12
June

اقبال نے اپنی شاعری اور اپنی فلسفیانہ تحریروں میں عمر بھر نہ صرف معاشی ظلم کے خلاف احتجاج کیا ہے بلکہ اس ظلم کو مٹا کر معاشی انصاف کے ایک نئے نظام کے قیام کی بنیادیں بھی فراہم کی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم اقبال کے تصورات کو پاکستان میں ایک عادلانہ معاشی نظام کے نفاذ کی بنیاد بنائیں۔

پاکستانیات کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت میں، میں واقعتا یہ سمجھتا ہوں کہ یومِ اقبال پاکستانی قوم کا یومِ حساب ہے۔آج ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم اقبال کے کتنے خواب مٹی میں ملا چکے ہیں اور اقبال کے کتنے اندیشے درست ثابت کر چکے ہیں۔ اقبال کا ایک سہانا خواب سلطانیء جمہور سے عبارت ہے۔ اُنھوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ ہمیں اللہ کا یہ فرمان سُنایا تھا:

سلطانیء جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقشِ کُہن تم کو نظر آئے مٹا دو

گویا سلطانیء جمہور کی آمد اس بات سے مشروط تھی کہ ہم نقوشِ کہن کو کب اور کیسے مٹاتے ہیں؟ درج بالا شعر’’فرمانِ خدا‘‘کے عنوا ن سے اقبال کی نظم کا آخری شعر ہے۔ باقی ماندہ اشعار میں جہاں پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے نکال باہر کر کے خالق و مخلوق کے درمیان حائل تمام پردے اُٹھا دینے کا حکم دیا گیا ہے وہیں یہ تک بھی کہہ دیا گیا ہے کہ:

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

اُس کھیت کے ہر خوشۂِ گندم کو جلا دو

اپنی ایک اور نظم ’’الارض لِلّٰہ‘‘ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ زمین کا مالک اللہ ہے۔ کاشتکار کے زیرِکاشت زمین اللہ کی امانت ہے۔ جاگیردار جو دیہات کا خدا بن کے بیٹھا ہے اُس کا زمین پر قطعاً کوئی حق نہیں۔میں جب بھی یہ نظم پڑھتا ہوں مجھے پنجاب لیجسلیٹو کونسل کی وہ بحث یاد آ جاتی ہے جو علامہ اقبال اور اُن کے گہرے دوست میاں سرفضل حسین کے درمیان ہوئی تھی۔میاں فضل حسین نے جاگیرداری کے حق میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ پنجاب کی زمین کل مغل بادشاہوں کی ملکیت تھی اور آج تاجِ برطانیہ کی ملکیت ہے۔ برطانوی حکومت جس کو بھی اور جتنی بھی جاگیردار عطا کرے ، بر حق ہے۔ اِس پر علامہ اقبال نے کہا تھا کہ پنجاب کی زمین کے مالک پنجاب کے عوام ہیں۔ پنجاب کے عوام اُس وقت سے اِس زمین کے مالک ہیں جس وقت بابر اور اُس کی اولاد پیدا ہی نہ ہوئی تھی اور تاج و تختِ برطانیہ تاریخ کے اُفق پر ابھی نمودارہی نہیں ہوا تھا۔ اپنی شاعری میں بھی وہ اسی حقیقت کو روشن سے روشن تر کرتے رہے کہ زمین کسان کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اِس امانت کو سنبھال اور سنوار کر کسان جو کچھ پیدا کرتا ہے وہ اُس کا اپنا ہے اُس پر کسی اور کا کوئی حق نہیں۔ ایک اور مختصرنظم بعنوان ’’گدائی‘‘ میں اُنھوں نے سرمایہ و محنت کے اسرار و رموز کو یوں منکشف کیا ہے:

مے کدے میں ایک دن اک رندِ زیرک نے کہا

ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا

تاج پہنایا ہے کس کی بے کُلاہی نے اسے؟

کس کی عُریانی نے بخشی ہے اسے زرّیں قبا؟

اس کے آبِ لالہ گوں کی خونِ دہقاں سے کشید

تیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی کیمیا

اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہُوئی

دینے والا کون ہے؟ مردِ غریب و بے نوا

مانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج

کوئی مانے یا نہ مانے، میر و سُلطاں سب گدا!

علامہ اقبال کو اِس امر کا یقین تھا کہ ہم جب تک نقوشِ کہن کو مٹاڈالنے کا فریضہ ادا نہ کریں تب تک سلطانیء جمہور کی قلمرو میں قدم نہیں رکھ سکتے۔ اِن نقوشِ کہن میں سے ایک شہنشاہیت کا ادارہ ہے۔ ہم نے دورِ جاہلیت کے اِس نقش کو مٹانے کی بجائے مزید گہرا کیا اور استحکام بخشا ہے۔ پاکستان علامہ اقبال کی فکری اور قائداعظم کی نظریاتی قیادت میں جمہوری عمل سے وجود میں آیا تھامگر یہاں جمہوریت ایک تسلسل کے ساتھ کبھی نہ پنپ سکی۔ جمہوریت جب بھی آتی ہے آمریت کی راہیں روشن کرنے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ آج ہمارے ہاں ایک مرتبہ پھر جمہوری عمل کا آغاز ہوا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ نقوشِ کہن بھی نئی آب و تاب حاصل کر رہے ہیں جنہیں مٹائے بغیر جمہوری عمل مستحکم نہیں ہو سکتا۔ یہ نقوشِ کُہن ہیں جاگیرداری اور سرداری نظام۔ آج پاکستان میں جمہوریت کے فروغ و استحکام کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے قائدین اقبال کی فکر و نظر سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں رائج معاشی نظام کو حقیقی اسلامی انقلابی خطوط پر اُستوار کریں۔

علامہ اقبال کو شروع سے ہی معاشی مسائل سے گہری دلچسپی تھی۔ اپنے وطن کی معاشی پسماندگی اور اُس سے پیدا ہونے والے اخلاقی اور روحانی امراض کا جیساجیتا جاگتا احساس علامہ اقبال کے ہاں پایا جاتا ہے اُس کی مثال اُن کے عہد میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ اپنی پہلی کتاب بعنوان ’’علم الاقتصاد‘‘ کے دیباچہ میں اقبال لکھتے ہیں:

’’غریبی قویٰ انسانی پر بہت بُرا اثر ڈالتی ہے، بلکہ بسا اوقات انسانی رُوح کے مجلّا آئینہ کو اس قدر زنگ آلود کر دیتی ہے کہ اخلاقی اور تمدنی لحاظ سے اس کا وجود و عدم برابر ہو جاتا ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ ہر فرد مفلسی کے دُکھ سے آزاد ہو؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ گلی کوچوں میں چپکے چپکے کراہنے والوں کی دل خراش صدائیں ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائیں اور ایک درد مند دل کو ہلا دینے والے افلاس کا دردناک نظارہ ہمیشہ کے لئے صفحۂ عالم سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے؟‘‘

آج ہمارے اقتصادی منصوبہ سازوں کو ایک نظر علامہ اقبال کی اس پہلی کتاب پر بھی ڈال لینی چاہئے۔ اقبال نے اپنی شاعری اور اپنی فلسفیانہ تحریروں میں عمر بھر نہ صرف معاشی ظلم کے خلاف احتجاج کیا ہے بلکہ اس ظلم کو مٹا کر معاشی انصاف کے ایک نئے نظام کے قیام کی بنیادیں بھی فراہم کی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم اقبال کے تصورات کو پاکستان میں ایک عادلانہ معاشی نظام کے نفاذ کی بنیاد بنائیں۔ جب تک پاکستان میں معاشی انصاف کے اسلامی تصورات عملی طور پر نافذ نہیں کر دئیے جاتے تب تک ہمارے ہاں جمہوریت کا نظام بھی اقبال کے لفظوں میں صرف ’’جمہوری تماشا‘‘ ہی بنا رہے گا۔ اقبال نے سلطانیء جمہورکی بشارت دیتے وقت جن نقوشِ کہن کو مٹا ڈالنے کی تلقین کی تھی وہ معاشی ظلم اور سیاسی غلامی کے ادارے ہیں- یہی وہ نقشِ کہن۔۔۔ پرانی نشانیاں ہیں جنہیں مٹا ڈالنے کا سبق اقبال نے پڑھایا تھا۔ جب تک ہم اقبال کے ان نظریات پر عمل کا آغاز نہیں کرتے تب تک پاکستان میں سچی جمہوریت کا خواب تشنۂ تعبیر ہی رہے گا۔

پروفیسر فتح محمد ملک ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
June

تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی

(سابق سیکرٹری جنرل۔وزارت خارجہ)

خلیجی ممالک‘ بشمول سعودی عرب‘ کے ساتھ دیرینہ اور گہرے مراسم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نہ صرف لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی افرادی قوت ان ممالک میں موجود ہے، بلکہ پاکستان نے ان ممالک کی ترقی و استحکام کے لئے کلیدی کرداربھی ادا کیا ہے۔ ان ممالک میں بینکنگ کو پروان چڑھانا ہو، یا آئی ٹی کو فروغ دینا ہو، فضائی سروس کا آغاز کرنا ہو،یا بنجر صحراؤں کو خوش نما باغات میں بدلنا ہو، زیر زمین سرنگوں اور سڑکوں کی تعمیر ہو یا انتظامی و سکیورٹی اداروں کی تشکیل، عسکری تربیت ہو یا انٹیلی جنس،پاکستان نے ہر میدان میں ایک بھائی کا کردار ادا کیاہے۔ان تمام امور سے ہٹ کر سعودی عرب کی سرزمین حرمین شریفین کی سرزمین ہے۔ حرمین شریفین کی حرمت، تقدس، تحفظ پوری امت مسلمہ کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیزہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے کسی سے پیچھے نہیں رہے گا۔

یمن کی خانہ جنگی‘ خلیجی ممالک کی مداخلت اور القاعدہ، داعش کی موجودگی کی وجہ سے، ایک سنگین صورت اختیار کرگئی ہے ۔دنیا بھرکے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں کی زینت بنی ہوئی ہے اور تمام ملکوں کے پالیسی ساز اس پہ غور وفکر کر رہے ہیں۔پاکستان کی پارلیمنٹ نے چار دن کے طویل مباحثے کے بعد اس جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگر حرمین شریفین کے تقدس یا سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ درپیش ہوا تو پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ وطن عزیز پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی اکلوتی جوہری طاقت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ، منظم اور مضبوط فوجی قوت بھی ہے۔ طاقت اور اختیار کے زیادہ ہونے سے ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور پاکستان یہ ذمہ داریاں بطریق احسن طویل عرصے سے سرانجام دے رہا ہے۔ ایک مضبوط قوت ہونے کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ دوسرے اسلامی ممالک سے اتحاداور دوستی کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دیا ہے۔ اسلامی دنیا میں پاکستان کا کردار کسی ملک کے خلاف کبھی جارحیت پر مبنی نہیں رہا، بلکہ ہمیشہ ہی مسلم ملکوں سے تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کے درمیان پائے جانے والے تنازعات کوبھی خوش اسلوبی سے حل کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جانب پاکستان کے عمان، سعودی عرب،عرب امارات ، کویت ، بحرین ، قطر کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے موجود ہیں تو دوسری جانب ایران ، ترکی،وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بھی انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ خلیجی ممالک‘ بشمول سعودی عرب‘ کے ساتھ دیرینہ اور گہرے مراسم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نہ صرف لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی افرادی قوت ان ممالک میں موجود ہے، بلکہ پاکستان نے ان ممالک کی ترقی و استحکام کے لئے کلیدی کرداربھی ادا کیا ہے۔ ان ممالک میں بینکنگ کو پروان چڑھانا ہو، یا آئی ٹی کو فروغ دینا ہو، فضائی سروس کا آغاز کرنا ہو،یا بنجر صحراؤں کو خوش نما باغات میں بدلنا ہو، زیر زمین سرنگوں اور سڑکوں کی تعمیر ہو یا انتظامی و سکیورٹی اداروں کی تشکیل، عسکری تربیت ہو یا انٹیلی جنس،پاکستان نے ہر میدان میں ایک بھائی کا کردار ادا کیاہے۔ان تمام امور سے ہٹ کر سعودی عرب کی سرزمین حرمین شریفین کی سرزمین ہے۔ حرمین شریفین کی حرمت، تقدس، تحفظ پوری امت مسلمہ کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیزہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے کسی سے پیچھے نہیں رہے گا۔ یمن کے حالیہ قضیئے میں برادر دوست ممالک کے مطالبے اور پاکستان کے کردار پر بات کرنے سے قبل یمن کی تاریخ، سٹریٹیجک اہمیت، سیاسی استحکام اور سعودی عرب و یمن کے تعلقات کا مختصر جائزہ لینا ضروری ہے۔

یمن ایک طویل تاریخ کا حامل‘ عرب دنیا کا شائد وہ واحد ملک ہے جس نے جمہوریت کی جانب قدم بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ بھرپور جنگی، قبائلی اور اسلامی تاریخ کا امین ہونے کے ساتھ ساتھ یمن کو اصحاب رسول رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کی سرزمین ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ حضرت اویس قرنی، حضرت عمار بن یاسر، حضرت مقداد سمیت کئی صحابہ کرامؓ کا تعلق یمن سے تھا۔ تاریخ میں یمن کا ذکر 1200 قبل مسیح میں بھی ملتا ہے ۔ یمن دنیا کے نقشے پر براعظم ایشیا کے جنوب مغرب اور جزیرۃ العرب و مشرق وسطیٰ کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کی آبادی مسلمان اور تعداد میں لگ بھگ 2 کروڑ 40 لاکھ ہے۔ اس کا رقبہ 527,229 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ یمن کے مغربی کنارے پر بحیرہ احمر اور جنوبی کنارے پر بحیرہ عرب واقع ہے۔ یہاں کی 85فیصد آبادی قبائل پر مشتمل ہے۔کل آبادی میں تقریباً 30فیصد آبادی زیدیہ شیعہ اور 12 فیصد شیعہ اثناء عشری اور اسماعیلی شیعہ مسالک پر مشتمل ہے۔ گویا یمن کی کل آبادی کا تقریباً 40فیصد شیعہ مسالک پر مشتمل ہے، بقیہ آبادی سنی مسالک پر مشتمل ہے۔ جس میں اکثریت شافعی اہلسنت مسلمانوں کی ہے۔ ملک کی زیادہ تر زیدیہ مسلک کی آبادی شمالی حصے صعدہ میں آباد ہے اور یمن کی شمالی 1800کلومیٹر طویل سرحد سعودی عرب سے ملتی ہے جبکہ اس کی مشرقی سرحد پر عمان واقع ہے۔

قبل از اسلام اس سرزمین پر کئی طاقتوں نے لشکر کشی کی مگر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ اپنے عروج کے دور میں رومنز (Romans) بھی یہاں حملہ آور ہوئے ، مگر ناکام لوٹے۔ اسلام آنے کے بعد حضور نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ کو یہاں تبلیغ کی غرض سے بھیجا ۔ یہ ان کی تبلیغ کا ہی اثر تھا کہ پورے کا پورا یمن مسلمان ہوا۔ یہاں کے قبائل کی تاریخ پاک افغان سرحدوں پر بسنے والے قبائل سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ قبائلی رسم و رواج اور روایات میں بندھے یہاں کے باشندے ہتھیار کو اپنی شان اور خنجر کو اپنا زیور سمجھتے ہیں ۔ انتہائی نامساعد اور قلیل وسائل کے باوجود یہاں کے قبائل نے کسی جارح طاقت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے ۔اپنی جنگجو سرشت کے باعث یمن کے قبائل زیادہ تر مصروف جنگ ہی رہے۔ کبھی بیرونی طاقتوں سے تو بسااوقات یہ قبائل آپس میں برسرپیکار رہے۔ اسلام آنے کے بعد بھی مختلف مسلمان بادشاہتیں ان کے ساتھ جوڑ توڑ کرکے حکومتیں کرتی رہیں، مگر مستحکم حکمرانی قائم نہیں ہوسکی اور انتشار رہا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ شہری علاقوں میں تو حکومتیں قائم رہیں مگر دیہی علاقے امامت سے منسلک رہے ۔ دراصل یہاں کے زیدیہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد گرچہ امامت کے قائل ہیں ، مگر ان کے اوراثناء عشری شیعہ مسلک میں بہت فرق ہے ۔ زیدیہ مسلک کے لوگ امامت کے ساتھ ساتھ خلافت راشدہ کے بھی قائل ہیں، اور اہلسنت کے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں۔ امامت سے منسلک زیدیہ مسلک کی شمالی یمن پرحکومت کی تاریخ تقریباً ایک ہزار سال پر محیط ہے۔ اس دوران کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ انہی زیدیہ مسلک قبائل کی حکومت پورے یمن پر بھی رہی۔ سلطنت عثمانیہ جب اپنے بام عروج پر تھی تو سولہویں صدی میں اس نے یہ علاقہ فتح کیا، مگر ان کے خلاف بغاوت رہی اور رومنز کی طرح ان کے بھی کئی بڑے جرنیل مارے گئے، یہاں تک کہ ان کو بھی بالآخر یہاں سے جانا پڑا۔ دوسری جانب جنوبی یمن کا علاقہ جس میں اہلسنت مسلک کی زیادہ تعداد تھی ، ان کا دارالحکومت عدن کی بندرگاہ رہا۔

انیسویں صدی برطانیہ کے عروج کی صدی تھی، سمندر کی لہروں پر برٹش نیوی کی حکومت تھی۔برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ سٹریٹیجک اہمیت کے تمام کلیدی مقامات برطانوی قبضے میں تھے۔ آبنائے ملاکا، آبنائے ہرمز کی طرح یمن کے انتہائی اہم مقام آبنائے باب المندب پر بھی برطانیہ کی نظریں تھیں۔ باب المندب کو اپنی تحویل میں لینے کے لئے 1939ء میں برطانیہ نے عدن کی بندرگاہ پر قبضہ کرلیا اور ہندوستان جانے والے جہازوں کے لئے ایندھن فراہم کرنے کے لئے اڈہ قائم کیا۔ اس وقت عدن کی کالونی کو ہندوستان میں برطانیہ کی حکومت کنٹرول کرتی تھی۔ نہر سویز کھلنے کے بعد جب بحر قلزم اور بحیرہ احمر کے راستے یورپ کی تجارت شروع ہوئی ، جو پہلے پورے براعظم افریقہ کے گرد چکر لگا کر گزرتی تھی‘ تو باب المندب کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ برطانیہ نے یمن کے مختلف قبیلوں کے ساتھ بے شمار معاہدے کئے۔ بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقے میں کئے ، اور بے شمار سلطان، امیر اور شیخ اپنی چھتری میں لے کر جنوبی یمن کو اپنی سرپرستی میں لے لیا،اسی طرح جزیرہ نما العربیہ کی دوسری طرف خلیجی ممالک کو بھی اپنی حفاظت فراہم کردی۔ برطانیہ کا اثررسوخ بھی جنوبی یمن تک ہی محدود رہا۔ شمالی یمن میں سلسلۂ امامت جیسے تیسے 1962ء تک چلتا رہا۔

دوسری جانب بیسویں صدی میں نجد ی خاندان کو خوب ترقی و شہرت ملی۔ 1902ء میں ابن سعود نے نجد کے صدر مقام ریاض پر قبضہ کرلیا۔ جس کے بعد کچھ ہی عرصے میں اس نے باقی نجد بھی فتح کرلیا۔ 1913ء میں خلیج فارس کے ساحلی صوبے الحساء، جو سلطنت عثمانیہ کے زیر اثر تھا ، پر قبضہ کیا۔ اس دوران یورپ میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی ۔ جس کے دوران ابن سعود نے برطانیہ سے تعلقات قائم کئے اور ترکوں کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں۔ حجاز میں شریف حسین آف مکہ کی حکومت تھی۔ برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے علاوہ جنگ عظیم کے بعد ابن سعود نے حجاز پر بھی حملہ کرکے قبضہ کرلیا، اور 1926ء میں اپنی بادشاہت کا اعلان کیا۔ بادشاہت کے اعلان کے بعد ابن سعود کی جانب سے فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور بالآخر 1932ء میں سلطنت سعودی عربیہ کا اعلان کردیا۔ اس دوران مزید پیش قدمی کرتے ہوئے یمن کے کئی علاقے عسیر ، نجران ، جازان وغیرہ اپنی سلطنت میں شامل کرلئے ۔ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ جاری رہی ، جس کا نتیجہ 1934ء میں طائف معاہدے کی صورت میں سامنے آیا ۔اس معاہدے کی انتہائی اہم بات یہ تھی کہ پہلی مرتبہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان سرحدکے تعین کیلئے اتفاق رائے پایا گیا۔ یمن کے جو علاقے سعودی عرب کے پاس تھے ، ان پر بھی یمن کا حق تسلیم کیا گیا اور یمنیوں کو سعودی عرب میں داخل ہونے اور کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ تیل کے پیداواری علاقے بھی ہیں ۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ سعودی عرب کے زیر قبضہ یمنی علاقوں میں بھی زیدیہ مسلک کے قبائل آباد تھے اور سرحد پار کے یمنی علاقوں میں بھی انہی کی اکثریت تھی۔ باقاعدہ سرحد نہ ہونے کے باعث جھڑپیں چلتی رہیں ۔ آخر کار 2000 ء میں 1934 کے معاہدے کی دوبارہ تصدیق ہوئی اور سرحد کا تعین کرلیا گیا۔

1962ء میں شمالی یمن کے اندر زیدی امام کے خلاف فوجی بغاوت ہوگئی۔ اس فوجی بغاوت کی مددکے لئے مصر کے جمال عبدالناصر نے مصری فوجی اور کثیر مقدار میں اسلحہ بھیجا ۔ اس موقع پر سعودی عرب نے شیعہ زیدی امام کی حمایت کی ۔ چونکہ شمالی یمن کی سرپرستی سعودی عرب اور جنوبی یمن کی جمال عبدالناصر کر رہے تھے‘ لہٰذا خانہ جنگی کی صورت میں شمالی یمن اور جنوبی یمن آپس میں برسر پیکار تھے۔ پانچ سال بعد ناصر کو اپنی بچی ہوئی فوج وہاں سے نکالنا پڑی۔ شمالی یمن کے قبائلیوں نے رومنز اور ترکوں کے بعد مصر یوں کو بھی تسلط قائم نہیں کرنے دیا اور انہیں نکال باہر کیا۔ ناصر کے بعد جنوبی یمن میں بائیں بازو کی قوتیں کامیاب ہوگئیں۔ برطانیہ کا عدن سمیت دیگر نوآبادیوں سے انخلاء عمل میں آیا تو مصر اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت کے نتیجے میں یمن باقاعدہ طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ شمالی یمن جمہوریہ یمن بن گیا اور جنوبی یمن عوامی جمہوریہ یمن کے نام سے قائم ہوگیا۔ یہ سعودی عرب کے پڑوس میں عرب دنیا کی واحد اور پہلی سوشلسٹ جمہوریہ تھی جس نے سوویت یونین، چین، کیوبا اور فلسطینیوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے۔ 1978ء میں علی عبداللہ صالح شمالی یمن کا صدر بنا ، جس کی سرپرستی سعودی عرب نے کی اور اسے امریکہ کی حمایت و مدد بھی حاصل تھی۔ شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان مخاصمت کا سلسلہ یہیں نہیں تھما، بلکہ دونوں کے درمیان لڑائیاں جاری رہی۔ علی عبداللہ صالح کے دور میں ہی لڑائیوں کے بعد جنوبی یمن کو شکست ہوئی اور بات چیت کے ذریعے 1990ء میں دونوں حصے دوبارہ مل گئے ۔ علی عبداللہ صالح یمن کے صدر اور جنوبی یمن کا نمائندہ نائب صدر منتخب ہوئے۔ طویل خانہ جنگی کے باعث غربت میں بتدریج اضافہ ہوا۔جنوبی یمن میں غربت اور احساس محرومی کی وجہ سے علیحدگی پسند تحریکیں اٹھتی رہیں، احتجاج ہوتے رہے، جن کو بزور طاقت کچلا گیا۔

متحدہ یمن کے قیام کے کچھ عرصے بعد صدام حسین نے کویت پر حملہ کردیا۔ جس کے خلاف تمام خلیجی ممالک اکٹھے ہوئے اور صدام کے خلاف اتحاد تشکیل دیا۔ یمن نے اس اتحاد سے دوری اختیار کی ۔ جس کے نتیجے میں یمن کے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کشید ہ ہوگئے ۔سعودی عرب ، کویت اور دیگر خلیجی ممالک نے اپنے ممالک میں موجود ہزاروں یمنی شہریوں کو نکال دیا۔ جس کے باعث یمن میں بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا اور حالات ناگفتہ بہ صورت اختیار کرگئے۔ خلیجی ریاستوں کے اس عمل نے یمنی عوام کے دلوں میں غم و غصے اور نفرت کے جذبات کو جنم دیا۔ حالانکہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب میں کام کرنے کے لئے یمنیوں کو کفیل کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ خلیجی ممالک کے ان اقدامات کے نتیجے میں حسین بدرالدین الحوثی نے اخوان المومنین نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔اس تنظیم نے قبائل میں اپنے اثرورسوخ کو انتہائی حد تک بڑھایا اور کچھ فلاحی ادارے بھی قائم کئے۔2000ء میں عدن میں امریکی نیوی پر خودکش حملے کے ذریعے القاعدہ نے اپنے وجود کا احساس دلایا۔ جس کے بعد امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ القاعدہ یمن کی حکومت کے بھی خلاف تھی اور حوثیوں کو بھی اپنا دشمن قراردیتی تھی۔ 2004ء میں یمنی فوج نے اخوا ن المومنین تنظیم کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ۔ جس میں بدرالدین حوثی اور ان کے کئی قریبی ساتھی قتل ہوگئے جس کے بعد اس تنظیم کی قیادت عبدالمالک حوثی کے پاس آئی ۔ جنہوں نے اس تنظیم کو تحلیل کرکے حوثی تحریک کی بنیاد رکھی جس میں حوثیوں کے تین قبیلے حاثد، باقل اور احمر انتہائی متحرک تھے اور ان کا اثر زیادہ تھا۔2004 ء سے 2009 تک صالح کی فوج حوثیوں کے خلاف مسلسل لڑائیاں لڑتی رہی۔

2011 ء میں تیونس، مصرسے جو عرب سپرنگ موومنٹ اٹھی تو اس نے لامحالہ یمن کو بھی متاثر کیا۔ ملک میں غربت، بیروزگاری، پسماندگی کے خلاف قبائلی عوام سڑکوں پر نکلنے لگے۔ حکومت کے خلاف جاری ان مظاہروں میں زیدیہ اور اہلسنت دونوں ہی شریک تھے۔ علی عبداللہ صالح کو چونکہ سعودی عرب کی سرپرستی حاصل تھی اس لئے ان مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا جس میں تقریباً دو ہزار افراد قتل ہوئے سات ہزار کے قریب افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ طاقت کے استعمال کے باوجود عوام ثابت قدم رہے جس کے نتیجے میں علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ صالح کے بعد اسی کے نائب منصور ہادی کو تین سال کے لئے نگران صدر مقرر کیا گیا۔ سیاسی طور پر غیر مستحکم یمن میں القاعدہ کو جگہ بنانے کا زیادہ موقع ملا۔ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف بھی عوامی احتجاج جاری رہا۔ جس کے دوران صدر منصور ہادی نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا۔

صدر ہادی کے خلاف اٹھنے والی آوازیں زیادہ طاقت اختیار کرگئیں۔ صدر ہادی کے خلاف اٹھنے والی تحریک کے مطالبات ذیل تھے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے کو واپس لیا جائے، چونکہ حکومت بدعنوان ہے لہٰذا مستعفی ہو کر ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنائی جائے۔ قومی مذاکرت کے نتیجے میں ہونے والی سفارشات کی روشنی میں آئینی اصلاحات کی جائیں۔ واضح رہے کہ اس عرصے میں صدر ہادی کی مدت صدارت بھی ختم ہوچکی تھی۔ اس دوران داعش نے حوثیوں کی دو مساجد پر خودکش حملے کئے ۔ جن میں سیکڑوں نمازی لقمۂ اجل بنے۔ حوثیوں نے صدارتی محل کا گھیراؤ کرلیا،اس دوران سابق صدر علی عبداللہ صالح بھی حوثیوں سے آ ملے اور ان مطالبات کی حمایت کی۔ صدر منصور مستعفی ہوکر پہلے عدن گیا۔ جہاں اس نے اعلان کیا کہ وہ استعفیٰ واپس لیتا ہے اور اس کے بعد سعودی عرب چلا گیا۔ اگلے ہی روز ریاض میں جی سی سی کا اجلاس بلاکر یمن پر حملے کی تجویز پیش کی گئی۔جس کے بعد واشنگٹن میں مقیم سعودی عرب کے سفیر نے اپنی پریس کانفرنس میں منصور ہادی کی درخواست پر یمن پہ حملوں کا اعلان کردیا۔ اگلے دن سعودی عرب اور عرب اتحادیوں نے یمن پر حملے شروع کئے ۔ جنگ میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یمن عرب دنیا کا ایک غریب اور کمزور ملک ہے ۔ طویل خانہ جنگی اور وسائل کی عدم دستیابی کے باعث عوام پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں۔ حالیہ جنگ سے متعلق انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک اور ادویات کی شدید قلت کے باعث اموات بڑھ رہی ہیں۔رپورٹ میں اقوام متحدہ سے جنگ بند کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔

سٹریٹیجک اہمیت

یمن کے مغربی کنارے پر واقع تنگ بحری راستہ باب المندب جیوسٹریٹیجی کے اعتبار سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اور مشرق وسطیٰ سے نکلنے والا تیل اپنی منزل یورپ کے لئے پہلے آبنائے ہرمز (جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے) سے ہوتا ہوا اسی تنگ بحری راستے پر پہنچتا ہے اور پھر اگلے مرحلے پر نہرسویز سے نکل کر یورپ کی طرف جاتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس تنگ بحری راستے سے سالانہ 20,000 بحری جہاز گزرتے ہیں۔یعنی یہ یورپ سے افریقہ تک کا مختصر ترین ٹرانزٹ پوائنٹ ہے۔ بحیرہ قلزم اور بحرہند کو جوڑنے والی مصروف ترین آبی گزرگاہ کی اہمیت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ یورپ اور افریقہ کے درمیان مختصر ترین تجاری راستہ ہے۔ بحیرہ احمر میں ایک جانب مصر، سوڈان ،اریٹیریا اور جبوتی ہیں، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب اور یمن واقع ہیں۔بحیرہ احمر میں کچھ جزائر بھی ہیں۔ 1995ء میں اریٹیریا آزاد ہوا تو جزیروں کے تنازعے پر یمن اور اریٹیریا کی آپس میں لڑائی ہوگئی۔ اسی طرح یمن کے کچھ جزائر ایسے بھی تھے جس پر سعودی عرب کے ساتھ جھگڑا تھا اور ان جزیروں پر بھی یمن کے حق کو زیادہ تسلیم کیا گیا۔باب المندب ایشیا اور افریقہ کے درمیان بھی آبی گزر گاہ ہے۔ سعودی عرب کو اس مقام پر سب سے بڑی مشکل یہ درپیش ہے کہ جن سمندروں سے اس کے ساحل ملتے ہیں ان کی اصلی آبی گزرگاہیں دوسرے ممالک کے کنٹرول میں ہیں۔ جیسے خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کا کنٹرول ہے۔ بحیرہ احمر کی اصلی آبی گزرگاہ شمار ہونے والی نہرسویز کا کنٹرول مصر کے پاس ہے۔ اسی طرح آبنائے باب المندب کا کنٹرول یمن اور افریقی ممالک کے پاس ہے۔ چنانچہ یمن میں اپنی مرضی کی حکومت کے قیام کا ایک بڑا مقصد ان سمندری راستوں پر اثر برقرار رکھنا بھی ہے۔

موجودہ صورتِ حال

عرب اتحاد کی جانب سے جب یمن پر حملوں کا اعلان کیا گیا تو اس موقع پر ان تمام ممالک کے جھنڈے موجود تھے جو اس جنگ میں شریک تھے۔ ان جھنڈوں میں پاکستان کا پرچم بھی شامل تھا۔ بین الاقوامی میڈیا نے اس پرچم کو نہ صرف فوکس کیا، بلکہ یہ خبر بھی جاری کردی کہ حملہ آور فضائی دستوں میں پاکستان کے طیارے بھی شامل ہیں جس کی بعد میں پاکستان نے تردید کی۔ دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اس جنگ میں ان کا اتحادی ہے۔ جس کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ یمن میں مقیم پاکستانیوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوگئیں اور انہیں یمن سے فوری طور پر انخلاء کرنا پڑا۔ عالمی میڈیا کے اعلان کے باوجود یمن میں مقیم پاکستانیوں کو حوثیوں نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جس کا برملا اظہار یمن سے آنے والے پاکستانیوں نے بھی کیا۔ یمن کی جنگ میں پاکستان کی فوجی شرکت کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کا ردعمل بھی سامنے آیا، اور بالآخر ایک قرارداد منظور ہوئی ۔ جس میں سعودی عرب کے تحفظ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا اعادہ اور یمن کی جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان کا یہ فیصلہ انتہائی اصولی اور اس کے سفارتی قواعد و ضوابط کے عین مطابق تھا۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل چالیس میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ پاکستان اسلامی دنیا کے ممالک کے ساتھ اتحاد کی بنیاد پر دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم رکھے۔ ان میں اگرکوئی اختلافات پیدا ہوں تو ان کو پرامن طریقے سے حل کرنے کو ترجیح دے۔اس سے قبل وطن عزیز کے اندر چند دینی جماعتوں کی جانب سے تحفظ حرمین شریفین کے نام پر ریلیاں، سیمینارز، کانفرنسز شروع ہوگئیں۔ کچھ بیرونی وظیفہ خوروں نے اسے شیعہ سنی جنگ قرار دینے کے لئے اپنی ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا، تو کہیں سے سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش خطرات کا ذکرخیر جاری ہوا۔ پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد سامنے آنے کے بعد برادر دوست ممالک کی جانب سے جو ردعمل سامنے آیا ، یقینی طور پر اس سے پاکستان کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی، وہ سفارتی اصولوں کے بھی منافی تھا۔ یمن کی جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ یوں بھی ضروری تھا کہ بیرونی قوتیں اس جنگ کو فرقہ وارانہ ثابت کرنے پر کمربستہ ہیں ۔

پاکستان میں دونوں مسالک موجود ہیں اور دونوں کے درمیان افہام و تفہیم و بھائی چارے کی فضا پائی جاتی ہے ۔ لہٰذا یمن کے مسئلے میں کسی بھی ایک فریق کی حمایت ہمارے لئے داخلی مسائل کو بھی جنم دے سکتی تھی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اسلامک جمہوریہ ایران اور برادر ملک ترکی کے درمیان 1985ء سے اقتصادی تعاون کی تنظیم کے ذریعے مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے جس کا صدر دفتر تہران میں ہے ۔ 1992ء میں سوویت یونین سے الگ ہونے والی اسلامی ریاستوں اور افغانستان کو بھی اس تنظیم میں شامل کرلیا گیا اور وسیع پیمانے پر ان کے درمیان تعاون جاری ہے۔ پاکستان خلیجی ریاستوں میں بھی استحکام چاہتا ہے اور شمالی افریقہ کی مسلم ریاستوں کی آزادی کے لئے بھی پاکستان کا کلیدی کردار رہا ہے ۔ فلسطین کے معاملے پر پاکستان آج بھی اپنے بانی، قائداعظم، کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس نے اسرائیل کو نہ ہی تسلیم کیا اور نہ ہی اس سے تعلقات قائم کئے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض عرب ممالک اپنے اصولی مؤقف سے ہٹ کر اسرائیل سے تعلقات قائم کرچکے ہیں اور ان تعلقات کو فروغ بھی دے رہے ہیں ۔

یمن کے مسئلے پر غیر جانبدار رہنے کی زیادہ ضرورت یوں بھی تھی کہ پاکستانی افواج ضربِ عضب میں مصروف ہیں۔ ملک کے اندر دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ ہمارے لئے ایک چیلنج ہے ۔ بقاء کی اس جنگ کو ہمارے لئے جیتنا انتہائی ضروری ہے ۔ دوسری جانب بھارت ہماری مشرقی سرحدوں پر جارحانہ کارروائیوں میں مصروف ہے ۔ یہی بھارت ہماری مغربی سرحد کو بھی غیر محفوظ بنانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ۔ بلوچستان اور کراچی میں ہونے والی تخریب کاری میں اس کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں ۔ ہمارے ملک کے حالات اس امر کے ہرگز متحمل نہیں کہ ہم یمن کی جنگ میں فریق بنیں ۔ ہم اسلامی دنیا کی اکلوتی جوہری طاقت ہیں ۔ ہماری جوہری طاقت پر تمام بڑی طاقتیں نظریں جمائے بیٹھی ہیں ۔ ہمیں کسی بھی ایسے اقدام لینے سے اجتناب کرنا ہوگا کہ جس کے باعث یہ طاقتیں ہمیں غیر ذمہ دار جوہری طاقت سمجھیں ۔ویسے بھی جب ہمارے اوپر حملے ہوئے تھے تو کس کس ملک نے ہمارے دفاع کے لئے کتنی فوج بھیجی تھی۔ کس کس ملک نے جنگوں میں ہماری کتنی مدد کی تھی۔ بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگوں میں جن ملکوں نے ہماری مدد کی ۔ ہم اُن کے شکر گزار ہیں اور ان تمام ممالک کا احترام کرتے ہیں ۔ پاکستان پہلے بھی امن کے قیام کے لئے کردار ادا کرتا رہا ہے اورآئندہ بھی کرتا رہے گا۔ یمن کی جنگ کے بارے میں عمان سعودی عرب کے اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ ایران اور ترکی نے بھی مسئلے کے پُرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے اور جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ عرب ملک عراق کے وزیر اعظم نے بھی اس جنگ کی مخالفت کی ہے۔ جنگیں کبھی مسائل کا حل ثابت نہیں ہوتیں۔ عرب ممالک نے مشترکہ عرب فورس کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے۔ پاکستان عرب ملک نہیں ہے ، جس کی وجہ سے وہ اس فورس کا حصہ نہیں بن سکتا۔ یمن پر حملے سے قبل ریاض میں جی سی سی کی کانفرنس بلائی گئی۔ اگر اوآئی سی کی کانفرنس بلائی جاتی تو اس میں پاکستان بھی شامل ہوتا اور اسلامک فورس کا قیام عمل میں آتا تو پاکستان اس میں ضرور شریک ہوتا۔یمن پر سعودی عرب اور اتحادیوں کے حملے میں یمنی عوام کی ہلاکتوں کے علاوہ دوسرا بڑا نقصان داعش اور القاعدہ کے منظم ہونے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ فضائی حملوں کے نتیجے میں داعش کے دہشت گردوں نے یمن کی دو جیلیں توڑ کر ان میں قید اپنے سیکڑوں ساتھی آزاد کرالئے ہیں۔ یمن کا صوبہ حضرموت داعش کے کنٹرول میں آچکا ہے ۔ یہ وہی داعش ہے جو حرمین شریفین سے متعلق اپنے مذموم عزائم کا اظہار کرچکی ہے ۔ اسی داعش کے خلاف عراق اور شام میں ایران اور اس کے زیر اثر ملیشیا لڑرہے ہیں ۔ یمن کے اندر یہی داعش حوثیوں پر حملے کررہی ہے ۔ یمن پر سعودی حملوں کے نتیجے میں اگر داعش، القاعدہ وغیرہ زیادہ منظم ہوتے ہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے لئے سنگین خطرہ کون ثابت ہوگا، وہ حوثی جو یمن کی کل آباد ی کا چالیس فیصد ہیں اور پاور شیئرنگ کی بنیاد پر حکومت میں حصہ چاہتے ہیں یا وہ داعش جو عراق اور شام میں تباہی کی مثالیں رقم کرنے کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین اور سعودی حکومت سے متعلق اپنے ارادے ظاہر کرچکی ہیں ۔

ترقی اور استحکام کے لئے پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہوتا ہے ۔ ایران کا چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ حالیہ جوہری معاہدہ امن کی جانب نہایت مثبت پیش رفت ہے ۔ ایران نے ایک لحاظ سے قربانی دی ہے کہ امن کی خاطر وہ دس سال کے لئے اپنا جوہری پروگرام منجمد کرنے پر رضامند ہوا ہے ۔ اس معاہدے کے تحت ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں بھی اٹھ جائیں گی ۔ پابندیوں کے خاتمے سے ہمارے لئے ایران سے بجلی اور گیس کا حصول آسان ہوجائے گا، جو ہماری بنیادی ضرورت بھی ہے ۔ ہمارے برادر عرب دوست ملکوں کو ہماری پوزیشن سمجھنی چاہئے ۔یمن کے مسئلے کا پُرامن حل سب کے مفاد میں ہے ۔ 2011ء میں جس طرح کا معاہدہ کرکے حوثیوں کو شریک اقتدار کیا گیا ، اب بھی اسی طرز کے معاہدے کی ضرورت ہے۔ چالیس فیصد آباد ی کو شریک اقتدار کئے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔اگر امن قائم نہ ہوا تو جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔ اس جنگ کا پھیلا ؤ یا طول سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ پاور شیئرنگ کی ایسی کونسل بنائی جائے جس میں سب کی نمائندگی ہو۔ یمن میں امن کا یہی راستہ ہے اور افغانستان میں بھی امن کا یہی راستہ ہے ۔ طاقت کے بل بوتے پر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ کو ئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ تاریخ نے ایک عجیب سبق دیا ہے کہ امریکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جتنی بھی جنگوں میں گیا ہے کسی ایک میں بھی اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکا۔ اسے کامیابی نہیں ملی۔ ویت نام ، عراق، افغانستان کی مثالیں دنیا کے سامنے ہیں۔ برادر دوست ملک سعود ی عرب کو امریکی جنگوں کے نتائج ملحوظ خاطر رکھنے چاہئیں۔

(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)
 
12
June

کراچی کے موجودہ حالات اور امن و امان کی صورت حال پر ایک سروے رپورٹ

karachi_opt1.jpgتادم تحریر کراچی آپریشن پورے زور و شور سے جاری ہے، اس وقت جب میں یہ آرٹیکل لکھنے بیٹھا ہوں تو ٹی وی پر رینجرز کی جانب سے عمران فاروق کے قتل میں ملوث ایک اہم ملزم ’’معظم علی ‘‘کی گرفتاری کی خبر چل رہی ہے ۔

گزشتہ ماہ اپنے آرٹیکل میں کراچی آپریشن کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے راقم الحروف نے‘بطورِشہری کراچی میں جو تبدیلیاں دیکھیں انہیں بیان کرنے کی کوشش کی‘ پھر بھی کچھ کمی محسوس ہورہی تھی اور جلد ہی سمجھ آگئی کہ جب تک کراچی میں رہنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ان کی رائے نہیں لے لیتا‘ کراچی پر بات ادھوری ہی رہے گی، کیونکہ کراچی کی بدامنی کا خمیازہ کسی ایک شخص یا طبقے نے نہیں بلکہ معاشرے کی ہر اکائی نے بھگتا ہے۔ چاہے کوئی خوف زدہ صحافی ہو یا اپنے رزق میں سے کسی کو جبراً بھتہ دیتا ہوا تاجر، جان کی حفاظت کے لئے ملک اور کاروبار کو خیر باد کہتا ہوا کوئی صنعت کار ہو یا علم کا نور بانٹنے والا کوئی استاد ، کوئی سماجی کارکن ہو یا حصول علم کی تلاش میں سرگرداں طالب علم ، غرض یہ کہ ہر ایک نے کسی نہ کسی طرح اس بدامنی کی چوٹ کھائی ہے ، لہٰذا یہ طے پایا کہ اب جہاں تک ہوسکے مختلف لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کروں گا کہ سندھ رینجرز کے کراچی آپریشن شروع کرنے سے قبل کے کراچی میں‘او ر موجودہ کراچی میں ‘ آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں۔

آپریشن کی کامیابی کے لئے سیاسی مصلحتوں کو عملاً بالائے طاق رکھنا ہوگا۔مجرموں کے خلاف بے رحم آپریشن اور ساتھ ساتھ عدالتوں کا بھی تعاون لینا ہوگا ورنہ یہ لڑائی کمرہ عدالت میں ہاری جا سکتی ہے ۔

 

اسد نثار

(ایکٹنگ چیئرمین سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری)

کراچی آپریشن شروع ہونے سے قبل یہاں انڈسٹریل ایریا کے حالات بہت خراب تھے اور آپ کو حیرانی ہوگی کہ یہاں یومیہ تین سو سے زائد صرف موبائل چھینے کی وارداتیں ہوتی تھیں، اس کے علاوہ جو جرائم تھے ان میں ایک تو یہ تھا کہ کوئی چار پانچ لوگ گاڑی میں بیٹھ کر کسی بھی کمپنی میں داخل ہوجاتے اور اپنا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے بتا کر فیکٹری مالکان سے بھتہ وصول کرتے ۔۔۔ جب کہ شارٹ ٹائم کڈ نیپنگ بھی اپنے عروج پر تھی ، حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ فیکٹری مالکان ہر جانب سے مایوس ہو کر یا تو دیگر شہروں میں اپنا سرمایہ منتقل کرنے لگے یا پھر پاکستان سے باہر کاروبار لے جانے لگے جو بلا شبہ ایک قومی نقصان تھا ۔۔۔ اور کرتے بھی کیا کہ کوئی فیکٹری ایسی نہیں تھی کہ جس کا یارن (yarn)یا پھر کپڑے کا ٹرک ہفتے میں ایک سے دو بار لوٹا نہ گیا ہو ، ٹرک سے سارا سامان اتروا کر کسی ویران علاقے میں ٹرک کھڑا کر دیتے اور چند لمحوں میں فیکٹری مالکان کو لاکھوں کا نقصان ہوجاتا اور وہ بھی ہر ہفتے ۔
اس کے علاوہ جو سب سے بڑا مسئلہ تھا وہ تھا جان کی حفاظت کا، ہر گلی میں ایک ناجائز چھپر ہوٹل ان ہی جرائم پیشہ عناصر نے دھونس دھمکی سے کھڑا کیا ہوتا تھا جہاں پر نہ صرف ان جرائم پیشہ عناصر نے ٹھکانے بنائے ہوتے تھے بلکہ فیکٹری مالکان کے معمولات پر بھی نظر رکھی جاتی تھی کہ کون کب کس راستے سے آتا ہے ۔۔۔ لہٰذا سب سے پہلے ہم ہمت کر کے اس وقت کے ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر کے پاس گئے جنھوں نے ہمارے مسائل اور خدشات تسلی سے سنے اور یہ ان کا کراچی کے انڈسٹری مالکان پر احسان ہی سمجھ لیں کہ جس اپنائیت سے انھوں نے ہمارا ساتھ دیا اور انڈسٹریل ایریا سے اس قبضہ و جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔۔۔ اور آج میں کہہ سکتا ہوں کہ رینجرز کے آپریشن کے بعد اب بیان کردہ تمام مسائل اگر مکمل ختم نہیں بھی ہوئے تو اتنے کم رہ گئے ہیں کہ ہم اسے صفر ہی تصور کرتے ہیں ۔۔۔ اس کے علاوہ رینجرز کے تعاون اور دلیری والے اقدام سے یہاں کی پولیس پر بھی بہت مثبت اثر پڑا ہے۔ اگر آپریشن اپنے پایۂ تکمیل کوپہنچا تو مجھے یقین ہے کراچی کو روشنیوں کا شہر بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا ۔

ظفر اقبال

(تاجر )

zafar_iqbal.jpgمیں پچھلے بیس سال سے کورنگی کے علاقے میں اپنا کاروبار چلا رہا ہوں، اس دوران بہت سے آپریشن دیکھے اور اس کے بعد کی صورتحال بھی، یہ حقیقت ہے کہ جب یہ آپریشن شروع ہوا اس وقت تک آگ بہت پھیل چکی تھی تاجروں کی تو ویسے ہی کمر ٹوٹی ہوئی تھی کہ ہر دوسرا شخص کسی سیاسی جماعت کا نام لے کر بھتہ مانگنے آجاتا، رمضان کے فطرانے‘ عید کی کھالیں‘ غرض ہر تہوار میں ایک خوف کا سماں ہوتا کہ اگر ایک کو دئیے اور دوسرے کو نہ دے پائے تو ان زمینی خداؤں سے جان کی امان نہیں ملنے والی، اب تک تو بہت سکون ہے بس اللہ سے دعا ہے یہ آپریشن اپنی منزل تک پہنچے تا کہ کراچی والے سکھ کا سانس لے سکیں اور دوبارہ خوف پھیلانے والے عناصر کو سر اٹھانے کی ہمت ہی نہ ہو ۔۔۔
 

محمد طاہر

( سماجی کارکن )

m_tahir.jpgکراچی آپریشن سے قبل سیاسی و سماجی صورتحال نہایت ابتری کا شکار رہی ہے ۔۔۔ لیکن جب سے رینجرز و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کیا ہے۔ حالات بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہیں۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خوف کی فضا ختم ہونے کو ہے ۔۔۔ نہ صرف کاروباری حضرات بے خوفی سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں بلکہ دیگر شہروں کے لوگوں میں جو کراچی کا ایک خوفناک امیج بن چکا تھا‘ اب اس میں بھی بہتری کی توقع ہے ۔۔۔ کراچی کی بدامنی میں جہاں غنڈہ عناصر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل کرتے تھے‘ وہیں ان کی دیکھا دیکھی نوجوان نسل بھی محنت کے بجائے ’’شارٹ کٹ‘‘ کے چکر میں تعلیم سے دور ہو کر ’’ٹی ٹی‘‘ کے قریب ہونے لگی تھی گلی محلوں میں مقامی بدمعاشوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ شریف انسان کا اس ماحول میں جینا محال ہو چکا تھا، مگر جب کراچی آپریشن کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے، جرائم پیشہ لوگ قانون کی گرفت میں آنا شروع ہوئے تو ان موسمی بدمعاشوں نے بھی توبہ کرنا شروع کر دی ۔۔۔ اب امید کرتے ہیں جب تک آخری دہشتگرد ختم نہیں ہوجاتا‘ یہ آپریشن بنا رکے چلتا رہے گا ۔۔۔
 

عبدالوحید

(آئل ڈیلر و سپلائر)

abdul_waheed.jpgہم کتنے عرصے سے گارڈن کے علاقے میں کام کر رہے ہیں یہ تو عمر کے اس حصے میں مجھے خود بھی یاد نہیں مگر اس وقت جو آپ سفید بال دیکھ رہے ہیں تب یہ کالے ہوا کرتے تھے ۔۔۔ ہمارا کام ایسا ہے کہ کراچی کے ہر علاقے میں جانا پڑتا ہے اور پچھلے بدامنی کے ایک عشرے میں جو علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں ہمارا گارڈن کا علاقہ سرفہرست ہے ۔۔۔ اس کے علاوہ پچھلے کچھ عرصے میں ہمارے لئے بکرا منڈی ، پہاڑ گنج‘ آگرہ تاج اور مچھر کالونی نوگو ایریا بن چکے تھے کہ جہاں اگر سامان سپلائی کرنے جاتے بھی تھے تو کبھی مسلح لوگ سامان ہی راستے میں لوٹ لیتے یا واپسی میں پے منٹ سے ہاتھ دھونا پڑ جاتا تھا، یہ سمجھ لیں ہم لوگوں کے پاس ایسے کتنے ہی آرڈر آتے جسے ہم صرف اس لئے پورا نہیں کر پاتے تھے کہ اس علاقے کے حالات اس قابل نہیں ہوا کرتے تھے کہ بندہ جائے اور محفوظ واپس آ سکے۔۔۔ آپ تو رینجرز آپریشن کا پوچھ رہے ہیں‘ یقیناًکراچی آپریشن کے بعد بہت سکون ہے مگر ہمارے علاقے میں جب ایف سی والے آئے تھے تب سے ہی بہتری کی شروعات ہوگئی تھیں‘ ان کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی ، یہاں دھوبی گھاٹ کے علاقے میں کھڑے ہوتے تھے وہ لوگ اور اللہ کا شکر ہے کہ اس پوری پٹی میں امن ہوگیا تھا۔ اس کے بعد جو رینجرز نے آپریشن شروع کیا ہے تو سمجھیں کتنے سالوں بعد آج ہم کھل کر کاروبار کر رہے ہیں ۔۔۔ اور کراچی کے کسی بھی حصے میں بے فکر ہو کر جاتے ہیں۔
 

احسان کوہاٹی

(سینیئر صحافی )

ehsan_kohati.jpgاعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کراچی آپریشن کے بعد سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ بہتری کب تک رہے گی؟ اس سے پہلے بھی بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ آپریشن ہوتے رہے ہیں مگر ہوتا یہ ہے کچھ عرصے بعد لولے لنگڑے‘ کن کٹے‘ پہاڑی پھر نکل آتے ہیں۔ یہ آپریشن ٹپکتی چھت تلے بالٹیاں‘ دیگچیاں اور برتن رکھنے جیسا ہے ہمیں چھت کی مرمت کرنا ہوگی نہ کہ بالٹیاں بھرجا نے کے بعد ایک کے بعد دوسری بالٹی رکھنا ہوگی۔ کراچی میں امن و امان کی ابتر صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ2013 میں پچیس سو سے زائد شہری قتل ہوئے جبکہ 2014 میں 1800،اگرچہ700 افراد کا فرق ہے بہرطور یہ ایسے اعداد و شمار ہیں کہ انسان چکرا کر رہ جائے مگر اس پر کراچی پولیس چیف اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ بہرحال آپریشن کی کامیابی کے لئے سیاسی مصلحتوں کو عملاً بالائے طاق رکھنا ہوگا۔مجرموں کے خلاف بے رحم آپریشن اور ساتھ ساتھ عدالتوں کا بھی تعاون لینا ہوگا ورنہ یہ لڑائی کمرہ عدالت میں ہاری جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ رینجرز کے کردار کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی ۔
 

عادل معروف

(سٹوڈنٹ ICAP کراچی)

adil_maroof.jpgآپریشن سے قبل کراچی میں ہر طبقہ ڈرا سہما رہتا تھا ان ہی میں سے ایک طبقہ ہم سٹوڈنٹس کا بھی تھا۔جہاں جانا ہوتا یا کمبائن اسٹڈی کا پروگرام بنتا تو پہلے یہی پوچھتے رہتے تھے کہ آیا وہ علاقہ ہمارے لئے ’’نوگو ایریا‘‘ تو نہیں۔ لیپ ٹاپ سمیت قیمتی سامان ساتھ رکھنے سے ویسے ہی گھبراتے تھے کہ اگر راستے میں نہ لٹے تو بس میں دوران سفر لوٹ لئے جاتے ہیں ۔ اب اللہ کا کرم ہے کہ آپریشن شروع ہونے کے بعد کافی سکون آگیا ہے، چھینا جھپٹی اور ٹارگٹ کلنگ تو کم ہوئی ہی ہے ساتھ میں ہڑتالوں کے عذاب سے جو پڑھائی کا حرج ہوتا تھا‘ اس سے بھی اب تک جان چھوٹی ہوئی ہے ۔ لیکن ابھی بھی کافی جگہوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے گورنمنٹ اور کراچی آپریشن میں شامل رینجرز و دیگر حساس ادارے کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے میں کسی مصلحت سے کام لئے بغیر اس نیک کام کو اپنے انجام تک پہنچائیں۔
 

رقیہ ستار

(سٹوڈنٹ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی)

raqya_satar.jpgآج سے چند مہینے پہلے جہاں کراچی کے باشندے خوف و دہشت کی فضا میں جی رہے تھے تو وہیں عام عوام بالخصوص خواتین کا شام کے بعد گھروں سے نکلنا تک محال تھا، مگر آج ماشا اللہ اس رنگ و نور کے شہر کی روشنیاں پھر سے بحال ہورہی ہیں، نہ صرف عوام کے خوف میں کمی آئی ہے بلکہ مجموعی طور پر بھی شہر کی فضا میں بہتری محسوس ہورہی ہے ۔
 

محمد مزمل

(سٹوڈنٹ این‘ای ‘ڈی یونیورسٹی)

m_muzamil.jpgمیرے خیال سے کراچی آپریشن کے فوائد سے شاید ہی کوئی انکار کرے۔ بہرکیف ہر شخص کے لئے اس کے فوائد مختلف ضرور ہوسکتے ہیں۔ایک تاجر گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے میرے لئے بھی آپریشن کے فوائد کا بڑا حصّہ تاجر برادری سے ہی منسلک ہے، کچھ عرصہ پہلے تک میرے اکثر رشتے دار جہاں ہر وقت بھتے اور پرچی کے خوف سے کہیں نکل نہیں پاتے تھے‘ اب وہ لوگ ہر قسم کے خوف سے آزاد ہو کر اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ قائد اعظم کے شہر کو سندھ رینجرز ضرور بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز سے پاک کر کے اس کی اصل شناخت دلائے گی ۔ یہ تو تھی ان کی رائے جنھوں نے تصویر کے ساتھ اپنا مؤقف دینا چاہا ، اس کے علاوہ بہت سے لوگ تھے جو مؤقف تو دینا چاہ رہے تھے‘ مگر تصویر بنوانے میں انہیں ایک انجانا سا خوف تھا کہ کہیں کل کو یہ آپریشن بند ہوگیا تو ہماری جان مشکل میں پڑ جانی ہے‘ لہٰذا میں نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا۔ ایک تاجر کابغیر تصویر مؤقف ضرور بیان کروں گا جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کراچی میں کاروبار کرنے والے کس خوف و اذیت سے گزرے ہیں کہ آج تک ان کی نفسیات پر خوف کا راج ہے ۔۔۔
 

اسرار عباسی صاحب شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں اپنا کاروبار کرتے ہیں ۔۔۔ شیرشاہ کباڑی مارکیٹ کے نام سے کون واقف نہ ہوگا یہ وہی مارکیٹ ہے جہاں دن دیہاڑے باپ بیٹوں سمیت 12 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔۔۔ اسرار عباسی اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے آپریشن ہو رہا ہے مگر آج بھی اگر کوئی مارکیٹ میں افواہ ہی اڑا دے کہ حالات خراب ہونے والے ہیں تو ہم لوگ دکانیں چھوڑ کر گھر کی جانب بھاگتے ہیں اور کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ گھر پہنچ کر جب معلوم کیا کہ ہوا کیا ہے تو علم ہوا کہ کسی نے مذاق میں یا شرارتاً افواہ پھیلائی تھی ، آپ اسی سے ہمارے خوف کا اندازہ لگا لیں ۔۔۔۔۔۔

اسرار عباسی صاحب بھی ٹھیک ہی کہتے ہیں واقعی دہشتگردوں کو جب تک سزا نہیں ملتی کراچی کے شہری اس نفسیاتی خوف سے کیسے آزاد ہوسکتے ہیں کہ جو ہر وقت’’ کچھ ہونے والا ہے‘‘ کے اندیشے میں ہی رہتے ہیں، یہاں کے باسی اتنا خون دیکھ چکے ہیں کہ اب انہیں ایک طویل مدتی دماغی سکون کی ضرورت ہے ورنہ ایک انجانا خوف ہمیشہ سوار رہے گا کہ کہیں پھر سے وہ خون آشام درندے لوٹ کر نہ آجائیں ۔۔۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک، کراچی آپریشن میں شریک اداروں کو کامیابی سے ہمکنار کرے تا کہ کراچی پھر سے سانس لے سکے کراچی والے پھر سے سکون کی زندگی جی سکیں ۔۔۔۔ آمین مصنف معروف تجزیہ نگار اور ہلال کے مستقل لکھاری ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

شہید ساتھیوں کی یاد میں

کیا سمجھتے ہو تم بھول جائیں گے ہم وہ دن

خون بہایا تھا جب تم نے معصوموں کا ایک دن

وہ میرے دوست تھے جن پہ بندوق کا وار تم نے کیا

ان کے پیاروں کو تکلیف اور درد تم نے دیا

ان کی ماں کی دُعا بن گئی ان کی خاطر ردا پیار کی

اور چکانی پڑے گی تمہیں اب تو قیمت ہر اک وار کی

پھول تھے نرم ونازک مگر تم نے روندا انہیں پاؤں سے

ماں کے پیارے تھے تم نے جدا کر دیاہے جنھیں ماؤں سے

تم سے وعدہ ہے میرا کہ لے گا خدا تم سے اس کا جواب

حشر تک تم پہ اترے گا ان پاک روحوں کا یوم حساب

ارمغان بن کامران

 
12
June

چین کے صدر جناب شی چن پنگ نے 20 اپریل کو پاکستان کا تاریخی دورہ کیا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے51 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے جن کی مالیّت 46 ارب ڈالرہے۔ زبردست اہمیّت کے حامل ان معاہدوں کو عملی شکل دینے کی صورت میں نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعلقات میں گہرائی آئے گی بلکہ اس کے خطے پر بھی دور رس اثرات مرتّب ہوں گے ۔یہی وجہ ہے کہ اگر معروف امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس دورے کو گیم چینجر قرار دیا ہے،تو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس دورے اور اس دورے کے دوران ہونے والے معاہدوں کو نئی سپر ہائی وے کا نام دیا ہے،جبکہ بھارتی میڈیا نے اسے پاکستانی سرزمین پر ڈریگن کی چال قرار دے کر اپنے جلے ہوئے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ زیرنظر تحریر میں ہم چین کے صدر شی چن پنگ کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے ان معاہدوں کی اہمیّت،خطے پر اس کے پڑنے والے اثرات اوران معاہدوں کو عملی شکل دینے کی راہ میں درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیں گے۔

pak_cheen_agr1.jpgدراصل ان معاہدوں کی رو سے چین پاکستان میں توانائی کی کمی پوری کرنے کے لئے شروع کئے جانے والے نئے منصوبوں میں تقریباََ 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا ، جبکہ 12 ارب ڈالرریلوے لائنوں،شاہراہوں اور پائپ لائنوں پر خرچ کئے جائیں گے جو سنکیانگ کو گوادر سے ملائیں گی، چین کے تعاون سے سب سے پہلے تھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کئے جائیں گے جن سے 6600 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، صحرائے تھر کے نو ہزار مربع کلومیٹر کے رقبہ میں 175 ارب ڈالر کا کوئلہ موجود ہے جس سے پہلی بار چینی کمپنی بجلی پیدا کرے گی۔چینی ماہرین کے مطابق کوئلے سے سستی بجلی پیدا ہوگی اور روایتی قرضوں کی ادائیگی کے بعد بجلی کی فی یونٹ قیمت میں پچاس فیصد کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ چین پن بجلی ،شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے مختلف منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ سارے منصوبے مجموعی طور پر 17000میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں گوادر کی بندرگاہ کو بہتر بنایا جائے گا،تیسرے مرحلے میں ریلوے لائنز،شاہراہیں اور ایکسپریس ویز تعمیر کی جائیں گی اور چوتھے مرحلے میں صنعتی تعاون میں اضافہ ہوگاجس کے تحت ملک میں جہاں جہاں سے یہ راہداری گزرے گی، ان علاقوں میں اقتصادی زون قائم کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ تمام میگا پراجیکٹ پاک چین اقتصادی راہداری کے ذیلی حصے ہیں جن کی تکمیل میں ہی مطلوبہ مقاصد کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔اگر ہم مذکورہ اقتصادی راہداری کے نقشے پر غور کریں تو یہ کچھ اس طرح سے ہے۔

گوادر کی بندرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ہے، اور یہ تیل کے وسائل سے مالامال مشرق وسطیٰ کے لئے داخلی دروازے کا کام دیتی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کے صوبے بلوچستان میں گوادر بندرگاہ سے شروع ہو کر پاکستان کے چاروں صوبوں سے گزر کر ہمالیہ کی پہاڑیوں سے نکلتی ہوئی چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں کاشغر سے ملے گی ،جس کی لمبائی تقریباً  3,000 کلومیٹر ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ریل،روڈ اور پائپ لائنوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کو حسب ذیل فوائد حاصل ہوں گے۔

 -1  ملک میں کاروبار و روزگار کے وسیع امکانات پیدا ہوں گے۔

 -2 صنعتی ترقی کے مواقع بڑھیں گے جس سے قومی شرح نمو میں بہتری پیدا ہوگی۔

 -3گوادر بندرگاہ میں بہتری آنے سے پاکستان کی بحری تجارت میں تین گنا اضافہ ہوگا۔

 -4 ملک میں وسیع پیمانے پر اعلیٰ کوالٹی کے انفراسٹرکچر کی تعمیر ہوگی۔

 -5 توانائی کی قلّت دور ہونے سے موجودہ کارخانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا جس کی بدولت شرح نمو میں تقریباََ 2فیصد اضافہ ہوگا۔

 -6 بڑی تعداد میں ہنرمند انفرادی قوت کی تشکیل ہوگی۔

 -7 افواج پاکستان کے جری سپاہیوں کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو مہمیز ملے گی کیونکہ اقتصادی راہداری کو زیادہ تر ان علاقوں سے گزارا جائے گا جو دہشت گردی کا شکار ہیں۔یہاں امن قائم کرنے کے لئے دونوں ملکوں کی حکومتیں اب مزید یکسوئی کا مظاہرہ کریں گی۔

 -8 پاکستان کو ٹرانزٹ فیس کی مد میں ایک بڑا اور مستقل ذریعہ ملے گا۔

 -9 ذرائع آمدورفت میں بہتری آنے سے اندرونی و بیرونی تجارت میں اضافہ ہوگا۔

 -10 چین کی شمولیت کے باعث پاکستان کا بین الاقوامی حلقوں، بالخصوص تجارتی شعبے، کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

-11 مجموعی طور پر یہ منصوبے پاکستان کے استحکام میں اضافے کا باعث ہوں گے۔ اس راہداری سے چین کوملنے والے فوائد یہ ہیں۔ 

 -1 پاک چین اقتصادی راہداری کے باعث چین کو آبنائے ملاکا کے ذریعے پانچ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے شرق اوسط سے تیل لانے کے بجائے گوادر کی پورٹ کے ذریعے آبنائے ہرمز کے راستے محض 1800 کلو میٹر دور مغربی چین کی بندرگاہ کاشغرتک تیل پہنچنے سے اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگا۔

 -2اس راہداری کے باعث چینی مصنوعات کی بیرونی منڈیوں تک رسائی بڑھے گی۔

 -3اس منصوبے کی بدولت چین کے مغربی علاقوں کی پسماندگی کم ہوگی۔

 -4چین کی مارکیٹس یوریشیا،(Eurasia) مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ساتھ مربوط ہوجائیں گی۔

 -5چین کا خطے میں اثرورسوخ مزید بڑھے گااور یہ اس کے سپر پاور بننے کے خواب ا ورتعبیر کے درمیان فاصلہ گھٹا دے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری خطّے کی سیاست،اقتصادی زندگی اور معاشرت  پر بھی دور رس اثرات مرتب کرے گی۔

pak_cheen_agr2.jpg

ان منصوبوں کی بدولت خطے میں بہترین ذرائع آمدورفت کی وجہ سے معاشرتی ہم آہنگی بڑھے گی۔یہ منصوبہ خطے میں تجارت کو نئی جہتیں دے گا۔ عالمی سرمائے کا بڑا حصّہ اس خطے میں آجائے گا اور یہ اقتصادی راہداری جس جس ملک سے بھی گزرے گی وہاں پر زبردست معاشی منڈیوں کو جنم دے گی۔ بلاشبہ یہ منصوبہ معاشی لحاظ سے خطّے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیّت رکھتا ہے۔ سیاسی ماہرین کی ایک تعداد 21ویں صدی کو ایشیا کی صدی قرار دے رہی ہے۔ اگر ہم چین کے قائم کردہ ایشیا انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک،ون بیلٹ ،ون روٹ پالیسی اور شنگھائی تعاون کونسل کے بڑھتے ہوئے کردار کا جائزہ لیں تو ایسا لگ رہا ہے کہ یہ مستقبل میں ایشیا میں مغرب کے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور ڈبلیو ٹی او کے بہترین متبادل ہوسکتے ہیں۔ طاقت کا مرکز یورپ سے ایشیا کومنتقل کرنے کے لئے یہ آگے چل کر زبردست کر ادا کر سکتے ہیں۔

کچھ ماہرین کی رائے کے مطابق پاک چین معاہدوں کے ساتھ ہی عالمی طاقتیں اس خطے میں نئے محاذوں پرآپس میں متحرک ہوجائیں گی۔ چینی صدر کے دورے سے صرف دو دن قبل ماسکو میں پاکستان اور روس کے وزرائے دفاع کا پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان فوجی مشقوں کا معاہدہ، دورے کے دوران پاک چین کا گوادر بندرگاہ کو ترقی یافتہ بنانااور اس دورے کے دوران چین کے ساتھ مستقبل میں گوادر میں بحری جہازوں کی مرمت کرنے کا چینی سٹیشن قائم کرنے کے امکان کا پیدا ہونا بھارت کے لئے تشویش کا باعث ثابت ہو سکتا ہے،کیونکہ امکان ہے کہ امریکہ اس ڈویلپمنٹ کو خطّے میں اپنے اثرورسوخ کے خلاف روس-چین-پاکستان گٹھ جوڑ سمجھے گا،ایران گوادر کے مقابلے میں اپنی چابہار بندرگاہ کو مقابلے کی دوڑ میں شامل کرنا چاہے گا اور بھارت بحر ہند میں چینی بیڑوں کی موجودگی میں خود کو غیر محفوظ سمجھے گااور یوں یہ تینوں ممالک مل کر یہاں پر ایک نیا محاذ قائم کر سکتے ہیں۔

بلاشبہ ہمارے پیارے ملک پاکستان کے لئے یہ تمام منصوبے نہایت ہی مفید اور خوش کن ہیں،ان کی تفصیلات پڑھ کر یقیناًہمیں خیال آتا ہے کہ ہم کچھ ہی سالوں میں'میڈان چائنا' چین کی بانسری بجانا شروع کردیں گے اور ہر طرف چین ہی چین ہوگا۔لیکن بحیثیت قوم ہمارا جو رویّہ ہے ہم جب تک اس کو تبدیل نہیں کریں گے،جب تک ہم اپنی اصلاح نہیں کریں گے، تب تک یہ تمام منصوبے ،منصوبے ہی رہیں گے اور ہم ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ یاد رہے ان تمام منصوبوں پر پوری دلجمعی،حوصلہ مندی اور حب الوطنی کے جذبے سے بھر پور ہوکر کام کرنا ہوگا۔ اقتصادی راہداری کے نقشے پر ملک میں ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔ اس مسئلے پرصوبوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لئے قومی مفادات کونسل کو بہت پہلے ہی متحرک کیا جانا چاہئے تھا،ہمیں کرپشن کی روک تھام کر نی ہوگی،ملک میں مکمل امن وامان قائم کرنا ہوگا ،قوم کے سپوت جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں ہماری بہادر افواج اور سکیورٹی فورسز اس سلسلے میں زبردست کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں،جس کا اعتراف چین کے صدر شی چن پنگ نے بھی کیا ہے،چین کا ہمارے ملک میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں تسلسل کے ساتھ حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ حکومت کو بھی اس سلسلے میں مزید سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ہمیں غیر ملکی دشمن طاقتو ں کی ریشہ دوانیوں سے باخبر رہنا ہوگا کہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں پاکستان کو پسماندہ رکھنے کے لئے ان کی تمام تر کوششوں کو ناکام بناکر اقوام عالم میں سرخرو ہو جائیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Page 9 of 17

Follow Us On Twitter