خطے میں بھارتی عزائم

Published in Most Read Urdu

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان

گزشتہ برس جولائی میں بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے وسطی ایشیا کی پانچ آزاد ریاستوں یعنی تاجکستان ‘ ازبکستان‘ ترکمانستان ‘ کرغیزستان اور قازقستان کا دورہ کیاتھا۔ نریندر مودی کے اس دورے سے قبل اور بعد بھی نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کے میڈیا میں اس کے مضمرات اور اثرات پر بحث کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ اس بحث کا نچوڑ یہ تھا کہ بھارتی وزیرِاعظم کی طرف سے وسطی ایشیائی ممالک کا یہ دورہ نہ صرف اس خطے بلکہ مغربی ایشیائی علاقوں میں بھی بھارت کے اثر و نفوذ کو بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں اور وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا میں بھارت کی طرف سے قدم جمانے کی کوششیں جس میں ایران کے ساتھ خلیج فارس کے ساحل پر واقع بندر گاہ چابہار کی ترقی اور توسیع میں بھارتی شمولیت بھی شامل ہے‘ کے نتیجے میں علاقے کے ممالک خصوصاً پاکستان پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟ اس مضمون میں ان سوالات کا جواب دینے کوشش کی جائے گی۔

 

جب نریندر مودی کے اس دورے کا اعلان کیاگیا تھا‘ تو بھارتی میڈیا سے اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کا بڑا فوکس توانائی ہوگا۔ ایک لحاظ سے یہ کہنا بالکل درست ہے کیونکہ وسطی ایشیا کی ریاستیں اور ایران توانائی کے وسائل مثلاً تیل‘ گیس‘ ہائیڈرو پاور حتیٰ کہ یورینیم سے مالامال ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق وسطی ایشیا کی پانچ مسلم ریاستیں دنیا میں گیس کے کل ذخائر کے 4 فیصد حصے یعنی270 تا360 ٹریلین کیوبک فٹ کی مالک ہیں۔ اس خطے میں پائے جانے والے تیل کے ذخائر دنیا کے2.7 فیصد یعنی13تا 15 بلین بیرل ہیں۔ قازقستان دنیا میں یورینیم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ سابقہ سوویت یونین اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے لئے یورینیم وسطی ایشیا سے ہی حاصل کرتا تھا۔ اب اس پر بھارت کی نظر ہے اور قازقستان کے دورے کے دوران ہی نریندر مودی نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدے پر بھی دستخط کئے جس کے تحت اگلے چار سال کے دوران بھارت قازقستان سے 5000 ٹن یورینیم خریدے گا جو اس کے 21 ایٹمی پلانٹس کے لئے ایندھن فراہم کرے گا۔ بھارت کی معیشت کا تمام تر انحصار درآمد کئے جانے والے تیل پر ہے۔ مثلاً گزشتہ برس جون تک اعداد وشمار کے مطابق بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا83.5 فیصد درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ اندازہ ہے کہ سال2020 تک بھارت کو تیل کی ضروریات 90 فیصد تک درآمد کرکے پوری کرنا پڑیں گی۔ اگرچہ وسطی ایشیائی ممالک سے تیل کی خریداری میں چین کو بھارت پر سبقت حاصل ہے‘ تاہم اس کمی کو پورا کرنے کے لئے بھارت ایران پر انحصار کررہا ہے۔ ایران کے خلاف عالمی اقتصادی پابندیوں سے قبل بھارت ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا۔ پابندیوں کے دوران بھی بھارت ایران سے چوری چھپے تیل خریدتا رہا ہے۔ ایران اور بھارت کے درمیان قربت کے حالیہ رشتوں کے قیام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایران کو اقتصادی پابندیوں کے ہاتھوں اپنی تباہ حال معیشت کو بحال کرنے کے لئے اپنے تیل کے لئے گاہک کی ضرورت ہے۔ اس وقت ایرانی تیل کے دو ہی بڑے گاہک ہیں۔ چین اور بھارت۔ بھارت نے ماضی میں تیل کے بدلے ایران کی واجب الاداء 6 بلین ڈالر کی رقم بھی قسطوں میں واپس کرنا شروع کردی ہے۔ بھارت کی طرف ایران کی گرم جوشی کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے جس سے فائدہ اٹھا کر بھارت نے ایران کو چا بہار کے منصوبے میں بھارت کی شرکت اور سرمایہ کاری پر راضی کرلیا ہے۔ تیل کے علاوہ بھارت افغانستان اور پاکستان کے راستے ترکمانستان کی گیس ’’تاپی‘‘ پائپ لائن کے ذریعے حاصل کرنے کا بھی خواہش مند ہے۔

 

جولائی میں جن پانچ وسطی ایشیائی ممالک کا نریندر مودی نے دورہ کیا تھا‘ ان میں ترکمانستان بھی شامل تھا۔ ترکمانستان کی سیاسی قیادت سے بات چیت کرتے ہوئے بھارتی وزیرِاعظم نے ترکمانستان سے افغانستان اور پاکستان اور اس سے آگے گیس پہنچانے کی پائپ لائن کی تکمیل میں خاص دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ وسطی ایشیا کے توانائی وسائل سے استفادہ کرنے میں بھارت کی گہری دلچسپی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض حلقوں نے کاسا۔1000 منصوبے میں بھی بھارت کی شمولیت کی سفارش کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً1300 میگاواٹ پن بجلی کرغیزستان اور تاجکستان سے افغانستان کے راستے پاکستان میں درآمد ہوگی۔ لیکن وسطی ایشیا میں بھارت کی دلچسپی صرف توانائی کے حصول تک محدود نہیں۔ وسطی ایشیا اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے زبردست سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ اسی وجہ سے نہ صرف روس‘ امریکہ اور چین جیسی بڑی طاقتیں اس خطے میں اپنے اثر ورسوخ کو پھیلانے کے لئے کوشاں ہیں‘ بلکہ یہ خطہ ایران اور پاکستان کے لئے بھی قدیم تاریخی روابط‘ ثقافتی رشتوں اور مذہبی اشتراک کی وجہ سے اہم ہے۔ دونوں ممالک اس خطے میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے لئے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مواصلاتی رابطوں اور تجارتی‘ اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگرچہ وسطی ایشیا ایک عرصہ تک سابقہ سوویت یونین کا حصہ رہا ہے اور اب بھی اس خطے کے مواصلاتی رابطے اپنے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں روس کے ساتھ زیادہ ہیں‘ تاہم وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی تعاون‘ سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں چین روس کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اسی طرح امریکہ کی جانب سے بھی ابتدائی کوششوں کے باوجود‘ وسطی ایشیائی ریاستوں میں امریکی اثر و رسوخ میں اضافہ نہیں ہوسکا۔

 

اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اور اس ارادے کے ساتھ کہ وسطی اور مغربی ایشیائی خطوں کا میدان چین کے لئے خالی نہیں رہنے دیا جائے گا‘ امریکہ ایک طرف افغانستان اور وسطی ایشیا میں بھارت کو فعال کردار ادا کرنے پر اُکسا رہا ہے اور دوسری طرف افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت اور توانائی کے رابطوں کے قیام میں مدد فراہم کررہا ہے۔ ترکمانستان سے افغانستان اور پاکستان کے راستے تک گیس پائپ لائن ’’تاپی‘‘ کے ایشیائی ترقیاتی بنک کی جانب سے فنڈز کی فراہمی پر رضامندی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتہ اور اقتصادی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے بعد‘ امریکہ کی ایران کے بارے میں پالیسی میں بنیادی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ مشرق وسطیٰ میں انتہا پسند اور بنیاد پرست تنظیموں مثلاً ’داعش‘ کی سرگرمیوں کو روکنے میں سعودی عرب کی ناکامی ہے۔ امریکی میڈیا اور تھنک ٹینک اب کھلے عام سعودی عرب کو مشرقِ وسطیٰ میں ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں انتہا پسند اور متشدد اسلامی فکر یعنی ’’وہابی ازم‘‘ کا منبع قرار دے رہے ہیں۔ اور امریکی حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ نہ صرف مذہبی انتہا پسندی کے خلاف بند باندھے بلکہ افغانستان کی گتھی سلجھانے کے لئے ایران کی مدد حاصل کرے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا ایرانی مقصد سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً معاشی ہے‘ کیونکہ بھارت جیسے بڑے گاہک کے ہاتھ اپنا تیل بیچ کر ایران اپنی تباہ حال معیشت کو بحال کرنا چاہتا ہے لیکن بھارت اس سے سیاسی اور سٹریٹجک فائدہ اٹھانا چاہتا ہے کیونکہ پاکستان کے راستے براہِ راست افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے حصول میں ناکامی کے بعد وہ مقصدایرانی بندرگاہ چا بہار کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کے لئے بھارت کی مالی امداد سے افغانستان میں زارنج۔ ڈیلارم ہائی وے تعمیر کی جاچکی ہے جس کا ایک سرا ایران کے ساتھ افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔ یہاں سے چا بہار تک ملانے والی سڑک کو ایران تعمیرکرچکا ہے۔ ایران نے چا بہار کو زاہدان سے ملانے والی ایک اور سڑک تعمیر کی ہے۔ اسی طرح چا بہار کے ذریعے بھارت کو نہ صرف ایران اور افغانستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک جن میں قازقستان بھی شامل ہے‘ رسائی حاصل ہو جائے گی۔یعنی وسطی ایشیا میں تجارت اور مواصلاتی رابطوں کو فروغ دینے کے لئے سڑکوں اورریلوے لائنوں کا جو نیٹ ورک‘ انٹر نیشنل نارتھ‘ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور تعمیر کیا جارہا ہے‘ بھارت اس کا ایک اہم رکن بن جائے گا۔ امریکہ کی طرف سے ایران اور بھارت کے درمیان چا بہار کی تعمیر اور افغانستان کو شامل کرکے سہ فریقی ٹرانزٹ معاہدے کی حمایت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھارت کو وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا میں چین کے مدِ مقابل لاناچاہتا ہے۔

 

اگرچہ چابہار کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنے والا راستہ بھارت کے لئے پاکستان کے راستے رسائی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ واہگہ سے پاکستان کے راستے طور خم تک کا فاصلہ 584 کلومیٹر ہے جبکہ صرف ممبئی سے چاہ بہار کا فاصلہ1435 کلو میٹر ہے۔ لیکن پاکستان کی طرف سے بھارت کو یہ سہولت فراہم کرنے سے دیگر وجوہات کی بنا پر انکار کی وجہ سے بھارت چا بہار کا راستہ اختیار کرے گا۔ پاکستان بھارت کی افغانستان تک زمینی راستے سے رسائی کو انڈین عزائم کی تکمیل کا ایک مکمل پیکج سمجھتا ہے۔ جس میں پاکستان کے اندر اثرورسوخ بڑھانا حتیٰ کہ تخریبی کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو غیرمستحکم کرنا شامل ہے۔ چونکہ چین نے بھی اس خطے میں ’’ون بیلٹ‘ ون روڈ کے تحت ایشیا کے وسطی اور مغربی علاقوں کو یورپ اور افریقہ سے ملانے کا ایک وسیع منصوبہ جس میں پاک چائنا اکنامک کوریڈور بھی شامل ہے‘ بنا رکھا ہے۔ اس لئے پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدات کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ کیونکہ ان پر مکمل طور پر عمل درآمد سے نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ سکیورٹی پر بھی براہِ راست اثر پڑے گا۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں چین پر پاکستان کا انحصار بڑھ جائے گا۔ تاہم ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ چین خود اس خطے میں سڑکوں‘ ریلوے لائنوں اور دیگر مواصلاتی رابطوں کی ترقی پر خطیر رقم کی سرمایہ کاری کررہا ہے ۔ جس کے لئے امن و استحکام لازمی ہے اس لئے پاکستان کو اس خطے میں جاری دو بڑے تنازعات ’کشمیر اورافغانستان‘ کے حل کے لئے دور رس قومی مفادات کے مطابق حکمتِ عملی تیار کرنا ہوگی۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔ آپ ان دنوں یونیورسٹی آف سرگودھا سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

امریکہ کی طرف سے ایران اور بھارت کے درمیان چا بہار کی تعمیر اور افغانستان کو شامل کرکے سہ فریقی ٹرانزٹ معاہدے کی حمایت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھارت کو وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا میں چین کے مدِ مقابل لاناچاہتا ہے۔

*****

 
Read 2518 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter