ساحل سمندر کے ماحولیاتی نظام کا تحفظ

Published in Most Read Urdu

تحریر: وائس ایڈمرل(ریٹائرڈ) عرفان احمد

ہمارا ملک ہر قسم کی قدرتی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال ہے۔ ہماری سر زمین، ساحل، پہاڑ، سمندر سب ہی زرخیز ہیں۔ ان کا ایک اہم حصہ جنگلات ہیں۔ جس طرح کرۂِ ارض پر جنگلات ماحول کا تحفظ کرتے ہیں، اسی طرح ساحل سمندر اور اس سے ملحقہ بحری گزرگاہوں میں بھی جنگلات ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خوبصورت ہرے رنگ کی جھاڑیاں نسبتاً چھوٹے درخت ہیں جو سمندر کے نمکین پانی اور خشکی کے میٹھے پانی کے امتزاج سے معرضِ وجود میں آتے ہیں ۔ یہ درخت ساحلِ سمندر کے ماحو لیاتی نظام کو کار آمد بنانے میں کام آتے ہیں ۔ یہ درخت ایسے علاقوں میں اُگتے ہیں جہاں عام پودے بہت تیزی سے مر جاتے ہیں۔
یہ پودے سمندر میں حیاتیاتی تبدیلی کو روکنے اور سمندری حیات کو پروان چڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ نمکیات کو انتہائی مہارت سے برداشت کرتے ہیں ۔ اس پودے کے فوائد کی ایک لمبی فہرست ہے۔مختلف انواع و اقسام کے پودوں اور سمندری جانوروں کی افزائش میں مدد کرتے ہیں ۔ جھینگوں، مچھلیوں، کیکڑوں، کچھوؤں اور دوسری بحری حیات کو خوراک مہیا کرتے ہیں۔ سمندری لہروں کے زور کو کم کرتے ہیں اور ساحل کو مضبوط بناتے ہیں ۔ گندے پانی اور کارخانوں سے خارج ہونے والے مضرِ صحت اجزا کو جذب کر لیتے ہیں۔ بندرگاہوں کو طوفان سے محفوظ کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔ ساحلی پٹی پر رہنے والے افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ کھانا پکانے، جانوروں کی خوراک اورتوانائی پیدا کرنے کے کام بھی آسکتے ہیں۔ سردی کے موسم میں ہجرت کر کے آنے والے ہزاروں پرندوں کو پناہ گاہ مہیا کرتے ہیں ۔ اس کی لکڑی سازوسامان بنانے، فرنیچر، چھت بنانے کے علاوہ شہد کی مکھیوں کی افزائش اور مختلف قسم کی ادویات کی تیاری کے کام آ سکتی ہے۔

 

sahilsamandar.jpgمختصراً مینگرُوز ایک بہت ہی مفید درخت ہے جو ساحلِ سمندر کی حفاظت کرتا ہے اور اس میں موجود حیاتیات کی نشو ونما کا باعث بنتا ہے۔ اس کی موجودگی سے بہت سے پیچیدہ مسائل حل ہوتے ہیں جن کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بد قسمتی سے اس قیمتی پودے کی حفاظت نہیں کی گئی اور اس کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لئے ماضی میں دور رس اقدام نہیں کئے گئے اس کے بر عکس کہیں ان کو نکال کر آبادیاں بنا دی گئیں اور کہیں بندرگاہ کا حصہ بنالیا گیا۔ اس لئے ان کی تعداد میں نمایا ں کمی واقع ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قیمتی سرمائے کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اس کے فروغ میں نمایاں اقدام اٹھائے جائیں۔
اس اہمیت کے پیشِ نظر پاک بحریہ نے مینگرُوزکی افرائش کے لئے دس لاکھ پودے لگانے کی قابل قدر تحریک شروع کی ہے۔ اس مہم کا آغاز 21مارچ 2016 جنگلات کے عالمی دن کیاگیا۔


یہ مہم وزیر اعظم کی پاکستان کو گرین کرنے کے منصوبے کا بھی حصہ ہے۔ پاک بحریہ بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں ان کی شجر کاری زوروشور سے کر رہی ہے۔ چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنگلات کی اہمیت پر زور دیا اور اس کی افزائش کو آنے والی نسلوں کے لئے ضروری قرار دیا اور ہدایت کی کہ اس تحریک کو عملی جامہ پہنانے کے لئے موثر اقدام کئے جائیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا انہوں نے قدرتی وسائل کی حفاظت کے لئے قائم کردہ بین الاقوامی ادارے
International Union for Conservation of Nature
اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ ، جنگلات کے صوبائی اور وفاقی محکموں کا بھی ذکر کیا اور ان سب اداروں کے کام کو سراہا۔پاکستان میں دو لاکھ بیالیس ہزاردوسو پچیس ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے مینگرووز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے نیول چیف نے مینگرُوز کی حفاظت اور ان میں اضافے کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا۔


مینگرُوز ساحلی علاقوں کے ماحول کو صحت افزاء بنانے اور سمندری ذرائع آمدن سے منسلک افراد کی معاشی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر تے ہیں۔میری ٹائم ماحول کی شفافیت کو برقرار رکھنا ایک قومی ذمہ داری ہے جس کے قومی معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ساحلی علاقوں کی مقامی آبادی خصوصاً صوبہ بلوچستان کے مکینوں کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں پاک بحریہ قابل ذکر کردار ادا کررہی ہے اور مینگرُوزکی شجرکاری کی یہ مہم قومی تعمیر میں پاک بحریہ کی حصہ داری میں سے ایک ہے۔ہم پرُامید ہیں کہ پاک بحریہ کے اس احسن اقدام کو روزافزوں تقویت حاصل ہو گی اور دیگر قومی ادارے پاک بحریہ کی اس کاوش میں حصہ ڈالتے ہوئے مینگرُوز کے جنگلات میں مزید اضافہ کرنے کے ضمن میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

 

 
Read 2456 times

1 comment

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter