24
March

شہید غیاث لالہ عازم حج ہونے سے پہلے ہی عازم جنت ہوگیا

بلوچستان کے ایک بہادر سپوت کی کہانی جسے وطن سے محبت کی پاداش میں ملک دشمنوں نے شہید کردیا۔ اس کی بہن سلمہ محمد حسنی کے قلم سے

ماہ اگست 2013 آیا تو غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے یوم آزادی منانے کی روایت کو آگے بڑھانے کا اہتمام کیا۔ انتہا پسند وطن دشمنوں نے اب غیاث بھائی کو اپنا اہم ترین ہدف بنا لیا۔ 14 اگست کے ٹھیک اڑھائی ماہ بعد 29 اکتوبر کو شام کے وقت بازار سے گھر کی طرف آتے ہوئے موٹر سائیکل سوار نقاب پوشوں نے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔ وہ بازار جہاں انہیں شہید کیا گیا‘ اس سے قریب ہی پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا۔ زخمی لالہ غیاث نے رینگتے ہوئے پرچم کے سائے تلے پہنچ کر کلمہ پڑھا اور جام شہادت نوش کر لیا۔

وہ میرا چھوٹا بھائی تھا، لیکن والد میر غلام رسول محمد حسنی کی ’’بی ایل اے‘‘کے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد عملًا بڑے بھائی اور گھر کے سربراہ کے مرتبے پر فائز ہو گیا تھا۔ ہم بہنیں اسے کبھی غیاث جان اور کبھی غیاث لالہ کہتی تھیں۔ دو بیٹیوں کے بعد اللہ نے میرے والدین کو اولاد نرینہ دی تو خوب خوشیاں منائی گئیں۔ شہید بابا نے عقیقے کا فوری اہتمام کرتے ہوئے دو بکرے ذبح کئے۔ شہید بابا نے ہمارے اس ننھے منے بھائی کے لئے ایسا نام پسند کیا جو پورے خاندان میں پہلے کسی کا نہ تھا ۔ میر عبدالغیاث ہمارے خاندان میں ایک منفرد نام تھا۔ بھائی نے نوجوانی میں ہی پاک وطن کے غداروں سے مقابلے کا راستہ اختیار کر کے شہادت پائی تو اللہ نے اسے اور بھی ممتاز کر دیا ۔ بظاہر غیاث لالہ کی ایک مختصر سی زندگی اور ایک مختصر سی کہانی ہے۔ میرا غیاث لالہ 21دسمبر1995کو خضدار میں پیدا ہوا اور یہیں پاکستانی پرچم سربلند رکھنے کی پاداش میں 29 اکتوبر 2013 کو شہید ہو گیا۔ لیکن اس کہانی کا ایک ایک لفظ شہادت دیتا ہے کہ وہ واقعی عظیم تھا۔ مختصر سی زندگانی میں شہادت سے پہلے ایک بڑے حادثے اور ایک بڑے سانحے کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا اعزاز بھی mera ghayas lala2میرے غیاث لالہ کو ملا۔ صرف آٹھ برس کا تھا کہ خضدار سے گزرنے والی کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو کر کچھ عرصے کے لئے یادداشت سے محروم ہو گیا۔ ہم گھر والوں کو اس حادثے کی اطلاع دیر سے ملی۔ اس سے پہلے ہی بھائی کو سول ہسپتال میں لوگوں نے شدید زخمی حالت میں پہنچا دیا تھا۔ حادثے کے چار گھنٹے بعد پتہ چلا کہ غیاث سڑک کنارے زخمی ہوگیا تھا۔ ہسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ بھائی مسلسل بے ہوش پڑا ہے۔ ابو ڈاکٹروں کے مشورے سے بھائی کو کوئٹہ کے ایک بڑے ہسپتال میں لے گئے۔ جہاں بھائی کو پانچ دن تک ہوش نہ آسکا۔ پانچ دن کے بعد جب ہوش آیا تو بہن بھائیوں کے لئے یہ زخمی پھول رو روکر اپنی گالوں کو شبنمی کر نے لگا۔ ابو کو مجبوراً واپس لانا پڑا۔ چوٹ نے بھائی کی یاد داشت اور گویائی کو جزوی طور پر متاثر کیا تھا۔ مکمل صحت یابی تک بھائی کا سکول جانا مشکل ہو گیا۔ البتہ ہمیں گھر میں ٹیوشن پڑھانے کے لئے آنے والے ہمارے ٹیچر آتے تو غیاث بھائی کو بھی ہمارے ساتھ بٹھا دیا جاتا تاکہ ان کی سکول کی یادیں تازہ ہوں اور ان کا دماغ اس طرف مائل ہو۔ یہ طریقہ کارگر رہا۔ ایک روز ہمارے ٹیچر نے غیاث بھائی سے ان کا نام پوچھا تو اس نے بولنے کے بجائے لکھ کر اپنا نام بتایا۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ غیاث کی یادداشت ٹھیک ہو گئی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ مکمل صحت یاب ہو گئے تو سکولنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔ کچھ عرصہ گھر میں رہنے کی وجہ سے بھائی کی ہم بہنوں سے قربت اور بڑھ گئی۔ لیکن جب سکول جانا شروع کیا تو سکول کے بچوں کے ساتھ بھی دوستی کا سلسلہ شروع ہوگیا ، یوں غیاث لالہ مکمل طور پر نارمل زندگی میں واپس آگیا۔ اتنے بڑے حادثے کے بعد یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی۔ صحت یاب ہونے کے ساتھ ہی اس کی ذہانت بھری مسکراہٹیں اور شرارتیں بھی لوٹ آئیں۔ وہ سکول کے بچوں سے نہ صرف دوستیاں بنانے میں ماہر تھا بلکہ دوستیاں نبھانے میں بھی اپنی مثال آپ تھا۔ دوستوں کو پیار سے جانی کہہ کر پکارتا۔ دوستوں کے کام آنا، ان کی مدد میں لگے رہنا اس کا مشغلہ تھا۔ دوسروں کے کام آنے کا جذبہ اسے ابو سے وراثت میں ملا تھا۔ ابھی سکول لیول میں ہی تھا اس کا سکول ابو نے تبدیل کرا دیا۔ اس تبدیلی کے بعد بھی غیاث بھائی کی پڑھائی اور دلچسپی میں کمی نہ آئی۔ وہ دوستانہ خُو رکھنے کی وجہ سے جلد ہی دوستیاں بنا لیتا تھا۔

غیاث بھائی کی عمر صرف 13برس اور جماعت آٹھویں تھی کہ ابو میر غلام رسول کو دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔ آٹھ سال کی عمر میں خوفناک ٹریفک حادثے نے ننھے غیاث کے ذہن پر ایک اور طرح کا اثر ڈالا تھا لیکن ابو کی شہادت کے سانحے کا اثر اور طرح کا تھا۔ اب گویا سب کچھ چھن گیا۔ کچھ عرصہ تو جیسے غیاث بھائی کو چپ سی لگ گئی ، لیکن آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا۔ اس واقعے نے اس ننھے غیاث کو پاکستان کے دشمنوں کا اصل چہرہ دکھا دیا کہ یہ بیگناہوں کے قاتل اور خونی بھیڑیے ہیں۔ انہی بھیڑیوں نے پنجابی بولنے والوں کو سب سے پہلے خضدار سے نکالا تھا۔ والد کی شہادت کے واقعے نے پاکستان سے محبت اور بڑھا دی۔ پہلے ہمارے ابو اکیلے پاکستان کی محبت کے لئے تڑپتے تھے‘ اب غیاث بھائی اور پورا خاندان اس حب الوطنی کا شعوری اسیر ہو گیا۔ اس محبت میں غیاث لالہ سب سے آگے تھا۔
غیاث بھائی کی عمر صرف 13برس اور جماعت آٹھویں تھی کہ ابو میر غلام رسول کو دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔ آٹھ سال کی عمر میں خوفناک ٹریفک حادثے نے ننھے غیاث کے ذہن پر ایک اور طرح کا اثر ڈالا تھا لیکن ابو کی شہادت کے سانحے کا اثر اور طرح کا تھا۔ اب گویا سب کچھ چھن گیا۔ کچھ عرصہ تو جیسے غیاث بھائی کو چپ سی لگ گئی ، لیکن آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا۔ اس واقعے نے اس ننھے غیاث کو پاکستان کے دشمنوں کا اصل چہرہ دکھا دیا کہ یہ بیگناہوں کے mera ghayas lala3قاتل اور خونی بھیڑیے ہیں۔ انہی بھیڑیوں نے پنجابی بولنے والوں کو سب سے پہلے خضدار سے نکالا تھا۔ والد کی شہادت کے واقعے نے پاکستان سے محبت اور بڑھا دی۔ پہلے ہمارے ابو اکیلے پاکستان کی محبت کے لئے تڑپتے تھے‘ اب غیاث بھائی اور پورا خاندان اس حب الوطنی کا شعوری اسیر ہو گیا۔ اس محبت میں غیاث لالہ سب سے آگے تھا۔ وقت گزرتا گیا اور غیاث بھائی کی سوچ میں پختگی اور نکھار آنے لگا۔ ابو کی شہادت کے بعد گم سم رہنے کے دن تحرک میں بدلنے لگے، دوستوں کا حلقہ وسیع ہونے لگا۔ غیاث لالہ کا زیادہ وقت انہی سرگرمیوں میں گزرنے لگا۔ وہ سماجی کاموں میں مصروف ہو گیا۔ 2012 میں غیاث خضدار میں اپنے دوست کی دکان پر بیٹھا تھا کہ اس پر پہلا حملہ ہوا۔ اس واقعے میں غیاث بھائی کا دوست شہید ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد غیاث بھائی کا ایک اور دوست انہی قاتلوں کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ یہ سال غیاث بھائی کے لئے ایک اہم سال ثابت ہوا۔ دو دوست شہید ہو ئے ، خود غیاث بھائی پر حملہ ہوا۔ غیاث اور ذکی کی فیس بک پر شرپسندوں نے قتل کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ان پے در پے شہادتوں نے غیاث بھائی کو حالات کی سنگینی اور بطور پاکستانی اپنی ذمہ داریوں کا خوب احساس دیا۔ غیاث بھائی نے اپنے سے چھوٹے بھائی ذکی کے ساتھ گہری دوستی بنا لی اور اب گھر والوں کے ساتھ بھی زیادہ قربت ہو گئی۔ کہیں جاتے تو دونوں بھائی اکٹھے ہوتے، سیر پر بھی جاتے تو ایک دوسرے کو ساتھ رکھتے۔ والد اور قریبی دوستوں کی شہادت کی یادیں تازہ کرنے کے لئے غیاث بھائی نے 14 اگست 2012 کوپاکستانی پر چم لہرانے کا پروگرام بنایا گیا۔ نوجوانوں کو اکٹھا کیا اور پاکستان کے حق میں ریلی نکالی۔ اسی روز خضدار کے ایک شہری کو انتہا پسندوں نے گولی مار کر شہید کردیا۔ اس کا جرم بھی پاکستان سے محبت اور قومی پرچم لہرانے کی تقریب میں حصہ لینا تھا۔ 2006 کے بعد یہ ایک بدلتا ہوا منظر تھا، وطن دشمنوں کو ہر گز قبول نہ تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کو برا یہ لگا کہ ایک ٹی وی چینل کا عملہ ان علیحدگی پسندوں کی دعوت پر اگلے سال مارچ 2013 میں انتہاپسندوں کے الیکشن بائیکاٹ کو ہائی لائٹ کرنے خضدار آیا تو اس نے لاپتہ افراد کی پرانی کہانی دہرانا چاہی، اس پر غیاث بھائی نے اور لوگوں کے ساتھ اُن کی توجہ انتہاپسندوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلوچ شہریوں اور ان کے خاندانوں کی جانب بھی چاہی۔ لیکن انہوں نے انہیں یہ کہنا شروع کر دیا کہ آپ کو کس ایجنسی نے بھیجا ہے۔ غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے اُن سے یہ کہا کہ آپ یک طرفہ پروگرام نہ کریں۔ تاہم اس چینل کے ایجنڈے کے لئے یہ بات مفید نہ ہو سکتی تھی۔ اس لئے پروگرام میں بھی ایسا لہجہ اختیار کیا جس کا مقصد دہشت گردوں کو فائدہ دینا تھا۔ ماہ اگست 2013 آیا تو غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے یوم آزادی منانے کی روایت کو آگے بڑھانے کا اہتمام کیا۔ انتہا پسند وطن دشمنوں نے اب غیاث بھائی کو اپنا اہم ترین ہدف بنا لیا۔ 14 اگست کے ٹھیک اڑھائی ماہ بعد 29 اکتوبر کو شام کے وقت بازار سے گھر کی طرف آتے ہوئے موٹر سائیکل سوار نقاب پوشوں نے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔ وہ بازار جہاں انہیں شہید کیا گیا‘ اس سے قریب ہی پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا۔ زخمی لالہ غیاث نے رینگتے ہوئے پرچم کے سائے تلے پہنچ کر کلمہ پڑھا اور جام شہادت نوش کر لیا۔ اس روز کچھ ہی دیر پہلے لالہ حیدر حسنی کے ساتھ گھر کھانا کھانے آئے تھے اور کھانا کھا کر پھر چلے گئے تھے۔ نومبر 2008میں خاندان نے گھر کے سربراہ میرغلام رسول کی شہادت سے جو گھاؤ سہا تھا وہ لالہ غیاث کی شہادت سے ایک مرتبہ پھر تازہ ہو گیا۔ شہید لالہ گھر اور خاندان کی رونق ہی نہیں علاقے کے غریبوں اور مظلوموں کے لئے بھی اک سہارا تھا۔ وہ شہدائے وطن کے گھر والوں کی خبر گیری کرتا رہتا اور ان کا خیال رکھتا تھا۔ رشتے داروں کی خوشی غمی میں شریک ہوتا۔ غیاث لالہ نے امی سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ’’امی اگلے سال یعنی 2014میں آپ کو حج کے لئے اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔‘‘لیکن 2014سے پہلے ہی وہ عازم جنت ہو گیا۔ اس کی قربانی اللہ قبول فرمائے اور اللہ وطن عزیز کو دشمنوں سے محفوظ فرمائے۔

حمد

کیونکر نہ زباں پر ہو تحمید و ثنا تیری

دل محوِ نوا تیرا جاں مدح سرا تیری

آوازِ اناالحق سے غافل ہوں تو کیونکر ہوں

ہر ایک سرِ مُو سے آتی ہے صدا تیری

پُھولوں کی مہک میں تُو انجم کی جھلک میں تُو

وہ رنگِ وفا تیرا یہ شانِ ادا تیری

کُہسار و بیاباں میں گلشن میں خیاباں میں

خوشبو لئے پھرتی ہے ہر صبح صبا تیری

ظالم کی جفاؤں میں مظلوم کی آہوں میں

اندازِ جفا تیرا تصویرِ غِنا تیری

یہ پردے میں چھُپنے کے انداز نرالے ہیں

ہر ذرّے کے دامن میں رقصاں ہے ضیا تیری

اِس شانِ تغافل سے گمراہ ہزاروں ہیں

جس شانِ تغافل کو کہتے ہیں ادا تیری

ہم سے بھی گنہگاروں کو تیرا سہارا ہے

چھوڑے تو کرم تیرا پکڑے تو رضا تیری

صوفی تبّسم

24
March

مشرقی پاکستان‘ ہلی سیکٹر میں جوانمردی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجرمحمداکرم شہید نشان حید رکے بارے میں اُن کے بھائی ملک محمد افضل کی ہلال کے لئے خصوصی تحریر

میجر محمداکرم شہید ڈنگہ ضلع گجرات میں4 اپریل1938 کو اپنے ننھیال کے گھر پیدا ہوئے ۔ ان کا آبائی گاؤں نکہ کلاں جہلم سے بیس میل جنوب میں پنڈدادن خان روڈ پر واقع ہے۔ آپ کے والد محترم کا bahadri ka wo nishan2نام ملک سخی محمد تھا۔ ان کا تعلق اعوان برادری سے تھا۔ انہوں نے بھی فوج کی پنجاب رجمنٹ میں خدمات انجام دیں۔ وہ نیک سیرت اور نہایت ہی پرہیزگار انسان تھے میجر اکرم شہید کی والدہ ماجدہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ وہ بڑی باشعور اور دینی جذبے سے سرشار خاتون تھیں۔ دین کے بارے والدین کی تربیت کا یہ اثر ہوا کہ ان کے دو بیٹے ملک محمدافضل اور حفیظ اﷲ ملک حافظِ قرآن ہیں۔ اکرم شہید کی آبیاری بھی اسی دینی ماحول میں ہوئی۔ ان کی زندگی میں جو اخلاص تھا ‘جو دیانت رچی بسی تھی اور جو احسان و ایثار کا جذبہ تھا اس کا سرچشمہ گھر ہی تھا۔ انہوں نے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی۔ مڈل کلاس تک تعلیم انہوں نے نکہ کلاں کے قریب گاؤں چکری راجگان کے ہائی سکول سے حاصل کی۔ وہ 16 اگست1948 کو ملٹری کالج جہلم میں داخل ہوئے۔ ملٹری کالج جہلم کے ماحول اور اساتذہ کی تربیت سے ان کی زندگی میں مزید نکھار آنے لگا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ جلد ہی کھیل کے میدان میں اُن کے جوہر کھلنے لگے۔ ہاکی اور باکسنگ کا بڑا شوق تھا۔ وہ بہت اچھے باکسر تھے اور بڑی جرأت اور ہمت سے باکسنگ کرتے تھے۔ وہ کالج کی لائبریری میں حضرت خالد بن ولید‘ طارق بن زیاد اور محمدبن قاسم کے حالاتِ زندگی پر مبنی کتب کا مطالعہ کرتے۔ انہوں نے ان کی بہادری کے واقعات ازبر کئے ہوئے تھے اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی جستجو رکھتے تھے۔ وہ کالج میں اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ محنتی اور فرض شناس تھے۔ نماز پابندی سے پڑھتے تھے۔ اپنے اخلاق اور شرافت کی وجہ سے اپنے ہم جماعتوں میں بہت مقبول تھے۔

ملٹری کالج سے اکرم نے دوچیزیں حاصل کیں۔ ایک پڑھنے کا شوق دوسرے یہ کہ وہ یہاں سے آفیسر بننے کا عزم اور تصور لے کر گئے۔ اکرم شہید جولائی1953 میں کالج سے فارغ ہو کر پنجاب رجمنٹ bahadri ka wo nishan3کی بوائز کمپنی میں بھرتی ہوئے۔ ملٹری کالج سے آنے کی وجہ سے بوائز کمپنی اور پنجاب سنٹر میں اکرم ’کے جی‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ بوائز کمپنی میں ان کی کارکردگی اتنی شاندار رہی کہ ان کو پڑھائی‘ کھیلوں‘ شوٹنگ اور دوسری سرگرمیوں میں برتری کی بنا پر پہلے پلاٹون کمانڈر اور بعد ازاں بوائز کمپنی کمانڈر بنا دیا گیا جو ایک اعزاز کی بات تھی۔

دو سال بعد وہ ایک باقاعدہ سپاہی کی حیثیت سے 8 پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ یہاں انہوں نے ملٹری سپیشل امتحان پاس کیا جو کمیشن میں جانے کے لئے ضروری تھا اور انہوں نے کمیشن کے لئے درخواست دی۔ ناکامی ہوئی‘ لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ دوبارہ کوشش کی اور بالآخر ان کی کوششیں رنگ لائیں۔1961ء میں انہیں 28 پی ایم اے لانگ کورس کے لئے چُن لیا گیا۔ پی ایم اے میں جاتے ہی انہوں نے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے جگہ بنا لی۔ وہ پی ایم اے کی ہاکی ٹیم میں لئے گئے اور اس حیثیت سے انہوں نے دوبارہ انٹر اکیڈمی سپورٹس میں پی ایم اے کی نمائندگی کی۔ ایک بار پی اے ایف(P A F) اکیڈمی رسالپور میں اور دوسری بار پی این (PN)اکیڈمی کراچی سے کامیاب لوٹے۔ انہیں اکیڈمی کا ہاکی کلر بھی ملا تھا۔ ہاکی کے علاوہ زبردست نشانہ باز بھی تھے۔ اپنے کورس میں بہترین نشانہ باز کی ٹرافی بھی حاصل کی۔

13 اکتوبر1963ء کو انہیں کمیشن ملا اور سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان کا تقرر4 ایف ایف رجمنٹ میں ہوا جو اس وقت پشاور میں تعینات تھی۔ دو سال بعد انہیں کیپٹن بنا دیا گیا۔1965 کی جنگ میں انہوں نے ظفر وال سیکٹر میں دشمن سے پنجہ آزمائی کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جب آپ گھر چھٹی گئے تو آپ کی ہمشیرہ نے پوچھا کہ بہت سے افسروں اور جوانوں کو تمغے ملے ہیں آپ کو کیا ملا۔ جواب میں انہوں نے کہا میں نے کچھ نہیں کیا اس لئے مجھے کچھ نہیں ملا۔ لیکن بہن آپ دیکھنا جب وقت آئے گا تو وہ کام کروں گا کہ دنیا یاد رکھے گی۔bahadri ka wo nishan4

7 جولائی1968 کو ان کا تبادلہ(ای پی آر) ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوگیا اور وہ مشرقی پاکستان چلے گئے۔23 مارچ 70 تک وہاں رہے اس عرصے میں انہیں مشرقی پاکستان کے بڑے حصے کو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس قیام کے دوران انہوں نے بڑی تندہی سے بنگالی سیکھ لی۔ انہوں نے جس طرح وہاں کے حالات اور ماحول کا مطالعہ کیا اور جس ذوق سے بنگالی سیکھی وہ محض علمی یا ادبی تجسس نہ تھا اس قدر کاوش کی تہہ میں اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے اور اسلام اور پاکستان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کا جذبہ تھا۔

ای پی آر میں دو سال گزارنے کے بعد جب کیپٹن اکرم اپنی پلٹن 4 ایف ایف سیالکوٹ پہنچے تو سب نے مسرت اور گرم جوشی کا اظہار کیا۔ ستمبر1970 میں آپ کی یونٹ کوئٹہ پہنچی۔ وہاں جانے سے پہلے آپ نے جولائی اگست میں مری انٹیلی جینس کورس بھی کیا۔ کورس کے بعد انہیں میجر کے عہدے پر ترقی ملی اور وہاں کوئٹہ میں اپنی پلٹن سے جا ملے۔

31 مارچ71ء کو میجر اکرم یونٹ کے ساتھ ایک بار پھر مشرقی پاکستان پہنچے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں ان کی کمپنی ہلی کے مقام پر صف آراء ہوئی۔ ہلی کے علاقے کی حیثیت ایک شہ رگ کی سی تھی۔مشرقی پاکستان کے شمالی علاقوں میں متعین ساری فوج کی سپلائی لائن یہاں سے گزرتی تھی۔ دشمن کا یہ منصوبہ تھا کہ ہلی پر قبضہ کرکے شمال میں متعین فوج کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے اور سپلائی لائن کاٹ دی جائے۔ ہلی پر قبضہ کرنے کے لئے دشمن کے 202ماؤنٹین بریگیڈ کو دو ماؤنٹین رجمنٹس‘ آرٹلری کی ایک bahadri ka wo nishan5لائٹ بیٹری اور ایک میڈیم رجمنٹ (ایک بیٹری کم) اور T-55ٹینکوں کے ایک سکواڈرن کی مدد حاصل تھی۔ میجر اکرم 4 ایف ایف کی سی کمپنی کی کمانڈ کررہے تھے۔ انہوں نے اپنی کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے بھرپور حملوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف دشمنوں کو پیش قدمی سے روکے رکھا بلکہ اس کے کئی ٹینک تباہ کئے اور سخت جانی نقصان بھی پہنچایا۔ 4 اور5 دسمبر1971ء کی رات کو دشمن نے چار بار میجر اکرم کی کمپنی پر حملہ کیا لیکن ہر بار دشمن کو منہ کی کھانی پڑی۔ دشمن کا توپ خانہ اور ٹینک آگ اُگل رہے تھے۔ میجرمحمداکرم کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ دشمن کے ٹینکوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے۔ وہ ایک سپاہی کو ساتھ لے کر ایک40 ایم ایم راکٹ لانچر کے ساتھ دشمن کے ٹینکوں پر حملہ کرنے کے لئے آگے چلے گئے اور دشمن کے ٹینکوں کے عین سامنے سو گز کے فاصلے پر پوزیشن لی اور یکے بعد دیگر3 ٹینکوں کو تباہ کردیا۔ دشمن نے ایسا جوان کب دیکھا ہوگا جو سامنے آکر فائر کرے اور اپنی جان کی پروا بھی نہ کرے۔ وہ پندرہ دن تک مسلسل دشمن کے بار بار حملوں کو بہادری سے روکتے رہے۔ جب تک وہ زندہ رہے دشمن پاک سرزمین کے ایک انچ پر بھی قابض نہ ہوسکا۔ آخر دشمن کے ایک ٹینک کی براؤننگ گن کا براہِ راست فائر اُن کی دائیں آنکھ کے قریب لگا اور آپ کو 5دسمبر1971 صبح دس بجے ہلی کے مقام پر شہادت کا رتبہ نصیب ہوا۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنْ)

6 دسمبر1971ء کو یونٹ کے نائب خطیب نے ان کی نمازِ جنازہ بوگرہ میں پڑھائی اور انہیں ڈھاکہ روڈ پر بوگرہ شہر کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ میجر اکرم شہید کو وطنِ عزیز کا دفاع کرنے اور بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرنے پر حکومت نے انہیں بہادری کا سب سے بڑا اعزاز ’نشانِ حیدر‘ دیا۔ میجر اکرم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور آنے والی نسلوں میں جذبہ حُب الوطنی اورجذبہ جاں نثاری بڑھانے کے لئے ان کی یادگار شاندار چوک جہلم کے قریب تعمیر کی گئی ہے۔

 
24
March

ابھی تم خواب دیکھو فرض میں کچھ سال باقی ہیں

تم آنے والا کل ہو اور ہم سب حال باقی ہیں

مجھے بے انتہا غصہ ہے دل تک کانپ جاتا ہے

ابھی جانے نہیں دوں گا ابھی جو سانپ جاتا ہے

تم اپنے گھر میں پھر ماں سے کئے وعدے نبھاؤ گے

تم اپنی مسکراہٹ سے وہ آنگن پھر سجاؤ گے

کہیں ایسا نہیں ہوتا‘ کوئی ایسا بھی کرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

قلم کی نوک تھی میں نے دکھائی جب وہ آیا تھا

مرا تھا جو بڑا ہتھیار وہ میں نے چلایا تھا

کتاب آدھی پڑھی تھی جو کھلی رکھی ہوئی ہوگی

کتاب اب پڑھنے لائق ہے مرے خوں سے دُھلی ہوگی

کسی جنگل کا لگتا ہے شہر آنے والا ہے وہ

دُھلی لگتی ہیں سب آنکھیں نظر آنے لگا ہے وہ

میں جتنا سوچتا ہوں یہ مِرا اصرار بڑھتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

پتہ کیا پوچھتا ہے وہ کتابوں میں ملوں گا میں

کئے ماں سے ہیں جو میں نے کہ وعدوں میں ملوں گا میں

میں آنے والا کل ہوں وہ مجھے کیوں آج مارے گا

یہ اُس کا وہم ہوگا کہ وہ ایسے خواب مارے گا

تمہارا خون ہوں نا‘ اس لئے اچھا لڑا ہوں میں

بتا آیا ہوں دشمن کو کہ اُس سے تو بڑا ہوں میں

میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے بھی ڈرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

24
March

تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔

عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سواکچھ نہیں ہوتا۔

bano qudsia1جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔

رزقِ حلال کا پیغام اسلام کو باقی ادیان سے ممتاز کرتا ہے۔ یہی نقطہ راجہ گدھ لکھنے کی تحریک بنا۔

جب معاشرہ مکمل آزادی مانگے گا تو وہ مغرب کے رنگ میں ڈھل جائے گا۔

بانو قدسیہ عصر حاضر میں اردو ادب کی ایک معتبر ادیبہ ہیں۔ ان کی تخلیقات دنیائے ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں جو قارئین کے شعور سے ہم کلام ہوکر انہیں مقصد حیات سے آشنا کرتی ہیں۔ ان کی تحریریں اردو ادب کا حسن اور زندگی کی علامت ہیں۔ ہلال نے اکتوبر کے شمارے میں اشفاق احمد کی یادوں کے حوالے سے بانو قدسیہ کے ساتھ ایک گفتگو شائع کی گئی تھی جس میں ان کی اپنی شخصیت کے متعلق بات چیت نہیں گئی تھی جس کے پیش نظر بانوقدسیہ کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا جارہا ہے۔ اس انٹرویو میں زندگی اور اس سے منسلک اہم موضوعات پر بانو قدسیہ سے گفتگو کی گئی ہے جسے پڑھ کر بانو قدسیہ کی فکر اور نظریہ حیات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

سوال: کیا آج کا اُردو ادب‘ کلاسیکی ادب سے جُڑا ہوا دکھائی دیتا ہے یا یہ اپنی نئی راہیں متعین کرچکا ہے۔

جواب: اردو ادب نئی راہوں پر چل چکا ہے اوراپنی پچھلی راہوں کے ساتھ بھی متصل ہے۔ کوئی نئی راہ بذات خود نہیں بنتی جب تک پرانی راہ کا وجود نہ ہو۔ یقین کریں اگر آپ تاریخ کو بھلا دیں گے تو چار ہزارسالوں کی روایات اور کہانیاں ختم ہوجائیں گی، یہ باقی نہیں بچیں گی۔ سوجوکچھ آپ آج ہیں، اسی طرح چار ہزار سال پہلے کا آدمی بھی ہوگا ،یہ اس چیز کا عکاس ہے کہ انسان تاریخ سے جڑا ہوا ہے اور علیحدہ اس طرح کہ انسان ہر عہد میں نئی راہوں سے متعارف ہوجاتا ہے، نئی چیزیں سیکھتا ہے اور آگے کی جانب سفر جاری رہتا ہے۔

سوال : آپ کی نظر میں اچھا ادب اور ادیب کن خصوصیات کا حامل ہوتا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے ایک ہی خصوصیت ہے دونوں چیزوں کی اور وہ سچ ہے۔اگر سچ لکھے گا تو سچا ادیب ہوگا۔اس کا اپنا سچ ، مانگا ہوا سچ نہیں کہ فلاں مسلک سے متاثر ہوکر میں نے یہ سچ کہا، سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

سوال:جدید اردو ادب میں تصوف کی آمیزش واصف علی واصف، اشفاق احمد ، قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی اور آپ کے ہاں نمایاں ملتی ہے۔اس کے محرکات کیا تھے؟

جواب: ادب میں تصوف یا اس کے علاوہ کسی بھی نظریے کی آمیزش کی نہایت سادہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ لکھنے والے کا عملی زندگی میں جس طرح کے لوگوں سے ملنا جلنا اور رابطہ ہوتا ہے ان کی بودوباش، پرتَو اور عکس کسی نہ کسی سطح پر تخلیق کار کی تحریروں میں ضرور دکھائی دے گا۔ جہاں تک تصوف کی آمیزش کا تعلق ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ اس نظریے میں اتنی قوت ہے کہ یہ آنے والے دور میں بھی جاری رہے گا اور خود کو منوائے گا۔

سوال : اردو ادب گروہ بندیوں کا شکار رہا ۔ ترقی پسند تحریک اور پھر دائیں بازو یا بائیں بازو کے دانشور کی اصطلاح بھی رہی۔ آپ پراور اشفاق صاحب پر کسی گروہ کی کوئی خاص چھاپ دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟

bano qudsia2جواب: اس کی وجہ ہے کہ ہم اپنی سوچ سے منسلک رہے،ہم نے دائیں بائیں نہیں دیکھا کہ تحریکیں کیا چل رہی ہیں، ان کے ساتھ مل کر ہم نے مضبوط ہونے کی کوشش نہیں کی۔ دائیں یا بائیں بازو کی تحریک سے ہم اس لئے بھی منسلک نہیں ہوئے کیونکہ ہماری سوچ آپس میں ایک دوسرے سے منسلک تھی۔ تنقید نگار بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا ہم پر ایک دوسرے کی چھاپ بھی آئی ہے یا نہیں۔

سوال : اشفاق صاحب اور آپ کا ساتھ ایک عہد کی علامت ہے۔ اشفاق صاحب کی بحیثیت ادیب اور انسان کن خاص خاص یادوں کو ہمارے قارئین سے شیئر کرنا پسند کریں گی؟

جواب: میں نے اشفاق صاحب پرایک پوری کتاب ’’راہ رواں‘‘ لکھی ہے، اس کو پڑھ لیں، میری ساری یادیں، زندگی کے خوبصورت لمحات آپ تک پہنچ جائیں گے، آپ کو پتا چل جائے گا کہ میں ان کو کیسا انسان، ساتھی اور کیسا ادیب سمجھتی ہوں۔انہوں نے ہر لمحے میری رہنمائی کی بلکہ میںیہ کہو ں تو بہتر ہے کہ مجھے بنانے والے ہی اشفاق صاحب ہیں۔ میں اپنی کتاب میں یہ بات بہت تفصیل سے لکھ چکی ہوں۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو ایک دن صبح اشفاق صاحب کچن میں آئے، میں وہاں پر کھانا پکا رہی تھی، مجھے کہنے لگے: قدسیہ ذرا میرے پاس باہر آجائیے۔ مجھے لے کرلان میں چلے گئے وہاں دو کرسیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ ہم ان پر بیٹھ گئے، گفتگو شروع ہوئی تو اشفاق صاحب نے مجھے کہا کہ یہ جو سارا دن باورچی خانے میں وقت ضائع کرتی ہوکیا کوئی نوکرانی نہیں ہے ایسی جو کھانا وغیر ہ پکا سکے؟ میں نے کہا: جونی بہن ہیں وہ پکاتی ہیں،میں ان کی مدد کرتی ہوں، کہنے لگے یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ آپ ان کی مدد کرتی ہیں لیکن تم کیا کوئی اور کام کرسکتی ہو؟ میں نے کہا، سوچ کر بتاتی ہوں۔ ایک منٹ میں نے سوچا پھرمیں نے کہا ہاں میں لکھ سکتی ہوں شاید، کہنے لگے تو پھر لکھتی کیوں نہیں؟ میں نے کہا، پانچویں میں مَیں نے آخری افسانہ لکھا تھا۔ کہنے لگے کیا نام تھا اس کا؟ میں نے کہا فاطمہ، تو انہوں نے کہا کہ کل سے دوبارہ لکھنا شروع کرواور باورچی خانہ چھوڑ دو ہمیشہ کے لئے۔میں نے کہا، یہ میں کیسے کرسکتی ہوں تو بولے آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔ کہنے لگے ایک شرط اور ہے جس وقت آپ نے لکھنا ہے اس وقت کسی سے نہیں ملنا۔جس طرح اگر مچھلیوں کو ایک وقت پر کھانا ڈالنا شروع کریں تو وہ روز عین اسی وقت پر پانی کی سطح پر آتی ہیں، اسی طرح خیالات کی بھی روٹین بن جاتی ہے جب آپ چار بجے لکھنے بیٹھتے ہیں اور سوچنا شروع کرتے ہیں تو اسی وقت خیالات آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ نے اپنی روٹین نہیں توڑنی، اس وقت آپ کا باپ آئے ، والدہ آئے یا بھائی آئے آپ نے کسی سے نہیں ملنا، اسی میں کئی لوگوں کو میں نے ناراض بھی کیا لیکن اپنی روٹین کو میں نے قائم رکھا۔ اب دیکھ لیجئے پچیس کتابیں کیسے لکھی گئیں مجھے نہیں معلوم۔

سوال : راجہ گدھ اردو ادب کی ممتاز تخلیقات میں سے ایک ہے۔ راجہ گدھ میں کردار‘ معاشرہ اور انسانی اقدار ایک شعوری اور لاشعوری ارتقا کی حدود اور سمت کی جانب سفر کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ راجہ گدھ کے پیغام کو کس طرح مختصراً بیان فرمائیں گی۔

جواب: نئی نسل کو تو میں صرف اتنا بتانا چاہوں گی کہ راجہ گدھ عجیب طرح سے میرے اوپر نازل ہوئی۔ یہ اسی (80) کی دہائی کی بات ہے۔ امریکہ نے ہمیں مرعوب کرنے کے لئے ایک ایکسچینج پروگرام دیاجس میں کچھ پاکستانی ادیبوں کو امریکہ لے جایاجاتا اور وہاں کے کلچر سے متعارف کروایا جاتا۔پھر کچھ امریکی ادیب پاکستان آتے اور یہاں کے گھروں میں رہتے۔ اسی طرح اشفاق احمد امریکہ میں ہیس فیملی کے پاس ٹھہرے اور واپسی پر باب ہیس کو اپنے ساتھ لائے جسے ہمارے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ باب ہیس امریکیوں کی طرح اپنے آپ کو اعلیٰ مخلوق تصور کرتا تھا۔ جب صبح ناشتہ ہوجاتا bano qudsia3تو وہ روز مجھ سے سوال کرتا کہ اسلام باقی مذاہب سے اچھا اور برتر کیسے ہے؟ اس میں ایسی کون سی بات ہے جو باقی مذاہب میں نہیں ہے تومیں چونکہ تیار نہیں ہوتی تھی اس طرح کے سوالوں کے لئے، سو میں عورتوں کی طرح غلط سلط جواب دے دیا کرتی جو اس کو متاثر نہ کرپاتے ۔ میں کہتی اللہ ایک ہے تو وہ ہنسا کرتا اور کہتا کہ کیوں دوسرے مذاہب میں اللہ تین چار ہیں‘ میں لاجواب ہوجاتی۔ دوسرے دن کچھ اور اسی طرح کا سوال کرتا جن سے میں پریشان بھی ہوجاتی کہ اس کو کیا مناسب جواب دوں۔ ہمارے باغیچے میں سندری کا ایک درخت ہوتا تھاجس سے سارنگی بنتی ہے۔ ایک دن عصر اور مغرب کے درمیان میں وہاں کھڑی تھی تو میں نے دعا کی کہ اللہ پاک مجھے ایسا علم عطا کر جس سے میں اس کے تمام سوالوں کا جواب دے سکوں تو سندری کے درخت میں سے سارنگی کی آواز بولی: رزق حرام، رزق حرام، رزق حرام۔ میں سمجھ نہیں سکی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ درخت میں سے آواز آئی کہ اگر آپ اپنے بچوں کو رزق حرام کھلائیں گے تو آپ کی آنے والی نسلیں پاگل ہوجائیں گی، دیوانہ ہوجائیں گی۔ جب اگلے دن میری اس سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام نے ایک ایسا پیغام دیا ہے جو کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیا: کہنے لگا بتائیے کون سا، اس نے سر کے اوپر ایرانی ٹوپی پہن رکھی تھی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ رزق حرام نہ کھانا ورنہ تمہاری آنے والی نسلیں دیوانی ہوجائیں گی۔اور پھر وہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کرسکیں گی، وہ شراب بھی پئیں گے، وہ عورتوں کے پاس بھی جائیں گے اور وہ اپنے بچوں سے اچھا سلوک بھی نہیں کریں گے، سارے کام ہوں گے۔وہ کہتا ہے رُک جائیے، رُک جائیے۔ پھر وہ اُٹھا اور دروازہ کھول کر باہر چلا گیا، دس منٹ کے بعد اندر آیا اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ سندری کے درخت سے مجھے یہ فیض حاصل ہوا جس کو باب نے بھی مانا اور کہا کہ واقعی کسی اور مذہب میں یہ بات حکم کی صورت میں نہیں آئی۔ دوسرے دن صبح میں چھت پر صفائی کے لئے گئی، وہاں بارش ہورہی تھی۔ میں نے سوچا کوئی چیز بھیگ نہ رہی ہو، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک کاپی پڑی ہوئی تھی جس پر موٹا موٹا خوبصورت لکھا ہوا تھا راجہ گدھ اس کو میں نے اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔ سو چھت پر بیٹھ کر میں نے اس کتاب کو لکھا اور نئی نسل کے لئے راجہ گدھ کا پیغام بھی یہی ہے کہ رزق حلال سب سے بڑی نعمت ہے۔

سوال : آپ اپنے اب تک کے ادبی سفر کو کس طرح سے دیکھتی ہیں؟

جواب: یہ کام میرا نہیں ، یہ میرے پڑھنے والے اور تنقید نگاروں کا کام ہے کہ وہ میرے کام کو پرکھیں، اس پر رائے دیں۔اب میرا دل لکھنے کو نہیں کرتا ، میری آنکھیں خراب ہیں اور میرا چھوٹا بیٹا اسیر خان میرے ساتھ رہتا ہے جس کی زندگی میں نے تباہ کر رکھی ہے۔یہ اپنے سارے کام چھوڑ کر مجھے توجہ دیتا ہے اور میں ساری زندگی اس کی احسان مند رہوں گی کیونکہ اس نے اپنا سب سے قیمتی وقت، اپنی جوانی کا وقت میرے اوپر صرف کیا ہے۔

سوال : دورِ جدید میں آپ کیا سمجھتی ہیں کہ اُردو ادب کی کون سی صنف کا مستقبل زیادہ تابناک ہے۔ نئی نسل کا رجحان کس جانب زیادہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ ’سٹ کام‘ (Sitcom)کی طرف رجوع زیادہ ہے۔کیونکہ لوگ شام تک اپنی مصروفیات سے اس قدر تھک جاتے ہیں کہ وہ ہنسنا چاہتے ہیں، بولنا چاہتے ہیں، بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ صرف ایسی ہی چیزوں سے ہوسکتا ہے اور دوسرے ویڈیو ٹیکنالوجی کا دور ہے توسٹ کام ہی نسبتاًسب سے زیادہ مناسب جا رہا ہے۔ نئی نسل بھی اسی جانب راغب ہے اور نئی سوچ کو دیکھنا چاہتی ہے، موضوعات چاہے مشرق سے آئیں یا مغرب سے۔

سوال : آپ نے اب تک زندگی میں بہت کچھ لکھا بلکہ ماشاء اﷲ بہت زیادہ لکھا۔ کیا کوئی ایسا پراجیکٹ ہے جو آپ لکھنا چاہتی ہیں لیکن اب تک نہ لکھ پائی ہوں۔

جواب: میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ اپنے حساب سے تو میں نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے لیکن کچھ کتابیں سوجھ جائیں تو اسکے متعلق میں لکھ بھی لوں۔ میں مطالعہ تو کرتی ہوں لیکن اب زیادہ لکھ نہیں پاتی کیونکہ میری آنکھ کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے میں اچھی طرح سے دیکھ نہیں سکتی تو زیادہ توجہ سے کوئی کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔

سوال : آپ اُردو ادب کے مستقبل کو کیسا دیکھتی ہیں؟

جواب: مستقبل ہمیشہ درخشاں ہوتا ہے کیونکہ اردو بنانے والوں نے اس پر بہت محنت کی ہے اور عرصہ دراز سے اس کی تمام اصناف میں اچھا کام ہورہا ہے تو یہ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ اردو زبان کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ جس معیار کا ادب تخلیق ہورہا ہے اس کے بارے میں وہ نسل زیادہ بہتر رائے دے سکتی ہے جس کے لئے وہ لکھا گیا ہے۔اگر ان کو پسند آیا اور انہوں نے سمجھا معیاری ہے تو اچھا ادب ہوگا ورنہ نہیں۔شاعری ہو یا نثر دونوں اصناف میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے اور ہوتا آیا ہے، اس وقت یہ تنقید نگار بھی نہیں بتا سکتے کہ اچھا کام ہو رہاہے یا برا۔

سوال: ہماری قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عفریت کا سامنا ہے۔ کیا اس جنگ نے بین الاقوامی ادب اور بالخصوص پاکستانی ادب پرکوئی نقوش مرتب کئے ہیں۔؟

جواب: آپ کا کیا خیال ہے اثر نہیں آیا؟ نہیں ایسا بالکل نہیں۔ ہمارا ادیب دہشت گردی کی زد میں آیا ہے لیکن ہمارا ادب بہت متاثر ہونے والا نہیں ہے، وہ اپنی راہیں خود متعین کرلیتا ہے، راستے بنا لیتا ہے اور اپنی راہوں پر آگے نکل جاتا ہے۔بڑی شاہراہ سے چھوٹے راستے جنم لیتے ہیں، یہی صورت حال ہمارے اردو ادب کی ہے، نئے موضوعات نکل رہے ہیں، لیکن اردو ادب اپنی بنیادوں پر بھی قائم و دائم ہے۔

سوال :بانو آپا آپ نے روحانیت اور تصوف پر بہت لکھا۔ آپ اپنی زندگی کے اس حصے میں ہیں جہاں معرفت خدا آشنائی تک لے جاتی ہے۔آپ بتائیے کہ یوں تو حقیقی خدا کی تلاش بہت سے انسانوں کی جستجو رہی ہے ، مگر آپ کے خیال میں خدا تک پہنچنے کا عملی راستہ کیا ہے؟

جواب: خدا تک پہنچنے کا جو عملی راستہ ، صوفیائے کرام کے ہاں ملتا ہے وہ مخلوقِ خدا سے محبت کا راستہ ہے۔اشفاق صاحب کا اور میرا‘ جس طرح کے بزرگوں سے رابطہ رہا اُنہوں نے کبھی بھی ہمیں وظائف نہیں بتائے، چلہ کشی کی طرف راغب نہیں کیا۔وہ صرف ایک ہی بات پر زور دیتے تھے کہ مخلوقِ خدا کا خیال رکھو،وہ فرمایا کرتے تھے ’’تمہارے ہاتھ گندے اور دل صاف ہونا چاہئے۔‘‘مخلوق کی خدمت میں ہاتھ گندے اور دل کی صفائی سے مراد یہ کہ آپ کا دل ہر طرح کے حسد، کینہ، رنجش، گلے شکووں سے پاک ہونا چاہئے۔ حضرت اویس قرنی ؒ سے کسی نے پوچھا’’ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مرتبے سے نوازا ہے ، تو آپ نے کون سے ایسے وظائف کئے ہیں ہمیں بھی بتائیے۔‘‘ آپؒ نے فرمایا کہ میں نے تو کوئی وظائف نہیں کئے ، میں نے تو ساری زندگی صرف اپنی ماں کی خدمت کی ہے‘‘۔صوفیا کرام فرماتے ہیں کہ جب آپ کے سامنے کوئی سوال پیش کیا جاتا ہے تو اس سوال کا تعلق علم وادب کے علاوہ ضرورت اور مدد سے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔ دراصل اس سوال کی صورت میں خدا کا خط آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہوتا ہے ، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس سوال کا جواب کس طریقے اور سلیقے سے دیتے ہیں۔

سوال:معیشت ، معاشرت اور روحانیت انسانی زندگی کے اہم جزو ہیں۔ یہ آپس میں کس طرح مربوط ہیں؟

جواب: معیشت، معاشرت اور روحانیت بلاشبہ انسانی زندگی کے بہت اہم جزو ہیں، یہ تمام اجزاء آپس میں کس طرح مربوط ہیں، اس کا فہم و ادراک ہمیں اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب ہم روحانیت کوعملی طور پر اپناتے ہیں۔ عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔

سوال:عورت اور مردکا رشتہ آپ کیسے بیان کریں گی؟

جواب: عورت اور مرد کے رشتے سے متعلق میرا بیان میری تحریروں میں واضح طور پر موجود ہے۔ میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں ایک عرصے سے لکھتی آرہی ہوں کہ عورت خالص عارفِ دنیا ہوتی ہے اور مرد عارفِ مولا ہوتا ہے۔ عورت کی دلچسپی اور لگاؤ کا رجحان مرد کی نسبت اپنے بچوں کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ جو مرد، عورت کے بچوں سے لگاؤ کا اظہار کرتا ہے وہ عورت کے دل کا دروازہ کھول کر مکمل طور پر اس میں داخل ہو جاتا ہے۔ عموماً مرد ایسا نہیں کرتے، مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔ ماں کے سواباقی رشتوں میں عورت، مرد کے رستے میں حائل ہی رہتی ہے۔ اگر مرد کسی طورخانگی زندگی کے بکھیڑوں سے خود کو بچانے میں کامیاب ہو جائے تو پھر وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا ۔ اس کی بلند پروازی لامحدود رفعتوں سے آشنا ہوتی جاتی ہے۔

سوال : خاندان کی فعالیت معاشرے کے عمومی توازن کے لئے کتنی ضروری ہے اور موجود ہ دور میں خاندان کو منتشر ہونے سے کیسا روکا جائے؟

جواب: خاندان کی فعالیت معاشرے کے توازن کے لئے بے حد وحساب ناگزیر ہے، مگر موجودہ عہد میں خاندان میں توازن قائم رکھنا دشوار ہو تا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اس مسئلے کو اس نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ کنبے بڑے ہوتے جا رہے ہیں اور ان کے رہنے کے لئے جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ تنگی داماں نے وسعتِ نظر پر بڑے بُرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ مگراس سلسلے میں اشفاق صاحب اور میرا نقطہ نظر شروع سے یہی رہا ہے کہ تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ میرے خیال میں ہمارا فوکس تعلیم کے ساتھ تربیت پر ہونا چاہئے ، اس سے توازن بھی برقرار رہے گا ، خاندان اور معاشرہ ہر طرح کے انتشار سے بھی محفوظ رہے گا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سبھی کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے

(آمین)

سوال: نوجوان لڑکیوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی جس سے وہ انفرادی اور معاشرتی سطح پر آگے بڑھ سکیں؟

جواب: دیکھیں جو انسان اپنی معاشی یا معاشرتی مسائل کا ذکر کرتے ہیں وہ عموماً حکم نہ ماننے والے لوگ ہوتے ہیں، جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا عورتیں اکثر اپنے شوہروں سے لڑتی جھگڑتی رہتی ہیں، اگر وہ ان کو مجازی خدا سمجھ لیں تو سارے مسائل ہی حل ہوجائیں، اور لڑکیوں کو بھی یہی طرز عمل رکھنا چائیے ، جتنا لڑنا ہے شادی سے پہلے ماں باپ سے لڑلیں کہ میں نے اس سے شادی نہیں کرنی کسی اور سے کرنی ہے۔ لیکن شادی ہوجانے کے بعد لڑائی کرنا ٹھیک نہیں، شوہر مجازی خدا ہوتا ہے اس کی بات ردکرنا ٹھیک نہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بات ماننے سے زندگی میں برکتیں آ جاتی ہیں۔

اﷲ پاک کی توفیق حاصل ہو تو زندگی میں سلیقہ آ جاتا ہے۔

سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

19
March

میجر طیب عزیز شہید کی اہلیہ محترمہ عائشہ طیب کے قلم سے ہلال کے لئے خصوصی تحریر

طیب شہید کا رتبہ بلند‘ اُن کا مقام اعلیٰ ہے یہی ایک سوچ ہے جو ہمیں حوصلہ دیتی ہے کہ آنسو نہ بہائیں۔ یہی وجہ تھی کہ شہادت پہ نہ کسی کو بین کرنے دیا اور نہ زور سے رونے دیا کہ یہ رتبہ ہر کسی کا مقدر نہیں۔ اسی سوچ نے ہر مشکل گھڑی میں کھڑے رہنے اور ہمت نہ ہارنے کا حوصلہ دیا۔ ہر لمحہ جب اُن کی اشد ضرورت محسوس ہوئی تو اسی جذبے سے دل کی ڈھارس بندھی کہ ہم شہدا ء کے وارث ہیں۔

26 ستمبر2008 جمعۃ المبارک اور ماہِ رمضان عام لوگوں کے لئے محض ایک تاریخ ہے جو آئی اور گزر گئی‘ مگرہمارے لئے اس کے معانی بہت کٹھن اور انمٹ ہیں کہ یہ ایسا دن اور ایسی تاریخ ثابت ہوئی جس نے ہمارے زندگی کا رُخ ہی موڑ دیا۔ میرے لئے 26ستمبر عام دن نہیں۔ یہ وہ دن ہے جس دن میرے ہم سفر طیب نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی شہادت برحق ہے وہ تو اس عظیم مرتبے پرفائز ہو گئے کہ ہم اُن کی شہادت پررشک کرتے ہیں۔ لیکن آنکھ کا اشک بار ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ان کی شہادت بھی ایک حقیقت ہے مگر اس دل کا کیا کیجئے جو مانتا ہی نہیں کہ ہم اس ہستی سے محروم ہوگئے ہیں جو انتہائی شفیق‘ ملنسار اور پیار کرنے والی تھی۔ فاطمہ اورعنائیہ ( وہ بیٹی جو دنیا میں اُن کی شہادت کے بعد آئی) نہیں جانتیں کہ باپ کی شفقت کسے کہتے ہیں اور باپ کیسا ہوتا ہے۔ اُن کے وہم و گمان میں بھی وہ الفت نہ ہوگی جو باپ اپنی بیٹیوں سے کرتے ہیں۔ مگر نہیں ان کا باپ زندہ ہے کہ وہ شہید ہے۔ ہمیں شعور بھلے نہ ہو‘ مگر حق یہی ہے کہ وہ امر ہے۔

ترجمہ: اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کا شعور نہیں۔

(سورۃ البقرہ آیت 154)

طیب عزیز اپنے نام کی تفسیر اور اپنوں کا عزیز اور پیارا تھا اور ہمیشہ رہے گا۔

طیب 12مارچ1977 کو باغ آزاد کشمیر کے ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد کرنل محمد عزیز خان بھی ایک فوجی افسر تھے جو اُن کے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے‘ ہر فوجی گھرانے کی روایت کی طرح اُن کے بڑے (مرحوم) بھائی کی شدید خواہش تھی کہ طیب بھی آرمی آفیسر بنیں۔ طیب نے بھی انتہائی جانفشانی اور محنت سے اُن کی اس آرزو کو پورا کرنے کے لئے دن رات محنت کی اور برن ہال سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدPMA کے لئے منتخب ہو گئے۔پاسنگ آؤٹ کا دن والدہ اور گھر والوں کے لئے باعثِ فخر تھا۔ طیب نے پاس آؤٹ ہونے کے بعد اپنے والد کی پیروی کرتے ہوئے اُن کی یونٹ 10 اے کے رجمنٹ جوائن کی جو اُن ایام میں بجوات سیکٹر میں تعینات تھی۔ اُن دنوں دشمن کے تیور کافی بگڑے ہوئے تھے اور گولہ باری روزانہ کا معمول تھا۔ یوں آغاز سے ہی وہ معرکہ حق و باطل میں حصہ دار بنے اور اپنی یونٹ کے ساتھ دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔

فاطمہ اورعنائیہ ( وہ بیٹی جو دنیا میں اُن کی شہادت کے بعد آئی) نہیں جانتیں کہ باپ کی شفقت کسے کہتے ہیں اور باپ کیسا ہوتا ہے۔ اُن کے وہم و گمان میں بھی وہ الفت نہ ہوگی جو باپ اپنی بیٹیوں سے کرتے ہیں۔ مگر نہیں ان کا باپ زندہ ہے کہ وہ شہید ہے۔ ہمیں شعور بھلے نہ ہو‘ مگر حق یہی ہے کہ وہ امر ہے۔

اپنی عسکری زندگی کے شروع سے ہی طیب انتہائی جاں فشانی سے اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں مصروف رہے۔ 2004 تک اپنی یونٹ کے ساتھ پنوں عاقل میں بھی رہے۔ بعد ازاں 2 سال کی مدت کے لئے یو این مشن کے ساتھ لائبیریا میں تعینات رہے۔ اسی دوران اکتوبر2005 میں جب قیامت خیززلزلہ آیا تو آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے کی بناء پر رخصت پر واپس آئے۔ ان دنوں 10 اے کے رجمنٹ ریلیف ورک کا حصہ تھی۔ چنانچہ طیب نے بھی امدادی کارروائیوں میں دن رات ایک کرکے اپنے لوگوں سے تعلق کا حق صحیح معنوں میں ادا کیا جس کا ثبوت اُن کی شہادت پر اُن تمام دور دراز کے رہائشی لوگوں کا اجتماع تھا جو اپنے سپوت کو آخری نذرانہ پیش کرنے اور اُن کا آخری دیدار کرنے کے لئے اُن کا جسدِ خاکی باغ پہنچنے سے پہلے موجود تھے۔

یواین سے واپسی کے بعد2006 میں ان کی پوسٹنگ سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کوئٹہ میں بطورِ انسٹرکٹر ہوئی۔ جہاں سے ان کو اکتوبر2007 میں یونٹ کے ساتھ بنوں پوسٹ کیا گیا جو اُن کے فوجی کیریئر کی آخری پوسٹنگ ثابت ہوئی۔ وہیں سے باجوڑ آپریشن کے لئے روانہ ہوئے اور ایسے گئے کہ جامِ شہادت نوش کرکے ہی پلٹے۔ باجوڑ میں لوئی سم وہ مقام ہے جہاں انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس مقام پر اُن سے منسوب ایک چیک پوسٹ ہے۔ جس دن سے طیب باجوڑ کے لئے بنوں سے روانہ ہوئے اُس دن سے کسی لمحہ قرار نہ تھا۔ ہر رات اُن کی خیریت کے فون کا انتظار اور پھر فون کے بعد چند لمحوں کا قرار اور پھر سارا دن اگلی کال کا انتظار جو بالآخر26 ستمبر2008 بمطابق 25رمضان المبارک کے افطار سے کچھ دیر پہلے اُن کی شہادت کی اطلاع پر اختتام پذیر ہوا۔

طیب شہید کا رتبہ بلند‘ اُن کا مقام اعلیٰ ہے یہی ایک سوچ ہے جو ہمیں حوصلہ دیتی ہے کہ آنسو نہ بہائیں۔ یہی وجہ تھی کہ شہادت پہ نہ کسی کو بین کرنے دیا اور نہ زور سے رونے دیا کہ یہ رتبہ ہر کسی کا مقدر نہیں۔ اسی سوچ نے ہر مشکل گھڑی میں کھڑے رہنے اور ہمت نہ ہارنے کا حوصلہ دیا۔ ہر لمحہ جب اُن کی اشد ضرورت محسوس ہوئی تو اسی جذبے سے دل کی ڈھارس بندھی کہ ہم شہدا ء کے وارث ہیں اور یہ رتبہ بھی متقاضی ہے کہ ہم اپنے شہید کی طرح اُن مسائل اور مشکلات کے آگے ڈٹ جائیں جیسے وہ دشمنوں کے آگے سینہ سپر ہوئے۔ طیب کی شہادت کے بعد2010 میں انہیں حکومت کی طرف سے ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔ جو ہم سب کے لئے عزت و وقار کا باعث ہے۔

بیٹے کی یاد میں

میجر خالد شہید کی اہلیہ محترمہ عطیہ خالد کی پشاور کے شہداء کے لئے ایک نظم

دیکھ کے خالی بچپن کا وہ جھولا تیرا

چھو کے ہر ایک ایک کھلونا تیرا

بیتے حسین لمحوں کو یاد کرتی ہے

کہ تیری یاد مجھے سرشار کرتی ہے

گرنا وہ اٹھا کے پہلے قدم کا تیرا

ماں کہہ کر پکارنا وہ ہردم تیرا

ماں تجھے یاد کرتی ہے

تو کہیں سے آ جائے فریاد کرتی ہے

بستہ‘ یونیفارم اور وہ لنچ بکس تیرا

ہر دم دکھائی دیتا ہے مجھے عکس تیرا

انجینئر بن کے خدمت کرنے کا وہ عزم تیرا

مگر چھوڑ کے یوں چلے جانا وہ بزم تیرا

لمحہ لمحہ وہ دن یاد کرتی ہے

توکہیں سے آ جائے یہ فریاد کرتی ہے

رائیگاں نہ جائے خون کا کوئی قطرہ تیرا

عطیۂ خداوندی ہے شہادت کا رتبہ تیرا

قوم کی حیات کہہ کے تجھے یاد کرتی ہے

کہ تیری یاد مجھے سرشار کرتی ہے

ماں تجھے یاد کرتی ہے

تو کہیں سے آ جائے فریاد کرتی ہے

19
March

سرسید کی حکمت عملی کے دو رُخ تھے۔ ایک رُخ برطانوی حکمرانوں کی جانب تھا۔ سرسید نے ان پر جغرافیائی و سیاسی حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کردی کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک براعظم ہے۔ یورپ کے ملکوں کی طرح اس برصغیر کے مختلف ملکوں میں بھی ہر ملک کا اپنا اپنا ایک جمہوری نظام ہے اور یہ سچی جمہوریت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔ دوسرا رُخ اسلامیان ہند کی جانب تھا جنہیں سرسید نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے بار بار اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا کہ دینِ اسلام سے ہماری گہری اور اٹوٹ وابستگی ہی ہماری انفرادی اور اجتماعی ہستی کا امتیازی نشان ہے۔

اگر ہم اپنی ہزار سالہ قومی تاریخ پر ایک گہری نظر ڈالیں تو ہمیں احساس ہوگا کہ اللہ نے ہماری اجتماعی ہستی کو تین مختلف ادوار میں درپیش موت کے خطرات کی نشاندہی اور ان خطرات سے پنجہ آزمائی کی خاطر عہد بہ عہد تین مردان حق کو بروقت خبردار کیا۔ جب یہ مردان کار خبردار ہو گئے تو پھرچین سے نہ بیٹھے اور اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر اپنے اپنے وقت کے جہانگیروں اور جہانداروں کے سامنے ڈٹ گئے۔ قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں جب شہنشاہ اکبر نے اپنی سیاسی مصلحت کے پیش نظر ہندوؤوں اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ دینی شناخت دینے کی خاطر اپنا دینِ الٰہی نافذ کیا تو نقش بندی صوفیاء حضرت مجدد الف ثانی ،شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں مسلمانوں کی جداگانہ دینی شناخت کی بقاء کی خاطرسرگرمِ عمل ہو گئے۔ اس سرفروشانہ جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے وقت اقبالؒ نے حضرت مجدد الف ثانیؒ کو ان لفظوں میں یاد کیا ہے

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے

جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان

اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

جو سیاسی کارنامہ حضرت مجدد الف ثانی ؒ نے نہایت جرأت و ایثار کے ساتھ قرون وسطیٰ کے ہندوستان میں سرانجام دیا تھا‘ وہی کارنامہ انیسویں صدی کے ہندوستان میں سرسید احمد خاں نے سرانجام دیا۔ جب 1857ء میں بلاد اسلامیہ ہند نے برطانوی ہند کا نیا قالب اختیار کیا تو اسلامیان ہند انگریزوں کے عتاب اور ہندوؤں کے عناد میں گھِرکر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گئے۔ ایسے میں اللہ نے سرسید احمد خاں کو بروقت خبردار کیا، ان کے دل کو بیم وریا سے پاک کیا اور یوں وہ قوت فرمانروا کے سامنے بھی ڈٹ گئے اور زوال پسند مسلمان قیادت کے سامنے بھی۔ پھر بیسویں صدی میں سرسید احمد خاں ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے علامہ اقبال نے اپنے شعلہ آواز سے خرمن باطل کو جلا کر رکھ دیا۔ میں ان تینوں یگانہ روزگار ہستیوں کو برصغیر میں جداگانہ مسلمان قومیت کا معمار اور پاکستان کا فکری بانی شمار کرتا ہوں۔

1930ء میں ہندی مسلمانوں کی سیاست ایک ایسی اندھی گلی میں بند ہو کر رہ گئی تھی جہاں بے بس اور لاچار مسلمان اقلیت کی سیاست ہندو اکثریت سے تحفظات کی بھیک مانگنے کے عمل سے عبارت ہو کر رہ گئی تھی۔ پہلی گول میز کانفرنس میں شریک مسلمان مندوبین نے بھی ایک متحدہ ہندوستانی قومیت کی بنیاد پر اکھنڈ بھارت کے لئے آئینی خاکہ منظور کر لیا تھا۔ ایسے میں اقبالؒ نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک الگ قوم ہیں۔ اس تصور نے برصغیر کی مسلمان سیاست کواقلیت کی سیاست کی اندھی گلی سے نکال کر پاکستان کی شاہراہ پر ڈال دیا۔ اقبال کے اس بروقت اعلان نے انگلستان کے ایوان اقتدار میں ایک زلزلہ سا برپا کر دیاتھا۔ دی ٹائمز لندن نے اگر اپنے ایڈیٹوریل میں اس تصور کو ایک پان اسلامک سازش قرار دیا تھا تو انگلستان کے وزیراعظم سرریمزے میکڈونلڈ (Sir Ramsay Mac Donald)نے اس تصور کو اقبال کی ایک خطرناک شرارت سے تعبیر کیا۔ اقبال نے انگلستان کے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا

"The Prime Minister of England refuses to see that the problem of India is international and not national. The model of British democracy cannot be of any use in a land of many nations."

دس برس بعد لاہور میں قرارداد پاکستان منظور کرنے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے یہی خیال کم و بیش انہی لفظوں میں یوں پیش کیا

"The problem in India is not of an intercommunal character but manifestly of an international one, and it must be treated as such."

یہاں علامہ اقبال اور قائداعظم نے سرسید کے کردار سے پھوٹنے والی اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ بندۂ مومن قوت فرمانروا کے سامنے ہمیشہ بے باک رہتا ہے۔ حکمرانوں کے سامنے یہ بے خوفی اور یہ بیباکی بہت بڑی بات ہے مگر سرسیّد کا فیضان یہیں تک محدود نہیں ہے۔ قائداعظم کااستدلال اقبال سے ماخوذ ہے تو اقبال نے یہ استدلال سرسیّد کے ان آخری مضامین سے اخذ کیا ہے جن میں سرسید مرحوم نے مسلمانوں کوانڈین نیشنل کانگرس سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ اپنے ایک مضمون میں سرسید احمد خاں برطانیہ کی کنزرویٹو اور لبرل، ہر دو پارٹیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس صداقت کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ: ’’برطانوی ہند انگلستان کی طرح ایک چھوٹا سا ملک نہیں ہے بلکہ ایک برصغیر ہے جس میں بھانت بھانت کے اور باہم متصادم لسانی، نسلی اور تہذیبی گروہ موجود ہیں۔ انڈین نیشنل کانگرس کے اغراض و مقاصد تاریخ کی اس صداقت سے لاعلمی اور برطانوی ہند کے زمینی حقائق سے ناآشنائی کا شاخسانہ ہیں۔ کانگرس اسلامیان ہند کے خواب و خیال کی کسی صورت میں بھی ترجمان نہیں ہے۔‘‘

یہ بنیادی جغرافیائی اور تہذیبی صداقت سرسید احمد خاں سے لے کر قائداعظم محمد علی جناح تک مسلسل بدلتے ہوئے سیاق وسباق میں ہرعہد کی اپنی اصطلاحات میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔ جب1885ء میں برطانوی افسر شاہی کے ایک سابق رکن لارڈ ہیوم نے وائسرائے ہند لارڈ ڈفرن(Lord Dufferin) کے تعاون سے انڈین نیشنل کانگرس کا ڈول ڈالا تو سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کو بروقت خبردار کرتے ہوئے اس اینگلوانڈین تنظیم سے خود کو دور رکھنے کا مشورہ دیا۔ کانگرس کے ایک سرکردہ رہنما بدرالدین طیب جی سے سرسید احمد خاں نے سوال کیا کہ

یہ وہ زمانہ تھا جب سوامی دیانند سرسوتی (پنجاب اور یوپی) بال گنگادھرتلک (مہاراشٹر) اور کیشب چندر سین (بنگال) جیسے ہندو انتہا پسند مسلمانوں کی آمد سے پہلے کی ہندو تاریخ اور ہندو مائیتھالوجی سے ہندوستانی قومیت کا خمیر تیار کرنے میں مصروف تھے۔ متحدہ ہندوستانی قومیت کے ان اوّلین نظریہ سازوں کو اردو زبان کا قرآنی رسم الخط اور اس کے عربی فارسی ذخیرہ الفاظ سے ایسی نفرت ہو گئی تھی کہ انہوں نے سن اٹھارہ سو سڑسٹھ میں اردو کو دیوناگری رسم الخط اور سنسکرت لفظوں کی بھرمار سے ہندی بنا دینے کی تحریک شروع کر دی تھی۔ مسلمانوں نے اس تحریک کو اپنی تہذیبی شناخت پر حملہ تصور کیا اور اردو کی بقا کے لئے سرگرمِ عمل ہو گئے۔ ہندی اردو تنازعے کو ہندو مسلمان تہذیبی تصادم کا رنگ پکڑتے دیکھ کر سرسیّد نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ دونوں قومیں اب کبھی اکٹھی نہ رہ سکیں گی۔

’’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ نیشنل کانگرس کے معنی کیا ہیں؟ اس کا یہ مطلب سمجھا جائے کہ مختلف ذاتوں اور ملکوں کے لوگ جو یہاں بستے ہیں ایک قوم ہیں یا ایک قوم بن سکتے ہیں اور ان کے مقاصد اور جذبات میں یکسانیت ہے؟ میرے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں ہے اورجب یہ ناممکن ہے تو پھر نیشنل کانگرس قسم کی کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی اور نہ اس سے سب کو یکساں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ میں ہر ایسی کانگرس کے خلاف ہوں‘ خواہ اس کی شکل و صورت کچھ ہی کیوں نہ ہو‘ جو غلط تصورات پر مبنی ہو۔ یعنی پورے ہندوستان کو ایک قوم سمجھتی ہو‘‘ (تفصیلات کے لئے دیکھئے جامعہ نئی دہلی، جلد95، شمارہ نمبر 7 تا 12)۔ اسی زمانے کی ایک تقریر میں سرسید نے مسلمان نوجوانوں کے ایک اجتماع میں یہ سوال اُٹھایا تھا: ’’اے عزیز بچو! اگر کوئی آسمان کا تارہ ہو جاوے اور مسلمان نہ رہے تو ہم کو کیا۔ وہ تو ہماری قوم ہی نہ رہا۔ پس اسلام کو قائم رکھ کر ترقی کرنا قومی بہبودی ہے۔۔۔۔‘‘

سرسید احمد خاں نے اپنی مومنانہ فراست سے یہ جان لیا تھا کہ انگریز حکمران یہ چاہتے ہیں کہ جب انہیں برصغیر سے رخصت ہونا پڑے تو وہ اپنے پیچھے ایک ایسا اینگلو انڈین حکمران طبقہ چھوڑ جائیں جو ہندوستان کی سامراجی وحدت کو قائم رکھتے ہوئے مغربی سامراج کی جانشینی کے فرائض سرانجام دے سکے۔ سرسید نے یہ جان لیا تھا کہ اگر انگریزوں کا یہ خواب پورا ہو گیا تو ہندی مسلمان ایک دائمی اقلیت ہو کر رہ جائیں گے اور ان کی سیاسی اورتہذیبی ہستی ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے ہندی مسلمانوں کو اس صورتحال سے بچانے کے لئے باقاعدہ علمی و عملی منصوبہ بندی کی۔ سرسید کی حکمت عملی کے دو رُخ تھے۔ ایک رُخ برطانوی حکمرانوں کی جانب تھا۔ سرسید نے ان پر جغرافیائی و سیاسی حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کردی کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک برصغیر ہے۔ یورپ کے ملکوں کی طرح اس برصغیر کے مختلف ملکوں میں بھی ہر ملک کا اپنا اپنا ایک جمہوری نظام ہے اور یہ سچی جمہوریت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔ دوسرا رُخ اسلامیان ہند کی جانب تھا جنہیں سرسید نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے بار بار اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا کہ دینِ اسلام سے ہماری گہری اور اٹوٹ وابستگی ہی ہماری انفرادی اور اجتماعی ہستی کا امتیازی نشان ہے۔ ’’میرے تمام بچے طالب علم جو کالجوں میں پڑھتے ہیں اور جن کے لئے میری آرزو ہے کہ وہ یورپ کے سائنس اور لٹریچر میں کامل ہوں اور تمام دنیا میں اعلیٰ شمار کئے جائیں ان دو الفاظ لاالٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کو نہ بھولیں۔‘‘ یہی بات اقبال نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو بار بار ذہن نشین کرائی کہ اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے اور تازہ کن با مصطفی پیمان خویش!۔ اپنے متذکرہ بالا خطاب سے بارہ برس پہلے سرسیّد کو یقین ہو گیا تھا کہ: ’’دونوں قومیں کسی کام میں دل سے شریک نہ ہو سکیں گی، ابھی تو بہت کم ہے آگے آگے اس سے زیادہ مخالفت اور عناد، ان لوگوں کے سبب جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں، بڑھتانظر آتا ہے۔‘‘

حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اس پر وہ ظلم نہ کرے اور نہ ہی اس کو ہلاکت میں ڈالے بلکہ مصیبت کے وقت اس کی مدد کرے اور جو کوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا اﷲ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرے گا اور جو کوئی مسلمان کی مصیبت دور کرے گا قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس سے مصائب دور رکھے گا اور جو مسلمان کے عیب چھپائے اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے عیب چھپائے گا۔بخاری شریف۔ حدیث نمبر: 2272

سرسید نے اپنے اس خیال کا اظہار اپنے ایک انگریز دوست مسٹر شیکسپیئر سے ہندی اردو تنازعے کے احوال و مقامات پر گفتگو کے دوران کیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سوامی دیانند سرسوتی (پنجاب اور یوپی) بال گنگادھرتلک (مہاراشٹر) اور کیشب چندر سین (بنگال) جیسے ہندو انتہا پسند مسلمانوں کی آمد سے پہلے کی ہندو تاریخ اور ہندو مائیتھالوجی سے ہندوستانی قومیت کا خمیر تیار کرنے میں مصروف تھے۔ متحدہ ہندوستانی قومیت کے ان اوّلین نظریہ سازوں کو اردو زبان کا قرآنی رسم الخط اور اس کے عربی فارسی ذخیرہ الفاظ سے ایسی نفرت ہو گئی تھی کہ انہوں نے سن اٹھارہ سو سڑسٹھ میں اردو کو دیوناگری رسم الخط اور سنسکرت لفظوں کی بھرمار سے ہندی بنا دینے کی تحریک شروع کر دی تھی۔ مسلمانوں نے اس تحریک کو اپنی تہذیبی شناخت پر حملہ تصور کیا اور اردو کی بقا کے لئے سرگرمِ عمل ہو گئے۔ ہندی اردو تنازعے کو ہندو مسلمان تہذیبی تصادم کا رنگ پکڑتے دیکھ کر سرسیّد نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ دونوں قومیں اب کبھی اکٹھی نہ رہ سکیں گی۔

بھارت کے ایک مسلمان دانشور جناب مشیر الحق نے اپنے ایک مضمون ’’سرسید اور ہندوستانی قومیت‘‘ میں ہمیں مشورہ دیا ہے کہ ہم سرسید کی مسٹر شیکسپیئر کے ساتھ مندرجہ بالا گفتگو میں لفظ ’قوم‘ کو انگریزی لفظ ’نیشن‘ کا ہم معنی سمجھنے سے گریز کریں۔ چلئے، ہم ان کا یہ مشورہ مان لیتے ہیں مگر سرسید کے اس خط کا کیا بنے گا جو انہوں نے بدرالدین طیب جی کے خط کے جواب میں لکھا تھا اور جس میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ہر اس کانگرس کے خلاف ہیں جو ’’پورے ہندوستان کو ایک قوم (نیشن) سمجھتی ہو‘‘۔۔۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ خود سرسید نے اردو لفظ قوم کا مفہوم متعین کرنے کی خاطر انگریزی لفظ نیشن بھی لکھ دیا۔

تحریک خلافت کی ناکامی کے بعد ایک مرتبہ پھر قوم اور نیشن کے مفہوم کو الجھا کر متحدہ ہندوستانی قومیت کے نظریہ کو مقبول عام بنانے کی کوششوں نے زور پکڑ لیا تھا اور مسلمان عوام کو مذہبی استدلال کے ساتھ ساتھ ہندوستانی قومیت پر ایمان لے آنے کے مشورے دیئے جانے لگے تھے۔ ایسے میں اللہ نے اقبال کو بروقت خبردار کیا اور انہوں نے اپنے خطبہ الٰہ آباد 1930ء میں دو ٹوک اعلان کیا کہ مسلمان جدید معنوں میں ایک الگ قوم ہیں۔ جدید معنوں میں یوں کہ قومیت کے جدید تصور کے مطابق قومیں جغرافیائی اشتراک سے نہیں بلکہ روحانی یگانگت سے وجود میں آتی ہیں۔

تحریک خلافت کی ناکامی کے بعد ایک مرتبہ پھر قوم اور نیشن کے مفہوم کو الجھا کر متحدہ ہندوستانی قومیت کے نظریہ کو مقبول عام بنانے کی کوششوں نے زور پکڑ لیا تھا اور مسلمان عوام کو مذہبی استدلال کے ساتھ ساتھ ہندوستانی قومیت پر ایمان لے آنے کے مشورے دیئے جانے لگے تھے۔ ایسے میں اللہ نے اقبال کو بروقت خبردار کیا اور انہوں نے اپنے خطبہ الٰہ آباد 1930ء میں دو ٹوک اعلان کیا کہ مسلمان جدید معنوں میں ایک الگ قوم ہیں۔ جدید معنوں میں یوں کہ قومیت کے جدید تصور کے مطابق قومیں جغرافیائی اشتراک سے نہیں بلکہ روحانی یگانگت سے وجود میں آتی ہیں۔ اس جدید اصول کے مطابق برصغیر کے مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور وہ اپنے لئے الگ قومی ریاستوں کے قیام کا حق رکھتے ہیں۔ یہ قوم کا وہی تصور ہے جو ہماری تہذیبی اور فکری تاریخ میں پہلے پہل سرسید احمد خاں کے ہاں نمودار ہوا۔ وقت کا تقاضا یہی تھا کہ سرسید احمد کے ہاں یہ تصور مسلمانوں کی جداگانہ تہذیبی ہستی کو سنوارنے، نکھارنے اور پروان چڑھانے کی تعلیمی اور اصلاحی تحریک تک محدود رہتا۔ اقبال کے عہد میں اس جداگانہ تہذیبی ہستی کی بقا کو جن سنگین سیاسی خطرات نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا‘ ان سے نجات کی سعادت اقبال کے حصے میں آئی۔ اگر سرسید اقبال کے عہد میں ہوتے تو وہ وہی کرتے جو اقبال نے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خطبہ الٰہ آباد کا خیال کرتا ہوں تو مجھے سرسیّد احمد خاں اقبال کا یہ شعر گنگناتے سنائی دیتے ہیں۔

یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیز

اندیشہ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز

اقبالؒ نے سرسید کی عقلیت پسندی کو تکمیلی شان عطا کرنے کے بعد عشق و جنوں کی ارتقائی منزلوں کی سیر کرائی۔ علی گڑھ کے طالب علموں کو مخاطب کرتے وقت انہوں نے کہا تھا کہ

اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے

عشق کے دردمند کا طرزِ کلام اور ہے

تو یہ سرسیّد کے اصلاحی پیغام کی تردید نہیں تھی بلکہ اسے وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق انقلابی پیغام میں ڈھالنے کی تمنا کا اظہار تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ میں جب بھی اقبال کا خطبہ الٰہ آباد پڑھتا ہوں تو مجھے بے اختیار سرسید احمد خاں یاد آتے ہیں جن کے ’’اندیشہ دانا‘‘ کو اقبال نے ’’آداب جنوں‘‘ سکھانے کا عہد آفریں کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

تم کیا جانو۔

تم کیا جانو

جوان موت کیا ہے

بے گانگی‘ بے بسی کیا ہے

یہ رسمی آنسو‘ کچھ بول تسلی کے

بھلا کیا جانیں درد کے پاتال کو

ہجر کے انزال کو

بوڑھی ماں‘ جوان بیوی‘ معصوم بچے کے ملال کو

زندگی کے سارے لمحے

اب جدائی کی نظر ہو گئے ہیں

درد کے گہرے رشتے اب امر ہو گئے ہیں

(مناحل ارشد کا اپنے ابو کرنل ارشد شہید کی یاد میں لکھی گئی نظم)

19
March

کشمیریوں کو اپنی آزادی کی جنگ لڑتے سڑسٹھ برس گزر گئے ہیں۔ تین نسلیں اس جنگ کا ایندھن بن چکی ہیں۔ کشمیر جنت نظیر کے درودیوار کو بارود کی بُو نے گھیر رکھا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے‘ کیسی تہذیب ہے کہ کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے والے دندناتے پھرتے ہیں اور مظلوموں کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ سلامتی کونسل کے بڑوں اور دنیا کے منصفوں نے بہت پہلے کشمیر کے بسنے والوں کا حق خود ارادیت تسلیم کر لیا تھا۔ بھارت کے صاحب اختیار وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اس فیصلے کے حق میں اپنی رائے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن پنڈت نہرو کی آنکھیں بند ہونے سے آج تک اس کے قول و فعل کے پاسداروں سے لے کر موجودہ بھارتی حکمرانوں تک سب نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ بیٹیوں کے سروں سے ردائیں کھینچی گئیں۔ شیرخوار گولہ بارود کی گھن گرج میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ زندگی کی اس قدر تذلیل‘ انسان اتنا بے توقیر‘ حسین و جمیل وادیوں کی اس طرح پامالی کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی‘ پہاڑوں کے حسن کو دیمک لگ گئی ہے۔ جھیل ڈل اور وولر کے کنارے لہو لہو ہیں۔ باغوں اور سبزہ زاروں میں پھولوں کی جگہ ببول سراٹھا رہے ہیں۔ اس وادی کے نہتے اور بے یارومددگار عوام عالمی ضمیر کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ شاید اقوام متحدہ میں پڑی وہ بوسیدہ قراردادیں معجزاتی طور سے پذیرائی پا جائیں۔ 85806 مربع میل پر پھیلی ہوئی ریاست جموں و کشمیر کے طول و عرض میں مختلف نسلی قبائل اور متعدد چھوٹی چھوٹی قومیتوں پر مشتمل افراد کشمیری قوم کہلاتے ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے مقبوضہ کشمیر دنیا کے 110 آزادممالک سے بڑی مملکت ہے جس پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو 67 برس بیت گئے۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ میں استصواب رائے کی قراردادوں میں پویشیدہ ہے۔ بھارت کو کشمیریوں پر اپنی مرضی ٹھونسنے کا قطعاً حق نہیں اور نہ ہی سات لاکھ فوج ان کے سر پر بٹھانے کی اسے اجازت ہے۔

چوہدری محمد علی کی کتاب ’’ظہور پاکستان‘‘ کے صفحہ279 کے مطا بق 11 جولائی 1947 کو کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ایک انٹرویو کے بعد قائداعظم نے ایک پریس بیان جاری کیا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کے متعلق مجھ سے پوچھا گیا ہے کہ آیا کشمیری مسلمان پاکستان کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں؟ میں اس بات کی پہلے ہی ایک سے زائد بار وضاحت کر چکا ہوں کہ ریاستیں اس معاملے میں آزاد ہیں کہ وہ پاکستان سے الحاق کریں یا بھارت کے ساتھ ہیں۔ سیسرگپتا نے کشمیر گپتا میں 21 اپریل 1947 کو لیاقت علی خان کے ایک بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ کابینہ مشن پلان کے مطابق جب برطانوی ہند کے مستقبل کا فیصلہ کیا جا چکا ہے تو ہندوستانی ریاستوں کو یہ اختیارحاصل ہے کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کریں۔ لیکن کشمیر کی تاریخ کو دھیرے دھیرے مسخ کیا جا رہا ہے۔ کشمیر ی بحیثیت قوم ایک درخشاں تاریخ کے مالک ہیں مگر فطرت کے قانون عروج و زوال کے تحت ایک عرصے سے محکومی کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ دنیا کے مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹانا ہو تو اس سے اس کی تاریخ چھین لو۔ کشمیریوں کی تباہی اور غلامی کے لئے بھی سامراج نے یہی سوچا ہے کہ تاریخ کشمیر مسخ کر کے کشمیریوں کو ہمیشہ کے لئے غلام بنا لیا جائے۔ 1947 سے ہی تاریخ کشمیر کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کے اس حصے میں جہاں بھارت کا قبضہ ہے وہاں کشمیری بچوں کو نصابی کتب میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ مہاراجہ کشمیر نے ریاست کا الحاق بھارت سے کر دیا تھا اس لئے یہ اب بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ جب تک کشمیرکی نئی نسل کے سامنے ایک واضح صاف اور صریح نصب العین نہ ہو‘ وہ نہ تو منظم ہو سکتے ہیں اور نہ ہی بے دریغ قربانی کے لئے تیار‘ قومیں اس وقت جدوجہد پر آمادہ ہوتی ہیں جب ان کے سامنے اپنی ایک درخشان تاریخ ہو‘ ورنہ وہ غلامی کو ہی آزادی سمجھ کر قناعت اختیار کر لیتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ غلامی اور آزادی کا دور قوموں پر آتا رہتا ہے۔ ہمیشہ کے لئے کسی بھی قوم کو غلام نہیں رکھا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کشمیریوں کا سفر عروج کی طرف جاری ہے۔ ان کے قدم آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہوس اقتدار اور توسیع پسندانہ نظریہ پاش پاش ہو رہا ہے جس طرح لینن کے ماننے والوں نے ہی اس کا منہ کالا کر دیا تھا اس کا حلیف بھارت بھی اب زیادہ دیر محکوم اور نہتے کشمیریوں پر اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکے گا۔ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والا بھارت تاریخی طور سے کشمیریوں سے جنگ ہار چکا ہے۔ 27اکتوبر 1947 کو بھارت نے ہوائی جہاز کے ذریعے پہلے اپنی افواج کشمیر میں اتاریں پھر یکم جنوری 1948 کو بھارت نے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح اس مسئلے کو ایک بین الاقوامی تنازعے کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اقوام متحدہ نے یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے ایک بین الاقوامی کمشن تشکیل دیا۔ وہ کمشن جو عرف عام میں کشمیر کمشن کہلاتا ہے۔ ایڈمرل نمٹز (Admiral Chester W. Nimitz)کی سربراہی میں برصغیر آیا تھا۔ جہاں انہوں نے فریقین سے طویل مذاکرات کے بعد انہیں ایک بین الاقوامی معاہدہ کرنے پر رضا مند کر لیا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے طے پایا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ استصواب رائے سے حل کیا جائے گا۔ یہ استصواب رائے ایک غیر جانبدار مبصر کی نگرانی میں انجام پائے گا۔

15جنوری 1948 کو سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر بحث کا آغاز ہوا تو پاکستانی وفد میں نمائندے کے طور پر سرظفراﷲ خان اور متبادل نمائندہ ابوالحسن اصفہانی تھے جبکہ مسٹر وسیم ایڈووکیٹ جنرل پاکستان بطور مشیر وفد میں شامل تھے۔ جناب افتخار حسین بطور ڈپٹی سیکرٹری وزارت خارجہ اور کرنل (ر) مجید ملک رکن کی حیثیت سے وفد کے ہمراہ تھے یہ وہی کرنل مجید ملک ہیں جو وزارت اطلاعات میں پی آئی او تھے۔سرظفراﷲ خان نے اپنی سوانح عمری ’’تحدیث نعمت‘‘ میں سلامتی کونسل میں ہونے والی کارروائی کے حوالے سے لکھا ہے کہ بھارتی وفد کے سربراہ سرگوپالا سوامی آیانگر(Gopalaswami Ayyangar) تھے۔ جو نہرو یونیورسٹی دہلی کے سابق وائس چانسلر اور کشمیر کے سابق وزیراعظم تھے۔ ان دنوں وہ بھارت کی مرکزی کابینہ میں وزیر تھے۔ ان کے معاون کار سرگرجا شنکر واجپائی اور مسٹر ایم ایل سیتلواڈ تھے۔ سلامتی کونسل کے ارکان میں ارجنٹائن‘ بیلجیئم‘ کینیڈا‘ کولمبیا‘ فرانس‘ شام‘ روس‘ برطانیہ‘ امریکہ اور یوگوسلاویہ تھے۔

بھارت کی طرف سے سرگوپالاسوامی آیانگر نے 15 جنوری کی سہ پہر کے اجلاس میں تقریر کی‘ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مہاراجہ کشمیر نے ریاست جموں و کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ برضا و رغبت اور خوش اسلوبی سے کیا ہے جبکہ اس کے خلاف پاکستان کے اشتعال اور مدد کے ساتھ قبائلیوں نے ریاست پر حملہ کر کے بہت فساد ‘ خون خرابہ اور لوٹ مار کی ہے۔ ان قبائلیوں کی روک تھام کے لئے بھارت کو اپنی فوج بھیجنا پڑی۔ ایسی صورت حال جنگ کا رنگ اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان قبائلیوں کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے۔ بہت سے پاکستانی فوجی افسر بھی قبائلیوں کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کا یہ رویہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔ پاکستان کو اس سے روکنا لازم ہے۔ پاکستان قبائلیوں کی مدد بند کرے اور انہیں واپس جانے پر آمادہ کرے۔ بھارتی نمائندے کی تقریر کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس دو دن کے لئے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

سرظفراﷲ خان نے لکھا کہ ’’دوسرے اجلاس میں ‘ میں نے تقریر کی کہ بھارت کے نمائندے نے اپنی تقریر میں جان بوجھ کر مسئلے کی پیچیدگیوں کو پس پشت رہنے دیا ہے اور سارا زور پاکستان کے خلاف الزام تراشی پر دیا ہے۔ ہماری طرف سے اس اہم اور پیچیدہ قضیے کے پس پردہ حقائق کو ظاہر کرنا اور بھارت کو جارح کے طور پر مجرم کی حیثیت میں رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے لازماً بہت سے امور کی وضاحت ناگزیر ہے۔ جن کا بیان بھارت کی طرف سے اس لئے نہیں کیا گیا کہ وہ ان کے خلاف جاتے ہیں۔ ان سب واقعات کا مختصر بیان بھی وقت چاہتا تھا جبکہ سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں تقریر کے لئے صرف سوا دو گھنٹے دیئے جاتے ہیں۔ اس لئے میں نے اپنی جوابی تقریر تین اجلاسوں میں مکمل کی۔‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ’’چند سال بعد کولمبیا کے نمائندے نے ایک دفعہ مجھ سے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر بھارتی نمائندے کی پہلی تقریر سننے کے بعد سلامتی کونسل کے اراکین کی اکثریت کا یہ تاثر تھا کہ پاکستان نے آزادی حاصل کرتے ہی فساد کا راستہ اختیار کر لیا ہے اور دنیا کے امن کے لئے ایک خطرے کی صورت پیدا کر دی ہے۔ لیکن جب جواب میں تمہاری طرف سے اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا تو ہم سب سمجھ گئے کہ بھارت مکاری اور عیاری سے کام لے رہا ہے اور کشمیر کی رعایا پر ظلم ہو رہا ہے اور ہمارا یہ تاثر بعد میں بھی کبھی زائل نہیں ہوا۔ ‘‘

سرظفراﷲ خان نے (جیسے کہ پہلے بتایا جا چکا ہے) تین سیشن میں اپنے دلائل مکمل کئے تھے۔ مگر فوری طور پر انہوں نے کہا: ’’ہم بھارت کے دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ بھارت نے عیارانہ منصوبے کے تحت ریاست پر طاقت کا استعمال کیا ہے اور غاصبانہ قبضہ بھی کر رکھا ہے۔ مزید یہ کہ ہم یہ بھی واضح کر دیں کہ آزاد علاقے کے پٹھانوں کی حدود ریاست کشمیر کی حدود سے ملی ہوئی ہیں۔ ان لوگوں کے باہمی خونی رشتے ہیں۔ پاکستان ان سیکڑوں میل پر پھیلی ہوئی لمبی سرحدوں کی ذمہ داری کیسے لے سکتا ہے؟ علاوہ ازیں ابھی ہم اپنی افواج کو پھر سے منظم کر رہے ہیں۔ ہمارے حصے کا گولہ بارود‘ ملٹری سٹور‘ روپیہ اور دیگر لاجسٹک کا اثاثہ ابھی تک بھارت کے پاس پڑا ہے۔ جسے بھارت نے ناجائز قبضے اور ایک منصوبے کے تحت روک رکھا ہے۔ ہمیں نقل مکانی کے مسائل درپیش ہیں۔ ویسے بھی پاکستانی کسی بھی آزاد قوم کے علاقے میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتا۔ خصوصاً جبکہ علاقے کی سرحدیں ناقابل گزر پہاڑوں پر قائم ہوں۔ پاکستان کے پاس اتنی فوج نہیں ہے اور اگر وہ چاہے بھی تو اس ذمہ داری کے لئے اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں سمجھتا۔ ہم بھارت سے پوچھتے ہیں کہ کس بین الاقوامی قانون کی بنا پر کسی آزاد قوم کو دوسری حکومت احکامات جاری کر سکتی ہے۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ بھارت طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور کشمیریوں کے مسئلے کا حل سیاسی طور سے تلاش کرے ایسا عوام کی آزادانہ رائے شماری سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ البتہ آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے لئے چند بنیادی اصولوں پر دونوں حکومتوں کو عمل پیرا ہونا پڑے گا۔

نمبر1: بھارت کی فوج فوراً کشمیر کی ریاست سے نکل جائے۔(۲) یو این او کے ادارے کے تحت ایسا انتظامی ادارہ قائم کیا جائے جو غیرجانبدار ہو بالفاظ دیگر جو ان تاثرات سے خالی ہو کہ کشمیر کی حکومت نے پاکستان سے یا بھارت سے الحاق کیا ہے۔ (۳)اگر مذکورہ بالا شرائط پر عمل پیرا ہونے کا یقینی طور پر ماحول پیدا کرنا بھارت تسلیم کر لے تو پاکستان قبائلیوں کو کشمیر سے چلے جانے کی ترغیب دے گا اور آزادکشمیر کے لوگوں کو بھی جنگ و جدل سے گریز کا مشورہ دے گا اور انہیں جنگ کے بجائے آزادانہ عوام کی رائے شماری کے لئے بھی کہے گا۔ وہ اپنی ذاتی فلاح و بہبود کے لئے پاکستان یا بھارت یعنی جسے وہ پسند کرے الحاق کا فیصلہ عوام کی رائے سے کرے۔‘‘

جنرل محمد اکبر خان نے اپنی خودنوشت سوانح عمری ’’میری آخری منزل‘‘ میں اس حوالے سے بہت طویل گفتگو کی ہے۔ بہرطور سلامتی کونسل کے 229 ویں اجلاس میں 20جنوری 1948کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کشمیر کمشن کے قیام کی قرارداد منظور کی گئی وہ قرارداد بیلجیئم نے پیش کی تھی اس کمشن کا نام United Nations Commission on India and Pakistan (UNCIP) لیکن عرف عام میں وہ کشمیر کمشن کے نام سے ہی مشہور ہوا۔ کمشن کے ارکان کی تعداد پانچ تھی۔ پاکستان کرونیکل کے مصنف جناب عقیل عباس جعفری کے مطابق‘طے پایا تھا کہ کمشن میں دو ارکان سلامتی کونسل نامزد کرے اور وہ دونوں ایک تیسرا رکن نامزد کریں جبکہ پاکستان اور بھارت ایک ایک رکن نامزد کریں۔ سلامتی کونسل نے بیلجیئم اور کولمبیا کو نامزد کیا تھا پھر ان دونوں نے امریکہ کی نامزدگی کی تھی جبکہ پاکستان نے ارجنٹائن کو اور بھارت نے چیکوسلواکیہ کو نامزد کیا تھا۔

چیکوسلواکیہ کے نمائندے ڈاکٹر جوزف کوربیل نے کمشن سے علیحدگی کے بعد کمشن کی سرگرمیوں کی روداد پر مشتمل کتاب Danger in Kashmir لکھی تھی۔ جس میں اس دور کی تاریخ محفوظ ہے۔ ڈاکٹر جوزف کوربیل کی وجہ سے شروع شروع میں کمشن نے بہت سرگرمی دکھائی لیکن جب 1949 کے آغاز پر ہی کوربیل کمشن سے علیحدہ ہو گئے تو پھر کمشن میں وہ دم خم نہ رہا اور بہت جلد تھک ہار سا گیا۔

بہرطور 23 نومبر 1948 کو اقوام متحدہ کے کشمیر کمشن نے اپنی رپورٹ کا پہلا حصہ شائع کر دیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مصالحت کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ پھر 3جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے مذکورہ کشمیر کمشن نے کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کروانے کی شرائط کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے 18 نومبر 1947 کو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے بھی کہا تھا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ کشمیر میں استصواب رائے کا مرحلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں طے پائے۔ گویا پاکستان اور اقوام متحدہ کے دیگر ممبر ممالک اس بات پر متفق تھے یا یوں کہنا چاہئے کہ لیاقت علی خان کی سیاسی بصیرت کے عین مطابق اقوام متحدہ کے کشمیر کمشن نے استصواب رائے کو ہی مسئلے کا حل قرار دیا۔ یوں پھر 5جنوری 1949 کو (UNCIP) کی قرارداد منظور ہوئی جو کشمیر کمشن کی 13اگست 1948 والی قرارداد‘ جس میں پاکستان اور بھارت کو فائر بندی کا کہا گیا تھا‘ کا تکملہ (Supplement) تھی۔ اس قرارداد کی تفصیل‘ جی ایم میر نے اپنی کتاب ’’کشمیر شناسی‘‘ کی جلد اول میں دی ہے۔ اُن میں سے چند ایک شقیں درج ذیل ہیں۔ 1 ریاست جموں و کشمیر کے‘ پاکستان یا بھارت کے ساتھ‘ الحاق کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے طے کر لیا جائے۔ 2 رائے شماری اس وقت عمل میں آئے گی جب کمشن کو یہ اطمینان ہو جائے گا کہ کمشن کی 13 اگست والی قرارداد کی روشنی میں جنگ بندی اور عارضی صلح پر عمل درآمد ہو گیا ہے اور رائے شماری کے انتظامات مکمل ہو گئے ہیں۔

اس شق کو وسیع النظری سے دیکھا جائے تو بھارت نہ صرف یہ کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے سے حیلے بہانوں اور مکاری سے کام لے رہا ہے بلکہ وادی جموں و کشمیر میں عوامی ریفرنڈم کا سازگار ماحول تک نہیں بننے دے رہا۔ وہ کبھی اگرتلہ سازش کرتا نظر آتا ہے تو کبھی رن آف کچھ کا بخیہ ادھیڑ دیتا ہے۔ کبھی ستمبر 1965 کی جارحیت کر گزرتا ہے اور کبھی 1971 میں برصغیر کا امن تہہ و بالا کرتا دکھائی دیتا ہے اور کبھی سیاچن گلیشیئر پر دنیا کا بلند ترین اور مشکل محاذ کھول لیتا ہے ۔ اسے نہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا پاس ہے اور نہ شملہ معاہدے کا اور نہ ہی معاہدہ تاشقند اسے یاد ہے۔ 23جون 1990کو معرکہ کارگل میں تو امریکہ نے بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کرے گا لیکن بات پھر وہی ہے کہ رات گئی بات گئی۔

24 مارچ 1949 کو اس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسٹر ٹرگوے لی نے امیر البحر ایڈمرل نمٹز کو پاکستان اور بھارت کی رضامندی سے کشمیر میں استصواب رائے کرنے کی ذمہ داری سونپتے ہوئے ناظم رائے شماری مقرر کیا تھا۔ ایڈمرل نمٹز کا تعلق امریکہ سے تھا۔ وہ دوسری عالمی جنگ میں بحرالکاحل میں اتحادی بیڑے کے کمانڈر انچیف رہے تھے۔ مسٹر نمٹز آج دنیا میں نہیں رہے۔ مگر مسئلہ کشمیر جوں کا توں ہے۔ اس عرصے میں کبھی کشمیری مجاہدین نے بھارتی جہاز اغوا کر کے دنیا کو مسئلے کے حل کی طرف متوجہ کیا توکبھی تقریروں‘ تحریروں‘ مباحثوں اور مزمتی قراردادوں سے بھی بھارت اور عالمی ضمیر کو جھنجوڑا گیا۔ احتجاجی جلسے اور جلوس بھی بھارتی قیادت کو دکھائی نہیں دیتے۔ بھارت میں عام انسان کی زندگی الگ عذاب میں ہے۔ خالصتان تحریک تمام تر حربوں کے باوجود سلگ رہی ہے۔

بھارت نے کشمیریوں پر آج تک جو ستم توڑے وہ کہانی الگ اپنی المناکی لئے ہوئے ہے۔ مگر دنیا کے سامنے اس نے جو وعدے کئے ان کا بھی اسے ذرا برابر احساس نہیں۔ 29 مئی 1952 کو اقوام متحدہ کے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے نمائندے اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مصالحتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ ان دنوں انخلاء کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے پاکستان کی طرف سے احمد شاہ بخاری المعروف پطرس بخاری اور بھارت سے راجیشوا دیال نے اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کی تھی۔ پطرس بخاری کی معاونت محمد ایوب اور کرنل اقبال خان نے کی تھی۔ جبکہ بھارتی نمائندے کے مشیر ڈاکٹر بی ارجن اور پی کے مکرجی تھے۔

18 جنوری1957 کو اس وقت کے پاکستانی وزیرخارجہ فیروز خان نون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں جس کی صدارت فلپائن کے کارلوس ریمولو (Carlos Rimolo) کر رہے تھے۔ اپنی تاریخی تقریر (جو تین گھنٹے جاری رہی تھی) میں پُرزور مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو اس کے آئین کے نفاذ کی کوششوں سے باز رکھا جائے اس اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت کرشنامینن نے کی تھی۔

25جنوری 1957 کے اسی اجلاس میں سلامتی کونسل نے چار کے مقابلے میں دس ووٹوں سے فیصلہ دیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا بھارت سے الحاق نہیں ہو سکتا۔ روس کے نمائندے نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ سلامتی کونسل میں وہ قرارداد امریکہ‘ برطانیہ ‘ آسٹریلیا‘ کولمبیا اور کیوبا نے پیش کی تھی۔ بھارت نے حسب توقع سلامتی کونسل کا وہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ کشمیریوں کے ساتھ روس کے رویے کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر کے شیخ عبداﷲ نے اپنی سوانح عمری ’’آتش چنار‘‘ میں بڑے فخریہ انداز میں لکھا ہے کہ دسمبر 1955 میں جواہر لعل نہرو کی دعوت پر روس کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ نکیتا خروشیف (Nikita Khrushchev)اور روس کے وزیراعظم نکولائی بلگانین(Nikolai Bulganin) بھارت اور کشمیر کے دورے پر آئے تو سرینگر میں ہم نے ان کی اتنی خدمت کی اس قدر تحفے دیئے کہ ہم تابعداروں کی خدمت گزاری اس وقت رنگ لے آئی جب نکیتا خروشیف نے روسی زبان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا بلکہ دو ٹوک اعلان کیا کہ روس کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے اور روس ان کا اتنا نزدیکی پڑوسی ہے کہ اگر کبھی انہیں روس کی ضرورت محسوس ہو تو وہ پہاڑ پر چڑھ کر سیٹی بجائیں ہم فوراً حاضر ہو جائیں گے۔ شیخ عبداﷲ کشمیر میں شخصی اور مذہبی آزادی کی قلعی اپنی سوانح عمری کے صفحہ 550پر یہ کہہ کر کھولتے ہیں کہ اسلام میں گائے کا ذبیحہ جائز ہے۔ لیکن میں اپنے چند انتہا پسند دوستوں کی مخالفت کے باوجود 1931میں سکھا شاہی کے دور میں گائے کے ذبح کرنے پر کشمیر میں جو پابندی لگی تھی ہندو بھائیوں سے خیرسگالی کے جذبے کے تحت برقرار رکھے ہوئے ہوں اور بھارت سے کبھی اس پابندی کے خاتمے کا اصرار بھی نہیں کیا۔

میرغلام احمد کشفی نے اپنی کتاب ’’کشمیر ایک ثقافتی تعارف‘‘ میں لکھا ہے کہ کشمیر میں گائے ذبح کرنا قتل کے برابر قانونی جرم ہے۔ گؤکُشی پر دس سال قید بامشقت کی سزا ہے بلکہ سارے کنبے پر ظلم کیا جاتا ہے اور یہ قانون ڈوگرہ دور سے نافذ ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ جو ظلم و ستم سکھوں کے عہد یعنی ڈوگرہ سامراج کے زمانہ میں ہوتا تھا وہ آج بھی جاری ہے۔ ولیم مورکرافٹ (Willam Moorcraft)انیسویوں صدی کے حوالے سے 1824 میں کشمیر کی سیاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ جانوروں جیسا‘ بلکہ اس سے بھی بدتر‘ سلوک ہوتا ہے۔ سِکھ دور کی بات ہے کہ اگر کسی سکھ کے ہاتھوں کوئی مقامی قتل ہو جاتا تو قاتل پر 16 سے لے کر 20 روپے تک جرمانہ کیا جاتا تھا۔ وہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوا کرتی تھی۔ قتل ہونے والے کے لواحقین کو اگر کوئی غیرمسلم ہوتا تو چار روپے اور اگر مقتول مسلمان ہوتا تو پھر مرنے والے کے گھر والوں کو دو روپے ملا کرتے تھے۔ 1947 میں کشمیر میں 77فیصد مسلمان تھے مگر 2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی تعدد کم ہو کر 67 فیصد رہ گئی ہے۔ ہندو 29.07 فیصد‘ سکھ 2.08 فیصد‘ بدھ مت1.07فیصد جبکہ دیگر قومیں 0.77فیصد ہیں۔

مسلمانوں کی تعداد بتدریج کم کی جا رہی ہے۔ ایک منصوبے کے تحت بھارت کے فٹ پاتھوں پر پڑے شودر‘ پاوندے اور دیگر کم ذات ہندو بھارت کشمیر کے لداخ ڈویژن میں لا کر آباد کر رہا ہے۔ جب کبھی کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی پچاس فیصد سے کم ہو جائے گی تو بھارت استصواب رائے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ مذہب کی بنیاد پر اگر الحاق کی بات ہوئی تو کشمیر تب تک مسلم اقلیتی سرزمین بن چکی ہو گی۔ بھارت نے کشمیر ویلی اور جموں میں بعض حساس نوعیت کے ادارے بالخصوص ایٹمی پروگرام سے متعلق ایک ایسے متنازعہ علاقے میں جہاں ہیوی واٹر کے ادارے کام کر رہے ہوں اس خطے کو چھوڑنے یا مسلمانوں کے حوالے کرنے کا بھارت تصور بھی نہیں کر سکتا۔ سری نگر میں ہیوی واٹر کے ادارے کے علاوہ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ بھی قائم ہے اسی طرح جموں میں ڈوڈہ کے علاقے میں اور ایک ویلی کے علاقے گلمرگ میں ہائی آلٹی چیوڈ ریسرچ لیبارٹری (High Altitude Research Laboratory) بھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ویلی اور جموں کے تین انتظامی ڈویژن ہیں۔ (1) کشمیر ویلی (2) جموں ڈویژن (3) لداخ ڈویژن۔ کشمیر ویلی جس کی آبادی 6,90,7622 ہے وہ کشمیر کے 15.73 فیصد علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ جس کا رقبہ 15,948 مربع کلومیٹر ہے جبکہ جموں ڈویژن کی آبادی 5350811افراد پر مشتمل ہے۔ اس کا رقبہ 26293مربع کلومیٹر اور کل کشمیر کا 25.94 فیصد ہے۔ جبکہ لداخ ڈویژن رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا انتظامی ڈویژن ہے مگر اس کی آبادی سب سے کم ہے ۔ لداخ کی کل آبادی 290,492اور رقبہ 59,146مربع کلومیٹر ہے جبکہ کل علاقے کا 58.33فیصد ہے۔

کشمیر ویلی اور جموں میں 10-10ضلعے ہیں جبکہ لداخ 2دسٹرکٹ پر مشتمل ہے سرکاری زبان اردو اورانگریزی ہے دیگر علاقائی زبانوں میں ڈوگرہ‘ ہندی‘ کشمیری‘ رؤف‘ لداخی اور شِنا ہے۔ وادی کا قیام 27اکتوبر 1947سے شمار کیا جاتا ہے یہ وہی دن ہے جب بھارتی فوجیں ہوائی جہاز کے ذریعے کشمیر میں جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے اتاری گئی تھیں۔ مقبوضہ کشمیر کے دو دارالحکومت ہیں۔ سردیوں میں جموں اور گرمیوں میں سری نگر‘ شرح خواندگی 66.07 ہے۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف دستخط کر سکتے ہیں۔ یہاں دس بڑے شہر ہیں مگر سری نگر سب سے بڑا ہے۔ طرز حکومت صدارتی ہے مگر آج کل وہاں گورنر راج ہے۔ نریندر ناتھ وہرا‘ موجودہ گورنر ہے حالیہ نام نہاد انتخابات میں چونکہ بھارتی حکمرانوں کے مطلوبہ نتائج کے مطابق کوئی گروہ کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ اس لئے اقتدار عوام کے حوالے کرنے کی بجائے گورنر راج کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کل انسانی آبادی ایک کروڑ پچیس لاکھ اڑتالیس ہزار نو سو پچیس ہے۔ (12,548,925) مردم شماری کی تفصیل درج ذیل ہے۔

-1 1951ء پہلی مردم شماری 3,254,000

-2 1961ء دوسری مردم شماری 3,561,000 9فیصد اضافہ

-3 1971ء تیسری مردم شماری 4,617,000 29.7فیصد اضافہ

-4 1981ء چوتھی مردم شماری 5,987,000 29.70فیصد اضافہ

-5 1991ء پانچویں مردم شماری 7,837,000 30.9فیصد اضافہ

-6 2001ء چھٹی مردم شماری 10,143,000 29.4فیصد اضافہ

-7 2011ء ساتویں مردم شماری 12,548,925

علاقے میں ہندو کمیونٹی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ادھر کشمیر کے اندرونی حالات سے تنگ آ کر بھارتی فوجی نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ چڑچڑاپن ان کے مزاج کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کے لئے آئے دن بھارتی فوجی سرحدی خلاف ورزیاں کرتے رہتے ہیں۔ دسمبر 2014 میں فلیگ میٹنگ کی کال دے کر فائرنگ کر کے دو پاکستانی رینجرز کے جوانوں کو شہید کرنا اسی پاگل پن کا نتیجہ ہے جس میں سارا بھارتی حکمران ٹولہ مبتلا ہے۔

علاقے کے ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے مگر بھارت روائتی ہندو بنیئے کی طرح بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی مالا جپتا ہے۔ پاکستان دامے‘ درمے‘ سخنے ہر حوالے سے کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ مظلوم کا ساتھ دینا مسلمانوں کی تربیت میں شامل ہے۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ جہاں بھی کسی پر ظلم ہو رہا ہو پاکستان ان کے لئے آواز بلند کرتا رہتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جانا ایک مستقل روایت بن گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے شہریوں کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور یہ تعلق آج کا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہے۔

jabbarmirza92@gmail

نمودِ سحر

اویس الحسن

کہہ دو اُس سے کہ کاٹ دیں گے

ہر ایک زنجیرِ آہنی کو

اور عزم و ہمت کے لشکروں سے

بُتانِ ظلمت کو توڑ دیں گے

مثالِ کوہِ گراں بنیں گے

کھڑے رہیں گے

اَڑے رہیں گے

گو اُس کے چنگل میں پھنس کے ہم نے

بہت سے لمحے گنوا دیئے ہیں

لٹا چکے ہیں عظیم بندے

اُٹھا چکے ہیں بہت سے لاشے

وچن ہے تجھ کو یہ یاد رکھنا

ہماری غیرت مری نہیں ہے

وہ آگ اب بھی سلگ رہی ہے

تمہارے خرمن کو جو جلا دے

تمہاری ہستی کو جو مٹا دے

ہمیں یقیں ہے فتح کا سورج

ہمارے حق میں بلند ہوگا

یقیں ہے باطل کا سر جھکے گا

پیامِ صبح بھی دے گا سورج

روپہلی کرنیں لئے افق سے

ہماری دھرتی سے جو اُٹھے گا

تمہارے حصے میں رات ہوگی

ہمارے آنگن میں دِن چڑھے گا

سکون دھرتی کو تب ملے گا

سحر کا جھونکا وہ جب چلے گا

امن کا دامن تبھی بھرے گا

وفا کے پھولوں کا رنگ اک دن

جہاں کو پھر سے یوں رنگ دے گا

شہادتوں کو امر کرے گا

رفاقتوں کو ثمر کرے گا

یہ یاد رکھنا

یہ یاد رکھنا

19
March

پاک فوج نے ضرب عضب سے دشمن پر ضرب کاری لگا دی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ملٹری آپریشن بلاامتیاز تمام دہشت گردوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ گڈ اور بیڈ (Good and bad)طالبان کی اصطلاحیں غیرمتعلقہ (Irrelevant) ہیں‘ قوم کا خون بہانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے بلاتفریق نمٹا جا رہا ہے۔ تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں مملکت کے دیگر اداروں کا عملی طور پر فعال ہونااور ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔ جب تک عملی طور پر گورنمنٹ اور مملکت کے باقی ادارے دہشت گردی کے جملہ اسباب یعنی معاشی بدحالی‘ تعلیم ‘ امن و امان‘ انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ خون خرابے کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات نہیں اٹھاتے‘ اس مسئلے کا دیرپا حل ناممکن ہے۔

یوں توپاکستان کی 67 سالہ تاریخ ایسے بے شمار سانحات اورواقعات سے بھری پڑی ہے جب ساری قوم ہی دہل کر رہ گئی ۔مگر 16 دسمبر 1971 اور پھر 16دسمبر 2014دو ایسے دلخراش سانحات ہیں جس نے پاکستان کی تاریخ ہی بدل دی جبکہ دسمبر 1971 نے تو جغرافیہ ہی تبدیل کر دیا۔

دسمبر 1971اور ایک حد تک دسمبر 2014 کے ان سانحات کا ایک المناک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک مختصر مگر مؤثر حلقے نے ان قومی المیوں کو بھی متنازعہ بنانے کی سعئی ناکام کی۔دسمبر 1971 کے حوالے سے تو کئی دہائیوں تک یہ تاثر رہا کہ سقوط ڈھاکہ کی ذمہ دار صرف اور صرف افواج پاکستان ہی تھیں۔ بدقسمتی سے تو اتر سے یہ راگ الاپنے والے محض ہمارے عیار دشمن ہی نہیں بلکہ نادان دوست بھی تھے۔ مشرقی پاکستان میں فوج کشی کے ایسے ایسے فسانے بنائے گئے کہ سارے بنگالی بلکہ انڈین بھی مظلوم محب وطن ۔۔۔۔جبکہ ساری پاکستانی فوج ظالم تھی۔۔۔۔۔تاہم حالیہ برسوں میں سابقہ مشرقی پاکستان حال بنگلہ دیش میں درجنوں کے حساب سے ایسی کتابیں شائع ہوئی ہیں جس میںآزاد بنگلہ دیش کی داعی عوامی لیگ اور مکتی باہنی کے ساتھ ساتھ بھارتی جارحیت کا سا را کچاچٹھا بیان کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔ سقوط ڈھاکہ کے المیے کا ذرا تفصیل سے ذکر میں نے اس لئے کر دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بھی ایک عرصے تک متنازعہ بنایا گیا ۔ 9/11 کے حوالے سے بس ایک ہی رخ کو Propagate کیاگیاکہ ہم نے امریکی دباؤ میں آکر اگر طالبان کے خلاف ہونے والی کارروائی کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو آج وطن عزیز میں دہشتگردی کا نام بھی نہ ہوتا۔۔۔۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ طالبان اور اُن کے لشکری ہمارے فوجی جوانوں کے گلے کاٹ رہے تھے۔ مسجدوں ۔۔امام بارگاہوں ۔۔بازاروں اور درس گاہوں کو خون میں نہلا رہے تھے اور خود وطن عزیز میں طالبان اپالوجسٹ کا مؤثر حلقہ ان دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی مذمت کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ سوات آپریشن سے پہلے وہ وقت بھی آیا کہ بعض اوقات تو فوجی جوانوں کی نمازجنازہ تک نہ پڑھنے کے فتوے بھی دیئے۔۔۔۔بد قسمتی سے طالبان اپالوجسٹ کی ہمنوائی میں ہمارے آزاد پاپولر میڈیا نے بھی مقدور بھر کردار ادا کیا۔۔۔۔ باقاعدہ لاشوں کے پشتے لگانے والے لشکروں اور سپاہوں کے ترجما ن کے مؤقف کو شہ سرخیاں دی جاتیں گھنٹوں سکرینوں پر ان کے مکروہ چہرے دکھائے جاتے جس میں وہ سینہ ٹھونک کر یہ مژدہ سُنا رہے ہوتے کہ وہ یہ سب کچھ شریعت اور دین کی بالادستی کے لئے کر رہے ہیں۔14 سالہ سوات کی طالبہ ملالہ کو گولیوں سے نشانہ بنانے والوں نے اس وقت یہ فتویٰ جاری کیا کہ اگر موت و زیست کے بیچ سانسیں لیتی ملالہ زندہ بچ بھی گئی تو ایک بار پھر وہ اسے نشانہ بنائیں گے۔اس سے بھی بڑا المیہ یہ تھا کہ میڈیا میں بڑے مؤثر انداز میں یہ مہم چلائی گئی کہ ملالہ پر حملہ دراصل ایک ڈرامہ تھا۔تحریک طالبان کا ترجمان چیخ چیخ کر حملے کی ذمہ داری قبول کر رہا تھا اور طالبان اپالوجسٹ اس سنگین سانحے کو ڈرامہ قرار دے رہے تھے۔ 16 دسمبر 2014 کو ہونے والا سانحہ 16 دسمبر 1971 کے سانحہ سے کم یا زیادہ بڑا تھا۔۔ اسے مستقبل کے مورخوں کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ 16 دسمبر 2014 کے المنا ک سانحے نے پہلی باردہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے سارے ابہام دور کر دیئے ۔ 134 بچوں کو خون میں نہلانے والوں نے باقاعدہ سکرینوں پر اپنے مکروہ چہرے دکھاتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کرکے ساری دنیا میں ہی خود کو تنہا نہیں کرلیا بلکہ پہلی بار 18کروڑ عوام کو اس قدر متحدکیا کہ اب ان لشکروں‘ سپاہوں اور ان کے سرپرستوں کو سا ت پردوں میں بھی چہرے چھپانے کونہیں مل رہے ۔مگر یہ بھی اپنی جگہ ایک المیہ ہے کہ 18 کروڑ پاکستانیوں کو متحد کرنے کے لئے 134 معصوم بچوں کو اپنا خون دینا پڑا۔ خیر دیر آید درست آید۔ اب تو پوری پاکستانی قوم متحد دکھائی دیتی ہے۔ تمام بڑی جماعتوں اور ان کے قائدین نے دہشت گردی کے خلاف یکجا ہو کر یہ واضح کر دیا ہے کہ اپنے ملک کی سلامتی کے لئے سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈالنا ہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ آئین میں اکیسویں ترمیم اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پارلیمنٹ کی طاقت اپنی فوج کی پشت پر ہے۔ یہ امر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب مذہب کے مقدس نام پر مزید Violence کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قوم کا تقاضا امن‘ سلامتی اور معاشی خوشحالی ہے نہ کہ مذہب کے نام پر فساد اور خونریزی۔

کتنا بڑا المیہ ہے کہ طالبان اور اُن کے لشکری ہمارے فوجی جوانو ں کے گلے کاٹ رہے تھے۔ مسجدوں ۔۔امام بارگاہوں ۔۔بازاروں اور درس گاہوں کو خون میں نہلا رہے تھے اور خود وطن عزیز میں طالبان اپالوجسٹ کا مؤثر حلقہ ان دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی مذمت کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔

پاک فوج نے ضرب عضب سے دشمن پر ضرب کاری لگا دی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ملٹری آپریشن بلاامتیاز تمام دہشت گردوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ گڈ اور بیڈ (Good and bad)طالبان کی اصطلاحیں غیرمتعلقہ (Irrelevant) ہیں‘ قوم کا خون بہانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے بلاتفریق نمٹا جا رہا ہے۔ تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں مملکت کے دیگر اداروں کا عملی طور پر فعال ہونا اورثابت ہونا ابھی باقی ہے۔ جب تک عملی طور پر گورنمنٹ اور مملکت کے باقی ادارے دہشت گردی کے جملہ اسباب یعنی معاشی بدحالی‘ تعلیم ‘ امن و امان‘ انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ خون خرابے کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات نہیں اٹھاتے‘ اس مسئلے کا دیرپا حل ناممکن ہے۔ یہ ہماری قومی سلامتی کا سوال ہے اور اسے من حیث القوم ہی عملی طور پر حل کرنا ہو گا۔

19
March

دہشت گردی ایک بہت گہرا اور کثیر الجہتی ایشو ہے۔ اس لئے اس کے حل کے لئے بھی کوئی ایک مخصوص طریقہ کار یا مخصوص ادارہ ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل اور جامع رسپانس مانگتا ہے۔ پاک فوج نے اِس کے ملٹری پرانگ (prong) کو بہت استعداد اور کامیابی سے چلایا ہے۔ مگر یہ کافی نہیں ہے۔ سِول پرانگ (prong) کو بھی اسی طرح عملی طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔ زبانی بیانات کے بعد اب قومی قیادت اور اداروں کو عملی طور پر اپنی استعداد کو بڑھانا اور ثابت کرنا ہو گا۔ اگر یہ نہ ہو سکا تو ہم من حیث القوم دہشت گردی کے عفریت کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکیں گے۔ سب کو آگے بڑھنا ہو گا۔ ہاتھوں میں ہاتھ دینا ہوں گے۔ عمل سے نیت کا ثبوت دینا ہو گا۔یاد رکھئے اس جنگ میں شکست‘ نو آپشن (No option) ہے۔

’’فوجی عدالتیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اکسیر کیوں خیال کی جارہی ہیں‘‘ میں اپنے ایک عزیز سے تبادلۂ خیال کررہا تھا۔ جنہیں فوجی عدالتوں میں مختلف حیثیتوں میں کام کرنے کا اتفاق ہُوا تھا۔وہ بہت ہی تفصیل سے بتا رہے تھے کہ فوجی عدالتیں کس کس انداز سے کام کرتی ہیں۔ زور اس بات پر تھا کہ عام عدالتوں میں جو معاملات اور تفصیلات جج کے روبرو بیان ہوتی ہیں‘ ان پر فوجی عدالتیں وقت صرف نہیں کرتیں۔ بلکہ پہلے سے واقعات کی پوری تحقیق ہوجاتی ہے۔ ایک مقدمہ تیار ہوجاتا ہے۔ پھر یہ طے ہوتا ہے کہ اسے کس سطح کی عدالت میں بھیجا جائے۔ وہ تمام بحث جو عام عدالتوں میں دونوں طرف کے وکیل کرتے ہیں‘ یہ مراحل کئی پہلوؤں سے تفتیش میں طے کرلئے جاتے ہے۔ سرسری سماعت بھی ہوتی ہے۔ فوجی ٹریبونل بھی۔ آخر میں فوجی عدالت۔ وہاں صرف یہ طے ہونا ہوتا ہے کہ متعلقہ جرم کی جو سزا متعین ہے وہ اس مجرم کو دی جائے یا نہیں۔

گفتگو میں بار بار میں اپنی طرف سے یہ سوال کررہا تھا کہ فوج میں اتنے جرائم نہیں ہوتے جتنے عام شہریوں میں ہوتے ہیں۔ اس لئے یہاں مقدمات اچھی بنیادوں پر تیار نہیں ہوتے۔ پھر جرائم کے ارتکاب کی کثرت کے باعث پولیس کے پاس وقت بھی نہیں ہوتا۔ اس لئے ابتدائی رپورٹیں اور استغاثے فوجی عدالتوں کی طرح دو تین دن میں تیار نہیں ہوسکتے۔

میرے سوال کا جواب میرے عزیز نے یہ دیا کہ فوجی بھی عام انسانوں کی طرح ہی نفسیات‘ جذبات رکھتے ہیں لیکن اصل بات ہے ڈسپلن اور اعتبار کی۔ جرائم کم اس لئے ہوتے ہیں کہ وہاں ہر ایک کو پتا ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکے گا۔ دوسری بات ہے اعتبار کی کہ وہاں ملٹری پولیس اور جرائم کی ابتدائی رپورٹ تیار کرنے والے پر بھی ملزم‘ اس کے اہل خانہ ‘اور دوسرے فوجیوں کو یہ اعتبار ہوتا ہے کہ یہاں رشوت‘ سفارش یا نااہلی سے غلط فرد جرم عائد ہوگی نہ ہی کسی کے خلاف جھوٹا کیس قائم ہوگا۔

شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھے گا۔ یہیں سے مملکت نے ایک صراط مستقیم اختیار کی۔ پاکستان کی مسلّح افواج نے تو اس لمحے ہی اس خطرناک رجحان کے لئے واضح رویہ اختیار کرلیا۔ ایک حتمی حکمتِ عملی طے کرلی۔ سیاسی جماعتیں اس وقت بھی گو مگو میں تھیں۔ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کو کہہ رہی تھیں۔ وہ مملکت کے لئے انتہا پسندی کے دوررس خطرات کا ادراک نہیں کررہی تھیں۔ تاآنکہ آرمی پبلک سکول پشاور میں درندگی کی انتہا ہوگئی۔

عام شہری زندگی میں بھی پہلے ایسا اعتبار قائم ہوتا تھا۔ پولیس اور دوسرے محکموں میں قانون کا فوج کی طرح ہی احترام کیا جاتا تھا۔ اس کا نفاذ اور اطلاق یکساں ہوتا تھا۔ شہریوں میں نظم و ضبط بھی اسی طرح تھا۔ ترقی یافتہ ممالک میں اب بھی یہ نظم و ضبط اور قانون کا خوف موجود ہے۔ اسی لئے وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ملک میں اس وقت ہم جس انارکی‘ افراتفری‘ نفسانفسی سے دو چار ہیں۔ وہ قانون کے یکساں نفاذ نہ ہونے کے باعث ہی ہے۔ پہلے سے جو قوانین موجود ہیں‘ ان پر ہی اگر مکمل عملدرآمد ہو تو معاشرہ محفوظ ہوسکتا ہے۔ پاکستانیوں کی محرومیاں دور ہوسکتی ہیں۔ نئے قوانین تشکیل کرنے کی ضرورت ہے نہ ہی آئین میں ترامیم کی۔ انگریز کا 1935ء کا ایکٹ دنیا کے اکثر ممالک میں شہریوں کے جان و مال کو بھی تحفظ دیتا ہے۔ معاشرے میں انارکی آنے سے بھی روکتا ہے۔ جس 21ویں ترمیم کے ذریعے دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کی بات کی جارہی ہے اس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ اگر تمام متعلقہ محکمے اور افسر ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروا رہے ہوں جن کے لئے وہ مامور کئے جاتے ہیں‘ عام لوگوں کے خون کی کمائی سے انہیں تنخواہیں اور شاہانہ زندگی اسی لئے میسر آتی ہے۔ لیکن خود بدلتے نہیں ’قانون‘ بدل لیتے ہیں

اگر اس ترمیم پر بھی مکمل عمل نہیں ہُوا تو یہ بھی بے اثر ہوجائے گی۔ پھر کوئی آئندہ حکومت 22ویں ترمیم کی بات کررہی ہوگی۔ ہمیں 1990ء کی دہائی میں ہی سمجھ لینا چاہئے تھا کہ دہشت گردی ‘ انتہا پسندی‘ فرقہ پرستی‘ پاکستانی معاشرے کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ مملکت اور حکومت دونوں کو انتہا پسندی کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار دینا چاہئے تھا‘ اس کے لئے پوری قوم کو اعتماد میں لے کر سب سے پہلے اس زہریلے رجحان کو ہر پہلو سے جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا چاہئے تھا۔ انتہا پسندی صرف مذہب‘ صرف فرقے تک محدود نہیں ہے‘ یہ زبان کے تعصب کے حوالے سے بھی ہے‘ نسلی برتری کے اعتبار سے بھی ہے۔ ہم جس خطے میں رہتے ہیں‘ اس کا خمیر جذبات سے اٹھا ہے۔ ہم ہمیشہ عقل کی بنیاد پر نہیں جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ جذبات میں جب مذہب کی وابستگی شامل ہوجائے تو یہ اور زیادہ پرجوش اور ہوش و دانش سے دور ہوجاتے ہیں۔ ہم ابھی تک قبائلی معاشرے کی رسوم اور روایات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ وابستگی ہمیں اور زیادہ جذباتی بنا دیتی ہے۔ قبائلی طرز معاشرت بھی مملکت کے قوانین اور عام عدالتی طریق کار سے متصادم ہے۔ ان کے اپنے جرگے ہیں‘ اپنے قانون ہیں‘ یہاں مملکت کا ڈسپلن نہیں‘ بلکہ قبیلے کا ڈسپلن لاگو ہوتا ہے۔ جاگیرداریوں میں بھی یہی حال ہے۔ مختلف مسالک اور فرقے بھی اپنے آپ کو مملکت کے ڈسپلن سے ماورا خیال کرتے ہیں۔

ہمارے دشمن کے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار بھی ہیں۔ تازہ ترین مواصلاتی آلات ہیں۔ وہ نئی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے مقاصد سے گہری جذباتی عقیدت رکھتا ہے۔ اپنے مشن کے لئے اپنی جان کی قربانی دینا چاہتا ہے۔ ایسے حریف کے مقابلے کے لئے پاکستانی عوام کا ہر لمحے خبردار رہنا ناگزیر ہے۔

پاکستان اس لحاظ سے دنیا کا مشکل ترین ملک ہے کہ یہاں ڈسپلن قائم کرنا آسان نہیں ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب ملک کے اعلیٰ ترین ادارے پارلیمنٹ میں اکثریت جاگیرداروں‘ قبائلی سرداروں‘ برادریوں کے سربراہوں کی ہے‘ جو اپنے اپنے حلقۂ اثر میں صرف اپنی زبان سے نکلے الفاظ کو ہی آئین اور قانون سمجھتے ہیں۔ اپنے علاقے کے ضلعی افسروں اور پولیس حکام کو مملکت کا نہیں اپنا خادم مانتے ہیں‘ وہاں قانون کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے۔ کیونکہ قانون کے رکھوالے ہی قانون کو خود مسترد کرتے ہیں۔

آج کے لمحۂ موجود میں تاریخ پاکستانیوں کو ان تصادموں‘ مخالفتوں‘ منافقتوں‘ ہلاکتوں‘ خونریزیوں اور دھماکوں سے گزارتے ہوئے ایسے موڑ پر لے آئی ہے جہاں بظاہر یہ نظر آرہا ہے کہ اب قوم انتہا پسندوں کے خلاف ایک ہوگئی ہے۔ بعض اصطلاحات‘ قانونی شقوں سے اختلاف کی آواز بلند ہورہی ہے‘ لیکن اکثریت نے دل سے یہ بات مان لی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے۔ ہمارے بعض سیاسی اور مذہبی رہنما پہلے اسے امریکہ کی جنگ قرار دے کر اس سے قطع تعلق اور امریکہ سے اتحاد ختم کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ حالانکہ ان انتہا پسندوں نے 50 ہزار سے زائد پاکستانیوں بشمول اہم فوجی اور سیاسی شخصیتوں کو بہیمانہ طریقوں سے قتل کیا ہے اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے آغاز سے بھی پاکستانیوں کو یہ ذہنی تقویت ملی تھی کہ اب پاکستان کی مملکت انتہا پسندی کے خاتمے کو اولین ترجیح سمجھ رہی ہے۔ ضرب عضب کامیابی سے جاری رہی قوم کو اس معرکے میں کامرانی کی خبریں ملتی رہیں۔ کارروائی ایک محدود علاقے تک تھی لیکن پورا پاکستان جانتا ہے کہ دہشت گرد اور انتہا پسند ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو ہتھیار بردار ہیں۔ خود ہلاکتوں میں حصّہ لیتے ہیں۔ وہ بھی جو خودکش بمباروں کی نئی نسلیں تیار کررہے ہیں۔ جو ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھاتے ہیں کہ یہ لوگ مرتد ہوچکے ہیں۔ اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ جنت میں جانے کا راستہ یہی ہے کہ ان کا وجود مٹا دیا جائے۔ اگر اس نیک کوشش میں جان بھی جاتی ہے تو یہ سعادت بھی حاصل کی جائے۔ ان میں وہ بھی ہیں جو ان گروہوں کے لئے مہنگے ہتھیار خریدتے ہیں۔ وہ اس طرح بزعم خود جنّت کے لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان سب کے اوپر کچھ ’ماسٹر مائنڈ‘ ہیں جن کے رابطے بیرون ملک بین الاقوامی تنظیموں سے ہیں جن کے اپنے طویل المیعاد مقاصد ہیں۔

پاکستانی فوج نے مسلسل کوششوں سے اپنے ہاں جو ڈسپلن قائم کیا ہے۔ جہاں کسی ملک‘ فرقے ‘زبان یا نسلی عصبیت کو فوقیت حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کے افسروں نے اپنے پیشہ ورانہ انداز سے ایک معیار اور اعتبار قائم کیا ہے۔ سول محکموں کو بھی پیشہ ورانہ خدمات کا یہ انداز اختیار کرکے اپنی ساکھ بحال کرنی ہوگی۔ قانون کی یکساں حکمرانی ہوگی تو کوئی بھی سیاستدان یا مذہبی تنظیم اپنے دائرے سے تجاوز نہیں کرسکے گی۔

شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھے گا۔ یہیں سے مملکت نے ایک صراط مستقیم اختیار کی۔ پاکستان کی مسلّح افواج نے تو اس لمحے ہی اس خطرناک رجحان کے لئے واضح رویہ اختیار کرلیا۔ ایک حتمی حکمتِ عملی طے کرلی۔ سیاسی جماعتیں اس وقت بھی گو مگو میں تھیں۔ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کو کہہ رہی تھیں۔ وہ مملکت کے لئے انتہا پسندی کے دوررس خطرات کا ادراک نہیں کررہی تھیں۔ تاآنکہ آرمی پبلک سکول پشاور میں درندگی کی انتہا ہوگئی۔ ہمارا مستقبل خون میں نہلا دیا گیا۔ کتنے غنچے مسل دیئے گئے۔ آسمان کی آنکھ نے ایسا ظلم کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ کون سی آنکھ ہے جو اس بیدردی پر نہیں روئی ہوگی۔ کون سا دل ہے جو بچوں کی اس بے بسی پر نہیں دہلا ہوگا۔ اس اندوہناک المیے نے تو خیبر سے گوادر تک 18 کروڑ پاکستانیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ طالبان کے نظریاتی حامیوں کے ذہن بھی مضطرب ہوگئے کہ ان بچوں کا کیا قصور تھا۔ انہوں نے اسلام کو کیا نقصان پہنچایا تھا۔ یہ شریعت کے نفاذ میں کہاں رکاوٹ تھے۔ مولانا عبدالمجید سالک نے کہا تھا۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

ان شہدا کی موت یقیناًاس قوم کو ایک نئی زندگی عنایت کرگئی ہے۔ 134 بچوں سمیت 149 پاکستانیوں کے خون نے ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ اب ایک طرف یہ ظالمان انتہا پسند‘ شدت پسند‘ دہشت گرد ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے عوام۔ اب کسی کے دل میں کسی حوالے سے بھی ان دہشت گرد گروہوں کے لئے ہمدردی نہیں رہی ہے۔ اگر کوئی ان کی ہم نوائی کی جرأت کرے گا تو اپنا نام ظالموں‘ جابروں اور انسان دشمنوں میں قلمبند کروائے گا۔ اب پورے پاکستان کی آرزو ہے کہ ضرب عضب کا دائرہ پورے پاکستان میں پھیلا دیا جائے۔ 21ویں آئینی ترمیم اسی آرزو کی تکمیل ہے۔

یہ تو مقام شکر ہے۔ اور لمحۂ تسکین بھی کہ دنیا کی بہترین‘ منظم‘ منضبط اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے جذبے سے سرشار پاکستانی فوج مملکت کے لئے سب سے خطرناک اس بے چہرہ دشمن کی سرکوبی کے لئے ایک واضح اور دو ٹوک رائے رکھتی ہے۔موجودہ وفاقی حکومت‘ صوبائی حکومتیں بھی اس وقت انتہا پسندی کو کچلنے کے لئے قومی ایکشن پلان بنا چکی ہیں۔اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہر پاکستانی‘ ہر قدم اور ہر لمحہ چوکنا رہے۔ پورا ملک اب حالت جنگ میں ہے۔جنگ بھی ایک ایسے دشمن سے جس کا کوئی چہرہ نہیں‘ کوئی مخصوص وردی نہیں ہے‘ کوئی زبان نہیں‘ کوئی پرچم نہیں ہے‘ کوئی قومیت نہیں ہے‘ وہ کوئی بھی وردی پہن کر آجاتا ہے‘ کوئی بھی حلیہ بنا کر آسکتا ہے‘ کوئی بھی پرچم لے کر آسکتا ہے اور کوئی زبان بھی بول سکتا ہے۔پاکستانی فوج‘ پاکستانی رینجرز‘ پاکستانی پولیس ایف سی‘ لیویز سب اس کے خلاف میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ پاکستانی عوام کو اب دوسری دفاعی لائن بننا ہے۔ اس دشمن کا نشانہ پاکستانی فوج بھی ہے‘ پولیس بھی‘ اساتذہ بھی‘ ڈاکٹرز بھی‘ ادیب بھی‘ صحافی بھی‘ اینکر پرسن بھی‘ سیاسی رہنما بھی‘ علمائے دین بھی۔

ہمارے دشمن کے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار بھی ہیں۔ تازہ ترین مواصلاتی آلات ہیں۔ وہ نئی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے مقاصد سے گہری جذباتی عقیدت رکھتا ہے۔ اپنے مشن کے لئے اپنی جان کی قربانی دینا چاہتا ہے۔ ایسے حریف کے مقابلے کے لئے پاکستانی عوام کا ہر لمحے خبردار رہنا ناگزیر ہے۔پہلے دوسرے ممالک کی طرح پاکستانیوں کو بھی سول ڈیفنس( شہری دفاع) کی تربیت دی جاتی تھی۔ رضا کار تیارکئے جاتے تھے، جو کسی ابتلا یا کسی جنگ کی صورت میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں مدد دے سکیں۔بعد میں اس انتہائی اہم محکمے کو ختم کردیا اب جو آفات نا گہانی سے نمٹنے کے لئے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ادارے قائم کئے گئے ہیں ان کا بجٹ تو شاہانہ ہے لیکن ان کا عوام سے کوئی رابطہ نہیں ہے نہ ہی یہ عوام کو کسی قسم کی تربیت دیتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف اگر چہ اب ایک ہمہ گیر جوابی کارروائی شروع ہوچکی ہے لیکن میرے خیال میں یہ خطرناک دشمن جتنا منظم اور یہ رجحانات جتنے گہرے اور پہلو دار ہیں‘ قوم کو اب بھی دس پندرہ سال تک ان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمارے ملک کی کوئی قطعی اور واضح مذہبی پالیسی نہیں ہے۔ مذہب کو حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے تو استعمال کیا ہے۔ اس میں سیاسی اور فوجی دونوں حاکم شامل ہیں۔ سیاستدانوں نے بھی مذہبی جماعتوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے انہیں بے حساب فنڈز بھی دیئے اور ان کے مذہبی تجاوزات اور اجارہ داری کو کبھی قانون کے دائرے میں محدود کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ پاکستان میں دنیا بھر کے دوسرے مسلم ملکوں سے زیادہ فرقے اور مسالک ہیں۔ یہ سارے گروہ اپنی اپنی جگہ مالی طور پر مستحکم ہیں۔1979ء میں سوویت یونین سے پنجہ آزمائی کے لئے مذہبی تنظیموں سے مدد لی گئی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مذہبی تنظیموں کو بڑے بڑے رفاہی پلاٹ دیئے گئے۔

پاکستان کے علمائے کرام اچھی طرح جانتے ہیں کہ مذہب کے نام پر کچھ لوگوں نے پاکستانیوں کے جذبات کا کس کس طرح استحصال کیا گیا ہے اور انہیں جذباتی طور پر کس طرح تقسیم کردیا گیا ہے۔ ایک ایک محلّے میں الگ الگ مساجد ہیں۔ ان مساجد میں کیسے کیسے اختلافی درس دیئے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو آپس میں لڑوایا جاتا ہے۔ مہرو محبت اور اخوت کی دعوت دینے کے بجائے کبھی حلئے کے حوالے سے‘ کبھی لباس کی بنیاد پر‘ کبھی وظائف کے اعتبار سے کس طرح ایک دوسرے کے مدّ مقابل لایا جاتا ہے۔ یہ سب رجحانات انتہاؤں کی طرف لے جاتے ہیں۔

انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پہلا سبق تو یہ ہونا چاہئے کہ پاکستانی فوج‘ نیم فوجی دستوں اورپولیس کے علاوہ کسی کے ہاتھ میں اپنی بات منوانے کے لئے ہتھیار نہیں ہونا چاہئے۔جو کوئی بھی اپنے مسلک‘ فرقے یا زبان یا قبیلے کے موقف کو زبردستی مسلط کرنے کے لئے کوئی ہتھیار اٹھاتا ہے اس کے بارے میں حکومت کو مطلع کیا جائے۔

میں تو ایک عرصے سے یہ کہہ رہا ہوں کہ جب مسلّح گروہوں سے پاکستان کے ہر گوشے میں خونریزی کا خطرہ ہے‘ حملے کا خدشہ ہے تو ملک کے ہر شہری کو سکیورٹی کی تربیت دینی چاہئے جیسے سرحدی علاقوں میں شہریوں کو دی جاتی ہے۔ اب تو یہ سرحدیں محلّوں میں کھنچی ہوئی ہیں مسجدوں میں کھنچی ہوئی ہیں‘ میں نے تو کئی با اثر شخصیتوں اور اداروں کو تجویز دی کہ سکیورٹی کو باقاعدہ ایک مضمون اور ڈسپلن کے طور پر تدریس کا لازمی جزو بنایا جائے ۔ سکیورٹی کی تدریس عام پاکستانیوں کی آگاہی اور با خبری کے لئے بھی اور یہ ایک پیشے کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے۔

سلامتی کے اس شعور کا اولین مرحلہ تو محلّہ ہونا چاہئے۔ افسوسناک امر ہے کہ ہماری سیاسی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہی نہیں کروائے۔ ورنہ ملک کا سب سے بنیادی یونٹ یونین کونسل سکیورٹی کی آگاہی کے لئے پہلا زینہ ہوسکتا ہے۔ اب بھی ملک میں انتشار اور بے یقینی کے خاتمے کے لئے مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد فوری طور پر ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کوششیں تو کررہے ہیں۔ سکیورٹی کے شعور میں پہلا قدم تو یہ ہے کہ شہری کہیں بھی‘ کسی کے پاس بھی ہتھیار دیکھیں تو اس سے ہوشیار بھی رہیں اور قریبی پولیس سٹیشن کو اطلاع بھی دیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ شہریوں کو پولیس پر اعتبار نہیں ہے۔ اور انہیں الٹا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ پولیس والے غیر قانونی ہتھیار رکھنے والے ہی کو نشاندہی کرنے والے کا سراغ دے دیں گے۔ اس لئے یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ اطلاع قریبی فوجی یونٹ کو دی جائے۔ وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں ہنگامی فون نمبر بھی دیئے ہیں۔

سیاسی انتشار اور اخلاقی بحران نے محلّے داری ختم کردی ہے جہاں بزرگ اپنے علاقے میں ذمہ داریوں اور معتبرین کا کردار ادا کرتے تھے۔ نوجوانوں میں غلط رجحانات کی سرکوبی کرتے تھے۔ اب کسی بچے یا نوجوان کو کوئی بزرگ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس بچے کے والدین بُرا مان جاتے ہیں۔ محکمے داری اور آپس میں روابط پیدا کرنے کی شعوری کوششیں ضروری ہیں۔ مساجد اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ محلّے داروں کو‘مقامی حکومتوں کو‘ ایم این اے‘ ایم پی اے‘ سینیٹر حضرات کو دلچسپی لے کر مساجد کو محلّے داری اور غم خواری کا مرکز بنانا چاہئے۔ اختلاف اور نفرت کے رجحانات کو روکنا چاہئے۔ محلّے کے اہم اور ممتاز افراد کو مساجد کے امور میں دلچسپی لینا چاہئے۔ صرف امام اور خطیب پر معاملات نہ چھوڑے جائیں۔سکیورٹی کا شعور پھیلانے کے لئے ایک طرف تو انتہا پسندانہ گفتگو‘ تقاریر پر نظر رکھنی چاہئے۔ ایسے رسالوں‘ کتابوں اور اخبارات کی نشاندہی بھی کرنی چاہئے۔ جن میں دوسرے مسلک‘ فرقے‘ اور مذہب کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے۔

مختلف ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی اور مار کے بارے میں سکولوں‘ کالجوں یونیورسٹیوں‘ دینی مدارس میں بھی فوج کی طرف سے لیکچر دیئے جائیں‘ اس طرح بموں کی تیاری میں جو گولہ بارود استعمال ہوتا ہے اس کے متعلق عام شہریوں کو مساجد کے ذریعے‘ میڈیا کے وسیلے سے تفصیلات بتائی جائیں۔ اگر عام پاکستانی اس سلسلے میں کچھ جانتے ہوں گے تو وہ ایسی مہلک اشیاء کی بازار سے خریداری یا اس کی نقل و حمل پر نظر رکھ سکیں گے۔ ملک میں جو مسلّح تنظیمیں بھی سرگرم ہیں‘ جنہیں حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے‘ ان کی فہرستیں ‘نام‘ پرچموں کی تفصیلات مساجد میں بھی آویزاں ہوں‘ مارکیٹوں میں بھی‘ درسگاہوں میں‘ایئرپورٹوں‘ بس اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر بھی‘ تاکہ وہ عوام کو اپنے جال میں گرفتار نہ کرسکیں۔ موجودہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بنیاد زیادہ تر چونکہ مذہب ہے اور شریعت کا حوالہ‘ اس لئے علماء کرام کو متحرک کرنا ضروری ہے۔ آپس میں مکالمہ ہو اور ایسے علمائے کرام جنہیں اپنے اپنے مسلک کے ماننے والوں میں ایک عزت‘ وقار اور اعتبار حاصل ہے۔ وہ آپس میں تبادلہ خیال کرکے ایسے رجحانات کی نشاندہی کریں۔ جن کا شریعت میں کوئی وجود نہیں ہے۔ پاکستانیوں کے ذہنوں میں اسلام کے عظیم مذہب کا وہی تصور قائم کیا جائے‘ اس کی حدود و قیود بتائی جائیں‘ مذہب اللہ اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے۔ جو علماء یا تنظیموں کے سربراہ مذہب کا سہارا لے کر اپنی طاقت بڑھاتے ہیں اپنے پیروکاروں کو مسلّح کرتے ہیں‘ دوسرے مسلک کے پیروکاروں پر مسلط ہونا چاہتے ہیں ان کے خلاف بھی قانون کو حرکت میں آنا چاہئے۔ وہ مذہب کو بھی نقصان پہنچارہے ہیں اور مملکت کو بھی۔

پاکستانی فوج نے De-Redicalisation کا جو پروگرام شروع کر رکھا ہے اس کا دائرہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پورے ملک میں پھیلائیں۔ اس کے ذریعے انتہا پسندی کے تمام رجحانات کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل‘ اور خاص کرم ہے کہ پاکستان کی 62 فی صد آبادی نوجوان ہے۔ 15 سے 35سال کے درمیان۔ اس کی تربیت‘ تنظیم اور روزگار کے لئے ایک وسیع البنیاد اور طویل المعیاد پروگرام سرکار اور نجی شبعے مل کر بنائیں تو خود کش بمبار تیار کرنے والی تنظیموں‘ لسانی گروہوں‘ نسل پرستوں ‘ علیحدگی پسندوں کو نئی کمک نہیں مل سکے گی۔

انتہا پسندی کے خلاف ایک منظم بیداری‘ آگہی اور شعور کے احیاء میں سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں مؤثر اور بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں ایسے سیمینار منعقد کئے جائیں جہاںِ تاریخ اسلام‘ شریعت‘ فقہ اور عالم اسلام میں مختلف رجحانات کے حوالے سے تبادلہ خیال ہو۔ انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کی طلبہ تنظیموں کو بتدریج ختم کیا جائے ۔ یہ تعلیم کی اشاعت میں بھی رکاوٹ ہیں اور اپنی سوچ کو طاقت وراور اسلحے کے زور پر مسلط کرنا بھی ان کا شیوہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ایسی تنظیموں کے قیام کی اجازت ہے جس میں ہر پاکستانی کسی مذہب‘ مسلک‘ زبان‘ نسل کے امتیاز کے بغیر رکنیت حاصل کرسکے۔ بے شمار پاکستانی مذہبی جماعتیں‘ تنظیمیں اور این جی اوز اس آئینی شق سے متصادم ہیں‘ پھر بھی وہ متحرک ہیں۔ اس سے ہی پاکستانی تقسیم ہوتے ہیں۔ میڈیا پاکستان میں اب بہت زیادہ متحرک اور مؤثر ہوچکا ہے‘ لیکن جو بھی شعوری اور غیر شعوری طور پر معاشرے میں تقسیم پیدا کرتا ہے۔ اس کی اپنی تربیت نہیں ہے۔ اس لئے کئی اینکر پرسن‘ رپورٹر‘ انتہا پسندی کے رجحانات کو تقویت پہنچاتے ہیں ان میں سے بہت سے دہشت گردی کا نشانہ بھی بن چکے ہیں۔ پاکستانی فوج نے مسلسل کوششوں سے اپنے ہاں جو ڈسپلن قائم کیا ہے۔ جہاں کسی ملک‘ فرقے ‘زبان یا نسلی عصبیت کو فوقیت حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کے افسروں نے اپنے پیشہ ورانہ انداز سے ایک معیار اور اعتبار قائم کیا ہے۔ سول محکموں کو بھی پیشہ ورانہ خدمات کا یہ انداز اختیار کرکے اپنی ساکھ بحال کرنی ہوگی۔ قانون کی یکساں حکمرانی ہوگی تو کوئی بھی سیاستدان یا مذہبی تنظیم اپنے دائرے سے تجاوز نہیں کرسکے گی۔ دیگر امور کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ:

عوام کی جان اور مال کی حفاظت بنیادی طور پر مملکت کی ذ مہ داری ہے جو عام طور پر پولیس کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ اس کے لئے پولس کو تربیت دینا اور ضروری سازوسامان فراہم کرنا سول انتظامیہ کا فرض ہے۔ تمام ترقی یافتہ ملکوں میں یہی طریقہ رائج ہے فوج کو سول انتظامیہ صرف آفات ناگہانی کے وقت بلاتی ہے اور وہ بھی محدود عرصے کے لئے مگر ہمارے ہاں ایک طویل مدت سے سول انتظامیہ اپنے اس ٖ فرض سے انتہائی غفلت برت رہی ہے ۔ کراچی میں رینجرز کئی سال سے وہ ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جو بنیادی طور پر پولیس کا کام ہے۔ رینجرز فارغ ہو کر سرحدوں پر جا کر اپنا کام کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی بننے کے بعد امریکہ نے پولیس ٹریننگ کے لئے بھی فنڈز دیئے ہیں مگر کسی صوبے کی پولیس اپنا معیار بلند کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک تو ہم اب اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں‘ اس کا تقاضا بھی ہے پھر ہم ایٹمی ملک بھی ہیں‘ اب ہماری حیثیت بڑھ گئی ہے ۔پاکستان کے سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتوں کو اس سطح پر سوچنا اور منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ اپنی گراں قدر ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ فوج نے اپنی کارکردگی کا معیارآج کے تقاضوں اور ترقی یافتہ قوموں کے برابر رکھا ہے اور عوام بھی ان پر اعتبار کرتے ہیں ۔لیکن انہیں سول امور میں مصروف رکھنے سے ان کی پیشہ ورانہ اہلیت متاثر ہوتی ہے اور وہ ان مقامات پر نہیں جا سکتے جہاں ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ منتخب سیاسی حکومت کو ایک اجلاس اس سلسلے میں بھی منعقد کرنا چاہئے کہ قانون کے یکساں نفاذ کے لئے سول محکموں کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ پوری کی جارہی ہیں یا نہیں۔ پولیس آفیسرز اہل ہیں یا نہیں؟ کمشنرز‘ ڈپٹی کمشنرز کو اپنے فرائض کا احساس ہے یا نہیں۔سول انتظامیہ کو اپنے ہاں بھی وہی ڈسپلن قائم کرنا چاہئے جو فوج میں قائم رکھا جاتا ہے ۔

ایک اور فوری اور ضروری اقدام یہ ہے کہ سیاسی حکومتیں مقامی حکومتوں کا نظام بحال کریں‘ اس سے بھی دہشت گردی اور لا قانونیت کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی یہ آئین کا بھی تقاضا ہے اور وقت کی آواز بھی۔جہاں جہاں فوج اپنا آپریشن مکمل کر لے‘ وہاں پورا نظم و نسق سول انتظامیہ سنبھالے اور قانون کی یکساں حکمرانی نافذ کرے۔یہ جائزہ لیا جائے کہ سوات میں سول محکموں نے پورا کنٹرول لے لیا ہے یا نہیں ۔ دہشت گردی ایک بہت گہرا اور کثیر الجہتی ایشو ہے۔ اس لئے اس کے حل کے لئے بھی کوئی ایک مخصوص طریقہ کار یا مخصوص ادارہ ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل اور جامع رسپانس مانگتا ہے۔ پاک فوج نے اِس کے ملٹری پرانگ (prong) کو بہت استعداد اور کامیابی سے چلایا ہے۔ مگر یہ کافی نہیں ہے۔ سِول پرانگ (prong) کو بھی اس طرح عملی طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔ زبانی بیانات کے بعد اب سِول قیادت اور اداروں کو عملی طور پر اپنی استعداد کو بڑھانا اور ثابت کرنا ہو گا۔ اگر یہ نہ ہو سکا تو ہم من حیث القوم دہشت گردی کے عفریت کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکیں گے۔ سب کو آگے بڑھنا ہو گا۔ ہاتھوں میں ہاتھ دینا ہوں گے۔ عمل سے نیت کا ثبوت دینا ہو گا۔یاد رکھئے اس جنگ میں شکست‘ نو آپشن (No option) ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

26
February

43سال تو گزر ہی چکے ہیں۔پوری ایک بلکہ دو نسلیں رخصت ہو ئیں۔ جنہوں نے ’’ڈھاکہ‘‘ڈوبتے دیکھا۔اس دوران بقول شخصے پُلوں کے نیچے سے خاصا پانی ہی نہیں‘ لہو کا ایک دریابلکہ سمندر بہہ چکا ہے۔یقیناًاس دوران اس ریجن‘ خاص طور پر برصغیر پاک و ہند کی قوموں نے اپنی تاریخ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔مگر ایسا لگتا ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان، حالیہ بنگلہ دیش کے بنگلا بندھو شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی وزیر اعظم حسینہ واجد اور اُن کی جماعت عوامی لیگ نے اپنی تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔یقیناًاس وقت اُن کے ارد گرد ایسا کوئی دانا مشیر، وزیر ہی نہیں جو انہیں بتائے کہ آج جو وہ اپنے سیاسی مخالفین کو پھانسیاں چڑھانے کی ریت ڈال رہی ہیں ۔۔۔ کل جب تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی تو کئی نئے سر بھی انہی سولیوں پر چڑھے ہوں گے۔اس کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ خود بنگلہ بندھو کی بیٹی کو یاد ہونا چاہئے کہ آزادی کے محض پانچ سال بعد ہی بنگالیوں کے نجات دہندہ بنگلہ بندھو کو اسی ڈھاکہ میں خاندان سمیت جب خون میں نہلا یا گیا تو اگلے 48گھنٹے تک بنگلہ بندھو کی خاندان سمیت لاشیں بے گور و کفن پڑی رہی تھیں۔۔۔ اور اُن کو خون میں نہلانے والی پاکستانی فوج‘ البدر اور الشمس نہیں۔۔۔خود ان کی بنگالی مکتی باہنی اور فوج کے جوان تھے۔ڈھاکہ جیسے شہر میں بنگلہ بندھو کے لاکھوں جانثاروں میں سے کسی ایک میں یہ جرأت و ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے ’’عظیم‘‘ قائدکی بے گور و کفن لاش کی مذہبی اور قومی احترام سے رسوم ادا کرتے۔یقیناًیہ لکھتے ہوئے میراقلم لرز رہا ہے کہ 48گھنٹے بعد بھی ڈھاکہ کے تخت پر قبضہ کرنے والے فوجیوں کے ایک گروپ ہی نے ’’بنگلہ بندھو‘‘اور اُن کے اہل خانہ کی لاشوں کو لے جا کر اُن کے آبائی گاؤں میں دفنایا تو سارا گاؤں خوف و دہشت سے فرار ہوگیا۔بنگلہ بندھو کی نماز جنازہ پڑھانے والے درجن بھر فوجی جوان ہی تھے۔۔۔ ! سارے بنگلہ دیش میں نہ کہیں فاتحہ خوانی ہوئی اور نہ کہیں سوگ منایا گیا۔

16دسمبر کے سانحہ پر کالموں اور کتابوں کے پہاڑ لگائے جا چکے ہیں۔عام طور پر اس کے ذمہ دار تین فریق ٹھہرائے جاتے ہیں۔یعنی جنرل یحییٰ خان ،شیخ مجیب الرحمٰن اور بھٹو۔۔ اس پس منظر میں سقوط ڈھاکہ کے سب سے بڑے اور مرکزی کردار بھارت کا ذکرضمنی طور پر کیا جاتا ہے۔یقیناًیہ تینوں کردار یعنی جنرل یحییٰ خان ، شیخ مجیب الرحمٰن اور ذوالفقار علی بھٹو اپنے اپنے طور پر بری الذمہ نہیں ٹھہرائے جاسکتے۔اس پر بہت کچھ لکھا بھی جاچکا ہے۔۔ مزید کچھ لکھنادُہرانے کے زمرے میں ہی آئے گا۔مگرگزشتہ چند برسوں سے 16دسمبر کے حوالے سے بھارت کے استعماری کردار کو ’’امن کی آشا‘‘ کی نظر کردیا گیا ہے۔ جبکہ حالیہ دنوں میں بلوچستان اور افغانستان کے حوالے سے بھی بھارت جو کردار ادا کررہا ہے‘ اُسے16دسمبر کے حوالے سے پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ اب کانگریسیوں سے چار ہاتھ آگے نریندر مودی کے بھارت کا ہمیں سامنا ہے۔۔۔ جو آج بھی گجرات کے دو ہزار مسلمانوں کا خون بہانے پر شرمندہ نہیں۔اس بارے میں قطعی دورائے نہیں کہ بھارت سمیت تما م پڑوسیوں سے دو طرفہ سفارتی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات برابری کی بنیاد پر ہونا چاہئیں۔مگر جو قومیں 16دسمبر جیسے سانحات بھُلا بیٹھتی ہیں۔۔۔تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔

16دسمبر کے حوالے سے آج بھی وطن عزیز میں ایک ایسا بڑا حلقہ موجود ہے جو سقوط ڈھاکہ کی ذمہ داری صرف اور صرف ’’فوج ‘‘ پر ڈالتا ہے۔یا پھر۔۔ایک حد تک ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی پر۔۔۔ یقیناًیہ دونوں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کی جانب دھکیلنے میں ایک حد تک قصوروار ٹھہرائے جاسکتے ہیں مگر اس سارے باب میں شیخ مجیب الرحمٰن کیا محض معصوم ہیرو ہی کہلائے جائیں گے؟

اب توخود ڈھاکہ یونیورسٹی سے ایسی کتابیں شائع ہونے لگی ہیں جس میں مستند حوالوں سے ’’اگرتلہ‘‘کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جہاں جا کر شیخ مجیب الرحمٰن نے بھارتی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں ڈھاکہ میں مقیم سینئر بھارتی سفارتکار بھی موجود تھے۔یہ کوئی 1960کے آس پاس کے دن تھے۔وزیر اعظم جواہر لال نہرو اُس وقت زند ہ تھے۔جب ان تک اگرتلہ میں کی جانے والی سازش کی خبر پہنچی تو انہوں نے سختی سے اسے روک دیا۔مگر 1960سے1970کے عشرے میں بھارتی سفارت کاروں اور انٹیلی جنس کے افسران کے عوامی لیگی قیادت سے روابط ہمیشہ ہی open secret رہے۔ 1970کے انتخابات میں عوامی لیگ کی کامیابی غیر متوقع نہ تھی۔ مگر یہ اتنی بھاری اکثریت سے تھی کہ بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو نے اپنے ایک دیرینہ رفیق سابق چیف سکریٹری حکیم بلوچ سے حیرانی سے کہا کہ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ بھاشانی کی نیشنل عوامی پارٹی (NAP) اور ہمارے مظفر احمد کی نیپ کا مشرقی پاکستان سے مکمل سیاسی صفایا ہورہا تھا اور انہوں نے اس کی ہمیں کانوں کان خبر بھی نہ دی!‘‘

اب توخود ڈھاکہ یونیورسٹی سے ایسی کتابیں شائع ہونے لگی ہیں جس میں مستند حوالوں سے ’’اگرتلہ‘‘کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جہاں جا کر شیخ مجیب الرحمٰن نے بھارتی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں ڈھاکہ میں مقیم سینئر بھارتی سفارتکار بھی موجود تھے۔

1970کے انتخابات میں جو نتائج عوامی لیگ کو ملے اُس پر شیخ مجیب الرحمٰن کو وہی کچھ کرنا تھاجس کا خواب پچاس کی دہائی سے بنگالی قوم پرستوں نے دیکھنا شروع کردیا تھا۔یحییٰ خان کی فوج اور بھٹو کی پیپلز پارٹی اگر یہ سب کچھ نہ بھی کرتی تو چھ نکات کی بنیاد پر شیخ مجیب کی عوامی لیگ ایک علیحدہ فیڈریشن کی ہی بنیاد رکھتی کہ چھ نکات پر عملدرآمد کے بعد اسلام آباد کے پاس بچتا ہی کیا۔یہ بڑا طویل موضوع ہے۔اسے ایک مختصر موضوع میں سمیٹا نہیں جاسکتا اور نہ سمیٹنا چاہئے۔ایک اچھی بات یہ ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے اب ایسی بے شمار کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں جن میں خود بنگالی دانشور بھی اعتراف کرتے ہیں کہ شیخ مجیب اور ان کی عوامی لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے ڈھاکہ کے دورے کے دوران جب احتجاج کیا تھا تو اصل میں یہ پاکستانی ریاست کو چیلنج تھا۔جس میں یہ واضح پیغام تھا کہ مشرقی پاکستان کے بنگالی‘ زبان اور نسل کی بنیاد‘ پر اپنا سونار بنگال بنا کر ہی دم لیں گے۔ لیکن یہاں ہم اس وقت کے مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ جنہوں نے دونوں بازو ؤں کے درمیان خلیج بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیامسئلہ محض زبان ہی کا نہیں تھا۔ بلکہ حکمرانی میں جس کی backboneسویلین ملٹری بیوروکریسی ہوتی ہے،مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی نمائندگی، اُن کی آبادی کے اعتبار سے شاید دس فیصد بھی نہ تھی۔ پھر بہر حال خود اُس وقت کی مشرقی پاکستان کی مسلم لیگ نے بھی بنگالیوں کے جذبات و احساسات کی نمائندگی کے بجائے مغربی پاکستان کے حکمراں طبقے سے گٹھ جوڑ کرلیاجس سے عوامی لیگ کے اُن انتہا پسندوں کا کام آسان ہوگیا جو پہلے ہی سے مغربی بنگال کے راستے فکری،نظری ،مالی اور عسکری امداد دہلی سرکار سے حاصل کر رہے تھے۔باقی کچھ تاریخ کا حصہ ہے کہ جس میں اُس وقت کے موقع پرست حکمراں طبقے نے، جن کا تعلق دونوں بازوؤں یعنی مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان سے تھا،کس طرح ہمارے مشرقی پاکستان کو آزاد بنگلہ دیش کی جانب دھکیلا اور پھر جس کے بعد ہمارے روایتی دشمن بھارت کو بھی وہی کچھ کرنا تھا جو 1965کی جنگ کے بعد سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مرکزیت کو ختم کرنے کے در پہ تھا۔ ابھی کچھ دن قبل ہی میری نظر سے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی بائیو گرافی گزری ہے جو اُن کی ایک قریبی دوست Pupul Jayakarنے لکھی ہے۔ پیوپل لکھتی ہیں کہ 1970کے انتخابات کے چند ماہ بعدعوامی لیگ اور اسلام آباد کے درمیان محاذ آرائی زور پکڑنے لگی تو اپریل 1971میں وزیر اعظم اندراگاندھی نے اپنے آرمی سربراہ جنرل مانک شا کو طلب کیا۔ وزیراعظم اندرا گاندھی نے اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے میں جنرل سے پوچھا۔

Do you know what is happening in East Pakistan?

جنرل نے گردن ہلا کر جواب دیا۔

Yes madam, people are getting killed

اس پر وزیر اعظم گاندھی نے اپنے اسی سرد سپاٹ لہجے میں کہا۔’’کیا تم جنگ کے لئے تیار ہو؟‘‘جنرل نے اپنی وزیر اعظم کے اس دوٹوک سوال پر وضاحتیں پیش کرنی شروع کر دیں۔ وزیر اعظم گاندھی نے جنرل کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔’’تمہیں فوج کی سربراہی اس لئے سونپی گئی ہے کہ ہمارے حکم پر جنگ کرو۔ایسا نہیں کرسکتے تو مستعفی ہو جاؤ۔‘‘ سلیوٹ مار کر Yes, Madamکہتے ہوئے جنرل مانک شاہ وہاں سے اٹھے اور اپنے کمانڈروں کا اجلاس طلب کر کے انہیں ڈھاکہ میں ایک مکمل جنگ کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔

’’سقوطِ ڈھاکہ‘‘ عوامی لیگ کی مسلح تنظیم مکتی باہنی کے ہاتھوں نہیں ہوا۔ایک پوری جنگ کے بعد چار گنا بھارتی فوجیوں نے محصور پاکستانی فوجیوں سے ہتھیار ڈالنے کا جشن منایا۔ بنگلہ بندھوکو جو بھارت کے ہاتھوں ’’ڈھاکہ ‘‘ملااُس کا شکرانہ انہوں نے اس طرح ادا کیا کہ پاکستان کی قید سے رہائی کے بعد وہ لندن سے سیدھے اپنے جاں نثار ہم وطنوں کے پاس نہیں گئے بلکہ بھارت کے دارالحکومت دہلی کی دہلیز پر جاکر اپنی عظیم محسنہ وزیراعظم اندرا گاندھی کے آگے دست بستہ ہوئے۔

(مضمون میں دی گئیں آراء مضمون نگار کی ذاتی ہیں ادارے کا متن سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)
26
February

وہ ایک تھرتھراتی‘ لرزتی‘ کانپتی یخ بستہ زرد سی شام تھی۔ اسلام آباد کی پہاڑیوں سے کہرا اس طرح اٹھ رہا تھا جیسے کسی دل جلے کے سینے سے دھواں اٹھتا ہے۔ درختوں نے اپنے لبادے سیاہ کر لئے تھے۔ شاخیں مفلوج ہو کر ٹنڈ منڈ لگ رہی تھیں۔ ہری بھری گھاس کا رنگ فق ہو چکا تھا۔ پتے شدتِ درد سے سکڑ گئے تھے۔ زرد ہوتے۔۔۔ پھر ملگجے ہو کر زمین پر گر رہے تھے۔ ایک کے بعد ایک۔۔۔ ہر درخت کے تنے میں خشک پتوں کا ایک ڈھیر سا جمع ہوتا جا رہا تھا جیسے شبِ ہجر کسی بیوہ کی آنکھ سے آنسو گرتے ہیں یکے بعد دیگرے۔۔۔ یا پھر ہر گرنے والا پتہ گرتے ہی دوسرے پتیوں کے ساتھ مل کر آہ و بکا کرنے لگتا تھا۔ اس شام ہوا کے پاؤں بھی لڑکھڑا رہے تھے۔ یوں چل رہی تھی جیسے ناقابلِ برداشت بوجھ اٹھا رکھا ہو۔ جب یہی برفیلی ہوا کوڑے برساتی تو درختوں کے تلے جمع ہونے والا پتوں کا ڈھیر یوں ایک سمت دوڑتا جیسے کسی گھر میں خیرات تقسیم ہونے والی ہو۔۔۔ سوکھے پتے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ ہری بھری شاخ پر ایک ساتھ رہتے ہیں تو زمین پر گر کر بھی ایک دوسرے کا ساتھ نبھاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں آفات میں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔

ورنہ وقت سب کچھ لوٹ کر لے جاتا ہے۔

رات سہمے ہوئے انداز میں زینہ زینہ اتر رہی تھی۔ شام خوف زدہ انداز میں چہرے پر نقاب ڈال رہی تھی۔

ہم سب گھر والے‘ دل گرفتہ و نم گرفتہ ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے۔ کوئی کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔ کچھ پوچھتا نہیں تھا۔

سب ہونی کو ’’انہونی‘‘ ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔

ہمارے آگے پڑی روٹیاں ٹھنڈی ہو گئی تھیں۔۔۔ اور پلیٹوں میں سالن جم گیا تھا۔ جس طرح پلکوں پر ٹھٹھرتے ہوئے آنسو پگھلنے کو بیقرار تھے۔

کئی دنوں سے ہم سب حالت جنگ میں تھے۔

میں بچوں کو لے کر اسلام آباد اپنے ایک عزیز کے ہاں چلی آئی تھی۔ لاہور میں خطرہ تھا۔ چند دنوں کا معصوم میری گود میں تھا رات کو فضا اندھیروں میں ڈوب جاتی تھی اور دن میں جہازوں کا شور آسمان کی وسعتیں چیرتا رہتا تھا۔ ہماری بے مثال افواج مشرقی پاکستان میں سینہ سپر تھیں اور پوری قوم مغربی محاذ پر دست بہ دعا تھی۔

بس ٹیلی ویژن ہی ایک ذریعہ تھا جو تازہ ترین خبریں نشر کر رہا تھا۔ وہ 16دسمبر کی آلام و ابہام میں لپٹی ہوئی ایک شکست خوردہ سی شام تھی۔ اور پھر۔ ٹیلی ویژن سے ایک آواز ابھری۔

آواز تھی یا بلبلاتی پکار۔۔۔ وہ آواز جس پر سارا مغربی پاکستان کان لگائے بیٹھا تھا‘ اپنی عاقبت نااندیشی اور ندامت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہماری تاریخ ساز فوج۔۔۔ جغرافیہ بدل دینے والی فوج۔۔۔ نعرہ تکبیر کی زرہ بکتر پہن کر لڑنے والی فوج۔۔۔ شہادت کے عنوان سے اپنی پیشانی سجانے والی فوج۔۔۔ کبھی نہ پیٹھ پھیرنے والی فوج۔

مشرقی پاکستا ن محاذ پر کیوں بے بس ہوئی۔۔۔؟

یہ عالمی سازش تھی‘ سیاسی بے تدبیری تھی۔۔۔ یہ قیادت کی بزدلی تھی۔۔۔ یہ کمان والوں کا غلط فیصلہ تھا۔۔۔ یہ ناقص پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔۔۔

کیا تھا بھلا۔۔۔

مگر تاریخ کا ایک صفحہ سیاہ ہو گیا تھا۔

کون یقین کرتا۔۔۔؟

کیوں یقین کرتا۔۔۔؟

ماؤں نے تو اپنے بیٹے شہید ہونے کے لئے بھیجے تھے۔ امام ضامن باند ھ کر۔۔

یہ جو تقریر نشر ہوئی‘ خجالتوں کے پسینے میں شرابور تھی۔ بے دم تھی

اس نے پاکستانیوں کے اندر آگ سی لگا دی۔

برفباری کے موسم میں شعلے بھڑکنے لگے۔۔۔ ہر زبان انگارہ بن گئی۔۔۔

ہم نے دیکھا۔۔۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر اس رات ایک انبوہِ کثیر نکل آیا تھا۔۔۔ اور مختلف انداز میں اپنے غم اور غصے کا اظہار کر رہا تھا۔ وقت کے آقاؤں پر۔۔۔ اس ہزیمت کا الزام دھر رہا تھا۔۔۔ اس ہجوم میں نوجوان‘ بچے‘ بوڑھے سب شامل تھے۔۔۔ وہ کچھ کر گزرنے کو گھروں سے نکل آئے تھے۔۔۔ پھر ان کا رخ یکایک شیشے کے شو کیسوں میں سجی ہوئی رنگ برنگے مشروبات کی بوتلوں کی طرف ہو گیا تھا۔۔۔ پھر اس رات فلک کج رفتار نے دیکھا۔۔۔ ہجوم نے نشہ میں بھری ہوئی وہ ساری بوتلیں نکال نکال کر سڑکوں پر پھوڑ دیں۔۔۔ چور چور بوتلیں۔۔۔ بہتی ہوئی بوتلیں۔۔۔ ڈھکنوں سے آزاد بوتلیں۔۔۔ اس رات اسلام آباد کی سڑکوں پر یوں بکھری ہوئی تھیں جیسے فرار ہونے والے اپنے جوتے چھوڑ گئے ہوں۔۔۔

بس تو بوتلوں پر ہی چلنا تھا۔۔۔

کون تھا جو اس رات سو سکا۔۔۔

ہم سب گھر والے اکٹھے بیٹھ کر روئے جیسے کوئی پیارا بچھڑ گیا ہو۔

اس رات قائداعظم کی روح بے قرار ہو کر اسلام آباد کے اوپر منڈلاتی رہی۔۔۔ ساری رات ہوائیں پہاڑوں کے اس طرف بین کرتی رہیں۔ ہم نے قائداعظم کو پرسہ دیا۔

ماؤں کی گودوں میں روتے چلاتے ہوئے نومولود اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔۔۔

اے قائداعظم ! ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔

ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔ ہم

یہ ہمارا وعدہ ہے۔۔۔

کون تھا جو اس رات سو سکا۔۔۔

ہم سب گھر والے اکٹھے بیٹھ کر روئے جیسے کوئی پیارا بچھڑ گیا ہو۔

اس رات قائداعظم کی روح بے قرار ہو کر اسلام آباد کے اوپر منڈلاتی رہی۔۔۔ ساری رات ہوائیں پہاڑوں کے اس طرف بین کرتی رہیں۔

ہم نے قائداعظم کو پرسہ دیا۔

ماؤں کی گودوں میں روتے چلاتے ہوئے نومولود اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔۔۔

اے قائداعظم ! ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔

ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔ ہم

یہ ہمارا وعدہ ہے۔۔۔

 
26
February

مشرقی پاکستان‘ ہلی سیکٹر میں جوانمردی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجرمحمداکرم شہید نشان حید رکے بارے میں اُن کے بھائی ملک محمد افضل کی ہلال کے لئے خصوصی تحریر

میجر محمداکرم شہید ڈنگہ ضلع گجرات میں4 اپریل1938 کو اپنے ننھیال کے گھر پیدا ہوئے ۔ ان کا آبائی گاؤں نکہ کلاں جہلم سے بیس میل جنوب میں پنڈدادن خان روڈ پر واقع ہے۔ آپ کے والد محترم کا bahadri ka wo nishan2نام ملک سخی محمد تھا۔ ان کا تعلق اعوان برادری سے تھا۔ انہوں نے بھی فوج کی پنجاب رجمنٹ میں خدمات انجام دیں۔ وہ نیک سیرت اور نہایت ہی پرہیزگار انسان تھے میجر اکرم شہید کی والدہ ماجدہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ وہ بڑی باشعور اور دینی جذبے سے سرشار خاتون تھیں۔ دین کے بارے والدین کی تربیت کا یہ اثر ہوا کہ ان کے دو بیٹے ملک محمدافضل اور حفیظ اﷲ ملک حافظِ قرآن ہیں۔ اکرم شہید کی آبیاری بھی اسی دینی ماحول میں ہوئی۔ ان کی زندگی میں جو اخلاص تھا ‘جو دیانت رچی بسی تھی اور جو احسان و ایثار کا جذبہ تھا اس کا سرچشمہ گھر ہی تھا۔ انہوں نے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی۔ مڈل کلاس تک تعلیم انہوں نے نکہ کلاں کے قریب گاؤں چکری راجگان کے ہائی سکول سے حاصل کی۔ وہ 16 اگست1948 کو ملٹری کالج جہلم میں داخل ہوئے۔ ملٹری کالج جہلم کے ماحول اور اساتذہ کی تربیت سے ان کی زندگی میں مزید نکھار آنے لگا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ جلد ہی کھیل کے میدان میں اُن کے جوہر کھلنے لگے۔ ہاکی اور باکسنگ کا بڑا شوق تھا۔ وہ بہت اچھے باکسر تھے اور بڑی جرأت اور ہمت سے باکسنگ کرتے تھے۔ وہ کالج کی لائبریری میں حضرت خالد بن ولید‘ طارق بن زیاد اور محمدبن قاسم کے حالاتِ زندگی پر مبنی کتب کا مطالعہ کرتے۔ انہوں نے ان کی بہادری کے واقعات ازبر کئے ہوئے تھے اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی جستجو رکھتے تھے۔ وہ کالج میں اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ محنتی اور فرض شناس تھے۔ نماز پابندی سے پڑھتے تھے۔ اپنے اخلاق اور شرافت کی وجہ سے اپنے ہم جماعتوں میں بہت مقبول تھے۔

ملٹری کالج سے اکرم نے دوچیزیں حاصل کیں۔ ایک پڑھنے کا شوق دوسرے یہ کہ وہ یہاں سے آفیسر بننے کا عزم اور تصور لے کر گئے۔ اکرم شہید جولائی1953 میں کالج سے فارغ ہو کر پنجاب رجمنٹ bahadri ka wo nishan3کی بوائز کمپنی میں بھرتی ہوئے۔ ملٹری کالج سے آنے کی وجہ سے بوائز کمپنی اور پنجاب سنٹر میں اکرم ’کے جی‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ بوائز کمپنی میں ان کی کارکردگی اتنی شاندار رہی کہ ان کو پڑھائی‘ کھیلوں‘ شوٹنگ اور دوسری سرگرمیوں میں برتری کی بنا پر پہلے پلاٹون کمانڈر اور بعد ازاں بوائز کمپنی کمانڈر بنا دیا گیا جو ایک اعزاز کی بات تھی۔

دو سال بعد وہ ایک باقاعدہ سپاہی کی حیثیت سے 8 پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ یہاں انہوں نے ملٹری سپیشل امتحان پاس کیا جو کمیشن میں جانے کے لئے ضروری تھا اور انہوں نے کمیشن کے لئے درخواست دی۔ ناکامی ہوئی‘ لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ دوبارہ کوشش کی اور بالآخر ان کی کوششیں رنگ لائیں۔1961ء میں انہیں 28 پی ایم اے لانگ کورس کے لئے چُن لیا گیا۔ پی ایم اے میں جاتے ہی انہوں نے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے جگہ بنا لی۔ وہ پی ایم اے کی ہاکی ٹیم میں لئے گئے اور اس حیثیت سے انہوں نے دوبارہ انٹر اکیڈمی سپورٹس میں پی ایم اے کی نمائندگی کی۔ ایک بار پی اے ایف(P A F) اکیڈمی رسالپور میں اور دوسری بار پی این (PN)اکیڈمی کراچی سے کامیاب لوٹے۔ انہیں اکیڈمی کا ہاکی کلر بھی ملا تھا۔ ہاکی کے علاوہ زبردست نشانہ باز بھی تھے۔ اپنے کورس میں بہترین نشانہ باز کی ٹرافی بھی حاصل کی۔

13 اکتوبر1963ء کو انہیں کمیشن ملا اور سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان کا تقرر4 ایف ایف رجمنٹ میں ہوا جو اس وقت پشاور میں تعینات تھی۔ دو سال بعد انہیں کیپٹن بنا دیا گیا۔1965 کی جنگ میں انہوں نے ظفر وال سیکٹر میں دشمن سے پنجہ آزمائی کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جب آپ گھر چھٹی گئے تو آپ کی ہمشیرہ نے پوچھا کہ بہت سے افسروں اور جوانوں کو تمغے ملے ہیں آپ کو کیا ملا۔ جواب میں انہوں نے کہا میں نے کچھ نہیں کیا اس لئے مجھے کچھ نہیں ملا۔ لیکن بہن آپ دیکھنا جب وقت آئے گا تو وہ کام کروں گا کہ دنیا یاد رکھے گی۔bahadri ka wo nishan4

7 جولائی1968 کو ان کا تبادلہ(ای پی آر) ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوگیا اور وہ مشرقی پاکستان چلے گئے۔23 مارچ 70 تک وہاں رہے اس عرصے میں انہیں مشرقی پاکستان کے بڑے حصے کو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس قیام کے دوران انہوں نے بڑی تندہی سے بنگالی سیکھ لی۔ انہوں نے جس طرح وہاں کے حالات اور ماحول کا مطالعہ کیا اور جس ذوق سے بنگالی سیکھی وہ محض علمی یا ادبی تجسس نہ تھا اس قدر کاوش کی تہہ میں اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے اور اسلام اور پاکستان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کا جذبہ تھا۔

ای پی آر میں دو سال گزارنے کے بعد جب کیپٹن اکرم اپنی پلٹن 4 ایف ایف سیالکوٹ پہنچے تو سب نے مسرت اور گرم جوشی کا اظہار کیا۔ ستمبر1970 میں آپ کی یونٹ کوئٹہ پہنچی۔ وہاں جانے سے پہلے آپ نے جولائی اگست میں مری انٹیلی جینس کورس بھی کیا۔ کورس کے بعد انہیں میجر کے عہدے پر ترقی ملی اور وہاں کوئٹہ میں اپنی پلٹن سے جا ملے۔

31 مارچ71ء کو میجر اکرم یونٹ کے ساتھ ایک بار پھر مشرقی پاکستان پہنچے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں ان کی کمپنی ہلی کے مقام پر صف آراء ہوئی۔ ہلی کے علاقے کی حیثیت ایک شہ رگ کی سی تھی۔مشرقی پاکستان کے شمالی علاقوں میں متعین ساری فوج کی سپلائی لائن یہاں سے گزرتی تھی۔ دشمن کا یہ منصوبہ تھا کہ ہلی پر قبضہ کرکے شمال میں متعین فوج کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے اور سپلائی لائن کاٹ دی جائے۔ ہلی پر قبضہ کرنے کے لئے دشمن کے 202ماؤنٹین بریگیڈ کو دو ماؤنٹین رجمنٹس‘ آرٹلری کی ایک bahadri ka wo nishan5لائٹ بیٹری اور ایک میڈیم رجمنٹ (ایک بیٹری کم) اور T-55ٹینکوں کے ایک سکواڈرن کی مدد حاصل تھی۔ میجر اکرم 4 ایف ایف کی سی کمپنی کی کمانڈ کررہے تھے۔ انہوں نے اپنی کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے بھرپور حملوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف دشمنوں کو پیش قدمی سے روکے رکھا بلکہ اس کے کئی ٹینک تباہ کئے اور سخت جانی نقصان بھی پہنچایا۔ 4 اور5 دسمبر1971ء کی رات کو دشمن نے چار بار میجر اکرم کی کمپنی پر حملہ کیا لیکن ہر بار دشمن کو منہ کی کھانی پڑی۔ دشمن کا توپ خانہ اور ٹینک آگ اُگل رہے تھے۔ میجرمحمداکرم کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ دشمن کے ٹینکوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے۔ وہ ایک سپاہی کو ساتھ لے کر ایک40 ایم ایم راکٹ لانچر کے ساتھ دشمن کے ٹینکوں پر حملہ کرنے کے لئے آگے چلے گئے اور دشمن کے ٹینکوں کے عین سامنے سو گز کے فاصلے پر پوزیشن لی اور یکے بعد دیگر3 ٹینکوں کو تباہ کردیا۔ دشمن نے ایسا جوان کب دیکھا ہوگا جو سامنے آکر فائر کرے اور اپنی جان کی پروا بھی نہ کرے۔ وہ پندرہ دن تک مسلسل دشمن کے بار بار حملوں کو بہادری سے روکتے رہے۔ جب تک وہ زندہ رہے دشمن پاک سرزمین کے ایک انچ پر بھی قابض نہ ہوسکا۔ آخر دشمن کے ایک ٹینک کی براؤننگ گن کا براہِ راست فائر اُن کی دائیں آنکھ کے قریب لگا اور آپ کو 5دسمبر1971 صبح دس بجے ہلی کے مقام پر شہادت کا رتبہ نصیب ہوا۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنْ)

6 دسمبر1971ء کو یونٹ کے نائب خطیب نے ان کی نمازِ جنازہ بوگرہ میں پڑھائی اور انہیں ڈھاکہ روڈ پر بوگرہ شہر کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ میجر اکرم شہید کو وطنِ عزیز کا دفاع کرنے اور بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرنے پر حکومت نے انہیں بہادری کا سب سے بڑا اعزاز ’نشانِ حیدر‘ دیا۔ میجر اکرم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور آنے والی نسلوں میں جذبہ حُب الوطنی اورجذبہ جاں نثاری بڑھانے کے لئے ان کی یادگار شاندار چوک جہلم کے قریب تعمیر کی گئی ہے۔

 
26
February

دسمبر 1971 کی جنگ کے پس منظر میں معروف صحافی جبار مرزا کی ایک تحقیقی تحریر جس میں بھارت اور مکتی باہنی کے باہمی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

ڈھاکہ ڈوبا نہیں تھااُسے بین الاقوامی سازش سے ڈبویا گیا تھا۔ میں کسی کو مورد الزام ٹھہرانے نہیں چلا‘ وہ تاریخ کا المیہ ہے اور تاریخ کسی کو معاف نہیں کیا کرتی۔ جذبے‘ خلوصِ نیت اور قوتِ ایمانی بلاشبہ بہت بڑے اور مؤثر ہتھیار ہیں اور باطل قوتوں کے خلاف غزوۂ بدر سے آج تک استعمال ہوتے آئے ہیں۔ مگر زمینی حقائق اور جنگی حکمت عملی ایک الگ حربی قوت ہے۔ جنرل کمال متین الدین نے سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے اپنی کتاب ’’ٹریجڈی آف ایررز‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’بھارت اور بنگلہ دیش کی مشترکہ ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے پاس تین لاکھ فوج تھی۔ نیم فوجی دستوں سمیت پانچ لاکھ تھے جبکہ چین کی سرحد پر تعینات فوج کی حمایت بھی اسے حاصل تھی۔ ایک لاکھ مکتی باہنی گوریلا اس کے علاوہ تھے۔ او رمکتی باہنی کے تین لڑاکا بریگیڈ بھی تھے۔ اتنی بڑی فوج جو ہر قسم کے اسلحہ سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ جسے فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی سوویت یونین نے جس کی صف بندی کے لئے فعال کردار ادا کیا تھا‘ ہوائی جہاز اور ٹینک دینے کے ساتھ ساتھ پوری جنگی منصوبہ بندی کی تشکیل بھی کی تھی۔ اس کے مقابلے میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجی صرف پینتالیس ہزار تھے۔ جن میں ڈاکٹر‘ انجینئر‘ سپلائی کا عملہ‘ لانگری‘ ڈرائیور اور ایجوکیشن والے نکال کر بمشکل چونتیس ہزار (34) کے قریب لڑاکا فوج تھی اور انہیں فضائیہ کی امداد بھی میسر نہ تھی۔ پھر سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ جب پاکستانی فوجی بھارت کی پیش قدمی روکنے کے لئے آگے بڑھتے تو مکتی باہنی پاکستانی فوجیوں کے گھروں پر حملے کرتے اور کچھ عقب سے فوج پر گوریلا کارروائیاں کرتے یوں پاکستانی فوج کو کئی ایک محاذوں پر دشمن کا سامنا تھا۔‘‘

حمودالرحمن کمشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’’مشرقی پاکستان کی فوج نے ہوائی اور بحری امداد کے بغیر بڑی کم افرادی قوت کے ساتھ جنگ لڑی تھی۔‘‘ اس میں شک نہیں کہ مشرقی پاکستان میں موجود فوج ساڑھے سات کروڑ بنگالیوں اور باغیوں کی بغاوت کچلنے کے لئے ناکافی ہی نہیں انتہائی قلیل بھی تھی۔ باوجود اس کے تقریباً نو ماہ تک یعنی 7مارچ 1971سے 16دسمبر 1971تک مسلسل باغیوں سے نبردآزما رہی جو قابل ستائش بھی ہے اور بابِ شجاعت بھی اور پھر بھی 26دنوں تک 21نومبر سے 15دسمبر 1971تک بھارت کی پانچ لاکھ عددی اعتبار سے برتر فوج کو روکے رکھا۔ بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس کی تقریباً 88بٹالین جن کی تعداد تقریباً 83ہزار افراد پر مشتمل تھی‘ وہ بھی پاکستانی افواج کے خلاف جارحیت میں پیش پیش تھی۔ مشرقی پاکستان میں پولیس کا کردار انتہائی گھناؤنا تھا۔ علاقے کا ایس ایچ او فوج کو بھی اپنی وفاداری کا یقین دلاتا رہتا تھا اور علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی بھی کیا کرتا تھا۔ فوج چونکہ جغرافیائی طور پر محل وقوع سے شناسا نہیں تھی‘ اس لئے باغیوں کی سرکوبی کے لئے جہاں کہیں کارروائی کرنا مقصود ہوتی تو علاقے کے ایس ایچ او کو اطلاع کی جاتی تھی‘ پھر پولیس کی شمولیت سے ریڈ کیا جاتا تھا۔ مگر ایس ایچ او اس سے پہلے باغیوں کو مطلع کر دیا کرتا تھا اور یوں ناکامیاں آڑے آتی چلی گئیں۔ ایسی صورت حال میں افواج پاکستان کہاں تک لڑتیں ۔ سول انتظامیہ کی حالت بھی بھروسے کے لائق نہ تھی۔

7مارچ 1971کو کرفیو اور سنسر کے باوجود ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں شیخ مجیب الرحمن نے جلسہ کیا اور بندوق کی نوک پر مکتی باہنیوں نے ریڈیو پاکستان ڈھاکہ سے براہ راست شیخ مجیب کی باغیانہ تقریر نشر کرائی۔ اس سے پہلے 6 مارچ کو بنگالی فوجیوں نے بپھرے ہوئے عوام کو کنٹرول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ 8مارچ کو فوجی حکومت کے خلاف عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی گئی تھی۔ 10مارچ کو پی آئی اے کے ملازمین نے ہوائی جہازوں سے انگریزی عبارت پی آئی اے مٹا کر بنگلہ دیش ایئرلائن کے الفاظ لکھ دیئے تھے۔ 23 مارچ 1971کو پاکستان کا چوبیسواں یوم پاکستان ڈھاکہ میں یوم مزاحمت کے طور پر منایا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان کی ساری سرکاری عمارتوں پر اس روز بنگلہ دیش کا پرچم لہرایا گیا تھا۔ بھارت‘ روس اور برطانیہ کے سفارت خانوں پر بھی بنگلہ دیش کے جھنڈے چڑھا دیئے گئے تھے۔الغرض کئی ممالک بشمول روس جیسی سپر پاور اور بھارت جیسی چال باز حکومت مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لئے قیام پاکستان کے دن سے ہی کوشاں تھی۔ اگرتلہ سازش ہو یا بھارتی جہاز کا اغوا ‘ہر ایک جارحیت اور سازش پاکستان کو دولخت کرنے کی چالیں تھیں۔ پھر 16دسمبر 1971کے سانحہ کے بعد افواج پاکستان کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا تھا۔ تمام 93ہزار جنگی قیدیوں کو فوجی کہہ کر تذلیل کی جاتی رہی۔ حالانکہ ان 93ہزار پاکستانی قیدیوں میں پچاس ہزار کے قریب سویلین تھے جن میں عورتیں‘ بچے‘ بوڑھے اور دیگر دفتری عملہ شامل تھا۔ بہاریوں کے بارے میں بھی عام تاثر یہی ہے کہ وہ بھارت کے صوبہ بہار سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ سید آل محمد رضوی نے اپنی کتاب ’’مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک‘‘ میں لکھا ہے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ جو بھی غیربنگالی‘ جو مغربی پاکستان سے گیا ہو یا بھارت سے ہجرت کر کے وہاں جا بسا ہو‘ اسے مشرقی پاکستان کے مقامی لوگ یعنی بنگالی ’’باہری مانس‘‘ کہا کرتے تھے۔ مانس بنگالی زبان میں آدمی کو کہتے ہیں اور باہری سے مراد غیربنگالی مہاجر یا باہر سے آیاہوا ہے۔ یوں پھر باہری مانس کثرت استعمال سے سکڑ کر بہاری بن گیا۔‘‘ تحریک پاکستان کے معروف قلمکار اور تاریخ دان جنہیں مصور حقیقت بھی کہا جاتا ہے‘ خواجہ افتخار اپنی کتاب ’’دس پھول ایک کانٹا‘‘ (قائداعظم سے شیخ مجیب الرحمن تک) میں لکھا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن افواج پاکستان کا ہیڈکوارٹر (GHQ) بھی راولپنڈی سے ڈھاکہ لے جانے کا آرزومند تھا۔ 1957کے حوالے سے خواجہ صاحب نے وہ واقعہ لکھا کہ۔ ’’جب سہروردی صاحب پاکستان کے وزیراعظم تھے تو ایک روز مجیب الرحمن ان کے پلنگ پر بیٹھا ان کے پاؤں دبا رہا تھا۔ اس موقع پر مجیب نے سہروردی صاحب سے کہا تھا کہ بابا۔۔۔ اب پاکستان کی حکومت پر آپ بلاشرکت غیرے براجمان ہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ پاک فوج کے ہیڈکوارٹر کو ڈھاکہ منتقل کرنے کے احکامات فوری طور پر جاری کر دیں۔‘‘ اس پر سہروردی صاحب نے مجیب الرحمن کو جھاڑ پلا دی تھی۔ شیخ مجیب الرحمن نے سقوط ڈھاکہ سے ایک آدھ سال پیشتر ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں پاکستان کے مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر حلفاً کہا تھا کہ اس کے دل و دماغ کے کسی بھی گوشے میں پاکستان کو دولخت کرنے کا اگر دھندلا سا تصور بھی موجود ہو تو خداوند کریم اس کو اور اس کے افراد خانہ کو ایک ساتھ دنیا سے اٹھا لے۔ شاید وہ قبولیت کا لمحہ تھا کہ 15اگست 1975کو کرنل فاروق الرحمن اور ان کے ساتھیوں نے شیخ مجیب اور اس کے اہل خانہ کو ایک ساتھ موت کے گھات اتار دیا تھا۔ ایک اطلاع کے مطابق اس کی لاش تین روز تک دھان منڈی والے اس کے گھر عبرت کا نشان بنی پڑی رہی جہاں بیٹھ کے وہ پاکستان کو دولخت کرنے کے تانے بانے بنتا رہا تھا۔ وہ مکتی باہنی جو شیخ مجیب نے گوریلا کارروائیوں کے لئے اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے قائم کی تھی‘ اس کے آخری لمحات میں کام نہ آئی۔ مکتی باہنی شیخ مجیب الرحمن کی ہدایت پر باغیوں کا ایک گروہ تھا جنہیں بھارت نے ٹریننگ دی تھی۔ کچھ دیگر سرکاری اداروں سے بغاوت کر کے مکتی باہنی دہشت گرد تنظیم کا حصہ بنے تھے۔ مشرقی پاکستان میں پاکستان پولیس‘ مشرقی پاکستان رائفلز انصار اور مشرقی بنگال رجمنٹ کی بٹالین اور بری‘ بحری اور فضائی افواج کے بعض باضابطہ یونٹوں کے مشرقی پاکستانی ارکان جنہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی‘ انہی عناصر نے آخر کار مکتی باہنی اور اس کی قیادت کے لئے جواز فراہم کیا تھا۔ جن مسلح بنگالی فوجیوں نے 25مارچ 1971کو اعلان بغاوت کیا تھا‘ وہ بھی تعداد میں کافی تھے۔ روسیوں اور بھارتیوں کی جانب سے جن غیر فوجیوں کو مرحلہ وار تربیت دی گئی تھی ان کی تعداد سوا لاکھ تھی۔اس طرح مکتی باہنیوں میں بنگالیوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو تھی ۔ ان میں بھارتی فوج کے پچاس ہزار گوریلا شامل نہیں ہیں۔ بعض اوقات مکتی باہنیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ کرنا اس لئے مشکل ہو جاتا تھا کہ تقریباً ہر بنگالی اگر نہیں بھی تو پھر بھی بہت بڑی تعداد میں بنگالی باغیوں کی مدد کر رہے تھے۔ قریب قریب ہر محکمے میں مکتی باہنی کسی نہ کسی صورت میں موجود تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب 21نومبر 1971کو بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا جنہیں گزشتہ نو ماہ سے پاکستانی افواج نے روکا اور پاکستانی سرحد سے دور رکھا ہوا تھا جب وہ حملہ آور ہوئے تو مکتی باہنی گوریلے ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔

سیاسی بحران کے زمانے میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ اور بائیں بازو کی دوسری جماعتوں نے اپنے زیر زمین لڑاکا گروہوں کو خفیہ طور سے تربیت دے کر انہیں چھوٹے ہتھیار استعمال کرنے اور دہشت گردی کی کارروائی کرنے کے لئے منظم کر دیا تھا۔ طلباء‘ دانشور اور سابق فوجی بھاری تعداد میں اس تنظیم میں شامل ہو گئے تھے۔ جنہوں نے اعلیٰ فنی اور خصوصی باغیانہ کارروائیوں کے لئے ایک بنیاد فراہم کر دی تھی۔ اس طرح 11اپریل 1971 کو ان تمام شرپسند یا علیحدگی پسند عناصر کو یک جا کر کے مکتی باہنی کے نام سے ایک باضابطہ علیحدہ فوج تشکیل دی گئی تھی جس کا کمانڈر انچیف کرنل ریٹائرڈ ایم اے جی عثمانی کو مقرر کیا گیا تھا۔

16دسمبر 1971کے سانحہ کے بعد افواج پاکستان کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا تھا۔ تمام 93ہزار جنگی قیدیوں کو فوجی کہہ کر تذلیل کی جاتی رہی۔ حالانکہ ان 93ہزار پاکستانی قیدیوں میں پچاس ہزار کے قریب سویلین تھے جن میں عورتیں‘ بچے‘ بوڑھے اور دیگر دفتری عملہ شامل تھا۔ بہاریوں کے بارے میں بھی عام تاثر یہی ہے کہ وہ بھارت کے صوبہ بہار سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ سید آل محمد رضوی نے اپنی کتاب ’’مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک‘‘ میں لکھا ہے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ جو بھی غیربنگالی‘ جو مغربی پاکستان سے گیا ہو یا بھارت سے ہجرت کر کے وہاں جا بسا ہو‘ اسے مشرقی پاکستان کے مقامی لوگ یعنی بنگالی ’’باہری مانس‘‘ کہا کرتے تھے۔ مانس بنگالی زبان میں آدمی کو کہتے ہیں اور باہری سے مراد غیربنگالی مہاجر یا باہر سے آیاہوا ہے۔ یوں پھر باہری مانس کثرت استعمال سے سکڑ کر بہاری بن گیا۔‘‘

مئی 1971تک تقریباً آدھے سے زیادہ باغیوں کو پاکستانی افواج نے غیر مسلح تو کر دیا تھا مگر بہت بڑی تعداد میں باغی پہلے سے طے شدہ پناہ گاہوں میں چلے گئے تھے۔بھارت نے مشرقی پاکستان کی سرحد کے قریب 59تربیتی کیمپ قائم کئے ہوئے تھے جہاں باغیوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ ان کے تربیتی پروگرام میں نظریاتی تبلیغ‘ لسانی معاملات کی تحریکی طور سے تیاری شامل تھی۔ مکتی باہنی اتنی بڑی تنظیم تھی کہ اسے منظم کرنے کے لئے اور ان کی تربیتی سرگرمیوں کو مربوط بنانے کے لئے بھارت نے باقاعدہ ایک تھری سٹار جرنیل اوبان سنگھ تعینات کر رکھا تھا۔ ان کیمپوں میں ہتھیاروں کے استعمال سمیت بنیادی فوجی تربیت دی جاتی تھی لیکن اصل زور تخریبی اور دہشت انگیز کارروائیوں کے لئے کمانڈو والی تربیت اور آتش گیر مادوں‘ بارودی سرنگوں اوردستی بموں کی تربیت پر دیا جاتا تھا۔ پروفیسر اور ٹیچر عوام میں مخالفانہ جذبات ابھارنے اور لوگوں کو مکتی باہنی تنظیم کے لئے بھرتی کا جذبہ پیدا کرتے تھے۔ دریائی اور سمندری ذرائع مواصلات کو مفلوج کرنے کے لئے زیرآب تربیت پر بھارت خصوصی توجہ دیتا تھا۔ اس سلسلے میں ابتدائی چھان پھٹک بھارتی بحریہ کے افسران کیا کرتے تھے۔ تقریباً300باغیوں کو زیر آب تخریب کار کی حیثیت سے تیار کرنے کے لئے اگرتلہ سے کوچین بذریعہ ہوائی جہاز لے جایا گیا تھا۔ اتنی تعداد میں ہی فراگ مینوں کو بھارتی بحریہ کے انسٹرکٹروں نے تربیت دی تھی۔ بعض منحرف آبدوز کاروں اور گوریلا فراگ مینوں کی نگرانی میں مغربی بنگال میں دریائے بھیراتی میں پلاسی کے مقام پر تربیت دی گئی تھی۔ باغیوں کی تعلیمی صلاحیت‘استعداد ‘ذہنی اور دلچسپیوں کے پیش نظر انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ گریجویٹس اور انڈر گریجویٹس کو چھوٹے ہتھیاروں‘ راکٹ لانچروں‘ سمیت میپ ریڈنگ اور گوریلا طرز کی تربیت دی جاتی تھی۔ جبکہ انڈر میٹرک کو آتش گیر مادوں ‘ بارودی سرنگوں‘ دستی بموں کے استعمال‘ پلوں‘ زمین دوز نالوں اور دوسری اہم تنصیبات کو اڑانے کی تربیت کے ساتھ ساتھ مارٹر گن کے استعمال کی مہارت بھی دی جاتی تھی۔ توپ خانے اور سگنل کی ٹریننگ ڈیرہ دون کے تخریبی کیمپ میں دی جاتی تھی۔ باغیوں کی اپنی تنظیمی کمان کے لئے انہیں میں سے منتخب طلباء کو اسپیشل کمشن بھی دیا جاتا تھا جنہیں بھارتی فوج کے زیرانتظام تین ماہ کی ہنگامی تربیت ڈیرہ دون میں دی گئی تھی۔ باغی تنظیم یعنی مکتی باہنی کے افراد کو عموماً ایف ایف (فریڈم فائٹر) کہا جاتا تھا۔ ان باغیوں کو باقاعدہ یونٹوں میں اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ ہر یونٹ میں 500افراد ہوتے تھے۔ ان یونٹوں کو ایس بی آر یعنی سوادھن (آزاد) بنگال رجمنٹ کہا جاتا تھا۔ تورا کے مقام پر باغیوں کے تین بریگیڈ کھڑے کئے گئے تھے جن میں ہر بریگیڈ 3000افراد پر مشتمل تھا۔ مکتی باہنی کی تنظیم سازی اسلحہ بندی و غیرہ سب بھارتی فوج نے کی تھی۔ مکتی باہنی عورتوں کا دستہ بھی تیار کیا گیا تھا جو غیرملکی نامہ نگاروں‘ کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں سے رابطے میں رہتی تھیں۔

مکتی باہنی شیخ مجیب الرحمن کی ہدایت پر باغیوں کا ایک گروہ تھا جنہیں بھارت نے ٹریننگ دی تھی۔ کچھ دیگر سرکاری اداروں سے بغاوت کر کے مکتی باہنی دہشت گرد تنظیم کا حصہ بنے تھے۔ مشرقی پاکستان میں پاکستان پولیس‘ مشرقی پاکستان رائفلز انصار اور مشرقی بنگال رجمنٹ کی بٹالین اور بری‘ بحری اور فضائی افواج کے بعض باضابطہ یونٹوں کے مشرقی پاکستانی ارکان جنہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی‘ انہی عناصر نے آخر کار مکتی باہنی اور اس کی قیادت کے لئے جواز فراہم کیا تھا۔ جن مسلح بنگالی فوجیوں نے 25مارچ 1971کو اعلان بغاوت کیا تھا‘ وہ بھی تعداد میں کافی تھے۔ روسیوں اور بھارتیوں کی جانب سے جن غیر فوجیوں کو مرحلہ وار تربیت دی گئی تھی ان کی تعداد سوا لاکھ تھی۔اس طرح مکتی باہنیوں میں بنگالیوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو تھی ۔ ان میں بھارتی فوج کے پچاس ہزار گوریلا شامل نہیں ہیں۔ بعض اوقات مکتی باہنیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ کرنا اس لئے مشکل ہو جاتا تھا کہ تقریباً ہر بنگالی اگر نہیں بھی تو پھر بھی بہت بڑی تعداد میں بنگالی باغیوں کی مدد کر رہے تھے۔ قریب قریب ہر محکمے میں مکتی باہنی کسی نہ کسی صورت میں موجود تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب 21نومبر 1971کو بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا جنہیں گزشتہ نو ماہ سے پاکستانی افواج نے روکا اور پاکستانی سرحد سے دور رکھا ہوا تھا جب وہ حملہ آور ہوئے تو مکتی باہنی گوریلے ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔

مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجی آپریشن کے دوران جو باغی بھاگ کر بھارت گئے انہیں وہیں بارڈر کے قریب ہی بھارت نے کیمپوں میں رکھ لیا تھا جن میں سے اکثر گوریلا ٹریننگ لے کر واپس اپنے گھروں میں آ گئے تھے اور بنگالیوں سے ملتی جلتی شکلوں والے بھارتی گوریلا بھی تربیت یافتہ بنگالیوں کے ساتھ آ کر قیام پذیر ہو گئے تھے۔ بظاہر وہ ٹرینڈ شدہ سارے افراد شریف شہریوں جیسی زندگی گزارنے لگ گئے تھے مگر جب بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تھا تو سارے تربیت یافتہ باغی مکتی باہنی میں شامل ہو کر بھارتی فوجیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے تھے۔

بھارت نے باغیوں کے لئے بہت پہلے اپنے بارڈر کھول دیئے تھے۔ وہ مختلف راستوں سے مشرقی پاکستان میں داخل ہوتے اور کوئی نہ کوئی کارروائی کر کے واپس بھارت چلے جاتے تھے اور بعض دفعہ وہیں ڈھاکہ کے آس پاس پناہ گاہوں میں چلے جاتے تھے۔ باغیوں کے لئے بھارت نے اپنا متروک شدہ اسلحہ دیا۔ اس کے علاوہ باغی اسرائیل‘ سوویت یونین‘ بلجیئم‘ ہانگ کانگ اور چیکوسلواکیہ سے فراہم شدہ اسلحہ بھی استعمال کرتے تھے۔ بھارت کارروائی کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا رہا۔ مگر پھر اچانک بنگالیوں کی ساری کاوشوں کو یکسر نظر انداز کر کے سارا کریڈٹ خود لینا شروع کر دیا تھا۔ ویسے بھی ابتدائی طور پر مجموعی کنٹرول اور عملی رابطہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی ذمہ داری تھی مگر بہت جلد وہ سارا کام بھارتی فوج نے سنبھال لیا تھا۔ ہر بنگالی بریگیڈ باضابطہ بھارتی فوج کے ایک بریگیڈیئر کی کمان میں تھی۔ سقوط مشرقی پاکستان سے چند برس قبل بریگیڈیر شا بیگ سنگھ اور بریگیڈیئر جگجیت سنگھ اروڑا جن کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز بالترتیب اگرتلہ اور تورا میں تھے‘ وہ اپنے علاقوں میں قائم تخریب کاروں کے بریگیڈ کی بھی کمان کرتے رہے۔ مکتی باہنیوں نے دو اور باغی گروہ ’’طوفان باہنی‘‘ اور ’’بیمان باہنی‘‘ (بنگلہ دیش ایئر فورس) کے نام سے دو اور فوجوں کی تشکیل بھی کی تھی۔ بھارت نے روس کی مالی اور تکنیکی مدد سے بیٹائی میں مکتی باہنیوں کی فضائی کارروائیوں کے لئے ایک ہوائی اڈے کی تعمیر بھی شروع کی تھی۔ بہرطور جب 16دسمبر 1971کو بھارتی فوج ڈھاکہ میں داخل ہوئی اور بنگلہ دیش بنا تو اندراگاندھی نے غرور اور تحقیر آمیز لہجے میں کہا کہ آج مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ اقتدار کا بدلہ لے لیا ہے۔ 16دسمبر 1971 کازخم بہت گہرا ہے۔ ہم اسے کیسے بھول سکتے ہیں۔ ہم سازش اور سازشیوں کے منفی کردار کو بھی بھلا کیسے بھول سکتے ہیں

The date of the start of full-fledged war between India and Pakistan in 1971 is a contested issue. The date popularly given out is 3 December, the one announced by India, but this is merely the date the war spread to include the Western sector. In a sense India's involvement in the war may be taken to be from March, and its involvement in the politics of the province perhaps from even earlier. Numerous Bangladeshi pro-liberation accounts blithely recount close contact and coordination with authorities prior to the military action taken by the Pakistani Regime, as well as in-year. Many of the Pakistani officers I spoke to described Indian involvement and casualties in 'actions' in East Pakistan throughout the year……. 'The big operations are always done by the Indians', reported The Guardian on 18 September 1971, after an ethnic Bengali, who blended in with the local population and needed no translation, visited the training camps of the Mukti Bahini in India and crossed in to East Pakistan with a guide on his own. Of the couple of hundred Bengali 'volunteers' who were said to be in the border area he visited, only six had been given any training at all and only three had taken part in any operation”………… “The American government was correct in its assessment that India had already decided to launch a military operation in East Pakistan when Mrs. Gandhi came to Washington in early November pretending that she was still seeking a peaceful solution”.

(Sarmila Bose, Dead Reckoning: Memories of 1971 Bangladesh War, Pages 172, 173)

India’s Role in 1971 War
26
February

ایک ایسے وقت میں جب ہمارے سیاسی زعماء برطانوی حکومت کے دباؤ میں آ کر متحدہ ہندوستان کے آئینی خاکے پر اٰمناو صدقنا کی صدائیں بلند کر رہے تھے، علامہ اقبالؒ نے حکومتِ برطانیہ کی سامراجی دانش اور انڈین نیشنل کانگریس کی عیار عقل کا‘ باشعور جنوُں کے ساتھ‘ مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔انہوں نے اپنی عاشقانہ آواز بلند کر کے برطانوی ہند کو ایک نہیں بلکہ کئی قوموں کا مسکن ثابت کیا۔ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک براعظم ہے۔ یورپ سے بھی بڑا، جہاں مختلف اور باہم متصادم قومیں آباد ہیں۔ اقبالؒ نے سرسیّداحمد خان کے اس استدلال کو نئی عصری معنویت بخشتے ہوئے اعلان کیا کہ برطانوی ہند کی اِن بہت سی قوموں میں سے ایک جدید قوم اسلامیانِ ہند پر مشتمل ہے۔ آج یہ منفرد اور جُداگانہ مسلمان قوم اپنی اکثریت کے علاقوں میں الگ، آزاد اور خود مختار مملکتوں کا قیام چاہتی ہے۔ ہرچند برطانوی حکومت اور کانگریسی سیاست برٹش انڈیا کی اِن تمام قوموں کو ایک متحدہ ہندوستانی قوم کی صورت دینے میں سرگرمِ عمل تھی تاہم اقبالؒ نے اپنے خطبۂ الہ آباد میں پورے یقین کے ساتھ اس حقیقت کا انکشاف فرمایا کہ متحدہ ہندوستانی قومیت کی تعمیر کی خاطر اسلامیانِ ہند اپنی جداگانہ اسلامی شناخت کومٹانے یا دھندلانے پر کسی صورت میں بھی تیار نہ ہوں گے۔

علامہ اقبالؒ نے اپنے اسی خطبۂ صدارت میں جداگانہ مسلمان قومیت کی گہری فکری بنیادوں کو اُستوار کیا۔ انہوں نے فلسفیانہ استدلال کے ساتھ ثابت کیا کہ اسلامیانِ ہند نیشنلزم کے جدید ترین سیاسی تصورات کی رُو سے بھی اور اسلام کے ابدی اور آفاقی اصولوں کی بدولت بھی برطانوی ہند کی سب سے زیادہ مربوط اور مستحکم قوم ہیں۔ مسلمان قومیت کی تعمیر اور استحکام میں دینِ اسلام کے بُنیادی کردار کو اُجاگر کرتے ہوئے اقبال نے فرمایا کہ

"It can not be denied that Islam, regarded as an ethical ideal plus a certain kind of polity, by which expression I mean a social structure regulated by a legal system and animated by a specific ethical ideal, has been the chief formative factor in the life history of the Muslims of India. It has furnished those basic emotions and loyalties which gradually unify scattered individuals and groups and finally transform them into a well-defined people. Indeed it is no exaggeration to say that India is, perhaps, the only country in the world where Islam as a society is almost entirely due to the working of Islam as a culture inspired by a specific ethical ideal. What I mean to say is that Muslim society, with its remarkable homogeneity and inner unity, has grown to be what it is under the pressure of the laws and institutions associated with the culture of Islam."

اوپر کے اقتباس میں اقبالؒ نے اسلامیانِ ہند کی اجتماعی ہستی کی صورت گری میں دینِ اسلام کے فیضان کی بڑے بلیغ انداز میں وضاحت فرمائی ہے۔ اقبالؒ کا کہنا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور منفرد تہذیب و معاشرت اسلام کے معاشرتی اور روحانی اصولوں پر مبنی ہے۔ اسلام سے اٹوٹ وابستگی ہی نے ہندی مسلمانوں کو ایک منتشر ہجوم سے ایک متحد و مستحکم قوم بنایا ہے۔ اگر وہ، خدانخواستہ اسلام کے اجتماعی اصولوں سے روگردانی کرتے ہوئے متحدہ ہندوستانی قومیت کے فریب میں مبتلا ہو گئے تو وہ پھر سے ایک منتشرہجوم بن کر رہ جائیں گے۔ اقبالؒ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مومنانہ فراست کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ اسلامیانِ ہند یہ قربانی دینے پر ہرگز آمادہ نہ ہوں گے ، وجہ یہ کہ

"The religious ideal of Islam is organically related to the social order which it has created. The rejection of the one will eventually involve the rejection of the other. Therefore the construction of a polity on (Indian) national lines, if it means a displacement of the Islamic principle of solidarity, is simply unthinkable to a Muslim. This is a matter which at the present moment directly concerns the Muslims of India."

اوپر کے اقتباس میںیہ کہا گیا ہے کہ اسلام کا مذہبی مسلک اورمعاشرتی مسلک ایک دوسرے کے ساتھ عضویاتی طورپر منسلک ہیں۔ ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامیانِ ہند کو اپنی قومی زندگی کے اس نازک موڑ پر یہ جان لینا چاہئے کہ اگر وقتی سیاسی مصلحت کے زیرِ اثر وہ اس وقت ایک مسلک ترک کر دیں گے تو بالآخر انہیں دوسرا مسلک ترک کرنے پر بھی مجبور کر دیا جائے گا۔ اس باب میں انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اسلامیانِ ہند متحدہ ہندوستانی قومیت کے استحکام کی خاطر اپنے دینی مسلک کو ہر گز ترک نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ ایک مسلمان ایسا سوچ تک نہیں سکتا۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اقبالؒ کا یہ دعویٰ عام مسلمان کی حد تک تو درست تھا مگر موروثی سیاستدانوں کی حد تک غلط تھا۔ خود اقبالؒ اس حقیقت سے واقف تھے۔ اُن کی بیشتر توجہ مسلمان عوام پر مرکوز تھی۔ سیاسی دُنیا میں اُنہیں فقط ایک ہی ایسا شخص نظر آتا تھا جو برطانوی حکومت کے ’’اثر‘‘ سے آزاد تھا اور کانگرسی استدلال کے جادو کا توڑ رکھتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے قائداعظم کی نادر روزگار ہستی کو اسلامیانِ ہند کے لئے ایک نعمتِ غیرمترقبہ جانا اور اُن سے مسلسل محوِ گفتگو رہے۔ یہ گفتگو اقبالؒ کی وفات کے دو سال بعد سن چالیس کی قراردادِ پاکستان کی صورت میں رنگ لائی۔

تحریکِ آزادی کے آخری مرحلے کو ہم تحریکِ پاکستان سے تعبیر کرتے ہیں۔ قائداعظم نے سن چالیس سے سن سنتالیس تک کے مختصر وقفۂ زماں میں ہمارے نظریاتی سفر کے ہر ارتقائی مرحلے پر پیش کئے گئے استدلال کے بنیادی عناصر کو اپنے منفرد استدلال میں جذب کر کے جداگانہ مسلمان قومیت کے تصور کو ایسی تکمیلی شان بخشی کہ دوست دشمن دنگ رہ گئے۔ اِن سات سالوں کے دوران ہمارے قائداعظم نے سیاسی محاذ کے ساتھ ساتھ نظریاتی محاذ پر بھی خوب دادِ شجاعت دی ہے۔ یہاں میں اُن کے فقط ایک انٹرویو کا حوالہ دینا کافی سمجھتا ہوں۔ انگریز مصنف بیورلی نکلس نے گفتگو کے دوران جب تحریکِ پاکستان کے مخالفین کی جانب سے انگریز حکمرانوں کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا ذکر کیا تو وہ اُٹھے، اپنے دارالمطالعہ سے ایک کتاب "The Speeches of John Bright" اُٹھا لائے اور ہاؤس آف کامنز میں ۴جون ۱۸۵۸ء کی تقریر کی جانب اشارہ کیا۔ جان برائٹ نے اپنی اس تقریر میں ہندوستان کو بیس قوموں کا مسکن ٹھہراتے ہوئے کہا تھاکہ جب تک حکومت برطانیہ ان قوموں کو اپنے نظام میں متحد رکھے گی ہندوستان پر حکومت کرتی رہے گی۔ قائداعظم نے ہندوستان میں برطانوی راج کے استحکام کو’’متحد رکھو اور حکومت کرو‘‘کی حکمت عملی کا شاخسانہ قرار دیا اور کہا کہ اس کے برعکس میرا مطالبہ یہ ہے کہ ’’تقسیم کرو اور چلتے بنو‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ایک صدی قبل ہندوستان میں بیس قومیں موجود تھیں اُسی طرح آج بھی موجود ہیں مگر فی الوقت ہمارا سروکار فقط دوقوموں سے ہے۔

ہندو اور مسلمان جو اس وقت ایک دوسرے کے مدمقابل خم ٹھونک کر کھڑے ہیں۔ ہم اس وقت باقی ماندہ قوموں کی بیداری اور آزادی کی بات نہیں چھیڑتے ۔ وہ جانیں اور اُن کا کام۔ ہم اپنی مسلمان قوم کی آزادی اور خود مختاری کی جنگ لڑ رہے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی اکثریت کے علاقوں میں ہمیں آزاد اور خود مختار ریاستوں کے قیام کا حق دیا جائے۔ اس انٹرویو میں جو سوال جواب ہوئے اُن میں سے کچھ حصہ من وعن یہاں درج کیا جاتا ہے:

SELF: When you say the Muslims are a Nation, are you thinking in terms of religion? JINNAH: You must remember that Islam is not merely a religious doctrine but a realistic and practical Code of Conduct. I am thinking in terms of life, of everything important in life. I am thinking in terms of our history, our heroes, our art, our architecture, our music, our laws, our jurisprudence..."

SELF: Please, I would like to write these things down. JINNAH: (after a pause) In all these things our outlook is not only fundamentally different but often radically antagonistic to the Hindus. We are different beings. There is nothing in life which links us together. Our names, our clothes, our foods __ they are all different; our economic life, our educational ideas, our treatment of women, our attitude to animals ...we challenge each other at every point of the compass. What have you written down?

SELF: I have only written 'The Muslims are a Nation'. JINNAH: And do you believe it? SELF: I do."

درج بالا گفتگو کے دوران قائداعظم نے جن بنیادی صداقتوں کو پیش کیا ہے اُن میں سے پہلی صداقت یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ دوسری یہ کہ قیام پاکستان کا مطالبہ محدود معنوں میں مذہبی رسمیات پر مبنی نہیں بلکہ اسلامی طرزِ حیات کی سربلندی کی تمناؤں سے پھوٹا ہے۔ تیسری یہ کہ اسلامی طرزِ حیات اور ہندو طرزِ حیات باہم متصادم ہیں۔ ہم صرف رسمی معنوں میں دو الگ الگ مذہبی گروہ ہی نہیں ہیں بلکہ حقیقی معنوں میں دو ایسے جداگانہ اور منفرد وجود ہیں جو زندگی کے ہر مقام اور ہر مرحلے پر ایک دوسرے کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم میں سے ایک کا خوب دوسرے کا ناخوب ہے اور ایک کا ہیرو دوسرے کا وِلن ہے۔ چوتھی یہ کہ مسلمان اپنے انفرادی وجود اور اپنی اجتماعی ہستی کو ہر صورت میں قائم رکھیں گے۔ قائداعظم کے اِس زور دار حقیقت پسندانہ استدلال کو سن کر انگریزی مصنف پکار اُٹھا کہ ہندی مسلمان واقعتا ایک الگ قوم ہیں۔

جب برطانوی رائے عامہ کے نمائندوں نے مسلمانوں کو ایک الگ قوم تسلیم کر لیا تو برطانوی حکومت کو بھی اس حقیقت کی تصدیق کرنا پڑی۔ جب انتخابات میں اسلامیانِ ہند کی بھاری اکثریت نے قائداعظم کی حکمت اور حکمت عملی پر مہر تصدیق ثبت کر دی تو انڈین نیشنل کانگرس کو بھی بہ امر مجبوری قیام پاکستان اور اُس کے نتیجے میں ہندوستان کی تقسیم کی تاب لاتے ہی بنی۔ اگست سن سنتالیس میں پاکستان قائم ہوا اور اُسی سال مہاتما گاندھی نے ہمیں دو قومی نظرئیے کو فراموش کر دینے کا درس دینا شروع کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ بھارتی حکومت دو قومی نظرئیے سے خائف کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب بہت آسان اورسیدھا سادا ہے۔ متحدہ ہندوستانی قومیت کے پرستاروں کے لئے دو قومی نظرئیے کا مطلب یہ بھی ہے کہ نہ توہندوستان ایک ملک ہے اور نہ ہی ہندوستانی ایک قوم ہیں۔ ہندوستان ایک برصغیر ہے جس میں کئی قومیں آباد ہیں۔ سن سنتالیس میں اُن میں سے مسلمان قوم نے اپنی اکثریت کے علاقوں میں پاکستان قائم کر لیا تھا مگر باقی ماندہ قوموں میں سے چند قومیں رفتہ رفتہ بیدار ہوئیں اور جداگانہ مسلمان قومیت کے علمبرداروں کی مثال سامنے رکھ کر اس وقت آزادی اور خودمختاری کی راہوں پر گامزن ہیں۔ ایسے میں بھارتی قیادت کا یہ مؤقف سمجھنا آسان ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی دو قومی نظریہ ختم ہو کررہ گیا تھا۔ یہ سمجھنا بھی کچھ ایسا مشکل نہیں کہ جب کوئی پاکستانی دانشور یا سیاستدان دو قومی نظرئیے سے دستبرداری کا اعلان کرتا ہے تو بھارتی قیادت اُسے سرآنکھوں پر کیوں بٹھاتی ہے؟ اس لئے کہ بھارتی قیادت جانتی ہے کہ دو قومی نظریہ تہ در تہ مفاہیم کا حامل ہے۔ بھارتی حکومت نہیں چاہتی کہ آسام اور کشمیر کے خطوں میں زور پکڑتی ہوئی آزادی کی تحریکیں بھی تحریکِ پاکستان کی نظریاتی اساس سے روشنی لیں۔

ہم تو بھارت کی ملکی سالمیت کے حق میں ہیں مگر اس کا کیا کیا جائے کہ دو قومی نظریہ کی رو سے بھارت میں کئی قومیں آباد ہیں اور اُن میں سے ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ماضی کے تسلسل میں اپنی منفرد معاشرتی اور تہذیبی شناخت کو سنوارنے، نکھارنے اور ترقی دینے کے لئے اپنی اکثریت کے علاقوں میں آزاداورخو د مختار ریاستیں قائم کریں۔ بھارت کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اِن میں سے کسی ایک خطۂ زمین پر بسنے والوں سے یہ کہے کہ ہم مذہب کی بنیاد پر کئے گئے آزادی اور خودمختاری کے مطالبات تسلیم نہیں کریں گے۔ بھارت کا یہ مؤقف بنیادی انسانی حقوق کی بھی صریح خلاف ورزی ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی۔ دو قومی نظریئے سے دستبردار ہونے والے اِکا دُکا پاکستانی دانشوروں اور سیاستدانوں سے پہلے ذرا انسانی آزادی کے اس چارٹر کو غورسے پڑھ لیں اور پھر یہ سوچیں کہ وہ اس عظیم تصور سے کیوں دستبردار ہو رہے ہیں؟

(پروفیسر فتح محمد ملک ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it..

 
26
February

اکثر حقانی نیٹ ورک کی موجودگی اور اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی پر بھی سوال اٹھایا جاتا ہے۔ جو میں نے بھی اپنے دورے کے دوران اٹھایا اور اس کا تسلی بخش جواب مجھے الفاظ میں نہیں بلکہ اعمال اور زمینی حقائق کے ساتھ دیا گیا۔ ان علاقوں اور جگہوں کا دورہ کروایا گیا جہاں حقانی دہشت گرد پناہ رکھتے تھے۔ ان کے تباہ شدہ ٹھکانوں کو دکھایا گیا۔ ان کے زیراستعمال اشیاء اور مختلف سواریاں (جن میں ایک American Humveeاور افغان پولیس کی ایک گاڑی بھی تھی) دکھائی گئیں۔ ہلاک شدہ دہشت گردوں کی تعداد کی فہرست بھی دکھائی گئی۔

15 جون سے شروع ہونے والے آپریشن ضربِ عضب میں اب تک جبکہ یہ سطور لکھی جا رہی ہیں1337 دہشت گرد جہنم واصل کئے جا چکے ہیں اور 226 جری اور غیور فوجی جوان شہادت کے عظیم ترین مقام کو پہنچ چکے ہیں‘216 زخمی ہیں۔ ان 5ماہ کے دوران شمالی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ دہشت گردوں سے صاف کروایا جا چکا ہے جو اس کی کامیابی کی بڑی دلیل ہے۔ شمالی وزیرستان جسے دہشت گردوں کی جنت کہا جاتا تھا اب اُن کے لئے جہنم بن چکا ہے ان کے گھرجہاں وہ معصوم پاکستانیوں کے قتل کے منصوبے تیار کرتے تھے‘ ان کی اپنی قبریں بن چکی ہیں۔ وہ پاک مساجد جہاں وہ ناپاک نیتیں باندھتے تھے وہاں ان کے جنازے پڑھنے والا بھی کوئی نہیں۔ وہ بازار جہاں وہ مہلک ہتھیاروں اور بارود کی خریدو فروخت کرتے تھے اور معصوم قبائلی پاکستانیوں کو اپنی من گھڑت اور من پسند شریعت کی بنا پر سزا و جزا کے فیصلے سناتے تھے‘ اب وہ ان دہشت گردوں کی اپنی تباہی کی داستانیں سناتے ہیں۔

jarri azab kari2یہ تھے وہ تمام حالات جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے جب آپریشن ضربِ عضب کے آغاز سے اب تک بطورِ پہلی خاتون صحافی میں نے میرعلی اور میران شاہ کا دورہ کیا۔ علاقے کا فضائی منظر سوائے پہاڑوں‘ ٹیلوں‘ چٹیل میدانوں‘ پوزیشن سنبھالے چوکس فوجی جوانوں اور سربلند لہراتے سبز ہلالی پرچموں پر مشتمل نظر آتا ہے۔ اور جب آپ زمین پر اتریں تو بھی منظر یہی رہتا ہے۔ فضا میں گہرا سکوت اور ٹھہراؤ جس میں ارتعاش پیدا کرتے فوجی بوٹ اور بھاری بھر کم فوجی گاڑیاں دیکھ کر اچھا لگا کہ اپنے ہی ملک کا وہ علاقہ جہاں کبھی دہشت گرد آزادانہ گھومتے تھے اور فوج کا گشت مشکل تھا وہاں آج صورت حال بالکل الٹ ہے۔ اب دہشت گرد چوہوں کی مانند پہاڑوں کے بلوں میں جائے پناہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ وہ جگہ جہاں ہر دہشت گرد تنظیم کا جھنڈا تو لہراتا تھا لیکن پاکستان کا پرچم نہیں۔ وہاں آج صرف اور صرف سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔

5ماہ کی ان بہترین کامیابیوں اور جوانوں اور افسروں کی عظیم قربانیوں کے باوجود ابھی بھی آپریشن ضرب عضب پر کچھ حلقوں اور افراد کی جانب سے سوالات اور اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ میں یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ آپریشن ضرب عضب میں جہاں جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں وہاں افسران بھی اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہیں۔ ہر12جوانوں کے ساتھ ایک فوجی افسر کی شہادت شامل ہے۔ دنیا کی تاریخ کے کسی بھی آپریشن میں جوانمردی کی ایسی مثال نہیں ملتی تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان بے مثال قربانیوں کے باوجود آپریشن ضرب عضب پر سوالات اور اعتراضات ؟ اس کے لئے میں آپ کو واپس اپنے کالم کے آغاز میں لے جاؤں گی جہاں شمالی وزیرستان دہشت گردوں کی جنت کہلاتا تھا۔ اور عام پاکستانی کے لئے یہ ناقابل فہم ہے کہ اتنے کم عرصے میں 90فیصد علاقہ صاف کیسے ہو گیا جبکہ تاریخی طور پر یہ بھی ثابت ہے ۔ دہشت گردوں کے حوالے سے ہم سے بھی کوتاہیاں ہوئیں۔ لیکن ماضی میں غلطیاں ہم سے ہوئی ہیں اگر مستقبل ٹھیک کرنا ہے تو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر حال میں ایک دوسرے پر الزام ترشی کئے بغیر خلوص کے ساتھ اکٹھے کام کرنا ہے اورپاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی اور برائی سے پاک کرنا ہے۔ دوسرے ایک لمبے عرصے سے فاٹا اور خاص طور پر وزیرستان ایجنسی میں صحافیوں کا آزاد داخلہ اور رپورٹنگ مشکل ہے۔ جس کی وجہ سے حقائق دوسرے علاقوں کے عوام تک پہنچ نہ پائے۔ اور اس نے بھی بہت سے شکوک کو جنم دیا۔ تیسرے بہت سے ملکی اور غیرملکی عناصر اپنے مختلف مقاصد کے تحت ان شکوک و شبہات کو ہوا دیتے ہیں یا مزید بے بنیاد شکوک کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام وجوہات کا جلد یا بدیر مستقل حل تلاش کیا جائے۔

اکثر حقانی نیٹ ورک کی موجودگی اور اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی پر بھی سوال اٹھایا جاتا ہے۔ جو میں نے بھی اپنے دورے کے دوران اٹھایا اور اس کا تسلی بخش جواب مجھے الفاظ میں نہیں بلکہ اعمال اور زمینی حقائق کے ساتھ دیا گیا۔ ان علاقوں اور جگہوں کا دورہ کروایا گیا جہاں حقانی دہشت گرد پناہ رکھتے تھے۔ ان کے تباہ شدہ ٹھکانوں کو دکھایا گیا۔ ان کے زیراستعمال اشیاء اور مختلف سواریاں (جن میں ایک American Humveeاور افغان پولیس کی ایک گاڑی بھی تھی) دکھائی گئیں۔ ہلاک شدہ دہشت گردوں کی تعداد کی فہرست بھی دکھائی گئی اور آن ریکارڈ بتایا کہ ہلاک‘ زخمی jarri azab kariاور گرفتار دہشت گردوں میں حقانی نیٹ ورک کے لوگ بھی ہیں اور اسی بات کا اعادہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے کامیاب دورہ امریکہ میں بھی کیا کہ آپریشن ضرب عضب میں تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا کسی تفریق کے کارروائی کی جا رہی ہے۔ اب کوئی Good Taliban, Bad Talibanنہیں ہے اور اس کا مزید ثبوت خیبرایجنسی میں جاری آپریشن بھی ہے۔ کہ جن دہشت گردوں نے آپریشن ضرب عضب سے بچنے کی خاطر خیبر میں پناہ لینی چاہی ان کے لئے وہاں بھی دلیر فوجی شیر قہر بن کر ٹوٹ پڑے۔ ایک اور سوال امریکی ڈرون حملوں کا اٹھایا جاتا ہے کہ اگر آپریشن ضرب عضب اتنی کامیابی سے جاری ہے تو پھر ڈرون حملے کیوں؟ اس پر تسلیم کرنا پڑے گا کہ دفتر خارجہ خاص طور پر ترجمان تسنیم اسلم صاحب کو مزید فعال اور دوٹوک انداز میں اس کا مدلل جواب سامنے لانا پڑے گا۔ لیکن ڈرون حملوں کی بنیاد پر پورے آپریشن پر اعتراض کرنا اور اس کی باقی تمام کامیابیوں کو نظر انداز کرنا ناانصافی ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ مزید فعال انداز میں میڈیا پر آپریشن ضرب عضب کی رپورٹنگ کی جائے اور مکمل آزادی اور دیانت داری کے ساتھ اس کے ہر پہلو کو اجاگر کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایک گرینڈ جرگہ یا قومی کانفرنس بلائی جانی چاہئے جس میں تمام طبقہ کے لوگوں کو مدعو کیا جائے۔ خاص طور پر ان حلقوں کو جنہوں نے آپریشن کی اب تک کی کامیابیوں پر سوالات اُٹھائے ہیں اور کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کیا جائے تاکہ آنے والے دنوں یا مہینوں کی کامیابیوں کو متحد ہو کر ایک عہد کی کامیابی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم ٹی ڈی پیز کی دیکھ بھال اور ان کے گھروں اور علاقوں میں ان کی بحفاظت واپسی‘ محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لئے کوشش کو مزید تیز کرنا ہو گا۔ اس کے لئے حکومت اور فوج دونوں طرف نیت کا اخلاص تو ضرور موجود ہے ضرورت صرف عمل تیز کرنے کی ہے۔ اور آخر میں صرف اتنا کہ جاری عضب کی کاری ضرب ہی پاکستان کے بہتر مستقبل کی نبض ہے۔ ہم سب نے فوجی جوانوں کے ساتھ مل کر اس نبض میں خون رواں کرنا ہے اور اپنی سانسیں پھونکنا ہیں۔

(یہ مضمون سانحہ پشاور سے پہلے لکھا گیا)

26
February

نومبر میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم برائے علاقائی ترقی ’’سارک‘‘کی اٹھارہویں سربراہی کانفرنس کے موقع پر توقع کی جارہی تھی کہ کانفرنس کے باقاعدہ اجلاسوں سے ہٹ کر پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف اور اُن کے بھارتی ہم منصب نریندرامودی کے درمیان بھی ملاقات ہوگی اور اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان امن بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوجائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔بھارت کی طرف سے اس ملاقات میں کسی قسم کی دلچسپی ظاہر نہ کی گئی۔ حالانکہ نیپال کی حکومت کی طرف سے جو اس سربراہی کانفرنس کی میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہی تھی، اس ملاقات کوممکن بنانے کے لئے بھر پور کوشش کی گئی تھی۔ نیپال کے وزیرتجارت سنیل بہادر تھاپا تو اس بارے میں بہت پُر اُمید تھے اور انہوں نے اس بات کی کہ تصدیق کی کہ اس ملاقات کے لئے سازگار ماحول اور موقع پیدا کرنے کے لئے کھٹمنڈو سے باہر دُھلی کھیل کے تفریحی مقام پر کانفرنس میں شریک سربراہانِ مملکت اور حکومت کے لئے ایک غیر رسمی گیٹ ٹو گیدر(Get Together)کا اہتمام کیا جائے گا۔ کانفرنس کے انعقاد سے کئی روز قبل بھارتی میڈیا بھی پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کے بارے میں مثبت اشارے دے رہا تھااور یہ کہا جارہا تھا کہ اس ملاقات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیاجاسکتا۔کانفرنس کے باقاعدہ اجلاس سے ایک روز قبل سارک وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس میں سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سواراج کے درمیان مختصر سی رسمی ملاقات ہوئی تھی۔اجلاس کے خاتمہ کے بعد جب اُن سے اخباری نمائندوں نے سارک کانفرنس کے اگلے روز کے اجلاس کے دوران یا اس سے ہٹ کر نوازشریف مودی ملاقات کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بھی اسے یکسرمسترد نہیں کیا تھا بلکہ اُمید کی ہلکی سی کرن کی جھلکی دکھاتے ہوئے کہا کہ ’’کل کا انتظار کیجئے‘‘ لیکن جب کانفرنس کا باقاعدہ اجلاس شروع ہوا تو بھارتی وزیراعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب محمدنوازشریف کی جانب انتہائی بے اعتنائی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے اس قسم کی ملاقات اور دونوں ملکوں میں جاری ڈیڈ لاک کے خاتمے کی تمام اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔

سارک کی گزشتہ تقریباََ تیس برس کی تاریخ کے دوران سارک کے ممبران ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور اُلجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے میں مدد ملی ہے۔ حالانکہ سارک کا چارٹر تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان دوطرفہ یا متنازعہ مسائل پر بحث کی اجازت نہیں دیتالیکن بھارتی وزیراعظم نے سارک سے وابستہ اس اہم اور مفید روایت کو جاری رکھنے کی بجائے وزیراعظم محمد نوازشریف سے ملاقات نہ کر کے اسے ایک بھاری دھچکا لگایا جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے خطے کے عوام کو سارک سے رہی سہی اُمیدیں بھی ختم ہوگئی ہیں۔

حالانکہ ماضی میں ایسی ایک سے زیادہ مثالیں موجود ہیں جہاں سارک کی سربراہی کانفرنسوں کے موقع پر ایک مقام پر موجود ہونے کی وجہ سے پاکستانی اور بھارتی رہنماؤں نے غیر رسمی اور کانفرنس سے ہٹ کر ملاقات کرکے پاک۔بھارت تعلقات میں پائے جانے والے جمود کو توڑا ہے۔2002میں منعقد کی جانے والی سارک کی بارھویں سربراہی کانفرنس کو اس ضمن میں ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستانی کے اُس وقت کے صدر پرویز مشرف نے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کر کے موجودہ امن مذاکرات کی بنیاد رکھی تھی۔ اس سے قبل ایک اور بھارتی وزیراعظم اندرکمار گجرال اور اُن کے اُس وقت کے پاکستانی ہم منصب محمد نوازشریف نے بھی مالدیپ میں سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کر کے دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کے تعطل کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اُن کی اسی ملاقات کے نتیجے میں چار سال کے تعطل کے بعد1997میں پاک۔ بھارت کمپوزٹ ڈائیلاگ کی بنیاد پر مذاکرات کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں نہ صرف 1999 میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی لاہور تشریف لائے بلکہ ان مذاکرات کو 2004 میں شروع ہونے والے امن مذاکراتی عمل کا پیش خیمہ بھی کہاجاتا ہے۔

اتفاق رائے سے فیصلہ سازی کے عمل کے علاوہ بھارت کے اصرار پر دوطرفہ سیاسی اور متنازعہ مسائل کو بھی سارک سے باہر رکھا گیا ہے۔حالانکہ رُکن ممالک کی اکثریت اس بات کی حامی ہے کہ سارک کو خطے میں موجود تنازعات کو حل کرنے میں مدد گار ہونا چاہیے۔اس مطالبے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جب تک امن نہیں ہوگا،ترقی نہیں ہوگی اور امن صرف اُس صورت میں ہی قائم ہوسکتا ہے جب باہمی تنازعات کو حل کیا جائے۔دنیا میں قائم شُدہ باقی علاقائی تنظیموں کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے پہلے آپس میں سیاسی اختلافات اور دیگر جھگڑے طے کئے‘ لیکن بد قسمتی سے جنوبی ایشیا میں ایسا نہیں ہوسکا۔

سارک کی سربراہی کانفرنسوں میں جنوبی ایشیا کے ملکوں کے رہنماؤں کے اجتماع سے صرف پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کے لئے راہ ہموار نہیں ہوئی بلکہ ان مواقع سے بھارت کے سری لنکا اورنیپال کے ساتھ بھی اختلافات اور ناراضگی کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح سارک کی گزشتہ تقریباََ تیس برس کی تاریخ کے دوران سارک کے ممبران ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور اُلجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے میں مدد ملی ہے۔ حالانکہ سارک کا چارٹر تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان دوطرفہ یا متنازعہ مسائل پر بحث کی اجازت نہیں دیتالیکن بھارتی وزیراعظم نے سارک سے وابستہ اس اہم اور مفید روایت کو جاری رکھنے کی بجائے وزیراعظم محمد نوازشریف سے ملاقات نہ کر کے اسے ایک بھاری دھچکا لگایا جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے خطے کے عوام کو سارک سے رہی سہی اُمیدیں بھی ختم ہوگئی ہیں۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سارک کوزیادہ فعال بنانا چاہتے ہیں کیونکہ اُنہیں یقین ہے کہ سارک کی چھتری تلے خطے کے ممالک اپنی معیشت کو ترقی دے کر غربت اور پس ماندگی کو مٹا سکتے ہیں لیکن بھارت جو شروع میں سارک کا بہت بڑا حامی تھا‘ اس راستے میں رکاوٹ ہے۔سارک کو مضبوط اور زیادہ فعال بنانے میں مدد فراہم کرنے کی بجائے بھارت کی تمام تر توجہ سارک کے خطے سے باہر واقع ممالک کے ساتھ تجارتی اور معاشی روابط بڑھانے پر مرکوز ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی کا یہ فعل دراصل سارک کے بارے میں بھارت کے منافقانہ رویے کا نتیجہ ہے۔ایک طرف تو بھارت سارک کا چیمپئین ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور دوسری طرف اس کی تجارتی اور معاشی تعاون پر مشتمل پالیسیوں کا مرکز جنوبی ایشیا کی بجائے دنیا کے دیگر حصے مثلاََ جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ بعید،مشرقِ وسطیٰ،خلیج فارس، افریقہ، یورپ اور امریکہ ہیں۔کھٹمنڈو میں سارک کی سربراہی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے خود اعتراف کیا کہ بھارتی کمپنیاں دنیا بھر میں سرمایہ کاری کرتی پھرتی ہیں۔لیکن اپنے علاقے یعنی جنوبی ایشیا میں وہ اپنے سرمائے کا ایک فیصد بھی نہیں لگاتیں۔خود مودی نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے اُنہوں نے جنوبی ایشیا میں صرف نیپال اور بھوٹان کا دورہ کیا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ ان دونوں ملکوں میں چین کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے جس کے آگے بندھ باندھنے کے لئے مودی نے ان دو ممالک کی قیادت سے رابطہ قائم کرنا ضروری سمجھا۔ لیکن اسی دوران بھارتی وزیراعظم نے جاپان اور آسٹریلیا کا دورہ کیا اور ان دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم سے مل کر بھارت کے ساتھ سٹرٹیجک پارٹنرشپ کا رشتہ استوار کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت اور معاشی تعاون کوفروغ دینے کے معاہدات پر دستخط بھی کئے۔

خطے کے چھوٹے ممالک کے ساتھ بھارت کے غیرمنصفانہ تجارتی تعلقات، علاقائی تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو بھارت سے یہی ایک شکایت ہے کہ دوطرفہ تجارت کی آڑ میں بھارت ان ممالک کی معیشت اور منڈیوں پر چھا جانا چاہتا ہے۔پیہم اور متواتر مطالبات کے باوجود بھارت نے ایک غیر ہموار دوطرفہ تجارتی تعلقات کے نظام کو درست کرنے کی طرف ضروری قدم نہیں اُٹھایا اور یہی سارک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

1990کی دہائی کے آغاز سے بھارت جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ بعید کے ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی،معاشی اور ثقافتی روابط کو گہرا کرنے کی ایک پالیسی پر عمل پیرا ہے جسے لُک ایسٹ(Look East)پالیسی کا نام دیاگیا تھا۔سابقہ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جو اُس وقت بھارت کے وزیرخزانہ تھے‘ اس پالیسی کے معمار تھے۔اس پالیسی پر عمل پیرا ہوکردراصل بھارت نے سارک کو نظرانداز کیا اور اس پالیسی کی وجہ سے نئی دہلی کو اپنے چھوٹے ہمسایہ ممالک کی تنقید کا بھی نشانہ بننا پڑا۔حالانکہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کا تصور اُس نے پیش کیا تھا اس سلسلے میں1948میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والی پہلی ایشین ریلیشنز کانفرنس کا نام لیا جاتا ہے۔اس کانفرنس میں پاکستان نے شرکت نہیں کی تھی کیونکہ اُس وقت پاکستان کی زیادہ توجہ پین اسلام ازم یا اسلامی ملکوں کے ایک متحدہ بلاک کی تشکیل پر مرکوز تھی۔1950کی دہائی میں جب پاکستان امریکہ کی سرکردگی میں تشکیل پانے والے دفاعی معاہدوں یعنی سیٹو اور بغداد پیکٹ (بعد میں سنٹو) میں شامل ہوگیا تو اُس کی توجہ جنوبی ایشیاسے اور بھی ہٹ گئی۔

تاہم1970کی نصف دہائی کے بعد جب بنگلہ دیش کے صدر ضیا ء الرحمن نے جنوبی ایشیائی ممالک کی ایک تنظیم برائے علاقائی تعاون کے لئے کوششوں کا آغاز ہوا تو پاکستان نے ان کی حمایت کی۔جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون کے قیام کے لئے خطے کے چھوٹے ممالک کا جوش وخروش دیکھ کر بھارت بھی ان کوششوں میں شامل ہوگیا۔تاہم اب اُسے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ برابری کی بنیاد پر اگر جنوبی ایشیا کے سات ممالک پر مشتمل ایک تنظیم برائے علاقائی تعاون اور ترقی معرضِ وجود میں آتی ہے تو اہم فیصلوں کی گھڑی میں خطے کے باقی چھ ممالک اکثریت کی بنیاد پر بھارت کے موقف سے مختلف فیصلہ کر سکتے ہیں۔اس کا توڑ نکالنے کے لئے بھارت نے اکثریتMajorityکی بجائے اتفاق رائے Unanimity کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے اصول کو تسلیم کرنے پر زور دیا۔اس کے علاوہ بھارت کے ہی اصرار پر یہ اصول بھی سارک چارٹر میں شامل کیا گیا کہ دوطرفہ یا متنازعہ مسائل تنظیم کے پلیٹ فارم پر زیربحث نہیں لائے جائیں گے۔1985میں جب ڈھاکہ میں سارک کی بنیاد رکھی گئی تھی تو بھارت کے اصرار پر ان دونوں اصولوں کو سارک کے چارٹر میں شامل کر لیا گیااور مبصرین کی نظر میں سارک کی سست روی کا سبب بھی یہی دو اصول ہیں کیونکہ ان کی موجودگی میں بھارت کی رضا مندی کے بغیر سارک علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لئے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرسکتی۔

بھارت کی طرف سے ان دونوں اصولوں کو سارک کے چارٹر کا حصہ بنانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسے ڈر تھا کہ جنوبی ایشیا کے چھوٹے ممالک اس کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنالیں گے اور ایسا ہونا عین ممکن تھا کیونکہ جنوبی ایشیا کا کوئی بھی ملک بھارت سے خوش نہیں۔صرف پاکستان سے تنازعات ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک مثلاََ نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ بھی بھارت کے کئی جھگڑے ہیں۔اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ سارک کے فریم ورک میں فیصلہ سازی کے عمل کو خطے کے دیگر رُکن ممالک اکثریت کی بنیاد پر بھارت کے لئے استعمال نہ کرسکیں‘اتفاق رائے کی شق کو سارک کے چارٹر میں شامل کردیاگیا۔جب سارک کا چارٹر تیار ہورہا تھا تو بھارت کے علاوہ جنوبی ایشیا کے دیگر تمام ممالک فیصلہ سازی میں اکثریت کے اصول کے حامی تھے لیکن بھارت نے تنظیم میں اپنی شمولیت کو اتفاق رائے کی شق کی شمولیت سے مشروط کر کے باقی ممالک کے لئے کوئی اور راہ نہ چھوڑی۔لیکن اسی شق کی وجہ سے ابتداء سے ہی بھارت اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے درمیان سارک کی کارکردگی کے مسئلہ پر اختلافات اور بدگمانی کی ایک خلیج پیدا ہوگئی جو وقت گزرنے کے ساتھ وسیع ہوتی جارہی ہے۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سارک کوزیادہ فعال بنانا چاہتے ہیں کیونکہ اُنہیں یقین ہے کہ سارک کی چھتری تلے خطے کے ممالک اپنی معیشت کو ترقی دے کر غربت اور پسماندگی کو مٹا سکتے ہیں لیکن بھارت جو شروع میں سارک کا بہت بڑا حامی تھا‘ اس راستے میں رکاوٹ ہے۔سارک کو مضبوط اور زیادہ فعال بنانے میں مدد فراہم کرنے کی بجائے بھارت کی تمام تر توجہ سارک کے خطے سے باہر واقع ممالک کے ساتھ تجارتی اور معاشی روابط بڑھانے پر مرکوز ہے۔

اتفاق رائے سے فیصلہ سازی کے عمل کے علاوہ بھارت کے اصرار پر دوطرفہ سیاسی اور متنازعہ مسائل کو بھی سارک سے باہر رکھا گیا ہے۔حالانکہ رُکن ممالک کی اکثریت اس بات کی حامی ہے کہ سارک کو خطے میں موجود تنازعات کو حل کرنے میں مدد گار ہونا چاہیے۔اس مطالبے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جب تک امن نہیں ہوگا،ترقی نہیں ہوگی اور امن صرف اُس صورت میں ہی قائم ہوسکتا ہے جب باہمی تنازعات کو حل کیا جائے۔دنیا میں قائم شُدہ باقی علاقائی تنظیموں کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے پہلے آپس میں سیاسی اختلافات اور دیگر جھگڑے طے کئے‘ لیکن بد قسمتی سے جنوبی ایشیا میں ایسا نہیں ہوسکا۔اس سلسلے میں پاک۔بھارت تنازعہ کی مثال دی جاتی ہے۔جنوبی ایشیا کے تمام چھوٹے ممالک کا موقف یہ ہے کہ پاک۔بھارت تنازعات سارک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔اس لئے وہ ہر سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے سربراہان کے درمیان غیر رسمی ملاقات کا اہتمام کر کے ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جس میں سارک کے پلیٹ فارم سے مختلف شعبوں میں فیصلہ کرتے وقت رکاوٹ نہ ہو۔

بین الاقوامی حلقوں کا مؤقف بھی یہ ہے کہ رقبے،آبادی،وسائل،معاشی ترقی اور عسکری قوت کے لحاظ سے خطے کا سب سے بڑا ملک ہونے کی وجہ سے سارک کو فعال اور کامیاب بنانے کی سب سے بھاری ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے اور اس سلسلے میں بھارت کو چین کی مثال سامنے رکھتے ہوئے اُس کی پیروی کرنی چاہئے۔چین نے اپنی قومی معیشت کی ترقی اور افزائش پر تمام تر توجہ مرکوز کرنے سے قبل مشرق بعید،جنوب مشرقی ایشیا اور وسطی ایشیا میں اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی جھگڑے طے کئے اور اس طرح اپنی سرحدوں پر امن کا ماحول قائم کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ چین نے ان تمام ممالک کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کے رشتوں کو اس طرح استوار کیا کہ چین کے ساتھ معاشی تعاون میں ان چھوٹے ممالک کو زیادہ فائدہ ہو۔لیکن جنوبی ایشیا میں صورت حال یہ ہے کہ بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ نہ صرف سرحدی جھگڑے اور دیگر تنازعات بدستور موجود ہیں بلکہ دوطرفہ بنیادوں پر تجارت کا توازن بھی نمایاں طور پر بھارت کے حق میں ہے۔

خطے کے چھوٹے ممالک کے ساتھ بھارت کے غیر منصفانہ تجارتی تعلقات ،علاقائی تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔پاکستان، نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا کو بھارت سے یہی ایک شکایت ہے کہ دوطرفہ تجارت کی آڑ میں بھارت ان ممالک کی معیشت اور منڈیوں پر چھا جانا چاہتا ہے۔پیہم اور متواتر مطالبات کے باوجود بھارت نے ایک غیر ہموار دوطرفہ تجارتی تعلقات کے نظام کو درست کرنے کی طرف ضروری قدم نہیں اُٹھایا اور یہی سارک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان چےئرمین شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات، یونیورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

26
February

امریکہ کے عسکری اور سیاسی قائدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ضرب عضب کے ذریعے پاکستان دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کررہا ہے۔ پاکستان کے اس کردار اور قربانیوں کو سراہا گیا۔ اس دورے کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹرٹیجک نقطۂ نظر سے پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوئیں ہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی تحفظ کے لئے باہمی تعاون کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں ۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے افغانستان میں نہ صرف کلیدی کردار پاکستان کو ملا ہے بلکہ تینوں ہمسایہ دوست ممالک چین،افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ جس کا ایک مثبت اشارہ سارک کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے بھی ملا ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے ایک ایسے وقت میں امریکہ کا دورہ کیا ، جب جنوبی ایشیا بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ ایک جانب 35سال سے جنگ سہنے والے افغانستان سے نیٹو فورسز نکل رہی ہیں مگر سٹریٹیجک فورسز کے نام پردس سے پندرہ ہزار امریکی فوجی اور کنٹریکٹرزافغانستان میں تعینات رہیں گے۔ بیرونی افواج کے انخلا ء کی صورت حال پر چین اور پاکستان کو تشویش بھی تھی، کیونکہ دونوں ممالک افغانستان کے براہ راست ہمسایہ ملک ہیں اور دونوں ممالک کی سرحدپر دہشت گردوں کے منظم ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ افغانستان کے ان دونوں ہمسایہ ملکوں کے تحفظات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ انخلاء کے بعد بھارت افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنا چاہتا ہے۔دوسری جانب بھارت میں دائیں بازو کی قدامت، انتہا، پسند پارٹی اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوچکی ہے اور اس حکومت نے اگلے دس سالوں میں 130بلین کا اسلحہ خریدنے کا پروگرام بھی بنا لیا ہے ، جس سے اس کی ترجیحات واضح ہوتیں ہیں اور ان میں سرفہرست خطے میں بالادستی کا خبط ہے۔ پاکستان جو کئی سال سے دہشت گردی کانشانہ بن رہا ہے، جون 2014ء میں دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب نامی آپریشن شروع کرچکا ہے۔پاکستان سمیت خطے میں پائیدار قیام امن اور استحکام کے لئے کیا جانے والا یہ آپریشن ان علاقوں میں انتہائی کامیابی سے جاری ہے جو علاقے دہشت گردوں کے مرکز سمجھے جاتے تھے۔ اس آپریشن میں اب تک تقریباً گیارہ سو سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں اوردو سو سے زائد آرمی کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ اس وقت تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار فوج پاکستان کی مغربی سرحد پر موجود ہے اور دنیا پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ کوئی نمائشی کارروائی نہیں۔ اب جبکہ پاکستان کی افواج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی صورت میں بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں تو بھارت مشرقی سرحد پر جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش کررہا ہے۔کشمیر میں لائن آف کنٹرول (جو متنازعہ علاقہ ہے) اور اس کے ساتھ ساتھ ورکنگ باؤنڈری جو تسلیم شدہ سرحد ہے ، دونوں پر اشتعال انگیز سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے،جس کے باعث کشیدگی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی یہ معاملہ اٹھایا،چنانچہ امریکہ کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام ہی خطے میں امن کی ضمانت ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بھارت میں مودی حکومت آنے کے بعد مشرقی سرحد پربھارتی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، مگر اس کے باوجود افواج پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن سے توجہ نہیں ہٹائی اور غیرملکی دراندازوں ، مقامی دہشت گردوں و شدت پسندوں کے خلاف شبانہ روز عسکری کارروائیاں کرکے انہیں اپنی مذموم سرگرمیاں موقوف کرنے پر مجبور کردیا۔ پاک فوج کے اس آپریشن کی وجہ سے سرحد پار کارروائیاں کرنے و الے گروپس بھی اس حد تک کمزور ہوئے کہ اب ان کے لئے سرحد پار جاکر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا ممکن نہیں رہا۔

اب جبکہ پاکستان کی افواج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی صورت میں بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں تو بھارت مشرقی سرحد پر جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش کررہا ہے ۔کشمیر میں لائن آف کنٹرول (جو متنازعہ علاقہ ہے) اور اس کے ساتھ ساتھ ورکنگ باؤنڈری جو تسلیم شدہ سرحد ہے ، دونوں پر اشتعال انگیز سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے،جس کے باعث کشیدگی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی یہ معاملہ اٹھایا،چنانچہ امریکہ کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام ہی خطے میں امن کی ضمانت ہے ۔

جس طرح پاکستان اور افغانستان کو پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پہ تحفظات تھے، اسی طرح چین کو بھی افغان سرحد پہ ہونے والی دراندازی پہ تشویش تھی، کیونکہ صوبہ سنکیانگ میں انتشار پھیلانے والے شدت پسند بھی اسی سرحد کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ تینوں ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لئے ناگزیرجاری آپریشن کے دوران مشرقی سرحد پر بھارت کا جارحانہ رویہ احساس دلاتا ہے کہ بھارت دہشت گردوں کے خلاف اس آپریشن کو اپنے مفادات کے خلاف گردانتا ہے۔امریکہ بھارت کی اس خواہش کا احترام کرتا رہا کہ افغانستان سے انخلاء کے بعد کلیدی کردار بھارت کا ہو۔یہی وجہ ہے کہ کرزئی دور حکومت میں افغان حکومت کا جھکاؤ بھارت کی جانب رہا۔ 2011ء میں بھارت اور افغانستان کے درمیان سٹریٹیجک معاہد ہ بھی طے پایا، جس کے تحت افغانستان نے روس سے جو اسلحہ خریدا اس کی ادائیگی بھی بھارت نے کی۔ پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں بھارتی قونصل خانے زیادہ فعال رہے اور سرحدی کشیدگی و دراندازی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ افغانستان میں نئی حکومت کے قیام،مختلف شعبوں میں چین کی سرمایہ کاری ،دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات ،بھارتی جارحانہ رویّے اور پاک عسکری قیادت نے امریکہ کو یہ باور کرایا کہ افغانستان میں بھارت کلیدی کردار اداکرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ وہ افغانستان کا براہ راست ہمسایہ بھی نہیں اور نہ ہی افغانستان میں پاکستان جتنے اثرورسوخ کا مالک ہے۔ افغانستان میں انتخابات کے بعد دو بڑی پارٹیوں کی شراکت سے حکومت وجود میں آئی جو کہ ایک دوسرے کی حریف بھی ہیں۔ اگرچہ یہ انتہائی مثبت پیشرفت ہے مگر دیگر امکانات بھی اپنی جگہ موجود ہیں، کیونکہ یہ حکومت ابھی تک کیبنٹ نہیں بنا سکی۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے صدارت چھوڑنے کے بعد پہلادورہ بھارت کا کیا، جبکہ نومنتخب افغان صدر اشرف غنی عمرہ کی ادائیگی کے بعد پہلے چین گئے اور اس کے بعد پاکستان کا دورہ کیا۔ان کے دورہ پاکستان سے قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے پہلے چین کا دورہ کیا اور پھر افغانستان کا ایک روزہ دورہ کرکے حکومتی وعسکری قائدین سے تفصیلی ملاقاتیں کیں تھیں جس کے بعد افغان صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے جی ایچ کیو میں عسکری قیادت سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں افغان صدر کو یہ پیشکش بھی کی گئی کہ پاکستان افغان فوجیوں کو اپنی تربیت گاہوں میں ٹریننگ دینے کے لئے تیار ہے۔ افغان صدر نے پاکستان کی اس پیشکش کو باضابطہ طور پر قبول کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت افغان فوجیوں کی تربیت کررہا تھا۔چین اور پاکستان کے دوروں کے دوران پاک چین افغان مصالحتی کونسل کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔ یہ تمام حالات و واقعات افغانستان میں بھارت کا اثرورسوخ کم ہونے اور پاکستان کے کردار میں اضافے کی دلیل ہیں۔ افغانستان کے ساتھ نئے سرے سے پروان چڑھنے والے پاکستان اور چین کے تعلقات نہ صرف امن بلکہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہیں۔

چین اور پاکستان کے دوروں کے دوران پاک چین افغان مصالحتی کونسل کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔ یہ تمام حالات و واقعات افغانستان میں بھارت کا اثرورسوخ کم ہونے اور پاکستان کے کردار میں اضافے کی دلیل ہیں۔ افغانستان کے ساتھ نئے سرے سے پروان چڑھنے والے پاکستان اور چین کے تعلقات نہ صرف امن بلکہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہیں۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جہاں شام کی حکومت کو گرانے کے لئے امریکہ اور عرب دنیا کی کوششیں جاری تھیں، وہاں داعش کی صورت میں ایک نئی قوت ابھرکر سامنے آئی ،جس کے باعث فرقہ واریت میں شدت آگئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ داعش کی مکمل سرپرستی کرنے کے بعد داعش کو ہی ختم کرنے کے لئے امریکہ نے ایران کی طرف بھی تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔ داعش کے خلاف امریکی سرپرستی میں جو اتحاد قائم ہوا اس میں زیادہ تعداد ان ممالک کی شامل ہے،جو پہلے کسی نہ کسی صورت میں داعش کی معاونت کرتے رہے ہیں۔ اس اتحاد کی تشکیل کے بعد امریکہ کا یہ بیان کہ ہم اگر داعش کے خلاف کارروائی کرتے بھی رہیں تو انہیں مکمل ختم کرنے کے لئے ہمیں بیس سال درکار ہوں گے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگلے بیس سال تک داعش ضرورت ہے اور یہ موجود رہے گی۔داعش کی اگلے بیس برس تک امریکی ضرورت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں ہرسال تیل کی مانگ میں دو فیصد اضافہ ہورہا ہے، جبکہ اگلے چالیس سے پچاس برس میں ایران اور مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر ختم ہوجائیں گے ،یا اتنے کم ہوجائیں گے کہ ان سے استفادہ ممکن نہیں رہے گا۔ جس کے بعد اگلی دوصدیوں کے لئے تیل کا ذخیرہ بحیرہ کیسپئن میں موجود ہے۔ جس پر امریکہ سمیت دنیا کی تما م بڑی طاقتیں نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان ذخائر تک جانے کے لئے واحد زمینی راستہ بلوچستا ن ہے ، جس کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ایک گریٹ گیم جاری ہے۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ شام و عراق کے بعد داعش کی پہلی وال چاکنگ بھی بلوچستان کی زمین پر نظر آئی۔ بش انتظامیہ کے مقابلے میں صدر اوبامہ نے یہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی تھی کہ امریکی افواج کو کسی مہم جوئی کے لئے بیرون ملک نہ بھیجا جائے۔ صدر اوباما نے امریکہ کی فوجی اکیڈیمی Point West میں اعلان کیا تھا کہ اب امریکی فوجیوں کو بیرون ملک مہم جوئی کے لئے نہیں بھیجا جائے گا، لہٰذا افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء 2014ء تک مکمل ہو جائے گا جبکہ عراق سے تو امریکی افواج پہلے ہی واپس بلائی گئی ہیں۔ اب ان ممالک کی افواج اتنی تربیت یافتہ ہو چکی ہیں کہ وہ طالبان یا کسی بھی حکومت مخالف بغاوت کو کچلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس حکمت عملی کے باوجود بھی امریکہ نے افغانستان سے سٹریٹیجک معاہدہ کرکے اپنے 15000فوجی اور کنٹریکٹرزافغانستان میں اسی طرح رکھے، جس طرح عراق سے انخلاء کے بعد پانچ سو امریکی عسکری مشیر رکھے تھے۔ اب عراق پر نیا اتحاد تشکیل دیکر فوج کشی کی وجہ داعش اور افغانستان میں پندرہ ہزار فوجی رکھنے کی وجہ امریکہ نے طالبان کا خطرہ بتائی ہے۔

جنرل راحیل شریف کے امریکہ جانے سے قبل پاکستان میں سرگرم تحریک طالبان کے کچھ افراد نے بھی داعش میں شامل ہوکر ابوبکر البغدادی کی بیعت کا اعلان کیا تھا اور مختلف شہروں میں داعش کی وال چاکنگ بھی منظر عام پر آچکی تھی۔ چنانچہ ان حالات میں جب پاکستان اپنی مغربی سرحد پر پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف اپنی اور خطے کی سلامتی کی جنگ میں مصروف ہے،داعش کی صورت میں دہشت گردی کے نئے نیٹ ورک کی خطے میں پنپنے کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔ جنگ زدہ افغانستان میں، انخلاء کے باوجود، امریکی افواج بھی موجود ہیں اور داعش کے خلاف امریکی سربراہی میں ایک نیا عالمی اتحاد بھی وجود میں آچکا ہے اور بھارت بھی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ سرگرم ہے تو ان تمام زمینی حقائق اور بدلتے حالات نے آرمی چیف کے دورے کی اہمیت ،حیثیت، افادیت اور اس کے اثرات میں انتہائی اضافہ کیا ہے۔ امریکہ میں دورے کے دوران جنرل راحیل شریف نے جن شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور جن مقامات کا دورہ کیا، ان سے بھی اس دورے کی اہمیت کابخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ دورہ امریکہ کے دوران چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اپنے طویل دورے کے دوران انہوں نے امریکہ کی سیاسی و عسکری قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں میں بڑے ٹھوس انداز میں پاکستان کا موقف پیش کیا۔ وہ سنٹرل کمانڈ کے ہیڈکوارٹر ٹمپافلوریڈا گئے۔ سنٹرل کمانڈ مشرق وسطیٰ،پاکستان اور افغانستان سے متعلق امریکہ کے عسکری امور کا ذمہ دار ہے۔ عراق اور افغانستان جنگ سے متعلق معاملات یہیں سے طے پاتے ہیں۔ٹمپا فلوریڈا میں سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل آسٹن سے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق سنٹرل کمانڈ میں ہونے والی بات چیت میں امریکی انخلاء کے بعد کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا۔ جنرل راحیل شریف کیلیفورنیا میں قائم امریکی فوج کے اعلیٰ تربیتی مرکز گئے اور وہاں جدید ترین اسلحہ کی تربیت کا معائنہ کیا۔ امریکی آرمی کے سربراہ اور اپنے ہم منصب رئے اوریڈینوسے ملاقات کی۔ اس کے بعد پینٹا گان میں مشترکہ افواج کے سربراہ مائیکل ڈیمپسی سے ملے۔ پاکستان میں بھی جائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ ہوتا ہے مگر ان کے اختیارات آرمی چیف جتنے نہیں ہوتے۔ جبکہ امریکہ میں سب سے بااختیار مشترکہ افواج کا سربراہ ہوتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے دورہ امریکہ کے دوران ڈپٹی ڈیفنس سیکرٹری مسٹر ورک سے بھی ملاقات کی۔ صدر اوبامہ کی سلامتی کی مشیر سوزن رائس سے بھی ملے اور وہاں سے اشارہ ملا کہ اگر صدر اوبامہ موجود ہوتے تو وہ بھی پاک سپہ سالار سے ملاقات کرتے۔ سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری سے ان کی طویل ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستانی فوج کو اتحاد اور سلامتی کی علامت قرار دیا۔ دورہ امریکہ کے دوران جنرل راحیل کو ایک بڑے عسکری اعزاز لیجن آف میرٹ سے نوازا گیا۔دورہ امریکہ کے دوران جنرل راحیل شریف نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ آپریشن سے کلیئر ہونیوالے علاقوں میں شدت پسندوں کو دوبارہ متحرک ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ آرمی چیف کے دورے کے دوران جہاں مشرق وسطیٰ کے حالات اور داعش کے موضوع پر بھی بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے۔ امریکہ میں جب جنرل راحیل شریف امریکی عسکری قیادت کو یہ یقین دلا رہے تھے کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے تو اس دوران پاکستان کے مشیر خارجہ کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے گڈطالبان اور بیڈ طالبان کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کی، مگر آرمی چیف نے واضح کر دیا کہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہورہی ہے۔ اسی طرح سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بیان جاری کیا کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلاء پاکستان اور بھارت کو پراکسی وار میں دھکیل سکتا ہے۔ جنرل مشرف کے بیان سے قطع نظر یہ بات طے ہے کہ افغانستان میں پائیدار قیام امن جو خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے‘ کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں موجود قوتیں ہرقسم کی دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کریں۔امریکہ کے عسکری اور سیاسی قائدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ضرب عضب کے ذریعے پاکستان دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کررہا ہے۔ پاکستان کے اس کردار اور قربانیوں کو سراہا گیا۔ اس دورے کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹرٹیجک نقطۂ نظر سے پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوئیں ہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی تحفظ کے لئے باہمی تعاون کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے افغانستان میں نہ صرف کلیدی کردار پاکستان کو ملا ہے بلکہ تینوں ہمسایہ دوست ممالک چین،افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ جس کا ایک مثبت اشارہ سارک کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے بھی ملا ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ بھارت افغانستان کا ہمسایہ نہیں ہے۔افغانستان سے بھارت کا سٹریٹیجک معاہدہ طے پایا تھا اورروس سے خریدے جانے والے اسلحہ کی ادائیگی بھی بھارت نے کی تھی، مگر اب موجودہ افغان حکومت نے مزید ایسے اسلحہ کی خریداری میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جس کی ادائیگی بھارت کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے سے کئی گنا بڑے ہمسایہ دشمن کے عزائم کے آگے بند باندھنے میں پاکستان کی سلامتی کے ضامن ادارے نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے، اور انشاء اللہ ہمیشہ کرتا رہے گا۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

26
February

ماں

لوگ مسلسل شمعیں کیوں جلا رہے ہیں ماں؟

یہ سب مل کر ان سفاک درندوں کے ٹھکانے کیوں نہیں پھونک دیتے۔ جنہوں نے ہماری زندگیوں کے چراغ گل کئے۔ ماں

یہ لوگ ان کو رنگاہ‘ ننگِ انسانیت وحشیوں کی آنکھیں کیوں نہیں نکال دیتے۔ جنہوں نے معصوم بچوں کی چمکتی آنکھوں پر وار کئے۔ یہ ملک بچوں کے لئے محفوظ کیوں نہیں ہے؟

انسان تو جانوروں کے بچوں پر بھی رحم کھاتے ہیں۔ تو پھر یہ جنگلی جانور کون تھے جنہوں نے فرشتوں جیسے جسموں کو چاک کیا۔ یہ کن کی اولادیں تھیں۔ یہ زہریلے سانپ کہاں سے آئے تھے۔ 16 دسمبر کی اداس صبح کو انسانوں کا روپ دھارن کرکے کون سی مخلوق آئی تھی؟ وہ صبح کتنی گمبھیر چپ گپ اور پراسرار لگ رہی تھی۔ سردی شدید تھی۔ تو نے مجھے یونیفارم پہنا کر تیار کیا تھا۔ ماں! اس روز میرا سکول جانے کو جی بھی نہیں کررہاتھا۔ کچھ کھانے کو بھی جی نہیں کررہا تھا مگر میں تیرے ڈر سے تیار ہوگیا تھا۔ تو بڑی اصولوں والی تھی نا! بغیر وجہ کے چھٹی کرنے پر خفا ہوتی تھی۔ جب تو نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور مجھے خدا حافظ کہا تھا تو یکایک میرا جی چاہا میں تجھ سے لپٹ جاؤں۔ تیرے محبت بھرے سینے میں چھپ جاؤں۔ تیری مامتا کی خوشبو کے اندر سما جاؤں ۔ تیرے بازوؤں میں گم ہو جاؤں۔ چھوٹا سا دودھ پیتا بچہ بن کر تیرے آنچل کے سائے میں آجاؤں۔ نہ جانے کیوں ماں۔۔۔ اس روز میں نے کئی بار تجھے مڑ مڑ کر دیکھا تھا۔ پرتو تو اپنے کام میں مگن رہی ماں۔۔۔ جب میں سکول کے گیٹ سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ تو مجھے اپنے پاؤں کے تلے زمیں کانپتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ میں نے پوچھا بھی۔۔۔ دھرتی ماں تو کیوں کانپ رہی ہے سردی تو ہمیں لگ رہی ہے۔ اس صبح مجھے اپنے دوستوں کے چہرے اترے ہوئے لگے تھے۔ میں جس کی طرف دیکھتا تھا وہ مجھے مرجھایا ہوا لگتا تھا۔ ماں میں نے یونہی کئی بار ہنسنے کی کوشش کی مگر میں کسی کے ساتھ ہنس نہ سکا۔ میں کسی کے ساتھ بول نہ سکا۔ کسی کے آگے اپنے دل کی گرہ کھول نہ سکا۔ کلاس شروع ہوئی تو میرا جی چاہا میں بھاگ کر گھر چلا جاؤں۔۔۔ گھر کے لئے میرے اندر تڑپ سی پیدا ہو رہی تھی۔ ماں! میں تیری صورت دیکھنا چاہتا تھا۔ ماں تیری صورت دیکھنے سے ہر بلا ٹل جاتی تھی۔۔۔ تجھے دیکھنے سے ساری مشکلیں حل ہو جاتی تھیں۔ تجھے دیکھنے کی چاہ دل میں پیدا ہو رہی تھی ماں۔۔۔ کاش ماں! میں سکول کے سارے اصول توڑ کر تیرے پاس اپنے گھر آجاتا۔۔۔ اگر مجھے معلوم ہوتاکہ خدا کی اس زمین پر ابلیس کے کارندے انسانیت کے سارے اصول توڑ کر دیواریں پھلانگتے آئیں گے اور شیطانی کھیل شروع کردیں گے۔۔۔ ۔

ماں ہم سب کھڑے ہوگئے تھے کیونکہ ہمیں احترامِ آدمیت کی تربیت دی گئی تھی‘ قسم ہے تیری ماں

ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کہ وہ نامراد اور بد کردار لوگ معصوم بچوں پر وحشیانہ گولیاں برسائیں گے۔ ہمارے یونیفارم لہو لہان کر دیں گے۔ ہمیں ناکردہ گناہوں کی سزا دیں گے۔۔۔۔

ماں! ہم سب جینا چاہتے تھے۔ بڑے ہونا چاہتے تھے۔ ملک و ملت کا نام روشن کرنا چاہتے تھے۔ ہمارے اندر والدین نے خواب بوئے تھے۔ وردیوں والے خواب۔۔۔ پرچموں والے خواب۔۔۔ فتح مبین والے خواب۔۔۔

ماں کچی آنکھوں کے خواب خون کی ندیوں میں بہہ گئے۔۔۔

ماں یہ زمیں دیکھتی رہی اور آسمان چپ رہا۔۔۔۔۔۔

کیا تم رو دھو کر ان کو معاف کردو گے ماں۔۔۔۔۔۔

کیا تم شمعیں روشن کرنے کے بعد بھی ہماری یادوں کو مدفون کردو گی ماں۔۔۔۔۔۔؟

تمہیں تمہارے لہو لہان بستوں کی قسم۔۔۔

ہماری روتی کُرلاتی کتابوں کی قسم۔۔۔

ہماری چکنا چور قلموں کی قسم۔۔۔

ہمارے ٹکڑے ٹکڑے انگلیوں کی قسم۔۔۔

یہ منظر کبھی بھول نہ جانا۔۔ جب تک تم لوگ پاکستان کے وجود کو ان ناپاک ‘ مکروہ اور درندہ صفت لوگوں سے پاک نہیں کرلیتے۔ ہماری روحیں یونہی بیزار پھریں گی اپنے گھروں کا طواف کرتی رہیں گی۔

اﷲ کے آگے فریاد کرتی رہیں گی۔۔۔

پاکستان کے سارے بچوں کی قسم ماں

پاکستان کے سارے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا دو

ماں

میرے فوجیوں سے کہہ دو! قسم ہے ان کو لہو لہان بچوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کی جب تک وہ اسلام کو بدنام کرنے والے ٹولے ملیا میٹ نہ کردیں۔ آرام سے نہ بیٹھیں۔۔۔

ورنہ ہم پاکستان کے جھنڈے سے لپٹ لپٹ کر قائداعظم کو اپنی فریاد سناتے رہیں گے۔

ماں

نیا سال طلوع ہو رہا ہے۔ تو مجھے یاد کرے گی۔ تو کہا کرتی تھی۔ میرا راجہ دولہا بنے گا۔ ماں اگر یہ خوشی تجھے نصیب نہیں ہوئی تو دعا کر پاکستان کی ساری ماؤں کو یہ خوشی نصیب ہو۔۔۔۔

ماں دعا کر ہاتھ اٹھا کے‘ سارا چمن اجڑ جائے۔۔۔ کسی کی کوکھ نہ اُجڑے۔۔۔

کسی کالا ل نہ بچھڑے‘ کسی کو وچھوڑے‘ کا ایسا درد نہ ملے کہ جس کا داغ قیامت تک بھی نہ جائے۔ قیامت سے پہلے اس پاک ملک میں پھر کبھی قیامت بر پا نہ ہو ۔

ہمارا لہو رائیگاں نہ جائے پیاری ماں

26
February

ابھی تم خواب دیکھو فرض میں کچھ سال باقی ہیں

تم آنے والا کل ہو اور ہم سب حال باقی ہیں

مجھے بے انتہا غصہ ہے دل تک کانپ جاتا ہے

ابھی جانے نہیں دوں گا ابھی جو سانپ جاتا ہے

تم اپنے گھر میں پھر ماں سے کئے وعدے نبھاؤ گے

تم اپنی مسکراہٹ سے وہ آنگن پھر سجاؤ گے

کہیں ایسا نہیں ہوتا‘ کوئی ایسا بھی کرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

قلم کی نوک تھی میں نے دکھائی جب وہ آیا تھا

مرا تھا جو بڑا ہتھیار وہ میں نے چلایا تھا

کتاب آدھی پڑھی تھی جو کھلی رکھی ہوئی ہوگی

کتاب اب پڑھنے لائق ہے مرے خوں سے دُھلی ہوگی

کسی جنگل کا لگتا ہے شہر آنے والا ہے وہ

دُھلی لگتی ہیں سب آنکھیں نظر آنے لگا ہے وہ

میں جتنا سوچتا ہوں یہ مِرا اصرار بڑھتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

پتہ کیا پوچھتا ہے وہ کتابوں میں ملوں گا میں

کئے ماں سے ہیں جو میں نے کہ وعدوں میں ملوں گا میں

میں آنے والا کل ہوں وہ مجھے کیوں آج مارے گا

یہ اُس کا وہم ہوگا کہ وہ ایسے خواب مارے گا

تمہارا خون ہوں نا‘ اس لئے اچھا لڑا ہوں میں

بتا آیا ہوں دشمن کو کہ اُس سے تو بڑا ہوں میں

میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے بھی ڈرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

Follow Us On Twitter