معیشت کا استحکام

Published in Most Read Urdu

تحریر: خالد محمود رسول

ایک زمانہ تھا پاکستان کی معیشت کی تعمیر پانچ سالہ پروگرام کے تحت پلا ن کی جاتی تھی۔ ساٹھ کی دِہائی میں اس پانچ سالہ پروگرام کے دیکھنے اور سمجھنے کوریا کے ماہرین پاکستان آئے۔ ستّراور اسّی کی دِہائی میں وہ پانچ سالہ پروگرام داخل دفتر ہو گیا اور سالانہ پروگرام پر انحصار شروع ہو گیا۔ البتہ کوریا، چین، بھارت، ترکی سمیت کئی ممالک اپنے وسائل کے بہترین استعمال اور ترقی کی اینٹ سے اینٹ جوڑنے کے ترقیاتی عمل میں پانچ سالہ پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں پلاننگ کمیشن بنیادی طور پر حکومتی ترجیحات کے مطابق پروجیکٹس کی جھٹ منصوبہ بندی کے لئے ہاتھ پیر مارنے کے لئے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کا وہ درخشاں دور جس کے تحت پانچ سالہ منصوبہ بندی ہوتی تھی‘ اب کتابی حوالے کے لئے رہ گیا ہے۔
ُٓپاکستان کی معیشت گزشتہ کئی سالوں کے دوران مختلف النوع مسائل کا شکار رہی ہے۔ ان میں نمایاں ترین معیشت کی مایوس کن بڑھوتری یعنی
low economic growth
، مسلسل مالیاتی اور بجٹ خسارہ، زرمبادلہ کے انتہائی کم ذخائر، ٹیکس نیٹ میں عدم اضافہ، حکومت کا اندرونی و بیرونی قرضوں پر بڑھتا انحصار اور برآمدات میں جمود جیسے بنیادی مسائل تھے۔ یہ مسائل نہ تو راتوں رات کسی ایک حکومت کے دور میں پیدا ہوئے اور نہ ہی راتوں رات کسی ایک حکومت کے دور میں حل ہو ں گے۔ ان میں سے بیشتر مسائل معیشت کے بنیادی ڈھانچے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی اصلاح کے لئے دور رس اور تسلسل پر مبنی پالیسی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اب زیادہ تر شعبے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں جن سے عام آدمی کو صبح شام واسطہ پڑتا ہے۔ ان شعبوں کی کارکردگی اور صوبائی حکومتوں کی گورننس کا بالواسطہ اثر قومی پیداوار اور شرح نمو پر پڑتا ہے۔ ان شعبوں میں زراعت، تعلیم، صحت، امن و امان اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبے شامل ہیں۔ وفاقی حکومت کے پاس پالیسی اقدامات کا میدان جبکہ صوبوں کے پاس عملی کارگزاری کا اس سے بھی زیادہ بڑا میدان ہے لیکن عموماً بجٹ بحثوں میں توجہ فقط وفاقی بجٹ پر ہی رہتی ہے۔

 

ecoistekam.jpgگزشتہ کئی سالوں میں معیشت کو امن و امان کی بگڑی ہوئی صورت حال اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بے حال کئے رکھا۔ قومی پیداوار میں اضافہ مایوس کن حد تک کم رہا۔ محصولات کا ہر سال بڑھتا ہدف پورا کرنے کی کوشش میں ہر نئے بجٹ نے روایتی ٹیکس گزار صنعتی شعبے کو مزید زیر بار کیا۔صنعت کا کل معیشت میں حصہ سکڑتے سکڑتے اب فقط اکیس فی صد رہ گیا ہے۔ سروسز کا حصہ بڑھ کر ساٹھ فی صد ہونے کو ہے۔ بلیک اکونومی اور غیر روایتی شعبے میں منافع کی شرح بدستور روایتی اور صنعتی شعبے سے کہیں زیادہ ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ صنعت میں اضافہ بہت واجبی سا ہے لیکن پراپرٹی، اسٹاک ایکسچینج سمیت کئی شعبے ہر آن پھل پھول رہے ہیں اور ٹیکس کی جھک جھک سے بھی آزاد ہیں۔ ایسے میں بلیک اکونومی کے مقابلے پر صنعت میں سرمایہ کاری خاصا دل گردے کا کام ہے ۔ دوسری طرف ٹیکس کے بڑھتے ہوئے بوجھ ، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، سیلز ٹیکس ریفنڈ سمیت کئی اقدامات نے صنعتوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ایسے میں حیرت نہیں ہوتی کہ نجی بچتوں اور سرمایہ کاری میں کمی کیوں آ رہی ہے۔ جب ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کھل کر نہیں ہوگا تو براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں سال کے پہلے دس مہینے فقط ایک ارب ڈالر پر افسوس کیسا 


کل قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ اکیس فی صد کے لگ بھگ ہے لیکن زیادہ تر آبادی کی سکونت دیہی علاقوں میں ہے اور زراعت روزگار کا سب سے اہم شعبہ بھی ہے ۔ صنعت اور برآمدات کا بھی زراعت پر خاصا انحصار ہے۔ گزشتہ سال کی قومی پیداوار کے جائزے کے مطابق زراعت میں منفی اضافہ ہوا جس کی تلافی کے لئے بجٹ میں زراعت کے لئے کئی رعایتیں دی گئیں ۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو زراعت کے ان پٹس پر گزشتہ سالوں میں اندھا دھند سیلز ٹیکس عائد کرنا مناسب نہ تھا۔ جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا ں چگ گئیں کھیت۔ زرعی شعبے کے بنیادی مسائل کا زیادہ تر تعلق صوبوں سے ہے جہاں ان مسائل کا ادراک بھی کم ہے اور عملی اقدامات بھی ضرورت سے کہیں کم دکھائی دیتے ہیں۔ آنے والے سالوں میں موسم اگر مہربان رہا تو زرعی پیداوار بہتر ہو جائے گی لیکن زرعی شعبے کے بنیادی مسائل صرف چند زرعی مداخل پر سیلز ٹیکس کم کرنے سے حل نہ ہو ں گے۔


اسی طرح برآمدی شعبہ علاقائی اور عالمی مسابقت میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ صرف پانچ شعبوں کو زیرو ریٹ سیلز ٹیکس کی سہولت دینے سے برآمدات کی مسابقت لوٹ کر نہیں آئے گی کہ اس شعبے کے مسائل بھی سٹرکچرل اور پیچیدہ ہیں۔ فقط زیرو ریٹنگ سے بات مشکل ہی بن پائے گی۔ ہماری برآمدات مسلسل
low value added
اشیاء پر مشتمل ہیں۔ دنیا بھر میں اجناس اور دیگر اشیاء کی گرتی ہوئی قیمتوں نے بر آمدات پر مزید دباؤ بڑھایا ہے۔برآمدی شعبے کو موجودہ کم ویلیو اشیاء سے نکال کر اسے نئی بہتر ویلیو ایڈڈ اشیاء کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے تاکہ برآمدات کا صرف کاٹن، چاول، لیدر پر انحصار نہ ہو۔ تاہم وفاقی اور صوبائی بجٹ میں برآمدات کے کسی نئے افق کی طرف قدم اٹھتے دکھائی نہیں دیئے۔


منصوبہ بندی کا ایک اہم مقصد ملک میں یکساں معاشی ترقی ہوتا ہے تاکہ علاقائی تفاوت کم سے کم ہو ۔ گزشتہ کئی دِہایوں سے جاری معاشی پایسیوں کے نتیجے میں معاشی ، تجاری اور صنعتی سرگرمیاں چند بڑے شہروں میں مرتکز ہو رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آبادی کا ایک کثیر سیلاب ہر سال بڑے شہروں کا رخ کرتا ہے۔ بڑے شہروں کا انفراسٹرکچر پہلے ہی ناکافی ہے۔ مسلسل انتقالِ آبادی نے شہروں کے انفراسٹرکچر کو مزید ناکافی بنا دیا ہے۔ شہروں میں محروم طبقات کی بستیاں پھیل رہی ہیں۔ بڑھتی آبادی نے پراپرٹی کے کاروبار کو پَر لگا دیے ہیں۔ حسنِ اتفاق کہ یہ شعبہ ٹیکس کی جھک جھک سے بے نیاز ہے۔ حکومتی ڈویلپمنٹ ادارے سرخ فیتے اور کرپشن کی زد میں ہیں۔ سو، شہروں کے آس پاس پرائیویٹ رہائشی آبادیوں کے بے ترتیب جنگل اگ رہے ہیں۔ پراپرٹی سر مایہ کاروں کا سرمایہ دو تین سالوں میں ڈبل ہو رہا ہے جبکہ متوسط اور غریب طبقات کے لئے ہاؤسنگ ہر گزرتے سال دسترس سے باہر ہو رہی ہے۔ اس اعتبار سے وفاقی اور صوبائی بجٹ میں علاقائی تفاوت دور کرنے پر توجہ مفقود رہی۔


وفاقی بجٹ کے جاری اخراجات میں قرضوں اور سود کی ادائیگی کا سب سے بڑا حصہ ہونے کے سبب اس پر خاصا واویلا ہوا۔ بادی النظر میں حکومتِ وقت پر الزام دھرنا آسان ہے کہ قرضوں پر اس قدر انحصار کیوں ہے؟ نئے قرضے کیوں لئے جارہے ہیں؟ لیکن اگر قرضوں کے حصول کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ معیشت میں مسلسل تنزلی اور تجارتی خسارے نے اپنے اپنے وقت کی تمام حکومتوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی اندرونی اور بیرونی قرضوں پر مجبور کیا۔ پبلک ڈیٹ کا رجحان ماضی قریب میں کچھ یوں رہا ہے۔۔۔ 1977 میں پبلک ڈیٹ 63 ارب روپے، 1985 میں 156 ارب، 1999 میں 1,557 ارب، 2007 میں 2,201ارب، 2,013 میں 4,797 ارب جبکہ 2016میں اس کا حجم 5,769 ارب روپے تھا۔ پبلک ڈیٹ کی ترتیب دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ حکومتوں کا انحصار وقت کے ساتھ ساتھ اندرونی قرضوں پر بڑھتا گیا ہے۔ 2010 میں اندرونی قرضوں اور جی ڈی پی کا تناسب 31% تھا جو 2016 میں بڑھ کر 45% ہو گیا۔ بیرونی قرضوں کا حجم 2010 میں تقریباً اکیاون ارب ڈالر تھا جو 2016 میں بڑھ کر پچپن ارب ڈالر ہو گیا۔


ایسا کیوں کرنا پڑا؟ بظاہر دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ملک کا مالیاتی خسارہ ماضی میں مسلسل خاصے بڑے منفی ہندسے میں رہا۔ 2010 میں مالیاتی خسارہ 6.20%جو 2012 اور 2013 میں آٹھ فی صد سے بھی بڑھ گیا۔ 2016 میں یہ خسارہ کم ہونے کے باوجود پانچ فی صد سے زائد تھا۔ دوسر ی اہم وجہ برآمدات میں مسلسل جمود کی سی کیفیت ہے۔
low value added
برآمدات اور گزشتہ چند سالوں کے مشکل عالمی تجارتی ماحول میں پاکستان کی برآمدات بڑھنے کے بجائے اپنے پاوءں کی مٹی سنبھالنے کی کوشش میں ہیں۔ برآمدات کا حجم 2012 میں پچیس ارب ڈالر کے لگ بھگ تھا جو 2015 میں بمشکل چوبیس ارب ڈالر تھا۔ 2016 میں یہ حجم بمشکل بائیس ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ سو مسلسل مالیاتی اور تجارتی خسارے نے قرضوں کی مجبوری سر پر لاد دی ہے۔ ایسے میں بیرون ملک سے زرمبادلہ کی ترسیلات نے معیشت کو سنبھالا دئیے رکھا ورنہ مالیاتی خسارے کی صورتحال بہت زیادہ دگرگو ں ہو سکتی تھی۔ آنے والے سالوں میں بھی ان دونوں عوامل کو قابو میں لائے بغیر خاطر خواہ بہتری کی توقع شاید حقیقت پسندانہ نہ ہو۔


آبادی کے بڑھتے دباؤ اور توقعات کی موجودگی میں ان محدود وسائل اور پیچیدہ مسائل کے ساتھ بجٹ بنانا آسان نہیں۔ ٹیکس کلچر فروغ دینے اور معیشت میں ٹیکنالوجی کے سہارے بہتر ویلیو ایڈڈ سے قومی پیداوار میں سالانہ چھ سات فی صد اضافے سے چند سالوں میں معیشت ایک مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہو سکتی ہے لیکن فی الحال یوں لگ رہا ہے کہ بنیادی مسائل کا بھاری پتھر آسانی سے راستے سے ہٹنے والا نہیں۔ معیشت میں ایک بار پھر وسط اور طویل مدت پلاننگ کی ضرورت ہے۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ سی پیک کی صورت میں آنے والی سرمایہ کاری ، موجود وسائل کے لئے مناسب ترجیحات اور کفایتی استعمال کے ساتھ ساتھ بہتر گورننس کو اپنا کر معیشت کو ایک بار پھر سے پاؤں پر کھڑا کیاجا سکے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ‘ سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

نام وطن کا اُونچا کر گئے


(آرمی پبلک سکول پشاور کے نام)

یاد تو اُن کو تب ہم کرتے
بھول گئے جب اُن کو ہوتے
جو بھی علم کا طالب ہوں گا
دہشت گرد پہ غالب ہوں گا
خوں میں وہ جو نہائے ہوئے ہیں
یونیفارم میں آئے ہوئے ہیں
تم ریزہ ریزہ جسم کو جوڑو
کل کیا گزری اس کو چھوڑو
وہ ہم میں موجود ہیں سارے
زندہ ہیں وہ مان ہمارے
جو معصوم شہادت پا کر
دشمن دہشت گرد سے لڑ کر
نام وطن کا اونچا کر گئے
کیسے کہہ دوں کہ وہ مر گئے

جبار مرزاؔ

*****

 
Read 2571 times

1 comment

  • Comment Link M A SAEED RAJA M A SAEED RAJA 17 February 2017

    قرآن
    سورہ التکاثر
    پہلی آیت مبارکہ
    ترجمہ
    ‛‛اور مال کی زیادہ طلبی کی خواہش نے تمہیں ‛‛
    ‛‛غافل رکھا
    معیشت کی بنیاد آیت پاک پر رکھنی چاہیے
    کی ضرورت ہے

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter