے اس قافلے کا راہرو بن گیا جن کی منزلیں کہکشاؤں کے دیس میں نیلے آسمانوں کے اس پار ہوا کرتی ہیں جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

 
 
20
February

وہ جو راہِ حق کے مسافر ہوئے

میجر طیب عزیز شہید کی اہلیہ محترمہ عائشہ طیب کے قلم سے ہلال کے لئے خصوصی تحریر

طیب شہید کا رتبہ بلند‘ اُن کا مقام اعلیٰ ہے یہی ایک سوچ ہے جو ہمیں حوصلہ دیتی ہے کہ آنسو نہ بہائیں۔ یہی وجہ تھی کہ شہادت پہ نہ کسی کو بین کرنے دیا اور نہ زور سے رونے دیا کہ یہ رتبہ ہر کسی کا مقدر نہیں۔ اسی سوچ نے ہر مشکل گھڑی میں کھڑے رہنے اور ہمت نہ ہارنے کا حوصلہ دیا۔ ہر لمحہ جب اُن کی اشد ضرورت محسوس ہوئی تو اسی جذبے سے دل کی ڈھارس بندھی کہ ہم شہدا ء کے وارث ہیں۔

26 ستمبر2008 جمعۃ المبارک اور ماہِ رمضان عام لوگوں کے لئے محض ایک تاریخ ہے جو آئی اور گزر گئی‘ مگرہمارے لئے اس کے معانی بہت کٹھن اور انمٹ ہیں کہ یہ ایسا دن اور ایسی تاریخ ثابت ہوئی جس نے ہمارے زندگی کا رُخ ہی موڑ دیا۔ میرے لئے 26ستمبر عام دن نہیں۔ یہ وہ دن ہے جس دن میرے ہم سفر طیب نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی شہادت برحق ہے وہ تو اس عظیم مرتبے پرفائز ہو گئے کہ ہم اُن کی شہادت پررشک کرتے ہیں۔ لیکن آنکھ کا اشک بار ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ان کی شہادت بھی ایک حقیقت ہے مگر اس دل کا کیا کیجئے جو مانتا ہی نہیں کہ ہم اس ہستی سے محروم ہوگئے ہیں جو انتہائی شفیق‘ ملنسار اور پیار کرنے والی تھی۔ فاطمہ اورعنائیہ ( وہ بیٹی جو دنیا میں اُن کی شہادت کے بعد آئی) نہیں جانتیں کہ باپ کی شفقت کسے کہتے ہیں اور باپ کیسا ہوتا ہے۔ اُن کے وہم و گمان میں بھی وہ الفت نہ ہوگی جو باپ اپنی بیٹیوں سے کرتے ہیں۔ مگر نہیں ان کا باپ زندہ ہے کہ وہ شہید ہے۔ ہمیں شعور بھلے نہ ہو‘ مگر حق یہی ہے کہ وہ امر ہے۔

ترجمہ: اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کا شعور نہیں۔

(سورۃ البقرہ آیت 154)

طیب عزیز اپنے نام کی تفسیر اور اپنوں کا عزیز اور پیارا تھا اور ہمیشہ رہے گا۔

طیب 12مارچ1977 کو باغ آزاد کشمیر کے ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد کرنل محمد عزیز خان بھی ایک فوجی افسر تھے جو اُن کے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے‘ ہر فوجی گھرانے کی روایت کی طرح اُن کے بڑے (مرحوم) بھائی کی شدید خواہش تھی کہ طیب بھی آرمی آفیسر بنیں۔ طیب نے بھی انتہائی جانفشانی اور محنت سے اُن کی اس آرزو کو پورا کرنے کے لئے دن رات محنت کی اور برن ہال سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدPMA کے لئے منتخب ہو گئے۔پاسنگ آؤٹ کا دن والدہ اور گھر والوں کے لئے باعثِ فخر تھا۔ طیب نے پاس آؤٹ ہونے کے بعد اپنے والد کی پیروی کرتے ہوئے اُن کی یونٹ 10 اے کے رجمنٹ جوائن کی جو اُن ایام میں بجوات سیکٹر میں تعینات تھی۔ اُن دنوں دشمن کے تیور کافی بگڑے ہوئے تھے اور گولہ باری روزانہ کا معمول تھا۔ یوں آغاز سے ہی وہ معرکہ حق و باطل میں حصہ دار بنے اور اپنی یونٹ کے ساتھ دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔

فاطمہ اورعنائیہ ( وہ بیٹی جو دنیا میں اُن کی شہادت کے بعد آئی) نہیں جانتیں کہ باپ کی شفقت کسے کہتے ہیں اور باپ کیسا ہوتا ہے۔ اُن کے وہم و گمان میں بھی وہ الفت نہ ہوگی جو باپ اپنی بیٹیوں سے کرتے ہیں۔ مگر نہیں ان کا باپ زندہ ہے کہ وہ شہید ہے۔ ہمیں شعور بھلے نہ ہو‘ مگر حق یہی ہے کہ وہ امر ہے۔

اپنی عسکری زندگی کے شروع سے ہی طیب انتہائی جاں فشانی سے اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں مصروف رہے۔ 2004 تک اپنی یونٹ کے ساتھ پنوں عاقل میں بھی رہے۔ بعد ازاں 2 سال کی مدت کے لئے یو این مشن کے ساتھ لائبیریا میں تعینات رہے۔ اسی دوران اکتوبر2005 میں جب قیامت خیززلزلہ آیا تو آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے کی بناء پر رخصت پر واپس آئے۔ ان دنوں 10 اے کے رجمنٹ ریلیف ورک کا حصہ تھی۔ چنانچہ طیب نے بھی امدادی کارروائیوں میں دن رات ایک کرکے اپنے لوگوں سے تعلق کا حق صحیح معنوں میں ادا کیا جس کا ثبوت اُن کی شہادت پر اُن تمام دور دراز کے رہائشی لوگوں کا اجتماع تھا جو اپنے سپوت کو آخری نذرانہ پیش کرنے اور اُن کا آخری دیدار کرنے کے لئے اُن کا جسدِ خاکی باغ پہنچنے سے پہلے موجود تھے۔

یواین سے واپسی کے بعد2006 میں ان کی پوسٹنگ سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کوئٹہ میں بطورِ انسٹرکٹر ہوئی۔ جہاں سے ان کو اکتوبر2007 میں یونٹ کے ساتھ بنوں پوسٹ کیا گیا جو اُن کے فوجی کیریئر کی آخری پوسٹنگ ثابت ہوئی۔ وہیں سے باجوڑ آپریشن کے لئے روانہ ہوئے اور ایسے گئے کہ جامِ شہادت نوش کرکے ہی پلٹے۔ باجوڑ میں لوئی سم وہ مقام ہے جہاں انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس مقام پر اُن سے منسوب ایک چیک پوسٹ ہے۔ جس دن سے طیب باجوڑ کے لئے بنوں سے روانہ ہوئے اُس دن سے کسی لمحہ قرار نہ تھا۔ ہر رات اُن کی خیریت کے فون کا انتظار اور پھر فون کے بعد چند لمحوں کا قرار اور پھر سارا دن اگلی کال کا انتظار جو بالآخر26 ستمبر2008 بمطابق 25رمضان المبارک کے افطار سے کچھ دیر پہلے اُن کی شہادت کی اطلاع پر اختتام پذیر ہوا۔

طیب شہید کا رتبہ بلند‘ اُن کا مقام اعلیٰ ہے یہی ایک سوچ ہے جو ہمیں حوصلہ دیتی ہے کہ آنسو نہ بہائیں۔ یہی وجہ تھی کہ شہادت پہ نہ کسی کو بین کرنے دیا اور نہ زور سے رونے دیا کہ یہ رتبہ ہر کسی کا مقدر نہیں۔ اسی سوچ نے ہر مشکل گھڑی میں کھڑے رہنے اور ہمت نہ ہارنے کا حوصلہ دیا۔ ہر لمحہ جب اُن کی اشد ضرورت محسوس ہوئی تو اسی جذبے سے دل کی ڈھارس بندھی کہ ہم شہدا ء کے وارث ہیں اور یہ رتبہ بھی متقاضی ہے کہ ہم اپنے شہید کی طرح اُن مسائل اور مشکلات کے آگے ڈٹ جائیں جیسے وہ دشمنوں کے آگے سینہ سپر ہوئے۔ طیب کی شہادت کے بعد2010 میں انہیں حکومت کی طرف سے ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔ جو ہم سب کے لئے عزت و وقار کا باعث ہے۔

بیٹے کی یاد میں

میجر خالد شہید کی اہلیہ محترمہ عطیہ خالد کی پشاور کے شہداء کے لئے ایک نظم

دیکھ کے خالی بچپن کا وہ جھولا تیرا

چھو کے ہر ایک ایک کھلونا تیرا

بیتے حسین لمحوں کو یاد کرتی ہے

کہ تیری یاد مجھے سرشار کرتی ہے

گرنا وہ اٹھا کے پہلے قدم کا تیرا

ماں کہہ کر پکارنا وہ ہردم تیرا

ماں تجھے یاد کرتی ہے

تو کہیں سے آ جائے فریاد کرتی ہے

بستہ‘ یونیفارم اور وہ لنچ بکس تیرا

ہر دم دکھائی دیتا ہے مجھے عکس تیرا

انجینئر بن کے خدمت کرنے کا وہ عزم تیرا

مگر چھوڑ کے یوں چلے جانا وہ بزم تیرا

لمحہ لمحہ وہ دن یاد کرتی ہے

توکہیں سے آ جائے یہ فریاد کرتی ہے

رائیگاں نہ جائے خون کا کوئی قطرہ تیرا

عطیۂ خداوندی ہے شہادت کا رتبہ تیرا

قوم کی حیات کہہ کے تجھے یاد کرتی ہے

کہ تیری یاد مجھے سرشار کرتی ہے

ماں تجھے یاد کرتی ہے

تو کہیں سے آ جائے فریاد کرتی ہے

11
January

پاک مٹی کے عظیم بیٹے

Published in Hilal Urdu

تحریر: عبد الستار اعوان

1971 کی جنگ میں مشرقی پاکستان کے محاذ پر شہادت کا رتبہ پانے والے کیپٹن ایزد امتیاز علی شہید(ستارۂ ہ جرأت) کے بارے میں ایک تحریر

سانحہ مشرقی پاکستان ہماری تاریخ کا ایک المناک پہلو ہے، تاہم ہمیں اپنی افواج کے اُن لاتعداد شہداء، غازیوں اور ہیروز کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے اپنے لہو سے چراغ روشن کرکے مشرقی پاکستان میں پھیلے اندھیرے کو ختم کرنے کی جدوجہد میں اپنی جانیں نچھاور کردیں۔ جن قومی ہیروز نے اس موقع پرغیر معمولی جرأت، استقامت اوربہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دھرتی کی حفاظت کا فرض اداکیا ان میں ایک نام کیپٹن ایزد امتیاز علی( شہید) کا بھی ہے۔


کیپٹن ایزد امتیاز علی شہید 1946ء میں شیخ امتیاز علی (مرحوم)کے ہاں بھیرہ ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ملٹری کالج جہلم سے ایف ایس سی کرنے کے بعد آئی ایس ایس بی کے امتحان میں کامیاب ہوکر2فروری 1968ء کو فوج میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں فوجی تربیت حاصل کی۔ پی ایم اے کاکول سے پیراٹروپر کا خصوصی کورس بھی کیا۔ پاسنگ آؤٹ کے بعد کیپٹن ایزدامتیاز علی کی تعیناتی انفینٹری کی ایک یونٹ 6پنجاب میں ہوئی۔ شہید کے ماموں اور معروف علمی و فکری شخصیت محمدسمیع اللہ (سابق وفاقی سیکرٹری) بتا رہے تھے کہ آپ بہت خوبصورت جوان تھے۔گورا رنگ، چھ فٹ سے نکلتا قد، نیلی آنکھیں،غرض آپ بہت خوش وضع اور وجیہہ شخصیت کے مالک تھے۔جب ہم ان کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر پی ایم اے کاکول گئے تو دیکھا کہ ان کی اسی بارعب شخصیت کی بناپر انہیں سب سے آگے کھڑا کیا گیا تھا۔

pakmitika.jpgمشرقی پاکستان میں جب انڈیا کی بھرپور مداخلت سے بغاوت کی آگ بھڑکنے لگی تووطن عزیز کے عوام کی طرح اس فوجی افسر کادل بھی آگ بگولہ ہو کر رہ گیا اور انہوں نے اس موقع پر غیر معمولی بہادر ی اور حب الوطنی کامظاہرہ کرتے ہوئے خود کو رضاکارانہ طورپر پیش کر دیا کہ وہ ہر صورت اپنے وطن کو مستحکم اور متحد دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ کی یونٹ6پنجاب رجمنٹ نے چونکہ اس جنگ میں باقاعدہ حصہ نہیں لیا تھا لہٰذا آپ نے اپنا نام اس بٹالین میں لکھوا دیا جو مشرقی پاکستان جا رہی تھی، یوں انہیں ان کی رضا کارانہ پیشکش کے تحت اپریل1971ء میں مشرقی پاکستان کے دفاع کے لئے بھیج دیا گیا۔ کیپٹن ایزد امتیاز علی نے اس علاقے میں پہنچ کر خداداد صلاحیتوں اور فطری بہادری کو کام میں لاتے ہوئے اپنے وطن کو متحد رکھنے کے لئے ایک خوفناک جنگ کا سامنا کیا او راپنے لہو کے آخری قطرے تک دشمن سے برسرپیکاررہے۔


21اور22نومبر71ء کی درمیانی شب ان کی بٹالین کوجیسو ر سیکٹر کے دفاع کاٹاسک سونپا گیا۔ ان کی بہادر بٹالین نے 23نومبرکو یہ ٹاسک مکمل کیا اور دشمن کے کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پرتیار ہو گئی۔ اسی محاذپر2دسمبر کو دشمن نے بڑاحملہ کیا اور پلاٹون کمانڈر کیپٹن ایزد امتیاز علی نے اپنے ساتھیوں سمیت دشمن کی کثیر تعداد‘ جو ٹینکوں، توپوں اور بھاری اسلحہ سے لیس تھی، کا بڑی ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس سے اگلے روز دشمن نے اس پلاٹون کو سخت ترین فضائی حملوں سے نشانہ بنایا جس سے پلاٹون کی آر آرگن تباہ ہو گئی۔اسی معرکے کے دوران کیپٹن ایزد امتیاز علی لاپتا ہوگئے اور چند روز بعد ان کی شہادت کی مصدقہ خبرملی۔ آپ نے جیسو ر سیکٹر میں پلاٹون کمانڈر کی حیثیت سے اس سرزمین کی خاطر اپنی جان قربان کی۔


آپ تقریباً چھ ماہ تک مشرقی پاکستان محاذ پر فرائض انجام دیتے رہے۔ اس دوران دو تین دن کے لئے گھر چھٹی آئے اور انہوں نے اہلِ خانہ کو مشرقی پاکستان کے خوفناک حالات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گو ہر طرف مایوسی کے اندھیرے ہیں لیکن میں انشاء اللہ اپنی دھرتی کے دفاع کی جنگ اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا۔


ان کے ماموں اور بھائی بتاتے ہیں آپ کو شہادت کا اس قدر شوق تھا کہ اکثر وہ ذاتی ڈائری پر اپنے نام کے ساتھ ’’شہید‘‘اور ’’ستارہ جرأت‘‘جیسے الفاظ لکھا کرتے۔ شہید کے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔اسجد امتیاز اور سعد امتیاز حیات ہیں جبکہ والد اور بڑے بھائی عابد امتیازجوپولیس میں ایس ایس پی تھے، وفات پا چکے ہیں۔کیپٹن ایزد امتیاز علی شہید کا گھرانہ اور ان کا خاندان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ شہید کے ماموں ، بہن بھائی اور ان کا خاندان اس بات پر فخر محسوس کرتا ہے کہ ان کے فرزند نے سرزمین وطن کے دفاع کی خاطر اپنی خوبصورت جوانی ایک خوفناک جنگ کی نذرکرتے ہوئے اپنے عہد کے مطابق اپنی جان قربان کر دی۔پاک فوج کے اس بہادر افسر کی بے مثال جرأتِ رندانہ کو سراہتے ہوئے انہیں بعد از شہادت ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
14
March

قافلۂ جاں نثارانِ وطن کے دو مسافر

Published in Hilal Urdu March

تحریر: کیپٹن عدیل شہزاد

نائیک غلام مصطفی (شہید) اور لانس نائیک احسان اﷲ

(شہید)

وطن پاک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ پاک فوج کا ایمان ہے۔ اپنی دھرتی کی خاطر جان قربان کردینا ہمارے سپاہیوں کا فخر‘ قوم کا وقار اور نسلوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ وطن کی پاک مٹی کی قسم کھانے والے یہ عظیم سپوت اپنے لہو سے فرض شناسی‘ بہادری اور عزم و ہمت کی اِک نئی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ یہ جون 2009کی بات ہے کہ جب پاک فوج راہِ نجات اور راہِ راست کی صورت میں انسانیت کے دشمنوں پر قہرِ ذوالجلال بن کر ٹوٹی تھی۔ جب ہر محاذ پر دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی خاطر اس جنگ کا رُخ شہروں اور معصوم لوگوں کی طرف کردیا۔یوں دشمن کے نزدیک اپنے جسم سے بارود باندھ کر باجماعت نماز میں اپنے آپ کو اڑا دینا عین شریعت اور جہادقرار پایا۔ ان دھماکوں اور خود کش حملوں سے ملک کا کوئی کونہ محفوظ نہ رہا۔

 

26 جون2009 کی رات ایک بجے 10 گاڑیوں اور تقریباً 150 جوانوں کی نفری پر مشتمل پاک فوج کا قافلہ مظفر آباد پہنچا اور سفر کی تھکان سے چور جسموں کو نیند کی مہربان وادی نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ رات کے آخری پہر نے طلوعِ آفتاب کی نوید سنائی اور بادلوں کی سفید چادر میں چھپے چاند نے اُفق کو خیرباد کہا۔ صبح سویرے ملگجے اندھیرے اور دھند کی سفید چادر کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دو دہشت گردعقبی دیوار پھلانگ کر بیرک سے متصل ٹریننگ گراؤنڈ میں داخل ہوئے۔ ان کا ہدف ٹریننگ گراؤنڈ میں تربیتی کارروائیوں میں مشغول فوجی جوان تھے جو اس دن جمعہ کی وجہ سے قرآن خوانی میں مصروف تھے۔ اپنا ہدف نہ پاکر دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر بیرک کی طرف بڑھنے لگے جہاں تقریباً ڈیڑھ سو فوجی جوان موجود تھے۔

qaflaejansar.jpg

پینتیس سالہ نائیک غلام مصطفی جب فجر کی نماز ادا کرکے واپس آرہا تھا تو کشمیر کی یخ بستہ ہواؤں نے اُسے شہادت کی نوید سنا دی۔ رب ذوالجلال سے ملاقات کی اُمید نے اس کی روح کو بے قرار کردیا۔ یکایک اُس کی چھٹی حس نے بیرک کی طرف بڑھتے دہشت گردوں کی طرف اس کی توجہ مبذول کی۔ منز لِ مقصود کو اس قدر قریب پا کر اس کی تشنہ رُوح میں بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ نائیک غلام مصطفی نے ڈیوٹی پر کھڑے سنتری لانس نائیک احسان اﷲ کو الرٹ کیا اور مشکوک افراد کو رُکنے کا حکم دیا۔ آواز سُن کر دہشت گرد بوکھلا گئے اور بیرک کی طرف دوڑ لگادی۔ خطرے کی بو پاتے ہی اس شیر کی تمام حسیات چوکس ہوگئیں اور وہ ایک ہی جست میں بھاگتے دہشت گرد پر جھپٹا اور آن کی آن میں اُسے زمین پر گرا دیا۔ وقت اور فاصلے کی کمی کے پیش نظر لانس نائیک احسان اﷲ کو فائر کرنے کی بھی مہلت نہ ملی۔ صورت حال کی نزاکت بھانپتے ہوئے اس نے حاضر دماغی کا ثبوت دیا اور دوسرے دہشت گرد کو دبوچ لیا۔ حق و باطل کی اس جنگ کا دورانیہ کم و بیش دس منٹ پر محیط تھا۔ مگر یہ لمحے نائیک غلام مصطفی کو اس کی مکمل حیات پر بھاری محسوس ہوئے۔ جب دہشت گردوں کو ان دلیروں کی آہنی گرفت سے راہِ فرار نہ ملی تو انہوں نے وہیں اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ مظفرآباد کی خاموش فضا میں ایک بھونچال آگیا اور زمین دھماکے کی شدت سے لرز اٹھی۔نائیک غلام مصطفی اور لانس نائیک احسان اﷲ نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر کئی ماؤں کی گودوں کو اُجڑنے سے بچا لیا اور زخموں اور چوٹوں سے چھلنی جسموں نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔

 

شجاعت اور بہادری کے اس عظیم کارنامے کے اعتراف میں پاک فوج نے انہیں تمغۂ بسالت سے نوازا اور پورے فوجی اعزاز سے آبائی گاؤں ڈسکہ میں سپردِخاک کیا گیا۔ سیالکوٹ کی زرخیز مٹی جسے ارضِ پاک کی آبیاری لہو سے کرنے کی عادت ہے وہاں ایک خاکی تن شہادت سے ہمکنار ہو کر منوں مٹی تلے ابدی نیند جاسویا۔ شہید غلام مصطفیٰ کی قبر پر نصب کتبے پر یہ عبارت آج بھی نقش ہے۔

خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب

ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

جبکہ لانس نائیک احسان اﷲ کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ اُن کے آبائی علاقے گجرات میں سپردِ خاک کیا گیا۔
 

Follow Us On Twitter