18
August

بھارت کے حالیہ بیانات اور رویّے پر پاکستان حسبِ ضرورت جواب دیتا آیا ہے تاہم اس رویّے پر وہ سنجیدہ حلقے بھی شدید اعتراضات کررہے ہیں جو کہ ماضی میں بھارت کے حامی رہے ہیں اور وہ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے پاکستانی ریاست کی بعض پالیسیوں کے مستقل ناقد رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو گروپ یا عناصر بلوچستان کی تحریک یا علیٰحدگی کی بات کررہے ہیں ان کے حملوں اور مزاحمت کا سلسلہ اب فورسز اور ریاست کے علاوہ دوسری قومیتوں اور عوام تک بھی تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ ماضی میں یہ گروپ پنجابی باشندوں کوچن چن کر نشانہ بناتے رہے۔ بعد میں انہوں نے دو مذہبی گروہوں کی معاونت سے شیعہ اور ہزارہ کمیونٹی کونشانہ بنانا شروع کیا۔ اور اب مشاہدے میں آرہا ہے کہ یہ لوگ صوبے کے دوسرے بڑے لسانی گروپ یعنی پشتونوں کو بھی نشانہ بنانے پر اُتر آئے ہیں۔ پشتونوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ دیگر کے مقابلے میں سنگین بھی ہے اور خطرناک بھی کیونکہ دیگر گروپ یا حلقے اقلیت میں تھے۔ ان کی قوت بھی کم تھی اور ان کی نمائندہ سیاسی تنظیموں کا اثر رسوخ بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ پشتونوں کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ ہمیں دشمنوں کے اس وار کو سمجھنا ہوگا۔ دشمن ہمیں کئی فرنٹ پر اندرونی لڑائیوں میں الجھانا چاہتا ہے۔ حب الوطنی اور دور اندیشی کا تقاضہ ہے کہ دشمن کی اِن چالوں کو سمجھا جائے اور ان کا مقابلہ کیا جائے۔

بلوچستان کے ایشونے عالمی اور علاقائی سطح پر پھر سے ایک نئی اور بڑی بحث کو جنم دے رکھا ہے۔ بعض پڑوسی ممالک اب کھلے عام اعتراف کرنے لگے ہیں کہ وہ بلوچستان اور فاٹا میں نہ صرف یہ کہ مداخلت کرتے آئے ہیں بلکہ پاکستان کو ’’سبق‘‘ سکھانے کے لئے وہ دوسرے طریقے آزمانے کے علاوہ دہشت گردی کی کھلی معاونت بھی کرتے رہے ہیں۔

قیاس ہے کہ بعض دوسرے ایشوز کی طرح ریاست پاکستان نے بلوچستان کے ساتھ بھی امتیازی رویہ رکھا ہوگا اور عوام کی شکایات یقیناًبجا ہوں گی۔ یہ بھی درست ہے کہ ریاست نے اس صوبے کے حقوق اور اختیارات کے معاملے پر اپنے فرائض پورے نہیں کئے اور محرومی کا احساس بڑھتا گیا۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام دیگر صوبوں کے مقابلے میں بے پناہ مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں۔ یہ وہ خدشات اور زمینی حقائق ہیں جن کا بلوچستان کے عوام اور سیاسی لیڈر شپ کے علاوہ پاکستانی ریاست کے ذمہ داران متعدد بار خود بھی اعتراف کرچکے ہیں اور ان خدشات کے خاتمے کے لئے سیاسی‘ انتظامی اور معاشی اقدامات کئے بھی جارہے ہیں تاہم اس حقیقت کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ محرومیوں سے نمٹنے یا نکلنے کے لئے بندوق اٹھانا کہاں تک درست اور سود مند ہے اور یہ بھی کہ سیاسی جدوجہدکی بجائے تشدد اور بغاوت کا راستہ اختیار کرکے غیر ملکی معاونت حاصل کرنا کہاں تک مناسب ہے؟

خان عبدالولی خان اپنی کتاب’’باچا خان اور خدائی خدمت گاری‘‘ میں ایک جگہ پر رقمطرازہیں ’’مینگل صاحب اور بزنجوسے حیدر آباد جیل میں ملاقات ہوئی تو ہم نے بلوچستان کے معاملے پر بہت تلخ باتیں کیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ بھٹو کے ہاتھوں حکومت کی برطرفی اور فوج کے آپریشن کے باعث بلوچوں میں بغاوت کے آثار پیدا ہو رہے ہیں اور ان کے لئے عوام اور بلوچ جوانوں کو مطمئن کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ وہ مزاحمت کی بات کررہے ہیں اور مجھے کہہ رہے تھے کہ اس کام میں‘ میں ان کا ساتھ دوں۔ میں نے ان پر واضح کیا کہ ریاست‘ بھٹو اور فوج سے مجھے بھی شکایات ہیں۔ بھٹو نے آپ کی حکومت ختم کی تو میں نے مفتی محمود سے استعفیٰ دلوادیا اور حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا مگر میں مزاحمت یا بغاوت کی بجائے سیاسی جدو جہد پر یقین رکھنے والا ہوں آپ کو بھی یہی راستہ اپنا نا چاہئے۔ وہ میرے دلائل سے مطمئن نہیں ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ لوگ بغاوت کا راستہ اپنائیں گے تو ہم ایک ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جمہوری طریقے سے ہی حقوق کا حصول ممکن ہے۔ بغاوت کے نتیجے میں آپ کو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اور آپ کی جدو جہد بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ ان پر میری باتوں کا پھر بھی اثر نہیں ہوا تو میں نے کہا کہ آج کے بعد ہمارے راستے الگ ہو رہے ہیں۔ آپ اپنی راہ لیں اورمیں اپنے راستے پر چلوں گا۔‘‘

خان عبدالولی خان اس زمانے میں پشتونوں اور بلوچوں کے سیاسی رہبر اور پاکستا ن کی قومی اسمبلی میں قائدِحزبِ اختلاف تھے۔ اس ملاقات کے بعد بلوچ اور پشتون قوم پرست ایک دوسرے سے الگ ہوئے۔ ولی خان کا موقف کہاں تک درست تھا وہ وقت نے ثابت کیا کیوں کہ عطاء اﷲ مینگل نہ صرف یہ کہ بعد کے ادوار میں بغاوت کی بجائے سیاسی عمل کا حصہ بن گئے بلکہ ان کے صاحبزادے بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ بھی رہے اور وہ اب بھی تمام تر شکایات اور خدشات کے باوجود جمہوری جدوجہد کا حصہ ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے موجودہ وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر مالک بھی گزشتہ روز ایک ٹی وی شو میں کہہ چکے ہیں کہ سال1985 تک وہ بھی دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ مزاحمتی سیاست کے حامی تھے تاہم ایک طویل مشاورت کے بعد انہوں نے سیاسی عمل کا حصہ بننے کا راستہ اپنایا اور وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہی بہترین راستہ تھا۔ 1970 کے تلخ واقعات کے بعدکے حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا سیاسی‘ اقتصادی اور تعلیمی میدانوں میں بلوچستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بہتر رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسی صوبے کے قوم پرستوں نے تشدد اور مزاحمت کی بجائے جمہوریت کا راستہ اپنایا۔

جس دور میں بلوچ مزاحمت کررہے تھے اس دور میں افغان حکمرانوں کے ساتھ ولی خان اور دیگر قوم پرست لیڈرز کے انتہائی قریبی مراسم تھے۔ افغان حکمرانوں کی خواہش تھی کہ وہ پشتونستان کے ایشو پر نیشنل عوامی پارٹی اور بعد کی این ڈی پی‘ اے این پی کی پھر پور حمایت اور معاونت کریں تاہم ولی خان اور دیگر رہنما اس پیشکش کو مسلسل ٹھکراتے رہے اور یہ انکار ڈاکٹر نجیب کے دور تک قائم رہا۔ اگر پشتون قوم پرست چاہتے تو بلوچوں کے مقابلے میں ان کے پاس زیادہ امکانات تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ پشتون قوم پر ستوں خصوصاً ولی خان کے بھارت کے ساتھ بھی قریبی مراسم تھے۔ وہاں سے بھی وہ مختلف اوقات میں مدد حاصل کرسکتے تھے۔ انہوں نے مراسم تو قائم رکھے اور الزامات بھی برداشت کئے مگر وہ سیاسی‘ ریاستی معاونت کے حصول سے گریز اں رہے اور وفاق کے سیاسی عمل کا حصہ بنے رہے۔ اس پسِ منظر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ دیگر ممالک بوجوہ اس قسم کی پارٹیوں کو استعمال کرنے کی ایک مسلسل پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور پاکستان بھی متعدد مما لک میں ایساکرتا آیا ہے تاہم یہ محروم قومیتوں اور ان کی لیڈر شپ پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں اور تاریخ سے کیا سبق سیکھتے ہیں۔

پاکستان طویل عرصے سے شکایت کررہا ہے کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستانی مفادات کے خلاف مسلسل مداخلت کررہاہے۔ ایک عرصے تک اس شکایت کو محض ایک الزام اور دباؤ کا حربہ قرار دیا جاتا رہا ‘ تاہم سال 2000 کے بعد اس شکایت کو ان حلقوں نے بھی سنجیدگی سے لینا شروع کیا جو کہ پاکستانی ریاست کو ہر دور میں شک کی نظر سے دیکھتے آئے ہیں۔

بلوچستان میں1947 کے بعد اب تک تین بڑے‘ جبکہ نو چھوٹے‘ آپریشن کرائے گئے ہیں۔ ریاست قلات کے معاملے پر جب1948 میں آپریشن کیا گیا تو اس وقت کے چھوٹے صوبوں کی قیادت نے اس پر اعتراضات کئے۔1970 کی دہائی میں بھٹو صاحب نے10 فروری 1973 کے عراقی سفارت خانے پر مارے گئے چھاپے کے نتیجے میں آپریشن کا آغاز کیا تو اس پر بے حد احتجاج ہوا اور پورا سیاسی عمل متاثر ہوا۔ مشرف صاحب کے دور میں بگٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو بھی اکثریتی سیاسی قوتوں بشمول مسلم لیگ(ن)‘ پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور سیاسی مفاہمت کی کوششیں بھی کی گئی۔ اس آپریشن کے باعث مشرف صاحب اور ان کے بعض وزراء کو عدالتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مین سٹریم سیاسی قوتیں بلوچستان کے ساتھ کھڑی رہیں اور اس کے حق کے لئے مؤثر آواز اٹھاتی رہیں۔ دوسرے صوبوں کے علاوہ صوبہ پنجاب سے بھی بڑے پیمانے پر اس کے حق میں آواز اٹھتی رہی۔ اور شاید اسی عمل کا نتیجہ ہے کہ پاکستان بھر سے بلوچوں کے حقوق کے معاملے میں ان کے حق میں بات کی جاتی رہی ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ فاٹا کے حالات ماضی قریب میں اس کے مقابلے میں زیادہ خراب رہے۔ محرومیاں بھی زیادہ رہیں اور نقصانات کی شرح بھی زیادہ رہی۔ تاہم ملک بھر سے جو آواز بلوچستان کے لئے اٹھائی گئی وہ فاٹا کے حق میں نہیں اٹھی۔ اسی طرح جو سپیس عالمی اور علاقائی قوتوں کو بعض علیٰحدگی پسندوں نے بلوچستان میں فراہم کی وہ ان کو فاٹا میں فراہم نہیں کی گئی۔ بلوچ میسنگ پرسنز کا بہت شور مچایا گیا تاہم یہ حقیقت بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے لاپتہ افراد کی تعداد بھی کئی گنا ہے اس کے باوجود اس صوبے میں علیٰحدگی کی کوئی تحریک یا بات نہیں چلی ۔محرومیوں سے نمٹنے کے لئے تشدد اور غیر ملکی مدد کا راستہ اپنایا جائے شاید اس پسِ منظر کے باعث زیادہ مناسب اور درست نہیں لگ رہا۔

بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کا آغاز ستر کی دہائی میں ہی ہوا تھا۔ بعض بلوچ قوم پرست افغانستان میں کھلے عام تربیتی کیمپ چلاتے رہے اور یہ سلسلہ1980 تک جاری رہا۔ یہی وہ بنیادی سبب تھا جس کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اسی عرصے کے دوران پاکستان نے بعض جہادی افغان کمانڈروں کی معاونت اور سرپرستی کا آغاز کیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ماحول میں تبدیلی آگئی۔ تاہم وہ بھارت‘ برطانیہ‘ افغانستان اور بعض دوست ممالک سے مدد لیتے رہے اور اس کا کھلے عام اعتراف کرتے آئے ہیں۔

ایک بلوچ لیڈر برہمداغ بگٹی نے 2008 میں پاکستانی چینل پر کھلے عام کہا کہ وہ بھارت‘ ایران‘ افغانستان اور برطانیہ سے مدد لیتا آیا ہے اور لیتا رہے گا۔ سال2010 میں مری قبائل کے ایک کمانڈر نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی تحریک مزاحمت کو عالمی قوتوں اور علاقائی پڑوسیوں کی معاونت حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک برہمداغ بگٹی کے پاس کابل میں تین گھر تھے۔ وہاں ان کو مکمل آزادی رہی۔ سال 2012 کے آخرمیں افغان صدر حامد کرزئی نے سلیم صافی کو دیئے گئے انٹر ویو میں خود اعتراف کیا کہ وہ پاکستان کی ’’مداخلت‘‘ کی پالیسی کے ردعمل میں ان عناصر کی حمایت کررہے ہیں جو پاکستان پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

ایف سی بلوچستان کے سابق سربراہ میجر جنرل عبیداﷲ خٹک نے جون2012 میں بتایا کہ افغانستان کے اندر 24 ایسے تربیتی مراکز موجود ہیں جہاں بلوچوں اور دیگرجنگجوؤں کو پاکستان کے خلاف تربیت دی جا رہی ہے یا سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ یہ دعوے محض پاکستان یا افغانستان کے حکام تک محدود نہیں رہے بلکہ امریکی حکام بھی ایسی باتیں کرتے رہے۔ اگست 2013 کے دوران امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز ڈوبین نے کہا کہ بھارت کے ذریعے بلوچستان میں مداخلت کے معاملے پر پاکستان کی تشویش بے جا نہیں بلکہ حقیقت کے قریب ہے۔ وکی لیکس کی دستاویزات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ بھارت بلوچستان اور فاٹا میں ایک پالیسی کے تحت مسلسل مداخلت کرتا آیا ہے۔ وکی لیکس کی دستاویزات میں تو پاکستان کے بعض دوست ممالک کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ کی مداخلت کے ثبوت بھی بتائے گئے ہیں۔

حال ہی میں امریکہ کے سیکرٹری دفاع چک ہیگل نے آن دی ریکارڈ خود اعتراف کیا کہ بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے جس پرامریکہ کو بھی تشویش لاحق ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بعض بھارتی لیڈروں اور وزراء نے کھلے عام کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے اور اس سے انتقام لینے کے لئے طالبان‘ بلوچوں اور دیگر عناصر کو استعمال کرنے سمیت دوسرے اقدامات بھی کررہے ہیں۔ بھارت کے حالیہ بیانات اور رویّے پر پاکستان حسبِ ضرورت جواب دیتا آیا ہے تاہم اس رویّے پر وہ سنجیدہ حلقے بھی شدید اعتراضات کررہے ہیں جو کہ ماضی میں بھارت کے حامی رہے ہیں اور وہ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے پاکستانی ریاست کی بعض پالیسیوں کے مستقل ناقد رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو گروپ یا عناصر بلوچستان کی تحریک یا علیٰحدگی کی بات کررہے ہیں ان کے حملوں اور مزاحمت کا سلسلہ اب فورسز اور ریاست کے علاوہ دوسری قومیتوں اور عوام تک بھی تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ ماضی میں یہ گروپ پنجابی باشندوں کوچن چن کر نشانہ بناتے رہے۔ بعد میں انہوں نے دو مذہبی گروہوں کی معاونت سے شیعہ اور ہزارہ کمیونٹی کونشانہ بنانا شروع کیا۔ اور اب مشاہدے میں آرہا ہے کہ یہ لوگ صوبے کے دوسرے بڑے لسانی گروپ یعنی پشتونوں کو بھی نشانہ بنانے پر اُتر آئے ہیں۔ پشتونوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ دیگر کے مقابلے میں سنگین بھی ہے اور خطرناک بھی کیونکہ دیگر گروپ یا حلقے اقلیت میں تھے۔ ان کی قوت بھی کم تھی اور ان کی نمائندہ سیاسی تنظیموں کا اثر رسوخ بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ پشتونوں کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ ہمیں دشمنوں کے اس وار کو سمجھنا ہوگا۔ دشمن ہمیں کئی محاذوں پر اندرونی لڑائیوں میں الجھانا چاہتا ہے۔ حب الوطنی اور دور اندیشی کا تقاضہ ہے کہ دشمن کی اِن چالوں کو سمجھا اور ان کا مقابلہ کیا جائے۔

بلوچستان میں کرائے گئے سرویز‘ تحقیق اور مردم شماری سے اخذ کئے گئے نتائج کچھ یوں بنتے ہیں کہ صوبے میں پشتونوں کی آبادی چالیس فیصد سے زائد ہے ان کے مقابلے میں ہزارہ (شیعہ) براہوی اور دیگر اقلیتوں کی کل آبادی10 سے12 فیصد تک بنتی ہے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے70 فیصد بڑے شہر اتفاقاً آبادی کے تناسب سے پشتونوں کے شہر ہیں۔ بلوچ شہروں کی بجائے پہاڑوں اور دیہاتوں میں رہتے ہیں۔ تمام پشتون علاقے جغرافیائی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور پشتونوں کی تین بڑی نمائندہ پارٹیاں ملک کی سیاست میں بہت فعال ہیں اس وقت پشتون بیلٹ کی نمائندگی پخونخوامیپ‘ جے یو آئی (ف) اور اے این پی کے ہاتھوں میں ہے۔ تینوں پارٹیاں ملکی سیاست کی اہم قوتیں ہیں۔ محمود خان اچکزئی کی پختونخوا میپ صوبے کی حکومت کی شیئر ہولڈر ہے اور گورنر بھی اس پارٹی سے ہے۔ اگر صوبے میں گڑبڑ کرائی جاتی ہے یامداخلت ہو رہی ہے۔ تو اس کی زد میں یہ پارٹی بھی آتی ہے۔ اور شاید اسی کانتیجہ کہ تاریخ میں پہلی بار اچکزئی کی پارٹی حالیہ کارروائیوں کی نہ صرف کھل کر مزاحمت کررہی ہے بلکہ اس کو علاقائی مداخلت کی اطلاعات اور ثبوتوں پر بھی سخت تشویش ہے۔

یہ پارٹی ماضی میں خطے کے اندر ہر بیرونی ہاتھ کے علاوہ افغانستان کے اندر پاکستان کی مبینہ مداخلت کی مخالف رہی ہے۔ ایسے میں اس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ سیاسی عمل اور حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود ان ایشوز سے لاتعلق رہے۔ یہ تینوں پارٹیاں اپنی پالیسیوں کے تناظر میں قوم پرست قومیں ہیں اور ان مذہبی گروپوں کی مخالفت میں جو کہ بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں مذہبی طور پر فرقہ ورانہ منافرت پھیلا رہے ہیں صوبے کی بیوروکریسی میں دوسرا شیئر بھی پشتونوں کا ہے جبکہ یہ کسی بھی قوت یا گروپ کو عوامی سطح پر چیلنج کرنے کی صلاحیت اور قوت سے بھی مالامال ہیں۔ ایسی صورت میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جو قوتیں فورسز‘ ریاست اور اقلیتوں کے بعد پشتونوں کو نشانہ بنانے نکل آئی ہیں ان کو شدید ترین مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے اور یہ مزاحمت ان علاقائی اور عالمی قوتوں کو بھی لپیٹ میں لے گی جو کہ حملہ آوروں کی پشت پناہی کرتی آئی ہیں کیونکہ ’کے پی کے‘ کے مقابلے میں بلوچستان کی نمائندہ پارٹیاں زیادہ منظم اور متحرک ہیں۔

اقلیتی بلوچ علیحدگی پسندوں‘ بھارتی وزراء‘ امریکی حکام اور عالمی میڈیا کے اعتراضات کے بعد یہ حقیقت سب پر واضح ہوگئی ہے کہ بلوچستان کی محرومیوں کی آڑ میں بعض پڑوسی بلوچستان میں کھلی مداخلت پر اُتر آئے ہیں اور وہ مزید مداخلت کی اعلیٰ سطحی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ ایسے میں مزید ثبوتوں اور مباحث کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ اور گروپ ریاست اور معاشرے کے لئے ناسور بنے ہوئے ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں‘ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے‘ سیاسی نظام کو مضبوط کیاجائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر قیمت پر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

پشتون اور بلوچ قیادت کے درمیان حقوق اور اختیارات کے معاملے پر تعلقات ویسے بھی کچھ مثالی نہیں ہیں۔ اب اگر حملوں کی نوبت بھی آتی ہے تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور ریاست کے علاوہ بلوچوں پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ نئی حکومت کے قیام اور عسکری قیادت کی پالیسیوں کے بعد بلوچستان کے مجموعی حالات میں جو بہتری آئی ہے اس نے صوبے کی سیاست اور معیشت پر کافی بہتر نتائج مرتب کئے ہیں۔ اکنامک کاریڈوراور بعض دیگر منصوبوں سے بھی صوبے کو بہت فوائد ملنے کی توقع ہے۔ جبکہ پاپولر عوامی پارٹیوں اور پاکستان اسٹیبلیشمنٹ کے قریبی تعلقات بھی بہتر مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے بہتر تعلقات اور بعض دیگر اقدامات کے بھی صوبے اور ملک کی سیاست پر اچھے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے میں بھارت یا کسی بھی غیر ملکی مداخلت کے خلاف یکجہتی ناگزیر ہے اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔

 

balochmaine1.jpg

 

وفاق کے حالیہ بجٹ میں بلوچستان کی ترقی کے لئے 84 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سندھ کے لئے192 جبکہ خیبرپختونخوا کے لئے 124ارب روپے ہیں۔ اگر آبادی کے فرق اور تناسب کو سامنے رکھاجائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ بلوچستان کے لئے رکھا گیابجٹ دیگر صوبوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے یہ اچھے اشارے ہیں اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض قوتیں بدلتے بہتر حالات کو پھر سے خراب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگئی ہیں۔ اقلیتی بلوچ علیٰحدگی پسندوں‘ بھارتی وزراء‘ امریکی حکام اور عالمی میڈیا کے اعتراضات کے بعد یہ حقیقت سب پر واضح ہوگئی ہے کہ بلوچستان کی محرومیوں کی آڑ میں بعض پڑوسی بلوچستان میں کھلی مداخلت پر اُتر آئے ہیں اور وہ مزید مداخلت کی اعلیٰ سطحی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ ایسے میں مزید ثبوتوں اور مباحث کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ اور گروپ ریاست اور معاشرے کے لئے ناسور بنے ہوئے ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں‘ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے‘ سیاسی نظام کو مضبوط کیاجائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر قیمت پر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

وقت آگیا ہے کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے ساتھ ساتھ کسی اور کو اپنے معاملات میں بھی کسی قیمت پر مداخلت کرنے نہ دی جائے اور ان قوتوں کا خاتمہ کیا جائے جو پاکستان کے حقیقی چہرے اور معاشرے کو مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستان کے عوام کسی بھی چیلنج کو قبول کرنے کے لئے اپنی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے اور یہ ایک نئے دورکا آغاز ہوگا۔

27
July

جرمنی نے پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم تک اپنے صحن میں دیکھیں اور جنگ سے وابستہ تمام تر تکالیف‘ ذہنی عذاب اور جذباتی تذلیل کو بچشم خود مشاہدہ کیا مگر ایک کمال اور بھی کیا۔ وہ یہ کہ اپنی شعوری سطح سے اپنی وطنیت کو مسخ نہیں ہونے دیا۔ اپنی ہی حکومت کے ظلم سہے مگر حکومت کو آنی جانی چیز سمجھا اور وطن کو ابدی حقیقت۔ لیکن آج ان چیزوں کو تجزیاتی زبان میں لکھنا قدرے آسان ہے۔ مگر ظلم کو سہتے ہوئے اپنے کل پر یقین کو نہ ڈگمگانے دینا ایسا مشکل ہے کہ جنگ سے آگے کا مرحلہ ہے۔ جرمن قوم بنیادی طور پر اس آزمائش پر پوری اتری کہ انہوں نے اپنے مستقبل پر یقین کو نہیں ڈگمگانے دیا۔ مگر اس کا ہمارے معروضی حقائق سے کیا تعلق ہے۔ جی ہاں تعلق ہے اور بہت ناگزیر نوعیت کا ہے۔ ہم اہلِ پاکستان ابتلاؤں اور آزمائشوں کی ایسی گھمبیر صورت حالت سے گزر رہے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ ہمارے مزاح نگار اب کوئی ہلکی پھلکی بات بھی کریں تو زمینی حقائق کی گھمبیرتا اور سنگینی انہیں سنجیدہ بنا دیتی ہے۔ انور مسعود صاحب کہیںیورپ وغیرہ میں آئے تو لوگوں نے پوچھا کہ پاکستان کے حالات حاضرہ کے بارے میں کچھ بتائیں تو موصوف نے بظاہر ایک مزاحیہ مصرعہ پڑھا لیکن بے حسی اگر حجاب نہ ڈال دے تو اس کی سنجیدگی قابل فکر ہے۔ فرمایا

حالات حاضرہ کو کئی سال ہو گئے

یعنی کچھ بھی نہیں بدلا۔ مطلب جمود ۔۔۔۔ اور جمود کے لئے کم سے کم کیا مفہوم لیں ہم؟ موت یا قریب المرگ۔۔۔ بے حسی یا فالج؟؟ آخر دنیا میں کہیں بھی اگر معاملات ساکن یا ساکت ہو جائیں تو مطلب کیا لیا جاتا ہے۔۔۔؟ ہمارے لئے استثناء کیوں اور کیسے؟؟؟

یہاں میں اپنے قارئین سے ایک ضمنی گزارش کر دوں کہ قلم کی اپنی زبان ہوتی ہے اور اس کی کاٹ بھی۔ جیسے ہم خودکلامی کرتے ہیں اسی طرح اگر ذہنی سوالات کو معاشرتی بندگی سے واسطہ پڑ جائے تو اسی طرح کی قلمی خود کلامی سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔ اس کی تلخی کی شکایت اس لئے نہ کریں کہ مرض اگر دب جائے تو زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ اظہار بہرحال فائدہ مند ہوتا ہے کہ اس سے تبدیلی کے راستے کھلتے ہیں۔ واپس آتے ہیں سوچنے لکھنے اور بولنے والے اہل علم و ادب کے مصائب حالات اور مسائل کی طرف ۔ پچھلے دنوں کئی سانحوں پر ایسا ہوا کہ کہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مجھے ازراہ تبصرہ عبیداﷲ علیم کے یہ اشعار پڑھنے اور سننے کو ملے۔ اس قدر تکرار کے ساتھ کہ ضروری ہے کہ پہلے آپ کو بھی سنا دوں کہ

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

میرے شہر جل رہے ہیں‘ میرے لوگ مر رہے ہیں

کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطہ زمین پر

وہی خطہ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

ہمیں قتل ہو رہے ہمیں قتل کر رہے ہیں

اس پر کسی صاحب نے کمال تبصرہ کیا کہ یہ 70 کی دہائی کی غزل ہے مگر بالکل تازہ کلام محسوس ہو رہا ہے۔ یعنی وہی بات کہ حسب حالات ہے تو پرانی کیسے ہوئی؟ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسئلے کی سنگینی پہ بات کرنا بھی ایک طرح کا جرم بن چکا ہے۔ کون پوچھے کہ اتنی قربانیوں سے آپ نے وطن لیا اور لوگ ایک پلاٹ بھی خرید لیں تو اس کو بنانے اور آباد کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ زرعی زمین لیتے ہیں تو اس میں شجر کاری‘ پانی کی فراہمی‘ اپنے لئے مکان‘ ڈیرہ ڈنڈا اور مال مویشی‘ آئے گئے کے لئے سامان تواضع اور مشکل وقت کے لئے مناسب انتظام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ آپ کو اﷲتعالیٰ نے ملک دیا۔ اب آباد تو اسے دوسروں نے نہیں کرنا تھا اور ساری دنیا میں لوگ یقین‘ حسن انتظام‘ حسن معاشرت‘ عدل‘ انصاف‘ تعلیم‘ معاشی تحفظ اور انسانی زندگی کو درکار سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے گھروں اور ملکوں کو سنوارتے اور آباد کرتے ہیں مگر ہم؟ قائداعظم محمد علی جناح کے آنکھیں بند کرتے ہی بدنیتی پر اتر آئے۔ ملکیت اور حاکم مطلق بننے کے طریقے ڈھونڈنے میں لگ گئے اور ہر بدنیتی کا عنوان بہت خوبصورت رکھا اور ظاہر پرستی کا کوڑھ پھیلنے لگا۔ تعلیم چونکہ نہ ہونے کے برابر تھی اس لئے مطلب پرستوں کو موقع ملا کہ جو نعرہ بھی لگا دو چل جائے گا۔ تفصیل میں کوئی نہیں جائے گا کہ اس کا مطلب اور نتیجہ کیا ہو گا۔ وہ نہیں جو بانی اسلام حضرت محمدمصطفی ﷺ نے سکھایا تھا۔ جس کی ابتداء اپنے نفس پر خدا کی حاکمیت قائم کرنے سے ہوتی تھی اور جس کا دائرہ کار ہمیشہ مظلوم کو مدد دینا تھا نہ کہ توسیع اقتدار جس کے احکامات میں واضح ہدایات تھیں کہ

-1 عورتوں‘ بچوں اور بوڑھوں پر حملہ نہ کرنا‘

-2 مذہبی عبادت گاہوں پر حملہ نہ کرنا‘

-3درخت نہیں کاٹنے اور فصلوں کو نقصان نہ پہنچانا‘

-4 جو اپنا دروازہ بند کرے اس پر حملہ نہ کرنا۔

-5 دشمنوں کی لاشوں کے ساتھ بدسلوکی نہیں کرنی۔

مگر آج کے اِن نام نہاد جہاد پسندوں نے قتل انسانیت کے ہر غیر انسانی طریقے اختیار ہی نہیں کئے بلکہ رائج کئے۔ انسانی سروں سے فٹ بال کھیلنے اور سکولوں کے بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے ‘ مسجدوں اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملہ آور ہونے کے واقعات کی اگر ایک مختلف سی فلم دکھائی جائے تو تاریخ انسانیت کے کون سے مذہب سے آپ کو شاباش ملنے کی توقع ہے۔ یہ سب ہوا اور اچانک نہیں ہوا‘ یہ کم ظرفی اور کوتاہ نظری نے اورتعصب اور تنگ نظری نے بچے دیئے ہیں اور تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ قائداعظم کی وفات کے بعد ہی خوبصورت ٹائٹل کے ذریعے یہ سوچ عوام پر مسلط کرنے کا آغاز ہو چکا تھا۔ لیڈر شپ نے قائداعظم کا نام اور ان کی جماعت مسلم لیگ کا ٹائٹل اپنالیا مگر قائداعظم جیسی شفاف جرات کو نہیں اپنایا۔ کوئی پندرہ سال قبل ریڈیو پاکستان سے ایک مشاعرہ یوم پاکستان کے حوالے سے نشر ہو رہا تھا۔ وہاں ایک صاحب نے کچھ شعر سنائے جس میں سے سب سے زیادہ مبنی بر حقیقت شعر نشر نہیں ہوا۔ وہ یہ تھا۔

اس نے بہت تلقین کی

ایمان کی اتحاد کی تنظیم کی

ہم نے بہت توہین کی

اور خاص کر ان تین کی

جیسا کہ قارئین سے گزارش کی تھی کہ یہ تلخ حقائق ہیں مگر ان کا علم نہ ہو یا ان پر پردہ ڈال کر اگر ہم سمجھیں کہ یہ مصلحت ضروری ہے اور اسے حُب الوطنی پیدا ہو گی۔ تو اس سے بڑی جہالت کوئی نہیں۔

اصل بات یہی ہے کہ پاکستان ہمارے لئے ناگزیر ہے اور اس مہم میں عوام‘ لیڈر شپ‘ حکومتیں‘ ادارے‘ گروہ‘ دھڑے‘ اکثر یتیں و اقلیتیں‘ سول اور افواج سب شامل ہیں۔

بیماری کو سمجھیں جس مدارج سے گزر کر یہ پروان چڑھی ہے اُن سے آگاہی بہت ضروری ہے اور پھر غور کریں کہ کیا یہ وطن ہم نے ہجرتیں کرنے کی خاطر حاصل کیا تھا۔؟ یہ ہمارا ابدی گھر تھا‘ہے اوررہے گا۔ یہ ہماری آنے والے نسلوں کی وراثت ہے۔ ذرا سا صاحب عقل و فراست دادا اپنے پوتوں کی زمین بیچنے کی اجازت اپنے بیٹے کو نہیں دیتا۔ یہ تو آنے والی تمام نسلوں کی ملکیت ہے اور مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ شہری بنیادوں پر جو پاکستان میں پیدا ہوا ہے اس وطن عزیز کی تمام آسائشوں اور علاقوں پر اور وسائل پر اس کا حق ہے۔ وہ سماجی اور معاشرتی طور پر پورا پاکستانی ہے ۔ ادھورا ہر گز نہیں۔ ہر وہ سوچ اور ہر وہ طرز عمل جس سے ایک پورا پاکستانی ادھورا بن جائے تو وہ گمراہ کن ہے اور بانی پاکستان کی سوچ نہیں ہے۔یاد رکھیں قائدِاعظم نے لولے لنگڑے لوگ اس کے شہری نہیں دیکھے بلکہ بھرپور شخصیتوں والی کامیاب نسلیں ذہن میں رکھ کر یہ آماجگاہ اور وطن اُن کے لئے حاصل کیا اور ایک اور قابلِ غور بات یہ کہ لُٹے پٹے‘ غریب بے وسائل مسلمانوں نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا۔ اسلام اس کے حصول اور قیام کے باعث بنا ہے۔ ہر وہ سوچ جس سے اس کے قیام اور اس میں رہنے والوں کی زندگیوں پر زد پڑتی ہو وہ کسی دھڑے کی سوچ ہو سکتی ہے ۔ اسلامی ہرگز نہیں۔ اسلام طرزِ زندگی ہے‘ نظریۂ حیات ہے اور لوگوں میں اسلوبِ حیات کی ترویج اور بہتری کے لئے آیا ہے۔ جس چیز سے انسانوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو اور زندگی ایک جہنم بن جائے وہ کسی بدترین خواب میں بھی اسلام کہلانے کی مستحق نہیں۔ اس لئے ان ابتلاء کے دنوں میں اپنے دل و دماغ میں سیاسی اورمذہبی دھڑے بندیوں سے آگے بڑھ کر اپنی وطنیت کی روح کو سلامت رکھنا اور خدا کے نبی ﷺ کے ذریعے زمین پر رحمت بن کر اُترنے والے دینِ اسلام کی حقیقی شکل کو محفوظ رکھنا سب سے اہم اور مشکل کام ہے ۔ مگر یہ کام کرنا ہوگا۔

چند دن قبل ایک دوست کو میں نے ایک شعر سنایا کہ

سرچھپائے گی بے قراری کہاں؟

جب دلِ بیقرار ٹوٹ گیا

ریاست کے تمام کل پُرزے اپنی اپنی جگہ پر درست چل رہے ہوں تو ایک کی جگہ دوسرا لے ہی نہیں سکتا۔ اس لئے اپنے اپنے دائرہ کار میں احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیں اور توجہ اپنے مشترکہ اثاثے پاکستان کی طرف مرکوز کریں اور کچھ قومی اہداف بنائیں۔

تو میں نے کہا کہ یہ ساری معاشرتی‘ سیاسی‘ سماجی اور مذہبی اٹھا پٹخ اور اکھاڑ پچھاڑ جو ہو رہی ہے اس کے کرداروں میں اتنی عقل ہو کہ وہ یہ سمجھ جائیں کہ اس بے قراری‘ اضطراب‘ بے چینی نے کہاں رہنا ہے اور کہاں سر چھپانا ہے۔ اگر خدانخواستہ دلِ بیقرار یعنی پاکستان ہی۔۔۔۔ اس لئے باہمی اختلاف اور باہمی منافرت کرتے وقت کم از کم یہ ضرور سوچ لیا کریں کہ پاکستان ہے تو آپ یہ سارے جلوس تماشے کرسکتے ہیں پردیسیوں کو ایسی عیاشیاں کون کرنے دیتا ہے کہ آپ آرام سے گھروں سے نکلیں اور سرکای املاک کی توڑ پھوڑ کرکے جا کے سو جائیں۔

-1آپ نے کتنے درخت لگائے؟

-2کب رضاکارانہ صفائی کی؟

-3کب ملک بنانے اور سنوارنے کا کوئی کام کیا؟

-4کب آخری دفعہ رضاکارانہ خون دیا؟

-5کب میڈیکل کیمپ میں رضاکارانہ خدمت کی؟

اور اس طرح کے سوال کرتے جائیں اور شرمندہ ہوتے جائیں۔ تو جن قوموں کی سیاسی جدو جہد کی مثالیں دیتے ہیں اُن کی معاشرتی کوششوں اور سماجی رضاکارانہ خدمات کو دیکھیں تو کوئی نسبت ہی نہیں ملے گی۔ تو جناب پھر یہ توڑ پھوڑ کیوں؟ یہ داستان طول پکڑ جائے گی۔ اصل بات یہی ہے کہ پاکستان ہمارے لئے ناگزیر ہے اور اس مہم میں عوام‘ لیڈر شپ‘ حکومتیں‘ ادارے‘ گروہ‘ دھڑے‘ اکثر یتیں و اقلیتیں‘ سول اور افواج سب شامل ہیں۔

دنیا میں ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ دست و گریباں اور نفرتوں کو پالنے والے دھڑوں اور گروہوں نے کوئی مضبوط ریاست اور ترقی یافتہ ملک یا باعزت اور باوقار قوم بنا کر دکھائی ہو۔ چھوٹے اور فوری دائروں میں محبت کو عام کریں۔ انفرادی سطح پر ذمہ داری اور احترام کو قائم کریں۔ اظہار کے صحیح رستے تلاش کریں اور ایسی تعلیم کے لئے پریشان ہونا شروع کریں جو جذبوں اور شعور کو نکھارتی ہے اپنی زبان ‘مٹی‘ وسائل ‘ مسائل اور ماحول سے تعلق اور پیار کو بڑھائیں اور یاد رکھیں کہ سترہ اٹھارہ کروڑ لوگ اجتماعی ہجرت تو کر نہیں سکتے اس لئے خدا نے جو سرزمین عطا کی ہے اُس کو وطنیت کی حقیقی روح کے ساتھ آباد کریں۔ باہمی رحم اور عفو نہیں کریں گے تو آپ پر رحم کیوں کیا جائے گا؟ قومیں اور ملک اصولوں اور محبتوں سے بنتے ہیں۔ ہمارے لئے نئے معاشرتی اصول وضع نہیں ہوں گے۔ جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے اور اس کے اجزائے ترکیبی میں اپنی فوج کو گالیاں دینا کہاں سے شامل ہوگیا؟ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں! ایک دانشوری کا معیار یہ بھی بن رہا ہے کہ جو فوج کی جتنی کردار کشی کرے گا وہ اتنا ہی بڑا دانشور ہوگا۔ اگر یہی معیار ہے تو آفات و مصائب اور شدید بدامنی اور سیلاب کے سامنے فوج ہی کو کیوں رکھا جاتا ہے۔ یہ ادارہ اگر منظم نہ ہو تو پھر شائد اس کو اسٹیبلشمنٹ بھی نہ کہا جائے لیکن۔۔۔ آخر مقصد کیا ہے بے معنی تنقید کا؟

سول ادارے مستحکم ہوں تو فوج کا کردار واقعی سرحدوں تک ہوتا ہے لیکن یہ پہلے ادارے مستحکم کرنے آئیں پھر واپس جائیں تو آپ خود عدمِ استحکام کی طرف جاتے ہی کیوں ہیں؟ ریاست کے تمام کل پُرزے اپنی اپنی جگہ پر درست چل رہے ہوں تو ایک کی جگہ دوسرا لے ہی نہیں سکتا۔ اس لئے اپنے اپنے دائرہ کار میں احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیں اور توجہ اپنے مشترکہ اثاثے پاکستان کی طرف مرکوز کریں اور کچھ قومی اہداف بنائیں۔

میں یہاں جرمنی میں دیکھتا ہوں کہ ان جنگلات کی معاشی لحاظ سے کوئی خاص حاجت نہیں مگر ہر فرد کو جنگلات کے فروغ میں دلچسپی ہے۔ حکومت کام کے مواقع دیتی ہے اور عوام کام کرنے میں عزت محسوس کرتے ہیں۔ ٹیکس کے لئے ترغیب نہیں دینی پڑتی بلکہ ٹیکس ادا کرنے کا رواج ہے۔ خوش دلی سے بات کرنا پیشہ ورانہ مہارت کا حصہ ہے۔ صاف گوئی عام ہے کسی کے معاملات میں دخل اندازی بدتہذیبی ہے۔ انفرادی آزادی کی کثرت نے اجتماعی آزادی اور باوقار آزاد ملک کو جنم دیا ہے۔ جو مرضی مذہب اختیار کریں مذہب کا ٹھیکیدار بن کر لوگوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی ریاست اجازت نہیں دیتی۔ پچھلے دنوں جو پیرس میں حملہ ہوا اور یورپ بھر میں ردِ عمل کا خطرہ تھا تو جرمن چانسلر کا ٹی وی پر یہ بیان تھا کہ ’’مجھے صرف اس بات پر گہری نظر رکھنی ہے کہ جرمنی میں رہنے والے کسی بھی مذہب یا مکتبۂ فکر کے انسان کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچنا چاہئے اور اُن کے سماجی تحفظ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘‘ اس طرح انسانی حقوق کی پاسداری‘ اکثریتوں اور اقلیتوں کے یکساں تحفظ‘ تعلیم و صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور بلا امتیاز مواقع۔ ترقی کے تحفظ سے ملک اور قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہ ماحول پیدا ہوتا ہے کہ جس کا خواب سلیم کوثر نے یوں دیکھا ہے کہ

وہ برگ جن پہ رتوں کے خواب اترتے ہیں

شجر سے کٹ کے بھی گلشن کے ترجماں رہے

یہ وہ حقیقی وطنیت ہے کہ آدمی کہیں بھی چلاجائے اور کیسے ہی حالات کیوں نہ ہوں وہ اپنے گلشن کے ہی گیت گاتا ہے اور اسی کا ترجمان رہتا ہے۔ کئی دہائیاں رسہ کشی اور توڑ پھوڑ پر ضائع کر لی ہیں اور اپنے وقار پہ داغ ہی لگائے ہیں۔ اب صرف ایک دہائی اجتماعی محبت کے فروغ‘ حقوق کے قیام‘ انصاف کی فراہمی‘ عدل کا رواج ‘ ذمہ داری کے شعور تعلیم کی ترویج‘ صحت کے خیال اور رواداری کو عام کرنے پر بھی زور لگاکے دیکھ لیں۔ فرق تو وقت ہی بتائے گا لیکن تاریخ ایک بات کی گواہ ہے کہ مندرجہ بالا اوصاف اور خوبیوں کے حامل کسی معاشرے اور ملک کو ترقی کرنے سے کوئی طاقت بھی نہیں روک سکتی۔ خدا اور خدا کے فیصلے ہمیشہ ایسے معاشروں کی مدد اور دستگیری کرتے ہیں اور منہ سے خدا کو ماننے والے اگر ان صفات کے حامل نہ ہوں تو خدا کی مدد کو جذب نہیں کرسکتے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

27
July

بھارت میں علیحدگی پسند تحریکیں۔ ان کے محرکات اور اثرات

ہندوتہذیب و تمدن کاسرسری مطالعہ اور طائرانہ جائزہ اس امر کی عکاسی کرنے کے لئے کافی ہے کہ ذات پات اور چھوت چھات پر مبنی ہندو معاشرتی نظام کبھی بھی اپنی پست ذہنیت اور اخلاقی دیوالیہ پن سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا بلکہ موقع پاتے ہی دوسروں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہندوؤں کی فطرتِ ثانیہ ہے۔ ان کے تنگ وتاریک مکانات، طرزِ بودوباش، تنگ عبادت گاہیں، پتھروں سے بنی مورتیوں کو سجدے کرنے اور کچرے کے ڈھیر پر زندگی بسر کر لینے پر آمادہ طبیعتیں اس بات کی گواہی دیتی نظر آتی ہیں کہ ہندو تہذیب و تمدن کھوکھلے پن کا شکار ہے اور اسی کھوکھلے پن کو چھپانے کی خاطر ہمہ قسم تخریب کاری، مکاری اور چانکیہ سیاست کو نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے بلکہ بڑی شدومد کے ساتھ اس پر عملدرآمد بھی کیا جاتا ہے۔ تختِ ہندوستان پر مسلمانوں کے ہزار سالہ دورِحکمرانی، جو مذہبی رواداری، رعایا پروری، عدل گستری اور اسلامی مساوات کے زریں اصولوں پر استوار تھا، اس بات کا ثبوت ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کو کارہائے سلطنت میں بڑی کشادہ دلی کے ساتھ شریک کیا لیکن ہندوؤں نے انگریز راج میں موقع ملتے ہی اپنے پاؤں پھیلا لئے اور بحیثیت قو م مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ جس کے نتیجے میں اسلامیانِ ہند بالآخر اپنے لئے ایک علیحدہ مملکت کے حصول پر مجبور ہوگئے اور انھوں نے شبانہ روز جدوجہد کے بعد 1940ء میں مطالبۂ پاکستان کے محض سات سال کے اندر اسلامی مملکتِ خداداد پاکستان کا حصول ممکن کر دکھایا۔ گو پاکستان تو بن گیا لیکن ہندو ذہنیت کا کیا کیا جائے کہ اس نے اپنی تنگ نظری اور تعصب پر مبنی سوچ کے تحت ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ بھارت میں بسنے والی دیگر اقلیتوں پر بھی مصائب کے کوہِ گراں گرا دیئے۔ یہ تماشا بھی چشمِ عالم نے دیکھا کہ بھارت کے جبرو استبداد کے پنجوں تلے کم وبیش 125علیحدگی پسند تحریکیں سر اٹھا کر کھڑی ہوگئیں۔ دنیا کے کسی ملک میں اتنی بڑی تعداد میں اقلیتوں نے کبھی اپنے حق میں آواز بلند نہیں کی جتنی بھارت جیسے اکیلے ملک میں ہوئی۔

یہ علیحدگی پسند تحریکیں تقسیمِ ہند 1947ء کے بعد شروع ہوئیں۔ ان تحریکوں میں سب سے بڑی تحریکِ آزادئ کشمیر کے ساتھ ساتھ شمال مشرقی ہند میں واقع آسام، تریپورہ، میگالیا، میزورام، ناگالینڈ، بوڈولینڈ، ڈریویڈاناڈو ، ناگالم، اروناچل پردیش اور سکھوں کی تحریکِ خالصتان وغیرہ جیسی بڑی بڑی تحریکیں شامل ہیں۔ کم و بیش ہر بڑی علیحدگی پسند تحریک کے پس منظر میں بھارت کی تنگ نظری، تعصب، مکاری، دغابازی، مذہبی عدم رواداری، سماجی اور معاشرتی عدم مساوات، عدم انصاف، ظلم و استبداد اور اقلیتوں کے جملہ حقوق سلب کر لینے کی ظالمانہ پالیسیاں بنیاد بنیں۔ ذیل میں ہر بڑی علیحدگی پسند تحریک کا مختصراً خلاصہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ قارئین ہندو طرزِ سیاست اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ملک کے ریاستی مکروفریب اور سامراجیت کا کچھ کچھ اندازہ کرسکیں۔

تحریکِ آزادئ جموں و کشمیر

ریاست جموں و کشمیر بھارت کے انتہائی شمال میں واقع ہے ۔ اس کی سرحدیں بھارت، پاکستان، افغانستان اور چین جیسے اہم ممالک سے ملتی ہیں۔ 1947ء میں ریاست کے پارہ پارہ ہونے سے قبل ریاست کی کل آبادی کا 80 فیصد مسلمان، ۱۷ فیصد ہندو اور ۳فیصد سکھ اور عیسائی تھے۔

ًریڈکلف ایوارڈ میں جہاں پاکستان کے ساتھ بہت سی اور ناانصافیاں کی گئیں‘ وہاں پاکستان کو دفاعی اور معاشی اعتبار سے کمزور کرنے کے لئے گورداس پور اور بٹالہ کے علاقے بھارت کو دے کر کشمیر تک جانے کا راستہ بھارت کو دے دیا گیا۔ مہاراجہ کشمیر نے ابھی تک ریاست کا الحاق کسی سے بھی نہ کیا تھا لیکن درپردہ اس نے ریاستی عوام کی غالب اکثریتی رائے کے بالکل برعکس بھارت سے سازباز کر رکھی تھی اور بھارت کے ایجنٹ کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔ چنانچہ پونچھ میں مہاراجہ کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے۔ بھارت کے ایماء پر مہاراجہ نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ ابھی ریاست کے اندر ہنگامے فرو نہ ہوئے تھے کہ پاکستان کے قبائلی اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہوئے اور بزورِ قوتِ بازو، کشمیر کے کچھ علاقے کو حاصل کر لیا۔ مہاراجہ نے پہلے سے کی ہوئی سازباز کے تحت فوراََ بھارت سے فوجی امداد مانگ لی جس پر بھارت نے الحاق کی شرط عائد کر دی۔ مہاراجہ نے حسبِ سازش فوراََ ریاست کا الحاق بھارت سے کرنا منظور کر لیالیکن پاکستان اور کشمیری عوام نے اس ناجائز الحاق کو ماننے سے انکار کر دیا۔ نتیجے کے طور پر یکم جنوری 1949ء کو بھارت سوانگ رچاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا جہاں بالآخر ایک واضع اور غیر مبہم قرارداد پاس ہوئی کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق‘ آزادانہ استصواب رائے کی بنیاد پر‘ حل کیا جائے گا۔ لیکن بھارت نے اس وقت سے لے کر تاحال اقوام متحدہ کی متعدد قرادادوں اور مطالبوں کے باوجود مسلسل ہٹ دھرمی، بدنیتی اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت مسئلہ کشمیر حل نہیں ہونے دیا ہے اور 1989ء میں شروع ہونے والی تحریکِ حریت کی نئی شدت کو پورے ریاستی جبرو استبداد سے کچلنے میں مصروفِ عمل ہے۔ یہ وہ واحد تحریکِ آزادی ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی کہ ہزاروں کشمیری نوجوان شہید کر دیئے گئے ہیں، لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو ظلم وتشدد کا شکار کرکے انہیں معذور اور اپاہج بنا دیا گیا ہے۔ ہزاروں عفت مآب خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے۔ لاکھوں بچے یتیم اور بے آسرا کر دیئے گئے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس ملک کی فوج کر رہی ہے جسے جمہوریہ بھارت کہا جاتا ہے لیکن چشمِ اقوام نے پھر یہ بھی نظارہ دیکھا ہے کہ ان ریاستی اور فوجی مظالم کے باوجود کشمیریوں کا جذبۂ حریت کبھی سرد نہیں پڑا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید تیزی آتی چلی جا رہی ہے ۔ وہ وقت دور نہیں جب بھارت کو عالمی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے اور کشمیریوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر مل کے رہے گی۔

آسام کی تحریکِ علیحدگی پسندی

شمال مشرقی ہند کی سات ہمسایہ ریاستوں میں سے ایک آسام بھی ہے۔ جہاں علیحدگی پسندی کی تحریک پورے زوروشور کے ساتھ جاری ہے۔ یہ ہمالیہ کے زیریں دامن کا حصہ ہے۔ بھوٹان اور بنگلہ دیش کی سرحدیں ہیں۔ بھارت کا ذات پات پر مبنی نظام یہاں کے لوگوں کو سخت ناپسند ہے۔ وہ انسانی مساوات پر یقین رکھتے ہیں۔بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے تنگ آکر یہاں کی عوام نے تحریکِ آزادی کا آغاز کیا اور مختلف جنگجو تنظیموں نے‘ جن میں سب سے بڑی یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (یوایل ایف اے) ہے، مسلح جدوجہد آزادی کا آغاز کیا لیکن بھارت نے اپنے روایتی ظالمانہ اقدامات کے تحت 1990ء میں اس کو کالعدم قرار دے دیا اور ابھی تک ملٹری آپریشنز کے ذریعے وہاں کے عوام کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں۔ مسلم متحدہ آزادی ٹائیگر آف آسام (ایم یو ایل ٹی اے) نامی تنظیم جو 1996ء میں قائم ہوئی، وہ آسام اور آس پاس کے علاقوں کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرتی ہے۔

تریپورہ کی تحریک

تریپورہ بھارت کے مشرق میں واقع ایک ریاست ہے جو ایک متنازعہ ریاست کہلاتی ہے۔ ایک حقیقت کے طور پر یہ بات مسلمہ ہے کہ تریپورہ ہمیشہ سے ایک آزاد ریاست رہی ہے اور کبھی بھی برٹش انڈیا کا حصہ نہیں رہی۔ بناء بریں یہاں کے عوام کا مطالبہ ہے کہ اس کا بھارت سے الحاق قطعاََناجائز اور اصولوں کے برعکس ہے اس لئے باقاعدہ قائم شدہ تنظیمیں، جن میں نیشنل لبریشن فرنٹ آف تریپورہ جو مارچ 1989ء میں بنی، تریپورہ کے لئے علیحدگی کی پرزور وکالت کرتی ہیں۔ اسی طرح تریپورہ ٹائیگر فورس جو 1990ء میں قائم ہوئی، وہ بھی اس کی علیحدگی کی پرزور حامی ہے۔

میگالیا کی تحریک

اس ریاست میں بھارت سرکار کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ مقامی آبادی کو اقلیت بنانے پر تلی ہوئی ہے اور اس طرح وہ مقامی آبادی کے سبھی حقوق سلب کرنے پر مبنی اقدامات اٹھاتی رہی ہے۔ جس کے باعث وہاں پر شدید ردعمل شروع ہوا۔ اگرچہ بھارت سرکار نے مختلف ہتھکنڈوں سے وہاں کے عوام کو رام کرنے کی پرزور تحریک جو 1960ء سے چلی،سے مجبور ہو کر آسام ری آرگنائزیشن (میگالیا) ایکٹ 1969ء پاس کیا جس کی رو سے اسے ایک خود مختار ریاست کا درجہ مل گیا۔ 1971ء کے ایک ایکٹ کے تحت ریاست کو مکمل خود مختاری کے حقوق مل گئے جس کی اب اپنی ایک قانون ساز اسمبلی بھی ہے۔ یہ ریاست ابھی بھی بھارت سرکار کی مختلف حیلے بہانوں سے کی گئی ریشہ دوانیوں کا شکار رہتی ہے۔

میزو رام کی تحریک

میزورام کا نام تین الفاظ سے استخراج شدہ ہے جس کا مفہوم دامنِ کوہ کے لوگ ہے۔ اس وادی میں 1947ء کی تقسیمِ ہند کے وقت 200 قبائلی سردار تھے۔ ریاست کے اعلیٰ پڑھے لکھے طبقے اس قبائلی نظام کے خلاف تھے۔ ان کی مہم جوئی کے باعث 1954ء میں ایک قانون کے تحت 259 قبائلی سرداروں کے وراثتی حقوق سلب کر لئے گئے۔ لیکن بعد میں مختلف وجوہات کی وجہ سے اختیارات کے ارتکاز کے خلاف بھی مہم چلی اور میزونیشنل فیمائن فرنٹ جو بعد میں میزو نیشنل فرنٹ میں تبدیل ہوا، کے مطالبات کو مانتے ہوئے 1971ء میں میزو ہلز کو یونین ٹیریٹری میں بدل دیا گیا اور اس طرح1972ء میں میزورام قائم ہو گیا۔ تاہم یہاں کے عوام ابھی بھی مطمئن نہ ہو سکے اور بالآخر 1986ء کے میزورام امن معاہدے کے تحت ریاست کو مکمل خودمختاری کا درجہ ملا۔

ناگالینڈ کی تحریک

ناگالینڈ کی ریاست 1974ء کی تقسیم ہند کے بعد ریاست آسام کے ایک حصے کے طور پر قائم تھی لیکن قوم پرستانہ تحریکوں نے تشدد کا رجحان اختیار کیا اور پوری ریاست میں علیحدگی پسندی کا طوفان کھڑا کر دیا۔ 1955ء میں بھارتی فوج نے بے شمار مظالم برپا کئے تاہم ایک معاہدے کے تحت ناگالینڈ کو الگ سے خودمختاری دینے کا اعلان ہوا۔ بعد میں یونین ٹیریٹری قائم کرکے اسے براہِ راست بھارت کے دارالحکومت سے نتھی کر دیا گیا لیکن یہ اقدام بھی قبائل کی ناراضگی کو ختم نہ کر سکا۔ بالآخر جولائی1960ء میں بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو اور ناگا پیپلز کنونشن کے درمیان مذاکرات ہوئے اور 16نکاتی معاہدے کے تحت بھارت سرکار ناگالینڈ کو کامل خودمختاری دینے پر مجبور ہوگئی۔1962ء میں ناگالینڈ نے خودمختاری حاصل کی لیکن قبائل کی پھر بھی تسلی نہ ہوئی اور وہ اب بھی انڈیا کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور مکمل آزادی کے خواہاں ہیں۔

بوڈولینڈ کی تحریک

بوڈولینڈ کے عوام کا مطالبہ ہے کہ بوڈولینڈ کو مکمل آزادی دی جائے۔ یہ فی الحال بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت انتظامی طور پر خودمختاری کا درجہ رکھنے والی ریاست ہے۔ یہاں کے رہنے والے برہما پتری تہذیب کے اولین باسی کہلاتے ہیں۔ کبھی یہ آسام پر حکمرانی کرتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ طاقت میں کمزور پڑتے چلے گئے۔ بھارت سرکار کے ظالمانہ اور غاصبانہ اقدامات کے نتیجے میں یہاں کے عوام پر معاشی اور تعلیمی دروازے بند کردیئے گئے تو یہاں پر بھارت سے آزادی حاصل کرنے کی تحریک چلی ۔یہ تحریک آل بوڈو سٹوڈنٹس یونین جو مارچ 1987ء کو قائم ہوئی، کے تحت زور پکڑ گئی۔ اسی تنظیم نے بعد میں اپنا ایک سیاسی ونگ بوڈو پیپلز ایکشن کمیٹی کے نام سے قائم کیا تاکہ اپنی جدوجہدِ آزادی کو تیز کر سکے۔ 1993ء میں مختلف ریاستی معاملات کے باعث یہاں پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے اور تقریباََ80 ہزار لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ بوڈوز کی تحریک آزادی کا جنون پھر بھی سرد نہیں پڑا اور یہ تحریک پورے زوروشور کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

ڈریویڈا ناڈو کی تحریک

ابتداء میں ڈریویڈا ناڈو کی آزادی کی تحریک تامل زبان بولنے والے علاقوں تک محدود تھی لیکن بعد ازاں یہ ان دوسری ریاستوں تک پھیل گئی جہاں جہاں ڈریویڈی زبان بولی جاتی ہے‘ ان میں آندھرا پردیش ، کیرالہ اور کرناٹک کی ریاستیں شامل ہیں۔ تحریک کے محرکین سیلون، اڑیسہ اور مہاراشٹریہ کو بھی ڈریویڈاناڈو میں شامل سمجھتے ہیں۔ 1940ء سے 1960ء تک اس تحریئ آزادی کو مکمل عروج حاصل ہوا۔ تاہم 1956ء کے ریاستوں کے تنظیمِ نو کے قانون نے اس تحریک کو خاصا کمزور کیا۔ اگرچہ یہ تحریک جاری ہے تاہم اس میں پہلے جیسا دم خم نہیں۔

ناگالم کی تحریک

1950ء میں ناگا نیشنل کونسل نے بھارت سرکار کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے اس ریاست کے لئے علیحدگی کا پرزور مطالبہ کیا لیکن یہ تحریک1975ء کے شلونگ معاہدے کے بعد بہت سے جنگجوؤں کے ہتھیار ڈالنے کی وجہ سے کمزور پڑگئی۔ اسی دوران بھارت نے اپنی چالبازیوں سے ناگالینڈ ریاست بناکر اس تحریک کو ختم کرنا چاہا تاہم اب بھی ناگالینڈ کے لوگوں کا ایک بڑا حصہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ نامی تنظیم کے ذریعے ایک علیحدہ ملک کی تحریک کو جاری وساری رکھے ہوئے ہے۔

اروناچل پردیش کی تحریک

یہ بھارت کی 29 ریاستوں میں سے ایک ریاست ہے۔ یہاں کے قبائل آزاد ۂند کے وقت تک آزاد رہے ہیں۔ اروناچل پردیش ، تبت اور ملحقہ علاقوں سے متعلق بھارت اور چائنا میں شدید تناؤ رہا ہے۔1962ء میں بھارت اور چائنا کے بیچ ایک جنگ بھی ہو چکی ہے۔ 1955ء میں شمال مغربی سرحدی ایجنسی (نیفا) کے نام سے یہ علاقہ موسوم کیاگیا۔ تاہم 20 جنوری 1972ء کو اسے اروناچل پردیش کا نام دے دیا گیا اور اسے یونین ٹیریٹری کا درجہ ملا۔20فروری1987ء کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلیاگیا۔ لیکن نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ کے لوگ اب بھی یہاں پر مختلف کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں۔

سکھوں کی تحریکِ خالصتان

خالصتان موومنٹ کے ذریعے سکھ اپنے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ریاست پنجاب میں سکھ روایتی طور پر آباد ہیں۔ انگریز راج سے قبل سکھ یہاں پر82 سال سے حکمرانی کر رہے تھے۔ سکھوں کی تحریکِ آزادی 1970ء سے1980ء تک اپنے بامِ عروج تک پہنچی۔

1980ء میں سکھوں نے مسلح جدوجہد کو زور و شور سے شروع کیا تو اس وقت کی بھارت سرکار نے سکھوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا۔ حتیّٰ کہ بھارتی فوج سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل میں گھس گئی اور وہاں کے مذہبی تقدس کو بے حد پامال کیا جس سے سکھوں پر بجلی گر گئی اور یہ غم وغصہ یہاں تک پہنچا کہ اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم مسز اندرا گاندھی اپنے ہی سکھ باڈی گارڈوں کے ہاتھوں قتل ہوگئی۔ اندراگاندھی کے قتل نے سکھوں پر مزید بھارتی مظالم کا دروازہ کھول دیا اور وہ 1984ء میں سکھ نسل کشی پر مبنی اقدامات کے تحت ہزاروں کی تعداد میں قتل کر دیئے گئے۔

جنوری 1982ء میں گولڈن ٹیمپل پر آل انڈیا سکھ سٹوڈنٹس اور دمدمی ٹیکسل جیسے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا۔22جنوری 1986ء کو وہاں پر ایک اجتماع نے خالصتان کی تخلیق کی قراداد پاس کی اور اس کے بعد ایک تحریکِ آزادی کو برپا کیا گیا۔ تاہم ہند سرکار 1990ء میں اس پر کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہو گئی۔ باوجود اس کے خالصہ راج پارٹی اور (ایس اے ڈی اے) نے اس تحریک کو کسی نہ کسی طور زندہ رکھااور اب بھی یہ تحریک بھارت میں بالعموم اور بھارت سے باہر بالخصوص اپنے لئے حمایت کا سامان کرتی رہتی ہے۔ اور سکھ برادری عالمی سطح پر اپنے مطالبات کی وکالت میں پیش پیش رہتی ہے۔ مصنف ہلال کے لئے مضامین لکھتے ہیں ‘ ان دنوں مقامی یونیورسٹی سے ایم فل کررہے ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

myanmar_fazia.jpg

27
July

العضب 'نبئ کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی تلوار کا نام ہے۔ عضب عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’تیز‘‘ یا ’’کاٹنے والی‘‘ ہوتا ہے۔ یہ تلوار نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو ایک صحابی نے غزوہ بدر سے قبل پیش کی تھی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے یہ تلوار غزوہ بدر اور غزوہ احد میں استعمال کی تھی اور بعد میں یہ تلوار صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے پاس رہی۔ اب یہ تلوار قاہرہ کی جامع مسجد الحسین میں موجود ہے۔ پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کا نام ’’ضرب عضب‘‘ اسی مناسبت سے رکھا گیاجو خوارج کی سرکوبی اور مکمل خاتمے تک جاری رکھا جائے گا۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ برس شروع کئے جانے والا فوجی آپریشن ضرب عضب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے پاکستان میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے جس میں ساٹھ ہزار سے زائد پاکستانی جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں۔ دہشت گردوں نے مذموم کارروائیوں کے ذریعے حکومت، افواج پاکستان اور اس کے شہریوں کو متعد د بار نشانہ بنایا۔اس سے پاکستان اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار ہوا۔ عالمی سطح پر بھی ملک کا امیج خراب ہوا جس کا براہ راست اثر ہماری معیشت اور خارجہ پالیسی پڑا۔ اس صورتحال میں غیرمعمولی اقدامات کی فوری ضرورت تھی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا تھا۔ اس حوالے سے دہشت گردوں سے مذاکرات بھی کئے گئے تاہم وہ بے نتیجہ رہے جس کے بعد گزشتہ سال 15جون کو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔

ضرب عضب کا واضح ہدف پاکستان سے دہشت گردوں کا مکمل صفایا ہے اور قوم پرامید ہے کہ گزشتہ بارہ تیرہ سال سے جس عفریت نے اسے بری طرح سے جکڑ رکھا ہے ، بالآخر اس سے نجات ملنے والی ہے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے خلا ف پاک فوج کو بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور طے شدہ منصوبے کے مطابق وہ اپنے اہداف حاصل کرتی جا رہی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں فیصلہ کن آپریشن اس لئے بھی ناگزیر تھاکہ یہ علاقہ کافی عرصے سے دہشت گردوں کا مرکز بن چکا تھا۔ دنیا بھر کے دہشت گرد جن میں تحریک طالبان کے علاوہ ازبک، چیچن، ترکمانستان کے دہشت گرد شامل ہیں یہاں موجود تھے ۔ خودکش بمبار، دھماکے سے اڑائی جانے والی گاڑیاں، بارودی سرنگیں سب یہاں تیار ہوتے تھے اور دہشت گرد یہاں ایک مکمل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کرکے ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔شمالی وزیرستان سے اُٹھنے والی دہشت گردی کی ان سرکش موجوں نے ملک کے کونے کونے میں تباہی و بربادی کی انتہاء کردی تھی ۔ آئے روز پاک افواج پر حملے کئے گئے۔ بھرے بازاروں میں عام شہریوں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، نشانہ بنایا گیا۔سرکاری و نجی املاک تباہ و برباد ہوگئیں۔ ترقی کا پہیہ رُک گیا۔ معیشت نیم دیوالیہ ہوگئی اورعالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو شدید نقصان پہنچا۔ خیبرپختونخوا اور فاٹا کے بہت سے علاقوں میں سول انتظامیہ دہشت گردوں کے سامنے بے بس نظر آنے لگی۔ یہ علاقے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن گئے۔ انہوں نے اپنے زیر تسلط علاقوں کو بیس کیمپ بنا کر ایک طرف مقامی آبادی پر ظلم وستم کی انتہاء کردی تو دوسری طرف ملک کے دوسرے حصوں تک اپنی مذموم سرگرمیاں پھیلانے کا اعلان کردیا۔ تاہم حکومت نے دہشت گردوں کی ان تمام کارروائیوں کے باوجودنئی حکومت نے انہیں مذاکرات کا موقع دینے کااعلان کیا۔ اس دوران گو کہ دہشت گردوں نے زبانی طور پر اپنی کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا تاہم عملی طور پرایسانہ ہوسکا۔ اسلام آباد کچہری، راولپنڈی آر اے بازار، اسلام آباد سبزی منڈی، ترنول کے قریب افواج پاکستان کے دوسینئر افسروں پر حملہ کیا گیا۔ 8جون کو دہشت گردوں نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر حملہ کیا اور اگلے ہی روز پاکستان بھر میں اسی طرز کے دہشت گردحملوں کی دھمکی دے دی۔جس کے بعد حکومت نے دہشت گردوں سے مذاکرات ختم کرنے اوران کے خلاف فیصلہ کن اور بھرپور کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔

ضرب عضب کے اہداف میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کا پاک سرزمین سے مکمل خاتمہ کرکے حکومت کی رٹ قائم کرنا ، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کرنا، ہتھیار نہ پھینکنے والے دہشت گردوں کا خاتمہ اور فاٹا اور ملحقہ علاقوں میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کرنا شامل ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے برملا اظہار کیا کہ آپریشن ضرب عضب کا مقصد ریاست کی رٹ قائم کرنا ہے۔ پاک فوج یہ جنگ ملک میں امن اور استحکام کے لئے لڑرہی ہے، فورسز کو مکمل قانونی حمایت بھی فراہم کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پوری قوم اس جنگ میں اپنے جوانوں کے پیچھے کھڑی ہے، ریاست کی رٹ قائم ہونے تک فوج اور انٹیلی جنس ادارے دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے آپریشن کے آغاز پر واضح کردیا تھا کہ دہشت گردوں کا پیچھا کر کے انہیں انجام تک پہنچایا جائے گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ افواجِ پاکستان نے آپریشن سے قبل تمام علاقے کو سیل کردیا تھا خاص طور پر افغان سرحد پر نگرانی سخت کردی گئی تھی اور اس حوالے سے افغان حکومت اور نیٹو کو بھی کڑی نگرانی کے لئے کہا گیاتاہم دوسری جانب ان مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیاگیا۔ جس کے نتیجے میں بہت سے دہشت گرد افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان علاقوں سے پاکستان سرحد پر حملے کئے گئے۔ جس پر پاکستان نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں فرار ہونے والے دہشت گردوں اور افغان سرحدوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے مطلوب افراد کو افغانستان کے سرحدی علاقوں بالخصوص نورستان اور کنٹر میں پناہ دی جارہی ہے اور پڑوسی ملک کی جانب سے یہ طرز عمل آپریشن کے مطلوبہ مقاصد میں رکاوٹ اور نتائج پر اثرا نداز ہوسکتا ہے۔ افغانستان کو اس بات پر آمادہ کرنا ضروری تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو سب کے لئے مشترکہ چیلنج ہے‘ باہمی تعاون ضروری ہے۔اسی امر کے پیش نظر وزیراعظم ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل کے ہمراہ افغانستان میں افغان قیادت سے ملے اور انہیں آگاہ کیا کہ پاکستان دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے خلاف کسی قسم کے امتیاز کے بغیر کارروائی کررہا ہے۔ ملاقات میں افغان قیادت کی طرف سے بھی مثبت اشارے دیئے گئے۔

آپریشن ضرب عضب چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے پر شمالی وزیرستان کے علاقوں سے مقامی، غیرعسکری اور حکومت حامی آبادی کے انخلاء اور نقل مکانی کے ممکنہ راستوں اور مقامات کی نشاندہی، دوسرے مرحلے میں زمینی آپریشن اور علاقے کی ’’فزیکل سرچ‘‘، تیسرے مرحلے میں ازسرِ نو بحالی جب کہ چوتھے اور آخری مرحلے میں مقامی آبادی کی واپسی اور نوآباد کاری شامل ہے۔ پہلے مرحلے میں میرعلی، میران شاہ اور شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں مقامی افراد نے نقل مکانی کرتے ہوئے بنوں، لکی مروت اور ٹانک کے علاقوں کی جانب سفر شروع کیا۔ مقامی آبادی کے کامیاب انخلاء کے فوراََ بعد دہشت گردوں کے خلاف دوسرے مرحلے میں زمینی آپریشن کا آغازہوا۔ اس دوران پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے ان کی کمرتوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاک فوج کے ز مینی آپریشن کے بعد انہیں کلیئر کیا گیا اور دستے میر علی اور میران شاہ جا پہنچے۔ یہ دو مقام دہشت گردوں کے شمالی وزیرستان میں سب سے بڑے مرکز تھے۔یہاں پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ بہت سے گرفتار بھی ہوئے اور متعدد نے ہتھیار بھی ڈال دیئے۔اس کے بعد افغان بارڈر کی طرف درپہ خیل کوبھی کلیئر کیا گیا۔ میرانشاہ کے بعد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے اہم مراکز بویا اور دیگان کے علاقوں کو بھی دہشت گردوں سے پاک کروایا گیا اور وہاں پاک فوج اپنا قبضہ مستحکم کرچکی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل عاصم باجوہ کی ایک پریس بریفنگ کے مطابق ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کئے جاچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے کلیئر کرائے گئے علاقوں کو انتظامیہ کے حوالے کررہے ہیں۔آپریشن کے آغاز سے اب تک 2700دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک ہزار ٹھکانے اورکمین گاہیں تباہ کی جاچکی ہیں۔ علاوہ ازیں بھاری تعداد میں اسلحہ، ہتھیار اور سیکڑوں ٹن باروی مواد برآمد بھی برآمد کیا گیا ہے۔شمالی وزیرستان کے علاوہ بعض دوسری ایجنسیوں میں مختلف گروپوں کی موجودگی کی اطلاعات پر ان کے خلاف بھی آپریشن شروع کیا گیا۔ خیبرایجنسی میں آپریشن ’’خیبرون‘‘ کے ذریعے دہشت گردوں کے ایسے ٹھکانوں کے خلاف متعدد مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک نوے فیصد علاقہ کلیئر کروایا جا چکا ہے۔

ضرب عضب چونکہ دہشت گردوں کے خلاف ضربِ کاری ثابت ہوا ہے اس لئے ان کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا۔ 16دسمبر کو دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کرکے بہت سے معصوم بچوں اور اساتذہ کو شہید کردیا۔ اس ہولناک واقعے سے پاکستان تو کیا پوری دنیا کانپ اٹھی۔ سانحہ پشاور کے بعد پاکستانی قوم ایک مرتبہ پھر ملی جذبے سے اٹھی۔ اس واقعہ کے بعد وزیر اعظم پاکستان کی زیر صدارت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں انتہائی اہم فیصلے کئے گئے جن پر فوری عملدرآمد اور ٹائم فریم پر سب نے اصرار کیا۔ اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کمزور فیصلے کئے تو قوم مطمئن نہیں ہوگی، قوم کو اس وقت تسلی ہو گی جب مجرموں کو سزا ملے گی۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے مقدمات کے لئے فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں قائم کر نے کا اعلان کیا۔ جن کی مدت 2سال ہوگی۔ خصوصی ٹرائل کورٹ کے قیام سے یقیناًایسے جرائم کا ارتکاب کر نے والے عناصر بلا تاخیر اپنے انجام کو پہنچائے جاسکیں گے۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ملک میں کسی طرح کی عسکری تنظیموں اور مسلح جتھوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ نفرتیں ابھارنے، گردنیں کاٹنے، انتہا پسندی اور فرقہ واریت اور عدم برداشت کو فروغ دینے والے لٹریچر اخبارات اور رسائل کے خلاف مؤثر اور بھر کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہشت گردوں اور ان کے نظریات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہوگی۔ دہشت گردوں کی مالی اعانت کے تمام وسائل مکمل طورپر ختم کر دیئے جائیں گے۔ کالعدم تنظیموں کو کسی دوسرے نام سے کام کر نے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سپیشل اینٹی ٹیررازم فورس کے قیام اور انسداد دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کو مضبوط اورفعال بنانے کافیصلہ بھی کیاگیا ہے۔ مذہبی انتہاپسندی کو روکنے اور اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ضابطہ بندی ہوگی۔ بے گھر افراد کی فوری واپسی کو پہلی ترجیح رکھتے ہوئے فاٹا میں انتظامی اور ترقیاتی اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کے مواصلاتی نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ انٹر نیٹ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کے فروغ کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ملک کے ہر حصے میں انتہا پسندی کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی۔سانحہ پشاور کے بعد ضرب عضب دہشت گردی کے خلاف قومی آپریشن کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ اب پوری قوم اور فوج متحد ہو کر ان کا صفایا کر نے پر کمر بستہ ہوچکی ہے۔

ضرب عضب آپریشن کے دوران تقریباً دس لاکھ افراد نے نقل مکانی کی۔ جن کی واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ آپریشن کے دائرہ کار اور اختتام کی حتمی تاریخ نہیں دی جاسکتی تاہم جس طرح افواج پاکستان کامیابی سے بھرپور آپریشن کررہی ہیں اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے باقی افراد بہت جلد اپنے علاقوں میں واپس جاسکیں گے۔ افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ حکومت اور ملک کے عوام نے آئی ڈی پیز کی خدمت کے لئے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی مثالی ہے۔ پاک فوج نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے کے ساتھ ساتھ ایک ماہ کی تنخواہ اور ہزاروں ٹن کا راشن بھی اپنے قبائلی بھائیوں کے لئے پیش کیا ۔ جس طرح پاک فوج کے افسر اور جوان بے جگری سے شدت پسندوں کے خلاف صف آرا ہوکر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں انہیں نہ صرف شمالی وزیرستان کے باسی بلکہ تمام محب وطن پاکستانی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔متاثرین کی بحالی کے لئے بھی پاک فوج کے جوان سرگرم عمل ہیں۔امید ہے کہ اس مرحلے کی بھی کامیابی سے تکمیل ہوجائے گی۔شمالی وزیرستان کے باسی جب اپنے گھروں کو لوٹیں گے تو انہیں یہ احساس ضرور ہوگا کہ پاک فوج کے شہداء نے ان کے کل کے لئے اپنا آج قربان کردیا ۔

Page 7 of 17

Follow Us On Twitter