25
February

تحریر: عقیل یوسف زئی

افغانستان کے حالات میں 2015 کے دوران جو ابتری واقع ہوئی وہ سال کے آخر تک جاری رہی ۔ اس صورت حال نے جہاں افغان ریاست کو اپنی سکیورٹی کے حوالے سے پریشان کئے رکھا وہاں پڑوسی ممالک اور اہم اتحادی بھی تشویش کا شکار رہے اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ دسمبر کے مہینے میں ہارٹ آف ایشیا کے عنوان سے اسلام آباد میں جو کانفرنس منعقد ہوئی اس میں عالمی برادری اور پاکستان جیسے ممالک کی غیر معمولی دلچسپی اور سنجیدگی دیکھنے کو ملی اور ایک مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ افغانستان کی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کیا جائے گا اور مفاہمتی عمل کے دوران ہر ممکن تعاون کا راستہ اپنایا جائے گا۔ سال 2015 کے دوران افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہے جس کا تمام تر فائدہ حملہ آوروں کو ہوا جبکہ نقصان افغانستان کو اٹھانا پڑا اور اس صورتحال نے دوسروں کے علاوہ بعض عالمی طاقتوں کو بھی خطے کے بدلتے حالات کے تناظر میں مسلسل تشویش سے دوچار کئے رکھا۔

 

افغانستان میں استحکام کے بجائے بدامنی اور عدمِ استحکام میں 2015 کے دوران اضافہ کیوں ہوا۔ ماہرین اس کے مندرجہ ذیل عوامل بتاتے ہیں۔

 -1 افغان فورسز کی صلاحیت اور وسائل کے بارے میں جو دعوے کئے گئے تھے وہ درست نہیں تھے اور جب غیر ملکی فوجیں نکل گئیں تو افغان فورسزنے اس صلاحیت کا مظاہر نہیں کیا جس کی توقع تھی۔

 -2  افغان حکومت کے دو اہم سرابراہان یعنی ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کے درمیان مشترکہ حکومت کی تشکیل کے باوجود وہ ہم آہنگی اور اعتماد سازی پیدا نہ ہو سکی جس کی ریاست کوضرورت تھی اور ان کے باہمی اختلافات ریاستی اُمور اور وزارتوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے رہے جس نے نظامِ مملکت کی فعالیت کو بری طرح متاثر کیا۔

 -3 امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے حسبِ توقع اس سطح کی مالی اور تیکنیکی معاونت فراہم نہیں کی جس کی افغان فورسز اور دوسرے اِداروں کو ضرورت تھی۔ اس عمل کی وجہ سے ریاست کو وسائل کے فقدان کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سوال سراٹھانے لگاکہ ریاستی معاملات مستقبل میں کیسے چلائے جائیں۔

2016kadoranafghan.jpg

 -4 رشید دوستم اور ایسے دیگر کمانڈروں اور اعلیٰ حکام نے اکثریتی آبادی یعنی پشتونوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں پشتونوں کا ریاست پر اعتماد اٹھنے لگا اور وہ ردِ عمل کے طور پر طالبان وغیرہ کی غیرعلانیہ معاونت کرنے لگے۔ افغان صدر بوجوہ وہ مقبولیت برقرار نہ رکھ سکے جو کہ الیکشن سے قبل ان کو حاصل تھی اور معاملات پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی ۔

 -5 افغان صدر اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان اور بعض دیگر اتحادیوں کو الزامات اور مخالفانہ بیانات کا نشانہ بنا کر نہ صرف خود سے دُور کیا بلکہ کشیدگی کا راستہ بھی ہموار کیا جس کا ان قوتوں اور ممالک نے فائدہ اٹھانا شروع کیا جو کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینا چاہ رہے تھے۔

 -6 طالبان کے ساتھ مذاکرات کے جس سلسلے کا مری پراسس کے دوران آغاز کیا گیا تھا وہ ملا عمر کی ہلاکت کی خبر لیک کرنے سے تعطل کا شکار ہوا اور نئے طالبان سربراہ نے اپنی موجودگی اور صلاحیت ثابت کرنے کے لئے حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ کیا جس نے ریاست کو ہلاکر رکھ دیا۔

 -7 سیاسی عدمِ استحکام اور انتہا پسندوں کے حملوں کے باعث ہزاروں تعلیم یافتہ لوگ افغانستان سے ایک بار پھر سے دوسرے ممالک میں جانا شروع ہوگئے۔ اس رجحان نے دیگر کو بھی  خوفزدہ کردیا جبکہ عام آدمی کی معاشی حالت بھی متاثر ہونا شروع ہوئی۔ اس صورتحال نے عدمِ اطمینان کا راستہ ہموار کیا اور ریاستی معاملات اور معاشی سرگرمیوں کو دھچکے لگنے لگے شروع ہوگئے۔

 

یہ وہ عوامل تھے (یا ہیں) جن کاسال 2015 کے دوران افغان ریاست‘ سیاست اور سوسائٹی کو سامنا کرنا پڑا اور اس کے نتیجے میں ریاست کی گرفت کمزور ہونے لگی اور حالات ابتر ہوتے گئے ۔

 

اب سوال یہ ہے کہ سال 2016 کیسا ہوگا اور اس جنگ زدہ افغانستان کو اس برس کے دوران کون سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واقعات و حالات کے تناظر میں مستقبل کے افغانستان کااگر جائزہ لیا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ حالات کوئی بھی کروٹ لے سکتے ہیں اور کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں قندوزپر طالبان کے قبضے اور اس کے بعد کی صورت حال کی مثال دی جاسکتی ہے۔

 

افغان وزارتِ داخلہ اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق طالبان تقریباً 15 روز تک اس اہم شہر پر قابض رہے۔ انہوں نے اس دوران نہ صرف یہ کہ شہر کو یرغمال بنائے رکھا بلکہ سرکاری عمارات پر بھی قبضہ جمائے رکھا۔ ان رپورٹس کے مطابق ان دو ہفتوں کے دوران تقریباً 300 افراد جاں بحق جبکہ 600 زخمی ہوئے۔ یہ تعداد کافی زیادہ اور پریشان کن ہے تاہم اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ افغان اور اتحادی فورسز دو ہفتوں کے طویل عرصے تک اس محدود شہر کو طالبان کے قبضے سے چھڑانے میں ناکام رہیں اور طالبان یہ پیغام دینے میں عملاً کامیاب ہوئے کہ وہ لمبے عرصے تک مضافات تو ایک طرف اہم شہروں پر قبضہ کرنے اور قابض رہنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

 

جس روز اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا انعقاد ہونا تھا اس سے ایک روز قبل طالبان وغیرہ نے دو صوبوں قندھار اور ہرات پر بیک وقت شدید حملے کئے۔ ان حملوں کے دوران پہلے روز تقریباً 150 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت سکیورٹی اہلکاروں کی تھی۔ حالت یہ تھی کہ طالبان دیگر عمارات کے علاوہ قندھار انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں بھی گھس گئے اور فورسز ان کا راستہ روکنے میں ناکام رہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ افغان ریاست یا اس کی فورسز نے قندوز کے حملے سے یا تو سبق نہیں سیکھا تھا یا اب کی بار بھی ان کی صف بندی درست نہیں تھی۔ جس روز افغان صدر اور ان کی ٹیم کا اسلام آباد میں شاندار استقبال کیا جارہاتھا‘ اُس وقت بھی ان دو صوبوں یا شہروں میں فریقین کے درمیان شدید لڑائی جا ری تھی اور قندھار ایئرپورٹ طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

 

افسوسناک امر یہ تھا کہ اس دوران بھی افغان انٹیلی جنس کے سربراہ نے اپنی ناکامیوں کے اعتراف کے بجائے پاکستان کو ہدف تنقید بنانے کے علاوہ اپنے علاوہ صدر کو بھی الزامات کی گرفت میں لیا اور اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ان کو پیغام بھجوایا کہ اگر وہ صدارتی حکم سے قبل خود ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں تو بہترہوگا۔ موصوف نے ایسا ہی کیا اور افغان صدر نے بھی جواب میں استعفےٰ منظور کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی۔ انٹیلی جنس سربراہ کی جانب سے اپنے صدر کے خلاف جس قسم کا غیرمحتاط اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا گیا وہ اس جانب اشارہ تھا کہ بعض حلقے یا حکام خود کو کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں سمجھتے اور وہ قابو سے باہر ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ موصوف نے پاکستان پر الزامات لگانے کے علاوہ اپنے سربراہ مملکت کے دورہ پاکستان کے فیصلے کو بھی کھلی تنقید کا نشانہ بنایا تھا حالانکہ مذکورہ کانفرنس ایک عالمی پراسس کا تسلسل تھا اور پاکستان نے صرف اس کی میزبانی کی ذمہ داری نبھانی تھی۔

 

اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے جس جذبے اور عزت کے ساتھ افغان صدر اور ان کی ٹیم کا استقبال کیا اور ان کی باتوں کے علاوہ بعض شکایات کو جس طریقے سنا گیا اس نے دوسروں کے علاوہ افغان حکام کو بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ کانفرنس توقعات سے بھی بڑھ کر کامیاب اور متاثر کن رہی۔ افغان صدر نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ان خطرات کی کھل کر نشاندہی بھی کی جن کا افغانستان کو سامنا ہے یا مستقبل میں سامنا ہوسکتا ہے۔ ردِ عمل میں پاکستانی شخصیات نے ان کو جو یقین دہانیاں کرائیں وہ بڑی حد تک اطمینان بخش تھیں اور افغان صدر نے کابل پہنچنے کے بعد اس پر اطمینان اور اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ ادھر تاپی پراجیکٹ کے آغازنے بھی امن کے امکانات بڑھا دیئے۔

 

کانفرنس کے دوران افغان صدر کی، دوسروں کے علاوہ، پاکستان کے آرمی چیف سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی جو کہ حسبِ توقع کافی خوشگوار ثابت ہوئی اور پاکستانی قیادت نے ماضی قریب کے ان الزامات کو زیرِ بحث لانے سے بھی گریز کیا جو دوسروں کے علاوہ خود افغان صدر کی جانب سے بھی لگائے گئے تھے۔ یہ دراصل اس پیغام کا عملی اظہار تھا کہ پاکستانی قیادت ہر حال میں ایک مستحکم اور پُرامن افغانستان چاہتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے۔ یہ واضح موقف یا پیغام اس جانب اشارہ تھا کہ پاکستان اور اس کے بعض قریبی اتحادی مستقبل میں ایک اہم رول ادا کرنے جارہے ہیں اور اس رول کے نتیجے میں نہ صرف بداعتمادی میں کمی واقع ہوگی بلکہ خطے کے مجموعی حالات میں بہتری کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ دوسروں کے علاوہ امریکہ ‘ چین اور بھارت جیسے اہم ممالک نے بھی کانفرنس کے انعقاد اور پاکستانی کوششوں یا یقین دہانیوں کا کھل کر خیر مقدم کیا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان‘ افغانستان اور امریکہ کی جانب سے کانفرنس کے انعقاد کے بعدجو اعلامیہ جاری کیا گیا وہ بہت جامع اور واضح تھا۔

 

اس کانفرنس کے دوران اشرف غنی نے جو نکات اٹھائے ان میں دو باتیں بہت اہم تھیں‘ ایک یہ کہ افغانستان کے دشمن اس ملک کو توڑنا چاہتے ہیں اور دوسری یہ کہ داعش کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ یہ باتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ ان کی جرأت تھی کہ انہوں نے حسبِ سابق ایسے خطرات کی خود نشاندہی کی جن کا مستقبل میں اس جنگ زدہ ملک کو سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ دوسروں کے علاوہ افغان قیادت کو بھی حالات اور خطرات کا بخوبی ادراک اور خوف ہے اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ افغان صدرنے پاکستان سے اس کے رول کے تناظر میں متعدد مطالبات کئے جن کو غور سے سنا گیا اور ان کی، تسلی بخش اور عملی اقدامات پر مبنی، یقین دہانیوں کا جواب بھی دیا گیا۔

 

دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کانفرنس کے کافی مثبت نتائج اور اثرات مرتب ہوں گے اور اگر اس پراسس کو چین جیسے ممالک کا تعاون حاصل رہا تو بہت سے معاملات درست انداز میں آگے بڑھ پائیں گے۔ بہت سے ماہرین دونوں ممالک کو قریب لانے اور غلط فہمیاں دورکرنے میں ان قوم پرست لیڈروں کے کردار کو بھی قدر اور اہمیت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں جنہوں نے کانفرنس سے قبل کابل کا دورہ کیا اور افغان حکمرانوں اور حامد کرزئی جیسے لیڈروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں تاکہ کشیدگی کو مفاہمت میں تبدیل کیا جائے۔

majmamir.jpg 

  دفاعی تجزیہ کار میجر(ر) محمدعامر نے اس ضمن میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الزامات در الزامات کے رویے کی بجائے اب حقیقت پسندی پر مبنی رویے اختیار کرنے  میں ہی افغان قیادت کا فائدہ ہے اور اس سے پورے خطے کے حالات کو بہتر بھی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق افغان قیادت کو اب بھارت اور ان چند قوتوں کے اثر سے نکلنا پڑے گا جو کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتی آئی ہیں اور غلط فہمیوں اور دوریوں کا راستہ ہموار کرتی رہیں۔ ان کے مطابق افغان قیادت کو عملاً یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ افغان سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اگر ایسا کیا گیا تو اس میں سب کا فائدہ ہوگا۔

hassankhan.jpg 

ممتاز صحافی حسن خان نے کہا کہ افغان قیادت‘ میڈیا اور عوام کو اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا ہوگا اور اس بات کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ ہر بات اور ہر کام کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا ان کا رویہ کتنا درست اور حقائق پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں افغانستان کی سول سوسائٹی نے ایک جائزہ ترتیب دیا ہے جس کے 10 میں سے آٹھ نکات میں موجودہ صورت حال کی ذمہ داری کسی اور کے بجائے افغانستان کے داخلی معاملات ‘ پالیسیوں اور کمزوریوں پر ڈال دی گئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے علاوہ اپنی کمزوریوں کا بھی ادراک کیا جائے تاکہ افغانستان کے علاوہ خطے کے امن‘ ترقی اور استحکام کو بھی یقینی بنایا جائے ورنہ 2016 ایک خطرناک سال بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

imtiazgul.jpg 

سینئر تجزیہ کار امتیاز گل کی رائے ہے کہ ریاستی رابطوں کی فعالیت کے علاوہ ٹریک ٹو کے ذریعے دونوں ممالک کو قریب لانے کی کوششیں کافی سود مند ثابت ہو سکتی ہیں اور اس آپشن کو بھی سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے تاکہ 2016 اور اس کے بعد کے ممکنہ خطرات کا راستہ روکا جاسکے اور مفاہمتی عمل کا آغاز بھی کیا جاسکے۔

 

brigmshah.jpg 

بریگیڈ (ر) محمود شاہ نے اس ضمن میں کہا کہ افغان قیادت کو پڑوسیوں اور مخلص اتحادیوں کی معاونت کے علاوہ اندرونی سطح پر موجود قیادت کے اختلافات کو دُور کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگئی کیونکہ حکمرانوں اور اداروں کے تصادم اور کشیدگی کے منفی نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور اس کا تمام تر فائدہ حملہ آور قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ دوسروں پر انحصارکرنے کے بجائے اب افغانستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔

 

تقریباً سبھی تجزیہ کاروں کی متفقہ رائے ہے کہ سال2016 افغانستان کے لئے کافی بھاری سال ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ساتھ میں اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ اگر افغان ریاست کی اندرونی کمزوریوں پر قابو پایا جاسکے اور پاکستان‘ چین اور امریکہ جیسے ممالک کے رابطوں‘ معاونت اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے تو حالات بہتری کی جانب جاپائیں گے اور خطہ مزید بربادی سے دو چار ہونے کے بجائے ایک پُرامن اور اچھے مستقبل کی جانب گامزن ہو سکے گا۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے جس جذبے اور عزت کے ساتھ افغان صدر اور ان کی ٹیم کا استقبال کیا اور ان کی باتوں کے علاوہ بعض شکایات کو جس طریقے سنا گیا اس نے دوسروں کے علاوہ افغان حکام کو بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ کانفرنس توقعات سے بھی بڑھ کر کامیاب اور متاثر کن رہی۔ افغان صدر نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ان خطرات کی کھل کر نشاندہی بھی کی جن کا افغانستان کو سامنا ہے یا مستقبل میں سامنا ہوسکتا ہے۔ ردِ عمل میں پاکستانی شخصیات نے ان کو جو یقین دہانیاں کرائیں وہ بڑی حد تک اطمینان بخش تھیں اور افغان صدر نے کابل پہنچنے کے بعد اس پر اطمینان اور اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ ادھر تاپی پراجیکٹ کے آغازنے بھی امن کے امکانات بڑھا دیئے۔

*****

افسوسناک امر یہ تھا کہ اس دوران بھی افغان انٹیلی جنس کے سربراہ نے اپنی ناکامیوں کے اعتراف کے بجائے پاکستان کو ہدف تنقید بنانے کے علاوہ اپنے علاوہ صدر کو بھی الزامات کی گرفت میں لیا اور اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ان کو پیغام بھجوایا کہ اگر وہ صدارتی حکم سے قبل خود ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں تو بہترہوگا۔ موصوف نے ایسا ہی کیا اور افغان صدر نے بھی جواب میں استعفےٰ منظور کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی۔ انٹیلی جنس سربراہ کی جانب سے اپنے صدر کے خلاف جس قسم کا غیرمحتاط اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا گیا وہ اس جانب اشارہ تھا کہ بعض حلقے یا حکام خود کو کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں سمجھتے اور وہ قابو سے باہر ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ موصوف نے پاکستان پر الزامات لگانے کے علاوہ اپنے سربراہ مملکت کے دورہ پاکستان کے فیصلے کو بھی کھلی تنقید کا نشانہ بنایا تھا حالانکہ مذکورہ کانفرنس ایک عالمی پراسس کا تسلسل تھا اور پاکستان نے صرف اس کی میزبانی کی ذمہ داری نبھانی تھی۔

*****

 
25
February

تحریر: خورشید ندیم

2016 ء کا پاکستان کیسا ہو گا؟اس سوال کا جواب گزرے ماہ و سال میں ہے۔میرا احساس ہے کہ اس کی بنیاد 2015ء میں رکھ دی گئی ہے۔ ہماری قومی تاریخ میں یہ سال بہت اہم ہے۔16 دسمبر2014 ء کو، جب ہم اپنی تاریخ کے ایک المناک باب ’ سقوط ڈھاکہ‘ کو یاد کر رہے تھے، ایک اور سانحہ ہوا جس نے اگرایک طرف دلوں کو دہلا دیا تو دوسری طرف قوم کو فکری یکسوئی عطا کر دی۔ آنسوؤں میں بھیگی قوم نے یہ جان لیا کہ اس کے قومی وجود سے کون سا آسیب آلپٹا ہے۔ سیاسی قیادت اور پاک فوج نے مل کر ایک حکمت عملی بنائی۔ ضربِ عضب کی باگ پاک فوج کے جوانوں نے اپنے ہاتھ میں تھام لی اور یوں پاکستان کے وجود کو اس آسیب سے آزاد کرانے کے لئے فیصلہ کن معرکے کا آغاز ہوا۔ 2015 ء میں اس سمت میں جو پیش رفت ہوئی، اس نے ایک مدت کے بعد قوم کو امید کا پیغام دیا۔ لوگ خوف سے آزاد ہونے لگے۔ امید کی ایک کونپل پھوٹی اور پھر تھوڑی دیر میں ہر طرف گلستان کھل سا اٹھا۔

 

2016ء میں ہمیں بحیثیت قوم نہ صرف اس کام کو آگے بڑھانا ہے بلکہ یہ بھی طے کرنا ہے کہ مستقبل میں قومی وجود کو ایسے آسیبوں سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے‘ وہ کون سے خلا ہیں جہاں سے دہشت گردی کو گھسنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ فوج ہتھیار اٹھانے والوں کو نہتا کر سکتی ہے۔ وہ مزاحمت پر آمادہ ہاتھوں کو توڑ بھی سکتی ہے۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ اگر مزید ایسے ہاتھ سامنے آتے رہیں جو بندوق بردار ہوں‘ ایسے ٹکسال قائم رہیں جہاں اس طرح کے مجرم ڈھلتے ہوں تو پھر دست شکنی کا کام بڑھ جائے گا۔ اب کوئی ملک اپنی فوج کو ہمیشہ داخلی تنازعات میں نہیں الجھا سکتا۔ فوج کا اصل کام تو خارجی اور بیرونی جارحیت سے ملک کو محفوظ رکھنا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جہاں فوج لوگوں کے ہاتھوں سے ہتھیار چھینے، وہاں وہ لوگ بھی بروئے کار آئیں جو ان ٹکسالوں کو بند کرائیں جہاں دہشت گرد تیار کئے جاتے ہیں۔

 

2016kapak.jpg

اس کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے نظام تعلیم کی اصلاح کرنی ہے۔ تعلیم اجتماعیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ پروان چڑھتی نسل میں یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وطن کی محبت فطری ہے اور انفرادی یا علاقائی شناخت کے ساتھ ایک قومی شناخت بھی ہوتی ہے جو دیگر شناختوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ اب ایک نوجوان اپنی شناخت میں پنجابی یا سندھی ہو سکتا ہے‘ تعلیمی اختصاص کے حوالے سے وہ عالم دین ہو سکتا ہے یا طبیعات کا عالم۔ اس فرق کے باوجود سب پر یہ واضح ہونا بھی ضروری ہے کہ وہ ایک جسد واحد کے اعضاء ہیں، جسے پاکستان کہتے ہیں۔ پاکستان کا تحفظ اور سلامتی ان کی انفرادی اور علاقائی سلامتی کی پہلی شرط ہے۔

 

اس باب میں ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت تعلیم کے باب میں بہت سے ابہام ہیں۔ تقسیم در تقسیم کا ایک سلسلہ ہے جو نظریاتی اور سماجی سطح پر مختلف نظریاتی اور سماجی بنیادوں پر متصادم طبقات کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ طبقات قومی یکسوئی سے محروم ہیں اور طبقاتی مفادات کے تناظر میں سوچتے ہیں۔ دینی مدارس کے فارغ التحصیل یہ سمجھتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ انہیں مٹانے کے درپے ہے اور جدید پڑھا لکھا طبقہ یہ خیال کرتا ہے کہ مدارس کے فارغ التحصیل سماج کی مادی ترقی میں حائل ہیں۔ اسی طرح جدید تعلیمی نظام میں ایک طرف مراعات یافتہ طبقہ ہے اور دوسری طرف سرکاری سکولوں میں پڑھنے والی اکثریت۔ دونوں کے مفادات بھی ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اس تفاوت سے وہ خلا وجود میں آتا ہے، جہاں سے دہشت گردی جیسے آسیب کو گھسنے کی جگہ ملتی ہے۔ طبقاتی تقسیم جہاں محرومی کو جنم دیتی ہے وہاں دوسرے طبقات کے خلاف نفرت بھی پیدا کرتی ہے۔ ہر طبقہ دوسرے طبقے کو اپنے حقوق کا غاصب سمجھتا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے فکری یکسوئی یا قومی یک جہتی پیدا نہیں ہو سکتی۔

 

نظام تعلیم کے ساتھ نظام سیاست کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔ اس باب میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ جمہوریت کی نتیجہ خیزی کا انحصار نظام سیاست پر ہے۔ نظام سیاست کی بنیاد سیاسی کلچر پر ہے اور سیاسی کلچر کی اکائی سیاسی جماعتیں ہیں۔ سیاسی جماعتیں اگر جمہوری روایات کے ساتھ مخلص ہوں گی تو اس سے جمہوریت ثمر بار ہو گی۔ اگر سیاسی جماعتوں کا نظم میرٹ اور صلاحیت پر استوار ہو گا تو سیاسی نظام میں بھی میرٹ اور صلاحیت فیصلہ کن سمجھے جائیں گے۔ ہماری سیاست ابھی تک برادری ازم، علاقائیت اور گروہی مفادات کی اسیر ہے۔مزید یہ کہ سرمایہ بھی اب فیصلہ کن حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اب سیاسی جماعت کے عہدے یا کسی عوامی فورم کے لئے نامزدگی میں سرمائے کی اہمیت بنیادی ہو گئی ہے۔ اس سے جمہوریت کے اس بنیادی تصور کو نقصان پہنچا ہے جو دراصل ایک عام آدمی کو توانا بناتی ہے۔ اسے موقع دیتی ہے کہ وہ اجتماعی فیصلوں پر اثر انداز ہو۔ اگر سیاسی پارٹیوں کے عہدے اور نامزدگیاں پیسے، اقرباپروری اور مفاد کے تابع ہو جائیں گی تو عام آدمی فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں ہو سکے گا۔ یوں وہ ووٹ دینے کے باوجود خود کو بے بس سمجھے گا۔ اس سے مایوسی پھیلتی ہے جو جمہوری نظام پر عدم اعتماد کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ فضا ان لوگوں کے لئے ساز گار ہوتی ہے جو عوامی جذبات کو مشتعل کر کے، انہیں تشدد اور لاقانونیت پر اکساتے ہیں۔ سیاسی عمل کی ناکامی ان عناصر کو مضبوط کرتی ہے جو ریاستی نظام کو چیلنج کرتے اور یوں سماج کو فساد میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

 

تیسری اہم بات نظامِ مذہب کی اصلاح ہے۔ پاکستان میں ستانوے فی صد مسلمان بستے ہیں اور ان کی اکثریت ایک مسلمان کی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ عوام کو جو مذہبی تعلیم دی جاتی ہے، وہ اس کی ضرورت ہے۔ اس میدان میں بد قسمتی سے وہ لوگ بھی گھس آتے ہیں جو مذہب کی حقیقی تعلیم سے بے خبر ہوتے ہیں۔ وہ عالم یا کسی مستند دینی ادارے کے فارغ التحصیل نہیں ہوتے۔ نیم ملا خطرہ ایمان، کے مصداق وہ سماج کی مذہبی تعلیم کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ یوں اپنی خواہشات اور مفاد کو وہ ’’مذہب‘‘ کے نام پر سماج پر مسلط کرنے لگتے ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی کے فروغ کا ایک بڑا سبب یہی طبقہ ہے۔ ایسے لوگوں کو معاشرے میں گھس آنے کا موقع اس طرح ملتا ہے کہ مسجد یا مدرسے کی تعمیر کے لئے کوئی قانونی یا سماجی قدغن نہیں ہے۔ ہمارے پاس کوئی ایسا نظام موجود نہیں ہے جو یہ بتائے کہ کہاں مدرسے کی ضرورت ہے اور کہاں مسجد کی۔ ایک محلے میں ایک مسجد ہوتی ہے جو مقامی آبادی کے لئے کفایت کرتی ہے۔ لیکن پھر ایک دوسرے مسلک کا فرد آتا اور اپنے مسلک کی مسجد بنانے لگتا ہے۔ یوں محلے میں مسلکی تقسیم کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔ اس سے مذہب کے نام پر فرقہ واریت، تقسیم اور فساد پھیلنے لگتا ہے۔ یہ بھی ایک ایسا خلا ہے جو انتہا پسندی کو گھسنے کے لئے جگہ فراہم کرتا ہے۔ اس وقت اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ مذہبی تعلیم و تربیت کے نظام کو کسی نظم کے تابع کیا جائے تاکہ مذہب کے نام پر فساد پھیلانے کا سلسلہ روکا جا سکے۔

 

چوتھی اہم بات آئین اور قانون کی حکمرانی ہے۔ ریاستی اداروں میں اس سوچ کا پختہ ہونا ضروری ہے کہ ملک کا آئین سب کے لئے حدود کا تعین کرتا ہے۔ جب لوگ اس کا خیال نہیں کرتے تو پھر تصادم کی فضا جنم لیتی ہے۔ ہمارے آئین میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے حوالے سے ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض غیر رسمی ادارے جیسے میڈیا، بھی ریاستی ادارے ہی شمار ہونے لگے ہیں۔ قومی مفاد اور یک جہتی کے حوالے سے ان میں ہم آہنگی ضروری ہے۔ جہاں ریاستی ستونوں میں ہم آہنگی نہیں ہوتی وہاں بے چینی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ سرمایہ دار سے لے کر عامی تک، بے یقینی میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس سے ایک طرف تومعاشی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف سماجی بد امنی۔ اس سے بھی وہ خلا جنم لیتا ہے جو سماج کو مضطرب کر دیتا ہے اور اہل فساد کو نظام میں گھسنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

 

2015ء میں ہم نے معاشرتی اصلاح کے لئے جس تاریخ ساز عمل کا آغاز کیا، اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ 2016ء میں ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے۔ نظام تعلیم، نظام سیاست، نظام مذہب اور احترام آئین کے دائرے میں ہمیں ایک مربوط پروگرام تشکیل دینا ہو گا تاکہ ہم اہل پاکستان کو ایک متحد قوم بنا سکیں۔ جذبہ یقیناً موجود ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اسے ایک تعمیری اور نتیجہ خیز قوت میں بدل ڈالیں۔ اگر ہم ان چار شعبوں میں اصلاحات لاتے ہوئے انہیں باہمی ربط دے سکیں تو ہمارے قومی وجود میں کوئی ایسا نمایاں خلا باقی نہیں رہے گا جہاں سے انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے عفریت کو گھسنے کی جگہ مل سکتی ہے۔پاک فوج، پولیس اور سلامتی کے دوسرے اداروں کے لہو سے اُمید کاایک چراغ روشن ہو چکا۔ اب ہم نے2016 ء میں اسے چراغوں کے قافلے میں بدلنا ہے۔

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

پاک فوج، پولیس اور سلامتی کے دوسرے اداروں کے لہو سے اُمید کاایک چراغ روشن ہو چکا۔ اب ہم نے2016 ء میں اسے چراغوں کے قافلے میں بدلنا ہے۔

*****

 
05
January

تحریر: ڈاکٹر نعمان نیر کلاچوی

حیاتیاتی سائنس کا ماننا ہے کہ انسان ایک ارتقا شدہ حیوان ہے۔ گوریلا نما جاندار سے ارتقائی منازل طے کرکے آج کا انسان وقوع پذیر ہوا توبے شک کوئی اور یہ تحقیق مانے یا نہ مانے سائنس کے بیشتر طالبعلم نہ صرف اِس نظریہ کو یقین کی حد تک تسلیم کرتے ہیں بلکہ بیالوجسٹ کی کثیر تعداد اس نظریہ کی پرچارک بھی ہے۔ فلاسفہ بضد ہیں کہ انسان مادہ اور ذہن کا مرکب ہے اہلِ مذاہب بالخصوص ابراہیمی مذاہب کے حاملین کا ایمان ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی تخلیق اور اِس کرہِ ارض پر خدا تعالیٰ کا اکلوتا نائب ہے۔ عالمگیر انسیت کے حامل صوفی دانشور کہتے ہیں کہ انسان زمین پر خدا کا مظہرِ اعلیٰ اور پیکرِ الفت ہے۔ حقیقتِ غیر متبدلہ یہ ہے کہ انسان کے پاس ابھی تک کسی نظریہ یا تھیوری کو حق یا باطل ثابت کرنے کے کوئی مستند پیرامیٹرز نہیں ہیں چنانچہ جس کا شعور جہاں ٹھہر جائے‘ اس کیلئے وہی مرجعِ حق۔انسان کی ابتدا کے متعلق انسان کے پاس جو کل موجودہ علم ہے وہ دراصل انسان کی صدیوں پر محیط فکری جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ہزاروں سال پہلے مظاہرِ فطرت پر غور کرنے والا انسان آج کہیں جا کے منطقی نتائج تک پہنچ پایا اور یہاں پر بس نہیں بلکہ یہ سلسلہ اِس سیارہ پر انسان نما حیوان کی موجودگی تک جاری و ساری رہے گا، انسان اپنے مآخذ کی کھوج لگانے اور اِس کائنات سے اپنا ربط معلوم کرنے کی خاطر مسلسل علمی و تحقیقی جدوجہد کرتا رہا ہے۔ انسانی فطرت پر تحقیق کی باقاعدہ ابتدا یونان سے شروع ہوتی ہے جہاں سے انسان کی اولین لیاقت کے شواہد ملتے ہیں۔ بہرحال انسان ابتدا ہی سے اپنے اندر ایک مافوق الفطرت قوت کا کھوج لگاتا رہا ہے اور اِس معاملے میں انسان کو اگر حتمی نہیں تو بعض جزوی کامیابیاں ضرور ملی ہیں، گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان غور و فکر کی بنیاد پر ان حقائق کے قریب تر ہوتا گیا جو کبھی اِسکی دسترس میں نہیں تھے اور نہ ہی ان کا کسی بھی صورت میں فہم ممکن تھا۔ انسانی ذات کیا ہے اِس کا ہم مختصر تجزیہ کرتے ہیں.

 

تجزیہِ ذات

tabeerisrar.jpg

انسان دراصل دو طرح کے وجود کا حامل ہے ایک ظاہری وجود اور دوسرا باطنی وجود۔ ظاہر سے مراد مادہ اور باطن سے مراد ذہن یا روح ہے‘ انسان کے ظاہری وجود پر کوئی اختلاف واقع نہیں ہوا جبکہ باطنی وجود ہمیشہ اختلافات کی زد میں رہا، انسانی شعور کی پے در پے وسعت و تجدید کے سبب انسان اپنے باطنی وجود کی مختلف تعبیرات وضع کرتا رہا ہے منطقیا کی نظر میں اگر انسان کا باطنی وجود شعور ہے تو الہامی مذاہب اِسے روح سے تعبیر کرتے ہیں‘ دیوانہ اِسے دل کہتا ہے تو پجاری آتما،گویا جس کی سمجھ میں جتنا آ سکا اس نے پوری دیانتداری کے ساتھ اتنا ہی بیان کر دیا ۔علم و حقائق کے کسی بھی متلاشی کو متہم نہیں کیا جا سکتا چاہے اس کا تعلق مذہب سے ہو، فلسفہ یا سائنس سے،دنیا کا کوئی بھی انسان فطرتاً گمراہ نہیں ہونا چاہتا بلکہ راہ یاب ہونے کی ہر ممکن تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ مادہ اور ذہن یا جسم اور روح کا مرکب حیوان صفت انسان اپنے غیر مرئی شعور کے سبب ممتاز ہو گیا۔ انسان کا ظاہری وجود دراصل آکسیجن، کاربن اور ہائیڈروجن وغیرہ سے بنا ہے چنانچہ وجود کو قائم رکھنے کیلئے ہوا، پانی اور آکسیجن انسان کی بنیادی ضروریات ہیں، روح کے مرکبات میں فکر اور رویہ ہے جیسے کہ انسان کا حیاتیاتی وجود ہوا، پانی اور آکسیجن کی بنیاد پر قائم ہے بالکل اِسی طرح انسان کا روحانی وجود دراصل فکر اور رویہ کی بنیاد پر قائم ہے۔ فکر ایک غیر مرئی اندیشے کا نام ہے جبکہ رویہ اس اندیشہ کا وقوع ہے یہاں پر اندیشہ سے مراد خطرہ نہیں بلکہ ارادہ بلا فعل کو ہم نے اندیشہ سے تعبیر کیا چونکہ ہمارا مطمح انسان کا باطنی وجود ہے اس لئے آگے چل کے ہم انسان کے باطنی وجود پر بحث کریں گے۔ انسان کا باطنی وجود جس کی مختلف تعبیرات وضع کی گئی ہیں‘ دراصل فلسفہ کی بنیادی شاخ مابعدالطبیعات سے تعلق رکھتا ہے۔ مابعدالطبیعات کے متعلق معروف مسلم فلاسفر ابن سینا کا کہنا کہ مابعدالطبیعات یعنی میٹا فیزکس کا تعلق دراصل مادہ سے ہے۔ قریباً یہی رائے معروف مسلم فلسفی ابن الرشد کی ہے ابن سینا کے نزدیک مابعدالطبیعات دراصل انسان کے وجود پر مشتمل عناصر کی ترکیب کے مطالعہ کا نام ہے۔ چنانچہ ابن سینا ذہن اور مادہ دونوں کو مابعدالطبیعات میں شامل کرتے ہیں جبکہ معروف اشتراکی فلسفی کارل مارکس کے نزدیک مابعدالطبیعات کا کوئی وجود نہیں جو کچھ ہے وہ مادہ ہے اور ذہن مادہ سے افضل نہیں ہو سکتا اصل الاصول مادہ ہے تمام اختلافات کے وقوع کے باوجود بھی ایک بات مسلم ہے کہ مابعدالطبیعات دراصل انسان کے باطنی وجود کے ہمہ جہت مطالعہ اور تجزیہ کا نام ہے۔ گویا مابعدالطبیعات کے مطالعہ سے انسان اپنی ذات کے متعلق آگہی حاصل کر سکتا ہے.

 

تعبیرِ خودی

ابو حامد محمد المعروف امام غزالی کی تہافتہ الفلاسفہ کے گہرے ترین اثر نے اہلِ اسلام کی سوچ کے دھارے بدل دیئے۔ اسلام کے بطن سے پیدا ہونے والی تحریکِ اعتزال، معروف مسلم فلاسفر ابن سینا، ابن الرشد اور الفارابی نے جو امت میں سوچنے کی روش پیدا کر لی تھی‘ امام غزالی کی تہافتہ الفلاسفہ نے اسے شجرِ ممنوعہ کی شکل دے دی اور اہلِ اسلام کیلئے غور و فکر کی بجائے تقلیدِ مطلق کا راستہ متعین کر دیا۔ ابو حامد کی معرکتہ الآرا احیا العلوم نے آپ کو حجتہ الاسلام کے لقب سے تاریخِ اسلام میں مزین کر دیا اور اعتزال کے نظریہِ قدر اور اسماعیلیہ کے مرجعِ حق الامام کے نظریات کو طاق میں رکھ دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ابن الرشد اور ابن سینا جیسے فقید المثال فلاسفر کے نظریات کو امت کے اذہان سے بمثلِ کافور فرو کر دیا۔ پس یہ نشاۃِ ثانیہ اول تھا ابو حامد امام غزالی کے بعد امت میں فلسفہ اور معروضی غور و فکر قریباً ناپید ہو گیا جبکہ یہی وہ دور تھا جب یورپ نے ابن الرشد، ابن سینا، الفارابی اور الکندی کی تحقیقات کو اہمیت دینا شروع کر دی جس کا نتیجہ آج ہم بخوبی ملاحظہ کر سکتے ہیں بالخصوص مشرق اور مغرب کے علم و اخلاق کا موازنہ کرکے۔ سقوطِ خلافتِ عثمانیہ کے بعد اہلِ اسلام میں ایک بار پھر نشاۃِ ثانیہ کا جذبہ پوری شدت کے ساتھ بیدار ہوا۔ یہ وہ دور تھا جس میں ایک بار پھر مسلم دانشور بے چین ہو گئے اور اِس نتیجہ پر پہنچے کہ امتِ مسلمہ میں اب تقلید کے بجائے تحقیق کی روش کو فروغ دیا جائے چنانچہ اِس جذبہ سے سرشار پاک و ہند کے ممتاز فلاسفر اور عالمِ دین ڈاکٹر محمد اقبال نے باقاعدہ علمی جدوجہد شروع کر دی۔ آپ کی ذات مشرق و مغرب کے علم و اخلاق کا بہترین امتزاج تھی۔ آپ کی ہستی میں انا اور مستی میں شعور پایا جاتا تھا۔

 

آپ نے اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لئے جس نظری بنیاد کو منتخب کیا وہ ’’خودی‘‘ کی اصطلاح سے معروف ہے۔ خودی دراصل فارسی زبان میں تکبر اور غرور کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن آپ نے پہلی بار اِس لفظ کو ایک ایسی بے مثال اور روشن نظر‘ بنیاد فراہم کی جس کے نتیجہ میں اب اصطلاح خودی اپنے جوہری معانی سے نابلد ہو کر اقبال کے نظریہ میں ڈھل گئی۔ ہم عرض کر چکے ہیں کہ انسان کے باطنی وجود کے مرکبات میں صرف دو عناصر شامل ہیں ایک فکر اور دوسرا رویہ۔ گویا یہ دو عناصر مل کر انسان کا باطنی وجود قائم کرتے ہیں فکر دراصل اندیشہ ہے لیکن یہ عموماً حالتِ تنویم میں پڑا رہتا ہے یعنی خوابیدہ رہتا ہے۔ جب یہ بیدار ہوتا ہے تو انسان کو عام لوگوں سے ممیز کر دیتا ہے یہ تمیز انسانی ذات کا کلی ادراک فراہم کرتی ہے اور اِسی ادراک کا نام اقبال کے نزدیک خودی ہے۔ یعنی ہم اِسے عقلِ بیدار کی اصطلاح سے تعبیر کر سکتے ہیں گویا عقل تو سب کے پاس موجود ہے لیکن عقلِ بیدار صرف اس کے پاس جس کا شعور بیدار ہو چکا اور جس نے اپنی ذات کی معرفت حاصل کر لی چنانچہ یہ معرفت نہ صرف انسانی ذات بلکہ یہ انسان کو ذاتِ خداوندی کی معرفت تک پہنچا دیتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ترجمہ : ’’جس نے اپنی ذات کو پہچان لیا اس نے اپنے خدا کو پہچان لیا‘‘) یہاں تک خودی کی تعریف عالمگیریت کی حیثیت رکھتی ہے خودی کے اِس عالمگیر تصور کے تانے بانے دراصل اقبال کے نظری استاد جن سے آپ جرمنی میں قیام کے دوران خاصے متاثر رہے ہیں فریڈرک نطشے کے سپرمین سے ملتے ہیں۔ چنانچہ نطشے کے سپرمین اور اقبال کی خودی میں جوہری اختلاف نہیں پایا جاتا۔اِسی طرح ہم تصورِ خودی کو معروف ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائڈ کے نظریہ سپرایگو سے بھی مماثل کر سکتے ہیں قریباً یہی تصور معروف صوفی دانشور سلطان باھو کے ہاں انکی اصطلاح ’’ھُو‘‘سے قدرے مماثل ہے آپ ایک بند میں فرماتے ہیں۔

 

جتھے ھو کرے رشنائی

چھوڑ اندھیرا ویندا ھو

 

اقبال چونکہ اپنے نظریات کی بنیاد اسلامی فلسفہ یعنی علم الکلام پر قائم کیا کرتے تھے اِس لئے آپ نے تصورِ خودی کو بھی علم الکلام کے دائرے میں رہ کر بیان کیا۔ آپ کے نزدیک بیداریِ شعور اصل ایمان ہے۔ آپ کے نزدیک انسان کی فکر جب بیداری ہوتی ہے تو وہ روحِ خداوندی سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے ‘فرماتے ہیں

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

 

آپ کے نزدیک مردِ مومن صرف وہی ہو سکتا ہے جسکی عقل بیدار ہو چکی‘ جس نے اپنے باطن میں خودی کو دریافت کر لیا بلکہ آپ تو ایمان کی اساس ہی اِس بیداری کو قرار دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں

 

خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ

خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ

 

ہم کہہ سکتے ہیں کہ خودی دراصل اقبال کے علم الکلام کی اساس ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب تک ایک انسان کی عقل بیدار نہیں ہو جاتی تب تک وہ مردِ مومن نہیں بن سکتا چنانچہ آپ نے خودی کو لا الہ الا اللہ کی اساس قرار دے دیا ‘گویا اسکے بنا ایمان واقع ہو ہی نہیں سکتا۔ خودی کی افادیت کو مزید وسعت دے کر آپ نے اِسے بیداریِ کائنات سے منسلک کر دیا فرماتے ہیں

 

خودی کیا ہے راز دورنِ حیات

خودی کیا ہے بیداریِ کائنات

اقبال کی فکر معتزلانہ اور روش صوفیانہ تھی

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

 

آپ کا تصورِ خودی دراصل عقل و جذبہ کا بہترین امتزاج ہے جس میں شعور کی روشنی اور جذبے کی صداقت شامل ہے۔ آپ کے نزدیک عقل بیدار ہو کر ایک زبردست والہانہ سپردگی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ گویا اِس مقام پر عقل جذبہ بن جاتی ہے ایسا جذبہ جس میں کمال بصیرت نہاں ہوتی ہے۔.

 

ایں کارِ حکیمی نیست دامانِ کلیمی گیر

صد بندہِ ساحل مست یک بندہ دریا مست

 

آپ کے نزدیک دین کا لبِ لباب دراصل خودی ہے کلمہ طیبہ کے روحانی سفر کی انتہا بھی خودی ہے گویا خودی الا اللہ کی عملی تفسیر کا نام ہے۔

 

از دیرِ مغاں آیم بی گردشِ صہبا مست

در منزلِ لا بودم از بادہِ الا مست

 

آپ کے نزدیک انسان بتدریج روحانی ترقی کرکے’’مقامِ خودی‘‘ تک پہنچ سکتا ہے ۔پہلا مقام ادراکِ ذات ہے پھر اس کے بعد عقل بیدار ہوتی ہے جب عقل یا شعور مکمل طور پر بیدار ہو جاتا ہے تو پھر یہ ایک والہانہ سپردگی کی شکل اختیار کر لیتا ہے پس یہی والہانہ سپردگی دراصل خودی ہے اور یہی اقبال کا تصورِ عشق بھی جسے آپ نے عقلِ مطلق پر ترجیح دی ہے ۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال کا تصورِ خودی اور تصورِ عشق ایک نظریہ کے دو مختلف نام ہیں

 

عشق از فریادِ ما ہنگامہ ہا تعمیر کرد!

ورنہ ایں بزمِ خموشاں ہیچ غوغائے نداشت

(مضمون نگار انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی ملائشیا سے اسلامی فلسفے (علم الکلام) میں پی ایچ ڈی ہیں۔)
سقوطِ خلافتِ عثمانیہ کے بعد اہلِ اسلام میں ایک بار پھر نشاۃِ ثانیہ کا جذبہ پوری شدت کے ساتھ بیدار ہوا۔ یہ وہ دور تھا جس میں ایک بار پھر مسلم دانشور بے چین ہو گئے اور اِس نتیجہ پر پہنچے کہ امتِ مسلمہ میں اب تقلید کے بجائے تحقیق کی روش کو فروغ دیا جائے چنانچہ اِس جذبہ سے سرشار پاک و ہند کے ممتاز فلاسفر اور عالمِ دین ڈاکٹر محمد اقبال نے باقاعدہ علمی جدوجہد شروع کر دی۔ آپ کی ذات مشرق و مغرب کے علم و اخلاق کا بہترین امتزاج تھی۔ آپ کی ہستی میں انا اور مستی میں شعور پایا جاتا تھا۔ آپ نے اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لئے جس نظری بنیاد کو منتخب کیا وہ ’’خودی‘‘ کی اصطلاح سے معروف ہے۔

*****

 
05
January

تحریر: خورشید ندیم

ریاست تاریخی اعتبارسے ایک جدید ادارہ ہے۔تاہم ایک نظمِ اجتماعی کی ضرورت سے انسان کسی دور میں بے نیاز نہیں رہا۔قبائلی معاشرت میں بھی اس کی کوئی نہ کوئی صورت مو جود رہی۔سماجی ارتقا کے ساتھ نظمِ اجتماعی کی ہیئت میں تبدیلی آئی اور اس کے ساتھ اس کی اخلاقیات بھی تبدیل ہوتی رہیں۔الہامی مذاہب نے اس کو اخلاقی اور ما بعد الطبیعیاتی بنیادیں فراہم کیں۔اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ جدید ریاست کے وجود میں انسان

کا فکری وسماجی ارتقا مجسم ہوگیا۔

 

جدیدریاست ،حقوق وفرائض کے اُس تصور کی عملی صورت گری ہے جوالہامی اور غیرالہامی روایات، دونوں میں مو جود رہا ہے۔اس سے ریاست و عوام اور اس کے ساتھ عوام کے مختلف طبقات کے مابین ذمہ داریوں اور حقوق کا تعین کیا جا تا ہے۔اس کو اب تحریری دستاویز کی صورت دے دی گئی ہے جسے آئین کہتے ہیں۔ انسان نے اس ریاست کی ضرورت دواسباب کے تحت محسوس کی۔ایک تو یہ کوئی دوسرے پر ظلم نہ کرے۔ کسی کے جان و مال اور عزت و ناموس کو دوسرے سے کوئی نقصان نہ پہنچے۔ دوسرا یہ کہ ذمہ داریوں کا تعین ہو جائے تاکہ امورِریاست و حکومت میں کوئی تضاد یا تصادم واقع نہ ہو۔ آئین اسی کو یقینی بنا تا ہے۔ آئین بظاہر انسان کے تہذیبی ارتقا کا ایک مظہر قرار دیا جا تا ہے مگرالہامی روایت میں بھی اس کو قبول کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں لوگوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب وہ کوئی لین دین کا معاملہ کریں تو اسے لکھ لیں اور اس پر گواہ بھی بنا لیں۔رسالت مآب ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا۔اسے میثاقِ مدینہ کہتے ہیں۔ اس میں سب قبائل اور شہریوں کے حقوق و فرائض کا تعین کر دیا گیا۔اس دستاویز کو دنیا کا پہلا تحریری آئین کہا جا تا ہے۔یہ بات پیشِ نظر رہنی چا ہئے کہ یہ معاہدہ اس وقت ہوا جب نزولِ وحی کا عمل جا ری تھا۔الہامی روایت میں سماج اس ہدایت کا پابند ہو تا ہے جو آ سمان سے اترتی ہے۔باہمی امور کے معاملے میں اہلِ اسلام کو اس کا پابند کیا جا سکتا تھا جیسے بعض معاملات میں ہوا بھی لیکن ہمیں معلوم ہے کہ رسالت مآبﷺ نے وحی سے الگ سماج کو ایک عمرانی معاہدے سے روشناس کرایا۔گویا دوسرے الفاظ میں یہ تعلیم دی کہ انسانی سماج کو باہمی مشاورت سے ایک سماجی معاہدہ کرنا چاہئے اور پھر سب کو اس کا پابند رہنا چاہئے۔اسی کو جدید دور میں آئین کہا جا تا ہے جس کی خلاف ورزی کو جرم شمار کیا گیا ہے۔

 

پاکستان بھی ایک آئینی ریاست ہے۔ اس میں بھی ریاستی اداروں اور عوام کے حقوق و فرائض کا تعین کیا گیا ہے۔سماج کو کسی تصادم سے محفوظ رکھنے کے لئے لازم ہے کہ آئین کی پاس داری کی جائے۔سب لوگ وہ ذمہ داریاں ادا کریں جو آئین میں دی گئی ہیں اور خود کو ان حقوق کے مطالبے تک محدود رکھیں جن کی ضمانت آئین دیتا ہے۔ اس کے ساتھ جو بنیادی بات حکومت اور ریاست کو پیش نظررکھنی ہے، وہ یہ سوال ہے کہ ریاست کیوں وجود میں آتی ہے اور اس کی بقا کے لئے آئین کی ضرورت کیوں ہے؟اگر یہ سوال نظر انداز ہو جا ئے تو آئین محض ایک کتاب ہے اور ریاست بالا دست طبقے کے ہاتھ میں ایک ہتھیار ہے جسے وہ اپنے مفادات کے لئے استعمال کر تا ہے۔

 

ریاست کا بنیادی مقصد عوام کو ظلم سے محفوظ رکھنا ہے۔یہی مقصدآئین کا بھی ہے۔اِس ظلم کی کئی صورتیں ہیں۔ معاشی، سماجی،طبقاتی اور نفسیاتی۔پھر یہ کہ ظلم محض بالادست طبقات کے ہاتھوں ہی نہیں روا رکھا جا تا،کبھی کبھی حکومت و ریاست بھی اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔جیسے عوام کی کمرپرٹیکسوں کا وہ بوجھ لاد دینا جس کو اٹھانے کی ان میں سکت نہیں یا انہیں وہ سہولتیں فراہم نہ کرنا جو ان کا آئینی حق ہے۔یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک طرف تو عوم کو طاقت ور طبقات کے ظلم سے محفوظ رکھے اور دوسری طرف وہ ایسی پالیسیاں اختیار کرے جو عوام کے مفاد میں ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ انہیں کسی ایسے فرمان کی بجاآوری پر مجبور نہ کرے،جس پر عمل کر نا ان کی دسترس سے باہر ہو۔خلیفہ راشد حضرت عمرؓ نے ایک بوڑھے یہودی کو دیکھا جو بھیک مانگ رہاہے۔آپ نے سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ اسے ریاست کا ٹیکس دینا ہے اور اپنی کفالت بھی کرنی ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے یہ فرمان جاری کیا کہ ریاست کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ لوگوں کی جوانی سے فائدہ اٹھائے اور انہیں بڑھا پے میں مجبور چھوڑ دے۔آپ نے اس کے بعد ایسے شہریوں کے لیے وظائف مقرر کر دئیے۔ پاکستان میں مذہب کی طرح آئین کے احترام کا ایک ادھورا تصورپایا جا تا ہے۔ لوگ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں چراتے ہیں۔ہم مذہب کے صرف اس حصے پر عمل کرتے ہیں جس سے ہمارے مفادات کو زد نہیں پہنچتی۔ان احکام کو نظرا نداز کرتے ہیں جو ہمارے مفادات پر اثر ڈالتے ہیں۔ہم نماز میں کوتاہی نہیں کرتے مگر حرام و حلال کی تمیز سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ آئین کی با ت کرتے وقت بھی ہم یہی رویہ اپنا تے ہیں۔اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ مذہب کی طرح سماج میںآئین کا بھی ایک ادھورا فہم پروان چڑھتا ہے اوریوں ہم ایک آئین پسند سماج کی تشکیل میں پوری طرح کامیاب نہیں ہیں۔

 

اس کے لئے لازم ہے کہ پاکستان میں آئین پسندی کا کلچر عام ہو۔آئین کی اہمیت اور تفہیم تعلیمی نصاب کا حصہ ہو۔اسے عمومی اور دینی تعلیم کے اداروں میں پڑھا یا جائے۔اسی طرح سیاسی جماعتوں کو بھی اس کا اہتمام کر نا چاہئے کہ وہ اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت کریں اور انہیں سکھائیں کہ آئین پسندی سے کیا مراد ہے اور یہ حکومت و ریاست سے متعلق کس نو عیت کی حساسیت کا نام ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ تمام ریاستی اداروں کے تربیتی کورسز میںآئین کی تعلیم بھی شامل ہو نی چاہئے۔آئین پسندی کاکلچر اسی وقت بن سکتا ہے جب تمام سماج اسے بطور قدر اپنا لے۔

 

قانون پسندی،آئین پسندی ہی کا حصہ ہے۔جب ایک عام شہری پولیس سے بے نیاز ٹریفک سگنل کی پابندی کرے گا‘ جب ریاست کے کسی ادارے کا اہل کار ایک اقدام کرتے وقت اپنے آئینی دائرہ کار کا لحاظ رکھے گا‘جب پارلیمان میں قانون سازی کے وقت صرف عام آ دمی کا مفاد پیشِ نظر ہو گا‘ جب تعلیمی اداروں میں آئین کا احترام شاملِ نصاب ہو گا‘ جب محراب ومنبر سے عام آد می کو قانون کی پابندی کا درس ملے گا ۔ اس کے بعد وہ سماج وجود میں آئے گا جو پر امن ہو گا، جس میں ایک طبقہ کسی دوسرے کے ظلم کا شکار نہیں ہو گا۔ ریاست خواص کی نہیں، عوام کی خادم ہو گی۔ سیاسی و سماجی استحکام آج پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔معاشی استحکام کا تمام تر انحصار اسی پر ہے۔سیاسی وسماجی استحکام‘ آئین پسندی کا مرہونِ منت ہے۔جب آئین پسندی کاکلچر عام ہوگاتو پاکستان کو کسی ضربِ عضب کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ اقدام در اصل اسی وقت لازم ہوا جب کچھ گروہوں نے آئین شکنی کا راستہ اختیار کیا۔آئین پسندی کا کلچر عام ہو جائے تو پاکسان امن کا گہوارہ بن جائے۔

 

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
ریاست کا بنیادی مقصد عوام کو ظلم سے محفوظ رکھنا ہے۔یہی مقصدآئین کا بھی ہے۔اِس ظلم کی کئی صورتیں ہیں۔ معاشی، سماجی،طبقاتی اور نفسیاتی۔پھر یہ کہ ظلم محض بالادست طبقات کے ہاتھوں ہی نہیں روا رکھا جا تا،کبھی کبھی حکومت و ریاست بھی اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔جیسے عوام کی کمرپرٹیکسوں کا وہ بوجھ لاد دینا جس کو اٹھانے کی ان میں سکت نہیں یا انہیں وہ سہولتیں فراہم نہ کرنا جو ان کا آئینی حق ہے۔یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک طرف تو عوم کو طاقت ور طبقات کے ظلم سے محفوظ رکھے اور دوسری طرف وہ ایسی پالیسیاں اختیار کرے جو عوام کے مفاد میں ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ انہیں کسی ایسے فرمان کی بجاآوری پر مجبور نہ کرے،جس پر عمل کر نا ان کی دسترس سے باہر ہو۔

*****

قانون پسندی،آئین پسندی ہی کا حصہ ہے۔جب ایک عام شہری پولیس سے بے نیاز ٹریفک سگنل کی پابندی کرے گا‘ جب ریاست کے کسی ادارے کا اہل کار ایک اقدام کرتے وقت اپنے آئینی دائرہ کار کا لحاظ رکھے گا‘جب پارلیمان میں قانون سازی کے وقت صرف عام آ دمی کا مفاد پیشِ نظر ہو گا‘ جب تعلیمی اداروں میں آئین کا احترام شاملِ نصاب ہو گا‘ جب محراب ومنبر سے عام آد می کو قانون کی پابندی کا درس ملے گا ۔ اس کے بعد وہ سماج وجود میں آئے گا جو پر امن ہو گا، جس میں ایک طبقہ کسی دوسرے کے ظلم کا شکار نہیں ہو گا۔ ریاست خواص کی نہیں، عوام کی خادم ہو گی۔

*****

 
Page 3 of 17

Follow Us On Twitter