29
December

شہید اعتزازحسن

Published in Hilal Urdu Jan 2014

6جنوری کی ٹھٹھرتی صبح پروین بیگم نے بڑے پیار سے اپنے بیٹے کو سکول کے لئے بیدار کیا۔ بچہ لحاف اوڑھے سکول نہ جانے کی ضد کر رہا تھا، شائد کوئی قوت اسے آج گھر سے نکلنے سے روکنا چاہتی تھی لیکن ماں نے بچے کی تعلیم کی خاطر ایک نہ سنی، بچے نے مزیدار ناشتے کی فرمائش کی شائد اسی بہانے ماں اس کی بات مان لے۔پروین بیگم نے بڑے چاؤ سے بیٹے کے لئے پراٹھا اور انڈہ بنا دیا جسے کھا کر ننھا اعتزاز گورنمنٹ ہائی سکول ابراہیم زئی، ہنگو کے لئے روانہ ہوا۔ ضلع ہنگو پاکستان کے شمال میں صوبہ خیبرپختونخوا میں واقع ہے جس کی آبادی قریباً پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، یہ مقام تازہ پانی کے ذخائر اور پھولوں کی کئی اقسام کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اعتزاز جب اپنی والدہ کو الوداع کہہ کر سکول کی جانب روانہ ہوا تو سورج بادلوں کی اوٹ سے نکلنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ہنگو روڈ کوہاٹ پر اِکا دُکا گاڑیاں چل رہی تھیں، قنبر عباس نے ابھی کریانہ سٹور کھولا ہی تھا۔ گورنمنٹ سکول ابراہیم زئی ہنگو کے لان میں ملیشیا شلوار قمیض اور کالی ٹوپی پہنے بچے سکول میں جمع ہو رہے تھے۔

اعتزازحسن، شاہ زیب الحسن اور زاہد علی سکول میں داخل ہونے ہی والے تھے کہ اعتزازحسن کی نظر26سال کے نوجوان پر پڑی جو چادر اوڑھے مشکوک انداز میں سکول کی طرف بڑھ رہا تھا جس کا ایک ہاتھ چادر سے باہر تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس نے چادر کے اندر کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ ننھے اعتزاز حسن نے جو پچھلے دس سال میں دہشت گردی کے ماحول میں بڑا ہوا تھا اور چھٹی جماعت کا طالب علم تھا فوراً خطرے کو بھانپ لیا، اس نے ایک طرف اپنے سکول کی طرف نظر دوڑائی‘ اظہر سکول اسمبلی کو لیڈ کرنے کے لئے تیار تھا، نوازش، منتظر، ۔۔۔ علی، علی حیدر اور محمد حسین ۔۔۔ پاک سر زمین شاد باد پڑھنے کی تیاری کر رہے تھے جبکہ علی اور حیدر‘ علامہ اقبال کی نظم ’’لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری‘‘ کی ریہرسل کر رہے تھے، دوسری جانب وہ مشکوک نوجوان تیزی سے سکول کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ایک طرف اعتزاز حسن کے ساتھیوں کا ہجوم تھا جو سکول میں مستقبل کے سہانے خواب سجائے سکول کے صحن میں جمع تھے اور دوسری طرف اعتزاز حسن ایک کٹھن مرحلے سے دوچار تھا‘ اسے فیصلہ کرنا تھا کہ اپنی جان بچائے یا سکول کے بیسیوں ساتھیوں کی۔ علی حیدر کی آواز میں اقبال کی نظم اعتزازحسن کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی ’’زندگی شمع کی صورت ہو خُدایا میری‘‘ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ننھا اعتزازحسن مشکوک نوجوان سے لپٹ گیا۔ قنبر عباس ابھی دُکان میں چیزیں ترتیب ہی دے رہا تھا، پروین بیگم نے تو ابھی بچے کے ناشتے کے برتن بھی نہ سنبھالے تھے کہ یکایک دھماکہ ہوا اور اعتزاز کی زندگی کا چراغ بجھ گیا، کلاس میں آخری بینچ پر بیٹھنے والا اعتزاز آج سب پر بازی لے گیا۔ ہنگو کی فضا میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی ’’زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب‘ علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب۔‘‘ اعتزاز حسن خود تو شمع کی مانندجل گیا لیکن ابراہیم زئی کے سابق چیئرمین یونین کونسل پیش فرمان کے مطابق وہ ہمیں ایک نیا عزم اور حوصلہ دے گیا کہ ننھے بچے بھی اب تو دہشت گردی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور انشاء اللہ اِسے ختم کر کے ہی دم لیں گے۔

ننھے اعتزازحسن کا جسم جب ہوا میں اُچھلا تو اُس کی آنکھیں اپنے ہم مکتبوں کی طرف اُٹھیں ان میں چمک تھی جو کہہ رہی تھیں کہ میں نے اپنا آج تمہارے کل کے لئے قربان کر دیا۔ننھے اعتزازحسن نے شائد اپنی عمر اور اپنے قد سے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ مؤرّخ جب بھی ہماری تاریخ لکھے گا تو وہ حیران ہو گا کہ یہ قوم کیسی کیسی مشکلات سے نہیں گزری، 2005کا زلزلہ ہو،2010کا سیلاب ہو یا دہشت گردی اس قوم کے حوصلے پست نہیں ہوئے، یہ قوم کل بھی متحد تھی اور آج بھی متحد ہے، دہشت گرد اس قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکے۔ اس حقیقت سے کسے انکار ہے کہ دہشت گردوں کو ہتھیاروں کی کمی نہیں لیکن قوم کا حوصلہ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اعتزاز شہید کے واقعے نے پوری قوم میں امید کی ایک نئی لہر پھونک دی ہے۔ اعتزازحسن کی قربانی کا اعتراف جہاں پوری قوم نے کیا ہے وہاں عسکری قیادت نے بھی اس کو قابلِ قدر قرار دیا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف، جنرل راحیل شریف نے بجا طور پر کہا کہ وطن کی خاطر جان نچھاور کرنے سے بڑی قربانی کوئی نہیں ہو سکتی۔ عالمی و ملکی ذرائع ابلاغ، پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان نے بجا طور پر اس ننھے ہیرو کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیاہے۔شہید کی موت دراصل قوم کی حیات ہے اور زندہ قومیں اپنے ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ عموماً سوگ صرف 3 روز تک منایا جاتا ہے لیکن آج اتنے دنوں بعد بھی اعتزازحسن کا ہر زبان پر تذکرہ ہے۔ گورنمنٹ بوائز سکول ابراہیم زئی کے صحن میں پرنسپل لعل صاحب کے ارد گِرد طالب علم جمع ہیں۔ اظہر تلاوت کر چکا ہے، علی حیدر اور محمد حسین ڈائس پر اقبال کی نظم پڑھ رہے ہیں، شائد ایسے لگتا ہے

ننھا اعتزاز حسن بھی پڑھ رہا ہو،

دُور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جائے

ہر جگہ میرے چمکنے سے اُجالا ہو جائے

ہو میرے دم سے یُونہی میرے وطن کی زینت

جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

میرے اللہ ہر بُرائی سے بچانا مجھ کو

نیک جو راہ ہے اس راہ پہ چلانا مجھ کو

پورا سکول اشک بار ہے۔ محمد ہلال، ریاض علی کی گالوں پر آنسو بہہ رہے ہیں لیکن یہ آنسو کمزوری کے آنسو نہیں بلکہ یہ تشکر کے آنسو ہیں۔ درحقیقت یہ ایک نئے ولولے اور نئے عزم کا آغاز ہے اس مشن کو تکمیل تک پہنچایا جائے جس کے لئے اعتزاز حسن نے جان دی ہے۔ ماسٹر حبیب علی ویسے تو معمول کے مطابق کلاس ششم میں داخل ہوا کرتے تھے لیکن آج وہ ایک نئے عزم کے ساتھ کرسی پر براجمان ہیں‘ لیکن اعتزاز کا بنچ خالی ہے، شان اور عاکف بائیں جانب اعتزاز کی خالی نشست کی طرف دیکھتے ہیں جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ میری قربانی رائیگاں نہیں جانے دینا۔ میں نے اپنے خواب تم سب پر قربان کر دئیے ہیں۔ قنبر عباس نےRIO بسکٹ اور Laysجو اعتزاز کو بہت پسند ہیں اور وہ ہر روز اس سے آ کر خریدتا تھا‘ سنبھال کر رکھے ہیں کہ ابھی اعتزاز اس سے لینے آئے گا۔ والدہ نے سبز مرچ کے ساتھ سالن تیار کر رکھا ہے، اعتزاز کے کالے دو تیتر خوش ہیں کہ ابھی اعتزاز انہیں آ کر دانہ کھلائے گا۔ مجتبیٰ، نازیہ اور زرشیہ بھائی کا انتظار کر رہے ہیں اور میں اعتزاز کے کزن آصف رضابنگش کی پشتو نظم کا اردو ترجمہ کر کے اُسے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اورپُر اُمید ہوں کہ یہ قوم اعتزاز کی اس قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ جب سے اعتزاز نے موت کو اپنے گلے لگایا،

اُس کی ماں فخر کرتی ہے اور میں اُس کو سلام پیش کرتا ہوں،

شہید مرتا نہیں یہ قرآن کا فیصلہ ہے،

میں ہر وقت اس قرآنی آیت کو سلام کرتا ہوں،

ساری دنیا جب اعتزاز پہ فخر کرتی ہے،

جب خزاں آتی ہے پھر میں اس کے بعد بہار کو سلام کرتا ہوں،

پاکستان کی فوج نے ہر منزل پہ قربانی دی ہے،

میں اپنی طرف سے پاک فوج کے ہر جوان کو سلام پیش کر تا ہوں

ہم نے پاک فوج کو ماں کا درجہ دیا ہے،

ہم سب کی طرف سے ہر فوجی کو سلام

اس کا کارنامہ رہتی دنیا تک باقی رہے گا

<میں ہر وقت کم سن شہید کو سلام پیش کرتا ہوں

جب اعتزاز کو اللہ نے اعزاز عطا کیا ہے،

میں معصوم کی شہادت کو سلام پیش کرتا ہوں،

اے علی خانان اپنے رب سے شہادت مانگو،

میں ہر شہید کے زخمی سینے کو سلام کرتا ہوں

08
January

اے جذبہء دل گر میں چاہوں

تحریر: نزاکت علی شاہ

وزیرستان میں فرائض کی انجام دہی کے دوران شہادت کا رتبہ پانے والے مبشرحسین شاہ (شہید) کے حالات زندگی کے بارے میں ایک تحریر

 

مبشر حسین شاہ 13مارچ 1990کو شب قدر کے موقع پر تحصیل مری کے ایک غریب سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نزاکت علی شاہ پرائمری سکول کے استاد ہیں۔ دینی تعلیم گھر میں والدہ

سے حاصل کی اور قرآن مجید پڑھنا سیکھا۔ اپریل 1995 کو گورنمنٹ پرائمری سکول لارنس کالج گھوڑا گلی مری میں داخل ہوئے جہاں سے مارچ2004 کو پرائمری پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول مری میں داخلہ لیا اور میٹرک کا امتحان 2007میں اسی سکول سے پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج مری میں داخل ہو گئے۔


سچ بولنا‘ انسانی ہمدردی‘ محنت‘ دیانتداری‘ ملکی و ملی اخوت اور بے باکی جیسے اوصاف مبشر حسین شاہ کی گھٹی میں پڑے ہوئے تھے۔ ابتدائی عمر ہی سے فرمانبرداری اور فرض شناسی کو اپنا شعار بنا لیا۔ تعلیمی زندگی میں گھریلو کام کاج میں خوب حصہ لیتے اور ہمیشہ ماں باپ کا خیال رکھتے تھے۔ گھر میں بہن بھائیوں سے چھوٹا ہونے کے سبب اکثر والدین اور بہن بھائی گھریلو کاموں کے لئے مبشر کو کہہ دیتے تھے مگر زندگی بھر کبھی کسی کام سے ان کی زبان سے انکار نہ سنا۔


اپنے گھر میں گزاری ہوئی مبشر حسین شاہ کی کوئی رات ایسی نہ تھی جس میں رات سونے سے قبل اور صبح اٹھنے کے بعد اپنے ماں باپ کی خوشنودی نہ حاصل کی ہو۔ رات اپنی چارپائی پر جانے سے پہلے ماں باپ کے پاؤں، ٹانگیں، بازو، کندھے دبا کر سوتے اور صبح جاگتے ہی اس عمل کو دہرانے کے بعد وضو کے لئے پانی لوٹے میں رکھ کر دیتے۔کبھی ماں باپ کو رنجیدہ پاتے تو اُن کے پاؤں پر سر رکھ دیتے اور انہیں خوش کرنے تک سر، پاؤں سے نہ اٹھاتے تھے۔

 

ayjazbaedil.jpgقومی شناختی کارڈ ملتے ہی کالج میں ابھی سال دوم کے طالب علم تھے کہ جون 2008 میں اپنے بابا سے اجازت لے کر پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان بھرتی ہونے چلے گئے۔ مگر اپنے شوق کو ساتھ لئے ناکام واپس ہو کر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ پاک آرمی جوائن کرنے کا شوق پورا کرنے کے لئے دسمبر 2008 کو دوبارہ مردان سنٹر پہنچے اور پنجاب رجمنٹ میں بھرتی ہو گئے۔جولائی 2009 میں اپنی تربیت مکمل کر کے 33پنجاب رجمنٹ میں سپاہی کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے لگے۔ 33پنجاب رجمنٹ اس وقت گوادر میں تھی جہاں دوران خدمات ان کا دایاں پاؤں ٹوٹ گیا اور طویل عرصہ تک الشفاء ٹرسٹ کراچی ‘ سی ایم ایچ مری اور سی ایم ایچ اوکاڑہ میں زیرعلاج رہے۔ طویل علاج کے بعد رو بصحت ہوئے اور یونٹ گوادر سے اوکاڑہ چھاؤنی منتقل ہوئی تو 18 پنجاب رجمنٹ کو شمالی وزیرستان جانے اور دشمنان ملک و ملت کے خلاف آپریشنل کارروائی کا حکم ملا۔ اسی عظیم کارنامے کو سرانجام دینے کے لئے 18پنجاب رجمنٹ کو مزید نفری کی ضرورت تھی جو دیگر پنجاب رجمنٹس سے ڈیمانڈ کی گئی۔ ایسی صورت حال میں سپاہی مبشر حسین شاہ نے رضاکارانہ طور پر 18پنجاب رجمنٹ میں شامل ہو کر اس جہاد میں حصہ لینے کا اظہار کیا سینئر افسران نے اسے کم عمری کے باعث اس شوق سے روکا۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے یہ ضد پوری کی اور 18پنجاب رجمنٹ میں شامل ہو کر شمالی وزیرستان چلے گئے۔ اس کارروائی کا حصہ بنے تقریباً پانچ ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ جنوری 2013 کو نصف شب مبشر نے اپنے والد کو زندگی کا آخری فون کیا۔’’جس میں اپنے لئے شہادت کی دعا کرنے کو کہا۔‘‘


پاک آرمی کے سیکڑوں جوان معمول کے مطابق فوجی گاڑیوں میں سوار قافلے کی صورت میں 13جنوری 2013 بروز اتوار وزیرستان سے بنوں جا رہے تھے کہ دن تقریباً دیڑھ بجے اس قافلے کی ایک فوجی گاڑی کو میران شاہ کے مقام پر بم دھماکہ سے اڑا دیا گیا جس میں سپاہی مبشرحسین شاہ کے علاوہ دیگر جوان بھی سوار تھے۔


اس بم دھماکے کے نتیجے میں کئی فوجی جوان موقع پر شہید ہو گئے اور مبشر حسین شاہ سمیت چند جوان شدید زخمی ہوئے۔ شدید زخمیوں کو میران شاہ سے بنوں اور وہاں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر اسی شام سی ایم ایچ پشاور لایا گیا جہاں زخمیوں کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی گئی مگر سر پر لگے ہوئے گہرے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 23جنوری2013ء بمطابق 10ربیع الاول 1434ہجری بدھ کی دوپہر سپاہی مبشرحسین شاہ جام شہادت نوش کر تے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔


اسی شام پشاور سی ایم ایچ سے جسد خاکی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کے آبائی علاقہ روانہ کر دی گئی۔ 24جنوری بروز جمعرات بوقت دس بجے بوائز سکاؤٹس گراؤنڈ میں فوجی اور سول افسران سمیت ہزاروں کی تعداد نے شہید کی نماز جنازہ ادا کی اور فوجی اعزازات کے ساتھ شہید کو گھر کے قریب دفن کر دیا گیا۔
شہید کے جذبہ حب الوطنی اور بہادری کے اعتراف کے صلہ میں پاک فوج اور حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ بسالت کا اعزاز عطا کیا۔

09
February

My Shaheed Son- A Pride A Hero

Written By: Lt Col (Retd) Muhammad Sunawar

Lt Col (Retd) Muhammad Sunawar pens down an account of martyrdom of his son Capt Bilal Sunawar (Shaheed).

 

My son Capt Muhammad Bilal Sunawar embraced shahadat on November 20, 2009 while fighting vigorously with terrorists (Chechens, Uzbeks, and Tajiks) at Pash Ziarat, located approximately 30 km north of Sara Rogha in South Waziristan, known as a strong insurgent base and headquarters of the terrorist leader Baitullah Mehsud. It was here in 2007 when a commando platoon was almost wiped out and even a two battalion follow-up operation failed to clear out the terrorists hiding there.


On November 19, 2009 Capt Bilal was given the command of Alpha Company 4 AK Regiment and was tasked to establish a fire base for his unit at Ziarat – 4 km ahead of their base called Mana. His company operation was a prelude to the battalion operation against the terrorists. At 8 p.m. on November 19, he advanced with his company from Mana and successfully cleared all the major and minor opposition that he met enroute. The ground and weather conditions were very hostile during the hours of darkness and temperature went as low as minus 10 degrees below freezing point.

 

pridehero.jpgAbout 4 a.m. on November 20, 2009 the company established its fire base in the assigned area and sent ‘all clear’ green signal to the commanding officer so that the remaining unit could start its operation. Meanwhile Capt Bilal established and organized his new base and deployed his platoons in ‘all round defence’. He also sent few search parties to the surrounding areas to ensure that no terrorists were hiding there.


At around 10 a.m. Alpha Company position was suddenly subjected to intense attack by the terrorists with 12.7 mm guns and rocket fire from thickly forested ridge, east of their location. Capt Bilal, along with his company, immediately returned fire and he himself went to the forward most position to observe the enemy and direct the fire of his men. Despite intense enemy fire and misty weather conditions, he and his men brought such accurate fire on the terrorists that they were forced to retreat. However, in this process Capt Bilal received a direct hit by a rocket launcher which also blew away a portion of the left leg of his Platoon Commander Lieutenant Kaleem who was close by. My beloved son embraced shahadat on the spot but until the very end, Capt Bilal kept encouraging and exhorting his men to fight and destroy the enemy who had dared to threaten their motherland.


It is worth mentioning that Capt Bilal (shaheed) had topped the Basic Intelligence Course in 2008 and had opted for induction into Corps of Military Intelligence (CMI). Accordingly, on August 1, 2009, GHQ issued his posting order from 4 AK Regiment to Islamabad. He was required to report for his new assignment by December 1, 2009 but regardless of his posting order, Capt Bilal remained at the forefront of every operation of his unit and volunteered himself for this operation just as he had done in previous operations.


As a son he always told me that if Allah Almighty gave him an opportunity, he would bring honour not only for the family but also for Pakistan Army and the nation as well. His desire for martyrdom was evident when he volunteered to lead the unit in a challenging mission. To honour his sacrifice and as testament to his unprecedented valour, bravery and courage shown in the operation, the ridge where Capt Muhammad Bilal Sunawar shaheed bequeathed his final and ultimate debt to his regiment and country has been named after him as “Bilal Ridge.” Along with Shaheed Capt Bilal, six soldiers also embraced martyrdom with bullet wounds but my son was the only one hit by a rocket launcher.


Bilal loved his family very much especially his mother who died on April 30, 2008 after a prolonged illness. He loved his mother immensely and left no stone unturned in showing her to doctors in all over country, apart from CMH Rawalpindi where she was admitted. A few days before his martyrdom, he confidentially told his schoolmate, Umair that if he embraced martyrdom during the operation, he should be buried at the feet of his mother’s grave in Chaklala, Rawalpindi. After the demise of his beloved mother, he was extremely caring towards me, his brother and sisters. Capt Bilal was laid to rest on November 21, 2009 at the feet of his mother according to his last wish. Capt Bilal’s mother must have been proud to be known as martyr's mother today and that she instilled the highest virtues of bravery, passion and sacrifice in her son.


We had been looking for a decent family and compatible match for Bilal for years but we did not know that Allah Almighty has already decided his match and marriage in the heaven. My son has not only earned a worldly respect and honour, but he has willingly opted for a higher pedestal and thus attained eternity.


Before going to South Waziristan, he had served for two years with the 111 Brigade in Rawalpindi, where he usually commanded the ceremonial ‘Guards of Honours’ provided to visiting foreign dignitaries.


I am extremely proud and honoured that Allah Almighty has willed the martyrdom of my son I love so dearly. May Allah Almighty accept his supreme sacrifice and give us courage and patience to bear this irreparable loss of loving brother, and a very caring and obedient son. Amen.

 
10
January

عظیم انسان عظیم شہادت

Published in Hilal Urdu

تحریر: ناصر اقبال خٹک

لیفٹیننٹ کرنل فیض اﷲ خٹک

پاک فوج کا ہر جوان اپنی زندگی اپنے ملک و قوم کی حفاظت کے لئے وقف کر دیتاہے۔ اسے اپنی اِس زندگی سے زیادہ اُس زندگی کی خواہش ہوتی ہے جو اُسے شہادت کے بعد ملتی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل فیض اﷲ خٹک ایسے ہی انسان تھے جن کی زندگی کا مقصد اپنے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کرنا تھا۔


فیض اﷲ 10فروری 1962میں ضلع کرک کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ فیض اﷲ بچپن ہی سے ذہین اور کسی حد تک شرارتی تھے۔ فیض کو اُن کے والد محترم نے گورنمنٹ پرائمری سکول متوڑ میں داخل کروا دیا۔ ننھا فیض ہر کلاس میں ہر سال بہتر سے بہتر کارکردگی دکھاتا رہا۔ پڑھائی کے ساتھ مال مویشی بھی چراتا تھا۔ غلیل ہی اس کا پہلا ہتھیار تھا اور چھوٹے پرندے اس کا شکار تھے اور شکار میں اس کا کتا اس کا ساتھی تھا۔ کچھ عرصے تک بھیڑ بکریاں بھی چرائیں لیکن اس کے والد محترم نے زیادہ توجہ اس کی تعلیم پر ہی دی۔ پھر ایک دن فیض نے گورنمنٹ ہائی سکول صابر آباد سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ گورنمنٹ کالج کرک سے 1980 میں ایف ایس سی کیا۔ ایک دن اچانک فیض نے اپنے والد صاحب سے فوج میں جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے بھی انکار نہیں کیا کیونکہ والد پہلے ہی ملک کا سپاہی تھا۔ پھر اپنے بیٹے کو کیسے منع کر سکتا تھا۔ 1982کو آرمی میں بحیثیت کمیشنڈ آفیسر 69پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی۔ دو سال کی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد
29FF
میں پوسٹ کر دیئے گئے۔ جہاں سے بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ عسکری زندگی شروع کی۔ وہ شروع ہی سے بہت محنتی تھے۔ ایمانداری ان کی رگوں میں شامل تھی۔ وہ ہمیشہ اچھی سوچ کے مالک رہے،ان کا ملٹری کیریئر ہمیشہ شاندار رہا۔ وہ دن بھی آ گیا جب وہ کمانڈنگ آفیسر بن گئے۔ اپنی ہی پیرنٹ یونٹ کے کرنل بن گئے۔ ان کے کرنل بننے پر پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ صدقے خیرات بھی کئے ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا۔ جب میجر تھے تو شادی کے بندھن میں بھی بندھ گئے۔ کرنل بننے پر اﷲ نے لخت جگر حمزہ کے روپ میں دیا اور اُن کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں۔ حمزہ ان کی پہلی نرینہ اولاد تھی۔ جس کا نام فیض نے خود حمزہ رکھا تھا۔ فیض بہت محبت کرنے والے باپ تھے۔ ہمیشہ اولاد کی اچھی پرورش اور بے لوث محبت کرنے والوں میں سے تھے۔

azeeminsanltcol.jpg
2002میں گوجرانوالہ میں اپنی یونٹ کی کمانڈ ختم کرنے کے بعد بحیثیت سٹاف آفیسر
(UN)
سیرالیون میں سلیکٹ ہوئے۔ بالآخر یو این مشن سرالیون چلے گئے۔ وہاں وہ پوری ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ وہ اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی کبھی نہیں کرتے تھے۔وہ اپنے فرض کو اچھی طرح نبھاتے تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ اپنی قابلیت پر بھرتی ہوا ہوں۔ نہ سفارش کروائی ہے اور نہ سفارش مانتا ہوں۔ جو بہتر لگے گا جو قانون کہے گا وہی مانوں گا۔ ہمیشہ سے سفارش کے خلاف تھے۔ سب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے۔ سپاہی سے آفیسر تک سب طبقوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے تھے۔ 29جون 2004 کی صبح فوجی مورچوں کے ایریا کی آسمانی نگرانی کے لئے
(MI-8)
ہیلی کاپٹر پر جانا تھا۔ صبح ٹھیک 9بجے ہیلی کاپٹر نے اپنے ہدف کی طرف پرواز کی۔ 45منٹ کے بعد ہیلی کاپٹر کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ لینڈ کرتے وقت ہیلی کاپٹر اچانک حادثے کا شکار ہوا اور جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا۔ بروقت کارروائی بھی نہ ہو سکی کیونکہ اچانک بارش بھی شروع ہو گئی اور ہیلی کاپٹر میں ایک فیض اﷲ کے ساتھ 16فیض اور بھی شامل تھے۔


غرض شہادت فیض کا مقدر ٹھہری۔ وہ فرض کی ادائیگی میں پاک فوج کے اس امن دستے کا حصہ تھے جسے اقوام متحدہ کے زیرنگرانی عالمی امن کو یقینی بنانا تھا۔ فیض کی فرض سے لگن اور شہادت نہ صرف پاکستان کے لئے سرمایہ افتخار ہے بلکہ پوری دنیا کے امن پسندوں کے لئے بھی باعث افتخار ہے۔ وہ جس گاؤں کے رہنے والے تھے اُس کی زیادہ تر آبادی غریب لوگوں پر مشتمل تھی اور اُن کی اپنے گاؤں میں روشنیاں بحال کرنے کی امیدیں فیض سے ہی تھیں۔ جس نے اس گاؤں میں جنم لیا تھا۔ جب اس کی لاش اس کے آبائی گاؤں لائی گئی تو ہر طرف غم کا ماحول اور مایوسی کے بادل تھے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی ہر طرف لاالہ الا اﷲ کا ورد تھا۔ لیکن ایک ان کے والد شاہ جہاں تھے جو اس منظر کو چپ چاپ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا لخت جگر ایک نئے سفرپر گامزن ہو چکا تھا اور انہیں اس پر فخر تھا۔ لیفٹیننٹ کرنل فیض اﷲ کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں انتہائی فخر اور شان سے ادا کی گئی اوراُنہیں فوجی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کر دیاگیا۔

 

Follow Us On Twitter