26
August

تحریر: وائس ایڈمرل(ریٹائرڈ) عرفان احمد

ہمارا ملک ہر قسم کی قدرتی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال ہے۔ ہماری سر زمین، ساحل، پہاڑ، سمندر سب ہی زرخیز ہیں۔ ان کا ایک اہم حصہ جنگلات ہیں۔ جس طرح کرۂِ ارض پر جنگلات ماحول کا تحفظ کرتے ہیں، اسی طرح ساحل سمندر اور اس سے ملحقہ بحری گزرگاہوں میں بھی جنگلات ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خوبصورت ہرے رنگ کی جھاڑیاں نسبتاً چھوٹے درخت ہیں جو سمندر کے نمکین پانی اور خشکی کے میٹھے پانی کے امتزاج سے معرضِ وجود میں آتے ہیں ۔ یہ درخت ساحلِ سمندر کے ماحو لیاتی نظام کو کار آمد بنانے میں کام آتے ہیں ۔ یہ درخت ایسے علاقوں میں اُگتے ہیں جہاں عام پودے بہت تیزی سے مر جاتے ہیں۔
یہ پودے سمندر میں حیاتیاتی تبدیلی کو روکنے اور سمندری حیات کو پروان چڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ نمکیات کو انتہائی مہارت سے برداشت کرتے ہیں ۔ اس پودے کے فوائد کی ایک لمبی فہرست ہے۔مختلف انواع و اقسام کے پودوں اور سمندری جانوروں کی افزائش میں مدد کرتے ہیں ۔ جھینگوں، مچھلیوں، کیکڑوں، کچھوؤں اور دوسری بحری حیات کو خوراک مہیا کرتے ہیں۔ سمندری لہروں کے زور کو کم کرتے ہیں اور ساحل کو مضبوط بناتے ہیں ۔ گندے پانی اور کارخانوں سے خارج ہونے والے مضرِ صحت اجزا کو جذب کر لیتے ہیں۔ بندرگاہوں کو طوفان سے محفوظ کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔ ساحلی پٹی پر رہنے والے افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ کھانا پکانے، جانوروں کی خوراک اورتوانائی پیدا کرنے کے کام بھی آسکتے ہیں۔ سردی کے موسم میں ہجرت کر کے آنے والے ہزاروں پرندوں کو پناہ گاہ مہیا کرتے ہیں ۔ اس کی لکڑی سازوسامان بنانے، فرنیچر، چھت بنانے کے علاوہ شہد کی مکھیوں کی افزائش اور مختلف قسم کی ادویات کی تیاری کے کام آ سکتی ہے۔

 

sahilsamandar.jpgمختصراً مینگرُوز ایک بہت ہی مفید درخت ہے جو ساحلِ سمندر کی حفاظت کرتا ہے اور اس میں موجود حیاتیات کی نشو ونما کا باعث بنتا ہے۔ اس کی موجودگی سے بہت سے پیچیدہ مسائل حل ہوتے ہیں جن کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بد قسمتی سے اس قیمتی پودے کی حفاظت نہیں کی گئی اور اس کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لئے ماضی میں دور رس اقدام نہیں کئے گئے اس کے بر عکس کہیں ان کو نکال کر آبادیاں بنا دی گئیں اور کہیں بندرگاہ کا حصہ بنالیا گیا۔ اس لئے ان کی تعداد میں نمایا ں کمی واقع ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قیمتی سرمائے کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اس کے فروغ میں نمایاں اقدام اٹھائے جائیں۔
اس اہمیت کے پیشِ نظر پاک بحریہ نے مینگرُوزکی افرائش کے لئے دس لاکھ پودے لگانے کی قابل قدر تحریک شروع کی ہے۔ اس مہم کا آغاز 21مارچ 2016 جنگلات کے عالمی دن کیاگیا۔


یہ مہم وزیر اعظم کی پاکستان کو گرین کرنے کے منصوبے کا بھی حصہ ہے۔ پاک بحریہ بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں ان کی شجر کاری زوروشور سے کر رہی ہے۔ چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنگلات کی اہمیت پر زور دیا اور اس کی افزائش کو آنے والی نسلوں کے لئے ضروری قرار دیا اور ہدایت کی کہ اس تحریک کو عملی جامہ پہنانے کے لئے موثر اقدام کئے جائیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا انہوں نے قدرتی وسائل کی حفاظت کے لئے قائم کردہ بین الاقوامی ادارے
International Union for Conservation of Nature
اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ ، جنگلات کے صوبائی اور وفاقی محکموں کا بھی ذکر کیا اور ان سب اداروں کے کام کو سراہا۔پاکستان میں دو لاکھ بیالیس ہزاردوسو پچیس ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے مینگرووز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے نیول چیف نے مینگرُوز کی حفاظت اور ان میں اضافے کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا۔


مینگرُوز ساحلی علاقوں کے ماحول کو صحت افزاء بنانے اور سمندری ذرائع آمدن سے منسلک افراد کی معاشی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر تے ہیں۔میری ٹائم ماحول کی شفافیت کو برقرار رکھنا ایک قومی ذمہ داری ہے جس کے قومی معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ساحلی علاقوں کی مقامی آبادی خصوصاً صوبہ بلوچستان کے مکینوں کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں پاک بحریہ قابل ذکر کردار ادا کررہی ہے اور مینگرُوزکی شجرکاری کی یہ مہم قومی تعمیر میں پاک بحریہ کی حصہ داری میں سے ایک ہے۔ہم پرُامید ہیں کہ پاک بحریہ کے اس احسن اقدام کو روزافزوں تقویت حاصل ہو گی اور دیگر قومی ادارے پاک بحریہ کی اس کاوش میں حصہ ڈالتے ہوئے مینگرُوز کے جنگلات میں مزید اضافہ کرنے کے ضمن میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

 

 
26
August

تحریر: خالد محمود رسول

ایک زمانہ تھا پاکستان کی معیشت کی تعمیر پانچ سالہ پروگرام کے تحت پلا ن کی جاتی تھی۔ ساٹھ کی دِہائی میں اس پانچ سالہ پروگرام کے دیکھنے اور سمجھنے کوریا کے ماہرین پاکستان آئے۔ ستّراور اسّی کی دِہائی میں وہ پانچ سالہ پروگرام داخل دفتر ہو گیا اور سالانہ پروگرام پر انحصار شروع ہو گیا۔ البتہ کوریا، چین، بھارت، ترکی سمیت کئی ممالک اپنے وسائل کے بہترین استعمال اور ترقی کی اینٹ سے اینٹ جوڑنے کے ترقیاتی عمل میں پانچ سالہ پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں پلاننگ کمیشن بنیادی طور پر حکومتی ترجیحات کے مطابق پروجیکٹس کی جھٹ منصوبہ بندی کے لئے ہاتھ پیر مارنے کے لئے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کا وہ درخشاں دور جس کے تحت پانچ سالہ منصوبہ بندی ہوتی تھی‘ اب کتابی حوالے کے لئے رہ گیا ہے۔
ُٓپاکستان کی معیشت گزشتہ کئی سالوں کے دوران مختلف النوع مسائل کا شکار رہی ہے۔ ان میں نمایاں ترین معیشت کی مایوس کن بڑھوتری یعنی
low economic growth
، مسلسل مالیاتی اور بجٹ خسارہ، زرمبادلہ کے انتہائی کم ذخائر، ٹیکس نیٹ میں عدم اضافہ، حکومت کا اندرونی و بیرونی قرضوں پر بڑھتا انحصار اور برآمدات میں جمود جیسے بنیادی مسائل تھے۔ یہ مسائل نہ تو راتوں رات کسی ایک حکومت کے دور میں پیدا ہوئے اور نہ ہی راتوں رات کسی ایک حکومت کے دور میں حل ہو ں گے۔ ان میں سے بیشتر مسائل معیشت کے بنیادی ڈھانچے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی اصلاح کے لئے دور رس اور تسلسل پر مبنی پالیسی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اب زیادہ تر شعبے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں جن سے عام آدمی کو صبح شام واسطہ پڑتا ہے۔ ان شعبوں کی کارکردگی اور صوبائی حکومتوں کی گورننس کا بالواسطہ اثر قومی پیداوار اور شرح نمو پر پڑتا ہے۔ ان شعبوں میں زراعت، تعلیم، صحت، امن و امان اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبے شامل ہیں۔ وفاقی حکومت کے پاس پالیسی اقدامات کا میدان جبکہ صوبوں کے پاس عملی کارگزاری کا اس سے بھی زیادہ بڑا میدان ہے لیکن عموماً بجٹ بحثوں میں توجہ فقط وفاقی بجٹ پر ہی رہتی ہے۔

 

ecoistekam.jpgگزشتہ کئی سالوں میں معیشت کو امن و امان کی بگڑی ہوئی صورت حال اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بے حال کئے رکھا۔ قومی پیداوار میں اضافہ مایوس کن حد تک کم رہا۔ محصولات کا ہر سال بڑھتا ہدف پورا کرنے کی کوشش میں ہر نئے بجٹ نے روایتی ٹیکس گزار صنعتی شعبے کو مزید زیر بار کیا۔صنعت کا کل معیشت میں حصہ سکڑتے سکڑتے اب فقط اکیس فی صد رہ گیا ہے۔ سروسز کا حصہ بڑھ کر ساٹھ فی صد ہونے کو ہے۔ بلیک اکونومی اور غیر روایتی شعبے میں منافع کی شرح بدستور روایتی اور صنعتی شعبے سے کہیں زیادہ ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ صنعت میں اضافہ بہت واجبی سا ہے لیکن پراپرٹی، اسٹاک ایکسچینج سمیت کئی شعبے ہر آن پھل پھول رہے ہیں اور ٹیکس کی جھک جھک سے بھی آزاد ہیں۔ ایسے میں بلیک اکونومی کے مقابلے پر صنعت میں سرمایہ کاری خاصا دل گردے کا کام ہے ۔ دوسری طرف ٹیکس کے بڑھتے ہوئے بوجھ ، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، سیلز ٹیکس ریفنڈ سمیت کئی اقدامات نے صنعتوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ایسے میں حیرت نہیں ہوتی کہ نجی بچتوں اور سرمایہ کاری میں کمی کیوں آ رہی ہے۔ جب ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کھل کر نہیں ہوگا تو براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں سال کے پہلے دس مہینے فقط ایک ارب ڈالر پر افسوس کیسا 


کل قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ اکیس فی صد کے لگ بھگ ہے لیکن زیادہ تر آبادی کی سکونت دیہی علاقوں میں ہے اور زراعت روزگار کا سب سے اہم شعبہ بھی ہے ۔ صنعت اور برآمدات کا بھی زراعت پر خاصا انحصار ہے۔ گزشتہ سال کی قومی پیداوار کے جائزے کے مطابق زراعت میں منفی اضافہ ہوا جس کی تلافی کے لئے بجٹ میں زراعت کے لئے کئی رعایتیں دی گئیں ۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو زراعت کے ان پٹس پر گزشتہ سالوں میں اندھا دھند سیلز ٹیکس عائد کرنا مناسب نہ تھا۔ جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا ں چگ گئیں کھیت۔ زرعی شعبے کے بنیادی مسائل کا زیادہ تر تعلق صوبوں سے ہے جہاں ان مسائل کا ادراک بھی کم ہے اور عملی اقدامات بھی ضرورت سے کہیں کم دکھائی دیتے ہیں۔ آنے والے سالوں میں موسم اگر مہربان رہا تو زرعی پیداوار بہتر ہو جائے گی لیکن زرعی شعبے کے بنیادی مسائل صرف چند زرعی مداخل پر سیلز ٹیکس کم کرنے سے حل نہ ہو ں گے۔


اسی طرح برآمدی شعبہ علاقائی اور عالمی مسابقت میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ صرف پانچ شعبوں کو زیرو ریٹ سیلز ٹیکس کی سہولت دینے سے برآمدات کی مسابقت لوٹ کر نہیں آئے گی کہ اس شعبے کے مسائل بھی سٹرکچرل اور پیچیدہ ہیں۔ فقط زیرو ریٹنگ سے بات مشکل ہی بن پائے گی۔ ہماری برآمدات مسلسل
low value added
اشیاء پر مشتمل ہیں۔ دنیا بھر میں اجناس اور دیگر اشیاء کی گرتی ہوئی قیمتوں نے بر آمدات پر مزید دباؤ بڑھایا ہے۔برآمدی شعبے کو موجودہ کم ویلیو اشیاء سے نکال کر اسے نئی بہتر ویلیو ایڈڈ اشیاء کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے تاکہ برآمدات کا صرف کاٹن، چاول، لیدر پر انحصار نہ ہو۔ تاہم وفاقی اور صوبائی بجٹ میں برآمدات کے کسی نئے افق کی طرف قدم اٹھتے دکھائی نہیں دیئے۔


منصوبہ بندی کا ایک اہم مقصد ملک میں یکساں معاشی ترقی ہوتا ہے تاکہ علاقائی تفاوت کم سے کم ہو ۔ گزشتہ کئی دِہایوں سے جاری معاشی پایسیوں کے نتیجے میں معاشی ، تجاری اور صنعتی سرگرمیاں چند بڑے شہروں میں مرتکز ہو رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آبادی کا ایک کثیر سیلاب ہر سال بڑے شہروں کا رخ کرتا ہے۔ بڑے شہروں کا انفراسٹرکچر پہلے ہی ناکافی ہے۔ مسلسل انتقالِ آبادی نے شہروں کے انفراسٹرکچر کو مزید ناکافی بنا دیا ہے۔ شہروں میں محروم طبقات کی بستیاں پھیل رہی ہیں۔ بڑھتی آبادی نے پراپرٹی کے کاروبار کو پَر لگا دیے ہیں۔ حسنِ اتفاق کہ یہ شعبہ ٹیکس کی جھک جھک سے بے نیاز ہے۔ حکومتی ڈویلپمنٹ ادارے سرخ فیتے اور کرپشن کی زد میں ہیں۔ سو، شہروں کے آس پاس پرائیویٹ رہائشی آبادیوں کے بے ترتیب جنگل اگ رہے ہیں۔ پراپرٹی سر مایہ کاروں کا سرمایہ دو تین سالوں میں ڈبل ہو رہا ہے جبکہ متوسط اور غریب طبقات کے لئے ہاؤسنگ ہر گزرتے سال دسترس سے باہر ہو رہی ہے۔ اس اعتبار سے وفاقی اور صوبائی بجٹ میں علاقائی تفاوت دور کرنے پر توجہ مفقود رہی۔


وفاقی بجٹ کے جاری اخراجات میں قرضوں اور سود کی ادائیگی کا سب سے بڑا حصہ ہونے کے سبب اس پر خاصا واویلا ہوا۔ بادی النظر میں حکومتِ وقت پر الزام دھرنا آسان ہے کہ قرضوں پر اس قدر انحصار کیوں ہے؟ نئے قرضے کیوں لئے جارہے ہیں؟ لیکن اگر قرضوں کے حصول کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ معیشت میں مسلسل تنزلی اور تجارتی خسارے نے اپنے اپنے وقت کی تمام حکومتوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی اندرونی اور بیرونی قرضوں پر مجبور کیا۔ پبلک ڈیٹ کا رجحان ماضی قریب میں کچھ یوں رہا ہے۔۔۔ 1977 میں پبلک ڈیٹ 63 ارب روپے، 1985 میں 156 ارب، 1999 میں 1,557 ارب، 2007 میں 2,201ارب، 2,013 میں 4,797 ارب جبکہ 2016میں اس کا حجم 5,769 ارب روپے تھا۔ پبلک ڈیٹ کی ترتیب دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ حکومتوں کا انحصار وقت کے ساتھ ساتھ اندرونی قرضوں پر بڑھتا گیا ہے۔ 2010 میں اندرونی قرضوں اور جی ڈی پی کا تناسب 31% تھا جو 2016 میں بڑھ کر 45% ہو گیا۔ بیرونی قرضوں کا حجم 2010 میں تقریباً اکیاون ارب ڈالر تھا جو 2016 میں بڑھ کر پچپن ارب ڈالر ہو گیا۔


ایسا کیوں کرنا پڑا؟ بظاہر دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ملک کا مالیاتی خسارہ ماضی میں مسلسل خاصے بڑے منفی ہندسے میں رہا۔ 2010 میں مالیاتی خسارہ 6.20%جو 2012 اور 2013 میں آٹھ فی صد سے بھی بڑھ گیا۔ 2016 میں یہ خسارہ کم ہونے کے باوجود پانچ فی صد سے زائد تھا۔ دوسر ی اہم وجہ برآمدات میں مسلسل جمود کی سی کیفیت ہے۔
low value added
برآمدات اور گزشتہ چند سالوں کے مشکل عالمی تجارتی ماحول میں پاکستان کی برآمدات بڑھنے کے بجائے اپنے پاوءں کی مٹی سنبھالنے کی کوشش میں ہیں۔ برآمدات کا حجم 2012 میں پچیس ارب ڈالر کے لگ بھگ تھا جو 2015 میں بمشکل چوبیس ارب ڈالر تھا۔ 2016 میں یہ حجم بمشکل بائیس ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ سو مسلسل مالیاتی اور تجارتی خسارے نے قرضوں کی مجبوری سر پر لاد دی ہے۔ ایسے میں بیرون ملک سے زرمبادلہ کی ترسیلات نے معیشت کو سنبھالا دئیے رکھا ورنہ مالیاتی خسارے کی صورتحال بہت زیادہ دگرگو ں ہو سکتی تھی۔ آنے والے سالوں میں بھی ان دونوں عوامل کو قابو میں لائے بغیر خاطر خواہ بہتری کی توقع شاید حقیقت پسندانہ نہ ہو۔


آبادی کے بڑھتے دباؤ اور توقعات کی موجودگی میں ان محدود وسائل اور پیچیدہ مسائل کے ساتھ بجٹ بنانا آسان نہیں۔ ٹیکس کلچر فروغ دینے اور معیشت میں ٹیکنالوجی کے سہارے بہتر ویلیو ایڈڈ سے قومی پیداوار میں سالانہ چھ سات فی صد اضافے سے چند سالوں میں معیشت ایک مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہو سکتی ہے لیکن فی الحال یوں لگ رہا ہے کہ بنیادی مسائل کا بھاری پتھر آسانی سے راستے سے ہٹنے والا نہیں۔ معیشت میں ایک بار پھر وسط اور طویل مدت پلاننگ کی ضرورت ہے۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ سی پیک کی صورت میں آنے والی سرمایہ کاری ، موجود وسائل کے لئے مناسب ترجیحات اور کفایتی استعمال کے ساتھ ساتھ بہتر گورننس کو اپنا کر معیشت کو ایک بار پھر سے پاؤں پر کھڑا کیاجا سکے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ‘ سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

نام وطن کا اُونچا کر گئے


(آرمی پبلک سکول پشاور کے نام)

یاد تو اُن کو تب ہم کرتے
بھول گئے جب اُن کو ہوتے
جو بھی علم کا طالب ہوں گا
دہشت گرد پہ غالب ہوں گا
خوں میں وہ جو نہائے ہوئے ہیں
یونیفارم میں آئے ہوئے ہیں
تم ریزہ ریزہ جسم کو جوڑو
کل کیا گزری اس کو چھوڑو
وہ ہم میں موجود ہیں سارے
زندہ ہیں وہ مان ہمارے
جو معصوم شہادت پا کر
دشمن دہشت گرد سے لڑ کر
نام وطن کا اونچا کر گئے
کیسے کہہ دوں کہ وہ مر گئے

جبار مرزاؔ

*****

 
26
August

تحریر: ضیاء الامین

کہا جاتا ہے کہ ترقی سڑک پر چل کر آتی ہے اور سڑک پاکستان اور چین جیسے دو برادر پڑوسی ممالک کے درمیان ہو اور اقتصادی راہداری کا عظیم منصوبہ بنا کر اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے تو ترقی کی رفتار اور معیار کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔پاکستان ٗچین ٗ ترکی‘ وسطی ایشیائی ریاستوں اور مشرق وسطیٰ کے درمیان جغرافیائی قربت اور مواقع کی بناء پر ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں خاص طور پر چینی مصنوعات کی عالمی منڈی تک بآسانی رسائی کے لئے پاکستان کے راستے گوادر پورٹ اور اس سے آگے سمندری راستے سے دنیا بھر تک رسائی جو کبھی ایک خواب دکھائی دیا کرتا تھا‘ آج اقتصادی راہداری کے ذریعے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔پاک چین اقتصادی راہداری46 ارب ڈالر کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات نئی بلندی تک پہنچ جائیں گے اور یہ طویل راہداری چین کے صوبے سنکیانگ کو باقی تمام دنیا سے پاکستان کی مدد سے جوڑے گی اور یوں چین مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔

 

cpenkhityk.jpgپاک چائنہ تعلقات کا پہلے سے اچھا ہونا کوئی راز نہیں۔ پاکستان چند سالوں یا پچھلی ایک دہائی سے مختلف مسائل ٗ جن میں دہشت گردی سرفہرست ہے ٗ میں گھرا ہوا ہے اور ان سب سے نکلنے کے لئے یہ ترقی کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ جس سے پاکستان ترقی کرے گا اور اسی سے دونوں ممالک کے تعلقات اوربہتر ہوں گے۔اس منصوبے کے تحت دونوں ممالک شاہراہوں ٗ ریلویز اور پائپ لائنز کے ذریعے باہم منسلک ہوں گے اس منصوبے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ جن میں سے سرفہرست گوادر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تکمیل ہے اور کچھ چھوٹے موٹے منصوبے اس کا حصہ ہیں‘ ان میں سے ایک شاہراہ قراقرام کی توسیع ہے ایک فائبر آپٹک لائن بھی دونوں ممالک کے درمیان بچھائی جائے گی تاکہ ذرائع روابط کو بہتر کیا جاسکے۔


چین پاکستان اقتصادی راہداری سے ملک کے تمام صوبے مستفید ہوں گے جبکہ بلوچستان‘ خیبر پختونخوا اور فاٹا کو خصوصی طور پر فائدہ ہوگا۔ الغرض اس کلیدی منصوبے کے مکمل ہونے سے پاکستانی معیشت کی تقدیر بدل جائے گی۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت اہم منصوبوں میں گوادر پورٹ کی اپ گریڈیشن، گوادر پورٹ ایکسپریس وے کی تعمیر،گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ،اور کراچی سکھرموٹروے کی تعمیر شامل ہے ۔تاکہ اس کی تکمیل سے ملک کی اقتصادی اور معاشی ترقی اور خوشحالی کے اہداف میں مدد حاصل کی جاسکے، جبکہ دوسری جانب ایرانی بندر گاہ چا بہار پر بھی بھاری سرمایہ کاری کی جارہی ہے تا کہ اس کو مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر بین الاقوامی بندرگاہ بنایا جاسکے ۔عالمی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق چا بہار میں بھارت بھاری سرمایہ کاری کررہاہے اور اس طریقے سے بھارت کے منصوبہ ساز سی پیک کو خدانخواستہ ناکام بنانے کے حوالے سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جس کی واضح مثالیں پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکی ہیں۔
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا سب سے خوش آئند پہلو یہ ہے کہ اس منصوبے پر ملک کی سیاسی وعسکری قیادت ایک پیچ پر ہے جس سے اس منصوبے پر پیش رفت تیزی سے ہو گی اور اس کے ثمرات صحیح معنوں میں سامنے آئیں گے۔ اس منصوبے کے حوالے سے صدرمملکت ممنون حسین نے کہاکہ اقتصادی راہداری، دیامر، بھاشا ڈیم، گوادر بندرگاہ ،موٹر وے جیسے متعدد بڑے منصوبوں سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو خطے کے لئے ’’گیم چینجر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ چین پاکستان کا دیرینہ دوست اور سٹریٹیجک شراکت دار ہے۔


چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف بھی پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں ،آرمی چیف نے مجوزہ روٹ کے کئی دورے بھی کئے ہیں اور امن کی ضمانت بھی فراہم کی ہے تاکہ چینی سرمایہ کار بلاخوف وخطر راہداری کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام کرسکیں۔ان منصوبوں کی سکیورٹی کے لئے ایک فورس بھی تشکیل دی جارہی ہے جس کے لئے پاک فوج نے بھر پور تعاون کا یقین دلایا ہے ۔
چینی نائب وزیر خارجہ لیو جیان چاؤ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو معاشی ترقی کی پٹی قرار دیتے ہوئے کہاکہ چین اور پاکستان اس منصوبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لئے سائنسی منصوبہ بندی کے مطابق تعمیر کریں گے،چین پاکستان اقتصادی راہداری صرف چین اور پاکستان کے درمیان تعاون بڑھانے کے لئے حکمت عملی کا نام نہیں بلکہ یہ اس پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اہم کردار ادا کرے گی۔


پاکستان میں چین کے سفیر نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو چینی صدر اور پاکستانی وزیر اعظم کے وژن کا عکاس قرار دیا اور کہاکہ چین پاکستان کو اپنا آئرن فرینڈ سمجھتا ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری صرف چین اور پاکستان کے درمیان تعاون بڑھانے کے لئے حکمت عملی کا نام نہیں بلکہ یہ منصوبہ اس پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اہم کردار ادا کرے گا۔ اقتصادی راہداری سے نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ خطے کے دوسرے ملکوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
سی پیک کے قلیل المدتی منصوبے 2017۔2018 جبکہ طویل المدتی منصوبے 2020ء تا 2030ء تک مکمل ہو جائیں گے۔ سی پیک منصوبے کے تحت ملک میں 10 ہزار 4 سو میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے 14 منصوبے دسمبر 2018 تک مکمل کئے جائیں گے جس کی تکمیل سے ملک میں توانائی کے بحران پر قابوپایا جائے گا یہ منصوبے سی پیک کے تحت مکمل ہونے کے بعد ملک کے معاشی وسماجی حالات میں تیزی سے بہتری لائیں گے ۔ چین کی کمپنیاں10 ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے شبانہ روز محنت کررہی ہیں ۔ راہداری منصوبہ بلوچستان اور ملک کی معاشی ترقی کا زینہ ہے‘ ملک میں امن وامان کی صورتحال میں بتدریج بہتری کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کررہے ہیں۔ اس منصوبے کی بدولت بلوچستان میں نئی صنعتوں کا آغاز ہو گا جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ یہاں کے لوگوں میں معاشی استحکام کی بدولت خوشحالی اوربہتر معیار زندگی کی سہولیات میسر آئیں گی۔
اقتصادی راہداری دونوں ملکوں کے درمیان اہم شعبوں میں تعاون پر مبنی اقدامات اور منصوبوں کا جامع پیکج ہے۔ جس میں اطلاعاتی نیٹ ورک، بنیادی ڈھانچے، توانائی، صنعتیں، زراعت، سیاحت اور متعدد دوسرے شعبے شامل ہیں۔


پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے اقتصادی روابط کے مزید فروغ کے لئے پاک چین بزنس پلیٹ فارم کے قیام کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے جس کے ذریعے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم ہونے والے صنعتی زونز میں مشترکہ پیداوار کی جا سکے چینی صوبے شین ڈونگ میں صنعتی زونز کو قائم کرنے اور چلانے کے لئے انسانی وسائل کی تربیت کے لئے میکنزم بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری دونوں ممالک کی قیادتوں کی وژن کا ملاپ ہے جس سے ایک طرف تو پاکستان کی صنعتی ترقی کی رفتار کو بڑھایا جا ئے گا اور دوسری طرف چین کے لئے محفوظ اور مختصر زمینی راستہ مہیا ہو گا جس کے ذریعے وہ بیرونی دنیا سے تجارت کو بڑھا سکے گا۔


چین پاکستان اقتصادی راہداری کا پہلا فیز 2018تک مکمل ہو جائے گا۔اس مرحلے کی تکمیل سے انرجی کے شعبے میں دس ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار سے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے موجودہ روڈ نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنے سے خاص کر مغربی روٹ پر مسنگ لنکس کی تعمیر سے گوادر سے پاکستان کے شمالی علاقوں کے ذریعے چین کے مغربی حصے تک تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لئے مختصر اور محفوظ راستہ بھی میسر ہو گا۔پاکستان اور چین اس منصوبے پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ چین اور پاکستان اس منصوبے کی دونوں ممالک کے لئے، افادیت کے ساتھ خطے کے تین ارب افراد کی تقدیر بدلنے کی اہمیت سے آگا ہ ہیں پاکستانی قوم اس منصوبے کی تکمیل کے لئے متحد ہے اور اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ اس تاریخی منصوبے کے ذریعے ملک کی اقتصادی ترقی اور عوام کی خوشحالی کو ممکن بنایاجا سکتا ہے۔پاکستان کی سیاسی قیادت، سویلین حکومت اور عسکری ہائی کمان اس منصوبے کی تکمیل کے لئے پر عزم ہیں ۔


اقتصادی راہداری کوئی مکمل طور پر ایک راستہ نہیں اور نہ ہی ریل کی پٹڑی ہے بلکہ یہ اس خطے میں امن اور اقتصادی استحکام لانے کا ایک راستہ ہے ۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں واقع ایک اہم ملک ہے اور اسی اقتصادی راہداری سے پاکستان اپنے کچھ مسائل کا خاتمہ کر سکتاہے ۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ایک منفرد منصوبہ ہے اس راہداری میں چین ٗ جنوبی ایشیا ٗ وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے بڑھ کر ا فریقہ تک ترقی کے راستے کھل جائیں گے اقتصادی راہداری کے ساتھ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام اور کئی صنعتی پارک قائم کئے جائیں گے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اقتصادی راہداری منصوبہ تین ارب انسانوں کی تقدیر بدلنے کا منصوبہ قرار دیا جاتا ہے جس کے تعاون سے پاکستان میں جو منصوبے شروع کئے جارہے ہیں اس سے دنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں گے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

لالۂ صحرا

یہ گنبدِ مینائی! یہ عالمِ تنہائی!
مجکو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی
بھٹکا ہوا راہی میں‘ بھٹکا ہوا راہی تُو
منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی؟
خالی ہے کلیموں سے یہ کوہ و کمر ورنہ
تُو شعلۂ سینائی‘ میں شعلۂ سینائی
تُو شاخ سے کیوں پُھوٹا‘ میں شاخ سے کیوں ٹُوٹا
اِک جذبۂ پیدائی‘ اِک لذتِ یکتائی
غوّاصِ محبت کا اﷲ نگہباں ہو
ہر قطرۂ دریا میں‘ دریا کی ہے گہرائی
اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ
دریا سے اٹھی لیکن، ساحل سے نہ ٹکرائی
ہے گرمیءِ آدم سے ہنگامۂ عالم گرم
سورج بھی تماشائی‘ تارے بھی تماشائی
اے بادِ بیابانی مجکو بھی عنایت ہو
خاموشی و دل سوزی‘ سر مستی و رعنائی
علامہ اقبالؔ

*****

 
26
August

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان

گزشتہ برس جولائی میں بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے وسطی ایشیا کی پانچ آزاد ریاستوں یعنی تاجکستان ‘ ازبکستان‘ ترکمانستان ‘ کرغیزستان اور قازقستان کا دورہ کیاتھا۔ نریندر مودی کے اس دورے سے قبل اور بعد بھی نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کے میڈیا میں اس کے مضمرات اور اثرات پر بحث کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ اس بحث کا نچوڑ یہ تھا کہ بھارتی وزیرِاعظم کی طرف سے وسطی ایشیائی ممالک کا یہ دورہ نہ صرف اس خطے بلکہ مغربی ایشیائی علاقوں میں بھی بھارت کے اثر و نفوذ کو بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں اور وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا میں بھارت کی طرف سے قدم جمانے کی کوششیں جس میں ایران کے ساتھ خلیج فارس کے ساحل پر واقع بندر گاہ چابہار کی ترقی اور توسیع میں بھارتی شمولیت بھی شامل ہے‘ کے نتیجے میں علاقے کے ممالک خصوصاً پاکستان پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟ اس مضمون میں ان سوالات کا جواب دینے کوشش کی جائے گی۔

 

جب نریندر مودی کے اس دورے کا اعلان کیاگیا تھا‘ تو بھارتی میڈیا سے اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کا بڑا فوکس توانائی ہوگا۔ ایک لحاظ سے یہ کہنا بالکل درست ہے کیونکہ وسطی ایشیا کی ریاستیں اور ایران توانائی کے وسائل مثلاً تیل‘ گیس‘ ہائیڈرو پاور حتیٰ کہ یورینیم سے مالامال ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق وسطی ایشیا کی پانچ مسلم ریاستیں دنیا میں گیس کے کل ذخائر کے 4 فیصد حصے یعنی270 تا360 ٹریلین کیوبک فٹ کی مالک ہیں۔ اس خطے میں پائے جانے والے تیل کے ذخائر دنیا کے2.7 فیصد یعنی13تا 15 بلین بیرل ہیں۔ قازقستان دنیا میں یورینیم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ سابقہ سوویت یونین اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے لئے یورینیم وسطی ایشیا سے ہی حاصل کرتا تھا۔ اب اس پر بھارت کی نظر ہے اور قازقستان کے دورے کے دوران ہی نریندر مودی نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدے پر بھی دستخط کئے جس کے تحت اگلے چار سال کے دوران بھارت قازقستان سے 5000 ٹن یورینیم خریدے گا جو اس کے 21 ایٹمی پلانٹس کے لئے ایندھن فراہم کرے گا۔ بھارت کی معیشت کا تمام تر انحصار درآمد کئے جانے والے تیل پر ہے۔ مثلاً گزشتہ برس جون تک اعداد وشمار کے مطابق بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا83.5 فیصد درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ اندازہ ہے کہ سال2020 تک بھارت کو تیل کی ضروریات 90 فیصد تک درآمد کرکے پوری کرنا پڑیں گی۔ اگرچہ وسطی ایشیائی ممالک سے تیل کی خریداری میں چین کو بھارت پر سبقت حاصل ہے‘ تاہم اس کمی کو پورا کرنے کے لئے بھارت ایران پر انحصار کررہا ہے۔ ایران کے خلاف عالمی اقتصادی پابندیوں سے قبل بھارت ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا۔ پابندیوں کے دوران بھی بھارت ایران سے چوری چھپے تیل خریدتا رہا ہے۔ ایران اور بھارت کے درمیان قربت کے حالیہ رشتوں کے قیام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایران کو اقتصادی پابندیوں کے ہاتھوں اپنی تباہ حال معیشت کو بحال کرنے کے لئے اپنے تیل کے لئے گاہک کی ضرورت ہے۔ اس وقت ایرانی تیل کے دو ہی بڑے گاہک ہیں۔ چین اور بھارت۔ بھارت نے ماضی میں تیل کے بدلے ایران کی واجب الاداء 6 بلین ڈالر کی رقم بھی قسطوں میں واپس کرنا شروع کردی ہے۔ بھارت کی طرف ایران کی گرم جوشی کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے جس سے فائدہ اٹھا کر بھارت نے ایران کو چا بہار کے منصوبے میں بھارت کی شرکت اور سرمایہ کاری پر راضی کرلیا ہے۔ تیل کے علاوہ بھارت افغانستان اور پاکستان کے راستے ترکمانستان کی گیس ’’تاپی‘‘ پائپ لائن کے ذریعے حاصل کرنے کا بھی خواہش مند ہے۔

 

جولائی میں جن پانچ وسطی ایشیائی ممالک کا نریندر مودی نے دورہ کیا تھا‘ ان میں ترکمانستان بھی شامل تھا۔ ترکمانستان کی سیاسی قیادت سے بات چیت کرتے ہوئے بھارتی وزیرِاعظم نے ترکمانستان سے افغانستان اور پاکستان اور اس سے آگے گیس پہنچانے کی پائپ لائن کی تکمیل میں خاص دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ وسطی ایشیا کے توانائی وسائل سے استفادہ کرنے میں بھارت کی گہری دلچسپی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض حلقوں نے کاسا۔1000 منصوبے میں بھی بھارت کی شمولیت کی سفارش کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً1300 میگاواٹ پن بجلی کرغیزستان اور تاجکستان سے افغانستان کے راستے پاکستان میں درآمد ہوگی۔ لیکن وسطی ایشیا میں بھارت کی دلچسپی صرف توانائی کے حصول تک محدود نہیں۔ وسطی ایشیا اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے زبردست سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ اسی وجہ سے نہ صرف روس‘ امریکہ اور چین جیسی بڑی طاقتیں اس خطے میں اپنے اثر ورسوخ کو پھیلانے کے لئے کوشاں ہیں‘ بلکہ یہ خطہ ایران اور پاکستان کے لئے بھی قدیم تاریخی روابط‘ ثقافتی رشتوں اور مذہبی اشتراک کی وجہ سے اہم ہے۔ دونوں ممالک اس خطے میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے لئے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مواصلاتی رابطوں اور تجارتی‘ اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگرچہ وسطی ایشیا ایک عرصہ تک سابقہ سوویت یونین کا حصہ رہا ہے اور اب بھی اس خطے کے مواصلاتی رابطے اپنے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں روس کے ساتھ زیادہ ہیں‘ تاہم وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی تعاون‘ سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں چین روس کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اسی طرح امریکہ کی جانب سے بھی ابتدائی کوششوں کے باوجود‘ وسطی ایشیائی ریاستوں میں امریکی اثر و رسوخ میں اضافہ نہیں ہوسکا۔

 

اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اور اس ارادے کے ساتھ کہ وسطی اور مغربی ایشیائی خطوں کا میدان چین کے لئے خالی نہیں رہنے دیا جائے گا‘ امریکہ ایک طرف افغانستان اور وسطی ایشیا میں بھارت کو فعال کردار ادا کرنے پر اُکسا رہا ہے اور دوسری طرف افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت اور توانائی کے رابطوں کے قیام میں مدد فراہم کررہا ہے۔ ترکمانستان سے افغانستان اور پاکستان کے راستے تک گیس پائپ لائن ’’تاپی‘‘ کے ایشیائی ترقیاتی بنک کی جانب سے فنڈز کی فراہمی پر رضامندی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتہ اور اقتصادی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے بعد‘ امریکہ کی ایران کے بارے میں پالیسی میں بنیادی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ مشرق وسطیٰ میں انتہا پسند اور بنیاد پرست تنظیموں مثلاً ’داعش‘ کی سرگرمیوں کو روکنے میں سعودی عرب کی ناکامی ہے۔ امریکی میڈیا اور تھنک ٹینک اب کھلے عام سعودی عرب کو مشرقِ وسطیٰ میں ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں انتہا پسند اور متشدد اسلامی فکر یعنی ’’وہابی ازم‘‘ کا منبع قرار دے رہے ہیں۔ اور امریکی حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ نہ صرف مذہبی انتہا پسندی کے خلاف بند باندھے بلکہ افغانستان کی گتھی سلجھانے کے لئے ایران کی مدد حاصل کرے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا ایرانی مقصد سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً معاشی ہے‘ کیونکہ بھارت جیسے بڑے گاہک کے ہاتھ اپنا تیل بیچ کر ایران اپنی تباہ حال معیشت کو بحال کرنا چاہتا ہے لیکن بھارت اس سے سیاسی اور سٹریٹجک فائدہ اٹھانا چاہتا ہے کیونکہ پاکستان کے راستے براہِ راست افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے حصول میں ناکامی کے بعد وہ مقصدایرانی بندرگاہ چا بہار کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کے لئے بھارت کی مالی امداد سے افغانستان میں زارنج۔ ڈیلارم ہائی وے تعمیر کی جاچکی ہے جس کا ایک سرا ایران کے ساتھ افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔ یہاں سے چا بہار تک ملانے والی سڑک کو ایران تعمیرکرچکا ہے۔ ایران نے چا بہار کو زاہدان سے ملانے والی ایک اور سڑک تعمیر کی ہے۔ اسی طرح چا بہار کے ذریعے بھارت کو نہ صرف ایران اور افغانستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک جن میں قازقستان بھی شامل ہے‘ رسائی حاصل ہو جائے گی۔یعنی وسطی ایشیا میں تجارت اور مواصلاتی رابطوں کو فروغ دینے کے لئے سڑکوں اورریلوے لائنوں کا جو نیٹ ورک‘ انٹر نیشنل نارتھ‘ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور تعمیر کیا جارہا ہے‘ بھارت اس کا ایک اہم رکن بن جائے گا۔ امریکہ کی طرف سے ایران اور بھارت کے درمیان چا بہار کی تعمیر اور افغانستان کو شامل کرکے سہ فریقی ٹرانزٹ معاہدے کی حمایت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھارت کو وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا میں چین کے مدِ مقابل لاناچاہتا ہے۔

 

اگرچہ چابہار کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنے والا راستہ بھارت کے لئے پاکستان کے راستے رسائی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ واہگہ سے پاکستان کے راستے طور خم تک کا فاصلہ 584 کلومیٹر ہے جبکہ صرف ممبئی سے چاہ بہار کا فاصلہ1435 کلو میٹر ہے۔ لیکن پاکستان کی طرف سے بھارت کو یہ سہولت فراہم کرنے سے دیگر وجوہات کی بنا پر انکار کی وجہ سے بھارت چا بہار کا راستہ اختیار کرے گا۔ پاکستان بھارت کی افغانستان تک زمینی راستے سے رسائی کو انڈین عزائم کی تکمیل کا ایک مکمل پیکج سمجھتا ہے۔ جس میں پاکستان کے اندر اثرورسوخ بڑھانا حتیٰ کہ تخریبی کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو غیرمستحکم کرنا شامل ہے۔ چونکہ چین نے بھی اس خطے میں ’’ون بیلٹ‘ ون روڈ کے تحت ایشیا کے وسطی اور مغربی علاقوں کو یورپ اور افریقہ سے ملانے کا ایک وسیع منصوبہ جس میں پاک چائنا اکنامک کوریڈور بھی شامل ہے‘ بنا رکھا ہے۔ اس لئے پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدات کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ کیونکہ ان پر مکمل طور پر عمل درآمد سے نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ سکیورٹی پر بھی براہِ راست اثر پڑے گا۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں چین پر پاکستان کا انحصار بڑھ جائے گا۔ تاہم ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ چین خود اس خطے میں سڑکوں‘ ریلوے لائنوں اور دیگر مواصلاتی رابطوں کی ترقی پر خطیر رقم کی سرمایہ کاری کررہا ہے ۔ جس کے لئے امن و استحکام لازمی ہے اس لئے پاکستان کو اس خطے میں جاری دو بڑے تنازعات ’کشمیر اورافغانستان‘ کے حل کے لئے دور رس قومی مفادات کے مطابق حکمتِ عملی تیار کرنا ہوگی۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔ آپ ان دنوں یونیورسٹی آف سرگودھا سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

امریکہ کی طرف سے ایران اور بھارت کے درمیان چا بہار کی تعمیر اور افغانستان کو شامل کرکے سہ فریقی ٹرانزٹ معاہدے کی حمایت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھارت کو وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا میں چین کے مدِ مقابل لاناچاہتا ہے۔

*****

 
Page 1 of 2

Follow Us On Twitter