14
April

ہے سرمایہ افتخار میرا لہو

Published in Hilal Urdu April 2016

تحریر: ناز پروین

سہیل نے اپنی ماں کے ساتھ کیا ہوا آخری وعدہ پورا کیا اور عید سے پہلے ہی گھر پہنچ گیا فرق صرف اتنا تھا کہ سہیل شہید اپنے اُوپر سبز ہلالی پرچم اوڑھے ہوئے تھا۔

ماں ہمیشہ اپنی گود میں آنے والے بیٹے کو اُونچی سے اُونچی پوسٹ پردیکھنے کی متمنی ہوتی ہے‘ والدین کے لئے کبھی کوئی خیال اور خواب اس چیز سے خالی نہیں ہوتا کہ اُن کا بیٹا بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا، انجینئر بنے گا ، فوجی افسر بنے گا اور دنیا میں نام روشن کرے گا۔ اپنے لال کے سر پر سہرا بندھے دیکھتی ہے۔ پھر اُسے تصور میں پھلتا پھولتا دیکھتی ہے اور ہمیشہ اُسے درازئ عمر کی دُعا دیتی مگر کبھی اُسے لہو میں ڈوبا اور کفن میں لپٹا نہیں دیکھتی بلکہ ایسا تصور یا سوچ آتے ہی کانپ سی جاتی ہے ۔ مگر اس کے باوجود پاکستان کی اس دھرتی سے ابھی میجر عزیز بھٹی اور راشد منہاس جیسے لال اور اُن کا جذبۂ شہادت ختم نہیں ہوا۔لیفٹیننٹ سہیل بھی ایک ماں کا وہ راج دُلارا ثابت ہوا جس پردھرتی ماں فخرکرتی ہے۔ لیفٹیننٹ سہیل نے دھرتی پر مانسہرہ کے ایک متوسط گھرانے میں28جنوری 1987ء کو جنم لیا۔

 

سہیل کے والدِ محترم اب بھی انہیں والہانہ یاد کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ میرے ہاتھوں کی اُنگلیوں پر سہیل کا لمس اب بھی محسوس ہوتا ہے۔جب میرا ہاتھ پکڑ کو وہ مُجھے دُکان پر لے جاتا اور ہمیشہ پستول، ٹینک اور تلوار لینے کی ضد کرتا، پھر وہ ان کھلونوں سے کھیلتا اور ہونٹوں پر ہمیشہ یہ الفاظ ہوتے بابا میں دشمن کو ماروں گا بابا آپ رونا مت۔ پتا نہیں تم مُجھے کیا کہنا چاہتے تھے سہیل! یہ بات مجھے اب سمجھ آئی وہ پستول سامنے پڑی اب بھی میرا حوصلہ بڑھاتی ہے۔ تمھاری ایک ضد پستول خریدنے کی پوری کی اور ایک ضد تمھارے جذبے کے آگے ہار کر کیونکہ جن کے بیٹے اس جذبے سے سرشار ہوں وہ ہارا نہیں کرتے۔ اولاد کی محبت بہت سی جگہوں پر والدین کو کمزور کر دیتی ہے۔مگر جب سہیل جیسی اولاد ملے تو بابا کے دل پر صبر کا مرہم رکھ دیا جاتا ہے اور بابا فخر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو ایسے لال سے نوازا۔ لیفٹیننٹ سہیل (شہید) بطور کیڈٹ 18اپریل 2005ء کو پاکستان ملٹری اکیڈمی روانہ ہوئے اور 14اپریل 2007ء کو اپنی تربیت مکمل کر کے دس آزاد کشمیر رجمنٹ میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کیا اور اوکاڑہ چھاؤنی سے عسکری زندگی کا آغاز کیا۔11جولائی 2007ء میں اپنی یونٹ کے ساتھ عسکریت پسندوں کی سرکوبی کے لئے بنوں روانہ ہوئے۔ رمضان سے پہلے جب سہیل اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے مل کر رُخصت ہوا تو بہنوں اور والدین نے روتی آنکھوں مگر مسکراہٹوں کے ساتھ اُسے رخصت کیا اور وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے اس وعدے کے ساتھ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا کہ چھوٹی عید سب کے ساتھ گھر پر کرے گا۔

 

haysarmayaift.jpg

10آزادکشمیر رجمنٹ کو ستمبر 2008ء میں بنوں سے باجوڑ جانے کا حکم ملا یہ رمضان کا مہینہ تھا 25دسمبر 2008ء کو لیفٹیننٹ سہیل بطور پلاٹون کمانڈر اپنی کمپنی کے ساتھ خار سے لوئی سم کی طرف روانہ ہوئے۔ 26ستمبر 2008ء، 25رمضان المبارک جمعۃ الوداع وہ دن ہے جب وہ دشمن کے ناپاک ارادوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھے۔ دشمن سے دوبدو مقابلہ شروع ہوگیا۔ دشمن نے پہلے سے بہتر پوزیشن کا انتخاب کیا ہوا تھا اور اس کا فائر کافی کارگر تھا۔ تاہم لیفٹیننٹ سہیل اور ان کے سپاہیوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور جوش کے سامنے جلد ہی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دشمن نے اپنی پوزیشن خالی کی اور پسپائی کا راستہ اختیار کیا۔ تاہم لڑائی جاری رہی۔ لیفٹیننٹ سہیل اپنے سپاہیوں کے ساتھ آگے بڑھتے گئے کہ اس اثنا میں دشمن کا فائر کیا ہوا ایک راکٹ ان کے سینے پر آ لگا۔ پاکستان کے اس عظیم بیٹے نے اﷲ اکبر کا نعرہ لگایا، کلمہ شہادت پڑھا اور جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ تاہم وہ اپنا مشن شہادت سے پہلے مکمل کر چکا تھا۔

 

ماں کی پُکار پر’’ جی‘‘ کہنے والا دھرتی کی پُکار پر کیونکر لبیک نہ کہتا کیونکہ بہادری اورشہادت کا جذبہ بچپن ہی سے خون میں شامل ہوتا ہے اور ماں کبھی اپنے بچے کو لاڈ و پیار کے باوجود بزدل نہیں بناتی۔ اُسے بہادری کا درس دیتی ہے اور اُسے اس جذبے سے آشنا کرتی ہے۔سہیل نے اپنی ماں کے ساتھ کیا ہوا آخری وعدہ پورا کیا اور عید سے پہلے ہی گھر پہنچ گیا فرق صرف اتنا تھا کہ سہیل شہید اپنے اُوپر سبز ہلالی پرچم اوڑھے ہوئے تھا۔ لیفٹیننٹ سہیل شہید کو اُن کی جرأت اور بہادری کے اعتراف میں ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔

 
23
April

A Tale of Hindu Family

Khaita Ram, THARPARKAR and Pak Army

Written By: Zain-ul-Maqsood

The region of Tharparkar is spread over 22,000 square kilometres, and has a population of about 1.5 million, residing in 2,300 villages and urban settlements. The area is divided into six talukas – Mithi, Islamkot, Chhachhro, Dihly, Diplo and Nangarparkar – the area receives rainfall in varying degrees and sometimes, none at all.

2014 happened to be an unfortunate year for the people of Tharparkar as this year, the area didn't receive rainfall and this resulted in the onslaught of drought. The scattered, uneven rainfall affected thousands of people and their families as major source of income in these areas, apart from live stock, is farming. The famine had devastating effects on the population and tens of thousands of people became a victim, including innocent children. Driven by desperation, people had to leave their homes in order to look for a place where water was available. Starved children, shortage of water and sick cattle were seen everywhere. Pakistan Army coloured this bleak, dark and gloomy picture by extending their help.

One of these inopportune, yet lucky, families was a Hindu family of Khaita Ram, living in the outskirts of Mithi, in a small dwelling area usually called Goth. The family consists of 12 people, who live in a kacha hut, which is locally known as Jhuggi or Ghopa. “If it was not for Pakistan Army, we would have lost all hope”, said Khaita Ram, the head of the family who was very grateful for the aid that Pakistan Army provided. Ram lives with his wife Gayeti, three daughters; Leela, Saavi, Mukhi and his son Rahul. Rahul's wife Aasha and their kids Nirmal, Komal, Neha, Makhul and Sunny, also live with Kahita Ram. Although Khaita Ram and Rahul get minimal jobs as sanitary workers or crop-harvesters – but they are not enough to feed 12 people in their home. Their major source of income, like other people in Tharparkar, is live-stock but due to the fact that they are poor, they only have a flock of 20 goats. Moreover, because of the drought, even animals got sick, were malnourished and were suffering from several ailments. The family was in dire need of help and their prayers were answered in the form of Pakistan Army's helicopters bringing relief goods. Rahul, Khaita Ram's son, was ecstatic to receive the relief goods and said, “If the soldiers were not here with these goods, I would have lost something very important: my family.” During the relief operations by Pak Army, Khaita Ram's family has been provided with sufficient quantity of flour, rice, ghee and lentils, which are good enough to last a season. They've also been provided with clean drinking bottled water.

Pakistan Army has set up their relief camps at Mithi‚ Chhachhro‚ Nangarparker‚ Islamkot and Diplo to lend a hand to the families in this hour of need. Family of Kahita Ram is not the only one that been helped by the troops of Army. There are hundreds of them who have been provided help at their door steps by soldiers. There has not been any discrimination whatsoever and everyone has been fully helped and assisted. In its relief operation, Pakistan Army has, so far, dished out approximately 110 tons of food supplies to the famished Tharparkar families. Relief camps, food/water supply, provision of basic necessities, medical facilities and what not… The Army did more than it could to lessen the problems of drought-stricken families. Doctors and healthcare specialists from Army Medical Corps have established field hospitals and are aiding people round the clock. Checkups, medicines, consultations; the doctors are doing their best to support the affected people. These medical camps, have provided medical assistance to around 3500 patients in that area during the past few weeks.

Khaita Ram, with tears in his eyes, told an official “I thought I would lose my family; hunger, thirst and sickness would envelope us, but these soldiers saved us…I am grateful for their help”. It is a common misconception that Hindus or other minorities are not considered important in our country but the kind behaviour of Pakistan Army towards Khaita Ram's family has set an example that we all are linked together through the bond of humanity. Race, religion, colour, caste, creed doesn't matter; what matter the most is that they are humans and are in a bad condition. Helping them doesn't give anybody a higher status; it gives a sense of relief and satisfaction. Not only to the soldiers, but to the countrymen, also; they are content that innocent children are safe, they have food, water and clothing and are not going to die. Being tied together by the notion of humanity is like making an unbreakable vow where you have to reach out and help those who are in need. Our religion focuses on this aspect as well. The soldiers of Pakistan Army did what they are taught to do. Pakistan Army trains its men to serve and defend each Pakistani without any discrimination.

The writer is on the faculty of Foundation University, Rawalpindi. This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
10
May

زندگی عبادت ہو جیسے

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: جبار مرزا

مشیت الرحمن ملک تمغۂ قائداعظم کے ذکر سے پہلے مجھے جوان دنوں کا اپنا ہی قول یاد آ گیا کہ ’’مر جانا کوئی بڑی بات نہیں زندہ رہنا کمال ہے۔‘‘ بعض لوگ کبھی نہیں مرتے۔ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔


کیپٹن مشیت الرحمن ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے۔ 1952 میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ فوج میں گئے کوہاٹ ٹریننگ سے فارغ ہوئے تو پہلی پوسٹنگ ہزارہ ڈویژن کے مارشل ایریا شنکیاری میں ہوئی جہاں وہ جون 1957 تک کیپٹن ایڈجوٹنٹ رہے۔یکم جون 1961 میں وہ ملتان میں تھے۔وہاں وہ نوجوان افسروں کو دستی بم کی ٹریننگ دے رہے تھے۔ پن نکالنا سکھا رہے تھے، پن نکالی ہی تھی کہ بم کیپٹن مشیت الرحمن کے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا۔ سی ایم ایچ ملتان میں ان کی بیگم عصمت، جو ان کی پھوپھی زاد بھی تھیں، جن سے 1960میں جھنگ میں شادی ہوئی اور دونوں کی ثمر نامی بیٹی بھی تھی، کی اجازت سے کیپٹن مشیت کی زندگی بچانے کے لئے ان کے دونوں بازو کاٹ دیئے گئے ۔ کٹے ہوئے بازو اور آنکھوں پر بندھی پٹی کے ساتھ کیپٹن ملک کو راولپنڈی سی ایم ایچ شفٹ کر دیا گیا۔ جب پٹی کھلی تو کیپٹن مشیت پر کھلاکہ وہ آنکھوں جیسی عظیم نعمت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ کسی بھی انسان کے لئے کس قدر کربناک لمحات ہیں جب اسے پتہ ہو کہ وہ آدھے سے زیادہ کٹ چکا ہے اور بچا ہوا جسم اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے، جو دن اور رات میں امتیاز کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔ لیکن وہ کیا ہے کہ اﷲ پاک کسی شخص کو بھی اس کی برداشت سے زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتے۔
کیپٹن مشیت الرحمن ملک ایک حوصلہ مند جوان اور روائتی فوجی تھے جن کا مقصد ہی خطرات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ جو ہر وقت ناموس وطن اور دھرتی کی حفاظت کے لئے دشمن کے خلاف مورچوں میں اترے ہوتے ہیں۔ کیپٹن مشیت الرحمن کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی تھی۔ وہ فوج کے چھوٹے مورچے سے نکل کر زندگی کے بڑے محاذ پر اولوالعزم شخصیت کا روپ دھار چکے تھے۔ ہرے زخم جب بھر گئے تو ایک آنکھ میں روشنی کی واپسی کی امید پیدا ہوئی۔ آئی سپیشلسٹ بریگیڈیئر پیرزادہ نے کیپٹن مشیت لرحمن کی برطانیہ روانگی کا اہتمام کیا۔ فوج اپنے غازیوں اور شہیدوں کو بہت عزیز رکھتی ہے۔ قرنیہ لگا دیا گیا۔ رتی برابر دکھائی دینے لگ گیا جب دروبام چمک اٹھتے تو وہ جان جاتے کہ صبح ہو گئی ہے اور بقول فیض صاحب زندگی کا زندان تاریک ہوتا تو وہ سمجھ جایا کرتے کہ اب میرے وطن کی مانگ ستاروں سے بھر گئی ہے۔

zindagiebadta.jpg
کیپٹن مشیت الرحمن ملک برطانیہ سے پلٹے تو مصنوعی بازو لگے ہوئے تھے۔ فوج نے جھنگ میں ایک کنال کا رہائشی پلاٹ الاٹ کیا تو انہوں نے وہ پلاٹ اپنی بیگم عصمت کے نام کر دیا۔ اسی عرصے میں بیٹے حمیت الرحمن کی ولادت ہوئی۔ کیپٹن مشیت کی بیگم عصمت ڈاکٹر تھیں۔ جن سے بعدازاں اُن کی علیٰحدگی ہوگئی۔ بہرکیف کیپٹن مشیت نے معاشتی طور پر خود کو سنبھالا دینے کی بہت کوششیں کیں۔ فوج کی طرف سے معقول پنشن ملنے کے باوجود دیگر ضروریات سے نبرد آزما ہونے کے لئے مختلف کاروبار کرنے کی کوشش کی‘ پرنٹنگ پریس لگائی کیونکہ فوج میں کمشن حاصل کرنے سے پہلے مشیت الرحمن فیصل آباد کے روزنامہ’سعادت وغریب‘ اور ’عوام‘ کے ساتھ وابستہ رہ چکے تھے۔ جہاں وہ لائیلپور کی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ اس تمام مہارت تجربے اور صحافتی جان پہچان کے باوجود وہ پرنٹنگ پریس بھی نہ چلا سکے۔ فوج میں جانے سے پہلے وہ لاہور باٹاپور شو کمپنی میں ملازمت بھی کرتے رہے۔ یعنی زندگی کی ساری دھوپ چھاؤں سے گزرے مگر کوئی بھی کام وہ پورا نہ کر پائے۔ آخرکار 1965میں انہوں نے فیصل آباد میں اپنے گھر کے گیراج میں ہی نابیناؤں کے لئے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس کا نام پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ رکھا۔ اس کی بنیاد رکھنے میں کراچی کی ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے بہت ساتھ دیا۔ فاطمہ شاہ جو1916 میں بھیرہ میں پیدا ہوئی تھیں، میڈیکل ڈاکٹر تھیں۔ 1948میں اپوا کی سیکرٹری ہیلتھ رہیں۔ 1956میں ان کی بینائی یک دم ختم ہو گئی تھی۔ انہوں نے 1960میں پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ قائم کی اور اس کی بانی ہونے کے ساتھ ساتھ 19سال تک اس کی صدر رہیں۔ سکولوں کالجوں میں بریل
(Braille)
کواضافی مضمون کی طرح پڑھنے کا انتظام کروایا۔ 1974میں پیرس اور برلن میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف بلائنڈ کی صدر منتخب ہوئیں۔ الغرض ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے کیپٹن مشیت الرحمن کا بہت ساتھ دیا اور یہی وجہ تھی کہ کیپٹن مشیت الرحمن جن کی زندگی میں اندھیروں کے سوا کچھ نہ رہا تھا، وہ فاطمہ شاہ کی حوصلہ افزائی سے پھر سے توانا ہو گئے اور 1965میں گیراج میں شروع کئے گئے پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ سرگودھا ڈویژن کے بعد 1967 میں فیصل آباد کی جناح کالونی میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر نابیناؤں کے لئے کرسیاں بنائی کی تربیت شروع کر دی۔ یوں کیپٹن مشیت الرحمن دن بھر بازاروں اور گلیوں میں بھیک مانگتے نابینوں کو اکٹھا کرتے اور انہیں مختلف ہنر سکھاتے اور معاشرے میں باعزت زندگی اور محنت میں عظمت کی تحریک دینے لگ گئے۔ کیپٹن ملک نے اپنا ادارہ رجسٹر بھی کروا لیا تھا پھر 1970 میں باقاعدہ تعلیمی شعبے کا آغاز کر دیا گیا۔ نابینا بچوں اور بالغوں کے لئے بریل کے ذریعے تعلیم کا حصول ممکن بنایا۔ 1971 میں مقامی لائنز کلب کی مدد سے صوتی کتب
(Electronic Books)
کی لائبریری قائم کی جس میں پہلی نابینا بچی کا داخلہ ہوا۔ پھر فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج اور دیگر سکولوں میں مربوط تعلیم پروگرام شروع کیا۔ 1977میں محکمہ اوقاف نے گورونانک پورہ چک نمبر 279نادر خان والی میں ایک گرودوارے کی عمارت کیپٹن مشیت الرحمن کے حوالے کر دی۔ جہاں جناح کالونی والا ایک کرائے کا کمرہ چھوڑ کر وہ اپنا ادارہ گرودوارے میں لے گئے اور اس کا نام اتحاد مرکز نابینا رکھا جو بعد میں المینار مرکز نابینا ہو گیا۔


جنرل ضیا الحق 1978 میں فیصل آباد گئے تو کیپٹن مشیت الرحمن کی محنت اور نابیناؤں کی زندگی سنوارنے کے عمل سے بہت متاثر ہوئے اور فیصل آبادمیں ادارے کے لئے کوئی مناسب جگہ دینے کا حکم دیا۔ یوں پھر فیصل آباد کے اقبال سٹیڈیم کے نزدیک 1979 میں کیپٹن مشیت الرحمن کچھ اراضی اور ادارے کی تعمیر کے لئے رقم بھی دی گئی۔ علاقے کے مخیر لوگوں نے بھی ادارے سے مالی تعاون کیا۔ لڑکیوں کی تعلیم کا علیحدہ شعبہ اور قیام کے لئے گرلز ہاسٹل بھی تعمیر کیا گیا۔ نابیناؤں کو پہلے میٹرک تک باقاعدہ تعلیم و تربیت اور ہنر سکھانے کا آغاز ہوا۔ مقامی طلباء کے لئے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی ادارے نے دینا شروع کر دی اور دوسرے شہروں کے طلباء و طالبات کے لئے علیحدہ علیحدہ ہاسٹل بنائے گئے۔ ادارے کا نظام ایک بورڈ کے سپرد کیا گیا۔


کیپٹن مشیت الرحمن نے نہ صرف نابیناؤں کو ہنر اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ بے روزگار نابیناؤں کو سرکاری ملازمتیں بھی دلوائیں ۔ بعضوں کی آپس میں شادیوں کا بندوبست اور ان کی اگلی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے بھی اقدامات کئے۔ کیپٹن مشیت الرحمن جنہیں نصف درجن سے زیادہ زبانوں پر عبور حاصل تھا، جو کئی مذاہب اور ثقافتوں کا مطالعہ بھی کر چکے تھے۔ ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ پہلی نظر میں انہیں دیکھ کر گوشت پوست کا معذور سا شخص سمجھ کر ہر کوئی اپنے تئیں ترس کھانے لگتالیکن جب ان سے گفتگو کرتا اوران کے عزائم سے آگاہی پاتا تو ترس کھانے والا شخص عقیدت سے ان کے ہاتھ چوم کر رخصت ہوتا۔


8جون 1974 کو کیپٹن مشیت نے خالدہ بانو سے دوسری شادی کرلی۔ انہوں نے شادی کے بعد اپنی اہلیہ کو ایم اے اردو اور بی ایڈبھی کروایا۔
ان کے دو بیٹے ہیں۔ ودیعت الرحمن بیٹا اور سحر مشیت بیٹی ہے جو اسلام آباد میں بحریہ کالج میں گونگے بہروں کو پڑھاتی ہیں وہ شاعر ادیب اور معروف قانون دان رائے اظہر تمغۂ شجاعت کی شریک سفر ہیں۔


خالدہ بانونے شادی کے بعد جہاں کیپٹن مشیت کی دیکھ بھال کی ان کے اداروں کا انتظامی کنڑول سنبھالا، اپنی تعلیم مکمل کی وہاں ایران، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے علاوہ ملکوں ملکوں کیپٹن مشیت کے ساتھ بین الاقوامی نابیناؤں کی کانفرنسز اور خصوصی اجلاسوں میں شریک بھی ہوئیں اور فروری 1977میں کیپٹن مشیت کے ہمراہ شاہ فیصل سے بھی ملیں۔ آٹھ غیرملکی دوروں کی طویل کہانی، کامیابیاں اور کارنامے اور بھی طولانی ہیں۔ کیپٹن مشیت نے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ ’’انسانی آنکھیں‘‘ یہ آنکھوں کی ابتدائی بیماریوں اور مسائل سے لے کر نابیناپن اور بصارت کی بحالی تک محیط ہے اور مستند مانی جاتی ہے۔ خالدہ بانو دو کتابوں کی مصنفہ ہیں ایک ان کی سوانح ہے’ سفر حیات‘ اور دوسری اس طویل اور ضخیم کتاب کی تلخیص ہے۔ کیپٹن مشیت الرحمن ملک صدارتی تمغۂ قائداعظم پانے والے معذور ہوتے ہوئے بھی بھرپور زندگی گزارنے اور اپنے مشن کی تکمیل کے بعد 20نومبر2011 کو اکیاسی برس کی عمر میں رحلت فرماگئے اور فیصل آباد کے محمد پورہ والے قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

نعت

آقاؐ میری بس اتنی تمنا قبول ہو
مجھ پہ تیری نگاہِ کرم کا نزول ہو
دیکھوں میں جس طرف نظر آئے تُو مجھے
عشقِ نبیؐ کا لازم یہ مجھ پر اصول ہو
آلِ رسولِؐ پاک کا ہوجائے یوں کرم
بخشش میری جو ہو تو وصیلہ بتول ہو
ہو جائے یوں علاج میرا اے شافیِ اُمم
خاکِ شفا میری تیرے قدموں کی دھول ہو
گرمجھ سے طلب ہو اِ ک نذرانہ حضورؐ کو
ہاتھوں میں میرے گلشنِ زہرہ کا پھول ہو
حاصل میری وفاؤں کا اے کاتبِ تقدیر
لکھ دے مِرا نصیب میں خدا کا رسولؐ ہو
مسکن میرا ہو گنبدِ خضریٰ کے آس پاس
پیشِ نظر پھر میرے سجدوں کا طول ہو
وقعت کہاں ہے مجھ میں کہ مدحت کروں تری
بخش دیجئے گا مجھ سے سرزد جو بھول ہو
اِ ک نعتِ رسولِ کبریاؐ میری پہچان ہے عتیقؔ
رحمتوں کا کیوں نہ میرے سخن میں شمول ہو
میجر عتیق الرحمن

*****

 
19
June

Balochistan’s Gallant Son (Maj Jalal Ud Din Tareen Shaheed)

Written By: Lt Col Jawad Riaz Bajwa

As I was communicating with my '2nd-in-Command', Maj Jalal Ud Din Tareen Shaheed, and other command echelons through wireless-valiant1set on 21 May 2014 – while we were engaged in exchange of fire with the foreign terrorists in North Waziristan Agency (NWA) – there was suddenly a silence on the communication network. And before I could use the alternative means of communication to know about the situation, Capt Haider Khan, another officer participating in the same operation, reported to me that Maj Jalal had been hit by bullets of the enemy. I was also informed that two more soldiers from my proud unit, Sepoy Saleem Ullah and Sepoy Imtiaz had also received bullet injuries and had embraced Shahadat at the spot. I ordered Capt Haider Khan to immediately assume the command of the situation in place of Major Jalal and also ordered for evacuation of causalities to Field Treatment Centre (FTC), Mir Ali Camp in NWA, as we kept the enemy engaged. “He has been hit in the chest and bullet has damaged his internal organs that resulted in excessive blood loss,” shared doctor at the FTC with me.

He was in critical condition. We realized it, but were equally proud of the fact that Maj Jalal was another addition to the already long list of gallant soldiers of Pak Army who are always ready to lay their lives for the country. A tall, quiet, humble and graceful Maj Jalal Ud Din Tareen was born and brought up in a far flung area of Gulistan, located in Qilla Abdullah District of Balochistan. Hailing from a Pakistan-loving-patriotic-family, Maj Jalal joined Pakistan Military Academy (PMA), Kakul with 94 PMA Long Course in 1994, and was commissioned in 54 Baloch Regiment in 1997. His younger brother, Tariq Tareen, shares that Maj Jalal was very regular in communication with all family members and would always advise them to become useful citizen and was often found talking about Pakistan. Recalling his words, he tells, “Pakistan cannot go weak as along as its people work hard with zeal and enthusiasm and love their country.” I have the privilege of being coursemate of Maj Jalal, and was fortunate enough to be his Commanding Officer, too. Although Maj Jalal could not be promoted last year, but not even for a single moment did he give any gesture of being unhappy and was as good an officer as he used to be before his Selection Board. This is indeed beauty of Pakistan Army and its system that the soldiers prefer to work for country rather than for promotions and privileges. Maj Jalal was one such example besides many, who continue to serve the country in their own way.

valiant2“We should continue to work on training aspects of the soldiers as better trained soldiers will prove their mettle during the conduct of operations,” said Maj Jalal while discussing professional affairs of the unit with me, a day prior to his Shahadat. He was a driving force for all of us in the unit. One day once I asked him to proceed on leave, and his reply was simple: “I am not tired. I am never tired of wearing uniform and will only proceed to meet my family after spending the coming Eid with my troops.” Probably that Eid may never arrive now but his under command troops recall his words each day and admire his love for his soldiers. So intense was his love for his men that while being evacuated to FTC, he was not much worried about himself but was continuously asking about the health and condition of his two fellow soldiers who received bullets in the same incident and was reciting the Kalima continuously, recalls Subedar Major Alam Hussain, who was with him in FTC, Mir Ali.

Major Jalal was a marvelous support for me in the extension of my command in the unit. He was highly motivated and a true regimental officer who was involved in every affair of the unit and all operational tasks assigned to the paltaon. We went together to neutralize the terrorists in Mir Ali area on 19 December 2013 and returned victorious, and were happy to fight the terrorists again on another day. That day was to come five months later, on 21 May 2014, to leave its scars on my heart forever.

Although we were course-mates and good friends, but Maj Jalal never addressed me with my name after I assumed the command, and would always call me as 'Sir', which at times was embarrassing for me. And if I expressed un-easiness to be addressed so formally by him, he would say, “Allah has bestowed this rank upon you and you deserved it; it is my duty both officially and in person to respect you for this. I will In-Sha-Allah call you by your name once you are over with the command.”

Dear Jalal, now, I eagerly wait for you to address me with my name. Major Jalal loved his family very much. He was blessed with two sons and two lovely daughters. I never got the chance to talk to his eldest daughter, Umme Kalsoom, but his son Adil Tareen was almost a member of our unit community and we often talked to each other. Maj Jalal remained in touch with his wife on daily basis and was always concerned about their comfort and good life. Haji Muhammad Akhtar (father of Maj Jalal), a brave and courageous Baloch, after receiving Maj Jalal's coffin at home, said “It is Will of Allah and I am proud of my son who has sacrificed his life for Pakistan.” Maj Jalal often discussed situation of Balochistan with me. “I feel so happy that Army has opened many schools in Balochistan and is doing so much for the welfare of the people. I have a strong desire that people of Balochistan get best education and facilities,” Jalal shared with me the other day. He always motivated the troops from remote areas to bring their families in cantonment and educate their children. The bullet wound on the chest of Maj Jalal resulted in excessive blood loss. Although he was transfused three pints of blood during surgery at FTC, but could not sustain the injury and left for eternal abode in the midway to Peshawar, where he was being air-lifted to, for advance treatment. Before evacuation to Peshawar, at Mir Ali, I carried Jalal's stretcher from ambulance to the chopper. That was the last and final moment that I saw Jalal asleep, peacefully, though alive at that time.

Maj Jalal was buried with full military honour in his ancestral town, Saigai (Gulistan), Balochistan. He will always be remembered by his friends, colleagues, family members and above all, 54 Baloch Regiment.

LONG LIVE PAKISTAN

Follow Us On Twitter