03
May

تحریر: عقیل یوسفزئی

پاکستان میں غالباً پہلی دفعہ مختلف مگر صاحب الرائے حلقوں میں یہ بحث چل نکلی ہے کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے بارے میں قومی بیانیے پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔ اکثر حلقوں کا متفقہ خیال ہے کہ جب تک قومی بیانیہ (مروجہ) بدلتے حالات کے تناظر میں تبدیل نہیں کیا جاتا، شدت پسندی کی کوکھ سے دہشت گردی جنم لیتی رہے گی اور تمام تر ریاستی اقدامات کے باوجود یہ ناسور کم تو ہو سکتا ہے مگر ختم کبھی نہیں ہو گا۔ کسی بھی مزاحمتی تحریک یا ریاست مخالف سرگرمی کی جڑیں کہیں نہ کہیں موجود ہوا کرتی ہیں۔ ہم لاکھ کہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور اسے زبردستی دوسروں پر اپنے اپنے افکار یا نظریات کے مطابق مسلط نہیں کیا جا سکتا مگر حقیقت تو یہی ہے کہ بعض دیگر مذاہب کی طرح اسلام کو اپنے اپنے بیانیے اور نظریات کے مطابق مختلف ادوار میں بعض قوتیں استعمال کرتی آئی ہیں اور آج پاکستان سمیت متعدد دیگر ممالک اور معاشروں کو بھی ایسے ہی عناصر کے فکری بیانیے یا نظریات کے منفی نتائج اور اثرات کا سامنا ہے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام ہی کی بنیاد پر پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ تاہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جن لیڈروں نے پاکستان کے لئے ایک مربوط ریاستی نظام وضع کیا تھا، ان میں اکثر سیاسی شعور‘ عالمی سیاست اور عوامی خواہشات کی دولت اور ادراک سے مالامال تھے۔ ان لیڈروں کی تعلیمات‘ تقاریر اور ابتدائی ریاستی اقدامات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قطعاً مشکل کام نہیں ہے کہ وہ ایک فلاحی اسلامی ریاست کے خواہاں تھے اور ان کی ریاستی ڈیزائننگ میں ایک ایسے پاکستان کا خاکہ بالکل نہیں تھا جہاں اپنے نظریات کو سیاسی یا ریاستی سطح پر دوسروں پر مسلط کرنے کا مقصد یا ارادہ موجود ہو۔ دوسرے معاشروں کی طرح پاکستان کے اندر بھی اس تصور یا مذہبی وابستگی کی غلط تشریح کی گئی کہ پاکستان ایک تنگ نظر یا شدت پسند رویے یا نظریئے کے فروغ کے لئے قائم ہوا ہے۔ اس تشریح کی تشہیر کے لئے ایسے بہت سے طاقتور مذہبی حلقے میدان میں کود پڑے جن کا معاشرے میں کافی اثر رسُوخ تھا اور بعض کو ان مذہبی نظریات یا تحاریک کی مسلسل آشیرباد بھی حاصل رہی جن کی پشت پر یہ فلسفہ پوری قوت کے ساتھ موجود تھا کہ پاکستان میں شدت پسندی پر مشتمل ریاستی اور معاشرتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اندرونی عوامل کے ساتھ ساتھ خارجی نظریات سے جڑے ایک نظریاتی اتحاد کی جڑیں ہمارے بعض حکمرانوں کی معاونت کے باعث گہری ہوتی گئیں کہ مجوزہ شدت پسندی پر قائم اس نظریاتی تصور یا خواہش نے بعد میں ایک باقاعدہ بیانیے کی شکل اختیار کر لی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان اس کے باوجود ایک سخت گیر اسلامی ریاست کے طور پر متعارف ہونے لگا کہ عوام نے مذہبی جماعتوں کو کسی بھی الیکشن میں پانچ یا سات فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں دیئے۔ اگر ملک کے عوام واقعتا ایک سخت گیر اسلامی پاکستان کے حامی ہوتے تو پارلیمانی تاریخ کا انڈیکس سیکولر اور جمہوریت پسند سیاسی قوتوں کے بجائے مذہبی جماعتوں کی ترجمانی کرتا نظر آ رہا ہوتا۔ تاہم عوام نے تمام انتخابات کے دوران مذہبی قوتوں کو مسترد کیا حالانکہ ہم جس شدت پسندی یا بیانیے کی بات کر رہے ہیں، مذہبی جماعتوں کا طرز عمل اس سے بالکل مختلف بلکہ بہتر رہا ہے۔ کیونکہ ان کو نہ چاہتے ہوئے بھی عوام کے رجحانات اور خواہشات کا تھوڑا بہت ادراک تھا۔

intehapasandka.jpg

آج ہم مذہب اور ریاست کے اشتراک پر مشتمل جس بیانیے کا سامنا کر رہے ہیں، شواہد اور تجربات تو یہ بتاتے ہیں کہ اس کو کبھی بھی سیاسی قوتوں‘ عوام اور اشرافیہ کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں رہی۔ چند ایک لیڈروں کی پالیسیوں‘ کوششوں یا خواہشوں کو پورے ملک‘ معاشرے یا ریاست کی پالیسی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ المیہ یہ رہا ہے کہ اہل ریاست نے باہمی فاصلوں‘ بدگمانیوں یا غیر سنجیدگی جیسے عوامل کے باعث اصل بیانیے کی اہمیت ترویج اور تشہیر پر کبھی توجہ نہیں دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقلیت کی خواہشات پر مبنی ایک مبہم اور خطرناک بیانیے کو بوجوہ فروغ ملتا رہا اور ہم ایک خطرناک جنگ کا شکار ہو تے گئے۔ ریاست کی یہ ضرورت بھی ہوتی ہے اور مجبوری بھی، کہ وہ اجتماعی عوامی یا قومی سوچ یا خواہش پر مشتمل رویے اور پالیسیاں اپنائے کیونکہ عوام کی رائے اور مرضی کے بغیر نہ تو ریاست ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی کوئی مضبوط سیاسی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہ راستہ اپنایا گیا تاہم بعض قوتوں یا حلقوں کے بیانیے کو قومی رائے یا خواہش کا نام دیا گیا اور احتجاجی سوچ کو پس منظر میں ڈالنے یا رکھنے کی روش اپنائی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک مخصوص ذہنیت نے تشدد کے ذریعے نہ صرف معاشرے کو لپیٹ میں لئے رکھا بلکہ یہ ذہنیت ریاستی امور اور اذہان پر بھی اثر انداز ہونے لگی ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں کارونا روتے ہیں مگر حال کے معاملات اور مستقبل پر کوئی توجہ نہیں دے رہے۔

 

تاریخی حقائق کے تناظر میں اگرمختصراً یہ کہا جائے کہ بحیثیت قوم پاکستانیوں کا مزاج ہمیشہ جمہوری اور سیاسی رہا ہے تو یہ غلط بالکل نہیں ہو گا۔ پاکستان کے اداروں کی بھی کوشش رہی ہے کہ اس کی معتدل شکل مضبوط ہو اور یہ ایک فلاحی اسلامی ریاست ہو۔ تاہم بعض قوتوں کے نظریات نے بوجوہ معاشرے اور ریاست کو شدت پسندی کی جانب مائل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں اور جب یہ کوششیں عوام کے ایک گروہ میں مقبولیت حاصل کر چکیں تو ان قوتوں نے بندوق ‘ تشدد اور جبر کے ذریعے اپنے نظریات مسلط کرنے کا راستہ اپنا کر ریاست اور سوسائٹی دونوں کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا۔ شدت پسندی کے نظریات کی کوکھ سے جنم لینے والی جس دہشت گردی کا ہم کئی برسوں سے سامنا کر رہے ہیں، اس کے پیچھے یہی پس منظر اور کوششیں کارفرما ہیں اور اس کوشش کے پیچھے اسی بیانیے کا ہاتھ ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔بعد از خرابی بسیار کے مصداق پاکستان کے مقتدر اور عوامی حلقے اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کئے بغیر دہشت گردی کا راستہ روکنا مشکل ہے۔ اسی سوچ کے تناظر میں کوشش کی جا رہی ہے کہ دہشت گردی سے متعلق اقلیت کے مروجہ بیانیے کو تبدیل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ اس مرض کی تشخیص کے بعد اس کا مستقل علاج بھی ڈھونڈا جا سکے۔

 

نیشنل ایکشن پلان ایک ایسا قومی فیصلہ یا مسودہ ہے جس میں قومی اتفاق رائے سے اس بات کا عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض عملی اقدامات کے علاوہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فکری تبدیلیاں بھی لائی جائیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کو یہ پیغام بھی دیا جائے گا کہ شدت پسندی کے ذریعے اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی تمام کوششوں کی سختی کے ساتھ حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ اگر نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات کا جائزہ لیا جائے تو اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ زیادہ توجہ اس امر پر ہی دی گئی ہے کہ معاشرتی‘ سیاسی اور ریاستی سطح پر مشترکہ کوششوں اور اقدامات کے ذریعے دہشت گردی کی وکالت کرنے والے نام نہاد مذہبی بیانیے کو تبدیل کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ریاستی رٹ کی بحالی اور قانون کی بحالی کے لئے طاقت کا استعمال بھی کیا جائے۔ درحقیقت نیشنل ایکشن پلان کے 20میں سے چھ نکات ایسے ہیں جو کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ بیانیے ہی سے متعلق ہیں۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشرے‘ اہل ریاست‘ میڈیا اور سول ادارہ جاتی نظام نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا تمام کام فورسز پر چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ فورسز کا مینڈیٹ اور کام بالکل الگ نوعیت کا ہے اور انہوں نے قومی قیادت اور عوام کے فیصلوں کے مطابق اپنے اختیاراور مینڈیٹ کے اندر رہ کر فرائض انجام دینے ہوتے ہیں۔ اگر گزشتہ دو سال کے واقعات‘ پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ فورسز نے اپنے حصے کا کافی کام تو کر دیا ہے تاہم معاشرے کے دیگرسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنے میں یا تو ناکام رہے ہیں یا جو کام انہوں نے کیا ہوا ہے وہ ناکافی یا نامکمل ہے۔ ماہرین کے مطابق جو لوگ شدت پسندی کی جانب مائل ہیں یا ہو رہے ہیں ان کو اسلام‘ جہاد یا قتال کا صحیح مفہوم سمجھانا کسی بھی ادارے یا گروہ کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے لئے اجتماعی کوشش ناگزیر ہے۔اس مقصد کے حصول کی سب سے بڑی ذمہ داری علماء پر عائد ہوتی ہے کیونکہ مذکورہ بیانیے کا بنیادی تعلق مذہب یا اس کے ایک جزو سے ہے جس کی غلط یا نامکمل تشریح کی جا رہی ہے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ علماء یا دیگر دینی حلقے خوف‘ مصلحت یا کسی اور وجہ سے اپنا یہ فرض سرانجام دینے میں ناکام رہے ہیں حالانکہ متعدد اسلامی حلقے یا اکابرین متعدد بار اس بیانیے کے نتائج کا خود بھی شکار ہوتے آئے ہیں۔

 

ان مذہبی حلقوں کو اچھی طرح علم ہے کہ نامکمل یا جانبدارانہ مروجہ بیانیے کے اثرات اور نتائج کتنے منفی اور خطرناک ہیں۔ اس کے باوجود وہ درست اور درکار بیانیے کی تشریح اور تشہیر کے اپنے فریضے سے غافل ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یہ حلقے اکثر مواقع پر مناسب اور درکار ریاستی اقدامات پر تعاون کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس ضمن میں مدارس کے نصاب یا طریقہ کار میں اصلاحات کی حکومتی کوششوں کی مثال دی جا سکتی ہے۔ جس کے دوران مذہبی حلقے ریاست کے مدمقابل کھڑے ہونے میں دیر نہیں لگاتے حالانکہ ان کو اچھی طرح علم ہے کہ ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں اور عوام کے تحفظ کے لئے ریاست کو کس حد تک جانا چاہئے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ریاست کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ اس کی رٹ کو چیلنج کیا جائے یا بندوق کے زور پر اپنے نظریات دوسروں پر ٹھونسے جائیں۔ اس بات کا بھی سب کو علم ہے کہ اگر ریاست ایسے معاملات میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پاتی تو اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے اور عوام کا اس پر اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر علماء یا مذہبی حلقے اپنے فرائض سے غافل ہیں تو یہ ایک المیہ ہی ہے۔

 

قومی بیانیے کی تشریح یا تشہیر میں سیاسی قوتوں کا بھی بنیادی کردار ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ یہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ مذہبی حلقوں کے مقابلے میں اکثر سیاسی جماعتوں کا کردار کافی بہتر ہے تاہم اس کو بھی درپیش چیلنجز کے تناظر میں اطمینان بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ محض کسی ایجنڈے یا فیصلے کی تائید سے نتائج برآمد نہیں کئے جا سکتے۔ اس کے لئے کھلے ذہن کے ساتھ میدان عمل میں آنا پڑتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ مذہبی قوتوں اور فورسز کے ساتھ ساتھ مین سٹریم سیاسی قوتیں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کا رول بھی انتہائی اہم ہے۔ اگرچہ ماضی کے مقابلے میں اب کی صورت حال نسبتاً بہتر اور مثبت ہے، تاہم رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے جن کوششوں کی ضرورت ہے وہ نظر نہیں آ رہیں۔

 

اس میں دو رائے ہیں ہی نہیں کہ اگر فورسز‘ سول قیادت‘ سیاسی جماعتیں‘ مذہبی فورمز اور میڈیا جیسے ستون جینوین متبادل بیانیے کے معاملے پر فوکس کر کے ایک پیج پر آ جائیں تو نہ صرف یہ کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا بلکہ شدت پسندی اور انتہاپسندی کی وہ جڑیں بھی ختم ہو جائیں گی جن سے وقتاً فوقتاً نئی ’’فصلیں‘‘ تیار ہو کر نکل آتی ہیں اور ہمیں ہر بار مختلف کارروائیوں کے ذریعے بڑے نقصان کے بعد ایک نئی فصل کو پھر سے کاٹنا پڑتا ہے۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ محض فورسز کی کارروائیوں سے اس مسئلے کا حل نکل آئے گا تو یہ درست نہیں ہو گا۔ ماہرین اس ضمن میں درج ذیل تجاویز پیش کرتے ہیں۔

 

-1 اس اہم قومی معاملے پر مذاکروں‘ مباحث اور سیمینارز کے ذریعے اس بات کا عملی جائزہ لیا جائے کہ اس نوعیت کے بیانیے اور شدت پسندی اور دہشت گردی کا آپس میں کتنا گہرا تعلق ہے۔

-2اس معاملے پر غور کیا جائے کہ اسلام ‘ جہاد اور ایک فلاحی ریاست کے بارے میں ہمارے ہاں جو تصورات اور نظریات موجود ہیں، آیا زمینی حقائق اور تاریخی تناظر میں وہ درست بھی ہیں یا نہیں۔

-3اس رویّے پر نظر ثانی کی جائے کہ سیاسی‘ مذہبی اور علمی حلقے واقعتا اپنا کردار ادا کر بھی رہے ہیں یا نہیں۔ آیا دہشت گردی سے نمٹنا صرف ریاست اور فورسز کی ذمہ داری ہے یا معاشرے کو بھی آگے آنا پڑے گا۔

-4ان مراکز کو ڈھونڈ کر عوام کے سامنے رکھا جائے جہاں سے مخصوص حالات کے باعث شدت پسندی پر مشتمل نظریات متعارف ہوئے اور اس رویّے نے عملی شکل پاکستان یا افغانستان میں اختیار کر لی۔

-5ان عناصر کا ریاستی سطح پر نتائج کی پروا کئے بغیر سخت محاسبہ کیا جائے جو کہ شدت پسندی کے تابع بیانیے کا دفاع کر رہے ہیں یا اس کا حصہ دار بنے ہوئے ہیں۔ یہ بات بھی یقینی بنائی جائے کہ کسی خوف یا مصلحت کو رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔

-6کاؤنٹر ٹیررازم کے اقدامات کے ساتھ ساتھ کاؤنٹر نیریٹو کی کوششوں پر نہ صرف یہ کہ فوکس کیا جائے بلکہ اس مقصد کے لئے ریاستی سطح پر یورپی ممالک کی طرز پر ایک بجٹ بھی مختص کیا جائے تاکہ ایک مسلسل عمل اور مانیٹرنگ کے ذریعے مطلوبہ مقاصد حاصل ہو سکیں۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
25
February

تحریر: حمیرا شہباز

ہر چند ابن آدم نے دنیا کے تقریباً تمام فسادات بلکہ جنگوں کی بنیادی وجہ حوا کی بیٹی کو قرار دیا ہے لیکن اس امر سے بھی مفر نہیں کہ ’’وار وکٹمز‘ یعنی ’’متاثرینِ جنگ‘‘ میں بہت بڑی تعداد خود خواتین کی شمار کی گئی ہے۔ جنگ کے نتیجے میں عورت کو کہیں زندگی کی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی درپیش ہے تو کہیں چادر اور چار دیواری سے محرومی کا سامنا ہے ۔ لیکن فقط جنگ کی وجہ‘ اور جنگ کے متاثرین ہونے کے علاوہ جنگ میں دفاعی محاذ پر ڈٹے رہنا بھی عورت کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ بظاہر پاکستان میں کم و بیش گزشتہ ایک دہائی سے دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں ظاہری محاذوں پر پاکستان کی دفاعی افواج کے دلیر جوان سینہ سپر ہیں۔ لیکن ان کے گھروں کی خواتین کو بھی ایک بڑے جہاد کا سامنا ہے۔


کلام اقبال کا معجزہ ہے کہ پڑھنے والے کو اپنے لئے اس سے ربط کا کوئی نہ کوئی حوالہ ضرور مل جاتا ہے۔ ہر محب وطن کو علامہ محمداقبال کی شاعر سے نسبت ضرور ہے۔ دفاع پاکستان میں اگر خواتین کے کردار پر نظر ڈالوں تو مجھے علامہ اقبال کی تین نظمیں خواتین کی شان میں دکھائی دیتی ہیں اور فکر اقبال کے عصری تناظر میں اُن کی اہمیت مجھ پر عیاں تر ہو جاتی ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ نظمیں تقریباً ایک صدی قبل علامہ محترم نے آج کے پاکستان کے دفاع میں خواتین کے عسکری کردار کو ذہن میں رکھ کر لکھی ہوں۔


اگر دفاع پاکستان میں عسکری سطح پر عورت کے براہِ راست عمل دخل پر نظر ڈالی جائے تو وہ اس فوج کی ایک سپاہی معلوم ہوتی ہے جس کی سالار ’’فاطمہ بنت عبداللہ‘‘ ہے، جس کے نصیب میں حیاتِ جاوداں تو اس کی شہادت کے ثمر کے طور پر رقم کردی گئی تھی لیکن اقبال نے اس کو اپنی ایک نظم کا موضوع بنا کر زندہ تر پائندہ تر کردیا۔


فاطمہ! تو آبروئے امتِ مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
یہ سعادت حورِ صحرائی! تری قسمت میں تھی
غازیانِ دیں کی سقائی تیری قسمت میں تھی
یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر
ہے جسارت آفرین شوقِ شہادت کس قدر
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یارب، اپنی خاکستر میں تھی!

janaurataurallama.jpgفاطمہ بنتِ عبداللہ عرب کے قبیلہ البراعصہ کے سردار شیخ عبداللہ کی گیارہ سالہ بیٹی تھی جو1912 میں جنگ طرابلس میں غازیوں کو پانی پلاتی شہید ہوگئی تھی ۔ یہ قبیلہ اپنے اثرورسوخ میں دیگر قبائل سے بڑھ کر تھا۔ اس قبیلے کے تمام افراد جنگ طرابلس میں شہید ہوئے۔ اگرچہ بہت سی عرب خواتین نے اس جنگ میں حصہ لیا لیکن فاطمہ ان سب میں سے اس لئے ممتاز ہے کیونکہ وہ سب سے کمسن تھی۔ یہ جنگ جون1912 (دوسری روایت کے مطابق ستمبر1911) میں شروع ہوئی۔ جب بارہ ہزار اطالوی سپاہیوں نے زوارہ (طرابلس پر) حملہ کیا تو ان کے مقابلے میں عرب اور ترک سپاہیوں کی تعداد فقط تین ہزار تھی۔ لیکن اطالوی فوج کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ دوران جنگ فاطمہ بنت عبداللہ چار زخمی مجاہدوں کو پانی پلا رہی تھی کہ ایک اطالوی سپاہی نے اس کم سن مجاہدہ کو شہید کر دیا۔ علامہ اقبال نے اس کم سن دختر عرب کی شہادت سے متاثر ہو کر ایک نظم لکھی جو اب ’’بانگ درا‘‘ کی شان ہے۔ اس نظم نے دنیا میں اس کمسن شہید کا نام امر کر دیا۔


آج پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والی ہر لڑکی فاطمہ بنت عبداﷲ کی سپاہ میں شامل ہے اور اس لشکر میں تازہ ترین بھرتی افواج پاکستان کی جنگجو ہواباز مریم مختار کی ہے جس نے اپنی تربیتی پرواز میں طیارے کو فنی خرابی کی بنا پر آبادی سے دور تر گرانے کی کوشش میں جام شہادت نوش کیا اور اقبال کی نظم ’’فاطمہ بنت عبداﷲ‘‘ کے یہ اشعار پاکستان کی فضائی دفاعی سرحدوں میں گونجتے سنائی دیتے ہیں۔


رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے
ذرہ ذرہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے
تازہ انجم کا فضائے آسماں میں ہے ظہور
دیدۂِ انساں سے نامحرم ہے جن کی موج نور
جو ابھی ابھرے ہیں ظلمت خانۂِ ایام سے
جن کی ضَو ناآشنا ہے قیدِ صبح و شام سے
جن کی تابانی میں انداز کہنِ نَو بھی ہے
اور تیرے کوکبِ تقدیر کا پرتوَ بھی ہے


ایک تو یہ بیٹیاں ہیں جو’’ قوموں کے کوکب تقدیر کا پرتوَ‘‘ ہیں اور حب الوطنی میں اپنے فرائض سے بخوبی سبکدوش ہوتی ہیں اور ایک وہ مائیں ہیں جن کے لخت جگر جنگ کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ان ماؤں کو تو صبر آ جاتا ہے جن کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے فرائض منصبی کے پیش نظر کسی نہ کسی جنگی محاذ پر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ لیکن ان ماؤں کا کیا جن کے جگر گوشوں کو دہشت گردی کے عفریت نے بے سبب نگل لیا، جن بچوں کی معصومیت پر فرشتے بھی نازاں ہوں اور جن کی نوخیز جوانی پر خزاں کو بھی پیار آتا ہو، ان کی ماؤں کا کیا؟


16دسمبر 2014 کو اے پی ایس پشاور کے سانحے میں ماؤں نے اپنے لال بے سود گنوا دیئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ جن ماؤں نے اپنے نور چشم کھوئے ہیں ان کی آنکھوں میں نیند کیوں کر آتی ہو گی۔ لیکن اگر آتی بھی ہو گی تو کچھ ایسے ہی خواب دکھاتی ہو گی جیسا کہ ’’ماں کا خواب‘‘ علامہ اقبال نے قلم بند کیا ہے:


میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
اس تاریک مقام میں اس ماں کو اپنا وہ بیٹا دکھائی دیتا ہے جس کو اس نے بے سبب کھو دیا۔
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیئے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
دیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا


اس ماں نے اپنا بیٹا کسی طبعی موت یا آسمانی آفت کے سبب نہیں کھویا بلکہ وہ جو شمع علم کو فروزاں رکھے ہوئے تھا، اس کی زندگی کے چراغ کو سفاکیت اور درندگی نے گل کیا تھا۔ اس بچے کی ماں خواب میں بھی اس بچے کے چراغ کو گل پاتی ہے۔ ماں اپنے بچے سے گلہ کرتی ہے:


کہا میں نے پہچان کر‘ میری جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!
جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ‘ اچھی وفا تم نے کی!


وہ روشنی کا ہم سفر اس تاریکی میں دھکیلا گیا تھا لیکن وہ مطمئن ہے کہ وہ حیات ابدی کی جانب رواں دواں ہے‘ ہاں مگر اس کا دیا ضرور بجھا ہوا ہے اور وہ اپنی ماں سے یہ کہنے پر مجبور ہے کہ:


جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی میری
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے!


علامہ اقبال کی تیسری نظم ’’صبح کا ستارا‘‘ جنگ سے متاثرہ خواتین کے اس طبقے سے متعلق ہے جو شاید سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ اس نظم کے ادبی محاسن اپنی جگہ پر‘ مگر نظم کا مضمون نہایت منفرد اور بے نظیر ہے۔ اقبال کی سوچ کا جہاں بہت وسیع ہے۔ وہ بلندیوں کے مکین‘ سورج‘ چاند‘ ستاروں کے درد آشنا بھی ہیں۔ ’’صبح کے ستارے‘‘ کی داستان کچھ یوں ہے ۔ صبح کا پیامبر‘ صبح کا ستارہ جسے قرآن میں ’’نجم الثاقب‘‘ قرار دیاگیا ہے جو بظاہر اہل جہاں کے لئے ایک نئے روشن دن کی نوید لاتا ہے، کون جانتا ہے کہ اس کا دکھ کیا ہے؟ صبح کی آمد کا اعلان خود اس کے لئے پیام موت ہے۔ نوید سحر کا پیامبر اپنے مقام اور کام دونوں سے مطمئن نہیں۔ وہ اپنی بلندی سے بیزار ہے اور زمین والوں کی پستی پر رشک کرتا ہے۔ ہر روز کا مرنا جینا اس کا مقدر ہے۔


لطف ہمسائیگی شمس و قمر کو چھوڑوں
اور اس خدمت پیغامِ سحر کو چھوڑوں
میرے حق میں تو نہیں تاروں کی بستی اچھی
اس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھی
آسمان کیا‘ عدم آباد وطن ہے میرا
صبح کا دامنِ صد چاک کفن ہے میرا
میری قسمت میں ہے ہر روز کا مرنا جینا
ساقیِ موت کے ہاتھوں سے صبوحی پینا
نہ یہ خدمت‘ نہ یہ عزت‘ نہ یہ رفعت اچھی
اس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظلمت اچھی
میری قدرت میں جو ہوتاتو نہ اختر بنتا
قعر دریا میں چمکتا ہوا گوہر بنتا


صبح کا ستارہ خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ اختر ہوتا‘ گوہر ہوتا‘ اور اک روز دریا کی گہرائیوں سے نکل کر کسی حسیں کے گلے کا ہار بن جاتا۔ یہ صبح کا ستارہ پہلے تو کسی ملکہ کے تاج کی زینت یا بادشاہ سلیمان کے ہاتھ کی انگشتری میں جڑے نگینے کی قسمت پر رشک کرتا ہے مگر پھر وہ سوچتا ہے کہ یہ نگینہ بھی تو آخر پتھر ہی ہے، جس کی قسمت میں ٹوٹنا ہے۔ صبح کا ستارہ ایسی زندگی کا خواہاں ہے جس میں موت کا تقاضا نہ ہو۔ اسے لگتا ہے کہ زینت عالم ہونے سے بہتر ہے کہ میں کسی پھول پر شبنم بن کر گر جاؤں۔


واں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا
چھوڑ کر بحر کہیں زیب گلو ہو جاتا
ہے چمکنے میں مزا حسن کا زیور بن کر
زینتِ تاجِ سرِبانوئے قیصر بن کر
ایک پتھر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا
خاتمِ دستِ سلیماں کا نگین بن کے رہا
ایسی چیزوں کا مگر دہر میں ہے کام شکست
ہے گہرہائے گراں مایہ کا انجام شکست
زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل
کیا وہ جینا ہے کہ ہو جس میں تقاضائے اجل
ہے یہ انجام اگر زینتِ عالم ہو کر
کیوں نہ گر جاؤں کسی پھول پہ شبنم ہو کر!


وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کسی کی پیشانی پر افشاں بن کر چمکوں یا کس مظلوم کی آہوں کا شرارہ بن جاؤں۔ الغرض وہ اپنے لئے بہت سے نئے مقامات تلاش کرتاہے مگر اس کا شوق ’’ابدیت‘‘ کہیں پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ بالآخر آسماں کے اس روشن ستارے کو اپنی منزل زمین پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ اشک بن کر اس بیوی کی آنکھ سے ٹپک جانا چاہتا ہے جس کا شوہر حب الوطنی سے سرشار‘ زرہ میں مستور‘ میدان جنگ کی جانب رواں ہے۔ شوہر کی رضا نے اس بیوی کو تاب شکیبائی دی ہے اور آنکھوں کو حیا نے طاقت گویائی دی ہے۔ صبح کے اس ستارے کو اپنی منزل قریب دکھائی دیتی ہے کہ جب شوہر کو جنگ کے لئے رخصت کرتے ہوئے لاکھ ضبط کے باوجود اس بیوی کے دیدۂ پرنم سے وہ اشک بن کر ٹپک جائے اور خاک میں مل کر ابدی حیات پا جائے اور عشق کاسوز زمانے کو دکھا دے۔


کسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں میں رہوں
کسی مظلوم کی آہوں کے شراروں میں رہوں
اشک بن کر سرمژگاں سے اٹک جاؤں میں
کیوں نہ اس بیوی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں میں
جس کا شوہر ہو رواں‘ ہو کے زرہ میں مستور
سوائے میدانِ وغا، حب وطن سے مجبور
یاس و امید کا نظارہ جو دکھلاتی ہو
جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو
جس کو شوہر کی رضا تاب شکیبائی دے
اور نگاہوں کو حیا طاقت گویائی دے
زرد، رخصت کی گھڑی، عارضِ گلگوں ہو جائے
کشش حسن غم ہجر سے افزوں ہو جائے
لاکھ وہ ضبط کرے پر میں ٹپک ہی جاؤں
ساغر دیدہ پُرنم سے چھلک ہی جاؤں
خاک میں مل کے حیاتِ ابدی پا جاؤں
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جاؤں


شاعروں نے عورت کو ماں اور بیٹی کی حیثیت سے تو بہت سراہا ہو گا لیکن کلام اقبال میں ایک بیوی کے سوز عشق کا بیان بے مثال ہے۔ آج پاکستان کے حالات میں افواج پاکستان کا کردار ہمیشہ سے زیادہ متحرک ہے۔ حب الوطنی سے سرشار پاکستان کا ہر وہ محافظ جو اپنی جان ہتھیلی پر سجائے رہتا ہے اور ہر نیا دن اس کے لئے عشق کے اور امتحان لاتا ہے، بے شک اس کا مقام ستاروں کی گزرگاہ سے بہت آگے ہے۔ ان فوجیوں کے بہتے خون کی سرخی ان کے اپنوں کے رخسار تو زرد کر دیتی ہے مگر صبح وطن کا ستارہ ہمیشہ روشن رہتا ہے۔
دفاع وطن تمام اہل وطن کا فریضہ ہے۔ کسی کے لئے یہ فرض منصبی ہیں تو کسی کے لئے نسبی۔ عورت بھی وطن کی بیٹی، محبان وطن کی ماں کی حیثیت سے یا محافظین وطن کی شریک حیات ہونے کی حیثیت میں دفاع وطن کی جنگ کو اپنی زندگی کی جنگ سمجھ کر بہت حوصلے اور ہمت سے لڑتی ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مصروف زندگی میں سے کبھی تھوڑا سا وقت نکال کر یہ سوچ سکے کہ جن والدین نے اپنی جانباز بیٹیاں وطن پر وار دیں‘ جن ماؤں نے اپنے مستقبل کے سہارے درندوں کے ہاتھوں بکھرتے دیکھے ہوں، جن بیویوں نے کمال ضبط سے حب وطن سے سرشار اپنی زندگی کے ساتھی جنگ پر رواں کئے ہوں ان کا کیا مقام ہے؟ اور یہ جان سکے کہ عورت فقط وجہ جنگ اور متاثرین جنگ ہی نہیں بلکہ مقابل و مدافع جنگ بھی ہے

حمیرا شہباز ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

janaurataurallama1.jpg
 
25
February

تحریر: ڈاکٹر یونس جاوید

محلے میں سب سے بڑے دروازے والا گھر سید سردار احمد شاہ کا تھا‘ اس گھر کا صحن بہت کشادہ اور پختہ تھا۔ البتہ کچھ حصہ درختوں ‘ پھولوں اور گلاب کی بیلوں کے لئے مخصوص تھا۔ بائیس مرلوں پہ پھیلا ہوا یہ گھر دومنزلوں پر مشتمل تھا مگر سب لوگ نیچے والی منزل کو ہی استعمال کرتے تھے۔ جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا‘ اس گھر کے بارے میں میری معلومات ہلکی ہوتی گئیں۔ سید سردار احمد شاہ کے چار بیٹے تھے۔ ضیا نثار احمد (پی ٹی وی گئے) صادق۔ حامد مختار احمد اور لیاقت اسرار احمد۔


یہ گھر بچپن میں ہی میرے لئے نہایت خوش کن تھا کہ ’’ماں جی‘‘ اس گھر کا مرکز تھیں۔ سب لوگ‘ اپنے پرائے اور ہم بچے سب ان کو ’’ماں جی‘‘ ہی پکارتے تھے۔ وہ ہر ایک سے شفقت بھرا سلوک کیا کرتیں۔ یوں بھی یہ گھرانا باقی تمام گھرانوں سے مہذب اور کلچرڈ تھا۔ سیدسردار احمد شاہ نے تمام بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔ اُنہیں مکمل توکیا ہی تھا ان کی تربیت بھی کی تھی۔ سب بچے باپ کے فیصلوں پر عمل کرتے کہ یہ گھرانااتحاد اور یگانگت کا مکمل نمونہ تھا۔ اس گھر کا سب سے چھوٹا بیٹا جو مجھ سے تھوڑا سینئر تھا‘ جب آرمی کے لئے منتخب ہوگیااور ٹریننگ کے بعد سیکنڈ لیفٹیننٹ کی یونیفارم پہن کر پہلی مرتبہ گھرلوٹا تو سب کو شہزادہ سالگا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ اس کا نام لاکی نہیں (سید سردار احمد شاہ اسے پیار سے ’’لاکی‘‘ بلاتے تھے اور مجھے یونس کے بجائے یونی‘ بعد میں اس کا پورا نام لیاقت اسرار بخاری سامنے آیا۔)


آج کل بریگیڈیر(ر) لیاقت اسرار بخاری (ستارۂ جرأت)ہیں۔ یونیفارم میں لیاقت اسرار بخاری کو دیکھا تو جی مچل کر رہ گیا۔ جی چاہتا ابھی مجھے یونیفارم مل جائے اور میں آرمی جوائن کرلوں۔ اس وقت لیاقت اسرار ہی میرا آئیڈیل تھا۔ میں دن رات آرمی کے خواب دیکھنے لگا۔ تڑپنے لگا۔نماز کے بعد سجدوں میں دعائیں مانگنے لگا۔ یہ سب ممکن تھا مگر میرے ابا جی نے مجھے قرآن پاک حفظ کرانے والے مدرسے میں داخل کروا کے میرے تمام راستے مسدود کر دیئے تھے۔ میرا کیریئر ہی تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ میرے اندر دن رات ابال اٹھتے تھے۔ مگر یہ نہ ہو سکتا تھا۔ بس اتنا ہوا کہ قومی رضاکاروں کی بھرتی شروع ہوگئی ۔ اُنہی قومی رضا کاروں میں جب والد صاحب بھی شامل ہوگئے اور انہوں نے یونیفارم پہن کر پریڈ کرنا شروع کی تو میری ضد بھی کام کر گئی۔ انہوں نے میرے سائز کی چھوٹی یونیفارم سلوا کر مجھے پہنا دی۔ اور پھر انسٹرکٹر تاجے خان کے پاس اچھرہ تھانہ لے گئے۔ تاجے خان انسٹرکٹر نے خوش آمدید کہا اور میرا شوق دیکھتے ہوئے مجھے پریڈ کرنے کی اجازت دے دی۔

aikadhorakh.jpg
ہماری پریڈ تھانہ اچھرہ کے سامنے والی گراؤنڈ میں ہوا کرتی تھی جسے آج کل شریف پارک کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ شریف پارک موجودہ وزیرِاعظم نواز شریف یا ان کے والد کے نام پر نہیں تھا۔ یہ برج السید کے مالک میاں سعیدکے والد میاں شریف کے نام پر بنا تھا جن کی بہت سماجی خدمات تھیں۔


انسٹرکٹر تاجے خان سخت مزاج کا آدمی تھا۔ کھرا کھرا بولتا تھا۔ غلطی کرنے پر سخت بے عزت کرتا مگر پھرمحبت سے برابر بھی کردیا کرتا۔ شام کو وہ انار کلی ہماری دکان پر آجاتا۔ والد صاحب اس کی تواضع کرتے‘ جس طرح وہ اپنے اساتذہ کی کرتے تھے۔ نگینہ بیکری کے مکھن میں بنے ہوئے کیک رس ایک ٹرے میں بھر کر لائے جاتے۔ چائے کی بڑی چائے دانی اور شامی کباب۔ تاجے خان چائے سے زیادہ اس عزت افزائی پر بہت خوش ہوا کرتا۔ جب والد صاحب اُسے بتاتے ’’تاج صاحب آپ میرے استاد ہیں۔ آپ کا ہم پر بہت حق ہے۔ آپ ہمیں ایسے ہنر سکھارہے ہیں جو ہمارے لئے‘ ہمارے وطن کے لئے اور اپنی پاک سرزمین کے تحفظ کے لئے ضروری ہیں۔ لہٰذا آپ کا حق ہم سے ادا نہ ہوگا۔ یہ تو محبت کا اظہار ہے۔‘‘ تاجے خان بہت زور سے کہا کرتا’’ناں میاں صاحب آپ بہت زیادہ کرتے ہیں۔یہ نہ کیا کریں۔ زیادہ مٹھائی میں کیڑے ہوتے ہیں۔‘‘ ابا جی ہنس کر کر ٹال جاتے۔


میں نے دو مہینوں میں جس شوق‘ لگن اور محنت سے اپنی ٹریننگ مکمل کی اور اپنے اسباق یاد کئے وہ تمام دیگر پریڈ کرنے والوں کے لئے بھی حیران کن تھے۔ تاجے خان کبھی کبھی مثال دیتے ہوئے کہا کرتے ’’شوق پیدا کرو شوق۔ یونس کی طرح شوق۔ ورنہ ڈھیلا کام تو آرمی میں نہیں چلتا۔‘‘ چوتھے مہینے کے بعد ہمارا ٹیسٹ ہوا اور میں زیادہ نمبر لے کر پاس ہوگیا۔ سب سے زیادہ نمبر ہونے کی وجہ سے مجھے فی الحال عارضی طور پر پلاٹون کمانڈر بنادیا گیا۔ میں خوشی سے سرشار ہوگیا۔ اب کسی کسی دن 48 لوگوں کو میرے حوالے کرکے کہا جاتا انہیں کمانڈکرو۔ مثلاً ایک دن آرڈر دیا گیا کہ میں48 لوگوں کو تین منٹ سے ساڑھے چار منٹ کے اندر اندر مسلم ٹاؤن والی نہر کے پل پر لے جاؤں۔ اچھرہ تھانہ سے مسلم ٹاؤن والی نہر ایک میل کے فاصلے پرتھی مگر سمجھ گیا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ میں نے سب کو ایکٹو کرکے کیوئیک مارچ کیا۔


’’لیفٹ رائیٹ‘ لیفٹ رائیٹ دو سو گز تو اسی رفتار سے سب کو چلاتا رہا جب جسمانی طور پر پوری پلٹن گرم ہوگئی تو میں نے ڈبل مارچ کا آرڈرکر دیا۔ ڈبل مارچ کی رفتار صاف ظاہر ہے دُگنی بلکہ جوگنگ کی رفتار سے کچھ زیادہ تھی‘ میں تو ہلکا پھلکا دوڑتا رہا مگرپلاٹون میں لگ بھگ تیس لوگ عمررسیدہ تھے‘ وہ ایک منٹ بعد ہی ہانپنے لگے مگر مجھے آرڈر تھا کہ ہر صورت مقرر وقت کے اندر نہر کے پل پر سب کے ساتھ پہنچنا ہے۔ دِس از آرڈر‘ یہی آرمی کی ٹریننگ ہے‘ یہی ڈسپلن ہے۔ یہی آرڈرماننے کی روح ہے۔ جس کی نقل میں قومی رضاکاروں سے کرانا چاہ رہا تھا۔ موسم معتدل ہونے کے باوجود سب پسینے میں نہانے لگے۔ وہ بابے آنکھوں آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارے بھی کر رہے تھے کہ ’’ہالٹ‘‘ کروا کے سانس برابر کرایا جائے۔ مگر میں نے ڈسپلن کو پیشِ نظر رکھا۔ دوسرا یہ ہم سب کا امتحان بھی تھا۔ جس میں، میں ہی نہیں48 کے 48 لوگ کامیاب ہوئے۔ میں نے سب کو ساڑھے تین منٹ میں ہی نہر کے پل پر پہنچایا دیا تھا۔ سب لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔ نہر لبالب نہ تھی۔ آدھی تھی۔ اتنے میں ایک بہت موٹے مگر صحت مند بابا جی نے دھڑام سے نہر میں چھلانگ لگا دی اور سب کو حیران کردیا۔


بعد میں اس نے بتایا کہ ’’مجھے گرمی زیادہ لگ رہی تھی مگر میرے ساتھی نے مجھ سے شرط بھی لگائی تھی کہ جو نہر میں چھلانگ لگائے گا اسے پانچ روپے دوں گا۔(پانچ روپے اس زمانے میں بڑی رقم تھی) لہٰذا ایک تو میں نے خود کو ٹھنڈا کر لیا ہے دوسرا انعام جیت لیا ہے۔‘‘


تاجے خان انسٹرکٹر جو دیر بعد ہمارے تعاقب میں چلا تھا‘ ڈبل مارچ کرتا ہوا آپہنچا۔ اس نے گھڑی دیکھ کر پہلے میرے لئے ’’ویل ڈن‘ ویل ڈن‘‘ پھر سب کو کھل کر داد دی۔ مگر بابوں نے میری سخت مخالفت کی۔ تاجے خان نے سب کو سمجھاتے ہوئے کہ ’’جوانو! اس کے ’’جوانو‘‘ کہنے سے بہت سے بابے خوش ہوگئے ۔ تاجے خان نے بات بڑھا کر انہیں اور بھی خوش کردیااور کہا’’میرے سپاہیو! پلاٹون کمانڈر نے آرڈر کی تعمیل کی ہے اور ملکی دفاع میں آرڈر ہی سب کچھ ہے۔ آرڈر از آرڈر ‘یہ نہ ہو تو ہمارا ڈسپلن‘ ہماری جنگی حکمتِ عملی‘ ملکی دفاع کسی کام کا نہیں اور اگر یہ سب ہو تو پھرکامیابی ہی کامیابی‘ فتح ہی فتح۔ سو یونس نے جو کیا ہے وہ سب درست ہے۔ آپ سب کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے سب کو ’’سٹینڈ ایزی‘‘ کے بعد دوبارہ بتایا ’’دیکھو میرے جوانو! ہر چند کہ تم آرمی کی نقل کررہے ہو تو یہ بات دل پہ نوٹ کر لو آرمی کا مطلب ہے ’’دو ٹوک آرڈر‘‘ یہ تو معمولی بات تھی جس میں آپ نے کامیابی حاصل کر لی۔ یہاں کے امتحان بڑے سخت ہوتے ہیں۔ کوئلوں میں لال انگارہ ہونے والے لوہے کے ٹکڑے کو پکڑنے کا آرڈر ہوسکتا ہے یا اژدھے کے جبڑوں میں ہا تھ ڈالنے کا۔ جو آرڈر ’اوبے‘ کر گیا وہ منزل پا گیا۔ جو ڈر گیا وہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا۔ یہی آرمی ڈسپلن ہے‘ ڈوآر ڈائی۔‘‘کوئی دلیل‘ کوئی جواز‘ کوئی جھجک کوئی اعتراض کوئی رکاوٹ برداشت ہوتی ہے، نہ کوئی متبادل فیصلہ۔ جب آرڈر ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے عمل۔یہی جنگ ہے۔ یہی جیت ہے۔ یہی فاتح کی پہچان ہے۔‘‘ اتنا کچھ سننے کے بعد بابے پھر بھی بڑبڑاتے رہے بلکہ بعض تو ابھی تک ہانپ رہے تھے۔


انسٹرکٹر تاجے خان نے دوسرے دن کے لئے تمام بابوں کو چن کر آرام کے لئے دو دن کی چھٹی دے دی۔ اور پلاٹون کو نئے سرے سے تربیت دے کر جوانوں سے بھر دیا۔ یہ اَن تھک پریڈ کرنے والی پلاٹون تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے چودہ اگست یومِ پاکستان کو شریف پارک اچھرہ سے علامہ اقبال کے مزار تک سارے لاہور کے رضاکاروں کی پلٹنوں کے ساتھ لیفٹ رائیٹ کرتے تسلسل کے ساتھ منٹو پارک (مینارِ پاکستان) پہنچے تھے اور اس کے بعد علامہ اقبال کے مزار پر ۔کوئی نہ تھکا تھا‘ سب پُرجوش تھے‘ کوئی ایک لمحے کو بھی نہ رکا۔ سب ہشاش بشاش تھے اور میں تو خوش و خرم تھا۔۔مگر سارے جتن کرنے کے باوجود میں آرمی جوائن نہ کرسکتا تھا اور آج تک یہ خواب کانٹا بنائے سینے میں پروئے پھرتا ہوں۔
ایک روز ابا جی مجھے ایک بہت بڑے جلسے میں ساتھ لے گئے۔ چونکہ وہ جلسہ کرنے والوں کی انتظامیہ میں بھی تھے اس لئے انہوں نے بطورِ خاص دو ٹکٹ خریدے تھے جو دس دس روپے کے تھے۔ مگر سب کلاسوں سے مہنگے تھے کہ دریوں پر بیٹھ کر جلسہ سننے والوں کا ٹکٹ چار آنے تھا۔ پنڈال بہت بڑا تھا۔ روشنیاں تھیں اور ہجوم تاحدِ نگاہ۔ میں بچہ ہی تو تھا۔ بچے کی آنکھیں گاؤں کے راستوں کی طرح ہوتی ہیں۔ شام ہوئی اور بند۔ مجھے بہت نیند آرہی تھی‘ مگر مجھے جاگنا پڑ رہا تھا۔ تاہم نیند کا غلبہ شدید تھا۔ اسی اثنا میں شور مچ گیا۔ ’’شاہ جی آگئے‘ شاہ جی آگئے‘‘ پھر نعرے لگنے لگے۔ مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ وہ شاہ جی جن کے لئے لوگ اہلِ جنوں کی طرح منتظر تھے‘ سید عطاء اﷲ شاہ بخاری تھے۔ بہر حال شاہ جی کی تقریر سے پہلے اعلان ہوا کہ فلاں فلاں اپنی نظم کشمیر پر پیش کرے گا۔ دیکھا تو سات آٹھ سال کا بچہ سٹیج پر آکر کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے اس کی نظم کو بے دلی سے سننا شروع کیا۔ بچے کا ترنم مسحور کن تھا پھر بھی لوگوں کو شاہ جی‘ کا انتظار تھا۔ اور لوگ نعرے لگا لگا کر اپنی خواہش کا اظہار کررہے تھے۔


جو نہی لڑکے نے نظم کا یہ مصرعہ پڑھا
کشمیر میں جنت بکتی ہے
کشمیر میں جنت بکتی ہے
سات مرتبہ اس بچے نے مختلف زاویوں سے یہ مصرعہ گا گا کر لوگوں کو گرفت میں لے لیا تھا۔جونہی اس نے اگلا مصرعہ پڑھا یعنی
کشمیر میں جنت بکتی ہے
اور جان کے بدلے سستی ہے


تو لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کے ہجوم میں سمندر کی طرح لہریں جل تھل ہونے لگیں۔ لوگوں نے اس بچے پر نوٹوں اور سکوں کی بارش کردی اور مصرع پڑھنے کے لئے اصرار کرتے رہے۔ سب لوگ اس قدر جوش میں تھے کہ وقتی طور پر سب لوگ اسی نظم میں ڈوب گئے اور شاہ جی کے نعرے مدہم پڑ گئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ابھی سارا ہجوم کشمیر کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا۔ لوگ چیخ رہے تھے‘ نعرے لگا رہے تھے۔ بچے کو سٹیج پر جا جا کر پیار کررہے تھے۔ اتنا ہنگامہ تھا کہ تقریر سے پہلے مجھ پر نیند نے غلبہ پا لیا اور ابا جی نے بھی ہجوم کی جل تھل دیکھتے ہوئے مجھے ملازم کے سپرد کر دیا جس نے مجھے پنڈال سے باہر لا کر ایک چھوٹے خیمے میں سلا دیا جو صرف بچوں کے لئے مخصوص تھا۔ معلوم ہوا کہ شاہ جی کی تقریر رات بھر جاری رہی اور صبح کی اذان ہوتے ہی تمام ہوگئی۔ مگر لوگوں کی پیاس کم نہ ہوئی۔ شاید اسی کا اثر تھا کہ دوسرے ہی دن ایک بہت بڑا جلوس مال روڈ پر آگیا اور ہمارا کاروبار چونکہ انار کلی میں تھا اور والد صاحب کو کشمیر سے خصوصی لگاؤ تھا‘ لہٰذا وہ کشمیر کے لئے ترتیب دیئے گئے اس جلوس کو دیکھنے اور مجھے دکھانے کے لئے مال روڈ پر آگئے۔


میں نے دیکھا جلوس رات والے ہجوم سے کچھ ہی کم تھا۔ ہر عمر اور ہر قبیلے کے لوگ اس میں شامل تھے اور سوائے ہمارے کہ ہمیں اس جلوس کی پہلے سے بالکل خبر نہ تھی‘ سب لوگوں نے سرپر سفید کپڑے لپیٹ رکھے تھے۔ اباجی نے مجھے بتایا کہ ہر شخص نے اپنے سر پر کفن باندھ رکھا ہے اور سب اونچی آواز میں ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے ’’کشمیر کی آزادی یا شہادت‘‘ جلوس آہستہ آہستہ آگے بڑھتا گیا‘ میں دیر تک اور دُور تک اس جلوس کو جاتا ہوا دیکھتا رہا اور آج تک دیکھ رہا ہوں۔


ہم وہیں کھڑے ہیں۔ جلوس اسی رفتار سے چل رہا ہے۔ نعرے بھی ہیں۔ کفن بھی ہیں۔ سبھی کچھ جوں کا توں ہے‘ آج بھی میرے تخیل اور تصور میں وہ جلوس تابندہ اور فروزاں ہے‘ جوش بھی ہے‘ حرارت بھی ہے مگر آدھی صدی گزر جانے کے باوجود ہم قدم نہیں اٹھاپائے۔
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ


میری ضد یہ تھی کہ مجھے بھی ایک اپنے سائز کا کفن لے کر دیا جائے جسے میں سر پر باندھ کر ایسے کسی جلوس میں شریک ہو سکوں مگر ابا جی نے مجھے قومی رضا کاروں والی ایک اور یونیفارم سلوا کر خوش کرنے کا جتن کرلیا اور مجھے ہر صبح شریف پارک میں تاجے خان کی شاگردی تک محدود کردیا۔اور میرے وہ خواب جولیاقت اسرار بخاری کو دیکھ کر پروان چڑھے تھے‘ ادھورے ہی رہے اور سسک سسک کر دم توڑ گئے کہ مجھے اس کٹھن راستے پر چلایا ہی نہ گیا جو میرا آئیڈیل تھا۔


میں آج بھی اس چھوٹی سی وردی کونکال کر دیکھتا ہوں اور آہ بھر کر اٹیچی میں کتابوں میں رکھے پھولوں کی طرح بند کر دیتا ہوں۔
اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اُس نے کیا

مضمون نگار ممتازدانشور‘ ادیب اور ’’اندھیرا اجالا‘‘ سمیت کئی معروف ڈارموں کے خالق بھی ہیں۔
انسٹرکٹر تاجے خان نے دوسرے دن کے لئے تمام بابوں کو چن کر آرام کے لئے دو دن کی چھٹی دے دی۔ اور پلاٹون کو نئے سرے سے تربیت دے کر جوانوں سے بھر دیا۔ یہ اَن تھک پریڈ کرنے والی پلاٹون تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے چودہ اگست یومِ پاکستان کو شریف پارک اچھرہ سے علامہ اقبال کے مزار تک سارے لاہور کے رضاکاروں کی پلٹنوں کے ساتھ لیفٹ رائیٹ کرتے تسلسل کے ساتھ منٹو پارک (مینارِ پاکستان) پہنچے تھے اور اس کے بعد علامہ اقبال کے مزار پر ۔کوئی نہ تھکا تھا‘ سب پُرجوش تھے‘ کوئی ایک لمحے کو بھی نہ رکا۔ سب ہشاش بشاش تھے اور میں تو خوش و خرم تھا۔۔مگر سارے جتن کرنے کے باوجود میں آرمی جوائن نہ کرسکتا تھا اور آج تک یہ خواب کانٹا بنائے سینے میں پروئے پھرتا ہوں۔

*****

سات آٹھ سال کا بچہ سٹیج پر آکر کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے اس کی نظم کو بے دلی سے سننا شروع کیا۔ بچے کا ترنم مسحور کن تھا پھر بھی لوگوں کو شاہ جی کا انتظار تھا۔ اور لوگ نعرے لگا لگا کر اپنی خواہش کا اظہار کررہے تھے۔ جو نہی لڑکے نے نظم کا یہ مصرعہ پڑھا

کشمیر میں جنت بکتی ہے

کشمیر میں جنت بکتی ہے

سات مرتبہ اس بچے نے مختلف زاویوں سے یہ مصرعہ گا گا کر لوگوں کو گرفت میں لے لیا تھا۔جونہی اس نے اگلا مصرعہ پڑھا یعنی

کشمیر میں جنت بکتی ہے

اور جان کے بدلے سستی ہے

تو لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کے ہجوم میں سمندر کی طرح لہریں جل تھل ہونے لگیں۔ لوگوں نے اس بچے پر نوٹوں اور سکوں کی بارش کردی اور مصرع پڑھنے کے لئے اصرار کرتے رہے۔ سب لوگ اس قدر جوش میں تھے کہ وقتی طور پر سب لوگ اسی نظم میں ڈوب گئے اور شاہ جی کے نعرے مدہم پڑ گئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ابھی سارا ہجوم کشمیر کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا۔ لوگ چیخ رہے تھے‘ نعرے لگا رہے تھے۔ بچے کو سٹیج پر جا جا کر پیار کررہے تھے۔

*****

 
25
February

تحریر : محمود شام

یہ تو پوری دُنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔
ایک ایٹمی طاقت ہے۔
اس کی آبادی کا 60 فی صد 15 سے 35 سال کی عمر کے پاکستانیوں پر مشتمل ہے۔
بہت کم ملکوں کو یہ توانائی، طاقت اور جوانی میسر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر ہم پاکستانی جتنا بھی شکر کریں، کم ہے۔


قوموں کی زندگی میں ساٹھ ستر سال کچھ نہیں ہوتے۔ قوم بننے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ قدرت نے ہمیں بے حساب خزانے عطا کئے ہیں۔ نوجوان آبادی تو اس میں سر فہرست ہے۔ پہاڑوں، ریگ زاروں اور میدانوں میں چھپے تیل، تانبے، سونے، گیس اور قیمتی پتھر انمول ذخیرے ہیں۔ ان معدنیات کو برآمد کرنے کے لئے بھی نوجوانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جوان ذہن، جوان جسم، جاں دل سوز۔


آج ہمارے مخاطب ہمارے یہی بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں ہیں جنہیں ہم اپنا مستقبل کہتے ہیں، جنہیں اب تک ہم نے وہ پُر سکون، محفوظ، پُرامن اور خیال افروز معاشرہ نہیں دیا۔ جس کے وہ اکیسویں صدی میں حقدار ہیں۔ ہم نے انہیں سفر کے وہ ذرائع اور وسائل نہیں دیئے جو ان کے ہم عمر شہریوں کو امریکہ، یورپ، چین اور دوسرے علاقوں میں میسر ہیں جن کا مشاہدہ وہ اس وقت کرتے ہیں جب بیرونِ ملک جاتے ہیں یا وہ فلموں میں، ٹی وی پر، انٹرنیٹ کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ ہم ان کے قصور وار ہیں۔ وہ ہم سے جواب طلب کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ ہمارا اثاثہ ہیں، ہمارا سرمایہ ہیں، ہمارا روشن مستقبل ہیں۔ ہمیں اُمید نہیں یقین ہے کہ وہ جب عملی زندگی میں قدم رکھیں گے، تو ان کے ذہن جدید علوم سے آراستہ ہوں گے۔ اپنی تعلیم، انٹرنیٹ، ٹی وی چینلوں کے ذریعے وہ درپیش چیلنجوں کے مقابلے کی تربیت حاصل کرچکے ہوں گے۔ وہ مسائل کی شناخت بھی کرچکے ہوں گے۔ ان کے حل کے راستے بھی ان کے سامنے ہوں گے۔ حالات سے پنجہ آزما ہونے کے لئے ہماری یہ نسل ہم سے بہتر ہوگی۔


ہمیں اپنی کوتاہیوں پر شرمندہ بھی ہونا چاہئے، اپنے نوجوانوں سے معذرت بھی کرنی چاہئے۔ ہم ملک کو زیادہ آگے کیوں نہیں بڑھا سکے۔ ہماری گزشتہ نسلوں نے ہمیں ورثے میں بہت کچھ دیا ہے، ہمیں غلط اور صحیح کی تفریق بھی بتائی تھی، یہ بھی سکھایا تھا کہ ترقی کی منزل کو کون سے راستے جاتے ہیں۔


بیسویں صدی کے آغاز میں کیا ہمیں یہ بانگ درا نہیں سنائی دی تھی؟ اس وقت کے فلسفی، شاعر اور دل درد مند رکھنے والے اقبالؔ نے کیا ہمیں خبردار نہیں کیا تھا؟
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سرِ دارا


اقبالؔ ہماری نسل کو براہِ راست بھی مخاطب کرتے تھے۔ بہت سے آزادی کے متوالے، سر فروش، بھی اقبالؔ کا یہ درد ہم تک پہنچاتے تھے۔
تمدّن آفریں، خلّاقِ آئینِ جہاں داری
وہ صحرائے عرب یعنی شتر بانوں کا گہوارا
غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے
جہاں گیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا


ان دو مصرعوں میں کتنی صدیاں سمودی گئی ہیں۔ خلفائے راشدین، بنی اُمیہ، بنو عباسیہ، عثمانیہ، سب کی تگ و دو، بصیرت، سفارت، متانت اس ایک مصرع میں بیان کردی گئی ہے۔ غور کیجئے، یہ لفاظی نہیں ہے، جذباتیت نہیں

ہے، حقیقت ہے، تاریخ ہے، جہاں گیر، جہاں دار، جہاں بان، جہاں آراء۔ کیا ہمیں اب ضرورت نہیں ہے کہ سیکھیں جہاں داری کیا ہے؟ جہاں دار کون ہوتا ہے؟ جہاں بانی کیسے ہوتی ہے؟ جہان آرائی کی حدیں کہاں تک ہیں؟!!!
اقبالؔ ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔ ہمارے دل اور ذہن پر دستک دیتا ہے۔
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
ہماری نسل نے ان مصرعوں میں گونجتے سناٹوں کو محسوس کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
نہیں دُنیا کے آئینِ مسلّم سے کوئی چارا
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباکی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا


ہمیں تو بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی احساس دلاتے رہے، ہماری توانائی کا‘ فیصلہ سازی میں ہماری اہمیت کا، نئی مملکت خدادادِ پاکستان کو ترقی یافتہ اقوامِ عالم کی صفوں میں لے جانے کی ذمہ داریوں کا۔
ذرا غور سے سنیں۔ 12 اپریل 1948ء کو وہ پشاور میں اسلامیہ کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کتنی اہم باتیں کہہ رہے ہیں۔ منزل کی طرف جانے والے اصل راستے دکھارہے ہیں۔ پاکستان بننے کے صرف آٹھ ماہ بعد، اپنی رحلت سے چھ ماہ پہلے۔


’’ اس موقع پر فطری طور پر جو خیال میرے ذہن میں چھایا ہوا ہے، وہ تحریکِ پاکستان کے دوران طالب علم برادری کی طرف سے ملنے والی مدد ہے۔ خاص طور پر اس صوبے سے ( یعنی کے پی کے۔ اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ)۔ میں اس صوبے کے عوام کے اس بے مثال اور بر وقت صحیح فیصلے کی اہمیت نہیں بھول سکتا، جو انہوں نے گزشتہ برس ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت کے لئے دیا تھا، اس میں بھی طلبہ کا ہی زیادہ حصّہ تھا۔ مجھے اس حقیقت پر فخر ہے کہ اس صوبے کے عوام کبھی بھی، کسی طرح بھی، پاکستان کے حصول اور آزادی کی جدوجہد میں پیچھے نہیں رہے۔
اب جب ہم نے اپنی قومی منزل حاصل کرلی ہے۔ آپ یقیناًتوقع کررہے ہوں گے کہ میں آپ کو بتاؤں، نصیحت کروں کہ اب ہمارے سامنے اس نئی مملکت کی تعمیر کا انتہائی مشکل اور اہم چیلنج ہے۔ ہمیں اس کو دُنیا کے چند عظیم ترین ملکوں میں سے ایک بنانا ہے۔‘‘


قائدِ اعظم خطاب تو پشاور میں طلبہ سے کررہے تھے لیکن ان کی مخاطب مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں بازوؤں میں نوجوان برادری تھی۔ وہ قیامِ پاکستان میں ان کی جدو جہد پر بار بار نوجوانوں کا شکریہ بھی ادا کررہے تھے۔ اب وہ چاہتے تھے کہ اس جذبے سے وہ استحکام پاکستان کے لئے بھی اپنی توانائیاں صرف کریں۔


’’ کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے اپنا کردار انتہائی شان سے ادا کیا۔ اب جب آپ نے اپنا مقصد حاصل کرلیا ہے۔ اب حکومت آپ کی ہے، ملک آپ کا ہے، جہاں آپ ایک آزاد شہری کی حیثیت سے زندگی گزار سکتے ہیں۔‘‘


آگے دیکھئے۔ یہ نکتہ بہت ہی اہم ہے۔
’’ اب ملک کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل کے لئے آپ کی ذمہ داریاں اور نقطۂ نظر تبدیل ہوجانا چاہئے۔ اب وقت کا تقاضا یہ ہے اور یہ مملکت آپ سے توقع رکھتی ہے کہ اب نظم و ضبط کا معقول احساس پیدا کریں۔ آپ کا کردار قابلِ رشک ہو۔ معاملات میں پہل آپ کا شعار ہو۔ اور تعلیمی پس منظر انتہائی ٹھوس۔ ‘‘


غور کیجئے! 67سال پہلے بانئ پاکستان بر صغیر کے بے مثل قائد اس وقت کے نوجوانوں کو کیا سمجھارہے ہیں۔ کن غلط فہمیوں کی نشاندہی کررہے ہیں جو آ ج کے رویوں پر بھی صادق آتی ہے۔
’’ میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے اقدامات، نا پُختہ اطلاعات، نعروں یا لفاظی پر مبنی نہیں ہونے چاہئیں۔ انہیں دل پر نہ لیں، طوطے کی طرح نہ رٹیں۔ آپ کی درسگاہ آپ کو جو تربیت دیتی ہے، اس کا فائدہ اٹھائیں۔ اپنے آپ کو آنے والی نسلوں کے لیڈر بننے کے لئے تیار کریں۔ یہ غلط خیال دل سے نکال دیں کہ طلبہ کو کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ کوئی نئی بات نہیں بتا سکتا کیونکہ وہ پہلے سے بہت کچھ جانتے ہیں، یہ اندازِ فکر بہت نقصان دہ ہے۔‘‘


نوجوانوں کو ان کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے قائدِ اعظم نے فرمایا۔
’’ آپ کو اندازہ ہونا چاہئے کہ آپ کے لئے نئے شعبے، نئے محکمے اور نئے آفاق انتظار کررہے ہیں، نئے مواقع دستیاب ہیں جہاں لامحدود امکانات ہیں۔ آپ کو اپنی توجہ سائنس،کمرشل بینکنگ، انشورنس، صنعت اور ٹیکنیکل ایجوکیشن پر مرکوز کرنی چاہئے۔‘‘


کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری نسل کو حقیقی مسائل سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ہماری غلطیوں اور خامیوں کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ قائدِ اعظم، قائدِ ملّت اور دوسرے اکابرین نے ہمیں ملک کو درپیش چیلنجوں کا شدت سے احساس دلایا تھا، راستے بھی سُجھائے تھے۔


میں اپنی نسل اور اپنے ہم عصروں کی طرف سے آج کے نوجوانوں سے معذرت کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ انتہائی خوش قسمت ہیں کہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں، پاکستان میں رہتے ہیں، اس عظیم مملکت کے شہری ہیں، اس حسین، خوبصورت اور فطرت کے خزانوں سے مالا مال وطن کے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، نا اُمیدی کا کوئی جواز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت سے نوازا ہے۔ کبھی تدبّر کریں، غور کریں کہ مشرقِ وسطیٰ سے مشرقِ بعید جانے والوں کو پاکستان کے دروازے سے گزرنا پڑتا ہے، ایشیا سے یورپ جانے کے لئے بھی یہی راستہ ہے۔ چین کیوں قراقرم سے گوادر تک اقتصادی راہداری تعمیر کررہا ہے۔ یہ اس کی ضرورت بھی ہے۔ لیکن اس سے فائدہ تو ہم پاکستانیوں کو ہوگا۔ کئی ہزار کلومیٹر پٹی پر کتنے ہوٹل کھلیں گے۔ کتنے کارخانے تعمیر ہوں گے۔ کتنے پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔
کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں۔ کیا آپ نے چینی زبان سیکھ لی ہے۔


اس راہداری کی تعمیر کے دوران جن شعبوں میں مہارت اور تربیت درکار ہوگی، قائدِ اعظم نے 67 برس پہلے ان کی واضح نشاندہی کی تھی۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہ دُنیا میں کئی ملکوں میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، بیلجیم، فرانس، جرمنی، جاپان میں 70 برس سے زیادہ عمر کے مرد اور خواتین اکثریت میں ہیں۔ وہ اگر چہ صحت مند ہیں، بہت سے کام اس بڑھاپے میں بھی کرلیتے ہیں لیکن پھر بھی روزمرہ زندگی میں ایسے کئی ضروری شعبے ہیں جہاں انہیں نوجوانوں کی ضرورت رہتی ہے۔ آپ انٹرنیٹ دیکھتے ہیں، بین الاقوامی ٹی وی چینل دیکھتے ہیں، ریڈیو سنتے ہیں، آپ کو یہ جاننا چاہئے کہ وہاں کن شعبوں میں تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے۔ یہ سب شعبے 67 سال پہلے بھی نوجوانوں کا انتظار کررہے تھے، اب بھی یہ شعبے نوجوانوں کے منتظر ہیں۔ آپ سارے کام کرلیتے ہیں۔ آپ بہت جدو جہد کرتے ہیں بڑی محنت کرتے ہیں۔ آپ میں بہت توانائی ہے لیکن آپ میں سے اکثر کا تعلیمی اور تربیتی پس منظر مضبوط نہیں ہے۔ الیکٹریشن ہیں مگر سند نہیں ہے۔ پلمبر ہیں مگر ڈپلوما نہیں ہے، آپ کے گھریلو حالات ایسے تھے کہ پڑھائی درمیان میں ہی چھوڑنا پڑی۔ کام شروع کرچکے، اس میں مہارت بھی حاصل ہوگئی۔ لیکن آپ کے پاس کوئی تصدیق نامہ نہیں ہے۔ غیر ممالک میں باقاعدہ اسناد درکار ہوتی ہیں۔ یہ ہماری نسل کی کوتاہی ہے، حکمرانوں کی غفلت ہے کہ ووکیشنل ایجوکیشن (پیشہ ورانہ تربیت) کے ادارے بہت کم تعداد میں ہیں۔ اس لئے ہمارے جو محنت کش دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں، انہیں اُجرت کم ملتی ہے۔ حالانکہ وہ ہُنر مندی میں کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔


میں تو کئی بار لکھ چکا ہوں۔ تمہاری جرأتوں کو داد دے چکا ہوں۔ اے جوانانِ وطن! تم جو اپنے دمکتے چہروں، تمتماتی پیشانیوں، جگمگاتی آنکھوں، لچکتے بازوؤں، ستواں جسموں کے ساتھ کرکٹ سٹیڈیموں کے باہر کبھی ٹکٹوں کے انتظار میں کھڑے نظر آتے ہو، کبھی تماشائیوں کی صورت میں اپنے کھلاڑیوں کی اچھی گیند اور پُر زور ہٹ پر پورے جوش اور محبت سے تالیاں بجاتے دکھائی دیتے ہو، معلوم نہیں تم نے کبھی اپنی طاقت، اپنی اہمیت اور اپنی افادیت کا احساس کیا ہے یا نہیں۔ اس وقت اسٹیڈیموں کی رونق تم سے ہے، کھلاڑیوں کی آمدنی تمہاری آمد سے بڑھتی ہے۔ مثالی نظم و ضبط، تحمل سے قوم کا سر تم نے بلند کیا ہے۔ میں تمہاری آنکھوں میں یہ جوش، یہ عزم، یہ چمک، تمہارے بازوؤں میں یہ برق، تمہارے جسموں میں توانائی، تمہاری پیشانیوں پہ یہ ولولے کتنے برسوں سے دیکھتا آرہا ہوں اور انہیں نہ جانے کس کس کی طاقت بنتے پایا ہے۔ تاریخ میں کتنے موڑ آئے ہیں، کبھی ہم روئے ہیں، کبھی مسکرائے ہیں۔ پتہ نہیں تم نے کبھی مڑ کر دیکھا کہ نہیں۔جب تمہاری طاقت مملکت کے مفاد میں استعمال کی گئی تو ہم سب مسکرائے، خوشیاں ہمارا مقدّر بنیں، جب تمہاری طاقت کسی ذات کے مفاد میں خرچ کی گئی تو وہ شخصیت تو مسکرائی مگر قوم روتی رہی ہے۔ تم ہمارے بازو ہو، ہمارا حوصلہ ہو، تم جہاں بھی ہو، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد، مظفر آباد، ملتان، حیدر آباد، سکھر، سیالکوٹ، فیصل آباد، کوہاٹ، مردان، سبّی، لاڑکانہ، خانیوال، نوابشاہ، گھوٹکی، گجرات، روجھان جمالی، جھنگ۔۔۔۔۔ تمہاری نگاہیں بلند ہیں، سخن دلنواز ہیں، جاں پُر سوز ہے۔ تم کہاں نہیں ہو، تم وہاں بھی ہو جہاں وطن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں، وہاں بھی ہو جہاں ایران کی سرحدیں ہم سے ملتی ہیں، جہاں بھارت کی طویل سرحد ہماری سرحد کے ساتھ چلتی ہے، لائن آف کنٹرول چلتی ہے، وہاں بھی تم ہی ہو، کہیں کھیتوں میں ہریالی تم سے ہے، کہیں ملوں کی مشینیں تمہارے دم سے رواں ہیں، کہیں تمہاری موجودگی اور ہر وقت چوکنّے رہنا کتنی آبادیوں کے لئے تحفظ اور سکون کی ضمانت ہے۔ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، دینی مدرسوں میں زندگی تم سے ہے، سرکاری سیکرٹریٹ ہوں، پرائیویٹ کمپنیوں کے دفاتر، سب تمہاری وجہ سے چل رہے ہیں۔ ایک طرف کم سنوں کے لئے تم ایک اُمید ہو، آگے بڑھنے کی وجہ ہو۔ دوسری طرف ڈھلتی عمروں کے لئے تم ایک سہارا ہو۔ اے جوانانِ پاکستان کبھی تم نے جائزہ لیا کہ تمہاری حدّت سے کتنی فصلیں پکیں اور انہیں کاٹ کر کون کون لے گیا۔ مجھ جیسے پاکستانی سیاست کے طالب علم گواہ ہیں کہ کس طرح قائدین تمہارے کندھوں پر سوار ہوکر صدارتی محلّات، وزارتِ عظمیٰ کے ایوانوں میں داخل ہوگئے۔ تم آہنی گیٹوں کے باہر اپنی تمنّاؤں، محرومیوں اور خوابوں کے ساتھ کھڑے رہ گئے۔ تم وطن کی بہار ہو، فصل گل ہو، رنگتیں ہو، خوشبوئیں ہو، مگر ایک دوسرے سے بٹے ہوئے ہو، دور دور ہو۔ قومی سیاسی پارٹیاں ہوں۔ ان کی مقبولیت ہر دلعزیزی تمہارے دم سے ہوتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کا دباؤ تمہاری حمایت سے بڑھتا ہے۔ علاقائی تنظیمیں اپنے پروگرام تمہارے بل بوتے پر پیش کرتی ہیں۔ لسانی تنظیموں کی زبان میں روانی تم سے آتی ہے۔ ان پارٹیوں، جماعتوں، تنظیموں کے سربراہ تو آپس میں ملتے رہتے ہیں لیکن تمہیں کبھی آپس میں ملنے کا موقع نہیں ملتا۔


امیروں کے اونچے علاقے ہوں، وہاں زندگی تم سے ہوتی ہے، کاریں بھگاتے ہوئے، بریکیں لگاتے ہوئے، موبائل فونوں پہ پہروں انگریزیائی اُردو بولتے ہوئے، ایک ہلچل تم سے رہتی ہے۔ متوسط طبقوں میں بغیر سائلنسر کی موٹرسائیکلوں سے اپنے ہونے کا احساس تم ہی دلاتے ہو۔ کبھی ٹیوشنیں پڑھاکر اپنی تعلیم کا خرچ پورا کرتے ہو۔ کچی آبادیوں میں، کچی عمروں میں کبھی خوانچے لگاتے ہوئے، کبھی ہوٹلوں، ریستورانوں پر مصروفِ خدمت، منی بسوں میں لٹکتے، ساتھ ساتھ بھاگتے، ٹرانسپورٹروں کی تجوریاں تم ہی بھرواتے ہو۔ کبھی رکشہ دوڑاتے ہو، کبھی ٹیکسی چلاتے ہوئے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہو، کبھی سیٹھوں، جاگیرداروں، صاحبوں کی لینڈ روورز، کاریں چلاتے، صاف کرتے ہو۔ تم سب ہمارا فخر ہو، ہمارا غرور ہو۔ کبھی تم نے سوچا کہ تم نہ ہو تو یہ سب کچھ چل سکتا ہے؟ زندگی رواں رہ سکتی ہے؟تم وقت کے سینے میں دھڑکتے ہو، جو تم نہ ہو تو زمانے کی سانس رُک جائے، تم جہاں بھی ہو اور تم کہاں نہیں ہو۔ تم ہی پاکستان ہو، تم ہی اس مملکت کا مستقبل ہو۔ اس سفر کی منزل ہو، تحریکِ پاکستان تمہارے عزم سے چلی تھی، پاکستان کا قیام تمہاری پُر جوش شرکت کا نتیجہ تھا اور اب پاکستان کا استحکام بھی تمہاری ہمتوں اور کوششوں سے ہوگا۔ زمانے کے قبیلے کی آنکھ کا تارہ وہی ہے جس کا شباب بے داغ اور ضرب کاری ہے جو ستاروں پر کمند ڈالتا ہے۔


منزلیں بھی منتظر ہیں، ہدف بھی موجود ہیں، ماں کی آغوش بھی ہے، تمہیں شناخت دینے والی مملکت بھی ہے، تمہیں نام دینے والی زمین بھی ہے، دُنیا میں تمہارے کتنے ہم عمر ہیں جو زمین کے لئے ترستے ہیں جن کو وطن کی چھاؤں میسر نہیں ہے۔ تمہیں تو اللہ نے کتنے، کھلے سر سبز میدان، میلوں میل بہتے دریا، ٹھاٹھیں مارتے سمندر، فطرت کے شاہکار ساحل ، سونا اُگلتی زمینیں، گیس، تیل، ریگ زار، برف پوش پہاڑ بخشے ہیں۔ سربراہوں کا کلچر بدلنے کی ضرورت ہے اور تم میں اس کی اہلیت ہے۔ تمہاری آنکھوں میں یہ سپنے ہیں، تمہارے بازوؤں میں یہ بجلیاں ہیں۔
آخر میں پھر اقبال کے الفاظ میں مخاطب ہوکر اجازت چاہوں گا۔


نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Page 2 of 17

Follow Us On Twitter