27
July

پاکستان کے دفاعی بجٹ کے بارے میں غلط فہمی ہے کہ یہ مکمل بجٹ کا 70 یا 80 فیصد حصہ لے جاتا ہے ایسا قطعاً نہیں۔ پچھلے مالی سال 2014-15 کا بجٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ مکمل بجٹ کا خرچ 4302 ارب روپے تھا جو مالی سال2013-14 سے7.9 فیصد زیادہ تھا۔ اس میں سے700 ارب روپے ڈیفنس افیئرز اینڈ سروسز کے لئے رکھے گئے تھے۔ جسے دفاعی بجٹ کہا جاتا ہے جو کہ کل کے بجٹ کا16.27 فیصد تھا-

الڈوس ہگزلے ایک مشہور انگریزی ادیب ہے‘ وہ کہتا ہے:’’کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے اور انہی کے درمیان ہمارے ادراک اور شعور کے بند دروازے پائے جاتے ہیں۔‘‘

کسی بھی بات کو سمجھنے کے لئے اسے جاننا بہت ضروری ہے۔ جانیں گے نہیں تو سمجھیں گے نہیں۔ اور جب ہم جان لیتے ہیں تو ہمارے ادراک اور شعور کے بند دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہی بنیادی اصول ایک صحافی کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔ جاننا۔۔۔ ! تحقیق کرنا۔۔۔! اپنے شعور کے بند دروازے کھولنا اور دوسروں تک اس ادراک کو پہچاننا۔ آج جس اہم معاملے پر میں نے قلم اٹھایا ہے وہ ہے ’’پاکستان کا دفاعی بجٹ‘‘ یہ معاملہ جتنا اہم ہے اتنا ہی حساس ہے ۔ اور جتنا حساس ہے اتنا ہی غلط فہمی پر بھی مبنی ہے!

جب ہم کسی چیز کو جانتے نہیں تو اس کے بارے میں غلط اطلاع یا غلط تاثر پھیلا دیتے ہیں اور ایسا ہی کچھ معاملہ پاکستان کے دفاعی بجٹ کے متعلق بھی ہے۔ اغیار کی ریشہ دوانیاں اور پراپیگنڈہ تو ایک طرف اس پر آخر میں بات کروں گی‘ پہلے ان ’’اپنوں‘‘ کے لئے کچھ حقائق سامنے رکھوں گی جو غلط فہمی یا تحقیق کی کمی کے باعث پاکستان کے دفاعی بجٹ پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ سب سے کم ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کے دفاعی بجٹ پر بنی ہوئی ورلڈ بینک کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اندازہ ہو جائے گا کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ کیا ہے؟

پاکستان کے دفاعی بجٹ کے بارے میں غلط فہمی ہے کہ یہ مکمل بجٹ کا 70 یا 80 فیصد حصہ لے جاتا ہے ایسا قطعاً نہیں۔ پچھلے مالی سال 2014-15 کا بجٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ مکمل بجٹ کا خرچ 4302 ارب روپے تھا جو مالی سال2013-14 سے7.9 فیصد زیادہ تھا۔ اس میں سے 700 ارب روپے ڈیفنس افیئرز اینڈ سروسز کے لئے رکھے گئے تھے۔ جسے دفاعی بجٹ کہا جاتا ہے جو کہ کل کے بجٹ کا16.27 فیصد تھا- یہ بجٹ افواجِ پاکستان کی تینوں شاخوں‘ آرمی‘ ایئر فورس اور نیوی کے لئے تھا۔ اس بجٹ میں سے 48 فیصد آرمی‘ 20 ایئر فورس اور 10 فیصد نیوی کے لئے مختص تھا۔ جبکہ باقی ماندہ بجٹ انٹر سروسز اداروں‘ ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن اور پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے لئے مختص تھے۔ اس بجٹ کا زیادہ حصہ ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر سہولیات پر خرچ کرنے کے لئے مختص تھا۔ دفاعی بجٹ کا خرچ تنخواہوں‘صحت‘ ٹریننگ‘ آپریشنز کی فنڈنگ‘ ہتھیاروں اور دیگر سہولیات‘ دیکھ بھال اور نئی اشیاء کی خریداری پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ2014- 15 کے لئے ملکی اور علاقائی صورت حال کے پیشِ نظر دفاعی بجٹ میں 173 ارب روپے اضافے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی لیکن اس کے برعکس اضافہ صرف73 ارب روپے کیا گیا تھا۔

پچھلی دو دہائیوں سے پاکستان کے دفاعی بجٹ میں مسلسل کٹوتی کی جارہی ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان اگلے محاذوں پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور پچھلے سال سے آپریشن ضربِ عضب بھی جاری ہے‘ جس کے آپریشنل اخراجات کا اندازہ اس کی کامیابیوں کے تناسب سے لگایا جاسکتا ہے۔یہاں واضح کرنا بھی ضرور ی ہے کہ80 کی دہائی کے آخر تک پاکستان اپنے جی ڈی پی(یا مجموعی ملکی پیداوار) کا 7 فیصد دفاع پر خرچ کرتا تھا جو 90 اور 2000 کی دہائی میں کم کرکے 3.9 فیصد کردیا گیا اور مالی سال 2014 - 15 کے لئے تو دفاعی بجٹ کو مزید کم کرکے 2.4 فیصد کردیا گیا۔

اس کے علاوہ یہ بھی واضح رہے کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ سب سے کم ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کے دفاعی بجٹ پر بنی ہوئی ورلڈ بینک کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اندازہ ہو جائے گا کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ کیا ہے؟ ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ جی ڈی پی کے حساب سے ملکوں کے دفاعی بجٹ کا فیصد بتاتی ہے اور یاد رکھئے گا کہ جن ملکوں کا ڈیٹا میں آپ کو بتاؤں گی ان کی ملکی معیشت کا حجم اور افراطِ زر کو بھی مدِ نظر رکھئے گا۔

 

pak_defai_bug.jpg

 

2005 سے 2009 میں بھارت نے اپنا دفاعی بجٹ 2.8 فیصد سے بڑھا کر 2.9 فیصد تک کردیا۔ چین نے اپنا دفاعی بجٹ 2.0 فیصد سے بڑھا کر 2.2 فیصدکردیا جبکہ اس کے برعکس خطے میں پاکستان نے اپنی معیشت کے اعتبار سے اپنے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کی اور اسے 4.2 فیصد سے 3.3 فیصد تک لے آیا۔ جبکہ اسی عرصے میں امریکہ نے بھی اپنے دفاعی بجٹ میں چین اور بھارت کی طرح اضافہ کیا اور اسے 3.8 فیصد سے 4.6 فیصد تک لے گیا۔

80 کی دہائی کے آخر تک پاکستان اپنے جی ڈی پی (یا مجموعی ملکی پیداوار) کا 7 فیصد دفاع پر خرچ کرتا تھا جو90 اور 2000 کی دہائی میں کم کرکے 3.9 فیصد کردیا گیا اور مالی سال 2014-15 کے لئے تو دفاعی بجٹ کو مزید کم کرکے 2.4 فیصد کردیا گیا۔

اب آجایئے 2010-2014 کے ڈیٹا پر۔ اس عرصے میں البتہ بھارت اور چین نے اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کی اور پاکستان بھی پہلے کی طرح مستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کرتا رہا۔ بھارت نے دفاعی بجٹ 2.1 فیصد تک کردیا۔ چین 2.7 فیصد سے 2.4 فیصد تک لے آیا۔ امریکہ نے بھی اپنے دفاعی بجٹ میں معمولی کمی کی اور اسے4.7 فیصد سے3.8 فیصد پر لے آیا۔لیکن اب پڑوسی ملک بھارت سے خبر ہے کہ وہ آئندہ مالی سال 2015-16 کے لئے اپنا دفاعی بجٹ 40 ارب ڈالر کی بھاری رقم تک بڑھا رہا ہے جو 2014-15 کے لئے 35ارب ڈالر تھی ! یہ اُس اضافی بجٹ سے علیٰحدہ ہے جسے اگر شامل کیا جائے تو انڈیا کا موجودہ دفاعی بجٹ46 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

بھارت پہلے ہی دنیا میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ 2013 میں بھارت نے 6 ارب ڈالر ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کئے۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی معاہدوں کی بنیاد پر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بحث کو فروغ دیا جائے کہ آیا پاکسان کو بھی اپنا دفاعی بجٹ اس سال بڑھانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟؟ بحث میں اس حقیقت کو مدِ نظر رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کئی آپریشنز بھی چل رہے ہیں جو اپنی کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان آپریشنز کی کامیابی کی رفتار پر اختلاف یا بحث ہو سکتی ہے لیکن پاکستان میں کسی بھی شخص کو اس بات سے اختلاف نہیں کہ ان آپریشنز کو ہر حال میں کامیاب بنانا ہے ’’چاہے گھاس ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔‘‘ یاد رہے یہ جملہ صرف محاورتاً استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ’’را‘‘ کی سرگرمیاں پاکستان میں بڑھتی جارہی ہیں۔ ان کا سدِ باب کرنے کے لئے بھی دفاعی بجٹ کی ضرورت ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ آئندہ مالی سال 2015-16 کے لئے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس اضافے کی مقدار کیا ہونی چاہئے‘ اس پر بحث لازم ہے اور میرا خیال ہے کہ متعلقہ حلقوں میں یہ بحث رواں ہوگی اور آخر میں حتمی فیصلہ قومی اسمبلی کی بجٹ بحث میں ہوگا۔ لیکن اس کے ساتھ میری توقع یہ بھی ہے کہ تعلیم‘ صحت اور ترقیاتی اخراجات میں بھی مناسب اضافہ کیا جائے گا اور اس اضافے کے درست اور شفاف استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ اس کی آڑ میں ملک کے دفاعی بجٹ کے متعلق غلط فہمی کو ہوا نہ دی جاسکے۔ آخر میں مجھے یقین ہے کہ میری اس تحریر کے ذریعے بہت سے لوگ جو دفاعی بجٹ کے متعلق نہیں جانتے تھے‘ اب جان چکے ہوں گے اور اپنے شعور ادراک کے دروازوں کو تحقیق کے لئے کھلا رکھیں گے۔

27
July

ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے تو یہ اطمینان بھی ہے اور تسکین بھی کہ ملک میں ایک منظم ادارہ موجود ہے۔ جو مختلف علاقوں‘ صوبوں اور قبیلوں میں فکری اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہا ہے۔ علاقے کی سیاسی‘ معاشی‘ علمی‘ عسکری صورت حال سے آگاہ رہتا ہے اور ان کے مطابق اپنے آپ کو منظم بھی رکھتا ہے۔ اس کی روشنی میں ہی جوانوں اور افسران کو مطلوبہ تربیت بھی دے رہا ہے۔ میں یہ یقین کرنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر کسی فورم میں امریکہ‘ برطانیہ‘ چین‘ روس‘ جرمنی‘ ترکی کے فوجی جوان یا افسروں کے ساتھ پاکستانی بری‘ بحری اور فضائی افواج کے افسر ہوں گے تو وہ کسی طرح بھی ان سے کم نہیں ہوں گے۔ ان کا علمی شعور‘ فوجی تربیت‘ جدید ترین اسلحے سے آگاہی‘ نئی عسکری حکمت عملیوں سے واقفیت ‘ ان سب کے برابر ہوگی۔

یہ بجٹ کا مہینہ ہے۔

انہی دنوں میں شب برأت بھی آئے گی جب قدرت اپنا بجٹ تیار کرتی ہے۔

رمضان کے مبارک ایام بھی اسی مہینے میں آئیں گے۔

میری طرف سے آپ کو ان تمام اہم دنوں کی مبارکباد۔

بجٹ کے آتے آتے ایک فیشن یہ بھی بن چکا ہے کہ بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے مطالبات سامنے آتے ہیں۔ فوجی بجٹ میں کمی کی جائے۔ قوم کا سب سے زیادہ پیسہ فوج کھا جاتی ہے۔ فوج سے ہمیں ملتا کیا ہے۔ ایک نعرہ یہ بھی لگتا ہے کہ فوجی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ اس کے ایک ایک شعبے پر بحث کی جائے۔ اس بحث مباحثے‘ نعروں اور مطالبوں کا ایک ماضی ضرور ہے۔ پاکستان میں سیاسی اور فوجی حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں۔ برابر برابر کا عرصہ ہی ہوگیا ہوگا۔

ہم بھی ایک زمانے میں انہی مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ ہوتے تھے۔ میرے خیال میں ایسا لکھتے بھی رہے ہوں گے۔ مارشل لا کسی طرح بھی کسی ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ لیکن اگر پاکستان کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو 1953۔ 1958۔ 1969۔ 1977۔ 1999 ہر بار ہی ایسے اسباب‘ محرکات اور عوامل پیدا ہوئے۔ ایسا خلاء پیدا ہوا جس میں فوجی حکمرانوں کو ملک کا نظم و نسق سنبھالنے کا موقع مکمل ملتا رہا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی مارشل لا ء یا فوجی حکومت کو آخر میں اپنے مقاصد کے حصول اور اہداف میں کامیابی کے بغیر ہی جانا پڑا۔ اس میں ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ سابق بیوروکریٹس کی آپ بیتیاں بھی بازار میں دستیاب ہیں اور ریٹائرڈ جنرلوں کی خود نوشت سوانح بھی۔ بیورو کریٹ ہوں یا جنرل‘ دونوں اپنی ذات کو صاف بچاتے ہیں۔ خود کو بہت ہی زیادہ دیانت دار‘ اصول پرست ثابت کرتے ہیں۔ اگر ان ساری داستانوں کو درست مان لیا جائے تو پھر تاریخ ہم سے سوال کرتی ہے کہ ملک آج اگر وہاں نہیں ہے جہاں ہونا چاہئے تھاتو ان خرابیوں اور بربادیوں کا ذمہ دار کون ہے۔

میں پاکستان کا ہم عمر ہوں۔ بلکہ پانچ سال بڑا ہوں۔ میرا بچپن‘ لڑکپن‘ جوانی‘ ادھیڑ عمری اور اب بڑھاپا۔ پاکستان کا درد اپنے دل میں سموئے۔ سیاسی اور فوجی قائدین کو بہت قریب سے جلوت‘ خلوت یعنی محفلوں اور تنہائی میں دیکھتے گزر رہا ہے۔ میں سب کی قدر کرتا ہوں۔ کیونکہ سب ہی پاکستانی تھے اور ہیں۔ میں کسی کو بھی وطن دشمن یا غدار نہیں سمجھتا۔ نہ ہی ان میں سے کوئی تھا۔ سب اپنے اپنے طور پر پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ لیکن کسی کے سامنے بصیرت تھی‘ کسی کے نہیں۔

دفاعی بجٹ کے زیادہ ہونے یا اس میں کمی کرنے کے نعروں کے بجائے ہمارے دانشوروں اور سول سوسائٹی اور اینکر پرسنز کو اس بات پر زور دینا چاہئے کہ سول حکومت کے جن محکموں کو جو بجٹ ملتا ہے۔‘وہ اس کا جائز اور مکمل استعمال کریں۔ سول تعلیمی ادارے‘ اسپتال‘ زراعت‘ بجلی اور دوسرے شعبے بھی فوجی اداروں کی طرح منظم‘ مکمل اور جدید ترین تقاضوں کے مطابق ہوں۔

غلطیاں سیاسی حکمرانوں اور فوجی حکمرانوں دونوں نے کیں۔ لیکن فوجی حکمران چونکہ ایک منظم ادارے کی نمائندگی کرتے تھے‘ اس لئے ان کے ہاں اپنے غلطیوں سے سبق سیکھنے کا ایک ماحول تھا۔ اور فوج میں اپنی جنگی فتوحات اور شکستوں کا جائزہ لینے کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔ میرا تعلق کبھی فوج سے نہیں رہا۔ لیکن جو رشتے دار دوست احباب اس انتہائی منظم اور مقدس ادارے سے وابستہ رہے ہیں‘ ان سے تبادأہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ ملک اور دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے‘ انحطاط اور زوال کے رجحانات‘ان کے اثرات‘ ظاہر ہے کہ مسلح افواج پر بھی پڑتے ہیں۔ لیکن ساری دنیا کی فوجوں کی طرح پاکستان کی مسلح افواج نے بھی حالات‘ نفسیات‘ واقعات کا اجتماعی جائزہ لینے اور نئے نئے اصلاحاتی پروگرام جاری کرنے کا عمل اختیار کیا ہے۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں‘ اس کا برملا اظہار بھی کرتا رہا ہوں‘ اپنے کالموں میں‘ ٹی وی ٹاک شوز میں‘ میں نے اپنے ذاتی جریدے ماہنامہ ’اطراف‘ میں سرورق کی کہانی بھی شائع کی تھی۔ غلطیاں دونوں سے ہوئیں۔ فوج نے سبق سیکھا ۔ سیاستدانوں نے نہیں۔

میں جب غور کرتا ہوں تو بڑی سیاسی جماعتوں‘ سیاستدانوں کے انداز فکر‘ حکمت عملی‘ طرز گفتگو میں زمانے کی تبدیلیوں کا کوئی اثر نہیں دیکھتا‘ نائن الیون‘ جس نے بھی کیا‘ کروایا‘ اس نے دنیا میں طرز فکر تبدیل کردی ہے۔ عالمی سطح پر آبادیاں تقسیم ہوگئی ہیں۔ امریکہ نے اپنے آپ کو واحد سپر طاقت قرار دے دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی‘ سیکورٹی کونسل‘ نیٹو‘ سب اس کے تابع ہوچکے ہیں۔ یورپ کی روشن خیالی‘ نشاۃ ثانیہ‘ یورپی یونین‘ جیسے سارے اثاثے امریکہ کے سامنے ہیچ ہوچکے ہیں۔ چھوٹے ملکوں میں بہت کچھ سوچا جارہا ہے۔ ایشیا میں سوچ کی نئی لہریں ابھر رہی ہیں۔ لیکن ہمارے سیاستدان کچھ 1977کے ہیر پھیر سے نہیں نکلے۔کچھ کی سوئیاں 1999 میں اٹکی ہوئی ہیں۔ ان کے بیانات دیکھیں تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ دنیا میں کوئی نائن الیون ہوا ہے۔ اسامہ بن لادن کو پاکستان کی سرزمین میں ڈھونڈا گیا۔ ہلاک کردیا گیا۔ صدام حسین کو کس طرح رسوا کیا گیا۔ پھانسی دی گئی۔ معمر قذافی کے ساتھ کیسا غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ مصر‘ تیونس‘ بحرین میں کیا ہورہا ہے۔ بھارت میں توسیع پسندی کے عزائم میں کتنا اضافہ ہورہاہے۔ چین کی ترقی کرتی معیشت کی کس طرح مزاحمت کی جارہی ہے۔

قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی تقریریں سن لیں۔ ٹاک شوز میں ان کے فرمودات ملاحظہ کریں۔ ان میں سے کسی کے ہاں بھی کوئی آفاقی بصیرت‘ علاقائی ادراک نظر نہیں آتا۔ آج کی دنیا میں ہم کٹ کے نہیں رہ سکتے۔ ہر لمحے دنیا میں کہیں بھی کچھ ہورہا ہے‘ اچھا یا برا‘ اس سے دنیا کا ہر خطہ متاثر ہورہا ہے۔ عالمگیریت ایک حقیقی رجحان ہے جو آپ کے رہن سہن‘ بول چال‘ فکر و نظر‘ معیشت‘ تعلیم اور سماجی رویّوں پر اثر انداز ہورہا ہے۔ جہاں ایک طرف میں قومی سیاسی جماعتوں کے مرکزی دفاتر‘ بیانات‘ منشور میں یہ عالمگیر تناظر دیکھتا ہوں اور نہ ہی مستقبل کے لئے کوئی منصوبہ بندی‘ نہ ہی ماضی میں کی گئی غلطیوں کا اعتراف اور ان کی روشنی میں اپنی اصلاح۔ وہاں فوج میں‘ ان کے ارتقائی ڈھانچے‘ ان کے انداز فکر‘ کور کمانڈرز کی میٹنگوں کے موضوعات‘ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور دوسرے فوجی اداروں میں تربیت‘ مباحث کے امور‘ پاکستان میں کیا سیاسی‘ سماجی‘ عالمی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ دنیا میں کیا فکری تحریکیں چل رہی ہیں۔ سیاسی فلسفے کیا ہیں۔ عسکری حکمت عملی کیا ہے۔ مجھے تو کبھی این ڈی یو‘ یا کسی اور فوجی ادارے میں جانے کا موقع نہیں ملا ہے۔ لیکن جانے والوں سے تبادأہ خیال میں جو سنا ہے اس سے انداز ہ بھی ہوتا ہے اور فخر بھی کہ وہ جدید ترین دنیا سے پیچھے نہیں ہیں۔

ہمیں اس وقت انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔ بھارت کا رویہ وہی ہے نئے وزیراعظم نریندر امودی کے آنے کے بعد تو اور جارحانہ ہوگیا ہے اور اب کئی مہینوں سے ملک کے مختلف حصوں میں ’’را‘‘ کی موجودگی کے ثبوت مل رہے ہیں۔ دہشت گردی اور سبوتاژ کی وارداتوں میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی تصدیق فوجی حلقے بھی کررہے ہیں اور سیاسی حکومتیں بھی۔ اس مخدوش صورت حال میں مکمل تیاریوں کے لئے یقیناًآپ کو امن و امان کے قیام کے لئے بھی بجٹ بڑھانا ہوگا ۔

ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے تو یہ اطمینان بھی ہے اور تسکین بھی کہ ملک میں ایک منظم ادارہ موجود ہے۔ جو مختلف علاقوں‘ صوبوں اور قبیلوں میں فکری اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہا ہے۔ علاقے کی سیاسی‘ معاشی‘ علمی‘ عسکری صورت حال سے آگاہ رہتا ہے اور ان کے مطابق اپنے آپ کو منظم بھی رکھتا ہے۔ اس کی روشنی میں ہی جوانوں اور افسران کو مطلوبہ تربیت بھی دے رہا ہے۔ میں یہ یقین کرنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر کسی فورم میں امریکہ‘ برطانیہ‘ چین‘ روس‘ جرمنی‘ ترکی کے فوجی جوان یا افسروں کے ساتھ پاکستانی بری‘ بحری اور فضائی افواج کے افسر ہوں گے تو وہ کسی طرح بھی ان سے کم نہیں ہوں گے۔ ان کا علمی شعور‘ فوجی تربیت‘ جدید ترین اسلحے سے آگاہی‘ نئی عسکری حکمت عملیوں سے واقفیت ‘ ان سب کے برابر ہوگی۔ دوسرے شعبوں میں چاہے وہ تعلیم ہو‘ صحت‘ سیاست‘ پارلیمان‘ وہاں ہم یہ بات اعتماد سے نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ یہاں تربیت اور اکتساب علم کی اہمیت نہیں ہے۔

پاکستان جس خطرناک محل وقوع پر موجود ہے۔ فرض تو یہ سیاسی قیادتوں کا تھا کہ اس اہم اور حساس جغرافیائی پوزیشن کو اپنے ملک اور عوام کے لئے وسائل اور فیوض کا سرچشمہ بنالیتے یہ دنیا کا حساس ترین مرکز ہے۔ یہاں سے بہت سے راستے اہم ترین ممالک کو جاتے ہیں۔ لیکن بہت کم سیاسی ادوار میں اس کے لئے مطلوبہ اقدامات کئے گئے۔ اب یہ اہمیت‘ نزاکت میں بدل گئی ہے۔ پھر ملک کے اندر جس قسم کی سرزمین ہے۔ خطرناک گھاٹیاں‘ آسمان کو چھوتے پہاڑ‘ میدان‘ ان سب کے لئے ایک بہت زیادہ منظم‘ تربیت یافتہ سکیورٹی فورس کی ضرورت رہتی ہے۔ پھر افغانستان میں اب تک تاریخ کے مختلف ادوار میں جو کچھ ہوتا رہا‘ یہ زیادہ تر بھارت کے زیراثر رہا ہے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ میں رکنیت حاصل کرنے میں رکاوٹیں ڈالتا رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ نے مختلف اسباب اور واقعات کی بنا پر یہاں مستقل فوجی موجودگی کو ضروری سمجھا ہے۔ اس سے پہلے سرد جنگ کے دور میں روس نے اپنا مرکز بنائے رکھا۔ چین ہمارا دوست ہے۔ لیکن مغرب اس کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت سے خوف زدہ ہے اور کوئی نہ کوئی سازشیں کرتا رہتا ہے۔ انتہا پسند جہادی تنظیمیں بھی پاکستان سے ملحقہ چینی علاقوں میں سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں۔ پھر ہماری مشرقی سرحد‘ جہاں بھارت اپنی توسیع پسندی اور پاکستان سے ازلی دشمنی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے‘ طویل سرحد ہے جس پر بھارت کی فوجیں خفیہ ادارے اپنی حرکتیں جاری رکھتے ہیں۔ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ‘ 7لاکھ فوج کی تعیناتی‘ کشمیریوں پر گھناؤنے مظالم‘ یہ ساری علاقائی صورت حال اور دنیا کے حساس ترین مرکز میں ہماری موجودگی‘ انتہائی سخت‘ منظم‘ سکیورٹی کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان کے آغاز سے ہی بھارت کے معاندانہ رویے‘ حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ پر قبضے‘ مشرقی پاکستان‘ بلوچستان میں مداخلت‘ سندھ میں علیحدگی پسندی کو تقویت دینے کے سلسلے جاری رہے۔ اس لئے ہمیں اپنے فوجی اخراجات پر توجہ دینا پڑی۔ ابتدا میں فوج کا بجٹ دوسرے شعبوں سے زیادہ ہوتا تھا۔ اس پر تحقیق کی جاسکتی ہے لیکن ہماری مختلف حکومتوں نے دوسرے ملکوں سے قرضے لینے کی جو روایات جاری رکھیں۔ یہ قرضے کبھی مطلوبہ اور متعلقہ منصوبوں پر پوری طرح خرچ نہیں ہوئے‘ یہ قرضے بڑھتے چلے گئے۔ عوام کی ضروریات پوری نہیں ہوئی ہیں۔ بجلی کی پیداوار ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ تعلیم کی شرح خاطر خواہ نہیں ہے۔ علاج معالجے کی سہولتیں معیاری نہیں ہیں۔ لیکن قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ اب تو کئی عشروں سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی‘ ہمارے بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ کھارہا ہے۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ اب دفاعی بجٹ کے اعداد و شمار‘ قرضوں کی ادائیگی کے اعداد و شمار سے بہت کم ہیں جبکہ ملک کی سلامتی کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ہمیں اس وقت انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔ بھارت کا رویہ وہی ہے نئے وزیراعظم نریندر امودی کے آنے کے بعد تو اور جارحانہ ہوگیا ہے اور اب کئی مہینوں سے ملک کے مختلف حصوں میں ’’را‘‘ کی موجودگی کے ثبوت مل رہے ہیں۔ دہشت گردی اور سبوتاژ کی وارداتوں میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی تصدیق فوجی حلقے بھی کررہے ہیں اور سیاسی حکومتیں بھی۔ اس مخدوش صورت حال میں مکمل تیاریوں کے لئے یقیناًآپ کو امن و امان کے قیام کے لئے بھی بجٹ بڑھانا ہوگا اور تینوں افواج کے لئے بھی بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔

اپنے مشاہدے کی ایک اور صورت بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا کہ پارلیمنٹ بھی اس کی تصدیق کرسکتی ہے کہ فوج کو اپنے مختلف شعبوں کے لئے جو بجٹ بھی ملا ہے‘ اس کا بڑی حد تک صحیح استعمال ہوا ہے۔ اس لئے فوجی ادارے مضبوط ہوئے ہیں۔ وہاں ایک نظم و ضبط اور آگے بڑھنے کے مظاہر ملتے ہیں۔ ہم ایٹمی طاقت بننے میں بھی اس لئے کامیاب ہوگئے کہ اس کا مالیاتی کنٹرول فوج کے پاس رہا۔ اگر یہ کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا تو کتنی بڑی رقوم ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتیں اور ہم ایٹمی تجربہ بھی نہ کرپاتے۔ دفاعی بجٹ کے زیادہ ہونے یا اس میں کمی کرنے کے نعروں کے بجائے ہمارے دانشوروں اور سول سوسائٹی اور اینکر پرسنز کو اس بات پر زور دینا چاہئے کہ سول حکومت کے جن محکموں کو جو بجٹ ملتا ہے۔‘وہ اس کا جائز اور مکمل استعمال کریں۔ سول تعلیمی ادارے‘ اسپتال‘ زراعت‘ بجلی اور دوسرے شعبے بھی فوجی اداروں کی طرح منظم‘ مکمل اور جدید ترین تقاضوں کے مطابق ہوں۔ سیاسی جماعتیں اپنے لیڈروں اور کارکنوں کی تعلیم اور تربیت کے ملک اور بیرون ملک اہتمام کریں۔ عالمگیریت کے دور میں سیاسی لیڈروں کی سیاسی‘ معاشی‘ علمی اور سائنسی سوچ‘ امریکہ‘ برطانیہ‘ چین‘ روس اور ترکی کے لیڈروں کے برابر ہونی چاہئے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
12
June

کرنل توصیف احمد کی شہادت پر اُن کے بھائی کرنل عقیل احمد کی تحریر

ایک غازی کابیٹا ہونے کے ناتے کرنل توصیف میں وطن کی محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے عسکری زندگی میں سیاچن‘ لائن آف کنٹرول(چڑی کوٹ) اور جنڈولہ کے ایکٹیو وار زون میں خدمات سرانجام دیں۔ میجر جنرل ثناء اﷲ خان نیازی کے ساتھ اگلے مورچوں سے واپسی کے دوران آائی ای ڈی پھٹنے سے 15ستمبر 2013 کوجامِ شہادت نوش کیا اور خالق حقیقی سے جا ملے۔

15ستمبر 2013 بروز اتوار میں معمول کے مطابق ویک اینڈ گزار رہا تھا۔ ظہر کی نماز مسجد میں پڑھنے کے بعد گھر واپس آیاہی تھا کہ موبائل پر ایک دوست کی کال آئی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا میں ٹی وی دیکھ رہا ہوں میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر انہوں نے مجھ سے جو بات شیئر کی اس پر میں ٹیلی ویژن کی طرف لپکا۔آن کرنے پر بریکنگ نیوز نے جیسے میر ے پاؤں کے نیچے

سے زمین ہی کھینچ لی‘ سانس ٹھہر سی گئی‘ کہ اپنے پیارے چھوٹے بھائی کی تصویر کے ساتھ اس کی شہادت کی خبر ہر نیوز چینل پر چل رہی تھی۔ کچھ دیر تک سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے بچھڑنے پر روؤں یا شہید کا بھائی ہونے کے ناتے فخر کروں۔ ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار تھا کہ فوراً والدین کا خیال آیا اور میں اُن کی طرف روانہ ہوا۔ میرے پہنچنے سے پہلے ہی وہ ٹی وی پر اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر دیکھ چکے تھے۔ ایک اسلامی گھرانہ ہونے کے ناتے شہادت پر یقین تو سو فیصد تھا اور ہے مگر بھائی کی جدائی کے تصورنے اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ اس اٹل حقیقت کو قبول کرنے کی طاقت جیسے ختم ہو گئی ۔ میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں چنانچہ اپنے آپ کو سنبھالا اور والدین کو تسلی دی۔ اس دوران ایک ہی بات لب پر تھی ’’وہ زندہ ہے وہ زندہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہید زندہ ہے۔‘‘

baba_se_bat1.jpg

سی ایم ایچ پہنچ کر بھائی کا جسد خاکی لینے کے بعد ایمبولینس میں اس کے سرہانے بیٹھ گیا اور اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا۔ ایک شہید کا چہرہ! وہ سکون کی نیند سویا ہوا تھا اوراُس کے لبوں پر جو مسکراہٹ تھی وہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ اس مسکراہٹ کو دوسرے لوگوں نے بھی محسوس کیا۔ بھائی کی شہادت نے قرآن اور حدیث میں ایک شہید کے بارے میں بیان کی تمام جہتوں کو میرے سامنے دوبارہ کھول دیا۔ ہر قدم پر خدا وندکریم نے دکھایا کہ شہید کا مرتبہ کتنا عظیم ہے۔ ایک شخص جسے اﷲ شہادت کے رتبے پر فائز کرتا ہے وہ خدا کو کتنا پیارا ہوتا ہے۔ اس کے جنازے میں تمام فورسز کے سربراہان کے علاوہ ہر مکتبہ فکر کے بے شمار لوگوں نے شرکت کی۔ ہیڈکوارٹرز 10 کور کے گراؤنڈ میں تاحد نگاہ لوگ ہی لوگ تھے۔ پہلی نماز جنازہ گھر کے قریب پڑھی گئی دوسری نماز جنازہ بھی کچھ کم بڑی نہ تھی۔ یہ بات خدا نے مجھ پر عیاں کی کہ جس شخص کو اﷲ اتنی عزت دیتا ہے اس کی دنیا میں اس کے بندے بھی اتنی ہی عزت دیتے ہیں۔ اس سے پہلے قبر دیکھ کر مجھ پر خوف کی سی کیفیت طاری رہتی تھی۔ مگر جب بھائی کی قبر کے پاس جا کر کھڑا ہوا تو میرا احساس مختلف تھا۔ اتنی کشادہ اور خوبصورت قبر کہ بیان نہیں کر سکتا اور کیوں نہ ہو وہ زمین بھی رشک کرتی ہے جس میں شہید کو اُتارا جاتا ہے۔

وہ کتنا عظیم بھائی تھا کہ جس کی شہادت کے بعد اور تدفین سے پہلے حرم میں اس کے ایصال ثواب کے لئے دعائیں اور طواف شروع ہو گئے۔چند قریبی رشتہ دار (خالہ‘ کزن اور دیگر) اس وقت مکہ مکرمہ میں حج کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے۔ اسے اﷲ کے سپرد کرنے کے بعد جب رات گئے چند لمحوں کے لئے آنکھ لگی تو توصیف کو پہلی بار چمکتے ہوئے احرام میں حرمِ پاک میں دیکھا۔

بھائی کی شہادت کے بعد ان لوگوں سے ملاقات ہوئی جو اس کے ساتھ کسی نہ کسی تعلق سے قریب رہے۔ جس سے بھی ملاقات ہوئی اس نے بھائی کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بتائیں جن کا مجھے علم نہیں تھا۔

میٹرک کے بعد بھائی نے آرمی جوائن کر لی تھی چنانچہ اس کا زیادہ وقت اپنے حلقۂ احباب میں گزرا۔ صرف چھٹی پر ہی ملاقات ہوتی تھی۔ اس کی زندگی کے کئی ایسے پہلو میرے سامنے آئے جن کے بارے میں‘ میں بہت کم یا بالکل ہی نہیں جانتا تھا۔ اس کا روم میٹ اور کورس میٹ مسجد کے باہر میرے ساتھ اس عظیم شخص کے بارے میں باتیں کر رہا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ توصیف کے بارے میں ایک ایسی بات بتاؤں جس کا آپ کو بھی نہیں معلوم ہو گا۔ ’’وہ ہر نماز کے بعد شہادت کے لئے دعا کرتا تھا۔‘‘

میرا بھائی شہادت سے کچھ پہلے ڈسٹرکٹ دِیر جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہے‘ سے چند دن کی چھٹی آیا ہوا تھا اور والدہ کے ساتھ گھر میں بیٹھا بات چیت کر تے ہوئے کہنے لگا: ’’امی جان اﷲتعالیٰ کا مجھ پر کتنا فضل ہے اچھا پڑھنے لکھنے کے بعد ایک بہترین پروفیشن کو جوائن کیا۔ آج اﷲ کے فضل سے یونٹ کی کمانڈ کر رہا ہوں۔ اﷲ نے خوب صورت اور محبت کرنے والی بیوی دی اور فرمانبردار اولاد سے نوازا‘ اﷲ کی بہت کرم نوازی ہے اور اس کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ بس دو خواہشیں رہ گئی ہیں جسے اﷲ پورا فرما دیں۔ ایک تو یہ کہ اﷲتعالیٰ بیٹی عطا کر دے (اس سے پہلے بھائی کے تین بیٹے ہیں) اور دوسری اﷲ شہادت کی موت دے۔‘‘ والدہ نے جواب دیا کہ بیٹی کے لئے میں ضرور دعا کروں گی مگر ایک ماں کے لئے دوسری دعا کرنا مشکل ہے۔ کیا قبولیت کی گھڑی تھی کہ اﷲ نے کچھ عرصے میں بیٹی کی نعمت سے نوازا اور اس کے بعد شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا (سبحان اﷲ)۔

بھائی کی یونٹ 33بلوچ رجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ (ٹو آئی سی) نے کچھ بہترین یادیں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جب آخری بار وہ یونٹ سے مالاتر پوسٹ پر جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)کو رسیو کرنے نکلے تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہلکے سے مسکرائے اور کہا۔ ’’ٹو آئی سی ہولڈ دی فورٹ‘‘۔ وہ کئی بار یونٹ سے باہر کسی نہ کسی کام سے جاتے رہے مگر یہ الفاظ انہوں نے پہلی اور آخری بار استعمال کئے۔

میرے شہید بھائی نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی۔ یونٹ کی کمانڈ سنبھالنے سے پہلے راولپنڈی میں پوسٹنگ تھی۔ یہاں پر اس نے فیصلہ کیا کہ اپنے دونوں بڑے بیٹوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن کا حافظ بھی بناؤں۔ یہ تو اب سمجھ آتا ہے کہ اس کا ہر قدم اسے اﷲ کے نزدیک کر رہا تھا اور اس کی ہر کوشش اس کی خوشنودی حاصل کرنا تھی۔ آج ماشاء اﷲ حمزہ احمد نے مکمل قرآن حفظ کر لیا ہے اور دوبارہ چھٹی جماعت میں داخلہ لے لیا ہے۔ حذیفہ احمد (بڑا بیٹا) کے اب صرف چار پارے حفظ کے رہ گئے ہیں اور یوں وہ اپنے پیچھے صدقہ جاریہ کا انتظام کر گیا۔ خدیجہ (بیٹی ) تو وہ محبت کبھی محسوس نہیں کر سکے گی کہ جس محبت سے اسے توصیف نے اﷲ سے مانگا تھا۔

انتظار کے دوران میرا تعارف ایک اور سینئر آفیسر سے کرنل توصیف شہید کے بڑے بھائی کے طور پر کرایا گیا۔ ان سینئر آفیسر نے مجھ سے کرنل توصیف کے بارے میں بات چیت شروع کر دی جو کافی دیر جاری رہی۔ اس دوران انہوں نے مجھے چند اقدامات کے بارے میں بتایا جوپاک فوج توصیف شہید کی فیملی کے لئے کرنے جا رہی تھی۔ میں ان کی باتیں سنتا رہا اور اندر ہی اندر حیران ہوتا رہا کیونکہ پاک فوج نے ہمارے تجاویز شدہ تقریباً تمام اقدامات یا تو شروع کر دیئے تھے یا اُن کے بارے میں پلاننگ کر لی تھی ۔ ان کی بات ختم ہونے پر میں نے اپنی تجاویز والا خط واپس جیب میں ڈالا اور اجازت چاہی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ تو اے جی سے ملنے آئے تھے میں جواب دیا کہ سر مجھ سے پہلے پاک آرمی نے خود کرنل توصیف شہید کے سب کام سنبھال لئے ہیں۔

baba_se_bat2.jpgکرنل توصیف اپر دِیر کے مقامی لوگوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ دوردراز علاقہ تھا جہاں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ کرنل توصیف نے اپنی یونٹ کے ڈاکٹر کو خصوصی ہدایات دی ہوئی تھیں کہ یونٹ میں ہمیشہ اضافی دوائیں موجود ہونی چاہئیں وہ میڈیکل کیمپس کا بھی اہتمام کرتے تھے۔جن میں مقامی لوگوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ گردونواح کے علاقے میں لوگ کرنل توصیف کو ’’میرا کرنل‘‘ کے نام سے پہچانتے تھے۔ ایک دفعہ وہ بٹالین ہیڈکوارٹرز کی طرف آ رہے تھے جب راستے میں انہیں ایک عمررسیدہ شخص سڑک کے کنارے نظر آیا۔ اپنی گاڑی روکی اور پوچھا۔ بابا جی آپ کا کیا حال ہے اُمید ہے ٹھیک ہوں گے۔ بابا جی نے کہا کہ نہیں بیٹا تھوڑا بیمار ہوں کرنل توصیف اسے بٹالین ہیڈکوارٹرز لے آئے اور ڈاکٹر سے مکمل چیک اپ کروا کر میڈیسن دیں۔

33بلوچ رجمنٹ کے نئے کمانڈنگ آفیسر جب کمانڈ سنبھالنے کے بعد اپنے ٹو آ ئی سی کے ساتھ اگلی پوسٹوں کا دورہ کرنے نکلے تو راستے میں ایک بزرگ نے گاڑی روکی‘ فرنٹ سیٹ پرکسی اور شخص کو دیکھ کر پوچھا: ’’میرا کرنل کہاں ہے؟‘‘ ٹو آ ئی سی گاڑی سے اترے اور بزرگ کو بتایا کہ کرنل توصیف شہید ہو گئے ہیں تو بزرگ نے کہا۔ ’’میرا سب کچھ ختم ہو گیا۔‘‘ بعد میں معلوم ہوا کہ کرنل توصیف شہید اپنے طور پر اس بزرگ کی مختلف طریقوں سے مدد کیا کرتے تھے۔ کرنل توصیف شہید انتہائی ایماندار اور دیانتدار انسان تھے۔ باقاعدگی سے پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ ہر جوان کو نماز پڑھنے کی تلقین کرتے انہوں نے یونٹ کے خطیب صاحب کو حکم دیا کہ یونٹ کے ہر جوان کو نماز (ترجمہ کے ساتھ) چھہ کلمے‘ نماز جنازہ اور قرآن کی آخری دس سورتیں زبانی یاد ہونی چاہئیں۔ زیادہ سے زیادہ مسجدیں تعمیر کرنا ان کی ہمیشہ ترجیح رہی۔ بٹالین ہیڈکوارٹرز شاہی کوٹ میں خوبصورت مسجد تعمیر کروائی۔ اس کے علاوہ کئی فارورڈ پوسٹوں‘ جن کی اونچائی دس ہزار فٹ سے بلند ہے‘ پر بھی مساجد تعمیر کروائیں۔ ایک دفعہ وہ سِپرکا سر پوسٹ پر تشریف لائے تو مسجد بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ جوانوں نے کہا کہ ایک تو یہاں پانی کی قلت ہے اور دوسرا ڈیوٹی سخت ہونے کی وجہ سے کم فوجی نماز پڑھنے کے لئے آئیں گے۔ کرنل توصیف نے کہا مسجد بنانا شروع کرو پانی بھی مل جائے گا اور نمازی بھی آ جائیں گے۔ آج الحمدﷲ اس مسجد میں پانچ وقت باقاعدگی سے نماز پڑھی جاتی ہے۔

بھائی کی شہادت کے بعد اپنے کئی رشتہ داروں سے معلوم ہوا کہ کرنل توصیف باقاعدگی سے ٹیلیفون کال کر کے اُن کا حال احوال جانا کرتا تھا۔ خاص طور پر خاندان کی چند بیواؤں سے ہمیشہ فون کر کے ان کی خیریت دریافت کرتا اور مسائل پوچھتا۔ خاندان اور گاؤں والوں کی مددد کرنا اسے اچھا لگتا تھا۔ اس نے کئی لڑکوں کی روزگار حاصل کرنے میں مدد بھی کی جو آج اس کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ ہمارے خاندان کے سب سے بڑی اور بزرگ شخصیت نے ایک دن والدہ سے کہا کہ کرنل عقیل (راقم) کرنل توصیف نہیں بن سکتا؟ والدہ نے پوچھا کہ آپ یہ بات کیوں کر رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ کرنل توصیف باقاعدگی سے مجھے فون کر کے میری خیریت دریافت کیا کرتا تھا۔ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ میرے شہید بھائی کوخاندان اور اس کی اہمیت کا کتنا احساس اور ادراک تھا۔ بھائی کی شہادت کے بعد میری ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا۔ میں نے کچھ وقت لیا کیونکہ دل میں خوف تھا کہ میں اس کی جگہ کیسے لے سکوں گا۔ وہ ایک ذمہ دار خاوند اور شفیق باپ تھا۔ بہرحال ہمت کر کے میں نے توصیف کی فیملی کو ہر ممکن سہولیات بہم پہنچانے سے متعلق کچھ امور نمٹانے شروع کئے۔ اس کوشش کے دوران کئی واقعات پیش آئے‘ جن کا میری زندگی پر گہرا اثر ہے‘ جس آفیسر کو ملا‘ جس آفس میں گیا‘ مجھے احساس ہوا کہ میرا تعارف تبدیل ہو گیا ہے، اب میں اپنے آپ کو شہید کے بڑے بھائی کے ناتے تعارف کروانے میں زیادہ فخر محسوس کرتا ہوں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہماری فیملی کی شناخت بھی ایک عظیم شہید کے ساتھ منسلک ہو گئی ہے۔ مختلف کاموں کے دوران کئی سینئرآفیسرز نے گائیڈ بھی کیا۔ اس رہنمائی کی روشنی میں، میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی بھابھی کی طرف سے ایجوٹینٹ جنرل (اے جی) کو ایک درخواست لکھوں جس میں ممکنہ مسائل کے حل کی تجاویز دوں۔ یہ تجاویز لے کر میں اے جی برانچ پہنچ گیا۔ انتظار کے دوران میرا تعارف ایک اور سینئر آفیسر سے کرنل توصیف شہید کے بڑے بھائی کے طور پر کرایا گیا۔ ان سینئر آفیسر نے مجھ سے کرنل توصیف کے بارے میں بات چیت شروع کر دی جو کافی دیر جاری رہی۔ اس دوران انہوں نے مجھے چند اقدامات کے بارے میں بتایا جوپاک فوج توصیف شہید کی فیملی کے لئے کرنے جا رہی تھی۔ میں ان کی باتیں سنتا رہا اور اندر ہی اندر حیران ہوتا رہا کیونکہ پاک فوج نے ہمارے تجاویز شدہ تقریباً تمام اقدامات یا تو شروع کر دیئے تھے یا اُن کے بارے میں پلاننگ کر لی تھی ۔ ان کی بات ختم ہونے پر میں نے اپنی تجاویز والا خط واپس جیب میں ڈالا اور اجازت چاہی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ تو اے جی سے ملنے آئے تھے میں نے جواب دیا کہ سر مجھ سے پہلے ہی پاک آرمی نے خود کرنل توصیف شہید کے سب کام سنبھال لئے ہیں۔

بھائی کی شہادت سے دو تین روز پہلے اس نے مجھے فون کیا اور بہت دیر تک مجھ سے اپنی فیملی کے بارے میں مشورہ کیا۔ وہ ان کے لئے راولپنڈی میں مستقل رہائش کا بندوبست کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ ایک سیٹلڈ زندگی گزار سکیں۔ اس کی بڑی وجہ دونوں بیٹوں کا قرآن پاک حفظ کرنا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ ان کی دینی تعلیم میں کوئی حرج نہ ہو۔ مجھ سے کئی آپشنز ڈسکس کئے اور کچھ باتوں کا پتا کرنے کے لئے کہا تاکہ آنے والی چھٹی میں وہ ان کے لئے کوئی مستقل بندوبست کر سکے۔ مجھے اس وقت گمان بھی نہیں تھا کہ وہ یہ تمام ذمہ داریاں میرے لئے چھوڑ کر چلا جائے گا۔ ہم دونوں بھائیوں میں ایک گہرا رشتہ تھا وہ زندگی کے ہر موڑ پر مشورے کے ساتھ چلتا تھا۔

میں نے اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کور آف انجینئرز کو جوائن کیا مگر بھائی نے انفنٹری کو ترجیح دی۔ میں اس سے چھ کورس سینئر تھا مگر میری ایمپلائیمنٹ کچھ ایسی رہی کہ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم ختم کرنے کے بعد وطن واپسی پر ہم دونوں اکٹھے پروموشن بورڈ میں کنسیڈر ہوئے۔ وہ مجھ سے مذاق میں کہا کرتا تھا کہ بھائی میں آپ سے پہلے پروموٹ ہو جاؤں گا اور پھر آپ مجھے سلیوٹ کیا کریں گے۔ اس نے شہادت کا ایسا رتبہ حاصل کر لیا کہ نہ صرف وہ ہم سب سے ہر لحاظ سے آگے نکل گیا بلکہ میں کیا اس پوری قوم نے اسے سلیوٹ کیا۔ اس نے اس قوم کے ہر فرد کے دل میں جگہ بنا لی جو دل کی گہرائیوں سے اس کی عظیم قربانی کوخراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

عسکری کالونی میں ہمارا گھر مسجد کے بالکل ساتھ ہے یعنی پہلے گھر کا گیٹ ہے اور پھر چند قدموں پر مسجد ہے۔ توصیف جب بھی پی ایم اے سے ویک اینڈ یا چھٹی پر گھر آیا کرتا تھا تو کالونی کے گیٹ میں داخل ہونے پر اگر نماز کا وقت ہوتا تو گھر آنے کے بجائے پہلے مسجد میں چلا جاتا اور اﷲ کی بارگاہ میں حاضری دینے کے بعد گھر آتا۔ نماز کے لئے خاص تیاری کرنا اس کا معمول تھا۔ وہ اگر کبھی تیار ہوتے ہوئے لیٹ ہو رہا ہوتا تو والدہ آواز دیتی کہ توصیف اس کنگھی شیشے کو چھوڑو کہ نماز کو دیر ہو رہی ہے تو وہ کہتا کہ امی اگر کسی سے ویسے ملنے جانا ہو تو ہم کتنا تیار ہوتے ہیں‘ اﷲ سے ملنے کے لئے تیار ہو کر نہ جاؤں؟

بچوں کی اپنے باپ کے ساتھ محبت بہت منفرد ہوتی ہے۔ اگر باپ کبھی ان کی تربیت کے لئے ڈانٹ ڈپٹ کر رہا ہوتا ہے تو وہی باپ اپنے بچوں پر جان چھڑکنے کے لئے بھی ہر لمحہ تیار ہوتا ہے۔ کرنل توصیف کی بھی اپنے بچوں کے ساتھ محبت مثالی تھی۔ لیکن چھوٹے بیٹے عمر کے ساتھ تو گویا اُن کی دوستی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ اس کی کوئی بات رد نہیں کرتے تھے۔ جب وہ یونٹ کی کمانڈ سنبھالنے کے لئے اپردِیر پہنچے تو پی ٹی سی ایل کا ایک خصوصی نمبر عمر کو لگوا کر دیا۔ عمر صبح سکول جاتے ہوئے اور واپسی پر والد کو ضرور فون کر کے بات کرتا تھا۔ اپنے بابا کی شہادت کے بعد وہ انہیں سب سے زیادہ مس کرتا ہے۔ بابا کے بارے میں بار بار پوچھنے پر اس کو سمجھایا گیا کہ آپ کے ابو اب مٹی کے نیچے چلے گئے ہیں تو اس نے بڑے معصومانہ طریقے سے کہا کہ آپ ان کے پاس ٹیلی فون کیوں نہیں لگوا دیتے تاکہ میں ان سے بات کر سکوں۔

ننھا عمر اب بھی اکثر ٹیلی فون کے نمبر ڈائل کرتا ہے کہ اپنے پیارے بابا سے بات کر سکے‘ ان کی آواز سن سکے۔ مگر ٹیلی فون کی دوسری جانب ہمیشہ خاموشی ہوتی ہے‘ ابدی خاموشی

12
June

فکر‘ عمل کا سرچشمہ ہوتی ہے کیونکہ فکر وجود کو متحرک کرتی ہے اور پھر یہ تحریک مختلف افعال کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ گویا انسان کا ہر عمل دراصل اس کی فکر کا عکاس ہوتا ہے۔ فکر جامد ہو جائے تو عمل ایک مخصوص دائرے میں قید ہو جاتا ہے۔ فکر فی نفسہ جامد نہیں ہوتی کیوں کہ فکر ایک جاریہ قوت ہے جو تغیر کے مختلف الانواع مراحل سے گزر کر اپنے اندرجدت اور نکھار پیدا کرتی جاتی ہے۔ پسماندہ معاشروں میں فکر کو غیر فطرتی طریقے سے جامد کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ جب فکر جامد ہو جاتی ہے تو انسان وقت کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے کسی کونے کھدرے میں جا بستا ہے‘ جہاں اس کی اپنی ایک الگ دنیا قائم ہوتی ہے جس میں وہ کسی قسم کی ترمیم برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا انسان کا یہ غیر فطری اور خود ساختہ رویہ معاشرے میں علمی و اخلاقی اضمحلال کا باعث بن جاتا ہے۔ انسان کے اس رویّے سے مطلق خود غرضی اور عدم برداشت کی ایک بھیانک فضا قائم ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ پھر زبردست اخلاقی پسماندگی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ فکری جمود کی اساس دراصل تقلید اور رجعت پسندی پر قائم ہوتی ہے۔ فکر اس وقت تک جامد نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ اِسے تقلید یا رجعت پسندی پر مامور نہ کر دیں۔ تقلید دراصل رجعت پسندی کی عملی شکل ہوتی ہے چنانچہ رجعت پسند معاشروں میں تقلید آہستہ آہستہ مقبول تقدیس میں بدل جاتی ہے۔ جب ایک بار نوبت تقدیس تک پہنچ جائے تو پھر فکری تحریک رجعت پسند معاشروں میں عموما شجرِ ممنوعہ بن جاتی ہے۔ تقلید ایک غیر فطری اور غیر ضروری روش ہے کیونکہ شعور کی موجودگی میں تقلید ایک زبردست غیر ذمہ دارانہ رویے کا نام ہے اس سے نہ صرف علمی ترقی اور اخلاقی تزئین کی راہ مسدود ہو جاتی ہے بلکہ انسان کی شعوری قوت بھی ناکارہ ہو جاتی ہے بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو

کر اِس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

فکر کے جمود سے نہ صرف انسان علمی و اخلاقی طور پر پسماندہ ہو جاتا ہے بلکہ معاشرہ مجموعی طور پر معاشی و سیاسی زبوں حالی کا شکار ہو جاتا ہے۔ فکری جمود کے سبب انسان جدید تعلیم و فنون کے حصول سے یکسر عاری ہو جاتا ہے کیونکہ فکری تحریک کے بغیر تعلیم و تعلم کا سلسلہ نہیں جاری رکھا جا سکتا۔ انسان ایک مخصوص دائرے سے باہر نکلے بغیر تعلیم کی افادیت سے بہرہ مند ہو سکتا ہے‘ نہ فنون سے آراستہ ۔۔۔ چنانچہ وسائل کی موجودگی میں بھی انسان دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی روش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں میں سوچ آزاد نہیں وہ معاشی طور پسماندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ انسانی فکر کابہترین پھل قانون ہے۔ جن معاشروں میں فکر جامد نہیں ان معاشروں میں قانون کی بالا دستی بھی قائم ہو چکی ہے۔ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ پسماندہ ذہن معاشروں کا قانون بھی پسماندہ اور قانون کی بالا دستی بھی برائے نام ہوتی ہے۔ فکری جمود صرف انفرادی رویے میں تخریب کا نام نہیں بلکہ اس سے تعلیمی، اخلاقی، سماجی، معاشی اور سیاسی نظام بری طرح متاثر ہوجاتا ہے ۔

فکر جامد اس وقت ہوتی ہے جب انسان ماضی کو حال اور مستقبل پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ فکر جامد نہ ہو تو ماضی کے تجربات سے حال اور مستقبل میں بہتری لائی جا سکتی ہے
رجعت پسند معاشروں میں تقلید آہستہ آہستہ مقبول تقدیس میں بدل جاتی ہے۔ جب ایک بار نوبت تقدیس تک پہنچ جائے تو پھر فکری تحریک رجعت پسند معاشروں میں عموما شجرِ ممنوعہ بن جاتی ہے۔
احساس قدرت کا حسین تحفہ ہے شعور نہ صرف اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اسے اس کے حقدار تک بخوبی منتقل کر دیتا ہے چنانچہ شعور کا متحرک ہونا انسان کو ایک بہترین اور خوشگوار زندگی سے بہرہ مند کرتا ہے۔
رجعت پسندی ایک لاعلاج ذہنی علالت ہے جو انسان کو بسترِ جمود سے اُٹھنے نہیں دیتی۔ دنیا میں وہ قومیں جلد صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو ماضی کا مزار بنی رہتی ہیں۔

فکری جمود کے اسباب

ترقی کا پہلا زینہ جستجو ہے۔ انسان ایک باشعور جان دار ہے جس نے ابتدائے آفرینش سے فکر کے ذریعے اپنے رویے میں تزئین پیدا کی‘ چنانچہ فکر سے تہذیب النفس کی راہ کھلی‘ جہاں فکر جامد ہو جاتی ہے وہاں اخلاقی پسماندگی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ فکر جامد اس وقت ہوتی ہے جب انسان ماضی کو حال اور مستقبل پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ فکر جامد نہ ہو تو ماضی کے تجربات سے حال اور مستقبل میں بہتری لائی جا سکتی ہے‘ اگرچہ باشعور انسان اب تک یہی کرتا چلا آ رہا ہے، لیکن بعض اذہان آج بھی اِس نکتے پر قائم ہیں کہ بہتری صرف ماضی کے حصے میں آئی تھی ۔آج ہم ماضی سے آگے نہیں بڑھ سکتے لہٰذا ماضی کو آج پر آویزاں کرکے آگے چلو۔ انسان کا یہی غیر ذمہ دارانہ اور مبنی بر تساہل رویہ تعلیمی، اخلاقی، معاشی اور سیاسی نظم میں زبردست جھول پیدا کر دیتا ہے۔ انسان کی فطرت وقت سے ہم آہنگ ہونا چاہتی ہے لیکن انسان کا جامد رویہ اسے شعوری تحریک سے روک لیتا ہے۔ چنانچہ اِس رکاوٹ کی وجہ سے انسان ہر لحاظ سے جمود کا شکار ہو جاتاہے۔ رجعت پسندی ایک لاعلاج ذہنی علالت ہے جو انسان کو بسترِ جمود سے اُٹھنے نہیں دیتی۔ دنیا میں وہ قومیں جلد صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو ماضی کا مزار بنی رہتی ہیں۔ ماضی انسان کے مضبوط ترین تجربات کا نام ہے‘ انسان ان تجربات سے سیکھ کر حال اور مستقبل کو بہتر بنا سکتا ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب انسان ماضی کو تجربہ سمجھ کر حال کی فکر میں محو ہو جائے۔ فکری جمود کا دوسرا اہم سبب دراصل تقلید ہے۔ تقلید کا تعلق براہِ راست انسانی سوچ سے ہے۔ انسانی سوچ جب ایک مخصوص دائرے میں قید کر لی جائے تو یہ تقلید کہلاتی ہے۔ جیسے کہ ہم عرض کر چکے، تقلید فی نفسہٖ کوئی بری روش نہیں لیکن تقلیدِ روایت مہلک عمل ہے۔ روایت یہ ہے کہ انسان سنی سنائی باتوں پر قانون سازی یا اخلاقی اقدار کی بنیاد رکھنا شروع کر دے۔ ایسے تمام افعال انسان کی عقلی بصیرت سے یکسر عاری ہوتے ہیں اور جو عمل بصیرت سے خالی ہے‘ جو ہر قسم کی خیر سے خالی ہے کہ بصیرت انسانی اعمال میں خیر و برکت پیدا کرتی ہے۔ روایت سے منسلک رہنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن یہ کہ روایت کو درایت پر ترجیح نہ دی جائے‘ نہیں تو حقائق خرافات میں کھو جاتے ہیں بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

یہ امت روایات میں کھو گئی

حقیقت خرافات میں کھو گئی

رجعت پسند معاشروں میں سب سے زیادہ مسائل اخلاقی نوعیت کے ہوتے ہیں کیونکہ رجعت پسند معاشروں میں اخلاقی اقدار وقتِ جاریہ سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں اِسی لئے معاشرے میں عمومی طور پر ایک زبردست ثقافتی گھٹن پیدا ہو جاتی ہے۔

ثقافتی گھٹن

فکری جمود کا سب سے بھیانک نتیجہ معاشرے میں ثقافتی گھٹن کی صورت میں سامنے آتا ہے کیونکہ اخلاقی اقدار جامد ہونے کی وجہ سے انسان اپنے جذبات کا صحت مند انتقال نہیں کر سکتا اس لئے انسان ایک ہولناک فطرتی گھٹن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ انسان ایک خالص جذباتی وجود ہے اور جذبات کا صحت مند انتقال انسان کے شعور کو جِلا بخشتا ہے اگر جذبے کو اپنی فطرتی سمت میں جاری کر دیا جائے تو انسان ہر قسم کی اخلاقی و سماجی آلائش سے محفوظ ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے جذبے اور شعور کے درمیان جاری ایک اعصاب شکن کشمکش ختم ہو جاتی ہے۔ احساس قدرت کا حسین تحفہ ہے شعور نہ صرف اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اسے اس کے حقدار تک بخوبی منتقل کر دیتا ہے چنانچہ شعور کا متحرک ہونا انسان کو ایک بہترین اور خوشگوار زندگی سے بہرہ مند کرتا ہے۔ اخلاقی اقدار انسانی فطرت کا مستند مظہر ہوتی ہیں۔ ہر مذہب ان اقدار کو وقت سے ہم آہنگ کرکے انسان کے لئے بہترین نظامِ حیات کا اہتمام کرتا ہے لیکن لحاظ رہے کہ یہ نظم صرف اپنے وقت تک ہی محدود رہتا ہے۔ انسانی شعور میں جیسے جیسے نکھار پیدا ہوتا جاتا ہے‘ اخلاقی اقدار ویسے ویسے شفاف ہوتی چلی جاتی ہیں۔ چنانچہ شعور کی بہتی ندیا رکنے پاتی ہے نہ اخلاقی اقدار کا نظم۔ انسانی رویہ اس کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ تہذیب یا ثقافت ہی انسانی رویے کی تراش خراش کرتی ہے‘ چنانچہ انسانی رویے سے اس کی تہذیب کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر رویے میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو تہذیب تہس نہس ہو جاتی ہے اور رویے میں بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فکر جمود کا شکار ہو جائے۔ اس جمود کے سبب انسان کی تہذیب و ثقافت میں زبردست اضمحلال پیدا ہو جاتا ہے۔ اقدار اور شعائر متعفن جاتے ہیں۔ کیونکہ قدرت کا مسلمہ اصول ہے کہ کھڑا پانی آخر کار جوہڑ بن جاتا ہے۔ اقوام کے لئے روایت سے مفر ممکن نہیں لیکن روایت ہمیشہ تجربات کا مرکب ہوتی ہے جس کی بنیاد پر انسان ہمیشہ حال و مستقبل میں بہتری کے اسباب پیدا کرتا ہے۔ رجعت پسند معاشروں میں روایت کے خلاف آواز نکالنا تقدیس کے چبوترے کو منہدم کرنے کے مترادف ہوتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ قومیں علمی اور اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں‘ چنانچہ طرزِ کہن پر اڑ جانا ہی قوموں کے لئے باعثِ تنزلی بن جاتا ہے ۔بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک صحیح معنوں میں ترقی کے مراحل نہیں طے کر سکتی جب تک کہ وہ فکر کو جمود اور انسانی جذبات کو شعورِ جاریہ سے ہم آہنگ نہیں کر لیتی کہ یہی انسان نے اب تک اپنے عملی تجربات سے سیکھاہے۔

فکری جمود سے نہ صرف اخلاقی اقدار منجمد ہو جاتی ہیں بلکہ قانون بھی قصۂ پارینہ بن جاتا ہے۔ روایات کی بنیاد پر کی گئی قانون سازی وقت سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے انسانی جذبات کو مہرہ بنا لیتی ہے۔ روایات کا غیرفطری اور لچر دباؤ‘ انسانی جذبات کا کچومر نکال کے رکھ دیتا ہے۔ نظریہ یا قدر احساس نہیں ہوتی‘ بلکہ انسانی جذبات احساسات کا مرکب ہوتے ہیں۔ جن کا اظہار و انتقال انسان کا خالصتاً فطری حق ہے۔ دنیا کا کوئی بھی نظریہ یا قدر انسانی جذبات سے زیادہ بیش بہا نہیں ہو سکتے۔ جن معاشروں میں جذبات کے صحت مند انتقال کا اہتمام نہیں کیا جاتا وہ فکری لحاظ سے انتہائی پسماندہ معاشرے ہوتے ہیں۔ جذبات اور شعور باہم ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوتے ہیں‘ شعور نہ صرف جذبات کی تزئین کرتا ہے بلکہ جذبات کی مناسب حد بندی بھی کرتا ہے تاکہ معاشرہ ہر قسم کی اخلاقی افراط و تفریط سے محفوظ رہے۔ ثقافتی گھٹن انسانی جذبات کو حبس بے جا میں رکھنے کے مترادف ہے۔ اچھائی اور برائی کی تمیز انسان کی فطرت میں built-in ہے۔ اچھائی یا برائی کی تمیز کے لئے قدرت نے انسان کو کسی خارجی ذریعے کا محتاج نہیں کیا‘ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب میں بنیادی اخلاقی اقدار یکسانیت پر مبنی ہیں۔ مذہب رویہ ایجاد نہیں کرتابلکہ رویے میں شعورِ جاریہ کے مطابق تہذیب پیدا کرتا ہے تاکہ انسانی جذبات کا صحت مند اظہار و انتقال کیا جا سکے۔ چنانچہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اخلاقی اقدار بھی نکھرتی جاتی ہیں۔ گوکہ رجعت پسند معاشروں میں ایسا کوئی اہتمام موجود نہیں ہوتا لیکن باشعور معاشرے شعورِ جاریہ کے مطابق اپنی اقدار وضع کرتے رہتے ہیں تاکہ انسانی شعور اور جذبات میں کسی قسم کا عدم توازن اور کشمکش پیدا نہ ہو سکے۔ ہمارے ہاں فکری جمود نے زبردست ثقافتی گھٹن پیدا کرکے اخلاقی اقدار کو ہیکل میں بند کر دیا ہے‘ سدِ ذریعہ اور اجماعِ عامہ جیسے غیرفطرتی اصولوں نے اخلاقی اقدار پر تقدیس کی چادر چڑھا دی تاکہ کوئی محقق مسلمہ اقدار میں ترامیم کی کوشش نہ کر سکے۔ تقدیس روحانی ضوابط کے لئے تو اکسیرِبے مثال ہے لیکن اسباب کی دنیا میں انسان وجود کے ان گنت تقاضوں سے مرسم ہے چنانچہ انسان کو شعورِ جاریہ کے مطابق اخلاقی اقدار اور قانون کی تزئین کرنی چاہئے نہ کہ اقدار کو تقدیس کے غلاف میں لپیٹ کر انسانی جذبات میں تعفن پیدا کر دیا جائے۔ جذبہ صادق اور فکر خالص ہوتی ہے چنانچہ فکری تحریک جذبات کی صداقت کو بروئے کار لا کر اخلاقی اقدار کو شعورِ جاریہ سے ہم آہنگ کر دیتی ہے جس کے سبب معاشرہ ہر قسم کے اخلاقی عدم توازن سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اگر فکر ہی کو جامد کر دیا جائے تو شعور سمیت انسانی جذبات بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ پھر علمی و اخلاقی پسماندگی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک صحیح معنوں میں ترقی کے مراحل نہیں طے کر سکتی جب تک کہ وہ فکر کو جمود اور انسانی جذبات کو شعورِ جاریہ سے ہم آہنگ نہیں کر لیتی کہ یہی انسان نے اب تک اپنے عملی تجربات سے سیکھاہے۔

تحریر : ڈاکٹر نعمان نیر کلاچوی‘ مضمون نگار انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی ملائشیا سے اسلامی فلسفے (علم الکلام) میں پی ایچ ڈی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Page 8 of 17

Follow Us On Twitter