26
February

امریکہ کے عسکری اور سیاسی قائدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ضرب عضب کے ذریعے پاکستان دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کررہا ہے۔ پاکستان کے اس کردار اور قربانیوں کو سراہا گیا۔ اس دورے کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹرٹیجک نقطۂ نظر سے پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوئیں ہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی تحفظ کے لئے باہمی تعاون کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں ۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے افغانستان میں نہ صرف کلیدی کردار پاکستان کو ملا ہے بلکہ تینوں ہمسایہ دوست ممالک چین،افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ جس کا ایک مثبت اشارہ سارک کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے بھی ملا ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے ایک ایسے وقت میں امریکہ کا دورہ کیا ، جب جنوبی ایشیا بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ ایک جانب 35سال سے جنگ سہنے والے افغانستان سے نیٹو فورسز نکل رہی ہیں مگر سٹریٹیجک فورسز کے نام پردس سے پندرہ ہزار امریکی فوجی اور کنٹریکٹرزافغانستان میں تعینات رہیں گے۔ بیرونی افواج کے انخلا ء کی صورت حال پر چین اور پاکستان کو تشویش بھی تھی، کیونکہ دونوں ممالک افغانستان کے براہ راست ہمسایہ ملک ہیں اور دونوں ممالک کی سرحدپر دہشت گردوں کے منظم ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ افغانستان کے ان دونوں ہمسایہ ملکوں کے تحفظات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ انخلاء کے بعد بھارت افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنا چاہتا ہے۔دوسری جانب بھارت میں دائیں بازو کی قدامت، انتہا، پسند پارٹی اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوچکی ہے اور اس حکومت نے اگلے دس سالوں میں 130بلین کا اسلحہ خریدنے کا پروگرام بھی بنا لیا ہے ، جس سے اس کی ترجیحات واضح ہوتیں ہیں اور ان میں سرفہرست خطے میں بالادستی کا خبط ہے۔ پاکستان جو کئی سال سے دہشت گردی کانشانہ بن رہا ہے، جون 2014ء میں دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب نامی آپریشن شروع کرچکا ہے۔پاکستان سمیت خطے میں پائیدار قیام امن اور استحکام کے لئے کیا جانے والا یہ آپریشن ان علاقوں میں انتہائی کامیابی سے جاری ہے جو علاقے دہشت گردوں کے مرکز سمجھے جاتے تھے۔ اس آپریشن میں اب تک تقریباً گیارہ سو سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں اوردو سو سے زائد آرمی کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ اس وقت تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار فوج پاکستان کی مغربی سرحد پر موجود ہے اور دنیا پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ کوئی نمائشی کارروائی نہیں۔ اب جبکہ پاکستان کی افواج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی صورت میں بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں تو بھارت مشرقی سرحد پر جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش کررہا ہے۔کشمیر میں لائن آف کنٹرول (جو متنازعہ علاقہ ہے) اور اس کے ساتھ ساتھ ورکنگ باؤنڈری جو تسلیم شدہ سرحد ہے ، دونوں پر اشتعال انگیز سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے،جس کے باعث کشیدگی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی یہ معاملہ اٹھایا،چنانچہ امریکہ کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام ہی خطے میں امن کی ضمانت ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بھارت میں مودی حکومت آنے کے بعد مشرقی سرحد پربھارتی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، مگر اس کے باوجود افواج پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن سے توجہ نہیں ہٹائی اور غیرملکی دراندازوں ، مقامی دہشت گردوں و شدت پسندوں کے خلاف شبانہ روز عسکری کارروائیاں کرکے انہیں اپنی مذموم سرگرمیاں موقوف کرنے پر مجبور کردیا۔ پاک فوج کے اس آپریشن کی وجہ سے سرحد پار کارروائیاں کرنے و الے گروپس بھی اس حد تک کمزور ہوئے کہ اب ان کے لئے سرحد پار جاکر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا ممکن نہیں رہا۔

اب جبکہ پاکستان کی افواج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی صورت میں بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں تو بھارت مشرقی سرحد پر جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش کررہا ہے ۔کشمیر میں لائن آف کنٹرول (جو متنازعہ علاقہ ہے) اور اس کے ساتھ ساتھ ورکنگ باؤنڈری جو تسلیم شدہ سرحد ہے ، دونوں پر اشتعال انگیز سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے،جس کے باعث کشیدگی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی یہ معاملہ اٹھایا،چنانچہ امریکہ کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام ہی خطے میں امن کی ضمانت ہے ۔

جس طرح پاکستان اور افغانستان کو پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پہ تحفظات تھے، اسی طرح چین کو بھی افغان سرحد پہ ہونے والی دراندازی پہ تشویش تھی، کیونکہ صوبہ سنکیانگ میں انتشار پھیلانے والے شدت پسند بھی اسی سرحد کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ تینوں ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لئے ناگزیرجاری آپریشن کے دوران مشرقی سرحد پر بھارت کا جارحانہ رویہ احساس دلاتا ہے کہ بھارت دہشت گردوں کے خلاف اس آپریشن کو اپنے مفادات کے خلاف گردانتا ہے۔امریکہ بھارت کی اس خواہش کا احترام کرتا رہا کہ افغانستان سے انخلاء کے بعد کلیدی کردار بھارت کا ہو۔یہی وجہ ہے کہ کرزئی دور حکومت میں افغان حکومت کا جھکاؤ بھارت کی جانب رہا۔ 2011ء میں بھارت اور افغانستان کے درمیان سٹریٹیجک معاہد ہ بھی طے پایا، جس کے تحت افغانستان نے روس سے جو اسلحہ خریدا اس کی ادائیگی بھی بھارت نے کی۔ پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں بھارتی قونصل خانے زیادہ فعال رہے اور سرحدی کشیدگی و دراندازی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ افغانستان میں نئی حکومت کے قیام،مختلف شعبوں میں چین کی سرمایہ کاری ،دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات ،بھارتی جارحانہ رویّے اور پاک عسکری قیادت نے امریکہ کو یہ باور کرایا کہ افغانستان میں بھارت کلیدی کردار اداکرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ وہ افغانستان کا براہ راست ہمسایہ بھی نہیں اور نہ ہی افغانستان میں پاکستان جتنے اثرورسوخ کا مالک ہے۔ افغانستان میں انتخابات کے بعد دو بڑی پارٹیوں کی شراکت سے حکومت وجود میں آئی جو کہ ایک دوسرے کی حریف بھی ہیں۔ اگرچہ یہ انتہائی مثبت پیشرفت ہے مگر دیگر امکانات بھی اپنی جگہ موجود ہیں، کیونکہ یہ حکومت ابھی تک کیبنٹ نہیں بنا سکی۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے صدارت چھوڑنے کے بعد پہلادورہ بھارت کا کیا، جبکہ نومنتخب افغان صدر اشرف غنی عمرہ کی ادائیگی کے بعد پہلے چین گئے اور اس کے بعد پاکستان کا دورہ کیا۔ان کے دورہ پاکستان سے قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے پہلے چین کا دورہ کیا اور پھر افغانستان کا ایک روزہ دورہ کرکے حکومتی وعسکری قائدین سے تفصیلی ملاقاتیں کیں تھیں جس کے بعد افغان صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے جی ایچ کیو میں عسکری قیادت سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں افغان صدر کو یہ پیشکش بھی کی گئی کہ پاکستان افغان فوجیوں کو اپنی تربیت گاہوں میں ٹریننگ دینے کے لئے تیار ہے۔ افغان صدر نے پاکستان کی اس پیشکش کو باضابطہ طور پر قبول کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت افغان فوجیوں کی تربیت کررہا تھا۔چین اور پاکستان کے دوروں کے دوران پاک چین افغان مصالحتی کونسل کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔ یہ تمام حالات و واقعات افغانستان میں بھارت کا اثرورسوخ کم ہونے اور پاکستان کے کردار میں اضافے کی دلیل ہیں۔ افغانستان کے ساتھ نئے سرے سے پروان چڑھنے والے پاکستان اور چین کے تعلقات نہ صرف امن بلکہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہیں۔

چین اور پاکستان کے دوروں کے دوران پاک چین افغان مصالحتی کونسل کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔ یہ تمام حالات و واقعات افغانستان میں بھارت کا اثرورسوخ کم ہونے اور پاکستان کے کردار میں اضافے کی دلیل ہیں۔ افغانستان کے ساتھ نئے سرے سے پروان چڑھنے والے پاکستان اور چین کے تعلقات نہ صرف امن بلکہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہیں۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جہاں شام کی حکومت کو گرانے کے لئے امریکہ اور عرب دنیا کی کوششیں جاری تھیں، وہاں داعش کی صورت میں ایک نئی قوت ابھرکر سامنے آئی ،جس کے باعث فرقہ واریت میں شدت آگئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ داعش کی مکمل سرپرستی کرنے کے بعد داعش کو ہی ختم کرنے کے لئے امریکہ نے ایران کی طرف بھی تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔ داعش کے خلاف امریکی سرپرستی میں جو اتحاد قائم ہوا اس میں زیادہ تعداد ان ممالک کی شامل ہے،جو پہلے کسی نہ کسی صورت میں داعش کی معاونت کرتے رہے ہیں۔ اس اتحاد کی تشکیل کے بعد امریکہ کا یہ بیان کہ ہم اگر داعش کے خلاف کارروائی کرتے بھی رہیں تو انہیں مکمل ختم کرنے کے لئے ہمیں بیس سال درکار ہوں گے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگلے بیس سال تک داعش ضرورت ہے اور یہ موجود رہے گی۔داعش کی اگلے بیس برس تک امریکی ضرورت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں ہرسال تیل کی مانگ میں دو فیصد اضافہ ہورہا ہے، جبکہ اگلے چالیس سے پچاس برس میں ایران اور مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر ختم ہوجائیں گے ،یا اتنے کم ہوجائیں گے کہ ان سے استفادہ ممکن نہیں رہے گا۔ جس کے بعد اگلی دوصدیوں کے لئے تیل کا ذخیرہ بحیرہ کیسپئن میں موجود ہے۔ جس پر امریکہ سمیت دنیا کی تما م بڑی طاقتیں نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان ذخائر تک جانے کے لئے واحد زمینی راستہ بلوچستا ن ہے ، جس کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ایک گریٹ گیم جاری ہے۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ شام و عراق کے بعد داعش کی پہلی وال چاکنگ بھی بلوچستان کی زمین پر نظر آئی۔ بش انتظامیہ کے مقابلے میں صدر اوبامہ نے یہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی تھی کہ امریکی افواج کو کسی مہم جوئی کے لئے بیرون ملک نہ بھیجا جائے۔ صدر اوباما نے امریکہ کی فوجی اکیڈیمی Point West میں اعلان کیا تھا کہ اب امریکی فوجیوں کو بیرون ملک مہم جوئی کے لئے نہیں بھیجا جائے گا، لہٰذا افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء 2014ء تک مکمل ہو جائے گا جبکہ عراق سے تو امریکی افواج پہلے ہی واپس بلائی گئی ہیں۔ اب ان ممالک کی افواج اتنی تربیت یافتہ ہو چکی ہیں کہ وہ طالبان یا کسی بھی حکومت مخالف بغاوت کو کچلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس حکمت عملی کے باوجود بھی امریکہ نے افغانستان سے سٹریٹیجک معاہدہ کرکے اپنے 15000فوجی اور کنٹریکٹرزافغانستان میں اسی طرح رکھے، جس طرح عراق سے انخلاء کے بعد پانچ سو امریکی عسکری مشیر رکھے تھے۔ اب عراق پر نیا اتحاد تشکیل دیکر فوج کشی کی وجہ داعش اور افغانستان میں پندرہ ہزار فوجی رکھنے کی وجہ امریکہ نے طالبان کا خطرہ بتائی ہے۔

جنرل راحیل شریف کے امریکہ جانے سے قبل پاکستان میں سرگرم تحریک طالبان کے کچھ افراد نے بھی داعش میں شامل ہوکر ابوبکر البغدادی کی بیعت کا اعلان کیا تھا اور مختلف شہروں میں داعش کی وال چاکنگ بھی منظر عام پر آچکی تھی۔ چنانچہ ان حالات میں جب پاکستان اپنی مغربی سرحد پر پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف اپنی اور خطے کی سلامتی کی جنگ میں مصروف ہے،داعش کی صورت میں دہشت گردی کے نئے نیٹ ورک کی خطے میں پنپنے کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔ جنگ زدہ افغانستان میں، انخلاء کے باوجود، امریکی افواج بھی موجود ہیں اور داعش کے خلاف امریکی سربراہی میں ایک نیا عالمی اتحاد بھی وجود میں آچکا ہے اور بھارت بھی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ سرگرم ہے تو ان تمام زمینی حقائق اور بدلتے حالات نے آرمی چیف کے دورے کی اہمیت ،حیثیت، افادیت اور اس کے اثرات میں انتہائی اضافہ کیا ہے۔ امریکہ میں دورے کے دوران جنرل راحیل شریف نے جن شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور جن مقامات کا دورہ کیا، ان سے بھی اس دورے کی اہمیت کابخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ دورہ امریکہ کے دوران چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اپنے طویل دورے کے دوران انہوں نے امریکہ کی سیاسی و عسکری قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں میں بڑے ٹھوس انداز میں پاکستان کا موقف پیش کیا۔ وہ سنٹرل کمانڈ کے ہیڈکوارٹر ٹمپافلوریڈا گئے۔ سنٹرل کمانڈ مشرق وسطیٰ،پاکستان اور افغانستان سے متعلق امریکہ کے عسکری امور کا ذمہ دار ہے۔ عراق اور افغانستان جنگ سے متعلق معاملات یہیں سے طے پاتے ہیں۔ٹمپا فلوریڈا میں سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل آسٹن سے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق سنٹرل کمانڈ میں ہونے والی بات چیت میں امریکی انخلاء کے بعد کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا۔ جنرل راحیل شریف کیلیفورنیا میں قائم امریکی فوج کے اعلیٰ تربیتی مرکز گئے اور وہاں جدید ترین اسلحہ کی تربیت کا معائنہ کیا۔ امریکی آرمی کے سربراہ اور اپنے ہم منصب رئے اوریڈینوسے ملاقات کی۔ اس کے بعد پینٹا گان میں مشترکہ افواج کے سربراہ مائیکل ڈیمپسی سے ملے۔ پاکستان میں بھی جائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ ہوتا ہے مگر ان کے اختیارات آرمی چیف جتنے نہیں ہوتے۔ جبکہ امریکہ میں سب سے بااختیار مشترکہ افواج کا سربراہ ہوتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے دورہ امریکہ کے دوران ڈپٹی ڈیفنس سیکرٹری مسٹر ورک سے بھی ملاقات کی۔ صدر اوبامہ کی سلامتی کی مشیر سوزن رائس سے بھی ملے اور وہاں سے اشارہ ملا کہ اگر صدر اوبامہ موجود ہوتے تو وہ بھی پاک سپہ سالار سے ملاقات کرتے۔ سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری سے ان کی طویل ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستانی فوج کو اتحاد اور سلامتی کی علامت قرار دیا۔ دورہ امریکہ کے دوران جنرل راحیل کو ایک بڑے عسکری اعزاز لیجن آف میرٹ سے نوازا گیا۔دورہ امریکہ کے دوران جنرل راحیل شریف نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ آپریشن سے کلیئر ہونیوالے علاقوں میں شدت پسندوں کو دوبارہ متحرک ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ آرمی چیف کے دورے کے دوران جہاں مشرق وسطیٰ کے حالات اور داعش کے موضوع پر بھی بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے۔ امریکہ میں جب جنرل راحیل شریف امریکی عسکری قیادت کو یہ یقین دلا رہے تھے کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے تو اس دوران پاکستان کے مشیر خارجہ کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے گڈطالبان اور بیڈ طالبان کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کی، مگر آرمی چیف نے واضح کر دیا کہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہورہی ہے۔ اسی طرح سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بیان جاری کیا کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلاء پاکستان اور بھارت کو پراکسی وار میں دھکیل سکتا ہے۔ جنرل مشرف کے بیان سے قطع نظر یہ بات طے ہے کہ افغانستان میں پائیدار قیام امن جو خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے‘ کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں موجود قوتیں ہرقسم کی دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کریں۔امریکہ کے عسکری اور سیاسی قائدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ضرب عضب کے ذریعے پاکستان دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کررہا ہے۔ پاکستان کے اس کردار اور قربانیوں کو سراہا گیا۔ اس دورے کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹرٹیجک نقطۂ نظر سے پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوئیں ہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی تحفظ کے لئے باہمی تعاون کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے افغانستان میں نہ صرف کلیدی کردار پاکستان کو ملا ہے بلکہ تینوں ہمسایہ دوست ممالک چین،افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ جس کا ایک مثبت اشارہ سارک کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے بھی ملا ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ بھارت افغانستان کا ہمسایہ نہیں ہے۔افغانستان سے بھارت کا سٹریٹیجک معاہدہ طے پایا تھا اورروس سے خریدے جانے والے اسلحہ کی ادائیگی بھی بھارت نے کی تھی، مگر اب موجودہ افغان حکومت نے مزید ایسے اسلحہ کی خریداری میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جس کی ادائیگی بھارت کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے سے کئی گنا بڑے ہمسایہ دشمن کے عزائم کے آگے بند باندھنے میں پاکستان کی سلامتی کے ضامن ادارے نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے، اور انشاء اللہ ہمیشہ کرتا رہے گا۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

26
February

ماں

لوگ مسلسل شمعیں کیوں جلا رہے ہیں ماں؟

یہ سب مل کر ان سفاک درندوں کے ٹھکانے کیوں نہیں پھونک دیتے۔ جنہوں نے ہماری زندگیوں کے چراغ گل کئے۔ ماں

یہ لوگ ان کو رنگاہ‘ ننگِ انسانیت وحشیوں کی آنکھیں کیوں نہیں نکال دیتے۔ جنہوں نے معصوم بچوں کی چمکتی آنکھوں پر وار کئے۔ یہ ملک بچوں کے لئے محفوظ کیوں نہیں ہے؟

انسان تو جانوروں کے بچوں پر بھی رحم کھاتے ہیں۔ تو پھر یہ جنگلی جانور کون تھے جنہوں نے فرشتوں جیسے جسموں کو چاک کیا۔ یہ کن کی اولادیں تھیں۔ یہ زہریلے سانپ کہاں سے آئے تھے۔ 16 دسمبر کی اداس صبح کو انسانوں کا روپ دھارن کرکے کون سی مخلوق آئی تھی؟ وہ صبح کتنی گمبھیر چپ گپ اور پراسرار لگ رہی تھی۔ سردی شدید تھی۔ تو نے مجھے یونیفارم پہنا کر تیار کیا تھا۔ ماں! اس روز میرا سکول جانے کو جی بھی نہیں کررہاتھا۔ کچھ کھانے کو بھی جی نہیں کررہا تھا مگر میں تیرے ڈر سے تیار ہوگیا تھا۔ تو بڑی اصولوں والی تھی نا! بغیر وجہ کے چھٹی کرنے پر خفا ہوتی تھی۔ جب تو نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور مجھے خدا حافظ کہا تھا تو یکایک میرا جی چاہا میں تجھ سے لپٹ جاؤں۔ تیرے محبت بھرے سینے میں چھپ جاؤں۔ تیری مامتا کی خوشبو کے اندر سما جاؤں ۔ تیرے بازوؤں میں گم ہو جاؤں۔ چھوٹا سا دودھ پیتا بچہ بن کر تیرے آنچل کے سائے میں آجاؤں۔ نہ جانے کیوں ماں۔۔۔ اس روز میں نے کئی بار تجھے مڑ مڑ کر دیکھا تھا۔ پرتو تو اپنے کام میں مگن رہی ماں۔۔۔ جب میں سکول کے گیٹ سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ تو مجھے اپنے پاؤں کے تلے زمیں کانپتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ میں نے پوچھا بھی۔۔۔ دھرتی ماں تو کیوں کانپ رہی ہے سردی تو ہمیں لگ رہی ہے۔ اس صبح مجھے اپنے دوستوں کے چہرے اترے ہوئے لگے تھے۔ میں جس کی طرف دیکھتا تھا وہ مجھے مرجھایا ہوا لگتا تھا۔ ماں میں نے یونہی کئی بار ہنسنے کی کوشش کی مگر میں کسی کے ساتھ ہنس نہ سکا۔ میں کسی کے ساتھ بول نہ سکا۔ کسی کے آگے اپنے دل کی گرہ کھول نہ سکا۔ کلاس شروع ہوئی تو میرا جی چاہا میں بھاگ کر گھر چلا جاؤں۔۔۔ گھر کے لئے میرے اندر تڑپ سی پیدا ہو رہی تھی۔ ماں! میں تیری صورت دیکھنا چاہتا تھا۔ ماں تیری صورت دیکھنے سے ہر بلا ٹل جاتی تھی۔۔۔ تجھے دیکھنے سے ساری مشکلیں حل ہو جاتی تھیں۔ تجھے دیکھنے کی چاہ دل میں پیدا ہو رہی تھی ماں۔۔۔ کاش ماں! میں سکول کے سارے اصول توڑ کر تیرے پاس اپنے گھر آجاتا۔۔۔ اگر مجھے معلوم ہوتاکہ خدا کی اس زمین پر ابلیس کے کارندے انسانیت کے سارے اصول توڑ کر دیواریں پھلانگتے آئیں گے اور شیطانی کھیل شروع کردیں گے۔۔۔ ۔

ماں ہم سب کھڑے ہوگئے تھے کیونکہ ہمیں احترامِ آدمیت کی تربیت دی گئی تھی‘ قسم ہے تیری ماں

ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کہ وہ نامراد اور بد کردار لوگ معصوم بچوں پر وحشیانہ گولیاں برسائیں گے۔ ہمارے یونیفارم لہو لہان کر دیں گے۔ ہمیں ناکردہ گناہوں کی سزا دیں گے۔۔۔۔

ماں! ہم سب جینا چاہتے تھے۔ بڑے ہونا چاہتے تھے۔ ملک و ملت کا نام روشن کرنا چاہتے تھے۔ ہمارے اندر والدین نے خواب بوئے تھے۔ وردیوں والے خواب۔۔۔ پرچموں والے خواب۔۔۔ فتح مبین والے خواب۔۔۔

ماں کچی آنکھوں کے خواب خون کی ندیوں میں بہہ گئے۔۔۔

ماں یہ زمیں دیکھتی رہی اور آسمان چپ رہا۔۔۔۔۔۔

کیا تم رو دھو کر ان کو معاف کردو گے ماں۔۔۔۔۔۔

کیا تم شمعیں روشن کرنے کے بعد بھی ہماری یادوں کو مدفون کردو گی ماں۔۔۔۔۔۔؟

تمہیں تمہارے لہو لہان بستوں کی قسم۔۔۔

ہماری روتی کُرلاتی کتابوں کی قسم۔۔۔

ہماری چکنا چور قلموں کی قسم۔۔۔

ہمارے ٹکڑے ٹکڑے انگلیوں کی قسم۔۔۔

یہ منظر کبھی بھول نہ جانا۔۔ جب تک تم لوگ پاکستان کے وجود کو ان ناپاک ‘ مکروہ اور درندہ صفت لوگوں سے پاک نہیں کرلیتے۔ ہماری روحیں یونہی بیزار پھریں گی اپنے گھروں کا طواف کرتی رہیں گی۔

اﷲ کے آگے فریاد کرتی رہیں گی۔۔۔

پاکستان کے سارے بچوں کی قسم ماں

پاکستان کے سارے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا دو

ماں

میرے فوجیوں سے کہہ دو! قسم ہے ان کو لہو لہان بچوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کی جب تک وہ اسلام کو بدنام کرنے والے ٹولے ملیا میٹ نہ کردیں۔ آرام سے نہ بیٹھیں۔۔۔

ورنہ ہم پاکستان کے جھنڈے سے لپٹ لپٹ کر قائداعظم کو اپنی فریاد سناتے رہیں گے۔

ماں

نیا سال طلوع ہو رہا ہے۔ تو مجھے یاد کرے گی۔ تو کہا کرتی تھی۔ میرا راجہ دولہا بنے گا۔ ماں اگر یہ خوشی تجھے نصیب نہیں ہوئی تو دعا کر پاکستان کی ساری ماؤں کو یہ خوشی نصیب ہو۔۔۔۔

ماں دعا کر ہاتھ اٹھا کے‘ سارا چمن اجڑ جائے۔۔۔ کسی کی کوکھ نہ اُجڑے۔۔۔

کسی کالا ل نہ بچھڑے‘ کسی کو وچھوڑے‘ کا ایسا درد نہ ملے کہ جس کا داغ قیامت تک بھی نہ جائے۔ قیامت سے پہلے اس پاک ملک میں پھر کبھی قیامت بر پا نہ ہو ۔

ہمارا لہو رائیگاں نہ جائے پیاری ماں

26
February

ابھی تم خواب دیکھو فرض میں کچھ سال باقی ہیں

تم آنے والا کل ہو اور ہم سب حال باقی ہیں

مجھے بے انتہا غصہ ہے دل تک کانپ جاتا ہے

ابھی جانے نہیں دوں گا ابھی جو سانپ جاتا ہے

تم اپنے گھر میں پھر ماں سے کئے وعدے نبھاؤ گے

تم اپنی مسکراہٹ سے وہ آنگن پھر سجاؤ گے

کہیں ایسا نہیں ہوتا‘ کوئی ایسا بھی کرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

قلم کی نوک تھی میں نے دکھائی جب وہ آیا تھا

مرا تھا جو بڑا ہتھیار وہ میں نے چلایا تھا

کتاب آدھی پڑھی تھی جو کھلی رکھی ہوئی ہوگی

کتاب اب پڑھنے لائق ہے مرے خوں سے دُھلی ہوگی

کسی جنگل کا لگتا ہے شہر آنے والا ہے وہ

دُھلی لگتی ہیں سب آنکھیں نظر آنے لگا ہے وہ

میں جتنا سوچتا ہوں یہ مِرا اصرار بڑھتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

پتہ کیا پوچھتا ہے وہ کتابوں میں ملوں گا میں

کئے ماں سے ہیں جو میں نے کہ وعدوں میں ملوں گا میں

میں آنے والا کل ہوں وہ مجھے کیوں آج مارے گا

یہ اُس کا وہم ہوگا کہ وہ ایسے خواب مارے گا

تمہارا خون ہوں نا‘ اس لئے اچھا لڑا ہوں میں

بتا آیا ہوں دشمن کو کہ اُس سے تو بڑا ہوں میں

میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے بھی ڈرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

Page 17 of 17

Follow Us On Twitter