13
March

مجھے مار دیجیے

Published in Hilal Urdu

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل عارف محمود

( ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹا ئرڈ سید احمد مبین شہید)

کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین شہید اور موت میں شناسائی بہت پہلے قائم ہو چکی تھی، بارہا قضا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والا یہ نڈر آفیسر 2013 میں کوئٹہ پولیس لائن میں جنازے کے دوران ہونے والے خود کش دھماکے میں معجزاتی طور پر بچا تھا۔ جنازے پہ جاتے ہوئے اچانک سید مبین کی ماں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور وہ جنازہ چھوڑ کر اپنی ماں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے واپس آگئے تھے ، اس دھماکے میں ان کے قریبی ساتھی ڈپٹی انسپکٹر جنرل فیاض احمد سنبل نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ انھیں اب موت کا کچھ خوف نہ تھا،ابھی دوہفتے قبل انھوں نے اپنی سماجی رابطے کی سائیٹ فَیس بک پر ایک نظم میں دشمنانِ امن و انصاف کو یہ دعوتِ عام دی تھی کہ وہ تو حق کی راہ سے ہٹنے والے نہیں ،جو لوگ محض اس جرم پرا ن کی جان کے در پے ہیں وہ بے شک اپنا وار آزما ڈالیں۔

mujymaffkerdj.jpgزندہ رہا تو کرتا رہوں گا، ہمیشہ پیار!
میں صاف کہہ رہا ہوں، مجھے مار دیجیے
( شہید کی فَیس بک۔23 جنوری2017)
اس دن بھی وہ پیارکا عَلَم لئے لاہور کی مال روڈ کو عوام کے لئے کھلوانے چلے تھے،


’’میں خود جا کر لوگوں سے بات کرتا ہوں کہ وہ مال روڈ کو عوام کے لئے کھول دیں‘‘ یہ تھے وہ الفاظ جو انھوں نے مقتل میں جانے سے پیشتر ادا کئے تھے۔ لوگوں سے بات چیت کے دوران انھیں اپنے ایک خیر خواہ ڈی آئی جی نے فون پر بہت اصرار کیا تھا کہ وہ مظاہرے کی جگہ سے چلے جائیں،کیوں کہ انہیں واضح الفاظ میں دہشت گردوں کی طرف سے حملے کی دھمکیاں بھی موصول ہو چکی تھیں لیکن ان کے قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ موت کی دھمکیوں کی ذرا بھی پروا نہ کرتے تھے بلکہ ہر حساس اور اہم آپریشن کی قیادت رضاکارانہ طور پر خود کرتے، جعلی ادویہ سے متعلق احتجاجی مظاہرے میں بھی وہ از خود لوگوں کو منتشر کرنے چلے آئے تھے، جبکہ یہ ان کی ذمہ داری بھی نہ تھی۔ سید احمد مبین کی والدہ بتاتی ہیں 


شہادت کے دن میرا بیٹاصبح گھر سے روانہ ہوتے ہوئے کہنے لگا: ’’ امی آج مجھے تھکاوٹ ہو رہی ہے، بس یہ کام نبٹا کر آتا ہوں پھر آرام کروں گا۔‘‘ میں نے کہا: ’’بیٹا اگر تھکے ہو تو مت جاؤ، تمھارا جانا ضروری تو نہیں۔‘‘ کہنے لگا ’’بس یہ کام کر کے آرام کروں گا۔‘‘ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ ابدی آرام کی بات کر رہا تھا۔


دہشت گرد شکاری کتوں کی طرح سید احمد مبین کی تاک میں رہتے تھے، اس دن بھی چار دہشت گردوں نے فیصل چوک مال روڈ لاہور کا رخ کیا تو ان کا ہدف دیگر معصوم جانوں کے علاوہ سید مبین خصوصی طور پر تھے، احتجاج کے مظاہرین کی حفاظت پر مامور ایس ایچ او عابد بیگ نے بعد میں انکشاف کیا کہ اس نے جب مشکوک افراد کو مقامِ احتجاج کی طرف بڑھتے دیکھا تو رکنے کا اشارہ کیا جس پرایک مشکوک شخص خار دار تاریں پھلانگ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا اور مظاہرین میں شامل ہو گیا جبکہ تین بھاگ گئے۔ یہی 22 سالہ نوجوان دراصل خود کش بمبار تھا جو مظاہرین کے جھرمٹ میں گھرے ہوئے سید احمد مبین کے بالکل قریب جا پہنچا تھا۔وہ اپنی فطری بردباری اور انسان دوستی کے ہاتھوں مجبور مسلسل لوگوں کو سمجھا رہے تھے بلکہ ایک عینی شاہد کے مطابق یوں سمجھیے کہ لوگوں کی منت سماجت کر رہے تھے ،

mujymaffkerdj1.jpg
’’آپ نیک لوگ ہیں ، میں تو گناہگار آدمی ہوں۔۔۔‘‘
ڈپٹی انسپکٹر جنرل کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین کو اکثر اپنی مٹی کی محبت میں ایسے ایسے قرض بھی چکانے پڑے جو کبھی واجب بھی نہیں تھے۔ان کا ایمان تھا کہ احترام انسانیت میں اٹھایا ہوا ہر قدم عبادت ہے ۔ اس عبادت کے لئے وہ ہمہ وقت رضا کارانہ طور پر پیش پیش ہوتے،وہ بے گناہ انسانوں کے قتل پہ بہت کڑھتے تھے،وہ اعلان کر چکے تھے کہ میں اپنے دین اور وطن کے تحفظ میں اپنی صدا بلند کرتے کرتے جہان فانی سے کوچ کر جاؤں گا۔
پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ہو کا شور
میں آخری صدا ہوں،مجھے مار دیجیے ۔!
( شہید کی فَیس بک سے)


اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور امن و محبت کا یہ راہی اپنے قریبی ساتھی زاہد گوندل ایس ایس پی آپریشنز، دیگر چار اہل کاروں اور سات مظاہرین سمیت را ہیِ ملک عدم ہوا۔ پاکستان کے دل اور زندہ دلان لاہور کے شہر میں قیا مت صغریٰ بپا ہو چکی تھی، اب کی بار قضا نے سید مبین کو مہلت نہ دی تھی، بس ان کی صدا ئے امن گونج رہی تھی۔
بارود کا نہیں میرا مسلک درود ہے
میں خیر مانگتا ہوں، مجھے مار دیجیے!
( شہید کی فَیس بک۔23 جنوری2017)


ہُو کا شور سچ مچ ناچنے لگا تھا، امن و محبت کے پھول بانٹنے والا اور لوگوں کی خوشیوں کا داعی ،سیکڑوں گھروں کا رازدار کفیل، ماں کا واحد سہارا اور تین بیٹیوں کا بابل،شہید خاندانوں کا ہمراز و غمخواراور اپنی سپاہ کا سگے باپ جیسا سایہءِ عاطفت، بیوی کا کبھی نہ لڑنے والا دوست اور پیا رکرنے والا سرتاج اور ننھے لخت جگر محمد طہٰ فرید کا ہر دلعزیز بابا اب شہادت کا جام پی کر خاموش ہو گیا تھا۔


شہادت کی خبر نشر ہوتے ہی سید احمد مبین شہید کے کورس میٹوں اور ساتھی آفیسرز کا تانتا بندھ گیا تھا، سبھی ماں کے گرد جمع تھے۔ سید احمد مبین کے والد گرامی اور ان کی والدہ کے رفیق حیات ڈاکٹر کرار حسین 15 سال پہلے داغ مفارقت دے چکے تھے لیکن مبین نے اپنی ماں کو ایک پل بھی احساس نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ تنہا ہو گئی ہیں،یہاں تک کہ وہ خود کو بیوہ ہی نہیں سمجھتی تھیں۔اب اکلوتے بیٹے کی شہادت ان کے لئے ناقابل برداشت صدمہ ہونا چاہئے تھا ، اُس لخت جگر کی شہادت جو اُن کا مونس و غم خوار ہی نہیں زندگی کے نشیب و فراز اور مسائل کا واحد امرت دھارا تھا۔ ان کے قریبی دوست اور جے سی بی کے کورس میٹ لیفٹیننٹ کرنل افتخار نے ہمت کر کے ماں سے بیٹے کے کھو جانے کی بات کی تو صبر و استقامت کی دیوی بولیں:’’ کیا ہو ا میرا ایک مبین وطن کے کام آگیا، اللہ نے اتنے سارے مبین، میری قوم کے بیٹے مجھے عطا کر دیے ہیں اورمجھے شہید کی ماں ہونے کا اعزاز بخشا ہے۔الحمد للہ!‘‘
شہید کی اکلوتی بڑی بہن سیدہ ثروت قسیم اور مبین کا ساتھ ایک بہن بھائی سے زیادہ دوستوں جیسا تھا۔ بچپن، لڑکپن اور نوجوانی سے لے کر اتنی بڑی ذمہ داریوں تک سبھی مراحل پر احمد مبین اپنی بہن کی مشاورت کو خاص اہمیت دیتے تھے۔ ’’بھائی کے ساتھ تو میری اتنی یادیں ہیں کے بتانے لگوں تو ہفتوں میں بھی ختم نہ ہوں، مبین کہنے کو تو میرا بھائی تھا لیکن وہ میرا بچپن کا دوست اور ابا جان کی رحلت کے بعد تو بابل بھی وہی تھا۔‘‘


تعزیت کرنے والوں میں عیسائی اور ہندومذاہب کے لوگ بھی موجود تھے ان کا کہنا تھا کہ ڈی آی جی سید احمد مبین ان کے لئے ایک مہربان اور مددگارشخصیت تھے جو ان کی کمیونٹی کے مسائل بھی حل کرتے اور ذاتی معاملات میں بھی مدد کرتے تھے،وہ صرف مسلمانوں کے نہیں تمام ہم وطن شہریوں کے ہمدرد و غمگسار تھے۔ یہ سید احمدمبین کے والدڈاکٹر کرار حسین کی اعلیٰ تربیت کا کمال تھا کہ سید احمد مبین ایک سعادت مند بیٹے، مخلص بھائی، بہترین شوہر، شفیق باپ اورانتہائی بردبار آفیسر ثابت ہو ئے تھے، ان کا معمول تھا کہ وہ گھر پہنچتے ہی ایک گھنٹہ اپنے ننھے شہزادے کے ساتھ کھیلتے، بیٹیوں کو پیار کرتے اور پھر بچوں کے ساتھ مل کر اپنے ننھے ننھے پیارے پیارے رنگ برنگے پرندوں کی دیکھ بھال کرتے۔ شاعری کے دلدادہ تھے۔فطرت نے مبین کی شخصیت میں ایک خاص جاذبیت اور انسیت پیدا کر دی تھی۔ وہ اپنی اہلیہ سیدہ آمنہ سے کبھی الجھتے نہ تھے، بلکہ اگر کوئی دوسرا دوست اپنے اہل خانہ سے درشت لہجے میں ہمکلام ہوتا تو اسے سمجھاتے اور خاندانوں کو جوڑنے کاکام کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ کو جہاں اپنے سرتاج کی قربانی پر نازہے وہیں ان کا دل اتنے بڑے خلا کو برداشت کرتے کرتے ڈوب سا جاتا ہے، ان کی تو ساری دنیا ہی سید احمد مبین تھے۔ سیدہ آمنہ کہتی ہیں: ’’جو شخص غیروں کے لئے مجسمہ شفقت ومہربانی اور غموں کا مداویٰ ہو اس کا برتاؤ اپنی رفیقہ حیات کے ساتھ کیسا ہو گا!‘‘


سید مبین کو اپنے متعلقین میں اعتدال رکھنے میں خاص کمال حاصل تھا۔ماں کا مقام،خوشدامن کا وقار، بہن کا پیار،بیوی کا استحقاق،لخت جگر کا لاڈ اور دختران نیک اختر کے ناز نخرے سبھی کی فکر کرتے اور سبھی کے حقوق بدرجہ اتم پورے کرتے تھے۔ اللہ نے انھیں تین بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا تھا۔ بڑی بیٹی حبہ مبین آج ایم بی بی ایس کر رہی ہے جبکہ چھوٹی دونوں عبیرہ مبین اور دعا مبین بنیادی تعلیم کے مراحل طے کر رہی ہیں۔ سیدہ آمنہ بتاتی ہیں : ’’جب اللہ نے یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں عطا کیں تو میرے چہرے پر ملال کی پرچھائیاں پڑھ کرمبین نے فوراً مجھے حوصلہ دیا اور کہنے لگے کہ اللہ نے ہمیں جنت کی سند عطا کی ہے، اللہ کا شکر ادا کرو اور خوب خوشیاں مناؤ۔‘‘


کوئی ساتھی ان سے مشورہ چاہتا یا کسی قسم کی مدد کی درخواست کرتا تو اسے اپنے پاس بلاتے، گھر پر آنے اور قیام کرنے کی دعوت دیتے، اس کا مسئلہ حل کرتے، اگر مالی معاونت مانگے تو بلا تردد اس کی ضرورت پوری کرتے۔ اپنے ساتھی شہید ڈی آئی جی فیاض سنبل کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے اور ان کی ضرورتوں کا بدرجہ اتم خیال رکھتے ۔ ایک بار ایک کانسٹیبل نے انھیں بتایا کہ اس کے بیٹے کے دل میں سوراخ ہے اور بیرون ملک علاج کے لئے 20 لاکھ روپے درکار ہیں تو آپ نے اسے کہا کہ بسم اللہ کرو ، اللہ مدد کرے گا۔چنانچہ آپ کی کوشش سے بچے کا علاج بخیر و خوبی ہو گیا اور جب وہ کانسٹیبل سید احمد مبین کا شکریہ ادا کرنے لگا تو بولے ، ’’ اس رقم کا تعلق نہ تو پولیس فنڈ سے ہے اور نہ کسی ناجائز ذرائع سے اور نہ ہی میں نے جیب سے خرچ کیا ہے یہ تو اﷲ کی مدد سے میرے ایسے مخیر دوستوں نے مہیا کی تھی جو تمھیں جانتے بھی نہیں تم بس ان کے لئے دُعا کر دو۔‘‘ اسی طرح ایک کورس میٹ کے بیٹے کو جب بیرون ملک سنگاپور میں علاج کے لئے رقم کی ضرورت پڑی تو سب سے بڑا حصہ سید احمد مبین نے ڈالااور منتظم کو سختی سے منع کیا کہ کسی کو پتا بھی نہ چلے۔ اپنی فوجی یونٹ 42 بلوچ ’الحاوی‘ بٹالین کے لئے ان کے دل میں خاص مقام تھا۔ الحاوی کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل جمیل نے بتایا کہ ڈی آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین اپنی یونٹ کو کبھی نہیں بھولتے تھے اور سولجر سے لے کر سویلین کنٹریکٹر ز تک سب کو پوری توجہ اور عزت دیتے تھے۔ صوبیدار میجر رخسار بتاتے ہیں کہ جب بھی کوئی کیپٹن مبین کو ٹیلیفون کرتا تو لازمی جواب دیتے اور اگر فوراً فون نہ اٹھا سکیں تو جوابی فون کرتے اور ساتھ معذرت بھی کرتے۔ یونٹ میں ان کے ابتدائی ایام کا ذکر کرتے ہوئے صوبیدار میجر رخسار صاحب کہتے ہیں:’’مجھے کیپٹن مبین صاحب کو ہتھیاروں کی تربیت دینے کی ذمہ داری ملی تو کیپٹن مبین آفیسر ہونے کے باوجود ایک شاگرد کی طرح زمین پر دری بچھا کر میرے سامنے بیٹھ جاتے اور استاد جیسا احترام دیتے تھے۔‘‘ یونٹ کے سبھی آفیسرز اور سولجرز ان پر جان چھڑکتے تھے، جب شہادت کی خبر پہنچی تو ’الحاوی‘ کی اعزازی گارڈ کا دستہ ایک گھنٹے میں شہید کے اعزاز میں پہنچ چکا تھا۔

mujymaffkerdj2.jpgسید احمد مبین نے اسلامیہ ہائی سکول میکانگے روڈ کوئٹہ سے میٹرک کرنے کے بعد 1988 میں جے سی بی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ شروع میں وہ کافی کمزور لیکن ہنس مکھ کیڈٹ تھے۔ بریگیڈیئر ارشد سیال ان کے جے سی بی کے پلاٹون میٹ ہیں، وہ بتاتے ہیں: ’’ہم مبین کو اس کی نازکی پر چھیڑتے تھے، وہ بظاہر ہنس دیتا لیکن اس کی خودی کا کمال تب نظر آیا کہ جب پی ایم اے میں پہنچتے ہی مبین نے ایک نیا رخ اختیار کیا، جیسے اچانک کوئی نئی روح اس کے اندر عود کر آئی ہو،وہ نہ صرف تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑھنے لگا تھا بلکہ جسمانی کھیلوں اور مشقوں میں بھی سب کو مات کرنے لگا تھا ۔ لیکن اپنے ساتھیوں کی طرف اس کا رویہ مثالی تھا، اکثر ان کی جگہ بڑی سے بڑی قربانی پیش کر دیتا، ایک بار اپنی پلاٹون کے ایس جی سی ( سینیئر جنٹلمین کیڈٹ) کے طور پر پوری پلاٹون کی غلطی کو اپنے سر لے لیا اور سزا کے طور پر رات بھر گورکھا حالت میں رہنا پڑا ، ایک اور موقع پر جب سینیئرز کے رگڑے سے کمر پر گہرے زخم خراب ہو گئے اور ڈاکٹر نے جاننا چاہا کہ زخم کیسے ہوئے تھے تو ڈٹ گیا اور سزا دینے والے کیڈٹس کے نام نہ بتائے ۔‘‘


سینئر ٹرم میں سید احمد مبین سی ایس ایم (کمپنی سارجنٹ میجر) بن گئے، ان کے ایک اور کورس میٹ میجر ارمغان نعیم نے بتایا کہ ’’جب ہم جونیئر ٹرم میں تھے تو اکثر مبین بھاگتا ہوا آتا اور کہتا ، ’’ اوئے بھاگو ! سی ایس ایم آ رہا ہے‘‘ اور پھر ایسا غائب ہوتا کہ سی ایس ایم کبھی ڈھونڈ نہ پاتا۔ جب خود سی ایس ایم بنا تو کوئی اس سے بچ نہ سکتا تھا۔‘‘


سید احمد مبین نے 17ِ اپریل1992 بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ پاک فوج کی مایہ ناز ’الحاوی‘ بٹالین ، بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور پھر یکے بعد دیگرے اپنے تربیتی کورسوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرتے گئے۔ کپتانی کے ستارے سجانے کے بعد 1995 میں سیدہ آمنہ بخاری کے ساتھ رشتہء ازدواج میں منسلک ہوئے۔ اسی دوران آپ کے انٹیلی جنس کورس کی وجہ سے آپ کو پاکستان رینجرز سندھ میں شر پسند عناصر کے خلاف فیلڈ سکیورٹی کی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ یہ دراصل آپ کی بنیاد تھی جس میں آپ نے انتہائی کامیابی سے سکیورٹی کے فرائض ادا کرتے ہوئے اعلیٰ تجربہ حاصل کیا۔ یہاں آپ کے کوڈ نام کیپٹن کاکڑ کی دھاک بیٹھ گئی تھی،۔ اس دوران آپ کو گولیاں بھی لگیں اور شدید زخمی ہوئے لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، آپ کے آپریشنز جاری رہے ۔ اگلے ہی سال آپ سول سروس کمیشن کا معیار پورا کرتے ہوئے سول سروس اکیڈمی چلے گئے اور پھر پاکستان پولیس میں اے ایس پی کے طور پر لاہور میں تعینات ہو گئے۔ آپ کی اگلی اہم تعیناتی کوئٹہ میں تھی جہاں بطور پولیس آفیسر اغوا برائے تاوان کے متعدد کیس حل کئے۔ در اصل بلوچستان کی سرزمین کا یہ سپوت وطن عزیز کی محبت کا استعارہ بن چکا تھا،سید مبین اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی معمول کے ایک دن میں 18 گھنٹے تک ادا کرتے۔ بعض اوقات تو تین تین دن تک مسلسل آپریشنز میں گزر جاتے اور چھٹی کے دن بھی کام کر رہے ہوتے۔ آپ نے کوئٹہ پولیس کو مایوسی کے اندھیروں اور خوف کی اتھاہ گہرائیوں سے نکالا، ان کی تربیت نو کی، ہر جگہ خود قیادت کرتے ہوئے ان کے اندر سے موت کا ڈر دور کیا ، انھیں ہمت و جرأت عطا کی اور مورال بلند کیا، اپنے زخمی سپاہیوں کے ساتھ پوری پوری رات بِتا دیتے، المختصریہ ان کی غیر معمولی قیادت کا اعجاز تھا کہ کوئٹہ پولیس صرف چھ ماہ کے عرصے میں نہ صرف اپنے پاؤں پہ کھڑی ہو گئی بلکہ علیحدگی پسندوں اور فرقہ واریت پھیلانے والوں حتیٰ کہ دہشت گردوں کے خلاف فوج کی مدد کے بغیر آپریشنز کرنے کے قابل ہو گئی ۔ ان کے قریبی ساتھی بریگیڈئیر فیصل نصیر جو ایک طویل دورانیے تک ان کے ہمراہ آپریشنز کرتے رہے اور ابتدائی طور پر بھی ان کے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کورس میٹ ہیں ایک ملاقات میں بتاتے ہیں ۔


’’سید مبین زیدی دہشت گردوں کے خلاف ایک ہزار سے زائد آپریشنز میں اپنی سپاہ کی قیادت کر چکے تھے،جن میں سے سب سے زیادہ آپریشنز ان کی جنم بھومی بلوچستان میں ہوئے تھے،2012 میں پشتون آباد (بلوچستان ) میں شرپسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی دھاک بٹھانے کے بعد کوئٹہ شہر میں مبین (شہید )نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی تھی۔ کوئی رات ایسی نہ تھی جب سید مبین ہمارے ساتھ پوری رات بنفس نفیس باہر نہ ہوں۔ 2013 کے قومی انتخابات کو ممکن بنانے میں مبین (شہید) نے اپنی سپاہ کے ہمراہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت کوئٹہ اور نواحی علاقوں میں انتخابات کا انعقاد جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا،ہماری خفیہ اطلاعات کے مطابق مشرقی بائی پاس کوئٹہ اور نواح میں دہشت گرد پرامن رہائشی علاقوں میں سرطان کی طرح سرایت کر چکے تھے، آئے دن چھوٹے موٹے دھماکے معمول بن چکا تھا،سید مبین شہید نے میرے دست راست کے طور چار ہزار سپاہ کے ہمراہ چار کلومیٹر تک گھر گھر تلاشی لیتے ہوئے پورے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرایا، اگرچہ اس وقت انھیں راکٹ حملوں کی واضح اطلاعات بھی مل چکی تھیں لیکن وہ عوام اور انتخابی عملے کی حفاظت کے لئے دن رات خود موجود رہتے حتیٰ کہ انتخابات بخیر و خوبی انجام پائے اور اگلا پورا سال کوئٹہ کا امن مثالی رہا۔ سید مبین فرائض کو ذاتی ذمہ داری سمجھ کر نبھاتے تھے،ایک بار ہمارے کچھ لوگ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنس گئے تو مبین ذاتی طور پر رات کے تین بجے میرے ہمراہ ان لوگوں کو چھڑا کر لائے۔‘‘


کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے قیام میں آپ کی خدمات لاجواب تھیں۔ اس ادارے کو پنجاب اور بلوچستان میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور فعال بنانے کے لئے سید مبین شہید نے ترکی اور امریکہ سے جا کر تربیت حاصل کی اور اس ادارے میں جدید ترین اصلاحات نافذ کر کے انھیں عملی جامہ پہنایا۔ کوئٹہ کے بعد آپ کو پنجاب میں کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔ آپ وزیراعلیٰ پنجاب کے مانیٹرنگ سیل کے بھی انچارج رہے اور پھر تا وقت شہادت ٹریفک پولیس میں ڈی آئی جی کے طور پر فرائض ادا کر رہے تھے۔


ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین زیدی شہید کی نماز جنازہ میں ملک کی اعلیٰ ترین قیادت ، فوج اور پولیس کے سپاہ سالاروں اور ملک بھر کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی اور24 گھنٹے کے اندر اندر خود کش بمبار کے سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا۔ دہشت گردوں کے اس گروہ کا تعلق افغانستان سے تھا جبکہ ان کا گرفتار شدہ سہولت کار انوارالحق باجوڑ کا رہنے والا تھا۔ پاک فوج اور پولیس نے نہ صرف ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف ’آپریشن رد الفساد‘کے نام سے بھر پور آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے بلکہ افغانستان حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ملک میں پناہ گزیں دہشت گردوں کی سر کوبی کی جائے۔ پاک فوج کے حالیہ آپریشن کو ’آپریشن ردالفساد‘ کا نام دیا گیا ہے۔

 
13
March

میرا شہید بیٹا

Published in Hilal Urdu

تحریر: شوکت نثار سلیمی

کیپٹن اسامہ شہید کے حوالے سے ان کے والدِ محترم شوکت نثار سلیمی کے قلم سے ہلال کے لئے ایک خصوصی تحریر

یہ 6جون 1989کی ایک سعید گھڑی تھی جب میری گود میں تم نے آنکھ کھولی۔ یوں لگا تھا جیسے چاند میرے آنگن میں اتر آیا ہو۔ خوشبو، روشنی ہماری رگ و پے میں سرائت کر گئی۔ زندگی کی کرنیں جگمگا اٹھیں۔ تال، رقص اور سرور کی کئی شمعیں ضوفشاں ہو گئیں۔ بربط زندگی کی لے پر نغمے پھوٹنے لگے۔ روش روش بہار تھی۔ زندگی اتنی مسحور لگنے لگی تھی جیسے مسرت و شادمانی کی اوک سے خوشبوؤں کا رس پی رہی ہو۔

 

merashahedbeta1.jpgکاروان حیات اپنے جلو میں کتنی ہی گردشوں کے ساتھ رواں دواں تھا کہ 15دسمبر 2015 کو ہوا کے ایک ہی جھونکے سے امیدوں کے چراغ گل ہو گئے۔ میرے چٹکی چٹکی تمام خواب سراب بن گئے۔ عروس وقت نے کالی قبا پہن لی۔ اجل کا یہ پیغام آ گیا کہ ہم نے تمہارا جواں سال اکلوتا بیٹا اسامہ تم سے چھین لیا ہے۔ اب تم اکیلے بیٹھ کر یادوں کے پرنوچتے رہنا۔ دل پر لگے کاری زخم کی تمازت میں چپ چاپ سلگتے رہنا۔ صبح کو رو رو کر شام کیا کرنا اور اپنی آرزوؤں کو کفن پہنا کر پیوندِ خاک کر دینا۔ اسامہ بن نثار میرا لخت جگر، اپنی ماں کا نور نظر اور دو بہنوں کا اکلوتا بھائی، خاندان کے ہر فرد کی آنکھ کا تارا تھا۔ قدرت نے اسے بے پناہ ذہانت، زبان کی حلاوت اور ہاتھ کی فیاضی سے نوازا تھا۔ تعلیم کا آغاز ڈویژنل پبلک سکول فیصل آباد سے کیا۔ چہارم تک سی ڈی اے ماڈل سکول اسلام آباد کا طالب علم رہا۔ پانچویں جماعت انتہائی نمایاں پوزیشن کے ساتھ لاسال ہائی سکول فیصل آباد سے پاس کی۔ چھٹی سے ایف ایس سی تک اسلام آباد کالج فار بوائز F-8/4 اسلام آباد میں تعلیمی کیئرئر کی شاندار کامیابیاں سمیٹیں۔ اعلیٰ تعلیمی مدارج اور گولڈ میڈل حاصل کئے۔ 2007 میں بہت ہی اعلیٰ پوزیشن میں میڈیکل مضامین کے ساتھ ایف ایس سی کیا اور آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں ایم بی بی ایس کے بتیسویں کورس میں بطور ملٹری کیڈٹ داخلہ لیا۔ کالج کی قاسم کمپنی کا یہ مکیں اپنی تحریروں، تقریروں اور نصابی و غیرنصابی سرگرمیوں سے ہر جگہ تموج پیدا کرتا رہا۔


سینئر کمپنی انڈر آفیسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ 20اپریل 2013 کو کاکول اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد بطور کیپٹن ڈاکٹر میڈیکل کور جوائن کی اور اڑھائی سال کے مختصر ترین پیشہ ورانہ عرصے میں اپنی یادوں کے انمٹ نقوش چھوڑ کر 15دسمبر 2015کو ڈیوٹی کے دوران دنیا کے بلند ترین جنگی محاذ سیاچن کے بلتورو سیکٹر میں شہادت کے بلند مرتبے پر سرفراز ہو کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

 

میرے شہید! تمہاری تُربت پر جا کر عہد کرنا ہے کہ وطن کا جو تصور تمہارے ذہن میں تھا اس کے خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ یہ دھرتی اب تک تقریباً ہزاروں شہیدوں کا لہو جذب کر چکی ہے۔ ہمیں یہ پیماں باندھنا ہے کہ جس طرح تم نے دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن پر ساتھیوں کے روکنے اور یہ جاننے کے باوجود کہ سامنے موت باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ آگے ہی بڑھتے رہنے کے عزم پر کاربند رہے تاکہ وطن کا پرچم سرنگوں نہ ہو۔ ہمیں بھی اس پرچم کو بلند رکھنا ہے۔


میرے شام! تم ہمیشہ چہکتے رہتے تھے۔ لیکن ستمبر 2015کے آخری ہفتے سیاچن جانے کے آرڈر موصول ہوئے۔ حج کی غرض سے سعودی عرب کے قیام کے دوران ہماری عدم موجودگی میں ہی تم نے اپنے دوستوں سے کہنا شروع کر دیا تھا کہ مجھے شہادت بلا رہی ہے اور اپنے دوستوں کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ سرجری پارٹ ون کے پیپر نہیں دے سکوں گا کیونکہ میری تیاری کہیں اور کی ہے۔ بیٹے تم نے ہمیں خبر تک نہ ہونے دی کہ تم نے اگلے سفر کی تیاری کر لی ہے۔
تمہاری روحانی آرزوؤں کا مجھے کچھ کچھ اندازہ تھا جو اس وقت یقین میں بدل گیا جب میں نے باتوں باتوں میں ازراہ مذاق آپ سے کہا بیٹا اسامہ! اگر اﷲ سے پیار کرنا ہے تو پہلے عشق مجازی کا روگ بھی پال کر دیکھ لینا چاہئے جس کے جواب میں آپ نے کہا، پاپا جی! جب اﷲ سے ہی پیار کرنا ہے تو دنیا کو بیچ میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔ براہ راست کیوں نہ کیا جائے۔ تمہارے چہرے پر اس سے پہلے ایسی سنجیدگی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ دراصل تم اپنے اﷲ سے سودا کر چکے تھے اور میں کورے ذہن کا خاکی انسان تمہاری شہادت کی تڑپ کو جان ہی نہ پایا۔ تم اپنی تمناؤں میں مولانا رومی اور اقبال ؔ کے فلسفہ فنا فی اﷲ کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے جن کے بے پناہ مطالعے نے تمہاری روح کو بالیدگی عطاکردی تھی۔


تمہاری سہرہ بندی یا سالگرہ ہوتی تو گھر کی منڈیروں پر دیئے جلاتا۔ خوشبوؤں کا چھڑکاؤ کرتا خوشیوں کی لَے اور تال پر تمہارا استقبال کرتا آنکھوں میں امیدیں جاگ اٹھتیں۔ لیکن اب تو تمہاری برسی آتی ہے اسے کس طرح سے مناؤں جس گھر میں تمہارے قہقہے بکھرتے تھے اب وہاں اداسی ڈیرے جمائے رہتی ہے۔ ہم دونوں رات ہوتے ہی دروازوں کی کنڈیاں چڑھا کر اپنی اپنی تنہائیوں میں کھو جاتے ہیں۔ تمہارے متعلق لکھنے لگتا ہوں ہوں تو پور پور جل اٹھتی ہے۔ تمہارا رابطہ نمبر بند ہو گیا، اس نمبر کو ملاتا ہوں تو کوئی جواب نہیں آتا۔ کلیجہ شق ہے۔ گریۂ شب کون دیکھے، نالۂ شب گیر کو کون دیکھے۔ چہرے پر آنکھیں نہیں دو دہکتے انگارے ہیں جو زخموں کی صورت تمہاری راہ تکتی ہیں ۔ چشم خوں بستہ سے لہو ٹپکتا ہے۔ آنسوؤں کا سیلِ رواں مجھے شرمسار کرتا ہے۔ ضبط غم کے سارے بندھن آپ ہی آپ ٹوٹ جاتے ہیں لوگ حوصلہ دینے آتے ہیں تو غم اور بڑھا جاتے ہیں۔ ٹیس ایسے اُٹھتی ہے کہ دیوارِ جاں ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہے۔ بیٹے ! تمہارے سوا میرا رازدان تھا بھی کون، کس کو پکاروں؟ ایسی دیوارِ خستہ ہوں جو کسی بھی وقت گرا چاہتی ہے۔ بہار جاں فزا ہے۔ جس زندگی کو مہمیز دیتی تھی وہ اب اک بے زبان باندی کی طرح ہے۔ شکن آلود وقت کی پیشانی کی جھریاں بہت گہری ہو چکیں اور آئینوں کے عکس یوں دھند لا گئے ہیں کہ ہم اپنی ہی صورت نہیں پہچان پاتے۔


شہید بیٹے! رات ڈھل چکی، پو پھٹنے والی ہے۔ ابھی تمہاری تُربت پہ جا کر پھول رکھنے ہیں۔ یہ پھول تمہارا سہرا باندھتے وقت اس گھر کی دہلیز پر رکھنے تھے جو تنکا تنکا جوڑ کر تمہاری آرزوؤں کے مطابق تعمیر کیا تھا۔ عمر بھر کی جمع پونجی سے تمہارے لئے جو آشیاں بنایا تھا وہاں رہنا تمہارے نصیب میں نہ تھا۔ اب وہاں میں اور تمہاری ماں ہیں اور سلگتی یادوں کے بے پناہ ہجوم اور تنہائیوں کے عفریت۔


میرے شہید! تمہاری تُربت پر جا کر عہد کرنا ہے کہ وطن کا جو تصور تمہارے ذہن میں تھا اس کے خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ یہ دھرتی اب تک ہزاروں شہیدوں کا لہو جذب کر چکی ہے۔ ہمیں یہ پیماں باندھنا ہے کہ جس طرح تم نے دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن پر ساتھیوں کے روکنے اور یہ جاننے کے باوجود کہ سامنے موت باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ آگے ہی بڑھتے رہنے کے عزم پر کاربند رہے تاکہ وطن کا پرچم سرنگوں نہ ہو۔ ہمیں بھی اس پرچم کو بلند رکھنا ہے۔
میرے شہید بیٹے! آپ کے ساتھ ساتھ اور بھی کتنی ہی ماؤں کے جگر گوشے، جوانِ رعنا، مہوشوں کے سہاگ، بہنوں کے بھائی اور نازک اندام بچوں کے باپ اپنی جوانی اس مٹی کی نذر کر چکے ہیں۔ دشمن عددی برتری کے زعم میں مبتلا ہے اور خبث باطن کی حیلہ گری ہمارا راستہ روکے کھڑی ہے۔ لیکن اسے خبر ہونی چاہئے کہ پاکستان کی بہادر اور جری افواج کا ہر سربکف جوان اور افسر، سرفروشی کی داستانیں رقم کر نے کو ہمہ وقت تیار ہے۔ تاکہ وطن عزیز کے گل رنگ سویروں پر کبھی تاریکی کے سائے نہ پڑیں۔


اسامہ بیٹے! آپ نے جس ایثار، جرأت، فرض شناسی اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، آپ کو ایسا ہی کرناچاہئے تھا۔ آپ اس سفر میں اکیلے نہیں افواج پاکستان کا ہر فرد شہادت کے ایسے ہی جذبے سے سرشار ہے۔

 
14
March

قافلۂ جاں نثارانِ وطن کے دو مسافر

Published in Hilal Urdu March

تحریر: کیپٹن عدیل شہزاد

نائیک غلام مصطفی (شہید) اور لانس نائیک احسان اﷲ

(شہید)

وطن پاک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ پاک فوج کا ایمان ہے۔ اپنی دھرتی کی خاطر جان قربان کردینا ہمارے سپاہیوں کا فخر‘ قوم کا وقار اور نسلوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ وطن کی پاک مٹی کی قسم کھانے والے یہ عظیم سپوت اپنے لہو سے فرض شناسی‘ بہادری اور عزم و ہمت کی اِک نئی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ یہ جون 2009کی بات ہے کہ جب پاک فوج راہِ نجات اور راہِ راست کی صورت میں انسانیت کے دشمنوں پر قہرِ ذوالجلال بن کر ٹوٹی تھی۔ جب ہر محاذ پر دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی خاطر اس جنگ کا رُخ شہروں اور معصوم لوگوں کی طرف کردیا۔یوں دشمن کے نزدیک اپنے جسم سے بارود باندھ کر باجماعت نماز میں اپنے آپ کو اڑا دینا عین شریعت اور جہادقرار پایا۔ ان دھماکوں اور خود کش حملوں سے ملک کا کوئی کونہ محفوظ نہ رہا۔

 

26 جون2009 کی رات ایک بجے 10 گاڑیوں اور تقریباً 150 جوانوں کی نفری پر مشتمل پاک فوج کا قافلہ مظفر آباد پہنچا اور سفر کی تھکان سے چور جسموں کو نیند کی مہربان وادی نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ رات کے آخری پہر نے طلوعِ آفتاب کی نوید سنائی اور بادلوں کی سفید چادر میں چھپے چاند نے اُفق کو خیرباد کہا۔ صبح سویرے ملگجے اندھیرے اور دھند کی سفید چادر کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دو دہشت گردعقبی دیوار پھلانگ کر بیرک سے متصل ٹریننگ گراؤنڈ میں داخل ہوئے۔ ان کا ہدف ٹریننگ گراؤنڈ میں تربیتی کارروائیوں میں مشغول فوجی جوان تھے جو اس دن جمعہ کی وجہ سے قرآن خوانی میں مصروف تھے۔ اپنا ہدف نہ پاکر دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر بیرک کی طرف بڑھنے لگے جہاں تقریباً ڈیڑھ سو فوجی جوان موجود تھے۔

qaflaejansar.jpg

پینتیس سالہ نائیک غلام مصطفی جب فجر کی نماز ادا کرکے واپس آرہا تھا تو کشمیر کی یخ بستہ ہواؤں نے اُسے شہادت کی نوید سنا دی۔ رب ذوالجلال سے ملاقات کی اُمید نے اس کی روح کو بے قرار کردیا۔ یکایک اُس کی چھٹی حس نے بیرک کی طرف بڑھتے دہشت گردوں کی طرف اس کی توجہ مبذول کی۔ منز لِ مقصود کو اس قدر قریب پا کر اس کی تشنہ رُوح میں بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ نائیک غلام مصطفی نے ڈیوٹی پر کھڑے سنتری لانس نائیک احسان اﷲ کو الرٹ کیا اور مشکوک افراد کو رُکنے کا حکم دیا۔ آواز سُن کر دہشت گرد بوکھلا گئے اور بیرک کی طرف دوڑ لگادی۔ خطرے کی بو پاتے ہی اس شیر کی تمام حسیات چوکس ہوگئیں اور وہ ایک ہی جست میں بھاگتے دہشت گرد پر جھپٹا اور آن کی آن میں اُسے زمین پر گرا دیا۔ وقت اور فاصلے کی کمی کے پیش نظر لانس نائیک احسان اﷲ کو فائر کرنے کی بھی مہلت نہ ملی۔ صورت حال کی نزاکت بھانپتے ہوئے اس نے حاضر دماغی کا ثبوت دیا اور دوسرے دہشت گرد کو دبوچ لیا۔ حق و باطل کی اس جنگ کا دورانیہ کم و بیش دس منٹ پر محیط تھا۔ مگر یہ لمحے نائیک غلام مصطفی کو اس کی مکمل حیات پر بھاری محسوس ہوئے۔ جب دہشت گردوں کو ان دلیروں کی آہنی گرفت سے راہِ فرار نہ ملی تو انہوں نے وہیں اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ مظفرآباد کی خاموش فضا میں ایک بھونچال آگیا اور زمین دھماکے کی شدت سے لرز اٹھی۔نائیک غلام مصطفی اور لانس نائیک احسان اﷲ نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر کئی ماؤں کی گودوں کو اُجڑنے سے بچا لیا اور زخموں اور چوٹوں سے چھلنی جسموں نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔

 

شجاعت اور بہادری کے اس عظیم کارنامے کے اعتراف میں پاک فوج نے انہیں تمغۂ بسالت سے نوازا اور پورے فوجی اعزاز سے آبائی گاؤں ڈسکہ میں سپردِخاک کیا گیا۔ سیالکوٹ کی زرخیز مٹی جسے ارضِ پاک کی آبیاری لہو سے کرنے کی عادت ہے وہاں ایک خاکی تن شہادت سے ہمکنار ہو کر منوں مٹی تلے ابدی نیند جاسویا۔ شہید غلام مصطفیٰ کی قبر پر نصب کتبے پر یہ عبارت آج بھی نقش ہے۔

خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب

ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

جبکہ لانس نائیک احسان اﷲ کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ اُن کے آبائی علاقے گجرات میں سپردِ خاک کیا گیا۔
 
08
April

A Tale of Two Martyr Brothers

(Lieutenant Colonel Amer Baig Mirza and Major Umar Baig Mirza embraced Shahadat in 2005 & 2009. Their families, today, carry the spirit of martyrdom and the resolve to sacrifice even more for Pakistan)

Written By: Naila Inayat

These days it has really become difficult to keep up with the mass media debates on defining a 'traitor,' the norm of labelling one as a traitor as opposed to a loyalist has become the norm of the day. Sometimes the mere use of terms like: 'martyr', 'patriot', 'nationalist' etc blurs their actual meaning, and as a nation we're experts at doing that. For instance, though ironically, the most-quoted figure of at least 51,000 people, including over 3,500 security personnel, killed in terror acts in Pakistan since 9/11 attacks remains a lifeless figure for many. Of course, yet it is a worrisome moment for all of us as a nation.

In our villages, towns and cities, we come across many families who have lost their dear ones, for no other cause but defending the motherland. These families make us proud due to their unflinching faith in the country, and in the cause for which their loved ones chose to die happily. These families are always seen determined to carry on with the mission of defending the country and it values, the way their loved ones who sacrificed happily while serving the country.

One such family is that of Major Umar Baig Mirza and Lieutenant Colonel Amer Baig, brothers of the current Commandant 'Command and two martyer2Staff College', Quetta Major General Shahid Baig Mirza. All three brothers were commissioned in 11 Punjab Regiment; a Battalion that their proud father, Lieutenant Colonel (Retd) Abdul Haq was also part of. “Both of my martyred sons and my eldest son Shahid were passionate about joining the army and wanted to follow their father. He was one of the prisoners of 1971 war and young Amer used to say that he would join the army to take his father's revenge from Indira Gandhi,” tells the proud mother Zaib-un-Nisa.

“I remember Amer got his arm injured in the earthquake of October 2005, but he kept working for rescue operation without taking rest. Amer and Umar were both much passionate for shahaadat and that they loved Pakistan more than anything,” she added. Zaib-un-Nisa further shared the grief of losing her sons, “it is unexplainable to lose your children but then I feel proud of being the mother of courageous sons who sacrificed their lives while serving for the country. Even their wives are to be commended for putting up such a brave face in the difficult times and bringing up the children in such a nice way. I am proud of them,” she said. “Though Umar was younger to Amer bhai but both were very close to each other,” tells Asma, wife of Umar Baig (shaheed). Recalling the earthquake of 2005, Asma tells that they were stationed in Bagh, where Lt Col Amer and Major Umar were serving in the same unit, 11 Punjab. “The families of all the officers were pulled out immediately and a week later, on Oct 15, 2005, I was in Rawalpindi when Umar's helicopter crashed,” her voice begins to tremble.

The helicopter was on a relief mission and Major Umar Baig Mirza was guiding the pilots to reach to the affectees. It wasn't the first mission for young Umar who had done several relief operations since the October 8 earthquake. Although Umar wasn't asked to go but he volunteered to accompany on the pilot's request for a difficult mission in an uncertain weather. Lieutenant Colonel Roghani, Captain Alamdar and others who embraced martyrdom in the crash shall never be forgotten because of their devotion to duty. “Initially it was very difficult to come to terms with the entire situation, my children were too young and one is never ready for untimely death. But I got strength with the passage of time and by realising that my husband died for a cause – he saved many lives in the relief efforts – his country was his only passion,” she says.

Lieutenant Colonel Amer had always romanticised Shahadat and ever since the death of Umar he became very expressive about his thoughts on martyrdom. “When I got married to Amer, within a few days he had started talking about his desire of Shahadat. When he joined military, he not only spent time at Siachen, but also volunteered for Kargil War in 1999, but he didn't get a go-ahead then,” says Aniqa, wife of Amer Baig (Shaheed). And then on May 27, 2009, an explosives laden vehicle rammed into the gate of ISI office in Lahore that resulted in the death of at least 26 people and injuring many. Lieutenant Colonel Amer Baig Mirza was one of the two ISI officers who embraced Shahadat in the incident. “If there is anything that has kept me strong in tough times is the way Amer carried himself after Umar bhai's Shahadat. He was very calm and composed and kept the entire family together. For Umar's family, we moved to Lahore so that we could be around the children. I had seen him cry for his brother all alone but in front of his mother and rest of his family, he put up a strong demeanour – and that has exactly been my inspiration ever since Amer left us,” she says.

Both Asma and Aniqa (both first cousins) tell that their sons, 10-year-old Ahmed Umar and 17-year-old Adnan Amer are passionate to join the army and someday will wear the uniform. As mothers, where it is definitely a proud moment, but then the lives of officers are so tough that their families often find themselves in difficult situations.

“It has been a tough journey as a wife of an army officer and I can't begin to imagine how it would be as a mother, if at all Adnan decides to follow his father and his uncles. But I will always support him and there is no doubt about that,” says determined Aniqa. “For Ahmed the image of army is still something that he can relate to, the only memory of his father because he was only one-and-a-half-year-old when Umar died and today all he has are the memories and the great work that his father and uncles have done for Pakistan,” says Asma. Owing a debt of gratitude to such valiant sons of Pakistan, 30 April, also known as the Yaum-e-Shuhada (Martyrs' Day), the nation commemorates each year to pay tributes to such unsung heroes who died for a cause – a cause to defend Pakistan at all costs.

The writer is a journalist based in Lahore.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Follow Us On Twitter