24
March

شہید غیاث لالہ عازم حج ہونے سے پہلے ہی عازم جنت ہوگیا

بلوچستان کے ایک بہادر سپوت کی کہانی جسے وطن سے محبت کی پاداش میں ملک دشمنوں نے شہید کردیا۔ اس کی بہن سلمہ محمد حسنی کے قلم سے

ماہ اگست 2013 آیا تو غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے یوم آزادی منانے کی روایت کو آگے بڑھانے کا اہتمام کیا۔ انتہا پسند وطن دشمنوں نے اب غیاث بھائی کو اپنا اہم ترین ہدف بنا لیا۔ 14 اگست کے ٹھیک اڑھائی ماہ بعد 29 اکتوبر کو شام کے وقت بازار سے گھر کی طرف آتے ہوئے موٹر سائیکل سوار نقاب پوشوں نے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔ وہ بازار جہاں انہیں شہید کیا گیا‘ اس سے قریب ہی پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا۔ زخمی لالہ غیاث نے رینگتے ہوئے پرچم کے سائے تلے پہنچ کر کلمہ پڑھا اور جام شہادت نوش کر لیا۔

وہ میرا چھوٹا بھائی تھا، لیکن والد میر غلام رسول محمد حسنی کی ’’بی ایل اے‘‘کے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد عملًا بڑے بھائی اور گھر کے سربراہ کے مرتبے پر فائز ہو گیا تھا۔ ہم بہنیں اسے کبھی غیاث جان اور کبھی غیاث لالہ کہتی تھیں۔ دو بیٹیوں کے بعد اللہ نے میرے والدین کو اولاد نرینہ دی تو خوب خوشیاں منائی گئیں۔ شہید بابا نے عقیقے کا فوری اہتمام کرتے ہوئے دو بکرے ذبح کئے۔ شہید بابا نے ہمارے اس ننھے منے بھائی کے لئے ایسا نام پسند کیا جو پورے خاندان میں پہلے کسی کا نہ تھا ۔ میر عبدالغیاث ہمارے خاندان میں ایک منفرد نام تھا۔ بھائی نے نوجوانی میں ہی پاک وطن کے غداروں سے مقابلے کا راستہ اختیار کر کے شہادت پائی تو اللہ نے اسے اور بھی ممتاز کر دیا ۔ بظاہر غیاث لالہ کی ایک مختصر سی زندگی اور ایک مختصر سی کہانی ہے۔ میرا غیاث لالہ 21دسمبر1995کو خضدار میں پیدا ہوا اور یہیں پاکستانی پرچم سربلند رکھنے کی پاداش میں 29 اکتوبر 2013 کو شہید ہو گیا۔ لیکن اس کہانی کا ایک ایک لفظ شہادت دیتا ہے کہ وہ واقعی عظیم تھا۔ مختصر سی زندگانی میں شہادت سے پہلے ایک بڑے حادثے اور ایک بڑے سانحے کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا اعزاز بھی mera ghayas lala2میرے غیاث لالہ کو ملا۔ صرف آٹھ برس کا تھا کہ خضدار سے گزرنے والی کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو کر کچھ عرصے کے لئے یادداشت سے محروم ہو گیا۔ ہم گھر والوں کو اس حادثے کی اطلاع دیر سے ملی۔ اس سے پہلے ہی بھائی کو سول ہسپتال میں لوگوں نے شدید زخمی حالت میں پہنچا دیا تھا۔ حادثے کے چار گھنٹے بعد پتہ چلا کہ غیاث سڑک کنارے زخمی ہوگیا تھا۔ ہسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ بھائی مسلسل بے ہوش پڑا ہے۔ ابو ڈاکٹروں کے مشورے سے بھائی کو کوئٹہ کے ایک بڑے ہسپتال میں لے گئے۔ جہاں بھائی کو پانچ دن تک ہوش نہ آسکا۔ پانچ دن کے بعد جب ہوش آیا تو بہن بھائیوں کے لئے یہ زخمی پھول رو روکر اپنی گالوں کو شبنمی کر نے لگا۔ ابو کو مجبوراً واپس لانا پڑا۔ چوٹ نے بھائی کی یاد داشت اور گویائی کو جزوی طور پر متاثر کیا تھا۔ مکمل صحت یابی تک بھائی کا سکول جانا مشکل ہو گیا۔ البتہ ہمیں گھر میں ٹیوشن پڑھانے کے لئے آنے والے ہمارے ٹیچر آتے تو غیاث بھائی کو بھی ہمارے ساتھ بٹھا دیا جاتا تاکہ ان کی سکول کی یادیں تازہ ہوں اور ان کا دماغ اس طرف مائل ہو۔ یہ طریقہ کارگر رہا۔ ایک روز ہمارے ٹیچر نے غیاث بھائی سے ان کا نام پوچھا تو اس نے بولنے کے بجائے لکھ کر اپنا نام بتایا۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ غیاث کی یادداشت ٹھیک ہو گئی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ مکمل صحت یاب ہو گئے تو سکولنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔ کچھ عرصہ گھر میں رہنے کی وجہ سے بھائی کی ہم بہنوں سے قربت اور بڑھ گئی۔ لیکن جب سکول جانا شروع کیا تو سکول کے بچوں کے ساتھ بھی دوستی کا سلسلہ شروع ہوگیا ، یوں غیاث لالہ مکمل طور پر نارمل زندگی میں واپس آگیا۔ اتنے بڑے حادثے کے بعد یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی۔ صحت یاب ہونے کے ساتھ ہی اس کی ذہانت بھری مسکراہٹیں اور شرارتیں بھی لوٹ آئیں۔ وہ سکول کے بچوں سے نہ صرف دوستیاں بنانے میں ماہر تھا بلکہ دوستیاں نبھانے میں بھی اپنی مثال آپ تھا۔ دوستوں کو پیار سے جانی کہہ کر پکارتا۔ دوستوں کے کام آنا، ان کی مدد میں لگے رہنا اس کا مشغلہ تھا۔ دوسروں کے کام آنے کا جذبہ اسے ابو سے وراثت میں ملا تھا۔ ابھی سکول لیول میں ہی تھا اس کا سکول ابو نے تبدیل کرا دیا۔ اس تبدیلی کے بعد بھی غیاث بھائی کی پڑھائی اور دلچسپی میں کمی نہ آئی۔ وہ دوستانہ خُو رکھنے کی وجہ سے جلد ہی دوستیاں بنا لیتا تھا۔

غیاث بھائی کی عمر صرف 13برس اور جماعت آٹھویں تھی کہ ابو میر غلام رسول کو دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔ آٹھ سال کی عمر میں خوفناک ٹریفک حادثے نے ننھے غیاث کے ذہن پر ایک اور طرح کا اثر ڈالا تھا لیکن ابو کی شہادت کے سانحے کا اثر اور طرح کا تھا۔ اب گویا سب کچھ چھن گیا۔ کچھ عرصہ تو جیسے غیاث بھائی کو چپ سی لگ گئی ، لیکن آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا۔ اس واقعے نے اس ننھے غیاث کو پاکستان کے دشمنوں کا اصل چہرہ دکھا دیا کہ یہ بیگناہوں کے قاتل اور خونی بھیڑیے ہیں۔ انہی بھیڑیوں نے پنجابی بولنے والوں کو سب سے پہلے خضدار سے نکالا تھا۔ والد کی شہادت کے واقعے نے پاکستان سے محبت اور بڑھا دی۔ پہلے ہمارے ابو اکیلے پاکستان کی محبت کے لئے تڑپتے تھے‘ اب غیاث بھائی اور پورا خاندان اس حب الوطنی کا شعوری اسیر ہو گیا۔ اس محبت میں غیاث لالہ سب سے آگے تھا۔
غیاث بھائی کی عمر صرف 13برس اور جماعت آٹھویں تھی کہ ابو میر غلام رسول کو دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔ آٹھ سال کی عمر میں خوفناک ٹریفک حادثے نے ننھے غیاث کے ذہن پر ایک اور طرح کا اثر ڈالا تھا لیکن ابو کی شہادت کے سانحے کا اثر اور طرح کا تھا۔ اب گویا سب کچھ چھن گیا۔ کچھ عرصہ تو جیسے غیاث بھائی کو چپ سی لگ گئی ، لیکن آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا۔ اس واقعے نے اس ننھے غیاث کو پاکستان کے دشمنوں کا اصل چہرہ دکھا دیا کہ یہ بیگناہوں کے mera ghayas lala3قاتل اور خونی بھیڑیے ہیں۔ انہی بھیڑیوں نے پنجابی بولنے والوں کو سب سے پہلے خضدار سے نکالا تھا۔ والد کی شہادت کے واقعے نے پاکستان سے محبت اور بڑھا دی۔ پہلے ہمارے ابو اکیلے پاکستان کی محبت کے لئے تڑپتے تھے‘ اب غیاث بھائی اور پورا خاندان اس حب الوطنی کا شعوری اسیر ہو گیا۔ اس محبت میں غیاث لالہ سب سے آگے تھا۔ وقت گزرتا گیا اور غیاث بھائی کی سوچ میں پختگی اور نکھار آنے لگا۔ ابو کی شہادت کے بعد گم سم رہنے کے دن تحرک میں بدلنے لگے، دوستوں کا حلقہ وسیع ہونے لگا۔ غیاث لالہ کا زیادہ وقت انہی سرگرمیوں میں گزرنے لگا۔ وہ سماجی کاموں میں مصروف ہو گیا۔ 2012 میں غیاث خضدار میں اپنے دوست کی دکان پر بیٹھا تھا کہ اس پر پہلا حملہ ہوا۔ اس واقعے میں غیاث بھائی کا دوست شہید ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد غیاث بھائی کا ایک اور دوست انہی قاتلوں کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ یہ سال غیاث بھائی کے لئے ایک اہم سال ثابت ہوا۔ دو دوست شہید ہو ئے ، خود غیاث بھائی پر حملہ ہوا۔ غیاث اور ذکی کی فیس بک پر شرپسندوں نے قتل کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ان پے در پے شہادتوں نے غیاث بھائی کو حالات کی سنگینی اور بطور پاکستانی اپنی ذمہ داریوں کا خوب احساس دیا۔ غیاث بھائی نے اپنے سے چھوٹے بھائی ذکی کے ساتھ گہری دوستی بنا لی اور اب گھر والوں کے ساتھ بھی زیادہ قربت ہو گئی۔ کہیں جاتے تو دونوں بھائی اکٹھے ہوتے، سیر پر بھی جاتے تو ایک دوسرے کو ساتھ رکھتے۔ والد اور قریبی دوستوں کی شہادت کی یادیں تازہ کرنے کے لئے غیاث بھائی نے 14 اگست 2012 کوپاکستانی پر چم لہرانے کا پروگرام بنایا گیا۔ نوجوانوں کو اکٹھا کیا اور پاکستان کے حق میں ریلی نکالی۔ اسی روز خضدار کے ایک شہری کو انتہا پسندوں نے گولی مار کر شہید کردیا۔ اس کا جرم بھی پاکستان سے محبت اور قومی پرچم لہرانے کی تقریب میں حصہ لینا تھا۔ 2006 کے بعد یہ ایک بدلتا ہوا منظر تھا، وطن دشمنوں کو ہر گز قبول نہ تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کو برا یہ لگا کہ ایک ٹی وی چینل کا عملہ ان علیحدگی پسندوں کی دعوت پر اگلے سال مارچ 2013 میں انتہاپسندوں کے الیکشن بائیکاٹ کو ہائی لائٹ کرنے خضدار آیا تو اس نے لاپتہ افراد کی پرانی کہانی دہرانا چاہی، اس پر غیاث بھائی نے اور لوگوں کے ساتھ اُن کی توجہ انتہاپسندوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلوچ شہریوں اور ان کے خاندانوں کی جانب بھی چاہی۔ لیکن انہوں نے انہیں یہ کہنا شروع کر دیا کہ آپ کو کس ایجنسی نے بھیجا ہے۔ غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے اُن سے یہ کہا کہ آپ یک طرفہ پروگرام نہ کریں۔ تاہم اس چینل کے ایجنڈے کے لئے یہ بات مفید نہ ہو سکتی تھی۔ اس لئے پروگرام میں بھی ایسا لہجہ اختیار کیا جس کا مقصد دہشت گردوں کو فائدہ دینا تھا۔ ماہ اگست 2013 آیا تو غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے یوم آزادی منانے کی روایت کو آگے بڑھانے کا اہتمام کیا۔ انتہا پسند وطن دشمنوں نے اب غیاث بھائی کو اپنا اہم ترین ہدف بنا لیا۔ 14 اگست کے ٹھیک اڑھائی ماہ بعد 29 اکتوبر کو شام کے وقت بازار سے گھر کی طرف آتے ہوئے موٹر سائیکل سوار نقاب پوشوں نے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔ وہ بازار جہاں انہیں شہید کیا گیا‘ اس سے قریب ہی پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا۔ زخمی لالہ غیاث نے رینگتے ہوئے پرچم کے سائے تلے پہنچ کر کلمہ پڑھا اور جام شہادت نوش کر لیا۔ اس روز کچھ ہی دیر پہلے لالہ حیدر حسنی کے ساتھ گھر کھانا کھانے آئے تھے اور کھانا کھا کر پھر چلے گئے تھے۔ نومبر 2008میں خاندان نے گھر کے سربراہ میرغلام رسول کی شہادت سے جو گھاؤ سہا تھا وہ لالہ غیاث کی شہادت سے ایک مرتبہ پھر تازہ ہو گیا۔ شہید لالہ گھر اور خاندان کی رونق ہی نہیں علاقے کے غریبوں اور مظلوموں کے لئے بھی اک سہارا تھا۔ وہ شہدائے وطن کے گھر والوں کی خبر گیری کرتا رہتا اور ان کا خیال رکھتا تھا۔ رشتے داروں کی خوشی غمی میں شریک ہوتا۔ غیاث لالہ نے امی سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ’’امی اگلے سال یعنی 2014میں آپ کو حج کے لئے اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔‘‘لیکن 2014سے پہلے ہی وہ عازم جنت ہو گیا۔ اس کی قربانی اللہ قبول فرمائے اور اللہ وطن عزیز کو دشمنوں سے محفوظ فرمائے۔

حمد

کیونکر نہ زباں پر ہو تحمید و ثنا تیری

دل محوِ نوا تیرا جاں مدح سرا تیری

آوازِ اناالحق سے غافل ہوں تو کیونکر ہوں

ہر ایک سرِ مُو سے آتی ہے صدا تیری

پُھولوں کی مہک میں تُو انجم کی جھلک میں تُو

وہ رنگِ وفا تیرا یہ شانِ ادا تیری

کُہسار و بیاباں میں گلشن میں خیاباں میں

خوشبو لئے پھرتی ہے ہر صبح صبا تیری

ظالم کی جفاؤں میں مظلوم کی آہوں میں

اندازِ جفا تیرا تصویرِ غِنا تیری

یہ پردے میں چھُپنے کے انداز نرالے ہیں

ہر ذرّے کے دامن میں رقصاں ہے ضیا تیری

اِس شانِ تغافل سے گمراہ ہزاروں ہیں

جس شانِ تغافل کو کہتے ہیں ادا تیری

ہم سے بھی گنہگاروں کو تیرا سہارا ہے

چھوڑے تو کرم تیرا پکڑے تو رضا تیری

صوفی تبّسم

24
March

مشرقی پاکستان‘ ہلی سیکٹر میں جوانمردی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجرمحمداکرم شہید نشان حید رکے بارے میں اُن کے بھائی ملک محمد افضل کی ہلال کے لئے خصوصی تحریر

میجر محمداکرم شہید ڈنگہ ضلع گجرات میں4 اپریل1938 کو اپنے ننھیال کے گھر پیدا ہوئے ۔ ان کا آبائی گاؤں نکہ کلاں جہلم سے بیس میل جنوب میں پنڈدادن خان روڈ پر واقع ہے۔ آپ کے والد محترم کا bahadri ka wo nishan2نام ملک سخی محمد تھا۔ ان کا تعلق اعوان برادری سے تھا۔ انہوں نے بھی فوج کی پنجاب رجمنٹ میں خدمات انجام دیں۔ وہ نیک سیرت اور نہایت ہی پرہیزگار انسان تھے میجر اکرم شہید کی والدہ ماجدہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ وہ بڑی باشعور اور دینی جذبے سے سرشار خاتون تھیں۔ دین کے بارے والدین کی تربیت کا یہ اثر ہوا کہ ان کے دو بیٹے ملک محمدافضل اور حفیظ اﷲ ملک حافظِ قرآن ہیں۔ اکرم شہید کی آبیاری بھی اسی دینی ماحول میں ہوئی۔ ان کی زندگی میں جو اخلاص تھا ‘جو دیانت رچی بسی تھی اور جو احسان و ایثار کا جذبہ تھا اس کا سرچشمہ گھر ہی تھا۔ انہوں نے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی۔ مڈل کلاس تک تعلیم انہوں نے نکہ کلاں کے قریب گاؤں چکری راجگان کے ہائی سکول سے حاصل کی۔ وہ 16 اگست1948 کو ملٹری کالج جہلم میں داخل ہوئے۔ ملٹری کالج جہلم کے ماحول اور اساتذہ کی تربیت سے ان کی زندگی میں مزید نکھار آنے لگا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ جلد ہی کھیل کے میدان میں اُن کے جوہر کھلنے لگے۔ ہاکی اور باکسنگ کا بڑا شوق تھا۔ وہ بہت اچھے باکسر تھے اور بڑی جرأت اور ہمت سے باکسنگ کرتے تھے۔ وہ کالج کی لائبریری میں حضرت خالد بن ولید‘ طارق بن زیاد اور محمدبن قاسم کے حالاتِ زندگی پر مبنی کتب کا مطالعہ کرتے۔ انہوں نے ان کی بہادری کے واقعات ازبر کئے ہوئے تھے اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی جستجو رکھتے تھے۔ وہ کالج میں اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ محنتی اور فرض شناس تھے۔ نماز پابندی سے پڑھتے تھے۔ اپنے اخلاق اور شرافت کی وجہ سے اپنے ہم جماعتوں میں بہت مقبول تھے۔

ملٹری کالج سے اکرم نے دوچیزیں حاصل کیں۔ ایک پڑھنے کا شوق دوسرے یہ کہ وہ یہاں سے آفیسر بننے کا عزم اور تصور لے کر گئے۔ اکرم شہید جولائی1953 میں کالج سے فارغ ہو کر پنجاب رجمنٹ bahadri ka wo nishan3کی بوائز کمپنی میں بھرتی ہوئے۔ ملٹری کالج سے آنے کی وجہ سے بوائز کمپنی اور پنجاب سنٹر میں اکرم ’کے جی‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ بوائز کمپنی میں ان کی کارکردگی اتنی شاندار رہی کہ ان کو پڑھائی‘ کھیلوں‘ شوٹنگ اور دوسری سرگرمیوں میں برتری کی بنا پر پہلے پلاٹون کمانڈر اور بعد ازاں بوائز کمپنی کمانڈر بنا دیا گیا جو ایک اعزاز کی بات تھی۔

دو سال بعد وہ ایک باقاعدہ سپاہی کی حیثیت سے 8 پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ یہاں انہوں نے ملٹری سپیشل امتحان پاس کیا جو کمیشن میں جانے کے لئے ضروری تھا اور انہوں نے کمیشن کے لئے درخواست دی۔ ناکامی ہوئی‘ لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ دوبارہ کوشش کی اور بالآخر ان کی کوششیں رنگ لائیں۔1961ء میں انہیں 28 پی ایم اے لانگ کورس کے لئے چُن لیا گیا۔ پی ایم اے میں جاتے ہی انہوں نے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے جگہ بنا لی۔ وہ پی ایم اے کی ہاکی ٹیم میں لئے گئے اور اس حیثیت سے انہوں نے دوبارہ انٹر اکیڈمی سپورٹس میں پی ایم اے کی نمائندگی کی۔ ایک بار پی اے ایف(P A F) اکیڈمی رسالپور میں اور دوسری بار پی این (PN)اکیڈمی کراچی سے کامیاب لوٹے۔ انہیں اکیڈمی کا ہاکی کلر بھی ملا تھا۔ ہاکی کے علاوہ زبردست نشانہ باز بھی تھے۔ اپنے کورس میں بہترین نشانہ باز کی ٹرافی بھی حاصل کی۔

13 اکتوبر1963ء کو انہیں کمیشن ملا اور سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان کا تقرر4 ایف ایف رجمنٹ میں ہوا جو اس وقت پشاور میں تعینات تھی۔ دو سال بعد انہیں کیپٹن بنا دیا گیا۔1965 کی جنگ میں انہوں نے ظفر وال سیکٹر میں دشمن سے پنجہ آزمائی کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جب آپ گھر چھٹی گئے تو آپ کی ہمشیرہ نے پوچھا کہ بہت سے افسروں اور جوانوں کو تمغے ملے ہیں آپ کو کیا ملا۔ جواب میں انہوں نے کہا میں نے کچھ نہیں کیا اس لئے مجھے کچھ نہیں ملا۔ لیکن بہن آپ دیکھنا جب وقت آئے گا تو وہ کام کروں گا کہ دنیا یاد رکھے گی۔bahadri ka wo nishan4

7 جولائی1968 کو ان کا تبادلہ(ای پی آر) ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوگیا اور وہ مشرقی پاکستان چلے گئے۔23 مارچ 70 تک وہاں رہے اس عرصے میں انہیں مشرقی پاکستان کے بڑے حصے کو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس قیام کے دوران انہوں نے بڑی تندہی سے بنگالی سیکھ لی۔ انہوں نے جس طرح وہاں کے حالات اور ماحول کا مطالعہ کیا اور جس ذوق سے بنگالی سیکھی وہ محض علمی یا ادبی تجسس نہ تھا اس قدر کاوش کی تہہ میں اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے اور اسلام اور پاکستان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کا جذبہ تھا۔

ای پی آر میں دو سال گزارنے کے بعد جب کیپٹن اکرم اپنی پلٹن 4 ایف ایف سیالکوٹ پہنچے تو سب نے مسرت اور گرم جوشی کا اظہار کیا۔ ستمبر1970 میں آپ کی یونٹ کوئٹہ پہنچی۔ وہاں جانے سے پہلے آپ نے جولائی اگست میں مری انٹیلی جینس کورس بھی کیا۔ کورس کے بعد انہیں میجر کے عہدے پر ترقی ملی اور وہاں کوئٹہ میں اپنی پلٹن سے جا ملے۔

31 مارچ71ء کو میجر اکرم یونٹ کے ساتھ ایک بار پھر مشرقی پاکستان پہنچے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں ان کی کمپنی ہلی کے مقام پر صف آراء ہوئی۔ ہلی کے علاقے کی حیثیت ایک شہ رگ کی سی تھی۔مشرقی پاکستان کے شمالی علاقوں میں متعین ساری فوج کی سپلائی لائن یہاں سے گزرتی تھی۔ دشمن کا یہ منصوبہ تھا کہ ہلی پر قبضہ کرکے شمال میں متعین فوج کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے اور سپلائی لائن کاٹ دی جائے۔ ہلی پر قبضہ کرنے کے لئے دشمن کے 202ماؤنٹین بریگیڈ کو دو ماؤنٹین رجمنٹس‘ آرٹلری کی ایک bahadri ka wo nishan5لائٹ بیٹری اور ایک میڈیم رجمنٹ (ایک بیٹری کم) اور T-55ٹینکوں کے ایک سکواڈرن کی مدد حاصل تھی۔ میجر اکرم 4 ایف ایف کی سی کمپنی کی کمانڈ کررہے تھے۔ انہوں نے اپنی کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے بھرپور حملوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف دشمنوں کو پیش قدمی سے روکے رکھا بلکہ اس کے کئی ٹینک تباہ کئے اور سخت جانی نقصان بھی پہنچایا۔ 4 اور5 دسمبر1971ء کی رات کو دشمن نے چار بار میجر اکرم کی کمپنی پر حملہ کیا لیکن ہر بار دشمن کو منہ کی کھانی پڑی۔ دشمن کا توپ خانہ اور ٹینک آگ اُگل رہے تھے۔ میجرمحمداکرم کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ دشمن کے ٹینکوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے۔ وہ ایک سپاہی کو ساتھ لے کر ایک40 ایم ایم راکٹ لانچر کے ساتھ دشمن کے ٹینکوں پر حملہ کرنے کے لئے آگے چلے گئے اور دشمن کے ٹینکوں کے عین سامنے سو گز کے فاصلے پر پوزیشن لی اور یکے بعد دیگر3 ٹینکوں کو تباہ کردیا۔ دشمن نے ایسا جوان کب دیکھا ہوگا جو سامنے آکر فائر کرے اور اپنی جان کی پروا بھی نہ کرے۔ وہ پندرہ دن تک مسلسل دشمن کے بار بار حملوں کو بہادری سے روکتے رہے۔ جب تک وہ زندہ رہے دشمن پاک سرزمین کے ایک انچ پر بھی قابض نہ ہوسکا۔ آخر دشمن کے ایک ٹینک کی براؤننگ گن کا براہِ راست فائر اُن کی دائیں آنکھ کے قریب لگا اور آپ کو 5دسمبر1971 صبح دس بجے ہلی کے مقام پر شہادت کا رتبہ نصیب ہوا۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنْ)

6 دسمبر1971ء کو یونٹ کے نائب خطیب نے ان کی نمازِ جنازہ بوگرہ میں پڑھائی اور انہیں ڈھاکہ روڈ پر بوگرہ شہر کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ میجر اکرم شہید کو وطنِ عزیز کا دفاع کرنے اور بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرنے پر حکومت نے انہیں بہادری کا سب سے بڑا اعزاز ’نشانِ حیدر‘ دیا۔ میجر اکرم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور آنے والی نسلوں میں جذبہ حُب الوطنی اورجذبہ جاں نثاری بڑھانے کے لئے ان کی یادگار شاندار چوک جہلم کے قریب تعمیر کی گئی ہے۔

 
24
March

ابھی تم خواب دیکھو فرض میں کچھ سال باقی ہیں

تم آنے والا کل ہو اور ہم سب حال باقی ہیں

مجھے بے انتہا غصہ ہے دل تک کانپ جاتا ہے

ابھی جانے نہیں دوں گا ابھی جو سانپ جاتا ہے

تم اپنے گھر میں پھر ماں سے کئے وعدے نبھاؤ گے

تم اپنی مسکراہٹ سے وہ آنگن پھر سجاؤ گے

کہیں ایسا نہیں ہوتا‘ کوئی ایسا بھی کرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

قلم کی نوک تھی میں نے دکھائی جب وہ آیا تھا

مرا تھا جو بڑا ہتھیار وہ میں نے چلایا تھا

کتاب آدھی پڑھی تھی جو کھلی رکھی ہوئی ہوگی

کتاب اب پڑھنے لائق ہے مرے خوں سے دُھلی ہوگی

کسی جنگل کا لگتا ہے شہر آنے والا ہے وہ

دُھلی لگتی ہیں سب آنکھیں نظر آنے لگا ہے وہ

میں جتنا سوچتا ہوں یہ مِرا اصرار بڑھتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

پتہ کیا پوچھتا ہے وہ کتابوں میں ملوں گا میں

کئے ماں سے ہیں جو میں نے کہ وعدوں میں ملوں گا میں

میں آنے والا کل ہوں وہ مجھے کیوں آج مارے گا

یہ اُس کا وہم ہوگا کہ وہ ایسے خواب مارے گا

تمہارا خون ہوں نا‘ اس لئے اچھا لڑا ہوں میں

بتا آیا ہوں دشمن کو کہ اُس سے تو بڑا ہوں میں

میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے بھی ڈرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

24
March

تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔

عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سواکچھ نہیں ہوتا۔

bano qudsia1جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔

رزقِ حلال کا پیغام اسلام کو باقی ادیان سے ممتاز کرتا ہے۔ یہی نقطہ راجہ گدھ لکھنے کی تحریک بنا۔

جب معاشرہ مکمل آزادی مانگے گا تو وہ مغرب کے رنگ میں ڈھل جائے گا۔

بانو قدسیہ عصر حاضر میں اردو ادب کی ایک معتبر ادیبہ ہیں۔ ان کی تخلیقات دنیائے ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں جو قارئین کے شعور سے ہم کلام ہوکر انہیں مقصد حیات سے آشنا کرتی ہیں۔ ان کی تحریریں اردو ادب کا حسن اور زندگی کی علامت ہیں۔ ہلال نے اکتوبر کے شمارے میں اشفاق احمد کی یادوں کے حوالے سے بانو قدسیہ کے ساتھ ایک گفتگو شائع کی گئی تھی جس میں ان کی اپنی شخصیت کے متعلق بات چیت نہیں گئی تھی جس کے پیش نظر بانوقدسیہ کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا جارہا ہے۔ اس انٹرویو میں زندگی اور اس سے منسلک اہم موضوعات پر بانو قدسیہ سے گفتگو کی گئی ہے جسے پڑھ کر بانو قدسیہ کی فکر اور نظریہ حیات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

سوال: کیا آج کا اُردو ادب‘ کلاسیکی ادب سے جُڑا ہوا دکھائی دیتا ہے یا یہ اپنی نئی راہیں متعین کرچکا ہے۔

جواب: اردو ادب نئی راہوں پر چل چکا ہے اوراپنی پچھلی راہوں کے ساتھ بھی متصل ہے۔ کوئی نئی راہ بذات خود نہیں بنتی جب تک پرانی راہ کا وجود نہ ہو۔ یقین کریں اگر آپ تاریخ کو بھلا دیں گے تو چار ہزارسالوں کی روایات اور کہانیاں ختم ہوجائیں گی، یہ باقی نہیں بچیں گی۔ سوجوکچھ آپ آج ہیں، اسی طرح چار ہزار سال پہلے کا آدمی بھی ہوگا ،یہ اس چیز کا عکاس ہے کہ انسان تاریخ سے جڑا ہوا ہے اور علیحدہ اس طرح کہ انسان ہر عہد میں نئی راہوں سے متعارف ہوجاتا ہے، نئی چیزیں سیکھتا ہے اور آگے کی جانب سفر جاری رہتا ہے۔

سوال : آپ کی نظر میں اچھا ادب اور ادیب کن خصوصیات کا حامل ہوتا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے ایک ہی خصوصیت ہے دونوں چیزوں کی اور وہ سچ ہے۔اگر سچ لکھے گا تو سچا ادیب ہوگا۔اس کا اپنا سچ ، مانگا ہوا سچ نہیں کہ فلاں مسلک سے متاثر ہوکر میں نے یہ سچ کہا، سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

سوال:جدید اردو ادب میں تصوف کی آمیزش واصف علی واصف، اشفاق احمد ، قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی اور آپ کے ہاں نمایاں ملتی ہے۔اس کے محرکات کیا تھے؟

جواب: ادب میں تصوف یا اس کے علاوہ کسی بھی نظریے کی آمیزش کی نہایت سادہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ لکھنے والے کا عملی زندگی میں جس طرح کے لوگوں سے ملنا جلنا اور رابطہ ہوتا ہے ان کی بودوباش، پرتَو اور عکس کسی نہ کسی سطح پر تخلیق کار کی تحریروں میں ضرور دکھائی دے گا۔ جہاں تک تصوف کی آمیزش کا تعلق ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ اس نظریے میں اتنی قوت ہے کہ یہ آنے والے دور میں بھی جاری رہے گا اور خود کو منوائے گا۔

سوال : اردو ادب گروہ بندیوں کا شکار رہا ۔ ترقی پسند تحریک اور پھر دائیں بازو یا بائیں بازو کے دانشور کی اصطلاح بھی رہی۔ آپ پراور اشفاق صاحب پر کسی گروہ کی کوئی خاص چھاپ دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟

bano qudsia2جواب: اس کی وجہ ہے کہ ہم اپنی سوچ سے منسلک رہے،ہم نے دائیں بائیں نہیں دیکھا کہ تحریکیں کیا چل رہی ہیں، ان کے ساتھ مل کر ہم نے مضبوط ہونے کی کوشش نہیں کی۔ دائیں یا بائیں بازو کی تحریک سے ہم اس لئے بھی منسلک نہیں ہوئے کیونکہ ہماری سوچ آپس میں ایک دوسرے سے منسلک تھی۔ تنقید نگار بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا ہم پر ایک دوسرے کی چھاپ بھی آئی ہے یا نہیں۔

سوال : اشفاق صاحب اور آپ کا ساتھ ایک عہد کی علامت ہے۔ اشفاق صاحب کی بحیثیت ادیب اور انسان کن خاص خاص یادوں کو ہمارے قارئین سے شیئر کرنا پسند کریں گی؟

جواب: میں نے اشفاق صاحب پرایک پوری کتاب ’’راہ رواں‘‘ لکھی ہے، اس کو پڑھ لیں، میری ساری یادیں، زندگی کے خوبصورت لمحات آپ تک پہنچ جائیں گے، آپ کو پتا چل جائے گا کہ میں ان کو کیسا انسان، ساتھی اور کیسا ادیب سمجھتی ہوں۔انہوں نے ہر لمحے میری رہنمائی کی بلکہ میںیہ کہو ں تو بہتر ہے کہ مجھے بنانے والے ہی اشفاق صاحب ہیں۔ میں اپنی کتاب میں یہ بات بہت تفصیل سے لکھ چکی ہوں۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو ایک دن صبح اشفاق صاحب کچن میں آئے، میں وہاں پر کھانا پکا رہی تھی، مجھے کہنے لگے: قدسیہ ذرا میرے پاس باہر آجائیے۔ مجھے لے کرلان میں چلے گئے وہاں دو کرسیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ ہم ان پر بیٹھ گئے، گفتگو شروع ہوئی تو اشفاق صاحب نے مجھے کہا کہ یہ جو سارا دن باورچی خانے میں وقت ضائع کرتی ہوکیا کوئی نوکرانی نہیں ہے ایسی جو کھانا وغیر ہ پکا سکے؟ میں نے کہا: جونی بہن ہیں وہ پکاتی ہیں،میں ان کی مدد کرتی ہوں، کہنے لگے یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ آپ ان کی مدد کرتی ہیں لیکن تم کیا کوئی اور کام کرسکتی ہو؟ میں نے کہا، سوچ کر بتاتی ہوں۔ ایک منٹ میں نے سوچا پھرمیں نے کہا ہاں میں لکھ سکتی ہوں شاید، کہنے لگے تو پھر لکھتی کیوں نہیں؟ میں نے کہا، پانچویں میں مَیں نے آخری افسانہ لکھا تھا۔ کہنے لگے کیا نام تھا اس کا؟ میں نے کہا فاطمہ، تو انہوں نے کہا کہ کل سے دوبارہ لکھنا شروع کرواور باورچی خانہ چھوڑ دو ہمیشہ کے لئے۔میں نے کہا، یہ میں کیسے کرسکتی ہوں تو بولے آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔ کہنے لگے ایک شرط اور ہے جس وقت آپ نے لکھنا ہے اس وقت کسی سے نہیں ملنا۔جس طرح اگر مچھلیوں کو ایک وقت پر کھانا ڈالنا شروع کریں تو وہ روز عین اسی وقت پر پانی کی سطح پر آتی ہیں، اسی طرح خیالات کی بھی روٹین بن جاتی ہے جب آپ چار بجے لکھنے بیٹھتے ہیں اور سوچنا شروع کرتے ہیں تو اسی وقت خیالات آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ نے اپنی روٹین نہیں توڑنی، اس وقت آپ کا باپ آئے ، والدہ آئے یا بھائی آئے آپ نے کسی سے نہیں ملنا، اسی میں کئی لوگوں کو میں نے ناراض بھی کیا لیکن اپنی روٹین کو میں نے قائم رکھا۔ اب دیکھ لیجئے پچیس کتابیں کیسے لکھی گئیں مجھے نہیں معلوم۔

سوال : راجہ گدھ اردو ادب کی ممتاز تخلیقات میں سے ایک ہے۔ راجہ گدھ میں کردار‘ معاشرہ اور انسانی اقدار ایک شعوری اور لاشعوری ارتقا کی حدود اور سمت کی جانب سفر کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ راجہ گدھ کے پیغام کو کس طرح مختصراً بیان فرمائیں گی۔

جواب: نئی نسل کو تو میں صرف اتنا بتانا چاہوں گی کہ راجہ گدھ عجیب طرح سے میرے اوپر نازل ہوئی۔ یہ اسی (80) کی دہائی کی بات ہے۔ امریکہ نے ہمیں مرعوب کرنے کے لئے ایک ایکسچینج پروگرام دیاجس میں کچھ پاکستانی ادیبوں کو امریکہ لے جایاجاتا اور وہاں کے کلچر سے متعارف کروایا جاتا۔پھر کچھ امریکی ادیب پاکستان آتے اور یہاں کے گھروں میں رہتے۔ اسی طرح اشفاق احمد امریکہ میں ہیس فیملی کے پاس ٹھہرے اور واپسی پر باب ہیس کو اپنے ساتھ لائے جسے ہمارے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ باب ہیس امریکیوں کی طرح اپنے آپ کو اعلیٰ مخلوق تصور کرتا تھا۔ جب صبح ناشتہ ہوجاتا bano qudsia3تو وہ روز مجھ سے سوال کرتا کہ اسلام باقی مذاہب سے اچھا اور برتر کیسے ہے؟ اس میں ایسی کون سی بات ہے جو باقی مذاہب میں نہیں ہے تومیں چونکہ تیار نہیں ہوتی تھی اس طرح کے سوالوں کے لئے، سو میں عورتوں کی طرح غلط سلط جواب دے دیا کرتی جو اس کو متاثر نہ کرپاتے ۔ میں کہتی اللہ ایک ہے تو وہ ہنسا کرتا اور کہتا کہ کیوں دوسرے مذاہب میں اللہ تین چار ہیں‘ میں لاجواب ہوجاتی۔ دوسرے دن کچھ اور اسی طرح کا سوال کرتا جن سے میں پریشان بھی ہوجاتی کہ اس کو کیا مناسب جواب دوں۔ ہمارے باغیچے میں سندری کا ایک درخت ہوتا تھاجس سے سارنگی بنتی ہے۔ ایک دن عصر اور مغرب کے درمیان میں وہاں کھڑی تھی تو میں نے دعا کی کہ اللہ پاک مجھے ایسا علم عطا کر جس سے میں اس کے تمام سوالوں کا جواب دے سکوں تو سندری کے درخت میں سے سارنگی کی آواز بولی: رزق حرام، رزق حرام، رزق حرام۔ میں سمجھ نہیں سکی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ درخت میں سے آواز آئی کہ اگر آپ اپنے بچوں کو رزق حرام کھلائیں گے تو آپ کی آنے والی نسلیں پاگل ہوجائیں گی، دیوانہ ہوجائیں گی۔ جب اگلے دن میری اس سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام نے ایک ایسا پیغام دیا ہے جو کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیا: کہنے لگا بتائیے کون سا، اس نے سر کے اوپر ایرانی ٹوپی پہن رکھی تھی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ رزق حرام نہ کھانا ورنہ تمہاری آنے والی نسلیں دیوانی ہوجائیں گی۔اور پھر وہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کرسکیں گی، وہ شراب بھی پئیں گے، وہ عورتوں کے پاس بھی جائیں گے اور وہ اپنے بچوں سے اچھا سلوک بھی نہیں کریں گے، سارے کام ہوں گے۔وہ کہتا ہے رُک جائیے، رُک جائیے۔ پھر وہ اُٹھا اور دروازہ کھول کر باہر چلا گیا، دس منٹ کے بعد اندر آیا اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ سندری کے درخت سے مجھے یہ فیض حاصل ہوا جس کو باب نے بھی مانا اور کہا کہ واقعی کسی اور مذہب میں یہ بات حکم کی صورت میں نہیں آئی۔ دوسرے دن صبح میں چھت پر صفائی کے لئے گئی، وہاں بارش ہورہی تھی۔ میں نے سوچا کوئی چیز بھیگ نہ رہی ہو، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک کاپی پڑی ہوئی تھی جس پر موٹا موٹا خوبصورت لکھا ہوا تھا راجہ گدھ اس کو میں نے اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔ سو چھت پر بیٹھ کر میں نے اس کتاب کو لکھا اور نئی نسل کے لئے راجہ گدھ کا پیغام بھی یہی ہے کہ رزق حلال سب سے بڑی نعمت ہے۔

سوال : آپ اپنے اب تک کے ادبی سفر کو کس طرح سے دیکھتی ہیں؟

جواب: یہ کام میرا نہیں ، یہ میرے پڑھنے والے اور تنقید نگاروں کا کام ہے کہ وہ میرے کام کو پرکھیں، اس پر رائے دیں۔اب میرا دل لکھنے کو نہیں کرتا ، میری آنکھیں خراب ہیں اور میرا چھوٹا بیٹا اسیر خان میرے ساتھ رہتا ہے جس کی زندگی میں نے تباہ کر رکھی ہے۔یہ اپنے سارے کام چھوڑ کر مجھے توجہ دیتا ہے اور میں ساری زندگی اس کی احسان مند رہوں گی کیونکہ اس نے اپنا سب سے قیمتی وقت، اپنی جوانی کا وقت میرے اوپر صرف کیا ہے۔

سوال : دورِ جدید میں آپ کیا سمجھتی ہیں کہ اُردو ادب کی کون سی صنف کا مستقبل زیادہ تابناک ہے۔ نئی نسل کا رجحان کس جانب زیادہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ ’سٹ کام‘ (Sitcom)کی طرف رجوع زیادہ ہے۔کیونکہ لوگ شام تک اپنی مصروفیات سے اس قدر تھک جاتے ہیں کہ وہ ہنسنا چاہتے ہیں، بولنا چاہتے ہیں، بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ صرف ایسی ہی چیزوں سے ہوسکتا ہے اور دوسرے ویڈیو ٹیکنالوجی کا دور ہے توسٹ کام ہی نسبتاًسب سے زیادہ مناسب جا رہا ہے۔ نئی نسل بھی اسی جانب راغب ہے اور نئی سوچ کو دیکھنا چاہتی ہے، موضوعات چاہے مشرق سے آئیں یا مغرب سے۔

سوال : آپ نے اب تک زندگی میں بہت کچھ لکھا بلکہ ماشاء اﷲ بہت زیادہ لکھا۔ کیا کوئی ایسا پراجیکٹ ہے جو آپ لکھنا چاہتی ہیں لیکن اب تک نہ لکھ پائی ہوں۔

جواب: میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ اپنے حساب سے تو میں نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے لیکن کچھ کتابیں سوجھ جائیں تو اسکے متعلق میں لکھ بھی لوں۔ میں مطالعہ تو کرتی ہوں لیکن اب زیادہ لکھ نہیں پاتی کیونکہ میری آنکھ کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے میں اچھی طرح سے دیکھ نہیں سکتی تو زیادہ توجہ سے کوئی کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔

سوال : آپ اُردو ادب کے مستقبل کو کیسا دیکھتی ہیں؟

جواب: مستقبل ہمیشہ درخشاں ہوتا ہے کیونکہ اردو بنانے والوں نے اس پر بہت محنت کی ہے اور عرصہ دراز سے اس کی تمام اصناف میں اچھا کام ہورہا ہے تو یہ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ اردو زبان کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ جس معیار کا ادب تخلیق ہورہا ہے اس کے بارے میں وہ نسل زیادہ بہتر رائے دے سکتی ہے جس کے لئے وہ لکھا گیا ہے۔اگر ان کو پسند آیا اور انہوں نے سمجھا معیاری ہے تو اچھا ادب ہوگا ورنہ نہیں۔شاعری ہو یا نثر دونوں اصناف میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے اور ہوتا آیا ہے، اس وقت یہ تنقید نگار بھی نہیں بتا سکتے کہ اچھا کام ہو رہاہے یا برا۔

سوال: ہماری قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عفریت کا سامنا ہے۔ کیا اس جنگ نے بین الاقوامی ادب اور بالخصوص پاکستانی ادب پرکوئی نقوش مرتب کئے ہیں۔؟

جواب: آپ کا کیا خیال ہے اثر نہیں آیا؟ نہیں ایسا بالکل نہیں۔ ہمارا ادیب دہشت گردی کی زد میں آیا ہے لیکن ہمارا ادب بہت متاثر ہونے والا نہیں ہے، وہ اپنی راہیں خود متعین کرلیتا ہے، راستے بنا لیتا ہے اور اپنی راہوں پر آگے نکل جاتا ہے۔بڑی شاہراہ سے چھوٹے راستے جنم لیتے ہیں، یہی صورت حال ہمارے اردو ادب کی ہے، نئے موضوعات نکل رہے ہیں، لیکن اردو ادب اپنی بنیادوں پر بھی قائم و دائم ہے۔

سوال :بانو آپا آپ نے روحانیت اور تصوف پر بہت لکھا۔ آپ اپنی زندگی کے اس حصے میں ہیں جہاں معرفت خدا آشنائی تک لے جاتی ہے۔آپ بتائیے کہ یوں تو حقیقی خدا کی تلاش بہت سے انسانوں کی جستجو رہی ہے ، مگر آپ کے خیال میں خدا تک پہنچنے کا عملی راستہ کیا ہے؟

جواب: خدا تک پہنچنے کا جو عملی راستہ ، صوفیائے کرام کے ہاں ملتا ہے وہ مخلوقِ خدا سے محبت کا راستہ ہے۔اشفاق صاحب کا اور میرا‘ جس طرح کے بزرگوں سے رابطہ رہا اُنہوں نے کبھی بھی ہمیں وظائف نہیں بتائے، چلہ کشی کی طرف راغب نہیں کیا۔وہ صرف ایک ہی بات پر زور دیتے تھے کہ مخلوقِ خدا کا خیال رکھو،وہ فرمایا کرتے تھے ’’تمہارے ہاتھ گندے اور دل صاف ہونا چاہئے۔‘‘مخلوق کی خدمت میں ہاتھ گندے اور دل کی صفائی سے مراد یہ کہ آپ کا دل ہر طرح کے حسد، کینہ، رنجش، گلے شکووں سے پاک ہونا چاہئے۔ حضرت اویس قرنی ؒ سے کسی نے پوچھا’’ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مرتبے سے نوازا ہے ، تو آپ نے کون سے ایسے وظائف کئے ہیں ہمیں بھی بتائیے۔‘‘ آپؒ نے فرمایا کہ میں نے تو کوئی وظائف نہیں کئے ، میں نے تو ساری زندگی صرف اپنی ماں کی خدمت کی ہے‘‘۔صوفیا کرام فرماتے ہیں کہ جب آپ کے سامنے کوئی سوال پیش کیا جاتا ہے تو اس سوال کا تعلق علم وادب کے علاوہ ضرورت اور مدد سے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔ دراصل اس سوال کی صورت میں خدا کا خط آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہوتا ہے ، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس سوال کا جواب کس طریقے اور سلیقے سے دیتے ہیں۔

سوال:معیشت ، معاشرت اور روحانیت انسانی زندگی کے اہم جزو ہیں۔ یہ آپس میں کس طرح مربوط ہیں؟

جواب: معیشت، معاشرت اور روحانیت بلاشبہ انسانی زندگی کے بہت اہم جزو ہیں، یہ تمام اجزاء آپس میں کس طرح مربوط ہیں، اس کا فہم و ادراک ہمیں اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب ہم روحانیت کوعملی طور پر اپناتے ہیں۔ عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔

سوال:عورت اور مردکا رشتہ آپ کیسے بیان کریں گی؟

جواب: عورت اور مرد کے رشتے سے متعلق میرا بیان میری تحریروں میں واضح طور پر موجود ہے۔ میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں ایک عرصے سے لکھتی آرہی ہوں کہ عورت خالص عارفِ دنیا ہوتی ہے اور مرد عارفِ مولا ہوتا ہے۔ عورت کی دلچسپی اور لگاؤ کا رجحان مرد کی نسبت اپنے بچوں کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ جو مرد، عورت کے بچوں سے لگاؤ کا اظہار کرتا ہے وہ عورت کے دل کا دروازہ کھول کر مکمل طور پر اس میں داخل ہو جاتا ہے۔ عموماً مرد ایسا نہیں کرتے، مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔ ماں کے سواباقی رشتوں میں عورت، مرد کے رستے میں حائل ہی رہتی ہے۔ اگر مرد کسی طورخانگی زندگی کے بکھیڑوں سے خود کو بچانے میں کامیاب ہو جائے تو پھر وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا ۔ اس کی بلند پروازی لامحدود رفعتوں سے آشنا ہوتی جاتی ہے۔

سوال : خاندان کی فعالیت معاشرے کے عمومی توازن کے لئے کتنی ضروری ہے اور موجود ہ دور میں خاندان کو منتشر ہونے سے کیسا روکا جائے؟

جواب: خاندان کی فعالیت معاشرے کے توازن کے لئے بے حد وحساب ناگزیر ہے، مگر موجودہ عہد میں خاندان میں توازن قائم رکھنا دشوار ہو تا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اس مسئلے کو اس نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ کنبے بڑے ہوتے جا رہے ہیں اور ان کے رہنے کے لئے جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ تنگی داماں نے وسعتِ نظر پر بڑے بُرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ مگراس سلسلے میں اشفاق صاحب اور میرا نقطہ نظر شروع سے یہی رہا ہے کہ تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ میرے خیال میں ہمارا فوکس تعلیم کے ساتھ تربیت پر ہونا چاہئے ، اس سے توازن بھی برقرار رہے گا ، خاندان اور معاشرہ ہر طرح کے انتشار سے بھی محفوظ رہے گا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سبھی کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے

(آمین)

سوال: نوجوان لڑکیوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی جس سے وہ انفرادی اور معاشرتی سطح پر آگے بڑھ سکیں؟

جواب: دیکھیں جو انسان اپنی معاشی یا معاشرتی مسائل کا ذکر کرتے ہیں وہ عموماً حکم نہ ماننے والے لوگ ہوتے ہیں، جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا عورتیں اکثر اپنے شوہروں سے لڑتی جھگڑتی رہتی ہیں، اگر وہ ان کو مجازی خدا سمجھ لیں تو سارے مسائل ہی حل ہوجائیں، اور لڑکیوں کو بھی یہی طرز عمل رکھنا چائیے ، جتنا لڑنا ہے شادی سے پہلے ماں باپ سے لڑلیں کہ میں نے اس سے شادی نہیں کرنی کسی اور سے کرنی ہے۔ لیکن شادی ہوجانے کے بعد لڑائی کرنا ٹھیک نہیں، شوہر مجازی خدا ہوتا ہے اس کی بات ردکرنا ٹھیک نہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بات ماننے سے زندگی میں برکتیں آ جاتی ہیں۔

اﷲ پاک کی توفیق حاصل ہو تو زندگی میں سلیقہ آ جاتا ہے۔

سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

Page 13 of 17

Follow Us On Twitter