14
October

ہے شوق شہادت کس قدر۔۔۔

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

(پاکستان نیوی)

چھ ستمبر 2014 کو جب دشمن نے اس ملک کے یوم دفاع پر اس قوم کی غیرت کو للکارا تو وہ شاید یہ بھول گیا تھا کہ یہ دن تو خود اس قوم کے آہنی عزم اورشجاعت کامنہ بولتا ثبوت ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس وطن کے بہادر سپاہی دشمن کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو نے دیں گے۔ چھ ستمبر کی صبح جب دہشت گردوں نے پاکستان نیوی ڈاک یارڈ پرحملہ کرنے کی کوشش کی تو محمدارشاد ایس این اے 4 پیٹی آفیسر آف دی ڈے کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہیں جوں ہی دہشت گردوں کی موجودگی کا علم ہو ا انہوں نے افسران بالا کو مطلع کرنے کے ساتھ ساتھ فوری طور پرڈیوٹی پر موجود تمام عملے کو ہدایات دینے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ انہوں نے کمال فرض شناسی اور چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بذات خود ہر سنتری کو ہدایات دیں اورجہاں جہاں ممکن تھا خود جا کر صورت حال کا معائنہ کرتے رہے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پوری ہمت اور دلیری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے ہوئے انہوں نے ایسی حکمتِ عملی اپنائی کہ دشمن کو زیادہ حرکت کا موقع نہ ملے اور وہ ڈاک یارڈ کے اہم حصوں کی طرف پیش قدمی نہ کرپائے۔دشمن کی طرف سے گولیاں اور ہینڈ گرینیڈ فائر ہونے کے باوجود محمد ارشاد اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کرتے رہے کیونکہ دشمن کا کوئی بھی ہتھیار ان کے عزم سے زیادہ طاقتور نہیں تھا۔ان کے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کی بدولت دہشت گرد ایک جگہ محصور ہو کر رہ گئے اوروہ جس بڑی تباہی کے عزم سے آئے تھے‘ اس کے بجائے مدافعانہ حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو گئے تاہم انہیں صرف حصار میں لے لینا کافی نہیں تھا ۔دہشت گردوں کی جانب سے اب بھی فائرنگ جاری تھی۔اپنے فرض کے احساس اورقومی اثاثوں کے تحفظ کی خاطر محمد ارشاد نے دشمن کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے عزم سے اب جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ دشمن کی جانب سے برستی گولیاں ان کے راستے کی دیوار بن سکیں نہ ہی ہینڈ گرینیڈ ان کے بڑھتے قدم روک سکے ۔وہ آگے بڑھتے رہے اور اپنے ساتھیوں کی ہمت بندھاتے رہے۔ ان کے الفاظ اور بلند حوصلہ ان کے ساتھیوں کا خون گرماتے رہے اور وہ وطن عزیز کی حرمت کی خاطر ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ دشمن کی کمین گاہ تک جا پہنچے اور اسی دوران دشمن کی ایک گولی ان کے سر اور دوسری ان کی گردن کو نشانہ بنا گئی لیکن اپنی آخری سانس تک اس ملک کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے محمد ارشاد نے اپنا عہد نبھایا اور اس وقت تک اپنے ساتھیوں کو ہدایات دیتے رہے جب تک ان کے جسم میں زندگی کی آخری رمق باقی رہی۔ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گر گئے اور دوبارہ اٹھ نہ سکے لیکن ان کی اپنی ڈیوٹی سے لگن اور فرض شناسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس ہینڈ ہیلڈ ریڈیو پر وہ اپنے ساتھیوں کو ہدایات دے رہے تھے شہادت کے بعد بھی وہ ریڈیو ان کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔ریڈیو پر ان کے ہاتھ کی مضبوط گرفت اس مصمم ارادے اور عزم کا ثبوت تھی جس کی بدولت انہوں نے اپنی جان قربان کر دی لیکن دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام کر دیا۔ان کے جرأت مندانہ اقدامات اور بہترین حکمت عملی کی بدولت آپریشن کرنے والی ٹیم نے بہت جلد دہشت گردوں پر قابو پا لیا اور تمام دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا کرقومی اثاثوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچنے دیا۔

hayshadat.jpgمحمد ارشاد مری کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔7 جنوری1975 کو پیدا ہونے والے محمد ارشادچار بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے لیکن بڑا بیٹا ہونے کے ناتے ہمیشہ اپنے والدین کے لئے سہارا بنے۔ والد کی ملازمت کے باعث ان کی غیر موجودگی میں محمد ارشاد نے ہمیشہ ایک ذمہ دار بیٹے کی حیثیت سے نہ صرف اپنی والدہ کا ساتھ دیا بلکہ اپنے بہن بھائیوں کے لئے بھی شفیق بھائی کا کردار ادا کیا۔ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جو محبت ،رواداری اور حسن اخلاق ان کی شخصیت کا حصہ تھا‘ اس کی بدولت وہ اپنے اقربا ء میں بے حد مقبول تھے۔ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں گھر کے ایسے سربراہ تھے جن کے بغیر گھر کا تصور ہی محال تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شفقت اور تربیت ان کے بچوں کی شخصیت میں نظر آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ان کا بیٹا ابھی بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے خواب اس کے والد کی طرح بہت بڑے اور ارادے بلند ہیں وہ اس ملک کے ان محافظوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوانے کا خواہاں ہے جن کی عظمت کی داستانیں اس خطے میں نسلوں تک دہرائی جاتی رہیں گی۔


محمد ارشاد کے کمانڈنگ آفیسرکیپٹن ہاشم رضا کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ ایک انتہائی محنتی اور قابل ٹیم ممبر تھے۔ اُن کے مطابق محمد ارشاد پاک بحریہ کے ہر آفیسر اور سیلر کے لئے عزم و ہمت اور فرض شناسی کی ایک زندہ مثال ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ محمد ارشاد کا ذکر ہر نئے آنے والے سیلر اور آفیسر کے سامنے ضرور کرتے ہیں تاکہ ان کی شخصیت میں بھی وہ اوصاف پیدا ہوں جن کی بدولت محمد ارشاد نے اس ملک کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوایا۔۔بحری جہازوں پر موجود کیبن ہمیشہ ایک جیسے نمبروں سے پہچانے جاتے ہیں تاہم محمد ارشاد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پاک بحریہ کے ایک جہاز پرسیلر ڈائیننگ ہال کا نام محمد ارشاد شہید کے نام پر رکھا گیا ہے تاکہ اس جہاز پر آنے والے ہر سیلر کے سامنے محمد ارشاد کی شجاعت کی مثال ہمیشہ موجود رہے۔


لیفٹیننٹ کمانڈر عاطف جو محمد ارشاد کے ڈویژنل آفیسر بھی رہے‘ کہتے ہیں کہ محمد ارشاد ان لوگوں میں سے تھے جو اپنے جونیئرز کے لئے ایک قابل تقلید مثال بن کر کام کرتے ہیں۔محمد ارشاد کبھی اپنے جونیئرز کے ساتھ مل کر کام کرنے سے کتراتے نہیں تھے،ان کے اند ر سیکھنے اور کچھ نیا کر دکھانے کا ایک ایسا جذبہ تھا جو انہیں کہیں رکنے نہ دیتا ۔ وہ ہمیشہ نئے افق کی تلاش میں سرگرداں رہتے اور خوب سے خوب تر کرنے کی جستجو رکھتے تھے۔انہوں نے محمد ارشاد کی فرض شناسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فرض پر کسی اور کام کو ترجیح نہ دیتے حتیٰ کہ اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی کے دل کے آپریشن کے وقت بھی جب انہیں بیٹی اور فرض میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو انہوں نے بیٹی کے آپریشن میں تاخیر گوارا کر لی مگر فرض کو ترجیح دی ۔محمد ارشاد کے سینئر افسران کے مطابق وہ پاک بحریہ کا ایک اہم اثاثہ تھے۔پاک بحریہ کا ہر شخص محمد ارشاد کا مقروض اور شکرگزار ہے کہ انہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کرنہ صرف قومی اثاثوں کا تحفظ کیا بلکہ اس ملک کو ایک بڑی تباہی سے بھی بچا لیا۔


محمد ارشاد نے نہ صرف وطن سے کیا ہوا وعدہ وفا کیا بلکہ اپنے والدین کا سربھی فخر سے بلند کردیا ۔ان کے والدکہتے ہیں کہ میرے بیٹے کی قربانی نے ہمارے علاقے کے لوگوں کا سر بھی بلند کردیا ہے اور آج دیر کوہ ستیاں کی ہر ماں اپنے بچے کو اپنے مُلک کے دفاع کے لئے وقف کرنے کا عزم رکھتی ہے۔تعلیم کے میدان میں ہمیشہ امتیازی کارکردگی دکھانے والے محمد ارشاد نے نہ صرف زندگی کے ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ رہتی دنیا تک ایسے مرتبے پر فائز ہو گئے کہ جس میں ان سے سبقت لے جانا ممکن ہی نہیں۔ ان کی بے مثل شجاعت ، فرض شناسی اور وطن کی خاطر جان قربان کرنے کے اعتراف میں انہیں (بعد از شہادت) ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔

 

کشمیر جل رہا ہے


(کشمیر کے موجودہ تناظر میں لکھی گئی نظم)


کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر میں ہر گام پہ ہوں ظُلم کے پہرے
ہر آن فضاؤں میں رہیں خوف کے سائے
کشمیر کی وادی میں ہوں سہمے ہوئے بچے
کشمیر کے بیٹوں کے اٹھیں روز جنازے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر کی وادی سے ہوں ماؤں کی صدائیں
کشمیر کی بہنوں کے نہیں سر پہ ردائیں
کشمیر کی وادی میں کُہرام مچا ہو
کشمیر کی بیٹی کی ہوں دلدوز صدائیں
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر ترے بیٹے جھکے ہیں نہ جھکیں گے
حق بات سرِ عام سرِ دار کہیں گے
کشمیر کی آزادی کا دِیا جلتا رہے گا
کشمیر کے پروانے سدا جلتے رہیں گے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر کی وادی سے اٹھیں آگ کے شعلے
کشمیر کی وادی سے اٹھیں خون کے چھینٹے
کشمیر کی وادی میں رہے ظُلم مسلسل
گولی کے نشانے پہ ہو ں کشمیر کے بیٹے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے


غضنفر علی شاہدؔ

*****

 
06
October

چمن کے ذرے ذرے کو شہید ِجستجو کردے

تحریر: رابعہ رحمن


میجر جمال اپنی فطرت میں ایک انوکھے اور دبنگ انسان تھے، میجر جمال شیران بلوچ11نومبر1986 کو تربت میں میر شیران کے ہاں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم تربت کے کیچ گرامر سکول سے حاصل کی اور ریذیڈیشنل کالج تربت سے ہی فارغ التحصیل ہوئے۔ میجر جمال کے والد میر شیران مسقط آرمی سے ریٹائر ہوئے تھے۔ جسم میں ایک فوجی افسر کا خون دوڑ رہاتھا اور میر شیران کی خواہش بھی تھی کہ ان کے دونوں بیٹے فوج میں جائیں مگر بڑے بیٹے شعیب کوشش کے باوجود فوج میں نہ جاسکے اور میجر جمال کی قسمت کا قرعہ نکل آیا۔

chamankzary.jpg
پانچ بہنوں کے لاڈلے جمال اپنی خاموش اور سنجیدہ طبیعت کے باعث سب کی آنکھ کا تارا تھے، ہلکا پھلکا سہی، مذاق ان کی عادت تھی وہ ہمیشہ دوسروں کی عزت اور بھرم رکھنے کے قائل تھے۔ بہنوںکو اپنے دل کے بہت قریب رکھتے اور عورت کی عزت کو بہت اہمیت دیتے۔ یاروں کے یار اور پیاروں کا پیار، ایسے تھے میجر جمال شہید۔ ان کے دل میں جو بھی بات ہوتی وہ کبھی کسی سے اس کا اظہار نہ کرتے دوسروں کی رضا پہ راضی رہتے۔ انتہائی گرم جوش ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھوتہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ والدین کی عزت میں اپنا سر اور آنکھیں جھکائے رکھتے اور دوستوں کی محفل میں کبھی نازیبا کلمات بھی منہ سے ادا نہ کرتے، انسان کے اندر اعلیٰ صفات ہوں تو وہ انسان عام لوگوں سے مختلف نظرآتاہے، میجر جمال بھی انہی انسانوں میں سے تھے۔ گائوں میں کسی بھی گھرانے کو کوئی مشکل درپیش ہوتی اور میجر جمال کو پتہ چل جاتا تو وہ اس کی مدد کرنے نکل پڑتے ۔سچ اور انصاف کی بات کرتے، ظلم کے انتہائی خلاف اور بزدلی کو گالی سمجھتے تھے، دوستوں میں بیٹھتے اور اگر کوئی مذاق میں ایسی بات کہہ دیتا کہ جس میں محب وطن ہونے کی شدت کو کم کرنے کا شائبہ ہوتا توجمال فوراً کہتے کہ ہمیں وہ دن یاد رکھنا چاہئے جب ہم نے وردی پہن کر ملک وقوم اور مذہب کی خاطر جان قربان کرنے کا حلف لیا تھا۔


میجرجمال نے مئی2006ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور دوسالہ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد اپریل2008ء میں کمیشن حاصل کیا۔ فوج میں جانے سے لے کر شہید ہونے تک ان کا وردی، وطن اور دشمن کے بارے میں جنون کم نہیں ہوا تھا، میجرجمال نے سیالکوٹ، راولپنڈی اور آزادکشمیر میں پاک فوج کے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دیں، آپریشن ضرب عضب کے دوران باجوڑ، خیبر ایجنسی اور مہمند ایجنسی کے محاذوں پر دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما رہے، میجرجمال کی دو سال قبل فرنیٹیئر کورخیبرپختونخوا میں تعیناتی ہوئی یہاں بھی انہوں نے آپریشن ردالفساد میں اللہ کا سپاہی ہونے کا ثبوت دیا۔
ایف سی کے پی میںاسپیشل فورس گروپ کے آفیسر کمانڈنگ کے طور پر دہشت گردوں کے چھکے چھڑائے، میجرجمال آپریشن ایریاسے کبھی فون کرتے تو ان کے گھر والوں نے کبھی ان کے لہجے میں خوف محسوس نہیں کیا اور اس سے بڑھ کر وہ کبھی بتاتے ہی نہ تھے کہ وہ آپریشنل ایریا میں اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر اس وطن کی حفاظت کررہے ہیں۔


میجرجمال سے جب ان کے والدین شادی کی بات کرتے تو ان کا جواب ہوتا ، نہیں ابھی میں صرف اپنی نوکری پہ توجہ دینا چاہتا ہوں سب ضروری کام نمٹا لوں پھر شادی کرونگا، پھر ایک دن اچانک ہی انہوں نے کہاکہ آپ میری شادی کی تیاری کریں اور یوں ماں باپ نے ان کی کزن سے9دسمبر2016ء کو ان کی شادی کردی۔ کچھ دن چھٹی گزاری اور واپس چلے گئے۔ پھر صرف ایک بار رمضان میں چھٹی آئے، مسز نازک جمال اور میجرجمال کا بچپن اکٹھے گزرا تھا، اب زندگی ایک نئی ڈگر پہ چل پڑی تھی۔ آنکھوں کے خواب سنہرے ہوگئے تھے بندھن کے حقوق وفرائض کے متعلق سوچنا پڑگیا تھا، مگر والد کی یہ بات کبھی نہیں بھولے تھے کہ سپاہی جب یونیفارم پہنتاہے تو اسے خود کو شہادت کے لئے تیار رکھنا چاہئے۔

chamankzary1.jpg
اب میجرجمال نے فیصلہ کیا کہ پشاور میں گھر لے کر بیگم کو بلالوں تاکہ اپنے فرائض میں اضافے کے باعث ان کو بھی اسی طرح محبت اور ذمہ داری سے ادا کروں جس طرح وطن کے لئے کرتا ہوں۔18جولائی کو مسز نازک جمال کی فلائٹ تھی۔ اپنے نئے گھر اور جیون ساتھی کی سنگت میں زندگی گزارنے اور آنے والی خوشیوں اور دنوں کے لئے دھنک رنگوں سے کینوس پہ خوابوں کی تعبیریں لکھنے کے لئے مسز نازک جمال بڑے اہتمام سے تیاری کررہی تھیں مگر کارخانہ قدرت میں بھی ایک پروگرام مرتب کیاجاچکا تھا جس کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا مگر ابدی جدائی کا غم مسلسل سہنا بھی روگ بن جایا کرتاہے۔میجرجمال ہمیشہ کہاکرتے کہ خارجی ناسور سے اپنے وطن کو پاک کرنے کے لئے میں اپنی آخری سانس تک لڑوں گا اورپھر وہ لمحہ ٔعظیم آگیا اور وطن کی مٹی نے میجرجمال کا لہو مانگ لیا۔


میجرجمال کے بھائی سفر میں تھے کہ انہیں کال آگئی جس میں میجرجمال کے بارے میں ان کو کوئی بتا رہا تھاکہ وہ شہید ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اس وطن پر اپنی جان قربان کردی ۔آج شعیب کا ہرپل کا ساتھی، دوست، یار، بھائی اور بازو اُن کے جسم سے کٹ گیا تھا۔اُن کی سمجھ میںکچھ نہ آیا کہ یہ کیا ہے خواب یا حقیقت، کس طرح والدین کو بتائوں کہ آج جو خواب آپ نے جمال کی وردی کو لے کر دیکھا تھا وہ تعبیر پاکے آپ کے سرکو فخر سے تو بلند کرے گا مگر آنکھوں میں ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرح ساری عمر چبھتا رہے گا، کیا بتائوں اس نازک سی بھابھی کو کہ میجر جمال نے جنت میں گھر لے لیا ہے۔


امیدوصل کب کی ڈوب چکی اورپھر ان کو اپنا آپ سنبھالنا پڑا کیونکہ انہوں نے اب اپنے خاندان کو سنبھالنا تھا، شعیب کہتے ہیں کہ مجھے بھائی کی موت کا دکھ تو بہت ہے مگر موت کے طریقہ کار میں فرق ہوتاہے جس طریقے سے میجرجمال شہید میرے بھائی نے جان وطن کے نام کردی وہ ہمارے لئے باعث فخر ہے ہم یہ قربانیاں1947ء سے دیتے آئے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے۔ میجرجمال شہید کا جنازہ تربت کی تاریخ میں بہت بڑا جنازہ تھا ان کو جس عزت اور احترام کے ساتھ دفنایا گیا ہمارے علاقے کا ہربلوچ جوان یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے جسم پر وردی سجا کے یونہی شہید ہوکر آئے گا کہ وردی میں موت کا مزا ہی کچھ اور ہوتاہے۔


میجر جمال شہید کی موت اس بات کی گواہ ہے کہ بلوچ قوم کا ہر فرد دفاعِ وطن کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دینے سے کبھی گریز نہیں کرے گا۔ پاکستان کے باقی صوبوں کے باسیوں کی طرح، پاکستان ہربلوچ جوان کی پہلی محبت ہے۔ وہ بلوچ باپ ہو، ماں، بھائی، بہن ، بیوی یا اولاد ہو، اُنہیں اپنے پیاروں کو وطن کی حُرمت پر قربان کرنے پر ناز ہے۔ آج جب پوری پاکستانی قوم اپنے شہیدوں پر ناز کرتی ہے تو اس میں صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لاتعداد شہیدوں کا نام بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ قربانیوں بلاشبہ پاکستان دشمنوں کے پروپیگنڈے کی موت ہیں۔ جھوٹ اور شرانگیزی پر مبنی لاکھ کوششوں کے باوجود دشمن بلوچستان کے باسیوں سے پاکستان کی محبت اور یقین کو متزلزل نہیں کرسکا۔ میجر جمال کی شہادت بلاشبہ دشمنوں کے ناپاک ایجنڈے کی موت ہے۔

جس طریقے سے میجرجمال شہید میرے بھائی نے جان وطن کے نام کردی وہ ہمارے لئے باعث فخر ہے ہم یہ قربانیاں1947ء سے دیتے آئے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے۔ میجرجمال شہید کا جنازہ تربت کی تاریخ میں بہت بڑا جنازہ تھا ان کو جس عزت اور احترام کے ساتھ دفنایا گیا ہمارے علاقے کا ہربلوچ جوان یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے جسم پر وردی سجا کے یونہی شہید ہوکر آئے گا کہ وردی میں موت کا مزا ہی کچھ اور ہوتاہے۔

میجرجمال شہید مختلف آپریشنز کے ہیرو تھے۔ جب 18جولائی کو وہ اپنی گاڑی میں جوانوں کے ساتھ آپریشن کے لئے نکلے تو ایک گاڑی نے ان کو ہٹ کیا اور خودکش حملہ آور نے خود کو بلاسٹ کرلیا۔ دھماکے کے ساتھ بہت ساری زندگیاں لقمہ اجل بن گئیں، یقیناً فرشتوں نے شہیدوں کے جسموں کو ذرا بھی تکلیف نہ ہونے دی ہوگی اور اللہ کے حکم سے ان کی روحوںکو پھولوں میں لپیٹ کر دربار عالیہ میں پیش کیاہوگا۔ زمین سے آسمان تک خوشبو کا سفر تھااورروشنی کا سفر تھا جو صرف بصیرت والے دیکھ سکتے اور محسوس کرسکتے ہیں۔


دشمن نہیں جانتا کہ قوم پاکستان کے والدین اپنے بچوں کے لئے شہادت کی موت کی دعائیں رو رو کر مانگتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بیٹوں کو مرا ہوا قبول کرنا ہی نہیں چاہتے اور شہید تو زندہ ہوتاہے وہ ان کے لئے تاقیامت کی زندگی مانگتے ہیں اور جو اپنے شہید بیٹے کو کندھا دیتاہے وہ باپ سینہ پھلا کرکہتاہے آج میں سرخرو ہوا آج میرا بیٹا ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگیا۔
قابل فخر ہیں وہ مائیں جو شہید بیٹوں کے تابوت چومتی ہیں، قابل تحسین ہیں وہ بہنیں جو اپنے شہید بھائیوں کے جسدخاکی کو اپنے آنچل کا کفن پہنا کر مسکراتی ہیں اور آفرین ہے اس والد پر جو اپنے شہید بیٹوں کے جنازے اٹھااٹھا کر تھکتا نہیں اور سینہ فخر سے پھلائے کہتاہے میراکوئی اور بیٹا بھی ہوتا تو اللہ کا سپاہی بناتا، عظیم ملک کے عظیم سپوت عظمت کا مینار ہیں۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
September

The Martyrs’ Lineage

Written By: Lt Col Danish Javed

“It is truer to say that martyrs create faith more than faith creates martyrs.”(Miguel de Unamuno)

They were sitting in an office in a pleasant mood with smiles on their face, one was busy in writing and the other was making calls. Their desks were full of invitation cards and papers which reflected preparation for an upcoming event. Calls were being made to people involved in execution of the event and participating guests. The atmosphere of the room was comfortable and peaceful, as these two young army officers with shining stars on their shoulders were busy doing their work. The officer who was making calls had put phone on speaker so as to easily manage calls while the other officer too could listen to the conversation in order to write down the relevant details.


"Hello", the officer introduced himself politely as Major Imran as a little girl picked his call. The little girl shouted, "Mama, Mama come here. There is a call from Papa’s office, he must be waiting for you to talk." Then she returned to the officer, "Uncle do you know my papa? Where is my papa? Is he o.k.? Is he coming back home? Does he miss me? Is he doing well?" she had showered upon him a million innocent questions. All of a sudden, there was dead silence in the room, both officers looked at each other and froze in shock, they had just connected to a five-years-old daughter of a Shaheed. Still in frozen state, the officers forgot their work and after a brief pause, they heard a trembling voice, "Hello!". Someone was trying to stop crying as if trying to wall a heavy flood with hands only and a screaming voice full of pain was being heard on the speaker. That moment was so full of sadness that tears started dropping from eyes of both officers on the phone. Emotions make their way out no matter how strong you are, how courageous you are, pain of your lost loved ones can break you in pieces.

 

This is what was happening there; two army officers were hearing the broken voice of a widow of their fellow officer who had laid his life for the peaceful future of the nation, leaving his children and wife screaming, so that others won't have to leave their families crying.


Major Imran gathered his senses and looked at his uniform, a small flag of Pakistan was shining on his chest. He asked the lady, "Bhabi, I have called to invite you on Youm-e-Shuhada and want to ask for any assistance which Army could provide to our respected families. Other side of the phone was silent; he could sense that the lady was unable to speak. After a stretch of silence he heard voice of the little girl again, "Uncle can you tell my papa to come home on this Eid, I have not seen him since long, I want to see my Papa. My Mama says, Papa is very brave and always ready to defend the country, he is my hero." They had no answer to her demand of seeing her father. Major Imran replied, "My dear angel he is your hero, he is our hero and is hero of the nation."


Untold words of the widow, the innocent expressions of love for a father by a little girl were enough to describe the story, and yet another surprise came. This time it was the fourteen-years-old daughter of the shaheed who just took the receiver from her younger sister. “Sorry uncle, my younger sister does not understand that papa has gone forever,” said the girl. “Though my mother is hit by painful memories of our brave papa but we belong to a proud family as my grandfather and uncle are also shaheeds," she had a mesmerizing strength and courage in her tone. How mindful we are, that at times, we do not expect to answer certain things which are beyond our imagination, and the same happened there. And then she asked the unexpected, “Uncle please help me to join the forces, some place where I could easily see and join my father, grandfather and uncle as shaheed, so my soul finds peace for something that the nation could be proud of.” Her tone was radiating marvelous faith and confidence but emotions left the officer crying. "Why are you crying uncle?," she further stunned him, "I am very serious and conscious of my desires, it is not an emotional longing but a thoughtful call from inside me. Uncle help me please," she asked what was unimaginable and could only be the aspiration and desire of a sacred blood.

 
07
November

Stalking Dir with Eagle Eye

Written By: Maj Muzaffar Ahmed

Tale of a gallant hero – martyr of IBO (Intelligence Based Operation) who started as a Cavalry Charger and ended as a Spymaster.

stalkingdir.jpg

It is not always easy. Your successes are unheralded – your failures are trumpeted”
(President John F. Kennedy, CIA Headquarters, November 28, 1961)

Times of chaos and disarray will not remain forever; sons of the soil are offering the best – their lives – in guarding the country.


Ali called, “I am committed. Rushing towards Army Public School Warsak Road”. There was a distinct note of agony in his voice as he said, “Terrorists have attacked Army Public School Peshawar. They are brutally killing innocent children. Saman you should go to school yourself and fetch Shahwaiz back home”. Saman hurriedly turned on the television and saw the horrific tickers being displayed. She was stunned and motionless for a while. After she regained her senses, however, with anguish and fear, she dragged herself towards Army Public School Cantonment Junior Branch and brought Shahwaiz back. Aah! It was all terrible.

stalkingdir1.jpg
Thirty-years-old Ali had witnessed bloodshed of parents’ loving lads with sorrowful eyes. Saman narrates that she could sense Ali grief-stricken for many days after the dreadful event. Though grief and moaning of this national tragedy started settling but the cold blooded massacre had shaken Ali’s personality. He started seeing Shahwaiz in every innocent martyr and injured of Army Public School Peshawar, which ultimately guided him to seize the perspective of every passing moment and give it a shape, value and substance for contributing towards prosperity in the country. His self-commitment still echoes in Saman’s ears that every cloud has a silver lining and it is now the turn of terrorists’ bastions to stand the blow of wrath even in their most remote and safest hidings.


Hailing from Lahore, Ali was curious from teenage to maintain his ancestral legacy of soldiering. The medium built, amiable Ali, always used to attract everyone’s attention due to a distinct smile on his face. Ali Salman’s childhood best friend Ali Sohail recollects their nostalgic bond, “We met each other in Army Public School Peshawar Cantonment in class five and with the passage of time became close friends of each other. Our fathers were serving in the same city in their respective Army Ordnance setups. To my dismay after one year Ali’s father (Lt Col Nasir Mahmood) was transferred to Lahore Cantonment, but coincidentally we were re-united again in Garrison Academy for Boys Lahore Cantonment once my father was also transferred to Lahore.

stalkingdir2.jpg
My friend was a shining, lively and jolly figure of our class not only for excelling academically but also because of fervent love for nature and laughter. At his home, he was mostly found busy in exploring ways to behaviorally nurture, serve and manage his caged parrots, rabbits, lambs and plants. Keeping his mother’s evenings busy by asking for french fries was visible from his appearance that’s why he also got fame as Dambry (cartoon character) among colleagues. Due to visiting each other’s homes almost daily, I could make out that he was very compassionate, loving and fun seeking brother of his two sisters. The bond of our friendship grew stronger with each passing day. I cannot forget his joyous company, especially partnering in cricket, kicking football and visiting Lahore zoo for many hours. As adulthood approached and we got into intermediate level education, I could observe his behavioral inquisitiveness transcending into seriousness and aspiration to attain something in life i.e., from aimlessness to knowing what he wanted. The iconic image of his father and uncles served his motivation to be a flag bearer and join Pakistan Army. Though his parents neither forced, nor stopped him from pursuing goal of joining Army, however; being the only and obedient son, he eloquently convinced his mother about his decision. Ali’s motivational lectures and ethical jolts did not spare me even. His giggles, fun filled routine and narration of challenges at Pakistan Military Academy inspired me as well to join Pakistan Army. I often miss him dearly!”


Ali’s colleagues from 112 PMA Long Course also cannot forgo cherishing memories of his perseverance and jovialness even during times of rigorous and taxing training activities. On completion of training at Pakistan Military Academy in 2005, he joined 13 Lancers, a glorious and decorated Armored Corps unit located in Quetta.


Enthusiastically responding to the unit’s grooming modules, Ali turned out to be a responsible and professional Cavalry Charger in very less time in line with the expectations of his seniors and subordinates. His unit officer, Lieutenant Colonel Aaitizaz Asbuq Waheed remembered him as an opponent in squash court and a close comrade, “We used to hang out in evenings, playing squash together. Ali’s aggression, gaming strategies and spirit to win the contests of squash and will to fight back for any game lost, were all admiring. Youngsters Hammad, Waqas and Noman used to pose immense confidence in his guidelines, mentoring sessions and timely elderly directions. Moreover, his love for good music was also a talk of the unit. Due to day and night earnest endeavors and buckling down, the under-command troops started loving him as he remained their Adjutant – custodian of discipline, the Quartermaster – responsible for feeding, health and hygiene and the Squadron Commander in thick and thin. Besides 13 Lancers, while he was posted to serve with another unit 25 Cavalry at Razmak in Operation Al-Mizan in year 2010, the CO (Commanding Officer) of the unit found him at the front lines as Squadron Commander and talked highly of him. During the course of professional building up, Ali remained an instructor in an Armour Division Battle School at Gujranwala. Thereafter, he started realizing and discussing with seniors in the unit that his inclination and mental faculties are probably more suited for intelligence tasks. Thus year-2014 proved to be a turning point in Ali’s life which parted him from 13 Lancers for a new venture but his association, interaction and contacts with the unit were never broken.”


“Yay! Saman, I have been selected to serve in Corps of Military Intelligence and need to undertake the intelligence course in School of Military Intelligence in Murree. I am happy to join Pakistan Army’s highly professional frontline force – the spymasters. I will use my potentials to the best of the service interests”. To prove himself best-suited for the upcoming assignments, he strived extra hard. His fellow course-mates said that he proficiently grasped the art of being invisible and an extraordinary intelligence operator and could disguise, surveil, detect and solve with near-perfect masteries. His skills are reflected through his securing first position in Officers Military Intelligence Mid-Career Course.


At the end of year 2014, Ali was posted to Peshawar for intelligence field works. Having witnessed the Army Public School massacre, he frequently started motivating his team individuals through his spyglass, “The spirit to avenge the blood of innocent victims of terrorism in the country remains fresh in my heart. Pakistan and the scenic valley of District Dir, its loving people and Panjkora River don’t deserve bloodshed and can’t be deprived of peace and prosperity.” To offset the game plans of enemy, he acquired reasonable grip over local Pushto dialect, demography, behavior, culture and traditions of people of the area in a very short span of time. Then discretely started unearthing, fixing and destroying the active and passive networks (sleeping cells) of terrorists of Tehreek-e-Taliban Swat and other splinter groups operating in District Dir and adjacent areas. Covert efforts of his team succeeded in averting numerous bomb blasts and led towards recovery of huge caches of ammunition and explosives. A testimony of his achievements is the letter of appreciation from Commander Peshawar Corps, Lieutenant General Nazir Ahmed Butt. As an influential humane intelligence operator, local notables of the area and Village Defence Committees applauded cordial relations of his team with the masses. His comrades were also admirers of his leadership qualities and affection for subordinates as stated by his driver Nobel Masih.


After completing three years’ eventful stay at District Dir, he received orders to pack up for next duty as an instructor at School of Military Intelligence Murree. While saying goodbye to the affiliates, the District Police Officer and the District Coordination Officer of Dir spoke highly of him and felt downhearted on his departure.

 

stalkingdir3.jpgOn August 5, 2017, with renewed spirits and happy feelings of being posted to new location, Ali and his family reached Peshawar for their farewell dine out. After the ceremony Ali told Saman, “Today’s words of appreciation and good wishes by the Commander and my colleagues have supplemented and strengthened my job satisfaction”. On August 7, amidst fine memories of service in Peshawar and District Dir, Ali left for Dir for his final pack-up. Then came Sunday – August 8, 2017, a usual sunny day with unusual loud chirping of birds around the residence; an eternal day of test for Ali and his teammates. His eagle eye estimated through grapevine about the presence of four high value terrorists from Tehreek-e-Taliban Swat in Sherotkai village of Sultankhel, Upper Dir, who were actually on his watch-list for quite sometime. These terrorists were planning to sabotage our Yaum-e-Azadi celebrations by attacking at a mass gathering of innocent people thus turning the day into a national tragedy for the country. Though Ali was over with his responsibilities in the area and was ready to move for the new assignment in Murree, but his pneuma conscience forced him to handle these terrorists. He discussed the situation with his senior Commanders and planned an IBO (Intelligence Based Operation). Under the shadows of parents’ prayers and wife’s hope of success, he left his base in the evening with the team – Havildar Akhtar, Havildar Ghulam Nazir and Levies Sepoy Kareem Khan along with Sher Dil Task Force, part of Army’s SWAT Division, led by Lieutenant Zeeshan. Vehicle driver noticed and asked Ali, “Sir, you seem very excited today and the glow is visible on your face”, to which he responded, “Dear! Yes, I am happy because Almighty Allah has confidence in me that’s why He has again afforded me an opportunity to contribute, and Allah be willing our team will succeed.”


Once it was dark, Ali briefed the Sher Dil Task Force Commander about the target, which was a house where terrorists were hiding. On reaching the site at around midnight, Sher Dil Task Force established a cordon around the hideout of terrorists. After 10-15 odd minutes, upon not detecting an imminent danger, Major Ali Salman made an attempt to trace out and feed Sher Dil Task Force Commander the exact location of terrorists in the rooms. While he was approaching the terrorists with his team, one of the terrorists got alerted but he was overpowered by fire. Then in a span of few seconds, in an attempt to apprehend the terrorists alive, Ali and his team-mates briskly jumped over three terrorists and firmly gripped them. After overpowering the terrorists once clearing the terrorists for the weapons and explosives was in process, one of the terrorists blew himself up. Destiny came into play. This resulted in raising of the nation’s four brave sons (Major Ali Salman, Havildar Akhtar, Havildar Ghulam Nazir and Sepoy Kareem Khan) to the highest pedestal of martyrdom (Shahadat) and averted a national tragedy planned by terrorists. Then a fire exchange started between Sher Dil Task Force and the remaining terrorist, who was shot down in a little while. There ended chapter of Ali’s life which fulfilled commitment with Army Public School Peshawar by foiling another big terrorist plot and saving innocent human lives.


Back at home, at around 01:45 a.m. midnight, his younger sister received a call, however; tremblingly handed over the mobile phone to the father with the fear that Ali’s request to sisters for praying for his shahadat has probably come true. His father could also sense the reason, thanked Allah and stated, “Ali has won over me by giving sacrifice for the country”. The courage, fortitude and patience of such fathers is really praiseworthy.


Later, with wet eyes, his mother recalled that Ali used to take care of her, loved her cooking especially daal maash but now there is a vacuum as he will not be there to appreciate her cooked food.


His wife Saman, 29, standing as a rock of conviction said that Allah had selected Ali and his comrades because He wanted to correct those who had gone astray. She painfully expressed that Ali had the intuition of his shahadat before commencing his final journey for the high-level operation. A day prior he briefed me, “If I am not with you one day, don’t worry, then whatever decision you take for our kids, Shahwaiz (6 years) and Abdullah (2 years), it will have hundred percent support of mine”. This courageous lady has to pass through the marathon of life without her husband but her determination is matchless as she intends offering Ali’s sons Shahwaiz and Abdullah to Pakistan Army as protectors of the country.


Ali’s love for his sons is irreplaceable. He fulfilled all the wishes of his sons. Mention of two long awaited wishes is heart wrenching. Shahwaiz wanted to take rides of a tank and helicopter. His son’s wish of the tank ride was fulfilled by him once he took Shahwaiz to his unit to the utter pleasure of little lad. The other wish was also fulfilled but that was after Ali’s departure from the world when the family was flown on helicopter for funeral ceremonies.


After Ali’s sacrifice, though there was a temporary vacuum but other brave spymasters immediately filled the place and resumed the missions with full zeal and zest to block nefarious acts and designs of external and internal enemies of Pakistan. Ali, his team-mates and many others are those heroes who were confided by the destiny for glorification, however; there are numerous other unsung spymasters who silently keep working for the honor and love of the Green Flag and contribute towards bringing peace. These spymasters are the real asset of our nation who strike terror into the hearts of the enemies by their invisible presence everywhere thus making it difficult for the actors of chaos and terror to operate easily.

 

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter