حدبندی اورد ستاویزات کے ایشو پر افغانستان کی کھلی مزاحمت

Published in Most Read Urdu

تحریر: عقیل یوسف زئی

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے۔ ماضی اور اسباب پر بحث کئے بغیر اگر گزشتہ 16برسوں کے تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ بدگمانیوں اور بداعتمادی کا سلسلہ نائن الیون کے بعد بھی جاری رہا۔ حالانکہ پاکستان نے افغانستان سے انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خاتمے کی عالمی مہم جوئی میں نہ صرف بنیادی کردار ادا کیا بلکہ اس پالیسی کی بہت بڑی قیمت بھی چکائی۔ نائن الیون کے بعد پاکستان نے القاعدہ اور طالبان کے تقریباً 500افراد کو گرفتار کر کے ان تنظیموں کی کمر توڑ ڈالی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ القاعدہ طالبان اور ان کے اتحادی پاکستان پر حملہ آور ہوئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق نائن الیون اور فال آف طالبان کے بعد پاکستان نے اس جنگ میں کھربوں روپے کے معاشی نقصان‘ انفراسٹرکچر کی تباہی اور بعض دیگر نقصانات کے علاوہ 60ہزار افراد کی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ جن میں تقریباً 9000سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ پاکستان میں ان برسوں کے دوران 340سے زائد ڈرون حملے کرائے گئے۔ اس کا خلاصہ یوں بھی بنتا ہے کہ پاکستان کو گزشتہ 16برسوں کے دوران اندرونی اور بیرونی محاذوں پر مختلف کارروائیوں کا نشانہ بننا پڑا۔ حالانکہ نائن الیون کے واقعے میں ایک بھی پاکستانی ملوث یا شامل نہیں تھا۔ القاعدہ اور طالبان کے جو لوگ فاٹا اور دیگر علاقوں میں گھس آئے اس کی کلی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد نہیں ہوتی۔ اس عمل کے دو پہلو بہت اہم ہیں۔ ایک یہ کہ جب القاعدہ اور طالبان کمانڈر اور جنگجو افغان سرحد پار کر کے پاکستان آ رہے تھے تو 40ممالک پر مشتمل عالمی اتحاد اور ان کی فورسز نے ان کے خلاف کارروائیاں کیوں نہیں کیں۔ دوسرا پہلو یہ کہ جب ان لوگوں نے افغانستان اور امریکہ کے بقول پاکستان سے جا کر افغانستان میں کارروائیاں تیز کیں تو مد مقابل فریقین یا اتحادیوں نے سرحد کو محفوظ بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی۔ طویل ترین سرحد کو دہشت گردوں کی آمدورفت کے لئے بند کرنا نہ صرف یہ کہ پاکستان کے بس کی بات نہیں تھی بلکہ پاکستان کے لئے انتظامی‘ سیاسی اور اقتصادی طور پر بھی ایسا کرنا کافی مشکل کام تھا۔ اتحادیوں اور افغانستان نے جان بوجھ کر بارڈر مینجمنٹ کی ضرورت کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنائی اور پاکستان کے مسلسل اصرار اور مطالبے کے باوجود ان اقدامات سے گریز کیا جن پر عمل کر کے کراس بارڈر ٹیررازم کے سنگین مسئلے کا حل نکالا جا سکتا تھا۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان پر امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان وغیرہ کی حمایت اور سرپرستی کا یک طرفہ الزام لگاتے رہے اور اس کی آڑ میں افغانستان میں اپنی ناکام پالیسیوں کے نتائج کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے رہے۔ اس پالیسی کے ذریعے پاکستان کو مسلسل دبانے کی کوششیں کی جاتی رہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ تو بداعتمادی اور الزام تراشی کا سلسلہ ختم ہو سکا اور نہ ہی عملاً کراس بارڈر ٹیررازم کا راستہ روکا جا سکا۔ عالمی اتحادیوں نے پاکستان کی مدد سے افغانستان پر قبضہ تو کر لیا تاہم وہ اپنی مبہم پالیسیوں کے باعث دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے میں ناکام رہے اور یوں معاملات پھر سے بگڑنا شروع ہو گئے۔ سال 2002کے بعد سال 2004 تک افغانستان کے اندرونی حالات یکسر مختلف اور بہتر رہے تاہم یہی وہ عرصہ ہے جس کے دوران پاکستان کے فاٹا میں افغان طالبان‘ القاعدہ سنٹرل ایشین تنظیموں اور ان کے پاکستانی نظریاتی اتحادیوں نے نہ صرف اکٹھا ہونا اور منظم ہونا شروع کر دیا بلکہ انہوں نے عملاً اس پیچیدہ اور غیر محفوظ علاقے میں اپنی سرگرمیاں بھی بڑھا دیں۔ پاکستان نے فاٹا میں مختلف اوقات میں 200 سے زائد آپریشن کئے تاہم ہر آپریشن کے دوران یا تو کمانڈر اور ان کے جنگجو سرحد پار کر کے افغانستان چلے جاتے یا پاکستان کے دیگر علاقوں کا رخ کر کے خود کو بچاتے رہتے۔ اس قسم کی اطلاعات تو اب سابق امریکی حکام اور فوجی جرنیلوں کی تصانیف اور بیانات کے ذریعے پبلک بھی ہوتی ہیں کہ امریکہ اور اس کے بعض قریبی اتحادیوں کے علاوہ بعض افغان حکام بھی پاکستان بیسڈ طالبان کو معاونت فراہم کرتے رہے۔ اس دوغلے رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنگجو نہ صرف بچتے رہے بلکہ پھیلتے بھی گئے۔

hadbandiaur.jpg

حالیہ چند برسوں کے دوران بارڈرمینجمنٹ کا معاملہ پھر سے سر اٹھانے لگا۔ پاکستان نے جب دو برس قبل آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تو افغان حکومت سے کہا کہ وہ سرحدوں کی نگرانی کو سخت کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں تاہم افغان حکام نے اس پر نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ انہوں نے شمالی وزیرستان کے پناہ گزینوں کی شکل میں دو سرحدی صوبوں میں بعض جنگجوؤں اور ان کے حامیوں کو پناہ بھی دے دی۔ قصہ مختصر یہ کہ بدنیتی اور بداعتمادی پر مشتمل اس پالیسی نے خطے کے امن کو مستقل خطرے میں ڈالے رکھا۔ سانحہ پشاور کے بعد پاکستان نے علاقائی امن کے لئے جو اقدامات تجویز کئے ان میں یہ مطالبہ یا تجویز سرفہرست تھی کہ بارڈرمینجمنٹ کے سسٹم کو مربوط اور فعال بنایا جائے۔ اس کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ جن عناصر نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے اور وہ وقتاً فوقتاً پاکستان میں حملے کراتے رہتے ہیں ان کے خلاف کارروائیاں کی جائیں۔ ابتدا میں دوسرے مطالبے پر تھوڑا بہت عمل کیا بھی گیا مگر بعد میں یہ سلسلہ روک دیا گیا۔ افغانستان اور امریکہ ایک طرف تو حقانی نیٹ ورک اور بعض دیگر کے خلاف پاکستان سے کارروائیوں اور ڈومور کا مطالبہ کرتے آئے ہیں‘ تاہم فضل اﷲ خراسانی گروپ اور متعدد دیگر سے نمٹنے کے لئے اپنے حصے کا کام کرنے سے مسلسل کتراتے اور گریز اں رہے۔ متعدد واقعات اور اطلاعات کے باوجود جب پاکستان کے اس جائز مطالبے اور تجویز پر کسی نے توجہ نہ دی تو رواں برس کے دوران پاکستان کے سکیورٹی حکام نے اپنے طور پر بارڈر مینجمنٹ کے ایشو پر فوکس کیا اور اس مقصد کے لئے بعض سرحدی علاقوں میں نہ صرف یہ کہ حد بندیوں کا تعین کیا گیا بلکہ دفاعی اقدامات بھی کئے گئے۔ اس سلسلے میں شمالی و جنوبی وزیرستان‘ خیبر ایجنسی اور چمن کے مقامات پر بعض چیک پوسٹ قائم کی گئیں تو بعض مقامات پر خاردار تاریں اور دیگر رکاوٹیں بھی کھڑی کیں۔ طُرفہ تماشا یہ ہوا کہ اعلیٰ افغان حکام کے علاوہ پاکستان کے بعض قوم پرست حلقوں نے بھی ان اقدامات پر تنقید کرنی شروع کر دی۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ اس سے آمدورفت کے سلسلے میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور سرحد کے دونوں اطراف کی پشتون آبادی بھی تکالیف سے دوچار ہو گی۔ ان کی اس دلیل میں گو کہ وزن بھی تھاتاہم چیلنجز اور خطرات کے تناظر میں ان کے موقف سے اتفاق کرنا کافی مشکل کام تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے باشندے کے کسی دوسرے ملک میں جانے یا قیام کرنے کے کچھ بین الاقوامی اور طے شدہ اصول ہوا کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کئی دہائیوں سے دونوں اطراف کے لوگ بغیر کسی رکاوٹ یا دستاویزات کے سفر کرتے رہے تاہم بدلتے حالات کے تناظر میں اس سلسلے کو اسی انداز میں آگے بڑھانا رسک سے بھرا عمل تھا۔

hadbandiaur1.jpg

مئی 2016 میں پاکستان نے طے کیا کہ سرحدی آمدورفت کو منظم ‘ قانونی اور جدید بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے متعدد تجاویز کی روشنی میں بعض دیگر اقدامات کے علاوہ دستاویزات کی شرط کو لازمی قرار دیا گیا۔ اس پر مذکورہ حلقے پھر سے معترض ہوئے تاہم پاکستان کا موقف اٹل رہا۔ یہ معاملہ سفارتی اور عسکری سطح پر افغانستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ڈسکس کیا گیا اور یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ بعض قبائل کو مخصوص رعایتیں اور سٹیٹس بھی دیا جائے گا۔ تاکہ ان کی آمدورفت کو ایک مخصوص طریقہ کار کے ذریعے معمول کی دستاویزی ضروریات سے مبرا رکھا جائے۔ پاکستان نے چمن‘ غلام خان‘ انگور اڈہ اور طور خم کے معروف روٹس پر بعض حفاظتی اقدامات کئے تو دوسری جانب سے حسب معمول عدم تعاون کا مظاہرہ کیا گیا اور متعدد بار بات تلخی سے ہوتے ہوئے تصادم تک پہنچ گئی۔ یوں تلخیاں بڑھتی گئیں اور نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ پاکستان کو طورخم بارڈر بند کرنے کا اقدام اٹھانا پڑا۔ یہ اقدام افغانستان سے برداشت نہ ہو سکا اور حالات یہ ہو گئے کہ افغانستان کے سفیر عمر زاخیلوال کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کرنا پڑی اور آرمی چیف نے ان کی درخواست پر فوری عمل کا حکم دیتے ہوئے چند ہی گھنٹوں میں سرحد کھلوا دی۔ ایک اور اقدام کے طور پر جذبہ خیرسگالی کے تحت انگور اڈہ کی ایک چیک پوسٹ پر افغانستان کی ملکیت یا اختیار تسلیم کرتے ہوئے اسے افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ تاہم دوسری طرف کا جواب یوں دیا گیا کہ چند دن بعد افغان حکام نے یہ روٹ بند کرنے کا حیران کن اقدام اٹھایا۔ اور تادم تحریر یہ راستہ دونوں اطراف کے لوگوں کے لئے بند ہے۔ اس صورت حال سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں رہتا کہ افغان حکام جو کام اور جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہ دوسرے کے لئے پسند نہیں کرتے۔ مثلاً اس رویے کا کیا جواز ہے کہ انہوں طور خم بارڈر کی چند روزہ بندش پر تو آسمان سر پر اٹھا لیا تاہم انگور اڈہ کا روٹ کئی ہفتوں تک بند کئے رکھا۔ یہ ایسا رویہ ہے جس کی نہ تو وضاحت پیش کی جا رہی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ بتائی جا رہی ہے۔ ایک معتبر تحقیقی ادارے کی 2015 کی رپورٹ کے مطابق 2014-15 میں افغان فورسز نے درجنوں بار باقاعدہ حملے کئے جس کے نتیجے میں درجنوں پاکستانی اہلکار جاں بحق بھی ہوئے تاہم پاکستان بوجوہ جوابی کارروائی سے گریز کرتا رہا۔

 

حال ہی میں صورت حال اس وقت انتہائی سنگین شکل اختیار کر گئی جب 12جون کی شام کوطورخم بارڈر پر پاکستانی حکام کی جانب سے اپنی حدود میں کراسنگ پوائنٹ بنانے کے دوران افغان حکام مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے اس کے باوجود یک طرفہ طور پر پاکستانی علاقے پر باقاعدہ حملہ کیا کہ 12مئی کی دوپہر کو ان کی اس اقدام کی باقاعدہ اطلاع دی گئی تھی۔ افغان فورسز نے بلااشتعال کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف بارڈر ایریا پر گولہ باری کی بلکہ طورخم میں رہائش پذیر مقامی شہریوں اور ان کی رہائش گاہوں کو بھی مارٹر گولوں کا نشانہ بنایاجس کے نتیجے میں دو خواتین اور تین بچوں سمیت پاک فوج کے میجرجواد چنگیزی نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کے علاوہ ایف سی کے9 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ پاک فوج نے افغان حملے کا مؤثر جواب دیااور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل سلیم باجوہ نے ایک پریس کانفرنس میں برملا کہا کہ طورخم گیٹ کی تعمیر سمیت دیگر گزرگاہوں پر گیٹس ہر صورت تعمیر کئے جائیں گے تاکہ دونوں اطراف سے آنے جانے والے شہریوں کی دستاویزات کی چیکنگ کو مؤثر بنایا جاسکے۔ اس غیرمتوقع حملے یا صورت حال نے ایک تاثر یا خدشہ یقین میں بدل دیا اور وہ یہ کہ ڈیورنڈ لائن اور سرحدی حد بندی جیسے معاملات پر افغان موقف اور مزاحمت کے پیچھے چند اور عوامل بھی کارفرما ہیں۔ جبکہ یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ پاکستان کے بعض مخالف ممالک کے علاوہ بعض اتحادی اور دوست نما عناصر بھی اس تمام گیم میں افغانستان کے کندھے پر بندوق رکھ کر اپنے مقاصد کے حصول میں سرگرم عمل ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو نہ صرف یہ کہ اس معاملے پر افغانستان کے ساتھ سختی کی بجائے نرمی کے ساتھ بات کرنی چاہئے بلکہ افغانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش بھی کرنی چاہئے کہ وہ دوسروں کے مفادات کے لئے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا رویہ ترک کریں۔ پاکستان میں ایسے لوگوں یا بااثر حلقوں کی کوئی کمی نہیں جن کے ذریعے کابل کو سمجھایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لئے لازمی ہے کہ محض سرکاری ذرائع یا روائتی کارندوں اور طریقوں پر انحصار نہ کیا جائے۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 723 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter