18
August

جنوبی وزیرستان ایجنسی جغرافیائی اور دفاعی اعتبار سے بڑی اہمیت کی حامل ہے یہ ایجنسی ایک طویل عرصے تک ملک دشمن اور تخریبی عناصر کی سرگرمیوں کا مرکزرہی ہے۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کی کامیابی کے بعد یہاں کے قبائلی عوام کو ہر قسم کی فکری،نظری اور فنی تعلیم سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس تناظر میں پاک فوج کے زیرنگرانی حکومت نے مختلف تعلیمی منصوبوں کی منظوری دی۔

cadetcolwana1.jpg

کیڈٹ کالج وا نا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔کیڈ ٹ کالج وانا کے قیام کا باقاعدہ ا علان سا بق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے 15 فروی 2010 کو گو مل زام کے مقام پر ایک قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور اس کاباقاعدہ افتتاح 23 جون 2011 کو انہوں نے اپنے دست مبارک سے کیا۔کیڈٹ کالج وانا جنوبی وزیرستان ایجنسی کی تعلیمی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام کے لئے ایک انمول تحفہ ثابت ہوا ہے۔ یہا ں کے کیڈٹس کو ہر قسم کی نصابی، ہم نصابی اور غیرنصابی سرگرمیاں اورتعلیم مہیا کرنے کے لئے کالج کو ہر قسم کی جدید سہولیات اور لوازمات سے آراستہ و پیراستہ کیا گیا ہے۔ کیڈٹس جدید معیاری سائنس لیباٹریز، کمپیوٹر لیب،لینگویج لیب، لائبریری، ان ڈور اور آوٹ ڈور کھیلوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ کا لج میں اس و قت تقر یباً 300 کیڈٹس کو معیا ری تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

اب تک کالج کے دو بیچز پاس آؤٹ ہو چکے ہیں۔ ان میں کل 94 کیڈٹس شامل ہیں‘ جو ملک کے پیشہ ورانہ ا علیٰ تعلیمی اور تربیتی اداروں میں تعلیم و تربیت پا رہے ہیں‘جن میں سے 16 کیڈٹس پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیر تربیت ہیں۔ فارع التحصیل کیڈٹس میں سے 12 کیڈٹس میڈیکل کالجز اور 17 کیڈٹس انجینئرنگ یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اس کالج کو وجود میں آئے قلیل عرصہ ہوا ہے لیکن معیاری تعلیم کی بات کی جائے تواس کا مو ازنہ پاکستان کے ا علیٰ اور معیاری تعلیمی اداروں سے کیا جاسکتا ہے۔ یہا ں کیڈٹس کی شخصیت سازی، کردارسازی، درست مذہبی اقدار، ذہنی و جسمانی نشو ونما اور کیر ئیر کو نسلنگ کی جاتی ہے۔ اگرکالج ہذا کے سالانہ بورڈ کے امتحانات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو اس کی کارکردگی بھی کسی دو سر ے ا علیٰ معیاری تعلیمی ا دا رے سے کم نہیں رہی ہے۔ سال2013 میں کالج کے فرسٹ بیچ کے میٹرک امتحان میں 49 کیڈٹس نے شرکت کی۔ بو رڈنتائج کے مطابق ان میں سے پہلی 10 میں سے7 پوزیشنز کیڈٹ کالج وانا کے کیڈٹس نے حاصل کیں اور 48 کیڈٹس نے اے پلس گریڈ حاصل کیا۔ اس طرح سال2013 کے سیکنڈا ئیر بو رڈ نتائج کے مطابق کالج ہذا کے49 کیڈٹس میں سے6کیڈ ٹس نے بورڈ کے ٹاپ ٹین میں پوزیشنز حاصل کیں اور 36 کیڈٹس نے اے پلس گریڈ اور 13 اے گریڈ حا صل کیاہے۔

cadetcolwana2.jpg

سا ل 2014 کے میڑک ا متحانات میں49 کیڈ ٹس نے حصہ لیا اور بورڈ نتائج کے مطابق پہلی 20 پوزیشنز میں سے 9 پوزیشنز کالج ہذا کے کیڈٹس نے حاصل کیں۔ سال2014 سیکنڈائیر کے امتحانات میں 46 کیڈٹس نے حصہ لیا اور بورڈ نتائج کے مطابق پری ا نجینئرنگ گروپ میں کالج ہذا کے کیڈٹ نے تھرڈ پوزیشن حاصل کی۔سال 2014 فیڈرل بورڈ کے زیر انتظام جماعت نہم میں کل 49 کیڈٹس شریک ہوئے جن میں 45 کیڈٹس نے اے پلس گریڈ اور 3 نے اے گریڈ حاصل کیا۔اسی طرح سال 2014 میں فیڈرل بورڈ کے زیرانتظام فرسٹ ائیر کے 48 کیڈٹس نے شرکت کی جن میں سے20 کیڈٹس نے اے پلس گریڈ اور 24 نے کیڈٹس اے گریڈ حاصل کیا۔ اب تک کالج کے دو بیچز پاس آؤٹ ہو چکے ہیں۔ ان میں کل 94 کیڈٹس شامل ہیں‘ جو ملک کے ا علیٰ پیشہ ورانہ تعلیمی اور تربیتی اداروں میں تعلیم و تربیت پا رہے ہیں‘جن میں سے 16کیڈٹس پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیر تربیت ہیں۔ فارع التحصیل کیڈٹس میں سے 12 کیڈٹس میڈیکل کالجز اور 17 کیڈٹس انجینئرنگ یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

کیڈٹ کالج وانا یقیناًجنوبی وزیرستان ایجنسی کی تقدیر بدلنے کے لئے اپنا بھرپور کردا ر ادا کررہا ہے۔ کالج ہذا یہاں کے محبِ وطن قبائلی عوام کی سوچ کو مثبت بنانے کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کی توجہ تعلیم کی طرف مبذول کرا رہا ہے۔ ادارہ ہذا پر جنوبی وزیرستان ایجنسی کے عوام کی طرف سے بے پناہ اعتماد کا اظہارکیا جارہا ہے۔ کالج ہذا میں کیڈٹس کی تعلیم و تربیت انتہائی معیاری انداز سے کی جاتی ہے تاکہ یہاں کے فارع التحصیل کیڈٹس اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے ملک و قوم

کی بہترین طریقے سے خدمت سر انجام دے سکیں۔

cadetcolwana3.jpg

18
August

عزم و ہمت ‘ لگن اور مثالی تربیت کی ایک داستان۔ میجر سبکتگین شہید کی چاروں بیٹیوں نے ڈاکٹر بن کر مثال قائم کی۔ شہید باپ کی دو بیٹیاں آج پاکستان آرمی کی میڈیکل کور میں بحیثیت ڈاکٹر اپنے ملک کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

پاکستان کی عسکری تاریخ شجاعت و بہادری کے بے شمار واقعات اور روشن ستاروں سے مزین ہے۔ ایک ایسا ہی روشن ستارہ میجر سبکتگین ہے‘ جس نے 13 مئی 1989 کو سیاچن کے محاذ پر جام شہادت نوش کیا۔ میجر سبکتگین نے 1979میں کمیشن حاصل کیا اور 6سندھ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ کھاریاں بریگیڈ میں تھری جی ایس او کے فرائض انجام دیئے اور کچھ عرصہ بعد پشاور کور کمانڈر جنرل مرزا اسلم بیگ کے اے ڈ ی سی کی حیثیت سے کام کیا۔ جب سیاچن کے محاذ کے لئے والینٹیئر پوسٹنگ کے لئے پوچھا گیا تو اس مرد جری نے اپنا نام پیش کیا اور ملک کے دفاع کے لئے رضامندی ظاہر کی۔ سیاہ چن کے محاذ پر دشمن کی چھیڑ چھاڑ جاری تھی۔ میجر سبکتگین بھی اس محاذ جنگ پر تعینات کر دیئے گئے۔ وہ پرعزم‘ بہادر اور مشکل پسند افسر تھے۔ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار اس مرد جری نے اپنے آپ کو ارض پاک کے دفاع کے لئے پیش کیا تھا جو غازی یا شہید کا مرتبہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس محاذ جنگ پر دشمن سے چھیڑ چھاڑ تو جاری رہتی تھی۔ اسی دوران پانچ دن کے ایک آپریشن میں میجر سبکتگین نے محاذ mojberhay1.jpgجنگ میں حصہ لیا اور نہایت بہادری کے ساتھ دفاع وطن کا فریضہ انجام دیا۔ 13مئی 1989 کو وہ وقت آن پہنچا جب اس بہادر سپوت نے جام شہادت نوش کیا۔

اﷲتعالیٰ نے میجر سبکتگین شہید کو 4 بیٹیوں سے نوازا تھا۔ وہ تو اپنی متاعِ حیات ارضِ وطن پر قربان کر کے حیاتِ جاوداں پا گیا۔ اب ان بچیوں کی دیکھ بھال ماں کے نازک کندھوں پر آن پڑی۔ ریحانہ باجی نے کمال صبر سے اپنے خاوند کی شہادت کے صدمے کو برداشت کیا اور اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کو اولین ذمہ داری سمجھا۔

اﷲتعالیٰ نے میجر سبکتگین شہید کو 4بیٹیوں سے نوازا تھا۔ وہ تو اپنی متاعِ حیات ارض وطن پر قربان کر کے حیات جاوداں پا گیا۔ اب ان بچیوں کی دیکھ بھال ماں کے نازک کندھوں پر آن پڑی۔ ریحانہ باجی نے کمال صبر سے اپنے خاوند کی شہادت کے صدمے کو برداشت کیا اور اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کو اولین ذمہ داری سمجھا۔ اکیلی خاتون کے لئے چار بیٹیوں کی نشوونما‘ دیکھ بھال‘ تعلیم و تربیت کوئی آسان کام نہ تھا۔ لیکن کوہ گراں جیسے عزم والی اس ماں نے کہیں تدریس کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو کہیں ٹیوشن جیسا محنت طلب کام اپنے ذمے لیا۔ کہیں قلم فرسائی کی تو ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے ڈرامے لکھے۔ اپنی بچیوں کے لئے مالی وسائل کو سدِ راہ نہ ہونے دیا۔ بیٹیوں کو اﷲتعالیٰ نے خداداد صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ ذہین و فطین بیٹیاں تھیں۔ انہیں اپنے والد کی شہادت پر فخر تھا ۔ تعلیمی میدان میں انہوں نے کبھی اپنی ماں کو مایوس نہ ہونے دیا۔ عظمیٰ‘ رابعہ‘ بشریٰ اور عائشہ نے ایف ایس سی کے امتحان میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ قدرت کا اٹل اصول ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرتی ہے جو اپنی مدد خود کرتے ہیں۔ کتنی قابل رشک بات ہے کہ چاروں بیٹیوں نے یکے بعد دیگرے آرمی میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور میڈیکل گریجویٹ بن کر قابل فخر ریکارڈ قائم کیا۔ ہم اردگرد نظر دوڑائیں تو کتنے والدین اپنی اولاد کو ڈاکٹر بنانے کی خواہش دل میں پالتے رہتے ہیں۔ اچھے کالجوں میں داخلے دلواتے ہیں۔ ہر مضمون میں ٹیوشن کا بندوبست کرتے ہیں اور پھر انٹری ٹیسٹ کی تیاری پر تو خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ بسا اوقات اس خواہش کی تکمیل کے لئے ایک سال مزید لگا دیا جاتا ہے اور اگر پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ نہ ملے تو چین یا سوویت یونین کے کالجوں کا رخ کیا جاتا ہے۔ لیکن اﷲتعالیٰ نے میجر سبکتگین شہید کی ان چاروں بیٹیوں کو وہ اعلیٰ ذہانت عطا کی اور ماں کی محنت رنگ لائی کہ چاروں بہنوں نے یکے بعد دیگرے آرمی میڈیکل کالج سے میڈیکل گریجویٹ کا اعزاز حاصل کیا۔

سب سے پہلے تو میں پاک آرمی کو سلیوٹ کرتی ہوں کہ وہ اپنے شہداء کی بیویوں کو’’بیوہ نہیں ہونے دیتے‘‘ اور شہید کے بچے یتیم نہیں ہوتے۔ پاک فوج ہر قدم پر اُن کی بھرپور حفاظت کرتی ہے۔میں پاک فوج کی بہت شکرگزار ہوں اس کے علاوہ میری یونٹ 6 سندھ رجمنٹ گزشتہ 26 سال سے میرے ساتھ ہے۔ 5 سندھ رجمنٹ جس میں میرے شوہر نے شہادت حاصل کی‘ اُنہوں نے بھی بڑا خیال رکھا۔

پاک فوج میں شہید ہونے والے آفیسرز کی بیگمات کے لئے میرا یہی پیغام ہے کہ یہ لوگ تو اپنی زندگی کا سودا کر کے آپ لوگوں کی زندگیوں میں آئے ہوئے ہیں۔ اگر اﷲ آپ میں کسی کے شوہر کو وطن کی حفاظت کرتے ہوئے لے جاتا ہے تو آپ ہمت‘ صبر اور حوصلے سے زندگی گزاریں۔ رب العزت دنیا میں ہر قدم پر آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا اور اگلی زندگی میں بھی بے شمار انعامات سے نوازے گا۔ انشاء اﷲ

میجر سبکتگین تو جام شہادت نوش کر کے اﷲ کو پیارا ہوا لیکن اس کی بچیوں کو اﷲتعالیٰ نے وہ عزت کا مقام دیا جو شاید ہی کبھی کسی کا مقدر ہوا ہو۔ دو بیٹیاں رابعہ اور کیپٹن بشریٰ آرمی میں خدمات انجام دے رہی ہیں انہیں اپنے والد کی شہادت پر فخر ہے اور اپنی ماں کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر ناز ہے جس نے ہر پل اور ہر گھڑی اُن کے روشن مستقبل کے لئے اپنی صلاحیتوں کو وقف کر دیا اور اﷲتعالیٰ نے اُن کی محنت کو ثمرآور کیا اور چاروں بیٹیوں کو ڈاکٹر بنایا۔

ریحانہ سبکتگین

(اہلیہ)

سورج کی روشن کرنیں اپنے دامن میں ہر صبح اِک نئے دن کا پیغام لے کر آتی ہیں اور اِن میں سے ہی کوئی دن کسی کے لئے سُکھ اور کسی کے لئے دُکھ لاتا ہے۔ دُکھ اور سُکھ کا یہ چولی دامن کا ساتھ ہی زندگی کی مالا پروتا ہے اور ہر ذی روح کو یہ مالا اپنے گلے میں پہن کر زندہ رہنا پڑتا ہے۔ میری زندگی بھی خوشیوں کی ڈگر پر چل رہی تھی‘13 مئی1989 کا سورج اوروں کے لئے تو اُجالے لایا لیکن میرے مقدر میں سیاہ اندھیرے‘ اور ختم نہ ہونے والی جدائی لایا۔

یہ خبر تھی میجر سبکتگین کی سیاچن میں شہادت کی۔ میرے لئے یہ ایسا سانحہ تھا جس نے زندگی کا رُخ موڑ دیا۔ وہ خوشیاں‘ وہ رعنائیاں‘ خوبصورت لمحے‘ سب ایک خواب ہوگئے۔ اب ایک تلخ حقیقت تھی جس کو میرا ذہن قبول نہیں کررہا تھا۔ موت تو موت ہوتی ہے چاہے وہ شہادت کی ہو۔ اِک جھٹکا تو لگتا ہے‘ مجھے بھی ایک شدید جھٹکا لگا۔ اُس mojberhay2.jpgلمحے دل چاہا‘ اﷲ اﷲ کہتے جنگلوں ‘ بیابانوں میں نکل جاؤں۔ پہاڑوں پر چڑھ کر رب کو پکاروں اور کائنات کی ہر شے کو پکڑ پکڑ کر کہوں‘ دیکھ یہ کیا ہوگیا ہے۔ کائنات کی ہر چیزپر اِک سناٹا‘ اِک سکوت طاری تھا۔ تباہی تو میرے اندر مچ گئی تھی۔ رگوں سے جیسے سارا خون نچوڑ لیا گیا ہو۔ لیکن بھوری چٹان کی مانند میں اپنی جگہ چپ تھی آنکھوں کے سوتے خشک ہوگئے‘ سکتے کا عالم تھا‘ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ دھیرے دھیرے زندگی معمول پر آنے لگی۔ وقت سب سے بڑا مرہم ہے جو ہر زخم کو بھردیتا ہے۔ میرا درد تھمنے لگا۔ میری سوچ کا انداز بھی بدلنے لگا۔ میں نے سوچ لیا اور اپنے آپ سے عہد کیا کہ جس رتبے‘ جس اعزاز کے لئے میرے رب نے مجھے چنا ہے‘ میں مرتے دم تک اس اعزاز کی حفاظت اور عزت کرتے ہوئے شہید کی اِن ننھی کلیوں کی حفاظت کروں گی۔

آرمی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پاک فوج میں شمولیت کے فیصلے کے پیچھے درحقیقت یہی جذبہ کارفرما تھا کہ میں اس ادارے کا حصہ بن سکوں جو اپنی قابلیت اور جذبہ ایثار کے ساتھ ساتھ اعلیٰ روایات کا آئینہ دار ہے اور اپنے شہید باپ کے مشن کو زندہ رکھ سکوں جو پاکستان کی خدمت و حفاظت کے سوا کچھ نہیں۔

پھر ایک مشن تھا جس کو لے کر جو میں چلی تو راستے کی تمام رکاوٹیں خود بخود دُور ہوتی چلی گئیں۔ انسان جب اپنے رب پر کامل بھروسہ اور یقین کر لیتا ہے تو رب العزت بھی اُسے معتبر کردیتا ہے۔ اس کے لئے آسانیاں پیدا کردیتا ہے۔ انسان رب کا ہوجائے تو ہر پل‘ ہر لمحے رب اُسے نظر آنے لگتا ہے۔ میرے رب نے مجھے صبر‘ ہمت اور حوصلہ عطا کیا میں پیچھے دیکھنے کی‘ بجائے آگے ہی آگے بڑھتی چلی گئی۔ میری زندگی کے صرف پانچ سال میجر سبکتگین کے ساتھ گزرے‘ باقی زندگی رب کے بھروسے پر تھی۔ رب العزت نے لوگوں کے دلوں میں میری محبت اور عزت ڈال دی۔ زندگی کے اس سفر میں بہت سے نیک لوگوں کا ساتھ میسر آتا چلا گیا۔

والد کے بغیر زندگی گزارنے کے جذبات کو قلم بند کرنا بہت مشکل عمل ہے۔

سب سے پہلے تو میں پاک آرمی کو سلیوٹ کرتی ہوں کہ وہ اپنے شہداء کی بیویوں کو’’بیوہ نہیں ہونے دیتے‘‘ اور شہید کے بچے یتیم نہیں ہوتے۔ پاک فوج ہر قدم پر اُن کی بھرپور حفاظت کرتی ہے۔میں پاک فوج کی بہت شکرگزار ہوں اس کے علاوہ میری یونٹ 6 سندھ رجمنٹ گزشتہ 26 سال سے میرے ساتھ ہے۔ 5 سندھ رجمنٹ جس میں میرے شوہر نے شہادت حاصل کی‘ اُنہوں نے بھی بڑا خیال رکھا۔ اس کے علاوہ میرے شوہر کے بہترین ساتھی‘ دوست لیفٹیننٹ جنرل محمدذکی اور اُن کی بیگم عظمیٰ آپا نے ساری زندگی میرا خیال رکھا۔ آج اگر میں اس مقام تک آئی ہوں تو ہر قدم‘ ہر پل عظمیٰ آپا نے میرا خیال رکھا۔ انہوں نے مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔ ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔

موت تو سب کو آنی ہے لیکن شہادت کسی کسی کے مقدر میں ہوتی ہے اور بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ گھر جہاں شہیدوں کے تابوت آتے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیں جتنی عزت سے نوازا ہے اس کا بیاں لفظوں میں ممکن نہیں۔ ہمیں جہاں کہیں بھی کمی محسوس ہوئی وہاں پاک فوج نے ہماری معاونت کی۔ زندگی کے بہت سے اتارچڑھاؤ دیکھے مگر کبھی افسوس نہیں ہوا

اس کے علاوہ میرے تمام ہمسائے جن میں خصوصاً میجر سعیداقبال ‘ اُن کی بیگم شاہینہ خان‘ کرنل صدیق‘ اُن کی بیگم فریدہ ‘ میری بہت ہی اچھی دوست لُبنیٰ اظہار (جو جنرل کے ایم عارف کی بھتیجی ہیں) اُن دونوں میاں بیوی نے میرا بہت ساتھ دیا۔ رشتہ داری بہن بھائی سب نے اپنا اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ یہ سب پیارے دوست احباب گزشتہ چھبیس برس سے ہر نشیب و فراز میں میرے ساتھ ہیں۔

ایک وقت تھا جب کچھ لوگ مجھ پر ترس کھاتے تھے۔ میرے حوصلے پست کرتے تھے۔ اکثر کہتے ہائے یہ پہاڑ سی زندگی تنہا کیسے کاٹے گی۔ آج جب رب العزت کی مہربانی سے میں اپنے تمام فرائض سے فارغ ہوگئی ہوں‘ بیٹیاں کامیاب زندگی بسر کررہی ہیں‘ اب یہی لوگ مجھ پر فخرکرتے ہیں‘ میری مثالیں دیتے ہیں۔ میجرسبکتگین کی شہادت کے بعد سے آج تک کے سفر میں بے تحاشا مسائل آئے۔ تکالیف آئیں۔ مالی پریشانی بھی آئی لیکن میرے رب نے نہ میرے حوصلے پست کئے اور نہ ہی میں نا اُمید ہوئی۔ میں نے مسلسل محنت اور کوشش کی۔ میرے ساتھ میری بیٹیوں نے بھی ایک تلخ سفر طے کیا۔ ہم ماں بیٹیوں نے مل کر محنت کی۔ تیرہ سال میں نے گھر کے اندر ٹیوشن سنٹر چلایا۔ میرا تعلق اک ادبی گھرانے سے ہے۔ میں خود بھی رائٹر ہوں۔ میں نے رسالوں میں لکھا۔ اخباروں میں لکھا۔ ٹی وی کے لئے لکھا۔ جہاں سے بھی باعزت روزی ملی‘ میں نے سرتوڑ محنت کر کے حاصل کی۔

میری چار بیٹیوں نے دینی تعلیم کے علاوہ دنیاوی تعلیم میں بھی ایک اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ چاروں بیٹیاں آرمی میڈیکل کالج کی گریجویٹ ہیں۔ الحمدﷲ چاروں ڈاکٹرز ہیں۔ دو آرمی آفیسرز ہیں۔ ایک فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال لاہور میں ہے۔ جبکہ سب سے بڑی بیٹی اعظمی نیشنل ہسپتال ڈیفنس لاہور میں جاب کر رہی ہے۔ چاروں ڈاکٹرز بیٹیاں انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں۔ یہی میری زندگی کا مقصد تھا۔ جو الحمدﷲ پورا ہوا۔ اﷲ ہماری اولاد کو ہمارے لئے صدقہ جاریہ بنائے رکھے۔

(آمین)

زندگی میں کئی مواقع پر بیٹے کی کمی شدت سے محسوس ہوئی لیکن اب رب العزت نے یہ کمی بھی پوری کر دی۔ چار بہت اچھے‘ فرمانبردار‘ نیک شریف بیٹے دامادوں کے روپ میں عطا کئے ہیں جو پاکستان آرمی میں سروس کر رہے ہیں۔ میری چاروں بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو گئی ہیں۔ اﷲ نے ان کو صاحبِ اولاد بھی کیا ہے۔ میرے تین نواسے اور ایک نواسی ہے۔ اﷲ میری بیٹیوں کو اپنے گھروں میں آباد رکھے اور ڈھیروں خوشیاں نصیب کرے اور کوئی غم ان کی زندگی میں نہ آئے۔

پاک فوج میں شہید ہونے والے آفیسرز کی بیگمات کے لئے میرا یہی پیغام ہے کہ یہ لوگ تو اپنی زندگی کا سودا کر کے آپ لوگوں کی زندگیوں میں آئے ہوئے ہیں۔ اگر اﷲ آپ میں سے کسی کے شوہر کو وطن کی حفاظت کرتے ہوئے لے جاتا ہے تو آپ ہمت‘ صبر اور حوصلے سے زندگی گزاریں۔ رب العزت دنیا میں ہر قدم پر آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا اور اگلی زندگی میں بھی بے شمار انعامات سے نوازے گا۔ انشاء اﷲ! قرآن میں رب العزت نے فرمایا ہے کہ ’’اورجو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں۔‘‘ ہمیں اس چیز پر فخر ہے کہ ہمیں اﷲ نے شہداء کے خاندان کے لئے چُنا۔

ڈاکٹر رابعہ

(بیٹی)

rabia.jpgمیری زندگی کا ابتدائی حصہ کئی تلخ اور چند شیریں یادوں سے عبارت ہے۔ جہاں تین نٹ کھٹ بہنوں کا ساتھ تھا‘ وہیں والد کی شہادت کے بعد جنم لینے والا احساس عدم تحفظ بھی تھا۔ زندگی کی ابتدا جن نامساعد حالات میں ہوئی ان کا تذکرہ زیادہ خوش کن نہیں۔ کسی بھی انسان کی زندگی میں اس کا سب سے بڑا محسن شاید اس کی ماں ہی ہوتی ہے لیکن میری اور میری بہنوں کی زندگیوں میں ہماری والدہ کے مثالی کردار کا احاطہ شاید الفاظ میں ممکن نہیں۔ 30 سال کی عمر میں خاوند کی شہادت اور چار بیٹیوں کی ذمہ داری شاید کسی بھی عورت کے لئے کٹھن ترین مستقبل کا پیش خیمہ ہے۔ لیکن جس بے مثل عزم و ہمت کا مظاہرہ میری والدہ نے کیا‘ وہ یقیناًقابل تقلید و تحسین ہے۔ اس مشکل میں پاکستان آرمی ‘ 6 سندھ اور 5 سندھ رجمنٹ اور میرے والد کے کچھ ساتھی دوست (جن کا تذکرہ میری والدہ نے کیا ہے) نے جس طرح ہمارا ساتھ دیا میں اس کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں۔ آرمی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پاک فوج میں شمولیت کے فیصلے کے پیچھے درحقیقت یہی جذبہ کارفرما تھا کہ میں اس ادارے کا حصہ بن سکوں جو اپنی قابلیت اور جذبہ ایثار کے ساتھ ساتھ اعلیٰ روایات کا آئینہ دار ہے اور اپنے شہید باپ کے مشن کو زندہ رکھ سکوں جو پاکستان کی خدمت و حفاظت کے سوا کچھ نہیں۔ آج میں اور میری بہنیں جس مقام پر ہیں وہ ہماری والدہ کی قربانیوں‘ بے مثال حوصلے اور انتھک کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جو نہ صرف ہمارے لئے بلکہ تمام آرمی فیمیلیز کے لئے مشعل راہ ہیں۔

ڈاکٹر عظمیٰ سبکتگین

(بیٹی)

druzma.jpgشہادت ایک ایسا رتبہ ہے جو ہر مومن کی خواہش ہے۔ شہید کا لہو بہت سے چراغوں کی روشنی کو اندھیروں میں ڈوبنے سے بچاتا ہے۔ جہاں ایک زندگی کے بدلے کئی لوگوں اور خاندانوں کو دوام مل جائے وہ خسارے کا سودا نہیں۔ لیکن جہاں شہید اپنے گھر والوں کے سر فخر سے بلند کر دیتا ہے تو وہیں وہ اپنے پیچھے ایک ایسا خلا چھوڑ جاتا ہے جسے کوئی بھر نہیں سکتا۔

میں ایک شہید کی بیٹی ہوں جس نے اپنے والد کو ملک کے لئے اس وقت کھویا جب مجھے والد کے رشتے اور شفقت کا علم بھی نہیں تھا۔ زندگی میں کئی مقام ایسے آئے جب قدم لڑکھڑائے اور محسوس ہوا کہ زندگی کا ایک اہم حصہ اور ایک خوبصورت رشتہ اس ملک کے لئے قربان کر دیا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اپنی والدہ کی ہمت اور حوصلے کو دیکھتے ہوئے سر فخر سے بلند ہو جاتا کہ انہوں نے جس طرح ہمت سے ہمیں سنبھالا اس کی مثال نہیں ملتی۔ موت تو سب کو آنی ہے لیکن شہادت کسی کسی کے مقدر میں ہوتی ہے اور بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ گھر جہاں شہیدوں کے تابوت آتے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیں جتنی عزت سے نوازا ہے اس کا بیاں لفظوں میں ممکن نہیں۔ ہمیں جہاں کہیں بھی کمی محسوس ہوئی وہاں پاک فوج نے ہماری معاونت کی۔ زندگی کے بہت سے اتارچڑھاؤ دیکھے مگر کبھی افسوس نہیں ہوا۔

میرا شہداء کے بچوں کو یہ پیغام ہے کہ والد کی شہادت ایک بہت بڑا اعزاز ہے اس کو پروقار طریقے سے اپنی زندگی میں لے کر چلیں اور اپنے آپ کو قابل رشک بنائیں‘

ہم آج جس مقام پر ہیں جو کچھ بھی ہیں اپنی والدہ کی ہمت و محنت اور پاک فوج کی مدد سے ہیں۔ میں آنے والی نسل کو یہی پیغام دینا چاہتی ہوں کہ قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ زندگی میں بلاشبہ تھوڑی کمی رہ جاتی ہے لیکن اس کے بدلے میں ملنے ولا مقام بہت اونچا ہے۔ والد کے بغیر زندگی گزارنے کے جذبات کو قلم بند کرنا بہت مشکل عمل ہے۔

کیپٹن ڈاکٹر بشریٰ

(بیٹی)

 1989 میں بابا کی شہادت کے وقت میں صرف دو سال کی تھی۔ کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ ایگنورنس ایز بلیسنگ۔ یہ وہ عمر تھی کہ اس کمی کا شعور نہیں تھا اور جیسے جیسے شعور آیا والدہ کی طرف سے ایک پازیٹیوزیٹی ذہن میں ڈال دی گئی کہ بابا شہید ہیں جو ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ والد تو سب کے زندہ ہوتے ہیں لیکن شہید کسی کسی کے ہوتے ہیں اور جن کے والد شہید ہوتے ہیں وہ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں۔ زندگی میں بہت بار والد کی کمی محسوس ہوئی اور ان کی یاد آئی لیکن والدہ نے اپنی پوری کوشش کی کہ وہ اس کمی کو ہر لحاظ سے پورا کریں جو انہوں نے بخوبی کیا captbushra.jpgبھی۔ ہمیشہ گھر میں ایک دوستانہ ماحول رہا۔ ہم سب کے لئے ماما ایک بہترین دوست رہی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ پڑھائی پر زور دیا۔یہ والدہ کی انتھک محنت ہی کا صلہ تھا کہ ہم چاروں بہنیں آرمی میڈیکل کالج کی گریجویٹ بنیں اور اب بھی اپنی زندگی ایک کامیاب اور پراطمینان طریقے سے گزار رہی ہیں۔ میں آج کل سی ایم ایچ گوجرانوالہ میں خدمات انجام دے رہی ہوں۔ میرا شہداء کے بچوں کو یہ پیغام ہے کہ والد کی شہادت ایک بہت بڑا اعزاز ہے اس کو پروقار طریقے سے اپنی زندگی میں لے کر چلیں اور اپنے آپ کو قابل رشک بنائیں‘ قابل ترس نہیں۔ اپنی زندگی میں محنت اور کوشش جاری رکھیں گے تو ہر قدم پر آسانی پائیں گے۔ پاکستان آرمی ہر لحاظ سے آپ کو ہمیشہ سپورٹ کرے گی اور کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

شہادت ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو صرف خوش قسمت لوگوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ یہ اعزاز میرے والد کے حصے میں آیا۔

عائشہ

(بیٹی)

ayesha.jpgشہادت ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو صرف خوش قسمت لوگوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ یہ اعزاز میرے والد کے حصے میں آیا۔ والد کی شہادت کے وقت میں پانچ ماہ کی تھی۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے والدہ کو والد کی جگہ پایا۔ چھوٹے ہونے کی وجہ سے والدہ اور بہنوں کی بھرپور محبت ملی۔ وہ والد کی کمی کا احساس اپنی محبت سے پر کرتی رہی ہیں۔ یہ والدہ ہی کی تربیت ہے کہ ہم سب اپنے پروفیشن کے ساتھ ساتھ اپنی گھریلو زندگی میں بھی کامیاب ہیں اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں ایک شہید کی بیٹی ہوں اور میں تمام شہداء کے بچوں کو یہ پیغام دوں گی کہ اپنے والد کے اعزاز کو ایک اثاثہ سمجھیں اور ان کے نام کو مزید روشن کریں۔ جس وطن کی خاطر آپ کے والد نے جامِ شہادت نوش کیا ہے اس کی ترقی اور حفاظت میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

18
August

تاریخ کے صفحات میں3 جون 1947 کا دن اس لئے بھی زندہ وپائندہ رہے گا کہ اس دن ہمارے بابائے قوم حضرت قائدِاعظمؒ نے ریڈیو کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ اس خطے میں مسلمانوں کی ایک نئی مملکت آباد ہوگئی ہے۔ گلوب پر ایک نیا نام اُبھرا ہے۔ جو ہے ’’پاکستان‘‘۔۔۔ فضاؤں نے ہواؤں نے دوستوں نے دشمنوں نے یہ تقریر3 جون1947 کو سنی تھی جس کے آخر میں ہر سننے والے ذی روح اور ذی شعور نے آمین کہا تھا۔ فضاؤں نے‘ ہواؤں نے‘ چرند پرند‘ جھومتے درختوں نے‘ لہلہاتے کھیتوں نے سب نے مل جل کر کہا تھا’’ پاکستان زندہ باد‘‘! اس روز پاکستان وجود میں آگیا تھا‘ نمود میں آگیا تھا اور سجود میں آگیا تھا۔۔۔ اسی دن پاکستان نے بابائے قوم کے پُر تیقن لہجے کی رد اوڑھ لی تھی۔۔۔ کہ پاکستان تاقیامت رہنے کے لئے بنا ہے۔

3 جون2015 کو وہ یقین بھرا لہجہ‘ وہ عزم میں ڈوبی ہوئی للکار‘ وہ ایمان افروز الفاظ‘ قوم نے جنرل راحیل شریف کے لب و لہجے میں سنے جو انہوں نے ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کے دوران کہے۔۔۔ کہ کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ پاکستان اور کشمیر کو علٰیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس روز بابائے قوم کی روح خوش ہوئی۔ وہ بس عالمِ بالا میں اس نامکمل ایجنڈے پر آزردہ ہیں۔ وہ بھی ہر3 جون کو اپنے بیٹوں کی طرف دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں۔ میرے فرزندو ! اس نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کون اٹھے گا۔۔۔ کون پگھلائے گا پتھروں کو۔۔۔ کون کہکشاں بچھائے گا راستوں میں۔ سپہ سالار نے کہا: اگرچہ ہم اس خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں لیکن ہم اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں اور دنیا جان گئی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔۔۔ یہ کیسے ممکن کہ نکہتِ گل کسی کی پابند ہو چمن میں؟

مسئلہ کشمیر کو اور الجھانے کے لئے بدخواہوں نے پاکستان کی زمین کو قتل و غارت کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ قاتل بھی کرائے کے اور خنجر بھی ادھارکے۔۔۔ لیکن لہو معصوم اور بے گناہ کشمیریوں کا بہہ رہا ہے۔ اس لہو سے دریائے نیلم لال ہوگیا ہے۔۔۔ اور کتنے قیمتی لال اپنے لہو کی قربانی دیں گے۔ لہو جو سرحد پہ بہہ رہا ہے۔ ہم اس لہو کا خراج لیں گے! دہشت گردی کی جنگ ہم پر مسلط کی گئی۔۔ کبھی ایک نام سے کبھی دوسرے نام سے۔۔۔

لیکن افواجِ پاکستان نے بڑی جی داری سے اس چیلنج کو بھی قبول کرلیا ہے۔ کسی کو افواجِ پاکستان کے بارے میں غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔۔۔ آپریشن ضربِ عضب عسکری قوتوں کے ساتھ ساتھ روحانی قوتوں سے شروع کیا گیا۔ پوری کی پوری قوم اپنی قابلِ فخر افواج کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ دشمنوں نے اس پاک سرزمین پر فتنہ و فساد کے لئے کیسے کیسے انبار لگائے۔ کبھی عقائد کی آگ بھڑکائی کہ کبھی مسالک کی آڑ لی۔ کبھی صوبائیت کی آتش بازی لائے‘ کبھی زبانوں کو زبانِ زدِ عام کیا۔ پاکستان ایک بہت بڑی قوت ہے۔ اگر یہ حقیقت نہیں تو ایک زمانہ پاکستان کے پیچھے کیوں پڑا رہتا ہے۔ ’’را‘‘ جیسی ایجنسیاں ذہنوں کو خریدنے کا کاروبار کیوں کرتی ہیں۔ پاکستان کے دریاؤں پر ناجائز قبضے کیوں ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی ثقافت کو بدلنے کی کوششیں کیوں ہو رہی ہیں۔

اب جب کسی طرح بھی پاکستان غیر مستحکم نہیں ہو سکا تو پاکستان کے شہروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ مسجدوں‘ مزاروں اور سکولوں تک کو نہیں بخشا گیا۔ اب آپریشن ضربِ عضب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ اب یہاں پہ پراکسی وار کی گنجائش نہیں ہے۔ اب پاکستان کا بچہ بچہ جان چکا ہے۔۔۔ کہ دشمن کے مورچے وطن کے اندر آگئے ہیں۔۔۔ ضربِ عضب بڑی کامیابی کے ساتھ ان مورچوں کو کھوج رہی ہے اور نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستان کے دامن پر دہشت گردی کا لگا ہوا داغ بہت جلد صاف ہو جائے گا۔ بہت جلد دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ جسے پاکستان کہتے ہیں وہ پاک جذبوں کا امین ایک امن پسند ملک ہے۔۔۔ کشمیر کا عذر رکھ کر پاکستان کے اندر بے سکونی اور انتشار پھیلانا اب اتنا آسان بھی نہیں ہوگا۔ ضربِ عضب کو شروع ہوئے ایک برس ہوگیا ہے۔

پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو بھی اطمینان کا سانس لیتے ہوئے ایک برس ہو گیا ہے۔۔۔ انہوں نے جان لیا ہے اور مان لیا ہے کہ حتمی اور آخری کامیابی کے لئے سول ملٹری

تعاون انتہائی کارگرہے۔ انتہائی اہم ہے۔

 

teenjune1.jpg

 

جب سے آپریشن ضربِ عضب شروع ہوا ہے پاکستان کے باسی‘ وہ شہری ہوں یا دیہاتی‘ بخوبی جان گئے ہیں کہ ہمارے دوست نما دشمن خنجر بکف‘ گل پوش‘ نیم روایتی ہتھکنڈوں

سے پاکستان کو غیر مستحکم ‘ بے سکون اور کمزور بنانے کے لئے ملک کے اندر دہشت ناک وارداتیں بھی کررہے ہیں اور فتور بھی مچا رہے ہیں۔ اسی لئے سول اور عسکری قوتوں میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کا جذبہ ہر دو چند ہوا ہے۔۔۔اس پر پاکستان کے سپہ سالار کی ایمان افروز تقریر نے قوم کے حوصلے بڑھادیئے ہیں۔ یہ ہے قومِ رسولِ ہاشمیؐ بھوک پیاس جھیل سکتی ہے۔ سردی گرمی برداشت کرلیتی ہے۔ اندھیروں کو سویروں میں بدل دیتی ہے۔ مگر ظلم وسفاکیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹ جاتی ہے۔۔۔ اب ڈٹ گئی ہے۔۔۔! اب ہٹ دھرمی کا جواب اسی کے اپنے انداز میں دے گی۔

پاکستان امن کا حامی تھا۔ امن کا حامی رہے گا۔ اسلام سلامتی کا دین ہے۔ سلامتی کی نوید سناتارہے گا۔ پاکستان خود کفیل تھا۔۔۔ خود کفیل بن کر ابھرے گا۔

پاکستان حقوق العباد کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ دنیا بھر کوحقوق العباد کی ادائیگی کی نوید سناتا رہے گا۔ 3 جون1947 کو قائدِاعظم نے جس یقین اور ایمان کے ساتھ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کہا تھا‘ اسی یقین اور ایمان کے ساتھ پاکستان کا جھنڈا تھام کے اہلِ کشمیر پاکستان زندہ باد کہہ رہے ہیں۔ ارے نادانو ! ظلم کرنے والو ! اور بہتان تراشیاں کرنے والو ! یہ جنونِ عشق کے انداز ہیں۔۔۔ تمہارے ظلم و ستم سے کیا یہ چھٹ جائیں گے؟ چھٹ پائیں گے۔۔۔؟

یہ قائدِاعظم کا فرمایا ہوا پاکستان زندہ باد کشمیر کے اندر بول رہا ہے۔ یہی پاکستان زندہ باد کارگل کی پہاڑیوں پر گونجا تھا۔۔۔ یہی پاکستان زندہ باد ہمالیہ کی سب سے اونچی چوٹی پر بیٹھا انتظار کررہا ہے۔۔۔ یہی پاکستان زندہ باد برصغیر کے افق پر چھایا ہوا ہے۔۔۔

یہ اس مردِ درویش کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں۔ جس کا جینا اور مرنا قوم کے لئے تھا۔۔۔ جو جیا تو پاکستان کے لئے ۔۔۔ مرا تو پاکستان بنا کے۔ اسی پاکستان زندہ باد سے کچھ لوگ خائف ہو کر اپنی کمین گاہوں سے باہر نکل آئے ہیں۔۔۔ اور اٹوٹ انگ کا واویلا کررہے ہیں۔ انگ تو سارے مصنوعی بھی بن رہے ہیں۔۔۔ مگر شاہ رگ ہمیشہ زندگی اور بندگی کی علامت ہے۔ بھلا کوئی شہ رگ کے بنا بھی زندہ رہ سکا ہے۔۔۔ بیساکھیوں کے سہارے تو بہت سوں کو چلتے دیکھا ہے۔ مگر کیا کسی کو گردن کے بنا چلتے دیکھا ہے؟ پاکستان زندہ باد کا غلغلہ اب دہشت گردی تک پہنچ گیا ہے۔۔۔ اس کو نیست و نابود کرکے ہی دم لے گا۔

یہ وہی پاکستان زندہ باد ہے جسے 3 جون2015 کو سپہ سالار جناب راحیل شریف نے معانی عطا کئے۔۔۔ بھولی ہوئی قوم کو یاد دلایا۔۔۔ کہ یہ تو پیارے قائدِاعظم کے فرمائے ہوئے الفاظ ہیں جو کشمیر میں گونج رہے ہیں۔۔۔ کشمیری پاکستان کے ادھوے ایجنڈے کو تکمیل پہنچانے میں تن من اور دھن کی قربانیاں دے رہے ہیں۔۔۔ ہم بھی ان کے لئے دامے درمے‘ سخنے اور قدمے قدم بڑھانے کو تیار ہیں۔ اس ایجنڈے کی تکمیل تک بھلا کون چین سے بیٹھ سکتاہے۔۔۔؟

ہوا ہے گو تند و تیز لیکن‘ چراغ اپنا جلا رہا ہے

وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیئے ہیں اندازِ خسروانہ

18
August

پاکستان کے دفاع کے لیے ایک تاریخ سازمعرکہ جاری ہے۔ فوج اپنے حصے کا کام کر رہی ہے، دوسروں کو دیکھنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق کہاں تک، قومی سلامتی کے اس عمل میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

1970ء کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب افواج پاکستان کو ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے اُن عناصر کے خلاف ہتھیار اٹھانا پڑے جن کا تعلق اسی سرزمین سے ہے۔ مشرقی پاکستان میں جب بھارتی فوج ایسے عناصر کی حمایت میں علانیہ نکل آئی تویہ معرکہ دو ممالک کے درمیان جنگ میں بدل گیا۔ ’’ ضرب عضب ‘‘ میں معاملے کی نوعیت یہ نہیں ہے۔ اگرچہ ان عناصر کوبھی غیر ملکی تائید میسر ہے، مگر وہ علانیہ نہیں ہے۔1970ء میں مشرقی پاکستان میں بھی ریاست کے خلاف بغاوت ہوئی اور آج بھی ریاست ہی ہدف ہے۔ تاریخ کے دونوں ابواب ہمارے لیے غور و فکر کا بہت سا سامان لیے ہوئے ہیں۔ سقوط ڈھاکہ قصۂ پارینہ ہے۔ تاہم ضرب عضب تاریخ کا وہ باب ہے جو رقم ہو رہا ہے۔ اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ، افادیت کا ایسے پہلو لیے ہوئے ہے جن سے آج بھی راہنمائی لی جا سکتی ہے۔

ریاست کے خلاف کوئی بغاوت اچانک نہیں ہوتی۔ یہ بالعموم دو مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلا مرحلہ نظری ہے اور دوسرا عملی۔ پہلے ایک نظر یہ وجود میں آتا ہے۔ اسے فکری غذا مہیا کی جاتی ہے۔ ذہن تیار کیے جاتے ہیں۔ جب افراد کی ایک ایسی تعداد میسر آ جاتی ہے جو اس نظریے کو عملاً اپنانے اور اس کے لیے سب کچھ کر گزرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو پھر ان کے ہاتھ میں ہتھیار تھما دیے جاتے ہیں۔ یوں دوسرے مرحلے کا آغاز ہو جاتا ہے جو مسلح جد و جہد کا مرحلہ ہے۔ دوسرے مرحلے کے آغاز پر پہلا مرحلہ موقوف نہیں ہو جاتا ۔ چونکہ مسلح جد و جہد میں انسانی جان کا ضیاع اس کا ناگزیر نتیجہ ہے، اس لیے مزید کمک کی فراہمی اس کے لیے ضروری ہوتی ہے۔اس کا مفاد اس میں ہے کہ ایسے لوگ تیار ہوتے رہیں جو اس کا ایندھن بن سکیں۔اس طرح ذہن سازی اور مسلح اقدام، یہ دونوں کام ایک ساتھ جاری رہتے ہیں۔

بغاوت کے توڑ کے لیے بھی لازم ہے کہ اس کے دونوں پہلوؤں کا توڑ ہو۔ ایک طرف ان عناصر کا خاتمہ کیا جائے جن کے ہاتھ میں ہتھیار ہیں اور وہ عوام کی جان و مال اور ریاست کے مفادات پر براہ راست حملہ آور ہورہے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی لازم ہے کہ اس نظریے کو ہدف بنایا جائے جو ایسے ذہن پیدا کرتا ہے جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ اگر ہتھیار بردار مار دیے جائیں لیکن انہیں مزید کمک ملتی رہے تو معرکہ طویل ہو جاتا ہے۔ جنگ چونکہ ایک غیر فطری حالت ہے، اس لیے کوئی سماج یا ملک اسے ایک خاص وقت سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لیے کامیاب حکمت عملی کا تقاضا یہ ہے کہ جنگ مختصر سے مختصر ہو۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ مزید کمک کے دروازے بند ہو جائیں۔ اس طرح مسلح عناصر ختم ہو تے ہیں تو معرکہ بھی تمام ہو جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت جب ہم اُس بغاوت کو دیکھتے ہیں، جس کے خلاف پاک فوج نے ’ ضرب عضب ‘ کا آغاز کیا ہے تو یہ بھی ایک نظریے کی پیداوار ہے۔ گزشتہ پینتیس سال میں ایک نقطۂ نظر وجود میں آیا ہے۔ یہ مختلف مراحل سے گزرا ہے۔ اس کے لیے مسلسل ذہن سازی ہوئی ہے۔ کتابیں لکھی گئی ہیں اور جدید ذرائع ابلاغ سے پورا استفادہ کیا گیا ہے۔ جب یہ اس سماج کے رگ و پے میں سرایت کر گیااور اسے ملک کے مختلف حصوں میں ہم نوا میسر آ گئے، تومسلح جد و جہد کا آغاز کر دیا گیا۔

بغاوت کے توڑ کے لیے بھی لازم ہے کہ اس کے دونوں پہلوؤں کا توڑ ہو۔ ایک طرف ان عناصر کا خاتمہ کیا جائے جن کے ہاتھ میں ہتھیار ہیں اور وہ عوام کی جان و مال اور ریاست کے مفادات پر براہ راست حملہ آور ہورہے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی لازم ہے کہ اس نظریے کو ہدف بنایا جائے جو ایسے ذہن پیدا کرتا ہے جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ اگر ہتھیار بردار مار دیے جائیں لیکن انہیں مزید کمک ملتی رہے تو معرکہ طویل ہو جاتا ہے۔ جنگ چونکہ ایک غیر فطری حالت ہے، اس لیے کوئی سماج یا ملک اسے ایک خاص وقت سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لیے کامیاب حکمت عملی کا تقاضا یہ ہے کہ جنگ مختصر سے مختصر ہو۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ مزید کمک کے دروازے بند ہو جائیں۔

پاک فوج نے مسلح ہاتھوں کو توڑنے کے لیے ایک تاریخ ساز معرکہ لڑاجو تادمِ تحریر جاری ہے۔ اﷲ کا کرم ہے کہ یہ ہاتھ اب کند ہوتے جا رہے ہیں۔ آثار یہ ہیں کہ بعض پاکستان دشمن قوتیں وسائل کے حوالے سے کمک فراہم کر رہی ہیں جس کے باعث دہشت گردی کے افسوس ناک واقعات کا سلسلہ پوری طرح رک نہیں سکا، اگر چہ اس میں غیر معمولی کمی آ گئی ہے۔ دوسرا محاذ ، تاہم بدستور توجہ طلب ہے۔ یہ اس نظریے کا ابطال ہے جو ریاست کے خلاف لوگوں کو ابھارتا اور انہیں فساد برپا کرنے کے لیے دینی استدلال فراہم کرتا ہے۔ حکومتی سطح پر جب ایک قومی بیانیے کی ضرورت کا اعتراف کیا گیا تو دراصل یہ اسی ضرورت کا اظہار تھا۔ اس کے لیے علما، اہل دانش اور سماجی علوم کا علم رکھنے والوں کو بروئے کار آنا پڑے گا۔

اس نظریے کی شکست کے لیے جو نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کرتا ہے،اِسے تین حوالوں سے مخاطب بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کے دینی استدلال کو غلط ثابت کیا جائے۔ یہ علما اور دینی سکالرز کا کام ہے۔ یہ ا ن کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ ایک مسلمان ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد شرعی اعتبار سے جرم اور فساد فی الارض ہے۔ اہل فساد اپنے نظریے کی ترویج کے لیے جن آیات، احادیث یا آثار کا حوالہ دیتے ہیں، ان کا صحیح تناظر اور فہم لوگوں کے سامنے رکھیں تاکہ دین کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے کا دروازہ بند ہو جائے۔ دین کی درست تعبیر جب سامنے آئے گی تو پھر عام آدمی کوگمراہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔

دوسرا یہ کہ اہل دانش اور سماجی علوم کے ماہرین یہ مقدمہ مضبوط کریں کہ دور جدید میں اس بات کا امکان کم وبیش ختم ہو گیا ہے کہ ریاست کے خلاف کوئی مسلح جدو جہد کامیاب ہو سکے۔ اس کی صرف ایک صورت ممکن ہے اور وہ یہ کہ ہمسائے میں موجود کوئی ریاست ، کسی مسلح گروہ کی حمایت کرے۔ پاکستان کے معاملے میں یہ اسی وقت ممکن ہے جب ایران یا افغانستان کی طرف سے ان عناصر کو کمک پہنچے کیونکہ یہ باغی جن علاقوں کو مرکز بنائے ہوئے ہیں، وہ ایران اور افغانستان کے قریب ہیں۔ اس وقت افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی جو نوعیت ہے، اس میں اس بات کا امکان ختم ہو گیا ہے کہ یہ ریاستیں ان عناصر کو کمک پہنچا سکیں۔اس کے بے شمار دلائل ہیں۔ اہل دانش ان دلائل کو سامنے لا کر، اس مقدمے کو مضبوط کر سکتے ہیں کہ مسلح جد و جہد اور بغاوت کا ایک ہی انجام متوقع ہے اور وہ ہے ناکامی۔ باغی اسے آج قبول کر لیں یا مزید جانیں گنوا کر قبول کریں، انہیں بہرحال اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

تیسرا یہ کہ سماج میں فکری اور عملی حوالے سے ایسی مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جو نوجوانوں کو متبادل فراہم کریں۔ انہیں امن کا پیغام دیں اور ایک روشن مستقبل کی بشارت دیں۔ نوجوانوں کو ایسے میدان ہائے عمل فراہم کیے جائیں جن میں وہ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کر سکیں اور انہیں یہ احساس ہو کہ وہ ملک و قوم کے لیے ایک زیادہ تعمیری اور مثبت کام کر رہے ہیں۔ انہیںیاد دلایا جائے کہ مثبت طرز عمل کے لیے کوئی ناکامی نہیں ہے۔ اگر وہ معاشرتی تعمیر کے لیے ایک مثبت سوچ کے ساتھ میدان عمل میں اتریں گے تو ان کی کامیابی لازم ہے۔

اس نظریے کی شکست کے لیے جو نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کرتا ہے،اِسے تین حوالوں سے مخاطب بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کے دینی استدلال کو غلط ثابت کیا جائے۔ یہ علما اور دینی سکالرز کا کام ہے۔ یہ ا ن کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ ایک مسلمان ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد شرعی اعتبار سے جرم اور فساد فی الارض ہے۔ اہل فساد اپنے نظریے کی ترویج کے لیے جن آیات، احادیث یا آثار کا حوالہ دیتے ہیں، ان کا صحیح تناظر اور فہم لوگوں کے سامنے رکھیں تاکہ دین کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے کا دروازہ بند ہو جائے۔ دین کی درست تعبیر جب سامنے آئے گی تو پھر عام آدمی کوگمراہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔

دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے کے لیے ایک ہمہ جہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ فوج کا کام مسلح جد و جہد کا خاتمہ ہے۔ نظری اور فکری محاذ پر حکومت اور سول سوسائٹی کو بروئے کار آنا ہے۔ سول سوسائٹی میں علما اور مسجد جیسے روایتی اور میڈیا جیسے جدید اداروں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ اگر حکومتی سطح پر کوئی ایسا فورم تشکیل دیا جائے جس میں فوج، علما، سول سوسائٹی اور حکومت کے افراد شامل ہوں اور وہ ایک مربوط حکمت عملی تشکیل دے سکیں تو فوج کی کامیابیاں بہت جلد منطقی اور حتمی فتح پر منتج ہو سکتی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو، تو بھی، علما اور سول سوسائٹی کے نمائندہ طبقات اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے، اپنا کردار ادا کریں تو ہم بہت جلد پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کے دفاع کے لیے ایک تاریخ سازمعرکہ جاری ہے۔ فوج اپنے حصے کا کام کر رہی ہے، دوسروں کو دیکھنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق کہاں تک، قومی سلامتی کے اس عمل میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

Page 6 of 17

Follow Us On Twitter