19
May

کیپٹن اسلام شہزاد اپنے ہاتھوں میں نقشہ تھامے کافی گہری سوچ میں گم تھے، انہوں نے کیپٹن وقاص کو گاؤں ڈھیرئی بانڈہ اور دیگر اہم علاقوں کے علاوہ تین ایسے احاطے دکھائے جن میں دہشت گردوں کی موجودگی یقینی تھی ۔ اس موقعے پر ونگ کمانڈر کی ہدایات بھی مسلسل موصو ل ہورہی تھیں۔ ونگ کمانڈر نے واضح طور پر حکم دیاتھا کہ علاقے سے پکڑے جانے والے12 سال سے زائد عمر کے ہر مشکوک شخص کی مکمل چھان بین کی جائے اور یہ کا م کیپٹن وقاص کے ذمے لگایا گیا تھا۔ دن کے تقریبًا سوا بارہ بج رہے تھے کہ اچانک فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اُٹھی۔

آپریشن ضرب عضب اپنے عروج پر تھا۔ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے بے باک جوانوں نے دہشت گردوں پر عرصہء حیات تنگ کر دیا توباجوڑ ایجنسی میں تحصیل سلارزئی کے علاقے ڈھیرئی بانڈہ میں دہشت گردوں کی خُفیہ آمدورفت کا سلسلہ ایک بار پھرشروع ہونے لگا۔ حساس اداروں کی خُفیہ معلومات کے مطابق یہ مقام نہ صِرف گردونواح میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لئے استعمال ہو رہا تھا بلکہ اسے مُلک کے دیگر علاقوں میں تخریب کاری کے بڑے منصوبے بنانے کی آماجگاہ کے طور پر بھی پروان چڑھایا جا رہا تھا۔ اگرچہ آپریشن’’ راہ راست ‘‘ اور ’’راہ نجات‘‘ کے دوران اس علاقے میں دہشت گردوں کی کمر کافی حد تک توڑ دی گئی تھی اور ان کے سیکڑوں ساتھی اپنے کمانڈروں سمیت ہلاک ہوئے یا پھر حراست میں لے لئے گئے تھے البتہ کچھ شرپسند افغانستان کے ملحقہ صوبے کنٹرکی طرف بھاگ گئے تھے ۔ بارڈر سے ملحق ہونے کی وجہ سے اب افغانستان میں چھپے فضل اللہ اور اس کے حواری وقتاً فوقتاً اپنے غیر ملکی آقاؤں کی مدد سے سازشوں کا جال بنتے اور اپنی گھناؤنی اور تخریبی سرگرمیوں کو پاک سر زمین تک پھیلانے کی مکروہ کوشش کرتے۔ چنانچہ پاک فوج کے جامع منصوبے کے تحت کمانڈنٹ باجوڑ سکاؤٹس کرنل میر امیر علی کو اس علاقے سے دہشت گردوں کو مکمل طور پرمٹانے کا حکم ملا۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آپریشن کی کمان چترال سکاؤٹس کے ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم کو سونپی گئی۔ ابتدائی تیاریوں کے بعد 18 جنوری 2015 jo_chaly_to.jpgکی صبح لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم نے اپنے تمام کمپنی کمانڈرز کو باجوڑ سکاؤٹس کے ہیڈ کوارٹر میں طلب کیااور آپریشن کے خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ ٓاپریشن اگلی صُبح 6بجے شروع ہونا تھا۔آپریشن میں لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم کے زیر کمان چترال سکاؤٹس کے کیپٹن سید وقاص سمیع ، دیر سکاؤٹس کے کیپٹن حافظ اسلام شہزاد ، آزاد کشمیر رجمنٹ کے میجر قیصر ، سندھ رجمنٹ کے لیفٹیننٹ عُمر ، سپیشل آپریشن گروپ کے میجر احسان اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے میجر فواد شامل تھے ۔ صُورتِ حال کی سنگینی اور دہشت گردوں کی بھاری تعدادکے پیشِ نظر آپریشن کا دورانیہ 48 گھنٹے رکھا گیا تھا۔ علاقے کے جغرافیائی خدوخال سے بھرپور واقفیت کی بناء پر کیپٹن اسلام شہزاد نے دیگر آفیسرز کو آپریشنل علاقے کی ریکی کرانے کا بیڑا اُٹھایا۔اُدھر دُوسرے ہی دن علی الصبح 4 بجے سپیشل آپریشن گروپ کمپنی اور آزاد کشمیر رجمنٹ کے آفیسرز اور جوان ڈھیرئی بانڈہ کے اطراف سے بیرونی مداخلت اور فرار کی ممکنہ کوشش کو ناکام بنانے کے لئے بلاکنگ پوزیشنیں سنبھال چُکے تھے۔ دریں اثناء ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم اپنی سپاہ کو لے کر اگلی جمع گاہ ، باجوڑ سکاؤٹس پہنچ گئے۔ اس سپاہ نے نمازِ فجر کے بعد صبح پونے چھ بجے ڈھیرئی بانڈہ کی طرف پیش قدمی کا آغاز کیا۔ راستے میں حاجی لوانگ موڑ کے مقام پر کیپٹن اسلام شہزاد پہلے ہی منتظر کھڑے تھے جہاں سے انھیں رہنمائی کا فریضہ انجام دینا تھا۔ اب وہ سپاہ کو لے کر وادی چنار کے راستے سلارزئی تحصیل کے گاؤں ڈھیرئی بانڈہ کی طرف روانہ ہوئے۔چنار پوسٹ پر پہنچ کر ایک بار پھر کمانڈنگ آفیسر نے اپنے احکامات دہرائے اور اپنے جونیئر کمانڈرز کے ساتھ مطلوبہ دہشت گردوں کی شناخت،ممکنہ ٹھکانوں اور مزاحمت کی متوقع شدت پر تبادلہ خیال کیا۔ چنانچہ صبح 7 بجے سپاہ کو چھوٹے گروپوں میں بانٹ کر علاقے کی تلاش کا کام شروع کردیا گیا۔ کیپٹن اسلام شہزاد اور کیپٹن وقاص کا پہلا پڑاؤ پُرانی چنار پوسٹ تھا۔ ان کے ہمراہ لیفٹیننٹ عُمر کی قیادت میں سندھ رجمنٹ اور میجر قیصر کی قیادت میں آزاد کشمیر رجمنٹ کے جوان تھے۔ قوم کے ان رکھوالوں نے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے اپنے آفیسرز کی رہنمائی میں پیش قدمی کا آغاز کر دیا۔ انہیں مختلف اطراف سے اپنے ہدف کی طرف بڑھنا تھا ۔ یہ عمودی چٹانوں پر انتہائی دشوار گزار اور پر پیچ راستے تھے لیکن پاک فوج کے بیباک سولجرز کسی بھی مشکل کو خاطر میں لائے بغیر بھر پور ولولے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ کیپٹن وقاص سمیع نے پہاڑی کی چوٹی پر واقع پُرانی چنار پوسٹ پر پہنچتے ہی تازہ ترین صورت حال اور علاقائی معلومات دینے کے ساتھ ساتھ مزید احکامات کے لئے اپنے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم سے رابطہ کیا۔ ونگ کمانڈر کی طرف سے آگے بڑھتے رہنے کی ہدایت ملنے پر انھوں نے کیپٹن اسلام شہزاد اورکیپٹن وقاص سے باہم رابطہ رکھتے ہوئے مختلف اطرا ف سے ڈھیرئی بانڈہ کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔ وہ راستے میں پڑنے والی ہرغار اور کھائی کی تلاشی لیتے ہوئے نہایت محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے تھے۔ ڈھیرئی بانڈہ سے کوئی 500 میٹر پہلے کیپٹن اسلام شہزاد نے وائرلیس پر کیپٹن وقاص سے رابطہ کیا اور انہیں بالمشافہ مشاورت کے لئے رُکنے کی درخواست کی ،دراصل وہ بہت سے ایسے سوالوں کا جواب چاہتے تھے جو کیپٹن اسلام سے بہتر کوئی نہ دے سکتا تھا۔ کیپٹن اسلام شہزاد اپنے ہاتھوں میں نقشہ تھامے کافی گہری سوچ میں گم تھے، انہوں نے کیپٹن وقاص کو گاؤں ڈھیرئی بانڈہ اور دیگر اہم علاقوں کے علاوہ تین ایسے احاطے دکھائے جن میں دہشت گردوں کی موجودگی یقینی تھی ۔ اس موقعے پر ونگ کمانڈر کی ہدایات بھی مسلسل موصو ل ہورہی تھیں۔ ونگ کمانڈر نے واضح طور پر حکم دیاتھا کہ علاقے سے پکڑے جانے والے12 سال سے زائد عمر کے ہر مشکوک شخص کی مکمل چھان بین کی جائے اور یہ کا م کیپٹن وقاص کے ذمے لگایا گیا تھا۔ دن کے تقریبًا سوا بارہ بج رہے تھے کہ اچانک فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اُٹھی۔ یہ گولیاںیقینادوستانہ فائر نہیں تھا، گویا دہشت گرد وں نے بھرپور مقابلے کا اعلان کر دیا تھا۔ کیپٹن وقاص اور کیپٹن اسلام نے آپس میں رابطہ کیا تومعلوم ہوا کہ اپنے سولجرز ان گولیوں کی زدمیں تھے۔ دونوں نے فوراً اپنے جوانوں کو پوزیشنیں سنبھالنے کا حکم دیا اور ونگ کمانڈر کو تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ دیر سکاؤٹس کا ایک جوان پاؤں پر گولیوں کی بوچھاڑ سے شدید زخمی ہو چکاتھا ،خون تیزی سے بہہ رہا تھا اور فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ جرأت مند کیپٹن نے اپنے ونگ کمانڈر کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر زخمی سپاہی کو پیچھے لانے کے لئے جا رہا ہے۔ صُورتِ حال سے یہ تو آ شکار تھا کہ زخمی سپاہی یقینًا دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں تھا اور انہوں نے اس پر نظر بھی رکھی ہو گی۔ ایسے میں فائرنگ کی سمت پیش قدمی کا فیصلہ صرف کیپٹن حافظ اسلام شہزاد جیسے نڈر اور باہمت آفیسر ہی کر سکتے تھے۔ ونگ کمانڈر نے کپتان کے عزم کو دیکھتے ہوئے ہدایت کی کہ کیپٹن اسلام اور کیپٹن وقاص دونوں ایک دوسرے کی کمک میں دہشت گردوں کے مصدقہ ٹھکانے کی طرف پیش قدمی کریں۔ پُر خار اور دُشوار گزار پہاڑی پرعمودی سمت میں20 منٹ کی مسلسل پیش قدمی کے بعد دونوں آفیسرز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کی جانب دو مخالف سمتوں سے پتھروں اور درختوں کی آڑ میں گھیراتنگ کرنا شروع کردیا۔ وہ جگہ جہاں سے فائرنگ کی گئی تھی اب صرف 200گز کے فاصلے پر تھی اور امکان تھا کہ دہشت گرد بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ فائرنگ کے علاقے میں نائب صوبیدار شاہ پسند پہلے ہی آڑ لے کر پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے۔ صوبیدار شاہ پسند نے ہی بتایا تھا کہ اپنے تین لوگوں کو گولیاں لگی تھیں جِن میں ایک جونئر کمیشنڈ آفیسر بھی شامل تھے ۔زخمی سپاہی شاہد(جو بعد میں شہاد ت کا درجہ پا گیا) چیخ چیخ کر دہشت گردوں کے مقام کی نشاندہی کر رہا تھا۔ دوسرے دو زخمیوں میں صوبیدار شاہ زمان اور سپاہی آفتاب تھے جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے ۔ اب کیپٹن حافظ اسلام شہزاد اور کیپٹن وقاص نے اپنے ونگ کمانڈر اور کمانڈنٹ کو اعتماد میں لیتے ہوئے دہشت گردوں کے گڑھ پر فیصلہ کن ہلہ بولنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ زمین کے نشیب و فراز اور نقل و حرکت کی دشواری کا اندازہ کرتے ہوئے دونوں آفیسرز نے صرف 5-5 جوانوں کے گروپ کو ساتھ لیا اور بالائی سمت سے اپنے ہدف سے قریب تر ہونے لگے۔ یہ کوئی ایک بجے کا وقت تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دہشت گردوں کی طرف سے شدید فائرنگ ہونے لگی ۔ کیپٹن اسلام شہزاد ہراول گروپ کی قیادت کر رہے تھے جبکہ دوسری سمت سے کیپٹن وقاص کا گروپ ہدف کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اسی اثناء میں ونگ کمانڈر نے بھی سپیشل آپریشن گروپ کمپنی کے ہمراہ بر وقت کمک پہنچانے کے لئے پیش قدمی کا آغاز کر دیا تھا۔ کیپٹن وقاص اور کیپٹن اسلام کو اب شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔ فائرنگ کے اس شدید تبادلے میں کیپٹن اسلام شہزاد بائیں جانب سے ہوتے ہوئے ہدف کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔ کیپٹن وقاص بھی بلا تامل دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر رہے تھے۔ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم اب ایسے مقام تک پہنچ چُکے تھے جہاں سے وہ اپنے دونوں ہراول دستوں کو دیکھ سکتے تھے۔ البتہ دہشت گرد ایسے انداز میں مورچہ بند تھے کہ انہیں براہ راست دیکھنا دُشوار تھا۔ ہراول دستوں کا ہدف سے فاصلہ اب 25میٹر سے بھی کم تھا۔

صُورتِ حال سے یہ تو آ شکار تھا کہ زخمی سپاہی یقینًا دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں تھا اور انہوں نے اس پر نظر بھی رکھی ہو گی۔ ایسے میں فائرنگ کی سمت پیش قدمی کا فیصلہ صرف کیپٹن حافظ اسلام شہزاد جیسے نڈر اور باہمت آفیسر ہی کر سکتے تھے۔ ونگ کمانڈر نے کپتان کے عزم کو دیکھتے ہوئے ہدایت کی کہ کیپٹن اسلام اور کیپٹن وقاص دونوں ایک دوسرے کی کمک میں دہشت گردوں کے مصدقہ ٹھکانے کی طرف پیش قدمی کریں۔ پُر خار اور دُشوار گزار پہاڑی پرعمودی سمت میں20 منٹ کی مسلسل پیش قدمی کے بعد دونوں آفیسرز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کی جانب دو مخالف سمتوں سے پتھروں اور درختوں کی آڑ میں گھیراتنگ کرنا شروع کردیا۔

کیپٹن اسلام شہزاد اور ان کے ساتھی اب دہشت گردوں کی گردن دبوچنے کے لئے بیتاب تھے۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو نجانے کب سے اس لمحے کا انتظار تھا، وہ ایک حافظِ قُرآن تھے اور انھیں اس بات کا شدید دُکھ تھا کہ دہشت گردوں نے کِس طرح اسلام ، مدرسے اور جہاد کے نام کو بدنام کیا تھا۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو عرصے سے اس لمحے کا انتظار تھا کہ جب ایسے خارجی اور منافق کی گردن ان کے ہاتھوں کی گرفت میں ہو اور وہ اُسے بتائیں کہ اللہ کی راہ میں لڑنے اور زمین میں فتنہ و فساد بپا کرنے میں کیا فرق ہے!

کیپٹن اسلام شہزاد اور ان کے ساتھی اب دہشت گردوں کی گردن دبوچنے کے لئے بیتاب تھے۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو نجانے کب سے اس لمحے کا انتظار تھا، وہ ایک حافظِ قُرآن تھے اور انھیں اس بات کا شدید دُکھ تھا کہ دہشت گردوں نے کِس طرح اسلام ، مدرسے اور جہاد کے نام کو بدنام کیا تھا۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو عرصے سے اس لمحے کا انتظار تھا کہ جب ایسے خارجی اور منافق کی گردن ان کے ہاتھوں کی گرفت میںہو اور وہ اُسے بتائیں کہ اللہ کی راہ میں لڑنے اور زمین میں فتنہ و فساد بپا کرنے میں کیا فرق ہے

jo_chaly_to2.jpg

حافظ اسلام شہزاد دراصل مادرِ وطن کاایک ایسا ہونہار اور تابع فرمان بیٹا تھا جس نے نو سال تک وطنِ عزیز کی خدمت بطور سپاہی انجام دینے کے بعد تین سال قبل بطور کیپٹن کمیشن حاصل کیا تھا ۔وہ ایک سادہ لوح اور ان پڑھ رکشہ ڈرائیور کے بیٹے تھے۔ اسلام شہزاد کے والد فضل الٰہی نے سال ہا سال کی مزدوری کے بعد اپنے بیٹے کے کندھے پر سجے پھول دیکھے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ ان کے حافظ بیٹے کیپٹن اسلام شہزاد نے کمیشن حاصل کرنے کے بعد بوڑھے باپ کو جسمانی مشقت سے منع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ اپنے والدکی جی بھر کے خدمت کرنا چاہتے ہیں اور چند ماہ قبل گھر ملنے پرانہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے ماں کا سایہ تو آٹھ سال پہلے سر سے اُٹھ گیا تھا۔تب وہ ایک سپاہی تھے ۔سن 2000میں میٹرک کیا تو سب سے پہلے علاقے کے قاری دلاور مفتی کی شاگردی میں ایک سال سے کم عرصے میں حفظ کی منازل طے کر کے اپنے سینے میں قرآن حکیم کے نور کو محفوظ کیا اور پھر اپنے غریب باپ کی مشقت دیکھتے ہوئے بطور سپاہی فوج میں بھرتی ہو گئے۔ بنیادی تربیت مکمل کر کے پاک فوج کی مایہ ناز یونٹ 28 میڈیم رجمنٹ آرٹلری میں پہنچے تو بطور سپاہی ایسے باکمال ٹھہرے کہ ہر کوئی رشک کرے، آفیسرز اورجوان سبھی ان کے گرویدہ تھے۔ہرفن مولا اور ہر کام میں پیش پیش! فائرنگ کا مقابلہ ہو یا دیگر تربیتی سرگرمیاں، وہ ایک وقت میں بہترین نشانہ باز، اپنی یونٹ کے مقابلوں میں ہمیشہ اول، مسجد میں تراویح کی نماز پڑھانی ہو تو پیش امام ،جب ڈیوٹی سے فراغت ملتی تو رات رات بھر تعلیم کے مدارج طے کرتے۔ 2007 ء میں جب والدہ بھی چل بسیں تو اسلام شہزاد کی سنجیدگی مزید بڑھ گئی۔ تعلیم مکمل کی اور جب پاک فوج نے ایک موقع فراہم کیا تو23 اکتوبر 2011 میں بطور کمیشنڈ آفیسر فر نٹئیر کو ر خیبر پختونخوا میں جا پہنچے۔ اُن کی پہلی تعیناتی ٹوچی سکاؤٹس میں تھی جبکہ اکتوبر 2013 میں اُن کی پوسٹنگ دیر سکاؤٹس میں ہو گئی۔ شہادت کے عظیم مرتبے تک پہنچنے کا وقت آیا تو وہ دیر سکا ؤٹس کے 181 ونگ زیرِ کمان باجوڑ سکاؤٹس میں بطورِ ونگ ایڈجوٹنٹ اپنی ذمہ داریا ں نبھا رہے تھے ۔ 2007 میں اُن کی ماں نے اپنی زندگی میں بڑے ارمانوں سے اپنے بیٹے کا نکاح اپنی بھانجی گُلشن نورین سے کرا دیا تھا لیکن ابھی رُخصتی کرا کے بہو کو گھر نہ لا سکی تھیں کہ اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ ماں نے اپنے بیٹے کے سر پہ سہرا سجادیکھا تھا نہ اس کے کندھے پر چمکتے ستارے !

ادھر کیپٹن اسلام دستی بموں اور مشین گن سے آگ برساتے ہوئے دہشت گردوں کے سر پر پہنچ گئے تھے۔وہ انسانیت کے ان دشمنوں کو انھیں کے مورچوں میں نشانہ بنا رہے تھے۔ عین اسی لمحے دہشت گردوں کے ایک چھپے ہوئے سنائپرنے ہراول دستے کے پُر جوش اور بپھرے ہوئے شیر کو تا ک کر پیشانی پر نشانہ لگایا۔ یوں جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے اللہ کے اس شیر کی آخری جست بھی دہشت گردوں کی کمین گاہ کے دہانے پر تھی۔ کلمۂ شہادت کے ورد میں رطب اللسان کیپٹن حافظ اسلام شہزادشہید کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہو چُکی تھی وہ متعدد بار اپنی خوشدامن کو کہہ چُکے تھے کہ " خالہ دُعا کرو میں شہید ہو جاؤں" ۔ محلہ مفتیاں، تحصیل دینہ ضلع جہلم کے ایک ر کشہ ڈرائیور فضل الٰہی کا بیٹا شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہو چکا تھا

19 جنوری 2015 کی صبح 5 بجے کیپٹن حافظ اسلام شہزاد نے دھیرے سے ابا کے کمرے میں جھانک کر پوچھا ، ’’ابا جی کیا آپ جاگ رہے ہیں؟ ‘‘ خلافِ معمول کیپٹن اسلام شہزاد نے اُنہیں ایک چٹ پکڑاتے ہوئے مطلع کیا کہ اُن کے ذمے آفیسرز میس کے25 ہزار روپے واجب الادا ہیں جو اُنہوں نے بطورِ قرض لئے تھے۔ ابا خاموش رہے۔ بیٹاجب راہِِ عدم کو سدھار رہا ہو تو باپ بھلا کیسے سو سکتا تھا ،بے تابی میں اٹھ کر بیٹھ گئے اور بس خالی خالی نظروں سے بیٹے کو جاتے ہوئے دیکھتے رہے، البتہ زیر لب ڈھیروں دعائیں تھیں جو ہر سانس میں بیٹے کی سلامتی و ثابت قدمی کے لئے جاری رہتی تھیں۔ کیپٹن حافظ اسلام نمازِ فجر ا دا کرنے کے بعد اپنے مِشن کے لئے روانہ ہوگئے۔ دراصل آج وہ والد کی شفقت سمیٹ کر کسی بہت بڑے کام کے لئے عازمِ سفر ہُوئے تھے۔۔۔ اور اب دس گھنٹے کی تگ و دو کے بعد وہ منزل سامنے تھی ۔ وہ پاکستان اور انسانیت کے دشمنوں کو بہ نفسِ نفیس جہنم واصل کرنے والے تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے کیپٹن سید وقاص سمیع اس مرحلے پر ان کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ دونوں آفیسرز نے اپنے جوانوں کے ہمراہ دہشت گردو ں کے گڑھ پر ہلہ بول دیا۔ کیپٹن اسلام اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے سب سے پہلے ہدف پر جھپٹے۔ ایسے میں کیپٹن سیدوقاص سمیع نے اسلام شہزاد کو قدرے احتیاط برتنے کا مشورہ بھی دیا کیونکہ دہشت گردوں کی طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ انتہائی شدید تھی۔لیکن کیپٹن اسلام شہزاد نے دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا اور اس مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ کرنے کوتیا ر نہ تھے۔ یہ الگ بات کہ خود کیپٹن وقاص نے بھاگتے ہوئے دہشت گردوں کے تعاقب میں کوئی 20 فٹ گہرے نالے میں چھلانگ لگا دی تھی جس سے ا ن کی ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا۔ ادھر کیپٹن اسلام دستی بموں اور مشین گن سے آگ برساتے ہوئے دہشت گردوں کے سر پر پہنچ گئے تھے۔وہ انسانیت کے ان دشمنوں کو انھیں کے مورچوں میں نشانہ بنا رہے تھے۔ عین اسی لمحے دہشت گردوں کے ایک چھپے ہوئے سنائپرنے ہراول دستے کے پُر جوش اور بپھرے ہوئے شیر کو تا ک کر پیشانی پر نشانہ لگایا۔ یوں جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے اللہ کے اس شیر کی آخری جست بھی دہشت گردوں کی کمین گاہ کے دہانے پر تھی۔ کلمۂ شہادت کے ورد میں رطب اللسان کیپٹن حافظ اسلام شہزادشہید کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہو چُکی تھی وہ متعدد بار اپنی خوشدامن کو کہہ چُکے تھے کہ " خالہ دُعا کرو میں شہید ہو جاؤں" ۔ محلہ مفتیاں، تحصیل دینہ ضلع جہلم کے ایک ر کشہ ڈرائیور فضل الٰہی کا بیٹا شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہو چکا تھا

کیپٹن حافظ اسلام شہزاد اور ان کے ساتھیوں کی قربانی سے دہشت گردوں کا زور ٹوٹ چکا تھا لیکن ان قربانیوں کا اصل ثمر صرف علاقے کی مکمل صفائی کی صورت میں ہی ممکن تھا۔ شام کی روشنی رفتہ رفتہ ماند پڑ رہی تھی، دہشت گردوں کے علاقے سے ابھی تک کیپٹن حافظ اسلام شہزاد شہید، نائب صوبیدار شاہ زمان شہید اور سگنل مین شاہد شہید کے اجسادِ خاکی اٹھانا باقی تھے اور زخموں سے چور کیپٹن وقاص سمیع، سپا ہی آفتاب اور سپاہی نیک عمل کو بھی بروقت طبی امداد کی ضرورت تھی۔ سپاہی آفتاب کو فوراً اٹھا کر طبی امداد دینا اس لئے بھی ضروری تھا کہ ان کی حالت بہت نازک تھی، دراصل کیپٹن حافظ اسلام شہزاد جب پیشانی پر گولی لگنے سے گر ے تو دہشت گردوں کی سراسیمگی ابھی باقی تھی، انھوں نے ایک اور دستی بم زمین پہ پڑے ہوئے شہید پر دے مارا۔اس بم سے قریب کھڑے سپاہی آفتاب کی ران پر ایک بڑا گھاؤ آیااور تیزی سے خون بہنے لگا۔ ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم جو براہِ راست آپریشن کی کمان کررہے تھے اس ساری صورتِ حال سے پل پل آگاہ تھے۔ اب ایک طرف تو سورج غروب ہونے کو تھا اور دوسری طرف دہشت گردوں کی غیر انسانی اور اخلاقیات سے گری ہوئی روایات کا ادراک بھی ونگ کمانڈر کی فکر مندی کا باعث تھا ،جس کے مطابق وہ شہید کے جسد خاکی کی بے حرمتی کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ وقت بہت کم تھا۔ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم نے اس موقع پر ترجیحات کے تعین میں کوئی بھی لمحہ ضائع کئے بغیر سپیشل آپریشن گروپ کمپنی کے میجر احسان اور کیپٹن علی رضا کے ساتھ دہشت گردوں کی آماجگاہ پر ایک بھرپور یلغار کا فیصلہ کیا۔اس حملے میں ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم اور میجر احسان نے خود راکٹ لانچر اپنے کندھوں پر لئے اورگولے داغتے ہوئے دہشت گردوں کے بنکروں پر چڑھ دوڑے۔ چند ہی منٹ میں انھوں نے ایک ایک دہشت گرد کا چُن چُن کر صفایا کیااور اپنے غازیوں اور شہیدوں کو پورے عزت و احترام سے محفوظ مقام پر پہنچایا۔ واپس پہنچتے ہی شہداء کو فوری طورپر سبز ہلالی پرچم کے لبادے میں اُن کے آبائی شہروں کی طرف پورے تزک و احتشام سے روانہ کیا گیا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لئے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پشاور روانہ کر دیا گیا۔ ڈھیرئی بانڈہ کا علاقہ اب پر امن شہریوں کے لئے محفوظ بن چکا تھا۔ جبکہ محلہ مفتیاں دینہ کے ہر بڑے، بوڑھے، بچے اور جوان کی آنکھیں اور سر فخر سے بلند تھا۔ ان کا اپنا ہم جولی،ہم پیالہ و ہم نوالہ غریبوں میں غریب، حافظوں ، نمازیوں اور ریڑھی بانوں کا دوست اور اہل محلہ کی آنکھوں کا تارا آج سبز ہلالی پرچم میں عسکری گارڈ آف آنر کے ساتھ محلہ مفتیاں میں پورے جا ہ و جلال سے لوٹا تھا۔ پاک فوج کے سپاہیوں کو فخر تھا کہ ان کا ساتھی کمیشن حاصل کرنے کے بعدشہادت جیسے عظیم رتبے پر پہنچ کر تمام سولجرز کے لئے ماتھے کا جھومر ثابت ہوا تھا۔ بہنیں اور بھائی اپنے بھائی کی شان و شوکت دیکھ کر پھولے نہیں سماتے، شہیدکی اہلیہ جو ایک اور اولاد کی امید سے بھی ہیں کے سامنے اگرچہ پہاڑ جیسی زندگی ایک امتحان کی طرح کھڑی ہے لیکن انھیں اپنے شہید رفیق حیات کے نصب العین کی لاج رکھنے کا ادراک ہے۔ چار سالہ حفصہ نور کو شہید کی بیٹی ہونے پر فخر ہے اور تین سالہ محمد حسان کل باپ کے نقش قدم پر چل کر وطن کے تحفظ کی قسم کھا رہا ہے اور باپ کو ناز ہے کہ ان کے بیٹے نے انہیں ایک رکشہ ڈرائیور سے شہید کے والدکے مقام پر فائز کر دیا ہے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
19
May

(کیپٹن عاصم نے 10 فروری 2010 کو جامِ شہادت نوش کیا)

فروری 2015 میں عاصم کو شہید ہوئے پانچ سال پورے ہو گئے۔ ان پانچ سالوں کے ایک ایک دن نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ میں شکرگزار ہوں اپنے رب کی اور ان پانچ سالوں کی جس نے مجھے میری عمر کے تیس سالوں کے باقی 25سالوں سے زیادہ سخت حالات سے گزارا۔ اس پورے وقت کے اتارچڑھاؤ سے مجھے لگا کہ اب میں بہت کچھ سیکھ گئی ہوں اور مجھے اﷲ کے سوا کسی اور کے سہارے کی ضرورت نہیں لیکن۔۔۔

شادی کے ساڑھے تین سالوں میں تو میں نے صرف شوہر کا پیار ہی دیکھا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرا کام صرف شوہر کے لئے اچھے اچھے کھانے پکانا۔ صبح صبح اُن کے لئے ملک شیک بنانا۔ یونیفارم‘ جرابیں‘ مفلر‘ ٹوپی‘ چیک لسٹ اور گاڑی کی چابی لا کر دینا اور جب تیار ہو جائیں تو گھر کے ٹیرس سے اُن کو آفس جاتے ہوئے دیکھنا۔ میاں کی ضروریات کا خیال رکھنا‘ ان کو میسج کرنا‘ ملازم سے کام کروانا اور ضرورت کی چیزیں منگوانا جبکہ شوہر کا کام تنخواہ لا کے ہاتھ میں رکھنا اور کہنا بیگم اب پورا مہینہ اس سے چلانا ہے۔ ان کے ساتھ جا کر گھریلو خریداری کرنا اور ڈیوٹی سے آنے کے بعد گھر کی Maintenance کی لسٹ پکڑا دینا۔ NCB کی شکایت لگا کر اس کے کان کھنچوانا اور اس کونظم و ضبط سمجھانا۔

اُن ساڑھے تین سالوں میں کوئی لڑائی تو یاد ہی نہیں۔ ویک اینڈ پہ فلم اور پیزا لا کر مووی نائٹ منانا۔ ذرا پہلے آ جاتے تو جوس پینے چلے جانایا پھر آئسکریم کھانا۔ اسی کو دنیا کی سب سے بڑی خوشی سمجھنا تھا۔ زیادہ پیسوں کے بارے میں تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا نہ مانگے تھے۔ صرف ایک دوسرے کے ساتھ گزارے گئے تنخواہ والے دن سے بہتر سمجھتے تھے۔ سالگرہ کا تحفہ ایک دوسرے سے ضرورت کی چیز پوچھ کر دیتے تھے۔ وہی بہترین Surprise ہوتا تھاجب اﷲ سے کوئی چھوٹی چیز مانگی ہوتی تھی اور وہ سالگرہ کے تحفے کی صورت میں مل جاتی تھی۔ ابھی تو ساڑھے تین سالوں میں بچت کے بارے میں سوچا نہیں تھا۔ پھر یہ پانچ سال شروع ہو گئے‘ جب پہلے ہی سال میں رشتے سمجھ میں آ گئے۔ اپنا اور پرایا‘ دوست اور تماشائی کا فرق سمجھ میںآیا۔ پہلے ہی سال میں شفٹنگ کا بوجھ‘ پھر تنہا گھر سیٹ کرنا۔ اُس دن بڑا روئی تھی جس دن اے سی لگوانا تھا۔ میں جب اپنے MOQگئی تھی تو گھر سیٹ اور اے سی لگا ہوا ملا تھا۔ سب کہتے تھے یوں ہی پریشان ہوتی ہو‘ یہ تو الیکٹریشن کا کام ہے‘ بلواؤ اور وہ اپنا کام کر دے گا۔ میری ذہنی پریشانی تو فضول ہی لگتی تو میں خاموش رہ گئی۔ یو پی ایس لیا‘ بیٹری لی‘ گھر سیٹ کیا‘ اُس کے بعد کار لی‘ سب کہتے تھے ہر کوئی لیتا ہے۔ اس میں پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں ۔ مجھے علم ہے کہ صرف پیسے دے کر گاڑی گھر نہیں آ جاتی‘ پورا پروسس ہوتا ہے۔ جاب شروع کی‘ بل جمع کرانا‘ گھر اکیلے چلانا سیکھا تو پانچ سال پورے ہوئے۔ اب وقت آ گیا کہ NCBاور فلیٹ واپس کر دوں۔ کیا کوئی ملازم رکھوں؟ کسی پہ اعتبار کر سکتی ہوں؟ یہ میں تو اپنی ذمہ داری پر رکھوں گی‘ کوئی گارنٹی نہیں دے گا۔ اچھا ہے نہ رکھوں گزارا ہو جائے گا۔ لیکن وقت بے وقت ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کیا مکینک کے پاس خود جاؤں گی؟ الیکٹریشن‘ پلمبر خود ڈھونڈوں گی یا کسی پر بوجھ بنوں گی؟ یہ بیڈ روم اور کرسیاں ان کو بہت پسند تھیں۔ یہ پھول MOQ میں پہلے دن شفٹ کیا تھا تو وہ لے کر آئے تھے۔ یہ قالین ہم دونوں نے مل کر خریدے تھے اور ڈائننگ ٹیبل پر اکٹھے کھانا کھاتے تھے۔ یہ Wooden Floor Lamp اپنی پہلی بچت سے لی تھی اور یہ ہوم تھیٹر ہم نے کریڈٹ کارڈ سے لیا تھا۔ ان کا گٹار میں نے اپنی Teaching کی تنخواہ میں سے ان کو گفٹ کیا تھا۔ ان کو گٹار بہت پسند تھا اور یہ ڈریسنگ ٹیبل‘ اس میں ہم صبح ساتھ تیار ہوتے تھے لیکن یہ چیزیں تو میں سوچ رہی ہوں کیا کوئی اور بھی میری طرح سوچتا ہو گا۔ یہ چیزیں سن کر شاید لوگ میرا مذاق اڑائیں۔ میں تو دنیا کے سامنے بہت مضبوط عورت ہوں۔ مجھے تو لگتا تھا کہ میں نے اکیلے رہنا سیکھ لیا اور کوئی بھی کام مشکل نہیں لیکن آج مجھے ایسے لگتا ہے کہ پانچ سال بعد میں پھر اس جگہ آن کھڑی ہوئی ہوں‘ اسی جگہ کھڑی ہوں جہاں سے بہت سے راستے نکلتے ہیں لیکن مجھے نہیں پتا کس راستے پر جاؤں‘ لوگ کہتے ہیں یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔

19
May

یوں تو ہر دن اپنی انفرادی آب و تاب سے ۔۔۔ طلوع ہوتا ہے۔ مگر23 مارچ کا دن پوری تاریخ کا چہرہ لئے طلوع ہوتا ہے۔ اس چہرے پر سارے نقش و نگار‘ شہیدوں کے لہو سے بنے ہوتے ہیں۔۔۔ وہ سارے شہید جن کے لہو میں پاکستان کا مطلب کیا لااِلٰہ الا اﷲ موجزن تھا۔۔۔۔ اور وہ سارے شہید جو گلیوں میں گریباں چاک کرکے واویلا کرتے تھے۔ لے کے رہیں گے پاکستان ۔۔۔ اوروہ سارے شہید جن کے جسموں کے کٹے اعضا گاڑیاں بھر بھر کے پاکستان کی سرزمین پر پہنچ گئے۔ اور جن کے زخموں سے ابھی تک خون کے قطرے رِس رہے تھے اور کہہ رہے تھے ہم پاکستان کے نقشے میں جذب ہونے کے لئے آئے ہیں۔۔۔ ان لکیروں میں ہمیں سمولو۔۔۔ اور جن کے لہو کی برکتوں سے پاکستان پھلتا پھولتا رہا اور بڑھتا رہا۔۔۔ پھر 23 مارچ کے چہرے پر65ء کی جنگ کے شہدا ء کے نقش اُبھرتے ہیں۔۔۔71 کی جنگ کے روپ نکھرتے ہیں۔۔۔ اوروہ سارے شہداء جو پاکستان کی آن بان اور حریت و استقامت کے لئے شہید ہوتے رہے۔۔۔ 23 مارچ کی صبح 31  توپوں کی سلامی کے اندر ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔۔۔ ان توپوں کی سلامیوں کے اندر ان کے دل دھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دل۔۔۔ جو زندہ دلی کی علامت تھے‘ جو زندہ رہنے کے لئے آئے تھے۔ مگر جو اپنے ملک اور ملت پرقربان ہوگئے۔۔۔

جوں جوں 23 مارچ کا دن اُبھرتا ہے۔۔۔

توں توں شہیدوں کا چہرہ نکھرتا ہے۔۔۔

وہ ہمارے محسن‘ ہمارے گواہ ۔۔۔ ہماری خوشیوں کے امین‘ ہماری سرحدوں کے محافظ ہیں‘ دن کی ایک ایک گھڑی میں نظر آنے لگتے ہیں۔ جب ہم مختلف قسم کے دور مار‘ اور دیر تک مار کرنے والے میزائلوں کا نظارہ کررہے ہوتے ہیں‘ جب ہم اپنی زمین کے اوپر شاہین اول‘ شاہین دوم۔۔۔ غوری ‘ ابدالی‘ غزنوی کو پلٹتے جھپٹے دیکھتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات پلٹتے دیکھتے ہیں۔۔۔

جب ملکی ساختہ جے ایف17 تھنڈر کی گونج اُبھرتی ہے۔۔۔ جب ہوا باز ایف سولہ کے ساتھ جرأتِ رندانہ کا نقشہ بناتے ہیں۔جب فضائیہ کے جانباز عقاب آسمان کے اوپر ایک اور آسمان نقش کردیتے ہیں۔ جب وہ ہواؤں کو قابو میں کرکے فضا کے بادشاہ بن جاتے ہیں تو ہم حیران ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے لختِ جگر ہیں‘ ہمارا فخر ہیں۔۔۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کوئی ماں آنکھ نہیں جھپکتی۔۔۔ کسی باپ کی آنکھ نہیں جھکتی۔۔۔ نوجوان ان کے ساتھ محوِ پرواز ہوجاتے ہیں۔۔۔ یہ ہماری ملکی ایجادات جن کا مظاہرہ 23 مارچ کے دن ہوتا ہے۔ ٹینک‘ میزائل بکتر بند گاڑیاں‘ توپخانے‘ براق ڈرون یہ ہمارے ماہرین کے فنکی نمود ہیں۔۔۔ ایک کے بعد ایک ایجاد زندہ قوم کی کہانی بیان کرتی آگے بڑھتی ہے۔

ajeb_cheez_hay1.jpg

یہ معجزے فن کی کہانی بیان کرتے ہیں۔

اور جب ملکی و صوبائی کلچر کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف فلوٹس سامنے سے گزرتے ہیں تو پورا پاکستان ہنستا مسکراتا سامنے سے گزرنے لگتا ہے۔ فوجی پریڈ سے سارا ملک جاگتا ہے۔۔۔ دل جاگتے ہیں‘ ضمیر جاگتے ہیں‘ ذہن جاگتے ہیں۔ دنیا انگشت بدنداں ہو جاتی ہے۔ زمین ان کے قدموں کے ساتھ چلتی ہے۔ اُفق ان کے قدموں کو شمار کرتا ہے۔ سارا ملک ان کو سننے پہ اصرار کرتا ہے۔۔۔

کیا نغمگی ہے‘ ان کے دھمک دیتے قدموں کے اندر۔۔۔

یہ قدم منازل کا تعین کرتے ہیں۔۔۔

اور منازل ان کا انتظار کرتی ہیں۔۔۔ تکرار کرتی ہیں۔

ہماری نئی نسلوں نے23 مارچ کے مناظر سات سال کے وقفے سے دیکھے۔۔۔

یہ وقفہ بے جواز نہیں تھا۔

مگر اب پاکستان میں ایک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے۔۔۔ ضربِ عضب کے شہیدوں نے اس کے ماتھے پر طلوع لکھ دیا ہے۔

جب سپہ سالار حوصلوں کا سائبان بن کر ابھرتا ہے تو عسکری قوتوں کو نئی توانائی اور نئی رعنائی نصیب ہوتی ہے۔

نئی نسل کے بچے ہوائی عقاب کو دیکھ کر اڑان میں بھرتی ہونے کی تمنا کرتے ہیں۔۔۔ سمندروں کے مجاہد دیکھ کر پانیوں کو فتح کرنے کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔ بھاری ٹینک اور توپ خانے دیکھ کر انہیں احساس ہوتا ہے انسان کتنا بڑا ہے۔۔۔۔۔۔

ارے انسان ہر حادثے سے بڑا ہے۔

انسان ہر محاذ سے بڑا ہے۔

دو نیم ان کے ٹھوکر سے دریا و صحرا

ajeb_cheez_hay2.jpg

سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی !

پورے ملک کا چہرہ سرخوشی سے روشن ہوگیا۔ جب تزک و احتشام کے ساتھ اس مرتبہ 23 مارچ کا دن منایا گیا۔۔۔۔

اس دن سارے شہید یاد آئے۔۔۔۔

سارے پھول ہم نے ان کے نام پر چڑھائے۔۔۔

سارے جذبے ان کی نذر کئے۔۔۔

جن کی وجہ سے یہ زمین امن کا گہوارہ بنی ہوئی ہے۔ جنہوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اس پھول سی زمین کے اندر سے ایک ایک کانٹا چن کر نکال دیں گے۔

اس دن قائدِاعظم محمدعلی جناح بھی بہت یاد آئے۔۔۔

انہوں نے ایک دن کہا تھا۔۔۔

’’خود کو اتنا طاقتور بنا لیں کہ کوئی قوت ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھنے کی جرأت نہ کرسکے۔۔۔۔۔۔‘‘

خود کو طاقتور بنانے کے لئے تزکیۂ نفس کی ایک منزل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور تم جانتے ہو ایک غازی اور ایک شہید کس طرح تزکیۂ نفس کی منزل سے گزرتا ہے‘ جان ہتھیلی پر رکھ کے اور جگر کو دیا بنا کے۔۔۔

پھر قائدِاعظم کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔

’’۔۔۔ اگر کبھی پاکستان کی حفاظت کے لئے جنگ لڑنی پڑے تو کسی صورت میں ہتھیار نہ ڈالیں اور پہاڑوں‘ جنگلوں‘ میدانوں اور دریاؤں میں جنگ جاری رکھیں۔۔۔‘‘

 23  مارچ کے روز ۔ اے قائدِاعظم! تیرے بیٹے اسی عزم کا اظہار کرنے کے لئے فلک تا ارض اپنے ارادوں کا اظہار کررہے تھے۔

پھر ایک دن حضرت قائداعظم نے برملا کہہ دیا: اب پاک فوج کو اس پاک سرزمین پر اسلامی جمہوریت‘ اسلامی معاشرتی انصاف اور انسانی مساوات کے اصولوں کے احیاء اور فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا۔

 23مارچ کی پریڈ میں قائداعظم کے بیٹوں نے ایک بار پھر اس عزم کو دہرا دیا اور صاف کہہ دیا: دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ ’’ہم کو‘‘ عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

19
May

تاریخ عالم پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو معلو م ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام اقوام نے علم و اخلاق کی بنیاد پر ترقی کی منازل طے کیں۔ علم انسانی ذات کا خاصہ اور انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا واحد سبب ہے پس علم کا اصل مقصد بھی تہذیب النفس ہے جن معاشروں میں علم و شعور کی روش نہیں پائی جاتی وہ معاشرے عموما اعلی اخلاقی صفات سے محروم ہوتے ہیں۔ آج وطنِ عزیز میں دیگر بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ جس بنیادی اوراہم مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ دراصل قومی دانش ہے ۔

دانش کیا ہے؟

انسانی ذات دراصل دو بنیادی عناصرکا مرکب ہے ایک شعور اور دوسرا مادہ، شعور وجود ہے اورمادہ موجود،موجو د حواسِ خمسہ کی گرفت میں آ سکتا ہے جبکہ وجود نہیں آ سکتا، شعور انسان کو ضبط فراہم کرتا ہے جبکہ وجود حیات کی پرورش کرتاہے۔ چنانچہ دنیا میں تمام تر نظم و ضبط شعورہی کی بنیاد پر قائم ہے شعوروہ الوہی ذکاوت ہے جس نے انسان کو افلاک کی پراسرار دنیا سے آگا ہ کیا۔ انسان کی تمام تر فکری ، معاشی اورمعاشرتی جدوجہد کا واحد محور شعور ہی ہے اسی شعور کا مظہر دانش کہلاتا ہے۔ دانش انسان کے حیوانی وجود کی آبیاری کرتی ہے۔ انسانی نفس میں موجود تمام تر آلائشوں کو رفع کرکے انسان کو الوہی صفات سے مزین کرتی ہے کیونکہ رویہ انسانی جذبات کی عملی شکل ہے اور اس شکل کو دانش ہی مہذب کرتی ہے۔ انسانی جذبہ ایک بے لگام قوت ہے جسے تمدن پر آمادہ کرنے والی چیز صرف دانش ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن اقوام میں شعوری روش پائی جاتی ہے وہ تہذیب و تمدن کے لحاظ سے اعلی اقدار کی مظہر ہوتی ہیں کیونکہ قدر نظم ہے اور دانش نظم کی پاسدار ہوتی ہے۔ اگر دانش بیدار ہو تو بہترین نظام ہائے زندگی مرتب کئے جا سکتے ہیں۔ ایسے نظام جو ایک انسان کو معاشی ، معاشرتی اور روحانی اوج پر متمکن کر سکتے ہیں۔

انسان جذبات کے حصار میں مقید ایک حیوان ہے جو ابتدائے آفرینش سے جذبات کے ہاتھوں پامال رہا۔ جذبہ ایک غیر مرئی قوت کا نام ہے جس کا اظہار رویہ کرتا ہے۔ رویہ اگر غیر متوازن ہو تو نظامِ حیات درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم و نسق قائم رکھنے کے لئے انسان ہمیشہ سے شعورکو جذبے پر فوقیت دیتا آ رہا ہے۔اگرچہ جذبے کی اہمیت سے اعراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جذبات کے اظہار کے بغیر انسان ایک متحرک مشین کی صورت اختیار کر جاتا ہے‘ اصل مدعا جذبے کی تزئین ہے اور جذبہ کی تزئین صرف دانش ہی کر سکتی ہے۔

دانش اور نظامِ حیات

انسان جذبات کے حصار میں مقید ایک حیوان ہے جو ابتدائے آفرینش سے جذبات کے ہاتھوں پامال رہا۔ جذبہ ایک غیر مرئی قوت کا نام ہے جس کا اظہار رویہ کرتا ہے۔ رویہ اگر غیر متوازن ہو تو نظامِ حیات درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم و نسق قائم رکھنے کے لئے انسان ہمیشہ سے شعورکو جذبے پر فوقیت دیتا آ رہا ہے۔اگرچہ جذبے کی اہمیت سے اعراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جذبات کے اظہار کے بغیر انسان ایک متحرک مشین کی صورت اختیار کر جاتا ہے‘ اصل مدعا جذبے کی تزئین ہے اور جذبہ کی تزئین صرف دانش ہی کر سکتی ہے۔ اگر جذبات کی تزئین ترک کر دی جائے تو انسان کو کسی ایک مرکز پر قائم رکھنا محال ہوگا اور نظام کی وقعت ختم ہوجائے گی۔ چنانچہ انسان ایک بے لگام متحرک قوت بن کر انسانیت کا تیا پانچہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ حالانکہ دنیا کا کوئی مذہب یا ضابطہ نہ تو برائی کی طرف راغب کرتا ہے اور نہ ہی انسان کو بے لگام حیوان بننے کی اجازت دیتا ہے کیونکہ مذہب تو نام ہی دراصل تہذیب کا ہے یعنی تہذیب انسانی جذبات کی ، دنیا کے تمام مذاہب نے انسانی رویوں میں توازن پیدا کرنے کی تلقین کی ہے تاکہ نظم و نسق قائم رہے۔ اگر ہم بہترین متوازن نظامِ حیات کی بات کریں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے شعور کی شمع جلا کر اپنے جذبات کے تزئین کرنا ہوگی ‘ جذبے کے بجائے دانش کو وقعت دینا ہوگی اور اگر ہم دانش کو وقعت دے کر اِسے بیدار کرنے میں کامیاب ہو گئے تو گویا ہم نے ایک بہترین متوازن نظامِ حیات میں قدم رکھ دیا۔ دنیا میں آج جدید تمدن کی حامل اقوام صرف اورصرف دانش ہی کو وقعت دے رہی ہیں۔ انہوں نے نظم و نسق کے معاملے میں جذبات کو ثانوی حیثیت دے کر اِس کو انسان کی انفرادی صوابدید پر چھوڑدیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج وہ معاشی اور معاشرتی استحکام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کسی بھی قوم کو جب ترقی یافتہ جیسی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے تو اِ س کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ وہ علم و اخلاق کے لحاظ سے ارفع ہے۔ یہ بہترین نظامِ حیات صرف اسی وقت قائم کیا جا سکتا ہے جب دانش بیدار ہو جائے اگر کسی عمل کے سبب جذبہ دانش پر سبقت لے گیا تو نہ صرف نظامِ حیات درہم برہم ہو جائے گا بلکہ اعلی اخلاقی اقدار بھی پائمال ہو ں گی پس ضروری ہے کہ دانش کو جذبات پر فوقیت دی جائے۔

دانش ہمیشہ تجربات ومشاہدات پر مبنی ہوتی ہے کسی عمل کے وقوع کے بعد جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے وہ دراصل تجربہ کہلاتا ہے اور تجربہ ایک مکمل علم ہے جس کی بنیاد پر کوئی بھی نظم یا ضبط ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب مسلّمہ تجربات کی بنیاد پر قانون سازی کی جاتی ہے تو پھرعموماً اختلاف کے مواقع کم ہوجاتے ہیں اور اگر کہیں اختلاف کی گنجائش موجود بھی ہو تو پوری دیانتداری کے ساتھ نئے تجربات کی طرف قدم بڑھایا جاتا ہے ۔

ریاست اور عمومی دانش

عمومی دانش سے مراد دراصل عوامی سطح پر سوچنے سمجھنے کی روش کا وقوع ہے کہ یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ علم و اخلاق سے آراستہ اقوام ہی سیادتِ عالم کی حقدارٹھہرتی ہیں۔ علم سے بڑی طاقت کوئی نہیں انسان تمام تر معاشی ، معاشرتی اور اخلاقی اقدارکا ضامن صرف علم ہی ہے اورعلم سے مراد کوئی مخصوص ضابطہ نہیں بلکہ ایک عالمگیر تجرباتی حقائق کا مطالعہ ہے جس کے وسیلے سے انسان ترقی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ارتقائی بنیاد پر دور کر سکتا ہے ، تعلیم اس وقت تک سود مند ثابت نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ کے اندر غور و فکر کی صلاحیت پیدا نہ ہو جائے محض ڈگریاں حاصل کرنے کا نام تعلیم نہیں۔وطنِ عزیز میں آج جس قدر عمومی دانش کی اہم ضرورت ہے شاید ہی پچھلی دہائیوں میں اتنی اہمیت رہی ہو کیونکہ یہ دور ایک خالص تجرباتی دور ہے جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی اِس نہج پر جا پہنچی ہے کہ جس سے کسی بھی صورت انکار ممکن نہیں۔ ترقی چاہے مادی ہو یا روحانی‘ دانش کی بنیاد پر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انسانی شعور اگر غفلت کا شکار ہو کر جذبات کے نرغے میں آ جائے تو نظامِ حیات کے ساتھ ساتھ ریاستی نظام بھی درہم برہم ہو جاتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ہاں ہر دو سو افراد میں سے صرف ایک شخص عقلی روش کا قائل ہے جس کے بنیادی اسباب دراصل ہمارے ہاں ایک طویل عرصے سے سوچنے سمجھنے کی روش کا ترک کر دینا ہے اور اب تو عالم یہ ہے کہ ہمارا انتہائی پڑھا لکھا طبقہ جسے جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی کہا جا سکتا ہے سوچنے سمجھنے کی روش سے لاتعلق ہو چکا ہے۔ بالفرضِ محال اگر کسی جدید ذہن نے غور وفکر کی راہ اپنا بھی لی تو وہ بھی ایک مخصوص دائرے میں رہ کر سوچنے کو ترجیح دیتا ہے جس سے غور و فکر ایک محدود زاویے میں مقید ہو کر رہ جاتے ہیں۔ فکر ی جمود سے انسانی رویوں میں بھی زبردست جھول آتا ہے انسان ہر چیز کو ایک مخصوص نظر سے دیکھنے کا عادی بن جاتا ہے چنانچہ نظامِ حیات سے لے کر نظمِ اجتماعی تک انسان ایک مخصوص دائرے میں سرگرداں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جدید دنیا سے ہم آہنگی کی بات آتی ہے تو پورا معاشرہ فکری و معاشی اضمحلال کا شکار ہوجاتا ہے اور اِس خلا کو پوراکرنے کی بجائے اپنے مخصوص دائرے کا تحفظ کیا جاتا ہے‘ جس کے نتائج تہذیبی تصادم کی صورت میں سامنے آتے ہیں پھر اس مقام پر دانش کی بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلے کئے جاتے ہیں جس سے صورتحال اور بھی گھمبیر ہو جاتی ہے۔ حالانکہ ہم عرض کر چکے کہ جذبات کو نظم کا پابند کرنا ممکن نہیں کیونکہ جذبات کا تعلق انسان کے انفرادی محسوسات پر ہوتا ہے۔ کسی ایک انسان کا جذبہ دوسرے انسان سے یکسر مختلف ہو سکتا ہے لیکن عمومی دانش میں اختلاف ممکن نہیں۔ کیونکہ دانش ہمیشہ تجربات ومشاہدات پر مبنی ہوتی ہے کسی عمل کے وقوع کے بعد جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے وہ دراصل تجربہ کہلاتا ہے اور تجربہ ایک مکمل علم ہے جس کی بنیاد پر کوئی بھی نظم یا ضبط ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب مسلّمہ تجربات کی بنیاد پر قانون سازی کی جاتی ہے تو پھرعموماً اختلاف کے مواقع کم ہوجاتے ہیں اور اگر کہیں اختلاف کی گنجائش موجود بھی ہو تو پوری دیانتداری کے ساتھ نئے تجربات کی طرف قدم بڑھایا جاتا ہے ۔کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ عوام میں اجتماعی اور انفرادی شعور بیدار کرنے کا اہتمام کرے‘ یہ کام باقاعدہ سرکاری طور سرانجام دینا چاہئے کہا یہ جاتا ہے کہ کسی بھی ریاست کے شہریوں میں دانش بیدار کرنے کا مسلمہ اصول دراصل نصابِ تعلیم میں خرد افروزی پر مبنی سلیبس شامل کرنا ہے اس کے علاوہ ریاست کو چاہئے کہ وہ دساتیر اساطیر کے بجائے خالص دانش کی بنیاد پر مرتب کرے تاکہ کسی مخصوص شخصیت یا گروہ کی فکری اجارہ داری قائم نہ رہ سکے بلکہ ایک جمہوری فکر و نظر کی فضا قائم ہو جائے جدید نظام ہائے سیاست میں جمہوریت کوایک مضبوط سیاسی نظم کی حیثیت حاصل ہے۔ جمہوریت خالص دانش کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا وہ نظمِ اجتماعی ہے جس پر جدید دنیا اعتماد کر چکی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ دانشمندانہ رویہ کا فقدان پایا جاتا ہے اِس لئے ہمارے ہاں خالص جمہوریت فی الحال اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ اپنے ماضی پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلم معاشروں میں تحریکِ اعتزال کے بعد آج تک کوئی قابلِ ذکر عقلی تحریک صحیح معنوں میں نہ پنپ سکی جس کے کئی ایک اسباب بیان کئے جا سکتے ہیں جوکہ یہاں پر بیان کرنا مناسب نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے بانی ایک زیرک سیاستدان اور ذہین و فطین مقنن تھے آپ نے جس معاشرے کی بنیاد رکھی وہ خالص جمہوری اور عقلی بنیادوں پر قائم تھا۔ قرآن کی خالص عقلی تعبیر کی بنیاد پر قانون سازی کے خواہاں بانیِ پاکستان قرآن کی دستوری بصیرت کو معاشرے کی بہتری کی لئے کافی سمجھتے تھے ایک موقع پر آپ سے ایک صحافی نے دریافت کیا کہ آپ ایک الگ ریاست قائم کرنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن اس کا دستور کیا ہوگا تو آپ نے فرمایا ’’ہم کون ہوتے ہیں اس کا دستور وضع کرنے والے اس کا دستور تو چودہ سو سال پہلے قرآن میں بیان کیا جا چکا‘‘۔ ’’بلاشبہ قرآن میں بیان کئے گئے دساتیر آفاقی بصیرت سے ہم آہنگ ہیں بشرطیکہ ہم غور و فکر کی روش اپنا لیں گے۔‘‘ قرآن اپنے مخاطب کو بارہا عقل و شعور استعمال کرنے کی تاکید کرتا ہے چنانچہ افلا یعقلون اور افلاتعقلون کے الفاظ اس بات پر شاہد ہیں کہ قرآن اپنے مخاطب کو عقل و بصیرت کی دعوتِ عام دیتا ہے۔ قرآن خود اِس امر کی تلقین کرتا ہے کہ قرآن پر غور کیا جائے ’’ تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر تالے لگ رہے ہیں‘‘ (سورۃ محمدؐ آیت: 24) وطنِ عزیز میں آج وسائل کی کوئی کمی نہیں بلکہ وسائل کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ وسائل اسی وقت ہی بروئے کار لائے جا سکتے ہیں جب ہم علم و شعور کی روش اپنا لیں گے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم تھیوریٹیکل فزیسٹ ڈاکٹرعبدالسلام کے بعد خال خال ہی قابلِ ذکر شخصیات پیدا کر سکے حالانکہ ہمارے پا س ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ اگر آج ہم فکری روش اپنا لیں تو اپنے تمام تر معاشی و معاشرتی مسائل بخوبی حل کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں آج جس قدر اہم کردار میڈیا ادا کر سکتا ہے شاید ہی اِس کا کوئی متبادل ہو۔ چنانچہ سرکاری و غیر سرکاری میڈیا کو چاہئے کہ وہ ہر قسم کی عصبیت سے بالا ہو کر مل جل کر عمومی دانش کو فروغ دیں کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دورِ اساتیر سے باہر نکل کر اجتماعی طور اپنے آپ کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کریں کہ یہی ترقی کا واحد زینہ ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Page 10 of 17

Follow Us On Twitter