16
September

جب 14 اگست کا دن آتا ہے تو پاکستان آپ کا منہ تکتا ہے اور آپ کو پھر یاد دلانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ کبھی اس دن سکون سے بیٹھ کر اس بات پر غور کیا کرو کہ پاکستان بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔۔۔؟ کہ پاکستان کی تاریخِ پیدائش کے دن کیا کچھ ہوا تھا۔

میں جب انٹر نیشنل ڈیپارچر لاؤنج میں جا کر بیٹھی تو میں نے حسبِ عادت اندر کے ماحول کا جائزہ لینا شروع کردیا۔۔۔ ماشاء اﷲ ہال مسافروں بشمول خواتین سے بھرتا جا رہا تھا۔ ضعیف والدین‘ نو عمر جوڑے‘ چھوٹے بچے سب ہی کسی نہ کسی ملک میں جارہے تھے۔ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں بھی تو اپنے بیٹے کے پاس جارہی تھی جو امریکہ میں مقیم ہے۔ کچھ بچے اپنے بوڑھے والدین کو ملنے آجاتے ہیں‘ جن بچوں کو نوکریوں کی مجبوریاں پابند کردیتی ہیں‘ وہ اپنے بوڑھے والدین کو ٹکٹ بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک ٹکٹ میں دو کام کرتے جائیں۔ ایک تو یہ کہ نئی دنیا دیکھ لیں‘ دوسرے بیٹے یا بیٹی کا ہنستا بستا گھر بھی دیکھتے جائیں۔۔۔۔۔۔تیسرا مقصد بھی ہوتا ہے۔اتفاق سے میری نشست کے ساتھ ایک ایسی خاتون آکر بیٹھ گئی جو عنقریب ماں بننے والی تھی ساتھ میں غالباً اس کی والدہ تھیں۔۔۔ میں نے دوران گفتگو اس کی والدہ سے پوچھا کہ اس حالت میں آپ انہیں اتنے لمبے سفر پر لے جارہی ہیں۔۔۔ تو لڑکی نے خود جواب دیا۔۔۔
کہ میں چاہتی ہوں میرا بچہ امریکہ میں پیدا ہو اور پیدا ہوتے ہی اسے وہاں کی شہریت مل جائے تاکہ جوان ہونے پر اسے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کی سہولتیں میسر آئیں۔
ہر سفر میں مجھے اس کیفیت میں اور اس قسم کے خیالات کی حامل عورتیں ملتی رہتی ہیں۔ آتی جاتی رہتی ہیں۔۔۔
میں اکثر سوچتی ہوں۔ شہریت کے استحقاق کو تو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایک بچہ امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس یا آسٹریلیا میں ہو کر خواہ تیس چالیس سال پاکستان میں ہی رہے‘ وہ اس ملک کے حقِ شہریت سے استفادہ کرسکتا ہے‘ کرتا رہتا ہے۔
لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے اندر14 اگست 1947 کے بعد ایک نسل پیدا ہوئی۔ بے شک اس کے محترم بزرگ نقل مکانی کرکے آئے تھے مگر بچے تو پاکستان کی سرزمین پر پیدا ہوئے تھے‘ ان کے بزرگوں نے اپنا گھر بار‘ عہدہ اور وقار پاکستان کے لئے چھوڑا تھا اور پاکستان میں داخل ہوتے ہی اس کی سرزمین پر ایک سجدۂ شکر ادا کیا تھا۔ اس خاک کو چوما تھا جس کے لئے انہوں نے اپنے پیار‘ دلارے اور دل کے ٹکڑے قربان کئے تھے۔ یہ زمین انہیں اپنے پیاروں کی جانوں کے بدلے میں ملی تھی۔ یہ زمین انہیں اپنے پیاروں کے طرح پیاری ہونی چاہئے تھی۔ اس زمین پر اُن کے پیاروں کا بڑا حق ہے۔۔۔ اس لئے اس پاک سرزمیں کے اندر پیدا ہونے والے بچے اپنے آپ کو مہاجر نہ کہیں۔ مہاجربن کے آنا قابلِ صد احترام ہے۔۔۔ بڑا مرتبہ ہے تاریخِ اسلام میں مہاجروں کا۔۔۔ مگر پاکستان کے اندر جو پیدا ہوتا ہے۔۔۔ وہ پاکستانی ہوتا ہے۔۔۔ اور پاکستانی ہونے پر بھی اتنا ہی فخر ہونا چاہئے جتنا کسی دوسرے ملک کا شہری ہونے پر کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ جو روزگار کی خاطر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور پوری زندگی وہاں گزار دیتے ہیں‘ ان کو وہاں کا شہری سمجھ لیا جاتا ہے۔ ساٹھ ستر سال کسی ملک میں گزار کر وہ لوگ بھی اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہتے۔۔۔
جب 14 اگست کا دن آتا ہے تو پاکستان آپ کا منہ تکتا ہے اور آپ کو پھر یاد دلانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ کبھی اس دن سکون سے بیٹھ کر اس بات پر غور کیا کرو کہ پاکستان بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔۔۔؟ کہ پاکستان کی تاریخِ پیدائش کے دن کیا کچھ ہوا تھا۔
سنو ! جس وقت برصغیر کے اس خطے میں آزادی کی تحریک شروع ہوئی‘ اس وقت غیرمنقسم ہندوستان میں دو بڑی اکائیاں تھیں۔ ہندو اور مسلمان۔۔۔ اگرچہ فرنگیوں سے آزادی حاصل کرنے میں دونوں قومیں برابر جدوجہد کر رہی تھیں لیکن درپردہ مسلم قوم اس اندیشے میں مبتلا تھی کہ اگر ملک سے انگریز چلے گئے تو مسلمان ہندوؤں کی غلامی کرنے پر مجبور کردیئے جائیں گے۔۔۔
اس بات کو قائدِاعظم محمدعلی جناح نے محسوس کرلیا تھا کہ برصغیر کے مسلمان دو

قائدِاعظم کے فرمودات کی روشنی میں ہم اپنی نئی نسل کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا قیام کسی تقسیم کا نتیجہ نہیں ہے۔۔۔ یہ کیا تقسیم ۔۔۔ تقسیم ۔۔۔لگا رکھی ہے۔ بلکہ پاکستان کا قیام اس عمل کا نتیجہ ہے جو برصغیر کی تاریخ میں برابر موجود تھا۔۔۔ موجود ہے اور موجود رہے گا۔ اور ہمارے مہربان بھی سن لیں۔۔ کہ پاکستان محض واقعہ نہیں ہے۔ ایک اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی یہ حُسنِ اتفاق ہے۔۔۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد اور انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو ایک نشاۃِ ثانیہ درکار تھی۔ سوئی ہوئی قوم نے بیدار ہونا تھا۔ انگڑائی لینا تھی۔ حقِ حکمرانی حاصل کرنا تھا۔

محاذوں کے درمیان کشمکش میں مبتلا ہیں۔ آزادی کی طلب کے لئے ان کی نظریں انگریزوں کی طرف اٹھتی تھیں اور مستقبل میں اپنے تحفظ کے لئے وہ کانگرس کے محتاج تھے مگر یہ دونوں محاذ ان کی مرضی کے تابع نہ تھے۔ ان حالات میں انڈین نیشنلزم کے مقابلے میں مسلمانوں کے تحفظ کے لئے مسلم نیشنلزم کی اصطلاح وجود میں آئی۔ اس اصطلاح کو‘ فکری طور پر علامہ اقبال اور سیاسی طور پر قائدِاعظم نے مفسر کیا۔ قوم کو مجتمع کیااور ایک نئی اسلامی فلاحی مملکت کا نقشہ ابھرنے لگا۔۔۔ چونکانے لگا۔۔ دلوں کو گرمانے لگا۔۔ یہ سب ایک دن‘ ایک ماہ یا ایک سال میں نہیں ہوگیا۔1861 سے شروع ہوئی بات۔۔۔ 1907 تک پہنچی اور 1907 سے آگے کی ساری کٹھنائیاں عبور کرکے 1947 تک آپہنچی۔۔ برصغیر میں انگریز کے تسلط سے پہلے بھی مسلمانوں ہی کی حکومت رہی ہے۔۔۔۔۔۔
یہاں پر قائدِاعظم کی ایک تقریر کو بہت غور سے پڑھنا ضروری محسوس ہونے لگا ہے۔
’’ہمارا شمار ان قوموں میں ہوتا ہے جو گر چکی ہیں اور ہم نے بہت بُرے دن دیکھے ہیں۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی زبردست تباہی میں مسلمان خاکستر بن چکے تھے۔ مغل سلطنت کے خاتمے سے لے کر اب تک مسلمانوں کو اتنی بڑی ذمہ داری سے کبھی سابقہ نہیں پڑا جو پاکستان کی ذمہ داری قبول کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ ہم نے اس برصغیر کی زمین پر آٹھ سوسال حکومت کی ہے۔۔۔ اور ہمارا مطالبہ ہندوؤں سے نہیں ہے کہ یہ برصغیر کبھی ہندوؤں کی عمل داری میں نہیں رہا۔۔۔ صرف مسلمانوں ہی نے اس پورے خطۂ زمین پر حکومت کی ہے۔ انگریزوں نے اس برصغیر کو مسلمانوں سے حاصل کیا تھا۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہندوؤں سے نہیں‘ انگریزوں سے ہے کیونکہ یہ ملک اب ان کے قبضے میں ہے۔۔۔‘‘
قائدِاعظم کے فرمودات کی روشنی میں ہم اپنی نئی نسل کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا قیام کسی تقسیم کا نتیجہ نہیں ہے۔۔۔ یہ کیا تقسیم ۔۔۔ تقسیم ۔۔۔لگا رکھی ہے۔ بلکہ پاکستان کا قیام اس عمل کا نتیجہ ہے جو برصغیر کی تاریخ میں برابر موجود تھا۔۔۔ موجود ہے اور موجود رہے گا۔
اور ہمارے مہربان بھی سن لیں۔۔ کہ پاکستان محض واقعہ نہیں ہے۔ ایک اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی یہ حُسنِ اتفاق ہے۔۔۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد اور انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو ایک نشاۃِ ثانیہ درکار تھی۔ سوئی ہوئی قوم نے بیدار ہونا تھا۔ انگڑائی لینا تھی۔ حقِ حکمرانی حاصل کرنا تھا۔
آزادی صرف اس صورت میں آزادی بنتی ہے جب اسے کلیتاً حق حکمرانی مل جاتا ہے۔۔۔ حقِ حکمرانی برصغیر میں مسلمانوں کا گمشدہ حق تھا۔۔۔۔
آج کے حالات میں حقِ حکمرانی کئی تاویلیں پیش کی جاسکتی ہیں۔۔ مگر اصل تاویل وہی ہے جو علامہ اقبال نے فرمائی ہے۔
خودی نہ بیچ‘ غریبی میں نام پیدا کر
خودی قرضوں کے عوض بک جاتی ہے۔ سیم و زر افراد کی غیرت کو کھا جاتے ہیں۔ شاہانہ زندگی کی تب و تاب رزقِ حلال کی لذت کو زائل کردیتی ہے۔
فقیری اس فقر کا نام ہے جو گھر کی دال روٹی کھاکے‘ سرحدوں پر فلک شگاف نعرے لگانے پراُکساتی ہے۔
یہ حقِ حکمرانی ۔۔۔ یہ تاریخ کی وراثت‘ یہ جغرافیے کی حاکمیت۔۔۔
یہ قوم‘ ملک‘ سلطنت
کبھی رک کر سوچا۔۔۔ کبھی دیکھا۔۔۔
آج پاکستان پوچھتا ہے ہر اس فرد سے جو پاکستان کے اندر پیدا ہوا ہے کہ تم پاکستانی کیوں نہیں ہو۔ تم یہاں مہاجر بن کر کیوں رہتے ہو۔ تم اپنے بچوں کو جس دیس کا شہری بنانا چاہتے ہو۔ کیا اس کی اہمیت ہمیشہ ایسی ہی رہے گی۔۔۔؟
تم اپنی زمین پر دانۂ گندم کیوں نہیں اُگاتے۔ اگر ادھار کی گندم کھاؤ گے۔۔۔ تو لہو اُبلنا چھوڑ دے گا۔
تم اپنے دریاؤں کا رُخ موڑ کیوں نہیں لیتے۔۔۔ تمہارے کھیتوں کے لب خشک ہو رہے ہیں۔۔۔ تم اپنے پرچم کو اٹھ کر سلام کیوں نہیں کرتے۔ وہ فضاؤں میں ہاتھ پھیلا ئے ہر دم تمہارے لئے دعائیں بکھیر رہا ہے۔۔۔
تم اپنے اسلاف کی باتیں پڑھنے کا وقت کیوں نہیں نکال سکتے۔۔۔ تمہیں دنیاوی لہو و لعب سے فرصت کیوں نہیں ہے۔۔۔
عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں
تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے

 

16
September

عید کی خوشیوں اور آزادی کی مسرتوں میں زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ تین ہفتوں سے ایک دو روز زیادہ۔ اب کے روزے بھی بہت صبر طلب اور ہمت آزما تھے۔ خون بہتا رہا۔ شہادتوں کی خوشبوئیں پھیلتی رہیں۔ کراچی میں تو رمضان کا پہلا ہفتہ ایک قیامت کا سماں رہا۔ ایک ہی شہر میں 1300سے زیادہ انسان دیکھتے دیکھتے زندگی سے موت کا سفر کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ان کے گھر انہیں اماں نہ دے سکے۔ کیو نکہ وہاں ہوا کا گزر نہیں تھا۔ وہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیے گئے۔ حفظان صحت کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ آبادیوں میں سرکاری اسپتال نزدیک ترین نہیں ہیں۔ بڑے اسپتال نام کے بڑے ہیں۔ وہاں سہولتیں نہیں ہیں۔ دوائیں دستیاب نہیں ہیں‘ بجلی 24 میں سے اٹھارہ گھنٹے بند رہتی ہے۔ اسپتالوں میں بھی یہی حال ہے۔

آزادی بہت قیمتی متاع ہے۔ یہ طاقت بھی ہے‘ لیکن نازک بھی ہے۔ اس کے لئے ہمارے لاکھوں بزرگوں نے بانیانِ پاکستان نے ہجرت کے دوران قربانیاں دیں۔ پھر یہ قوم اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے 68 سال سے مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔

اس غم و اندوہ‘ مایوسی اور کرب میں ایک پہلو اُمید کا بھی تھا۔ بہت ہی حوصلہ افزا۔ شہر کے نوجوان لڑکے لڑکیاں‘ امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے۔ متوسط طبقے سے پیدا ہونے والے سرگرم ہوگئے‘ اسپتالوں میں پہنچ گئے‘ کوئی جنریٹر کا انتظام کررہا تھا‘ کوئی پنکھے صاف کررہا تھا‘ کوئی ٹھنڈے پانی کی بوتلیں لارہا تھا‘ ٹیکنالوجی بھی معاونت کررہی تھی‘ سوشل میڈیا سے پیغامات چل رہے تھے‘ ضرورت کے پیسے جمع ہورہے تھے۔ اس سارے حزن و یاس کے عالم میں کراچی کے ان بیٹوں بیٹیوں کے تمتماتے چہرے اُمید کی مشعلیں بن کر بے بسی کے اندھیرے دور کررہے تھے۔ یہ کہانی ہمتیں بڑھاتی ہیں۔ اس کی تفصیلات جاننا چاہئیں۔ یہ ایک سماجی انقلاب آرہا ہے اپنے طور پر ۔ اس کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے یہ زحمت نہیں کی۔ جہاں ہم ایک طرف کرپشن اور لوٹ مار کی خبروں سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں اور حد درجہ نا اُمید بھی۔ وہاں ان نوجوانوں کے یہ رویے ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ کل آنے والا پاکستان اب گزرنے والے پاکستان سے کہیں بہتر ہوگا۔

جہاں ہم ایک طرف کرپشن اور لوٹ مار کی خبروں سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں اور حد درجہ نا اُمید بھی۔ وہاں ان نوجوانوں کے یہ رویے ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ کل آنے والا پاکستان اب گزرنے والے پاکستان سے کہیں بہتر ہوگا۔

جناح اسپتال‘ سول اسپتال‘ عباسی اسپتال اور دوسرے کلینکوں‘ اسپتالوں میں یہ تیز تیز چلتے‘ بھاگتے‘دوڑتے نوجوان بچے بچیاں‘ میرا اور آپ کا مستقبل ہیں۔ یہ ہماری طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے گِلے شکوے میں مصروف نہیں رہتے کہ حکومت کچھ نہیں کررہی‘ سب کچھ تباہ ہوگیا‘ یہ پاکستانی پر عزم‘ با حوصلہ‘ خود نکل آتے ہیں۔ پیسہ بھی اپنا لگاتے ہیں۔ خود جمع کرتے ہیں‘ حکومت کی گرانٹ کا انتظار کرتے ہیں‘ نہ کسی غیر ملکی امداد کا۔

راہبر وہ ہی رہیں۔ راہ دکھائیں ہم لوگ

وہ تو معذور ہیں یہ فرض نبھائیں ہم لوگ

جو اُدھورا ہے اسے ہم ہی مکمل کرلیں

بیٹھے بیٹھے یونہی باتیں نہ بنائیں ہم لوگ میں نے بہت پہلے یہ غزل کہی تھی‘ اب خوشی ہوتی ہے کہ اسے حقیقت میں ڈھالنے والی نسل وجود میں آگئی ہے‘ ادھورے کو پورا کررہی ہے۔ ملک جن نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ میں یہ جملہ لکھ تو گیا ہوں‘ مگر پھر سوچنے لگ گیا ہوں کہ گزشتہ 50 سال میں کون سے برس میں نے یہ الفاظ نہیں دہرائے‘ اب تو 68 سال ہورہے ہیں ہم 69 واں یوم آزادی منانے جارہے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں یہ کیوں لگ رہا ہے کہ یہ یوم آزادی 14 اگست 2015ء پاکستان کی تاریخ کے ایک فیصلہ کُن موڑ پر آرہا ہے۔

صبح آزادئ کا مل طلوع ہونے والی ہے

داغ داغ اُجالا۔ صاف شفاف ہونے والا ہے

عشق اپنی مراد پانے والا ہے

دعائیں قبول ہونے کی گھڑی آرہی ہے

دہشت گردوں کے دن لد گئے ہیں‘ ان کی بساط لپٹنے والی ہے۔

فیصلے کی گھڑی کیوں آرہی ہے۔

فوج نے فیصلہ کرلیاہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ضرب عضب جاری رہے گی۔ دہشت گردی صرف وہ نہیں جو مذہبی انتہا پسندی سے جنم لیتی ہے‘ جو اپنے مسلک کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لئے اختیار کی جاتی ہے۔ ایک فرقہ دوسرے پر کفر کا فتویٰ صادر کرکے اسے تہ تیغ کرتا ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ ہر قسم کی دہشت گردی کو ختم کیا جائے گا۔ چاہے وہ لسانی مافیا کی طرف سے ہو‘ نسلی مافیا کی جانب سے‘ زمینوں پر قبضے کرنے والے ایسا کررہے ہوں‘ کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا‘ اسی طرح ملکی خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف بھی پوری شدت اور تندہی سے کارروائیاں جاری کردی گئی ہیں‘ یہ ایک حقیقت ہے‘ اگرچہ بہت تلخ‘ کہ پاکستان میں وہ آزادی جوبیس لاکھ سے زیادہ بزرگوں‘ بچوں‘ نوجوانوں ماؤں‘ بہنوں کے خون سے حاصل کی گئی تھی۔ اسے پہلے کرپشن نے داغ داغ کیا۔ پھر انتہا پسندی نے اور دہشت گردی نے تو اس آزادی کو لہو میں نہلادیا ہے۔

آج پھر جب بھارت میں ایک سخت انتہا پسند ہندو وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر بیٹھا ہے تو اس علاقے میں سُپر طاقت بننے کے لئے پھر کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ بھارت کا رویّہ جارحانہ ہوتا جارہا ہے۔ عالمی فورموں پر بھی پاکستان دشمن سفارت کاری ہورہی ہے۔ ہماری سرحدوں پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔

میں تو کرپشن کو دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتا ہوں۔ پاکستانی معاشرے کی تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے گزشتہ چھ عشروں سے جو کچھ دیکھتا آرہا ہوں‘ میری تحقیق یہی ہے کہ ہم نے ناجائز دولت کی لالچ میں سب حدیں پار کی ہیں۔ پیسے کے سامنے مملکت کی کوئی وقعت رہی نہ مذہب کی۔ ہمارا مقصد‘ ہماری منزل‘ دولت بن کر رہ گئی‘ اس میں مملکت کی ساری حدود بھی نظر انداز کردی گئیں اور مذہبی شعائر بھی اس کی نذر کردیئے گئے۔ اس لامتناہی ہوس زر نے فریب‘ منافقت اور ہر قسم کی انتہا پسندی کو جنم دیا۔ ایک طرف بہت زیادہ بہرہ ور طبقہ ہے‘ جسے زندگی کی ہر سہولت دستیاب ہے اور دوسری طرف بہت زیادہ بے بہرہ‘ جو زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے بھی ترستا ہے۔ اس بے بہرہ طبقے کے نوجوان مایوس‘ بے بسی اور بے کسی کے عالم میں انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ یہ انتہا پسند تنظیمیں‘ مذہبی شدت پسندوں کی بھی ہیں علیحدگی پسندوں کی بھی‘ فرقہ پرستوں کی بھی‘ لسانی اور نسلی گروہوں کی بھی۔ کرپشن کو جڑوں سے اُکھاڑا جائے گا تو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی مالی سرپرستی بھی ختم ہوتی جائے گی۔ ان کی رسد کا راستہ مسدود ہوگا تو یہ محدود ہوتے چلے جائیں گے اور ہم مکمل آزادی اور خود مختاری کے راستے پر گامزن ہوں گے۔ پہلے ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے قائد اعظم محمّد علی جناح کی قیادت میں جدو جہد کی۔ اس کے ساتھ ساتھ جب قائد نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ انگریز کی غلامی سے نکل کر برّ صغیر کا مسلمان ہندو کی غلامی میں یہ نہ چلا جائے تو انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے حصول کو اپنا نصب العین بنایا۔ یہ بات ہندو سیاسی جماعتوں کو بہت خطرناک محسوس ہوئی۔ وہ مسلمانوں کو الگ وطن حاصل کرنے کی کوششوں کو تو ناکام نہ بناسکے لیکن انہوں نے یہ تہیہ کرلیا تھا کہ اس خطّے میں اپنا غلبہ قائم کرنا ہے۔

کرپشن کو جڑوں سے اُکھاڑا جائے گا تو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی مالی سرپرستی بھی ختم ہوتی جائے گی۔ ان کی رسد کا راستہ مسدود ہوگا تو یہ محدود ہوتے چلے جائیں گے اور ہم مکمل آزادی اور خود مختاری کے راستے پر گامزن ہوں گے۔

پاکستان کے 68 سال اس کشمکش میں گزرے ہیں۔ آج پھر جب بھارت میں ایک سخت انتہا پسند ہندو وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر بیٹھا ہے تو اس علاقے میں سُپر طاقت بننے کے لئے پھر کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ بھارت کا رویّہ جارحانہ ہوتا جارہا ہے۔ عالمی فورموں پر بھی پاکستان دشمن سفارت کاری ہورہی ہے۔ ہماری سرحدوں پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے بھی پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ فارمیشن کمانڈرز کی میٹنگوں میں بھی اس پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ حکومت کے اہم اداروں اور شخصیات نے بھی اس پر آواز بلند کی ہے۔ ممکن ہے کہ پاکستان یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں بھی لے جائے۔ اگر چہ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعظم بھارت کی روس کے شہر اوفا میں ملاقات بھی اس کا حوالہ زیر غور نہیں آیا۔ اس پر پاکستان کے عوام اب تک حیرت زدہ ہیں۔

بھارت کے اس غلبے کے جنون نے بھی ہماری آزادی کو چیلنج کر رکھا ہے۔ دہشت گردی کی طرف نوجوان کیوں راغب ہوتے ہیں۔ جب ان کے خواب پورے نہیں ہوتے‘ ان کے عزائم تکمیل نہیں پاتے‘ ان کی آزادی پر پابندیاں مسلط کی جاتی ہیں ۔مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی نے اس وقت جنم لیا جب فلسطین پر اسرائیلی مظالم بڑھتے چلے گئے‘ ان سے آزادی چھین لی گئی اور جنوبی ایشیا میں یہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کشمیریوں سے حق رائے دہی غصب کرنے کے باعث شروع ہوئی۔ دُنیا میں جہاں جہاں ظلم ہورہا ہے وہاں نوجوان ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہوتے چلے گئے ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام نے دُنیا پر یک طاقتی نظام مسلط کردیا ہے۔امریکہ نے اپنی طاقت اور دولت کے گھمنڈ میں چھوٹے ملکوں کی آزادی اور خود مختاری کو غصب کرنا شروع کردیا۔ پاکستان میں اس وقت جن دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب جاری ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے تلوار تو امریکہ کے خلاف اُٹھائی‘ مگر اپنے ہی ملک کے شہریوں‘ فوجیوں‘ اہم فوجی تنصیبات اور حساس اداروں پر حملے شروع کردیئے۔ یہ کس راستے پر چل رہے ہیں‘ کیا اس سے یہ وہ مقاصد حل کرسکتے ہیں‘ جن کا یہ پرچار کرتے ہیں یہ انہیں بھی معلوم نہیں ہے۔ اب جنگ یہ ہے کہ یہ چند لوگ جس مسلک کو درست سمجھتے ہیں‘ ان کے نزدیک جو رسوم و رواج۔ اسلام کے شعائر ہیں۔ یہ پورے ملک پر مسلط کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ملک میں جمہوری آزادیاں ہیں۔ یہ اگر واقعی اپنے نظریات کو بر حق خیال کرتے ہیں تو میدان میں آئیں‘عوام کو قائل کریں‘ انتخابات میں حصّہ لیں‘ پھر اپنے پروگرام پر عملدرآمد کریں۔ لیکن انہیں یقین ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت ان کی ہٹ دھرمی کو نہیں مانے گی۔ علماء کی اکثریت ان کی ہم خیال نہیں ہے۔ اس لئے جب پاک فوج کی طرف سے ضرب عضب شروع کی گئی تو خیبر سے گوادر تک پورے ملک کے عوام نے اس کا خیر مقدم کیا‘ ان حلقوں نے بھی جو پہلے طالبان اور ایسی دوسری تنظیموں سے مذاکرات کے حق میں تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ پاک فوج کا یہ فیصلہ بالکل صحیح تھا۔ اس کے نتائج ملک کے حق میں ہورہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف حصّوں میں جو بم دھماکے ہورہے تھے‘ دہشت گردی کی وارداتیں ہورہی تھیں۔ ان میں بڑی حد تک کمی آئی۔

اب جنگ یہ ہے کہ یہ چند لوگ جس مسلک کو درست سمجھتے ہیں‘ ان کے نزدیک جو رسوم و رواج۔ اسلام کے شعائر ہیں۔ یہ پورے ملک پر مسلط کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ملک میں جمہوری آزادیاں ہیں۔ یہ اگر واقعی اپنے نظریات کو بر حق خیال کرتے ہیں تو میدان میں آئیں‘عوام کو قائل کریں‘ انتخابات میں حصّہ لیں‘ پھر اپنے پروگرام پر عملدرآمد کریں۔

انتہا پسندوں کے خلاف یہ عسکری اور انتظامی کارروائی تو اپنی جگہ مسلّمہ اور نتیجہ خیز ہے لیکن اَ ن خطر انگیز رُجحانات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ناگزیر امر یہ ہے کہ جہاں خود کش بمباروں اور دہشت گردوں کی فصلیں کاشت کی جارہی ہیں اس زمین کو دوبارہ قابلِ کاشت کیا جائے۔ جنت میں جانے کے حقیقی راستے بتائے جائیں‘ اس کے لئے علمائے حق کو آگے آنا ہوگا کیونکہ یہ مذہب کا معاملہ ہے‘ دین کا حوالہ ہے۔ اس لئے اس میں یہ نوجوان حکمرانوں اور جنرلوں کی نہیں‘ علماء کرام کی بات کو وزن دیں گے۔ علماء جب بار بار یہ کہتے ہیں کہ انتہا پسندی اسلام نہیں ہے‘ دہشت گردی اسلام نہیں سکھاتا تو انہیں کھل کر میدان میں آنا چاہئے‘ ان نوجوانوں کو بھٹکنے والوں کے راستوں پر نہیں جانے دینا چاہئے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ فوج نے ڈی ریڈی کلائیزیشن کا جو پروگرام شروع کر رکھا ہے‘ اسے حکومت بھی اپنائے‘ اس کا دائرہ وسیع کیا جائے‘ اس کے ابلاغ کو زیادہ دور رس بنایا جائے۔ یہ مذہب کا معاملہ ہے جو بہت حساس بھی ہوتا ہے اور نازک بھی۔ ان رُجحانات کے باعث پاکستان کی آزادی خطرے میں ہے۔ مملکت کا وجود لرز رہا ہے۔ کیونکہ مذہب کی شدت پسندی ہر حد کو عبور کررہی ہے۔ ان ذہنی لہروں اور شدید رویوں کی وجہ سے ہماری تنصیبات‘ حساس اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس لئے خطّے کے دوسرے ممالک‘ عالمی طاقتیں پاکستان کو خطرناک ملکوں میں شُمار کرتی ہیں۔

اب عالمگیریت کا دور ہے۔ اس میں وہی قومیں آگے بڑھ سکیں گی جو علم کے حصول میں پیش پیش‘ ذہنی استعداد میں آگے ہوں گی۔ دنیا بھر میں اب تو بین الاقوامی نصاب تعلیم بھی اس لئے رائج ہورہا ہے کہ اب کسی بھی ملک کے بچے کو کہیں بھی دُنیا میں جانا پڑ سکتا ہے۔ اس کی ذہنی سطح بین الاقوا می معیار کی ہونی چاہئے‘ اسے عالمی اصطلاحات سے با خبر ہونا چاہئے۔ ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کے شہری عالمی شہریوں کے مقابلے کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھیں۔ اسی سطح کی تعلیم بھی حاصل کریں۔ رفتارِ عالم سے با خبر بھی رہیں۔ آزادی بہت قیمتی متاع ہے۔ یہ طاقت بھی ہے‘ لیکن نازک بھی ہے۔ اس کے لئے ہمارے لاکھوں بزرگوں نے بانیانِ پاکستان نے ہجرت کے دوران قربانیاں دیں۔ پھر یہ قوم اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لئے 68 سال سے مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔ مختلف جمہوری تحریکوں میں جان و مال کی قربانیاں۔ قید و بند کی صعوبتیں بھی اس مملکت کے استحکام کے لئے دی گئیں۔اب دہشت گردی کی وارداتوں میں سیکڑوں بچے‘ بزرگ خواتین شہید ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ہماری مسلح افواج کے سینئر افسر۔ سپاہی بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ ضرب عضب بھی اپنی آزادی کے تحفظ اور استحکام کے حصول کا ذریعہ ہے۔ مملکت کے خلاف مملکت کے اندر کسی کو بھی ہتھیار اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسلحے کا استعمال صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اپنی آزادی کے تحفظ کے لئے اس وقت پاکستان کی مسلح افواج ایک بڑی مشکل جنگ لڑ رہی ہیں‘ پاکستان کی ماؤں بہنوں بیٹیوں بزرگوں کی دعاؤں سے انہیں کامیابی بھی نصیب ہورہی ہے۔ میں ان علماء سے ان نوجوانوں سے گزارش کرنا چاہوں گا‘ جنہوں نے جنّت میں جانے کے لئے اس انتہائی خطرناک راستے کا انتخاب کیا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ان کے ذہنوں کو مسموم کیا گیا ہے۔ ان کے معصوم دماغوں میں یہ بات بٹھائی گئی ہے کہ یہ لوگ مرتد ہوگئے ہیں۔ یہ کافروں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ انہیں مار کر راستے سے ہٹاکر سیدھے جنّت جاؤگے۔

پاکستان کی آزادئ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر پوری نہیں ہوسکتی۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کی آزادی کا نا مکمل ایجنڈا ہے اس کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب کشمیری عوام کو اپنی مرضی سے اپنا مستقبل طے کرنے کا موقع ملے گا۔

آج کتنے برس سے یہ خوفناک وارداتیں ہورہی ہیں۔ خود کش جو خود بھی مارے گئے اور اپنے ساتھ کتنے بے گناہوں کو بھی لے اُڑے‘ اس سے کیا حاصل ہوا۔ اسلام کی بدنامی ہوئی۔ ہمارے آباؤ اجداد تو ہمیشہ یہ قائل کرتے رہے کہ اسلام بزور شمشیر نہیں پھیلا۔ ہم اپنے رویّوں سے‘ وارداتوں سے کافروں‘ غیرمسلموں اور اسلام دشمنوں کے اس الزام کی تصدیق کررہے ہیں۔ عملاً یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اسلام قبول کروانے ہی نہیں بلکہ اپنے مسلک سے اختلاف رکھنے والے مسلمانوں کو بھی ہم زندہ رہنے کا حق نہیں دیتے۔ اس شدت پسندی اور مارا ماری سے پوری دُنیا میں اسلام کا حسین اور مہربان تصوّر مسخ ہورہا ہے۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ حقوق انسانی کا محافظ ہے۔ قوموں کی سربلندی چاہتا ہے۔ مملکتوں کی آزادی اور خود مختاری کی ضمانت دیتا ہے۔ دہشت گردی‘ انتہا پسندی انسانوں کے حقوق کی پامالی‘ انسانوں کی مرضی کے بغیر ان پر تسلّط جمائے رکھنا‘ یہ سب آزادی کی مخالف قوتیں ہیں۔ دُنیا بھر میں آزادئ کامل کا تصوّر فلسطین کو ایک مکمل آزاد خود مختار ریاست بنائے بغیر حقیقت میں نہیں ڈھل سکتا۔ اسی طرح برصغیر میں آزادی کا تصوّر اور پاکستان کی آزادئ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر پوری نہیں ہوسکتی۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کی آزادی کا نا مکمل ایجنڈا ہے اس کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب کشمیری عوام کو اپنی مرضی سے اپنا مستقبل طے کرنے کا موقع ملے گا۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
16
September

ہمارا ایک شرارتی سا کزن تھا ہم اسے پیار سے مودی کہتے تھے‘ وہ بظاہر بڑا ہو گیا تو بھی مودی کا مودی رہا۔ جب بھی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دیکھتا ہوں تو دل میں سوچتا ہوں کہ یہ کبھی بڑا بھی ہو گا۔ وہ جو کچھ وزیراعلیٰ گجرات سے پہلے تھا وہی وزیراعلیٰ بن کے بھی رہا۔ اس کے بعد وزیراعظم بھارت بن کے بھی ایسا ہی رہا۔ وہ پاکستان کو اشتعال دلانے میں تو کامیاب نہ ہوا البتہ بنگلہ دیشی حسینہ واجد کو رام کر لیا۔ اس نے بنگلہ دیش میں واجپائی جی کا پاکستان دشمنی کا ایوارڈ وصول کیا۔ حق تو یہ تھا کہ مودی کو ایوارڈ دیا جاتا۔ بڑی محنت کی مگر اس کا کریڈٹ بنگلہ دیش کی وزیراعظم کو جاتا ہے اور ڈِس کریڈٹ بھی اسے ہی جاتا ہے۔ یہ قسمت اسے مودی نے ادا کئے۔ قسمت اور بدقسمتی ایک ہو گئے ہیں۔ اﷲ سے دونوں کو کوئی امید نہیں ہے۔

مجھے یقین ہے اگر واجپائی جی خود یہ ایوارڈ وصول کرتے تو ایسی تقریر نہ کرتے جو مودی نے کی ہے۔ واجپائی جی سچے بھارتی ہیں تو ان الفاظ کی تردید کر دیں جو مودی نے ادا کئے ہیں۔ واجپائی جی واہگہ کے راستے لاہور آئے تھے۔ مینار پاکستان بھی گئے تھے۔ بات مودی سے ہوئی مگر ایک سوال بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد سے ہے کہ اس کے والد کے قاتل پاکستانی نہ تھے۔ نہ وہ لوگ تھے جن کو بڑھاپے میں پھانسیاں دلوائی جا رہی ہیں۔ ان میں کئی ایک تو بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے ممبر بھی رہ چکے ہیں وہ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر ایک الیکشن بھی لڑ چکی ہیں تو پھر ان لوگوں سے اس لڑائی کا جواز سمجھ میں نہیں آیا۔ کیا انہوں نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمن کے قاتلوں کو سزائیں دلوائی ہیں؟ اور اب بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت کی خدمات اور سازشوں کے لئے ایوارڈ کیوں دیئے جا رہے ہیں۔ اندرا گاندھی جو سقوط پاکستان کی اصل ذمہ دار تھیں کا ایوارڈ سونیا گاندی نے وصول کیا۔ اتنی دیر بعد ان ایوارڈ کا کوئی سبب اس کے علاوہ نہیں ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی بھارت کی خواہشوں کا اختتام نہیں ہو رہا۔ بھارت کو اختتام کی نہیں انجام کی فکر کرنا چاہئے۔

یہ بات مودی کی سمجھ میں نہیں آئے گی کہ جو کام وہ کرنا چاہتا ہے اس کی خواہش ہر بھارتی وزیراعظم کے دل میں تھی مگر بے سود کوشش کے بعد وہ دل ہار کے بیٹھ گئے۔ مختصر بات یہ ہے کہ وہ کچھ کیا جائے جو کوئی بھارتی وزیراعظم نہیں کر سکا۔وہ پاکستان کو دل سے تسلیم کرے اور کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری مسلمانوں کی مرضی کے مطابق نکالے۔

مجھے مودی جی کے سیاسی بچپنے کی یوں سمجھ بھی نہیں آئی۔ دنیا کے سب سیاسی لوگ اور سچے پاکستانی بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے قیام کی خواہش بھارت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ذہن میں ہر وقت کلبلاتی رہتی تھی۔ مشرقی پاکستان کو بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اسے مغربی پاکستان سے الگ کر دیا جائے۔ یہ شکست نہ تھی سازش تھی اور قیام پاکستان سے چل رہی تھی جو عالمی سطح تک پھیلی ہوئی تھی۔ ملک کے دونوں حصوں کے درمیان دشمن ملک سے کبھی دنیا کی تاریخ میں ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ملک ہو اس کے دو حصے ہوں اور ان کی سرحد بھی ایک دوسرے سے نہ ملتی ہو۔ اس میں پاکستانی فوج پر کوئی الزام تو بالکل بے معنی ہے۔ یہ دراصل پاک فوج کی شکست نہ تھی اس میں سیاستدانوں اور دوسروں کی بھی بہت سی خدمات تھیں۔ یہ قصہ میرا موضوع نہیں ہے۔ مگر میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ بھارت اور مکتی باہنی اور بعض خفیہ ایجنسیوں کی سازشتیں نہ ہوتیں تو مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہیں بن سکتا تھا۔ بھارتی فوجیں بین الاقوامی اصولوں اور سارے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں اور بنگلہ دیش بن گیا۔ مودی کہتا ہے کہ میں نے بنایا وہ تو شاید تب بھارتی فوجیوں کو چاہتے ہوئے بھی ہلانے کے قابل نہ تھا۔ یہ بھارتی فوجیوں کا کمال نہیں ہے کہ اسلحے کی سپلائی کے نہ ہوتے ہوئے ملک کے دونوں حصوں میں کوئی رابطہ نہ ہونے کے سبب تقریباً نسبتاً کم فوج پر باقاعدہ فوج کشی کی اور دل کو خوش رکھنے کے لئے کہا کہ ہم نے بہت بڑی معرکہ آرائی کر لی ہے۔ چھ سات لاکھ فوج کے ساتھ پچھلے اڑسٹھ برسوں میں وہ کشمیر فتح نہیں کر سکے تو وہ کوئی دعویٰ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ مودی کو احساس نہیں ہوا کہ اس کے ملک میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور کئی علاقوں میں اس کی رٹ ہی قائم نہیں ہے۔ تو وہ چلا ہے اپنی برتری کی خوش فہمی پھیلانے کہ ہم نے بنگلہ دیش بنوایا۔ یہ ایسی خبر ہے کہ پاکستان کے بچے بچے کے علم میں پہلے سے ہے اور ان کا یہ ارادہ بھی ہے کہ وہ اس بزدلانہ جارحیت کا بدلہ لیں گے۔

مودی کو علم ہونا چاہئے کہ لڑنے والے باتیں نہیں کرتے۔ جرأت مندی کو بیان کرنے اور اظہار جرأت کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ گجرات کے مسلمان مودی کے ظلم کے خلاف آج بھی خاموش ہیں اور خاموشی کسی نہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ خیمہ گرنے والا ہے اور جو کچھ بھارت کے ساتھ پیش آئے گا اس کا اندازہ تاریخ انسانی کو بھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم ایک ایٹم بم بھی بھارت کو اتنا برباد نہیں کر سکتا جتنا اکیلا مودی بھارت کو برباد کر دے گا۔ نہ صرف برباد بلکہ بدنام بھی کرے گا اور بدنامی بہرحال ناکامی سے بڑی ہزیمت ہوتی ہے۔ ظالم کبھی بہادر نہیں ہو سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہبھارتی حکمرانوں اور وزیراعظموں کو کشمیر کا مسئلہ کھا گیا ہے۔ جو کچھ بچا ہے وہ پاکستان دشمنی کی نذر ہو گیا۔ اسلام دشمنی ایسی کہ اپنے ہی ملک کے مسلمان اپنے شہریوں کو بغیر کسی قصور کے قتل کیا بلکہ قتل عام کیا گیا۔ جن حکام کے ہاتھ اپنے ہی عوام کے خون سے بھرے ہوئے ہوں وہ کبھی نیک نام نہیں ہو سکتے۔ بھارت کا جو وزیراعظم کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی جرأت کرے گا وہ ایک عالمی سطح کا سیاستدان ہو گا۔ یہ نصیب بھارت کے کسی وزیراعظم کے حصے میں نہ آیا۔ اُن کے ذہن میں تھا کہ کشمیر کو زبردستی بھارت کا حصہ بنانے کے ظلم کی چکی میں ڈالا جائے مگر اس طرح وہ اپنے سیاسی مستقبل کو خاک میں اڑاتے رہے۔ کوئی وزیراعظم سربلند نہ ہو سکا۔ نہ پنڈت نہرو نہ لال بہادر شاستری۔ نہ اندراگاندھی نہ واجپائی نہ من موہن سنگھ اور نہ مودی۔ مودی کے نام پر غور کریں وہ بھارتی وزیراعظم کے طور پر سب سے آگے نکل جانا چاہتا ہے۔ وہ اتنا زیادہ آگے نکل جائے گا کہ بہت پیچھے رہ جائے گا۔ اور کچھ بھی پیچھے نہیں بچے گا۔

مودی کو احساس نہیں ہوا کہ اس کے ملک میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور کئی علاقوں میں اس کی رٹ ہی قائم نہیں ہے۔ تو وہ چلا ہے اپنی برتری کی خوش فہمی پھیلانے کہ ہم نے بنگلہ دیش بنوایا۔ یہ ایسی خبر ہے کہ پاکستان کے بچے بچے کے علم میں پہلے سے ہے اور ان کا یہ ارادہ بھی ہے کہ وہ اس بزدلانہ جارحیت کا بدلہ لیں گے۔

یہ بات مودی کی سمجھ میں نہیں آئے گی کہ جو کام وہ کرنا چاہتا ہے اس کی خواہش ہر بھارتی وزیراعظم کے دل میں تھی مگر بے سود کوشش کے بعد وہ دل ہار کے بیٹھ گئے۔ مختصر بات یہ ہے کہ وہ کچھ کیا جائے جو کوئی بھارتی وزیراعظم نہیں کر سکا۔وہ پاکستان کو دل سے تسلیم کرے اور کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری مسلمانوں کی مرضی کے مطابق نکالے۔ کتنی سادہ بات ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے جبکہ سلامتی کونسل سے منظور شدہ کشمیریوں کے لئے قراردادیں ہر وزیراعظم کی جیب میں پڑی ہوتی ہیں اور وہیں پڑی رہ جاتی ہیں اور بھارتی وزیر اعظم بھی وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔ مودی بھارت کو چین کے مقابلے میں امریکہ کی خواہش کے مطابق لانا چاہتا ہے مگر وہ مقابلہ پاکستان سے بھی نہیں کر سکتا۔ میں اعلانیہ کہتا ہوں کہ بھارت صرف پاکستان سے ڈرتا ہے یہ ڈر مودی کے دل میں نقش ہو کے رہ گیا ہے۔

پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے بھارتی ہندو پریشان ہیں کہ پاکستانی معمولی سی چیزیں نہیں بنا سکتے۔ مگر ایٹم بم بنا لیا۔ اور یہ پاکستانی ایٹم بم جسے ممتاز کالم نگار شاعر سعید آسی نے نظریاتی ایٹم بم کہہ کر مرشد و محبوب مجید نظامی کی روح کو خوش کر دیا ہے۔ نظامی صاحب خوش تھے کہ ہمارا ایٹم بم بھارتی ایٹم بم سے بہت آگے ہے اور ہمارا میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے قرآن حکیم کا یہ فرمان بہت ہے کہ اپنے گھوڑے تیار رکھو۔ بھارت تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔

16
September

9سے 10جولائی2015 کو روس کے شہر اُوفا میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کی پندرھویں سربراہی کانفرنس میں متعدد اہم فیصلے کئے گئے لیکن ان میں تنظیم کی مستقل رکنیت کو بڑھا کر پاکستان اور بھارت کو بطورِ مستقل رُکن شامل کرنا بلاشبہ سب سے نمایاں اور تنظیم کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا کے تین بڑے خطوں وسطی ایشیا‘ یوریشیا اور جنوبی ایشیا کے لئے دور رَس مضمرات کا حامل ہے- اس سے قبل ایس سی او نے اپنی مستقل رکنیت میں اضافہ کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اس لئے پاکستان اور بھارت کی بطورِ مستقل رکن شمولیت نے تنظیم کا نہ صرف ڈھانچہ تبدیل کردیا ہے بلکہ اس کا دائرہ جنوبی ایشیا تک بڑھا دیا گیا ہے جہاں دنیا کی کل آبادی کا1/5 حصہ آباد ہے۔ اس سے ایس سی او نے ایک ایسا مقام حاصل کرلیا ہے جہاں چار ممالک یعنی روس‘ چین‘ پاکستان اور بھارت ایٹمی قوتیں ہیں اور اس کے آٹھ رکن ممالک دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کے ساتھ ایس سی او کے رابطے پہلے سے ہی موجود تھے۔ پاکستان اور بھارت کو تنظیم میں آبزرورز کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ نیپال اور سری لنکا تنظیم کے ڈائیلاگ پارٹنرز گروپ میں بھی شامل ہیں۔ تاہم پاکستان اور بھارت کو مستقل رُکنیت حاصل ہونے کے بعد جنوبی ایشیائی خطہ علاقائی تعاون اور خطوں کے درمیان رابطوں کے فروغ میں پہلے سے زیادہ فعال اور مربوط کردار ادا کرسکے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایس سی او جس کا مقصد شروع میں رُکن ممالک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کا تحفظ تھا‘ اب تجارت‘ اقتصادی تعاون‘ انفراسٹرکچر‘ توانائی کے منصوبوں‘ ریلوے‘ ہائی ویز اور مواصلاتی رابطوں کی تعمیر اور ترقی کے منصوبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اس عمل کے فروغ میں چین سب سے نمایاں اور موثر کردار ادا کررہا ہے۔ نئی شاہراہ ریشم جس کی تعمیر کے لئے چین نے گزشتہ برس چالیس بلین ڈالر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا‘ کو بطورِ مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اربوں ڈالر کی لاگت سے چین وسطی ایشیائی ممالک میں توانائی ‘ انفراسٹرکچر اور معدنیاتی ترقی کے منصوبوں کو مکمل کرچکا ہے۔ ان میں چین اور وسطی ایشائی ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن کی تعمیر بھی شامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چین اُن وسطی ایشیائی ممالک میں جو ایس سی او کے رُکن ہیں‘ اب تک 50 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔2008-9 کے عالمی مالیاتی بحران کے اثرات سے بچانے کے لئے چین نے وسطی ایشیائی ممالک کو10 ارب ڈالر کے قرضہ جات فراہم کئے تھے۔ مبصرین کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستوں جو1991 سے قبل روس کا حصہ تھیں‘ میں چین کا معاشی اثر و نفوذ روس سے زیادہ ہے اور’’ اُوفا‘‘ سربراہی کانفرنس میں کئے گئے فیصلوں کے بعد اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

’’اُوفا‘‘ میں جو فیصلے کئے گئے ہیں‘ اُن میں سے ایک کے تحت ایک دس سالہ ترقیاتی حکمتِ عملی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ایکشن پلان میں100 بلین ڈالر کے سرمائے سے نیوڈیویلپمنٹ بنک کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چین کے ’’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘‘ اور روس کے ’’یوریشین اکنامک کیمیونٹی‘‘ کو یک جا کرکے ایس سی او کے تحت ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر چینی’’نیوسلک روڈ اور اکنامک بیلٹ‘‘ کے تحت4000 کلومیٹر ریلوے لائن اور10,000 کلومیٹر لمبی شاہراہ تعمیر کی جائے گی اور اسے روسی منصوبے ’’یوریشین اکنامک کمیونٹی‘‘ کے ساتھ جوڑ کر یورپی ممالک کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ اس طرح قدیم شاہراہِ ریشم جو وسطی چین سے شروع ہو کر وسطی ایشیا اور ایران کے راستے میسو پو ٹیمیا (جدید عراق‘ شام اور اُردن) سے گزر کر لبنان اور فلسطین کے ساتھ ملنے والے بحیرہ روم کے مشرقی شام ساحل پر ختم ہوتی تھی‘ اب ایک نئی شاہراہ جس میں ریلوے لائن بھی شامل ہے‘ تعمیر کی جائے گی جس کے ذریعے چین‘ وسطی ایشیا اور مغربی ایشیائی ممالک اور یورپ کے درمیان آمد و رفت اور تجارتی روابط قائم کئے جائیں گے۔

پاکستان کے راستے چینی صوبہ سنکیانگ کے شہر کا شغر اور گوادر کے درمیان ’’پاک چائنہ اکنامک کاریڈور‘‘ بھی چین اور روس کے مشترکہ منصوبے کا بالواسطہ طور ایک حصہ ہے کیونکہ ’’پاک چین اکنامک کاریڈور‘‘ کے ذریعے چین کو خلیج فارس‘ جزیرہ نما عرب اور مشرقی افریقہ کے ساحلی ممالک کے ساتھ تجارتی اور معاشی روابط بڑھانے میں مدد ملے گی۔ زمانہ قدیم میں یہ علاقے قدیم شاہراہِ ریشم کے معاون علاقے کے طور پر مشہور تھے اور اس عظیم شاہراہ کے راستے صرف چین سے ہی نہیں بلکہ ہندوستان جس میں اُس وقت موجودہ پاکستان اور افغانستان کے علاقے بھی شامل تھے‘ سے بھی تجارتی اشیاء ’’مشرقِ وسطیٰ‘ مصر‘ شمال مغربی افریقہ اور اس سے آگے بحیرۂ روم کے راستے کشتیوں اور جہازوں میں لاد کر یورپی منڈیوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔ ایس سی او تک پاکستان کی شمولیت سے ’’پاک چین اکنامک کاریڈور‘‘ کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور پاکستان جس کے لئے یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے‘ اس سے براہِ راستے مستفید ہوگا۔

پاکستان ایس سی او میں شمولیت کا (بطور ایک مستقل رکن) شروع سے ہی خواہشمند تھا۔2006 میں جب پہلی دفعہ پاکستان کوشنگھائی کانفرنس میں باقاعدہ طور پر مدعو کیا گیا تھا‘ تو سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے تنظیم میں پاکستان کی بطورِ مستقل رُکن کے شمولیت کی درخواست کی تھی لیکن اُس وقت ایس سی او کے کسی رُکن ملک بشمول چین ‘ نے بھی پاکستان کی درخواست کی حمایت نہیں کی تھی۔ غالباً اس کی وجہ حل طلب باہمی تنازعات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تقریباً نہ ختم ہونے والی کشیدگی تھی اور رُکن ممالک کوڈر تھا کہ کشیدہ تعلقات کے ساتھ ان دونوں ممالک کی ایس سی او میں موجودگی تنظیم کی کارکردگی کو متاثر کرے گی۔ اب بھی کئی حلقوں میں پاکستان اور بھارت کی مستقل رُکنیت پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایس سی او میں مستقل رُکن کی حیثیت سے موجودگی سے پاکستان اور بھارت افغانستان کی طرح وسطی ایشیا کو بھی محاذ آرائی کا مرکز بنا لیں گے۔ ان حلقوں کے مطابق روس اور چین نے بالترتیب بھارت اور پاکستان کو کسی بڑے معاشی فائدے کے لئے نہیں بلکہ سٹریٹجک وجوہات کی بناء پر ایس سی او میں بطورِ مستقل رُکن شامل کیا ہے۔ بھارت کو شامل کرکے روس ‘ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے آگے بند باندھنا چاہتا ہے اور چین نے پاکستانی رُکنیت کی حمایت کرکے پاک چین دوستی کا حق ادا کرنے کے ساتھ بھارت کے مقابلے میں ایک پُراعتماد ساتھی کو ایس سی او میں شامل کیاہے۔ ان حلقوں کے موقف کے مطابق ایس سی او میں پاکستان اور بھارت کی مستقل رُکنیت سے نہ تو چین اور روس اور نہ ایس سی او کو کوئی نمایاں فائدہ حاصل ہوگا۔ بلکہ ان دو حریف ممالک کی موجودگی سے تنظیم کی کارکردگی متاثر ہوگی۔

لیکن ایس سی او کی تقریباً گزشتہ دس برس کی تاریخ اور مستقبل کے لئے اُس کے منصوبوں کی روشنی میں اگر ان خدشات اور تحفظات کا جائزہ لیا جائے تو وہ کافی حد تک بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً دونوں ممالک کئی برسوں سے ایس سی او کے اجلاس میں بطورِ آبزرور شرکت کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس عرصہ کے دوران دونوں ممالک نے ایس سی او کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ دونوں کی کارکردگی مثبت رہی ہے اور انہوں نے اپنی کنٹری بیوشن میں اپنے اختلافات کو آڑے نہیں آنے دیا۔ پاکستان اور بھارت آسیان کے ریجنل فورم اے آر ایف کے بھی رُکن ہیں‘ وہاں بھی دونوں ممالک علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایس سی او میں پاکستان کی مستقل رکنیت کی چین کے علاوہ روس نے بھی حمایت کی ہے۔ اس لئے یہ مفروضہ غلط ہے کہ چین اور روس نے علی الترتیب پاکستان اور بھارت کو اپنے اپنے گھوڑے کے طور پر استعمال کرنے کے لئے ایس سی او میں شامل کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے اپنے اپنے قومی مفاد کے حوالے سے ایس سی او میں شرکت کی ہے۔ پاکستان خطے کے ساتھ اپنی تاریخی‘ مذہبی اور ثقافتی وابستگی کی بنیاد پر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا ہمیشہ خواہش مند رہاہے۔ توانائی کے شعبہ میں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھی پاکستان نے وسطی ایشیا کے ساتھ روابط قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کاسا 1000 ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا منصوبہ اور ترکمانستان ‘ افغانستان‘ پاکستان اور انڈیا تاپی گیس پائپ لائن تعمیر کرنے کا منصوبہ اس کی دو مثالیں ہیں۔ اب تک پاکستان نے افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔2010 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راہداری کا جو نیا معاہدہ طے ہوا تھا‘ اُس میں اس مقصد کے لئے ایک خصوصی شق رکھی گئی تھی۔ ایس سی او کی مستقل رُکنیت سے اب پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں یعنی ازبکستان‘ کرغستان‘ قازقستان اور تاجکستان کے ساتھ پاکستان کے روابط پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور براہِ راست ہو جائیں گے۔

جہاں تک بھارت کا تعلق ہے‘ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اُس کے روابط سابقہ سوویت یونین کے دور سے چلے آرہے ہیں۔ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور ان ریاستوں کی آزادی کے بعد بھارت نے ان کے ساتھ اپنے سابقہ تعلقات بحال اور مزید وسیع کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی کی جانب سے اُوفا کانفرنس کے موقع پر پانچ وسطی ایشیاء ممالک کا دورہ اس کوشش کا مظہر ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ بھارت وسطی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرسکتا ہے۔ لیکن چین اور روس کی موجودگی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات اور روابط کی خواہش اس کوشش کو ناکام بناسکتی ہے۔ ایک نکتہ نظر یہ بھی ہے کہ ایس سی او میں مستقل رُکن کی حیثیت سے موجودگی پاک بھارت تعلقات پر خوشگوار اثر بھی ڈال سکتی ہے کیونکہ اس کے بغیر دونوں ممالک اُن منصوبوں سے پوری طرح مستفید نہیں ہوسکتے جو آئندہ دس برسوں میں ایس سی او کے فریم ورک کے تحت شروع کئے جائیں گے۔

Page 5 of 17

Follow Us On Twitter