Missing You Baba

Written By: Roshan Taj

(In the Memory of Lt Col Humayun Khanzada Shaheed) On special days like his birthday or Father's Day, I buy a card, write him a letter, tie it to a balloon and let it go; it takes my love up to him. Baba, I always pray for you. I feel proud when people (to this very day) still talk that what a fantastic man you were! How you always helped the needy people in the time of their distress. Your generosity and selflessness was inspiring and unmatched. I have created a facebook group in your honour as you were everything I ever needed in a perfect dady. When I dream about you, I feel happy and sad at the same time. Happy, that you were in my dream, and sad, that it ended too soon.

There is no greater sacrifice than giving one's life for the country. I am sharing my thoughts in loving memory of my respected and beloved father, Lt Col Humayun Khanzada Shaheed. I was four years old when he embraced shahadat on August 30, 1990 at Line of Control (Kel Sector). Father is an important figure in one’s life as he gives great feeling of strength and support. I was lucky enough to be able to spend few years with him though I have a faded memory of the time spent with him. I still remember him bringing chocolates at my 4th birthday when he held me in his hands and said, “When will you grow up my little princess.” Today when I have completed my M.Phil, I miss your company Baba, and wait for your call each moment to pat me for my achievements.

My father was commissioned in Army Services Corps (ASC) with 43 PMA Long Course and was Commanding Officer of 7 Animal Transport (AT) Regiment at the time of his Shahadat. Born in a respectable and educated Khattak family on December 1, 1950 in the Lachi village (District Kohat), my father joined ASC following his father, Major (Retd) Amir Nasrullah, who was also from ASC. Recalling his memories my grandmother tells us, “He was the best son, a mother could ever have.” My mother tells me that my father was very happy at my birth being his second daughter. “I want her to succeed in life and become my pride,” he shared with my mother after my birth. My family shares that he used to call me with the name of Guriya, though I don't remember much of that. Baba, it gives me a feeling of warmth inside to hear these things about you and inspires me to be the kind of daughter you'd be proud of. I wish, I could have spent more time with you.

mb2 Today, when all of us sit as a family, we get to look at photographs saved in a separate album by his name. My mother tells that he was very fond of outings and every Thursday night (being weekend), he would take us out for food or to watch movies. He was also a very good sportsman and we used to watch him while playing football. He taught me how to ride a bicycle and encouraged me to keep trying even after falling down and getting hurt occasionally. Being a family member whenever he got time, he took us out for picnics and enjoyed firing up the grill and cooking up steaks, chicken or fish. I remember my father lying on his bed in his bedroom narrating me stories which I never had the chance to listen again. He used to help me with my homework and his valuable wisdom left a lasting imprint in my mind to this day. On special days like his birthday or Father's Day, I buy a card, write him a letter, tie it to a balloon and let it go; it takes my love up to him. Baba, I always pray for you. I feel proud when people (to this very day) still talk that what a fantastic man you were! How you always helped the needy people in the time of their distress. Your generosity and selflessness was inspiring and unmatched. I have created a facebook group in your honour as you were everything I ever needed in a perfect dady. When I dream about you, I feel happy and sad at the same time. Happy, that you were in my dream, and sad, that it ended too soon. In his last conversation with my mother before his Shahadat on Thursday late night, he enquired about me as I wasn't feeling well and advised her to take care of herself and children. She told him that everything was going to be fine and he shouldn't worry much. He replied by saying, “the night which is meant to be in the grave cannot come at home. May Allah Almighty bless you all.” Lastly, I know you are beside me to this day and looking after me always from above. You are my inspiration, you are my role model. It's my constant desire to be like you, courageous, optimistic and very positive. I love and miss you dearly. May Allah grant you Jannah, (Aameen).

پاک زمیں کا ناز ہیں ہم

تحریر: یٰسین سروہی

کیپٹن فرحت حسیب حیدر شہید ستارہ جرأت کی داستانِ شجاعت محمد یٰسین سروہی کے قلم سے

کیپٹن فرحت حسیب حیدر نے پاکستان آرمی کی مایہ ناز بٹالین 9 پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ جب آپ نے یونٹ میں شمولیت اختیار کی تو 9 پنجاب رجمنٹ بہاولپور کینٹ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی تھی۔نئے آنے والے مہمان افسرکا فوجی روایات کے مطابق استقبال کیا گیا اور موصوف اس نئے مہمان افسر کی استقبالی ٹیم کا ایک حصہ تھا۔ انتہائی شاندار انداز میں استقبال کرنے کے بعد آپ کو میگزین گارڈ لے جایاگیا۔ ایک دن یہاں کی ڈیوٹیاں جاننے کے بعد آپ کو لانس نائیک کے عہدے پر ترقی دی گئی اور بعد میں آرمی کے تمام رینکس کا تجربہ دلایا گیا روزانہ آپ کا رتبہ تبدیل ہوتا رہا اور آپ کمپنی صوبیدار سے سیکنڈ لیفٹیننٹ بن گئے ،ان چند دنوں میں آپ کو ان تمام مراحل سے گزارا گیا جو ایک جوان کی زندگی کا معمول ہوا کرتا ہے تاکہ جب آپ ترقی کرکے یونٹ کمانڈر یا اس سے بڑے عہدے پر فائز ہوں تو آپ کو جوانوں کے تمام مسائل کا ادراک ہو، بعد ازاں نئے آنے والے ہونہار افسر کو الفا کمپنی میں پوسٹ کیا گیا اور جب یونٹ فیلڈ ایریا میں تربیتی مشقوں کے لئے موج گڑھ گئی تو آپ کو یونٹ انٹیلی جینس افسر متعین کیا گیا۔ بحیثیت نوجوان افسر آپ نے اپنی شاندار عسکری صلاحیتوں کابھر پور مظاہرہ کیا اور ہر چھوٹے اور بڑے تربیتی آپریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

1998 کی ابتدا میں آپ کی پوسٹنگ این ایل آئی رجمنٹ میں کی گئی۔ اس وقت 9 پنجاب رجمنٹ کوہاٹ سے کچھ فاصلے پر ایک سرحدی چھاونی ٹل میں تعینات تھی۔کیپٹن فرحت حسیب نے این ایل آئی رجمنٹ میں انتہائی پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور اپنے جوانوں کی اچھے انداز میں تربیت کی۔ 1998 کے آخری ایام میں بھارتی افواج کی ہٹ دھرمی کا جواب دینے کے لئے ہمارے کچھ دستے اپنی سرحدوں کے دفاع کے لئے آگے بڑھے۔ روز بروز بڑھتی ہوئی بھارتی ہٹ دھرمی خطے کا امن و امان تباہ کررہی تھی اس کا بھرپور جواب دینا خطے کے امن کو برقرار رکھنے کے لئے لازمی تھا۔ پاکستانی سربکف سپوتوں نے اپنے آخری مورچوں پر جا کر صف بندی کرلی تاکہ دشمن کی ہر طرح کی جارحیت کا جواب دیا جا سکے۔انہی دستوں میں کیپٹن فرحت حسیب حیدر بھی اپنے جوانوں کے ساتھ اگلے مورچوں میں سینہ سپر تھے۔

کارگل کا علاقہ بھارتی کی فوج کے لئے بہت زیادہ اہمیت کاحامل تھا، ان کو معلوم تھا کہ اگر کارگل پر چند مجاہدین بیٹھ جائیں تو اگلے علاقوں میں متعین انڈین فوج بغیر کسی لڑائی کے ہی مر جائے گی۔ لداخ اور سری نگر کا واحد زمینی راستہ کارگل سے گزرتا ہے۔ سیا چین پر موجود بھارتی فوج کی کمک و رسد اور جوانوں کی تبدیلی کے لئے کارگل سب سے بہتر راستہ ہے۔ یہ راستہ سال کے دس مہینے برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ یہاں قائم آرمی چیک پوسٹوں کی اونچائی 5000 میٹر یا اس سے زائد ہے۔ بھارتی فوج کو انہی دو مہینوں میں سیاچن میں زندہ رہنے کے لئے اپنا راشن پانی اور صف بدلی کرنا ہوتی ہے۔ سیاچین جانے والی اس شاہراہ کو این ایچ ون ڈی کہا جاتا ہے۔ اسی شاہراہ سے اگلے مدفوعہ علاقوں کے لئے بھاری سازوسامان لے جایا جاتاہے۔یہاں مجاہدین کے قبضے کے بعد جہازوں کے ذریعے بھی اپنی سپلائیز کو جاری رکھنا انڈیا کے لئے ممکن نہیں تھا۔ اس لئے یہ راستہ انڈیا کے لئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ کارگل کی چوٹیوں پرکشمیری مجاہدین نے یہ آپریشن کرنے کا فیصلہ انڈیا کے سیاچن پر قبضے کرنے کے فوراً بعد کر لیا تھا اور قبضے کرنے کے لئے بالکل انڈیا والا طریقہ اختیار کیا تھا۔ جب موسم کی سختی کے باعث انڈین فوجوں نے اپنی پوسٹیں خالی کیں تو کشمیری مجاہدین نے ان پر قبضہ کر لیا۔ جب بھارتی فوجی واپس مورچوں میں آنے لگے تو ان کااستقبال مجاہدین نے گولیوں سے کیا اور بھارتی قیادت اس سے بوکھلا گئی،خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور دشمنان پاکستان کی حرکتوں کو لگام دینے کے لئے پاک آرمی کے چند سو سپوت اورسرحدی پیرا ملٹری فورسز حرکت میں آئی اوردشمن سے لڑائی شروع ہوگئی۔ 


pakzamenkanaz.jpgبھارت کو جب مجاہدین کے اس قبضے کی خبر ملی تو اس نے کشمیری مجاہدین سے کارگل دوبارہ حاصل کرنے لئے اپنی کافی فوج استعمال کی جن کی تعداد 2 لاکھ سے زائد تھی۔ جس کو انڈین ائیر فورس کے 60،70 جنگی طیاروں کی پوری مدد حاصل تھی۔ ان کے مقابلے میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر موجود مجاہدین اورباڈر پر متعین پاک فوج کے پاس دستی ہتھیار ہلکی توپیں اور مارٹر گنیں تھیں۔ بھارت نے دوران جنگ جدید ترین بوفرتوپیں استعمال کیں جو بالکل درست نشانہ لگانے کے لئے مشہور ہیں۔اس کے باوجود ان چوٹیوں کا دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوشش میں انڈیا کو بہت بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ خاص کر ٹائیگر ہل کی چوٹی پوائنٹ4590 پر حملے میں انڈیا کی تاریخ کی کسی بھی جھڑپ میں سب سے زیادہ فوجی مارے گئے۔انڈیا کو زیادہ کامیابی نہ مل سکی۔اسی دوران پاکستان نے انڈیا کے مگ 27اور مگ21فائٹر جہاز مار گرائے۔ اسی طرح انڈیا کا ایک ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر بھی گرایا گیا جو پاکستانی سٹنگرز کا نشانہ بنا۔ پاک فوج کے دستوں نے ایک انڈین جہاز بٹالک سیکٹر میں بھی گرایا۔

بھارت کی ہٹ دھرمی کو دیکھ کر پاک فوج نے بھی اپنے نیم فوجی دستوں اور پیر املٹری ٹروپس کو حرکت دی تاکہ کشمیری مجاہدین کی مدد کی جاسکے اور اپنی سرحدوں میں بین الاقوامی دہشت گردوں کو گھسنے نہ دیا جائے۔بھارت نے 1971کی جنگ کے بعد پہلی دفعہ اپنی فضائیہ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس طرح بھارت کی بری افواج درپیش چیلنجز کے مقابلے پر بہت بڑی تعداد میں مقبوضہ کشمیر میں سال ہا سال سے تعینات ہیں۔ اسی طرح کارگل سیکٹر سے مجاہدین آزادی کے چیلنجزکا مقابلہ کرنے کے لئے بھارت نے درجنوں لڑاکا طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے آپریشن کو وجے کا نام دیا۔ جب دشمن کی جارحیت حد سے زیادہ بڑھ گئی تو پاک آرمی کے سپوتوں نے خود کو پیش کیا اور دشمن کو سبق سکھانے کے لئے دشمن کی طرف رخ کیا۔ 4 جون کو دشمن پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھا تو سامنے فرحت حسیب اور راقم اپنے مورچوں میں مورچہ زن تھے، اس روز ہمارے جوانوں نے جی بھر کر دشمن کو نقصان پہنچایا اور یوں دشمن کا ایک حملہ پسپا ہوگیا اور اب کسی بڑے حملے کی توقع کی جا رہی تھی۔ حسب توقع7جون کو دشمن نے ایک بہت بڑی افرادی قوت کے ساتھ کیپٹن فرحت حسیب کے مورچوں پر حملہ کر ڈالا اس بار دشمن کو آرٹلری اور فضائی حمائت حاصل تھی جس سے پاک آرمی کا کچھ نقصان ہوا مگر ہم اپنی خامیوں کو دور کرکے مزید اچھے انداز میں دشمن کو خوش آمدید کرنے کے لئے تیار ہوگئے مگر اس دورا ن ہماری سپلائی لائن میں کچھ خلل پیدا ہوا اس کا دشمن نے بھر پور فائدہ اٹھایا اور خوب آتش برسائی۔9 جون کی صبح کو دشمن نے مارٹروں اور بھاری توپ خانے سے دوبارہ حسیب حیدر کی پوسٹ پر بمباری کی اوراسی جھڑپ میں سخت لڑائی کے دوران کیپٹن فرحت اور ان کے ساتھیوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جب تک ہمارے شہیدان چمن کی رگوں میں لہو اور آنکھوں میں نور رہا دشمن ہماری طرف آگے نہ بڑھ سکا۔ 29جون کو کچھ فاصلے پر میجر وہاب اور آپ کے ساتھیوں نے وطن عزیز پر اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔گلتری سیکٹر میں لالک جان نے دادشجاعت دی اور مادر وطن پر قربان ہوگیا اور یوں ان فرزندان وطن نے اپنا لہو بہا کر وطن کی مٹی کی حفاظت کا حق ادا کردیا۔

کیپٹن فرحت حسیب حیدر نے جس دلیری، بے باکی اور جرأت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے وطن کی آبرو پر اپنی جان نچھاور کی اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔آپ نے وطن کے دفاع کی خاطر پندرہ سے سترہ ہزار فٹ بلند ی پر واقع برف پوش چوٹیوں اور انتہائی نا مساعد موسمی حالات میں انتہائی جانفشانی سے کام کیا۔ اس معرکے میں آپ اور آپ کے جوانوں نے بے خوفی کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ جھپٹ کر پلٹنا اور پلٹ کر جھپٹنا صفاتی اعتبار سے پاکستان کے عساکر کی پہچان بن گیا۔ آپ اپنے مٹھی بھر سپاہیوں کے ساتھ اپنے علاقے میں مورچہ زن رہے اور جب تک آپ کی رگوں میں خون دوڑتارہا دشمن آپ کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکا۔ کیپٹن فرحت حسیب حیدر کی جرأت اور بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کو بعد از شہادت ستارہ جرأت سے نوازا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

سعادت کی زندگی شہادت کی موت

تحریر: رسالدار (ریٹائرڈ) بغداد شاہ

سپاہی سہیل خان کے والدگرامی رسالدار (ریٹائرڈ) بغداد شاہ کی آپریشن المیزان میں شہید ہونے والے اپنے بیٹے کے بارے میں ایک تحریر

زندہ قوموں کی ایک پہچان قوم کے بہادر اور بے باک بیٹے ہیں جو اپنے وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ایسے بیٹے قوم کے سر کا تاج ہوتے ہیں اور قوم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہے۔ ایسا ہی ایک بیٹا سپاہی سہیل خان ہے جنہوں نے اپنی جان وطن کی حرمت پر قربان کر دی۔

سہیل خان نے میٹرک تک تعلیم آبائی گاؤں محب بانڈہ میں حاصل کی۔ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کا بھی بہت شوقین تھا اور والی بال کا بہت اچھا کھلاڑی تھا۔ سہیل خان پاک فوج میں شامل ہونے کا از حد متمنی تھا۔ کبھی کبھی مجھے کہتا تھا کہ ابو مجھے فوج میں بھرتی کروائیں کیونکہ آپ توخود بھی آرمی میں رسالدار ہیں۔ میں نے اُس کو کہا کہ ٹھیک ہے چونکہ میں خود اس وقت کوئٹہ ڈویژن میں 13لانسرز (آرمڈکور) میں سروس کررہا تھا تو میں نے سہیل خان کی پری ٹریننگ کے لئے یونٹ کمانڈنٹ سے بات کی۔ انہوں نے مجھے اجازت دے دی۔ پھر سہیل خان میری یونٹ سے پری ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد گھر واپس چلا گیا۔ میرے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سہیل خان نے بھی وطن کے محافظوں کی صف میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور کوہاٹ بھرتی دفتر چلا گیا۔ تربیت کے دوران ایبٹ آباد ریکروٹمنٹ سنٹر کے مختلف ٹورنامنٹس میں حصہ لیا۔ جس میں سہیل خان نے بہترین کارکردگی پر سنٹر کمانڈنٹ سے انعامات بھی حاصل کئے۔


sahadatkizin.jpgپاسنگ آؤٹ کے بعد جب سہیل خان اپنے فرائض پر مامور ہوئے اس وقت اس کی یونٹ 16ایف ایف رجمنٹ پشاور کینٹ میں تھی جب کرم ایجنسی میں حالات خراب ہوئے تو ملک کے دفاع کے لئے 16ایف ایف کو کرم ایجنسی جانے کا حکم ملا۔ وہ کرم ایجنسی میں تعینات اپنی یونٹ کے ساتھ پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتا رہا۔ وہ وہاں سے ایک ماہ کی چھٹی آیا تو ہم نے اُس کی شادی کرا دی۔ وہ اپنی چھٹی گزار کر واپس چلا گیا۔ میرے بیٹے نے جاتے وقت اپنی والدہ محترمہ سے کہا تھا کہ ماں ہمیں دعاؤں میں یاد رکھنا انشاء اﷲ والدہ کی دعاؤں سے ضرور کامیاب ہوں گے۔ یہ میرے بیٹے کے والدہ محترمہ سے آخری الفاظ تھے۔ سپاہی سہیل خان جب اپنی یونٹ کے ساتھ آپریشن ایریا پہنچا تو کچھ دن گزرنے کے بعد ہمارے ملک کے خلاف شدت پسندوں نے چوگی قلعہ پرحملہ کیا جس کا پاک فوج نے ان شرپسندوں کو مؤثر جواب دیا اس وقت سخت سردی کا موسم تھا اور اس جوابی کارروائی کے دوران کچھ سپاہی زخمی بھی ہوئے۔ مگر میرے بیٹے نے اپنے حوصلے کو بلند رکھا اوردشمن کو مزید آگے نہیں بڑھنے دیا۔ سپاہی سہیل خان شدت پسندوں سے ڈٹ کر مقابلہ کر رہا تھا۔ اس دوران دشمن کی طرف سے شدید فائرنگ جاری رہی۔ خراب موسم کی وجہ سے ہتھیاروں کی رکاوٹیں پیش آتی رہیں جو بھی ہتھیار فائر نگ کے دوران رک جاتا تھا تو سپاہی سہیل خان ان ہتھیاروں کی صفائی اور رکاوٹیں دور بھی کرتا تھا۔اس نے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بلند رکھا اور دشمن کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔

31جنوری2012 کو شدید فائرنگ جاری تھی۔ اس دوران دشمن کی جانب سے کی گئی گولیوں کی بوچھاڑ سپاہی سہیل خان کو شہادت سے ہمکنار کر گئی۔ سپاہی سہیل خان (شہید) میرا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ جب مجھے شہادت کی خبر ملی تومیری زبان پرالحمد ﷲ اور انا ﷲوانا الیہ راجعون کے الفاظ تھے۔

وہ وقت اور دن کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش دن تھا۔ اس دن مجھے اپنے بیٹے سپاہی سہیل خان کی شہادت کی اطلاع موبائل فون پر رجمنٹ کے صوبیدار میجر نے دی تھی۔
قومی پرچم میں ملبوس شہید کے جسدِ خاکی کو تدفین کے لئے گاؤں محب بانڈہ لایا گیا تو پاک فوج کے ایک چاق چوبند دستے نے اسے سلامی دی۔ مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے‘ موت تو برحق ہے اور سب نے مرنا ہے لیکن شہادت والی زندگی ہر ایک کامقدر نہیں ہوتی۔ اگرچہ مجھے بیٹے کی جدائی کا دُکھ ضرور ہے مگر مجھے ملک اور قوم کے لئے اپنے بیٹے کی شہادت کا رتبہ اور بھی اچھالگا میری دعا ہے اﷲ تعالیٰ ایسے بیٹے سب ماؤں کو دے۔میرے بیٹے کی بہادری پر حکومت پاکستان نے اعتراف کرتے ہوئے ان کو بعد از شہادت تمغۂ بسالت عطا کیاہے۔


ہے شوق شہادت کس قدر۔۔۔

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

(پاکستان نیوی)

چھ ستمبر 2014 کو جب دشمن نے اس ملک کے یوم دفاع پر اس قوم کی غیرت کو للکارا تو وہ شاید یہ بھول گیا تھا کہ یہ دن تو خود اس قوم کے آہنی عزم اورشجاعت کامنہ بولتا ثبوت ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس وطن کے بہادر سپاہی دشمن کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو نے دیں گے۔ چھ ستمبر کی صبح جب دہشت گردوں نے پاکستان نیوی ڈاک یارڈ پرحملہ کرنے کی کوشش کی تو محمدارشاد ایس این اے 4 پیٹی آفیسر آف دی ڈے کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہیں جوں ہی دہشت گردوں کی موجودگی کا علم ہو ا انہوں نے افسران بالا کو مطلع کرنے کے ساتھ ساتھ فوری طور پرڈیوٹی پر موجود تمام عملے کو ہدایات دینے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ انہوں نے کمال فرض شناسی اور چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بذات خود ہر سنتری کو ہدایات دیں اورجہاں جہاں ممکن تھا خود جا کر صورت حال کا معائنہ کرتے رہے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پوری ہمت اور دلیری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے ہوئے انہوں نے ایسی حکمتِ عملی اپنائی کہ دشمن کو زیادہ حرکت کا موقع نہ ملے اور وہ ڈاک یارڈ کے اہم حصوں کی طرف پیش قدمی نہ کرپائے۔دشمن کی طرف سے گولیاں اور ہینڈ گرینیڈ فائر ہونے کے باوجود محمد ارشاد اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کرتے رہے کیونکہ دشمن کا کوئی بھی ہتھیار ان کے عزم سے زیادہ طاقتور نہیں تھا۔ان کے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کی بدولت دہشت گرد ایک جگہ محصور ہو کر رہ گئے اوروہ جس بڑی تباہی کے عزم سے آئے تھے‘ اس کے بجائے مدافعانہ حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو گئے تاہم انہیں صرف حصار میں لے لینا کافی نہیں تھا ۔دہشت گردوں کی جانب سے اب بھی فائرنگ جاری تھی۔اپنے فرض کے احساس اورقومی اثاثوں کے تحفظ کی خاطر محمد ارشاد نے دشمن کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے عزم سے اب جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ دشمن کی جانب سے برستی گولیاں ان کے راستے کی دیوار بن سکیں نہ ہی ہینڈ گرینیڈ ان کے بڑھتے قدم روک سکے ۔وہ آگے بڑھتے رہے اور اپنے ساتھیوں کی ہمت بندھاتے رہے۔ ان کے الفاظ اور بلند حوصلہ ان کے ساتھیوں کا خون گرماتے رہے اور وہ وطن عزیز کی حرمت کی خاطر ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ دشمن کی کمین گاہ تک جا پہنچے اور اسی دوران دشمن کی ایک گولی ان کے سر اور دوسری ان کی گردن کو نشانہ بنا گئی لیکن اپنی آخری سانس تک اس ملک کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے محمد ارشاد نے اپنا عہد نبھایا اور اس وقت تک اپنے ساتھیوں کو ہدایات دیتے رہے جب تک ان کے جسم میں زندگی کی آخری رمق باقی رہی۔ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گر گئے اور دوبارہ اٹھ نہ سکے لیکن ان کی اپنی ڈیوٹی سے لگن اور فرض شناسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس ہینڈ ہیلڈ ریڈیو پر وہ اپنے ساتھیوں کو ہدایات دے رہے تھے شہادت کے بعد بھی وہ ریڈیو ان کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔ریڈیو پر ان کے ہاتھ کی مضبوط گرفت اس مصمم ارادے اور عزم کا ثبوت تھی جس کی بدولت انہوں نے اپنی جان قربان کر دی لیکن دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام کر دیا۔ان کے جرأت مندانہ اقدامات اور بہترین حکمت عملی کی بدولت آپریشن کرنے والی ٹیم نے بہت جلد دہشت گردوں پر قابو پا لیا اور تمام دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا کرقومی اثاثوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچنے دیا۔

hayshadat.jpgمحمد ارشاد مری کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔7 جنوری1975 کو پیدا ہونے والے محمد ارشادچار بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے لیکن بڑا بیٹا ہونے کے ناتے ہمیشہ اپنے والدین کے لئے سہارا بنے۔ والد کی ملازمت کے باعث ان کی غیر موجودگی میں محمد ارشاد نے ہمیشہ ایک ذمہ دار بیٹے کی حیثیت سے نہ صرف اپنی والدہ کا ساتھ دیا بلکہ اپنے بہن بھائیوں کے لئے بھی شفیق بھائی کا کردار ادا کیا۔ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جو محبت ،رواداری اور حسن اخلاق ان کی شخصیت کا حصہ تھا‘ اس کی بدولت وہ اپنے اقربا ء میں بے حد مقبول تھے۔ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں گھر کے ایسے سربراہ تھے جن کے بغیر گھر کا تصور ہی محال تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شفقت اور تربیت ان کے بچوں کی شخصیت میں نظر آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ان کا بیٹا ابھی بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے خواب اس کے والد کی طرح بہت بڑے اور ارادے بلند ہیں وہ اس ملک کے ان محافظوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوانے کا خواہاں ہے جن کی عظمت کی داستانیں اس خطے میں نسلوں تک دہرائی جاتی رہیں گی۔

محمد ارشاد کے کمانڈنگ آفیسرکیپٹن ہاشم رضا کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ ایک انتہائی محنتی اور قابل ٹیم ممبر تھے۔ اُن کے مطابق محمد ارشاد پاک بحریہ کے ہر آفیسر اور سیلر کے لئے عزم و ہمت اور فرض شناسی کی ایک زندہ مثال ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ محمد ارشاد کا ذکر ہر نئے آنے والے سیلر اور آفیسر کے سامنے ضرور کرتے ہیں تاکہ ان کی شخصیت میں بھی وہ اوصاف پیدا ہوں جن کی بدولت محمد ارشاد نے اس ملک کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوایا۔۔بحری جہازوں پر موجود کیبن ہمیشہ ایک جیسے نمبروں سے پہچانے جاتے ہیں تاہم محمد ارشاد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پاک بحریہ کے ایک جہاز پرسیلر ڈائیننگ ہال کا نام محمد ارشاد شہید کے نام پر رکھا گیا ہے تاکہ اس جہاز پر آنے والے ہر سیلر کے سامنے محمد ارشاد کی شجاعت کی مثال ہمیشہ موجود رہے۔

لیفٹیننٹ کمانڈر عاطف جو محمد ارشاد کے ڈویژنل آفیسر بھی رہے‘ کہتے ہیں کہ محمد ارشاد ان لوگوں میں سے تھے جو اپنے جونیئرز کے لئے ایک قابل تقلید مثال بن کر کام کرتے ہیں۔محمد ارشاد کبھی اپنے جونیئرز کے ساتھ مل کر کام کرنے سے کتراتے نہیں تھے،ان کے اند ر سیکھنے اور کچھ نیا کر دکھانے کا ایک ایسا جذبہ تھا جو انہیں کہیں رکنے نہ دیتا ۔ وہ ہمیشہ نئے افق کی تلاش میں سرگرداں رہتے اور خوب سے خوب تر کرنے کی جستجو رکھتے تھے۔انہوں نے محمد ارشاد کی فرض شناسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فرض پر کسی اور کام کو ترجیح نہ دیتے حتیٰ کہ اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی کے دل کے آپریشن کے وقت بھی جب انہیں بیٹی اور فرض میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو انہوں نے بیٹی کے آپریشن میں تاخیر گوارا کر لی مگر فرض کو ترجیح دی ۔محمد ارشاد کے سینئر افسران کے مطابق وہ پاک بحریہ کا ایک اہم اثاثہ تھے۔پاک بحریہ کا ہر شخص محمد ارشاد کا مقروض اور شکرگزار ہے کہ انہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کرنہ صرف قومی اثاثوں کا تحفظ کیا بلکہ اس ملک کو ایک بڑی تباہی سے بھی بچا لیا۔

محمد ارشاد نے نہ صرف وطن سے کیا ہوا وعدہ وفا کیا بلکہ اپنے والدین کا سربھی فخر سے بلند کردیا ۔ان کے والدکہتے ہیں کہ میرے بیٹے کی قربانی نے ہمارے علاقے کے لوگوں کا سر بھی بلند کردیا ہے اور آج دیر کوہ ستیاں کی ہر ماں اپنے بچے کو اپنے مُلک کے دفاع کے لئے وقف کرنے کا عزم رکھتی ہے۔تعلیم کے میدان میں ہمیشہ امتیازی کارکردگی دکھانے والے محمد ارشاد نے نہ صرف زندگی کے ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ رہتی دنیا تک ایسے مرتبے پر فائز ہو گئے کہ جس میں ان سے سبقت لے جانا ممکن ہی نہیں۔ ان کی بے مثل شجاعت ، فرض شناسی اور وطن کی خاطر جان قربان کرنے کے اعتراف میں انہیں (بعد از شہادت) ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔


کشمیر جل رہا ہے

(کشمیر کے موجودہ تناظر میں لکھی گئی نظم)

کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر میں ہر گام پہ ہوں ظُلم کے پہرے
ہر آن فضاؤں میں رہیں خوف کے سائے
کشمیر کی وادی میں ہوں سہمے ہوئے بچے
کشمیر کے بیٹوں کے اٹھیں روز جنازے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر کی وادی سے ہوں ماؤں کی صدائیں
کشمیر کی بہنوں کے نہیں سر پہ ردائیں
کشمیر کی وادی میں کُہرام مچا ہو
کشمیر کی بیٹی کی ہوں دلدوز صدائیں
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر ترے بیٹے جھکے ہیں نہ جھکیں گے
حق بات سرِ عام سرِ دار کہیں گے
کشمیر کی آزادی کا دِیا جلتا رہے گا
کشمیر کے پروانے سدا جلتے رہیں گے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر کی وادی سے اٹھیں آگ کے شعلے
کشمیر کی وادی سے اٹھیں خون کے چھینٹے
کشمیر کی وادی میں رہے ظُلم مسلسل
گولی کے نشانے پہ ہو ں کشمیر کے بیٹے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے

غضنفر علی شاہدؔ



Follow Us On Twitter