05
January

تحریر: عقیل یوسفزئی

شمالی افغانستان کے گیٹ وے قندوز پر طالبان کے حملے اور قبضے نے نہ صرف یہ کہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کیا ہے بلکہ یہ خدشہ بھی یقین میں تبدیل ہوگیا ہے کہ افغان فورسز اور انٹیلی جنس اداروں سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ درست نہیں تھیں۔ عام خیال یہ تھا کہ 15 سال کے عرصے پرمحیط ٹریننگ اور عملی مزاحمت کے باعث افغان فورسز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہوگا اور یہ کہ وہ افغانستان کی سکیورٹی کے معاملات درست انداز میں نمٹاسکیں گی۔ تاہم قندوز کے واقعے نے تمام اندازے غلط ثابت کئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر ایک طرف فورسز پر عالمی برادری اور خود افغان عوام کا اعتماد متزلزل ہو کر رہ گیا تو دوسری طرف امریکہ نے 15 اکتوبر کو اعلان کیا کہ درپیش خطرات کے پیشِ نظر امریکی ٹروپس 2016 کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہیں گے۔ اس بات کا اعلان صدر بارک اوباما نے خود کیا اور ساتھ میںیہ بھی کہا کہ افغانستان کو افغان فورسز کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

 

skootqandooz.jpg

اس وقت اس جنگ زدہ ملک میں امریکہ کے 9800 ٹروپس سمیت نیٹو کے کل17000 افسران تیکنیکی ماہرین اور فوجی جوان اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکہ اپنے ٹروپس کی تعداد میں مزید اضافے کے آپشن کا بھی جائزہ لے رہا ہے اور امکان ہے کہ امریکی ٹروپس کو کابل کے علاوہ صوبہ ننگرہار میں شمالی افغانستان کے تین صوبوں میں خصوصی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ قندوز پر قبضے کے بعد دیگر حساس صوبوں میں طالبان کی پیش قدمی اور مسلسل حملوں سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ طالبان‘ القاعدہ اور بعض دیگر کے خاتمے کے جو دعوے کئے گئے تھے‘ وہ درست نہیں تھے ورنہ قندوز پر جس منظم طریقے سے قبضہ کیا گیااور قبضے کو جس طریقے سے طول دیا گیا اس کی نوبت نہیں آتی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قندوز کے گورنر عمرصافی نے ایک انٹرویو میں خود کہا ہے کہ انہوں نے رسمی طور پر حملے سے ایک ماہ قبل مرکزی حکومت کو آگاہ کردیا تھا کہ طالبان اس اہم صوبے پر حملہ کرنے والے ہیں‘ اس لئے اضافی کمک کا اہتمام کیا جائے تاہم مرکزی حکومت نے سرے سے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا اور طالبان نے پندرہ سال کے دوران پہلی دفعہ نہ صرف یہ کہ افغان فورسز کو باقاعدہ شکست دی بلکہ شہر پرکئی روز تک قبضہ بھی کئے رکھا۔ ذرائع کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ حملے سے تین روز قبل بھی انٹیلی جنس نے اطلاع دی تھی کہ بڑی کارروائی ہونے والی ہے مگر ریاست اس کی روک تھام سے لاتعلق رہی۔ حکومت کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ تھا کہ اس قسم کی اطلاعات کے باوجود گورنر موصوف حملے اور قبضے کے وقت خود بھی دارالحکومت میں موجود نہیں تھے بلکہ وہ تاجکستان گئے ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قندوز واقعے کے لئے بہت بڑی پلاننگ کی گئی تھی۔ اس تمام گیم میں دوسروں کے علاوہ صدر اشرف غنی کے بعض حکومتی اتحادی بھی شامل تھے جبکہ بعض اتحادی ممالک نے بھی بوجودہ اس کام میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ اس واقعے سے قبل افغانستان کے ایک بڑے جنگی کمانڈر اور حکومتی عہدیدار رشید دوستم نے اپنی ملیشیا کے ذریعے بعض علاقوں میں پُر تشدد کارروائیاں کیں اور شمالی افغانستان کو درپیش خطرات کے پسِ منظر میں بعض غیرذمہ دارانہ اور غیرپیشہ ورانہ دھمکیاں بھی دیں جس پر پشتون آبادی اور ان کے نمائندوں نے سخت ردِّ عمل اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ مقامی آبادی نے ردِ عمل کے طور پر نہ صرف یہ کہ طالبان کو پناہ دی بلکہ متعدد نے اس کارروائی میں طالبان کے ساتھ مل کر حصہ بھی لیا۔ اگر ایک طرف حکومت کی صف بندی درست نہیں تھی اور حکومت کے بعض اتحادیوں کے علاوہ بعض اتحادی ممالک کا ایک مخصوص کردار تھا تو دوسری طرف عوام نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا حساب برابر کردیا۔ قندوز کے علاوہ طالبان‘ داعش اور بعض دیگر نے سال 2015 کے دوران 19 صوبوں میں کارروائیاں کیں جن میں کابل شہر بھی شامل ہے جس کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔ قندوز سے قبل داعش نے گیٹ وے صوبے یعنی ننگرہار میں متعدد کارروائیاں کیں جن کے باعث یہ اہم ترین صوبہ عملًا ریاست کے ہاتھ سے نکلتا دکھائی دینے لگا اور تقریباً 30 ہزار خاندان تین ماہ کے عرصے میں داعش کی کارروائیوں کے نتیجے میں جلال آباد اور دیگر شہروں میں منتقل ہوگئے اور نقل مکانی کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

 

حیرت کی بات یہ ہے کہ ننگر ہار میں بھی اس تمام عرصے کے دوران افغان حکومت نے وہ دلچسپی یا مزاحمت نہیں دکھائی جس کی ضرورت تھی۔ اس اہم ترین صوبے کو افغانستان کے علاوہ سنٹرل ایشیا کے لئے بھی گیٹ وے کی حیثیت حاصل ہے تاہم اس کی سکیورٹی پر بھی حیرت انگیز طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی۔ حالت اتنی خراب ہوگئی کہ ننگر ہار سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ کابل میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے اور انہوں نے میڈیا کے ذریعے حکومت پر شدید تنقید کا راستہ اختیار کرکے استعفے دینے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس عرصہ کے دوران داعش نے نہ صرف یہ کہ متعدد علاقے قبضہ کئے بلکہ بے شمار لوگوں کو بدترین تشدد اور حملوں کا نشانہ بنا کر ایک ایسے خوف میں مبتلا کردیا جس نے ننگر ہار کے علاوہ پورے افغانستان کو اپنے مستقبل کے تناظر میں 15 سال کے دوران پہلی دفعہ ہلا کررکھ دیا۔

 

افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں کتنی ابتری آگئی ہے اس کا اندازہ افغان وزارتِ داخلہ کی اپنی ایک جاری کردہ رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران ملک کے19 صوبوں میں دہشت گردی کی 1771 کارروائیاں ہوئیں جن میں41 خود کش حملے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں990 عام شہری جاں بحق اور1700 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں نیشنل پولیس فورس کو بطورِ خاص نشانہ بنایاگیا جس کے چھ ماہ میں2150 افراد لقمۂ اجل بنے ان میں 70 کے لگ بھگ اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چھ ماہ کے عرصہ میں20 بار غیر ملکی فورسز‘ سفارتی عملے اور دیگر کو نشانہ بنایا گیا جس سے متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ اس دوران فورسز نے طالبان وغیرہ کے خلاف2637 چھوٹے بڑے آپریشن کئے جن کے نتیجے میں 5635 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 1200 کے قریب یا تو زخمی ہوئے یا گرفتار کئے گئے۔ رپورٹ میں افغان فورسز کو پہنچنے والے جانی نقصان کی تفصیلات شامل نہیں ہیں تاہم اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ سال2015 کے دوران متعدد بار شمالی افغانستان کے تین صوبوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

 

یہ اعداد و شمار کافی سنگیں صورت حال کی نشاندہی کررہے ہیں اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کی وافرتعدار اورصلاحیت تاحال موجود ہے۔ بلکہ ان کی کارروائیوں کا سلسلہ دیگر ’اور نسبتاً کافی پُرامن‘ صوبوں تک بھی پھیل چکا ہے۔

 

جغرافیائی لحاظ سے جتنے بھی اہم صوبے یا علاقے ہیں وہ حملہ آوروں کی کارروائیوں کی زد میں ہیں اس ضمن میں قندوز کے علاوہ ننگر ہار‘ بدخشاں‘ ہلمند‘ کنڑ اور غزنی کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔14 اکتوبر کو غزنی میں150 سے زائد دوطرفہ ہلاکتیں ہوئیں اور اس صوبے میں حملوں کا سلسلہ پانچ چھ مہینوں سے جاری ہے۔ ہلمند کی بھی یہی صورت حال ہے۔ 15 اکتوبر کو طالبان نے ہلمند میں تین سے زائد چیک پوسٹوں پر حملے کئے جس کے نتیجے میں پولیس کے 22 اہلکار اور طالبان جنگجو لقمۂ اجل بن گئے۔ اس حساس صوبے میں حملوں کا سلسلہ تقریباً ایک سال سے جاری ہے اور یہاں بھی اب تک سیکڑوں جانیں لی جاچکی ہیں۔ حالیہ حملوں میں جو ایک اور نئی مگر اہم بات سامنے آگئی ہے وہ یہ ہے کہ شمالی افغانستان کے ان علاقوں یا صوبوں کو بطورِ خاص نشانہ بنایا جارہا ہے جو تین وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ قندوز اور بدخشاں کے حالات کو نہ صرف یہ کہ افغان حکومت کے دو بڑے اتحادیوں اور وزارتوں کی باہمی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے بلکہ متعددباخبر ماہرین ایسے ہیں جو کہ اس منظر نامے کو امریکہ‘ چین اور روس کی نئی پیش قدمیوں اور پالیسیوں کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں روس کے خلاف وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس مقصد کے لئے ان کے بقول امریکہ داعش اور بعض دیگر کو بھی استعمال کررہا ہے۔ افغان حکومت کو بھی بعض ایسے شواہد ملے ہیں جن کے مطابق امریکہ اندرونِ خانہ ایک خطرناک پالیسی کے تحت افغان علاقوں کی اسی صورت حال کو روس کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس گیم میں بھارت بھی امریکہ کا اتحادی ہے اور ایک اسلامی ملک کا نام بھی اس سلسلے میں لیا جارہا ہے۔ ایک ایسا اسلامی ملک جس کی سرحد افغانستان کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بھی ملی ہوئی ہے اورمذکورہ ملک کو پاک چائنا اکنامک کاریڈور کے پراجیکٹ پر بوجوہ تحفظات ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق بھارت اب افغانستان اور پاکستان کے اندر داعش اور بعض دیگر کی فنڈنگ کررہا ہے۔ اس کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ پاکستان کو دباؤ سے دوچار کیا جائے تاہم اس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ بھارت بدخشاں کے راستے چین کے انتہا پسند گروپوں کی سرپرستی بھی کررہا ہے۔ بدخشاں کے ذریعے یہ بہت آسان ہے کہ چین کو زبردست دباؤ سے دوچار کیا جائے اور ماضی میں بدخشاں کے ذریعے چینی انتہا پسند ایسا کرتے بھی آئے ہیں۔

 

بھارت کی کھلی مداخلت کی ایک اور وجہ مذکورہ (اشارتاً) اسلامی ملک کی طرح پاک چائنا اکنامک کاریڈور پر وار بھی ہے بھارت کو کسی بھی قیمت پر یہ منصوبہ سوٹ نہیں کررہا اور یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان کے اندر بعض قوتوں کی سرپرستی کررہاہے۔ بلکہ داعش اور بعض دیگر عناصر کے ذریعے وہ شمالی اورمشرقی افغانستان کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کے علاوہ بدخشاں کے راستے چین میں انتہا پسندوں کی معاونت بھی کررہا ہے۔ اشارتاً اتنا ہی کافی ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات صرف افغان حکومت کی نااہلی یا فورسز کی ناکامی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ بعض بااثر عالمی اور علاقائی قوتیں بھی ان حالات کی خرابی میں برابر کی شریک ہیں اور لگ یہ رہا ہے کہ اپنے دعووں کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے بعض اتحادی اور ہمدرد خطے میں اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں ایک نئی گریٹ گیم کا باقاعدہ آغاز کرچکے ہیں۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ حال ہی میں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے پہلی دفعہ پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف کرکے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا افغانستان کے لئے بہت ضروری ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ خطے میں پھر سے ایک نئی جنگ کا آغاز ہونے کو ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس سے زیادہ نقصان افغانستان اور پاکستان ہی کا ہوگا۔

ذرائع کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ حملے سے تین روز قبل بھی انٹیلی جنس نے اطلاع دی تھی کہ بڑی کارروائی ہونے والی ہے مگر ریاست اس کی روک تھام سے لاتعلق رہی۔ حکومت کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ تھا کہ اس قسم کی اطلاعات کے باوجود گورنر موصوف حملے اور قبضے کے وقت خود بھی دارالحکومت میں موجود نہیں تھے بلکہ وہ تاجکستان گئے ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قندوز واقعے کے لئے بہت بڑی پلاننگ کی گئی تھی۔ اس تمام گیم میں دوسروں کے علاوہ صدر اشرف غنی کے بعض حکومتی اتحادی بھی شامل تھے

*****

اشارتاً اتنا ہی کافی ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات صرف افغان حکومت کی نااہلی یا فورسز کی ناکامی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ بعض بااثر عالمی اور علاقائی قوتیں بھی ان حالات کی خرابی میں برابر کی شریک ہیں اور لگ یہ رہا ہے کہ اپنے دعووں کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے بعض اتحادی اور ہمدرد خطے میں اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں ایک نئی گریٹ گیم کا باقاعدہ آغاز کرچکے ہیں۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ حال ہی میں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے پہلی دفعہ پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف کرکے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا افغانستان کے لئے بہت ضروری ہے۔

*****

 
05
January

تحریر: شاہین کو ثر ڈار

(ڈپٹی سپیکر‘ قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر)

پاک بھارت مذاکرات اورلائن آف کنٹرول پر امن کی بحالی یقینی طور پر ایک اہم معاملہ ہے جسے پوری دنیا تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور امریکی حکام بھی صورتحال کو مایوس کن قرار دے رہے ہیں۔اس سلسلے میں جو سب سے زیادہ پریشانی کی بات ہے وہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بسنے والے شہریوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔بھارت کی طرف سے گزشتہ کئی مہینوں سے جس طرح شہری آبادیوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔اس سے ایک طرف تو لوگ شہید اور زخمی ہورہے ہیں جبکہ دوسری طرف معصوم اور نہتے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔دن رات انھیں یہی خدشہ لاحق رہتا ہے کہ کس وقت بھارتی افواج ان پر بارود کی آگ برسانا شروع کر دے گی۔مودی سرکار کے قیام کے بعدجتنی اموات کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر ہوئی ہیں‘اتنی گزشتہ دس سالوں میں نہیں ہوئیں۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی سرکار اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کے ذریعے اس نے گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیاتھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری مذاکرات کی منسوخی پر ماتم کرنے کی بجائے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے اور کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے فعال کردار ادا کرے۔ بھارتی اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی منسوخی اور پاکستان کے ساتھ اشتعال انگیزی ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔بھارتی فوج آج تک کارگل کے زخم چاٹ رہی ہے۔ جس طرح بھارت نے 1965ء کی جنگ میں شکست کا بدلہ1971ء میں پاکستان کو دو لخت کر کے لیا تھا‘ اب بھارت کارگل میں ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے جنگی ماحول بنا رہا ہے ۔ بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیانات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

 

وادی جموں و کشمیر جس کے باشندے اپنی قومی آزادی کے لئے بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور بھارتی افواج کے جابرانہ ہتھکنڈوں سے گزشتہ ساٹھ برس سے نبردآزما ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے تو ان کی اس جدوجہد نے باقاعدہ مسلح مزاحمت کی شکل بھی اختیار کرلی ہے لیکن ان کی زبوں حالی اور کسمپرسی کسی کو دکھائی نہیں دے رہی حالانکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہونے کے باعث بھی لائق توجہ ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں بھی اس کا جلد از جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچنا ایک ایسی ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر جنوبی ایشیا میں قیام امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔

 

bharatkjangi1.jpg

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب مسئلہ کشمیر ہے اور اگر اس کو حل کرنے کا کوئی راستہ نکال لیا جائے تو اس سے نہ صرف کشمیر کے کروڑوں باشندوں کی سیاسی و اقتصادی ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں بلکہ اس سے وہ سوتے بھی خشک ہوسکتے ہیں جو مجبور اور مقہور انسانوں کے انتہا پسندانہ جذبات کی آبیاری کا کام دیتے ہیں لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے بھارتی حکمران تیار ہیں نہ ہی امریکہ۔ حتیٰ کہ عالمی برادری بھی اپنے مفادات کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر دیکھنے کے لئے آمادہ نہیں ہے جبکہ اقوام متحدہ جس کی تشکیل دوسری جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز کی جگہ اس لئے عمل میں لائی گئی تھی کہ وہ اپنے رکن ممالک کے درمیان پائے جانے والے باہمی تنازعات کو طے کرنے کے لئے ٹھوس اور مؤثر جدوجہد کرے گی‘ وہ بوجوہ اپنے آپ کو امریکی و یورپی مفادات کا اس قدر باجگزار بنا چکی ہے کہ اس کی جانب سے کسی آزادانہ کردار کی توقعات بری طرح مجروح ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ خاص طور پر مسئلہ فلسطین اور کشمیر کو حل کرنے میں نہایت برے طریقے سے ناکام ہوئی ہے جس کی وجہ سے کئی ممالک نے تو ایک نئی اقوام متحدہ کی تشکیل کے لئے آوازیں بلند کرنا شروع کردی ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی آٹھ لاکھ سے زائد فوج اور سکیورٹی فورسز کے ذریعے قتل و غارت کا جو بازار گرم کررکھا ہے اس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کردیئے گئے ہیں اور خود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے سربراہ نیوی پلے نے ابھی پچھلے دنوں نیو یارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ’’مقبوضہ وادی میں آئے دن ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریوں کا سلسلہ انسانی حقوق کی اتنی واضح خلاف ورزی ہے کہ اس پر کسی طریقے سے پردہ ڈالنا ممکن نہیں لیکن اقوام متحدہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کرانے کے بارے میں اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے سے گریزاں ہے۔ اتنے معتبر ادارے کی پالیسی میں ایسا شرمناک تضاد کیوں ہے؟‘‘ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ اگر امریکہ اور عالمی برادری واقعی جنوبی ایشیا میں مستقل اور پائیدار امن کے خواہشمند ہیں تو انہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان ان بنیادی تنازعات کے تصفیے کے لئے بھی ٹھوس اور بامعنی کوششیں کرنی چاہئیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ اور بداعتمادی میں مسلسل اضافہ کرتی جارہی ہیں۔ مسئلہ کشمیر ان سارے تنازعات میں سرفہرست ہے۔ اس لئے امریکہ اور اقوام متحدہ کو اس کے منصفانہ حل کے لئے بھی خصوصی جدوجہد کرنی چاہئے کیونکہ اگر یہ تنازعہ طے ہوگا تو پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی اصل جڑ ہی کٹ جائے گی اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کے سارے محرکات خود بخود ختم ہو جائیں گی۔

 

ہرسال بھارت کے یوم جمہوریہ پرمقبوضہ کشمیر میں قابض سکیورٹی فورسز کی پیشگی کارروائیوں سے ماحول کشیدہ ہوجاتا ہے۔بھارت نے 1947ء میں جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا اور پھر کشمیر کو فوجی گریژن میں بدل دیا۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو گیا‘ بھارت کی 8 لاکھ فوج کشمیریوں کی قتل و غارت گری میں ملوث ہے۔ بھارت نے یہاں اپنی افواج اتار کر اس خطے پر ناجائز قبضہ جمایا اور لاکھوں انسانوں کو ان کی مرضی کے خلاف غلام بنالیا۔ اس قبضے کا کوئی آئینی، اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں بلکہ یہ صرف بھارت کی ملٹری پاور ہے جس کی بنیاد پر آج بھی 13 ملین لوگ عذاب و عتاب اور درد و کرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھارت ایک بڑی جمہوریہ کا دعویدار ہونے کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لئے اپنی طاقت کا بے تحاشا استعمال کررہا ہے۔

 

حالانکہ جہاں تک تحریک آزادی کشمیر کا تعلق ہے تو بھارت آٹھ لاکھ کے بجائے پندرہ لاکھ فوج بھی کشمیر بھیج دے‘ جدوجہد آزادی ختم نہیں ہوسکتی۔ بھارت کشمیر کے مسلمانوں کو حق خود ارادیت نہیں دینا چاہتا اور انہیں ان کے اس بنیادی حق سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار اس جانب اپنی توجہ مبذول کریں اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ تعصبانہ رویہ ختم کریں۔ کشمیری مسلمانوں کو بھی ان کا بنیادی حقِ خود ارادیت دلانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے اور اسے مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیری عوام پر مظالم بند کرکے وہاں پر استصواب رائے کرائے جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ مسلمانوں کے انسانی حقوق کو اکثر و بیشتر انسانوں کے انسانی حقوق نہیں سمجھتی یہی وجہ ہے کہ کروڑوں انسانوں کا بنیادی حق آزادی مسئلہ کشمیر کی صورت میں آج تک دانستہ حل نہیں کیا گیا جبکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی خون کی ندیاں عبور کرکے بھی جاری و ساری ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ مقبوضہ وادی کے ’’کشمیریوں‘‘ کو حق آزادی سے بھارتی فوج کے بل بوتے پر محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ پاکستانی فوج نے کشمیریوں کے لئے شہادتوں کی کئی تاریخیں رقم کی ہیں جبکہ بھارتی فوج نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کی قاتل ہے۔ اقوام متحدہ کا دوہرا معیار اور کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم سے چشم پوشی عالمی بے حسی کا بدترین نمونہ ہے۔ آج تک کشمیری قوم بھارتی فوج کے ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد آزادی کررہی ہے۔ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے بلکہ سوا کروڑ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جموں و کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طور پر ہی حل کیا جانا چاہئے۔ مسئلہ کشمیر ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ ہے اور اس دیرینہ مسئلے کو حل کئے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ مسئلہ کشمیر کو پاکستان، بھارت اور کشمیری قیادت پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب مسئلہ کشمیر ہے اور اگر اس کو حل کرنے کا کوئی راستہ نکال لیا جائے تو اس سے نہ صرف کشمیر کے کروڑوں باشندوں کی سیاسی و اقتصادی ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں بلکہ اس سے وہ سوتے بھی خشک ہوسکتے ہیں جو مجبور اور مقہور انسانوں کے انتہا پسندانہ جذبات کی آبیاری کا کام دیتے ہیں لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے بھارتی حکمران تیار ہیں نہ ہی امریکہ۔ حتیٰ کہ عالمی برادری بھی اپنے مفادات کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر دیکھنے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔

*****

بھارت ایک بڑی جمہوریہ کا دعویدار ہونے کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لئے اپنی طاقت کا بے تحاشا استعمال کررہا ہے۔ حالانکہ جہاں تک تحریک آزادی کشمیر کا تعلق ہے تو بھارت آٹھ لاکھ کے بجائے پندرہ لاکھ فوج بھی کشمیر بھیج دے‘ جدوجہد آزادی ختم نہیں ہوسکتی۔

*****

 

bharatkjangi2.jpg

05
January

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خاں

اس سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم محمدنوازشریف نے جو تقریر کی وہ اپنے تمام پہلوؤں میں ایک اہم اور جرأت مندانہ خطاب تھا۔وزیراعظم نے نہ صرف علاقائی مسائل پر اظہارِخیال کیا بلکہ اہم عالمی مسائل مثلاََ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ،موسمی تغیرات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبر ارکان کی تعداد بڑھانے کی تجاویز پر پاکستان کے موقف کو بغیر کسی لگی لپٹی کے کھل کر بیان کیا۔اسی طرح بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اہم کردار کو عالمی فورم پر صاف اور دوٹوک الفاظ میں بیان کیا۔لیکن وزیراعظم کی تقریر کا جو حصہ علاقائی اور عالمی حلقوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا،اُس کا تعلق بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو معمول پر لانے اور پُرامن بنانے کے لئے چار نکات پر مشتمل ایک فارمولا ہے۔موجودہ تناظر میں اس چار نکاتی تجویز کو تمام حلقوں میں اس لئے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی کہ گزشتہ تقریباً ڈھائی برس سے کشمیر میں

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے آرپارپاکستانی اور بھارتی سرحدی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

 

aqwamemut.jpg

فائرنگ کے اس تبادلے میں نہ صرف دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے بلکہ درجنوں قیمتی انسانی جانیں بھی جن میں عام شہریوں کے علاوہ سرحدی افواج سے تعلق رکھنے والے جوان اور افسر بھی شامل ہیں،ضائع ہوچکی ہیں۔بھارت میں گزشتہ سال کے پارلیمانی انتخابات میں انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کی کامیابی اور گجرات کے سابق وزیراعلیٰ نریندرامودی کے وزیراعظم مقرر ہونے کے بعد ان جھڑپوں میں اور بھی اضافہ ہوگیاہے۔اس صورتِ حال سے نہ صرف سرحد کے دونوں طرف رہنے والے پاکستانی اور بھارتی شہری پریشان ہیں بلکہ دنیا بھر میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور خدشہ ہے کہ سرحدی جھڑپیں بڑھتے بڑھتے کسی بڑے تصادم کی شکل اختیار نہ کرجائیں جو دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔اس لئے دنیا بھر سے پاکستان اور بھارت دونوں پر زور دیا جارہا تھا کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور اپنی سرحدوں‘ خصوصاً کشمیر میں لائن آف کنٹرول‘ پر امن بحال کرنے کے لئے اقدامات کریں۔ یادرہے کہ پاکستان اور بھارت نے 2003 میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے آرپار رہنے والے لوگ سکون سے زندگی گزارنے لگے تھے، بلکہ پاکستان اور بھارت میں اعتماد سازی کے اقدامات میں اسے سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔لیکن بی جے پی کی موجودہ حکومت نے بلاجواز اور بغیر کسی اشتعال انگیزی کے یک طرفہ طور پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف مقامی سطح پر تصادم کی فضا قائم کر دی ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرکے دونوں ملکوں میں جاری دوطرفہ مذاکرات کے سلسلے یعنی کمپوزٹ ڈائیلاگ کو بھی تعطل سے دوچار کردیا ہے۔ چونکہ اس صورت حال پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جارہاتھا اور دونوں ملکوں کے درمیان ایک بڑے تصادم کاخدشہ ظاہر کیاجارہا تھا اس لئے وزیراعظم محمد نوازشریف نے پاکستان کی طرف سے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور آئندہ کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان مستقل امن اور تعاون کے قیام کے لئے مندرجہ ذیل چار تجاویز پیش کیں۔

 

 2003 (1)میں لائن آف کنڑول پر فائربندی کے لئے دونوں ملکوں نے جس معاہدے پر اتفاق کیا تھا‘ اُس کا نہ صرف احترام کیا جائے،بلکہ اسے مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لئے اسے دونوں ملکوں کے درمیان ایک باقاعدہ معاہدے کی شکل دی جائے تاکہ لائن آف کنڑول پر مکمل اور مستقل فائر بندی قائم رہے۔

(2)پاکستان اور بھارت نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی سے گریز کریں بلکہ اس بات کا علانیہ عہد کریں کہ دونوں ملک کسی بھی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف طاقت استعمال نہیں کریں گے۔

(3)کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کے لئے اقدامات شروع کئے جائیں۔

(4)سیاچن گلیشئرسے دونوں ملک اپنی فوجیں واپس بلا لیں ۔

 

لائن آف کنڑول پر آئے دن کی جھڑپوں سے چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے جس پر بجا طور پر متعلقہ حلقوں میں تشویش کا اظہار کیاجارہا ہے،اس لئے

وزیراعظم کی طرف سے لائن آف کنڑول کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے ایک واضح اور ٹھوس تجویز نہ صرف بروقت بلکہ انتہائی ضروری تھی۔وزیراعظم کے چار نکاتی فارمولا میں پہلے نکتے کا تعلق کشمیر میں لائن آف کنڑول کے آرپار فائرنگ اور مستقل امن کے قیام سے ہے۔اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں نے نومبر 2003میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کئے تھے۔ اس معاہدے کی وجہ سے لائن آف کنڑول پر دس برس تک امن اور سکون رہا۔لیکن جنوری2013سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے سلسلے کے اچانک شروع ہونے سے دونوں ملکوں میں نہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوا بلکہ ایک بڑے تصادم کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ وزیراعظم محمدنواز شریف کی طرف سے لائن آف کنڑول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے2003کے معاہدے کو مزید مؤثر بنانے اور اس پر پوری طرح عمل درآمد کرنے کی تجویز ایک نہایت مناسب اور کارآمد تجویز ہے۔اس لئے اس کا نہ صرف پاکستان اور کشمیر بلکہ دنیا بھر میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم کی یہ تجویز کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیوں سے احتراز کریں،ایک ایسی تجویز ہے جس کا اُن تمام اندرونی اور بیرونی حلقوں میں خیر مقدم کیا جائے گا جو پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو اچھے اور پُرامن ہمسایوں کے درمیان تعلقات کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اس تجویز سے دونوں ملکوں کے درمیان غیر یقینی اور مستقل کشیدگی کی فضا ختم کرنے میں مدد ملے گی۔دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا جس سے باہمی تنازعات کو حل کرنے او رمستقل امن کے قیام کی طرف راہ ہموار ہوگی۔ بھارت کو اس تجویز پر اپنے تحفظات ظاہر کرنے کی بجائے اسے فوری طور پر قبول کرلینا چاہئے کیونکہ طاقت کے استعمال یا اس کے استعمال کی دھمکی سے گریز نہ صرف دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے بلکہ مروجہ بین الا قوامی قانون کے ضابطوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کے عین مطابق ہے۔

 

اسی طرح کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز ایک ایسی تجویز ہے جس سے ماضی میں پاکستان اور بھارت دونوں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت نہ صرف اتفاق کر چکے ہیں بلکہ اس کے بعد بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے جتنی بھی کوششیں کی گئی ، اُن میں کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز شامل رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال 2004میں سابق صدر مشرف کی جانب سے پیش کردہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چار نکات پر مشتمل مجوزہ سمجھوتہ ہے جسے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے مطابق دونوں ملکوں نے قریب قریب قبول کرلیا تھا۔اس میں بھی کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز شامل تھی۔اس کے علاوہ کشمیر سے بھارتی فوج کی بھاری نفری کے انخلاء کا مطالبہ کشمیر میں عوام کا ایک دیرینہ اور تواتر کے ساتھ اُٹھائے جانے والا مطالبہ ہے۔کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوتی آرہی ہے۔ اس پر نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بلکہ عالمی برادری کی طرف سے بھی سخت احتجاج کیا جارہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو ایک سپیشل قانون کے تحت غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں جنہیں استعمال کرکے بھارتی سکیورٹی افواج کشمیریوں پر بدترین مظالم ڈھارہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بے چینی اور احتجاجی تحریک ان ہی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف نہتے کشمیریوں کے ردِعمل کا نتیجہ ہے۔خود پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ایک بڑا سبب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی اس بھاری نفری کی موجودگی ہے جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل احتجاجی تحریک جاری ہے۔اس لئے وزیراعظم محمد نوازشریف کی جانب سے کشمیر کو ایک غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز نہ صرف پاکستان اور بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ ماضی میں کئے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں کے مطابق ہے بلکہ ایک پُرامن فضا پیدا کرکے کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مستقل طور پر حل کرنے کی طرف قدم اُٹھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

 

کشمیر کے بعد سیاچن پر پاک بھارت تنازعہ نہایت خطر ناک مضمرات کا حامل ہے کیونکہ دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے کھڑی ہیں اور اگرچہ اس وقت فریقین میں جنگ بندی ہے لیکن جنگ کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے دونوں ممالک بھاری انسانی جانی نقصان کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ نقصان زیادہ تر انتہائی سخت موسمی حالات اور برف کے تودے گرنے کے نتیجے میں ہوا ہے اس لئے بیشتر حلقوں کی رائے ہے کہ سیاچین کے لئے پاکستان اور بھارت ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا دونوں ملکوں کو عسکری لحاظ سے کوئی فائدہ نہیں۔ 1989میں اُس وقت کی پاکستانی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے درمیان اس تنازعے کے حل پر تقریباً اتفاق ہوگیا تھا لیکن بھارتی فوج کے دباؤ کے تحت راجیو گاندھی بے نظیر بھٹو سے کئے گئے وعدے سے مکر گئے ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے زمانے میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے کے حل کے تقریباََ تمام خدوخال پر اتفاق ہوچکا تھا جن میں گلیشیئر سے فوجوں کی واپسی بھی شامل تھی۔یہ خبر کافی عرصہ سیاسی اور سفارتی حلقوں میں گردش کرتی رہی کہ 2012 میں وزیراعظم من موہن پاکستان کا دورہ کریں گے اور اس دورے کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان دواہم تنازعات یعنی سیاچن اور سرکریک کے معاہدات پر دستخط کئے جائیں گے۔لیکن لائن آف کنٹرول پر اچانک صورت حال بگڑنے سے یہ موقع نہ آسکا اور سیاچن میں دونوں ملکوں کی فوجیں بدستور آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ پاکستان اس کشیدہ صورت حال کو جاری رکھنے کے حق میں نہیں۔ لیکن بھارت نے کسی پیش کش کا مثبت جواب نہیں دیا۔اب ایک دفعہ پھر وزیراعظم محمد نوازشریف نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پوری دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے وہی تجویز پیش کرکے پاکستان کی امن کے لئے خواہش کا ثبوت فراہم کیا ہے۔

 

وزیراعظم محمد نوازشریف کی طرف سے چار نکات پر مشتمل جو فارمولا پیش کیا گیا، بھارت کی طرف سے اُس پر منفی ردِعمل کسی بھی لحاظ سے باعث حیرت اور غیرمتوقع نہیں کیونکہ پاک بھارت مذاکرات کی گزشتہ تقریباً چھ دہائیوں پر مشتمل تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعات کے حل کی طرف ٹھوس اقدامات سے ہمیشہ احتراز کیا ہے۔لیکن اس سے وزیراعظم محمدنوازشریف کی تجاویز کی اہمیت اور افادیت کم نہیں ہوتی کیونکہ کشمیری عوام نے ان کی حمایت کی ہے اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے بھی ان تجاویز کو سراہا گیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات، یونیورسٹی آف سرگودھا کے چیئرمین ہیں۔
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
وزیراعظم محمد نوازشریف کی طرف سے چار نکات پر مشتمل جو فارمولا پیش کیا گیا، بھارت کی طرف سے اُس پر منفی ردِعمل کسی بھی لحاظ سے باعث حیرت اور غیرمتوقع نہیں کیونکہ پاک بھارت مذاکرات کی گزشتہ تقریباً چھ دہائیوں پر مشتمل تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعات کے حل کی طرف ٹھوس اقدامات سے ہمیشہ احتراز کیا ہے۔

*****

وزیراعظم محمد نوازشریف کی طرف سے لائن آف کنڑول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے 2003 کے معاہدے کو مزید مؤثر بنانے اور اس پر پوری طرح عمل درآمد کرنے کی تجویز ایک نہایت مناسب اور کارآمد تجویز ہے۔اس لئے اس کا نہ صرف پاکستان اور کشمیر بلکہ دنیا بھر میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔

*****

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو ایک سپیشل قانون کے تحت غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں جنہیں استعمال کرکے بھارتی سکیورٹی افواج کشمیریوں پر بدترین مظالم ڈھارہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بے چینی اور احتجاجی تحریک ان ہی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف نہتے کشمیریوں کے ردِعمل کا نتیجہ ہے۔

*****

 
16
September

پاکستان ایک تذکیر ہے۔ یہ انسانی تہذیب کا ایک فطری پڑاؤہے۔یہ امن کا پیغام ہے۔لازم ہے کہ ہر 14 اگست کو اسے ایک نعمتِ باری تعالیٰ کے طور پر یاد کیا جا ئے۔

آزاد زندگی ہی فطری زندگی ہے۔فرد ہو یا قوم،حریتِ فکر و عمل سے محرومی انسان کو ذہنی اپاہج بنا دیتی ہے۔یہی سبب ہے کہ لوگ آزاد رہنا چاہتے ہیں اور غلامی ان کے لئے قابلِ قبول نہیں ہو تی۔

پاکستان اسی فطری جذبے سے پھوٹنے والی خواہش کا حاصل ہے۔مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے مخلوط معاشرے میں،جہاں تہذیبی تنوع نے ایک خلفشار کو جنم دیا ہے،اس خطے کی تقسیم ہی فساد کا واحد حل ہے۔یہ صرف مسلمانوں ہی کے فائدے کے لئے نہیں ہے بلکہ دوسری بڑی ہندوآ بادی کا مفاد بھی اسی میں ہے۔ عام طور پر اس مقدمے پر ایک سوال اٹھایا جاتا ہے۔ آج دنیا بھر میں مسلمان مخلوط معاشروں میں، امن کے ساتھ رہ رہے ہیں۔کیا وجہ ہے کہ بر صغیر میں ان کے لئے یہ ممکن نہیں ہو سکا؟اگر مذہبی تنوع کے باعث عام طور پر اورکہیں فساد نہیں ہو تا تو ہندوستان میں ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں دیا ہے۔

علامہ اقبال کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ مسیحیوں یا یہودیوں سے ہوتا تو یہاں کے لوگ ایک قوم بن کر رہ سکتے تھے۔ان کے مابین پایا جا نے والا مذہبی تنوع کسی کے لئے نقصان کا سبب نہ بنتا۔یہاں معاملہ ہندو معاشرت اور مذہب کے ساتھ تھا۔ہندو بحیثیت مجموعی طبقاتی نظامِ معاشرت پر یقین رکھتے ہیں۔ہندوؤں کی قیادت برہمنوں کے پاس ہے۔وہ وحدتِ آدم کو بطور قدر قبول نہیں کرتے۔مسلمان اپنی مذہبی حیثیت میں وحدتِ الٰہیہ اور وحدتِ آدم کو مانتے ہیں۔ ابراہیمی ادیان بھی توحید کے قائل ہیں۔اس کے برخلاف ہندوؤں کے ہاں نہ وحدتِ الٰہیہ ہے نہ وحدتِ آدم۔ علامہ اقبال کی اس رائے کو اگرہم اپنے تاریخی تناظر میں دیکھیں تو اس کا ادراک مشکل نہیں ہے۔ہندوؤں کے غیر برہمن طبقات میں مسیحیت اوراسلام کو بطورخاص فروغ ملا۔یہ دونوں مذاہب چو نکہ طبقاتی تقسیم کو قبول نہیں کرتے اس لئے اپنے مذہب میں کم تر سمجھے جانے والوں کو یہاں زیادہ سماجی آسودگی کا احساس ہوا۔یہاں مسلمانوں کو مسئلہ عام ہندو سے نہیں، برہمن ذہنیت سے تھا جس نے شدھی جیسی تحریکوں کو جنم دیا اور پھرتقسیمِ بنگال جیسے اقدامات کی مخالفت کی۔معا ملہ تہذیبی تو تھا ہی، اب سیاسی بھی بن چکا تھا۔ہندو اور مسلم مفاد کا ہم آہنگ ہو نا مشکل ہو رہا تھا۔ اس فضا میں ایک تویک جائی کی مصنوعی کوشش کی جا سکتی تھی جو افسانوں اور فلموں میں دکھائی دیتی ہے یاسیاسی جماعتوں کے بے روح اجتماعات میں۔قائد اعظم زندگی بھر سیاسی تماشوں سے دور رہے۔انہوں نے سیاسی نقصان یا فائدے کی بنیاد پر کبھی کوئی قدم نہیں اٹھا یا۔انہوں نے جب تک یہ سمجھا کہ ہندو مسلمان مل کر رہ سکتے ہیں، انہوں نے کسی اگر مگر کے بغیر، اس کے لئے کوشش کی۔ لیکن جب یہ جانا کہ ایسا ممکن نہیں ہے تو پھر تقسیم کا علم لہرا یایہ مسئلے کا حقیقت پسندانہ حل تھا، افسانوی نہیں۔ان کی پہلی رائے بھی امن کے لئے تھی، دوسری بھی امن کے لئے۔ قائداعظم کی شدید خواہش تھی کہ تقسیمِ ہند کو اسی تناظر میں دیکھا جائے۔اسی لئے انہوں نے دونوں مملکوں کے مابین امریکہ اور کینیڈا جیسے تعلق کی بات کی۔

مسلمانوں کو مسئلہ عام ہندو سے نہیں، برہمن ذہنیت سے تھا جس نے شدھی جیسی تحریکوں کو جنم دیا اور پھرتقسیمِ بنگال جیسے اقدامات کی مخالفت کی۔معا ملہ تہذیبی تو تھا ہی، اب سیاسی بھی بن چکا تھا۔ہندو اور مسلم مفاد کا ہم آ ہنگ ہو نا مشکل ہو رہا تھا۔اس فضا میں ایک تویک جائی کی مصنوعی کوشش کی جا سکتی تھی جو افسانوں اور فلموں میں دکھائی دیتی ہے یاسیاسی جماعتوں کے بے روح اجتماعات میں۔قائد اعظم زندگی بھر سیاسی تماشوں سے دور رہے۔انہوں نے سیاسی نقصان یا فائدے کی بنیاد پر کبھی کوئی قدم نہیں اٹھا یا۔انہوں نے جب تک یہ سمجھا کہ ہندو مسلمان مل کر رہ سکتے ہیں، انہوں نے کسی اگر مگر کے بغیر، اس کے لئے کوشش کی۔ لیکن جب یہ جانا کہ ایسا ممکن نہیں ہے تو پھر تقسیم کا علم لہرا یایہ مسئلے کا حقیقت پسندانہ حل تھا، افسانوی نہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو ایک امر واقعہ سمجھا جا ئے جو جنوبی ایشیا میں دائمی امن کے لئے وجود میں آیا۔یہ کسی ہندو مسلم دشمنی کی مستقل بنیاد نہیں ہے۔تقسیمِ ہند ایک منفی نہیں، مثبت قدم کا نام ہے۔آج ہندو معاشرت بھی ارتقائی مراحل طے کر تے ہوئے اس نتیجے تک پہنچ رہی ہے کہ انسانوں کے درمیان طبقاتی تقسیم انسانی شعورکے لئے قابلِ قبول نہیں۔یہ شرفِ انسانیت کے خلاف ہے۔

بھارتی قیادت کو تقسیم کے تجربے سے یہ سیکھنا چاہئے کہ حریتِ فکر و عمل بنیادی انسانی قدر ہے۔اگر اس کا خیال ہے کہ کسی خطے میں لاکھوں فوجیوں کو تعینات کر کے اس قدر کو ختم کیاجا سکتا ہے تو انسان کا تاریخی شعور اس کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔

پاکستان کا وجود در اصل اس بات کی یقین دہانی ہے کہ جب کسی خطے میں مذہبی،سماجی یا سیاسی امتیازکو بطور قدر قبول کر لیا جاتا ہے تو پھر اس کا لازمی نتیجہ تقسیم در تقسیم ہے۔اسی اصول پر پاکستان کو متحد رکھنے کا واحد طریقہ یہی ہے کسی کو مذہب، علاقے یا نسل کی بنیاد پر یہ احساس نہ ہو کہ اس کے ساتھ کوئی امتیاز برتا جا رہا ہے۔

بدقسمتی سے ، تقسیمِ ہند کا وہ قدم جو جنوبی ایشیاء میں ایک پائیدار امن کے لئے اٹھا یا گیا تھا،اسے فکری پس ماندگی کے شکار لوگوں نے دائمی دشمنی میں بدل دیا۔اس کا آ غاز بھارت سے ہوا۔پاکستان کو اس کے اثاثوں سے محروم کر نے کوشش کی گئی،حتیٰ کہ گاندھی جی نے جب اس کے لئے آواز اٹھائی تو اسی ذہنیت نے انہیں موت کی نیند سلا دیا۔ان لوگوں نے اس پہلو کو نظر انداز کیا کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان بھارت کو پہنچ سکتا ہے جہاں تقسیم کے با وجود کروڑوں مسلمان بستے ہیں۔ تقسیم کے عمل کو دائمی دشمنی میں بدلنے سے بھارت ہمیشہ داخلی کش مکش کا شکار رہے گا اور یہ بات بھارت کی سلامتی کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔متحدہ پاکستان میں یہ بات پاکستان کے لئے بھی یکساں پریشان کن ہو سکتی تھی۔موجودہ پاکستان کا مگر یہ مسئلہ نہیں ہے جہاں  97 فیصد مسلمان بستے ہیں۔قائد اعظم کی بصیرت مستقبل کے اس منظر نامے کو دیکھ رہی تھی۔اس لئے ایک طرف انہوں نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے امریکہ اور کینیڈا کو مثال بنا نے کی بات کی اور دوسری طرف 11 اگست 1947ء کی تقریرمیں ایک ایسے پاکستان کے تصور کو آگے بڑھا یا جس میں مذہبی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ یوں پاکستان کی صورت میں مسلم اکثریت کی ایک قومی ریاست وجود میں آئی۔یہی وجہ ہے کہ قومی سطح پر پاکستان میں کسی طرح کا ہندو مسلم خلفشار پیدا نہیں ہوا۔بعض مقامات پر اگر کچھ افراد نے اس کو ہوا دینے کی کوشش کی تو قومی شعور نے اس کو مسترد کر دیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو ایک امر واقعہ سمجھا جا ئے جو جنوبی ایشیا میں دائمی امن کے لئے وجود میں آیا۔یہ کسی ہندو مسلم دشمنی کی مستقل بنیاد نہیں ہے۔تقسیمِ ہند ایک منفی نہیں، مثبت قدم کا نام ہے۔آج ہندو معاشرت بھی ارتقائی مراحل طے کر تے ہوئے اس نتیجے تک پہنچ رہی ہے کہ انسانوں کے درمیان طبقاتی تقسیم انسانی شعورکے لئے قابلِ قبول نہیں۔یہ شرفِ انسانیت کے خلاف ہے۔جب کوئی معاشرہ انسانوں کے مابین امتیاز کو بطور قدر قبول کر تا ہے تو وہ کثیر المدنیت پلورالیزم کی صلاحیت سے محروم ہو جا تا ہے۔آج انسان کا شعوری سفر جہاں پہنچ چکا،وہاں ایسے خیالات کے لئے کوئی جگہ نہیں۔مغرب نے اس راز کو جان لیا ہے۔اس لئے وہاں انسانوں کے درمیان امتیاز قابلِ قبول نہیں۔یوں غلامی اب ایک قصہ پارینہ ہے جو دراصل ایک بر تر ذہنیت سے وجود میں آتی ہے۔اس لئے یہ کہا جاتا ہے کہ یورپ وغیرہ میں اب کسی بڑی جغرافیائی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ اگر انسانی وحدت کے تصور کو قبول نہیں کیا جا ئے گا تو جنوبی ایشیا میں تقسیم در تقسیم کا عمل جاری رہے گا۔

پاکستان کا قیام ،اس لئے انسانی آزادی کے شجرکافطری ثمر ہے۔یہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لئے قائم ہوا ہے۔اس لئے اس خطے کے مکینوں کو اس کی قدر وقیمت کا اندازہ ہو نا چاہئے۔یہ تاریخ کی درست تعبیر نہیں ہے جوتقسیم کو دائمی دشمنی کی اساس قرار دیتی ہے۔ پاکستان کا وجود در اصل اس بات کی یقین دہانی ہے کہ جب کسی خطے میں مذہبی،سماجی یا سیاسی امتیازکو بطور قدر قبول کر لیا جاتا ہے تو پھر اس کا لازمی نتیجہ تقسیم در تقسیم ہے۔اسی اصول پر پاکستان کو متحد رکھنے کا واحد طریقہ یہی ہے کسی کو مذہب، علاقے یا نسل کی بنیاد پر یہ احساس نہ ہو کہ اس کے ساتھ کوئی امتیاز برتا جا رہا ہے۔بھارت کو بھی اسی اصول پر متحد رکھا جا سکتا ہے۔بھارتی قیادت کو تقسیم کے تجربے سے یہ سیکھنا چاہیے کہ حریتِ فکر و عمل بنیادی انسانی قدر ہے۔ اگر اس کا خیال ہے کہ کسی خطے میں لاکھوں فوجیوں کو تعینات کر کے اس قدر کو ختم کیاجا سکتا ہے تو انسان کا تاریخی شعور اس کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔ پاکستان ایک تذکیر ہے۔یہ انسانی تہذیب کا ایک فطری پڑاؤہے۔یہ امن کا پیغام ہے۔لازم ہے کہ ہر 14 اگست کو اسے ایک نعمتِ باری تعالیٰ کے طور پر یاد کیا جا ئے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
16
September

جب 14 اگست کا دن آتا ہے تو پاکستان آپ کا منہ تکتا ہے اور آپ کو پھر یاد دلانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ کبھی اس دن سکون سے بیٹھ کر اس بات پر غور کیا کرو کہ پاکستان بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔۔۔؟ کہ پاکستان کی تاریخِ پیدائش کے دن کیا کچھ ہوا تھا۔

میں جب انٹر نیشنل ڈیپارچر لاؤنج میں جا کر بیٹھی تو میں نے حسبِ عادت اندر کے ماحول کا جائزہ لینا شروع کردیا۔۔۔ ماشاء اﷲ ہال مسافروں بشمول خواتین سے بھرتا جا رہا تھا۔ ضعیف والدین‘ نو عمر جوڑے‘ چھوٹے بچے سب ہی کسی نہ کسی ملک میں جارہے تھے۔ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں بھی تو اپنے بیٹے کے پاس جارہی تھی جو امریکہ میں مقیم ہے۔ کچھ بچے اپنے بوڑھے والدین کو ملنے آجاتے ہیں‘ جن بچوں کو نوکریوں کی مجبوریاں پابند کردیتی ہیں‘ وہ اپنے بوڑھے والدین کو ٹکٹ بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک ٹکٹ میں دو کام کرتے جائیں۔ ایک تو یہ کہ نئی دنیا دیکھ لیں‘ دوسرے بیٹے یا بیٹی کا ہنستا بستا گھر بھی دیکھتے جائیں۔۔۔۔۔۔تیسرا مقصد بھی ہوتا ہے۔اتفاق سے میری نشست کے ساتھ ایک ایسی خاتون آکر بیٹھ گئی جو عنقریب ماں بننے والی تھی ساتھ میں غالباً اس کی والدہ تھیں۔۔۔ میں نے دوران گفتگو اس کی والدہ سے پوچھا کہ اس حالت میں آپ انہیں اتنے لمبے سفر پر لے جارہی ہیں۔۔۔ تو لڑکی نے خود جواب دیا۔۔۔
کہ میں چاہتی ہوں میرا بچہ امریکہ میں پیدا ہو اور پیدا ہوتے ہی اسے وہاں کی شہریت مل جائے تاکہ جوان ہونے پر اسے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کی سہولتیں میسر آئیں۔
ہر سفر میں مجھے اس کیفیت میں اور اس قسم کے خیالات کی حامل عورتیں ملتی رہتی ہیں۔ آتی جاتی رہتی ہیں۔۔۔
میں اکثر سوچتی ہوں۔ شہریت کے استحقاق کو تو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایک بچہ امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس یا آسٹریلیا میں ہو کر خواہ تیس چالیس سال پاکستان میں ہی رہے‘ وہ اس ملک کے حقِ شہریت سے استفادہ کرسکتا ہے‘ کرتا رہتا ہے۔
لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے اندر14 اگست 1947 کے بعد ایک نسل پیدا ہوئی۔ بے شک اس کے محترم بزرگ نقل مکانی کرکے آئے تھے مگر بچے تو پاکستان کی سرزمین پر پیدا ہوئے تھے‘ ان کے بزرگوں نے اپنا گھر بار‘ عہدہ اور وقار پاکستان کے لئے چھوڑا تھا اور پاکستان میں داخل ہوتے ہی اس کی سرزمین پر ایک سجدۂ شکر ادا کیا تھا۔ اس خاک کو چوما تھا جس کے لئے انہوں نے اپنے پیار‘ دلارے اور دل کے ٹکڑے قربان کئے تھے۔ یہ زمین انہیں اپنے پیاروں کی جانوں کے بدلے میں ملی تھی۔ یہ زمین انہیں اپنے پیاروں کے طرح پیاری ہونی چاہئے تھی۔ اس زمین پر اُن کے پیاروں کا بڑا حق ہے۔۔۔ اس لئے اس پاک سرزمیں کے اندر پیدا ہونے والے بچے اپنے آپ کو مہاجر نہ کہیں۔ مہاجربن کے آنا قابلِ صد احترام ہے۔۔۔ بڑا مرتبہ ہے تاریخِ اسلام میں مہاجروں کا۔۔۔ مگر پاکستان کے اندر جو پیدا ہوتا ہے۔۔۔ وہ پاکستانی ہوتا ہے۔۔۔ اور پاکستانی ہونے پر بھی اتنا ہی فخر ہونا چاہئے جتنا کسی دوسرے ملک کا شہری ہونے پر کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ جو روزگار کی خاطر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور پوری زندگی وہاں گزار دیتے ہیں‘ ان کو وہاں کا شہری سمجھ لیا جاتا ہے۔ ساٹھ ستر سال کسی ملک میں گزار کر وہ لوگ بھی اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہتے۔۔۔
جب 14 اگست کا دن آتا ہے تو پاکستان آپ کا منہ تکتا ہے اور آپ کو پھر یاد دلانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ کبھی اس دن سکون سے بیٹھ کر اس بات پر غور کیا کرو کہ پاکستان بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔۔۔؟ کہ پاکستان کی تاریخِ پیدائش کے دن کیا کچھ ہوا تھا۔
سنو ! جس وقت برصغیر کے اس خطے میں آزادی کی تحریک شروع ہوئی‘ اس وقت غیرمنقسم ہندوستان میں دو بڑی اکائیاں تھیں۔ ہندو اور مسلمان۔۔۔ اگرچہ فرنگیوں سے آزادی حاصل کرنے میں دونوں قومیں برابر جدوجہد کر رہی تھیں لیکن درپردہ مسلم قوم اس اندیشے میں مبتلا تھی کہ اگر ملک سے انگریز چلے گئے تو مسلمان ہندوؤں کی غلامی کرنے پر مجبور کردیئے جائیں گے۔۔۔
اس بات کو قائدِاعظم محمدعلی جناح نے محسوس کرلیا تھا کہ برصغیر کے مسلمان دو

قائدِاعظم کے فرمودات کی روشنی میں ہم اپنی نئی نسل کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا قیام کسی تقسیم کا نتیجہ نہیں ہے۔۔۔ یہ کیا تقسیم ۔۔۔ تقسیم ۔۔۔لگا رکھی ہے۔ بلکہ پاکستان کا قیام اس عمل کا نتیجہ ہے جو برصغیر کی تاریخ میں برابر موجود تھا۔۔۔ موجود ہے اور موجود رہے گا۔ اور ہمارے مہربان بھی سن لیں۔۔ کہ پاکستان محض واقعہ نہیں ہے۔ ایک اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی یہ حُسنِ اتفاق ہے۔۔۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد اور انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو ایک نشاۃِ ثانیہ درکار تھی۔ سوئی ہوئی قوم نے بیدار ہونا تھا۔ انگڑائی لینا تھی۔ حقِ حکمرانی حاصل کرنا تھا۔

محاذوں کے درمیان کشمکش میں مبتلا ہیں۔ آزادی کی طلب کے لئے ان کی نظریں انگریزوں کی طرف اٹھتی تھیں اور مستقبل میں اپنے تحفظ کے لئے وہ کانگرس کے محتاج تھے مگر یہ دونوں محاذ ان کی مرضی کے تابع نہ تھے۔ ان حالات میں انڈین نیشنلزم کے مقابلے میں مسلمانوں کے تحفظ کے لئے مسلم نیشنلزم کی اصطلاح وجود میں آئی۔ اس اصطلاح کو‘ فکری طور پر علامہ اقبال اور سیاسی طور پر قائدِاعظم نے مفسر کیا۔ قوم کو مجتمع کیااور ایک نئی اسلامی فلاحی مملکت کا نقشہ ابھرنے لگا۔۔۔ چونکانے لگا۔۔ دلوں کو گرمانے لگا۔۔ یہ سب ایک دن‘ ایک ماہ یا ایک سال میں نہیں ہوگیا۔1861 سے شروع ہوئی بات۔۔۔ 1907 تک پہنچی اور 1907 سے آگے کی ساری کٹھنائیاں عبور کرکے 1947 تک آپہنچی۔۔ برصغیر میں انگریز کے تسلط سے پہلے بھی مسلمانوں ہی کی حکومت رہی ہے۔۔۔۔۔۔
یہاں پر قائدِاعظم کی ایک تقریر کو بہت غور سے پڑھنا ضروری محسوس ہونے لگا ہے۔
’’ہمارا شمار ان قوموں میں ہوتا ہے جو گر چکی ہیں اور ہم نے بہت بُرے دن دیکھے ہیں۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی زبردست تباہی میں مسلمان خاکستر بن چکے تھے۔ مغل سلطنت کے خاتمے سے لے کر اب تک مسلمانوں کو اتنی بڑی ذمہ داری سے کبھی سابقہ نہیں پڑا جو پاکستان کی ذمہ داری قبول کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ ہم نے اس برصغیر کی زمین پر آٹھ سوسال حکومت کی ہے۔۔۔ اور ہمارا مطالبہ ہندوؤں سے نہیں ہے کہ یہ برصغیر کبھی ہندوؤں کی عمل داری میں نہیں رہا۔۔۔ صرف مسلمانوں ہی نے اس پورے خطۂ زمین پر حکومت کی ہے۔ انگریزوں نے اس برصغیر کو مسلمانوں سے حاصل کیا تھا۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہندوؤں سے نہیں‘ انگریزوں سے ہے کیونکہ یہ ملک اب ان کے قبضے میں ہے۔۔۔‘‘
قائدِاعظم کے فرمودات کی روشنی میں ہم اپنی نئی نسل کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا قیام کسی تقسیم کا نتیجہ نہیں ہے۔۔۔ یہ کیا تقسیم ۔۔۔ تقسیم ۔۔۔لگا رکھی ہے۔ بلکہ پاکستان کا قیام اس عمل کا نتیجہ ہے جو برصغیر کی تاریخ میں برابر موجود تھا۔۔۔ موجود ہے اور موجود رہے گا۔
اور ہمارے مہربان بھی سن لیں۔۔ کہ پاکستان محض واقعہ نہیں ہے۔ ایک اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی یہ حُسنِ اتفاق ہے۔۔۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد اور انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو ایک نشاۃِ ثانیہ درکار تھی۔ سوئی ہوئی قوم نے بیدار ہونا تھا۔ انگڑائی لینا تھی۔ حقِ حکمرانی حاصل کرنا تھا۔
آزادی صرف اس صورت میں آزادی بنتی ہے جب اسے کلیتاً حق حکمرانی مل جاتا ہے۔۔۔ حقِ حکمرانی برصغیر میں مسلمانوں کا گمشدہ حق تھا۔۔۔۔
آج کے حالات میں حقِ حکمرانی کئی تاویلیں پیش کی جاسکتی ہیں۔۔ مگر اصل تاویل وہی ہے جو علامہ اقبال نے فرمائی ہے۔
خودی نہ بیچ‘ غریبی میں نام پیدا کر
خودی قرضوں کے عوض بک جاتی ہے۔ سیم و زر افراد کی غیرت کو کھا جاتے ہیں۔ شاہانہ زندگی کی تب و تاب رزقِ حلال کی لذت کو زائل کردیتی ہے۔
فقیری اس فقر کا نام ہے جو گھر کی دال روٹی کھاکے‘ سرحدوں پر فلک شگاف نعرے لگانے پراُکساتی ہے۔
یہ حقِ حکمرانی ۔۔۔ یہ تاریخ کی وراثت‘ یہ جغرافیے کی حاکمیت۔۔۔
یہ قوم‘ ملک‘ سلطنت
کبھی رک کر سوچا۔۔۔ کبھی دیکھا۔۔۔
آج پاکستان پوچھتا ہے ہر اس فرد سے جو پاکستان کے اندر پیدا ہوا ہے کہ تم پاکستانی کیوں نہیں ہو۔ تم یہاں مہاجر بن کر کیوں رہتے ہو۔ تم اپنے بچوں کو جس دیس کا شہری بنانا چاہتے ہو۔ کیا اس کی اہمیت ہمیشہ ایسی ہی رہے گی۔۔۔؟
تم اپنی زمین پر دانۂ گندم کیوں نہیں اُگاتے۔ اگر ادھار کی گندم کھاؤ گے۔۔۔ تو لہو اُبلنا چھوڑ دے گا۔
تم اپنے دریاؤں کا رُخ موڑ کیوں نہیں لیتے۔۔۔ تمہارے کھیتوں کے لب خشک ہو رہے ہیں۔۔۔ تم اپنے پرچم کو اٹھ کر سلام کیوں نہیں کرتے۔ وہ فضاؤں میں ہاتھ پھیلا ئے ہر دم تمہارے لئے دعائیں بکھیر رہا ہے۔۔۔
تم اپنے اسلاف کی باتیں پڑھنے کا وقت کیوں نہیں نکال سکتے۔۔۔ تمہیں دنیاوی لہو و لعب سے فرصت کیوں نہیں ہے۔۔۔
عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں
تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے

 

16
September

عید کی خوشیوں اور آزادی کی مسرتوں میں زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ تین ہفتوں سے ایک دو روز زیادہ۔ اب کے روزے بھی بہت صبر طلب اور ہمت آزما تھے۔ خون بہتا رہا۔ شہادتوں کی خوشبوئیں پھیلتی رہیں۔ کراچی میں تو رمضان کا پہلا ہفتہ ایک قیامت کا سماں رہا۔ ایک ہی شہر میں 1300سے زیادہ انسان دیکھتے دیکھتے زندگی سے موت کا سفر کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ان کے گھر انہیں اماں نہ دے سکے۔ کیو نکہ وہاں ہوا کا گزر نہیں تھا۔ وہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیے گئے۔ حفظان صحت کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ آبادیوں میں سرکاری اسپتال نزدیک ترین نہیں ہیں۔ بڑے اسپتال نام کے بڑے ہیں۔ وہاں سہولتیں نہیں ہیں۔ دوائیں دستیاب نہیں ہیں‘ بجلی 24 میں سے اٹھارہ گھنٹے بند رہتی ہے۔ اسپتالوں میں بھی یہی حال ہے۔

آزادی بہت قیمتی متاع ہے۔ یہ طاقت بھی ہے‘ لیکن نازک بھی ہے۔ اس کے لئے ہمارے لاکھوں بزرگوں نے بانیانِ پاکستان نے ہجرت کے دوران قربانیاں دیں۔ پھر یہ قوم اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے 68 سال سے مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔

اس غم و اندوہ‘ مایوسی اور کرب میں ایک پہلو اُمید کا بھی تھا۔ بہت ہی حوصلہ افزا۔ شہر کے نوجوان لڑکے لڑکیاں‘ امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے۔ متوسط طبقے سے پیدا ہونے والے سرگرم ہوگئے‘ اسپتالوں میں پہنچ گئے‘ کوئی جنریٹر کا انتظام کررہا تھا‘ کوئی پنکھے صاف کررہا تھا‘ کوئی ٹھنڈے پانی کی بوتلیں لارہا تھا‘ ٹیکنالوجی بھی معاونت کررہی تھی‘ سوشل میڈیا سے پیغامات چل رہے تھے‘ ضرورت کے پیسے جمع ہورہے تھے۔ اس سارے حزن و یاس کے عالم میں کراچی کے ان بیٹوں بیٹیوں کے تمتماتے چہرے اُمید کی مشعلیں بن کر بے بسی کے اندھیرے دور کررہے تھے۔ یہ کہانی ہمتیں بڑھاتی ہیں۔ اس کی تفصیلات جاننا چاہئیں۔ یہ ایک سماجی انقلاب آرہا ہے اپنے طور پر ۔ اس کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے یہ زحمت نہیں کی۔ جہاں ہم ایک طرف کرپشن اور لوٹ مار کی خبروں سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں اور حد درجہ نا اُمید بھی۔ وہاں ان نوجوانوں کے یہ رویے ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ کل آنے والا پاکستان اب گزرنے والے پاکستان سے کہیں بہتر ہوگا۔

جہاں ہم ایک طرف کرپشن اور لوٹ مار کی خبروں سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں اور حد درجہ نا اُمید بھی۔ وہاں ان نوجوانوں کے یہ رویے ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ کل آنے والا پاکستان اب گزرنے والے پاکستان سے کہیں بہتر ہوگا۔

جناح اسپتال‘ سول اسپتال‘ عباسی اسپتال اور دوسرے کلینکوں‘ اسپتالوں میں یہ تیز تیز چلتے‘ بھاگتے‘دوڑتے نوجوان بچے بچیاں‘ میرا اور آپ کا مستقبل ہیں۔ یہ ہماری طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے گِلے شکوے میں مصروف نہیں رہتے کہ حکومت کچھ نہیں کررہی‘ سب کچھ تباہ ہوگیا‘ یہ پاکستانی پر عزم‘ با حوصلہ‘ خود نکل آتے ہیں۔ پیسہ بھی اپنا لگاتے ہیں۔ خود جمع کرتے ہیں‘ حکومت کی گرانٹ کا انتظار کرتے ہیں‘ نہ کسی غیر ملکی امداد کا۔

راہبر وہ ہی رہیں۔ راہ دکھائیں ہم لوگ

وہ تو معذور ہیں یہ فرض نبھائیں ہم لوگ

جو اُدھورا ہے اسے ہم ہی مکمل کرلیں

بیٹھے بیٹھے یونہی باتیں نہ بنائیں ہم لوگ میں نے بہت پہلے یہ غزل کہی تھی‘ اب خوشی ہوتی ہے کہ اسے حقیقت میں ڈھالنے والی نسل وجود میں آگئی ہے‘ ادھورے کو پورا کررہی ہے۔ ملک جن نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ میں یہ جملہ لکھ تو گیا ہوں‘ مگر پھر سوچنے لگ گیا ہوں کہ گزشتہ 50 سال میں کون سے برس میں نے یہ الفاظ نہیں دہرائے‘ اب تو 68 سال ہورہے ہیں ہم 69 واں یوم آزادی منانے جارہے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں یہ کیوں لگ رہا ہے کہ یہ یوم آزادی 14 اگست 2015ء پاکستان کی تاریخ کے ایک فیصلہ کُن موڑ پر آرہا ہے۔

صبح آزادئ کا مل طلوع ہونے والی ہے

داغ داغ اُجالا۔ صاف شفاف ہونے والا ہے

عشق اپنی مراد پانے والا ہے

دعائیں قبول ہونے کی گھڑی آرہی ہے

دہشت گردوں کے دن لد گئے ہیں‘ ان کی بساط لپٹنے والی ہے۔

فیصلے کی گھڑی کیوں آرہی ہے۔

فوج نے فیصلہ کرلیاہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ضرب عضب جاری رہے گی۔ دہشت گردی صرف وہ نہیں جو مذہبی انتہا پسندی سے جنم لیتی ہے‘ جو اپنے مسلک کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لئے اختیار کی جاتی ہے۔ ایک فرقہ دوسرے پر کفر کا فتویٰ صادر کرکے اسے تہ تیغ کرتا ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ ہر قسم کی دہشت گردی کو ختم کیا جائے گا۔ چاہے وہ لسانی مافیا کی طرف سے ہو‘ نسلی مافیا کی جانب سے‘ زمینوں پر قبضے کرنے والے ایسا کررہے ہوں‘ کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا‘ اسی طرح ملکی خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف بھی پوری شدت اور تندہی سے کارروائیاں جاری کردی گئی ہیں‘ یہ ایک حقیقت ہے‘ اگرچہ بہت تلخ‘ کہ پاکستان میں وہ آزادی جوبیس لاکھ سے زیادہ بزرگوں‘ بچوں‘ نوجوانوں ماؤں‘ بہنوں کے خون سے حاصل کی گئی تھی۔ اسے پہلے کرپشن نے داغ داغ کیا۔ پھر انتہا پسندی نے اور دہشت گردی نے تو اس آزادی کو لہو میں نہلادیا ہے۔

آج پھر جب بھارت میں ایک سخت انتہا پسند ہندو وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر بیٹھا ہے تو اس علاقے میں سُپر طاقت بننے کے لئے پھر کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ بھارت کا رویّہ جارحانہ ہوتا جارہا ہے۔ عالمی فورموں پر بھی پاکستان دشمن سفارت کاری ہورہی ہے۔ ہماری سرحدوں پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔

میں تو کرپشن کو دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتا ہوں۔ پاکستانی معاشرے کی تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے گزشتہ چھ عشروں سے جو کچھ دیکھتا آرہا ہوں‘ میری تحقیق یہی ہے کہ ہم نے ناجائز دولت کی لالچ میں سب حدیں پار کی ہیں۔ پیسے کے سامنے مملکت کی کوئی وقعت رہی نہ مذہب کی۔ ہمارا مقصد‘ ہماری منزل‘ دولت بن کر رہ گئی‘ اس میں مملکت کی ساری حدود بھی نظر انداز کردی گئیں اور مذہبی شعائر بھی اس کی نذر کردیئے گئے۔ اس لامتناہی ہوس زر نے فریب‘ منافقت اور ہر قسم کی انتہا پسندی کو جنم دیا۔ ایک طرف بہت زیادہ بہرہ ور طبقہ ہے‘ جسے زندگی کی ہر سہولت دستیاب ہے اور دوسری طرف بہت زیادہ بے بہرہ‘ جو زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے بھی ترستا ہے۔ اس بے بہرہ طبقے کے نوجوان مایوس‘ بے بسی اور بے کسی کے عالم میں انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ یہ انتہا پسند تنظیمیں‘ مذہبی شدت پسندوں کی بھی ہیں علیحدگی پسندوں کی بھی‘ فرقہ پرستوں کی بھی‘ لسانی اور نسلی گروہوں کی بھی۔ کرپشن کو جڑوں سے اُکھاڑا جائے گا تو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی مالی سرپرستی بھی ختم ہوتی جائے گی۔ ان کی رسد کا راستہ مسدود ہوگا تو یہ محدود ہوتے چلے جائیں گے اور ہم مکمل آزادی اور خود مختاری کے راستے پر گامزن ہوں گے۔ پہلے ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے قائد اعظم محمّد علی جناح کی قیادت میں جدو جہد کی۔ اس کے ساتھ ساتھ جب قائد نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ انگریز کی غلامی سے نکل کر برّ صغیر کا مسلمان ہندو کی غلامی میں یہ نہ چلا جائے تو انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے حصول کو اپنا نصب العین بنایا۔ یہ بات ہندو سیاسی جماعتوں کو بہت خطرناک محسوس ہوئی۔ وہ مسلمانوں کو الگ وطن حاصل کرنے کی کوششوں کو تو ناکام نہ بناسکے لیکن انہوں نے یہ تہیہ کرلیا تھا کہ اس خطّے میں اپنا غلبہ قائم کرنا ہے۔

کرپشن کو جڑوں سے اُکھاڑا جائے گا تو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی مالی سرپرستی بھی ختم ہوتی جائے گی۔ ان کی رسد کا راستہ مسدود ہوگا تو یہ محدود ہوتے چلے جائیں گے اور ہم مکمل آزادی اور خود مختاری کے راستے پر گامزن ہوں گے۔

پاکستان کے 68 سال اس کشمکش میں گزرے ہیں۔ آج پھر جب بھارت میں ایک سخت انتہا پسند ہندو وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر بیٹھا ہے تو اس علاقے میں سُپر طاقت بننے کے لئے پھر کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ بھارت کا رویّہ جارحانہ ہوتا جارہا ہے۔ عالمی فورموں پر بھی پاکستان دشمن سفارت کاری ہورہی ہے۔ ہماری سرحدوں پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے بھی پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ فارمیشن کمانڈرز کی میٹنگوں میں بھی اس پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ حکومت کے اہم اداروں اور شخصیات نے بھی اس پر آواز بلند کی ہے۔ ممکن ہے کہ پاکستان یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں بھی لے جائے۔ اگر چہ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعظم بھارت کی روس کے شہر اوفا میں ملاقات بھی اس کا حوالہ زیر غور نہیں آیا۔ اس پر پاکستان کے عوام اب تک حیرت زدہ ہیں۔

بھارت کے اس غلبے کے جنون نے بھی ہماری آزادی کو چیلنج کر رکھا ہے۔ دہشت گردی کی طرف نوجوان کیوں راغب ہوتے ہیں۔ جب ان کے خواب پورے نہیں ہوتے‘ ان کے عزائم تکمیل نہیں پاتے‘ ان کی آزادی پر پابندیاں مسلط کی جاتی ہیں ۔مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی نے اس وقت جنم لیا جب فلسطین پر اسرائیلی مظالم بڑھتے چلے گئے‘ ان سے آزادی چھین لی گئی اور جنوبی ایشیا میں یہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کشمیریوں سے حق رائے دہی غصب کرنے کے باعث شروع ہوئی۔ دُنیا میں جہاں جہاں ظلم ہورہا ہے وہاں نوجوان ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہوتے چلے گئے ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام نے دُنیا پر یک طاقتی نظام مسلط کردیا ہے۔امریکہ نے اپنی طاقت اور دولت کے گھمنڈ میں چھوٹے ملکوں کی آزادی اور خود مختاری کو غصب کرنا شروع کردیا۔ پاکستان میں اس وقت جن دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب جاری ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے تلوار تو امریکہ کے خلاف اُٹھائی‘ مگر اپنے ہی ملک کے شہریوں‘ فوجیوں‘ اہم فوجی تنصیبات اور حساس اداروں پر حملے شروع کردیئے۔ یہ کس راستے پر چل رہے ہیں‘ کیا اس سے یہ وہ مقاصد حل کرسکتے ہیں‘ جن کا یہ پرچار کرتے ہیں یہ انہیں بھی معلوم نہیں ہے۔ اب جنگ یہ ہے کہ یہ چند لوگ جس مسلک کو درست سمجھتے ہیں‘ ان کے نزدیک جو رسوم و رواج۔ اسلام کے شعائر ہیں۔ یہ پورے ملک پر مسلط کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ملک میں جمہوری آزادیاں ہیں۔ یہ اگر واقعی اپنے نظریات کو بر حق خیال کرتے ہیں تو میدان میں آئیں‘عوام کو قائل کریں‘ انتخابات میں حصّہ لیں‘ پھر اپنے پروگرام پر عملدرآمد کریں۔ لیکن انہیں یقین ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت ان کی ہٹ دھرمی کو نہیں مانے گی۔ علماء کی اکثریت ان کی ہم خیال نہیں ہے۔ اس لئے جب پاک فوج کی طرف سے ضرب عضب شروع کی گئی تو خیبر سے گوادر تک پورے ملک کے عوام نے اس کا خیر مقدم کیا‘ ان حلقوں نے بھی جو پہلے طالبان اور ایسی دوسری تنظیموں سے مذاکرات کے حق میں تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ پاک فوج کا یہ فیصلہ بالکل صحیح تھا۔ اس کے نتائج ملک کے حق میں ہورہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف حصّوں میں جو بم دھماکے ہورہے تھے‘ دہشت گردی کی وارداتیں ہورہی تھیں۔ ان میں بڑی حد تک کمی آئی۔

اب جنگ یہ ہے کہ یہ چند لوگ جس مسلک کو درست سمجھتے ہیں‘ ان کے نزدیک جو رسوم و رواج۔ اسلام کے شعائر ہیں۔ یہ پورے ملک پر مسلط کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ملک میں جمہوری آزادیاں ہیں۔ یہ اگر واقعی اپنے نظریات کو بر حق خیال کرتے ہیں تو میدان میں آئیں‘عوام کو قائل کریں‘ انتخابات میں حصّہ لیں‘ پھر اپنے پروگرام پر عملدرآمد کریں۔

انتہا پسندوں کے خلاف یہ عسکری اور انتظامی کارروائی تو اپنی جگہ مسلّمہ اور نتیجہ خیز ہے لیکن اَ ن خطر انگیز رُجحانات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ناگزیر امر یہ ہے کہ جہاں خود کش بمباروں اور دہشت گردوں کی فصلیں کاشت کی جارہی ہیں اس زمین کو دوبارہ قابلِ کاشت کیا جائے۔ جنت میں جانے کے حقیقی راستے بتائے جائیں‘ اس کے لئے علمائے حق کو آگے آنا ہوگا کیونکہ یہ مذہب کا معاملہ ہے‘ دین کا حوالہ ہے۔ اس لئے اس میں یہ نوجوان حکمرانوں اور جنرلوں کی نہیں‘ علماء کرام کی بات کو وزن دیں گے۔ علماء جب بار بار یہ کہتے ہیں کہ انتہا پسندی اسلام نہیں ہے‘ دہشت گردی اسلام نہیں سکھاتا تو انہیں کھل کر میدان میں آنا چاہئے‘ ان نوجوانوں کو بھٹکنے والوں کے راستوں پر نہیں جانے دینا چاہئے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ فوج نے ڈی ریڈی کلائیزیشن کا جو پروگرام شروع کر رکھا ہے‘ اسے حکومت بھی اپنائے‘ اس کا دائرہ وسیع کیا جائے‘ اس کے ابلاغ کو زیادہ دور رس بنایا جائے۔ یہ مذہب کا معاملہ ہے جو بہت حساس بھی ہوتا ہے اور نازک بھی۔ ان رُجحانات کے باعث پاکستان کی آزادی خطرے میں ہے۔ مملکت کا وجود لرز رہا ہے۔ کیونکہ مذہب کی شدت پسندی ہر حد کو عبور کررہی ہے۔ ان ذہنی لہروں اور شدید رویوں کی وجہ سے ہماری تنصیبات‘ حساس اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس لئے خطّے کے دوسرے ممالک‘ عالمی طاقتیں پاکستان کو خطرناک ملکوں میں شُمار کرتی ہیں۔

اب عالمگیریت کا دور ہے۔ اس میں وہی قومیں آگے بڑھ سکیں گی جو علم کے حصول میں پیش پیش‘ ذہنی استعداد میں آگے ہوں گی۔ دنیا بھر میں اب تو بین الاقوامی نصاب تعلیم بھی اس لئے رائج ہورہا ہے کہ اب کسی بھی ملک کے بچے کو کہیں بھی دُنیا میں جانا پڑ سکتا ہے۔ اس کی ذہنی سطح بین الاقوا می معیار کی ہونی چاہئے‘ اسے عالمی اصطلاحات سے با خبر ہونا چاہئے۔ ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کے شہری عالمی شہریوں کے مقابلے کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھیں۔ اسی سطح کی تعلیم بھی حاصل کریں۔ رفتارِ عالم سے با خبر بھی رہیں۔ آزادی بہت قیمتی متاع ہے۔ یہ طاقت بھی ہے‘ لیکن نازک بھی ہے۔ اس کے لئے ہمارے لاکھوں بزرگوں نے بانیانِ پاکستان نے ہجرت کے دوران قربانیاں دیں۔ پھر یہ قوم اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لئے 68 سال سے مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔ مختلف جمہوری تحریکوں میں جان و مال کی قربانیاں۔ قید و بند کی صعوبتیں بھی اس مملکت کے استحکام کے لئے دی گئیں۔اب دہشت گردی کی وارداتوں میں سیکڑوں بچے‘ بزرگ خواتین شہید ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ہماری مسلح افواج کے سینئر افسر۔ سپاہی بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ ضرب عضب بھی اپنی آزادی کے تحفظ اور استحکام کے حصول کا ذریعہ ہے۔ مملکت کے خلاف مملکت کے اندر کسی کو بھی ہتھیار اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسلحے کا استعمال صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اپنی آزادی کے تحفظ کے لئے اس وقت پاکستان کی مسلح افواج ایک بڑی مشکل جنگ لڑ رہی ہیں‘ پاکستان کی ماؤں بہنوں بیٹیوں بزرگوں کی دعاؤں سے انہیں کامیابی بھی نصیب ہورہی ہے۔ میں ان علماء سے ان نوجوانوں سے گزارش کرنا چاہوں گا‘ جنہوں نے جنّت میں جانے کے لئے اس انتہائی خطرناک راستے کا انتخاب کیا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ان کے ذہنوں کو مسموم کیا گیا ہے۔ ان کے معصوم دماغوں میں یہ بات بٹھائی گئی ہے کہ یہ لوگ مرتد ہوگئے ہیں۔ یہ کافروں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ انہیں مار کر راستے سے ہٹاکر سیدھے جنّت جاؤگے۔

پاکستان کی آزادئ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر پوری نہیں ہوسکتی۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کی آزادی کا نا مکمل ایجنڈا ہے اس کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب کشمیری عوام کو اپنی مرضی سے اپنا مستقبل طے کرنے کا موقع ملے گا۔

آج کتنے برس سے یہ خوفناک وارداتیں ہورہی ہیں۔ خود کش جو خود بھی مارے گئے اور اپنے ساتھ کتنے بے گناہوں کو بھی لے اُڑے‘ اس سے کیا حاصل ہوا۔ اسلام کی بدنامی ہوئی۔ ہمارے آباؤ اجداد تو ہمیشہ یہ قائل کرتے رہے کہ اسلام بزور شمشیر نہیں پھیلا۔ ہم اپنے رویّوں سے‘ وارداتوں سے کافروں‘ غیرمسلموں اور اسلام دشمنوں کے اس الزام کی تصدیق کررہے ہیں۔ عملاً یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اسلام قبول کروانے ہی نہیں بلکہ اپنے مسلک سے اختلاف رکھنے والے مسلمانوں کو بھی ہم زندہ رہنے کا حق نہیں دیتے۔ اس شدت پسندی اور مارا ماری سے پوری دُنیا میں اسلام کا حسین اور مہربان تصوّر مسخ ہورہا ہے۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ حقوق انسانی کا محافظ ہے۔ قوموں کی سربلندی چاہتا ہے۔ مملکتوں کی آزادی اور خود مختاری کی ضمانت دیتا ہے۔ دہشت گردی‘ انتہا پسندی انسانوں کے حقوق کی پامالی‘ انسانوں کی مرضی کے بغیر ان پر تسلّط جمائے رکھنا‘ یہ سب آزادی کی مخالف قوتیں ہیں۔ دُنیا بھر میں آزادئ کامل کا تصوّر فلسطین کو ایک مکمل آزاد خود مختار ریاست بنائے بغیر حقیقت میں نہیں ڈھل سکتا۔ اسی طرح برصغیر میں آزادی کا تصوّر اور پاکستان کی آزادئ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر پوری نہیں ہوسکتی۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کی آزادی کا نا مکمل ایجنڈا ہے اس کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب کشمیری عوام کو اپنی مرضی سے اپنا مستقبل طے کرنے کا موقع ملے گا۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
16
September

ہمارا ایک شرارتی سا کزن تھا ہم اسے پیار سے مودی کہتے تھے‘ وہ بظاہر بڑا ہو گیا تو بھی مودی کا مودی رہا۔ جب بھی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دیکھتا ہوں تو دل میں سوچتا ہوں کہ یہ کبھی بڑا بھی ہو گا۔ وہ جو کچھ وزیراعلیٰ گجرات سے پہلے تھا وہی وزیراعلیٰ بن کے بھی رہا۔ اس کے بعد وزیراعظم بھارت بن کے بھی ایسا ہی رہا۔ وہ پاکستان کو اشتعال دلانے میں تو کامیاب نہ ہوا البتہ بنگلہ دیشی حسینہ واجد کو رام کر لیا۔ اس نے بنگلہ دیش میں واجپائی جی کا پاکستان دشمنی کا ایوارڈ وصول کیا۔ حق تو یہ تھا کہ مودی کو ایوارڈ دیا جاتا۔ بڑی محنت کی مگر اس کا کریڈٹ بنگلہ دیش کی وزیراعظم کو جاتا ہے اور ڈِس کریڈٹ بھی اسے ہی جاتا ہے۔ یہ قسمت اسے مودی نے ادا کئے۔ قسمت اور بدقسمتی ایک ہو گئے ہیں۔ اﷲ سے دونوں کو کوئی امید نہیں ہے۔

مجھے یقین ہے اگر واجپائی جی خود یہ ایوارڈ وصول کرتے تو ایسی تقریر نہ کرتے جو مودی نے کی ہے۔ واجپائی جی سچے بھارتی ہیں تو ان الفاظ کی تردید کر دیں جو مودی نے ادا کئے ہیں۔ واجپائی جی واہگہ کے راستے لاہور آئے تھے۔ مینار پاکستان بھی گئے تھے۔ بات مودی سے ہوئی مگر ایک سوال بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد سے ہے کہ اس کے والد کے قاتل پاکستانی نہ تھے۔ نہ وہ لوگ تھے جن کو بڑھاپے میں پھانسیاں دلوائی جا رہی ہیں۔ ان میں کئی ایک تو بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے ممبر بھی رہ چکے ہیں وہ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر ایک الیکشن بھی لڑ چکی ہیں تو پھر ان لوگوں سے اس لڑائی کا جواز سمجھ میں نہیں آیا۔ کیا انہوں نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمن کے قاتلوں کو سزائیں دلوائی ہیں؟ اور اب بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت کی خدمات اور سازشوں کے لئے ایوارڈ کیوں دیئے جا رہے ہیں۔ اندرا گاندھی جو سقوط پاکستان کی اصل ذمہ دار تھیں کا ایوارڈ سونیا گاندی نے وصول کیا۔ اتنی دیر بعد ان ایوارڈ کا کوئی سبب اس کے علاوہ نہیں ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی بھارت کی خواہشوں کا اختتام نہیں ہو رہا۔ بھارت کو اختتام کی نہیں انجام کی فکر کرنا چاہئے۔

یہ بات مودی کی سمجھ میں نہیں آئے گی کہ جو کام وہ کرنا چاہتا ہے اس کی خواہش ہر بھارتی وزیراعظم کے دل میں تھی مگر بے سود کوشش کے بعد وہ دل ہار کے بیٹھ گئے۔ مختصر بات یہ ہے کہ وہ کچھ کیا جائے جو کوئی بھارتی وزیراعظم نہیں کر سکا۔وہ پاکستان کو دل سے تسلیم کرے اور کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری مسلمانوں کی مرضی کے مطابق نکالے۔

مجھے مودی جی کے سیاسی بچپنے کی یوں سمجھ بھی نہیں آئی۔ دنیا کے سب سیاسی لوگ اور سچے پاکستانی بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے قیام کی خواہش بھارت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ذہن میں ہر وقت کلبلاتی رہتی تھی۔ مشرقی پاکستان کو بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اسے مغربی پاکستان سے الگ کر دیا جائے۔ یہ شکست نہ تھی سازش تھی اور قیام پاکستان سے چل رہی تھی جو عالمی سطح تک پھیلی ہوئی تھی۔ ملک کے دونوں حصوں کے درمیان دشمن ملک سے کبھی دنیا کی تاریخ میں ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ملک ہو اس کے دو حصے ہوں اور ان کی سرحد بھی ایک دوسرے سے نہ ملتی ہو۔ اس میں پاکستانی فوج پر کوئی الزام تو بالکل بے معنی ہے۔ یہ دراصل پاک فوج کی شکست نہ تھی اس میں سیاستدانوں اور دوسروں کی بھی بہت سی خدمات تھیں۔ یہ قصہ میرا موضوع نہیں ہے۔ مگر میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ بھارت اور مکتی باہنی اور بعض خفیہ ایجنسیوں کی سازشتیں نہ ہوتیں تو مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہیں بن سکتا تھا۔ بھارتی فوجیں بین الاقوامی اصولوں اور سارے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں اور بنگلہ دیش بن گیا۔ مودی کہتا ہے کہ میں نے بنایا وہ تو شاید تب بھارتی فوجیوں کو چاہتے ہوئے بھی ہلانے کے قابل نہ تھا۔ یہ بھارتی فوجیوں کا کمال نہیں ہے کہ اسلحے کی سپلائی کے نہ ہوتے ہوئے ملک کے دونوں حصوں میں کوئی رابطہ نہ ہونے کے سبب تقریباً نسبتاً کم فوج پر باقاعدہ فوج کشی کی اور دل کو خوش رکھنے کے لئے کہا کہ ہم نے بہت بڑی معرکہ آرائی کر لی ہے۔ چھ سات لاکھ فوج کے ساتھ پچھلے اڑسٹھ برسوں میں وہ کشمیر فتح نہیں کر سکے تو وہ کوئی دعویٰ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ مودی کو احساس نہیں ہوا کہ اس کے ملک میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور کئی علاقوں میں اس کی رٹ ہی قائم نہیں ہے۔ تو وہ چلا ہے اپنی برتری کی خوش فہمی پھیلانے کہ ہم نے بنگلہ دیش بنوایا۔ یہ ایسی خبر ہے کہ پاکستان کے بچے بچے کے علم میں پہلے سے ہے اور ان کا یہ ارادہ بھی ہے کہ وہ اس بزدلانہ جارحیت کا بدلہ لیں گے۔

مودی کو علم ہونا چاہئے کہ لڑنے والے باتیں نہیں کرتے۔ جرأت مندی کو بیان کرنے اور اظہار جرأت کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ گجرات کے مسلمان مودی کے ظلم کے خلاف آج بھی خاموش ہیں اور خاموشی کسی نہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ خیمہ گرنے والا ہے اور جو کچھ بھارت کے ساتھ پیش آئے گا اس کا اندازہ تاریخ انسانی کو بھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم ایک ایٹم بم بھی بھارت کو اتنا برباد نہیں کر سکتا جتنا اکیلا مودی بھارت کو برباد کر دے گا۔ نہ صرف برباد بلکہ بدنام بھی کرے گا اور بدنامی بہرحال ناکامی سے بڑی ہزیمت ہوتی ہے۔ ظالم کبھی بہادر نہیں ہو سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہبھارتی حکمرانوں اور وزیراعظموں کو کشمیر کا مسئلہ کھا گیا ہے۔ جو کچھ بچا ہے وہ پاکستان دشمنی کی نذر ہو گیا۔ اسلام دشمنی ایسی کہ اپنے ہی ملک کے مسلمان اپنے شہریوں کو بغیر کسی قصور کے قتل کیا بلکہ قتل عام کیا گیا۔ جن حکام کے ہاتھ اپنے ہی عوام کے خون سے بھرے ہوئے ہوں وہ کبھی نیک نام نہیں ہو سکتے۔ بھارت کا جو وزیراعظم کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی جرأت کرے گا وہ ایک عالمی سطح کا سیاستدان ہو گا۔ یہ نصیب بھارت کے کسی وزیراعظم کے حصے میں نہ آیا۔ اُن کے ذہن میں تھا کہ کشمیر کو زبردستی بھارت کا حصہ بنانے کے ظلم کی چکی میں ڈالا جائے مگر اس طرح وہ اپنے سیاسی مستقبل کو خاک میں اڑاتے رہے۔ کوئی وزیراعظم سربلند نہ ہو سکا۔ نہ پنڈت نہرو نہ لال بہادر شاستری۔ نہ اندراگاندھی نہ واجپائی نہ من موہن سنگھ اور نہ مودی۔ مودی کے نام پر غور کریں وہ بھارتی وزیراعظم کے طور پر سب سے آگے نکل جانا چاہتا ہے۔ وہ اتنا زیادہ آگے نکل جائے گا کہ بہت پیچھے رہ جائے گا۔ اور کچھ بھی پیچھے نہیں بچے گا۔

مودی کو احساس نہیں ہوا کہ اس کے ملک میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور کئی علاقوں میں اس کی رٹ ہی قائم نہیں ہے۔ تو وہ چلا ہے اپنی برتری کی خوش فہمی پھیلانے کہ ہم نے بنگلہ دیش بنوایا۔ یہ ایسی خبر ہے کہ پاکستان کے بچے بچے کے علم میں پہلے سے ہے اور ان کا یہ ارادہ بھی ہے کہ وہ اس بزدلانہ جارحیت کا بدلہ لیں گے۔

یہ بات مودی کی سمجھ میں نہیں آئے گی کہ جو کام وہ کرنا چاہتا ہے اس کی خواہش ہر بھارتی وزیراعظم کے دل میں تھی مگر بے سود کوشش کے بعد وہ دل ہار کے بیٹھ گئے۔ مختصر بات یہ ہے کہ وہ کچھ کیا جائے جو کوئی بھارتی وزیراعظم نہیں کر سکا۔وہ پاکستان کو دل سے تسلیم کرے اور کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری مسلمانوں کی مرضی کے مطابق نکالے۔ کتنی سادہ بات ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے جبکہ سلامتی کونسل سے منظور شدہ کشمیریوں کے لئے قراردادیں ہر وزیراعظم کی جیب میں پڑی ہوتی ہیں اور وہیں پڑی رہ جاتی ہیں اور بھارتی وزیر اعظم بھی وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔ مودی بھارت کو چین کے مقابلے میں امریکہ کی خواہش کے مطابق لانا چاہتا ہے مگر وہ مقابلہ پاکستان سے بھی نہیں کر سکتا۔ میں اعلانیہ کہتا ہوں کہ بھارت صرف پاکستان سے ڈرتا ہے یہ ڈر مودی کے دل میں نقش ہو کے رہ گیا ہے۔

پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے بھارتی ہندو پریشان ہیں کہ پاکستانی معمولی سی چیزیں نہیں بنا سکتے۔ مگر ایٹم بم بنا لیا۔ اور یہ پاکستانی ایٹم بم جسے ممتاز کالم نگار شاعر سعید آسی نے نظریاتی ایٹم بم کہہ کر مرشد و محبوب مجید نظامی کی روح کو خوش کر دیا ہے۔ نظامی صاحب خوش تھے کہ ہمارا ایٹم بم بھارتی ایٹم بم سے بہت آگے ہے اور ہمارا میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے قرآن حکیم کا یہ فرمان بہت ہے کہ اپنے گھوڑے تیار رکھو۔ بھارت تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔

16
September

9سے 10جولائی2015 کو روس کے شہر اُوفا میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کی پندرھویں سربراہی کانفرنس میں متعدد اہم فیصلے کئے گئے لیکن ان میں تنظیم کی مستقل رکنیت کو بڑھا کر پاکستان اور بھارت کو بطورِ مستقل رُکن شامل کرنا بلاشبہ سب سے نمایاں اور تنظیم کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا کے تین بڑے خطوں وسطی ایشیا‘ یوریشیا اور جنوبی ایشیا کے لئے دور رَس مضمرات کا حامل ہے- اس سے قبل ایس سی او نے اپنی مستقل رکنیت میں اضافہ کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اس لئے پاکستان اور بھارت کی بطورِ مستقل رکن شمولیت نے تنظیم کا نہ صرف ڈھانچہ تبدیل کردیا ہے بلکہ اس کا دائرہ جنوبی ایشیا تک بڑھا دیا گیا ہے جہاں دنیا کی کل آبادی کا1/5 حصہ آباد ہے۔ اس سے ایس سی او نے ایک ایسا مقام حاصل کرلیا ہے جہاں چار ممالک یعنی روس‘ چین‘ پاکستان اور بھارت ایٹمی قوتیں ہیں اور اس کے آٹھ رکن ممالک دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کے ساتھ ایس سی او کے رابطے پہلے سے ہی موجود تھے۔ پاکستان اور بھارت کو تنظیم میں آبزرورز کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ نیپال اور سری لنکا تنظیم کے ڈائیلاگ پارٹنرز گروپ میں بھی شامل ہیں۔ تاہم پاکستان اور بھارت کو مستقل رُکنیت حاصل ہونے کے بعد جنوبی ایشیائی خطہ علاقائی تعاون اور خطوں کے درمیان رابطوں کے فروغ میں پہلے سے زیادہ فعال اور مربوط کردار ادا کرسکے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایس سی او جس کا مقصد شروع میں رُکن ممالک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کا تحفظ تھا‘ اب تجارت‘ اقتصادی تعاون‘ انفراسٹرکچر‘ توانائی کے منصوبوں‘ ریلوے‘ ہائی ویز اور مواصلاتی رابطوں کی تعمیر اور ترقی کے منصوبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اس عمل کے فروغ میں چین سب سے نمایاں اور موثر کردار ادا کررہا ہے۔ نئی شاہراہ ریشم جس کی تعمیر کے لئے چین نے گزشتہ برس چالیس بلین ڈالر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا‘ کو بطورِ مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اربوں ڈالر کی لاگت سے چین وسطی ایشیائی ممالک میں توانائی ‘ انفراسٹرکچر اور معدنیاتی ترقی کے منصوبوں کو مکمل کرچکا ہے۔ ان میں چین اور وسطی ایشائی ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن کی تعمیر بھی شامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چین اُن وسطی ایشیائی ممالک میں جو ایس سی او کے رُکن ہیں‘ اب تک 50 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔2008-9 کے عالمی مالیاتی بحران کے اثرات سے بچانے کے لئے چین نے وسطی ایشیائی ممالک کو10 ارب ڈالر کے قرضہ جات فراہم کئے تھے۔ مبصرین کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستوں جو1991 سے قبل روس کا حصہ تھیں‘ میں چین کا معاشی اثر و نفوذ روس سے زیادہ ہے اور’’ اُوفا‘‘ سربراہی کانفرنس میں کئے گئے فیصلوں کے بعد اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

’’اُوفا‘‘ میں جو فیصلے کئے گئے ہیں‘ اُن میں سے ایک کے تحت ایک دس سالہ ترقیاتی حکمتِ عملی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ایکشن پلان میں100 بلین ڈالر کے سرمائے سے نیوڈیویلپمنٹ بنک کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چین کے ’’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘‘ اور روس کے ’’یوریشین اکنامک کیمیونٹی‘‘ کو یک جا کرکے ایس سی او کے تحت ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر چینی’’نیوسلک روڈ اور اکنامک بیلٹ‘‘ کے تحت4000 کلومیٹر ریلوے لائن اور10,000 کلومیٹر لمبی شاہراہ تعمیر کی جائے گی اور اسے روسی منصوبے ’’یوریشین اکنامک کمیونٹی‘‘ کے ساتھ جوڑ کر یورپی ممالک کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ اس طرح قدیم شاہراہِ ریشم جو وسطی چین سے شروع ہو کر وسطی ایشیا اور ایران کے راستے میسو پو ٹیمیا (جدید عراق‘ شام اور اُردن) سے گزر کر لبنان اور فلسطین کے ساتھ ملنے والے بحیرہ روم کے مشرقی شام ساحل پر ختم ہوتی تھی‘ اب ایک نئی شاہراہ جس میں ریلوے لائن بھی شامل ہے‘ تعمیر کی جائے گی جس کے ذریعے چین‘ وسطی ایشیا اور مغربی ایشیائی ممالک اور یورپ کے درمیان آمد و رفت اور تجارتی روابط قائم کئے جائیں گے۔

پاکستان کے راستے چینی صوبہ سنکیانگ کے شہر کا شغر اور گوادر کے درمیان ’’پاک چائنہ اکنامک کاریڈور‘‘ بھی چین اور روس کے مشترکہ منصوبے کا بالواسطہ طور ایک حصہ ہے کیونکہ ’’پاک چین اکنامک کاریڈور‘‘ کے ذریعے چین کو خلیج فارس‘ جزیرہ نما عرب اور مشرقی افریقہ کے ساحلی ممالک کے ساتھ تجارتی اور معاشی روابط بڑھانے میں مدد ملے گی۔ زمانہ قدیم میں یہ علاقے قدیم شاہراہِ ریشم کے معاون علاقے کے طور پر مشہور تھے اور اس عظیم شاہراہ کے راستے صرف چین سے ہی نہیں بلکہ ہندوستان جس میں اُس وقت موجودہ پاکستان اور افغانستان کے علاقے بھی شامل تھے‘ سے بھی تجارتی اشیاء ’’مشرقِ وسطیٰ‘ مصر‘ شمال مغربی افریقہ اور اس سے آگے بحیرۂ روم کے راستے کشتیوں اور جہازوں میں لاد کر یورپی منڈیوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔ ایس سی او تک پاکستان کی شمولیت سے ’’پاک چین اکنامک کاریڈور‘‘ کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور پاکستان جس کے لئے یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے‘ اس سے براہِ راستے مستفید ہوگا۔

پاکستان ایس سی او میں شمولیت کا (بطور ایک مستقل رکن) شروع سے ہی خواہشمند تھا۔2006 میں جب پہلی دفعہ پاکستان کوشنگھائی کانفرنس میں باقاعدہ طور پر مدعو کیا گیا تھا‘ تو سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے تنظیم میں پاکستان کی بطورِ مستقل رُکن کے شمولیت کی درخواست کی تھی لیکن اُس وقت ایس سی او کے کسی رُکن ملک بشمول چین ‘ نے بھی پاکستان کی درخواست کی حمایت نہیں کی تھی۔ غالباً اس کی وجہ حل طلب باہمی تنازعات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تقریباً نہ ختم ہونے والی کشیدگی تھی اور رُکن ممالک کوڈر تھا کہ کشیدہ تعلقات کے ساتھ ان دونوں ممالک کی ایس سی او میں موجودگی تنظیم کی کارکردگی کو متاثر کرے گی۔ اب بھی کئی حلقوں میں پاکستان اور بھارت کی مستقل رُکنیت پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایس سی او میں مستقل رُکن کی حیثیت سے موجودگی سے پاکستان اور بھارت افغانستان کی طرح وسطی ایشیا کو بھی محاذ آرائی کا مرکز بنا لیں گے۔ ان حلقوں کے مطابق روس اور چین نے بالترتیب بھارت اور پاکستان کو کسی بڑے معاشی فائدے کے لئے نہیں بلکہ سٹریٹجک وجوہات کی بناء پر ایس سی او میں بطورِ مستقل رُکن شامل کیا ہے۔ بھارت کو شامل کرکے روس ‘ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے آگے بند باندھنا چاہتا ہے اور چین نے پاکستانی رُکنیت کی حمایت کرکے پاک چین دوستی کا حق ادا کرنے کے ساتھ بھارت کے مقابلے میں ایک پُراعتماد ساتھی کو ایس سی او میں شامل کیاہے۔ ان حلقوں کے موقف کے مطابق ایس سی او میں پاکستان اور بھارت کی مستقل رُکنیت سے نہ تو چین اور روس اور نہ ایس سی او کو کوئی نمایاں فائدہ حاصل ہوگا۔ بلکہ ان دو حریف ممالک کی موجودگی سے تنظیم کی کارکردگی متاثر ہوگی۔

لیکن ایس سی او کی تقریباً گزشتہ دس برس کی تاریخ اور مستقبل کے لئے اُس کے منصوبوں کی روشنی میں اگر ان خدشات اور تحفظات کا جائزہ لیا جائے تو وہ کافی حد تک بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً دونوں ممالک کئی برسوں سے ایس سی او کے اجلاس میں بطورِ آبزرور شرکت کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس عرصہ کے دوران دونوں ممالک نے ایس سی او کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ دونوں کی کارکردگی مثبت رہی ہے اور انہوں نے اپنی کنٹری بیوشن میں اپنے اختلافات کو آڑے نہیں آنے دیا۔ پاکستان اور بھارت آسیان کے ریجنل فورم اے آر ایف کے بھی رُکن ہیں‘ وہاں بھی دونوں ممالک علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایس سی او میں پاکستان کی مستقل رکنیت کی چین کے علاوہ روس نے بھی حمایت کی ہے۔ اس لئے یہ مفروضہ غلط ہے کہ چین اور روس نے علی الترتیب پاکستان اور بھارت کو اپنے اپنے گھوڑے کے طور پر استعمال کرنے کے لئے ایس سی او میں شامل کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے اپنے اپنے قومی مفاد کے حوالے سے ایس سی او میں شرکت کی ہے۔ پاکستان خطے کے ساتھ اپنی تاریخی‘ مذہبی اور ثقافتی وابستگی کی بنیاد پر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا ہمیشہ خواہش مند رہاہے۔ توانائی کے شعبہ میں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھی پاکستان نے وسطی ایشیا کے ساتھ روابط قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کاسا 1000 ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا منصوبہ اور ترکمانستان ‘ افغانستان‘ پاکستان اور انڈیا تاپی گیس پائپ لائن تعمیر کرنے کا منصوبہ اس کی دو مثالیں ہیں۔ اب تک پاکستان نے افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔2010 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راہداری کا جو نیا معاہدہ طے ہوا تھا‘ اُس میں اس مقصد کے لئے ایک خصوصی شق رکھی گئی تھی۔ ایس سی او کی مستقل رُکنیت سے اب پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں یعنی ازبکستان‘ کرغستان‘ قازقستان اور تاجکستان کے ساتھ پاکستان کے روابط پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور براہِ راست ہو جائیں گے۔

جہاں تک بھارت کا تعلق ہے‘ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اُس کے روابط سابقہ سوویت یونین کے دور سے چلے آرہے ہیں۔ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور ان ریاستوں کی آزادی کے بعد بھارت نے ان کے ساتھ اپنے سابقہ تعلقات بحال اور مزید وسیع کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی کی جانب سے اُوفا کانفرنس کے موقع پر پانچ وسطی ایشیاء ممالک کا دورہ اس کوشش کا مظہر ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ بھارت وسطی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرسکتا ہے۔ لیکن چین اور روس کی موجودگی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات اور روابط کی خواہش اس کوشش کو ناکام بناسکتی ہے۔ ایک نکتہ نظر یہ بھی ہے کہ ایس سی او میں مستقل رُکن کی حیثیت سے موجودگی پاک بھارت تعلقات پر خوشگوار اثر بھی ڈال سکتی ہے کیونکہ اس کے بغیر دونوں ممالک اُن منصوبوں سے پوری طرح مستفید نہیں ہوسکتے جو آئندہ دس برسوں میں ایس سی او کے فریم ورک کے تحت شروع کئے جائیں گے۔

18
August

جنوبی وزیرستان ایجنسی جغرافیائی اور دفاعی اعتبار سے بڑی اہمیت کی حامل ہے یہ ایجنسی ایک طویل عرصے تک ملک دشمن اور تخریبی عناصر کی سرگرمیوں کا مرکزرہی ہے۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کی کامیابی کے بعد یہاں کے قبائلی عوام کو ہر قسم کی فکری،نظری اور فنی تعلیم سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس تناظر میں پاک فوج کے زیرنگرانی حکومت نے مختلف تعلیمی منصوبوں کی منظوری دی۔

cadetcolwana1.jpg

کیڈٹ کالج وا نا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔کیڈ ٹ کالج وانا کے قیام کا باقاعدہ ا علان سا بق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے 15 فروی 2010 کو گو مل زام کے مقام پر ایک قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور اس کاباقاعدہ افتتاح 23 جون 2011 کو انہوں نے اپنے دست مبارک سے کیا۔کیڈٹ کالج وانا جنوبی وزیرستان ایجنسی کی تعلیمی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام کے لئے ایک انمول تحفہ ثابت ہوا ہے۔ یہا ں کے کیڈٹس کو ہر قسم کی نصابی، ہم نصابی اور غیرنصابی سرگرمیاں اورتعلیم مہیا کرنے کے لئے کالج کو ہر قسم کی جدید سہولیات اور لوازمات سے آراستہ و پیراستہ کیا گیا ہے۔ کیڈٹس جدید معیاری سائنس لیباٹریز، کمپیوٹر لیب،لینگویج لیب، لائبریری، ان ڈور اور آوٹ ڈور کھیلوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ کا لج میں اس و قت تقر یباً 300 کیڈٹس کو معیا ری تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

اب تک کالج کے دو بیچز پاس آؤٹ ہو چکے ہیں۔ ان میں کل 94 کیڈٹس شامل ہیں‘ جو ملک کے پیشہ ورانہ ا علیٰ تعلیمی اور تربیتی اداروں میں تعلیم و تربیت پا رہے ہیں‘جن میں سے 16 کیڈٹس پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیر تربیت ہیں۔ فارع التحصیل کیڈٹس میں سے 12 کیڈٹس میڈیکل کالجز اور 17 کیڈٹس انجینئرنگ یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اس کالج کو وجود میں آئے قلیل عرصہ ہوا ہے لیکن معیاری تعلیم کی بات کی جائے تواس کا مو ازنہ پاکستان کے ا علیٰ اور معیاری تعلیمی اداروں سے کیا جاسکتا ہے۔ یہا ں کیڈٹس کی شخصیت سازی، کردارسازی، درست مذہبی اقدار، ذہنی و جسمانی نشو ونما اور کیر ئیر کو نسلنگ کی جاتی ہے۔ اگرکالج ہذا کے سالانہ بورڈ کے امتحانات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو اس کی کارکردگی بھی کسی دو سر ے ا علیٰ معیاری تعلیمی ا دا رے سے کم نہیں رہی ہے۔ سال2013 میں کالج کے فرسٹ بیچ کے میٹرک امتحان میں 49 کیڈٹس نے شرکت کی۔ بو رڈنتائج کے مطابق ان میں سے پہلی 10 میں سے7 پوزیشنز کیڈٹ کالج وانا کے کیڈٹس نے حاصل کیں اور 48 کیڈٹس نے اے پلس گریڈ حاصل کیا۔ اس طرح سال2013 کے سیکنڈا ئیر بو رڈ نتائج کے مطابق کالج ہذا کے49 کیڈٹس میں سے6کیڈ ٹس نے بورڈ کے ٹاپ ٹین میں پوزیشنز حاصل کیں اور 36 کیڈٹس نے اے پلس گریڈ اور 13 اے گریڈ حا صل کیاہے۔

cadetcolwana2.jpg

سا ل 2014 کے میڑک ا متحانات میں49 کیڈ ٹس نے حصہ لیا اور بورڈ نتائج کے مطابق پہلی 20 پوزیشنز میں سے 9 پوزیشنز کالج ہذا کے کیڈٹس نے حاصل کیں۔ سال2014 سیکنڈائیر کے امتحانات میں 46 کیڈٹس نے حصہ لیا اور بورڈ نتائج کے مطابق پری ا نجینئرنگ گروپ میں کالج ہذا کے کیڈٹ نے تھرڈ پوزیشن حاصل کی۔سال 2014 فیڈرل بورڈ کے زیر انتظام جماعت نہم میں کل 49 کیڈٹس شریک ہوئے جن میں 45 کیڈٹس نے اے پلس گریڈ اور 3 نے اے گریڈ حاصل کیا۔اسی طرح سال 2014 میں فیڈرل بورڈ کے زیرانتظام فرسٹ ائیر کے 48 کیڈٹس نے شرکت کی جن میں سے20 کیڈٹس نے اے پلس گریڈ اور 24 نے کیڈٹس اے گریڈ حاصل کیا۔ اب تک کالج کے دو بیچز پاس آؤٹ ہو چکے ہیں۔ ان میں کل 94 کیڈٹس شامل ہیں‘ جو ملک کے ا علیٰ پیشہ ورانہ تعلیمی اور تربیتی اداروں میں تعلیم و تربیت پا رہے ہیں‘جن میں سے 16کیڈٹس پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیر تربیت ہیں۔ فارع التحصیل کیڈٹس میں سے 12 کیڈٹس میڈیکل کالجز اور 17 کیڈٹس انجینئرنگ یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

کیڈٹ کالج وانا یقیناًجنوبی وزیرستان ایجنسی کی تقدیر بدلنے کے لئے اپنا بھرپور کردا ر ادا کررہا ہے۔ کالج ہذا یہاں کے محبِ وطن قبائلی عوام کی سوچ کو مثبت بنانے کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کی توجہ تعلیم کی طرف مبذول کرا رہا ہے۔ ادارہ ہذا پر جنوبی وزیرستان ایجنسی کے عوام کی طرف سے بے پناہ اعتماد کا اظہارکیا جارہا ہے۔ کالج ہذا میں کیڈٹس کی تعلیم و تربیت انتہائی معیاری انداز سے کی جاتی ہے تاکہ یہاں کے فارع التحصیل کیڈٹس اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے ملک و قوم

کی بہترین طریقے سے خدمت سر انجام دے سکیں۔

cadetcolwana3.jpg

18
August

عزم و ہمت ‘ لگن اور مثالی تربیت کی ایک داستان۔ میجر سبکتگین شہید کی چاروں بیٹیوں نے ڈاکٹر بن کر مثال قائم کی۔ شہید باپ کی دو بیٹیاں آج پاکستان آرمی کی میڈیکل کور میں بحیثیت ڈاکٹر اپنے ملک کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

پاکستان کی عسکری تاریخ شجاعت و بہادری کے بے شمار واقعات اور روشن ستاروں سے مزین ہے۔ ایک ایسا ہی روشن ستارہ میجر سبکتگین ہے‘ جس نے 13 مئی 1989 کو سیاچن کے محاذ پر جام شہادت نوش کیا۔ میجر سبکتگین نے 1979میں کمیشن حاصل کیا اور 6سندھ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ کھاریاں بریگیڈ میں تھری جی ایس او کے فرائض انجام دیئے اور کچھ عرصہ بعد پشاور کور کمانڈر جنرل مرزا اسلم بیگ کے اے ڈ ی سی کی حیثیت سے کام کیا۔ جب سیاچن کے محاذ کے لئے والینٹیئر پوسٹنگ کے لئے پوچھا گیا تو اس مرد جری نے اپنا نام پیش کیا اور ملک کے دفاع کے لئے رضامندی ظاہر کی۔ سیاہ چن کے محاذ پر دشمن کی چھیڑ چھاڑ جاری تھی۔ میجر سبکتگین بھی اس محاذ جنگ پر تعینات کر دیئے گئے۔ وہ پرعزم‘ بہادر اور مشکل پسند افسر تھے۔ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار اس مرد جری نے اپنے آپ کو ارض پاک کے دفاع کے لئے پیش کیا تھا جو غازی یا شہید کا مرتبہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس محاذ جنگ پر دشمن سے چھیڑ چھاڑ تو جاری رہتی تھی۔ اسی دوران پانچ دن کے ایک آپریشن میں میجر سبکتگین نے محاذ mojberhay1.jpgجنگ میں حصہ لیا اور نہایت بہادری کے ساتھ دفاع وطن کا فریضہ انجام دیا۔ 13مئی 1989 کو وہ وقت آن پہنچا جب اس بہادر سپوت نے جام شہادت نوش کیا۔

اﷲتعالیٰ نے میجر سبکتگین شہید کو 4 بیٹیوں سے نوازا تھا۔ وہ تو اپنی متاعِ حیات ارضِ وطن پر قربان کر کے حیاتِ جاوداں پا گیا۔ اب ان بچیوں کی دیکھ بھال ماں کے نازک کندھوں پر آن پڑی۔ ریحانہ باجی نے کمال صبر سے اپنے خاوند کی شہادت کے صدمے کو برداشت کیا اور اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کو اولین ذمہ داری سمجھا۔

اﷲتعالیٰ نے میجر سبکتگین شہید کو 4بیٹیوں سے نوازا تھا۔ وہ تو اپنی متاعِ حیات ارض وطن پر قربان کر کے حیات جاوداں پا گیا۔ اب ان بچیوں کی دیکھ بھال ماں کے نازک کندھوں پر آن پڑی۔ ریحانہ باجی نے کمال صبر سے اپنے خاوند کی شہادت کے صدمے کو برداشت کیا اور اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کو اولین ذمہ داری سمجھا۔ اکیلی خاتون کے لئے چار بیٹیوں کی نشوونما‘ دیکھ بھال‘ تعلیم و تربیت کوئی آسان کام نہ تھا۔ لیکن کوہ گراں جیسے عزم والی اس ماں نے کہیں تدریس کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو کہیں ٹیوشن جیسا محنت طلب کام اپنے ذمے لیا۔ کہیں قلم فرسائی کی تو ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے ڈرامے لکھے۔ اپنی بچیوں کے لئے مالی وسائل کو سدِ راہ نہ ہونے دیا۔ بیٹیوں کو اﷲتعالیٰ نے خداداد صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ ذہین و فطین بیٹیاں تھیں۔ انہیں اپنے والد کی شہادت پر فخر تھا ۔ تعلیمی میدان میں انہوں نے کبھی اپنی ماں کو مایوس نہ ہونے دیا۔ عظمیٰ‘ رابعہ‘ بشریٰ اور عائشہ نے ایف ایس سی کے امتحان میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ قدرت کا اٹل اصول ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرتی ہے جو اپنی مدد خود کرتے ہیں۔ کتنی قابل رشک بات ہے کہ چاروں بیٹیوں نے یکے بعد دیگرے آرمی میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور میڈیکل گریجویٹ بن کر قابل فخر ریکارڈ قائم کیا۔ ہم اردگرد نظر دوڑائیں تو کتنے والدین اپنی اولاد کو ڈاکٹر بنانے کی خواہش دل میں پالتے رہتے ہیں۔ اچھے کالجوں میں داخلے دلواتے ہیں۔ ہر مضمون میں ٹیوشن کا بندوبست کرتے ہیں اور پھر انٹری ٹیسٹ کی تیاری پر تو خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ بسا اوقات اس خواہش کی تکمیل کے لئے ایک سال مزید لگا دیا جاتا ہے اور اگر پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ نہ ملے تو چین یا سوویت یونین کے کالجوں کا رخ کیا جاتا ہے۔ لیکن اﷲتعالیٰ نے میجر سبکتگین شہید کی ان چاروں بیٹیوں کو وہ اعلیٰ ذہانت عطا کی اور ماں کی محنت رنگ لائی کہ چاروں بہنوں نے یکے بعد دیگرے آرمی میڈیکل کالج سے میڈیکل گریجویٹ کا اعزاز حاصل کیا۔

سب سے پہلے تو میں پاک آرمی کو سلیوٹ کرتی ہوں کہ وہ اپنے شہداء کی بیویوں کو’’بیوہ نہیں ہونے دیتے‘‘ اور شہید کے بچے یتیم نہیں ہوتے۔ پاک فوج ہر قدم پر اُن کی بھرپور حفاظت کرتی ہے۔میں پاک فوج کی بہت شکرگزار ہوں اس کے علاوہ میری یونٹ 6 سندھ رجمنٹ گزشتہ 26 سال سے میرے ساتھ ہے۔ 5 سندھ رجمنٹ جس میں میرے شوہر نے شہادت حاصل کی‘ اُنہوں نے بھی بڑا خیال رکھا۔

پاک فوج میں شہید ہونے والے آفیسرز کی بیگمات کے لئے میرا یہی پیغام ہے کہ یہ لوگ تو اپنی زندگی کا سودا کر کے آپ لوگوں کی زندگیوں میں آئے ہوئے ہیں۔ اگر اﷲ آپ میں کسی کے شوہر کو وطن کی حفاظت کرتے ہوئے لے جاتا ہے تو آپ ہمت‘ صبر اور حوصلے سے زندگی گزاریں۔ رب العزت دنیا میں ہر قدم پر آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا اور اگلی زندگی میں بھی بے شمار انعامات سے نوازے گا۔ انشاء اﷲ

میجر سبکتگین تو جام شہادت نوش کر کے اﷲ کو پیارا ہوا لیکن اس کی بچیوں کو اﷲتعالیٰ نے وہ عزت کا مقام دیا جو شاید ہی کبھی کسی کا مقدر ہوا ہو۔ دو بیٹیاں رابعہ اور کیپٹن بشریٰ آرمی میں خدمات انجام دے رہی ہیں انہیں اپنے والد کی شہادت پر فخر ہے اور اپنی ماں کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر ناز ہے جس نے ہر پل اور ہر گھڑی اُن کے روشن مستقبل کے لئے اپنی صلاحیتوں کو وقف کر دیا اور اﷲتعالیٰ نے اُن کی محنت کو ثمرآور کیا اور چاروں بیٹیوں کو ڈاکٹر بنایا۔

ریحانہ سبکتگین

(اہلیہ)

سورج کی روشن کرنیں اپنے دامن میں ہر صبح اِک نئے دن کا پیغام لے کر آتی ہیں اور اِن میں سے ہی کوئی دن کسی کے لئے سُکھ اور کسی کے لئے دُکھ لاتا ہے۔ دُکھ اور سُکھ کا یہ چولی دامن کا ساتھ ہی زندگی کی مالا پروتا ہے اور ہر ذی روح کو یہ مالا اپنے گلے میں پہن کر زندہ رہنا پڑتا ہے۔ میری زندگی بھی خوشیوں کی ڈگر پر چل رہی تھی‘13 مئی1989 کا سورج اوروں کے لئے تو اُجالے لایا لیکن میرے مقدر میں سیاہ اندھیرے‘ اور ختم نہ ہونے والی جدائی لایا۔

یہ خبر تھی میجر سبکتگین کی سیاچن میں شہادت کی۔ میرے لئے یہ ایسا سانحہ تھا جس نے زندگی کا رُخ موڑ دیا۔ وہ خوشیاں‘ وہ رعنائیاں‘ خوبصورت لمحے‘ سب ایک خواب ہوگئے۔ اب ایک تلخ حقیقت تھی جس کو میرا ذہن قبول نہیں کررہا تھا۔ موت تو موت ہوتی ہے چاہے وہ شہادت کی ہو۔ اِک جھٹکا تو لگتا ہے‘ مجھے بھی ایک شدید جھٹکا لگا۔ اُس mojberhay2.jpgلمحے دل چاہا‘ اﷲ اﷲ کہتے جنگلوں ‘ بیابانوں میں نکل جاؤں۔ پہاڑوں پر چڑھ کر رب کو پکاروں اور کائنات کی ہر شے کو پکڑ پکڑ کر کہوں‘ دیکھ یہ کیا ہوگیا ہے۔ کائنات کی ہر چیزپر اِک سناٹا‘ اِک سکوت طاری تھا۔ تباہی تو میرے اندر مچ گئی تھی۔ رگوں سے جیسے سارا خون نچوڑ لیا گیا ہو۔ لیکن بھوری چٹان کی مانند میں اپنی جگہ چپ تھی آنکھوں کے سوتے خشک ہوگئے‘ سکتے کا عالم تھا‘ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ دھیرے دھیرے زندگی معمول پر آنے لگی۔ وقت سب سے بڑا مرہم ہے جو ہر زخم کو بھردیتا ہے۔ میرا درد تھمنے لگا۔ میری سوچ کا انداز بھی بدلنے لگا۔ میں نے سوچ لیا اور اپنے آپ سے عہد کیا کہ جس رتبے‘ جس اعزاز کے لئے میرے رب نے مجھے چنا ہے‘ میں مرتے دم تک اس اعزاز کی حفاظت اور عزت کرتے ہوئے شہید کی اِن ننھی کلیوں کی حفاظت کروں گی۔

آرمی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پاک فوج میں شمولیت کے فیصلے کے پیچھے درحقیقت یہی جذبہ کارفرما تھا کہ میں اس ادارے کا حصہ بن سکوں جو اپنی قابلیت اور جذبہ ایثار کے ساتھ ساتھ اعلیٰ روایات کا آئینہ دار ہے اور اپنے شہید باپ کے مشن کو زندہ رکھ سکوں جو پاکستان کی خدمت و حفاظت کے سوا کچھ نہیں۔

پھر ایک مشن تھا جس کو لے کر جو میں چلی تو راستے کی تمام رکاوٹیں خود بخود دُور ہوتی چلی گئیں۔ انسان جب اپنے رب پر کامل بھروسہ اور یقین کر لیتا ہے تو رب العزت بھی اُسے معتبر کردیتا ہے۔ اس کے لئے آسانیاں پیدا کردیتا ہے۔ انسان رب کا ہوجائے تو ہر پل‘ ہر لمحے رب اُسے نظر آنے لگتا ہے۔ میرے رب نے مجھے صبر‘ ہمت اور حوصلہ عطا کیا میں پیچھے دیکھنے کی‘ بجائے آگے ہی آگے بڑھتی چلی گئی۔ میری زندگی کے صرف پانچ سال میجر سبکتگین کے ساتھ گزرے‘ باقی زندگی رب کے بھروسے پر تھی۔ رب العزت نے لوگوں کے دلوں میں میری محبت اور عزت ڈال دی۔ زندگی کے اس سفر میں بہت سے نیک لوگوں کا ساتھ میسر آتا چلا گیا۔

والد کے بغیر زندگی گزارنے کے جذبات کو قلم بند کرنا بہت مشکل عمل ہے۔

سب سے پہلے تو میں پاک آرمی کو سلیوٹ کرتی ہوں کہ وہ اپنے شہداء کی بیویوں کو’’بیوہ نہیں ہونے دیتے‘‘ اور شہید کے بچے یتیم نہیں ہوتے۔ پاک فوج ہر قدم پر اُن کی بھرپور حفاظت کرتی ہے۔میں پاک فوج کی بہت شکرگزار ہوں اس کے علاوہ میری یونٹ 6 سندھ رجمنٹ گزشتہ 26 سال سے میرے ساتھ ہے۔ 5 سندھ رجمنٹ جس میں میرے شوہر نے شہادت حاصل کی‘ اُنہوں نے بھی بڑا خیال رکھا۔ اس کے علاوہ میرے شوہر کے بہترین ساتھی‘ دوست لیفٹیننٹ جنرل محمدذکی اور اُن کی بیگم عظمیٰ آپا نے ساری زندگی میرا خیال رکھا۔ آج اگر میں اس مقام تک آئی ہوں تو ہر قدم‘ ہر پل عظمیٰ آپا نے میرا خیال رکھا۔ انہوں نے مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔ ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔

موت تو سب کو آنی ہے لیکن شہادت کسی کسی کے مقدر میں ہوتی ہے اور بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ گھر جہاں شہیدوں کے تابوت آتے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیں جتنی عزت سے نوازا ہے اس کا بیاں لفظوں میں ممکن نہیں۔ ہمیں جہاں کہیں بھی کمی محسوس ہوئی وہاں پاک فوج نے ہماری معاونت کی۔ زندگی کے بہت سے اتارچڑھاؤ دیکھے مگر کبھی افسوس نہیں ہوا

اس کے علاوہ میرے تمام ہمسائے جن میں خصوصاً میجر سعیداقبال ‘ اُن کی بیگم شاہینہ خان‘ کرنل صدیق‘ اُن کی بیگم فریدہ ‘ میری بہت ہی اچھی دوست لُبنیٰ اظہار (جو جنرل کے ایم عارف کی بھتیجی ہیں) اُن دونوں میاں بیوی نے میرا بہت ساتھ دیا۔ رشتہ داری بہن بھائی سب نے اپنا اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ یہ سب پیارے دوست احباب گزشتہ چھبیس برس سے ہر نشیب و فراز میں میرے ساتھ ہیں۔

ایک وقت تھا جب کچھ لوگ مجھ پر ترس کھاتے تھے۔ میرے حوصلے پست کرتے تھے۔ اکثر کہتے ہائے یہ پہاڑ سی زندگی تنہا کیسے کاٹے گی۔ آج جب رب العزت کی مہربانی سے میں اپنے تمام فرائض سے فارغ ہوگئی ہوں‘ بیٹیاں کامیاب زندگی بسر کررہی ہیں‘ اب یہی لوگ مجھ پر فخرکرتے ہیں‘ میری مثالیں دیتے ہیں۔ میجرسبکتگین کی شہادت کے بعد سے آج تک کے سفر میں بے تحاشا مسائل آئے۔ تکالیف آئیں۔ مالی پریشانی بھی آئی لیکن میرے رب نے نہ میرے حوصلے پست کئے اور نہ ہی میں نا اُمید ہوئی۔ میں نے مسلسل محنت اور کوشش کی۔ میرے ساتھ میری بیٹیوں نے بھی ایک تلخ سفر طے کیا۔ ہم ماں بیٹیوں نے مل کر محنت کی۔ تیرہ سال میں نے گھر کے اندر ٹیوشن سنٹر چلایا۔ میرا تعلق اک ادبی گھرانے سے ہے۔ میں خود بھی رائٹر ہوں۔ میں نے رسالوں میں لکھا۔ اخباروں میں لکھا۔ ٹی وی کے لئے لکھا۔ جہاں سے بھی باعزت روزی ملی‘ میں نے سرتوڑ محنت کر کے حاصل کی۔

میری چار بیٹیوں نے دینی تعلیم کے علاوہ دنیاوی تعلیم میں بھی ایک اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ چاروں بیٹیاں آرمی میڈیکل کالج کی گریجویٹ ہیں۔ الحمدﷲ چاروں ڈاکٹرز ہیں۔ دو آرمی آفیسرز ہیں۔ ایک فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال لاہور میں ہے۔ جبکہ سب سے بڑی بیٹی اعظمی نیشنل ہسپتال ڈیفنس لاہور میں جاب کر رہی ہے۔ چاروں ڈاکٹرز بیٹیاں انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں۔ یہی میری زندگی کا مقصد تھا۔ جو الحمدﷲ پورا ہوا۔ اﷲ ہماری اولاد کو ہمارے لئے صدقہ جاریہ بنائے رکھے۔

(آمین)

زندگی میں کئی مواقع پر بیٹے کی کمی شدت سے محسوس ہوئی لیکن اب رب العزت نے یہ کمی بھی پوری کر دی۔ چار بہت اچھے‘ فرمانبردار‘ نیک شریف بیٹے دامادوں کے روپ میں عطا کئے ہیں جو پاکستان آرمی میں سروس کر رہے ہیں۔ میری چاروں بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو گئی ہیں۔ اﷲ نے ان کو صاحبِ اولاد بھی کیا ہے۔ میرے تین نواسے اور ایک نواسی ہے۔ اﷲ میری بیٹیوں کو اپنے گھروں میں آباد رکھے اور ڈھیروں خوشیاں نصیب کرے اور کوئی غم ان کی زندگی میں نہ آئے۔

پاک فوج میں شہید ہونے والے آفیسرز کی بیگمات کے لئے میرا یہی پیغام ہے کہ یہ لوگ تو اپنی زندگی کا سودا کر کے آپ لوگوں کی زندگیوں میں آئے ہوئے ہیں۔ اگر اﷲ آپ میں سے کسی کے شوہر کو وطن کی حفاظت کرتے ہوئے لے جاتا ہے تو آپ ہمت‘ صبر اور حوصلے سے زندگی گزاریں۔ رب العزت دنیا میں ہر قدم پر آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا اور اگلی زندگی میں بھی بے شمار انعامات سے نوازے گا۔ انشاء اﷲ! قرآن میں رب العزت نے فرمایا ہے کہ ’’اورجو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں۔‘‘ ہمیں اس چیز پر فخر ہے کہ ہمیں اﷲ نے شہداء کے خاندان کے لئے چُنا۔

ڈاکٹر رابعہ

(بیٹی)

rabia.jpgمیری زندگی کا ابتدائی حصہ کئی تلخ اور چند شیریں یادوں سے عبارت ہے۔ جہاں تین نٹ کھٹ بہنوں کا ساتھ تھا‘ وہیں والد کی شہادت کے بعد جنم لینے والا احساس عدم تحفظ بھی تھا۔ زندگی کی ابتدا جن نامساعد حالات میں ہوئی ان کا تذکرہ زیادہ خوش کن نہیں۔ کسی بھی انسان کی زندگی میں اس کا سب سے بڑا محسن شاید اس کی ماں ہی ہوتی ہے لیکن میری اور میری بہنوں کی زندگیوں میں ہماری والدہ کے مثالی کردار کا احاطہ شاید الفاظ میں ممکن نہیں۔ 30 سال کی عمر میں خاوند کی شہادت اور چار بیٹیوں کی ذمہ داری شاید کسی بھی عورت کے لئے کٹھن ترین مستقبل کا پیش خیمہ ہے۔ لیکن جس بے مثل عزم و ہمت کا مظاہرہ میری والدہ نے کیا‘ وہ یقیناًقابل تقلید و تحسین ہے۔ اس مشکل میں پاکستان آرمی ‘ 6 سندھ اور 5 سندھ رجمنٹ اور میرے والد کے کچھ ساتھی دوست (جن کا تذکرہ میری والدہ نے کیا ہے) نے جس طرح ہمارا ساتھ دیا میں اس کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں۔ آرمی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پاک فوج میں شمولیت کے فیصلے کے پیچھے درحقیقت یہی جذبہ کارفرما تھا کہ میں اس ادارے کا حصہ بن سکوں جو اپنی قابلیت اور جذبہ ایثار کے ساتھ ساتھ اعلیٰ روایات کا آئینہ دار ہے اور اپنے شہید باپ کے مشن کو زندہ رکھ سکوں جو پاکستان کی خدمت و حفاظت کے سوا کچھ نہیں۔ آج میں اور میری بہنیں جس مقام پر ہیں وہ ہماری والدہ کی قربانیوں‘ بے مثال حوصلے اور انتھک کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جو نہ صرف ہمارے لئے بلکہ تمام آرمی فیمیلیز کے لئے مشعل راہ ہیں۔

ڈاکٹر عظمیٰ سبکتگین

(بیٹی)

druzma.jpgشہادت ایک ایسا رتبہ ہے جو ہر مومن کی خواہش ہے۔ شہید کا لہو بہت سے چراغوں کی روشنی کو اندھیروں میں ڈوبنے سے بچاتا ہے۔ جہاں ایک زندگی کے بدلے کئی لوگوں اور خاندانوں کو دوام مل جائے وہ خسارے کا سودا نہیں۔ لیکن جہاں شہید اپنے گھر والوں کے سر فخر سے بلند کر دیتا ہے تو وہیں وہ اپنے پیچھے ایک ایسا خلا چھوڑ جاتا ہے جسے کوئی بھر نہیں سکتا۔

میں ایک شہید کی بیٹی ہوں جس نے اپنے والد کو ملک کے لئے اس وقت کھویا جب مجھے والد کے رشتے اور شفقت کا علم بھی نہیں تھا۔ زندگی میں کئی مقام ایسے آئے جب قدم لڑکھڑائے اور محسوس ہوا کہ زندگی کا ایک اہم حصہ اور ایک خوبصورت رشتہ اس ملک کے لئے قربان کر دیا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اپنی والدہ کی ہمت اور حوصلے کو دیکھتے ہوئے سر فخر سے بلند ہو جاتا کہ انہوں نے جس طرح ہمت سے ہمیں سنبھالا اس کی مثال نہیں ملتی۔ موت تو سب کو آنی ہے لیکن شہادت کسی کسی کے مقدر میں ہوتی ہے اور بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ گھر جہاں شہیدوں کے تابوت آتے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیں جتنی عزت سے نوازا ہے اس کا بیاں لفظوں میں ممکن نہیں۔ ہمیں جہاں کہیں بھی کمی محسوس ہوئی وہاں پاک فوج نے ہماری معاونت کی۔ زندگی کے بہت سے اتارچڑھاؤ دیکھے مگر کبھی افسوس نہیں ہوا۔

میرا شہداء کے بچوں کو یہ پیغام ہے کہ والد کی شہادت ایک بہت بڑا اعزاز ہے اس کو پروقار طریقے سے اپنی زندگی میں لے کر چلیں اور اپنے آپ کو قابل رشک بنائیں‘

ہم آج جس مقام پر ہیں جو کچھ بھی ہیں اپنی والدہ کی ہمت و محنت اور پاک فوج کی مدد سے ہیں۔ میں آنے والی نسل کو یہی پیغام دینا چاہتی ہوں کہ قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ زندگی میں بلاشبہ تھوڑی کمی رہ جاتی ہے لیکن اس کے بدلے میں ملنے ولا مقام بہت اونچا ہے۔ والد کے بغیر زندگی گزارنے کے جذبات کو قلم بند کرنا بہت مشکل عمل ہے۔

کیپٹن ڈاکٹر بشریٰ

(بیٹی)

 1989 میں بابا کی شہادت کے وقت میں صرف دو سال کی تھی۔ کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ ایگنورنس ایز بلیسنگ۔ یہ وہ عمر تھی کہ اس کمی کا شعور نہیں تھا اور جیسے جیسے شعور آیا والدہ کی طرف سے ایک پازیٹیوزیٹی ذہن میں ڈال دی گئی کہ بابا شہید ہیں جو ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ والد تو سب کے زندہ ہوتے ہیں لیکن شہید کسی کسی کے ہوتے ہیں اور جن کے والد شہید ہوتے ہیں وہ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں۔ زندگی میں بہت بار والد کی کمی محسوس ہوئی اور ان کی یاد آئی لیکن والدہ نے اپنی پوری کوشش کی کہ وہ اس کمی کو ہر لحاظ سے پورا کریں جو انہوں نے بخوبی کیا captbushra.jpgبھی۔ ہمیشہ گھر میں ایک دوستانہ ماحول رہا۔ ہم سب کے لئے ماما ایک بہترین دوست رہی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ پڑھائی پر زور دیا۔یہ والدہ کی انتھک محنت ہی کا صلہ تھا کہ ہم چاروں بہنیں آرمی میڈیکل کالج کی گریجویٹ بنیں اور اب بھی اپنی زندگی ایک کامیاب اور پراطمینان طریقے سے گزار رہی ہیں۔ میں آج کل سی ایم ایچ گوجرانوالہ میں خدمات انجام دے رہی ہوں۔ میرا شہداء کے بچوں کو یہ پیغام ہے کہ والد کی شہادت ایک بہت بڑا اعزاز ہے اس کو پروقار طریقے سے اپنی زندگی میں لے کر چلیں اور اپنے آپ کو قابل رشک بنائیں‘ قابل ترس نہیں۔ اپنی زندگی میں محنت اور کوشش جاری رکھیں گے تو ہر قدم پر آسانی پائیں گے۔ پاکستان آرمی ہر لحاظ سے آپ کو ہمیشہ سپورٹ کرے گی اور کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

شہادت ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو صرف خوش قسمت لوگوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ یہ اعزاز میرے والد کے حصے میں آیا۔

عائشہ

(بیٹی)

ayesha.jpgشہادت ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو صرف خوش قسمت لوگوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ یہ اعزاز میرے والد کے حصے میں آیا۔ والد کی شہادت کے وقت میں پانچ ماہ کی تھی۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے والدہ کو والد کی جگہ پایا۔ چھوٹے ہونے کی وجہ سے والدہ اور بہنوں کی بھرپور محبت ملی۔ وہ والد کی کمی کا احساس اپنی محبت سے پر کرتی رہی ہیں۔ یہ والدہ ہی کی تربیت ہے کہ ہم سب اپنے پروفیشن کے ساتھ ساتھ اپنی گھریلو زندگی میں بھی کامیاب ہیں اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں ایک شہید کی بیٹی ہوں اور میں تمام شہداء کے بچوں کو یہ پیغام دوں گی کہ اپنے والد کے اعزاز کو ایک اثاثہ سمجھیں اور ان کے نام کو مزید روشن کریں۔ جس وطن کی خاطر آپ کے والد نے جامِ شہادت نوش کیا ہے اس کی ترقی اور حفاظت میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

18
August

تاریخ کے صفحات میں3 جون 1947 کا دن اس لئے بھی زندہ وپائندہ رہے گا کہ اس دن ہمارے بابائے قوم حضرت قائدِاعظمؒ نے ریڈیو کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ اس خطے میں مسلمانوں کی ایک نئی مملکت آباد ہوگئی ہے۔ گلوب پر ایک نیا نام اُبھرا ہے۔ جو ہے ’’پاکستان‘‘۔۔۔ فضاؤں نے ہواؤں نے دوستوں نے دشمنوں نے یہ تقریر3 جون1947 کو سنی تھی جس کے آخر میں ہر سننے والے ذی روح اور ذی شعور نے آمین کہا تھا۔ فضاؤں نے‘ ہواؤں نے‘ چرند پرند‘ جھومتے درختوں نے‘ لہلہاتے کھیتوں نے سب نے مل جل کر کہا تھا’’ پاکستان زندہ باد‘‘! اس روز پاکستان وجود میں آگیا تھا‘ نمود میں آگیا تھا اور سجود میں آگیا تھا۔۔۔ اسی دن پاکستان نے بابائے قوم کے پُر تیقن لہجے کی رد اوڑھ لی تھی۔۔۔ کہ پاکستان تاقیامت رہنے کے لئے بنا ہے۔

3 جون2015 کو وہ یقین بھرا لہجہ‘ وہ عزم میں ڈوبی ہوئی للکار‘ وہ ایمان افروز الفاظ‘ قوم نے جنرل راحیل شریف کے لب و لہجے میں سنے جو انہوں نے ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کے دوران کہے۔۔۔ کہ کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ پاکستان اور کشمیر کو علٰیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس روز بابائے قوم کی روح خوش ہوئی۔ وہ بس عالمِ بالا میں اس نامکمل ایجنڈے پر آزردہ ہیں۔ وہ بھی ہر3 جون کو اپنے بیٹوں کی طرف دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں۔ میرے فرزندو ! اس نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کون اٹھے گا۔۔۔ کون پگھلائے گا پتھروں کو۔۔۔ کون کہکشاں بچھائے گا راستوں میں۔ سپہ سالار نے کہا: اگرچہ ہم اس خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں لیکن ہم اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں اور دنیا جان گئی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔۔۔ یہ کیسے ممکن کہ نکہتِ گل کسی کی پابند ہو چمن میں؟

مسئلہ کشمیر کو اور الجھانے کے لئے بدخواہوں نے پاکستان کی زمین کو قتل و غارت کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ قاتل بھی کرائے کے اور خنجر بھی ادھارکے۔۔۔ لیکن لہو معصوم اور بے گناہ کشمیریوں کا بہہ رہا ہے۔ اس لہو سے دریائے نیلم لال ہوگیا ہے۔۔۔ اور کتنے قیمتی لال اپنے لہو کی قربانی دیں گے۔ لہو جو سرحد پہ بہہ رہا ہے۔ ہم اس لہو کا خراج لیں گے! دہشت گردی کی جنگ ہم پر مسلط کی گئی۔۔ کبھی ایک نام سے کبھی دوسرے نام سے۔۔۔

لیکن افواجِ پاکستان نے بڑی جی داری سے اس چیلنج کو بھی قبول کرلیا ہے۔ کسی کو افواجِ پاکستان کے بارے میں غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔۔۔ آپریشن ضربِ عضب عسکری قوتوں کے ساتھ ساتھ روحانی قوتوں سے شروع کیا گیا۔ پوری کی پوری قوم اپنی قابلِ فخر افواج کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ دشمنوں نے اس پاک سرزمین پر فتنہ و فساد کے لئے کیسے کیسے انبار لگائے۔ کبھی عقائد کی آگ بھڑکائی کہ کبھی مسالک کی آڑ لی۔ کبھی صوبائیت کی آتش بازی لائے‘ کبھی زبانوں کو زبانِ زدِ عام کیا۔ پاکستان ایک بہت بڑی قوت ہے۔ اگر یہ حقیقت نہیں تو ایک زمانہ پاکستان کے پیچھے کیوں پڑا رہتا ہے۔ ’’را‘‘ جیسی ایجنسیاں ذہنوں کو خریدنے کا کاروبار کیوں کرتی ہیں۔ پاکستان کے دریاؤں پر ناجائز قبضے کیوں ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی ثقافت کو بدلنے کی کوششیں کیوں ہو رہی ہیں۔

اب جب کسی طرح بھی پاکستان غیر مستحکم نہیں ہو سکا تو پاکستان کے شہروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ مسجدوں‘ مزاروں اور سکولوں تک کو نہیں بخشا گیا۔ اب آپریشن ضربِ عضب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ اب یہاں پہ پراکسی وار کی گنجائش نہیں ہے۔ اب پاکستان کا بچہ بچہ جان چکا ہے۔۔۔ کہ دشمن کے مورچے وطن کے اندر آگئے ہیں۔۔۔ ضربِ عضب بڑی کامیابی کے ساتھ ان مورچوں کو کھوج رہی ہے اور نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستان کے دامن پر دہشت گردی کا لگا ہوا داغ بہت جلد صاف ہو جائے گا۔ بہت جلد دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ جسے پاکستان کہتے ہیں وہ پاک جذبوں کا امین ایک امن پسند ملک ہے۔۔۔ کشمیر کا عذر رکھ کر پاکستان کے اندر بے سکونی اور انتشار پھیلانا اب اتنا آسان بھی نہیں ہوگا۔ ضربِ عضب کو شروع ہوئے ایک برس ہوگیا ہے۔

پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو بھی اطمینان کا سانس لیتے ہوئے ایک برس ہو گیا ہے۔۔۔ انہوں نے جان لیا ہے اور مان لیا ہے کہ حتمی اور آخری کامیابی کے لئے سول ملٹری

تعاون انتہائی کارگرہے۔ انتہائی اہم ہے۔

 

teenjune1.jpg

 

جب سے آپریشن ضربِ عضب شروع ہوا ہے پاکستان کے باسی‘ وہ شہری ہوں یا دیہاتی‘ بخوبی جان گئے ہیں کہ ہمارے دوست نما دشمن خنجر بکف‘ گل پوش‘ نیم روایتی ہتھکنڈوں

سے پاکستان کو غیر مستحکم ‘ بے سکون اور کمزور بنانے کے لئے ملک کے اندر دہشت ناک وارداتیں بھی کررہے ہیں اور فتور بھی مچا رہے ہیں۔ اسی لئے سول اور عسکری قوتوں میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کا جذبہ ہر دو چند ہوا ہے۔۔۔اس پر پاکستان کے سپہ سالار کی ایمان افروز تقریر نے قوم کے حوصلے بڑھادیئے ہیں۔ یہ ہے قومِ رسولِ ہاشمیؐ بھوک پیاس جھیل سکتی ہے۔ سردی گرمی برداشت کرلیتی ہے۔ اندھیروں کو سویروں میں بدل دیتی ہے۔ مگر ظلم وسفاکیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹ جاتی ہے۔۔۔ اب ڈٹ گئی ہے۔۔۔! اب ہٹ دھرمی کا جواب اسی کے اپنے انداز میں دے گی۔

پاکستان امن کا حامی تھا۔ امن کا حامی رہے گا۔ اسلام سلامتی کا دین ہے۔ سلامتی کی نوید سناتارہے گا۔ پاکستان خود کفیل تھا۔۔۔ خود کفیل بن کر ابھرے گا۔

پاکستان حقوق العباد کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ دنیا بھر کوحقوق العباد کی ادائیگی کی نوید سناتا رہے گا۔ 3 جون1947 کو قائدِاعظم نے جس یقین اور ایمان کے ساتھ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کہا تھا‘ اسی یقین اور ایمان کے ساتھ پاکستان کا جھنڈا تھام کے اہلِ کشمیر پاکستان زندہ باد کہہ رہے ہیں۔ ارے نادانو ! ظلم کرنے والو ! اور بہتان تراشیاں کرنے والو ! یہ جنونِ عشق کے انداز ہیں۔۔۔ تمہارے ظلم و ستم سے کیا یہ چھٹ جائیں گے؟ چھٹ پائیں گے۔۔۔؟

یہ قائدِاعظم کا فرمایا ہوا پاکستان زندہ باد کشمیر کے اندر بول رہا ہے۔ یہی پاکستان زندہ باد کارگل کی پہاڑیوں پر گونجا تھا۔۔۔ یہی پاکستان زندہ باد ہمالیہ کی سب سے اونچی چوٹی پر بیٹھا انتظار کررہا ہے۔۔۔ یہی پاکستان زندہ باد برصغیر کے افق پر چھایا ہوا ہے۔۔۔

یہ اس مردِ درویش کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں۔ جس کا جینا اور مرنا قوم کے لئے تھا۔۔۔ جو جیا تو پاکستان کے لئے ۔۔۔ مرا تو پاکستان بنا کے۔ اسی پاکستان زندہ باد سے کچھ لوگ خائف ہو کر اپنی کمین گاہوں سے باہر نکل آئے ہیں۔۔۔ اور اٹوٹ انگ کا واویلا کررہے ہیں۔ انگ تو سارے مصنوعی بھی بن رہے ہیں۔۔۔ مگر شاہ رگ ہمیشہ زندگی اور بندگی کی علامت ہے۔ بھلا کوئی شہ رگ کے بنا بھی زندہ رہ سکا ہے۔۔۔ بیساکھیوں کے سہارے تو بہت سوں کو چلتے دیکھا ہے۔ مگر کیا کسی کو گردن کے بنا چلتے دیکھا ہے؟ پاکستان زندہ باد کا غلغلہ اب دہشت گردی تک پہنچ گیا ہے۔۔۔ اس کو نیست و نابود کرکے ہی دم لے گا۔

یہ وہی پاکستان زندہ باد ہے جسے 3 جون2015 کو سپہ سالار جناب راحیل شریف نے معانی عطا کئے۔۔۔ بھولی ہوئی قوم کو یاد دلایا۔۔۔ کہ یہ تو پیارے قائدِاعظم کے فرمائے ہوئے الفاظ ہیں جو کشمیر میں گونج رہے ہیں۔۔۔ کشمیری پاکستان کے ادھوے ایجنڈے کو تکمیل پہنچانے میں تن من اور دھن کی قربانیاں دے رہے ہیں۔۔۔ ہم بھی ان کے لئے دامے درمے‘ سخنے اور قدمے قدم بڑھانے کو تیار ہیں۔ اس ایجنڈے کی تکمیل تک بھلا کون چین سے بیٹھ سکتاہے۔۔۔؟

ہوا ہے گو تند و تیز لیکن‘ چراغ اپنا جلا رہا ہے

وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیئے ہیں اندازِ خسروانہ

18
August

پاکستان کے دفاع کے لیے ایک تاریخ سازمعرکہ جاری ہے۔ فوج اپنے حصے کا کام کر رہی ہے، دوسروں کو دیکھنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق کہاں تک، قومی سلامتی کے اس عمل میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

1970ء کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب افواج پاکستان کو ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے اُن عناصر کے خلاف ہتھیار اٹھانا پڑے جن کا تعلق اسی سرزمین سے ہے۔ مشرقی پاکستان میں جب بھارتی فوج ایسے عناصر کی حمایت میں علانیہ نکل آئی تویہ معرکہ دو ممالک کے درمیان جنگ میں بدل گیا۔ ’’ ضرب عضب ‘‘ میں معاملے کی نوعیت یہ نہیں ہے۔ اگرچہ ان عناصر کوبھی غیر ملکی تائید میسر ہے، مگر وہ علانیہ نہیں ہے۔1970ء میں مشرقی پاکستان میں بھی ریاست کے خلاف بغاوت ہوئی اور آج بھی ریاست ہی ہدف ہے۔ تاریخ کے دونوں ابواب ہمارے لیے غور و فکر کا بہت سا سامان لیے ہوئے ہیں۔ سقوط ڈھاکہ قصۂ پارینہ ہے۔ تاہم ضرب عضب تاریخ کا وہ باب ہے جو رقم ہو رہا ہے۔ اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ، افادیت کا ایسے پہلو لیے ہوئے ہے جن سے آج بھی راہنمائی لی جا سکتی ہے۔

ریاست کے خلاف کوئی بغاوت اچانک نہیں ہوتی۔ یہ بالعموم دو مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلا مرحلہ نظری ہے اور دوسرا عملی۔ پہلے ایک نظر یہ وجود میں آتا ہے۔ اسے فکری غذا مہیا کی جاتی ہے۔ ذہن تیار کیے جاتے ہیں۔ جب افراد کی ایک ایسی تعداد میسر آ جاتی ہے جو اس نظریے کو عملاً اپنانے اور اس کے لیے سب کچھ کر گزرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو پھر ان کے ہاتھ میں ہتھیار تھما دیے جاتے ہیں۔ یوں دوسرے مرحلے کا آغاز ہو جاتا ہے جو مسلح جد و جہد کا مرحلہ ہے۔ دوسرے مرحلے کے آغاز پر پہلا مرحلہ موقوف نہیں ہو جاتا ۔ چونکہ مسلح جد و جہد میں انسانی جان کا ضیاع اس کا ناگزیر نتیجہ ہے، اس لیے مزید کمک کی فراہمی اس کے لیے ضروری ہوتی ہے۔اس کا مفاد اس میں ہے کہ ایسے لوگ تیار ہوتے رہیں جو اس کا ایندھن بن سکیں۔اس طرح ذہن سازی اور مسلح اقدام، یہ دونوں کام ایک ساتھ جاری رہتے ہیں۔

بغاوت کے توڑ کے لیے بھی لازم ہے کہ اس کے دونوں پہلوؤں کا توڑ ہو۔ ایک طرف ان عناصر کا خاتمہ کیا جائے جن کے ہاتھ میں ہتھیار ہیں اور وہ عوام کی جان و مال اور ریاست کے مفادات پر براہ راست حملہ آور ہورہے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی لازم ہے کہ اس نظریے کو ہدف بنایا جائے جو ایسے ذہن پیدا کرتا ہے جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ اگر ہتھیار بردار مار دیے جائیں لیکن انہیں مزید کمک ملتی رہے تو معرکہ طویل ہو جاتا ہے۔ جنگ چونکہ ایک غیر فطری حالت ہے، اس لیے کوئی سماج یا ملک اسے ایک خاص وقت سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لیے کامیاب حکمت عملی کا تقاضا یہ ہے کہ جنگ مختصر سے مختصر ہو۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ مزید کمک کے دروازے بند ہو جائیں۔ اس طرح مسلح عناصر ختم ہو تے ہیں تو معرکہ بھی تمام ہو جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت جب ہم اُس بغاوت کو دیکھتے ہیں، جس کے خلاف پاک فوج نے ’ ضرب عضب ‘ کا آغاز کیا ہے تو یہ بھی ایک نظریے کی پیداوار ہے۔ گزشتہ پینتیس سال میں ایک نقطۂ نظر وجود میں آیا ہے۔ یہ مختلف مراحل سے گزرا ہے۔ اس کے لیے مسلسل ذہن سازی ہوئی ہے۔ کتابیں لکھی گئی ہیں اور جدید ذرائع ابلاغ سے پورا استفادہ کیا گیا ہے۔ جب یہ اس سماج کے رگ و پے میں سرایت کر گیااور اسے ملک کے مختلف حصوں میں ہم نوا میسر آ گئے، تومسلح جد و جہد کا آغاز کر دیا گیا۔

بغاوت کے توڑ کے لیے بھی لازم ہے کہ اس کے دونوں پہلوؤں کا توڑ ہو۔ ایک طرف ان عناصر کا خاتمہ کیا جائے جن کے ہاتھ میں ہتھیار ہیں اور وہ عوام کی جان و مال اور ریاست کے مفادات پر براہ راست حملہ آور ہورہے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی لازم ہے کہ اس نظریے کو ہدف بنایا جائے جو ایسے ذہن پیدا کرتا ہے جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ اگر ہتھیار بردار مار دیے جائیں لیکن انہیں مزید کمک ملتی رہے تو معرکہ طویل ہو جاتا ہے۔ جنگ چونکہ ایک غیر فطری حالت ہے، اس لیے کوئی سماج یا ملک اسے ایک خاص وقت سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لیے کامیاب حکمت عملی کا تقاضا یہ ہے کہ جنگ مختصر سے مختصر ہو۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ مزید کمک کے دروازے بند ہو جائیں۔

پاک فوج نے مسلح ہاتھوں کو توڑنے کے لیے ایک تاریخ ساز معرکہ لڑاجو تادمِ تحریر جاری ہے۔ اﷲ کا کرم ہے کہ یہ ہاتھ اب کند ہوتے جا رہے ہیں۔ آثار یہ ہیں کہ بعض پاکستان دشمن قوتیں وسائل کے حوالے سے کمک فراہم کر رہی ہیں جس کے باعث دہشت گردی کے افسوس ناک واقعات کا سلسلہ پوری طرح رک نہیں سکا، اگر چہ اس میں غیر معمولی کمی آ گئی ہے۔ دوسرا محاذ ، تاہم بدستور توجہ طلب ہے۔ یہ اس نظریے کا ابطال ہے جو ریاست کے خلاف لوگوں کو ابھارتا اور انہیں فساد برپا کرنے کے لیے دینی استدلال فراہم کرتا ہے۔ حکومتی سطح پر جب ایک قومی بیانیے کی ضرورت کا اعتراف کیا گیا تو دراصل یہ اسی ضرورت کا اظہار تھا۔ اس کے لیے علما، اہل دانش اور سماجی علوم کا علم رکھنے والوں کو بروئے کار آنا پڑے گا۔

اس نظریے کی شکست کے لیے جو نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کرتا ہے،اِسے تین حوالوں سے مخاطب بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کے دینی استدلال کو غلط ثابت کیا جائے۔ یہ علما اور دینی سکالرز کا کام ہے۔ یہ ا ن کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ ایک مسلمان ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد شرعی اعتبار سے جرم اور فساد فی الارض ہے۔ اہل فساد اپنے نظریے کی ترویج کے لیے جن آیات، احادیث یا آثار کا حوالہ دیتے ہیں، ان کا صحیح تناظر اور فہم لوگوں کے سامنے رکھیں تاکہ دین کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے کا دروازہ بند ہو جائے۔ دین کی درست تعبیر جب سامنے آئے گی تو پھر عام آدمی کوگمراہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔

دوسرا یہ کہ اہل دانش اور سماجی علوم کے ماہرین یہ مقدمہ مضبوط کریں کہ دور جدید میں اس بات کا امکان کم وبیش ختم ہو گیا ہے کہ ریاست کے خلاف کوئی مسلح جدو جہد کامیاب ہو سکے۔ اس کی صرف ایک صورت ممکن ہے اور وہ یہ کہ ہمسائے میں موجود کوئی ریاست ، کسی مسلح گروہ کی حمایت کرے۔ پاکستان کے معاملے میں یہ اسی وقت ممکن ہے جب ایران یا افغانستان کی طرف سے ان عناصر کو کمک پہنچے کیونکہ یہ باغی جن علاقوں کو مرکز بنائے ہوئے ہیں، وہ ایران اور افغانستان کے قریب ہیں۔ اس وقت افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی جو نوعیت ہے، اس میں اس بات کا امکان ختم ہو گیا ہے کہ یہ ریاستیں ان عناصر کو کمک پہنچا سکیں۔اس کے بے شمار دلائل ہیں۔ اہل دانش ان دلائل کو سامنے لا کر، اس مقدمے کو مضبوط کر سکتے ہیں کہ مسلح جد و جہد اور بغاوت کا ایک ہی انجام متوقع ہے اور وہ ہے ناکامی۔ باغی اسے آج قبول کر لیں یا مزید جانیں گنوا کر قبول کریں، انہیں بہرحال اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

تیسرا یہ کہ سماج میں فکری اور عملی حوالے سے ایسی مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جو نوجوانوں کو متبادل فراہم کریں۔ انہیں امن کا پیغام دیں اور ایک روشن مستقبل کی بشارت دیں۔ نوجوانوں کو ایسے میدان ہائے عمل فراہم کیے جائیں جن میں وہ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کر سکیں اور انہیں یہ احساس ہو کہ وہ ملک و قوم کے لیے ایک زیادہ تعمیری اور مثبت کام کر رہے ہیں۔ انہیںیاد دلایا جائے کہ مثبت طرز عمل کے لیے کوئی ناکامی نہیں ہے۔ اگر وہ معاشرتی تعمیر کے لیے ایک مثبت سوچ کے ساتھ میدان عمل میں اتریں گے تو ان کی کامیابی لازم ہے۔

اس نظریے کی شکست کے لیے جو نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کرتا ہے،اِسے تین حوالوں سے مخاطب بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کے دینی استدلال کو غلط ثابت کیا جائے۔ یہ علما اور دینی سکالرز کا کام ہے۔ یہ ا ن کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ ایک مسلمان ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد شرعی اعتبار سے جرم اور فساد فی الارض ہے۔ اہل فساد اپنے نظریے کی ترویج کے لیے جن آیات، احادیث یا آثار کا حوالہ دیتے ہیں، ان کا صحیح تناظر اور فہم لوگوں کے سامنے رکھیں تاکہ دین کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے کا دروازہ بند ہو جائے۔ دین کی درست تعبیر جب سامنے آئے گی تو پھر عام آدمی کوگمراہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔

دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے کے لیے ایک ہمہ جہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ فوج کا کام مسلح جد و جہد کا خاتمہ ہے۔ نظری اور فکری محاذ پر حکومت اور سول سوسائٹی کو بروئے کار آنا ہے۔ سول سوسائٹی میں علما اور مسجد جیسے روایتی اور میڈیا جیسے جدید اداروں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ اگر حکومتی سطح پر کوئی ایسا فورم تشکیل دیا جائے جس میں فوج، علما، سول سوسائٹی اور حکومت کے افراد شامل ہوں اور وہ ایک مربوط حکمت عملی تشکیل دے سکیں تو فوج کی کامیابیاں بہت جلد منطقی اور حتمی فتح پر منتج ہو سکتی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو، تو بھی، علما اور سول سوسائٹی کے نمائندہ طبقات اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے، اپنا کردار ادا کریں تو ہم بہت جلد پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کے دفاع کے لیے ایک تاریخ سازمعرکہ جاری ہے۔ فوج اپنے حصے کا کام کر رہی ہے، دوسروں کو دیکھنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق کہاں تک، قومی سلامتی کے اس عمل میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

18
August

بھارت کے حالیہ بیانات اور رویّے پر پاکستان حسبِ ضرورت جواب دیتا آیا ہے تاہم اس رویّے پر وہ سنجیدہ حلقے بھی شدید اعتراضات کررہے ہیں جو کہ ماضی میں بھارت کے حامی رہے ہیں اور وہ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے پاکستانی ریاست کی بعض پالیسیوں کے مستقل ناقد رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو گروپ یا عناصر بلوچستان کی تحریک یا علیٰحدگی کی بات کررہے ہیں ان کے حملوں اور مزاحمت کا سلسلہ اب فورسز اور ریاست کے علاوہ دوسری قومیتوں اور عوام تک بھی تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ ماضی میں یہ گروپ پنجابی باشندوں کوچن چن کر نشانہ بناتے رہے۔ بعد میں انہوں نے دو مذہبی گروہوں کی معاونت سے شیعہ اور ہزارہ کمیونٹی کونشانہ بنانا شروع کیا۔ اور اب مشاہدے میں آرہا ہے کہ یہ لوگ صوبے کے دوسرے بڑے لسانی گروپ یعنی پشتونوں کو بھی نشانہ بنانے پر اُتر آئے ہیں۔ پشتونوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ دیگر کے مقابلے میں سنگین بھی ہے اور خطرناک بھی کیونکہ دیگر گروپ یا حلقے اقلیت میں تھے۔ ان کی قوت بھی کم تھی اور ان کی نمائندہ سیاسی تنظیموں کا اثر رسوخ بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ پشتونوں کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ ہمیں دشمنوں کے اس وار کو سمجھنا ہوگا۔ دشمن ہمیں کئی فرنٹ پر اندرونی لڑائیوں میں الجھانا چاہتا ہے۔ حب الوطنی اور دور اندیشی کا تقاضہ ہے کہ دشمن کی اِن چالوں کو سمجھا جائے اور ان کا مقابلہ کیا جائے۔

بلوچستان کے ایشونے عالمی اور علاقائی سطح پر پھر سے ایک نئی اور بڑی بحث کو جنم دے رکھا ہے۔ بعض پڑوسی ممالک اب کھلے عام اعتراف کرنے لگے ہیں کہ وہ بلوچستان اور فاٹا میں نہ صرف یہ کہ مداخلت کرتے آئے ہیں بلکہ پاکستان کو ’’سبق‘‘ سکھانے کے لئے وہ دوسرے طریقے آزمانے کے علاوہ دہشت گردی کی کھلی معاونت بھی کرتے رہے ہیں۔

قیاس ہے کہ بعض دوسرے ایشوز کی طرح ریاست پاکستان نے بلوچستان کے ساتھ بھی امتیازی رویہ رکھا ہوگا اور عوام کی شکایات یقیناًبجا ہوں گی۔ یہ بھی درست ہے کہ ریاست نے اس صوبے کے حقوق اور اختیارات کے معاملے پر اپنے فرائض پورے نہیں کئے اور محرومی کا احساس بڑھتا گیا۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام دیگر صوبوں کے مقابلے میں بے پناہ مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں۔ یہ وہ خدشات اور زمینی حقائق ہیں جن کا بلوچستان کے عوام اور سیاسی لیڈر شپ کے علاوہ پاکستانی ریاست کے ذمہ داران متعدد بار خود بھی اعتراف کرچکے ہیں اور ان خدشات کے خاتمے کے لئے سیاسی‘ انتظامی اور معاشی اقدامات کئے بھی جارہے ہیں تاہم اس حقیقت کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ محرومیوں سے نمٹنے یا نکلنے کے لئے بندوق اٹھانا کہاں تک درست اور سود مند ہے اور یہ بھی کہ سیاسی جدوجہدکی بجائے تشدد اور بغاوت کا راستہ اختیار کرکے غیر ملکی معاونت حاصل کرنا کہاں تک مناسب ہے؟

خان عبدالولی خان اپنی کتاب’’باچا خان اور خدائی خدمت گاری‘‘ میں ایک جگہ پر رقمطرازہیں ’’مینگل صاحب اور بزنجوسے حیدر آباد جیل میں ملاقات ہوئی تو ہم نے بلوچستان کے معاملے پر بہت تلخ باتیں کیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ بھٹو کے ہاتھوں حکومت کی برطرفی اور فوج کے آپریشن کے باعث بلوچوں میں بغاوت کے آثار پیدا ہو رہے ہیں اور ان کے لئے عوام اور بلوچ جوانوں کو مطمئن کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ وہ مزاحمت کی بات کررہے ہیں اور مجھے کہہ رہے تھے کہ اس کام میں‘ میں ان کا ساتھ دوں۔ میں نے ان پر واضح کیا کہ ریاست‘ بھٹو اور فوج سے مجھے بھی شکایات ہیں۔ بھٹو نے آپ کی حکومت ختم کی تو میں نے مفتی محمود سے استعفیٰ دلوادیا اور حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا مگر میں مزاحمت یا بغاوت کی بجائے سیاسی جدو جہد پر یقین رکھنے والا ہوں آپ کو بھی یہی راستہ اپنا نا چاہئے۔ وہ میرے دلائل سے مطمئن نہیں ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ لوگ بغاوت کا راستہ اپنائیں گے تو ہم ایک ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جمہوری طریقے سے ہی حقوق کا حصول ممکن ہے۔ بغاوت کے نتیجے میں آپ کو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اور آپ کی جدو جہد بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ ان پر میری باتوں کا پھر بھی اثر نہیں ہوا تو میں نے کہا کہ آج کے بعد ہمارے راستے الگ ہو رہے ہیں۔ آپ اپنی راہ لیں اورمیں اپنے راستے پر چلوں گا۔‘‘

خان عبدالولی خان اس زمانے میں پشتونوں اور بلوچوں کے سیاسی رہبر اور پاکستا ن کی قومی اسمبلی میں قائدِحزبِ اختلاف تھے۔ اس ملاقات کے بعد بلوچ اور پشتون قوم پرست ایک دوسرے سے الگ ہوئے۔ ولی خان کا موقف کہاں تک درست تھا وہ وقت نے ثابت کیا کیوں کہ عطاء اﷲ مینگل نہ صرف یہ کہ بعد کے ادوار میں بغاوت کی بجائے سیاسی عمل کا حصہ بن گئے بلکہ ان کے صاحبزادے بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ بھی رہے اور وہ اب بھی تمام تر شکایات اور خدشات کے باوجود جمہوری جدوجہد کا حصہ ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے موجودہ وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر مالک بھی گزشتہ روز ایک ٹی وی شو میں کہہ چکے ہیں کہ سال1985 تک وہ بھی دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ مزاحمتی سیاست کے حامی تھے تاہم ایک طویل مشاورت کے بعد انہوں نے سیاسی عمل کا حصہ بننے کا راستہ اپنایا اور وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہی بہترین راستہ تھا۔ 1970 کے تلخ واقعات کے بعدکے حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا سیاسی‘ اقتصادی اور تعلیمی میدانوں میں بلوچستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بہتر رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسی صوبے کے قوم پرستوں نے تشدد اور مزاحمت کی بجائے جمہوریت کا راستہ اپنایا۔

جس دور میں بلوچ مزاحمت کررہے تھے اس دور میں افغان حکمرانوں کے ساتھ ولی خان اور دیگر قوم پرست لیڈرز کے انتہائی قریبی مراسم تھے۔ افغان حکمرانوں کی خواہش تھی کہ وہ پشتونستان کے ایشو پر نیشنل عوامی پارٹی اور بعد کی این ڈی پی‘ اے این پی کی پھر پور حمایت اور معاونت کریں تاہم ولی خان اور دیگر رہنما اس پیشکش کو مسلسل ٹھکراتے رہے اور یہ انکار ڈاکٹر نجیب کے دور تک قائم رہا۔ اگر پشتون قوم پرست چاہتے تو بلوچوں کے مقابلے میں ان کے پاس زیادہ امکانات تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ پشتون قوم پر ستوں خصوصاً ولی خان کے بھارت کے ساتھ بھی قریبی مراسم تھے۔ وہاں سے بھی وہ مختلف اوقات میں مدد حاصل کرسکتے تھے۔ انہوں نے مراسم تو قائم رکھے اور الزامات بھی برداشت کئے مگر وہ سیاسی‘ ریاستی معاونت کے حصول سے گریز اں رہے اور وفاق کے سیاسی عمل کا حصہ بنے رہے۔ اس پسِ منظر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ دیگر ممالک بوجوہ اس قسم کی پارٹیوں کو استعمال کرنے کی ایک مسلسل پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور پاکستان بھی متعدد مما لک میں ایساکرتا آیا ہے تاہم یہ محروم قومیتوں اور ان کی لیڈر شپ پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں اور تاریخ سے کیا سبق سیکھتے ہیں۔

پاکستان طویل عرصے سے شکایت کررہا ہے کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستانی مفادات کے خلاف مسلسل مداخلت کررہاہے۔ ایک عرصے تک اس شکایت کو محض ایک الزام اور دباؤ کا حربہ قرار دیا جاتا رہا ‘ تاہم سال 2000 کے بعد اس شکایت کو ان حلقوں نے بھی سنجیدگی سے لینا شروع کیا جو کہ پاکستانی ریاست کو ہر دور میں شک کی نظر سے دیکھتے آئے ہیں۔

بلوچستان میں1947 کے بعد اب تک تین بڑے‘ جبکہ نو چھوٹے‘ آپریشن کرائے گئے ہیں۔ ریاست قلات کے معاملے پر جب1948 میں آپریشن کیا گیا تو اس وقت کے چھوٹے صوبوں کی قیادت نے اس پر اعتراضات کئے۔1970 کی دہائی میں بھٹو صاحب نے10 فروری 1973 کے عراقی سفارت خانے پر مارے گئے چھاپے کے نتیجے میں آپریشن کا آغاز کیا تو اس پر بے حد احتجاج ہوا اور پورا سیاسی عمل متاثر ہوا۔ مشرف صاحب کے دور میں بگٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو بھی اکثریتی سیاسی قوتوں بشمول مسلم لیگ(ن)‘ پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور سیاسی مفاہمت کی کوششیں بھی کی گئی۔ اس آپریشن کے باعث مشرف صاحب اور ان کے بعض وزراء کو عدالتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مین سٹریم سیاسی قوتیں بلوچستان کے ساتھ کھڑی رہیں اور اس کے حق کے لئے مؤثر آواز اٹھاتی رہیں۔ دوسرے صوبوں کے علاوہ صوبہ پنجاب سے بھی بڑے پیمانے پر اس کے حق میں آواز اٹھتی رہی۔ اور شاید اسی عمل کا نتیجہ ہے کہ پاکستان بھر سے بلوچوں کے حقوق کے معاملے میں ان کے حق میں بات کی جاتی رہی ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ فاٹا کے حالات ماضی قریب میں اس کے مقابلے میں زیادہ خراب رہے۔ محرومیاں بھی زیادہ رہیں اور نقصانات کی شرح بھی زیادہ رہی۔ تاہم ملک بھر سے جو آواز بلوچستان کے لئے اٹھائی گئی وہ فاٹا کے حق میں نہیں اٹھی۔ اسی طرح جو سپیس عالمی اور علاقائی قوتوں کو بعض علیٰحدگی پسندوں نے بلوچستان میں فراہم کی وہ ان کو فاٹا میں فراہم نہیں کی گئی۔ بلوچ میسنگ پرسنز کا بہت شور مچایا گیا تاہم یہ حقیقت بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے لاپتہ افراد کی تعداد بھی کئی گنا ہے اس کے باوجود اس صوبے میں علیٰحدگی کی کوئی تحریک یا بات نہیں چلی ۔محرومیوں سے نمٹنے کے لئے تشدد اور غیر ملکی مدد کا راستہ اپنایا جائے شاید اس پسِ منظر کے باعث زیادہ مناسب اور درست نہیں لگ رہا۔

بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کا آغاز ستر کی دہائی میں ہی ہوا تھا۔ بعض بلوچ قوم پرست افغانستان میں کھلے عام تربیتی کیمپ چلاتے رہے اور یہ سلسلہ1980 تک جاری رہا۔ یہی وہ بنیادی سبب تھا جس کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اسی عرصے کے دوران پاکستان نے بعض جہادی افغان کمانڈروں کی معاونت اور سرپرستی کا آغاز کیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ماحول میں تبدیلی آگئی۔ تاہم وہ بھارت‘ برطانیہ‘ افغانستان اور بعض دوست ممالک سے مدد لیتے رہے اور اس کا کھلے عام اعتراف کرتے آئے ہیں۔

ایک بلوچ لیڈر برہمداغ بگٹی نے 2008 میں پاکستانی چینل پر کھلے عام کہا کہ وہ بھارت‘ ایران‘ افغانستان اور برطانیہ سے مدد لیتا آیا ہے اور لیتا رہے گا۔ سال2010 میں مری قبائل کے ایک کمانڈر نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی تحریک مزاحمت کو عالمی قوتوں اور علاقائی پڑوسیوں کی معاونت حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک برہمداغ بگٹی کے پاس کابل میں تین گھر تھے۔ وہاں ان کو مکمل آزادی رہی۔ سال 2012 کے آخرمیں افغان صدر حامد کرزئی نے سلیم صافی کو دیئے گئے انٹر ویو میں خود اعتراف کیا کہ وہ پاکستان کی ’’مداخلت‘‘ کی پالیسی کے ردعمل میں ان عناصر کی حمایت کررہے ہیں جو پاکستان پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

ایف سی بلوچستان کے سابق سربراہ میجر جنرل عبیداﷲ خٹک نے جون2012 میں بتایا کہ افغانستان کے اندر 24 ایسے تربیتی مراکز موجود ہیں جہاں بلوچوں اور دیگرجنگجوؤں کو پاکستان کے خلاف تربیت دی جا رہی ہے یا سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ یہ دعوے محض پاکستان یا افغانستان کے حکام تک محدود نہیں رہے بلکہ امریکی حکام بھی ایسی باتیں کرتے رہے۔ اگست 2013 کے دوران امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز ڈوبین نے کہا کہ بھارت کے ذریعے بلوچستان میں مداخلت کے معاملے پر پاکستان کی تشویش بے جا نہیں بلکہ حقیقت کے قریب ہے۔ وکی لیکس کی دستاویزات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ بھارت بلوچستان اور فاٹا میں ایک پالیسی کے تحت مسلسل مداخلت کرتا آیا ہے۔ وکی لیکس کی دستاویزات میں تو پاکستان کے بعض دوست ممالک کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ کی مداخلت کے ثبوت بھی بتائے گئے ہیں۔

حال ہی میں امریکہ کے سیکرٹری دفاع چک ہیگل نے آن دی ریکارڈ خود اعتراف کیا کہ بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے جس پرامریکہ کو بھی تشویش لاحق ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بعض بھارتی لیڈروں اور وزراء نے کھلے عام کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے اور اس سے انتقام لینے کے لئے طالبان‘ بلوچوں اور دیگر عناصر کو استعمال کرنے سمیت دوسرے اقدامات بھی کررہے ہیں۔ بھارت کے حالیہ بیانات اور رویّے پر پاکستان حسبِ ضرورت جواب دیتا آیا ہے تاہم اس رویّے پر وہ سنجیدہ حلقے بھی شدید اعتراضات کررہے ہیں جو کہ ماضی میں بھارت کے حامی رہے ہیں اور وہ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے پاکستانی ریاست کی بعض پالیسیوں کے مستقل ناقد رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو گروپ یا عناصر بلوچستان کی تحریک یا علیٰحدگی کی بات کررہے ہیں ان کے حملوں اور مزاحمت کا سلسلہ اب فورسز اور ریاست کے علاوہ دوسری قومیتوں اور عوام تک بھی تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ ماضی میں یہ گروپ پنجابی باشندوں کوچن چن کر نشانہ بناتے رہے۔ بعد میں انہوں نے دو مذہبی گروہوں کی معاونت سے شیعہ اور ہزارہ کمیونٹی کونشانہ بنانا شروع کیا۔ اور اب مشاہدے میں آرہا ہے کہ یہ لوگ صوبے کے دوسرے بڑے لسانی گروپ یعنی پشتونوں کو بھی نشانہ بنانے پر اُتر آئے ہیں۔ پشتونوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ دیگر کے مقابلے میں سنگین بھی ہے اور خطرناک بھی کیونکہ دیگر گروپ یا حلقے اقلیت میں تھے۔ ان کی قوت بھی کم تھی اور ان کی نمائندہ سیاسی تنظیموں کا اثر رسوخ بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ پشتونوں کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ ہمیں دشمنوں کے اس وار کو سمجھنا ہوگا۔ دشمن ہمیں کئی محاذوں پر اندرونی لڑائیوں میں الجھانا چاہتا ہے۔ حب الوطنی اور دور اندیشی کا تقاضہ ہے کہ دشمن کی اِن چالوں کو سمجھا اور ان کا مقابلہ کیا جائے۔

بلوچستان میں کرائے گئے سرویز‘ تحقیق اور مردم شماری سے اخذ کئے گئے نتائج کچھ یوں بنتے ہیں کہ صوبے میں پشتونوں کی آبادی چالیس فیصد سے زائد ہے ان کے مقابلے میں ہزارہ (شیعہ) براہوی اور دیگر اقلیتوں کی کل آبادی10 سے12 فیصد تک بنتی ہے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے70 فیصد بڑے شہر اتفاقاً آبادی کے تناسب سے پشتونوں کے شہر ہیں۔ بلوچ شہروں کی بجائے پہاڑوں اور دیہاتوں میں رہتے ہیں۔ تمام پشتون علاقے جغرافیائی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور پشتونوں کی تین بڑی نمائندہ پارٹیاں ملک کی سیاست میں بہت فعال ہیں اس وقت پشتون بیلٹ کی نمائندگی پخونخوامیپ‘ جے یو آئی (ف) اور اے این پی کے ہاتھوں میں ہے۔ تینوں پارٹیاں ملکی سیاست کی اہم قوتیں ہیں۔ محمود خان اچکزئی کی پختونخوا میپ صوبے کی حکومت کی شیئر ہولڈر ہے اور گورنر بھی اس پارٹی سے ہے۔ اگر صوبے میں گڑبڑ کرائی جاتی ہے یامداخلت ہو رہی ہے۔ تو اس کی زد میں یہ پارٹی بھی آتی ہے۔ اور شاید اسی کانتیجہ کہ تاریخ میں پہلی بار اچکزئی کی پارٹی حالیہ کارروائیوں کی نہ صرف کھل کر مزاحمت کررہی ہے بلکہ اس کو علاقائی مداخلت کی اطلاعات اور ثبوتوں پر بھی سخت تشویش ہے۔

یہ پارٹی ماضی میں خطے کے اندر ہر بیرونی ہاتھ کے علاوہ افغانستان کے اندر پاکستان کی مبینہ مداخلت کی مخالف رہی ہے۔ ایسے میں اس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ سیاسی عمل اور حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود ان ایشوز سے لاتعلق رہے۔ یہ تینوں پارٹیاں اپنی پالیسیوں کے تناظر میں قوم پرست قومیں ہیں اور ان مذہبی گروپوں کی مخالفت میں جو کہ بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں مذہبی طور پر فرقہ ورانہ منافرت پھیلا رہے ہیں صوبے کی بیوروکریسی میں دوسرا شیئر بھی پشتونوں کا ہے جبکہ یہ کسی بھی قوت یا گروپ کو عوامی سطح پر چیلنج کرنے کی صلاحیت اور قوت سے بھی مالامال ہیں۔ ایسی صورت میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جو قوتیں فورسز‘ ریاست اور اقلیتوں کے بعد پشتونوں کو نشانہ بنانے نکل آئی ہیں ان کو شدید ترین مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے اور یہ مزاحمت ان علاقائی اور عالمی قوتوں کو بھی لپیٹ میں لے گی جو کہ حملہ آوروں کی پشت پناہی کرتی آئی ہیں کیونکہ ’کے پی کے‘ کے مقابلے میں بلوچستان کی نمائندہ پارٹیاں زیادہ منظم اور متحرک ہیں۔

اقلیتی بلوچ علیحدگی پسندوں‘ بھارتی وزراء‘ امریکی حکام اور عالمی میڈیا کے اعتراضات کے بعد یہ حقیقت سب پر واضح ہوگئی ہے کہ بلوچستان کی محرومیوں کی آڑ میں بعض پڑوسی بلوچستان میں کھلی مداخلت پر اُتر آئے ہیں اور وہ مزید مداخلت کی اعلیٰ سطحی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ ایسے میں مزید ثبوتوں اور مباحث کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ اور گروپ ریاست اور معاشرے کے لئے ناسور بنے ہوئے ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں‘ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے‘ سیاسی نظام کو مضبوط کیاجائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر قیمت پر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

پشتون اور بلوچ قیادت کے درمیان حقوق اور اختیارات کے معاملے پر تعلقات ویسے بھی کچھ مثالی نہیں ہیں۔ اب اگر حملوں کی نوبت بھی آتی ہے تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور ریاست کے علاوہ بلوچوں پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ نئی حکومت کے قیام اور عسکری قیادت کی پالیسیوں کے بعد بلوچستان کے مجموعی حالات میں جو بہتری آئی ہے اس نے صوبے کی سیاست اور معیشت پر کافی بہتر نتائج مرتب کئے ہیں۔ اکنامک کاریڈوراور بعض دیگر منصوبوں سے بھی صوبے کو بہت فوائد ملنے کی توقع ہے۔ جبکہ پاپولر عوامی پارٹیوں اور پاکستان اسٹیبلیشمنٹ کے قریبی تعلقات بھی بہتر مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے بہتر تعلقات اور بعض دیگر اقدامات کے بھی صوبے اور ملک کی سیاست پر اچھے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے میں بھارت یا کسی بھی غیر ملکی مداخلت کے خلاف یکجہتی ناگزیر ہے اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔

 

balochmaine1.jpg

 

وفاق کے حالیہ بجٹ میں بلوچستان کی ترقی کے لئے 84 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سندھ کے لئے192 جبکہ خیبرپختونخوا کے لئے 124ارب روپے ہیں۔ اگر آبادی کے فرق اور تناسب کو سامنے رکھاجائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ بلوچستان کے لئے رکھا گیابجٹ دیگر صوبوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے یہ اچھے اشارے ہیں اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض قوتیں بدلتے بہتر حالات کو پھر سے خراب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگئی ہیں۔ اقلیتی بلوچ علیٰحدگی پسندوں‘ بھارتی وزراء‘ امریکی حکام اور عالمی میڈیا کے اعتراضات کے بعد یہ حقیقت سب پر واضح ہوگئی ہے کہ بلوچستان کی محرومیوں کی آڑ میں بعض پڑوسی بلوچستان میں کھلی مداخلت پر اُتر آئے ہیں اور وہ مزید مداخلت کی اعلیٰ سطحی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ ایسے میں مزید ثبوتوں اور مباحث کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ اور گروپ ریاست اور معاشرے کے لئے ناسور بنے ہوئے ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں‘ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے‘ سیاسی نظام کو مضبوط کیاجائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر قیمت پر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

وقت آگیا ہے کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے ساتھ ساتھ کسی اور کو اپنے معاملات میں بھی کسی قیمت پر مداخلت کرنے نہ دی جائے اور ان قوتوں کا خاتمہ کیا جائے جو پاکستان کے حقیقی چہرے اور معاشرے کو مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستان کے عوام کسی بھی چیلنج کو قبول کرنے کے لئے اپنی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے اور یہ ایک نئے دورکا آغاز ہوگا۔

27
July

جرمنی نے پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم تک اپنے صحن میں دیکھیں اور جنگ سے وابستہ تمام تر تکالیف‘ ذہنی عذاب اور جذباتی تذلیل کو بچشم خود مشاہدہ کیا مگر ایک کمال اور بھی کیا۔ وہ یہ کہ اپنی شعوری سطح سے اپنی وطنیت کو مسخ نہیں ہونے دیا۔ اپنی ہی حکومت کے ظلم سہے مگر حکومت کو آنی جانی چیز سمجھا اور وطن کو ابدی حقیقت۔ لیکن آج ان چیزوں کو تجزیاتی زبان میں لکھنا قدرے آسان ہے۔ مگر ظلم کو سہتے ہوئے اپنے کل پر یقین کو نہ ڈگمگانے دینا ایسا مشکل ہے کہ جنگ سے آگے کا مرحلہ ہے۔ جرمن قوم بنیادی طور پر اس آزمائش پر پوری اتری کہ انہوں نے اپنے مستقبل پر یقین کو نہیں ڈگمگانے دیا۔ مگر اس کا ہمارے معروضی حقائق سے کیا تعلق ہے۔ جی ہاں تعلق ہے اور بہت ناگزیر نوعیت کا ہے۔ ہم اہلِ پاکستان ابتلاؤں اور آزمائشوں کی ایسی گھمبیر صورت حالت سے گزر رہے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ ہمارے مزاح نگار اب کوئی ہلکی پھلکی بات بھی کریں تو زمینی حقائق کی گھمبیرتا اور سنگینی انہیں سنجیدہ بنا دیتی ہے۔ انور مسعود صاحب کہیںیورپ وغیرہ میں آئے تو لوگوں نے پوچھا کہ پاکستان کے حالات حاضرہ کے بارے میں کچھ بتائیں تو موصوف نے بظاہر ایک مزاحیہ مصرعہ پڑھا لیکن بے حسی اگر حجاب نہ ڈال دے تو اس کی سنجیدگی قابل فکر ہے۔ فرمایا

حالات حاضرہ کو کئی سال ہو گئے

یعنی کچھ بھی نہیں بدلا۔ مطلب جمود ۔۔۔۔ اور جمود کے لئے کم سے کم کیا مفہوم لیں ہم؟ موت یا قریب المرگ۔۔۔ بے حسی یا فالج؟؟ آخر دنیا میں کہیں بھی اگر معاملات ساکن یا ساکت ہو جائیں تو مطلب کیا لیا جاتا ہے۔۔۔؟ ہمارے لئے استثناء کیوں اور کیسے؟؟؟

یہاں میں اپنے قارئین سے ایک ضمنی گزارش کر دوں کہ قلم کی اپنی زبان ہوتی ہے اور اس کی کاٹ بھی۔ جیسے ہم خودکلامی کرتے ہیں اسی طرح اگر ذہنی سوالات کو معاشرتی بندگی سے واسطہ پڑ جائے تو اسی طرح کی قلمی خود کلامی سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔ اس کی تلخی کی شکایت اس لئے نہ کریں کہ مرض اگر دب جائے تو زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ اظہار بہرحال فائدہ مند ہوتا ہے کہ اس سے تبدیلی کے راستے کھلتے ہیں۔ واپس آتے ہیں سوچنے لکھنے اور بولنے والے اہل علم و ادب کے مصائب حالات اور مسائل کی طرف ۔ پچھلے دنوں کئی سانحوں پر ایسا ہوا کہ کہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مجھے ازراہ تبصرہ عبیداﷲ علیم کے یہ اشعار پڑھنے اور سننے کو ملے۔ اس قدر تکرار کے ساتھ کہ ضروری ہے کہ پہلے آپ کو بھی سنا دوں کہ

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

میرے شہر جل رہے ہیں‘ میرے لوگ مر رہے ہیں

کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطہ زمین پر

وہی خطہ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

ہمیں قتل ہو رہے ہمیں قتل کر رہے ہیں

اس پر کسی صاحب نے کمال تبصرہ کیا کہ یہ 70 کی دہائی کی غزل ہے مگر بالکل تازہ کلام محسوس ہو رہا ہے۔ یعنی وہی بات کہ حسب حالات ہے تو پرانی کیسے ہوئی؟ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسئلے کی سنگینی پہ بات کرنا بھی ایک طرح کا جرم بن چکا ہے۔ کون پوچھے کہ اتنی قربانیوں سے آپ نے وطن لیا اور لوگ ایک پلاٹ بھی خرید لیں تو اس کو بنانے اور آباد کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ زرعی زمین لیتے ہیں تو اس میں شجر کاری‘ پانی کی فراہمی‘ اپنے لئے مکان‘ ڈیرہ ڈنڈا اور مال مویشی‘ آئے گئے کے لئے سامان تواضع اور مشکل وقت کے لئے مناسب انتظام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ آپ کو اﷲتعالیٰ نے ملک دیا۔ اب آباد تو اسے دوسروں نے نہیں کرنا تھا اور ساری دنیا میں لوگ یقین‘ حسن انتظام‘ حسن معاشرت‘ عدل‘ انصاف‘ تعلیم‘ معاشی تحفظ اور انسانی زندگی کو درکار سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے گھروں اور ملکوں کو سنوارتے اور آباد کرتے ہیں مگر ہم؟ قائداعظم محمد علی جناح کے آنکھیں بند کرتے ہی بدنیتی پر اتر آئے۔ ملکیت اور حاکم مطلق بننے کے طریقے ڈھونڈنے میں لگ گئے اور ہر بدنیتی کا عنوان بہت خوبصورت رکھا اور ظاہر پرستی کا کوڑھ پھیلنے لگا۔ تعلیم چونکہ نہ ہونے کے برابر تھی اس لئے مطلب پرستوں کو موقع ملا کہ جو نعرہ بھی لگا دو چل جائے گا۔ تفصیل میں کوئی نہیں جائے گا کہ اس کا مطلب اور نتیجہ کیا ہو گا۔ وہ نہیں جو بانی اسلام حضرت محمدمصطفی ﷺ نے سکھایا تھا۔ جس کی ابتداء اپنے نفس پر خدا کی حاکمیت قائم کرنے سے ہوتی تھی اور جس کا دائرہ کار ہمیشہ مظلوم کو مدد دینا تھا نہ کہ توسیع اقتدار جس کے احکامات میں واضح ہدایات تھیں کہ

-1 عورتوں‘ بچوں اور بوڑھوں پر حملہ نہ کرنا‘

-2 مذہبی عبادت گاہوں پر حملہ نہ کرنا‘

-3درخت نہیں کاٹنے اور فصلوں کو نقصان نہ پہنچانا‘

-4 جو اپنا دروازہ بند کرے اس پر حملہ نہ کرنا۔

-5 دشمنوں کی لاشوں کے ساتھ بدسلوکی نہیں کرنی۔

مگر آج کے اِن نام نہاد جہاد پسندوں نے قتل انسانیت کے ہر غیر انسانی طریقے اختیار ہی نہیں کئے بلکہ رائج کئے۔ انسانی سروں سے فٹ بال کھیلنے اور سکولوں کے بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے ‘ مسجدوں اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملہ آور ہونے کے واقعات کی اگر ایک مختلف سی فلم دکھائی جائے تو تاریخ انسانیت کے کون سے مذہب سے آپ کو شاباش ملنے کی توقع ہے۔ یہ سب ہوا اور اچانک نہیں ہوا‘ یہ کم ظرفی اور کوتاہ نظری نے اورتعصب اور تنگ نظری نے بچے دیئے ہیں اور تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ قائداعظم کی وفات کے بعد ہی خوبصورت ٹائٹل کے ذریعے یہ سوچ عوام پر مسلط کرنے کا آغاز ہو چکا تھا۔ لیڈر شپ نے قائداعظم کا نام اور ان کی جماعت مسلم لیگ کا ٹائٹل اپنالیا مگر قائداعظم جیسی شفاف جرات کو نہیں اپنایا۔ کوئی پندرہ سال قبل ریڈیو پاکستان سے ایک مشاعرہ یوم پاکستان کے حوالے سے نشر ہو رہا تھا۔ وہاں ایک صاحب نے کچھ شعر سنائے جس میں سے سب سے زیادہ مبنی بر حقیقت شعر نشر نہیں ہوا۔ وہ یہ تھا۔

اس نے بہت تلقین کی

ایمان کی اتحاد کی تنظیم کی

ہم نے بہت توہین کی

اور خاص کر ان تین کی

جیسا کہ قارئین سے گزارش کی تھی کہ یہ تلخ حقائق ہیں مگر ان کا علم نہ ہو یا ان پر پردہ ڈال کر اگر ہم سمجھیں کہ یہ مصلحت ضروری ہے اور اسے حُب الوطنی پیدا ہو گی۔ تو اس سے بڑی جہالت کوئی نہیں۔

اصل بات یہی ہے کہ پاکستان ہمارے لئے ناگزیر ہے اور اس مہم میں عوام‘ لیڈر شپ‘ حکومتیں‘ ادارے‘ گروہ‘ دھڑے‘ اکثر یتیں و اقلیتیں‘ سول اور افواج سب شامل ہیں۔

بیماری کو سمجھیں جس مدارج سے گزر کر یہ پروان چڑھی ہے اُن سے آگاہی بہت ضروری ہے اور پھر غور کریں کہ کیا یہ وطن ہم نے ہجرتیں کرنے کی خاطر حاصل کیا تھا۔؟ یہ ہمارا ابدی گھر تھا‘ہے اوررہے گا۔ یہ ہماری آنے والے نسلوں کی وراثت ہے۔ ذرا سا صاحب عقل و فراست دادا اپنے پوتوں کی زمین بیچنے کی اجازت اپنے بیٹے کو نہیں دیتا۔ یہ تو آنے والی تمام نسلوں کی ملکیت ہے اور مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ شہری بنیادوں پر جو پاکستان میں پیدا ہوا ہے اس وطن عزیز کی تمام آسائشوں اور علاقوں پر اور وسائل پر اس کا حق ہے۔ وہ سماجی اور معاشرتی طور پر پورا پاکستانی ہے ۔ ادھورا ہر گز نہیں۔ ہر وہ سوچ اور ہر وہ طرز عمل جس سے ایک پورا پاکستانی ادھورا بن جائے تو وہ گمراہ کن ہے اور بانی پاکستان کی سوچ نہیں ہے۔یاد رکھیں قائدِاعظم نے لولے لنگڑے لوگ اس کے شہری نہیں دیکھے بلکہ بھرپور شخصیتوں والی کامیاب نسلیں ذہن میں رکھ کر یہ آماجگاہ اور وطن اُن کے لئے حاصل کیا اور ایک اور قابلِ غور بات یہ کہ لُٹے پٹے‘ غریب بے وسائل مسلمانوں نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا۔ اسلام اس کے حصول اور قیام کے باعث بنا ہے۔ ہر وہ سوچ جس سے اس کے قیام اور اس میں رہنے والوں کی زندگیوں پر زد پڑتی ہو وہ کسی دھڑے کی سوچ ہو سکتی ہے ۔ اسلامی ہرگز نہیں۔ اسلام طرزِ زندگی ہے‘ نظریۂ حیات ہے اور لوگوں میں اسلوبِ حیات کی ترویج اور بہتری کے لئے آیا ہے۔ جس چیز سے انسانوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو اور زندگی ایک جہنم بن جائے وہ کسی بدترین خواب میں بھی اسلام کہلانے کی مستحق نہیں۔ اس لئے ان ابتلاء کے دنوں میں اپنے دل و دماغ میں سیاسی اورمذہبی دھڑے بندیوں سے آگے بڑھ کر اپنی وطنیت کی روح کو سلامت رکھنا اور خدا کے نبی ﷺ کے ذریعے زمین پر رحمت بن کر اُترنے والے دینِ اسلام کی حقیقی شکل کو محفوظ رکھنا سب سے اہم اور مشکل کام ہے ۔ مگر یہ کام کرنا ہوگا۔

چند دن قبل ایک دوست کو میں نے ایک شعر سنایا کہ

سرچھپائے گی بے قراری کہاں؟

جب دلِ بیقرار ٹوٹ گیا

ریاست کے تمام کل پُرزے اپنی اپنی جگہ پر درست چل رہے ہوں تو ایک کی جگہ دوسرا لے ہی نہیں سکتا۔ اس لئے اپنے اپنے دائرہ کار میں احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیں اور توجہ اپنے مشترکہ اثاثے پاکستان کی طرف مرکوز کریں اور کچھ قومی اہداف بنائیں۔

تو میں نے کہا کہ یہ ساری معاشرتی‘ سیاسی‘ سماجی اور مذہبی اٹھا پٹخ اور اکھاڑ پچھاڑ جو ہو رہی ہے اس کے کرداروں میں اتنی عقل ہو کہ وہ یہ سمجھ جائیں کہ اس بے قراری‘ اضطراب‘ بے چینی نے کہاں رہنا ہے اور کہاں سر چھپانا ہے۔ اگر خدانخواستہ دلِ بیقرار یعنی پاکستان ہی۔۔۔۔ اس لئے باہمی اختلاف اور باہمی منافرت کرتے وقت کم از کم یہ ضرور سوچ لیا کریں کہ پاکستان ہے تو آپ یہ سارے جلوس تماشے کرسکتے ہیں پردیسیوں کو ایسی عیاشیاں کون کرنے دیتا ہے کہ آپ آرام سے گھروں سے نکلیں اور سرکای املاک کی توڑ پھوڑ کرکے جا کے سو جائیں۔

-1آپ نے کتنے درخت لگائے؟

-2کب رضاکارانہ صفائی کی؟

-3کب ملک بنانے اور سنوارنے کا کوئی کام کیا؟

-4کب آخری دفعہ رضاکارانہ خون دیا؟

-5کب میڈیکل کیمپ میں رضاکارانہ خدمت کی؟

اور اس طرح کے سوال کرتے جائیں اور شرمندہ ہوتے جائیں۔ تو جن قوموں کی سیاسی جدو جہد کی مثالیں دیتے ہیں اُن کی معاشرتی کوششوں اور سماجی رضاکارانہ خدمات کو دیکھیں تو کوئی نسبت ہی نہیں ملے گی۔ تو جناب پھر یہ توڑ پھوڑ کیوں؟ یہ داستان طول پکڑ جائے گی۔ اصل بات یہی ہے کہ پاکستان ہمارے لئے ناگزیر ہے اور اس مہم میں عوام‘ لیڈر شپ‘ حکومتیں‘ ادارے‘ گروہ‘ دھڑے‘ اکثر یتیں و اقلیتیں‘ سول اور افواج سب شامل ہیں۔

دنیا میں ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ دست و گریباں اور نفرتوں کو پالنے والے دھڑوں اور گروہوں نے کوئی مضبوط ریاست اور ترقی یافتہ ملک یا باعزت اور باوقار قوم بنا کر دکھائی ہو۔ چھوٹے اور فوری دائروں میں محبت کو عام کریں۔ انفرادی سطح پر ذمہ داری اور احترام کو قائم کریں۔ اظہار کے صحیح رستے تلاش کریں اور ایسی تعلیم کے لئے پریشان ہونا شروع کریں جو جذبوں اور شعور کو نکھارتی ہے اپنی زبان ‘مٹی‘ وسائل ‘ مسائل اور ماحول سے تعلق اور پیار کو بڑھائیں اور یاد رکھیں کہ سترہ اٹھارہ کروڑ لوگ اجتماعی ہجرت تو کر نہیں سکتے اس لئے خدا نے جو سرزمین عطا کی ہے اُس کو وطنیت کی حقیقی روح کے ساتھ آباد کریں۔ باہمی رحم اور عفو نہیں کریں گے تو آپ پر رحم کیوں کیا جائے گا؟ قومیں اور ملک اصولوں اور محبتوں سے بنتے ہیں۔ ہمارے لئے نئے معاشرتی اصول وضع نہیں ہوں گے۔ جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے اور اس کے اجزائے ترکیبی میں اپنی فوج کو گالیاں دینا کہاں سے شامل ہوگیا؟ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں! ایک دانشوری کا معیار یہ بھی بن رہا ہے کہ جو فوج کی جتنی کردار کشی کرے گا وہ اتنا ہی بڑا دانشور ہوگا۔ اگر یہی معیار ہے تو آفات و مصائب اور شدید بدامنی اور سیلاب کے سامنے فوج ہی کو کیوں رکھا جاتا ہے۔ یہ ادارہ اگر منظم نہ ہو تو پھر شائد اس کو اسٹیبلشمنٹ بھی نہ کہا جائے لیکن۔۔۔ آخر مقصد کیا ہے بے معنی تنقید کا؟

سول ادارے مستحکم ہوں تو فوج کا کردار واقعی سرحدوں تک ہوتا ہے لیکن یہ پہلے ادارے مستحکم کرنے آئیں پھر واپس جائیں تو آپ خود عدمِ استحکام کی طرف جاتے ہی کیوں ہیں؟ ریاست کے تمام کل پُرزے اپنی اپنی جگہ پر درست چل رہے ہوں تو ایک کی جگہ دوسرا لے ہی نہیں سکتا۔ اس لئے اپنے اپنے دائرہ کار میں احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیں اور توجہ اپنے مشترکہ اثاثے پاکستان کی طرف مرکوز کریں اور کچھ قومی اہداف بنائیں۔

میں یہاں جرمنی میں دیکھتا ہوں کہ ان جنگلات کی معاشی لحاظ سے کوئی خاص حاجت نہیں مگر ہر فرد کو جنگلات کے فروغ میں دلچسپی ہے۔ حکومت کام کے مواقع دیتی ہے اور عوام کام کرنے میں عزت محسوس کرتے ہیں۔ ٹیکس کے لئے ترغیب نہیں دینی پڑتی بلکہ ٹیکس ادا کرنے کا رواج ہے۔ خوش دلی سے بات کرنا پیشہ ورانہ مہارت کا حصہ ہے۔ صاف گوئی عام ہے کسی کے معاملات میں دخل اندازی بدتہذیبی ہے۔ انفرادی آزادی کی کثرت نے اجتماعی آزادی اور باوقار آزاد ملک کو جنم دیا ہے۔ جو مرضی مذہب اختیار کریں مذہب کا ٹھیکیدار بن کر لوگوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی ریاست اجازت نہیں دیتی۔ پچھلے دنوں جو پیرس میں حملہ ہوا اور یورپ بھر میں ردِ عمل کا خطرہ تھا تو جرمن چانسلر کا ٹی وی پر یہ بیان تھا کہ ’’مجھے صرف اس بات پر گہری نظر رکھنی ہے کہ جرمنی میں رہنے والے کسی بھی مذہب یا مکتبۂ فکر کے انسان کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچنا چاہئے اور اُن کے سماجی تحفظ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘‘ اس طرح انسانی حقوق کی پاسداری‘ اکثریتوں اور اقلیتوں کے یکساں تحفظ‘ تعلیم و صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور بلا امتیاز مواقع۔ ترقی کے تحفظ سے ملک اور قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہ ماحول پیدا ہوتا ہے کہ جس کا خواب سلیم کوثر نے یوں دیکھا ہے کہ

وہ برگ جن پہ رتوں کے خواب اترتے ہیں

شجر سے کٹ کے بھی گلشن کے ترجماں رہے

یہ وہ حقیقی وطنیت ہے کہ آدمی کہیں بھی چلاجائے اور کیسے ہی حالات کیوں نہ ہوں وہ اپنے گلشن کے ہی گیت گاتا ہے اور اسی کا ترجمان رہتا ہے۔ کئی دہائیاں رسہ کشی اور توڑ پھوڑ پر ضائع کر لی ہیں اور اپنے وقار پہ داغ ہی لگائے ہیں۔ اب صرف ایک دہائی اجتماعی محبت کے فروغ‘ حقوق کے قیام‘ انصاف کی فراہمی‘ عدل کا رواج ‘ ذمہ داری کے شعور تعلیم کی ترویج‘ صحت کے خیال اور رواداری کو عام کرنے پر بھی زور لگاکے دیکھ لیں۔ فرق تو وقت ہی بتائے گا لیکن تاریخ ایک بات کی گواہ ہے کہ مندرجہ بالا اوصاف اور خوبیوں کے حامل کسی معاشرے اور ملک کو ترقی کرنے سے کوئی طاقت بھی نہیں روک سکتی۔ خدا اور خدا کے فیصلے ہمیشہ ایسے معاشروں کی مدد اور دستگیری کرتے ہیں اور منہ سے خدا کو ماننے والے اگر ان صفات کے حامل نہ ہوں تو خدا کی مدد کو جذب نہیں کرسکتے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

27
July

بھارت میں علیحدگی پسند تحریکیں۔ ان کے محرکات اور اثرات

ہندوتہذیب و تمدن کاسرسری مطالعہ اور طائرانہ جائزہ اس امر کی عکاسی کرنے کے لئے کافی ہے کہ ذات پات اور چھوت چھات پر مبنی ہندو معاشرتی نظام کبھی بھی اپنی پست ذہنیت اور اخلاقی دیوالیہ پن سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا بلکہ موقع پاتے ہی دوسروں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہندوؤں کی فطرتِ ثانیہ ہے۔ ان کے تنگ وتاریک مکانات، طرزِ بودوباش، تنگ عبادت گاہیں، پتھروں سے بنی مورتیوں کو سجدے کرنے اور کچرے کے ڈھیر پر زندگی بسر کر لینے پر آمادہ طبیعتیں اس بات کی گواہی دیتی نظر آتی ہیں کہ ہندو تہذیب و تمدن کھوکھلے پن کا شکار ہے اور اسی کھوکھلے پن کو چھپانے کی خاطر ہمہ قسم تخریب کاری، مکاری اور چانکیہ سیاست کو نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے بلکہ بڑی شدومد کے ساتھ اس پر عملدرآمد بھی کیا جاتا ہے۔ تختِ ہندوستان پر مسلمانوں کے ہزار سالہ دورِحکمرانی، جو مذہبی رواداری، رعایا پروری، عدل گستری اور اسلامی مساوات کے زریں اصولوں پر استوار تھا، اس بات کا ثبوت ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کو کارہائے سلطنت میں بڑی کشادہ دلی کے ساتھ شریک کیا لیکن ہندوؤں نے انگریز راج میں موقع ملتے ہی اپنے پاؤں پھیلا لئے اور بحیثیت قو م مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ جس کے نتیجے میں اسلامیانِ ہند بالآخر اپنے لئے ایک علیحدہ مملکت کے حصول پر مجبور ہوگئے اور انھوں نے شبانہ روز جدوجہد کے بعد 1940ء میں مطالبۂ پاکستان کے محض سات سال کے اندر اسلامی مملکتِ خداداد پاکستان کا حصول ممکن کر دکھایا۔ گو پاکستان تو بن گیا لیکن ہندو ذہنیت کا کیا کیا جائے کہ اس نے اپنی تنگ نظری اور تعصب پر مبنی سوچ کے تحت ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ بھارت میں بسنے والی دیگر اقلیتوں پر بھی مصائب کے کوہِ گراں گرا دیئے۔ یہ تماشا بھی چشمِ عالم نے دیکھا کہ بھارت کے جبرو استبداد کے پنجوں تلے کم وبیش 125علیحدگی پسند تحریکیں سر اٹھا کر کھڑی ہوگئیں۔ دنیا کے کسی ملک میں اتنی بڑی تعداد میں اقلیتوں نے کبھی اپنے حق میں آواز بلند نہیں کی جتنی بھارت جیسے اکیلے ملک میں ہوئی۔

یہ علیحدگی پسند تحریکیں تقسیمِ ہند 1947ء کے بعد شروع ہوئیں۔ ان تحریکوں میں سب سے بڑی تحریکِ آزادئ کشمیر کے ساتھ ساتھ شمال مشرقی ہند میں واقع آسام، تریپورہ، میگالیا، میزورام، ناگالینڈ، بوڈولینڈ، ڈریویڈاناڈو ، ناگالم، اروناچل پردیش اور سکھوں کی تحریکِ خالصتان وغیرہ جیسی بڑی بڑی تحریکیں شامل ہیں۔ کم و بیش ہر بڑی علیحدگی پسند تحریک کے پس منظر میں بھارت کی تنگ نظری، تعصب، مکاری، دغابازی، مذہبی عدم رواداری، سماجی اور معاشرتی عدم مساوات، عدم انصاف، ظلم و استبداد اور اقلیتوں کے جملہ حقوق سلب کر لینے کی ظالمانہ پالیسیاں بنیاد بنیں۔ ذیل میں ہر بڑی علیحدگی پسند تحریک کا مختصراً خلاصہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ قارئین ہندو طرزِ سیاست اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ملک کے ریاستی مکروفریب اور سامراجیت کا کچھ کچھ اندازہ کرسکیں۔

تحریکِ آزادئ جموں و کشمیر

ریاست جموں و کشمیر بھارت کے انتہائی شمال میں واقع ہے ۔ اس کی سرحدیں بھارت، پاکستان، افغانستان اور چین جیسے اہم ممالک سے ملتی ہیں۔ 1947ء میں ریاست کے پارہ پارہ ہونے سے قبل ریاست کی کل آبادی کا 80 فیصد مسلمان، ۱۷ فیصد ہندو اور ۳فیصد سکھ اور عیسائی تھے۔

ًریڈکلف ایوارڈ میں جہاں پاکستان کے ساتھ بہت سی اور ناانصافیاں کی گئیں‘ وہاں پاکستان کو دفاعی اور معاشی اعتبار سے کمزور کرنے کے لئے گورداس پور اور بٹالہ کے علاقے بھارت کو دے کر کشمیر تک جانے کا راستہ بھارت کو دے دیا گیا۔ مہاراجہ کشمیر نے ابھی تک ریاست کا الحاق کسی سے بھی نہ کیا تھا لیکن درپردہ اس نے ریاستی عوام کی غالب اکثریتی رائے کے بالکل برعکس بھارت سے سازباز کر رکھی تھی اور بھارت کے ایجنٹ کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔ چنانچہ پونچھ میں مہاراجہ کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے۔ بھارت کے ایماء پر مہاراجہ نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ ابھی ریاست کے اندر ہنگامے فرو نہ ہوئے تھے کہ پاکستان کے قبائلی اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہوئے اور بزورِ قوتِ بازو، کشمیر کے کچھ علاقے کو حاصل کر لیا۔ مہاراجہ نے پہلے سے کی ہوئی سازباز کے تحت فوراََ بھارت سے فوجی امداد مانگ لی جس پر بھارت نے الحاق کی شرط عائد کر دی۔ مہاراجہ نے حسبِ سازش فوراََ ریاست کا الحاق بھارت سے کرنا منظور کر لیالیکن پاکستان اور کشمیری عوام نے اس ناجائز الحاق کو ماننے سے انکار کر دیا۔ نتیجے کے طور پر یکم جنوری 1949ء کو بھارت سوانگ رچاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا جہاں بالآخر ایک واضع اور غیر مبہم قرارداد پاس ہوئی کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق‘ آزادانہ استصواب رائے کی بنیاد پر‘ حل کیا جائے گا۔ لیکن بھارت نے اس وقت سے لے کر تاحال اقوام متحدہ کی متعدد قرادادوں اور مطالبوں کے باوجود مسلسل ہٹ دھرمی، بدنیتی اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت مسئلہ کشمیر حل نہیں ہونے دیا ہے اور 1989ء میں شروع ہونے والی تحریکِ حریت کی نئی شدت کو پورے ریاستی جبرو استبداد سے کچلنے میں مصروفِ عمل ہے۔ یہ وہ واحد تحریکِ آزادی ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی کہ ہزاروں کشمیری نوجوان شہید کر دیئے گئے ہیں، لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو ظلم وتشدد کا شکار کرکے انہیں معذور اور اپاہج بنا دیا گیا ہے۔ ہزاروں عفت مآب خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے۔ لاکھوں بچے یتیم اور بے آسرا کر دیئے گئے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس ملک کی فوج کر رہی ہے جسے جمہوریہ بھارت کہا جاتا ہے لیکن چشمِ اقوام نے پھر یہ بھی نظارہ دیکھا ہے کہ ان ریاستی اور فوجی مظالم کے باوجود کشمیریوں کا جذبۂ حریت کبھی سرد نہیں پڑا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید تیزی آتی چلی جا رہی ہے ۔ وہ وقت دور نہیں جب بھارت کو عالمی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے اور کشمیریوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر مل کے رہے گی۔

آسام کی تحریکِ علیحدگی پسندی

شمال مشرقی ہند کی سات ہمسایہ ریاستوں میں سے ایک آسام بھی ہے۔ جہاں علیحدگی پسندی کی تحریک پورے زوروشور کے ساتھ جاری ہے۔ یہ ہمالیہ کے زیریں دامن کا حصہ ہے۔ بھوٹان اور بنگلہ دیش کی سرحدیں ہیں۔ بھارت کا ذات پات پر مبنی نظام یہاں کے لوگوں کو سخت ناپسند ہے۔ وہ انسانی مساوات پر یقین رکھتے ہیں۔بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے تنگ آکر یہاں کی عوام نے تحریکِ آزادی کا آغاز کیا اور مختلف جنگجو تنظیموں نے‘ جن میں سب سے بڑی یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (یوایل ایف اے) ہے، مسلح جدوجہد آزادی کا آغاز کیا لیکن بھارت نے اپنے روایتی ظالمانہ اقدامات کے تحت 1990ء میں اس کو کالعدم قرار دے دیا اور ابھی تک ملٹری آپریشنز کے ذریعے وہاں کے عوام کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں۔ مسلم متحدہ آزادی ٹائیگر آف آسام (ایم یو ایل ٹی اے) نامی تنظیم جو 1996ء میں قائم ہوئی، وہ آسام اور آس پاس کے علاقوں کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرتی ہے۔

تریپورہ کی تحریک

تریپورہ بھارت کے مشرق میں واقع ایک ریاست ہے جو ایک متنازعہ ریاست کہلاتی ہے۔ ایک حقیقت کے طور پر یہ بات مسلمہ ہے کہ تریپورہ ہمیشہ سے ایک آزاد ریاست رہی ہے اور کبھی بھی برٹش انڈیا کا حصہ نہیں رہی۔ بناء بریں یہاں کے عوام کا مطالبہ ہے کہ اس کا بھارت سے الحاق قطعاََناجائز اور اصولوں کے برعکس ہے اس لئے باقاعدہ قائم شدہ تنظیمیں، جن میں نیشنل لبریشن فرنٹ آف تریپورہ جو مارچ 1989ء میں بنی، تریپورہ کے لئے علیحدگی کی پرزور وکالت کرتی ہیں۔ اسی طرح تریپورہ ٹائیگر فورس جو 1990ء میں قائم ہوئی، وہ بھی اس کی علیحدگی کی پرزور حامی ہے۔

میگالیا کی تحریک

اس ریاست میں بھارت سرکار کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ مقامی آبادی کو اقلیت بنانے پر تلی ہوئی ہے اور اس طرح وہ مقامی آبادی کے سبھی حقوق سلب کرنے پر مبنی اقدامات اٹھاتی رہی ہے۔ جس کے باعث وہاں پر شدید ردعمل شروع ہوا۔ اگرچہ بھارت سرکار نے مختلف ہتھکنڈوں سے وہاں کے عوام کو رام کرنے کی پرزور تحریک جو 1960ء سے چلی،سے مجبور ہو کر آسام ری آرگنائزیشن (میگالیا) ایکٹ 1969ء پاس کیا جس کی رو سے اسے ایک خود مختار ریاست کا درجہ مل گیا۔ 1971ء کے ایک ایکٹ کے تحت ریاست کو مکمل خود مختاری کے حقوق مل گئے جس کی اب اپنی ایک قانون ساز اسمبلی بھی ہے۔ یہ ریاست ابھی بھی بھارت سرکار کی مختلف حیلے بہانوں سے کی گئی ریشہ دوانیوں کا شکار رہتی ہے۔

میزو رام کی تحریک

میزورام کا نام تین الفاظ سے استخراج شدہ ہے جس کا مفہوم دامنِ کوہ کے لوگ ہے۔ اس وادی میں 1947ء کی تقسیمِ ہند کے وقت 200 قبائلی سردار تھے۔ ریاست کے اعلیٰ پڑھے لکھے طبقے اس قبائلی نظام کے خلاف تھے۔ ان کی مہم جوئی کے باعث 1954ء میں ایک قانون کے تحت 259 قبائلی سرداروں کے وراثتی حقوق سلب کر لئے گئے۔ لیکن بعد میں مختلف وجوہات کی وجہ سے اختیارات کے ارتکاز کے خلاف بھی مہم چلی اور میزونیشنل فیمائن فرنٹ جو بعد میں میزو نیشنل فرنٹ میں تبدیل ہوا، کے مطالبات کو مانتے ہوئے 1971ء میں میزو ہلز کو یونین ٹیریٹری میں بدل دیا گیا اور اس طرح1972ء میں میزورام قائم ہو گیا۔ تاہم یہاں کے عوام ابھی بھی مطمئن نہ ہو سکے اور بالآخر 1986ء کے میزورام امن معاہدے کے تحت ریاست کو مکمل خودمختاری کا درجہ ملا۔

ناگالینڈ کی تحریک

ناگالینڈ کی ریاست 1974ء کی تقسیم ہند کے بعد ریاست آسام کے ایک حصے کے طور پر قائم تھی لیکن قوم پرستانہ تحریکوں نے تشدد کا رجحان اختیار کیا اور پوری ریاست میں علیحدگی پسندی کا طوفان کھڑا کر دیا۔ 1955ء میں بھارتی فوج نے بے شمار مظالم برپا کئے تاہم ایک معاہدے کے تحت ناگالینڈ کو الگ سے خودمختاری دینے کا اعلان ہوا۔ بعد میں یونین ٹیریٹری قائم کرکے اسے براہِ راست بھارت کے دارالحکومت سے نتھی کر دیا گیا لیکن یہ اقدام بھی قبائل کی ناراضگی کو ختم نہ کر سکا۔ بالآخر جولائی1960ء میں بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو اور ناگا پیپلز کنونشن کے درمیان مذاکرات ہوئے اور 16نکاتی معاہدے کے تحت بھارت سرکار ناگالینڈ کو کامل خودمختاری دینے پر مجبور ہوگئی۔1962ء میں ناگالینڈ نے خودمختاری حاصل کی لیکن قبائل کی پھر بھی تسلی نہ ہوئی اور وہ اب بھی انڈیا کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور مکمل آزادی کے خواہاں ہیں۔

بوڈولینڈ کی تحریک

بوڈولینڈ کے عوام کا مطالبہ ہے کہ بوڈولینڈ کو مکمل آزادی دی جائے۔ یہ فی الحال بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت انتظامی طور پر خودمختاری کا درجہ رکھنے والی ریاست ہے۔ یہاں کے رہنے والے برہما پتری تہذیب کے اولین باسی کہلاتے ہیں۔ کبھی یہ آسام پر حکمرانی کرتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ طاقت میں کمزور پڑتے چلے گئے۔ بھارت سرکار کے ظالمانہ اور غاصبانہ اقدامات کے نتیجے میں یہاں کے عوام پر معاشی اور تعلیمی دروازے بند کردیئے گئے تو یہاں پر بھارت سے آزادی حاصل کرنے کی تحریک چلی ۔یہ تحریک آل بوڈو سٹوڈنٹس یونین جو مارچ 1987ء کو قائم ہوئی، کے تحت زور پکڑ گئی۔ اسی تنظیم نے بعد میں اپنا ایک سیاسی ونگ بوڈو پیپلز ایکشن کمیٹی کے نام سے قائم کیا تاکہ اپنی جدوجہدِ آزادی کو تیز کر سکے۔ 1993ء میں مختلف ریاستی معاملات کے باعث یہاں پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے اور تقریباََ80 ہزار لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ بوڈوز کی تحریک آزادی کا جنون پھر بھی سرد نہیں پڑا اور یہ تحریک پورے زوروشور کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

ڈریویڈا ناڈو کی تحریک

ابتداء میں ڈریویڈا ناڈو کی آزادی کی تحریک تامل زبان بولنے والے علاقوں تک محدود تھی لیکن بعد ازاں یہ ان دوسری ریاستوں تک پھیل گئی جہاں جہاں ڈریویڈی زبان بولی جاتی ہے‘ ان میں آندھرا پردیش ، کیرالہ اور کرناٹک کی ریاستیں شامل ہیں۔ تحریک کے محرکین سیلون، اڑیسہ اور مہاراشٹریہ کو بھی ڈریویڈاناڈو میں شامل سمجھتے ہیں۔ 1940ء سے 1960ء تک اس تحریئ آزادی کو مکمل عروج حاصل ہوا۔ تاہم 1956ء کے ریاستوں کے تنظیمِ نو کے قانون نے اس تحریک کو خاصا کمزور کیا۔ اگرچہ یہ تحریک جاری ہے تاہم اس میں پہلے جیسا دم خم نہیں۔

ناگالم کی تحریک

1950ء میں ناگا نیشنل کونسل نے بھارت سرکار کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے اس ریاست کے لئے علیحدگی کا پرزور مطالبہ کیا لیکن یہ تحریک1975ء کے شلونگ معاہدے کے بعد بہت سے جنگجوؤں کے ہتھیار ڈالنے کی وجہ سے کمزور پڑگئی۔ اسی دوران بھارت نے اپنی چالبازیوں سے ناگالینڈ ریاست بناکر اس تحریک کو ختم کرنا چاہا تاہم اب بھی ناگالینڈ کے لوگوں کا ایک بڑا حصہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ نامی تنظیم کے ذریعے ایک علیحدہ ملک کی تحریک کو جاری وساری رکھے ہوئے ہے۔

اروناچل پردیش کی تحریک

یہ بھارت کی 29 ریاستوں میں سے ایک ریاست ہے۔ یہاں کے قبائل آزاد ۂند کے وقت تک آزاد رہے ہیں۔ اروناچل پردیش ، تبت اور ملحقہ علاقوں سے متعلق بھارت اور چائنا میں شدید تناؤ رہا ہے۔1962ء میں بھارت اور چائنا کے بیچ ایک جنگ بھی ہو چکی ہے۔ 1955ء میں شمال مغربی سرحدی ایجنسی (نیفا) کے نام سے یہ علاقہ موسوم کیاگیا۔ تاہم 20 جنوری 1972ء کو اسے اروناچل پردیش کا نام دے دیا گیا اور اسے یونین ٹیریٹری کا درجہ ملا۔20فروری1987ء کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلیاگیا۔ لیکن نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ کے لوگ اب بھی یہاں پر مختلف کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں۔

سکھوں کی تحریکِ خالصتان

خالصتان موومنٹ کے ذریعے سکھ اپنے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ریاست پنجاب میں سکھ روایتی طور پر آباد ہیں۔ انگریز راج سے قبل سکھ یہاں پر82 سال سے حکمرانی کر رہے تھے۔ سکھوں کی تحریکِ آزادی 1970ء سے1980ء تک اپنے بامِ عروج تک پہنچی۔

1980ء میں سکھوں نے مسلح جدوجہد کو زور و شور سے شروع کیا تو اس وقت کی بھارت سرکار نے سکھوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا۔ حتیّٰ کہ بھارتی فوج سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل میں گھس گئی اور وہاں کے مذہبی تقدس کو بے حد پامال کیا جس سے سکھوں پر بجلی گر گئی اور یہ غم وغصہ یہاں تک پہنچا کہ اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم مسز اندرا گاندھی اپنے ہی سکھ باڈی گارڈوں کے ہاتھوں قتل ہوگئی۔ اندراگاندھی کے قتل نے سکھوں پر مزید بھارتی مظالم کا دروازہ کھول دیا اور وہ 1984ء میں سکھ نسل کشی پر مبنی اقدامات کے تحت ہزاروں کی تعداد میں قتل کر دیئے گئے۔

جنوری 1982ء میں گولڈن ٹیمپل پر آل انڈیا سکھ سٹوڈنٹس اور دمدمی ٹیکسل جیسے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا۔22جنوری 1986ء کو وہاں پر ایک اجتماع نے خالصتان کی تخلیق کی قراداد پاس کی اور اس کے بعد ایک تحریکِ آزادی کو برپا کیا گیا۔ تاہم ہند سرکار 1990ء میں اس پر کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہو گئی۔ باوجود اس کے خالصہ راج پارٹی اور (ایس اے ڈی اے) نے اس تحریک کو کسی نہ کسی طور زندہ رکھااور اب بھی یہ تحریک بھارت میں بالعموم اور بھارت سے باہر بالخصوص اپنے لئے حمایت کا سامان کرتی رہتی ہے۔ اور سکھ برادری عالمی سطح پر اپنے مطالبات کی وکالت میں پیش پیش رہتی ہے۔ مصنف ہلال کے لئے مضامین لکھتے ہیں ‘ ان دنوں مقامی یونیورسٹی سے ایم فل کررہے ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

myanmar_fazia.jpg

27
July

العضب 'نبئ کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی تلوار کا نام ہے۔ عضب عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’تیز‘‘ یا ’’کاٹنے والی‘‘ ہوتا ہے۔ یہ تلوار نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو ایک صحابی نے غزوہ بدر سے قبل پیش کی تھی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے یہ تلوار غزوہ بدر اور غزوہ احد میں استعمال کی تھی اور بعد میں یہ تلوار صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے پاس رہی۔ اب یہ تلوار قاہرہ کی جامع مسجد الحسین میں موجود ہے۔ پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کا نام ’’ضرب عضب‘‘ اسی مناسبت سے رکھا گیاجو خوارج کی سرکوبی اور مکمل خاتمے تک جاری رکھا جائے گا۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ برس شروع کئے جانے والا فوجی آپریشن ضرب عضب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے پاکستان میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے جس میں ساٹھ ہزار سے زائد پاکستانی جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں۔ دہشت گردوں نے مذموم کارروائیوں کے ذریعے حکومت، افواج پاکستان اور اس کے شہریوں کو متعد د بار نشانہ بنایا۔اس سے پاکستان اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار ہوا۔ عالمی سطح پر بھی ملک کا امیج خراب ہوا جس کا براہ راست اثر ہماری معیشت اور خارجہ پالیسی پڑا۔ اس صورتحال میں غیرمعمولی اقدامات کی فوری ضرورت تھی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا تھا۔ اس حوالے سے دہشت گردوں سے مذاکرات بھی کئے گئے تاہم وہ بے نتیجہ رہے جس کے بعد گزشتہ سال 15جون کو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔

ضرب عضب کا واضح ہدف پاکستان سے دہشت گردوں کا مکمل صفایا ہے اور قوم پرامید ہے کہ گزشتہ بارہ تیرہ سال سے جس عفریت نے اسے بری طرح سے جکڑ رکھا ہے ، بالآخر اس سے نجات ملنے والی ہے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے خلا ف پاک فوج کو بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور طے شدہ منصوبے کے مطابق وہ اپنے اہداف حاصل کرتی جا رہی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں فیصلہ کن آپریشن اس لئے بھی ناگزیر تھاکہ یہ علاقہ کافی عرصے سے دہشت گردوں کا مرکز بن چکا تھا۔ دنیا بھر کے دہشت گرد جن میں تحریک طالبان کے علاوہ ازبک، چیچن، ترکمانستان کے دہشت گرد شامل ہیں یہاں موجود تھے ۔ خودکش بمبار، دھماکے سے اڑائی جانے والی گاڑیاں، بارودی سرنگیں سب یہاں تیار ہوتے تھے اور دہشت گرد یہاں ایک مکمل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کرکے ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔شمالی وزیرستان سے اُٹھنے والی دہشت گردی کی ان سرکش موجوں نے ملک کے کونے کونے میں تباہی و بربادی کی انتہاء کردی تھی ۔ آئے روز پاک افواج پر حملے کئے گئے۔ بھرے بازاروں میں عام شہریوں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، نشانہ بنایا گیا۔سرکاری و نجی املاک تباہ و برباد ہوگئیں۔ ترقی کا پہیہ رُک گیا۔ معیشت نیم دیوالیہ ہوگئی اورعالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو شدید نقصان پہنچا۔ خیبرپختونخوا اور فاٹا کے بہت سے علاقوں میں سول انتظامیہ دہشت گردوں کے سامنے بے بس نظر آنے لگی۔ یہ علاقے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن گئے۔ انہوں نے اپنے زیر تسلط علاقوں کو بیس کیمپ بنا کر ایک طرف مقامی آبادی پر ظلم وستم کی انتہاء کردی تو دوسری طرف ملک کے دوسرے حصوں تک اپنی مذموم سرگرمیاں پھیلانے کا اعلان کردیا۔ تاہم حکومت نے دہشت گردوں کی ان تمام کارروائیوں کے باوجودنئی حکومت نے انہیں مذاکرات کا موقع دینے کااعلان کیا۔ اس دوران گو کہ دہشت گردوں نے زبانی طور پر اپنی کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا تاہم عملی طور پرایسانہ ہوسکا۔ اسلام آباد کچہری، راولپنڈی آر اے بازار، اسلام آباد سبزی منڈی، ترنول کے قریب افواج پاکستان کے دوسینئر افسروں پر حملہ کیا گیا۔ 8جون کو دہشت گردوں نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر حملہ کیا اور اگلے ہی روز پاکستان بھر میں اسی طرز کے دہشت گردحملوں کی دھمکی دے دی۔جس کے بعد حکومت نے دہشت گردوں سے مذاکرات ختم کرنے اوران کے خلاف فیصلہ کن اور بھرپور کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔

ضرب عضب کے اہداف میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کا پاک سرزمین سے مکمل خاتمہ کرکے حکومت کی رٹ قائم کرنا ، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کرنا، ہتھیار نہ پھینکنے والے دہشت گردوں کا خاتمہ اور فاٹا اور ملحقہ علاقوں میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کرنا شامل ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے برملا اظہار کیا کہ آپریشن ضرب عضب کا مقصد ریاست کی رٹ قائم کرنا ہے۔ پاک فوج یہ جنگ ملک میں امن اور استحکام کے لئے لڑرہی ہے، فورسز کو مکمل قانونی حمایت بھی فراہم کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پوری قوم اس جنگ میں اپنے جوانوں کے پیچھے کھڑی ہے، ریاست کی رٹ قائم ہونے تک فوج اور انٹیلی جنس ادارے دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے آپریشن کے آغاز پر واضح کردیا تھا کہ دہشت گردوں کا پیچھا کر کے انہیں انجام تک پہنچایا جائے گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ افواجِ پاکستان نے آپریشن سے قبل تمام علاقے کو سیل کردیا تھا خاص طور پر افغان سرحد پر نگرانی سخت کردی گئی تھی اور اس حوالے سے افغان حکومت اور نیٹو کو بھی کڑی نگرانی کے لئے کہا گیاتاہم دوسری جانب ان مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیاگیا۔ جس کے نتیجے میں بہت سے دہشت گرد افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان علاقوں سے پاکستان سرحد پر حملے کئے گئے۔ جس پر پاکستان نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں فرار ہونے والے دہشت گردوں اور افغان سرحدوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے مطلوب افراد کو افغانستان کے سرحدی علاقوں بالخصوص نورستان اور کنٹر میں پناہ دی جارہی ہے اور پڑوسی ملک کی جانب سے یہ طرز عمل آپریشن کے مطلوبہ مقاصد میں رکاوٹ اور نتائج پر اثرا نداز ہوسکتا ہے۔ افغانستان کو اس بات پر آمادہ کرنا ضروری تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو سب کے لئے مشترکہ چیلنج ہے‘ باہمی تعاون ضروری ہے۔اسی امر کے پیش نظر وزیراعظم ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل کے ہمراہ افغانستان میں افغان قیادت سے ملے اور انہیں آگاہ کیا کہ پاکستان دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے خلاف کسی قسم کے امتیاز کے بغیر کارروائی کررہا ہے۔ ملاقات میں افغان قیادت کی طرف سے بھی مثبت اشارے دیئے گئے۔

آپریشن ضرب عضب چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے پر شمالی وزیرستان کے علاقوں سے مقامی، غیرعسکری اور حکومت حامی آبادی کے انخلاء اور نقل مکانی کے ممکنہ راستوں اور مقامات کی نشاندہی، دوسرے مرحلے میں زمینی آپریشن اور علاقے کی ’’فزیکل سرچ‘‘، تیسرے مرحلے میں ازسرِ نو بحالی جب کہ چوتھے اور آخری مرحلے میں مقامی آبادی کی واپسی اور نوآباد کاری شامل ہے۔ پہلے مرحلے میں میرعلی، میران شاہ اور شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں مقامی افراد نے نقل مکانی کرتے ہوئے بنوں، لکی مروت اور ٹانک کے علاقوں کی جانب سفر شروع کیا۔ مقامی آبادی کے کامیاب انخلاء کے فوراََ بعد دہشت گردوں کے خلاف دوسرے مرحلے میں زمینی آپریشن کا آغازہوا۔ اس دوران پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے ان کی کمرتوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاک فوج کے ز مینی آپریشن کے بعد انہیں کلیئر کیا گیا اور دستے میر علی اور میران شاہ جا پہنچے۔ یہ دو مقام دہشت گردوں کے شمالی وزیرستان میں سب سے بڑے مرکز تھے۔یہاں پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ بہت سے گرفتار بھی ہوئے اور متعدد نے ہتھیار بھی ڈال دیئے۔اس کے بعد افغان بارڈر کی طرف درپہ خیل کوبھی کلیئر کیا گیا۔ میرانشاہ کے بعد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے اہم مراکز بویا اور دیگان کے علاقوں کو بھی دہشت گردوں سے پاک کروایا گیا اور وہاں پاک فوج اپنا قبضہ مستحکم کرچکی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل عاصم باجوہ کی ایک پریس بریفنگ کے مطابق ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کئے جاچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے کلیئر کرائے گئے علاقوں کو انتظامیہ کے حوالے کررہے ہیں۔آپریشن کے آغاز سے اب تک 2700دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک ہزار ٹھکانے اورکمین گاہیں تباہ کی جاچکی ہیں۔ علاوہ ازیں بھاری تعداد میں اسلحہ، ہتھیار اور سیکڑوں ٹن باروی مواد برآمد بھی برآمد کیا گیا ہے۔شمالی وزیرستان کے علاوہ بعض دوسری ایجنسیوں میں مختلف گروپوں کی موجودگی کی اطلاعات پر ان کے خلاف بھی آپریشن شروع کیا گیا۔ خیبرایجنسی میں آپریشن ’’خیبرون‘‘ کے ذریعے دہشت گردوں کے ایسے ٹھکانوں کے خلاف متعدد مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک نوے فیصد علاقہ کلیئر کروایا جا چکا ہے۔

ضرب عضب چونکہ دہشت گردوں کے خلاف ضربِ کاری ثابت ہوا ہے اس لئے ان کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا۔ 16دسمبر کو دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کرکے بہت سے معصوم بچوں اور اساتذہ کو شہید کردیا۔ اس ہولناک واقعے سے پاکستان تو کیا پوری دنیا کانپ اٹھی۔ سانحہ پشاور کے بعد پاکستانی قوم ایک مرتبہ پھر ملی جذبے سے اٹھی۔ اس واقعہ کے بعد وزیر اعظم پاکستان کی زیر صدارت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں انتہائی اہم فیصلے کئے گئے جن پر فوری عملدرآمد اور ٹائم فریم پر سب نے اصرار کیا۔ اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کمزور فیصلے کئے تو قوم مطمئن نہیں ہوگی، قوم کو اس وقت تسلی ہو گی جب مجرموں کو سزا ملے گی۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے مقدمات کے لئے فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں قائم کر نے کا اعلان کیا۔ جن کی مدت 2سال ہوگی۔ خصوصی ٹرائل کورٹ کے قیام سے یقیناًایسے جرائم کا ارتکاب کر نے والے عناصر بلا تاخیر اپنے انجام کو پہنچائے جاسکیں گے۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ملک میں کسی طرح کی عسکری تنظیموں اور مسلح جتھوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ نفرتیں ابھارنے، گردنیں کاٹنے، انتہا پسندی اور فرقہ واریت اور عدم برداشت کو فروغ دینے والے لٹریچر اخبارات اور رسائل کے خلاف مؤثر اور بھر کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہشت گردوں اور ان کے نظریات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہوگی۔ دہشت گردوں کی مالی اعانت کے تمام وسائل مکمل طورپر ختم کر دیئے جائیں گے۔ کالعدم تنظیموں کو کسی دوسرے نام سے کام کر نے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سپیشل اینٹی ٹیررازم فورس کے قیام اور انسداد دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کو مضبوط اورفعال بنانے کافیصلہ بھی کیاگیا ہے۔ مذہبی انتہاپسندی کو روکنے اور اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ضابطہ بندی ہوگی۔ بے گھر افراد کی فوری واپسی کو پہلی ترجیح رکھتے ہوئے فاٹا میں انتظامی اور ترقیاتی اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کے مواصلاتی نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ انٹر نیٹ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کے فروغ کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ملک کے ہر حصے میں انتہا پسندی کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی۔سانحہ پشاور کے بعد ضرب عضب دہشت گردی کے خلاف قومی آپریشن کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ اب پوری قوم اور فوج متحد ہو کر ان کا صفایا کر نے پر کمر بستہ ہوچکی ہے۔

ضرب عضب آپریشن کے دوران تقریباً دس لاکھ افراد نے نقل مکانی کی۔ جن کی واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ آپریشن کے دائرہ کار اور اختتام کی حتمی تاریخ نہیں دی جاسکتی تاہم جس طرح افواج پاکستان کامیابی سے بھرپور آپریشن کررہی ہیں اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے باقی افراد بہت جلد اپنے علاقوں میں واپس جاسکیں گے۔ افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ حکومت اور ملک کے عوام نے آئی ڈی پیز کی خدمت کے لئے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی مثالی ہے۔ پاک فوج نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے کے ساتھ ساتھ ایک ماہ کی تنخواہ اور ہزاروں ٹن کا راشن بھی اپنے قبائلی بھائیوں کے لئے پیش کیا ۔ جس طرح پاک فوج کے افسر اور جوان بے جگری سے شدت پسندوں کے خلاف صف آرا ہوکر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں انہیں نہ صرف شمالی وزیرستان کے باسی بلکہ تمام محب وطن پاکستانی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔متاثرین کی بحالی کے لئے بھی پاک فوج کے جوان سرگرم عمل ہیں۔امید ہے کہ اس مرحلے کی بھی کامیابی سے تکمیل ہوجائے گی۔شمالی وزیرستان کے باسی جب اپنے گھروں کو لوٹیں گے تو انہیں یہ احساس ضرور ہوگا کہ پاک فوج کے شہداء نے ان کے کل کے لئے اپنا آج قربان کردیا ۔

27
July

پاکستان کے دفاعی بجٹ کے بارے میں غلط فہمی ہے کہ یہ مکمل بجٹ کا 70 یا 80 فیصد حصہ لے جاتا ہے ایسا قطعاً نہیں۔ پچھلے مالی سال 2014-15 کا بجٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ مکمل بجٹ کا خرچ 4302 ارب روپے تھا جو مالی سال2013-14 سے7.9 فیصد زیادہ تھا۔ اس میں سے700 ارب روپے ڈیفنس افیئرز اینڈ سروسز کے لئے رکھے گئے تھے۔ جسے دفاعی بجٹ کہا جاتا ہے جو کہ کل کے بجٹ کا16.27 فیصد تھا-

الڈوس ہگزلے ایک مشہور انگریزی ادیب ہے‘ وہ کہتا ہے:’’کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے اور انہی کے درمیان ہمارے ادراک اور شعور کے بند دروازے پائے جاتے ہیں۔‘‘

کسی بھی بات کو سمجھنے کے لئے اسے جاننا بہت ضروری ہے۔ جانیں گے نہیں تو سمجھیں گے نہیں۔ اور جب ہم جان لیتے ہیں تو ہمارے ادراک اور شعور کے بند دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہی بنیادی اصول ایک صحافی کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔ جاننا۔۔۔ ! تحقیق کرنا۔۔۔! اپنے شعور کے بند دروازے کھولنا اور دوسروں تک اس ادراک کو پہچاننا۔ آج جس اہم معاملے پر میں نے قلم اٹھایا ہے وہ ہے ’’پاکستان کا دفاعی بجٹ‘‘ یہ معاملہ جتنا اہم ہے اتنا ہی حساس ہے ۔ اور جتنا حساس ہے اتنا ہی غلط فہمی پر بھی مبنی ہے!

جب ہم کسی چیز کو جانتے نہیں تو اس کے بارے میں غلط اطلاع یا غلط تاثر پھیلا دیتے ہیں اور ایسا ہی کچھ معاملہ پاکستان کے دفاعی بجٹ کے متعلق بھی ہے۔ اغیار کی ریشہ دوانیاں اور پراپیگنڈہ تو ایک طرف اس پر آخر میں بات کروں گی‘ پہلے ان ’’اپنوں‘‘ کے لئے کچھ حقائق سامنے رکھوں گی جو غلط فہمی یا تحقیق کی کمی کے باعث پاکستان کے دفاعی بجٹ پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ سب سے کم ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کے دفاعی بجٹ پر بنی ہوئی ورلڈ بینک کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اندازہ ہو جائے گا کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ کیا ہے؟

پاکستان کے دفاعی بجٹ کے بارے میں غلط فہمی ہے کہ یہ مکمل بجٹ کا 70 یا 80 فیصد حصہ لے جاتا ہے ایسا قطعاً نہیں۔ پچھلے مالی سال 2014-15 کا بجٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ مکمل بجٹ کا خرچ 4302 ارب روپے تھا جو مالی سال2013-14 سے7.9 فیصد زیادہ تھا۔ اس میں سے 700 ارب روپے ڈیفنس افیئرز اینڈ سروسز کے لئے رکھے گئے تھے۔ جسے دفاعی بجٹ کہا جاتا ہے جو کہ کل کے بجٹ کا16.27 فیصد تھا- یہ بجٹ افواجِ پاکستان کی تینوں شاخوں‘ آرمی‘ ایئر فورس اور نیوی کے لئے تھا۔ اس بجٹ میں سے 48 فیصد آرمی‘ 20 ایئر فورس اور 10 فیصد نیوی کے لئے مختص تھا۔ جبکہ باقی ماندہ بجٹ انٹر سروسز اداروں‘ ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن اور پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے لئے مختص تھے۔ اس بجٹ کا زیادہ حصہ ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر سہولیات پر خرچ کرنے کے لئے مختص تھا۔ دفاعی بجٹ کا خرچ تنخواہوں‘صحت‘ ٹریننگ‘ آپریشنز کی فنڈنگ‘ ہتھیاروں اور دیگر سہولیات‘ دیکھ بھال اور نئی اشیاء کی خریداری پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ2014- 15 کے لئے ملکی اور علاقائی صورت حال کے پیشِ نظر دفاعی بجٹ میں 173 ارب روپے اضافے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی لیکن اس کے برعکس اضافہ صرف73 ارب روپے کیا گیا تھا۔

پچھلی دو دہائیوں سے پاکستان کے دفاعی بجٹ میں مسلسل کٹوتی کی جارہی ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان اگلے محاذوں پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور پچھلے سال سے آپریشن ضربِ عضب بھی جاری ہے‘ جس کے آپریشنل اخراجات کا اندازہ اس کی کامیابیوں کے تناسب سے لگایا جاسکتا ہے۔یہاں واضح کرنا بھی ضرور ی ہے کہ80 کی دہائی کے آخر تک پاکستان اپنے جی ڈی پی(یا مجموعی ملکی پیداوار) کا 7 فیصد دفاع پر خرچ کرتا تھا جو 90 اور 2000 کی دہائی میں کم کرکے 3.9 فیصد کردیا گیا اور مالی سال 2014 - 15 کے لئے تو دفاعی بجٹ کو مزید کم کرکے 2.4 فیصد کردیا گیا۔

اس کے علاوہ یہ بھی واضح رہے کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ سب سے کم ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کے دفاعی بجٹ پر بنی ہوئی ورلڈ بینک کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اندازہ ہو جائے گا کہ خطے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ کیا ہے؟ ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ جی ڈی پی کے حساب سے ملکوں کے دفاعی بجٹ کا فیصد بتاتی ہے اور یاد رکھئے گا کہ جن ملکوں کا ڈیٹا میں آپ کو بتاؤں گی ان کی ملکی معیشت کا حجم اور افراطِ زر کو بھی مدِ نظر رکھئے گا۔

 

pak_defai_bug.jpg

 

2005 سے 2009 میں بھارت نے اپنا دفاعی بجٹ 2.8 فیصد سے بڑھا کر 2.9 فیصد تک کردیا۔ چین نے اپنا دفاعی بجٹ 2.0 فیصد سے بڑھا کر 2.2 فیصدکردیا جبکہ اس کے برعکس خطے میں پاکستان نے اپنی معیشت کے اعتبار سے اپنے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کی اور اسے 4.2 فیصد سے 3.3 فیصد تک لے آیا۔ جبکہ اسی عرصے میں امریکہ نے بھی اپنے دفاعی بجٹ میں چین اور بھارت کی طرح اضافہ کیا اور اسے 3.8 فیصد سے 4.6 فیصد تک لے گیا۔

80 کی دہائی کے آخر تک پاکستان اپنے جی ڈی پی (یا مجموعی ملکی پیداوار) کا 7 فیصد دفاع پر خرچ کرتا تھا جو90 اور 2000 کی دہائی میں کم کرکے 3.9 فیصد کردیا گیا اور مالی سال 2014-15 کے لئے تو دفاعی بجٹ کو مزید کم کرکے 2.4 فیصد کردیا گیا۔

اب آجایئے 2010-2014 کے ڈیٹا پر۔ اس عرصے میں البتہ بھارت اور چین نے اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کی اور پاکستان بھی پہلے کی طرح مستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کرتا رہا۔ بھارت نے دفاعی بجٹ 2.1 فیصد تک کردیا۔ چین 2.7 فیصد سے 2.4 فیصد تک لے آیا۔ امریکہ نے بھی اپنے دفاعی بجٹ میں معمولی کمی کی اور اسے4.7 فیصد سے3.8 فیصد پر لے آیا۔لیکن اب پڑوسی ملک بھارت سے خبر ہے کہ وہ آئندہ مالی سال 2015-16 کے لئے اپنا دفاعی بجٹ 40 ارب ڈالر کی بھاری رقم تک بڑھا رہا ہے جو 2014-15 کے لئے 35ارب ڈالر تھی ! یہ اُس اضافی بجٹ سے علیٰحدہ ہے جسے اگر شامل کیا جائے تو انڈیا کا موجودہ دفاعی بجٹ46 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

بھارت پہلے ہی دنیا میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ 2013 میں بھارت نے 6 ارب ڈالر ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کئے۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی معاہدوں کی بنیاد پر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بحث کو فروغ دیا جائے کہ آیا پاکسان کو بھی اپنا دفاعی بجٹ اس سال بڑھانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟؟ بحث میں اس حقیقت کو مدِ نظر رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کئی آپریشنز بھی چل رہے ہیں جو اپنی کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان آپریشنز کی کامیابی کی رفتار پر اختلاف یا بحث ہو سکتی ہے لیکن پاکستان میں کسی بھی شخص کو اس بات سے اختلاف نہیں کہ ان آپریشنز کو ہر حال میں کامیاب بنانا ہے ’’چاہے گھاس ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔‘‘ یاد رہے یہ جملہ صرف محاورتاً استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ’’را‘‘ کی سرگرمیاں پاکستان میں بڑھتی جارہی ہیں۔ ان کا سدِ باب کرنے کے لئے بھی دفاعی بجٹ کی ضرورت ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ آئندہ مالی سال 2015-16 کے لئے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس اضافے کی مقدار کیا ہونی چاہئے‘ اس پر بحث لازم ہے اور میرا خیال ہے کہ متعلقہ حلقوں میں یہ بحث رواں ہوگی اور آخر میں حتمی فیصلہ قومی اسمبلی کی بجٹ بحث میں ہوگا۔ لیکن اس کے ساتھ میری توقع یہ بھی ہے کہ تعلیم‘ صحت اور ترقیاتی اخراجات میں بھی مناسب اضافہ کیا جائے گا اور اس اضافے کے درست اور شفاف استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ اس کی آڑ میں ملک کے دفاعی بجٹ کے متعلق غلط فہمی کو ہوا نہ دی جاسکے۔ آخر میں مجھے یقین ہے کہ میری اس تحریر کے ذریعے بہت سے لوگ جو دفاعی بجٹ کے متعلق نہیں جانتے تھے‘ اب جان چکے ہوں گے اور اپنے شعور ادراک کے دروازوں کو تحقیق کے لئے کھلا رکھیں گے۔

27
July

ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے تو یہ اطمینان بھی ہے اور تسکین بھی کہ ملک میں ایک منظم ادارہ موجود ہے۔ جو مختلف علاقوں‘ صوبوں اور قبیلوں میں فکری اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہا ہے۔ علاقے کی سیاسی‘ معاشی‘ علمی‘ عسکری صورت حال سے آگاہ رہتا ہے اور ان کے مطابق اپنے آپ کو منظم بھی رکھتا ہے۔ اس کی روشنی میں ہی جوانوں اور افسران کو مطلوبہ تربیت بھی دے رہا ہے۔ میں یہ یقین کرنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر کسی فورم میں امریکہ‘ برطانیہ‘ چین‘ روس‘ جرمنی‘ ترکی کے فوجی جوان یا افسروں کے ساتھ پاکستانی بری‘ بحری اور فضائی افواج کے افسر ہوں گے تو وہ کسی طرح بھی ان سے کم نہیں ہوں گے۔ ان کا علمی شعور‘ فوجی تربیت‘ جدید ترین اسلحے سے آگاہی‘ نئی عسکری حکمت عملیوں سے واقفیت ‘ ان سب کے برابر ہوگی۔

یہ بجٹ کا مہینہ ہے۔

انہی دنوں میں شب برأت بھی آئے گی جب قدرت اپنا بجٹ تیار کرتی ہے۔

رمضان کے مبارک ایام بھی اسی مہینے میں آئیں گے۔

میری طرف سے آپ کو ان تمام اہم دنوں کی مبارکباد۔

بجٹ کے آتے آتے ایک فیشن یہ بھی بن چکا ہے کہ بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے مطالبات سامنے آتے ہیں۔ فوجی بجٹ میں کمی کی جائے۔ قوم کا سب سے زیادہ پیسہ فوج کھا جاتی ہے۔ فوج سے ہمیں ملتا کیا ہے۔ ایک نعرہ یہ بھی لگتا ہے کہ فوجی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ اس کے ایک ایک شعبے پر بحث کی جائے۔ اس بحث مباحثے‘ نعروں اور مطالبوں کا ایک ماضی ضرور ہے۔ پاکستان میں سیاسی اور فوجی حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں۔ برابر برابر کا عرصہ ہی ہوگیا ہوگا۔

ہم بھی ایک زمانے میں انہی مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ ہوتے تھے۔ میرے خیال میں ایسا لکھتے بھی رہے ہوں گے۔ مارشل لا کسی طرح بھی کسی ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ لیکن اگر پاکستان کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو 1953۔ 1958۔ 1969۔ 1977۔ 1999 ہر بار ہی ایسے اسباب‘ محرکات اور عوامل پیدا ہوئے۔ ایسا خلاء پیدا ہوا جس میں فوجی حکمرانوں کو ملک کا نظم و نسق سنبھالنے کا موقع مکمل ملتا رہا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی مارشل لا ء یا فوجی حکومت کو آخر میں اپنے مقاصد کے حصول اور اہداف میں کامیابی کے بغیر ہی جانا پڑا۔ اس میں ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ سابق بیوروکریٹس کی آپ بیتیاں بھی بازار میں دستیاب ہیں اور ریٹائرڈ جنرلوں کی خود نوشت سوانح بھی۔ بیورو کریٹ ہوں یا جنرل‘ دونوں اپنی ذات کو صاف بچاتے ہیں۔ خود کو بہت ہی زیادہ دیانت دار‘ اصول پرست ثابت کرتے ہیں۔ اگر ان ساری داستانوں کو درست مان لیا جائے تو پھر تاریخ ہم سے سوال کرتی ہے کہ ملک آج اگر وہاں نہیں ہے جہاں ہونا چاہئے تھاتو ان خرابیوں اور بربادیوں کا ذمہ دار کون ہے۔

میں پاکستان کا ہم عمر ہوں۔ بلکہ پانچ سال بڑا ہوں۔ میرا بچپن‘ لڑکپن‘ جوانی‘ ادھیڑ عمری اور اب بڑھاپا۔ پاکستان کا درد اپنے دل میں سموئے۔ سیاسی اور فوجی قائدین کو بہت قریب سے جلوت‘ خلوت یعنی محفلوں اور تنہائی میں دیکھتے گزر رہا ہے۔ میں سب کی قدر کرتا ہوں۔ کیونکہ سب ہی پاکستانی تھے اور ہیں۔ میں کسی کو بھی وطن دشمن یا غدار نہیں سمجھتا۔ نہ ہی ان میں سے کوئی تھا۔ سب اپنے اپنے طور پر پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ لیکن کسی کے سامنے بصیرت تھی‘ کسی کے نہیں۔

دفاعی بجٹ کے زیادہ ہونے یا اس میں کمی کرنے کے نعروں کے بجائے ہمارے دانشوروں اور سول سوسائٹی اور اینکر پرسنز کو اس بات پر زور دینا چاہئے کہ سول حکومت کے جن محکموں کو جو بجٹ ملتا ہے۔‘وہ اس کا جائز اور مکمل استعمال کریں۔ سول تعلیمی ادارے‘ اسپتال‘ زراعت‘ بجلی اور دوسرے شعبے بھی فوجی اداروں کی طرح منظم‘ مکمل اور جدید ترین تقاضوں کے مطابق ہوں۔

غلطیاں سیاسی حکمرانوں اور فوجی حکمرانوں دونوں نے کیں۔ لیکن فوجی حکمران چونکہ ایک منظم ادارے کی نمائندگی کرتے تھے‘ اس لئے ان کے ہاں اپنے غلطیوں سے سبق سیکھنے کا ایک ماحول تھا۔ اور فوج میں اپنی جنگی فتوحات اور شکستوں کا جائزہ لینے کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔ میرا تعلق کبھی فوج سے نہیں رہا۔ لیکن جو رشتے دار دوست احباب اس انتہائی منظم اور مقدس ادارے سے وابستہ رہے ہیں‘ ان سے تبادأہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ ملک اور دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے‘ انحطاط اور زوال کے رجحانات‘ان کے اثرات‘ ظاہر ہے کہ مسلح افواج پر بھی پڑتے ہیں۔ لیکن ساری دنیا کی فوجوں کی طرح پاکستان کی مسلح افواج نے بھی حالات‘ نفسیات‘ واقعات کا اجتماعی جائزہ لینے اور نئے نئے اصلاحاتی پروگرام جاری کرنے کا عمل اختیار کیا ہے۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں‘ اس کا برملا اظہار بھی کرتا رہا ہوں‘ اپنے کالموں میں‘ ٹی وی ٹاک شوز میں‘ میں نے اپنے ذاتی جریدے ماہنامہ ’اطراف‘ میں سرورق کی کہانی بھی شائع کی تھی۔ غلطیاں دونوں سے ہوئیں۔ فوج نے سبق سیکھا ۔ سیاستدانوں نے نہیں۔

میں جب غور کرتا ہوں تو بڑی سیاسی جماعتوں‘ سیاستدانوں کے انداز فکر‘ حکمت عملی‘ طرز گفتگو میں زمانے کی تبدیلیوں کا کوئی اثر نہیں دیکھتا‘ نائن الیون‘ جس نے بھی کیا‘ کروایا‘ اس نے دنیا میں طرز فکر تبدیل کردی ہے۔ عالمی سطح پر آبادیاں تقسیم ہوگئی ہیں۔ امریکہ نے اپنے آپ کو واحد سپر طاقت قرار دے دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی‘ سیکورٹی کونسل‘ نیٹو‘ سب اس کے تابع ہوچکے ہیں۔ یورپ کی روشن خیالی‘ نشاۃ ثانیہ‘ یورپی یونین‘ جیسے سارے اثاثے امریکہ کے سامنے ہیچ ہوچکے ہیں۔ چھوٹے ملکوں میں بہت کچھ سوچا جارہا ہے۔ ایشیا میں سوچ کی نئی لہریں ابھر رہی ہیں۔ لیکن ہمارے سیاستدان کچھ 1977کے ہیر پھیر سے نہیں نکلے۔کچھ کی سوئیاں 1999 میں اٹکی ہوئی ہیں۔ ان کے بیانات دیکھیں تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ دنیا میں کوئی نائن الیون ہوا ہے۔ اسامہ بن لادن کو پاکستان کی سرزمین میں ڈھونڈا گیا۔ ہلاک کردیا گیا۔ صدام حسین کو کس طرح رسوا کیا گیا۔ پھانسی دی گئی۔ معمر قذافی کے ساتھ کیسا غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ مصر‘ تیونس‘ بحرین میں کیا ہورہا ہے۔ بھارت میں توسیع پسندی کے عزائم میں کتنا اضافہ ہورہاہے۔ چین کی ترقی کرتی معیشت کی کس طرح مزاحمت کی جارہی ہے۔

قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی تقریریں سن لیں۔ ٹاک شوز میں ان کے فرمودات ملاحظہ کریں۔ ان میں سے کسی کے ہاں بھی کوئی آفاقی بصیرت‘ علاقائی ادراک نظر نہیں آتا۔ آج کی دنیا میں ہم کٹ کے نہیں رہ سکتے۔ ہر لمحے دنیا میں کہیں بھی کچھ ہورہا ہے‘ اچھا یا برا‘ اس سے دنیا کا ہر خطہ متاثر ہورہا ہے۔ عالمگیریت ایک حقیقی رجحان ہے جو آپ کے رہن سہن‘ بول چال‘ فکر و نظر‘ معیشت‘ تعلیم اور سماجی رویّوں پر اثر انداز ہورہا ہے۔ جہاں ایک طرف میں قومی سیاسی جماعتوں کے مرکزی دفاتر‘ بیانات‘ منشور میں یہ عالمگیر تناظر دیکھتا ہوں اور نہ ہی مستقبل کے لئے کوئی منصوبہ بندی‘ نہ ہی ماضی میں کی گئی غلطیوں کا اعتراف اور ان کی روشنی میں اپنی اصلاح۔ وہاں فوج میں‘ ان کے ارتقائی ڈھانچے‘ ان کے انداز فکر‘ کور کمانڈرز کی میٹنگوں کے موضوعات‘ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور دوسرے فوجی اداروں میں تربیت‘ مباحث کے امور‘ پاکستان میں کیا سیاسی‘ سماجی‘ عالمی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ دنیا میں کیا فکری تحریکیں چل رہی ہیں۔ سیاسی فلسفے کیا ہیں۔ عسکری حکمت عملی کیا ہے۔ مجھے تو کبھی این ڈی یو‘ یا کسی اور فوجی ادارے میں جانے کا موقع نہیں ملا ہے۔ لیکن جانے والوں سے تبادأہ خیال میں جو سنا ہے اس سے انداز ہ بھی ہوتا ہے اور فخر بھی کہ وہ جدید ترین دنیا سے پیچھے نہیں ہیں۔

ہمیں اس وقت انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔ بھارت کا رویہ وہی ہے نئے وزیراعظم نریندر امودی کے آنے کے بعد تو اور جارحانہ ہوگیا ہے اور اب کئی مہینوں سے ملک کے مختلف حصوں میں ’’را‘‘ کی موجودگی کے ثبوت مل رہے ہیں۔ دہشت گردی اور سبوتاژ کی وارداتوں میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی تصدیق فوجی حلقے بھی کررہے ہیں اور سیاسی حکومتیں بھی۔ اس مخدوش صورت حال میں مکمل تیاریوں کے لئے یقیناًآپ کو امن و امان کے قیام کے لئے بھی بجٹ بڑھانا ہوگا ۔

ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے تو یہ اطمینان بھی ہے اور تسکین بھی کہ ملک میں ایک منظم ادارہ موجود ہے۔ جو مختلف علاقوں‘ صوبوں اور قبیلوں میں فکری اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہا ہے۔ علاقے کی سیاسی‘ معاشی‘ علمی‘ عسکری صورت حال سے آگاہ رہتا ہے اور ان کے مطابق اپنے آپ کو منظم بھی رکھتا ہے۔ اس کی روشنی میں ہی جوانوں اور افسران کو مطلوبہ تربیت بھی دے رہا ہے۔ میں یہ یقین کرنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر کسی فورم میں امریکہ‘ برطانیہ‘ چین‘ روس‘ جرمنی‘ ترکی کے فوجی جوان یا افسروں کے ساتھ پاکستانی بری‘ بحری اور فضائی افواج کے افسر ہوں گے تو وہ کسی طرح بھی ان سے کم نہیں ہوں گے۔ ان کا علمی شعور‘ فوجی تربیت‘ جدید ترین اسلحے سے آگاہی‘ نئی عسکری حکمت عملیوں سے واقفیت ‘ ان سب کے برابر ہوگی۔ دوسرے شعبوں میں چاہے وہ تعلیم ہو‘ صحت‘ سیاست‘ پارلیمان‘ وہاں ہم یہ بات اعتماد سے نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ یہاں تربیت اور اکتساب علم کی اہمیت نہیں ہے۔

پاکستان جس خطرناک محل وقوع پر موجود ہے۔ فرض تو یہ سیاسی قیادتوں کا تھا کہ اس اہم اور حساس جغرافیائی پوزیشن کو اپنے ملک اور عوام کے لئے وسائل اور فیوض کا سرچشمہ بنالیتے یہ دنیا کا حساس ترین مرکز ہے۔ یہاں سے بہت سے راستے اہم ترین ممالک کو جاتے ہیں۔ لیکن بہت کم سیاسی ادوار میں اس کے لئے مطلوبہ اقدامات کئے گئے۔ اب یہ اہمیت‘ نزاکت میں بدل گئی ہے۔ پھر ملک کے اندر جس قسم کی سرزمین ہے۔ خطرناک گھاٹیاں‘ آسمان کو چھوتے پہاڑ‘ میدان‘ ان سب کے لئے ایک بہت زیادہ منظم‘ تربیت یافتہ سکیورٹی فورس کی ضرورت رہتی ہے۔ پھر افغانستان میں اب تک تاریخ کے مختلف ادوار میں جو کچھ ہوتا رہا‘ یہ زیادہ تر بھارت کے زیراثر رہا ہے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ میں رکنیت حاصل کرنے میں رکاوٹیں ڈالتا رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ نے مختلف اسباب اور واقعات کی بنا پر یہاں مستقل فوجی موجودگی کو ضروری سمجھا ہے۔ اس سے پہلے سرد جنگ کے دور میں روس نے اپنا مرکز بنائے رکھا۔ چین ہمارا دوست ہے۔ لیکن مغرب اس کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت سے خوف زدہ ہے اور کوئی نہ کوئی سازشیں کرتا رہتا ہے۔ انتہا پسند جہادی تنظیمیں بھی پاکستان سے ملحقہ چینی علاقوں میں سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں۔ پھر ہماری مشرقی سرحد‘ جہاں بھارت اپنی توسیع پسندی اور پاکستان سے ازلی دشمنی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے‘ طویل سرحد ہے جس پر بھارت کی فوجیں خفیہ ادارے اپنی حرکتیں جاری رکھتے ہیں۔ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ‘ 7لاکھ فوج کی تعیناتی‘ کشمیریوں پر گھناؤنے مظالم‘ یہ ساری علاقائی صورت حال اور دنیا کے حساس ترین مرکز میں ہماری موجودگی‘ انتہائی سخت‘ منظم‘ سکیورٹی کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان کے آغاز سے ہی بھارت کے معاندانہ رویے‘ حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ پر قبضے‘ مشرقی پاکستان‘ بلوچستان میں مداخلت‘ سندھ میں علیحدگی پسندی کو تقویت دینے کے سلسلے جاری رہے۔ اس لئے ہمیں اپنے فوجی اخراجات پر توجہ دینا پڑی۔ ابتدا میں فوج کا بجٹ دوسرے شعبوں سے زیادہ ہوتا تھا۔ اس پر تحقیق کی جاسکتی ہے لیکن ہماری مختلف حکومتوں نے دوسرے ملکوں سے قرضے لینے کی جو روایات جاری رکھیں۔ یہ قرضے کبھی مطلوبہ اور متعلقہ منصوبوں پر پوری طرح خرچ نہیں ہوئے‘ یہ قرضے بڑھتے چلے گئے۔ عوام کی ضروریات پوری نہیں ہوئی ہیں۔ بجلی کی پیداوار ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ تعلیم کی شرح خاطر خواہ نہیں ہے۔ علاج معالجے کی سہولتیں معیاری نہیں ہیں۔ لیکن قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ اب تو کئی عشروں سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی‘ ہمارے بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ کھارہا ہے۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ اب دفاعی بجٹ کے اعداد و شمار‘ قرضوں کی ادائیگی کے اعداد و شمار سے بہت کم ہیں جبکہ ملک کی سلامتی کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ہمیں اس وقت انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔ بھارت کا رویہ وہی ہے نئے وزیراعظم نریندر امودی کے آنے کے بعد تو اور جارحانہ ہوگیا ہے اور اب کئی مہینوں سے ملک کے مختلف حصوں میں ’’را‘‘ کی موجودگی کے ثبوت مل رہے ہیں۔ دہشت گردی اور سبوتاژ کی وارداتوں میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی تصدیق فوجی حلقے بھی کررہے ہیں اور سیاسی حکومتیں بھی۔ اس مخدوش صورت حال میں مکمل تیاریوں کے لئے یقیناًآپ کو امن و امان کے قیام کے لئے بھی بجٹ بڑھانا ہوگا اور تینوں افواج کے لئے بھی بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔

اپنے مشاہدے کی ایک اور صورت بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا کہ پارلیمنٹ بھی اس کی تصدیق کرسکتی ہے کہ فوج کو اپنے مختلف شعبوں کے لئے جو بجٹ بھی ملا ہے‘ اس کا بڑی حد تک صحیح استعمال ہوا ہے۔ اس لئے فوجی ادارے مضبوط ہوئے ہیں۔ وہاں ایک نظم و ضبط اور آگے بڑھنے کے مظاہر ملتے ہیں۔ ہم ایٹمی طاقت بننے میں بھی اس لئے کامیاب ہوگئے کہ اس کا مالیاتی کنٹرول فوج کے پاس رہا۔ اگر یہ کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا تو کتنی بڑی رقوم ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتیں اور ہم ایٹمی تجربہ بھی نہ کرپاتے۔ دفاعی بجٹ کے زیادہ ہونے یا اس میں کمی کرنے کے نعروں کے بجائے ہمارے دانشوروں اور سول سوسائٹی اور اینکر پرسنز کو اس بات پر زور دینا چاہئے کہ سول حکومت کے جن محکموں کو جو بجٹ ملتا ہے۔‘وہ اس کا جائز اور مکمل استعمال کریں۔ سول تعلیمی ادارے‘ اسپتال‘ زراعت‘ بجلی اور دوسرے شعبے بھی فوجی اداروں کی طرح منظم‘ مکمل اور جدید ترین تقاضوں کے مطابق ہوں۔ سیاسی جماعتیں اپنے لیڈروں اور کارکنوں کی تعلیم اور تربیت کے ملک اور بیرون ملک اہتمام کریں۔ عالمگیریت کے دور میں سیاسی لیڈروں کی سیاسی‘ معاشی‘ علمی اور سائنسی سوچ‘ امریکہ‘ برطانیہ‘ چین‘ روس اور ترکی کے لیڈروں کے برابر ہونی چاہئے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
12
June

کرنل توصیف احمد کی شہادت پر اُن کے بھائی کرنل عقیل احمد کی تحریر

ایک غازی کابیٹا ہونے کے ناتے کرنل توصیف میں وطن کی محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے عسکری زندگی میں سیاچن‘ لائن آف کنٹرول(چڑی کوٹ) اور جنڈولہ کے ایکٹیو وار زون میں خدمات سرانجام دیں۔ میجر جنرل ثناء اﷲ خان نیازی کے ساتھ اگلے مورچوں سے واپسی کے دوران آائی ای ڈی پھٹنے سے 15ستمبر 2013 کوجامِ شہادت نوش کیا اور خالق حقیقی سے جا ملے۔

15ستمبر 2013 بروز اتوار میں معمول کے مطابق ویک اینڈ گزار رہا تھا۔ ظہر کی نماز مسجد میں پڑھنے کے بعد گھر واپس آیاہی تھا کہ موبائل پر ایک دوست کی کال آئی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا میں ٹی وی دیکھ رہا ہوں میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر انہوں نے مجھ سے جو بات شیئر کی اس پر میں ٹیلی ویژن کی طرف لپکا۔آن کرنے پر بریکنگ نیوز نے جیسے میر ے پاؤں کے نیچے

سے زمین ہی کھینچ لی‘ سانس ٹھہر سی گئی‘ کہ اپنے پیارے چھوٹے بھائی کی تصویر کے ساتھ اس کی شہادت کی خبر ہر نیوز چینل پر چل رہی تھی۔ کچھ دیر تک سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے بچھڑنے پر روؤں یا شہید کا بھائی ہونے کے ناتے فخر کروں۔ ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار تھا کہ فوراً والدین کا خیال آیا اور میں اُن کی طرف روانہ ہوا۔ میرے پہنچنے سے پہلے ہی وہ ٹی وی پر اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر دیکھ چکے تھے۔ ایک اسلامی گھرانہ ہونے کے ناتے شہادت پر یقین تو سو فیصد تھا اور ہے مگر بھائی کی جدائی کے تصورنے اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ اس اٹل حقیقت کو قبول کرنے کی طاقت جیسے ختم ہو گئی ۔ میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں چنانچہ اپنے آپ کو سنبھالا اور والدین کو تسلی دی۔ اس دوران ایک ہی بات لب پر تھی ’’وہ زندہ ہے وہ زندہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہید زندہ ہے۔‘‘

baba_se_bat1.jpg

سی ایم ایچ پہنچ کر بھائی کا جسد خاکی لینے کے بعد ایمبولینس میں اس کے سرہانے بیٹھ گیا اور اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا۔ ایک شہید کا چہرہ! وہ سکون کی نیند سویا ہوا تھا اوراُس کے لبوں پر جو مسکراہٹ تھی وہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ اس مسکراہٹ کو دوسرے لوگوں نے بھی محسوس کیا۔ بھائی کی شہادت نے قرآن اور حدیث میں ایک شہید کے بارے میں بیان کی تمام جہتوں کو میرے سامنے دوبارہ کھول دیا۔ ہر قدم پر خدا وندکریم نے دکھایا کہ شہید کا مرتبہ کتنا عظیم ہے۔ ایک شخص جسے اﷲ شہادت کے رتبے پر فائز کرتا ہے وہ خدا کو کتنا پیارا ہوتا ہے۔ اس کے جنازے میں تمام فورسز کے سربراہان کے علاوہ ہر مکتبہ فکر کے بے شمار لوگوں نے شرکت کی۔ ہیڈکوارٹرز 10 کور کے گراؤنڈ میں تاحد نگاہ لوگ ہی لوگ تھے۔ پہلی نماز جنازہ گھر کے قریب پڑھی گئی دوسری نماز جنازہ بھی کچھ کم بڑی نہ تھی۔ یہ بات خدا نے مجھ پر عیاں کی کہ جس شخص کو اﷲ اتنی عزت دیتا ہے اس کی دنیا میں اس کے بندے بھی اتنی ہی عزت دیتے ہیں۔ اس سے پہلے قبر دیکھ کر مجھ پر خوف کی سی کیفیت طاری رہتی تھی۔ مگر جب بھائی کی قبر کے پاس جا کر کھڑا ہوا تو میرا احساس مختلف تھا۔ اتنی کشادہ اور خوبصورت قبر کہ بیان نہیں کر سکتا اور کیوں نہ ہو وہ زمین بھی رشک کرتی ہے جس میں شہید کو اُتارا جاتا ہے۔

وہ کتنا عظیم بھائی تھا کہ جس کی شہادت کے بعد اور تدفین سے پہلے حرم میں اس کے ایصال ثواب کے لئے دعائیں اور طواف شروع ہو گئے۔چند قریبی رشتہ دار (خالہ‘ کزن اور دیگر) اس وقت مکہ مکرمہ میں حج کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے۔ اسے اﷲ کے سپرد کرنے کے بعد جب رات گئے چند لمحوں کے لئے آنکھ لگی تو توصیف کو پہلی بار چمکتے ہوئے احرام میں حرمِ پاک میں دیکھا۔

بھائی کی شہادت کے بعد ان لوگوں سے ملاقات ہوئی جو اس کے ساتھ کسی نہ کسی تعلق سے قریب رہے۔ جس سے بھی ملاقات ہوئی اس نے بھائی کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بتائیں جن کا مجھے علم نہیں تھا۔

میٹرک کے بعد بھائی نے آرمی جوائن کر لی تھی چنانچہ اس کا زیادہ وقت اپنے حلقۂ احباب میں گزرا۔ صرف چھٹی پر ہی ملاقات ہوتی تھی۔ اس کی زندگی کے کئی ایسے پہلو میرے سامنے آئے جن کے بارے میں‘ میں بہت کم یا بالکل ہی نہیں جانتا تھا۔ اس کا روم میٹ اور کورس میٹ مسجد کے باہر میرے ساتھ اس عظیم شخص کے بارے میں باتیں کر رہا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ توصیف کے بارے میں ایک ایسی بات بتاؤں جس کا آپ کو بھی نہیں معلوم ہو گا۔ ’’وہ ہر نماز کے بعد شہادت کے لئے دعا کرتا تھا۔‘‘

میرا بھائی شہادت سے کچھ پہلے ڈسٹرکٹ دِیر جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہے‘ سے چند دن کی چھٹی آیا ہوا تھا اور والدہ کے ساتھ گھر میں بیٹھا بات چیت کر تے ہوئے کہنے لگا: ’’امی جان اﷲتعالیٰ کا مجھ پر کتنا فضل ہے اچھا پڑھنے لکھنے کے بعد ایک بہترین پروفیشن کو جوائن کیا۔ آج اﷲ کے فضل سے یونٹ کی کمانڈ کر رہا ہوں۔ اﷲ نے خوب صورت اور محبت کرنے والی بیوی دی اور فرمانبردار اولاد سے نوازا‘ اﷲ کی بہت کرم نوازی ہے اور اس کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ بس دو خواہشیں رہ گئی ہیں جسے اﷲ پورا فرما دیں۔ ایک تو یہ کہ اﷲتعالیٰ بیٹی عطا کر دے (اس سے پہلے بھائی کے تین بیٹے ہیں) اور دوسری اﷲ شہادت کی موت دے۔‘‘ والدہ نے جواب دیا کہ بیٹی کے لئے میں ضرور دعا کروں گی مگر ایک ماں کے لئے دوسری دعا کرنا مشکل ہے۔ کیا قبولیت کی گھڑی تھی کہ اﷲ نے کچھ عرصے میں بیٹی کی نعمت سے نوازا اور اس کے بعد شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا (سبحان اﷲ)۔

بھائی کی یونٹ 33بلوچ رجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ (ٹو آئی سی) نے کچھ بہترین یادیں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جب آخری بار وہ یونٹ سے مالاتر پوسٹ پر جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)کو رسیو کرنے نکلے تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہلکے سے مسکرائے اور کہا۔ ’’ٹو آئی سی ہولڈ دی فورٹ‘‘۔ وہ کئی بار یونٹ سے باہر کسی نہ کسی کام سے جاتے رہے مگر یہ الفاظ انہوں نے پہلی اور آخری بار استعمال کئے۔

میرے شہید بھائی نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی۔ یونٹ کی کمانڈ سنبھالنے سے پہلے راولپنڈی میں پوسٹنگ تھی۔ یہاں پر اس نے فیصلہ کیا کہ اپنے دونوں بڑے بیٹوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن کا حافظ بھی بناؤں۔ یہ تو اب سمجھ آتا ہے کہ اس کا ہر قدم اسے اﷲ کے نزدیک کر رہا تھا اور اس کی ہر کوشش اس کی خوشنودی حاصل کرنا تھی۔ آج ماشاء اﷲ حمزہ احمد نے مکمل قرآن حفظ کر لیا ہے اور دوبارہ چھٹی جماعت میں داخلہ لے لیا ہے۔ حذیفہ احمد (بڑا بیٹا) کے اب صرف چار پارے حفظ کے رہ گئے ہیں اور یوں وہ اپنے پیچھے صدقہ جاریہ کا انتظام کر گیا۔ خدیجہ (بیٹی ) تو وہ محبت کبھی محسوس نہیں کر سکے گی کہ جس محبت سے اسے توصیف نے اﷲ سے مانگا تھا۔

انتظار کے دوران میرا تعارف ایک اور سینئر آفیسر سے کرنل توصیف شہید کے بڑے بھائی کے طور پر کرایا گیا۔ ان سینئر آفیسر نے مجھ سے کرنل توصیف کے بارے میں بات چیت شروع کر دی جو کافی دیر جاری رہی۔ اس دوران انہوں نے مجھے چند اقدامات کے بارے میں بتایا جوپاک فوج توصیف شہید کی فیملی کے لئے کرنے جا رہی تھی۔ میں ان کی باتیں سنتا رہا اور اندر ہی اندر حیران ہوتا رہا کیونکہ پاک فوج نے ہمارے تجاویز شدہ تقریباً تمام اقدامات یا تو شروع کر دیئے تھے یا اُن کے بارے میں پلاننگ کر لی تھی ۔ ان کی بات ختم ہونے پر میں نے اپنی تجاویز والا خط واپس جیب میں ڈالا اور اجازت چاہی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ تو اے جی سے ملنے آئے تھے میں جواب دیا کہ سر مجھ سے پہلے پاک آرمی نے خود کرنل توصیف شہید کے سب کام سنبھال لئے ہیں۔

baba_se_bat2.jpgکرنل توصیف اپر دِیر کے مقامی لوگوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ دوردراز علاقہ تھا جہاں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ کرنل توصیف نے اپنی یونٹ کے ڈاکٹر کو خصوصی ہدایات دی ہوئی تھیں کہ یونٹ میں ہمیشہ اضافی دوائیں موجود ہونی چاہئیں وہ میڈیکل کیمپس کا بھی اہتمام کرتے تھے۔جن میں مقامی لوگوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ گردونواح کے علاقے میں لوگ کرنل توصیف کو ’’میرا کرنل‘‘ کے نام سے پہچانتے تھے۔ ایک دفعہ وہ بٹالین ہیڈکوارٹرز کی طرف آ رہے تھے جب راستے میں انہیں ایک عمررسیدہ شخص سڑک کے کنارے نظر آیا۔ اپنی گاڑی روکی اور پوچھا۔ بابا جی آپ کا کیا حال ہے اُمید ہے ٹھیک ہوں گے۔ بابا جی نے کہا کہ نہیں بیٹا تھوڑا بیمار ہوں کرنل توصیف اسے بٹالین ہیڈکوارٹرز لے آئے اور ڈاکٹر سے مکمل چیک اپ کروا کر میڈیسن دیں۔

33بلوچ رجمنٹ کے نئے کمانڈنگ آفیسر جب کمانڈ سنبھالنے کے بعد اپنے ٹو آ ئی سی کے ساتھ اگلی پوسٹوں کا دورہ کرنے نکلے تو راستے میں ایک بزرگ نے گاڑی روکی‘ فرنٹ سیٹ پرکسی اور شخص کو دیکھ کر پوچھا: ’’میرا کرنل کہاں ہے؟‘‘ ٹو آ ئی سی گاڑی سے اترے اور بزرگ کو بتایا کہ کرنل توصیف شہید ہو گئے ہیں تو بزرگ نے کہا۔ ’’میرا سب کچھ ختم ہو گیا۔‘‘ بعد میں معلوم ہوا کہ کرنل توصیف شہید اپنے طور پر اس بزرگ کی مختلف طریقوں سے مدد کیا کرتے تھے۔ کرنل توصیف شہید انتہائی ایماندار اور دیانتدار انسان تھے۔ باقاعدگی سے پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ ہر جوان کو نماز پڑھنے کی تلقین کرتے انہوں نے یونٹ کے خطیب صاحب کو حکم دیا کہ یونٹ کے ہر جوان کو نماز (ترجمہ کے ساتھ) چھہ کلمے‘ نماز جنازہ اور قرآن کی آخری دس سورتیں زبانی یاد ہونی چاہئیں۔ زیادہ سے زیادہ مسجدیں تعمیر کرنا ان کی ہمیشہ ترجیح رہی۔ بٹالین ہیڈکوارٹرز شاہی کوٹ میں خوبصورت مسجد تعمیر کروائی۔ اس کے علاوہ کئی فارورڈ پوسٹوں‘ جن کی اونچائی دس ہزار فٹ سے بلند ہے‘ پر بھی مساجد تعمیر کروائیں۔ ایک دفعہ وہ سِپرکا سر پوسٹ پر تشریف لائے تو مسجد بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ جوانوں نے کہا کہ ایک تو یہاں پانی کی قلت ہے اور دوسرا ڈیوٹی سخت ہونے کی وجہ سے کم فوجی نماز پڑھنے کے لئے آئیں گے۔ کرنل توصیف نے کہا مسجد بنانا شروع کرو پانی بھی مل جائے گا اور نمازی بھی آ جائیں گے۔ آج الحمدﷲ اس مسجد میں پانچ وقت باقاعدگی سے نماز پڑھی جاتی ہے۔

بھائی کی شہادت کے بعد اپنے کئی رشتہ داروں سے معلوم ہوا کہ کرنل توصیف باقاعدگی سے ٹیلیفون کال کر کے اُن کا حال احوال جانا کرتا تھا۔ خاص طور پر خاندان کی چند بیواؤں سے ہمیشہ فون کر کے ان کی خیریت دریافت کرتا اور مسائل پوچھتا۔ خاندان اور گاؤں والوں کی مددد کرنا اسے اچھا لگتا تھا۔ اس نے کئی لڑکوں کی روزگار حاصل کرنے میں مدد بھی کی جو آج اس کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ ہمارے خاندان کے سب سے بڑی اور بزرگ شخصیت نے ایک دن والدہ سے کہا کہ کرنل عقیل (راقم) کرنل توصیف نہیں بن سکتا؟ والدہ نے پوچھا کہ آپ یہ بات کیوں کر رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ کرنل توصیف باقاعدگی سے مجھے فون کر کے میری خیریت دریافت کیا کرتا تھا۔ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ میرے شہید بھائی کوخاندان اور اس کی اہمیت کا کتنا احساس اور ادراک تھا۔ بھائی کی شہادت کے بعد میری ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا۔ میں نے کچھ وقت لیا کیونکہ دل میں خوف تھا کہ میں اس کی جگہ کیسے لے سکوں گا۔ وہ ایک ذمہ دار خاوند اور شفیق باپ تھا۔ بہرحال ہمت کر کے میں نے توصیف کی فیملی کو ہر ممکن سہولیات بہم پہنچانے سے متعلق کچھ امور نمٹانے شروع کئے۔ اس کوشش کے دوران کئی واقعات پیش آئے‘ جن کا میری زندگی پر گہرا اثر ہے‘ جس آفیسر کو ملا‘ جس آفس میں گیا‘ مجھے احساس ہوا کہ میرا تعارف تبدیل ہو گیا ہے، اب میں اپنے آپ کو شہید کے بڑے بھائی کے ناتے تعارف کروانے میں زیادہ فخر محسوس کرتا ہوں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہماری فیملی کی شناخت بھی ایک عظیم شہید کے ساتھ منسلک ہو گئی ہے۔ مختلف کاموں کے دوران کئی سینئرآفیسرز نے گائیڈ بھی کیا۔ اس رہنمائی کی روشنی میں، میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی بھابھی کی طرف سے ایجوٹینٹ جنرل (اے جی) کو ایک درخواست لکھوں جس میں ممکنہ مسائل کے حل کی تجاویز دوں۔ یہ تجاویز لے کر میں اے جی برانچ پہنچ گیا۔ انتظار کے دوران میرا تعارف ایک اور سینئر آفیسر سے کرنل توصیف شہید کے بڑے بھائی کے طور پر کرایا گیا۔ ان سینئر آفیسر نے مجھ سے کرنل توصیف کے بارے میں بات چیت شروع کر دی جو کافی دیر جاری رہی۔ اس دوران انہوں نے مجھے چند اقدامات کے بارے میں بتایا جوپاک فوج توصیف شہید کی فیملی کے لئے کرنے جا رہی تھی۔ میں ان کی باتیں سنتا رہا اور اندر ہی اندر حیران ہوتا رہا کیونکہ پاک فوج نے ہمارے تجاویز شدہ تقریباً تمام اقدامات یا تو شروع کر دیئے تھے یا اُن کے بارے میں پلاننگ کر لی تھی ۔ ان کی بات ختم ہونے پر میں نے اپنی تجاویز والا خط واپس جیب میں ڈالا اور اجازت چاہی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ تو اے جی سے ملنے آئے تھے میں نے جواب دیا کہ سر مجھ سے پہلے ہی پاک آرمی نے خود کرنل توصیف شہید کے سب کام سنبھال لئے ہیں۔

بھائی کی شہادت سے دو تین روز پہلے اس نے مجھے فون کیا اور بہت دیر تک مجھ سے اپنی فیملی کے بارے میں مشورہ کیا۔ وہ ان کے لئے راولپنڈی میں مستقل رہائش کا بندوبست کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ ایک سیٹلڈ زندگی گزار سکیں۔ اس کی بڑی وجہ دونوں بیٹوں کا قرآن پاک حفظ کرنا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ ان کی دینی تعلیم میں کوئی حرج نہ ہو۔ مجھ سے کئی آپشنز ڈسکس کئے اور کچھ باتوں کا پتا کرنے کے لئے کہا تاکہ آنے والی چھٹی میں وہ ان کے لئے کوئی مستقل بندوبست کر سکے۔ مجھے اس وقت گمان بھی نہیں تھا کہ وہ یہ تمام ذمہ داریاں میرے لئے چھوڑ کر چلا جائے گا۔ ہم دونوں بھائیوں میں ایک گہرا رشتہ تھا وہ زندگی کے ہر موڑ پر مشورے کے ساتھ چلتا تھا۔

میں نے اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کور آف انجینئرز کو جوائن کیا مگر بھائی نے انفنٹری کو ترجیح دی۔ میں اس سے چھ کورس سینئر تھا مگر میری ایمپلائیمنٹ کچھ ایسی رہی کہ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم ختم کرنے کے بعد وطن واپسی پر ہم دونوں اکٹھے پروموشن بورڈ میں کنسیڈر ہوئے۔ وہ مجھ سے مذاق میں کہا کرتا تھا کہ بھائی میں آپ سے پہلے پروموٹ ہو جاؤں گا اور پھر آپ مجھے سلیوٹ کیا کریں گے۔ اس نے شہادت کا ایسا رتبہ حاصل کر لیا کہ نہ صرف وہ ہم سب سے ہر لحاظ سے آگے نکل گیا بلکہ میں کیا اس پوری قوم نے اسے سلیوٹ کیا۔ اس نے اس قوم کے ہر فرد کے دل میں جگہ بنا لی جو دل کی گہرائیوں سے اس کی عظیم قربانی کوخراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

عسکری کالونی میں ہمارا گھر مسجد کے بالکل ساتھ ہے یعنی پہلے گھر کا گیٹ ہے اور پھر چند قدموں پر مسجد ہے۔ توصیف جب بھی پی ایم اے سے ویک اینڈ یا چھٹی پر گھر آیا کرتا تھا تو کالونی کے گیٹ میں داخل ہونے پر اگر نماز کا وقت ہوتا تو گھر آنے کے بجائے پہلے مسجد میں چلا جاتا اور اﷲ کی بارگاہ میں حاضری دینے کے بعد گھر آتا۔ نماز کے لئے خاص تیاری کرنا اس کا معمول تھا۔ وہ اگر کبھی تیار ہوتے ہوئے لیٹ ہو رہا ہوتا تو والدہ آواز دیتی کہ توصیف اس کنگھی شیشے کو چھوڑو کہ نماز کو دیر ہو رہی ہے تو وہ کہتا کہ امی اگر کسی سے ویسے ملنے جانا ہو تو ہم کتنا تیار ہوتے ہیں‘ اﷲ سے ملنے کے لئے تیار ہو کر نہ جاؤں؟

بچوں کی اپنے باپ کے ساتھ محبت بہت منفرد ہوتی ہے۔ اگر باپ کبھی ان کی تربیت کے لئے ڈانٹ ڈپٹ کر رہا ہوتا ہے تو وہی باپ اپنے بچوں پر جان چھڑکنے کے لئے بھی ہر لمحہ تیار ہوتا ہے۔ کرنل توصیف کی بھی اپنے بچوں کے ساتھ محبت مثالی تھی۔ لیکن چھوٹے بیٹے عمر کے ساتھ تو گویا اُن کی دوستی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ اس کی کوئی بات رد نہیں کرتے تھے۔ جب وہ یونٹ کی کمانڈ سنبھالنے کے لئے اپردِیر پہنچے تو پی ٹی سی ایل کا ایک خصوصی نمبر عمر کو لگوا کر دیا۔ عمر صبح سکول جاتے ہوئے اور واپسی پر والد کو ضرور فون کر کے بات کرتا تھا۔ اپنے بابا کی شہادت کے بعد وہ انہیں سب سے زیادہ مس کرتا ہے۔ بابا کے بارے میں بار بار پوچھنے پر اس کو سمجھایا گیا کہ آپ کے ابو اب مٹی کے نیچے چلے گئے ہیں تو اس نے بڑے معصومانہ طریقے سے کہا کہ آپ ان کے پاس ٹیلی فون کیوں نہیں لگوا دیتے تاکہ میں ان سے بات کر سکوں۔

ننھا عمر اب بھی اکثر ٹیلی فون کے نمبر ڈائل کرتا ہے کہ اپنے پیارے بابا سے بات کر سکے‘ ان کی آواز سن سکے۔ مگر ٹیلی فون کی دوسری جانب ہمیشہ خاموشی ہوتی ہے‘ ابدی خاموشی

12
June

فکر‘ عمل کا سرچشمہ ہوتی ہے کیونکہ فکر وجود کو متحرک کرتی ہے اور پھر یہ تحریک مختلف افعال کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ گویا انسان کا ہر عمل دراصل اس کی فکر کا عکاس ہوتا ہے۔ فکر جامد ہو جائے تو عمل ایک مخصوص دائرے میں قید ہو جاتا ہے۔ فکر فی نفسہ جامد نہیں ہوتی کیوں کہ فکر ایک جاریہ قوت ہے جو تغیر کے مختلف الانواع مراحل سے گزر کر اپنے اندرجدت اور نکھار پیدا کرتی جاتی ہے۔ پسماندہ معاشروں میں فکر کو غیر فطرتی طریقے سے جامد کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ جب فکر جامد ہو جاتی ہے تو انسان وقت کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے کسی کونے کھدرے میں جا بستا ہے‘ جہاں اس کی اپنی ایک الگ دنیا قائم ہوتی ہے جس میں وہ کسی قسم کی ترمیم برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا انسان کا یہ غیر فطری اور خود ساختہ رویہ معاشرے میں علمی و اخلاقی اضمحلال کا باعث بن جاتا ہے۔ انسان کے اس رویّے سے مطلق خود غرضی اور عدم برداشت کی ایک بھیانک فضا قائم ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ پھر زبردست اخلاقی پسماندگی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ فکری جمود کی اساس دراصل تقلید اور رجعت پسندی پر قائم ہوتی ہے۔ فکر اس وقت تک جامد نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ اِسے تقلید یا رجعت پسندی پر مامور نہ کر دیں۔ تقلید دراصل رجعت پسندی کی عملی شکل ہوتی ہے چنانچہ رجعت پسند معاشروں میں تقلید آہستہ آہستہ مقبول تقدیس میں بدل جاتی ہے۔ جب ایک بار نوبت تقدیس تک پہنچ جائے تو پھر فکری تحریک رجعت پسند معاشروں میں عموما شجرِ ممنوعہ بن جاتی ہے۔ تقلید ایک غیر فطری اور غیر ضروری روش ہے کیونکہ شعور کی موجودگی میں تقلید ایک زبردست غیر ذمہ دارانہ رویے کا نام ہے اس سے نہ صرف علمی ترقی اور اخلاقی تزئین کی راہ مسدود ہو جاتی ہے بلکہ انسان کی شعوری قوت بھی ناکارہ ہو جاتی ہے بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو

کر اِس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

فکر کے جمود سے نہ صرف انسان علمی و اخلاقی طور پر پسماندہ ہو جاتا ہے بلکہ معاشرہ مجموعی طور پر معاشی و سیاسی زبوں حالی کا شکار ہو جاتا ہے۔ فکری جمود کے سبب انسان جدید تعلیم و فنون کے حصول سے یکسر عاری ہو جاتا ہے کیونکہ فکری تحریک کے بغیر تعلیم و تعلم کا سلسلہ نہیں جاری رکھا جا سکتا۔ انسان ایک مخصوص دائرے سے باہر نکلے بغیر تعلیم کی افادیت سے بہرہ مند ہو سکتا ہے‘ نہ فنون سے آراستہ ۔۔۔ چنانچہ وسائل کی موجودگی میں بھی انسان دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی روش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں میں سوچ آزاد نہیں وہ معاشی طور پسماندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ انسانی فکر کابہترین پھل قانون ہے۔ جن معاشروں میں فکر جامد نہیں ان معاشروں میں قانون کی بالا دستی بھی قائم ہو چکی ہے۔ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ پسماندہ ذہن معاشروں کا قانون بھی پسماندہ اور قانون کی بالا دستی بھی برائے نام ہوتی ہے۔ فکری جمود صرف انفرادی رویے میں تخریب کا نام نہیں بلکہ اس سے تعلیمی، اخلاقی، سماجی، معاشی اور سیاسی نظام بری طرح متاثر ہوجاتا ہے ۔

فکر جامد اس وقت ہوتی ہے جب انسان ماضی کو حال اور مستقبل پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ فکر جامد نہ ہو تو ماضی کے تجربات سے حال اور مستقبل میں بہتری لائی جا سکتی ہے
رجعت پسند معاشروں میں تقلید آہستہ آہستہ مقبول تقدیس میں بدل جاتی ہے۔ جب ایک بار نوبت تقدیس تک پہنچ جائے تو پھر فکری تحریک رجعت پسند معاشروں میں عموما شجرِ ممنوعہ بن جاتی ہے۔
احساس قدرت کا حسین تحفہ ہے شعور نہ صرف اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اسے اس کے حقدار تک بخوبی منتقل کر دیتا ہے چنانچہ شعور کا متحرک ہونا انسان کو ایک بہترین اور خوشگوار زندگی سے بہرہ مند کرتا ہے۔
رجعت پسندی ایک لاعلاج ذہنی علالت ہے جو انسان کو بسترِ جمود سے اُٹھنے نہیں دیتی۔ دنیا میں وہ قومیں جلد صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو ماضی کا مزار بنی رہتی ہیں۔

فکری جمود کے اسباب

ترقی کا پہلا زینہ جستجو ہے۔ انسان ایک باشعور جان دار ہے جس نے ابتدائے آفرینش سے فکر کے ذریعے اپنے رویے میں تزئین پیدا کی‘ چنانچہ فکر سے تہذیب النفس کی راہ کھلی‘ جہاں فکر جامد ہو جاتی ہے وہاں اخلاقی پسماندگی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ فکر جامد اس وقت ہوتی ہے جب انسان ماضی کو حال اور مستقبل پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ فکر جامد نہ ہو تو ماضی کے تجربات سے حال اور مستقبل میں بہتری لائی جا سکتی ہے‘ اگرچہ باشعور انسان اب تک یہی کرتا چلا آ رہا ہے، لیکن بعض اذہان آج بھی اِس نکتے پر قائم ہیں کہ بہتری صرف ماضی کے حصے میں آئی تھی ۔آج ہم ماضی سے آگے نہیں بڑھ سکتے لہٰذا ماضی کو آج پر آویزاں کرکے آگے چلو۔ انسان کا یہی غیر ذمہ دارانہ اور مبنی بر تساہل رویہ تعلیمی، اخلاقی، معاشی اور سیاسی نظم میں زبردست جھول پیدا کر دیتا ہے۔ انسان کی فطرت وقت سے ہم آہنگ ہونا چاہتی ہے لیکن انسان کا جامد رویہ اسے شعوری تحریک سے روک لیتا ہے۔ چنانچہ اِس رکاوٹ کی وجہ سے انسان ہر لحاظ سے جمود کا شکار ہو جاتاہے۔ رجعت پسندی ایک لاعلاج ذہنی علالت ہے جو انسان کو بسترِ جمود سے اُٹھنے نہیں دیتی۔ دنیا میں وہ قومیں جلد صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو ماضی کا مزار بنی رہتی ہیں۔ ماضی انسان کے مضبوط ترین تجربات کا نام ہے‘ انسان ان تجربات سے سیکھ کر حال اور مستقبل کو بہتر بنا سکتا ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب انسان ماضی کو تجربہ سمجھ کر حال کی فکر میں محو ہو جائے۔ فکری جمود کا دوسرا اہم سبب دراصل تقلید ہے۔ تقلید کا تعلق براہِ راست انسانی سوچ سے ہے۔ انسانی سوچ جب ایک مخصوص دائرے میں قید کر لی جائے تو یہ تقلید کہلاتی ہے۔ جیسے کہ ہم عرض کر چکے، تقلید فی نفسہٖ کوئی بری روش نہیں لیکن تقلیدِ روایت مہلک عمل ہے۔ روایت یہ ہے کہ انسان سنی سنائی باتوں پر قانون سازی یا اخلاقی اقدار کی بنیاد رکھنا شروع کر دے۔ ایسے تمام افعال انسان کی عقلی بصیرت سے یکسر عاری ہوتے ہیں اور جو عمل بصیرت سے خالی ہے‘ جو ہر قسم کی خیر سے خالی ہے کہ بصیرت انسانی اعمال میں خیر و برکت پیدا کرتی ہے۔ روایت سے منسلک رہنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن یہ کہ روایت کو درایت پر ترجیح نہ دی جائے‘ نہیں تو حقائق خرافات میں کھو جاتے ہیں بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

یہ امت روایات میں کھو گئی

حقیقت خرافات میں کھو گئی

رجعت پسند معاشروں میں سب سے زیادہ مسائل اخلاقی نوعیت کے ہوتے ہیں کیونکہ رجعت پسند معاشروں میں اخلاقی اقدار وقتِ جاریہ سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں اِسی لئے معاشرے میں عمومی طور پر ایک زبردست ثقافتی گھٹن پیدا ہو جاتی ہے۔

ثقافتی گھٹن

فکری جمود کا سب سے بھیانک نتیجہ معاشرے میں ثقافتی گھٹن کی صورت میں سامنے آتا ہے کیونکہ اخلاقی اقدار جامد ہونے کی وجہ سے انسان اپنے جذبات کا صحت مند انتقال نہیں کر سکتا اس لئے انسان ایک ہولناک فطرتی گھٹن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ انسان ایک خالص جذباتی وجود ہے اور جذبات کا صحت مند انتقال انسان کے شعور کو جِلا بخشتا ہے اگر جذبے کو اپنی فطرتی سمت میں جاری کر دیا جائے تو انسان ہر قسم کی اخلاقی و سماجی آلائش سے محفوظ ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے جذبے اور شعور کے درمیان جاری ایک اعصاب شکن کشمکش ختم ہو جاتی ہے۔ احساس قدرت کا حسین تحفہ ہے شعور نہ صرف اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اسے اس کے حقدار تک بخوبی منتقل کر دیتا ہے چنانچہ شعور کا متحرک ہونا انسان کو ایک بہترین اور خوشگوار زندگی سے بہرہ مند کرتا ہے۔ اخلاقی اقدار انسانی فطرت کا مستند مظہر ہوتی ہیں۔ ہر مذہب ان اقدار کو وقت سے ہم آہنگ کرکے انسان کے لئے بہترین نظامِ حیات کا اہتمام کرتا ہے لیکن لحاظ رہے کہ یہ نظم صرف اپنے وقت تک ہی محدود رہتا ہے۔ انسانی شعور میں جیسے جیسے نکھار پیدا ہوتا جاتا ہے‘ اخلاقی اقدار ویسے ویسے شفاف ہوتی چلی جاتی ہیں۔ چنانچہ شعور کی بہتی ندیا رکنے پاتی ہے نہ اخلاقی اقدار کا نظم۔ انسانی رویہ اس کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ تہذیب یا ثقافت ہی انسانی رویے کی تراش خراش کرتی ہے‘ چنانچہ انسانی رویے سے اس کی تہذیب کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر رویے میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو تہذیب تہس نہس ہو جاتی ہے اور رویے میں بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فکر جمود کا شکار ہو جائے۔ اس جمود کے سبب انسان کی تہذیب و ثقافت میں زبردست اضمحلال پیدا ہو جاتا ہے۔ اقدار اور شعائر متعفن جاتے ہیں۔ کیونکہ قدرت کا مسلمہ اصول ہے کہ کھڑا پانی آخر کار جوہڑ بن جاتا ہے۔ اقوام کے لئے روایت سے مفر ممکن نہیں لیکن روایت ہمیشہ تجربات کا مرکب ہوتی ہے جس کی بنیاد پر انسان ہمیشہ حال و مستقبل میں بہتری کے اسباب پیدا کرتا ہے۔ رجعت پسند معاشروں میں روایت کے خلاف آواز نکالنا تقدیس کے چبوترے کو منہدم کرنے کے مترادف ہوتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ قومیں علمی اور اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں‘ چنانچہ طرزِ کہن پر اڑ جانا ہی قوموں کے لئے باعثِ تنزلی بن جاتا ہے ۔بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک صحیح معنوں میں ترقی کے مراحل نہیں طے کر سکتی جب تک کہ وہ فکر کو جمود اور انسانی جذبات کو شعورِ جاریہ سے ہم آہنگ نہیں کر لیتی کہ یہی انسان نے اب تک اپنے عملی تجربات سے سیکھاہے۔

فکری جمود سے نہ صرف اخلاقی اقدار منجمد ہو جاتی ہیں بلکہ قانون بھی قصۂ پارینہ بن جاتا ہے۔ روایات کی بنیاد پر کی گئی قانون سازی وقت سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے انسانی جذبات کو مہرہ بنا لیتی ہے۔ روایات کا غیرفطری اور لچر دباؤ‘ انسانی جذبات کا کچومر نکال کے رکھ دیتا ہے۔ نظریہ یا قدر احساس نہیں ہوتی‘ بلکہ انسانی جذبات احساسات کا مرکب ہوتے ہیں۔ جن کا اظہار و انتقال انسان کا خالصتاً فطری حق ہے۔ دنیا کا کوئی بھی نظریہ یا قدر انسانی جذبات سے زیادہ بیش بہا نہیں ہو سکتے۔ جن معاشروں میں جذبات کے صحت مند انتقال کا اہتمام نہیں کیا جاتا وہ فکری لحاظ سے انتہائی پسماندہ معاشرے ہوتے ہیں۔ جذبات اور شعور باہم ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوتے ہیں‘ شعور نہ صرف جذبات کی تزئین کرتا ہے بلکہ جذبات کی مناسب حد بندی بھی کرتا ہے تاکہ معاشرہ ہر قسم کی اخلاقی افراط و تفریط سے محفوظ رہے۔ ثقافتی گھٹن انسانی جذبات کو حبس بے جا میں رکھنے کے مترادف ہے۔ اچھائی اور برائی کی تمیز انسان کی فطرت میں built-in ہے۔ اچھائی یا برائی کی تمیز کے لئے قدرت نے انسان کو کسی خارجی ذریعے کا محتاج نہیں کیا‘ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب میں بنیادی اخلاقی اقدار یکسانیت پر مبنی ہیں۔ مذہب رویہ ایجاد نہیں کرتابلکہ رویے میں شعورِ جاریہ کے مطابق تہذیب پیدا کرتا ہے تاکہ انسانی جذبات کا صحت مند اظہار و انتقال کیا جا سکے۔ چنانچہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اخلاقی اقدار بھی نکھرتی جاتی ہیں۔ گوکہ رجعت پسند معاشروں میں ایسا کوئی اہتمام موجود نہیں ہوتا لیکن باشعور معاشرے شعورِ جاریہ کے مطابق اپنی اقدار وضع کرتے رہتے ہیں تاکہ انسانی شعور اور جذبات میں کسی قسم کا عدم توازن اور کشمکش پیدا نہ ہو سکے۔ ہمارے ہاں فکری جمود نے زبردست ثقافتی گھٹن پیدا کرکے اخلاقی اقدار کو ہیکل میں بند کر دیا ہے‘ سدِ ذریعہ اور اجماعِ عامہ جیسے غیرفطرتی اصولوں نے اخلاقی اقدار پر تقدیس کی چادر چڑھا دی تاکہ کوئی محقق مسلمہ اقدار میں ترامیم کی کوشش نہ کر سکے۔ تقدیس روحانی ضوابط کے لئے تو اکسیرِبے مثال ہے لیکن اسباب کی دنیا میں انسان وجود کے ان گنت تقاضوں سے مرسم ہے چنانچہ انسان کو شعورِ جاریہ کے مطابق اخلاقی اقدار اور قانون کی تزئین کرنی چاہئے نہ کہ اقدار کو تقدیس کے غلاف میں لپیٹ کر انسانی جذبات میں تعفن پیدا کر دیا جائے۔ جذبہ صادق اور فکر خالص ہوتی ہے چنانچہ فکری تحریک جذبات کی صداقت کو بروئے کار لا کر اخلاقی اقدار کو شعورِ جاریہ سے ہم آہنگ کر دیتی ہے جس کے سبب معاشرہ ہر قسم کے اخلاقی عدم توازن سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اگر فکر ہی کو جامد کر دیا جائے تو شعور سمیت انسانی جذبات بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ پھر علمی و اخلاقی پسماندگی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک صحیح معنوں میں ترقی کے مراحل نہیں طے کر سکتی جب تک کہ وہ فکر کو جمود اور انسانی جذبات کو شعورِ جاریہ سے ہم آہنگ نہیں کر لیتی کہ یہی انسان نے اب تک اپنے عملی تجربات سے سیکھاہے۔

تحریر : ڈاکٹر نعمان نیر کلاچوی‘ مضمون نگار انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی ملائشیا سے اسلامی فلسفے (علم الکلام) میں پی ایچ ڈی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
June

اقبال نے اپنی شاعری اور اپنی فلسفیانہ تحریروں میں عمر بھر نہ صرف معاشی ظلم کے خلاف احتجاج کیا ہے بلکہ اس ظلم کو مٹا کر معاشی انصاف کے ایک نئے نظام کے قیام کی بنیادیں بھی فراہم کی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم اقبال کے تصورات کو پاکستان میں ایک عادلانہ معاشی نظام کے نفاذ کی بنیاد بنائیں۔

پاکستانیات کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت میں، میں واقعتا یہ سمجھتا ہوں کہ یومِ اقبال پاکستانی قوم کا یومِ حساب ہے۔آج ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم اقبال کے کتنے خواب مٹی میں ملا چکے ہیں اور اقبال کے کتنے اندیشے درست ثابت کر چکے ہیں۔ اقبال کا ایک سہانا خواب سلطانیء جمہور سے عبارت ہے۔ اُنھوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ ہمیں اللہ کا یہ فرمان سُنایا تھا:

سلطانیء جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقشِ کُہن تم کو نظر آئے مٹا دو

گویا سلطانیء جمہور کی آمد اس بات سے مشروط تھی کہ ہم نقوشِ کہن کو کب اور کیسے مٹاتے ہیں؟ درج بالا شعر’’فرمانِ خدا‘‘کے عنوا ن سے اقبال کی نظم کا آخری شعر ہے۔ باقی ماندہ اشعار میں جہاں پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے نکال باہر کر کے خالق و مخلوق کے درمیان حائل تمام پردے اُٹھا دینے کا حکم دیا گیا ہے وہیں یہ تک بھی کہہ دیا گیا ہے کہ:

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

اُس کھیت کے ہر خوشۂِ گندم کو جلا دو

اپنی ایک اور نظم ’’الارض لِلّٰہ‘‘ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ زمین کا مالک اللہ ہے۔ کاشتکار کے زیرِکاشت زمین اللہ کی امانت ہے۔ جاگیردار جو دیہات کا خدا بن کے بیٹھا ہے اُس کا زمین پر قطعاً کوئی حق نہیں۔میں جب بھی یہ نظم پڑھتا ہوں مجھے پنجاب لیجسلیٹو کونسل کی وہ بحث یاد آ جاتی ہے جو علامہ اقبال اور اُن کے گہرے دوست میاں سرفضل حسین کے درمیان ہوئی تھی۔میاں فضل حسین نے جاگیرداری کے حق میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ پنجاب کی زمین کل مغل بادشاہوں کی ملکیت تھی اور آج تاجِ برطانیہ کی ملکیت ہے۔ برطانوی حکومت جس کو بھی اور جتنی بھی جاگیردار عطا کرے ، بر حق ہے۔ اِس پر علامہ اقبال نے کہا تھا کہ پنجاب کی زمین کے مالک پنجاب کے عوام ہیں۔ پنجاب کے عوام اُس وقت سے اِس زمین کے مالک ہیں جس وقت بابر اور اُس کی اولاد پیدا ہی نہ ہوئی تھی اور تاج و تختِ برطانیہ تاریخ کے اُفق پر ابھی نمودارہی نہیں ہوا تھا۔ اپنی شاعری میں بھی وہ اسی حقیقت کو روشن سے روشن تر کرتے رہے کہ زمین کسان کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اِس امانت کو سنبھال اور سنوار کر کسان جو کچھ پیدا کرتا ہے وہ اُس کا اپنا ہے اُس پر کسی اور کا کوئی حق نہیں۔ ایک اور مختصرنظم بعنوان ’’گدائی‘‘ میں اُنھوں نے سرمایہ و محنت کے اسرار و رموز کو یوں منکشف کیا ہے:

مے کدے میں ایک دن اک رندِ زیرک نے کہا

ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا

تاج پہنایا ہے کس کی بے کُلاہی نے اسے؟

کس کی عُریانی نے بخشی ہے اسے زرّیں قبا؟

اس کے آبِ لالہ گوں کی خونِ دہقاں سے کشید

تیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی کیمیا

اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہُوئی

دینے والا کون ہے؟ مردِ غریب و بے نوا

مانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج

کوئی مانے یا نہ مانے، میر و سُلطاں سب گدا!

علامہ اقبال کو اِس امر کا یقین تھا کہ ہم جب تک نقوشِ کہن کو مٹاڈالنے کا فریضہ ادا نہ کریں تب تک سلطانیء جمہور کی قلمرو میں قدم نہیں رکھ سکتے۔ اِن نقوشِ کہن میں سے ایک شہنشاہیت کا ادارہ ہے۔ ہم نے دورِ جاہلیت کے اِس نقش کو مٹانے کی بجائے مزید گہرا کیا اور استحکام بخشا ہے۔ پاکستان علامہ اقبال کی فکری اور قائداعظم کی نظریاتی قیادت میں جمہوری عمل سے وجود میں آیا تھامگر یہاں جمہوریت ایک تسلسل کے ساتھ کبھی نہ پنپ سکی۔ جمہوریت جب بھی آتی ہے آمریت کی راہیں روشن کرنے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ آج ہمارے ہاں ایک مرتبہ پھر جمہوری عمل کا آغاز ہوا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ نقوشِ کہن بھی نئی آب و تاب حاصل کر رہے ہیں جنہیں مٹائے بغیر جمہوری عمل مستحکم نہیں ہو سکتا۔ یہ نقوشِ کُہن ہیں جاگیرداری اور سرداری نظام۔ آج پاکستان میں جمہوریت کے فروغ و استحکام کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے قائدین اقبال کی فکر و نظر سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں رائج معاشی نظام کو حقیقی اسلامی انقلابی خطوط پر اُستوار کریں۔

علامہ اقبال کو شروع سے ہی معاشی مسائل سے گہری دلچسپی تھی۔ اپنے وطن کی معاشی پسماندگی اور اُس سے پیدا ہونے والے اخلاقی اور روحانی امراض کا جیساجیتا جاگتا احساس علامہ اقبال کے ہاں پایا جاتا ہے اُس کی مثال اُن کے عہد میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ اپنی پہلی کتاب بعنوان ’’علم الاقتصاد‘‘ کے دیباچہ میں اقبال لکھتے ہیں:

’’غریبی قویٰ انسانی پر بہت بُرا اثر ڈالتی ہے، بلکہ بسا اوقات انسانی رُوح کے مجلّا آئینہ کو اس قدر زنگ آلود کر دیتی ہے کہ اخلاقی اور تمدنی لحاظ سے اس کا وجود و عدم برابر ہو جاتا ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ ہر فرد مفلسی کے دُکھ سے آزاد ہو؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ گلی کوچوں میں چپکے چپکے کراہنے والوں کی دل خراش صدائیں ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائیں اور ایک درد مند دل کو ہلا دینے والے افلاس کا دردناک نظارہ ہمیشہ کے لئے صفحۂ عالم سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے؟‘‘

آج ہمارے اقتصادی منصوبہ سازوں کو ایک نظر علامہ اقبال کی اس پہلی کتاب پر بھی ڈال لینی چاہئے۔ اقبال نے اپنی شاعری اور اپنی فلسفیانہ تحریروں میں عمر بھر نہ صرف معاشی ظلم کے خلاف احتجاج کیا ہے بلکہ اس ظلم کو مٹا کر معاشی انصاف کے ایک نئے نظام کے قیام کی بنیادیں بھی فراہم کی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم اقبال کے تصورات کو پاکستان میں ایک عادلانہ معاشی نظام کے نفاذ کی بنیاد بنائیں۔ جب تک پاکستان میں معاشی انصاف کے اسلامی تصورات عملی طور پر نافذ نہیں کر دئیے جاتے تب تک ہمارے ہاں جمہوریت کا نظام بھی اقبال کے لفظوں میں صرف ’’جمہوری تماشا‘‘ ہی بنا رہے گا۔ اقبال نے سلطانیء جمہورکی بشارت دیتے وقت جن نقوشِ کہن کو مٹا ڈالنے کی تلقین کی تھی وہ معاشی ظلم اور سیاسی غلامی کے ادارے ہیں- یہی وہ نقشِ کہن۔۔۔ پرانی نشانیاں ہیں جنہیں مٹا ڈالنے کا سبق اقبال نے پڑھایا تھا۔ جب تک ہم اقبال کے ان نظریات پر عمل کا آغاز نہیں کرتے تب تک پاکستان میں سچی جمہوریت کا خواب تشنۂ تعبیر ہی رہے گا۔

پروفیسر فتح محمد ملک ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
June

تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی

(سابق سیکرٹری جنرل۔وزارت خارجہ)

خلیجی ممالک‘ بشمول سعودی عرب‘ کے ساتھ دیرینہ اور گہرے مراسم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نہ صرف لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی افرادی قوت ان ممالک میں موجود ہے، بلکہ پاکستان نے ان ممالک کی ترقی و استحکام کے لئے کلیدی کرداربھی ادا کیا ہے۔ ان ممالک میں بینکنگ کو پروان چڑھانا ہو، یا آئی ٹی کو فروغ دینا ہو، فضائی سروس کا آغاز کرنا ہو،یا بنجر صحراؤں کو خوش نما باغات میں بدلنا ہو، زیر زمین سرنگوں اور سڑکوں کی تعمیر ہو یا انتظامی و سکیورٹی اداروں کی تشکیل، عسکری تربیت ہو یا انٹیلی جنس،پاکستان نے ہر میدان میں ایک بھائی کا کردار ادا کیاہے۔ان تمام امور سے ہٹ کر سعودی عرب کی سرزمین حرمین شریفین کی سرزمین ہے۔ حرمین شریفین کی حرمت، تقدس، تحفظ پوری امت مسلمہ کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیزہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے کسی سے پیچھے نہیں رہے گا۔

یمن کی خانہ جنگی‘ خلیجی ممالک کی مداخلت اور القاعدہ، داعش کی موجودگی کی وجہ سے، ایک سنگین صورت اختیار کرگئی ہے ۔دنیا بھرکے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں کی زینت بنی ہوئی ہے اور تمام ملکوں کے پالیسی ساز اس پہ غور وفکر کر رہے ہیں۔پاکستان کی پارلیمنٹ نے چار دن کے طویل مباحثے کے بعد اس جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگر حرمین شریفین کے تقدس یا سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ درپیش ہوا تو پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ وطن عزیز پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی اکلوتی جوہری طاقت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ، منظم اور مضبوط فوجی قوت بھی ہے۔ طاقت اور اختیار کے زیادہ ہونے سے ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور پاکستان یہ ذمہ داریاں بطریق احسن طویل عرصے سے سرانجام دے رہا ہے۔ ایک مضبوط قوت ہونے کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ دوسرے اسلامی ممالک سے اتحاداور دوستی کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دیا ہے۔ اسلامی دنیا میں پاکستان کا کردار کسی ملک کے خلاف کبھی جارحیت پر مبنی نہیں رہا، بلکہ ہمیشہ ہی مسلم ملکوں سے تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کے درمیان پائے جانے والے تنازعات کوبھی خوش اسلوبی سے حل کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جانب پاکستان کے عمان، سعودی عرب،عرب امارات ، کویت ، بحرین ، قطر کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے موجود ہیں تو دوسری جانب ایران ، ترکی،وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بھی انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ خلیجی ممالک‘ بشمول سعودی عرب‘ کے ساتھ دیرینہ اور گہرے مراسم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نہ صرف لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی افرادی قوت ان ممالک میں موجود ہے، بلکہ پاکستان نے ان ممالک کی ترقی و استحکام کے لئے کلیدی کرداربھی ادا کیا ہے۔ ان ممالک میں بینکنگ کو پروان چڑھانا ہو، یا آئی ٹی کو فروغ دینا ہو، فضائی سروس کا آغاز کرنا ہو،یا بنجر صحراؤں کو خوش نما باغات میں بدلنا ہو، زیر زمین سرنگوں اور سڑکوں کی تعمیر ہو یا انتظامی و سکیورٹی اداروں کی تشکیل، عسکری تربیت ہو یا انٹیلی جنس،پاکستان نے ہر میدان میں ایک بھائی کا کردار ادا کیاہے۔ان تمام امور سے ہٹ کر سعودی عرب کی سرزمین حرمین شریفین کی سرزمین ہے۔ حرمین شریفین کی حرمت، تقدس، تحفظ پوری امت مسلمہ کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیزہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے کسی سے پیچھے نہیں رہے گا۔ یمن کے حالیہ قضیئے میں برادر دوست ممالک کے مطالبے اور پاکستان کے کردار پر بات کرنے سے قبل یمن کی تاریخ، سٹریٹیجک اہمیت، سیاسی استحکام اور سعودی عرب و یمن کے تعلقات کا مختصر جائزہ لینا ضروری ہے۔

یمن ایک طویل تاریخ کا حامل‘ عرب دنیا کا شائد وہ واحد ملک ہے جس نے جمہوریت کی جانب قدم بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ بھرپور جنگی، قبائلی اور اسلامی تاریخ کا امین ہونے کے ساتھ ساتھ یمن کو اصحاب رسول رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کی سرزمین ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ حضرت اویس قرنی، حضرت عمار بن یاسر، حضرت مقداد سمیت کئی صحابہ کرامؓ کا تعلق یمن سے تھا۔ تاریخ میں یمن کا ذکر 1200 قبل مسیح میں بھی ملتا ہے ۔ یمن دنیا کے نقشے پر براعظم ایشیا کے جنوب مغرب اور جزیرۃ العرب و مشرق وسطیٰ کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کی آبادی مسلمان اور تعداد میں لگ بھگ 2 کروڑ 40 لاکھ ہے۔ اس کا رقبہ 527,229 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ یمن کے مغربی کنارے پر بحیرہ احمر اور جنوبی کنارے پر بحیرہ عرب واقع ہے۔ یہاں کی 85فیصد آبادی قبائل پر مشتمل ہے۔کل آبادی میں تقریباً 30فیصد آبادی زیدیہ شیعہ اور 12 فیصد شیعہ اثناء عشری اور اسماعیلی شیعہ مسالک پر مشتمل ہے۔ گویا یمن کی کل آبادی کا تقریباً 40فیصد شیعہ مسالک پر مشتمل ہے، بقیہ آبادی سنی مسالک پر مشتمل ہے۔ جس میں اکثریت شافعی اہلسنت مسلمانوں کی ہے۔ ملک کی زیادہ تر زیدیہ مسلک کی آبادی شمالی حصے صعدہ میں آباد ہے اور یمن کی شمالی 1800کلومیٹر طویل سرحد سعودی عرب سے ملتی ہے جبکہ اس کی مشرقی سرحد پر عمان واقع ہے۔

قبل از اسلام اس سرزمین پر کئی طاقتوں نے لشکر کشی کی مگر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ اپنے عروج کے دور میں رومنز (Romans) بھی یہاں حملہ آور ہوئے ، مگر ناکام لوٹے۔ اسلام آنے کے بعد حضور نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ کو یہاں تبلیغ کی غرض سے بھیجا ۔ یہ ان کی تبلیغ کا ہی اثر تھا کہ پورے کا پورا یمن مسلمان ہوا۔ یہاں کے قبائل کی تاریخ پاک افغان سرحدوں پر بسنے والے قبائل سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ قبائلی رسم و رواج اور روایات میں بندھے یہاں کے باشندے ہتھیار کو اپنی شان اور خنجر کو اپنا زیور سمجھتے ہیں ۔ انتہائی نامساعد اور قلیل وسائل کے باوجود یہاں کے قبائل نے کسی جارح طاقت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے ۔اپنی جنگجو سرشت کے باعث یمن کے قبائل زیادہ تر مصروف جنگ ہی رہے۔ کبھی بیرونی طاقتوں سے تو بسااوقات یہ قبائل آپس میں برسرپیکار رہے۔ اسلام آنے کے بعد بھی مختلف مسلمان بادشاہتیں ان کے ساتھ جوڑ توڑ کرکے حکومتیں کرتی رہیں، مگر مستحکم حکمرانی قائم نہیں ہوسکی اور انتشار رہا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ شہری علاقوں میں تو حکومتیں قائم رہیں مگر دیہی علاقے امامت سے منسلک رہے ۔ دراصل یہاں کے زیدیہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد گرچہ امامت کے قائل ہیں ، مگر ان کے اوراثناء عشری شیعہ مسلک میں بہت فرق ہے ۔ زیدیہ مسلک کے لوگ امامت کے ساتھ ساتھ خلافت راشدہ کے بھی قائل ہیں، اور اہلسنت کے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں۔ امامت سے منسلک زیدیہ مسلک کی شمالی یمن پرحکومت کی تاریخ تقریباً ایک ہزار سال پر محیط ہے۔ اس دوران کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ انہی زیدیہ مسلک قبائل کی حکومت پورے یمن پر بھی رہی۔ سلطنت عثمانیہ جب اپنے بام عروج پر تھی تو سولہویں صدی میں اس نے یہ علاقہ فتح کیا، مگر ان کے خلاف بغاوت رہی اور رومنز کی طرح ان کے بھی کئی بڑے جرنیل مارے گئے، یہاں تک کہ ان کو بھی بالآخر یہاں سے جانا پڑا۔ دوسری جانب جنوبی یمن کا علاقہ جس میں اہلسنت مسلک کی زیادہ تعداد تھی ، ان کا دارالحکومت عدن کی بندرگاہ رہا۔

انیسویں صدی برطانیہ کے عروج کی صدی تھی، سمندر کی لہروں پر برٹش نیوی کی حکومت تھی۔برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ سٹریٹیجک اہمیت کے تمام کلیدی مقامات برطانوی قبضے میں تھے۔ آبنائے ملاکا، آبنائے ہرمز کی طرح یمن کے انتہائی اہم مقام آبنائے باب المندب پر بھی برطانیہ کی نظریں تھیں۔ باب المندب کو اپنی تحویل میں لینے کے لئے 1939ء میں برطانیہ نے عدن کی بندرگاہ پر قبضہ کرلیا اور ہندوستان جانے والے جہازوں کے لئے ایندھن فراہم کرنے کے لئے اڈہ قائم کیا۔ اس وقت عدن کی کالونی کو ہندوستان میں برطانیہ کی حکومت کنٹرول کرتی تھی۔ نہر سویز کھلنے کے بعد جب بحر قلزم اور بحیرہ احمر کے راستے یورپ کی تجارت شروع ہوئی ، جو پہلے پورے براعظم افریقہ کے گرد چکر لگا کر گزرتی تھی‘ تو باب المندب کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ برطانیہ نے یمن کے مختلف قبیلوں کے ساتھ بے شمار معاہدے کئے۔ بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقے میں کئے ، اور بے شمار سلطان، امیر اور شیخ اپنی چھتری میں لے کر جنوبی یمن کو اپنی سرپرستی میں لے لیا،اسی طرح جزیرہ نما العربیہ کی دوسری طرف خلیجی ممالک کو بھی اپنی حفاظت فراہم کردی۔ برطانیہ کا اثررسوخ بھی جنوبی یمن تک ہی محدود رہا۔ شمالی یمن میں سلسلۂ امامت جیسے تیسے 1962ء تک چلتا رہا۔

دوسری جانب بیسویں صدی میں نجد ی خاندان کو خوب ترقی و شہرت ملی۔ 1902ء میں ابن سعود نے نجد کے صدر مقام ریاض پر قبضہ کرلیا۔ جس کے بعد کچھ ہی عرصے میں اس نے باقی نجد بھی فتح کرلیا۔ 1913ء میں خلیج فارس کے ساحلی صوبے الحساء، جو سلطنت عثمانیہ کے زیر اثر تھا ، پر قبضہ کیا۔ اس دوران یورپ میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی ۔ جس کے دوران ابن سعود نے برطانیہ سے تعلقات قائم کئے اور ترکوں کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں۔ حجاز میں شریف حسین آف مکہ کی حکومت تھی۔ برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے علاوہ جنگ عظیم کے بعد ابن سعود نے حجاز پر بھی حملہ کرکے قبضہ کرلیا، اور 1926ء میں اپنی بادشاہت کا اعلان کیا۔ بادشاہت کے اعلان کے بعد ابن سعود کی جانب سے فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور بالآخر 1932ء میں سلطنت سعودی عربیہ کا اعلان کردیا۔ اس دوران مزید پیش قدمی کرتے ہوئے یمن کے کئی علاقے عسیر ، نجران ، جازان وغیرہ اپنی سلطنت میں شامل کرلئے ۔ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ جاری رہی ، جس کا نتیجہ 1934ء میں طائف معاہدے کی صورت میں سامنے آیا ۔اس معاہدے کی انتہائی اہم بات یہ تھی کہ پہلی مرتبہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان سرحدکے تعین کیلئے اتفاق رائے پایا گیا۔ یمن کے جو علاقے سعودی عرب کے پاس تھے ، ان پر بھی یمن کا حق تسلیم کیا گیا اور یمنیوں کو سعودی عرب میں داخل ہونے اور کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ تیل کے پیداواری علاقے بھی ہیں ۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ سعودی عرب کے زیر قبضہ یمنی علاقوں میں بھی زیدیہ مسلک کے قبائل آباد تھے اور سرحد پار کے یمنی علاقوں میں بھی انہی کی اکثریت تھی۔ باقاعدہ سرحد نہ ہونے کے باعث جھڑپیں چلتی رہیں ۔ آخر کار 2000 ء میں 1934 کے معاہدے کی دوبارہ تصدیق ہوئی اور سرحد کا تعین کرلیا گیا۔

1962ء میں شمالی یمن کے اندر زیدی امام کے خلاف فوجی بغاوت ہوگئی۔ اس فوجی بغاوت کی مددکے لئے مصر کے جمال عبدالناصر نے مصری فوجی اور کثیر مقدار میں اسلحہ بھیجا ۔ اس موقع پر سعودی عرب نے شیعہ زیدی امام کی حمایت کی ۔ چونکہ شمالی یمن کی سرپرستی سعودی عرب اور جنوبی یمن کی جمال عبدالناصر کر رہے تھے‘ لہٰذا خانہ جنگی کی صورت میں شمالی یمن اور جنوبی یمن آپس میں برسر پیکار تھے۔ پانچ سال بعد ناصر کو اپنی بچی ہوئی فوج وہاں سے نکالنا پڑی۔ شمالی یمن کے قبائلیوں نے رومنز اور ترکوں کے بعد مصر یوں کو بھی تسلط قائم نہیں کرنے دیا اور انہیں نکال باہر کیا۔ ناصر کے بعد جنوبی یمن میں بائیں بازو کی قوتیں کامیاب ہوگئیں۔ برطانیہ کا عدن سمیت دیگر نوآبادیوں سے انخلاء عمل میں آیا تو مصر اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت کے نتیجے میں یمن باقاعدہ طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ شمالی یمن جمہوریہ یمن بن گیا اور جنوبی یمن عوامی جمہوریہ یمن کے نام سے قائم ہوگیا۔ یہ سعودی عرب کے پڑوس میں عرب دنیا کی واحد اور پہلی سوشلسٹ جمہوریہ تھی جس نے سوویت یونین، چین، کیوبا اور فلسطینیوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے۔ 1978ء میں علی عبداللہ صالح شمالی یمن کا صدر بنا ، جس کی سرپرستی سعودی عرب نے کی اور اسے امریکہ کی حمایت و مدد بھی حاصل تھی۔ شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان مخاصمت کا سلسلہ یہیں نہیں تھما، بلکہ دونوں کے درمیان لڑائیاں جاری رہی۔ علی عبداللہ صالح کے دور میں ہی لڑائیوں کے بعد جنوبی یمن کو شکست ہوئی اور بات چیت کے ذریعے 1990ء میں دونوں حصے دوبارہ مل گئے ۔ علی عبداللہ صالح یمن کے صدر اور جنوبی یمن کا نمائندہ نائب صدر منتخب ہوئے۔ طویل خانہ جنگی کے باعث غربت میں بتدریج اضافہ ہوا۔جنوبی یمن میں غربت اور احساس محرومی کی وجہ سے علیحدگی پسند تحریکیں اٹھتی رہیں، احتجاج ہوتے رہے، جن کو بزور طاقت کچلا گیا۔

متحدہ یمن کے قیام کے کچھ عرصے بعد صدام حسین نے کویت پر حملہ کردیا۔ جس کے خلاف تمام خلیجی ممالک اکٹھے ہوئے اور صدام کے خلاف اتحاد تشکیل دیا۔ یمن نے اس اتحاد سے دوری اختیار کی ۔ جس کے نتیجے میں یمن کے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کشید ہ ہوگئے ۔سعودی عرب ، کویت اور دیگر خلیجی ممالک نے اپنے ممالک میں موجود ہزاروں یمنی شہریوں کو نکال دیا۔ جس کے باعث یمن میں بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا اور حالات ناگفتہ بہ صورت اختیار کرگئے۔ خلیجی ریاستوں کے اس عمل نے یمنی عوام کے دلوں میں غم و غصے اور نفرت کے جذبات کو جنم دیا۔ حالانکہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب میں کام کرنے کے لئے یمنیوں کو کفیل کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ خلیجی ممالک کے ان اقدامات کے نتیجے میں حسین بدرالدین الحوثی نے اخوان المومنین نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔اس تنظیم نے قبائل میں اپنے اثرورسوخ کو انتہائی حد تک بڑھایا اور کچھ فلاحی ادارے بھی قائم کئے۔2000ء میں عدن میں امریکی نیوی پر خودکش حملے کے ذریعے القاعدہ نے اپنے وجود کا احساس دلایا۔ جس کے بعد امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ القاعدہ یمن کی حکومت کے بھی خلاف تھی اور حوثیوں کو بھی اپنا دشمن قراردیتی تھی۔ 2004ء میں یمنی فوج نے اخوا ن المومنین تنظیم کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ۔ جس میں بدرالدین حوثی اور ان کے کئی قریبی ساتھی قتل ہوگئے جس کے بعد اس تنظیم کی قیادت عبدالمالک حوثی کے پاس آئی ۔ جنہوں نے اس تنظیم کو تحلیل کرکے حوثی تحریک کی بنیاد رکھی جس میں حوثیوں کے تین قبیلے حاثد، باقل اور احمر انتہائی متحرک تھے اور ان کا اثر زیادہ تھا۔2004 ء سے 2009 تک صالح کی فوج حوثیوں کے خلاف مسلسل لڑائیاں لڑتی رہی۔

2011 ء میں تیونس، مصرسے جو عرب سپرنگ موومنٹ اٹھی تو اس نے لامحالہ یمن کو بھی متاثر کیا۔ ملک میں غربت، بیروزگاری، پسماندگی کے خلاف قبائلی عوام سڑکوں پر نکلنے لگے۔ حکومت کے خلاف جاری ان مظاہروں میں زیدیہ اور اہلسنت دونوں ہی شریک تھے۔ علی عبداللہ صالح کو چونکہ سعودی عرب کی سرپرستی حاصل تھی اس لئے ان مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا جس میں تقریباً دو ہزار افراد قتل ہوئے سات ہزار کے قریب افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ طاقت کے استعمال کے باوجود عوام ثابت قدم رہے جس کے نتیجے میں علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ صالح کے بعد اسی کے نائب منصور ہادی کو تین سال کے لئے نگران صدر مقرر کیا گیا۔ سیاسی طور پر غیر مستحکم یمن میں القاعدہ کو جگہ بنانے کا زیادہ موقع ملا۔ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف بھی عوامی احتجاج جاری رہا۔ جس کے دوران صدر منصور ہادی نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا۔

صدر ہادی کے خلاف اٹھنے والی آوازیں زیادہ طاقت اختیار کرگئیں۔ صدر ہادی کے خلاف اٹھنے والی تحریک کے مطالبات ذیل تھے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے کو واپس لیا جائے، چونکہ حکومت بدعنوان ہے لہٰذا مستعفی ہو کر ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنائی جائے۔ قومی مذاکرت کے نتیجے میں ہونے والی سفارشات کی روشنی میں آئینی اصلاحات کی جائیں۔ واضح رہے کہ اس عرصے میں صدر ہادی کی مدت صدارت بھی ختم ہوچکی تھی۔ اس دوران داعش نے حوثیوں کی دو مساجد پر خودکش حملے کئے ۔ جن میں سیکڑوں نمازی لقمۂ اجل بنے۔ حوثیوں نے صدارتی محل کا گھیراؤ کرلیا،اس دوران سابق صدر علی عبداللہ صالح بھی حوثیوں سے آ ملے اور ان مطالبات کی حمایت کی۔ صدر منصور مستعفی ہوکر پہلے عدن گیا۔ جہاں اس نے اعلان کیا کہ وہ استعفیٰ واپس لیتا ہے اور اس کے بعد سعودی عرب چلا گیا۔ اگلے ہی روز ریاض میں جی سی سی کا اجلاس بلاکر یمن پر حملے کی تجویز پیش کی گئی۔جس کے بعد واشنگٹن میں مقیم سعودی عرب کے سفیر نے اپنی پریس کانفرنس میں منصور ہادی کی درخواست پر یمن پہ حملوں کا اعلان کردیا۔ اگلے دن سعودی عرب اور عرب اتحادیوں نے یمن پر حملے شروع کئے ۔ جنگ میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یمن عرب دنیا کا ایک غریب اور کمزور ملک ہے ۔ طویل خانہ جنگی اور وسائل کی عدم دستیابی کے باعث عوام پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں۔ حالیہ جنگ سے متعلق انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک اور ادویات کی شدید قلت کے باعث اموات بڑھ رہی ہیں۔رپورٹ میں اقوام متحدہ سے جنگ بند کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔

سٹریٹیجک اہمیت

یمن کے مغربی کنارے پر واقع تنگ بحری راستہ باب المندب جیوسٹریٹیجی کے اعتبار سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اور مشرق وسطیٰ سے نکلنے والا تیل اپنی منزل یورپ کے لئے پہلے آبنائے ہرمز (جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے) سے ہوتا ہوا اسی تنگ بحری راستے پر پہنچتا ہے اور پھر اگلے مرحلے پر نہرسویز سے نکل کر یورپ کی طرف جاتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس تنگ بحری راستے سے سالانہ 20,000 بحری جہاز گزرتے ہیں۔یعنی یہ یورپ سے افریقہ تک کا مختصر ترین ٹرانزٹ پوائنٹ ہے۔ بحیرہ قلزم اور بحرہند کو جوڑنے والی مصروف ترین آبی گزرگاہ کی اہمیت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ یورپ اور افریقہ کے درمیان مختصر ترین تجاری راستہ ہے۔ بحیرہ احمر میں ایک جانب مصر، سوڈان ،اریٹیریا اور جبوتی ہیں، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب اور یمن واقع ہیں۔بحیرہ احمر میں کچھ جزائر بھی ہیں۔ 1995ء میں اریٹیریا آزاد ہوا تو جزیروں کے تنازعے پر یمن اور اریٹیریا کی آپس میں لڑائی ہوگئی۔ اسی طرح یمن کے کچھ جزائر ایسے بھی تھے جس پر سعودی عرب کے ساتھ جھگڑا تھا اور ان جزیروں پر بھی یمن کے حق کو زیادہ تسلیم کیا گیا۔باب المندب ایشیا اور افریقہ کے درمیان بھی آبی گزر گاہ ہے۔ سعودی عرب کو اس مقام پر سب سے بڑی مشکل یہ درپیش ہے کہ جن سمندروں سے اس کے ساحل ملتے ہیں ان کی اصلی آبی گزرگاہیں دوسرے ممالک کے کنٹرول میں ہیں۔ جیسے خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کا کنٹرول ہے۔ بحیرہ احمر کی اصلی آبی گزرگاہ شمار ہونے والی نہرسویز کا کنٹرول مصر کے پاس ہے۔ اسی طرح آبنائے باب المندب کا کنٹرول یمن اور افریقی ممالک کے پاس ہے۔ چنانچہ یمن میں اپنی مرضی کی حکومت کے قیام کا ایک بڑا مقصد ان سمندری راستوں پر اثر برقرار رکھنا بھی ہے۔

موجودہ صورتِ حال

عرب اتحاد کی جانب سے جب یمن پر حملوں کا اعلان کیا گیا تو اس موقع پر ان تمام ممالک کے جھنڈے موجود تھے جو اس جنگ میں شریک تھے۔ ان جھنڈوں میں پاکستان کا پرچم بھی شامل تھا۔ بین الاقوامی میڈیا نے اس پرچم کو نہ صرف فوکس کیا، بلکہ یہ خبر بھی جاری کردی کہ حملہ آور فضائی دستوں میں پاکستان کے طیارے بھی شامل ہیں جس کی بعد میں پاکستان نے تردید کی۔ دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اس جنگ میں ان کا اتحادی ہے۔ جس کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ یمن میں مقیم پاکستانیوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوگئیں اور انہیں یمن سے فوری طور پر انخلاء کرنا پڑا۔ عالمی میڈیا کے اعلان کے باوجود یمن میں مقیم پاکستانیوں کو حوثیوں نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جس کا برملا اظہار یمن سے آنے والے پاکستانیوں نے بھی کیا۔ یمن کی جنگ میں پاکستان کی فوجی شرکت کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کا ردعمل بھی سامنے آیا، اور بالآخر ایک قرارداد منظور ہوئی ۔ جس میں سعودی عرب کے تحفظ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا اعادہ اور یمن کی جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان کا یہ فیصلہ انتہائی اصولی اور اس کے سفارتی قواعد و ضوابط کے عین مطابق تھا۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل چالیس میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ پاکستان اسلامی دنیا کے ممالک کے ساتھ اتحاد کی بنیاد پر دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم رکھے۔ ان میں اگرکوئی اختلافات پیدا ہوں تو ان کو پرامن طریقے سے حل کرنے کو ترجیح دے۔اس سے قبل وطن عزیز کے اندر چند دینی جماعتوں کی جانب سے تحفظ حرمین شریفین کے نام پر ریلیاں، سیمینارز، کانفرنسز شروع ہوگئیں۔ کچھ بیرونی وظیفہ خوروں نے اسے شیعہ سنی جنگ قرار دینے کے لئے اپنی ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا، تو کہیں سے سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش خطرات کا ذکرخیر جاری ہوا۔ پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد سامنے آنے کے بعد برادر دوست ممالک کی جانب سے جو ردعمل سامنے آیا ، یقینی طور پر اس سے پاکستان کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی، وہ سفارتی اصولوں کے بھی منافی تھا۔ یمن کی جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ یوں بھی ضروری تھا کہ بیرونی قوتیں اس جنگ کو فرقہ وارانہ ثابت کرنے پر کمربستہ ہیں ۔

پاکستان میں دونوں مسالک موجود ہیں اور دونوں کے درمیان افہام و تفہیم و بھائی چارے کی فضا پائی جاتی ہے ۔ لہٰذا یمن کے مسئلے میں کسی بھی ایک فریق کی حمایت ہمارے لئے داخلی مسائل کو بھی جنم دے سکتی تھی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اسلامک جمہوریہ ایران اور برادر ملک ترکی کے درمیان 1985ء سے اقتصادی تعاون کی تنظیم کے ذریعے مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے جس کا صدر دفتر تہران میں ہے ۔ 1992ء میں سوویت یونین سے الگ ہونے والی اسلامی ریاستوں اور افغانستان کو بھی اس تنظیم میں شامل کرلیا گیا اور وسیع پیمانے پر ان کے درمیان تعاون جاری ہے۔ پاکستان خلیجی ریاستوں میں بھی استحکام چاہتا ہے اور شمالی افریقہ کی مسلم ریاستوں کی آزادی کے لئے بھی پاکستان کا کلیدی کردار رہا ہے ۔ فلسطین کے معاملے پر پاکستان آج بھی اپنے بانی، قائداعظم، کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس نے اسرائیل کو نہ ہی تسلیم کیا اور نہ ہی اس سے تعلقات قائم کئے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض عرب ممالک اپنے اصولی مؤقف سے ہٹ کر اسرائیل سے تعلقات قائم کرچکے ہیں اور ان تعلقات کو فروغ بھی دے رہے ہیں ۔

یمن کے مسئلے پر غیر جانبدار رہنے کی زیادہ ضرورت یوں بھی تھی کہ پاکستانی افواج ضربِ عضب میں مصروف ہیں۔ ملک کے اندر دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ ہمارے لئے ایک چیلنج ہے ۔ بقاء کی اس جنگ کو ہمارے لئے جیتنا انتہائی ضروری ہے ۔ دوسری جانب بھارت ہماری مشرقی سرحدوں پر جارحانہ کارروائیوں میں مصروف ہے ۔ یہی بھارت ہماری مغربی سرحد کو بھی غیر محفوظ بنانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ۔ بلوچستان اور کراچی میں ہونے والی تخریب کاری میں اس کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں ۔ ہمارے ملک کے حالات اس امر کے ہرگز متحمل نہیں کہ ہم یمن کی جنگ میں فریق بنیں ۔ ہم اسلامی دنیا کی اکلوتی جوہری طاقت ہیں ۔ ہماری جوہری طاقت پر تمام بڑی طاقتیں نظریں جمائے بیٹھی ہیں ۔ ہمیں کسی بھی ایسے اقدام لینے سے اجتناب کرنا ہوگا کہ جس کے باعث یہ طاقتیں ہمیں غیر ذمہ دار جوہری طاقت سمجھیں ۔ویسے بھی جب ہمارے اوپر حملے ہوئے تھے تو کس کس ملک نے ہمارے دفاع کے لئے کتنی فوج بھیجی تھی۔ کس کس ملک نے جنگوں میں ہماری کتنی مدد کی تھی۔ بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگوں میں جن ملکوں نے ہماری مدد کی ۔ ہم اُن کے شکر گزار ہیں اور ان تمام ممالک کا احترام کرتے ہیں ۔ پاکستان پہلے بھی امن کے قیام کے لئے کردار ادا کرتا رہا ہے اورآئندہ بھی کرتا رہے گا۔ یمن کی جنگ کے بارے میں عمان سعودی عرب کے اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ ایران اور ترکی نے بھی مسئلے کے پُرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے اور جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ عرب ملک عراق کے وزیر اعظم نے بھی اس جنگ کی مخالفت کی ہے۔ جنگیں کبھی مسائل کا حل ثابت نہیں ہوتیں۔ عرب ممالک نے مشترکہ عرب فورس کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے۔ پاکستان عرب ملک نہیں ہے ، جس کی وجہ سے وہ اس فورس کا حصہ نہیں بن سکتا۔ یمن پر حملے سے قبل ریاض میں جی سی سی کی کانفرنس بلائی گئی۔ اگر اوآئی سی کی کانفرنس بلائی جاتی تو اس میں پاکستان بھی شامل ہوتا اور اسلامک فورس کا قیام عمل میں آتا تو پاکستان اس میں ضرور شریک ہوتا۔یمن پر سعودی عرب اور اتحادیوں کے حملے میں یمنی عوام کی ہلاکتوں کے علاوہ دوسرا بڑا نقصان داعش اور القاعدہ کے منظم ہونے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ فضائی حملوں کے نتیجے میں داعش کے دہشت گردوں نے یمن کی دو جیلیں توڑ کر ان میں قید اپنے سیکڑوں ساتھی آزاد کرالئے ہیں۔ یمن کا صوبہ حضرموت داعش کے کنٹرول میں آچکا ہے ۔ یہ وہی داعش ہے جو حرمین شریفین سے متعلق اپنے مذموم عزائم کا اظہار کرچکی ہے ۔ اسی داعش کے خلاف عراق اور شام میں ایران اور اس کے زیر اثر ملیشیا لڑرہے ہیں ۔ یمن کے اندر یہی داعش حوثیوں پر حملے کررہی ہے ۔ یمن پر سعودی حملوں کے نتیجے میں اگر داعش، القاعدہ وغیرہ زیادہ منظم ہوتے ہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے لئے سنگین خطرہ کون ثابت ہوگا، وہ حوثی جو یمن کی کل آباد ی کا چالیس فیصد ہیں اور پاور شیئرنگ کی بنیاد پر حکومت میں حصہ چاہتے ہیں یا وہ داعش جو عراق اور شام میں تباہی کی مثالیں رقم کرنے کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین اور سعودی حکومت سے متعلق اپنے ارادے ظاہر کرچکی ہیں ۔

ترقی اور استحکام کے لئے پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہوتا ہے ۔ ایران کا چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ حالیہ جوہری معاہدہ امن کی جانب نہایت مثبت پیش رفت ہے ۔ ایران نے ایک لحاظ سے قربانی دی ہے کہ امن کی خاطر وہ دس سال کے لئے اپنا جوہری پروگرام منجمد کرنے پر رضامند ہوا ہے ۔ اس معاہدے کے تحت ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں بھی اٹھ جائیں گی ۔ پابندیوں کے خاتمے سے ہمارے لئے ایران سے بجلی اور گیس کا حصول آسان ہوجائے گا، جو ہماری بنیادی ضرورت بھی ہے ۔ ہمارے برادر عرب دوست ملکوں کو ہماری پوزیشن سمجھنی چاہئے ۔یمن کے مسئلے کا پُرامن حل سب کے مفاد میں ہے ۔ 2011ء میں جس طرح کا معاہدہ کرکے حوثیوں کو شریک اقتدار کیا گیا ، اب بھی اسی طرز کے معاہدے کی ضرورت ہے۔ چالیس فیصد آباد ی کو شریک اقتدار کئے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔اگر امن قائم نہ ہوا تو جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔ اس جنگ کا پھیلا ؤ یا طول سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ پاور شیئرنگ کی ایسی کونسل بنائی جائے جس میں سب کی نمائندگی ہو۔ یمن میں امن کا یہی راستہ ہے اور افغانستان میں بھی امن کا یہی راستہ ہے ۔ طاقت کے بل بوتے پر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ کو ئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ تاریخ نے ایک عجیب سبق دیا ہے کہ امریکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جتنی بھی جنگوں میں گیا ہے کسی ایک میں بھی اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکا۔ اسے کامیابی نہیں ملی۔ ویت نام ، عراق، افغانستان کی مثالیں دنیا کے سامنے ہیں۔ برادر دوست ملک سعود ی عرب کو امریکی جنگوں کے نتائج ملحوظ خاطر رکھنے چاہئیں۔

(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)
 
12
June

کراچی کے موجودہ حالات اور امن و امان کی صورت حال پر ایک سروے رپورٹ

karachi_opt1.jpgتادم تحریر کراچی آپریشن پورے زور و شور سے جاری ہے، اس وقت جب میں یہ آرٹیکل لکھنے بیٹھا ہوں تو ٹی وی پر رینجرز کی جانب سے عمران فاروق کے قتل میں ملوث ایک اہم ملزم ’’معظم علی ‘‘کی گرفتاری کی خبر چل رہی ہے ۔

گزشتہ ماہ اپنے آرٹیکل میں کراچی آپریشن کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے راقم الحروف نے‘بطورِشہری کراچی میں جو تبدیلیاں دیکھیں انہیں بیان کرنے کی کوشش کی‘ پھر بھی کچھ کمی محسوس ہورہی تھی اور جلد ہی سمجھ آگئی کہ جب تک کراچی میں رہنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ان کی رائے نہیں لے لیتا‘ کراچی پر بات ادھوری ہی رہے گی، کیونکہ کراچی کی بدامنی کا خمیازہ کسی ایک شخص یا طبقے نے نہیں بلکہ معاشرے کی ہر اکائی نے بھگتا ہے۔ چاہے کوئی خوف زدہ صحافی ہو یا اپنے رزق میں سے کسی کو جبراً بھتہ دیتا ہوا تاجر، جان کی حفاظت کے لئے ملک اور کاروبار کو خیر باد کہتا ہوا کوئی صنعت کار ہو یا علم کا نور بانٹنے والا کوئی استاد ، کوئی سماجی کارکن ہو یا حصول علم کی تلاش میں سرگرداں طالب علم ، غرض یہ کہ ہر ایک نے کسی نہ کسی طرح اس بدامنی کی چوٹ کھائی ہے ، لہٰذا یہ طے پایا کہ اب جہاں تک ہوسکے مختلف لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کروں گا کہ سندھ رینجرز کے کراچی آپریشن شروع کرنے سے قبل کے کراچی میں‘او ر موجودہ کراچی میں ‘ آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں۔

آپریشن کی کامیابی کے لئے سیاسی مصلحتوں کو عملاً بالائے طاق رکھنا ہوگا۔مجرموں کے خلاف بے رحم آپریشن اور ساتھ ساتھ عدالتوں کا بھی تعاون لینا ہوگا ورنہ یہ لڑائی کمرہ عدالت میں ہاری جا سکتی ہے ۔

 

اسد نثار

(ایکٹنگ چیئرمین سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری)

کراچی آپریشن شروع ہونے سے قبل یہاں انڈسٹریل ایریا کے حالات بہت خراب تھے اور آپ کو حیرانی ہوگی کہ یہاں یومیہ تین سو سے زائد صرف موبائل چھینے کی وارداتیں ہوتی تھیں، اس کے علاوہ جو جرائم تھے ان میں ایک تو یہ تھا کہ کوئی چار پانچ لوگ گاڑی میں بیٹھ کر کسی بھی کمپنی میں داخل ہوجاتے اور اپنا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے بتا کر فیکٹری مالکان سے بھتہ وصول کرتے ۔۔۔ جب کہ شارٹ ٹائم کڈ نیپنگ بھی اپنے عروج پر تھی ، حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ فیکٹری مالکان ہر جانب سے مایوس ہو کر یا تو دیگر شہروں میں اپنا سرمایہ منتقل کرنے لگے یا پھر پاکستان سے باہر کاروبار لے جانے لگے جو بلا شبہ ایک قومی نقصان تھا ۔۔۔ اور کرتے بھی کیا کہ کوئی فیکٹری ایسی نہیں تھی کہ جس کا یارن (yarn)یا پھر کپڑے کا ٹرک ہفتے میں ایک سے دو بار لوٹا نہ گیا ہو ، ٹرک سے سارا سامان اتروا کر کسی ویران علاقے میں ٹرک کھڑا کر دیتے اور چند لمحوں میں فیکٹری مالکان کو لاکھوں کا نقصان ہوجاتا اور وہ بھی ہر ہفتے ۔
اس کے علاوہ جو سب سے بڑا مسئلہ تھا وہ تھا جان کی حفاظت کا، ہر گلی میں ایک ناجائز چھپر ہوٹل ان ہی جرائم پیشہ عناصر نے دھونس دھمکی سے کھڑا کیا ہوتا تھا جہاں پر نہ صرف ان جرائم پیشہ عناصر نے ٹھکانے بنائے ہوتے تھے بلکہ فیکٹری مالکان کے معمولات پر بھی نظر رکھی جاتی تھی کہ کون کب کس راستے سے آتا ہے ۔۔۔ لہٰذا سب سے پہلے ہم ہمت کر کے اس وقت کے ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر کے پاس گئے جنھوں نے ہمارے مسائل اور خدشات تسلی سے سنے اور یہ ان کا کراچی کے انڈسٹری مالکان پر احسان ہی سمجھ لیں کہ جس اپنائیت سے انھوں نے ہمارا ساتھ دیا اور انڈسٹریل ایریا سے اس قبضہ و جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔۔۔ اور آج میں کہہ سکتا ہوں کہ رینجرز کے آپریشن کے بعد اب بیان کردہ تمام مسائل اگر مکمل ختم نہیں بھی ہوئے تو اتنے کم رہ گئے ہیں کہ ہم اسے صفر ہی تصور کرتے ہیں ۔۔۔ اس کے علاوہ رینجرز کے تعاون اور دلیری والے اقدام سے یہاں کی پولیس پر بھی بہت مثبت اثر پڑا ہے۔ اگر آپریشن اپنے پایۂ تکمیل کوپہنچا تو مجھے یقین ہے کراچی کو روشنیوں کا شہر بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا ۔

ظفر اقبال

(تاجر )

zafar_iqbal.jpgمیں پچھلے بیس سال سے کورنگی کے علاقے میں اپنا کاروبار چلا رہا ہوں، اس دوران بہت سے آپریشن دیکھے اور اس کے بعد کی صورتحال بھی، یہ حقیقت ہے کہ جب یہ آپریشن شروع ہوا اس وقت تک آگ بہت پھیل چکی تھی تاجروں کی تو ویسے ہی کمر ٹوٹی ہوئی تھی کہ ہر دوسرا شخص کسی سیاسی جماعت کا نام لے کر بھتہ مانگنے آجاتا، رمضان کے فطرانے‘ عید کی کھالیں‘ غرض ہر تہوار میں ایک خوف کا سماں ہوتا کہ اگر ایک کو دئیے اور دوسرے کو نہ دے پائے تو ان زمینی خداؤں سے جان کی امان نہیں ملنے والی، اب تک تو بہت سکون ہے بس اللہ سے دعا ہے یہ آپریشن اپنی منزل تک پہنچے تا کہ کراچی والے سکھ کا سانس لے سکیں اور دوبارہ خوف پھیلانے والے عناصر کو سر اٹھانے کی ہمت ہی نہ ہو ۔۔۔
 

محمد طاہر

( سماجی کارکن )

m_tahir.jpgکراچی آپریشن سے قبل سیاسی و سماجی صورتحال نہایت ابتری کا شکار رہی ہے ۔۔۔ لیکن جب سے رینجرز و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کیا ہے۔ حالات بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہیں۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خوف کی فضا ختم ہونے کو ہے ۔۔۔ نہ صرف کاروباری حضرات بے خوفی سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں بلکہ دیگر شہروں کے لوگوں میں جو کراچی کا ایک خوفناک امیج بن چکا تھا‘ اب اس میں بھی بہتری کی توقع ہے ۔۔۔ کراچی کی بدامنی میں جہاں غنڈہ عناصر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل کرتے تھے‘ وہیں ان کی دیکھا دیکھی نوجوان نسل بھی محنت کے بجائے ’’شارٹ کٹ‘‘ کے چکر میں تعلیم سے دور ہو کر ’’ٹی ٹی‘‘ کے قریب ہونے لگی تھی گلی محلوں میں مقامی بدمعاشوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ شریف انسان کا اس ماحول میں جینا محال ہو چکا تھا، مگر جب کراچی آپریشن کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے، جرائم پیشہ لوگ قانون کی گرفت میں آنا شروع ہوئے تو ان موسمی بدمعاشوں نے بھی توبہ کرنا شروع کر دی ۔۔۔ اب امید کرتے ہیں جب تک آخری دہشتگرد ختم نہیں ہوجاتا‘ یہ آپریشن بنا رکے چلتا رہے گا ۔۔۔
 

عبدالوحید

(آئل ڈیلر و سپلائر)

abdul_waheed.jpgہم کتنے عرصے سے گارڈن کے علاقے میں کام کر رہے ہیں یہ تو عمر کے اس حصے میں مجھے خود بھی یاد نہیں مگر اس وقت جو آپ سفید بال دیکھ رہے ہیں تب یہ کالے ہوا کرتے تھے ۔۔۔ ہمارا کام ایسا ہے کہ کراچی کے ہر علاقے میں جانا پڑتا ہے اور پچھلے بدامنی کے ایک عشرے میں جو علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں ہمارا گارڈن کا علاقہ سرفہرست ہے ۔۔۔ اس کے علاوہ پچھلے کچھ عرصے میں ہمارے لئے بکرا منڈی ، پہاڑ گنج‘ آگرہ تاج اور مچھر کالونی نوگو ایریا بن چکے تھے کہ جہاں اگر سامان سپلائی کرنے جاتے بھی تھے تو کبھی مسلح لوگ سامان ہی راستے میں لوٹ لیتے یا واپسی میں پے منٹ سے ہاتھ دھونا پڑ جاتا تھا، یہ سمجھ لیں ہم لوگوں کے پاس ایسے کتنے ہی آرڈر آتے جسے ہم صرف اس لئے پورا نہیں کر پاتے تھے کہ اس علاقے کے حالات اس قابل نہیں ہوا کرتے تھے کہ بندہ جائے اور محفوظ واپس آ سکے۔۔۔ آپ تو رینجرز آپریشن کا پوچھ رہے ہیں‘ یقیناًکراچی آپریشن کے بعد بہت سکون ہے مگر ہمارے علاقے میں جب ایف سی والے آئے تھے تب سے ہی بہتری کی شروعات ہوگئی تھیں‘ ان کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی ، یہاں دھوبی گھاٹ کے علاقے میں کھڑے ہوتے تھے وہ لوگ اور اللہ کا شکر ہے کہ اس پوری پٹی میں امن ہوگیا تھا۔ اس کے بعد جو رینجرز نے آپریشن شروع کیا ہے تو سمجھیں کتنے سالوں بعد آج ہم کھل کر کاروبار کر رہے ہیں ۔۔۔ اور کراچی کے کسی بھی حصے میں بے فکر ہو کر جاتے ہیں۔
 

احسان کوہاٹی

(سینیئر صحافی )

ehsan_kohati.jpgاعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کراچی آپریشن کے بعد سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ بہتری کب تک رہے گی؟ اس سے پہلے بھی بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ آپریشن ہوتے رہے ہیں مگر ہوتا یہ ہے کچھ عرصے بعد لولے لنگڑے‘ کن کٹے‘ پہاڑی پھر نکل آتے ہیں۔ یہ آپریشن ٹپکتی چھت تلے بالٹیاں‘ دیگچیاں اور برتن رکھنے جیسا ہے ہمیں چھت کی مرمت کرنا ہوگی نہ کہ بالٹیاں بھرجا نے کے بعد ایک کے بعد دوسری بالٹی رکھنا ہوگی۔ کراچی میں امن و امان کی ابتر صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ2013 میں پچیس سو سے زائد شہری قتل ہوئے جبکہ 2014 میں 1800،اگرچہ700 افراد کا فرق ہے بہرطور یہ ایسے اعداد و شمار ہیں کہ انسان چکرا کر رہ جائے مگر اس پر کراچی پولیس چیف اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ بہرحال آپریشن کی کامیابی کے لئے سیاسی مصلحتوں کو عملاً بالائے طاق رکھنا ہوگا۔مجرموں کے خلاف بے رحم آپریشن اور ساتھ ساتھ عدالتوں کا بھی تعاون لینا ہوگا ورنہ یہ لڑائی کمرہ عدالت میں ہاری جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ رینجرز کے کردار کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی ۔
 

عادل معروف

(سٹوڈنٹ ICAP کراچی)

adil_maroof.jpgآپریشن سے قبل کراچی میں ہر طبقہ ڈرا سہما رہتا تھا ان ہی میں سے ایک طبقہ ہم سٹوڈنٹس کا بھی تھا۔جہاں جانا ہوتا یا کمبائن اسٹڈی کا پروگرام بنتا تو پہلے یہی پوچھتے رہتے تھے کہ آیا وہ علاقہ ہمارے لئے ’’نوگو ایریا‘‘ تو نہیں۔ لیپ ٹاپ سمیت قیمتی سامان ساتھ رکھنے سے ویسے ہی گھبراتے تھے کہ اگر راستے میں نہ لٹے تو بس میں دوران سفر لوٹ لئے جاتے ہیں ۔ اب اللہ کا کرم ہے کہ آپریشن شروع ہونے کے بعد کافی سکون آگیا ہے، چھینا جھپٹی اور ٹارگٹ کلنگ تو کم ہوئی ہی ہے ساتھ میں ہڑتالوں کے عذاب سے جو پڑھائی کا حرج ہوتا تھا‘ اس سے بھی اب تک جان چھوٹی ہوئی ہے ۔ لیکن ابھی بھی کافی جگہوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے گورنمنٹ اور کراچی آپریشن میں شامل رینجرز و دیگر حساس ادارے کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے میں کسی مصلحت سے کام لئے بغیر اس نیک کام کو اپنے انجام تک پہنچائیں۔
 

رقیہ ستار

(سٹوڈنٹ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی)

raqya_satar.jpgآج سے چند مہینے پہلے جہاں کراچی کے باشندے خوف و دہشت کی فضا میں جی رہے تھے تو وہیں عام عوام بالخصوص خواتین کا شام کے بعد گھروں سے نکلنا تک محال تھا، مگر آج ماشا اللہ اس رنگ و نور کے شہر کی روشنیاں پھر سے بحال ہورہی ہیں، نہ صرف عوام کے خوف میں کمی آئی ہے بلکہ مجموعی طور پر بھی شہر کی فضا میں بہتری محسوس ہورہی ہے ۔
 

محمد مزمل

(سٹوڈنٹ این‘ای ‘ڈی یونیورسٹی)

m_muzamil.jpgمیرے خیال سے کراچی آپریشن کے فوائد سے شاید ہی کوئی انکار کرے۔ بہرکیف ہر شخص کے لئے اس کے فوائد مختلف ضرور ہوسکتے ہیں۔ایک تاجر گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے میرے لئے بھی آپریشن کے فوائد کا بڑا حصّہ تاجر برادری سے ہی منسلک ہے، کچھ عرصہ پہلے تک میرے اکثر رشتے دار جہاں ہر وقت بھتے اور پرچی کے خوف سے کہیں نکل نہیں پاتے تھے‘ اب وہ لوگ ہر قسم کے خوف سے آزاد ہو کر اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ قائد اعظم کے شہر کو سندھ رینجرز ضرور بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز سے پاک کر کے اس کی اصل شناخت دلائے گی ۔ یہ تو تھی ان کی رائے جنھوں نے تصویر کے ساتھ اپنا مؤقف دینا چاہا ، اس کے علاوہ بہت سے لوگ تھے جو مؤقف تو دینا چاہ رہے تھے‘ مگر تصویر بنوانے میں انہیں ایک انجانا سا خوف تھا کہ کہیں کل کو یہ آپریشن بند ہوگیا تو ہماری جان مشکل میں پڑ جانی ہے‘ لہٰذا میں نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا۔ ایک تاجر کابغیر تصویر مؤقف ضرور بیان کروں گا جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کراچی میں کاروبار کرنے والے کس خوف و اذیت سے گزرے ہیں کہ آج تک ان کی نفسیات پر خوف کا راج ہے ۔۔۔
 

اسرار عباسی صاحب شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں اپنا کاروبار کرتے ہیں ۔۔۔ شیرشاہ کباڑی مارکیٹ کے نام سے کون واقف نہ ہوگا یہ وہی مارکیٹ ہے جہاں دن دیہاڑے باپ بیٹوں سمیت 12 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔۔۔ اسرار عباسی اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے آپریشن ہو رہا ہے مگر آج بھی اگر کوئی مارکیٹ میں افواہ ہی اڑا دے کہ حالات خراب ہونے والے ہیں تو ہم لوگ دکانیں چھوڑ کر گھر کی جانب بھاگتے ہیں اور کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ گھر پہنچ کر جب معلوم کیا کہ ہوا کیا ہے تو علم ہوا کہ کسی نے مذاق میں یا شرارتاً افواہ پھیلائی تھی ، آپ اسی سے ہمارے خوف کا اندازہ لگا لیں ۔۔۔۔۔۔

اسرار عباسی صاحب بھی ٹھیک ہی کہتے ہیں واقعی دہشتگردوں کو جب تک سزا نہیں ملتی کراچی کے شہری اس نفسیاتی خوف سے کیسے آزاد ہوسکتے ہیں کہ جو ہر وقت’’ کچھ ہونے والا ہے‘‘ کے اندیشے میں ہی رہتے ہیں، یہاں کے باسی اتنا خون دیکھ چکے ہیں کہ اب انہیں ایک طویل مدتی دماغی سکون کی ضرورت ہے ورنہ ایک انجانا خوف ہمیشہ سوار رہے گا کہ کہیں پھر سے وہ خون آشام درندے لوٹ کر نہ آجائیں ۔۔۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک، کراچی آپریشن میں شریک اداروں کو کامیابی سے ہمکنار کرے تا کہ کراچی پھر سے سانس لے سکے کراچی والے پھر سے سکون کی زندگی جی سکیں ۔۔۔۔ آمین مصنف معروف تجزیہ نگار اور ہلال کے مستقل لکھاری ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

شہید ساتھیوں کی یاد میں

کیا سمجھتے ہو تم بھول جائیں گے ہم وہ دن

خون بہایا تھا جب تم نے معصوموں کا ایک دن

وہ میرے دوست تھے جن پہ بندوق کا وار تم نے کیا

ان کے پیاروں کو تکلیف اور درد تم نے دیا

ان کی ماں کی دُعا بن گئی ان کی خاطر ردا پیار کی

اور چکانی پڑے گی تمہیں اب تو قیمت ہر اک وار کی

پھول تھے نرم ونازک مگر تم نے روندا انہیں پاؤں سے

ماں کے پیارے تھے تم نے جدا کر دیاہے جنھیں ماؤں سے

تم سے وعدہ ہے میرا کہ لے گا خدا تم سے اس کا جواب

حشر تک تم پہ اترے گا ان پاک روحوں کا یوم حساب

ارمغان بن کامران

 
12
June

چین کے صدر جناب شی چن پنگ نے 20 اپریل کو پاکستان کا تاریخی دورہ کیا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے51 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے جن کی مالیّت 46 ارب ڈالرہے۔ زبردست اہمیّت کے حامل ان معاہدوں کو عملی شکل دینے کی صورت میں نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعلقات میں گہرائی آئے گی بلکہ اس کے خطے پر بھی دور رس اثرات مرتّب ہوں گے ۔یہی وجہ ہے کہ اگر معروف امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس دورے کو گیم چینجر قرار دیا ہے،تو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس دورے اور اس دورے کے دوران ہونے والے معاہدوں کو نئی سپر ہائی وے کا نام دیا ہے،جبکہ بھارتی میڈیا نے اسے پاکستانی سرزمین پر ڈریگن کی چال قرار دے کر اپنے جلے ہوئے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ زیرنظر تحریر میں ہم چین کے صدر شی چن پنگ کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے ان معاہدوں کی اہمیّت،خطے پر اس کے پڑنے والے اثرات اوران معاہدوں کو عملی شکل دینے کی راہ میں درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیں گے۔

pak_cheen_agr1.jpgدراصل ان معاہدوں کی رو سے چین پاکستان میں توانائی کی کمی پوری کرنے کے لئے شروع کئے جانے والے نئے منصوبوں میں تقریباََ 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا ، جبکہ 12 ارب ڈالرریلوے لائنوں،شاہراہوں اور پائپ لائنوں پر خرچ کئے جائیں گے جو سنکیانگ کو گوادر سے ملائیں گی، چین کے تعاون سے سب سے پہلے تھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کئے جائیں گے جن سے 6600 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، صحرائے تھر کے نو ہزار مربع کلومیٹر کے رقبہ میں 175 ارب ڈالر کا کوئلہ موجود ہے جس سے پہلی بار چینی کمپنی بجلی پیدا کرے گی۔چینی ماہرین کے مطابق کوئلے سے سستی بجلی پیدا ہوگی اور روایتی قرضوں کی ادائیگی کے بعد بجلی کی فی یونٹ قیمت میں پچاس فیصد کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ چین پن بجلی ،شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے مختلف منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ سارے منصوبے مجموعی طور پر 17000میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں گوادر کی بندرگاہ کو بہتر بنایا جائے گا،تیسرے مرحلے میں ریلوے لائنز،شاہراہیں اور ایکسپریس ویز تعمیر کی جائیں گی اور چوتھے مرحلے میں صنعتی تعاون میں اضافہ ہوگاجس کے تحت ملک میں جہاں جہاں سے یہ راہداری گزرے گی، ان علاقوں میں اقتصادی زون قائم کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ تمام میگا پراجیکٹ پاک چین اقتصادی راہداری کے ذیلی حصے ہیں جن کی تکمیل میں ہی مطلوبہ مقاصد کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔اگر ہم مذکورہ اقتصادی راہداری کے نقشے پر غور کریں تو یہ کچھ اس طرح سے ہے۔

گوادر کی بندرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ہے، اور یہ تیل کے وسائل سے مالامال مشرق وسطیٰ کے لئے داخلی دروازے کا کام دیتی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کے صوبے بلوچستان میں گوادر بندرگاہ سے شروع ہو کر پاکستان کے چاروں صوبوں سے گزر کر ہمالیہ کی پہاڑیوں سے نکلتی ہوئی چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں کاشغر سے ملے گی ،جس کی لمبائی تقریباً  3,000 کلومیٹر ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ریل،روڈ اور پائپ لائنوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کو حسب ذیل فوائد حاصل ہوں گے۔

 -1  ملک میں کاروبار و روزگار کے وسیع امکانات پیدا ہوں گے۔

 -2 صنعتی ترقی کے مواقع بڑھیں گے جس سے قومی شرح نمو میں بہتری پیدا ہوگی۔

 -3گوادر بندرگاہ میں بہتری آنے سے پاکستان کی بحری تجارت میں تین گنا اضافہ ہوگا۔

 -4 ملک میں وسیع پیمانے پر اعلیٰ کوالٹی کے انفراسٹرکچر کی تعمیر ہوگی۔

 -5 توانائی کی قلّت دور ہونے سے موجودہ کارخانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا جس کی بدولت شرح نمو میں تقریباََ 2فیصد اضافہ ہوگا۔

 -6 بڑی تعداد میں ہنرمند انفرادی قوت کی تشکیل ہوگی۔

 -7 افواج پاکستان کے جری سپاہیوں کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو مہمیز ملے گی کیونکہ اقتصادی راہداری کو زیادہ تر ان علاقوں سے گزارا جائے گا جو دہشت گردی کا شکار ہیں۔یہاں امن قائم کرنے کے لئے دونوں ملکوں کی حکومتیں اب مزید یکسوئی کا مظاہرہ کریں گی۔

 -8 پاکستان کو ٹرانزٹ فیس کی مد میں ایک بڑا اور مستقل ذریعہ ملے گا۔

 -9 ذرائع آمدورفت میں بہتری آنے سے اندرونی و بیرونی تجارت میں اضافہ ہوگا۔

 -10 چین کی شمولیت کے باعث پاکستان کا بین الاقوامی حلقوں، بالخصوص تجارتی شعبے، کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

-11 مجموعی طور پر یہ منصوبے پاکستان کے استحکام میں اضافے کا باعث ہوں گے۔ اس راہداری سے چین کوملنے والے فوائد یہ ہیں۔ 

 -1 پاک چین اقتصادی راہداری کے باعث چین کو آبنائے ملاکا کے ذریعے پانچ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے شرق اوسط سے تیل لانے کے بجائے گوادر کی پورٹ کے ذریعے آبنائے ہرمز کے راستے محض 1800 کلو میٹر دور مغربی چین کی بندرگاہ کاشغرتک تیل پہنچنے سے اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگا۔

 -2اس راہداری کے باعث چینی مصنوعات کی بیرونی منڈیوں تک رسائی بڑھے گی۔

 -3اس منصوبے کی بدولت چین کے مغربی علاقوں کی پسماندگی کم ہوگی۔

 -4چین کی مارکیٹس یوریشیا،(Eurasia) مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ساتھ مربوط ہوجائیں گی۔

 -5چین کا خطے میں اثرورسوخ مزید بڑھے گااور یہ اس کے سپر پاور بننے کے خواب ا ورتعبیر کے درمیان فاصلہ گھٹا دے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری خطّے کی سیاست،اقتصادی زندگی اور معاشرت  پر بھی دور رس اثرات مرتب کرے گی۔

pak_cheen_agr2.jpg

ان منصوبوں کی بدولت خطے میں بہترین ذرائع آمدورفت کی وجہ سے معاشرتی ہم آہنگی بڑھے گی۔یہ منصوبہ خطے میں تجارت کو نئی جہتیں دے گا۔ عالمی سرمائے کا بڑا حصّہ اس خطے میں آجائے گا اور یہ اقتصادی راہداری جس جس ملک سے بھی گزرے گی وہاں پر زبردست معاشی منڈیوں کو جنم دے گی۔ بلاشبہ یہ منصوبہ معاشی لحاظ سے خطّے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیّت رکھتا ہے۔ سیاسی ماہرین کی ایک تعداد 21ویں صدی کو ایشیا کی صدی قرار دے رہی ہے۔ اگر ہم چین کے قائم کردہ ایشیا انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک،ون بیلٹ ،ون روٹ پالیسی اور شنگھائی تعاون کونسل کے بڑھتے ہوئے کردار کا جائزہ لیں تو ایسا لگ رہا ہے کہ یہ مستقبل میں ایشیا میں مغرب کے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور ڈبلیو ٹی او کے بہترین متبادل ہوسکتے ہیں۔ طاقت کا مرکز یورپ سے ایشیا کومنتقل کرنے کے لئے یہ آگے چل کر زبردست کر ادا کر سکتے ہیں۔

کچھ ماہرین کی رائے کے مطابق پاک چین معاہدوں کے ساتھ ہی عالمی طاقتیں اس خطے میں نئے محاذوں پرآپس میں متحرک ہوجائیں گی۔ چینی صدر کے دورے سے صرف دو دن قبل ماسکو میں پاکستان اور روس کے وزرائے دفاع کا پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان فوجی مشقوں کا معاہدہ، دورے کے دوران پاک چین کا گوادر بندرگاہ کو ترقی یافتہ بنانااور اس دورے کے دوران چین کے ساتھ مستقبل میں گوادر میں بحری جہازوں کی مرمت کرنے کا چینی سٹیشن قائم کرنے کے امکان کا پیدا ہونا بھارت کے لئے تشویش کا باعث ثابت ہو سکتا ہے،کیونکہ امکان ہے کہ امریکہ اس ڈویلپمنٹ کو خطّے میں اپنے اثرورسوخ کے خلاف روس-چین-پاکستان گٹھ جوڑ سمجھے گا،ایران گوادر کے مقابلے میں اپنی چابہار بندرگاہ کو مقابلے کی دوڑ میں شامل کرنا چاہے گا اور بھارت بحر ہند میں چینی بیڑوں کی موجودگی میں خود کو غیر محفوظ سمجھے گااور یوں یہ تینوں ممالک مل کر یہاں پر ایک نیا محاذ قائم کر سکتے ہیں۔

بلاشبہ ہمارے پیارے ملک پاکستان کے لئے یہ تمام منصوبے نہایت ہی مفید اور خوش کن ہیں،ان کی تفصیلات پڑھ کر یقیناًہمیں خیال آتا ہے کہ ہم کچھ ہی سالوں میں'میڈان چائنا' چین کی بانسری بجانا شروع کردیں گے اور ہر طرف چین ہی چین ہوگا۔لیکن بحیثیت قوم ہمارا جو رویّہ ہے ہم جب تک اس کو تبدیل نہیں کریں گے،جب تک ہم اپنی اصلاح نہیں کریں گے، تب تک یہ تمام منصوبے ،منصوبے ہی رہیں گے اور ہم ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ یاد رہے ان تمام منصوبوں پر پوری دلجمعی،حوصلہ مندی اور حب الوطنی کے جذبے سے بھر پور ہوکر کام کرنا ہوگا۔ اقتصادی راہداری کے نقشے پر ملک میں ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔ اس مسئلے پرصوبوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لئے قومی مفادات کونسل کو بہت پہلے ہی متحرک کیا جانا چاہئے تھا،ہمیں کرپشن کی روک تھام کر نی ہوگی،ملک میں مکمل امن وامان قائم کرنا ہوگا ،قوم کے سپوت جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں ہماری بہادر افواج اور سکیورٹی فورسز اس سلسلے میں زبردست کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں،جس کا اعتراف چین کے صدر شی چن پنگ نے بھی کیا ہے،چین کا ہمارے ملک میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں تسلسل کے ساتھ حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ حکومت کو بھی اس سلسلے میں مزید سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ہمیں غیر ملکی دشمن طاقتو ں کی ریشہ دوانیوں سے باخبر رہنا ہوگا کہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں پاکستان کو پسماندہ رکھنے کے لئے ان کی تمام تر کوششوں کو ناکام بناکر اقوام عالم میں سرخرو ہو جائیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
19
May

کیپٹن اسلام شہزاد اپنے ہاتھوں میں نقشہ تھامے کافی گہری سوچ میں گم تھے، انہوں نے کیپٹن وقاص کو گاؤں ڈھیرئی بانڈہ اور دیگر اہم علاقوں کے علاوہ تین ایسے احاطے دکھائے جن میں دہشت گردوں کی موجودگی یقینی تھی ۔ اس موقعے پر ونگ کمانڈر کی ہدایات بھی مسلسل موصو ل ہورہی تھیں۔ ونگ کمانڈر نے واضح طور پر حکم دیاتھا کہ علاقے سے پکڑے جانے والے12 سال سے زائد عمر کے ہر مشکوک شخص کی مکمل چھان بین کی جائے اور یہ کا م کیپٹن وقاص کے ذمے لگایا گیا تھا۔ دن کے تقریبًا سوا بارہ بج رہے تھے کہ اچانک فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اُٹھی۔

آپریشن ضرب عضب اپنے عروج پر تھا۔ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے بے باک جوانوں نے دہشت گردوں پر عرصہء حیات تنگ کر دیا توباجوڑ ایجنسی میں تحصیل سلارزئی کے علاقے ڈھیرئی بانڈہ میں دہشت گردوں کی خُفیہ آمدورفت کا سلسلہ ایک بار پھرشروع ہونے لگا۔ حساس اداروں کی خُفیہ معلومات کے مطابق یہ مقام نہ صِرف گردونواح میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لئے استعمال ہو رہا تھا بلکہ اسے مُلک کے دیگر علاقوں میں تخریب کاری کے بڑے منصوبے بنانے کی آماجگاہ کے طور پر بھی پروان چڑھایا جا رہا تھا۔ اگرچہ آپریشن’’ راہ راست ‘‘ اور ’’راہ نجات‘‘ کے دوران اس علاقے میں دہشت گردوں کی کمر کافی حد تک توڑ دی گئی تھی اور ان کے سیکڑوں ساتھی اپنے کمانڈروں سمیت ہلاک ہوئے یا پھر حراست میں لے لئے گئے تھے البتہ کچھ شرپسند افغانستان کے ملحقہ صوبے کنٹرکی طرف بھاگ گئے تھے ۔ بارڈر سے ملحق ہونے کی وجہ سے اب افغانستان میں چھپے فضل اللہ اور اس کے حواری وقتاً فوقتاً اپنے غیر ملکی آقاؤں کی مدد سے سازشوں کا جال بنتے اور اپنی گھناؤنی اور تخریبی سرگرمیوں کو پاک سر زمین تک پھیلانے کی مکروہ کوشش کرتے۔ چنانچہ پاک فوج کے جامع منصوبے کے تحت کمانڈنٹ باجوڑ سکاؤٹس کرنل میر امیر علی کو اس علاقے سے دہشت گردوں کو مکمل طور پرمٹانے کا حکم ملا۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آپریشن کی کمان چترال سکاؤٹس کے ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم کو سونپی گئی۔ ابتدائی تیاریوں کے بعد 18 جنوری 2015 jo_chaly_to.jpgکی صبح لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم نے اپنے تمام کمپنی کمانڈرز کو باجوڑ سکاؤٹس کے ہیڈ کوارٹر میں طلب کیااور آپریشن کے خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ ٓاپریشن اگلی صُبح 6بجے شروع ہونا تھا۔آپریشن میں لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم کے زیر کمان چترال سکاؤٹس کے کیپٹن سید وقاص سمیع ، دیر سکاؤٹس کے کیپٹن حافظ اسلام شہزاد ، آزاد کشمیر رجمنٹ کے میجر قیصر ، سندھ رجمنٹ کے لیفٹیننٹ عُمر ، سپیشل آپریشن گروپ کے میجر احسان اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے میجر فواد شامل تھے ۔ صُورتِ حال کی سنگینی اور دہشت گردوں کی بھاری تعدادکے پیشِ نظر آپریشن کا دورانیہ 48 گھنٹے رکھا گیا تھا۔ علاقے کے جغرافیائی خدوخال سے بھرپور واقفیت کی بناء پر کیپٹن اسلام شہزاد نے دیگر آفیسرز کو آپریشنل علاقے کی ریکی کرانے کا بیڑا اُٹھایا۔اُدھر دُوسرے ہی دن علی الصبح 4 بجے سپیشل آپریشن گروپ کمپنی اور آزاد کشمیر رجمنٹ کے آفیسرز اور جوان ڈھیرئی بانڈہ کے اطراف سے بیرونی مداخلت اور فرار کی ممکنہ کوشش کو ناکام بنانے کے لئے بلاکنگ پوزیشنیں سنبھال چُکے تھے۔ دریں اثناء ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم اپنی سپاہ کو لے کر اگلی جمع گاہ ، باجوڑ سکاؤٹس پہنچ گئے۔ اس سپاہ نے نمازِ فجر کے بعد صبح پونے چھ بجے ڈھیرئی بانڈہ کی طرف پیش قدمی کا آغاز کیا۔ راستے میں حاجی لوانگ موڑ کے مقام پر کیپٹن اسلام شہزاد پہلے ہی منتظر کھڑے تھے جہاں سے انھیں رہنمائی کا فریضہ انجام دینا تھا۔ اب وہ سپاہ کو لے کر وادی چنار کے راستے سلارزئی تحصیل کے گاؤں ڈھیرئی بانڈہ کی طرف روانہ ہوئے۔چنار پوسٹ پر پہنچ کر ایک بار پھر کمانڈنگ آفیسر نے اپنے احکامات دہرائے اور اپنے جونیئر کمانڈرز کے ساتھ مطلوبہ دہشت گردوں کی شناخت،ممکنہ ٹھکانوں اور مزاحمت کی متوقع شدت پر تبادلہ خیال کیا۔ چنانچہ صبح 7 بجے سپاہ کو چھوٹے گروپوں میں بانٹ کر علاقے کی تلاش کا کام شروع کردیا گیا۔ کیپٹن اسلام شہزاد اور کیپٹن وقاص کا پہلا پڑاؤ پُرانی چنار پوسٹ تھا۔ ان کے ہمراہ لیفٹیننٹ عُمر کی قیادت میں سندھ رجمنٹ اور میجر قیصر کی قیادت میں آزاد کشمیر رجمنٹ کے جوان تھے۔ قوم کے ان رکھوالوں نے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے اپنے آفیسرز کی رہنمائی میں پیش قدمی کا آغاز کر دیا۔ انہیں مختلف اطراف سے اپنے ہدف کی طرف بڑھنا تھا ۔ یہ عمودی چٹانوں پر انتہائی دشوار گزار اور پر پیچ راستے تھے لیکن پاک فوج کے بیباک سولجرز کسی بھی مشکل کو خاطر میں لائے بغیر بھر پور ولولے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ کیپٹن وقاص سمیع نے پہاڑی کی چوٹی پر واقع پُرانی چنار پوسٹ پر پہنچتے ہی تازہ ترین صورت حال اور علاقائی معلومات دینے کے ساتھ ساتھ مزید احکامات کے لئے اپنے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم سے رابطہ کیا۔ ونگ کمانڈر کی طرف سے آگے بڑھتے رہنے کی ہدایت ملنے پر انھوں نے کیپٹن اسلام شہزاد اورکیپٹن وقاص سے باہم رابطہ رکھتے ہوئے مختلف اطرا ف سے ڈھیرئی بانڈہ کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔ وہ راستے میں پڑنے والی ہرغار اور کھائی کی تلاشی لیتے ہوئے نہایت محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے تھے۔ ڈھیرئی بانڈہ سے کوئی 500 میٹر پہلے کیپٹن اسلام شہزاد نے وائرلیس پر کیپٹن وقاص سے رابطہ کیا اور انہیں بالمشافہ مشاورت کے لئے رُکنے کی درخواست کی ،دراصل وہ بہت سے ایسے سوالوں کا جواب چاہتے تھے جو کیپٹن اسلام سے بہتر کوئی نہ دے سکتا تھا۔ کیپٹن اسلام شہزاد اپنے ہاتھوں میں نقشہ تھامے کافی گہری سوچ میں گم تھے، انہوں نے کیپٹن وقاص کو گاؤں ڈھیرئی بانڈہ اور دیگر اہم علاقوں کے علاوہ تین ایسے احاطے دکھائے جن میں دہشت گردوں کی موجودگی یقینی تھی ۔ اس موقعے پر ونگ کمانڈر کی ہدایات بھی مسلسل موصو ل ہورہی تھیں۔ ونگ کمانڈر نے واضح طور پر حکم دیاتھا کہ علاقے سے پکڑے جانے والے12 سال سے زائد عمر کے ہر مشکوک شخص کی مکمل چھان بین کی جائے اور یہ کا م کیپٹن وقاص کے ذمے لگایا گیا تھا۔ دن کے تقریبًا سوا بارہ بج رہے تھے کہ اچانک فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اُٹھی۔ یہ گولیاںیقینادوستانہ فائر نہیں تھا، گویا دہشت گرد وں نے بھرپور مقابلے کا اعلان کر دیا تھا۔ کیپٹن وقاص اور کیپٹن اسلام نے آپس میں رابطہ کیا تومعلوم ہوا کہ اپنے سولجرز ان گولیوں کی زدمیں تھے۔ دونوں نے فوراً اپنے جوانوں کو پوزیشنیں سنبھالنے کا حکم دیا اور ونگ کمانڈر کو تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ دیر سکاؤٹس کا ایک جوان پاؤں پر گولیوں کی بوچھاڑ سے شدید زخمی ہو چکاتھا ،خون تیزی سے بہہ رہا تھا اور فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ جرأت مند کیپٹن نے اپنے ونگ کمانڈر کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر زخمی سپاہی کو پیچھے لانے کے لئے جا رہا ہے۔ صُورتِ حال سے یہ تو آ شکار تھا کہ زخمی سپاہی یقینًا دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں تھا اور انہوں نے اس پر نظر بھی رکھی ہو گی۔ ایسے میں فائرنگ کی سمت پیش قدمی کا فیصلہ صرف کیپٹن حافظ اسلام شہزاد جیسے نڈر اور باہمت آفیسر ہی کر سکتے تھے۔ ونگ کمانڈر نے کپتان کے عزم کو دیکھتے ہوئے ہدایت کی کہ کیپٹن اسلام اور کیپٹن وقاص دونوں ایک دوسرے کی کمک میں دہشت گردوں کے مصدقہ ٹھکانے کی طرف پیش قدمی کریں۔ پُر خار اور دُشوار گزار پہاڑی پرعمودی سمت میں20 منٹ کی مسلسل پیش قدمی کے بعد دونوں آفیسرز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کی جانب دو مخالف سمتوں سے پتھروں اور درختوں کی آڑ میں گھیراتنگ کرنا شروع کردیا۔ وہ جگہ جہاں سے فائرنگ کی گئی تھی اب صرف 200گز کے فاصلے پر تھی اور امکان تھا کہ دہشت گرد بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ فائرنگ کے علاقے میں نائب صوبیدار شاہ پسند پہلے ہی آڑ لے کر پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے۔ صوبیدار شاہ پسند نے ہی بتایا تھا کہ اپنے تین لوگوں کو گولیاں لگی تھیں جِن میں ایک جونئر کمیشنڈ آفیسر بھی شامل تھے ۔زخمی سپاہی شاہد(جو بعد میں شہاد ت کا درجہ پا گیا) چیخ چیخ کر دہشت گردوں کے مقام کی نشاندہی کر رہا تھا۔ دوسرے دو زخمیوں میں صوبیدار شاہ زمان اور سپاہی آفتاب تھے جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے ۔ اب کیپٹن حافظ اسلام شہزاد اور کیپٹن وقاص نے اپنے ونگ کمانڈر اور کمانڈنٹ کو اعتماد میں لیتے ہوئے دہشت گردوں کے گڑھ پر فیصلہ کن ہلہ بولنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ زمین کے نشیب و فراز اور نقل و حرکت کی دشواری کا اندازہ کرتے ہوئے دونوں آفیسرز نے صرف 5-5 جوانوں کے گروپ کو ساتھ لیا اور بالائی سمت سے اپنے ہدف سے قریب تر ہونے لگے۔ یہ کوئی ایک بجے کا وقت تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دہشت گردوں کی طرف سے شدید فائرنگ ہونے لگی ۔ کیپٹن اسلام شہزاد ہراول گروپ کی قیادت کر رہے تھے جبکہ دوسری سمت سے کیپٹن وقاص کا گروپ ہدف کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اسی اثناء میں ونگ کمانڈر نے بھی سپیشل آپریشن گروپ کمپنی کے ہمراہ بر وقت کمک پہنچانے کے لئے پیش قدمی کا آغاز کر دیا تھا۔ کیپٹن وقاص اور کیپٹن اسلام کو اب شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔ فائرنگ کے اس شدید تبادلے میں کیپٹن اسلام شہزاد بائیں جانب سے ہوتے ہوئے ہدف کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔ کیپٹن وقاص بھی بلا تامل دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر رہے تھے۔ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم اب ایسے مقام تک پہنچ چُکے تھے جہاں سے وہ اپنے دونوں ہراول دستوں کو دیکھ سکتے تھے۔ البتہ دہشت گرد ایسے انداز میں مورچہ بند تھے کہ انہیں براہ راست دیکھنا دُشوار تھا۔ ہراول دستوں کا ہدف سے فاصلہ اب 25میٹر سے بھی کم تھا۔

صُورتِ حال سے یہ تو آ شکار تھا کہ زخمی سپاہی یقینًا دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں تھا اور انہوں نے اس پر نظر بھی رکھی ہو گی۔ ایسے میں فائرنگ کی سمت پیش قدمی کا فیصلہ صرف کیپٹن حافظ اسلام شہزاد جیسے نڈر اور باہمت آفیسر ہی کر سکتے تھے۔ ونگ کمانڈر نے کپتان کے عزم کو دیکھتے ہوئے ہدایت کی کہ کیپٹن اسلام اور کیپٹن وقاص دونوں ایک دوسرے کی کمک میں دہشت گردوں کے مصدقہ ٹھکانے کی طرف پیش قدمی کریں۔ پُر خار اور دُشوار گزار پہاڑی پرعمودی سمت میں20 منٹ کی مسلسل پیش قدمی کے بعد دونوں آفیسرز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کی جانب دو مخالف سمتوں سے پتھروں اور درختوں کی آڑ میں گھیراتنگ کرنا شروع کردیا۔

کیپٹن اسلام شہزاد اور ان کے ساتھی اب دہشت گردوں کی گردن دبوچنے کے لئے بیتاب تھے۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو نجانے کب سے اس لمحے کا انتظار تھا، وہ ایک حافظِ قُرآن تھے اور انھیں اس بات کا شدید دُکھ تھا کہ دہشت گردوں نے کِس طرح اسلام ، مدرسے اور جہاد کے نام کو بدنام کیا تھا۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو عرصے سے اس لمحے کا انتظار تھا کہ جب ایسے خارجی اور منافق کی گردن ان کے ہاتھوں کی گرفت میں ہو اور وہ اُسے بتائیں کہ اللہ کی راہ میں لڑنے اور زمین میں فتنہ و فساد بپا کرنے میں کیا فرق ہے!

کیپٹن اسلام شہزاد اور ان کے ساتھی اب دہشت گردوں کی گردن دبوچنے کے لئے بیتاب تھے۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو نجانے کب سے اس لمحے کا انتظار تھا، وہ ایک حافظِ قُرآن تھے اور انھیں اس بات کا شدید دُکھ تھا کہ دہشت گردوں نے کِس طرح اسلام ، مدرسے اور جہاد کے نام کو بدنام کیا تھا۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو عرصے سے اس لمحے کا انتظار تھا کہ جب ایسے خارجی اور منافق کی گردن ان کے ہاتھوں کی گرفت میںہو اور وہ اُسے بتائیں کہ اللہ کی راہ میں لڑنے اور زمین میں فتنہ و فساد بپا کرنے میں کیا فرق ہے

jo_chaly_to2.jpg

حافظ اسلام شہزاد دراصل مادرِ وطن کاایک ایسا ہونہار اور تابع فرمان بیٹا تھا جس نے نو سال تک وطنِ عزیز کی خدمت بطور سپاہی انجام دینے کے بعد تین سال قبل بطور کیپٹن کمیشن حاصل کیا تھا ۔وہ ایک سادہ لوح اور ان پڑھ رکشہ ڈرائیور کے بیٹے تھے۔ اسلام شہزاد کے والد فضل الٰہی نے سال ہا سال کی مزدوری کے بعد اپنے بیٹے کے کندھے پر سجے پھول دیکھے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ ان کے حافظ بیٹے کیپٹن اسلام شہزاد نے کمیشن حاصل کرنے کے بعد بوڑھے باپ کو جسمانی مشقت سے منع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ اپنے والدکی جی بھر کے خدمت کرنا چاہتے ہیں اور چند ماہ قبل گھر ملنے پرانہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے ماں کا سایہ تو آٹھ سال پہلے سر سے اُٹھ گیا تھا۔تب وہ ایک سپاہی تھے ۔سن 2000میں میٹرک کیا تو سب سے پہلے علاقے کے قاری دلاور مفتی کی شاگردی میں ایک سال سے کم عرصے میں حفظ کی منازل طے کر کے اپنے سینے میں قرآن حکیم کے نور کو محفوظ کیا اور پھر اپنے غریب باپ کی مشقت دیکھتے ہوئے بطور سپاہی فوج میں بھرتی ہو گئے۔ بنیادی تربیت مکمل کر کے پاک فوج کی مایہ ناز یونٹ 28 میڈیم رجمنٹ آرٹلری میں پہنچے تو بطور سپاہی ایسے باکمال ٹھہرے کہ ہر کوئی رشک کرے، آفیسرز اورجوان سبھی ان کے گرویدہ تھے۔ہرفن مولا اور ہر کام میں پیش پیش! فائرنگ کا مقابلہ ہو یا دیگر تربیتی سرگرمیاں، وہ ایک وقت میں بہترین نشانہ باز، اپنی یونٹ کے مقابلوں میں ہمیشہ اول، مسجد میں تراویح کی نماز پڑھانی ہو تو پیش امام ،جب ڈیوٹی سے فراغت ملتی تو رات رات بھر تعلیم کے مدارج طے کرتے۔ 2007 ء میں جب والدہ بھی چل بسیں تو اسلام شہزاد کی سنجیدگی مزید بڑھ گئی۔ تعلیم مکمل کی اور جب پاک فوج نے ایک موقع فراہم کیا تو23 اکتوبر 2011 میں بطور کمیشنڈ آفیسر فر نٹئیر کو ر خیبر پختونخوا میں جا پہنچے۔ اُن کی پہلی تعیناتی ٹوچی سکاؤٹس میں تھی جبکہ اکتوبر 2013 میں اُن کی پوسٹنگ دیر سکاؤٹس میں ہو گئی۔ شہادت کے عظیم مرتبے تک پہنچنے کا وقت آیا تو وہ دیر سکا ؤٹس کے 181 ونگ زیرِ کمان باجوڑ سکاؤٹس میں بطورِ ونگ ایڈجوٹنٹ اپنی ذمہ داریا ں نبھا رہے تھے ۔ 2007 میں اُن کی ماں نے اپنی زندگی میں بڑے ارمانوں سے اپنے بیٹے کا نکاح اپنی بھانجی گُلشن نورین سے کرا دیا تھا لیکن ابھی رُخصتی کرا کے بہو کو گھر نہ لا سکی تھیں کہ اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ ماں نے اپنے بیٹے کے سر پہ سہرا سجادیکھا تھا نہ اس کے کندھے پر چمکتے ستارے !

ادھر کیپٹن اسلام دستی بموں اور مشین گن سے آگ برساتے ہوئے دہشت گردوں کے سر پر پہنچ گئے تھے۔وہ انسانیت کے ان دشمنوں کو انھیں کے مورچوں میں نشانہ بنا رہے تھے۔ عین اسی لمحے دہشت گردوں کے ایک چھپے ہوئے سنائپرنے ہراول دستے کے پُر جوش اور بپھرے ہوئے شیر کو تا ک کر پیشانی پر نشانہ لگایا۔ یوں جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے اللہ کے اس شیر کی آخری جست بھی دہشت گردوں کی کمین گاہ کے دہانے پر تھی۔ کلمۂ شہادت کے ورد میں رطب اللسان کیپٹن حافظ اسلام شہزادشہید کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہو چُکی تھی وہ متعدد بار اپنی خوشدامن کو کہہ چُکے تھے کہ " خالہ دُعا کرو میں شہید ہو جاؤں" ۔ محلہ مفتیاں، تحصیل دینہ ضلع جہلم کے ایک ر کشہ ڈرائیور فضل الٰہی کا بیٹا شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہو چکا تھا

19 جنوری 2015 کی صبح 5 بجے کیپٹن حافظ اسلام شہزاد نے دھیرے سے ابا کے کمرے میں جھانک کر پوچھا ، ’’ابا جی کیا آپ جاگ رہے ہیں؟ ‘‘ خلافِ معمول کیپٹن اسلام شہزاد نے اُنہیں ایک چٹ پکڑاتے ہوئے مطلع کیا کہ اُن کے ذمے آفیسرز میس کے25 ہزار روپے واجب الادا ہیں جو اُنہوں نے بطورِ قرض لئے تھے۔ ابا خاموش رہے۔ بیٹاجب راہِِ عدم کو سدھار رہا ہو تو باپ بھلا کیسے سو سکتا تھا ،بے تابی میں اٹھ کر بیٹھ گئے اور بس خالی خالی نظروں سے بیٹے کو جاتے ہوئے دیکھتے رہے، البتہ زیر لب ڈھیروں دعائیں تھیں جو ہر سانس میں بیٹے کی سلامتی و ثابت قدمی کے لئے جاری رہتی تھیں۔ کیپٹن حافظ اسلام نمازِ فجر ا دا کرنے کے بعد اپنے مِشن کے لئے روانہ ہوگئے۔ دراصل آج وہ والد کی شفقت سمیٹ کر کسی بہت بڑے کام کے لئے عازمِ سفر ہُوئے تھے۔۔۔ اور اب دس گھنٹے کی تگ و دو کے بعد وہ منزل سامنے تھی ۔ وہ پاکستان اور انسانیت کے دشمنوں کو بہ نفسِ نفیس جہنم واصل کرنے والے تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے کیپٹن سید وقاص سمیع اس مرحلے پر ان کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ دونوں آفیسرز نے اپنے جوانوں کے ہمراہ دہشت گردو ں کے گڑھ پر ہلہ بول دیا۔ کیپٹن اسلام اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے سب سے پہلے ہدف پر جھپٹے۔ ایسے میں کیپٹن سیدوقاص سمیع نے اسلام شہزاد کو قدرے احتیاط برتنے کا مشورہ بھی دیا کیونکہ دہشت گردوں کی طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ انتہائی شدید تھی۔لیکن کیپٹن اسلام شہزاد نے دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا اور اس مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ کرنے کوتیا ر نہ تھے۔ یہ الگ بات کہ خود کیپٹن وقاص نے بھاگتے ہوئے دہشت گردوں کے تعاقب میں کوئی 20 فٹ گہرے نالے میں چھلانگ لگا دی تھی جس سے ا ن کی ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا۔ ادھر کیپٹن اسلام دستی بموں اور مشین گن سے آگ برساتے ہوئے دہشت گردوں کے سر پر پہنچ گئے تھے۔وہ انسانیت کے ان دشمنوں کو انھیں کے مورچوں میں نشانہ بنا رہے تھے۔ عین اسی لمحے دہشت گردوں کے ایک چھپے ہوئے سنائپرنے ہراول دستے کے پُر جوش اور بپھرے ہوئے شیر کو تا ک کر پیشانی پر نشانہ لگایا۔ یوں جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے اللہ کے اس شیر کی آخری جست بھی دہشت گردوں کی کمین گاہ کے دہانے پر تھی۔ کلمۂ شہادت کے ورد میں رطب اللسان کیپٹن حافظ اسلام شہزادشہید کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہو چُکی تھی وہ متعدد بار اپنی خوشدامن کو کہہ چُکے تھے کہ " خالہ دُعا کرو میں شہید ہو جاؤں" ۔ محلہ مفتیاں، تحصیل دینہ ضلع جہلم کے ایک ر کشہ ڈرائیور فضل الٰہی کا بیٹا شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہو چکا تھا

کیپٹن حافظ اسلام شہزاد اور ان کے ساتھیوں کی قربانی سے دہشت گردوں کا زور ٹوٹ چکا تھا لیکن ان قربانیوں کا اصل ثمر صرف علاقے کی مکمل صفائی کی صورت میں ہی ممکن تھا۔ شام کی روشنی رفتہ رفتہ ماند پڑ رہی تھی، دہشت گردوں کے علاقے سے ابھی تک کیپٹن حافظ اسلام شہزاد شہید، نائب صوبیدار شاہ زمان شہید اور سگنل مین شاہد شہید کے اجسادِ خاکی اٹھانا باقی تھے اور زخموں سے چور کیپٹن وقاص سمیع، سپا ہی آفتاب اور سپاہی نیک عمل کو بھی بروقت طبی امداد کی ضرورت تھی۔ سپاہی آفتاب کو فوراً اٹھا کر طبی امداد دینا اس لئے بھی ضروری تھا کہ ان کی حالت بہت نازک تھی، دراصل کیپٹن حافظ اسلام شہزاد جب پیشانی پر گولی لگنے سے گر ے تو دہشت گردوں کی سراسیمگی ابھی باقی تھی، انھوں نے ایک اور دستی بم زمین پہ پڑے ہوئے شہید پر دے مارا۔اس بم سے قریب کھڑے سپاہی آفتاب کی ران پر ایک بڑا گھاؤ آیااور تیزی سے خون بہنے لگا۔ ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم جو براہِ راست آپریشن کی کمان کررہے تھے اس ساری صورتِ حال سے پل پل آگاہ تھے۔ اب ایک طرف تو سورج غروب ہونے کو تھا اور دوسری طرف دہشت گردوں کی غیر انسانی اور اخلاقیات سے گری ہوئی روایات کا ادراک بھی ونگ کمانڈر کی فکر مندی کا باعث تھا ،جس کے مطابق وہ شہید کے جسد خاکی کی بے حرمتی کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ وقت بہت کم تھا۔ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم نے اس موقع پر ترجیحات کے تعین میں کوئی بھی لمحہ ضائع کئے بغیر سپیشل آپریشن گروپ کمپنی کے میجر احسان اور کیپٹن علی رضا کے ساتھ دہشت گردوں کی آماجگاہ پر ایک بھرپور یلغار کا فیصلہ کیا۔اس حملے میں ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم اور میجر احسان نے خود راکٹ لانچر اپنے کندھوں پر لئے اورگولے داغتے ہوئے دہشت گردوں کے بنکروں پر چڑھ دوڑے۔ چند ہی منٹ میں انھوں نے ایک ایک دہشت گرد کا چُن چُن کر صفایا کیااور اپنے غازیوں اور شہیدوں کو پورے عزت و احترام سے محفوظ مقام پر پہنچایا۔ واپس پہنچتے ہی شہداء کو فوری طورپر سبز ہلالی پرچم کے لبادے میں اُن کے آبائی شہروں کی طرف پورے تزک و احتشام سے روانہ کیا گیا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لئے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پشاور روانہ کر دیا گیا۔ ڈھیرئی بانڈہ کا علاقہ اب پر امن شہریوں کے لئے محفوظ بن چکا تھا۔ جبکہ محلہ مفتیاں دینہ کے ہر بڑے، بوڑھے، بچے اور جوان کی آنکھیں اور سر فخر سے بلند تھا۔ ان کا اپنا ہم جولی،ہم پیالہ و ہم نوالہ غریبوں میں غریب، حافظوں ، نمازیوں اور ریڑھی بانوں کا دوست اور اہل محلہ کی آنکھوں کا تارا آج سبز ہلالی پرچم میں عسکری گارڈ آف آنر کے ساتھ محلہ مفتیاں میں پورے جا ہ و جلال سے لوٹا تھا۔ پاک فوج کے سپاہیوں کو فخر تھا کہ ان کا ساتھی کمیشن حاصل کرنے کے بعدشہادت جیسے عظیم رتبے پر پہنچ کر تمام سولجرز کے لئے ماتھے کا جھومر ثابت ہوا تھا۔ بہنیں اور بھائی اپنے بھائی کی شان و شوکت دیکھ کر پھولے نہیں سماتے، شہیدکی اہلیہ جو ایک اور اولاد کی امید سے بھی ہیں کے سامنے اگرچہ پہاڑ جیسی زندگی ایک امتحان کی طرح کھڑی ہے لیکن انھیں اپنے شہید رفیق حیات کے نصب العین کی لاج رکھنے کا ادراک ہے۔ چار سالہ حفصہ نور کو شہید کی بیٹی ہونے پر فخر ہے اور تین سالہ محمد حسان کل باپ کے نقش قدم پر چل کر وطن کے تحفظ کی قسم کھا رہا ہے اور باپ کو ناز ہے کہ ان کے بیٹے نے انہیں ایک رکشہ ڈرائیور سے شہید کے والدکے مقام پر فائز کر دیا ہے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
19
May

(کیپٹن عاصم نے 10 فروری 2010 کو جامِ شہادت نوش کیا)

فروری 2015 میں عاصم کو شہید ہوئے پانچ سال پورے ہو گئے۔ ان پانچ سالوں کے ایک ایک دن نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ میں شکرگزار ہوں اپنے رب کی اور ان پانچ سالوں کی جس نے مجھے میری عمر کے تیس سالوں کے باقی 25سالوں سے زیادہ سخت حالات سے گزارا۔ اس پورے وقت کے اتارچڑھاؤ سے مجھے لگا کہ اب میں بہت کچھ سیکھ گئی ہوں اور مجھے اﷲ کے سوا کسی اور کے سہارے کی ضرورت نہیں لیکن۔۔۔

شادی کے ساڑھے تین سالوں میں تو میں نے صرف شوہر کا پیار ہی دیکھا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرا کام صرف شوہر کے لئے اچھے اچھے کھانے پکانا۔ صبح صبح اُن کے لئے ملک شیک بنانا۔ یونیفارم‘ جرابیں‘ مفلر‘ ٹوپی‘ چیک لسٹ اور گاڑی کی چابی لا کر دینا اور جب تیار ہو جائیں تو گھر کے ٹیرس سے اُن کو آفس جاتے ہوئے دیکھنا۔ میاں کی ضروریات کا خیال رکھنا‘ ان کو میسج کرنا‘ ملازم سے کام کروانا اور ضرورت کی چیزیں منگوانا جبکہ شوہر کا کام تنخواہ لا کے ہاتھ میں رکھنا اور کہنا بیگم اب پورا مہینہ اس سے چلانا ہے۔ ان کے ساتھ جا کر گھریلو خریداری کرنا اور ڈیوٹی سے آنے کے بعد گھر کی Maintenance کی لسٹ پکڑا دینا۔ NCB کی شکایت لگا کر اس کے کان کھنچوانا اور اس کونظم و ضبط سمجھانا۔

اُن ساڑھے تین سالوں میں کوئی لڑائی تو یاد ہی نہیں۔ ویک اینڈ پہ فلم اور پیزا لا کر مووی نائٹ منانا۔ ذرا پہلے آ جاتے تو جوس پینے چلے جانایا پھر آئسکریم کھانا۔ اسی کو دنیا کی سب سے بڑی خوشی سمجھنا تھا۔ زیادہ پیسوں کے بارے میں تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا نہ مانگے تھے۔ صرف ایک دوسرے کے ساتھ گزارے گئے تنخواہ والے دن سے بہتر سمجھتے تھے۔ سالگرہ کا تحفہ ایک دوسرے سے ضرورت کی چیز پوچھ کر دیتے تھے۔ وہی بہترین Surprise ہوتا تھاجب اﷲ سے کوئی چھوٹی چیز مانگی ہوتی تھی اور وہ سالگرہ کے تحفے کی صورت میں مل جاتی تھی۔ ابھی تو ساڑھے تین سالوں میں بچت کے بارے میں سوچا نہیں تھا۔ پھر یہ پانچ سال شروع ہو گئے‘ جب پہلے ہی سال میں رشتے سمجھ میں آ گئے۔ اپنا اور پرایا‘ دوست اور تماشائی کا فرق سمجھ میںآیا۔ پہلے ہی سال میں شفٹنگ کا بوجھ‘ پھر تنہا گھر سیٹ کرنا۔ اُس دن بڑا روئی تھی جس دن اے سی لگوانا تھا۔ میں جب اپنے MOQگئی تھی تو گھر سیٹ اور اے سی لگا ہوا ملا تھا۔ سب کہتے تھے یوں ہی پریشان ہوتی ہو‘ یہ تو الیکٹریشن کا کام ہے‘ بلواؤ اور وہ اپنا کام کر دے گا۔ میری ذہنی پریشانی تو فضول ہی لگتی تو میں خاموش رہ گئی۔ یو پی ایس لیا‘ بیٹری لی‘ گھر سیٹ کیا‘ اُس کے بعد کار لی‘ سب کہتے تھے ہر کوئی لیتا ہے۔ اس میں پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں ۔ مجھے علم ہے کہ صرف پیسے دے کر گاڑی گھر نہیں آ جاتی‘ پورا پروسس ہوتا ہے۔ جاب شروع کی‘ بل جمع کرانا‘ گھر اکیلے چلانا سیکھا تو پانچ سال پورے ہوئے۔ اب وقت آ گیا کہ NCBاور فلیٹ واپس کر دوں۔ کیا کوئی ملازم رکھوں؟ کسی پہ اعتبار کر سکتی ہوں؟ یہ میں تو اپنی ذمہ داری پر رکھوں گی‘ کوئی گارنٹی نہیں دے گا۔ اچھا ہے نہ رکھوں گزارا ہو جائے گا۔ لیکن وقت بے وقت ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کیا مکینک کے پاس خود جاؤں گی؟ الیکٹریشن‘ پلمبر خود ڈھونڈوں گی یا کسی پر بوجھ بنوں گی؟ یہ بیڈ روم اور کرسیاں ان کو بہت پسند تھیں۔ یہ پھول MOQ میں پہلے دن شفٹ کیا تھا تو وہ لے کر آئے تھے۔ یہ قالین ہم دونوں نے مل کر خریدے تھے اور ڈائننگ ٹیبل پر اکٹھے کھانا کھاتے تھے۔ یہ Wooden Floor Lamp اپنی پہلی بچت سے لی تھی اور یہ ہوم تھیٹر ہم نے کریڈٹ کارڈ سے لیا تھا۔ ان کا گٹار میں نے اپنی Teaching کی تنخواہ میں سے ان کو گفٹ کیا تھا۔ ان کو گٹار بہت پسند تھا اور یہ ڈریسنگ ٹیبل‘ اس میں ہم صبح ساتھ تیار ہوتے تھے لیکن یہ چیزیں تو میں سوچ رہی ہوں کیا کوئی اور بھی میری طرح سوچتا ہو گا۔ یہ چیزیں سن کر شاید لوگ میرا مذاق اڑائیں۔ میں تو دنیا کے سامنے بہت مضبوط عورت ہوں۔ مجھے تو لگتا تھا کہ میں نے اکیلے رہنا سیکھ لیا اور کوئی بھی کام مشکل نہیں لیکن آج مجھے ایسے لگتا ہے کہ پانچ سال بعد میں پھر اس جگہ آن کھڑی ہوئی ہوں‘ اسی جگہ کھڑی ہوں جہاں سے بہت سے راستے نکلتے ہیں لیکن مجھے نہیں پتا کس راستے پر جاؤں‘ لوگ کہتے ہیں یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔

19
May

یوں تو ہر دن اپنی انفرادی آب و تاب سے ۔۔۔ طلوع ہوتا ہے۔ مگر23 مارچ کا دن پوری تاریخ کا چہرہ لئے طلوع ہوتا ہے۔ اس چہرے پر سارے نقش و نگار‘ شہیدوں کے لہو سے بنے ہوتے ہیں۔۔۔ وہ سارے شہید جن کے لہو میں پاکستان کا مطلب کیا لااِلٰہ الا اﷲ موجزن تھا۔۔۔۔ اور وہ سارے شہید جو گلیوں میں گریباں چاک کرکے واویلا کرتے تھے۔ لے کے رہیں گے پاکستان ۔۔۔ اوروہ سارے شہید جن کے جسموں کے کٹے اعضا گاڑیاں بھر بھر کے پاکستان کی سرزمین پر پہنچ گئے۔ اور جن کے زخموں سے ابھی تک خون کے قطرے رِس رہے تھے اور کہہ رہے تھے ہم پاکستان کے نقشے میں جذب ہونے کے لئے آئے ہیں۔۔۔ ان لکیروں میں ہمیں سمولو۔۔۔ اور جن کے لہو کی برکتوں سے پاکستان پھلتا پھولتا رہا اور بڑھتا رہا۔۔۔ پھر 23 مارچ کے چہرے پر65ء کی جنگ کے شہدا ء کے نقش اُبھرتے ہیں۔۔۔71 کی جنگ کے روپ نکھرتے ہیں۔۔۔ اوروہ سارے شہداء جو پاکستان کی آن بان اور حریت و استقامت کے لئے شہید ہوتے رہے۔۔۔ 23 مارچ کی صبح 31  توپوں کی سلامی کے اندر ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔۔۔ ان توپوں کی سلامیوں کے اندر ان کے دل دھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دل۔۔۔ جو زندہ دلی کی علامت تھے‘ جو زندہ رہنے کے لئے آئے تھے۔ مگر جو اپنے ملک اور ملت پرقربان ہوگئے۔۔۔

جوں جوں 23 مارچ کا دن اُبھرتا ہے۔۔۔

توں توں شہیدوں کا چہرہ نکھرتا ہے۔۔۔

وہ ہمارے محسن‘ ہمارے گواہ ۔۔۔ ہماری خوشیوں کے امین‘ ہماری سرحدوں کے محافظ ہیں‘ دن کی ایک ایک گھڑی میں نظر آنے لگتے ہیں۔ جب ہم مختلف قسم کے دور مار‘ اور دیر تک مار کرنے والے میزائلوں کا نظارہ کررہے ہوتے ہیں‘ جب ہم اپنی زمین کے اوپر شاہین اول‘ شاہین دوم۔۔۔ غوری ‘ ابدالی‘ غزنوی کو پلٹتے جھپٹے دیکھتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات پلٹتے دیکھتے ہیں۔۔۔

جب ملکی ساختہ جے ایف17 تھنڈر کی گونج اُبھرتی ہے۔۔۔ جب ہوا باز ایف سولہ کے ساتھ جرأتِ رندانہ کا نقشہ بناتے ہیں۔جب فضائیہ کے جانباز عقاب آسمان کے اوپر ایک اور آسمان نقش کردیتے ہیں۔ جب وہ ہواؤں کو قابو میں کرکے فضا کے بادشاہ بن جاتے ہیں تو ہم حیران ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے لختِ جگر ہیں‘ ہمارا فخر ہیں۔۔۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کوئی ماں آنکھ نہیں جھپکتی۔۔۔ کسی باپ کی آنکھ نہیں جھکتی۔۔۔ نوجوان ان کے ساتھ محوِ پرواز ہوجاتے ہیں۔۔۔ یہ ہماری ملکی ایجادات جن کا مظاہرہ 23 مارچ کے دن ہوتا ہے۔ ٹینک‘ میزائل بکتر بند گاڑیاں‘ توپخانے‘ براق ڈرون یہ ہمارے ماہرین کے فنکی نمود ہیں۔۔۔ ایک کے بعد ایک ایجاد زندہ قوم کی کہانی بیان کرتی آگے بڑھتی ہے۔

ajeb_cheez_hay1.jpg

یہ معجزے فن کی کہانی بیان کرتے ہیں۔

اور جب ملکی و صوبائی کلچر کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف فلوٹس سامنے سے گزرتے ہیں تو پورا پاکستان ہنستا مسکراتا سامنے سے گزرنے لگتا ہے۔ فوجی پریڈ سے سارا ملک جاگتا ہے۔۔۔ دل جاگتے ہیں‘ ضمیر جاگتے ہیں‘ ذہن جاگتے ہیں۔ دنیا انگشت بدنداں ہو جاتی ہے۔ زمین ان کے قدموں کے ساتھ چلتی ہے۔ اُفق ان کے قدموں کو شمار کرتا ہے۔ سارا ملک ان کو سننے پہ اصرار کرتا ہے۔۔۔

کیا نغمگی ہے‘ ان کے دھمک دیتے قدموں کے اندر۔۔۔

یہ قدم منازل کا تعین کرتے ہیں۔۔۔

اور منازل ان کا انتظار کرتی ہیں۔۔۔ تکرار کرتی ہیں۔

ہماری نئی نسلوں نے23 مارچ کے مناظر سات سال کے وقفے سے دیکھے۔۔۔

یہ وقفہ بے جواز نہیں تھا۔

مگر اب پاکستان میں ایک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے۔۔۔ ضربِ عضب کے شہیدوں نے اس کے ماتھے پر طلوع لکھ دیا ہے۔

جب سپہ سالار حوصلوں کا سائبان بن کر ابھرتا ہے تو عسکری قوتوں کو نئی توانائی اور نئی رعنائی نصیب ہوتی ہے۔

نئی نسل کے بچے ہوائی عقاب کو دیکھ کر اڑان میں بھرتی ہونے کی تمنا کرتے ہیں۔۔۔ سمندروں کے مجاہد دیکھ کر پانیوں کو فتح کرنے کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔ بھاری ٹینک اور توپ خانے دیکھ کر انہیں احساس ہوتا ہے انسان کتنا بڑا ہے۔۔۔۔۔۔

ارے انسان ہر حادثے سے بڑا ہے۔

انسان ہر محاذ سے بڑا ہے۔

دو نیم ان کے ٹھوکر سے دریا و صحرا

ajeb_cheez_hay2.jpg

سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی !

پورے ملک کا چہرہ سرخوشی سے روشن ہوگیا۔ جب تزک و احتشام کے ساتھ اس مرتبہ 23 مارچ کا دن منایا گیا۔۔۔۔

اس دن سارے شہید یاد آئے۔۔۔۔

سارے پھول ہم نے ان کے نام پر چڑھائے۔۔۔

سارے جذبے ان کی نذر کئے۔۔۔

جن کی وجہ سے یہ زمین امن کا گہوارہ بنی ہوئی ہے۔ جنہوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اس پھول سی زمین کے اندر سے ایک ایک کانٹا چن کر نکال دیں گے۔

اس دن قائدِاعظم محمدعلی جناح بھی بہت یاد آئے۔۔۔

انہوں نے ایک دن کہا تھا۔۔۔

’’خود کو اتنا طاقتور بنا لیں کہ کوئی قوت ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھنے کی جرأت نہ کرسکے۔۔۔۔۔۔‘‘

خود کو طاقتور بنانے کے لئے تزکیۂ نفس کی ایک منزل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور تم جانتے ہو ایک غازی اور ایک شہید کس طرح تزکیۂ نفس کی منزل سے گزرتا ہے‘ جان ہتھیلی پر رکھ کے اور جگر کو دیا بنا کے۔۔۔

پھر قائدِاعظم کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔

’’۔۔۔ اگر کبھی پاکستان کی حفاظت کے لئے جنگ لڑنی پڑے تو کسی صورت میں ہتھیار نہ ڈالیں اور پہاڑوں‘ جنگلوں‘ میدانوں اور دریاؤں میں جنگ جاری رکھیں۔۔۔‘‘

 23  مارچ کے روز ۔ اے قائدِاعظم! تیرے بیٹے اسی عزم کا اظہار کرنے کے لئے فلک تا ارض اپنے ارادوں کا اظہار کررہے تھے۔

پھر ایک دن حضرت قائداعظم نے برملا کہہ دیا: اب پاک فوج کو اس پاک سرزمین پر اسلامی جمہوریت‘ اسلامی معاشرتی انصاف اور انسانی مساوات کے اصولوں کے احیاء اور فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا۔

 23مارچ کی پریڈ میں قائداعظم کے بیٹوں نے ایک بار پھر اس عزم کو دہرا دیا اور صاف کہہ دیا: دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ ’’ہم کو‘‘ عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

19
May

تاریخ عالم پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو معلو م ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام اقوام نے علم و اخلاق کی بنیاد پر ترقی کی منازل طے کیں۔ علم انسانی ذات کا خاصہ اور انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا واحد سبب ہے پس علم کا اصل مقصد بھی تہذیب النفس ہے جن معاشروں میں علم و شعور کی روش نہیں پائی جاتی وہ معاشرے عموما اعلی اخلاقی صفات سے محروم ہوتے ہیں۔ آج وطنِ عزیز میں دیگر بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ جس بنیادی اوراہم مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ دراصل قومی دانش ہے ۔

دانش کیا ہے؟

انسانی ذات دراصل دو بنیادی عناصرکا مرکب ہے ایک شعور اور دوسرا مادہ، شعور وجود ہے اورمادہ موجود،موجو د حواسِ خمسہ کی گرفت میں آ سکتا ہے جبکہ وجود نہیں آ سکتا، شعور انسان کو ضبط فراہم کرتا ہے جبکہ وجود حیات کی پرورش کرتاہے۔ چنانچہ دنیا میں تمام تر نظم و ضبط شعورہی کی بنیاد پر قائم ہے شعوروہ الوہی ذکاوت ہے جس نے انسان کو افلاک کی پراسرار دنیا سے آگا ہ کیا۔ انسان کی تمام تر فکری ، معاشی اورمعاشرتی جدوجہد کا واحد محور شعور ہی ہے اسی شعور کا مظہر دانش کہلاتا ہے۔ دانش انسان کے حیوانی وجود کی آبیاری کرتی ہے۔ انسانی نفس میں موجود تمام تر آلائشوں کو رفع کرکے انسان کو الوہی صفات سے مزین کرتی ہے کیونکہ رویہ انسانی جذبات کی عملی شکل ہے اور اس شکل کو دانش ہی مہذب کرتی ہے۔ انسانی جذبہ ایک بے لگام قوت ہے جسے تمدن پر آمادہ کرنے والی چیز صرف دانش ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن اقوام میں شعوری روش پائی جاتی ہے وہ تہذیب و تمدن کے لحاظ سے اعلی اقدار کی مظہر ہوتی ہیں کیونکہ قدر نظم ہے اور دانش نظم کی پاسدار ہوتی ہے۔ اگر دانش بیدار ہو تو بہترین نظام ہائے زندگی مرتب کئے جا سکتے ہیں۔ ایسے نظام جو ایک انسان کو معاشی ، معاشرتی اور روحانی اوج پر متمکن کر سکتے ہیں۔

انسان جذبات کے حصار میں مقید ایک حیوان ہے جو ابتدائے آفرینش سے جذبات کے ہاتھوں پامال رہا۔ جذبہ ایک غیر مرئی قوت کا نام ہے جس کا اظہار رویہ کرتا ہے۔ رویہ اگر غیر متوازن ہو تو نظامِ حیات درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم و نسق قائم رکھنے کے لئے انسان ہمیشہ سے شعورکو جذبے پر فوقیت دیتا آ رہا ہے۔اگرچہ جذبے کی اہمیت سے اعراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جذبات کے اظہار کے بغیر انسان ایک متحرک مشین کی صورت اختیار کر جاتا ہے‘ اصل مدعا جذبے کی تزئین ہے اور جذبہ کی تزئین صرف دانش ہی کر سکتی ہے۔

دانش اور نظامِ حیات

انسان جذبات کے حصار میں مقید ایک حیوان ہے جو ابتدائے آفرینش سے جذبات کے ہاتھوں پامال رہا۔ جذبہ ایک غیر مرئی قوت کا نام ہے جس کا اظہار رویہ کرتا ہے۔ رویہ اگر غیر متوازن ہو تو نظامِ حیات درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم و نسق قائم رکھنے کے لئے انسان ہمیشہ سے شعورکو جذبے پر فوقیت دیتا آ رہا ہے۔اگرچہ جذبے کی اہمیت سے اعراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جذبات کے اظہار کے بغیر انسان ایک متحرک مشین کی صورت اختیار کر جاتا ہے‘ اصل مدعا جذبے کی تزئین ہے اور جذبہ کی تزئین صرف دانش ہی کر سکتی ہے۔ اگر جذبات کی تزئین ترک کر دی جائے تو انسان کو کسی ایک مرکز پر قائم رکھنا محال ہوگا اور نظام کی وقعت ختم ہوجائے گی۔ چنانچہ انسان ایک بے لگام متحرک قوت بن کر انسانیت کا تیا پانچہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ حالانکہ دنیا کا کوئی مذہب یا ضابطہ نہ تو برائی کی طرف راغب کرتا ہے اور نہ ہی انسان کو بے لگام حیوان بننے کی اجازت دیتا ہے کیونکہ مذہب تو نام ہی دراصل تہذیب کا ہے یعنی تہذیب انسانی جذبات کی ، دنیا کے تمام مذاہب نے انسانی رویوں میں توازن پیدا کرنے کی تلقین کی ہے تاکہ نظم و نسق قائم رہے۔ اگر ہم بہترین متوازن نظامِ حیات کی بات کریں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے شعور کی شمع جلا کر اپنے جذبات کے تزئین کرنا ہوگی ‘ جذبے کے بجائے دانش کو وقعت دینا ہوگی اور اگر ہم دانش کو وقعت دے کر اِسے بیدار کرنے میں کامیاب ہو گئے تو گویا ہم نے ایک بہترین متوازن نظامِ حیات میں قدم رکھ دیا۔ دنیا میں آج جدید تمدن کی حامل اقوام صرف اورصرف دانش ہی کو وقعت دے رہی ہیں۔ انہوں نے نظم و نسق کے معاملے میں جذبات کو ثانوی حیثیت دے کر اِس کو انسان کی انفرادی صوابدید پر چھوڑدیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج وہ معاشی اور معاشرتی استحکام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کسی بھی قوم کو جب ترقی یافتہ جیسی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے تو اِ س کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ وہ علم و اخلاق کے لحاظ سے ارفع ہے۔ یہ بہترین نظامِ حیات صرف اسی وقت قائم کیا جا سکتا ہے جب دانش بیدار ہو جائے اگر کسی عمل کے سبب جذبہ دانش پر سبقت لے گیا تو نہ صرف نظامِ حیات درہم برہم ہو جائے گا بلکہ اعلی اخلاقی اقدار بھی پائمال ہو ں گی پس ضروری ہے کہ دانش کو جذبات پر فوقیت دی جائے۔

دانش ہمیشہ تجربات ومشاہدات پر مبنی ہوتی ہے کسی عمل کے وقوع کے بعد جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے وہ دراصل تجربہ کہلاتا ہے اور تجربہ ایک مکمل علم ہے جس کی بنیاد پر کوئی بھی نظم یا ضبط ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب مسلّمہ تجربات کی بنیاد پر قانون سازی کی جاتی ہے تو پھرعموماً اختلاف کے مواقع کم ہوجاتے ہیں اور اگر کہیں اختلاف کی گنجائش موجود بھی ہو تو پوری دیانتداری کے ساتھ نئے تجربات کی طرف قدم بڑھایا جاتا ہے ۔

ریاست اور عمومی دانش

عمومی دانش سے مراد دراصل عوامی سطح پر سوچنے سمجھنے کی روش کا وقوع ہے کہ یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ علم و اخلاق سے آراستہ اقوام ہی سیادتِ عالم کی حقدارٹھہرتی ہیں۔ علم سے بڑی طاقت کوئی نہیں انسان تمام تر معاشی ، معاشرتی اور اخلاقی اقدارکا ضامن صرف علم ہی ہے اورعلم سے مراد کوئی مخصوص ضابطہ نہیں بلکہ ایک عالمگیر تجرباتی حقائق کا مطالعہ ہے جس کے وسیلے سے انسان ترقی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ارتقائی بنیاد پر دور کر سکتا ہے ، تعلیم اس وقت تک سود مند ثابت نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ کے اندر غور و فکر کی صلاحیت پیدا نہ ہو جائے محض ڈگریاں حاصل کرنے کا نام تعلیم نہیں۔وطنِ عزیز میں آج جس قدر عمومی دانش کی اہم ضرورت ہے شاید ہی پچھلی دہائیوں میں اتنی اہمیت رہی ہو کیونکہ یہ دور ایک خالص تجرباتی دور ہے جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی اِس نہج پر جا پہنچی ہے کہ جس سے کسی بھی صورت انکار ممکن نہیں۔ ترقی چاہے مادی ہو یا روحانی‘ دانش کی بنیاد پر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انسانی شعور اگر غفلت کا شکار ہو کر جذبات کے نرغے میں آ جائے تو نظامِ حیات کے ساتھ ساتھ ریاستی نظام بھی درہم برہم ہو جاتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ہاں ہر دو سو افراد میں سے صرف ایک شخص عقلی روش کا قائل ہے جس کے بنیادی اسباب دراصل ہمارے ہاں ایک طویل عرصے سے سوچنے سمجھنے کی روش کا ترک کر دینا ہے اور اب تو عالم یہ ہے کہ ہمارا انتہائی پڑھا لکھا طبقہ جسے جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی کہا جا سکتا ہے سوچنے سمجھنے کی روش سے لاتعلق ہو چکا ہے۔ بالفرضِ محال اگر کسی جدید ذہن نے غور وفکر کی راہ اپنا بھی لی تو وہ بھی ایک مخصوص دائرے میں رہ کر سوچنے کو ترجیح دیتا ہے جس سے غور و فکر ایک محدود زاویے میں مقید ہو کر رہ جاتے ہیں۔ فکر ی جمود سے انسانی رویوں میں بھی زبردست جھول آتا ہے انسان ہر چیز کو ایک مخصوص نظر سے دیکھنے کا عادی بن جاتا ہے چنانچہ نظامِ حیات سے لے کر نظمِ اجتماعی تک انسان ایک مخصوص دائرے میں سرگرداں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جدید دنیا سے ہم آہنگی کی بات آتی ہے تو پورا معاشرہ فکری و معاشی اضمحلال کا شکار ہوجاتا ہے اور اِس خلا کو پوراکرنے کی بجائے اپنے مخصوص دائرے کا تحفظ کیا جاتا ہے‘ جس کے نتائج تہذیبی تصادم کی صورت میں سامنے آتے ہیں پھر اس مقام پر دانش کی بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلے کئے جاتے ہیں جس سے صورتحال اور بھی گھمبیر ہو جاتی ہے۔ حالانکہ ہم عرض کر چکے کہ جذبات کو نظم کا پابند کرنا ممکن نہیں کیونکہ جذبات کا تعلق انسان کے انفرادی محسوسات پر ہوتا ہے۔ کسی ایک انسان کا جذبہ دوسرے انسان سے یکسر مختلف ہو سکتا ہے لیکن عمومی دانش میں اختلاف ممکن نہیں۔ کیونکہ دانش ہمیشہ تجربات ومشاہدات پر مبنی ہوتی ہے کسی عمل کے وقوع کے بعد جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے وہ دراصل تجربہ کہلاتا ہے اور تجربہ ایک مکمل علم ہے جس کی بنیاد پر کوئی بھی نظم یا ضبط ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب مسلّمہ تجربات کی بنیاد پر قانون سازی کی جاتی ہے تو پھرعموماً اختلاف کے مواقع کم ہوجاتے ہیں اور اگر کہیں اختلاف کی گنجائش موجود بھی ہو تو پوری دیانتداری کے ساتھ نئے تجربات کی طرف قدم بڑھایا جاتا ہے ۔کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ عوام میں اجتماعی اور انفرادی شعور بیدار کرنے کا اہتمام کرے‘ یہ کام باقاعدہ سرکاری طور سرانجام دینا چاہئے کہا یہ جاتا ہے کہ کسی بھی ریاست کے شہریوں میں دانش بیدار کرنے کا مسلمہ اصول دراصل نصابِ تعلیم میں خرد افروزی پر مبنی سلیبس شامل کرنا ہے اس کے علاوہ ریاست کو چاہئے کہ وہ دساتیر اساطیر کے بجائے خالص دانش کی بنیاد پر مرتب کرے تاکہ کسی مخصوص شخصیت یا گروہ کی فکری اجارہ داری قائم نہ رہ سکے بلکہ ایک جمہوری فکر و نظر کی فضا قائم ہو جائے جدید نظام ہائے سیاست میں جمہوریت کوایک مضبوط سیاسی نظم کی حیثیت حاصل ہے۔ جمہوریت خالص دانش کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا وہ نظمِ اجتماعی ہے جس پر جدید دنیا اعتماد کر چکی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ دانشمندانہ رویہ کا فقدان پایا جاتا ہے اِس لئے ہمارے ہاں خالص جمہوریت فی الحال اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ اپنے ماضی پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلم معاشروں میں تحریکِ اعتزال کے بعد آج تک کوئی قابلِ ذکر عقلی تحریک صحیح معنوں میں نہ پنپ سکی جس کے کئی ایک اسباب بیان کئے جا سکتے ہیں جوکہ یہاں پر بیان کرنا مناسب نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے بانی ایک زیرک سیاستدان اور ذہین و فطین مقنن تھے آپ نے جس معاشرے کی بنیاد رکھی وہ خالص جمہوری اور عقلی بنیادوں پر قائم تھا۔ قرآن کی خالص عقلی تعبیر کی بنیاد پر قانون سازی کے خواہاں بانیِ پاکستان قرآن کی دستوری بصیرت کو معاشرے کی بہتری کی لئے کافی سمجھتے تھے ایک موقع پر آپ سے ایک صحافی نے دریافت کیا کہ آپ ایک الگ ریاست قائم کرنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن اس کا دستور کیا ہوگا تو آپ نے فرمایا ’’ہم کون ہوتے ہیں اس کا دستور وضع کرنے والے اس کا دستور تو چودہ سو سال پہلے قرآن میں بیان کیا جا چکا‘‘۔ ’’بلاشبہ قرآن میں بیان کئے گئے دساتیر آفاقی بصیرت سے ہم آہنگ ہیں بشرطیکہ ہم غور و فکر کی روش اپنا لیں گے۔‘‘ قرآن اپنے مخاطب کو بارہا عقل و شعور استعمال کرنے کی تاکید کرتا ہے چنانچہ افلا یعقلون اور افلاتعقلون کے الفاظ اس بات پر شاہد ہیں کہ قرآن اپنے مخاطب کو عقل و بصیرت کی دعوتِ عام دیتا ہے۔ قرآن خود اِس امر کی تلقین کرتا ہے کہ قرآن پر غور کیا جائے ’’ تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر تالے لگ رہے ہیں‘‘ (سورۃ محمدؐ آیت: 24) وطنِ عزیز میں آج وسائل کی کوئی کمی نہیں بلکہ وسائل کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ وسائل اسی وقت ہی بروئے کار لائے جا سکتے ہیں جب ہم علم و شعور کی روش اپنا لیں گے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم تھیوریٹیکل فزیسٹ ڈاکٹرعبدالسلام کے بعد خال خال ہی قابلِ ذکر شخصیات پیدا کر سکے حالانکہ ہمارے پا س ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ اگر آج ہم فکری روش اپنا لیں تو اپنے تمام تر معاشی و معاشرتی مسائل بخوبی حل کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں آج جس قدر اہم کردار میڈیا ادا کر سکتا ہے شاید ہی اِس کا کوئی متبادل ہو۔ چنانچہ سرکاری و غیر سرکاری میڈیا کو چاہئے کہ وہ ہر قسم کی عصبیت سے بالا ہو کر مل جل کر عمومی دانش کو فروغ دیں کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دورِ اساتیر سے باہر نکل کر اجتماعی طور اپنے آپ کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کریں کہ یہی ترقی کا واحد زینہ ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
19
May

ٹی ڈی پیز کی واپسی اور مستقل بنیادوں پر بحالی کے لئے فاٹا امور کے ماہرین کی تجاویز پر مبنی ممتاز صحافی عقیل یوسفزئی کی ایک خصوصی تحریر

15جون 2014 کے روز شمالی وزیرستان کو جنگجوؤں سے آزاد کرانے کے لئے ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ کے نام سے جس فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا وہ فورسز کی بہتر حکمت عملی‘ حکومت کی سرپرستی اور قبائلی عوام کی قربانی کے باعث اب اپنے اختتام پر ہے۔ اگلے مرحلے کے طور پروزیرستان کی دو تحصیلوں کو متاثرین (آئی ڈی پیز) کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران 10 لاکھ کے لگ بھگ متاثرین کی مرحلہ وار واپسی مکمل ہو جائے گی۔ یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی اور خطرناک ترین فوجی کارروائی تھی جس کی تکمیل میں فورسز کو تقریباً 10 مہینے لگ گئے اور فورسز کے علاوہ عوام کو بھی قربانیاں دے کر وزیرستان کی ’’بازیابی‘‘ کا ٹاسک پورا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی وزیرستان کے 90 فیصد علاقے اب فورسز اور حکومت کی عملداری میں آ چکے ہیں۔جبکہ آپریشن خیبر ون کے باعث نہ صرف یہ کہ خیبر ایجنسی سے جنگجوؤں کا صفایا کیا گیا ہے بلکہ بڑی حد تک پشاور کو بھی محفوظ بنایا جا چکا ہے۔ انہی کارروائیوں کا نتیجہ ہے کہ 16 دسمبر کے سانحۂ پشاور کے بعد شہر میں کوئی بڑی دہشت گرد کارروائی نہیں ہوئی اور سال 2007 کے بعد شہر اور صوبے کے عوام نے پہلی بار سکھ اور اطمینان کا سانس لیا ہے۔

tdps1.jpgرپورٹس کے مطابق فاٹا کے اندر اب ایسا کوئی علاقہ نہیں رہا جہاں جنگجوؤں کا ماضی کی طرح کوئی قبضہ‘ ٹھکانہ‘ یا ہولڈ ہو۔ یہ تاثر بھی کسی حد تک پایا جاتا ہے کہ آپریشن کے دوران ہائی ویلیو ٹارگٹس کو اس طریقے سے نشانہ نہیں بنایا گیا جس کی ضرورت تھی یا توقع کی جا رہی تھی تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انتہائی پیچیدہ علاقوں کو کلیئر کرایا گیا‘ مراکز تباہ کر دیئے گئے‘ لیڈر شپ کو بھاگنے پر مجبور کیا گیا‘ سیکڑوں جنگجو مارے گئے اور ہزاروں ٹن گولہ بارود اور اسلحہ ان سے چھین لیا گیا۔ یہ بھی سب کو ماننا پڑے گا کہ فورسز نے بھاگنے والوں کا ہر علاقے اور ہر سطح پر مسلسل پیچھا کیا اور ان افراد پر پاکستان کی سرزمین تنگ کر دی گئی جنہوں نے پاکستان کو بالعموم اور فاٹا کو بالخصوص لمبے عرصے سے یرغمال بنایا ہوا تھا۔ (متعدد دیگر سفارتی اور سیاسی راستے بھی اپنائے گئے) پڑوسی ملک افغانستان میں 40 کے قریب ممالک کی جدید افواج نے عرصہ تیرہ چودہ سال میں طالبان کے خاتمے کو یقینی نہیں بنایا جبکہ عراق‘ لیبیا‘ شام‘ یمن اور متعدد دیگر ممالک میں بھی یہی صورت حال ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ چند ہفتوں یا مہینوں میں فاٹا سے طالبان کی بیخ کنی ہو سکے گی‘ شاید مناسب تقاضا یا مطالبہ نہیں ہے۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ فوج نے بوجوہ وہ کام بھی کئے جو ان کے کرنے کے نہیں تھے۔ مثال کے طور پر متاثرین کی بحالی‘ ان کو امداد کی فراہمی اور ان کی مسلسل مدد یا نگہداشت جیسی ذمہ داریاں اخلاقی اور قانونی طور پر حکومتی اداروں کی تھیں تاہم یہ فرائض بھی فوج کو ادا کرنا پڑے۔ متاثرین کی واپسی کے بعد فوج کی اب ذمہ داری رہ جاتی ہے کہ وہ طالبان وغیرہ کو پھر سے گھسنے یا قبضہ نہ کرنے دیں اور اس مقصد کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ آباد کاری اور ذہن سازی جیسے کام فوج کے مینڈیٹ یا ذمہ داریوں میں نہیں آتے بلکہ یہ کام قبائل کے تعاون سے دیگر حکومتی اداروں نے کرنے ہیں۔

سال 2014 کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کے ہاتھوں تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار ہلاکتیں ہوئیں جن میں نیٹو، افغان فورسز اور پولیس کے تقریباً 5000 جبکہ 3699 عام شہری‘ سرکاری ملازمین شامل ہیں (اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ)۔ اس کے مقابلے میں پاکستان اس عرصے کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کے تناسب سے اس کے باوجود کافی بہتر رہاہے کہ طالبان کے بعض گروپوں نے نام نہاد مذاکراتی عمل کے دوران بھی حملے جاری رکھے اور فورسز نے حکومت کی خواہش کے احترام میں کئی مہینوں تک معمول کی اپنی کارروائیوں سے بھی گریز کئے رکھا۔ یہی وہ عرصہ تھا جس کے دوران جنگجو اور ان کے کمانڈرز نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذاکرات کی آڑ میں وزیرستان سے دیگر مقامات خصوصاً افغانستان منتقل ہونا شروع ہو گئے۔

افغانستان کے مقابلے میں سال 2014 کے دوران پاکستان کے اندر طالبان کے حملوں میں کل 1730 افراد جاں بحق ہوئے تاہم اس عرصے میں فورسز نے پورے ملک میں 130 چھوٹی بڑی کارروائیاں کر کے تقریباً 1950 جنگجوؤں کو ہلاک جبکہ اتنی ہی تعداد میں گرفتاربھی کیا۔ بہتر حکمت عملی کے باعث 2014 کے دوران خودکش حملوں کی تعداد میں 2013 کے مقابلے میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی (PIPS Report)

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ حالیہ کارروائیاں (15جون کے بعد) نائن الیون کے بعد پاکستان کے اندر کی جانے والی کارروائیوں میں سب سے مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔ فورسز نے جہاں ایک طرف کم ترین عوامی اور فوجی نقصان کے ساتھ ذمہ دارانہ کارروائیاں کر کے پورے ملک میں جنگجوؤں کا پیچھا کیا‘ وہاں دوسری طرف 10 لاکھ کے لگ بھگ متاثرین کو تحفظ کی فراہمی کے علاوہ ضروریات اور سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جبکہ اس امر پر بھی توجہ دی گئی کہ قبائلیوں سمیت پورے ملک کے عوام اور سیاسی قوتوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ آپریشن عوام کے تحفظ کی خاطر کئے جا رہے ہیں۔اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ماضی کے برعکس اس بار عوام اور ان کے نمائندے بھی فوج اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے اور یوں کسی بڑے نقصان یا تعطل کے بغیر وزیرستان اور دیگر علاقوں میں مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔

سانحۂ پشاور نے قومی اتفاق رائے کی راہ میں حائل بعض رکاوٹیں بھی دور کر دیں اور یوں پہلی بار حکومت‘ اہل سیاست‘ فوج اور عوام اس نکتے پر اکٹھے ہو گئے کہ پاکستان کودہشت گردی سے پاک کرانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسی جذبے کے تحت پڑوسی اور دوست ممالک خصوصاً افغانستان کے ساتھ بحالئ اعتماد کے ایک تیز ترین عمل کا آغاز کیا گیا اور ایک ایسا ماحول تخلیق کیا گیا جس کا چند ماہ قبل تک تصور بھی ممکن نہ تھا۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ افغانستان اور دیگر اتحادیوں کا اعتماد حاصل کر کے ان کو تعاون پر آمادہ کیا جائے اور کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں کے سلسلے کا آغاز کیا جائے۔ اس کام میں بھی کامیابی حاصل ہوئی اور فریقین نے متعدد مشترکہ آپریشن بھی کئے۔ انٹیلی جنس شیئرنگ کی ایسی ہی ایک کوشش کے نتیجے میں 11 مارچ 2015 کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں پاکستانی طالبان کے تین اہم ترین کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا جس نے طالبان کو ہلا کر رکھ دیا۔ اگلے روز ایک اور کارروائی کے دوران پاکستان ایئرفورس نے وادی تیراہ میں 48شدت پسندوں کو نشانہ بنایا۔ یوں 24 گھنٹے کے اندر دو بڑے ٹارگٹ نشانہ بنائے گئے۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ 15 جون 2014 کے بعد بہت کچھ بدل چکا ہے اور مزید اچھی خبروں کی پیش گوئیاں بھی کی جا رہی ہیں کیونکہ اب واقعتا پہلی والی صورت حال نہیں رہی۔

ہر ایسی کارروائی یا پالیسی کے دو بڑے پہلو ہوا کرتے ہیں ۔ ایک یہ کہ اہداف کس طریقے اور کتنے عرصے میں حاصل کئے گئے اور بعد میں اس کے نتائج کیا نکلیں گے اور دوسرا یہ کہ اس علاقے یا خطے کے امن کو مستقل بنیادوں پر کس طرح قائم یا یقینی بنایا جائے۔ ماہرین کے مطابق پہلا مرحلہ تو مکمل ہو چکا اور متاثرین کی واپسی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ وزیرستان کو کلیئر کرایا جا چکا ہے۔

دوسرے مرحلے کے دوران فوج کا کردار عملاً محدود ہو جاتا ہے اور حکومتی اداروں اور عوام کا کردار بڑھ جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امن کا قیام مستقل بنیادوں پر فورسز کا نہیں بلکہ حکومت کے دیگر اداروں اور عوام کی ذمہ داریوں کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ فوج نے بوجوہ وہ کام بھی کئے جو ان کے کرنے کے نہیں تھے۔ مثال کے طور پر متاثرین کی بحالی‘ ان کو امداد کی فراہمی اور ان کی مسلسل مدد یا نگہداشت جیسی ذمہ داریاں اخلاقی اور قانونی طور پر حکومتی اداروں کی تھیں تاہم یہ فرائض بھی فوج کو ادا کرنا پڑے۔ متاثرین کی واپسی کے بعد فوج کی اب ذمہ داری رہ جاتی ہے کہ وہ طالبان وغیرہ کو پھر سے گھسنے یا قبضہ نہ کرنے دیں اور اس مقصد کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ آباد کاری اور ذہن سازی جیسے کام فوج کے مینڈیٹ یا ذمہ داریوں میں نہیں آتے بلکہ یہ کام قبائل کے تعاون سے دیگر حکومتی اداروں نے کرنے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دیگر ادارے ایسا کرنے کی نیت یا صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ بدقسمتی سے ماضی کے حالات کے تناظر میں اس کا جواب نفی میں ہے اور اب بھی ایسی کوئی نیت‘ صلاحیت یا تیاری نظر نہیں آ رہی۔ اس ضمن میں ہم سوات کی مثال دے سکتے ہیں جو فاٹا یا وزیرستان کے مقابلے میں صوبائی حکومت کی عملداری کے باعث زیادہ بہتر تھا۔ آپریشن کے بعد وہاں تعمیر نو کے سلسلے میں سول اداروں کی کارکردگی انتہائی خراب‘ سست اور غیر فعال رہی۔ سول اداروں نے وہ ذمہ داریاں بھی پوری نہیں کیں جن کے لئے یہ قائم ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی برس گزرنے کے بعد بھی فوج وہاں پر بہت سی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے‘ یا سول اداروں کی معاونت کر رہی ہے۔ فاٹا کا انتظامی اور سیاسی ڈھانچہ صوبے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سست‘ نااہل اور فرسودہ ہے۔ ایسے میں اگر تعمیر نو اور ذہن سازی کے لئے تیز ترین عمل اور اقدامات کا آغاز نہیں کیا گیا تو خدشہ ہے کہ صورت حال پھر سے خراب ہو جائے گی اور اتنی قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔

(ماضی میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے)

قبائل‘ حکومتی اداروں اور سیاسی قوتوں کو اب یہ رویہ ہر صورت میں ترک کرنا پڑے گا یعنی کہ فوج ہی نے سب کام کرنے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا اور ساتھ میں پروپیگنڈے اور مبینہ الزامات کی روش بھی جاری رکھی گئی تو اس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور حالات کے ستائے ہوئے عوام کا سیاسی اشرافیہ اور اپنے اداروں پر رہا سہا اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔ ریاست کو اب کرنا کیا چاہئے اس بارے میں حالات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین نے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق فوج کا کام سرحدوں کو محفوظ رکھنے اور ایسے عناصر سے ملک کو صاف رکھنے کی حد تک ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان تقریباً 20 نکات پر مشتمل ہے اور اس پر بھی سیاسی قوتوں نے اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان 20 نکات میں سے تقریباً 15 ایسے ہیں جن پر عمل کرانا حکومت اور اہل سیاست کا کام ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے عرصے کے دوران ان نکات پر کس قدر کام ہوا اور اس کے اثرات یا نتائج کیا نکلے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اہل اقتدار اور اہل سیاست اب بھی کوئی بڑی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں اور یہ ایک بڑا المیہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں محمود شاہ نے کہا کہ اب تک جو کچھ ہوتا رہا اس کا زیادہ تر کریڈٹ فوجی قیادت ہی کو جاتا ہے۔ آپریشن کو کامیاب بنانا‘ متاثرین کی نگہداشت کرنا اور افغانستان کے علاوہ امریکہ اور چین کا اعتماد حاصل کرنا بھی اعلیٰ فوجی قیادت کی محنت اور نیک نیتی کا نتیجہ ہے۔ فوجی قیادت عوام اور سیاسی قیادت کو ساتھ لے کر جس طریقے سے آگے بڑھی اور جو نتائج دے گئی‘ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر ریاستی ادارے اور سیاسی قوتیں بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور مستقل امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

قبائلی امور کے نامور صحافی ناصر داوڑ کے مطابق وہ 15 سال سے قبائل کی رپورٹنگ کرتے آئے ہیں۔ بنوں میں موجودفوجی حکام اور اہلکاروں نے جس طریقے سے متاثرین کا خیال رکھا‘ وہ قابل ستائش ہے۔ اس رویے کے باعث پہلی دفعہ وزیرستان کے عوام اور فوج کے درمیان اعتماد سازی اور انڈر سٹینڈنگ پروان چڑھی اور دوریاں ناقابل یقین حد تک کم ہو گئیں۔ متاثرین کی سوچ میں دو بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان کی فوج ان کی دشمن نہیں بلکہ دوست اور نگہبان ہے جبکہ دوسری یہ کہ جن لوگوں نے ان کو کسی بھی جواز کی آڑ میں یرغمال بنایا وہ ان کے دوست نہیں تھے۔ ایسی صورت حال میں جب یہ لاکھوں لوگ واپس جائیں گے تو ماحول یکسر تبدیل ہو گا۔ اب یہ حکومت کے رویے پر ہے کہ وہ اس جذبے کو کس طرح قائم رکھتی ہے۔ ناصر داوڑ کے مطابق فوج کو چاہئے کہ وہ متاثرین کی واپسی کے بعد بھی ان کے معاملات سے لاتعلق نہ رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوام فرسودہ پولیٹیکل انتظامیہ سے پہلے ہی نالاں ہیں۔ اب ان کو نیا تجربہ ہو چکا ہے اور وہ اپنے حقوق جان چکے ہیں۔ اگر ان کو اسی نظام کے تحت ڈیل کرنے کا راستہ اپنایا گیا تو ان کو مایوسی ہو گی۔ تعلیم‘ صحت‘ مواصلات اور تعمیر نو کے تمام منصوبوں اور محکموں میں فوج کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں مانیٹرنگ کے آپشن پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جو ہم آہنگی فوج اور قبائلی عوام کے درمیان استوار ہو گئی ہے اس کے بعد عوام کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔ اگر ان کو ساتھ لے کر چلا جائے اور ان کو پولیٹیکل انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے تو مستقبل قریب کا وزیرستان قطعاً مختلف ہو گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بنوں کیمپ میں جس رویے کا فوجی حکام نے مظاہرہ کیا اگر وہ بعد میں بھی قائم رہا تو اس کے بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔

سینئر تجزیہ کار اور ٹی وی میزبان شمس مہمند نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں وسیع ترین سیاسی اور انتظامی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فاٹا کو موجودہ سٹیٹس کے ذریعے چلانا اب ممکن ہی نہیں رہا۔ اس کا سٹیٹس تبدیل کئے بغیر مسائل کا مستقل حل نہیں نکلے گا۔ کینسر کا علاج ڈسپرین کی گولی سے ممکن ہی نہیں۔ فاٹا کو حکومتی اور سیاسی سطح پر پرانے طریقوں سے چلانے کا دور گزر چکا۔ اب بڑی تبدیلیاں لانی ہوں گی اور یہ کام فوج یا عوام کا نہیں۔ حکومت اور سیاسی قیادت نے مستقل بنیادوں پر اقدامات نہیں کئے تو آپریشن بے معنی ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق 16 دسمبر 2014 کے سانحۂ پشاور نے قوم اور سٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا ہے۔ اب اس کے ثمرات پر توجہ دی جائے۔

حال ہی میں قبائلی عمائدین کا پشاور میں جرگہ کرانے والی پختونخوا اولسی تحریک کے ترجمان نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے لئے جو امداد آرہی ہے وہ یہاں کے عوام پر خرچ کی جائے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اکنامک کو ریڈور کے منصوبے سے فاٹا کو بھی مستفید ہونے دیا جائے۔ فاٹا کے عوام کو حالات کے جبر نے طالبان کے شکنجے میں دے رکھا تھا۔ وہ پرامن لوگ ہیں اور تعلیم و ترقی چاہتے ہیں۔ اگر ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا اور اصلاحات کی گئیں تو مستقل بنیادوں پر امن قائم ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور پراکسی وار کا خاتمہ بھی لازمی ہے۔ ریاستی اداروں کو اسی جانب خصوصی توجہ دینی ہو گی۔

سینئر تجزیہ کار اور اینکر حسن خان سے جب ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں ریاست کی پالیسیاں اور اقدامات حقیقت پسندانہ اور عملی ہیں جبکہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں یہ تلخ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ عسکریت پسندی اور اُن کے سرچشمے اپنی پوری نظریاتی اور عددی قوت کے ساتھ موجود ہیں اور اب یہ لوگ نئی صف بندیاں کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات بھی ختم ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر بھی ان کے حامی موجود ہیں۔ اس لئے ہمیں کسی قسم کی خوش فہمی نہیں رہنی چاہئے بلکہ اس کی جانب توجہ دینی ہے کہ مستقل بنیادوں پر کیا اقدامات اور پالیسیاں اپنائی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ امن کے قیام سے زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ اس کو برقرار کیسے رکھا جائے۔

ان ماہرین کے علاوہ بعض صاحب الرائے قبائلی باشندوں سے جب ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے مختلف تجاویز پیش کیں اور مطالبہ کیا کہ امن و امان کے ساتھ تعمیر نو پر خصوصی توجہ دی جائے۔

فاٹا میں تعمیرِ نو اور دیر پا امن کے لئے تجاویز

1فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے یا اس کو صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے تاکہ یہاں کے عوام کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح حقوق حاصل ہوں۔ اس کے لئے صدرمملکت کا ایک حکم ہی کافی ہے۔

2کرپٹ پولیٹیکل انتظامیہ اور ان کے مراعات یافتہ افراد سے عوام کو چھٹکارا دلایا جائے جبکہ چیک اینڈ بیلنس کا ایسا نظام لایا جائے جس سے اداروں کی فعالیّت کو ممکن بنایا جا سکے۔

3فاٹا کو این ایف سی ایوارڈ کا حصہ بنایا جائے اور بجٹ کی شرح کو بڑھایا جائے۔ ممبران اسمبلی ‘ پولیٹیکل حکام اور مراعات یافتہ ملکان کو قابل مواخذہ بنایا جائے اور عدالتی نظام کو جدید بنایا جائے۔

4وزیرستان سمیت تمام قبائلی ایجنسیوں میں انڈسٹریل سٹیٹ بنائے جائیں۔ مثال کے طور پراگر صرف مہمند ایجنسی کی ماربل انڈسٹری کو جدید بنا دیا جائے تو اس کی آمدنی سے پورے فاٹا کے اخراجات پورے ہو سکتے ہیں۔

5قبائلی ممبران پارلیمنٹ کو فاٹا کی قانون سازی میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے اور سیاسی سرگرمیوں کو یقینی بنایا جائے۔

6فاٹا اور بندوبستی علاقوں کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے قائم فورس ایف سی کو وفاق اور دیگر صوبوں سے واپس بلایا جائے اور غیرملکیوں کی آمد کے تمام راستے اور امکانات ختم کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔

7ملکان اور ان کے اثر و رسوخ کو سکولوں اور دیگر اداروں سے ختم کرنے اور فروغ تعلیم کے لئے سپیشل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ وزیرستان آپریشن کی کامیابی اور دیگر متعدد اقدامات نے حکومت کو ایک بڑا موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ فاٹا، پختونخوا اور پاکستان میں مستقل امن اور تعمیر و ترقی کے لئے بروقت اور مؤثر پالیسیاں بنائے۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

22
April

صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ چاروں جانب سے پہاڑوں میں گھرا ہو ایک خوبصورت ہل سٹیشن ہے اورصوبہ بلوچستان کا اہم کاروباری مرکز بھی ہے، جسے اﷲ تعالیٰ نے چار موسموں کے ساتھ ساتھ انواع و اقسام کے پھل اورمیوہ جات سے نواز ا ہے۔ کوئٹہ کی ٹھنڈی ہوائیں ہر آنے والے کا استقبال کرتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ اس امن کے گہوارے شہر کوئٹہ میں نہ صرف پورے ملک سے لوگ تفریح اور خریداری کے لئے یہاں آتے تھے بلکہ دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں سیاح بھی آتے رہے ہیں۔ پھر بلوچستان کا یہ اہم کاروباری مرکز آہستہ آہستہ امن وامان کی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہوگیا۔ جس سے کاروباری حضرات بالخصوص متاثر ہوئے۔ لیکن یہ امر بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے چھوٹے موٹے واقعات سے ہماری سکیورٹی فورسز اور عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے مزید اولوالعزمی کے ساتھ ان واقعات پر قابو پانے کی سعی بھی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے تاجر بھائی آج بھی اپنے کاروبار اُسی شدومد سے کر رہے ہیں جیسے وہ پہلے کرتے تھے جو اس بات کی علامت ہے کہ ہم درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ کوئٹہ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بعض دکانداروں سے بات چیت کی۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ سب کے سب پرامید ہیں کہ حالات بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔ راقم نے کوئٹہ کے تمام اہم کاروباری مراکز میں جاکر تاجر حضرات سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ ان کے حوصلے جوں کے توں ہیں۔ اکثر تاجروں نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا۔

نصیب اللّٰہ میں 25 سال سے لیاقت بازار میں کاروبار کررہا ہوں۔ ماضی میں ایسے حالات نہیں تھے جیسے اب ہیں۔ کوئٹہ تجارت کے لحاظ سے بہت اہم رہا ہے اور یہاں تجارت کے بہت سے مواقع ہیں۔ لیکن اُس وقت پریشانی ہوتی ہے جب کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے کیونکہ پورا ہفتہ کاروبار بند رہتا ہے‘ لیکن فوج اور ایف سی نے کسی حد تک حالات کو سنبھالا ہے۔ اگر اسی طرح دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہی تو امید کی جا سکتی ہے کہ کوئٹہ کی رونقیں لوٹ آئیں گی۔

نور اللّٰہ کاکڑ میں عبدالستار روڈ پر ایک چھوٹا سا کاروبار کرتا ہوں۔ دھماکوں اور اس کے بعد ہونے والے مظاہروں سے یقیناًہمارے کاروبار پر بہت برا اثر پڑ تا ہے لوگ ڈر سے بازار نہیں آتے اور خریداری سے کتراتے ہیں۔ حکومت حالات کی بہتری کے لئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے امید ہے کہ کوئٹہ کی کاروباری سرگرمیاں جلد مکمل طور پر بحال ہوجائیں گی۔

حاکم میں کافی عرصے سے موبائل مرمت کا کام کر رہا ہوں۔ کوئٹہ میں دھماکے ، ٹارگٹ کلنگ اور آئے روز کی ہڑتالوں نے ہمارے کاروبار پر اثرات تو ضرور مرتب کئے ہیں لیکن لوگوں کے حوصلے جواں ہیں۔

نعمت اللّٰہ میں لیاقت بازار میں گزشتہ آٹھ سال سے چھوٹے پیمانے پر کاروبار کر رہا ہوں۔ کوئٹہ کے حالات کی وجہ سے عورتیں اور بچے بازار کا رخ بہت کم کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے کاروبارپر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ لیکن جب سے سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے حالات کسی حد تک بہتر ہو رہے ہیں۔

جاوید اقبال میں کراکری کا کام کرتا تھا۔ کوئٹہ ایک خوبصورت شہر ہے ۔ یہاں سارے پاکستان سے لوگ شاپنگ کرنے اور گھومنے آتے تھے۔ اب بھی ایسا ہوتا ہے لیکن اس میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ آئے دن دھماکے اور ہڑتالوں کے باعث لوکل خریدار بھی بہت کم ہوگئے ہیں۔ لیکن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع ہونے سے حالات میں کچھ بہتری پیدا ہوئی ہے۔ امید ہے کہ حالات جلد ہی پہلے جیسے ہو جائیں گے۔

محمد آصف میری لیڈیز شال کی ایک چھوٹی دکان ہے۔ دھماکوں اورہڑتالوں کے باعث کاروباری حضرات کا پریشان ہونا ایک یقینی امر ہے۔ خدا کا شکر ہے اغوا برائے تاوان جیسے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ حالات کی مکمل بہتری کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ان حکومتی اقدامات کے باعث کسی حد تک حالات بہتر ہو گئے ہیں تاہم مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

مذکورہ تمام افراد کی گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ سب اپنے کاروبار کے سلسلے میں پریشان ہیں لیکن ایک امیدضرورہے کہ شاید یہ خوبصورت وادی پھر سیاحوں سے پررونق ہوجائے ۔ یہاں کے بازاروں میں پھر خریداروں کی چہل پہل نظر آئے ۔ سول اور عسکری ذرائع کی کوششوں سے کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوائے برائے تاوان کی وارداتوں میں کافی کمی آئی ہے۔ جس کے لئے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کی کوششیں یقیناًقابل تحسین ہیں‘ جنہوں نے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں عسکری اور سول سوسائٹی کے درمیان فاصلے مٹائے اور محبتوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن اب بھی امن قائم کرنے کے لئے بہت کچھ کرنا باقی ہے تاکہ عوام اور تاجروں کا اعتمادبحال ہوسکے اور ماضی کی طرح یہاں امن قائم ہواور معیشت کا پہیہ پھر سے چل سکے ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
22
April

جس معاشرے میں کوٹ رادھا کشن کے عیسائی جوڑے کو زندہ جلادینے کے سے واقعات روز کا معمول بن کر رہ جائیں وہ توحید پرست معاشرہ ہر گز نہیں کہلا سکتا- مفکرِ اسلام اور مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال نے حقیقی معنوں میں توحید پرست معاشرے کی پہچان یوں کرائی ہے:

"The essence of Tauhid, as a working idea, is equality, solidarity, and freedom. The state, from the Islamic standpoint, is an endeavour to transform these ideal principles into space-time forces, an aspiration to realize them in a definite human organization." (Reconstruction, p.122-123)

گویا معاشرے میں توحید پرستی کے عملی مظاہر اخوت و مساوات اور آزادی و انصاف کے اصول و اقدار کی ترویج و اشاعت سے عبارت ہیں-جس معاشرے پرجاگیردار مسلط ہوں وہ خدا پرست معاشرہ کیونکر کہلا سکتا ہے؟ اسی طرح سرمایہ پرستی کے جنون میں مبتلا معاشرہ قارونی معاشرہ تو کہلا سکتا ہے قرآنی معاشرہ ہر گز نہیں کہلا سکتا- یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا تصور پیش کرنے اور پاکستانی معاشرے کے خدوخال کو مسلسل روشن سے روشن تر کرنے والے علامہ اقبال نے اور پھر اِس تصورِ پاکستان کو تحریکِ پاکستان کا متحرک قالب عطا کرنے والے قائداعظم محمد علی جناح نے نہایت قطعیت اور وضاحت کے ساتھ بتا دیا تھا کہ پاکستان میں نہ جاگیرداری باقی رہے گی اور نہ سرمایہ پرستی کا جنون پروان چڑھنے دیا جائے گا، بلکہ حقیقی اسلام کی روح کی بازیافت کر کے اسے روحِ عصر کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایک سچا اسلامی معاشرہ قائم کیا جائے گا - ہمارے تمام تر مصائب کا سبب یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے فقط چند برس بعد ہماری سیاسی قیادت نے بانیانِ پاکستان کے اِس حقیقی اسلامی خواب کو فراموش کر دیا- یہ خواب فراموشی کے اسی چلن کا شاخسانہ ہے کہ آج ہمارے ہاں کوٹ رادھا کشن کے سے انتہائی شرمناک سانحات وقوع پذیر ہو رہے ہیں-

علامہ اقبال 1930ء کے خطبۂ الہ آباد میں پاکستان کا تصور پیش کرتے وقت جداگانہ مسلمان مملکت کے قیام کے مخالفین کی یہ دلیل بھی زیرِ بحث لائے تھے کہ اگر روئے زمین کے دیگر خطوں میں مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو ہندوستان میں کیوں نہیں رہ سکتے؟ اقبال نے اِس کا جواب یہ دیا تھا کہ:

Because the Muslims of India are differently situated.

اقبال کا کہنا ہے کہ دُنیا کے دیگر خطوں میں مسلمان اور دیگر اہلِ کتاب ایک ساتھ رہتے ہیں-یہ سب لوگ ، عیسائی، یہودی، زرتشتی توحید پرست ہیں -مسلمانوں اور اِن سب مذاہب کے ماننے والوں کا خُدا ایک ہے- اِن میں کسی ذات پات یا چھوت چھات کا کوئی الہامی تصور موجود نہیں ہے- اِس لئے یہ سب مل کر ایک ساتھ امن و امان کی فضا میں زندگی بسر کر سکتے ہیں- اِس کے برعکس خدا پرست اقلیت میں اور بت پرست اکثریت میں ہیں-یہاں انسانوں میں دیوتاؤں کی پیدا کی ہوئی اونچ نیچ ختم نہیں کی جا سکتی- جن معاشروں میں مسلمان دیگر توحید پرست مذاہب کے لوگوں کے ساتھ آباد ہیں وہاں توحید پرستی کی بنیاد پر ایک انسان دوست عادلانہ معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے-اپنے استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے اقبال کہتے ہیں

"There are no social barriers between Muslims and the "people of the Book". A Jew or a Christian or a Zoroastrian does not pollute the food of a Muslim by touching it, and the law of Islam allows inter-marriage with the "people of the Book". Indeed the first practical step that Islam took towards the realisation of a final combination of humanity was to call upon peoples possessing practically the same ethical ideal to come forward and combine." (Thoughts & Reflections of Iqbal, p.190)

علامہ اقبال اپنے درج بالا استدلال کو مؤثر بناتے ہوئے قرآن حکیم کی اُس آیۂ کریمہ کا حوالہ دیتے ہیں جس میں تمام توحید پرست مذاہب کے پیروکاروں کو کلمۂ توحید پر متحد ہو جانے کی دعوت دی گئی ہے- اقبال اس دعوت کو وحدتِ آدم کی جانب پہلا قدم قرار دیتے ہیں- جہاں تک برطانوی ہند کا تعلق ہے اقبال نے سکھ برادری کو بھی توحید پرست قرار دیا ہے- اپنی نظم ’’نانک‘‘ میں کہتے ہیں

پھر اُٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

ہند کو اِک مردِ کامل نے جگایا خواب سے

اقبال اور قائداعظم ، ہر دو بانیانِ پاکستان بابا نانک کو مردِ کامل اور توحید پرست مانتے تھے- یہی وجہ ہے کہ بابائے قوم ، قائداعظم محمد علی جناح جون سن سنتالیس تک پنجاب کی سکھ قیادت کو پنجاب کی تقسیم پر اصرار کرنے کی بجائے پاکستان میں شمولیت کی دعوت دیتے رہے تھے-اِس لئے کہ اُن کے پیشِ نظر پاکستان میں ایک توحید پرست معاشرے کا قیام تھا-

ہماری قومی زندگی کی المناک ترین حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اِس تصور کو آج تک حقیقت کا روپ دھارنے کی اجازت نہیں دی گئی- پاکستانی زندگی کے حقائق کی روشنی میں پاکستان کے تصور کوتلاش کرنے نکلیں تو ناکامی اور نامرادی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آسکے گا- وجہ یہ کہ بانیانِ پاکستان کا پاکستان کے اندر ایک سچا توحید پرست معاشرہ قائم کرنے کا خواب اُس وقت تک حقیقت نہیں بن سکتا جس وقت تک ہمارے ہاں برطانوی سامراج کا بخشا ہوا جاگیرداری اور سرداری نظام قائم و دائم ہے- پاکستان کے تصور کو حقیقت کے ٹھوس اور متحرک قالب میں ڈھالنے کے عمل کی جانب پہلا قدم معاشی عدل و مساوات کا قیام ہے- اُن کی نظم بعنوان ’’پنجاب کے دہقان سے‘‘ قوم کی اجتماعی زندگی میں تصورِ توحید کی کارفرمائی پر یوں روشنی ڈالتی ہے

بتا کیا تری زندگی کا ہے راز

ہزاروں برس سے ہے تو خاک باز

اسی خاک میں دب گئی تیری آگ

سحر کی اذاں ہو گئی، اب تو جاگ

زمیں میں ہے گو خاکیوں کی برات

نہیں اس اندھیرے میں آب حیات

زمانے میں جھوٹا ہے اُس کا نگیں

جو اپنی خودی کو پرکھتا نہیں

بتانِ شعوب و قبائل کو توڑ

رسومِ کہن کے سلاسل کو توڑ

یہی دینِ محکم، یہی فتح یاب

کہ دنیا میں توحید ہو بے حجاب

بخاکِ بدن دانہء دل فشاں

کہ ایں دانہ دارد ز حال نشاں

اگر معاشی انصاف اور معاشرتی مساوات کے تصورات ہمارے ہاں حقیقت بن چکے ہوتے تو کوٹ رادھا کشن کے سے سانحات ہر گز وقوع پذیر نہ ہوسکتے، تھر میں بھوک اور پیاس سے سِسک سِسک کر مرتے ہوئے پاکستانیوں کے لئے بھیجی گئی گندم کی بوریوں میں سے مٹی کے ڈھیلے برآمد نہ ہوتے او ر سب سے بڑھ کر بانیانِ پاکستان کی اسلام کی تعبیر و تفسیر کی بجائے مُلّائیت کی فی سبیل اللہ فساد کی ’’تعلیمات ‘‘معاشرے کو تہہ در تہہ اندھیروں میں نہ دھکیل پاتی-اِن اندھیروں سے روشنیوں کی جانب پیش رفت فقط بانیانِ پاکستان کے تصور کو اپناکر ایک سچا توحید پرست معاشرہ قائم کرنے میں پنہاں ہے-علامہ اقبال اس حقیقت پر بہت بے چین رہتے تھے کہ

زندہ قوت تھی زمانے میں یہ توحید کبھی

آج کیا ہے، فقط اِک مسئلۂ علمِ کلام

روشن اس ضو سے اگر ظُلمتِ کردار نہ ہو

خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

میں نے اے میر سِپہ! تیری سِپہ دیکھی ہے

’’قل ھواللہ‘‘ کی شمشیر سے خالی ہیں نیام

آہ! اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا، نہ فقیہہ

وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام!

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے

اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

علم کلام کے شعبے میں توحید پر مباحث ضرور جاری رہنے چاہئیں لیکن پاکستان میں توحیدکو ایک زندہ قوت بنانے کے لئے ’’اِس بیچارے دو رکعت کے امام‘‘ کی موشگافیوں کی بجائے اقبال کی تعلیمات پر عمل لازم ہے۔اِن تعلیمات کی روشنی میں الخلق عیال اللہ کے مصداق ساری مخلوق خدا کا کنبہ قرار پاتی ہے-علامہ اقبال کے نزدیک ایک سچامسلمان احترامِ آدمیت کے تمام تر تقاضوں کو ہر حال میں ملحوظِ خاطر رکھتا ہے- علامہ اقبال کو آدمیت کے احترام کا یہ مسلک اس لئے عزیز ہے کہ اُن کی نظر میں آدمی کا مقام آسمان سے بھی بلند ہے۔۔۔برتر از گردوں مقامِ آدم است- خود علامہ اقبا ل رنگ و نسل، عقیدہ و مسلک اور مُلک و ملت کی حد بندیوں سے بلند احترام آدمی کی اس روش پر عمربھرگامزن رہے- اُن کی شاہکار تصنیف ’’جاوید نامہ‘‘ کا اختتامیہ نئی نسل کے نام اُن کے پیغام پر مشتمل ہے- اِس پیغام کا ایک مرکزی نکتہ اسلام میں آدمی کے مقام سے متعلق ہے- اقبال یہاں مسلمانوں کی نئی نسل کو تلقین فرماتے ہیں:

حرفِ بد را بر لب آوردن خطاست

کافر و مومن ہمہ خلقِ خدا است!

آدمیت احترامِ آدمی

باخبر شو از مقامِ آدمی!

آدمی از ربط و ضبط تن بہ تن

بر طریقِ دوستی گامے بزن!

بندہء عشق از خدا گیرد طریق

می شود بر کافر و مومن شفیق!

کافر اور مومن ہر دو خدا کی مخلوق ہیں- جس طرح اللہ میاں کافر اور مومن ہر دو پر شفیق ہیں اسی طرح بندگانِ خدا کو بھی عقیدہ و مسلک اور ملک و ملّت کے امتیازات سے ماورا ہو کر ہر آدمی پر شفقت ہی شفقت نچھاور کرتے رہنا چاہئے- خدا کا بندہ وہ ہے جو خدا کی صفات کو اپنی ذات میں جذب کرتا رہتا ہے- خدا کا سچا بندہ وہ ہے جو اپنے عقیدہ و مسلک پر تو ہر حال میں قائم رہتا ہے مگر اس کے باوجود اپنے سے مختلف عقیدہ و مسلک کے حامی افراد اور گروہوں سے بھی دوستی ہی کے راستے پر گامزن رہتا ہے- وہ اپنی زبان یا اپنے ہاتھ سے انھیں کسی صورت میں بھی آزار نہیں پہنچاتا- سچ ہے کہ:

بندہء عشق از خدا گیرد طریق

می شود بر کافر و مومن شفیق!

اپنی وفات سے فقط تین ماہ پہلے آل انڈیا ریڈیو سے سالِ نو کا پیغام نشر کرتے وقت اقبال نے دُنیائے انسانیت کو رنگ و نسل اور قوم و ملت کی حد بندیوں سے اُوپر اُٹھ کر وحدتِ انسانی کی خاطر عمل پیرا ہونے کا درس دیا تھا- اقبال نے کہا تھا کہ ایک ہی وحدت معتبر ہے اور وہ ہے وحدتِ انسانی- یہ خیال انھوں نے اپنی شاعری میں بار بار پیش کیا ہے کہ

تفریقِ ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود

اسلام کا مقصود فقط ملتِ آدم

پروفیسر فتح محمد ملک ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

22
April

وہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز

نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود

ہوتی ہے بندۂ مؤمن کی اذاں سے پیدا

وہ لمحے جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بنتے ہیں وہ ساعتیں جو روزوشب کی مسافتوں میں سنگ میل بنتی ہیں۔ وہ گھڑیاں جوصدیوں کی دیواریں پھاند کر تمام زمانوں کو اپنی گرفت میں لے کر مسکراتی ہیں، انسانی عزم و ہمت اور جہد مسلسل کی پذیرائی و کامرانی کا معیار بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی گھڑیوں، ایسے ہی لمحوں اور ایسی ہی ساعتوں میں قوموں کی تشکیل ہوتی ہے۔ برصغیر پاک وہند میں بھی ایک قوم تشکیلِ نو کے مراحل سے گزر رہی تھی۔ یہ وہ قوم تھی جو غلامی کے بوجھ تلے دبے ہوئے انسانوں پرمشتمل تھی۔ یہ وہ انسان تھے جو جہالت ، استحصال اور ظلم و جبر کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں راستہ دکھانے والا کوئی نہ تھا۔ یہ وہ ہجوم تھا جسے ترتیب و تشکیل کی ضرورت تھی۔ آنکھیں خلاؤں میں گھور رہی تھیں، ساعتیں گوش برآواز تھیں کہ ایک صدا ابھری

اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

اور پھر یہ ہجوم اس آواز کی سمت دیوانہ وار لپکا۔ یہ آواز مفکرِ اسلام ، شاعرِ مشرق، مصور پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اﷲ علیہ کی آواز تھی۔ اس آواز نے اس ہجوم کو ایک قوم بننے کا شعور بخشا۔ یہ آواز آگے چل کر 1930ء میں مسلم لیگ کے اجلاس الہ آباد میں صدارتی خطبے کی شکل میں حقیقی معنوں میں ایک الگ وطن کے تصور میں ڈھل گئی۔ انہوں نے فرمایا

’’مجھے یہ نظر آرہا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحدہ اسلامی مملکت کا قیام کم از کم شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کی قسمت میں لکھا جا چکا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے کلچر، روایات اور رسوم کے تحفظ اور فروغ کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کر سکیں۔ انہیں اگر یہ یقین دلایا جائے کہ پنجاب، سندھ، سرحدی صوبے اور بلوچستان کو ملا کر ایک الگ اسلامی ریاست قائم کردی جائے گی تو میں حصولِ آزادی کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے آمادہ ہوں‘‘۔

بعدازاں1932ء میں کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ہندوستانی مسلم طالب علم چوہدری رحمت علی نے اپنے مشہور زمانہ پمفلٹ NOW OR NEVER یعنی ’’ابھی یا کبھی نہیں‘‘ میں اقبال کے اسی تصور کو پاکستان کا نام دیا ۔ خود ان کے الفاظ میں : ’’پاکستان کا لفظ میں نے خود تخلیق کیاہے۔ یہ فارسی اور اردو دونوں زبانوں کا لفظ بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے پاک لوگوں کا وطن۔ ایسے لوگ جو روحانی طور پر پاک صاف ہوں‘‘۔

چوہدری رحمت علی حضرتِ اقبال سے بہت زیادہ متاثر تھے اور قبل ازیں لندن میں ان سے ملاقات کر چکے تھے۔ گویا اقبال نے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی تھی اور اس میں یہ شعور بیدار ہوگیا تھا کہ مسلمان اپنی تہذیب، تمدن، معاشرت، ثقافت اور اخلاقی اقدار کے اعتبار سے کسی بھی دوسری قوم سے قطعاً مختلف ہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب اقبال کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے عزم و استقلال کا ایک پیکرِ عظیم اس ہجوم بے پناہ کو ربط و ضبط کی لڑی میں پرونے کے لئے آگے بڑھا اور پھر یہی ہجوم ایک عظیم قوم کی شکل اختیار کر گیا

ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی

وہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگیں

قائداعظم کے اس قول میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان اسی دن قائم ہو گیا تھا جب برصغیر میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ یہی دو قومی نظریے کی عمارت کی پہلی اینٹ تھی اور میں یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہوں کہ تحریک پاکستان کا آغاز سندھ میں مجاہد اسلام محمدبن قاسم کی آمد کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ یہ تحریک اپنے جلو میں بے شمار عظیم ہستیوں کو لئے ہوئے آگے بڑھتی رہی اور آخر قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے منزل آشنا کیا۔ 1906ء میں مسلم لیگ کے قیام سے 1947ء تک کے مختصر عرصے پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ قائد اعظم اور ان کے جاں نثار ساتھیوں نے تحریک پاکستان کو قیام پاکستان تک لانے میں کس قدر جدوجہد اور کوشش پیہم کو شعار بنایا۔

23 مارچ 1940ء کا دن شاہد ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے تمام سرکردہ رہنما منٹو پارک میں موجود تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم قیادت میں مسلمانانِ ہند کے کاروانِ آزادی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ یومِ پاکستان اسی کاروان آزادی کے جادۂ منزل کا ایک اہم ترین سنگِ میل ہے

میری تاریخ کا اک بابِ منور ہے یہ دن

جس نے اس قوم کو خود اس کا پتا بتلایا

مارچ کا مہینہ موسم بہار کہلاتا ہے۔ اس مہینے میں زندگی کروٹ لے کر بیدار ہوتی ہے حسن و جمال شباب آشنا ہوتا ہے۔1940ء کا ماہِ مارچ بھی بہار کا موسم تھا مگر اس بہار کو مسلمانوں نے اپنے خون سے سینچا تھا۔23 مارچ سے صرف چار دن پہلے لاہور کی مساجد خاکساروں کے خون سے رنگین ہوچکی تھیں۔ لاہور سوگوارتھا۔ فضا میں آہیں اور سسکیاں بسی ہوئی تھیں۔ مسلمانوں میں انتقام کے جذبات بھڑک اُٹھے تھے۔ ایسے حالات میں ہندوستان کے مسلمان اپنی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے کے لئے لاہور میں جمع ہورہے تھے۔ اس تاریخی فیصلے کے لئے شاہی مسجد کے قریب آل انڈیا مسلم لیگ کے زیراہتمام ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہو رہا تھا۔ اس جلسے میں شیربنگال مولوی اے کے فضل الحق نے مشہور زمانہ قرارداد لاہور پیش کی۔ وہ مسلمان جو خاکساروں کے حادثے کی وجہ سے رنج و غم کی تصویر بنے ہوئے تھے اور ان کے دل مرجھائے ہوئے تھے‘ اس قرارداد سے انہیں ایک نئی زندگی مل گئی۔ جب مولوی فضل الحق قرارداد پڑھتے ہوئے قیامِ پاکستان کے مطالبے پر آئے تو انہوں نے محسوس کیا جیسے وہ جس منزل کی تلاش میں سرگرداں تھے‘ ان کے روبرو کھڑی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یقیں محکم اور عمل پیہم کے ہتھیار لے کر اُٹھو اور متحد ہو کر مجھے حاصل کر لو۔

اس زندگی بخش قرارداد کی حمایت میں سب سے پہلے مجاہدِ ملت‘ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے اردو زبان میں پرجوش تقریر کی۔ ان کی شعلہ بیانی نے جلسے میں شریک لاکھوں افراد کے دلوں میں جذبوں کی آگ بھڑکا دی۔ ان کے بعد مختلف صوبوں کی مختلف بولیاں بولنے والے مقررین نے تقریریں کیں لیکن ان سب نے ایک زبان یعنی اردو میں خطاب کیا۔ سندھ سے سرعبداﷲ ہارون ، سرحد سے سردار اورنگ زیب خان، بلوچستان سے قاضی محمد عیسیٰ ، یوپی سے بیگم مولانا محمد علی جوہر اور چودھری خلیق الزمان، بہار سے نواب اسماعیل خاں ، مدراس سے عبدالحمید خان، بمبئی سے مسٹر چندریگر اور سی پی سے سید عبدالرؤف شاہ نے تقریریں کیں۔ ہر تقریر جوش، جذبے اور خلوصِ دل کی آئینہ دار تھی اور ہر تقریر میں سارے ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکنوں کی ترجمانی کی گئی تھی۔ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا اور اس وقت بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے جذبات صرف وہ خود ہی محسوس کر سکتے تھے۔ انہوں نے اپنے سیکرٹری مطلوب الحسن سید سے مخاطب ہو کر کہا

’’اقبالؒ وفات پا چکے ہیں۔ اگر آج وہ موجود ہوتے تو بہت خوش ہوتے کیونکہ ہم نے ان کی خواہش پوری کر دی ہے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ 23 مارچ کے دن شاعرِ مشرق کے خوابِ آزادی کے خاکے میں رنگ بھردیا گیا تھا اور اسے تعبیر آشنا کرنے کے لئے ایک نئے عزم اور ولولے سے جدوجہد کو آگے بڑھایا گیا۔ یہی وہ دن ہے جس نے منزل کا سراغ دیا۔ جس نے جذبوں کو مہمیز دی۔ جس نے ولولوں کو زندگی بخشی‘ جس نے فکر کو راہِ عمل سے آشنا کیا اور جس نے راہِ عمل کو مقصدِ حیات تک پہنچا دیا۔ 1940ء سے 1947ء تک سات سال کا یہ عرصہ حقیقت میں صدیوں پر حاوی ہے۔ جہاں مسلمان اپنے قائدین کے ہمراہ جدوجہد آزادی میں مصروف تھے وہاں ہندو اور انگریز سازشوں کے جال بُن رہے تھے۔ ان کی ہر ممکن کوشش تھی کہ پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہونے پائے۔ وہ اسے مجذوب کی بڑ قرار دیتے تھے اور اس جدوجہد کو ناکام بنانے کے لئے ہر طرح کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ ان سازشوں میں صرف غیرہی نہیں اپنے بھی شریک تھے۔ سب نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر :

اولوالعزمانِ دانشمند جب کرنے پہ آتے ہیں

سمندر چیرتے ہیں کوہ سے دریا بہاتے ہیں

نپولین کہا کرتا تھا کہ’’ اگر ہرنوں کی فوج کا سپہ سالار شیر ہو تو ہرن بھی شیروں کی طرح لڑتے ہیں اور اگر شیروں کی فوج ہرن کی قیادت میں آجائے تو شیر بھی ہرنوں کی طرح بھاگنے لگتے ہیں‘‘۔ لیکن مسلمانوں کی تحریک آزادی نے یہ ثابت کیا کہ مسلمان قوم خود بھی شیروں پر مشتمل ہے اور اس کا قائد بھی شیر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان بن کے رہا اور شکستِ فاش مخالفین کا مقدر بن گئی۔

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو

تھرتھراتا ہے جہانِ چار سو و رنگ وبو

پاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انسان کا ضمیر

کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغ آرزو

قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا:

’’وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے، وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے، وہ رشتہ ، وہ چٹان اور وہ لنگر اﷲ کی کتاب قرآن حکیم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک اﷲ ، ایک کتاب، ایک رسولؐ اور ایک اُمت‘‘۔

آئیے یومِ پاکستان کے حوالے سے ہم یہ جائزہ لیں کہ قائداعظم کے اس فرمان کی روح ہماری صفوں میں کہاں تک موجود ہے۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر احتساب کے عمل سے گزرنا چاہئے۔ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ قائداعظم ؒ کی اس امانت کے ساتھ ہم نے عملی وفا کا عہد کہاں تک پورا کیا ہے۔ آزادی کے 67 برسوں میں ہم نے کیا کھویا ہے اورکیا پایا ہے؟ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کی بنیاد میں ایک نظریہ شامل ہے۔ ہماری یہ خوش نصیبی ہے کہ نظریہ اسلام کو عملی صورت دینے کے لئے قدرت نے ہمیں منتخب کیا۔ پاکستان فکری لحاظ سے دورِ جدید کا سب سے بڑا مہم آفریں تجربہ ہے۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اسلامی نظام کی تجربہ گاہ کے طور پر اﷲ نے ہمیں دیا تھا اور ہمیں پوری دنیا کے لئے ایک نمونہ بننا تھا۔ہم جب تک اپنے فرائض کا احساس نہیں کریں گے ہمارے وجود کا کوئی جواز نہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری صفوں میں اتحاد اور اتفاق ہو۔ ہمارے اندر یہ جذبہ ہو کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ اگر آپ کے ہاں کوئی گروہ تحریک پاکستان کے زمانے میں آپ کے ساتھ نہیں تھا مگر استحکام پاکستان کے سفر میں آپ کے ساتھ چلنا چاہتا ہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے۔ جن لوگوں نے قیام پاکستان کے لئے قربانیاں دی ہیں اور آج بھی پاکستان کے اندر اور باہر قربانیوں کی داستانیں رقم کر رہے ہیں ان کا احترام کیا جائے۔ انہیں انفرادی اور اجتماعی ثمرات سے بہرہ مند ہونے کا موقع دیا جائے۔ اﷲ کا شکر کہ ہمارے پاس قیادت کا فقدان نہیں ہے۔ آنے والے ادوار میں ہم قحط الرجال کا شکار نہیں ہیں۔ اﷲ نے ہمیں باصلاحیت افراد سے نوازا ہے جبکہ آپ دیکھیں گے کہ ہمارے پڑوس میں ہمارا دشمن ملک آئندہ زمانوں میں قیادت کے شدید بحران کا شکار ہونے والا ہے۔ یہ ہماری غیبی مدد ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے اندر یقین محکم اور عمل پیہم کا وہ جذبہ ازسرنو بیدار نہیں ہورہا جس کی ہمیں آج اشد ضرورت ہے۔ ہم اتحاد اور اتفاق کے تصور سے بھی بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ میں موجودہ حالات اور گزشتہ 67 سال کے واقعات کی تفصیل میں نہیں جاتاکیونکہ یہ داستان بہت دردناک ہے۔ آج افواج پاکستان پوری قوم کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جہاد میں مصروف ہیں۔ ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری تندہی سے برسرپیکار ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ فکرِ اقبال سے روشنی لیتے ہوئے اور قائد اعظمؒ کے اقوال پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے ملک کی نظریاتی اورجغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ آزادی اور مقاصد آزادی کی حفاظت کے لئے ہر لمحہ برسرِعمل رہیں گے اور اپنے وطن کو دنیا بھر کے لئے ایک مثالی مملکت میں تبدیل کر کے دم لیں گے۔

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا

کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں

پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشی۔ماہر تعلیم ہیں۔ آپ ان دنوں وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے منسلک ہیں۔

22
April

پشاور کو پھولوں کا شہر کہتے ہیں۔ اس شہر کے پھول جیسے بچوں کو جس طرح مَسلا گیا۔وہ صرف پشاوری ہی نہیں‘ساری پاکستانی قوم نہیں بھولے گی۔ان پھول جیسے معصوم بچوں کے لہو کی خوشبو پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہے ۔۔۔ کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ،ان کے خلاف یہ جنگ،یہ ضرب جاری رہے۔

پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازارمیں چوک شہیداں پر کھڑا میں سوچ رہا تھا کہ آزادی سے پہلے انگریزوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے مجاہدینِ آزادی کو تو ہم نے بھلا دیا۔۔۔ کیا سانحہ 16 دسمبر کے شہدا ء کو بھی یہ قوم بھلا دے گی؟

قصہ خوانی بازار میں شام کے آخری پہر میں کھوے سے کھوا چھلتے بازار کی تنگ شاہراہ پر ڈھیروں ٹھیلوں ،رہڑیوں اور دکانوں پر بیٹھے خریداری کرتے پشاوریوں سے میں نے جب یہی سوال کیا ، تو سب کی زبا ن پر ایک ہی جواب تھا۔۔۔’’نہیں ، کبھی نہیں‘شہدائے آرمی پبلک اسکول کبھی نہیں بھولیں گے۔‘‘ جنوری کی ایک خنک شام قصہ خوانی کے پر ہجوم ،پر رونق بازارمیں یہ بات میرے لئے بہر حال خود باعث حیرت تھی۔۔۔کہ کہیں سے بھی اس بات کا شائبہ بھی نہیں مل رہا تھا کہ اس شہر پر گزشتہ ایک دہائی سے خود کش حملوں ،خوں ریز دھماکوں کی کیا کیا قیامتیں نہ ٹوٹیں۔خود قصہ خوانی بازار 18 بار خونریز دھماکوں ،خود کش حملوں سے خون میں نہلا یا گیا۔مگر نہ تو اس بازار کی رونق میں کمی آئی اورنہ ہی روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں آنے والے پشاوری خوفزدہ ہوئے۔زیادہ خوشگوار حیرت مجھے اس وقت ہوئی جب ان پشاوریوں میں سے‘ جن میں ہر عمر ،ہر مکتبہ فکر کے پشاوری شامل تھے،کسی ایک کی سوچ میں بھی دہشت گردوں کے حوالے سے کوئی ابہام نہ تھا۔جو بدقسمتی ایک عرصے سے ہماری بعض سیاسی و دینی جماعتوں میں اپنے اپنے تعصبات اور مفادات کے سبب نہ صرف برسوں موجو د رہا بلکہ جسے وہ propagateبھی کرتے رہے۔ گو کہ قوم بڑی حد تک سانحہ دسمبر کے بعد اس بات پر متفق ہوگئی ہے کہ دہشت گردوں کی ایک ہی سزا ہے اور وہ ہے۔۔۔ خون بہانے پر سزائے موت۔ شریعت کے نام پر اپنی ہی قوم،مسلک اور مذہب کے لوگوں کاخون بہانے والے کسی بھی طرح کے رحم کے مستحق نہیں۔کتنا بڑا المیہ ہے کہ آٹھ ہزار سے زائد تخریب کار، سفاک قاتل ،گزشتہ آٹھ سال سے اپنے کئے کا بھگتنے کے بجائے جیلوں میں پکنک منا رہے ہیں۔ اور اُس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اُن کے لئے انسانی حقوق کی تنظیمیں اورا نصاف جیسے مقدس پیشے سے وابستہ وکلاء انُ کی بے گناہی کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔کسی بھی جمہوری ملک میں یقیناًملٹری کورٹس کی گنجائش نہیں ۔۔۔مگر دہشت گرد اگر اتنے طاقتور ہوجائیں کہ اُن کے خوف سے گواہ عدالتوں میں پیش نہ ہوں۔۔۔ جج فیصلے دیتے ہوئے خوفزدہ ہوں۔۔۔ایک نہیں، دو نہیں، چھوٹی بڑی عدالتوں کے درجنوں ججز اور گواہ دن کی روشنی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تو پھر آپ ہی بتائیے کہ کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟سیکڑوں میں سے صرف ایک مثال دے رہاہوں۔۔۔کہ یہ لشکر اورسپاہ کے سرغنے کتنے طاقت ور ہیں۔اِن میں سے ایک سپہ سالار جو سو سے اوپر قتل کے مقدموں میں بارہ سال سے قید تھا۔۔۔لاہور ہائی کورٹ میں ببانگ دہل اپنے سامنے کھڑے گواہ کو للکارتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’گواہ بولا نہیں کرتے‘‘ چند دن بعد وہ گواہ اپنے شہر کے بیچ بازار میں مار دیا گیا۔بعد میں یہ سپہ سالار عدم ثبوت کی بنا پر جب رہا ہوتا ہے تو اُس کے سیکڑوں حامی پھولوں کے ہار اُس کے گلے میں ڈال کر ایک جلوس کی سی صورت میں اُس کے آبائی شہر لے جاتے ہیں۔

پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ہماری سویلین عدالتوں نے اب تک کسی بھی ایک ایسے تخریب کار اور دہشت گردکو سزا نہیں دی کہ جن کے خلاف ٹھوس ثبوت اور گواہی دینے والے نہ تھے۔پھر ہم کیسے یہ یقین کر لیں کہ ہماری اپنی فوج کی بنائی ہوئی عدالتیں کسی بے گناہ ،معصوم پاکستانیوں کو سزا دیں گی۔یہ تو وہ وحشی درندے ہیں جو نہ صرف مسلمان بلکہ انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں۔۔۔جو کلمہ گو مسلمانوں کا نہ صرف گلا کاٹتے ہیں بلکہ اپنے مکروہ ،چہروں اور زبانوں سے اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔

میں پہلے بھی لکھ چکاہوں کہ ملٹری کورٹس کسی جمہوری حکومت میں نہیں ہونے چاہئیں۔مگر خوش آئند بات ہے کہ سانحہ 16 دسمبر کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ سے ایک ترمیمی بل کی منظوری دے کر ملٹری کورٹس کے قیام کی اجازت دی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یا غالباً پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی آئینی ترمیم ہے جس کے ذریعے پاکستان کے قومی مفا د کے لئے ملٹری کورٹس کو ضروری قرار دیا گیا۔یہاں ایک اور نئی بحث ایک حلقے کی جانب سے چھیڑی گئی۔۔۔کہ صرف مذہبی دہشتگردی پر ہی زور کیوں دیا جاتا ہے؟ درست۔بلکہ بالکل درست۔۔۔اپنی جگہ یہ حقیقت نہیں کہ 55 ہزار شہریوں اور 5 ہزار فوجی جوانوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے والے سارے کے سارے اس کی ذمہ داری ہی قبول نہیں کرتے۔بلکہ بڑے دعوے سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی شریعت کی سربلندی کے لئے یہ جہاد جاری رکھیں گے۔پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ہماری سویلین عدالتوں نے اب تک کسی بھی ایک ایسے تخریب کار اور دہشت گردکو سزا نہیں دی کہ جن کے خلاف ٹھوس ثبوت اور گواہی دینے والے نہ تھے۔پھر ہم کیسے یہ یقین کر لیں کہ ہماری اپنی فوج کی بنائی ہوئی عدالتیں کسی بے گناہ ،معصوم پاکستانیوں کو سزا دیں گی۔یہ تو وہ وحشی درندے ہیں جو نہ صرف مسلمان بلکہ انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں۔۔۔جو کلمہ گو مسلمانوں کا نہ صرف گلا کاٹتے ہیں بلکہ اپنے مکروہ ،چہروں اور زبانوں سے اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔

کتنا بڑا المیہ ہے کہ آٹھ ہزار سے زائد تخریب کار، سفاک قاتل ،گزشتہ آٹھ سال سے اپنے کئے کا بھگتنے کے بجائے جیلوں میں پکنک منا رہے ہیں۔ اور اُس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اُن کے لئے انسانی حقوق کی تنظیمیں اورا نصاف جیسے مقدس پیشے سے وابستہ وکلاء انُ کی بے گناہی کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔کسی بھی جمہوری ملک میں یقیناًملٹری کورٹس کی گنجائش نہیں ۔۔۔مگر دہشت گرد اگر اتنے طاقتور ہوجائیں کہ اُن کے خوف سے گواہ عدالتوں میں پیش نہ ہوں۔۔۔ جج فیصلے دیتے ہوئے خوفزدہ ہوں۔۔۔ایک نہیں، دو نہیں، چھوٹی بڑی عدالتوں کے درجنوں ججز اور گواہ دن کی روشنی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

پشاور کو پھولوں کا شہر کہتے ہیں۔ اس شہر کے پھول جیسے بچوں کو جس طرح مَسلا گیا۔وہ صرف پشاوری ہی نہیں‘ساری پاکستانی قوم نہیں بھولے گی۔ان پھول جیسے معصوم بچوں کے لہو کی خوشبو پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہے ۔۔۔ کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ،ان کے خلاف یہ جنگ،یہ ضرب جاری رہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
22
April

ماضی میں بھارت کی بری،ہوائی اور بحر ی افواج کے لئے ہتھیاروں کا روس سب سے بڑا ذریعہ تھا۔اب بھی بھارتی مسلح افواج جن ہتھیاروں سے لیس ہیں اُن کا70%حصہ روسی ساخت کے ہتھیاروں پر مشتمل ہے۔لیکن ہتھیاروں کے سلسلے میں بھارت روس پر اپنے انحصار کو بتدریج کم کر رہا ہے۔امریکہ اب اس شعبے میں روس کی جگہ لینا چاہتا ہے۔کیونکہ ہتھیاروں کی فروخت ایک بہت نفع بخش کاروبار ہے ۔امریکہ نے بھارت کو جدید ترین ہتھیار نہ صرف بیچنے کی پیش کش کی ہے بلکہ مشترکہ بیان کے مطابق کئی ہتھیاروں‘ جن میں طیارہ بردار جہاز کی تعمیر بھی شامل ہے‘کی پیداوار کے لئے امریکہ بھارت مشترکہ منصوبوں پر بھی کام کریں گے۔اسی طرح امریکہ نے خلائی تحقیق میں بھی بھارت کو ضروری امداد اور سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

امریکہ اور بھارت کے باہمی تعلقات اور تعاون میں فروغ کا آغاز تو سرد جنگ کے اختتام کے وقت سے ہی شروع ہوگیا تھا،لیکن صدر بارک اوبامہ کے حالیہ دورہ(25سے 27 جنوری 2015) سے دونوں ملکوں کے تعلقات بلندیوں کی ایک ایسی سطح پر جاپہنچے ہیں جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی ۔اگرچہ صدر بل کلنٹن کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران میں بھارت کو ایٹمی دھماکے کرنے کے پاداش میں امریکہ کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا،تاہم کلنٹن کے جانشین جارج ڈبلیو بُش کے دورمیں امریکہ ۔بھارت تعلقات میں بہت اہم پیش رفت ہوئی تھی۔اس کی واضح مثال 2005میں سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دورۂ امریکہ کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک پارٹنرشپ کے قیام کا اعلان اور سول نیوکلےئر تعاون کے معاہدے پر اتفاق کی صورت میں پیش کی جاسکتی ہے۔2006میں جب صدر بُش نے بھارت کا دورہ کیا تو اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دئیے گئے تھے۔لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اُس رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہا تھاجس کی فریقین توقع کررہے تھے۔اس کی وجہ سول نیوکلئیر معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے راستے میں حائل دو بڑی رکاوٹیں تھیں۔ایک کا تعلق دورانِ ترسیل ایٹمی مواد کے نقصان کی ذمہ داری کے تعین سے تھا اور دوسرے کا واسطہ بھارت میں باہر سے آنے والے ایٹمی ایندھن کے استعمال پر نظر رکھنے سے تھا۔صدر اوبامہ کے دورۂ بھارت کے نتیجے میں یہ دونوں مسائل حل کر لئے گئے ہیں۔اب امریکہ اور بھارت کے درمیان سول نیوکلےئر معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان سٹرٹیجک تعلقات میں یہ ایک بہت اہم پیش رفت ہے۔

2014سے قبل امریکہ اور بھارت کے درمیان جتنے بھی معاہدات ہوئے اُن کا بڑا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط اور گہرا کرنا تھا لیکن ستمبر2014میں بھارتی وزیراعظم مودی کے دورۂ امریکہ کے بعد سے اب تک امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں جو ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے اُس نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔پہلے باہمی تعلقات صرف سٹریٹجک ڈائیلاگ پر مبنی تھے‘ اب ان کی بنیاد سٹریٹجک اور اکنامک ڈائیلاگ ہے۔اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان ملٹری‘پولیٹکل ڈائیلاگ بھی قائم کردیا گیا ہے۔اس سے پہلے امریکہ اور بھارت کے درمیان جن امور پر مکمل مفاہمت، اتفاق یا سمجھوتوں کا اعلان کیا جاتا تھا،اُن کا دائرہ صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود تھا۔اب اس دائرے کو وسیع کردیا گیا ہے اور اس میں دیگر ملکوں مثلاََ افغانستان اور جنوبی ایشیا کے علاوہ ایشیا‘بحرالکاہل اور وسطی ایشیا کے دیگر ملکوں کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اوبامہ کے دورۂ بھارت کے بعد امریکہ اور بھارت کی اس سانجھ کو سٹریٹجک اور گلوبل پارٹنر شپ کا نام دیا جارہا ہے۔

صدر اوبامہ کے دورۂ بھارت کے موقع پر 59نکات پر مشتمل جو ایک طویل مشترکہ اعلانیہ جاری کیا گیا ہے،اُس کے مطابق بھارت اب یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اُس کی خارجہ پالیسی غیر جانبدارنہ اصولوں پر مبنی ہے۔بلکہ بھارت کے ایک مشہور سٹریٹجک تھنکر اور نئی دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر مٹو کے مطابق 1971میں بھارت نے روس کے ساتھ دوستی اور تعاون کا جو سمجھوتہ کیا تھا،اُس کے بعد اب بی جے پی کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کے لئے سمجھوتوں پر دستخط کر کے عملاً بھارت کو امریکہ کا ایک اتحادی ملک بنا دیا ہے۔

پروفیسر مٹو کے مطابق 1971میں بھارت اور سوویت یونین کے درمیان الحاق کے دومحرکات تھے۔ ایک یہ کہ صدر نکسن کی حکومت کا پاکستان کی طرف واضح جھکاؤ تھا اور دوسرے یہ کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوگئی تھی۔یاد رہے کہ اُس برس صدر نکسن کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہنری کسنجر نے پاکستان سے اُڑ کر امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کے قیام کی راہ ہموار کی تھی۔ان دوعوامل کی وجہ سے بھارت کو یہ فکر لاحق ہوگئی تھی کہ اُس کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور اسی کے خلاف ردِعمل کے طور پر اندراگاندھی نے سوویت یونین کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے جس کی آڑ میں بھارت نے1971میں مشرقی پاکستان کے بحران میں براہ راست مداخلت کر کے پاکستان کو دولخت کر دیا۔لیکن 2014کے حالات یکسر مختلف ہیں۔ان میں چین کی اُبھرتی ہوئی معاشی اور فوجی طاقت اور اس کے نتیجے میں اُس کے اِردگرد علاقوں مثلاً مشرق بعید جنوب مشرقی ایشیا، بحرہند کا خطہ اور وسطی ایشیا میں اُس کا بڑھتا ہوا سیاسی اثرورسوخ ہے۔امریکہ اور بھارت دونوں اسے اپنے مفادات کے لئے خطرہ تصور کرتے ہیں کیونکہ گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے

ایشیا‘بحرالکاہل کا خطہ امریکہ کا حلقہ اثررہا ہے اور یہاں امریکہ کے بڑے اہم معاشی،سیاسی اور فوجی مفادات موجود ہیں۔مغرب میں نہرسوئیز سے مشرق میں آبنائے ملا کا‘ اور شمال میں بھارت سے لے کر جنوب میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا تک‘ بحر ہند کے خطے پر کبھی برطانیہ کی مکمل عملداری تھی۔ برطانیہ کے چلے جانے کے بعد بھارت اپنے آپ کو اس پورے خطے یعنی مشرق وسطیٰ‘ خلیج فارس،مشرقی افریقہ سے ہند چینی تک برطانیہ کا جانشین سمجھتا ہے اور صرف جنوبی ایشیا نہیں بلکہ اس پورے خطے کو اپنے حلقۂ اثر میں شمار کرتا ہے۔

امریکہ کو علم ہے کہ وہ ایشیا،بحرالکاہل،جنوب مشرقی ایشیا بحرہند اور مغربی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کے آگے بند نہیں باندھ سکتا۔اس لئے کہ اُس نے سردجنگ کے زمانے کے اپنے دو اتحادی ممالک یعنی آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کر کے بھارت کو بھی اس سہ فریقی اتحادی شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔وزیراعظم مودی کی حکومت نے امریکہ کی اس کوشش کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزارتِ عظمی کا حلف اُٹھانے کے فوراََ بعد بھارتی وزیراعظم کا جاپان اور آسٹریلیا کا دورہ،بھارت کی اس سوچ کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

مشترکہ بیان کے بنظر غور مطالعہ سے اب یہ بات بالکل واضح معلوم ہوتی ہے کہ امریکہ بھارت کو ایک بڑی طاقت کی صورت میں دیکھناچاہتا ہے۔اس لئے اُس نے بھارت کو پانچ بڑی طاقتوں یعنی روس، امریکہ، چین، برطانیہ اور فرانس کے ہم پلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رُکن بنانے کی حمایت کی ہے۔ لیکن کیا امریکہ کے سہارے بھارت ایک بڑی خصوصاََ چین کے ہم پلہ طاقت بن کر اُبھر سکے گا؟ اس کے بارے میں اگرچہ بھارتی حلقے بڑے پُر امید ہیں لیکن بھارت سے باہر اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت بے شمار تضادات کا شکار ہے۔

مشترکہ بیان کے پیرا۔4میں اس منصوبے کو بیان کرتے ہوئے امریکہ اور بھارت نے ایک مشترکہ لائحہ عمل کا تصور پیش کیا ہے جس کے تحت دونوں ملک نہ صرف معاشی،کاروباری،دفاعی اور سیاسی شعبوں میں اپنے دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو وسیع کریں گے،بلکہ دونوں نے ایشیا‘بحرالکاہل او ر بحر ہند کے خطوں میں ایک دوسرے کی حمایت میں پالیسیاں اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں بھارت نے بحر جنوبی ایشیا (South China Sea)کے مسئلے پر اپنا سارا وزن امریکی پلڑے میں ڈالنے کا علان کر دیا ہے۔ہندچینی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی علاقائی تنظیم’’آسیان‘‘کے دیگر رُکن ممالک کے ساتھ چین کے دوطرفہ تجارتی اور معاشی تعلقات میں گزشتہ ایک دہائی سے زبردست اضافہ ہوا ہے۔امریکہ اور بھارت دونوں اسے اپنے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھتے ہیں اس لئے مشترکہ بیان میں امریکہ کی مشرق کی طرف رجوع (Look East)پالیسی اور بھارت نے امریکہ کی Pivot Asiaپالیسی کی حمایت کی ہے۔دونوں نے مشترکہ ہدف حاصل کرنے کے لئے اپنی پالیسیوں کو مربوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مشترکہ ہدف کیا ہے؟ان علاقوں میں اپنے مفادات کا تحفظ اور چینی چیلنج کا مقابلہ کرنا اور اس کے حصول کے لئے امریکہ اور بھارت نے جن عملی اقدامات پر اتفاق کیاہے،اُن کا مشترکہ بیان میں اعلان کیا گیا ہے ان کے تحت امریکہ کی طرف سے بھارت کو ہر شعبے میں مدد فراہم کرکے اسے ایک بڑی طاقت بنایا جائے گا۔

مثلاً امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔اس کے لئے دونوں ملکوں نے ڈیفنس پالیسی گروپ اور سب گروپس قائم کر رکھے ہیں۔ان کے ذریعے دوطرفہ بنیادوں پر دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے گا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے ایک امریکہ ‘ بھارت مشترکہ کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ امریکہ اور بھارت قومی ترقی کے لئے تعلیم کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔اس کے لئے ایک ہائر ایجوکیشن ڈائیلاگ کے نام سے فورم قائم کیا گیا ہے جس کا پہلا اجلاس 17نومبر 2014کو نئی دہلی میں ہوا تھا۔اس ڈائیلاگ کے ذریعے امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلیم کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔امریکی اور بھارتی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے درمیان رابطے قائم کئے جائیں گے،دونوں ملکوں کے طلباء اور ماہرین کے وفود کا تبادلہ کیا جائے گا اور اساتذہ کو مل کر ریسرچ کرنے میں مدد دی جائے گی۔ امریکہ بھارت کو ایک بڑی معاشی قوت بنانا چاہتا ہے اس کے لئے توانائی کے شعبے میں امریکہ کی طرف سے فراخ دلانہ پیش کش کی گئی ہے۔مشترکہ بیان کے مطابق بھارت اور امریکہ کے درمیان سول نیوکلےئرتعاون میں حائل رکاوٹوں کو دور کر دیا گیا ہے۔ اس طرح بھارت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ امریکہ اور بھارت باہمی تعاون یا پالیسیوں کے اشتراک کو محض دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ ان کے دائرے کو جنوبی ایشیا اور اس سے باہر دیگر ملکوں تک پھیلانا چاہتے ہیں۔مشترکہ بیان کے پیرا۔46کے مطابق صدر اوبامہ اور وزیراعظم مودی کی بات چیت میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ امریکہ اور بھارت جس طرح مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے دوطرفہ بنیادوں پر تعاون اور مدد کررہے ہیں اسی طرح دیگر ملکوں کو بھی مختلف شعبوں میں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لئے مدد فراہم کریں گے۔ان شعبوں میں صحت،توانائی،خوراک، سکیورٹی،قدرتی آفات اور ویمن ایمپاورمنٹ شامل ہیں۔

افغانستان ،مشرقی اور جنوبی افریقہ کے بعض ممالک میں امریکہ اور بھارت پہلے ہی اس قسم کی سرگرمیوں میں مل جل کر حصہ لے رہے ہیں۔ مشترکہ بیان میں اس ارادے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایشیا اور افریقہ کے دیگر ملکوں کو بھی اس کییٹگری میں شامل کر لیا جائے گا۔اس عمل کو تیز کرنے کے لئے امریکہ نے نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ بھارت سے باہر جنوبی ایشیا،مغربی ایشیا،وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ بھارت کے مواصلاتی رابطوں کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔پاکستان کے راستے افغانستان،ایران اور اس سے آگے وسطی ایشیائی ممالک کے تجارتی اور معاشی تعلقات کا قیام بھارت کا ایک دیرینہ خواب ہے۔اب تک اس خواب کو پورا کرنے کی تمام بھارتی کوششیں ناکام رہی ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ کشمیر کا حل طلب تنازعہ ہے لیکن اب امریکہ کی صورت میں بھارت کو ایک بہت بڑا حمایتی مل گیا ہے۔امریکہ اور بھارت کی جانب سے جنوبی ایشیاء اور وسطی ایشیاء کے درمیان ٹرانسپورٹ اور معاشی رابطوں پر بہت زور دیا جارہا ہے۔نئی دہلی میں صدر اوبامہ اور وزیراعظم مودی کی بات چیت کے بعد جو مشترکہ اعلان جاری کیا گیا ہے،اُس میں ان رابطوں کو فروغ دینے کے ارادے کا ایک دفعہ پھر اعادہ کیا گیا ہے۔

مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ان رابطوں کے قیام سے افغانستان میں امن اور استحکام پیدا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ اور بھارت کے درمیان افغانستان میں جو سٹریٹجک پارٹنرشپ قائم ہے اُسے مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان متواتر صلاح مشوروں کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ماضی میں بھارت کی بری،ہوائی اور بحر ی افواج کے لئے ہتھیاروں کا روس سب سے بڑا ذریعہ تھا۔اب بھی بھارتی مسلح افواج جن ہتھیاروں سے لیس ہیں اُن کا70%حصہ روسی ساخت کے ہتھیاروں پر مشتمل ہے۔لیکن ہتھیاروں کے سلسلے میں بھارت روس پر اپنے انحصار کو بتدریج کم کر رہا ہے۔امریکہ اب اس شعبے میں روس کی جگہ لینا چاہتا ہے۔کیونکہ ہتھیاروں کی فروخت ایک بہت نفع بخش کاروبار ہے ۔امریکہ نے بھارت کو جدید ترین ہتھیار نہ صرف بیچنے کی پیش کش کی ہے بلکہ مشترکہ بیان کے مطابق کئی ہتھیاروں‘ جن میں طیارہ بردار جہاز کی تعمیر بھی شامل ہے‘کی پیداوار کے لئے امریکہ بھارت مشترکہ منصوبوں پر بھی کام کریں گے۔اسی طرح امریکہ نے خلائی تحقیق میں بھی بھارت کو ضروری امداد اور سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس میں مریخ پر تحقیق کرنے کے لئے امریکہ اور بھارت کی مشترکہ کوششیں بھی شامل ہوں گی۔مشترکہ بیان کے بنظر غور مطالعہ سے اب یہ بات بالکل واضح معلوم ہوتی ہے کہ امریکہ بھارت کو ایک بڑی طاقت کی صورت میں دیکھناچاہتا ہے۔اس لئے اُس نے بھارت کو پانچ بڑی طاقتوں یعنی روس، امریکہ، چین، برطانیہ اور فرانس کے ہم پلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رُکن بنانے کی حمایت کی ہے۔ لیکن کیا امریکہ کے سہارے بھارت ایک بڑی خصوصاََ چین کے ہم پلہ طاقت بن کر اُبھر سکے گا؟ اس کے بارے میں اگرچہ بھارتی حلقے بڑے پُر امید ہیں لیکن بھارت سے باہر اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت بے شمار تضادات کا شکار ہے۔یہ تضادات سماجی بھی ہیں اور سیاسی بھی۔ذات پات کی بناء پر معاشرتی تقسیم نے بھارت کو اندر سے کھوکھلا کر رکھا ہے۔پچھلی دو دہائیوں میں بھارت نے معاشی میدان میں بلا شُبہ اہم ترقی کی ہے لیکن اب بھی یہ وسیع و عریض ملک علاقائی معاشی ناہمواریوں کا شکار ہے۔بھارت اپنے آپ کو جنوبی ایشیا کا حصہ سمجھتا ہے لیکن اس کے تجارتی،معاشی اور ثقافتی رابطے ہمسایہ ملکوں کے مقابلے میں مشرق اور مغرب کے دور دراز ممالک سے زیاد ہ ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے تقریباََ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ حل طلب تنازعات ہیں جن کی وجہ سے دونوں جانب عدم اعتماد کی فضاء پائی جاتی ہے۔ مگر اس کے باوجود بھارت اور امریکہ دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر ایک دوسرے کے ساتھ جس تعاون کی بنیاد رکھ رہے ہیں،وہ اس پورے خطے کے لئے ایک انتہائی اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔صدر اوبامہ کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان جن معاہدات پر دستخط ہوئے ہیں اور آئندہ کے لئے جس لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے،اُس کی روشنی میں بھارت صرف جنوبی ایشیاء میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک اہم کردار ادا کرتا نظر آرہا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔ آپ ان دنوں یونیورسٹی آف سرگودھا سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
22
April

دہشت گردی کو ختم کرنے میں فوج کا کردار بہت اہم ہے اور فوج کی قربانیاں بھی بے شمار ہیں مگر فوج اکیلے یہ کام نہیں کرسکتی، نہ ہی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ فوج کے کندھوں پر ڈالنا چاہئے، اس سے فوج کی دفاعی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ مسئلہ کے حل میں اگر 20 فیصد کردار فوج کا ہے تو 80 فیصد ذمہ داری سویلین انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ جب تک ملک میں مؤثر نظام حکومت نہیں ہوگا، جس میں ہر شعبہ اپنا فعال کردار ادا کرے اس وقت تک دہشت گردی سے چھٹکارا ممکن نہیں۔

پاکستان تین دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے، اور یہ ناسور آہستہ آہستہ نہایت مہلک صورت اختیار کرگیا ہے۔ عرصہ دراز تک ہماری قوم بے حسی کا ثبوت دے کر خواب غفلت میں مبتلا رہی ۔ جی ایچ کیو سے لے کر فروٹ منڈیوں تک ، اور صدر وزیراعظم سے لے کر عام شہریوں تک دہشت گردی کا شکار بنے۔ یہاں تک کہ ساٹھ ہزار افراد اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے، مگر اس لعنت سے چھٹکار ا پانے کے لئے کوئی سنجیدہ حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔ 16 دسمبر پہلے بھی ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا،کیونکہ بھارت کی جارحیت سے اسی دن وطن عزیز پاکستان دولخت ہوا تھا۔ پھر اسی 16 دسمبر 2014 ء کو ہماری قوم کے لخت جگر، نونہال خون میں نہلا دیئے گئے۔اس بہیمانہ کارروائی کے خلاف ہونے والی تحقیقات میں جو شواہد ملے ہیں ، ان میں پڑوسی ملک بھارت کے خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے اشارے بھی ملتے ہیں۔ اس سانحہ نے پوری قوم کو بظاہر متحد کرکے نئے عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جانب پیش رفت پر آمادہ کیا۔ ضرب عضب جو جون 2014 ء سے دہشت گردوں کے خلاف منظم انداز میں جاری ہے ، اس کو بھی زیادہ مؤثر کیا گیا اور دہشت گردوں کی کمیں گاہوں کو تباہ کرکے ان کی کمر توڑ دی گئی۔ اسی دوران یکے بعد دیگرے راولپنڈی کی مسجد میں جاری محفل میلاد پر، شکار پور میں نماز جمعہ پر، لاہور میں پولیس لائنز کے باہر اور اسلام آباد کی مسجد میں نمازیوں کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گردی کو ختم کرنے میں فوج کا کردار بہت اہم ہے اور فوج کی قربانیاں بھی بے شمار ہیں مگر فوج اکیلے یہ کام نہیں کرسکتی، نہ ہی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ فوج کے کندھوں پر ڈالنا چاہئے، اس سے فوج کی دفاعی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ مسئلہ کے حل میں اگر 20 فیصد کردار فوج کا ہے تو 80 فیصد ذمہ داری سویلین انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ جب تک ملک میں مؤثر نظام حکومت نہیں ہوگا، جس میں ہر شعبہ اپنا فعال کردار ادا کرے اس وقت تک دہشت گردی سے چھٹکارا ممکن نہیں۔

دہشت گردی اور دہشت گردوں کے کئی رنگ و روپ ہیں۔ سب سے پہلے ان تمام کو سمجھنے ،ان کی درست تشخیص کرنے کی ضرورت ہے اور پھر ایک جامع ، ہمہ جہت اور دیرپا پالیسی کے ذریعے بتدریج اس عفریت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ آج کل جس دہشت گردی کا ذکر زیادہ ہوتا ہے اور جو مغربی ممالک میں زیادہ بدنام یا مشہور ہوچکی ہے‘ وہ انتہاپسندانہ مذہبی نقطہ نظر سے منسلک ہے‘ جس میں اسلام کے نام کو استعمال کرکے اسلام کے تصور کو مسخ کیا جارہاہے ۔ اس میں طاقت، بندوق کے زور پر اپنے نظریات کو دوسروں پر ٹھونسا جارہا ہے۔ اس دہشت گردی سے منسلک طالبان، القاعدہ، داعش، جنداللہ، لشکر جھنگوی کی شکل میں موجود ہیں۔صدر اوبامہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جنگ اسلام سے نہیں ، انتہاپسندی اور دہشت گردی سے ہے ۔پھر کیا وجہ ہے کہ صہیونیت، یا یہودی انتہاپسندی اور دہشت گردی، نیوکان یا عیسائی انتہاپسندی اور دہشت گردی، اور بھارت کی آر ایس ایس کی ہندو مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مغرب میں ذکر نہیں کیا جاتا؟ اس کے علاوہ سیکولر اور آزاد خیال انتہاپسندی، جس میں آزادی اظہار کے نام پر دوسرے مذاہب کی جلیل القدر ہستیوں کی شان میں گستاخی کرکے انتشار پھیلایا جاتا ہے‘ اس کا شمار بھی سیکولر دہشت گردی میں کرنا چاہئے۔ دوسری بین الاقوامی دہشت گردی وہ ہے جو چند بڑی طاقتیں دوسرے ملکوں کو غیر مستحکم کرنے، وسائل پر قبضے اور مرضی و منشاء کے مطابق حکومتیں ترتیب دینے کے لئے کر رہی ہیں، یہی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لئے پہلے سے موجود دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور انہیں مالی امداد بھی فراہم کرتی ہیں۔ دہشت گردی کی یہ صورت شام میں جاری بیرونی مداخلت پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور فاٹا میں ہونے والی بیرونی مداخلت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ دہشت گردی کی تیسری قسم فرقہ وارانہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہمارے برادر ملک جن کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں ، افسوس یہ ہے کہ محض فرقہ کی بنیاد پر ان کے آپس میں تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ ہمارے عوام کے ان ملکوں سے بہت قریبی تعلقات ہیں ۔چنانچہ ان کی آپس کی چپقلش، کدورت کے اثرات پاکستان کے اندرونی حالات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ملک میں جاری سیاسی دہشت گردی ہے ۔ مختلف سیاسی پارٹیوں نے اپنے عسکری ونگ بنائے ہوئے ہیں ، اس حقیقت کو ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ سیاسی دہشت گردی بھی ملک میں عدم استحکام کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں میں جرائم پیشہ منظم گروہ برسر پیکار ہیں۔ بینکوں، شہری آبادیوں میں ڈاکے، اغواء برائے تاوان اور دوسرے جرائم انہی پیشہ ور گروہوں کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ ان جرائم پیشہ گروہوں اور گلی ، محلوں و شاہراؤں پر ہونے والی وارداتوں سے بھی عوام میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو بیک وقت دہشت گردی کی ان تمام اقسام کا سامنا ہے۔ کہیں فرقے کی بنیاد پر ان کا خون بہایا جارہا ہے ، تو کہیں روپے پیسے کے لالچ میں ان کے جسموں میں گولیاں اتاری جاتیں ہیں۔ کہیں بڑی طاقتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو کہیں سیاسی مفادات ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور اس کے عوام کو جن مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے‘ وہ پیدا ہی اسی لئے ہوئے ہیں کہ ہمارا نظام حکومت بہت کمزور رہا ہے ۔ ہم ایک کمزور یا سافٹ ریاست ہیں۔ ہمارانتظامیہ و پولیس کا نظام بھی اتنا کمزور ہے کہ جرائم کو روکنا یا ان کا پتہ لگانا تو درکنار بعض اوقات جرائم کی پشت پناہی اور سرپرستی میں بھی یہ خود ملوث پائے جاتے ہیں۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں امن و امان کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے ، جس میں ناکامی کا سامنا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ اول تو آبادی کے تناسب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری پہلے سے ہی بہت کم ہے ۔ اس پر طرہ یہ کہ ان کو بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹا کر صرف اہم شخصیات کے ذاتی تحفظ اور پروٹوکول پر مامور کردیا جاتا ہے اور عوام کو دہشت گردوں کے لئے نرم شکار کے طور پر بے آسرا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہم آزاد عدلیہ کی بات کرتے ہیں ، آزادی صحافت کا مطالبہ کرتے ہیں مگر آزاد پولیس کی بات نہیں کرتے ۔ سیاسی بنیادوں پر انتظامی اداروں و پولیس میں ہونے والی بھرتیاں قیام امن میں رکاوٹ ہیں۔ پولیس کو سیاسی اثرورسوخ سے آزاد کرکے ایک پیشہ ورانہ تنظیم بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح انتظامیہ اور بیوروکریسی کے افسران کو آئینی تحفظ فراہم کیا جانا بھی ضروری ہے، کیونکہ وہ ریاست پاکستان کے ملازم ہیں، حکومت وقت کے غلام نہیں ۔ البتہ حکومت کے جائز احکامات پر عملدرآمد ان کی ذمہ داری ہے۔

بیروزگار ، تعلیم یافتہ افرادی قوت میں سے کئی جرائم کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور کہیں نہ کہیں جاکر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا حصہ بن رہے ہیں ۔ اس لئے حکومت کو تعلیم کے نظام کو مو¿ثر بنانے کے لئے منصوبہ بندی کرنا پڑے گی ، ورنہ دہشت گردوں کو افرادی کمک معاشرے سے ہی میسر آتی رہے گی اور یہ ناسور کبھی ختم نہیں ہو پائے گا۔ تعلیم کے ساتھ صحت عامہ کے نظام کو عوام تک پہنچانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر ہر علاقے میں ہسپتال ، ڈسپنسریاں قائم کرنا ہوں گی۔ ہماری بڑھتی ہوئی آباد ی کے لئے اگر مستقبل میں امن و امان کو قائم رکھنا ہے تو اقتصادی ترقی کے لئے جامع منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔

ہماری فوج اور فوج کے ذیلی ادارے جیسے ایف سی، رینجرز، لیویز پاک سرحدوں کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں اور مجرموں کا داخلہ بھی بند کرسکتے ہیں، اسی طرح منظم دستے ریاست کے خلاف سرکشی، بغاوت کرنے والے عناصر کی سرکوبی بھی کرسکتے ہیں، مگر سیاسی ، فرقہ وارانہ منظم اور غیر منظم جرائم پیشہ افراد کا محاسبہ کرنے کے لئے انتظامیہ اور پولیس کو ہی کام کرنا پڑے گا۔ المیہ یہ بھی ہے کہ ہمیں اتنی خبر بھی نہیں کہ ہمارے ملک کی آبادی کتنی ہے۔ کتنے غیرملکی باشندے آباد ہیں، کیونکہ ہمارے ملک میں مردم شماری کرانے کی آئینی ذمہ داری کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔ جب تک یہ حقائق اور اعداد اداروں کے علم میں ہی نہیں ہوں گے تو اس سے متعلق منصوبہ بندی کیسے کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں فوراً مردم شماری کراکے مکمل اعداد و شمار یکجا کئے جائیں۔ کمپوٹرائزڈ نظام کے ذریعے انہی اعداد کی روشنی میں ریکارڈ تیار کیا جائے۔ ہر تھانے کی حدود میں موجود افراد کا شعبہ جاتی تقسیم کے مطابق ریکارڈ تھانے میں موجود ہونا چاہئے۔ مشکوک اور چھوٹے بڑے جرائم میں ملوث افراد ایک مخصوص کیٹگری میں ہونے چاہئے۔ اس کے علاوہ خفیہ پولیس اور سراغ رسانی کے نظام کو فعال اور ہمہ گیر بنانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح نادرا کی مدد سے موبائل سمز کی تصدیق کا عمل جاری ہے ، اسی طرز پر انتظامی اداروں کو تصدیقی ڈیوائس فراہم کرکے افراد کی نقل و حرکت کو باآسانی مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔ مختلف شہروں میں داخلے کے وقت مسافروں کی ویڈیو بنانے کے بجائے شناختی آلات کی مدد سے کمپوٹرائزڈ تصدیق کرنے سے انتظامی اداروں ، پولیس کو فوراً یہ خبر ہوسکتی ہے کہ کس کیٹگری سے منسلک کون سا شخص اس وقت شہری حدود میں داخل ہوچکا ہے اور اس کو کیسے مانیٹر کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہی نظام میں موجود اگر کچھ کالی بھیڑیں دہشت گردوں کی مدد اور ان کی مجرمانہ کارروائیوں میں شریک ہیں تو ان کو بھی منظرعام پر لاکر نشان عبرت بنانا چاہئے۔انتظامیہ، پولیس کو مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے نظام کو بھی وقت کی ضرورت سے ہم آہنگ کرنا پڑے گا۔ مجرموں کے مقدمات کی پیروی میں تاخیر نظام کو غیرموثر بنادیتی ہے ۔ یہ فوری نوعیت کے اقدامات آج سے بہت پہلے ہونے چاہئے تھے، ان میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ہے ۔

ساٹھ ہزار جانیں قربان کرنے کے بعد ہم نے دہشت گردی کو مل کر ختم کرنے کا عزم کیا ہے، مگر یہ فوری حل ہونے والا مسئلہ نہیں ہے ۔ اس کے لئے ہمیں فوری، میانہ مدتی اور طویل المدتی انتظامات یکسوئی سے کرنا ہوں گے۔ فوری طور پر ضرب عضب مو¿ثر اقدام ہے، فوج اور فوج کے ذیلی اداروں کو جہاں جہاں دہشت گرد موجود ہیں، ضرب عضب کو وہاں تک لے کے جانا ہوگا، اس سے دہشت گردوں کے بڑھتے قدم رکیں گے، منتشر ہونے کی وجہ سے ان کے آئندہ منصوبے ، عزائم کامیاب نہیں ہوں گے اور ان کا قلع قمع ہوگا۔ میانہ مدتی انتظام میں انتظامیہ ، پولیس، انٹیلی جنس اور عدالتی نظام کو اصلاحات کے ذریعے جدید اور مو¿ثر بنانا ہوگا،

یہاں دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا نظام حکومت اتنا غیر مؤثر ہوچکا ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی تو درکنار ان کی بنیادی ضروریات کو سمجھنے کی بھی تکلیف گوارا نہیں کی گئی اور نہ اس سے متعلق کوئی منصوبہ بندی انجام پائی۔ عوام کو قدم، قدم پر ناکامیوں اور مایوسیوں کا سامنا ہے۔ مایوسی‘ نفرت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کو جنم دینے کا باعث بن رہی ہے۔ حالانکہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا اثاثہ جوان افرادی قوت ہے۔ ہماری 65 فیصد آبادی کی عمر تیس سال سے کم ہے۔ یہ جوان افرادی قوت تعمیر ی بھی ہوسکتی ہے اور تخریبی قوت بھی بن سکتی ہے۔ جس کے متعلق طویل المدت پلان پر یکسوئی سے عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام نامکمل ہونے کے ساتھ ساتھ اکثریت کے لئے سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ سات ملین کے قریب بچے جن کو پرائمری سکول میں ہونا چاہئے تھا، وہ گلیوں اور سڑکوں پر موجود ہیں۔تین کروڑ سے زائد سکول اور کالجز نہ ہونے کے باعث جہالت کے اندھیروں میں گم ہیں اور دہشت گردوں کے لئے خام مال بن چکے ہیں ۔ جو خوش نصیب یونیورسٹی ڈگری لینے میں کامیاب ہو بھی جائیں، ان کی اکثریت روزگار کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتی ہے۔ ان میں سے بعض خوش نصیب دیار غیر جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور کئی نوکریاں ، روزگار دستیاب نہ ہونے کے باعث نشہ کی لعنت اپناتے ہیں۔جس کے باعث ملک ان کی تعلیمی قابلیت سے استفادہ کرنے سے محروم رہتا ہے۔ بیروزگار ، تعلیم یافتہ افرادی قوت میں سے کئی جرائم کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور کہیں نہ کہیں جاکر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا حصہ بن رہے ہیں ۔ اس لئے حکومت کو تعلیم کے نظام کو مؤثر بنانے کے لئے منصوبہ بندی کرنا پڑے گی ، ورنہ دہشت گردوں کو افرادی کمک معاشرے سے ہی میسر آتی رہے گی اور یہ ناسور کبھی ختم نہیں ہو پائے گا۔ تعلیم کے ساتھ صحت عامہ کے نظام کو عوام تک پہنچانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر ہر علاقے میں ہسپتال ، ڈسپنسریاں قائم کرنا ہوں گی۔ ہماری بڑھتی ہوئی آباد ی کے لئے اگر مستقبل میں امن و امان کو قائم رکھنا ہے تو اقتصادی ترقی کے لئے جامع منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔ بجلی ، گیس ، کے بحران نظر آتے ہیں، ان کو حل کرنے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں۔ دعوے ہم سرمایہ داروں کے لئے خوشگوار ماحول پیدا کرنے کی کرتے ہیں ، مگر حقیقت یہ کہ ہمارے سرمایہ دار اپنی صنعتیں یہاں سے دوسرے ممالک میں منتقل کررہے ہیں۔ اگر آبادی کو روزگار فراہم کرنا ہے تو صنعت کی جانب تیزی سے بڑھنا ہوگا۔ کہنے کو ہم زرعی ملک ہیں ، ہماری 60 فیصد آباد کسی نہ کسی حوالے سے زراعت سے جڑی ہے ، مگر آنے والے وقت میں زراعت کو پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ملک میں آبی ذخائر محفوظ کرنے کے لئے ہم نے ڈیم نہیں بنائے، اور اسی چیز کو بہانہ بناکر کہ پاکستان پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کر رہا ہے ، بھارت نے ہمارے دریاؤں پر ڈیم بنالئے ہیں۔

آزادی صحافت بہت بڑی نعمت ہے ۔ حکومت کو اس پر قدغن نہیں لگانا چاہئے، لیکن صحافت کو خود ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہئے۔

ساٹھ ہزار جانیں قربان کرنے کے بعد ہم نے دہشت گردی کو مل کر ختم کرنے کا عزم کیا ہے، مگر یہ فوری حل ہونے والا مسئلہ نہیں ہے ۔ اس کے لئے ہمیں فوری، میانہ مدتی اور طویل المدتی انتظامات یکسوئی سے کرنا ہوں گے۔ فوری طور پر ضرب عضب مؤثر اقدام ہے، فوج اور فوج کے ذیلی اداروں کو جہاں جہاں دہشت گرد موجود ہیں، ضرب عضب کو وہاں تک لے کے جانا ہوگا، اس سے دہشت گردوں کے بڑھتے قدم رکیں گے، منتشر ہونے کی وجہ سے ان کے آئندہ منصوبے ، عزائم کامیاب نہیں ہوں گے اور ان کا قلع قمع ہوگا۔ میانہ مدتی انتظام میں انتظامیہ ، پولیس، انٹیلی جنس اور عدالتی نظام کو اصلاحات کے ذریعے جدید اور مؤثر بنانا ہوگا، اس سے دہشت گردی سے منسلک ہر شخص کے گرد گھیرا تنگ ہوگا، عوام کا اداروں پر اعتماد بحال ہوگا اور امن کی فضا قائم ہوگی۔ہمارے ملک میں ذرائع ابلاغ کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے۔ آزادی صحافت بہت بڑی نعمت ہے ۔ حکومت کو اس پر قدغن نہیں لگانا چاہئے، لیکن صحافت کو خود ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہئے۔ اگر وہ جذبہ قومیت سے سرشار ہیں تو انہیں دہشت گردوں کی تشہیر سے خود اجتناب کرنا چاہئے۔ طویل المدتی انتظامات میں تعلیم ، صحت، روزگارکی فراہمی، زراعت، صنعت کی ترقی سے ملک میں خوشحالی آئے گی۔ انتہاپسندانہ سوچ کا خاتمہ ہوگا، دہشت گردوں کو معاشرے میں دہشت گردی کے لئے خام مال میسر نہیں آئے گا۔ جو لازماً دہشت گردی کی لعنت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھٹکارے کا باعث بنے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی سے پاک ہوکر ہی پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کیا جاسکتا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
24
March
بریگیڈیر( ریٹایرڈ) نصرت جہاں سلیم ‘تمغہ امتیاز ‘کی زبانی
مجھے یاد ہے یہ جنگ کا دوسرا روز تھا۔ ایک انتہائی لمباترنگا فوجی جوان اسٹریچر پر لایا گیا۔ وہ بار بار کچھ بڑبڑا رہا تھا اور افسوس کر رہا تھا کہ ماں سے کیا ہوا وعدہ نہیں پورا کر سکا۔ ماں سے وعدہ کیا تھا کہ ماں گولی سینے پر کھا کر آؤں گا۔ ۔۔ اس کی حالت غیر ہو رہی تھی بلڈپریشر نیچے جا رہا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل محمود الحسن نے اس کی ٹانگ کے اندر والی جگہ سے زخم کھولا تو کوئی گولی نظر نہ آئی بلکہ گولی کا سوراخ پیٹ کی طرف جاتاہوا نظر آیا اور گولی سینے کی طرف جاتی ہوئی زخم سے پتہ چلی اور جب پیٹ بند کر کے سینہ کھولا گیا تو وہ گولی اس شہید کے عین خواہش کے مطابق اپنی ماں سے کئے ہوئے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے سینے میں اسے شہادت کا مرتبہ عطا کر کے بیٹھی تھی۔۔۔ اس دوران میری کیا حالت ہوئی‘ آج جب میں یہ داستان پھر سے لکھ رہی ہوں تو آج بھی میں خون کے آنسو رو رہی ہوں۔ ان آنسوؤں پر میرا کوئی زور نہیں یہ بہتے رہتے ہیں اور جب تک زندہ رہوں گی ان شہیدوں کی داستانیں لکھتے لکھتے سوچتے سوچتے ان پلکوں کو بھگوتی رہوں گی۔
ستمبر کا مہینہ جوں جوں نزدیک آتا ہے میری آنکھیں نم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ میرے دل و دماغ میں چھپے ہوئے وہ جذبات بار بار میری آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ میں کیسے بھول جاؤں اُن سچے جذبوں‘ اپنے وطن پر قربان ہونے والے ان شہیدوں کی بے مثال داستانوں کو جنہوں نے اپنی جان کے نذرانے دے کر اس پاک وطن کی حفاظت کی اور آج تک ہم اپنی پیاری آزادمملکت پاکستان میں سربلند کر کے زندہ ہیں۔ ان کی زندگیاں ختم ہوئیں اور ہم آج تک زندہ ہیں کیسے؟ آیئے ہم ان کی سچی کہانیوں کو پڑھ کر شاید کچھ سوچ لیں کہ وہ جو قربانیاں دے گئے ہیں ہم نے اس کا کتنا حق ادا کیا ہے۔ اس وطن عزیز کی حفاظت‘ ترقی اور اسے بنانے سنوارنے میں کتنا رنگ بھرا ہے۔ 6ستمبر1965 کی صبح جب میں اپنی ڈیوٹی پر پہنچی تو فون کی گھنٹی بجی۔ کمانڈنگ آفیسر نے ہمیں یہ خبر دی کہ دشمن نے لاہور بارڈر پر حملہ کر دیا ہے۔دشمن واہگہ بارڈر پر پہنچ چکا ہے۔ مریضوں کو جب وارڈز میں خبر ملی کہ دشمنوں نے حملہ کر دیا ہے تو وہ اپنے بستروں سے اُٹھے‘ اﷲ اکبر کا نعرہ لگایا اور اپنا سامان باندھ کر بغیر آرڈر کے ہی اپنی اپنی یونٹ میں چلے گئے۔ اﷲ اﷲ کیا جذبہ تھا ان جوانوں کا‘ ان کی زبانوں پر یہ الفاظ میں بار بارسن رہی تھی۔ 1947کا بدلہ لیں گے۔۔۔ کفر اور اسلام کی جنگ ہے۔۔۔ ہم نے جانا ہے۔ ہم نے کشمیر کا بدلہ لینا ہے۔ دشمن جو بی آر بی نہر تک پہنچ گیا تھا اور جس کی وائرلیس پر ہمارے جوانوں نے یہ خبر سنی کہ جلدی کرو‘جلدی کرو‘ لاہور صرف دو میل رہ گیا ہے۔۔۔ ہمارے بہادر مٹھی بھر جوانوں نے بی آر بی کو اس طرح کور (Cover)کیا کہ ہمارے ہوائی جہازوں نے شدید بمباری کر کے دشمن کو بی آر بی نہر پار نہ کرنے دی۔اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج پاکستان اتنا مضبوط اور ناقابل تسخیر ہو چکا ہے کہ دشمن سال بھر فوجیں سرحدوں پر کھڑی کر کے حسرت سے سوچتا ہی رہے‘ دیکھتا ہی رہے کہ کاش وہ حملہ کر سکے۔۔۔ لیکن ا لحمدﷲ پاک فوج میں اتنا دم خم ہے کہ وہ دشمن کے ایسے کسی خواب کو کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔ ایک نوجوان جس کی دونوں ٹانگیں شیل لگنے کی وجہ سے کٹ گئی تھیں اور بوٹ اس کے ساتھ لٹک رہے تھے ‘ خون بہہ رہا تھا اور وہ نڈھال ہو رہا تھا۔ لیکن زبان پر یہی الفاظ تھے ’’اﷲ پاکستان کی حفاظت کرنا‘‘ دعا کریں اﷲ ہماری مدد کرے‘ کبھی کبھار آنکھوں سے آنسو اتنے چھلک آتے کہ ماسک کے اندر مجھے کچھ دیکھائی نہ دیتا تھا۔
ایک نوجوان جس کی دونوں ٹانگیں شیل لگنے کی وجہ سے کٹ گئی تھیں اور بوٹ اس کے ساتھ لٹک رہے تھے ‘ خون بہہ رہا تھا اور وہ نڈھال ہو رہا تھا۔ لیکن زبان پر یہی الفاظ تھے ’’اﷲ پاکستان کی حفاظت کرنا‘‘ دعا کریں اﷲ ہماری مدد کرے‘ کبھی کبھار آنکھوں سے آنسو اتنے چھلک آتے کہ ماسک کے اندر مجھے کچھ دیکھائی نہ دیتا تھا۔
مجھے یاد ہے یہ جنگ کا دوسرا روز تھا۔ ایک انتہائی لمباترنگا فوجی جوان اسٹریچر پر لایا گیا۔ وہ بار بار کچھ بڑبڑا رہا تھا اور افسوس کر رہا تھا کہ ماں سے کیا ہوا وعدہ نہیں پورا کر سکا۔ ماں سے وعدہ کیا تھا کہ ماں گولی سینے پر کھا کر آؤں گا۔ ۔۔ اس کی حالت غیر ہو رہی تھی بلڈپریشر نیچے جا رہا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل محمود الحسن نے اس کی ٹانگ کے اندر والی جگہ سے زخم کھولا تو کوئی گولی نظر نہ آئی بلکہ گولی کا سوراخ پیٹ کی طرف جاتاہوا نظر آیا اور گولی سینے کی طرف جاتی ہوئی زخم سے پتہ چلی اور جب پیٹ بند کر کے سینہ کھولا گیا تو وہ گولی اس شہید کے عین خواہش کے مطابق اپنی ماں سے کئے ہوئے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے سینے میں اسے شہادت کا مرتبہ عطا کر کے بیٹھی تھی۔۔۔ اس دوران میری کیا حالت ہوئی‘ آج جب میں یہ داستان پھر سے لکھ رہی ہوں تو آج بھی میں خون کے آنسو رو رہی ہوں۔ ان آنسوؤں پر میرا کوئی زور نہیں یہ بہتے رہتے ہیں اور جب تک زندہ رہوں گی ان شہیدوں کی داستانیں لکھتے لکھتے سوچتے سوچتے ان پلکوں کو بھگوتی رہوں گی۔ دشمن نے تو پوری تیاری سے حملہ کردیا تھا۔ ہمارے فوجی تو ابھی خندقیں کھود رہے تھے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دوپہر تک ہمارے ٹینک بارڈر کی طرف جا رہے تھے۔۔۔لیکن قربان جائیں اپنے ان مٹھی بھر جوانوں پر جنہوں نے خود گہرے زخم کھائے مگر دشمن کی یلغار کو روکے رکھا ۔ مجھے یاد ہے اسی روز پاک فوج کا ایک کپتان آیا زخموں سے چور۔۔۔ کہنے لگا جب میں نے ایک دشمن کو اپنے جوانوں سے یہ کہتے سنا Come on, Lahore is only six miles تو میں نے بھی اسے وائرلیس پر یہ جواب دیا کہ Bloody Six Milesاور کیپٹن نصرت جہاں میں اپنے خون سے Mile Stoneپر یہ لکھ کر آیا ہوں۔ یہاں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی لیکن دشمن کو لاہور میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ وہی بی آر بی ہے جو آج تاریخ کا ایک حصہ بن چکی ہے۔ اس بات کی گواہ ہے کہ دشمن کو اس مقام پر کیسی عبرت ناک شکست ہوئی۔ میں تو اپنے ایک ایک غازی کو آج بھی یاد کرکے حیرت زدہ ہو جاتی ہوں جس کے زخم بہت گہرے ہوتے تھے۔ لیکن ان کا صبر و استقلال‘ ہمت اور جذبہ قابل دید تھا۔ ایک روزجب میں آفیسر وارڈ میں گئی جہاں اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان ایک قیدی آفیسر کو ملنے آ رہے تھے۔ یہ پائلٹ انڈیا کے کمانڈر انچیف کا بیٹا تھا جو کسی وقت ایک ساتھ کسی محاذ پر تھے۔ دوست کے بیٹے کو از راہ مروت دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے غازیوں پر بھی نگاہ ڈالی۔ شاباش دی ۔ مجھے اس وقت انہیں اپنے کمانڈنٹ کے ساتھ مل کر Receiveکرنا تھا۔ وارڈ کی حالت کا اندازہ لگانے جب میں جلدی جلدی اندر جانے لگی تو دیکھا دو عورتیں کھڑی رو رہی ہیں۔ مجھے آواز دی۔ میں پاس گئی تو کہنے لگیں اندر سے پتہ کریں کہ میجر حبیب تو زخمی ہو کر نہیں آئے۔ میں نے جلدی سے پوچھا کیا نام بتایا۔ کہنے لگیں میجر حبیب۔۔۔ میرے دماغ میں آندھیاں چلنے لگیں۔ ایک رات پہلے میجر حبیب کو جب شدید زخمی حالت میں آپریشن تھیٹر میں لایا گیا تو دماغ پر شیل لگنے کی وجہ سے وہ بہت serious تھے۔ میں نے جلدی جلدی وہیں ٹیبل پر لٹوایا اور انہیں Drip اور پھر خون پمپ کیا۔ کیونکہ ان کی نبض بیٹھ رہی تھی اور سانس اکھڑ رہی تھی۔ آکسیجن دی‘ ساری کوششیں کیں لیکن وہ ٹیبل پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ چونکہ میں جلدی میں تھی تو اپنے خیالات کو جھٹک کر انہیں جھوٹی تسلی دیتے ہوئے باہر ہی ٹھہر جانے کو کہا۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ ابھی واپس آ کر بتاتی ہوں۔ کیا بتاتی اور کیسے بتاتی؟ اس جوان بیوہ کو جو یہ خبر سن کر آئی تھی کہ وہ زخمی ہوئے ہیں۔ جنرل موسیٰ کے جانے کے بعد میں باوجود اس کے کہ بے حد مصروف تھی میری آپریشن تھیٹر میں سخت ضرورت تھی‘ ان کے پاس گئی۔ اس کی بڑی بہن کو ایک طرف بلایا اور یہ خبر سنائی۔ مسز حبیب بھی ہماری طرف لپکی اور سمجھ گئی۔ ان دنوں انگیٹھیوں میں کوئلے جلا کر تے تھے۔ ان کی کیری کا ڈھیر وہاں پڑا تھا۔ انہی کوئلے کے ڈھیر میں مسز حبیب نے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر رونا شروع کر دیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اس کی ایڑیوں سے خون نکلتے دیکھا۔ میں نے اسے تسلی دی کہ ٹھہرو میں اندر جاکر دیکھتی ہوں۔ میں نے جب مارچری میں قدم رکھا تو وہ نظارہ مجھ سے برداشت نہ ہوا۔ تازہ خون ان شہیدوں کے جسموں سے نکل کر کمرے کے فرش پر تہہ جما چکا تھا۔ میں نے جوتے اتارے لیکن میں ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکی۔ یہ بہادر خون آج بھی مجھے بہتا ہوا نظر آتا ہے۔ بار بار پکار کر کہتا ہے کہ اے میری بہادر قوم کے بہادر لوگو! بہادر فوج کے جوانو! اس خون کی لاج رکھنا اور اپنے وطن کے ایک ایک انچ کی اسی طرح جانوں کے نذرانے دے کر حفاظت کرنا۔ جنگ میں زخمیوں کو خون کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور بعض اوقات زندگی بچانے کے لئے 8 ۔10یا12 بوتلیں بھی خون پمپ کر کے لگایا جاتا ہے۔ جونہی جنگ چھڑی تو پاکستانی قوم کے نوجوان‘ طالب علم‘ عورتیں اور فوجی جوان خون دینے کے لئے جوق درجوق پہنچنا شروع ہو گئے۔ ہمارے پاس خون لینے اور پھر بینک میں رکھنے کے اتنے وسائل نہ تھے۔ انہیں سول ہسپتالوں میں بھجوانا شروع کیا۔ اتنے میں ایک لیفٹیننٹ یونیفارم میں ملبوس جلدی جلدی اپنا خون دینے کی ضد کرنے لگا۔6 sep2 کہنے لگا جب تک آپ میرا خون نہیں لیں گے میں نہیں جاؤں گا۔ اس کی ضد کو دیکھتے ہوئے میجر افتخار ملک (بعد کے لیفٹیننٹ جنرل افتخار ملک) نے اس کا blood لے لیا۔ دوسری شام ایم ۔ آئی ۔ روم میں دیکھنے گئی کہ کہیں زیادہ Serious مریض نہ آیا ہو۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو چہرہ جانا پہچانا لگا۔ میں نے فوراً پہچان لیا۔انہوں نے بھی اپنا تعارف خود ہی کرواتے ہوئے کہا میں لیفٹیننٹ حبیب ہوں۔ کل ہی بلڈ دے کر گیا تھا۔ میں نے فوراً اسے ٹرالی پر ڈالا اور ایک سپاہی کی مدد سے آپریشن تھیٹر میں لے گئی۔ اس کے پیٹ میں برسٹ لگنے سے گہرا زخم آیا تھا۔ اسے بلڈ دیا۔ پھر آپریشن کے لئے تیار کیا۔ آپریشن کیا گیا۔ وارڈ میں جب بھی جانا ہوتا تو اس کے پاس جا کر چند لمحے ٹھہرتی۔ وہ بارڈز کی حالت پوچھتا‘ جنگ کے حالات جاننے کی کوشش کرتا اور دیر تک آہیں بھرتا۔ تنومند آفیسر تھا لیکن دن بدن اس کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ میں دیکھ رہی تھی کہ وہ موت کی وادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مجھے جب بھی ذرا سی بھی فرصت ملتی میں اس کے پاس ضرور جاتی‘ اسے تسلی دیتی کہ تم ٹھیک ہو جاؤ گے اور پھر انشاء اﷲ جنگ کے میدان میں جاؤ گے۔ ہاں یہ بتانا بھول گئی جب اس کا آپریشن کرنے لگے وہ ہوش میں تھا میں نے ایک لڑکے سے کہا! جاؤ‘ بلڈ بینک میں دیکھو اگر اس کا خون پڑا ہے تو لاؤ ‘اسی کا خون اسے دے دیتے ہیں تو وہ کہنے لگا نہیں کسی اور سپاہی بھائی کو دیں اور پھر ایک روز صبح صبح یہ خبر ملی کہ حبیب شہید ہو گیا ہے اور میں اس روز اس کی موت پر خوب روئی۔ وہ ایک جوان ننھا مجاہد اپنے ارمان پورے نہ کر سکا۔ نہ ماں کا کلیجہ ٹھنڈا ہوا۔ نہ بہنوں نے سر پر سہرا سجایا اور وہ فرشتوں کی مسکراہٹ والا سپاہی مجھے آج بھی کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ کیپٹن نصرت اس قوم کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔ میں ان شہیدوں کے آخری الفاظ کس کس ماں کو ڈھونڈ کر بتاؤں۔ کس کس سہاگن کو بتاؤں کہ تمہارا سہاگ کس طرح وطن عزیز پر قربان ہو گیاہے اور یوں میں ستمبر کی اس یادوں کو سمیٹ کر بار بار ہر سوال دہراتی ہوں کہ کوئی تو ماں ‘ کوئی بہن پڑھ کر یہ سکون حاصل کر سکے کہ ان کے جیالوں کی شہادتوں سے پہلے کیا کیا جذبات تھے۔ مجھے وہ نظارہ بھی کبھی نہیں بھولتا ایک زخمی مریض کے آپریشن کے بعد جب اسے وارڈ میں پہنچانے جارہی تھی تو دیکھا کہ ایک بے حد دراز قد حوالدار جس کے ایک بازو کی طرف ڈرپ‘ دوسری طرف خون کی نالی لٹک رہی ہے‘ ناک سے آکسیجن کی نالی بھی لٹک رہی ہے باہر کی طرف بھاگ رہا تھا۔ سٹریچر والے مریض کو چھوڑ کر اس کی طرف دوڑی۔ اس کی رنگت اور سانسیں بتارہی تھیں کہ اس کی کیا حالت ہے۔ اپنے اسسٹنٹ کی مدد سے جب اسے تھاما تو وہ چلایا: ’’جانے دو مجھے‘ میں نے مرناہے۔‘‘ میری ڈیوٹی پیٹرول لانے پر ہے۔ جانے دو۔ جانے دو‘ اور پھر مجھے حسرت سے دیکھ کر کہتا ہے کہ کون ہو تم۔۔۔ مسلمان ہو۔ میں نے کہا الحمدﷲ میں مسلمان ہوں۔ تو کلمہ پڑھو۔ میں نے کلمہ پڑھا تو وہ کہنے لگا پھر کیسی مسلمان ہو۔ کفر اوراسلام کی جنگ ہو رہی ہے اور تم مجھے روک رہی ہو اور پھر وہ نڈھال ہوگیا اسے بچانے کی میں نے سرتوڑ کوشش کی‘ آکسیجن لگائی۔۔۔ منہ سے سانس دیا۔ ہارٹ پمپ کیا لیکن وہ مادرِ وطن پر قربان ہوگیا۔ ان آخری لمحات میں نہ اسے ماں یاد آئی نہ بہن ۔ بس پاکستان کی حفاظت کی التماس کرتا وہ چلا گیا اور منظر دیکھ کر میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ جنگ ختم ہوئی‘ شاید میری خدمات سچے جذبے سے سرشار تھیں۔ وہ میرے اﷲ اور میرے وطن کے کرتا دھرتا لوگوں کے دلوں پر اثر کر گئیں جنہوں نے مجھے دن رات کی بھوکی پیاسی دیکھ کر اپنے فرض کو نبھاتے ہوئے دیکھا تھا محسوس کیا اور مجھے میری خدمتوں کے صلے میں ’’تمغۂ قائداعظم‘‘ سے نوازا۔ میں پاکستانی فوج کی پہلی خاتون ہوں جسے یہ اعزاز حاصل ہوا۔جب ریڈیو پر یہ خبر آئی اور اخباروں میں میری تصویریں چھپیں تو ایک سپاہی (جو ہمارے زیرِ علاج رہا) دوڑا دوڑا اپنے کمانڈنگ آفیسر کے پاس گیا اور کہا کہ یہ دیکھیں یہ میری باجی ہے‘ انہیں تمغہ ملا ہے۔ سر! میں نے انہیں مبارکباد دینے جانا ہے مجھے چھٹی چاہئے۔ اس کے کمانڈنگ آفیسر نے مجھے خط لکھ کر مبارکباد دی اورپوچھا کہ کیا واقعی میں اس کی بہن ہوں؟ میں نے جواب دیا کہ میں پورے پاکستان کے سپاہیوں کی بہن ہوں اور مجھے اسے اپنا بھائی کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے۔ پھر وہ آیا‘ مبارکباد کا ہار میرے گلے میں ڈالا۔ آپ یقین کریں اس کا اخلاص آج بھی مجھے یاد ہے ۔ جوان بوڑھے بچے سب اپنی اپنی بساط کے مطابق چیزیں پہنچا رہے تھے مجھے وہ بوڑھا بھکاری بھی یاد ہے جس نے اپنے مجاہد سپاہیوں کے لئے سگریٹ اور صابن کی ڈبی لا کر ہمیں پکڑائی تو میری اور کرنل ممتاز کی آنکھوں میں آنسو تھے ہم آپریشن تھیٹر والے کام کی زیادتی کی وجہ سے نہ کھانا کھانے جا سکتے تھے نہ ہی کوئی لا کر دے سکتا تھا۔ تھوڑا سا فروٹ لے کر آتی اور باقی ساتھیوں کو بھی تھوڑا تھوڑا بانٹتی اورتسلی دلاتی تاکہ وہ تھوڑی سی طاقت پا کر تازہ دم ہوجائیں۔کیا دن تھے کیا جذبے تھے۔ کچھ ہوش نہ تھا۔ تحفوں کے حوالے سے مجھے ایک سکھ پائلٹ کا قصہ یاد آگیا ایک روز آپریشن تھیٹر میں سکھ پائلٹ لایاگیا۔ شیل لگنے سے اس کا خون بہہ رہاتھا۔ جب اسے Tableپر لٹایا اور بے ہوش کرنے کے بعد اس کے زخم کو صاف کیا تو خون کا فوراہ نکلا جس نے ہماری Tableکی Lightکو بھی داغدار کیا یہ ایک شیل کا ٹکڑا تھا جو صفائی کرتے ہوئے باہر نکل آیا اس کے زخم پر فوراً ہم نے پیک رکھا تو دیکھا کہ اس کی بڑی نس کٹ چکی ہے۔اسے سینا نہایت ضروری تھا وگرنہ اس طرح اس کی زندگی خطرے میں تھی۔ اسے مسلسل خون دیاجارہا تھا۔ جنرل صاحب اس کی نس کو بار بار سینے کی کوشش کر رہے تھے ہر بار ناکامی ہو رہی تھی جب کافی وقت ضائع ہو چکا تو کہنے لگے اسے پیک کر کے چھوڑ دیتے ہیں میں نے کہا آخری بار کوشش کرلیں اور میں نے اپنے رب سے دُعا کی یا الہٰی کامیابی دے اور میں نے آیت الکرسی پڑھ کر جلدی جلدی پھونکی۔ نہ جانے میں کیوں یہ محسوس کر رہی تھی کہ یہ گو کہ ہمارا دشمن ہے لیکن کسی ماں کا بیٹا ہے جو ہماری پناہ میں ہے اﷲ نے میری سن لی اور اس بار نس سل گئی اس دوران اسے آٹھ بوتلیں خون کی دی جا چکی تھی۔ اسے وارڈ میں بھجوادیا گیا۔ اسی دوران جو تحفے تحائف آتے ہم جنگی قیدیوں کو بھجواتے KD.Singhاس کا نام تھا۔ اسے بھی یہ تحفے تحائف ملتے تو وہ سوچتا رہ جاتا پہلے تو وہ اسے شاید ڈرامہ سمجھا لیکن بعد میں اس نے مجھ سے ملنے کی خواہش کی۔ میں ایک روز جب اس کا حال پوچھنے گئی تو کہنے لگا کیپٹن نصرت صاحبہ میں آپ کی Hospitalityسے بہت متاثر ہوا ہوں اور سوچ رہاہوں آپ کی اس مہمان نوازی کا شکریہ ادا کروں گا جب کہ ہم ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ میں نے کہا KD. Singhجس روز تم یہاں سے جاؤ گے میں اس روز تم سے بات کروں گی فی الحال مصروف ہوں جب وہ صحت یاب ہو گیا اوراسے Campمیں بھجوایاجانے لگا تو اس نے کمانڈنگ آفیسر سے بات کی کہ مجھے کیپٹن نصرت جہاں سے بات کرنی ہے۔ کرنل ممتاز‘ جو کہ ایک صاحب ظرف آفیسر تھے‘ نے مجھے بلایا اور کہا کہ نصرت بیگم یہ کیا چکر ہے میں نے کہا سر چکر ہی چکر ہے مذاقاً کہتے گئے۔ I hope you are not spying. میں نے کہا سر چل کر خود ہی ساری بات سن لیں۔ خیر میں گئی۔ کہنے لگا آپ نے ایک وعدہ کیاتھا۔ آج میں جا رہاہوں۔ میری بات کا جواب دیں میں نے کہا ۔مجھے ایک بات کا جواب دو تم نے دیکھا جو سلوک تمہارے ساتھ ہوا کیا وہ ایک ڈرامہ تھا یا حقیقت؟ کہنے لگا میڈم اسی لئے میں نے آپ کو بلوایا ہے۔ آپ یقین کریں کہ میں بے حد متاثرہوا ہوں آپ کے حسن سلوک سے۔ میں نے کہا KD.Singh ہمارے پیارے رسولؐ کا قول ہے جب دشمن تمہاری دہلیز پار کرے تو وہ تمہارا دشمن نہیں تمہارا مہمان ہوجاتا ہے۔ اُنؐ کے قول کے صدقے ہم نے تمہارا خیال رکھا تو KD.Singhاگر آپ Hospitalityکا بدلہ دینے کا سوچو تو یاد رکھنا جب واپس جاؤ گے تو بات سچی سچی بتانا۔ ایک روز ایک زخمی ہندو کو لایاگیا اس کے زخم کو تقریباً 6 روز ہو چکے تھے‘ اسے اپنے سپاہی چھوڑ کر چلے گئے تھے‘ زخم کولہے پر تھا‘ بدبو سے آپریشن تھیٹر میں کھڑا ہونا مشکل ہو رہاتھا۔ اسے جب ٹیبل پر لٹایا اور میں بہت سارے Dettolسے اس کا زخم صاف کرنے کے لئے آگے بڑھی تو وہاں کھڑا ہونا مشکل ہو گیا۔ میں نے کہا کہ بھئی تم تومجھے ایسے لگتے ہو پچھلی جنگ کے زخمی ہو۔ یہاں پر توآج تک جتنے بھی ہمارے غازی اور شہید آئے ان کے خون کی خوشبو سے ہمیں پاکیزگی کا احساس ہوتا تھا وہ کہنے لگا کہ آج 6 روز کے بعد جس پل کے نیچے میں زخمی پڑا تھا اس پل پر ایک آفیسر نے سگریٹ سلگا کر جب ماچس نیچے پھینکی تو میں نے زور زور سے چلانا شروع کیا‘ بھگوان کا واسطہ دیا کہ میری مدد کریں وہ آفیسر جو میجرکی وردی میں تھا‘ نیچے آیا میری حالت دیکھی مجھے پانی پلایا اور پھر مجھ سے وعدہ کیا کہ میں ابھی تو کسی بڑے مشن پر جا رہا ہوں لیکن یہ ایک مسلمان کا وعدہ ہے کہ میں بہت جلد ایمبولینس بھجواؤں گا جو آپ کو CMHلے جائے گی اور یوں انہوں نے اپنا وعدہ پوراکیا۔ میں نے تو انہیں التجا کی تھی کہ مجھے گولی ماردیں اس اذیت بھری زندگی سے اب میں بھی تب تنگ آگیا ہوں۔ بہرحال اسے ٹھیک کرتے کرتے ہمیں کئی ماہ لگ گئے۔ ایک رات ہمیں حکم ملا کہ آج رات بہت بھاری حملہ ہونے والا ہے۔ دشمن شاید اپنی خفت مٹانے کے لئے ایک بھرپور حملہ کر کے لاہور کے جمخانہ میں شام گزارنے کا خواب پورا کرنا چاہتاتھا۔ ہم کس طرح Bunkersمیں جا سکتے تھے۔ ہمارے مریض ہمارے انتظار میں تھے۔ ہم باری باری انہیں آپریشن تھیڑ جا کر زندگیاں بخش رہے تھے۔ کرنل خان اور کرنل محمودالحسن نے ہی تہیہ کیا کہ تھیٹر چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ انہی کے ساتھ جئیں گے اور مریں گے۔ جنگ ختم ہوئی تو ہم نے اپنے COسے کھیم کرن اور چونڈہ وغیرہ دیکھنے کی خواہش کی۔ کھیم کرن میں جو نظارے ہم نے دیکھے وہ ناقابل بیان ہیں۔ آخر میں اپنے وطن پر قربان ہونے والے اس شہید کا ذکر ضرور کروں گی جس نے باوجود جانتے ہوئے کہ جس محاذ پر وہ کھڑا ہے‘ اس کی زندگی خطرے میں ہے‘ لیکن موت اور زندگی پر یقین رکھنے والے اور شہادت کا مرتبہ حاصل کرنے والے یہ مجاہد کسی خطرے کی پروا نہیں کرتے۔میجر عزیز بھٹی شہید جن کی آدھی کھلی آنکھیں جب یاد کرتی ہوں تو مجھے وہ شہید ہونے کے بعد بھی یوں لگ رہی تھیں جیسے اب بھی ان کی نظریں سرحدوں کی حفاظت کے لئے کھلی ہیں۔ وہ زندہ جاوید ہیں۔ شہید کبھی مرا نہیں کرتے۔
24
March

شہید غیاث لالہ عازم حج ہونے سے پہلے ہی عازم جنت ہوگیا

بلوچستان کے ایک بہادر سپوت کی کہانی جسے وطن سے محبت کی پاداش میں ملک دشمنوں نے شہید کردیا۔ اس کی بہن سلمہ محمد حسنی کے قلم سے

ماہ اگست 2013 آیا تو غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے یوم آزادی منانے کی روایت کو آگے بڑھانے کا اہتمام کیا۔ انتہا پسند وطن دشمنوں نے اب غیاث بھائی کو اپنا اہم ترین ہدف بنا لیا۔ 14 اگست کے ٹھیک اڑھائی ماہ بعد 29 اکتوبر کو شام کے وقت بازار سے گھر کی طرف آتے ہوئے موٹر سائیکل سوار نقاب پوشوں نے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔ وہ بازار جہاں انہیں شہید کیا گیا‘ اس سے قریب ہی پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا۔ زخمی لالہ غیاث نے رینگتے ہوئے پرچم کے سائے تلے پہنچ کر کلمہ پڑھا اور جام شہادت نوش کر لیا۔

وہ میرا چھوٹا بھائی تھا، لیکن والد میر غلام رسول محمد حسنی کی ’’بی ایل اے‘‘کے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد عملًا بڑے بھائی اور گھر کے سربراہ کے مرتبے پر فائز ہو گیا تھا۔ ہم بہنیں اسے کبھی غیاث جان اور کبھی غیاث لالہ کہتی تھیں۔ دو بیٹیوں کے بعد اللہ نے میرے والدین کو اولاد نرینہ دی تو خوب خوشیاں منائی گئیں۔ شہید بابا نے عقیقے کا فوری اہتمام کرتے ہوئے دو بکرے ذبح کئے۔ شہید بابا نے ہمارے اس ننھے منے بھائی کے لئے ایسا نام پسند کیا جو پورے خاندان میں پہلے کسی کا نہ تھا ۔ میر عبدالغیاث ہمارے خاندان میں ایک منفرد نام تھا۔ بھائی نے نوجوانی میں ہی پاک وطن کے غداروں سے مقابلے کا راستہ اختیار کر کے شہادت پائی تو اللہ نے اسے اور بھی ممتاز کر دیا ۔ بظاہر غیاث لالہ کی ایک مختصر سی زندگی اور ایک مختصر سی کہانی ہے۔ میرا غیاث لالہ 21دسمبر1995کو خضدار میں پیدا ہوا اور یہیں پاکستانی پرچم سربلند رکھنے کی پاداش میں 29 اکتوبر 2013 کو شہید ہو گیا۔ لیکن اس کہانی کا ایک ایک لفظ شہادت دیتا ہے کہ وہ واقعی عظیم تھا۔ مختصر سی زندگانی میں شہادت سے پہلے ایک بڑے حادثے اور ایک بڑے سانحے کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا اعزاز بھی mera ghayas lala2میرے غیاث لالہ کو ملا۔ صرف آٹھ برس کا تھا کہ خضدار سے گزرنے والی کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو کر کچھ عرصے کے لئے یادداشت سے محروم ہو گیا۔ ہم گھر والوں کو اس حادثے کی اطلاع دیر سے ملی۔ اس سے پہلے ہی بھائی کو سول ہسپتال میں لوگوں نے شدید زخمی حالت میں پہنچا دیا تھا۔ حادثے کے چار گھنٹے بعد پتہ چلا کہ غیاث سڑک کنارے زخمی ہوگیا تھا۔ ہسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ بھائی مسلسل بے ہوش پڑا ہے۔ ابو ڈاکٹروں کے مشورے سے بھائی کو کوئٹہ کے ایک بڑے ہسپتال میں لے گئے۔ جہاں بھائی کو پانچ دن تک ہوش نہ آسکا۔ پانچ دن کے بعد جب ہوش آیا تو بہن بھائیوں کے لئے یہ زخمی پھول رو روکر اپنی گالوں کو شبنمی کر نے لگا۔ ابو کو مجبوراً واپس لانا پڑا۔ چوٹ نے بھائی کی یاد داشت اور گویائی کو جزوی طور پر متاثر کیا تھا۔ مکمل صحت یابی تک بھائی کا سکول جانا مشکل ہو گیا۔ البتہ ہمیں گھر میں ٹیوشن پڑھانے کے لئے آنے والے ہمارے ٹیچر آتے تو غیاث بھائی کو بھی ہمارے ساتھ بٹھا دیا جاتا تاکہ ان کی سکول کی یادیں تازہ ہوں اور ان کا دماغ اس طرف مائل ہو۔ یہ طریقہ کارگر رہا۔ ایک روز ہمارے ٹیچر نے غیاث بھائی سے ان کا نام پوچھا تو اس نے بولنے کے بجائے لکھ کر اپنا نام بتایا۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ غیاث کی یادداشت ٹھیک ہو گئی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ مکمل صحت یاب ہو گئے تو سکولنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔ کچھ عرصہ گھر میں رہنے کی وجہ سے بھائی کی ہم بہنوں سے قربت اور بڑھ گئی۔ لیکن جب سکول جانا شروع کیا تو سکول کے بچوں کے ساتھ بھی دوستی کا سلسلہ شروع ہوگیا ، یوں غیاث لالہ مکمل طور پر نارمل زندگی میں واپس آگیا۔ اتنے بڑے حادثے کے بعد یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی۔ صحت یاب ہونے کے ساتھ ہی اس کی ذہانت بھری مسکراہٹیں اور شرارتیں بھی لوٹ آئیں۔ وہ سکول کے بچوں سے نہ صرف دوستیاں بنانے میں ماہر تھا بلکہ دوستیاں نبھانے میں بھی اپنی مثال آپ تھا۔ دوستوں کو پیار سے جانی کہہ کر پکارتا۔ دوستوں کے کام آنا، ان کی مدد میں لگے رہنا اس کا مشغلہ تھا۔ دوسروں کے کام آنے کا جذبہ اسے ابو سے وراثت میں ملا تھا۔ ابھی سکول لیول میں ہی تھا اس کا سکول ابو نے تبدیل کرا دیا۔ اس تبدیلی کے بعد بھی غیاث بھائی کی پڑھائی اور دلچسپی میں کمی نہ آئی۔ وہ دوستانہ خُو رکھنے کی وجہ سے جلد ہی دوستیاں بنا لیتا تھا۔

غیاث بھائی کی عمر صرف 13برس اور جماعت آٹھویں تھی کہ ابو میر غلام رسول کو دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔ آٹھ سال کی عمر میں خوفناک ٹریفک حادثے نے ننھے غیاث کے ذہن پر ایک اور طرح کا اثر ڈالا تھا لیکن ابو کی شہادت کے سانحے کا اثر اور طرح کا تھا۔ اب گویا سب کچھ چھن گیا۔ کچھ عرصہ تو جیسے غیاث بھائی کو چپ سی لگ گئی ، لیکن آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا۔ اس واقعے نے اس ننھے غیاث کو پاکستان کے دشمنوں کا اصل چہرہ دکھا دیا کہ یہ بیگناہوں کے قاتل اور خونی بھیڑیے ہیں۔ انہی بھیڑیوں نے پنجابی بولنے والوں کو سب سے پہلے خضدار سے نکالا تھا۔ والد کی شہادت کے واقعے نے پاکستان سے محبت اور بڑھا دی۔ پہلے ہمارے ابو اکیلے پاکستان کی محبت کے لئے تڑپتے تھے‘ اب غیاث بھائی اور پورا خاندان اس حب الوطنی کا شعوری اسیر ہو گیا۔ اس محبت میں غیاث لالہ سب سے آگے تھا۔
غیاث بھائی کی عمر صرف 13برس اور جماعت آٹھویں تھی کہ ابو میر غلام رسول کو دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔ آٹھ سال کی عمر میں خوفناک ٹریفک حادثے نے ننھے غیاث کے ذہن پر ایک اور طرح کا اثر ڈالا تھا لیکن ابو کی شہادت کے سانحے کا اثر اور طرح کا تھا۔ اب گویا سب کچھ چھن گیا۔ کچھ عرصہ تو جیسے غیاث بھائی کو چپ سی لگ گئی ، لیکن آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا۔ اس واقعے نے اس ننھے غیاث کو پاکستان کے دشمنوں کا اصل چہرہ دکھا دیا کہ یہ بیگناہوں کے mera ghayas lala3قاتل اور خونی بھیڑیے ہیں۔ انہی بھیڑیوں نے پنجابی بولنے والوں کو سب سے پہلے خضدار سے نکالا تھا۔ والد کی شہادت کے واقعے نے پاکستان سے محبت اور بڑھا دی۔ پہلے ہمارے ابو اکیلے پاکستان کی محبت کے لئے تڑپتے تھے‘ اب غیاث بھائی اور پورا خاندان اس حب الوطنی کا شعوری اسیر ہو گیا۔ اس محبت میں غیاث لالہ سب سے آگے تھا۔ وقت گزرتا گیا اور غیاث بھائی کی سوچ میں پختگی اور نکھار آنے لگا۔ ابو کی شہادت کے بعد گم سم رہنے کے دن تحرک میں بدلنے لگے، دوستوں کا حلقہ وسیع ہونے لگا۔ غیاث لالہ کا زیادہ وقت انہی سرگرمیوں میں گزرنے لگا۔ وہ سماجی کاموں میں مصروف ہو گیا۔ 2012 میں غیاث خضدار میں اپنے دوست کی دکان پر بیٹھا تھا کہ اس پر پہلا حملہ ہوا۔ اس واقعے میں غیاث بھائی کا دوست شہید ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد غیاث بھائی کا ایک اور دوست انہی قاتلوں کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ یہ سال غیاث بھائی کے لئے ایک اہم سال ثابت ہوا۔ دو دوست شہید ہو ئے ، خود غیاث بھائی پر حملہ ہوا۔ غیاث اور ذکی کی فیس بک پر شرپسندوں نے قتل کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ان پے در پے شہادتوں نے غیاث بھائی کو حالات کی سنگینی اور بطور پاکستانی اپنی ذمہ داریوں کا خوب احساس دیا۔ غیاث بھائی نے اپنے سے چھوٹے بھائی ذکی کے ساتھ گہری دوستی بنا لی اور اب گھر والوں کے ساتھ بھی زیادہ قربت ہو گئی۔ کہیں جاتے تو دونوں بھائی اکٹھے ہوتے، سیر پر بھی جاتے تو ایک دوسرے کو ساتھ رکھتے۔ والد اور قریبی دوستوں کی شہادت کی یادیں تازہ کرنے کے لئے غیاث بھائی نے 14 اگست 2012 کوپاکستانی پر چم لہرانے کا پروگرام بنایا گیا۔ نوجوانوں کو اکٹھا کیا اور پاکستان کے حق میں ریلی نکالی۔ اسی روز خضدار کے ایک شہری کو انتہا پسندوں نے گولی مار کر شہید کردیا۔ اس کا جرم بھی پاکستان سے محبت اور قومی پرچم لہرانے کی تقریب میں حصہ لینا تھا۔ 2006 کے بعد یہ ایک بدلتا ہوا منظر تھا، وطن دشمنوں کو ہر گز قبول نہ تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کو برا یہ لگا کہ ایک ٹی وی چینل کا عملہ ان علیحدگی پسندوں کی دعوت پر اگلے سال مارچ 2013 میں انتہاپسندوں کے الیکشن بائیکاٹ کو ہائی لائٹ کرنے خضدار آیا تو اس نے لاپتہ افراد کی پرانی کہانی دہرانا چاہی، اس پر غیاث بھائی نے اور لوگوں کے ساتھ اُن کی توجہ انتہاپسندوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلوچ شہریوں اور ان کے خاندانوں کی جانب بھی چاہی۔ لیکن انہوں نے انہیں یہ کہنا شروع کر دیا کہ آپ کو کس ایجنسی نے بھیجا ہے۔ غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے اُن سے یہ کہا کہ آپ یک طرفہ پروگرام نہ کریں۔ تاہم اس چینل کے ایجنڈے کے لئے یہ بات مفید نہ ہو سکتی تھی۔ اس لئے پروگرام میں بھی ایسا لہجہ اختیار کیا جس کا مقصد دہشت گردوں کو فائدہ دینا تھا۔ ماہ اگست 2013 آیا تو غیاث بھائی اور ان کے دوستوں نے یوم آزادی منانے کی روایت کو آگے بڑھانے کا اہتمام کیا۔ انتہا پسند وطن دشمنوں نے اب غیاث بھائی کو اپنا اہم ترین ہدف بنا لیا۔ 14 اگست کے ٹھیک اڑھائی ماہ بعد 29 اکتوبر کو شام کے وقت بازار سے گھر کی طرف آتے ہوئے موٹر سائیکل سوار نقاب پوشوں نے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔ وہ بازار جہاں انہیں شہید کیا گیا‘ اس سے قریب ہی پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا۔ زخمی لالہ غیاث نے رینگتے ہوئے پرچم کے سائے تلے پہنچ کر کلمہ پڑھا اور جام شہادت نوش کر لیا۔ اس روز کچھ ہی دیر پہلے لالہ حیدر حسنی کے ساتھ گھر کھانا کھانے آئے تھے اور کھانا کھا کر پھر چلے گئے تھے۔ نومبر 2008میں خاندان نے گھر کے سربراہ میرغلام رسول کی شہادت سے جو گھاؤ سہا تھا وہ لالہ غیاث کی شہادت سے ایک مرتبہ پھر تازہ ہو گیا۔ شہید لالہ گھر اور خاندان کی رونق ہی نہیں علاقے کے غریبوں اور مظلوموں کے لئے بھی اک سہارا تھا۔ وہ شہدائے وطن کے گھر والوں کی خبر گیری کرتا رہتا اور ان کا خیال رکھتا تھا۔ رشتے داروں کی خوشی غمی میں شریک ہوتا۔ غیاث لالہ نے امی سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ’’امی اگلے سال یعنی 2014میں آپ کو حج کے لئے اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔‘‘لیکن 2014سے پہلے ہی وہ عازم جنت ہو گیا۔ اس کی قربانی اللہ قبول فرمائے اور اللہ وطن عزیز کو دشمنوں سے محفوظ فرمائے۔

حمد

کیونکر نہ زباں پر ہو تحمید و ثنا تیری

دل محوِ نوا تیرا جاں مدح سرا تیری

آوازِ اناالحق سے غافل ہوں تو کیونکر ہوں

ہر ایک سرِ مُو سے آتی ہے صدا تیری

پُھولوں کی مہک میں تُو انجم کی جھلک میں تُو

وہ رنگِ وفا تیرا یہ شانِ ادا تیری

کُہسار و بیاباں میں گلشن میں خیاباں میں

خوشبو لئے پھرتی ہے ہر صبح صبا تیری

ظالم کی جفاؤں میں مظلوم کی آہوں میں

اندازِ جفا تیرا تصویرِ غِنا تیری

یہ پردے میں چھُپنے کے انداز نرالے ہیں

ہر ذرّے کے دامن میں رقصاں ہے ضیا تیری

اِس شانِ تغافل سے گمراہ ہزاروں ہیں

جس شانِ تغافل کو کہتے ہیں ادا تیری

ہم سے بھی گنہگاروں کو تیرا سہارا ہے

چھوڑے تو کرم تیرا پکڑے تو رضا تیری

صوفی تبّسم

24
March

مشرقی پاکستان‘ ہلی سیکٹر میں جوانمردی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجرمحمداکرم شہید نشان حید رکے بارے میں اُن کے بھائی ملک محمد افضل کی ہلال کے لئے خصوصی تحریر

میجر محمداکرم شہید ڈنگہ ضلع گجرات میں4 اپریل1938 کو اپنے ننھیال کے گھر پیدا ہوئے ۔ ان کا آبائی گاؤں نکہ کلاں جہلم سے بیس میل جنوب میں پنڈدادن خان روڈ پر واقع ہے۔ آپ کے والد محترم کا bahadri ka wo nishan2نام ملک سخی محمد تھا۔ ان کا تعلق اعوان برادری سے تھا۔ انہوں نے بھی فوج کی پنجاب رجمنٹ میں خدمات انجام دیں۔ وہ نیک سیرت اور نہایت ہی پرہیزگار انسان تھے میجر اکرم شہید کی والدہ ماجدہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ وہ بڑی باشعور اور دینی جذبے سے سرشار خاتون تھیں۔ دین کے بارے والدین کی تربیت کا یہ اثر ہوا کہ ان کے دو بیٹے ملک محمدافضل اور حفیظ اﷲ ملک حافظِ قرآن ہیں۔ اکرم شہید کی آبیاری بھی اسی دینی ماحول میں ہوئی۔ ان کی زندگی میں جو اخلاص تھا ‘جو دیانت رچی بسی تھی اور جو احسان و ایثار کا جذبہ تھا اس کا سرچشمہ گھر ہی تھا۔ انہوں نے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی۔ مڈل کلاس تک تعلیم انہوں نے نکہ کلاں کے قریب گاؤں چکری راجگان کے ہائی سکول سے حاصل کی۔ وہ 16 اگست1948 کو ملٹری کالج جہلم میں داخل ہوئے۔ ملٹری کالج جہلم کے ماحول اور اساتذہ کی تربیت سے ان کی زندگی میں مزید نکھار آنے لگا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ جلد ہی کھیل کے میدان میں اُن کے جوہر کھلنے لگے۔ ہاکی اور باکسنگ کا بڑا شوق تھا۔ وہ بہت اچھے باکسر تھے اور بڑی جرأت اور ہمت سے باکسنگ کرتے تھے۔ وہ کالج کی لائبریری میں حضرت خالد بن ولید‘ طارق بن زیاد اور محمدبن قاسم کے حالاتِ زندگی پر مبنی کتب کا مطالعہ کرتے۔ انہوں نے ان کی بہادری کے واقعات ازبر کئے ہوئے تھے اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی جستجو رکھتے تھے۔ وہ کالج میں اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ محنتی اور فرض شناس تھے۔ نماز پابندی سے پڑھتے تھے۔ اپنے اخلاق اور شرافت کی وجہ سے اپنے ہم جماعتوں میں بہت مقبول تھے۔

ملٹری کالج سے اکرم نے دوچیزیں حاصل کیں۔ ایک پڑھنے کا شوق دوسرے یہ کہ وہ یہاں سے آفیسر بننے کا عزم اور تصور لے کر گئے۔ اکرم شہید جولائی1953 میں کالج سے فارغ ہو کر پنجاب رجمنٹ bahadri ka wo nishan3کی بوائز کمپنی میں بھرتی ہوئے۔ ملٹری کالج سے آنے کی وجہ سے بوائز کمپنی اور پنجاب سنٹر میں اکرم ’کے جی‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ بوائز کمپنی میں ان کی کارکردگی اتنی شاندار رہی کہ ان کو پڑھائی‘ کھیلوں‘ شوٹنگ اور دوسری سرگرمیوں میں برتری کی بنا پر پہلے پلاٹون کمانڈر اور بعد ازاں بوائز کمپنی کمانڈر بنا دیا گیا جو ایک اعزاز کی بات تھی۔

دو سال بعد وہ ایک باقاعدہ سپاہی کی حیثیت سے 8 پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ یہاں انہوں نے ملٹری سپیشل امتحان پاس کیا جو کمیشن میں جانے کے لئے ضروری تھا اور انہوں نے کمیشن کے لئے درخواست دی۔ ناکامی ہوئی‘ لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ دوبارہ کوشش کی اور بالآخر ان کی کوششیں رنگ لائیں۔1961ء میں انہیں 28 پی ایم اے لانگ کورس کے لئے چُن لیا گیا۔ پی ایم اے میں جاتے ہی انہوں نے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے جگہ بنا لی۔ وہ پی ایم اے کی ہاکی ٹیم میں لئے گئے اور اس حیثیت سے انہوں نے دوبارہ انٹر اکیڈمی سپورٹس میں پی ایم اے کی نمائندگی کی۔ ایک بار پی اے ایف(P A F) اکیڈمی رسالپور میں اور دوسری بار پی این (PN)اکیڈمی کراچی سے کامیاب لوٹے۔ انہیں اکیڈمی کا ہاکی کلر بھی ملا تھا۔ ہاکی کے علاوہ زبردست نشانہ باز بھی تھے۔ اپنے کورس میں بہترین نشانہ باز کی ٹرافی بھی حاصل کی۔

13 اکتوبر1963ء کو انہیں کمیشن ملا اور سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان کا تقرر4 ایف ایف رجمنٹ میں ہوا جو اس وقت پشاور میں تعینات تھی۔ دو سال بعد انہیں کیپٹن بنا دیا گیا۔1965 کی جنگ میں انہوں نے ظفر وال سیکٹر میں دشمن سے پنجہ آزمائی کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جب آپ گھر چھٹی گئے تو آپ کی ہمشیرہ نے پوچھا کہ بہت سے افسروں اور جوانوں کو تمغے ملے ہیں آپ کو کیا ملا۔ جواب میں انہوں نے کہا میں نے کچھ نہیں کیا اس لئے مجھے کچھ نہیں ملا۔ لیکن بہن آپ دیکھنا جب وقت آئے گا تو وہ کام کروں گا کہ دنیا یاد رکھے گی۔bahadri ka wo nishan4

7 جولائی1968 کو ان کا تبادلہ(ای پی آر) ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوگیا اور وہ مشرقی پاکستان چلے گئے۔23 مارچ 70 تک وہاں رہے اس عرصے میں انہیں مشرقی پاکستان کے بڑے حصے کو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس قیام کے دوران انہوں نے بڑی تندہی سے بنگالی سیکھ لی۔ انہوں نے جس طرح وہاں کے حالات اور ماحول کا مطالعہ کیا اور جس ذوق سے بنگالی سیکھی وہ محض علمی یا ادبی تجسس نہ تھا اس قدر کاوش کی تہہ میں اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے اور اسلام اور پاکستان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کا جذبہ تھا۔

ای پی آر میں دو سال گزارنے کے بعد جب کیپٹن اکرم اپنی پلٹن 4 ایف ایف سیالکوٹ پہنچے تو سب نے مسرت اور گرم جوشی کا اظہار کیا۔ ستمبر1970 میں آپ کی یونٹ کوئٹہ پہنچی۔ وہاں جانے سے پہلے آپ نے جولائی اگست میں مری انٹیلی جینس کورس بھی کیا۔ کورس کے بعد انہیں میجر کے عہدے پر ترقی ملی اور وہاں کوئٹہ میں اپنی پلٹن سے جا ملے۔

31 مارچ71ء کو میجر اکرم یونٹ کے ساتھ ایک بار پھر مشرقی پاکستان پہنچے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں ان کی کمپنی ہلی کے مقام پر صف آراء ہوئی۔ ہلی کے علاقے کی حیثیت ایک شہ رگ کی سی تھی۔مشرقی پاکستان کے شمالی علاقوں میں متعین ساری فوج کی سپلائی لائن یہاں سے گزرتی تھی۔ دشمن کا یہ منصوبہ تھا کہ ہلی پر قبضہ کرکے شمال میں متعین فوج کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے اور سپلائی لائن کاٹ دی جائے۔ ہلی پر قبضہ کرنے کے لئے دشمن کے 202ماؤنٹین بریگیڈ کو دو ماؤنٹین رجمنٹس‘ آرٹلری کی ایک bahadri ka wo nishan5لائٹ بیٹری اور ایک میڈیم رجمنٹ (ایک بیٹری کم) اور T-55ٹینکوں کے ایک سکواڈرن کی مدد حاصل تھی۔ میجر اکرم 4 ایف ایف کی سی کمپنی کی کمانڈ کررہے تھے۔ انہوں نے اپنی کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے بھرپور حملوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف دشمنوں کو پیش قدمی سے روکے رکھا بلکہ اس کے کئی ٹینک تباہ کئے اور سخت جانی نقصان بھی پہنچایا۔ 4 اور5 دسمبر1971ء کی رات کو دشمن نے چار بار میجر اکرم کی کمپنی پر حملہ کیا لیکن ہر بار دشمن کو منہ کی کھانی پڑی۔ دشمن کا توپ خانہ اور ٹینک آگ اُگل رہے تھے۔ میجرمحمداکرم کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ دشمن کے ٹینکوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے۔ وہ ایک سپاہی کو ساتھ لے کر ایک40 ایم ایم راکٹ لانچر کے ساتھ دشمن کے ٹینکوں پر حملہ کرنے کے لئے آگے چلے گئے اور دشمن کے ٹینکوں کے عین سامنے سو گز کے فاصلے پر پوزیشن لی اور یکے بعد دیگر3 ٹینکوں کو تباہ کردیا۔ دشمن نے ایسا جوان کب دیکھا ہوگا جو سامنے آکر فائر کرے اور اپنی جان کی پروا بھی نہ کرے۔ وہ پندرہ دن تک مسلسل دشمن کے بار بار حملوں کو بہادری سے روکتے رہے۔ جب تک وہ زندہ رہے دشمن پاک سرزمین کے ایک انچ پر بھی قابض نہ ہوسکا۔ آخر دشمن کے ایک ٹینک کی براؤننگ گن کا براہِ راست فائر اُن کی دائیں آنکھ کے قریب لگا اور آپ کو 5دسمبر1971 صبح دس بجے ہلی کے مقام پر شہادت کا رتبہ نصیب ہوا۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنْ)

6 دسمبر1971ء کو یونٹ کے نائب خطیب نے ان کی نمازِ جنازہ بوگرہ میں پڑھائی اور انہیں ڈھاکہ روڈ پر بوگرہ شہر کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ میجر اکرم شہید کو وطنِ عزیز کا دفاع کرنے اور بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرنے پر حکومت نے انہیں بہادری کا سب سے بڑا اعزاز ’نشانِ حیدر‘ دیا۔ میجر اکرم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور آنے والی نسلوں میں جذبہ حُب الوطنی اورجذبہ جاں نثاری بڑھانے کے لئے ان کی یادگار شاندار چوک جہلم کے قریب تعمیر کی گئی ہے۔

 
24
March

ابھی تم خواب دیکھو فرض میں کچھ سال باقی ہیں

تم آنے والا کل ہو اور ہم سب حال باقی ہیں

مجھے بے انتہا غصہ ہے دل تک کانپ جاتا ہے

ابھی جانے نہیں دوں گا ابھی جو سانپ جاتا ہے

تم اپنے گھر میں پھر ماں سے کئے وعدے نبھاؤ گے

تم اپنی مسکراہٹ سے وہ آنگن پھر سجاؤ گے

کہیں ایسا نہیں ہوتا‘ کوئی ایسا بھی کرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

قلم کی نوک تھی میں نے دکھائی جب وہ آیا تھا

مرا تھا جو بڑا ہتھیار وہ میں نے چلایا تھا

کتاب آدھی پڑھی تھی جو کھلی رکھی ہوئی ہوگی

کتاب اب پڑھنے لائق ہے مرے خوں سے دُھلی ہوگی

کسی جنگل کا لگتا ہے شہر آنے والا ہے وہ

دُھلی لگتی ہیں سب آنکھیں نظر آنے لگا ہے وہ

میں جتنا سوچتا ہوں یہ مِرا اصرار بڑھتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

پتہ کیا پوچھتا ہے وہ کتابوں میں ملوں گا میں

کئے ماں سے ہیں جو میں نے کہ وعدوں میں ملوں گا میں

میں آنے والا کل ہوں وہ مجھے کیوں آج مارے گا

یہ اُس کا وہم ہوگا کہ وہ ایسے خواب مارے گا

تمہارا خون ہوں نا‘ اس لئے اچھا لڑا ہوں میں

بتا آیا ہوں دشمن کو کہ اُس سے تو بڑا ہوں میں

میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے بھی ڈرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

24
March

تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔

عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سواکچھ نہیں ہوتا۔

bano qudsia1جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔

رزقِ حلال کا پیغام اسلام کو باقی ادیان سے ممتاز کرتا ہے۔ یہی نقطہ راجہ گدھ لکھنے کی تحریک بنا۔

جب معاشرہ مکمل آزادی مانگے گا تو وہ مغرب کے رنگ میں ڈھل جائے گا۔

بانو قدسیہ عصر حاضر میں اردو ادب کی ایک معتبر ادیبہ ہیں۔ ان کی تخلیقات دنیائے ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں جو قارئین کے شعور سے ہم کلام ہوکر انہیں مقصد حیات سے آشنا کرتی ہیں۔ ان کی تحریریں اردو ادب کا حسن اور زندگی کی علامت ہیں۔ ہلال نے اکتوبر کے شمارے میں اشفاق احمد کی یادوں کے حوالے سے بانو قدسیہ کے ساتھ ایک گفتگو شائع کی گئی تھی جس میں ان کی اپنی شخصیت کے متعلق بات چیت نہیں گئی تھی جس کے پیش نظر بانوقدسیہ کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا جارہا ہے۔ اس انٹرویو میں زندگی اور اس سے منسلک اہم موضوعات پر بانو قدسیہ سے گفتگو کی گئی ہے جسے پڑھ کر بانو قدسیہ کی فکر اور نظریہ حیات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

سوال: کیا آج کا اُردو ادب‘ کلاسیکی ادب سے جُڑا ہوا دکھائی دیتا ہے یا یہ اپنی نئی راہیں متعین کرچکا ہے۔

جواب: اردو ادب نئی راہوں پر چل چکا ہے اوراپنی پچھلی راہوں کے ساتھ بھی متصل ہے۔ کوئی نئی راہ بذات خود نہیں بنتی جب تک پرانی راہ کا وجود نہ ہو۔ یقین کریں اگر آپ تاریخ کو بھلا دیں گے تو چار ہزارسالوں کی روایات اور کہانیاں ختم ہوجائیں گی، یہ باقی نہیں بچیں گی۔ سوجوکچھ آپ آج ہیں، اسی طرح چار ہزار سال پہلے کا آدمی بھی ہوگا ،یہ اس چیز کا عکاس ہے کہ انسان تاریخ سے جڑا ہوا ہے اور علیحدہ اس طرح کہ انسان ہر عہد میں نئی راہوں سے متعارف ہوجاتا ہے، نئی چیزیں سیکھتا ہے اور آگے کی جانب سفر جاری رہتا ہے۔

سوال : آپ کی نظر میں اچھا ادب اور ادیب کن خصوصیات کا حامل ہوتا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے ایک ہی خصوصیت ہے دونوں چیزوں کی اور وہ سچ ہے۔اگر سچ لکھے گا تو سچا ادیب ہوگا۔اس کا اپنا سچ ، مانگا ہوا سچ نہیں کہ فلاں مسلک سے متاثر ہوکر میں نے یہ سچ کہا، سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

سوال:جدید اردو ادب میں تصوف کی آمیزش واصف علی واصف، اشفاق احمد ، قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی اور آپ کے ہاں نمایاں ملتی ہے۔اس کے محرکات کیا تھے؟

جواب: ادب میں تصوف یا اس کے علاوہ کسی بھی نظریے کی آمیزش کی نہایت سادہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ لکھنے والے کا عملی زندگی میں جس طرح کے لوگوں سے ملنا جلنا اور رابطہ ہوتا ہے ان کی بودوباش، پرتَو اور عکس کسی نہ کسی سطح پر تخلیق کار کی تحریروں میں ضرور دکھائی دے گا۔ جہاں تک تصوف کی آمیزش کا تعلق ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ اس نظریے میں اتنی قوت ہے کہ یہ آنے والے دور میں بھی جاری رہے گا اور خود کو منوائے گا۔

سوال : اردو ادب گروہ بندیوں کا شکار رہا ۔ ترقی پسند تحریک اور پھر دائیں بازو یا بائیں بازو کے دانشور کی اصطلاح بھی رہی۔ آپ پراور اشفاق صاحب پر کسی گروہ کی کوئی خاص چھاپ دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟

bano qudsia2جواب: اس کی وجہ ہے کہ ہم اپنی سوچ سے منسلک رہے،ہم نے دائیں بائیں نہیں دیکھا کہ تحریکیں کیا چل رہی ہیں، ان کے ساتھ مل کر ہم نے مضبوط ہونے کی کوشش نہیں کی۔ دائیں یا بائیں بازو کی تحریک سے ہم اس لئے بھی منسلک نہیں ہوئے کیونکہ ہماری سوچ آپس میں ایک دوسرے سے منسلک تھی۔ تنقید نگار بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا ہم پر ایک دوسرے کی چھاپ بھی آئی ہے یا نہیں۔

سوال : اشفاق صاحب اور آپ کا ساتھ ایک عہد کی علامت ہے۔ اشفاق صاحب کی بحیثیت ادیب اور انسان کن خاص خاص یادوں کو ہمارے قارئین سے شیئر کرنا پسند کریں گی؟

جواب: میں نے اشفاق صاحب پرایک پوری کتاب ’’راہ رواں‘‘ لکھی ہے، اس کو پڑھ لیں، میری ساری یادیں، زندگی کے خوبصورت لمحات آپ تک پہنچ جائیں گے، آپ کو پتا چل جائے گا کہ میں ان کو کیسا انسان، ساتھی اور کیسا ادیب سمجھتی ہوں۔انہوں نے ہر لمحے میری رہنمائی کی بلکہ میںیہ کہو ں تو بہتر ہے کہ مجھے بنانے والے ہی اشفاق صاحب ہیں۔ میں اپنی کتاب میں یہ بات بہت تفصیل سے لکھ چکی ہوں۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو ایک دن صبح اشفاق صاحب کچن میں آئے، میں وہاں پر کھانا پکا رہی تھی، مجھے کہنے لگے: قدسیہ ذرا میرے پاس باہر آجائیے۔ مجھے لے کرلان میں چلے گئے وہاں دو کرسیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ ہم ان پر بیٹھ گئے، گفتگو شروع ہوئی تو اشفاق صاحب نے مجھے کہا کہ یہ جو سارا دن باورچی خانے میں وقت ضائع کرتی ہوکیا کوئی نوکرانی نہیں ہے ایسی جو کھانا وغیر ہ پکا سکے؟ میں نے کہا: جونی بہن ہیں وہ پکاتی ہیں،میں ان کی مدد کرتی ہوں، کہنے لگے یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ آپ ان کی مدد کرتی ہیں لیکن تم کیا کوئی اور کام کرسکتی ہو؟ میں نے کہا، سوچ کر بتاتی ہوں۔ ایک منٹ میں نے سوچا پھرمیں نے کہا ہاں میں لکھ سکتی ہوں شاید، کہنے لگے تو پھر لکھتی کیوں نہیں؟ میں نے کہا، پانچویں میں مَیں نے آخری افسانہ لکھا تھا۔ کہنے لگے کیا نام تھا اس کا؟ میں نے کہا فاطمہ، تو انہوں نے کہا کہ کل سے دوبارہ لکھنا شروع کرواور باورچی خانہ چھوڑ دو ہمیشہ کے لئے۔میں نے کہا، یہ میں کیسے کرسکتی ہوں تو بولے آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔ کہنے لگے ایک شرط اور ہے جس وقت آپ نے لکھنا ہے اس وقت کسی سے نہیں ملنا۔جس طرح اگر مچھلیوں کو ایک وقت پر کھانا ڈالنا شروع کریں تو وہ روز عین اسی وقت پر پانی کی سطح پر آتی ہیں، اسی طرح خیالات کی بھی روٹین بن جاتی ہے جب آپ چار بجے لکھنے بیٹھتے ہیں اور سوچنا شروع کرتے ہیں تو اسی وقت خیالات آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ نے اپنی روٹین نہیں توڑنی، اس وقت آپ کا باپ آئے ، والدہ آئے یا بھائی آئے آپ نے کسی سے نہیں ملنا، اسی میں کئی لوگوں کو میں نے ناراض بھی کیا لیکن اپنی روٹین کو میں نے قائم رکھا۔ اب دیکھ لیجئے پچیس کتابیں کیسے لکھی گئیں مجھے نہیں معلوم۔

سوال : راجہ گدھ اردو ادب کی ممتاز تخلیقات میں سے ایک ہے۔ راجہ گدھ میں کردار‘ معاشرہ اور انسانی اقدار ایک شعوری اور لاشعوری ارتقا کی حدود اور سمت کی جانب سفر کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ راجہ گدھ کے پیغام کو کس طرح مختصراً بیان فرمائیں گی۔

جواب: نئی نسل کو تو میں صرف اتنا بتانا چاہوں گی کہ راجہ گدھ عجیب طرح سے میرے اوپر نازل ہوئی۔ یہ اسی (80) کی دہائی کی بات ہے۔ امریکہ نے ہمیں مرعوب کرنے کے لئے ایک ایکسچینج پروگرام دیاجس میں کچھ پاکستانی ادیبوں کو امریکہ لے جایاجاتا اور وہاں کے کلچر سے متعارف کروایا جاتا۔پھر کچھ امریکی ادیب پاکستان آتے اور یہاں کے گھروں میں رہتے۔ اسی طرح اشفاق احمد امریکہ میں ہیس فیملی کے پاس ٹھہرے اور واپسی پر باب ہیس کو اپنے ساتھ لائے جسے ہمارے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ باب ہیس امریکیوں کی طرح اپنے آپ کو اعلیٰ مخلوق تصور کرتا تھا۔ جب صبح ناشتہ ہوجاتا bano qudsia3تو وہ روز مجھ سے سوال کرتا کہ اسلام باقی مذاہب سے اچھا اور برتر کیسے ہے؟ اس میں ایسی کون سی بات ہے جو باقی مذاہب میں نہیں ہے تومیں چونکہ تیار نہیں ہوتی تھی اس طرح کے سوالوں کے لئے، سو میں عورتوں کی طرح غلط سلط جواب دے دیا کرتی جو اس کو متاثر نہ کرپاتے ۔ میں کہتی اللہ ایک ہے تو وہ ہنسا کرتا اور کہتا کہ کیوں دوسرے مذاہب میں اللہ تین چار ہیں‘ میں لاجواب ہوجاتی۔ دوسرے دن کچھ اور اسی طرح کا سوال کرتا جن سے میں پریشان بھی ہوجاتی کہ اس کو کیا مناسب جواب دوں۔ ہمارے باغیچے میں سندری کا ایک درخت ہوتا تھاجس سے سارنگی بنتی ہے۔ ایک دن عصر اور مغرب کے درمیان میں وہاں کھڑی تھی تو میں نے دعا کی کہ اللہ پاک مجھے ایسا علم عطا کر جس سے میں اس کے تمام سوالوں کا جواب دے سکوں تو سندری کے درخت میں سے سارنگی کی آواز بولی: رزق حرام، رزق حرام، رزق حرام۔ میں سمجھ نہیں سکی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ درخت میں سے آواز آئی کہ اگر آپ اپنے بچوں کو رزق حرام کھلائیں گے تو آپ کی آنے والی نسلیں پاگل ہوجائیں گی، دیوانہ ہوجائیں گی۔ جب اگلے دن میری اس سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام نے ایک ایسا پیغام دیا ہے جو کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیا: کہنے لگا بتائیے کون سا، اس نے سر کے اوپر ایرانی ٹوپی پہن رکھی تھی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ رزق حرام نہ کھانا ورنہ تمہاری آنے والی نسلیں دیوانی ہوجائیں گی۔اور پھر وہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کرسکیں گی، وہ شراب بھی پئیں گے، وہ عورتوں کے پاس بھی جائیں گے اور وہ اپنے بچوں سے اچھا سلوک بھی نہیں کریں گے، سارے کام ہوں گے۔وہ کہتا ہے رُک جائیے، رُک جائیے۔ پھر وہ اُٹھا اور دروازہ کھول کر باہر چلا گیا، دس منٹ کے بعد اندر آیا اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ سندری کے درخت سے مجھے یہ فیض حاصل ہوا جس کو باب نے بھی مانا اور کہا کہ واقعی کسی اور مذہب میں یہ بات حکم کی صورت میں نہیں آئی۔ دوسرے دن صبح میں چھت پر صفائی کے لئے گئی، وہاں بارش ہورہی تھی۔ میں نے سوچا کوئی چیز بھیگ نہ رہی ہو، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک کاپی پڑی ہوئی تھی جس پر موٹا موٹا خوبصورت لکھا ہوا تھا راجہ گدھ اس کو میں نے اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔ سو چھت پر بیٹھ کر میں نے اس کتاب کو لکھا اور نئی نسل کے لئے راجہ گدھ کا پیغام بھی یہی ہے کہ رزق حلال سب سے بڑی نعمت ہے۔

سوال : آپ اپنے اب تک کے ادبی سفر کو کس طرح سے دیکھتی ہیں؟

جواب: یہ کام میرا نہیں ، یہ میرے پڑھنے والے اور تنقید نگاروں کا کام ہے کہ وہ میرے کام کو پرکھیں، اس پر رائے دیں۔اب میرا دل لکھنے کو نہیں کرتا ، میری آنکھیں خراب ہیں اور میرا چھوٹا بیٹا اسیر خان میرے ساتھ رہتا ہے جس کی زندگی میں نے تباہ کر رکھی ہے۔یہ اپنے سارے کام چھوڑ کر مجھے توجہ دیتا ہے اور میں ساری زندگی اس کی احسان مند رہوں گی کیونکہ اس نے اپنا سب سے قیمتی وقت، اپنی جوانی کا وقت میرے اوپر صرف کیا ہے۔

سوال : دورِ جدید میں آپ کیا سمجھتی ہیں کہ اُردو ادب کی کون سی صنف کا مستقبل زیادہ تابناک ہے۔ نئی نسل کا رجحان کس جانب زیادہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ ’سٹ کام‘ (Sitcom)کی طرف رجوع زیادہ ہے۔کیونکہ لوگ شام تک اپنی مصروفیات سے اس قدر تھک جاتے ہیں کہ وہ ہنسنا چاہتے ہیں، بولنا چاہتے ہیں، بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ صرف ایسی ہی چیزوں سے ہوسکتا ہے اور دوسرے ویڈیو ٹیکنالوجی کا دور ہے توسٹ کام ہی نسبتاًسب سے زیادہ مناسب جا رہا ہے۔ نئی نسل بھی اسی جانب راغب ہے اور نئی سوچ کو دیکھنا چاہتی ہے، موضوعات چاہے مشرق سے آئیں یا مغرب سے۔

سوال : آپ نے اب تک زندگی میں بہت کچھ لکھا بلکہ ماشاء اﷲ بہت زیادہ لکھا۔ کیا کوئی ایسا پراجیکٹ ہے جو آپ لکھنا چاہتی ہیں لیکن اب تک نہ لکھ پائی ہوں۔

جواب: میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ اپنے حساب سے تو میں نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے لیکن کچھ کتابیں سوجھ جائیں تو اسکے متعلق میں لکھ بھی لوں۔ میں مطالعہ تو کرتی ہوں لیکن اب زیادہ لکھ نہیں پاتی کیونکہ میری آنکھ کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے میں اچھی طرح سے دیکھ نہیں سکتی تو زیادہ توجہ سے کوئی کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔

سوال : آپ اُردو ادب کے مستقبل کو کیسا دیکھتی ہیں؟

جواب: مستقبل ہمیشہ درخشاں ہوتا ہے کیونکہ اردو بنانے والوں نے اس پر بہت محنت کی ہے اور عرصہ دراز سے اس کی تمام اصناف میں اچھا کام ہورہا ہے تو یہ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ اردو زبان کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ جس معیار کا ادب تخلیق ہورہا ہے اس کے بارے میں وہ نسل زیادہ بہتر رائے دے سکتی ہے جس کے لئے وہ لکھا گیا ہے۔اگر ان کو پسند آیا اور انہوں نے سمجھا معیاری ہے تو اچھا ادب ہوگا ورنہ نہیں۔شاعری ہو یا نثر دونوں اصناف میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے اور ہوتا آیا ہے، اس وقت یہ تنقید نگار بھی نہیں بتا سکتے کہ اچھا کام ہو رہاہے یا برا۔

سوال: ہماری قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عفریت کا سامنا ہے۔ کیا اس جنگ نے بین الاقوامی ادب اور بالخصوص پاکستانی ادب پرکوئی نقوش مرتب کئے ہیں۔؟

جواب: آپ کا کیا خیال ہے اثر نہیں آیا؟ نہیں ایسا بالکل نہیں۔ ہمارا ادیب دہشت گردی کی زد میں آیا ہے لیکن ہمارا ادب بہت متاثر ہونے والا نہیں ہے، وہ اپنی راہیں خود متعین کرلیتا ہے، راستے بنا لیتا ہے اور اپنی راہوں پر آگے نکل جاتا ہے۔بڑی شاہراہ سے چھوٹے راستے جنم لیتے ہیں، یہی صورت حال ہمارے اردو ادب کی ہے، نئے موضوعات نکل رہے ہیں، لیکن اردو ادب اپنی بنیادوں پر بھی قائم و دائم ہے۔

سوال :بانو آپا آپ نے روحانیت اور تصوف پر بہت لکھا۔ آپ اپنی زندگی کے اس حصے میں ہیں جہاں معرفت خدا آشنائی تک لے جاتی ہے۔آپ بتائیے کہ یوں تو حقیقی خدا کی تلاش بہت سے انسانوں کی جستجو رہی ہے ، مگر آپ کے خیال میں خدا تک پہنچنے کا عملی راستہ کیا ہے؟

جواب: خدا تک پہنچنے کا جو عملی راستہ ، صوفیائے کرام کے ہاں ملتا ہے وہ مخلوقِ خدا سے محبت کا راستہ ہے۔اشفاق صاحب کا اور میرا‘ جس طرح کے بزرگوں سے رابطہ رہا اُنہوں نے کبھی بھی ہمیں وظائف نہیں بتائے، چلہ کشی کی طرف راغب نہیں کیا۔وہ صرف ایک ہی بات پر زور دیتے تھے کہ مخلوقِ خدا کا خیال رکھو،وہ فرمایا کرتے تھے ’’تمہارے ہاتھ گندے اور دل صاف ہونا چاہئے۔‘‘مخلوق کی خدمت میں ہاتھ گندے اور دل کی صفائی سے مراد یہ کہ آپ کا دل ہر طرح کے حسد، کینہ، رنجش، گلے شکووں سے پاک ہونا چاہئے۔ حضرت اویس قرنی ؒ سے کسی نے پوچھا’’ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مرتبے سے نوازا ہے ، تو آپ نے کون سے ایسے وظائف کئے ہیں ہمیں بھی بتائیے۔‘‘ آپؒ نے فرمایا کہ میں نے تو کوئی وظائف نہیں کئے ، میں نے تو ساری زندگی صرف اپنی ماں کی خدمت کی ہے‘‘۔صوفیا کرام فرماتے ہیں کہ جب آپ کے سامنے کوئی سوال پیش کیا جاتا ہے تو اس سوال کا تعلق علم وادب کے علاوہ ضرورت اور مدد سے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔ دراصل اس سوال کی صورت میں خدا کا خط آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہوتا ہے ، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس سوال کا جواب کس طریقے اور سلیقے سے دیتے ہیں۔

سوال:معیشت ، معاشرت اور روحانیت انسانی زندگی کے اہم جزو ہیں۔ یہ آپس میں کس طرح مربوط ہیں؟

جواب: معیشت، معاشرت اور روحانیت بلاشبہ انسانی زندگی کے بہت اہم جزو ہیں، یہ تمام اجزاء آپس میں کس طرح مربوط ہیں، اس کا فہم و ادراک ہمیں اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب ہم روحانیت کوعملی طور پر اپناتے ہیں۔ عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔

سوال:عورت اور مردکا رشتہ آپ کیسے بیان کریں گی؟

جواب: عورت اور مرد کے رشتے سے متعلق میرا بیان میری تحریروں میں واضح طور پر موجود ہے۔ میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں ایک عرصے سے لکھتی آرہی ہوں کہ عورت خالص عارفِ دنیا ہوتی ہے اور مرد عارفِ مولا ہوتا ہے۔ عورت کی دلچسپی اور لگاؤ کا رجحان مرد کی نسبت اپنے بچوں کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ جو مرد، عورت کے بچوں سے لگاؤ کا اظہار کرتا ہے وہ عورت کے دل کا دروازہ کھول کر مکمل طور پر اس میں داخل ہو جاتا ہے۔ عموماً مرد ایسا نہیں کرتے، مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔ ماں کے سواباقی رشتوں میں عورت، مرد کے رستے میں حائل ہی رہتی ہے۔ اگر مرد کسی طورخانگی زندگی کے بکھیڑوں سے خود کو بچانے میں کامیاب ہو جائے تو پھر وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا ۔ اس کی بلند پروازی لامحدود رفعتوں سے آشنا ہوتی جاتی ہے۔

سوال : خاندان کی فعالیت معاشرے کے عمومی توازن کے لئے کتنی ضروری ہے اور موجود ہ دور میں خاندان کو منتشر ہونے سے کیسا روکا جائے؟

جواب: خاندان کی فعالیت معاشرے کے توازن کے لئے بے حد وحساب ناگزیر ہے، مگر موجودہ عہد میں خاندان میں توازن قائم رکھنا دشوار ہو تا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اس مسئلے کو اس نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ کنبے بڑے ہوتے جا رہے ہیں اور ان کے رہنے کے لئے جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ تنگی داماں نے وسعتِ نظر پر بڑے بُرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ مگراس سلسلے میں اشفاق صاحب اور میرا نقطہ نظر شروع سے یہی رہا ہے کہ تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ میرے خیال میں ہمارا فوکس تعلیم کے ساتھ تربیت پر ہونا چاہئے ، اس سے توازن بھی برقرار رہے گا ، خاندان اور معاشرہ ہر طرح کے انتشار سے بھی محفوظ رہے گا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سبھی کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے

(آمین)

سوال: نوجوان لڑکیوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی جس سے وہ انفرادی اور معاشرتی سطح پر آگے بڑھ سکیں؟

جواب: دیکھیں جو انسان اپنی معاشی یا معاشرتی مسائل کا ذکر کرتے ہیں وہ عموماً حکم نہ ماننے والے لوگ ہوتے ہیں، جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا عورتیں اکثر اپنے شوہروں سے لڑتی جھگڑتی رہتی ہیں، اگر وہ ان کو مجازی خدا سمجھ لیں تو سارے مسائل ہی حل ہوجائیں، اور لڑکیوں کو بھی یہی طرز عمل رکھنا چائیے ، جتنا لڑنا ہے شادی سے پہلے ماں باپ سے لڑلیں کہ میں نے اس سے شادی نہیں کرنی کسی اور سے کرنی ہے۔ لیکن شادی ہوجانے کے بعد لڑائی کرنا ٹھیک نہیں، شوہر مجازی خدا ہوتا ہے اس کی بات ردکرنا ٹھیک نہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بات ماننے سے زندگی میں برکتیں آ جاتی ہیں۔

اﷲ پاک کی توفیق حاصل ہو تو زندگی میں سلیقہ آ جاتا ہے۔

سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

19
March

میجر طیب عزیز شہید کی اہلیہ محترمہ عائشہ طیب کے قلم سے ہلال کے لئے خصوصی تحریر

طیب شہید کا رتبہ بلند‘ اُن کا مقام اعلیٰ ہے یہی ایک سوچ ہے جو ہمیں حوصلہ دیتی ہے کہ آنسو نہ بہائیں۔ یہی وجہ تھی کہ شہادت پہ نہ کسی کو بین کرنے دیا اور نہ زور سے رونے دیا کہ یہ رتبہ ہر کسی کا مقدر نہیں۔ اسی سوچ نے ہر مشکل گھڑی میں کھڑے رہنے اور ہمت نہ ہارنے کا حوصلہ دیا۔ ہر لمحہ جب اُن کی اشد ضرورت محسوس ہوئی تو اسی جذبے سے دل کی ڈھارس بندھی کہ ہم شہدا ء کے وارث ہیں۔

26 ستمبر2008 جمعۃ المبارک اور ماہِ رمضان عام لوگوں کے لئے محض ایک تاریخ ہے جو آئی اور گزر گئی‘ مگرہمارے لئے اس کے معانی بہت کٹھن اور انمٹ ہیں کہ یہ ایسا دن اور ایسی تاریخ ثابت ہوئی جس نے ہمارے زندگی کا رُخ ہی موڑ دیا۔ میرے لئے 26ستمبر عام دن نہیں۔ یہ وہ دن ہے جس دن میرے ہم سفر طیب نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی شہادت برحق ہے وہ تو اس عظیم مرتبے پرفائز ہو گئے کہ ہم اُن کی شہادت پررشک کرتے ہیں۔ لیکن آنکھ کا اشک بار ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ان کی شہادت بھی ایک حقیقت ہے مگر اس دل کا کیا کیجئے جو مانتا ہی نہیں کہ ہم اس ہستی سے محروم ہوگئے ہیں جو انتہائی شفیق‘ ملنسار اور پیار کرنے والی تھی۔ فاطمہ اورعنائیہ ( وہ بیٹی جو دنیا میں اُن کی شہادت کے بعد آئی) نہیں جانتیں کہ باپ کی شفقت کسے کہتے ہیں اور باپ کیسا ہوتا ہے۔ اُن کے وہم و گمان میں بھی وہ الفت نہ ہوگی جو باپ اپنی بیٹیوں سے کرتے ہیں۔ مگر نہیں ان کا باپ زندہ ہے کہ وہ شہید ہے۔ ہمیں شعور بھلے نہ ہو‘ مگر حق یہی ہے کہ وہ امر ہے۔

ترجمہ: اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کا شعور نہیں۔

(سورۃ البقرہ آیت 154)

طیب عزیز اپنے نام کی تفسیر اور اپنوں کا عزیز اور پیارا تھا اور ہمیشہ رہے گا۔

طیب 12مارچ1977 کو باغ آزاد کشمیر کے ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد کرنل محمد عزیز خان بھی ایک فوجی افسر تھے جو اُن کے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے‘ ہر فوجی گھرانے کی روایت کی طرح اُن کے بڑے (مرحوم) بھائی کی شدید خواہش تھی کہ طیب بھی آرمی آفیسر بنیں۔ طیب نے بھی انتہائی جانفشانی اور محنت سے اُن کی اس آرزو کو پورا کرنے کے لئے دن رات محنت کی اور برن ہال سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدPMA کے لئے منتخب ہو گئے۔پاسنگ آؤٹ کا دن والدہ اور گھر والوں کے لئے باعثِ فخر تھا۔ طیب نے پاس آؤٹ ہونے کے بعد اپنے والد کی پیروی کرتے ہوئے اُن کی یونٹ 10 اے کے رجمنٹ جوائن کی جو اُن ایام میں بجوات سیکٹر میں تعینات تھی۔ اُن دنوں دشمن کے تیور کافی بگڑے ہوئے تھے اور گولہ باری روزانہ کا معمول تھا۔ یوں آغاز سے ہی وہ معرکہ حق و باطل میں حصہ دار بنے اور اپنی یونٹ کے ساتھ دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔

فاطمہ اورعنائیہ ( وہ بیٹی جو دنیا میں اُن کی شہادت کے بعد آئی) نہیں جانتیں کہ باپ کی شفقت کسے کہتے ہیں اور باپ کیسا ہوتا ہے۔ اُن کے وہم و گمان میں بھی وہ الفت نہ ہوگی جو باپ اپنی بیٹیوں سے کرتے ہیں۔ مگر نہیں ان کا باپ زندہ ہے کہ وہ شہید ہے۔ ہمیں شعور بھلے نہ ہو‘ مگر حق یہی ہے کہ وہ امر ہے۔

اپنی عسکری زندگی کے شروع سے ہی طیب انتہائی جاں فشانی سے اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں مصروف رہے۔ 2004 تک اپنی یونٹ کے ساتھ پنوں عاقل میں بھی رہے۔ بعد ازاں 2 سال کی مدت کے لئے یو این مشن کے ساتھ لائبیریا میں تعینات رہے۔ اسی دوران اکتوبر2005 میں جب قیامت خیززلزلہ آیا تو آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے کی بناء پر رخصت پر واپس آئے۔ ان دنوں 10 اے کے رجمنٹ ریلیف ورک کا حصہ تھی۔ چنانچہ طیب نے بھی امدادی کارروائیوں میں دن رات ایک کرکے اپنے لوگوں سے تعلق کا حق صحیح معنوں میں ادا کیا جس کا ثبوت اُن کی شہادت پر اُن تمام دور دراز کے رہائشی لوگوں کا اجتماع تھا جو اپنے سپوت کو آخری نذرانہ پیش کرنے اور اُن کا آخری دیدار کرنے کے لئے اُن کا جسدِ خاکی باغ پہنچنے سے پہلے موجود تھے۔

یواین سے واپسی کے بعد2006 میں ان کی پوسٹنگ سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کوئٹہ میں بطورِ انسٹرکٹر ہوئی۔ جہاں سے ان کو اکتوبر2007 میں یونٹ کے ساتھ بنوں پوسٹ کیا گیا جو اُن کے فوجی کیریئر کی آخری پوسٹنگ ثابت ہوئی۔ وہیں سے باجوڑ آپریشن کے لئے روانہ ہوئے اور ایسے گئے کہ جامِ شہادت نوش کرکے ہی پلٹے۔ باجوڑ میں لوئی سم وہ مقام ہے جہاں انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس مقام پر اُن سے منسوب ایک چیک پوسٹ ہے۔ جس دن سے طیب باجوڑ کے لئے بنوں سے روانہ ہوئے اُس دن سے کسی لمحہ قرار نہ تھا۔ ہر رات اُن کی خیریت کے فون کا انتظار اور پھر فون کے بعد چند لمحوں کا قرار اور پھر سارا دن اگلی کال کا انتظار جو بالآخر26 ستمبر2008 بمطابق 25رمضان المبارک کے افطار سے کچھ دیر پہلے اُن کی شہادت کی اطلاع پر اختتام پذیر ہوا۔

طیب شہید کا رتبہ بلند‘ اُن کا مقام اعلیٰ ہے یہی ایک سوچ ہے جو ہمیں حوصلہ دیتی ہے کہ آنسو نہ بہائیں۔ یہی وجہ تھی کہ شہادت پہ نہ کسی کو بین کرنے دیا اور نہ زور سے رونے دیا کہ یہ رتبہ ہر کسی کا مقدر نہیں۔ اسی سوچ نے ہر مشکل گھڑی میں کھڑے رہنے اور ہمت نہ ہارنے کا حوصلہ دیا۔ ہر لمحہ جب اُن کی اشد ضرورت محسوس ہوئی تو اسی جذبے سے دل کی ڈھارس بندھی کہ ہم شہدا ء کے وارث ہیں اور یہ رتبہ بھی متقاضی ہے کہ ہم اپنے شہید کی طرح اُن مسائل اور مشکلات کے آگے ڈٹ جائیں جیسے وہ دشمنوں کے آگے سینہ سپر ہوئے۔ طیب کی شہادت کے بعد2010 میں انہیں حکومت کی طرف سے ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔ جو ہم سب کے لئے عزت و وقار کا باعث ہے۔

بیٹے کی یاد میں

میجر خالد شہید کی اہلیہ محترمہ عطیہ خالد کی پشاور کے شہداء کے لئے ایک نظم

دیکھ کے خالی بچپن کا وہ جھولا تیرا

چھو کے ہر ایک ایک کھلونا تیرا

بیتے حسین لمحوں کو یاد کرتی ہے

کہ تیری یاد مجھے سرشار کرتی ہے

گرنا وہ اٹھا کے پہلے قدم کا تیرا

ماں کہہ کر پکارنا وہ ہردم تیرا

ماں تجھے یاد کرتی ہے

تو کہیں سے آ جائے فریاد کرتی ہے

بستہ‘ یونیفارم اور وہ لنچ بکس تیرا

ہر دم دکھائی دیتا ہے مجھے عکس تیرا

انجینئر بن کے خدمت کرنے کا وہ عزم تیرا

مگر چھوڑ کے یوں چلے جانا وہ بزم تیرا

لمحہ لمحہ وہ دن یاد کرتی ہے

توکہیں سے آ جائے یہ فریاد کرتی ہے

رائیگاں نہ جائے خون کا کوئی قطرہ تیرا

عطیۂ خداوندی ہے شہادت کا رتبہ تیرا

قوم کی حیات کہہ کے تجھے یاد کرتی ہے

کہ تیری یاد مجھے سرشار کرتی ہے

ماں تجھے یاد کرتی ہے

تو کہیں سے آ جائے فریاد کرتی ہے

19
March

سرسید کی حکمت عملی کے دو رُخ تھے۔ ایک رُخ برطانوی حکمرانوں کی جانب تھا۔ سرسید نے ان پر جغرافیائی و سیاسی حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کردی کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک براعظم ہے۔ یورپ کے ملکوں کی طرح اس برصغیر کے مختلف ملکوں میں بھی ہر ملک کا اپنا اپنا ایک جمہوری نظام ہے اور یہ سچی جمہوریت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔ دوسرا رُخ اسلامیان ہند کی جانب تھا جنہیں سرسید نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے بار بار اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا کہ دینِ اسلام سے ہماری گہری اور اٹوٹ وابستگی ہی ہماری انفرادی اور اجتماعی ہستی کا امتیازی نشان ہے۔

اگر ہم اپنی ہزار سالہ قومی تاریخ پر ایک گہری نظر ڈالیں تو ہمیں احساس ہوگا کہ اللہ نے ہماری اجتماعی ہستی کو تین مختلف ادوار میں درپیش موت کے خطرات کی نشاندہی اور ان خطرات سے پنجہ آزمائی کی خاطر عہد بہ عہد تین مردان حق کو بروقت خبردار کیا۔ جب یہ مردان کار خبردار ہو گئے تو پھرچین سے نہ بیٹھے اور اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر اپنے اپنے وقت کے جہانگیروں اور جہانداروں کے سامنے ڈٹ گئے۔ قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں جب شہنشاہ اکبر نے اپنی سیاسی مصلحت کے پیش نظر ہندوؤوں اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ دینی شناخت دینے کی خاطر اپنا دینِ الٰہی نافذ کیا تو نقش بندی صوفیاء حضرت مجدد الف ثانی ،شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں مسلمانوں کی جداگانہ دینی شناخت کی بقاء کی خاطرسرگرمِ عمل ہو گئے۔ اس سرفروشانہ جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے وقت اقبالؒ نے حضرت مجدد الف ثانیؒ کو ان لفظوں میں یاد کیا ہے

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے

جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان

اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

جو سیاسی کارنامہ حضرت مجدد الف ثانی ؒ نے نہایت جرأت و ایثار کے ساتھ قرون وسطیٰ کے ہندوستان میں سرانجام دیا تھا‘ وہی کارنامہ انیسویں صدی کے ہندوستان میں سرسید احمد خاں نے سرانجام دیا۔ جب 1857ء میں بلاد اسلامیہ ہند نے برطانوی ہند کا نیا قالب اختیار کیا تو اسلامیان ہند انگریزوں کے عتاب اور ہندوؤں کے عناد میں گھِرکر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گئے۔ ایسے میں اللہ نے سرسید احمد خاں کو بروقت خبردار کیا، ان کے دل کو بیم وریا سے پاک کیا اور یوں وہ قوت فرمانروا کے سامنے بھی ڈٹ گئے اور زوال پسند مسلمان قیادت کے سامنے بھی۔ پھر بیسویں صدی میں سرسید احمد خاں ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے علامہ اقبال نے اپنے شعلہ آواز سے خرمن باطل کو جلا کر رکھ دیا۔ میں ان تینوں یگانہ روزگار ہستیوں کو برصغیر میں جداگانہ مسلمان قومیت کا معمار اور پاکستان کا فکری بانی شمار کرتا ہوں۔

1930ء میں ہندی مسلمانوں کی سیاست ایک ایسی اندھی گلی میں بند ہو کر رہ گئی تھی جہاں بے بس اور لاچار مسلمان اقلیت کی سیاست ہندو اکثریت سے تحفظات کی بھیک مانگنے کے عمل سے عبارت ہو کر رہ گئی تھی۔ پہلی گول میز کانفرنس میں شریک مسلمان مندوبین نے بھی ایک متحدہ ہندوستانی قومیت کی بنیاد پر اکھنڈ بھارت کے لئے آئینی خاکہ منظور کر لیا تھا۔ ایسے میں اقبالؒ نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک الگ قوم ہیں۔ اس تصور نے برصغیر کی مسلمان سیاست کواقلیت کی سیاست کی اندھی گلی سے نکال کر پاکستان کی شاہراہ پر ڈال دیا۔ اقبال کے اس بروقت اعلان نے انگلستان کے ایوان اقتدار میں ایک زلزلہ سا برپا کر دیاتھا۔ دی ٹائمز لندن نے اگر اپنے ایڈیٹوریل میں اس تصور کو ایک پان اسلامک سازش قرار دیا تھا تو انگلستان کے وزیراعظم سرریمزے میکڈونلڈ (Sir Ramsay Mac Donald)نے اس تصور کو اقبال کی ایک خطرناک شرارت سے تعبیر کیا۔ اقبال نے انگلستان کے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا

"The Prime Minister of England refuses to see that the problem of India is international and not national. The model of British democracy cannot be of any use in a land of many nations."

دس برس بعد لاہور میں قرارداد پاکستان منظور کرنے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے یہی خیال کم و بیش انہی لفظوں میں یوں پیش کیا

"The problem in India is not of an intercommunal character but manifestly of an international one, and it must be treated as such."

یہاں علامہ اقبال اور قائداعظم نے سرسید کے کردار سے پھوٹنے والی اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ بندۂ مومن قوت فرمانروا کے سامنے ہمیشہ بے باک رہتا ہے۔ حکمرانوں کے سامنے یہ بے خوفی اور یہ بیباکی بہت بڑی بات ہے مگر سرسیّد کا فیضان یہیں تک محدود نہیں ہے۔ قائداعظم کااستدلال اقبال سے ماخوذ ہے تو اقبال نے یہ استدلال سرسیّد کے ان آخری مضامین سے اخذ کیا ہے جن میں سرسید مرحوم نے مسلمانوں کوانڈین نیشنل کانگرس سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ اپنے ایک مضمون میں سرسید احمد خاں برطانیہ کی کنزرویٹو اور لبرل، ہر دو پارٹیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس صداقت کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ: ’’برطانوی ہند انگلستان کی طرح ایک چھوٹا سا ملک نہیں ہے بلکہ ایک برصغیر ہے جس میں بھانت بھانت کے اور باہم متصادم لسانی، نسلی اور تہذیبی گروہ موجود ہیں۔ انڈین نیشنل کانگرس کے اغراض و مقاصد تاریخ کی اس صداقت سے لاعلمی اور برطانوی ہند کے زمینی حقائق سے ناآشنائی کا شاخسانہ ہیں۔ کانگرس اسلامیان ہند کے خواب و خیال کی کسی صورت میں بھی ترجمان نہیں ہے۔‘‘

یہ بنیادی جغرافیائی اور تہذیبی صداقت سرسید احمد خاں سے لے کر قائداعظم محمد علی جناح تک مسلسل بدلتے ہوئے سیاق وسباق میں ہرعہد کی اپنی اصطلاحات میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔ جب1885ء میں برطانوی افسر شاہی کے ایک سابق رکن لارڈ ہیوم نے وائسرائے ہند لارڈ ڈفرن(Lord Dufferin) کے تعاون سے انڈین نیشنل کانگرس کا ڈول ڈالا تو سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کو بروقت خبردار کرتے ہوئے اس اینگلوانڈین تنظیم سے خود کو دور رکھنے کا مشورہ دیا۔ کانگرس کے ایک سرکردہ رہنما بدرالدین طیب جی سے سرسید احمد خاں نے سوال کیا کہ

یہ وہ زمانہ تھا جب سوامی دیانند سرسوتی (پنجاب اور یوپی) بال گنگادھرتلک (مہاراشٹر) اور کیشب چندر سین (بنگال) جیسے ہندو انتہا پسند مسلمانوں کی آمد سے پہلے کی ہندو تاریخ اور ہندو مائیتھالوجی سے ہندوستانی قومیت کا خمیر تیار کرنے میں مصروف تھے۔ متحدہ ہندوستانی قومیت کے ان اوّلین نظریہ سازوں کو اردو زبان کا قرآنی رسم الخط اور اس کے عربی فارسی ذخیرہ الفاظ سے ایسی نفرت ہو گئی تھی کہ انہوں نے سن اٹھارہ سو سڑسٹھ میں اردو کو دیوناگری رسم الخط اور سنسکرت لفظوں کی بھرمار سے ہندی بنا دینے کی تحریک شروع کر دی تھی۔ مسلمانوں نے اس تحریک کو اپنی تہذیبی شناخت پر حملہ تصور کیا اور اردو کی بقا کے لئے سرگرمِ عمل ہو گئے۔ ہندی اردو تنازعے کو ہندو مسلمان تہذیبی تصادم کا رنگ پکڑتے دیکھ کر سرسیّد نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ دونوں قومیں اب کبھی اکٹھی نہ رہ سکیں گی۔

’’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ نیشنل کانگرس کے معنی کیا ہیں؟ اس کا یہ مطلب سمجھا جائے کہ مختلف ذاتوں اور ملکوں کے لوگ جو یہاں بستے ہیں ایک قوم ہیں یا ایک قوم بن سکتے ہیں اور ان کے مقاصد اور جذبات میں یکسانیت ہے؟ میرے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں ہے اورجب یہ ناممکن ہے تو پھر نیشنل کانگرس قسم کی کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی اور نہ اس سے سب کو یکساں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ میں ہر ایسی کانگرس کے خلاف ہوں‘ خواہ اس کی شکل و صورت کچھ ہی کیوں نہ ہو‘ جو غلط تصورات پر مبنی ہو۔ یعنی پورے ہندوستان کو ایک قوم سمجھتی ہو‘‘ (تفصیلات کے لئے دیکھئے جامعہ نئی دہلی، جلد95، شمارہ نمبر 7 تا 12)۔ اسی زمانے کی ایک تقریر میں سرسید نے مسلمان نوجوانوں کے ایک اجتماع میں یہ سوال اُٹھایا تھا: ’’اے عزیز بچو! اگر کوئی آسمان کا تارہ ہو جاوے اور مسلمان نہ رہے تو ہم کو کیا۔ وہ تو ہماری قوم ہی نہ رہا۔ پس اسلام کو قائم رکھ کر ترقی کرنا قومی بہبودی ہے۔۔۔۔‘‘

سرسید احمد خاں نے اپنی مومنانہ فراست سے یہ جان لیا تھا کہ انگریز حکمران یہ چاہتے ہیں کہ جب انہیں برصغیر سے رخصت ہونا پڑے تو وہ اپنے پیچھے ایک ایسا اینگلو انڈین حکمران طبقہ چھوڑ جائیں جو ہندوستان کی سامراجی وحدت کو قائم رکھتے ہوئے مغربی سامراج کی جانشینی کے فرائض سرانجام دے سکے۔ سرسید نے یہ جان لیا تھا کہ اگر انگریزوں کا یہ خواب پورا ہو گیا تو ہندی مسلمان ایک دائمی اقلیت ہو کر رہ جائیں گے اور ان کی سیاسی اورتہذیبی ہستی ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے ہندی مسلمانوں کو اس صورتحال سے بچانے کے لئے باقاعدہ علمی و عملی منصوبہ بندی کی۔ سرسید کی حکمت عملی کے دو رُخ تھے۔ ایک رُخ برطانوی حکمرانوں کی جانب تھا۔ سرسید نے ان پر جغرافیائی و سیاسی حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کردی کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک برصغیر ہے۔ یورپ کے ملکوں کی طرح اس برصغیر کے مختلف ملکوں میں بھی ہر ملک کا اپنا اپنا ایک جمہوری نظام ہے اور یہ سچی جمہوریت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔ دوسرا رُخ اسلامیان ہند کی جانب تھا جنہیں سرسید نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے بار بار اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا کہ دینِ اسلام سے ہماری گہری اور اٹوٹ وابستگی ہی ہماری انفرادی اور اجتماعی ہستی کا امتیازی نشان ہے۔ ’’میرے تمام بچے طالب علم جو کالجوں میں پڑھتے ہیں اور جن کے لئے میری آرزو ہے کہ وہ یورپ کے سائنس اور لٹریچر میں کامل ہوں اور تمام دنیا میں اعلیٰ شمار کئے جائیں ان دو الفاظ لاالٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کو نہ بھولیں۔‘‘ یہی بات اقبال نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو بار بار ذہن نشین کرائی کہ اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے اور تازہ کن با مصطفی پیمان خویش!۔ اپنے متذکرہ بالا خطاب سے بارہ برس پہلے سرسیّد کو یقین ہو گیا تھا کہ: ’’دونوں قومیں کسی کام میں دل سے شریک نہ ہو سکیں گی، ابھی تو بہت کم ہے آگے آگے اس سے زیادہ مخالفت اور عناد، ان لوگوں کے سبب جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں، بڑھتانظر آتا ہے۔‘‘

حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اس پر وہ ظلم نہ کرے اور نہ ہی اس کو ہلاکت میں ڈالے بلکہ مصیبت کے وقت اس کی مدد کرے اور جو کوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا اﷲ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرے گا اور جو کوئی مسلمان کی مصیبت دور کرے گا قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس سے مصائب دور رکھے گا اور جو مسلمان کے عیب چھپائے اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے عیب چھپائے گا۔بخاری شریف۔ حدیث نمبر: 2272

سرسید نے اپنے اس خیال کا اظہار اپنے ایک انگریز دوست مسٹر شیکسپیئر سے ہندی اردو تنازعے کے احوال و مقامات پر گفتگو کے دوران کیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سوامی دیانند سرسوتی (پنجاب اور یوپی) بال گنگادھرتلک (مہاراشٹر) اور کیشب چندر سین (بنگال) جیسے ہندو انتہا پسند مسلمانوں کی آمد سے پہلے کی ہندو تاریخ اور ہندو مائیتھالوجی سے ہندوستانی قومیت کا خمیر تیار کرنے میں مصروف تھے۔ متحدہ ہندوستانی قومیت کے ان اوّلین نظریہ سازوں کو اردو زبان کا قرآنی رسم الخط اور اس کے عربی فارسی ذخیرہ الفاظ سے ایسی نفرت ہو گئی تھی کہ انہوں نے سن اٹھارہ سو سڑسٹھ میں اردو کو دیوناگری رسم الخط اور سنسکرت لفظوں کی بھرمار سے ہندی بنا دینے کی تحریک شروع کر دی تھی۔ مسلمانوں نے اس تحریک کو اپنی تہذیبی شناخت پر حملہ تصور کیا اور اردو کی بقا کے لئے سرگرمِ عمل ہو گئے۔ ہندی اردو تنازعے کو ہندو مسلمان تہذیبی تصادم کا رنگ پکڑتے دیکھ کر سرسیّد نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ دونوں قومیں اب کبھی اکٹھی نہ رہ سکیں گی۔

بھارت کے ایک مسلمان دانشور جناب مشیر الحق نے اپنے ایک مضمون ’’سرسید اور ہندوستانی قومیت‘‘ میں ہمیں مشورہ دیا ہے کہ ہم سرسید کی مسٹر شیکسپیئر کے ساتھ مندرجہ بالا گفتگو میں لفظ ’قوم‘ کو انگریزی لفظ ’نیشن‘ کا ہم معنی سمجھنے سے گریز کریں۔ چلئے، ہم ان کا یہ مشورہ مان لیتے ہیں مگر سرسید کے اس خط کا کیا بنے گا جو انہوں نے بدرالدین طیب جی کے خط کے جواب میں لکھا تھا اور جس میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ہر اس کانگرس کے خلاف ہیں جو ’’پورے ہندوستان کو ایک قوم (نیشن) سمجھتی ہو‘‘۔۔۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ خود سرسید نے اردو لفظ قوم کا مفہوم متعین کرنے کی خاطر انگریزی لفظ نیشن بھی لکھ دیا۔

تحریک خلافت کی ناکامی کے بعد ایک مرتبہ پھر قوم اور نیشن کے مفہوم کو الجھا کر متحدہ ہندوستانی قومیت کے نظریہ کو مقبول عام بنانے کی کوششوں نے زور پکڑ لیا تھا اور مسلمان عوام کو مذہبی استدلال کے ساتھ ساتھ ہندوستانی قومیت پر ایمان لے آنے کے مشورے دیئے جانے لگے تھے۔ ایسے میں اللہ نے اقبال کو بروقت خبردار کیا اور انہوں نے اپنے خطبہ الٰہ آباد 1930ء میں دو ٹوک اعلان کیا کہ مسلمان جدید معنوں میں ایک الگ قوم ہیں۔ جدید معنوں میں یوں کہ قومیت کے جدید تصور کے مطابق قومیں جغرافیائی اشتراک سے نہیں بلکہ روحانی یگانگت سے وجود میں آتی ہیں۔

تحریک خلافت کی ناکامی کے بعد ایک مرتبہ پھر قوم اور نیشن کے مفہوم کو الجھا کر متحدہ ہندوستانی قومیت کے نظریہ کو مقبول عام بنانے کی کوششوں نے زور پکڑ لیا تھا اور مسلمان عوام کو مذہبی استدلال کے ساتھ ساتھ ہندوستانی قومیت پر ایمان لے آنے کے مشورے دیئے جانے لگے تھے۔ ایسے میں اللہ نے اقبال کو بروقت خبردار کیا اور انہوں نے اپنے خطبہ الٰہ آباد 1930ء میں دو ٹوک اعلان کیا کہ مسلمان جدید معنوں میں ایک الگ قوم ہیں۔ جدید معنوں میں یوں کہ قومیت کے جدید تصور کے مطابق قومیں جغرافیائی اشتراک سے نہیں بلکہ روحانی یگانگت سے وجود میں آتی ہیں۔ اس جدید اصول کے مطابق برصغیر کے مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور وہ اپنے لئے الگ قومی ریاستوں کے قیام کا حق رکھتے ہیں۔ یہ قوم کا وہی تصور ہے جو ہماری تہذیبی اور فکری تاریخ میں پہلے پہل سرسید احمد خاں کے ہاں نمودار ہوا۔ وقت کا تقاضا یہی تھا کہ سرسید احمد کے ہاں یہ تصور مسلمانوں کی جداگانہ تہذیبی ہستی کو سنوارنے، نکھارنے اور پروان چڑھانے کی تعلیمی اور اصلاحی تحریک تک محدود رہتا۔ اقبال کے عہد میں اس جداگانہ تہذیبی ہستی کی بقا کو جن سنگین سیاسی خطرات نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا‘ ان سے نجات کی سعادت اقبال کے حصے میں آئی۔ اگر سرسید اقبال کے عہد میں ہوتے تو وہ وہی کرتے جو اقبال نے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خطبہ الٰہ آباد کا خیال کرتا ہوں تو مجھے سرسیّد احمد خاں اقبال کا یہ شعر گنگناتے سنائی دیتے ہیں۔

یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیز

اندیشہ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز

اقبالؒ نے سرسید کی عقلیت پسندی کو تکمیلی شان عطا کرنے کے بعد عشق و جنوں کی ارتقائی منزلوں کی سیر کرائی۔ علی گڑھ کے طالب علموں کو مخاطب کرتے وقت انہوں نے کہا تھا کہ

اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے

عشق کے دردمند کا طرزِ کلام اور ہے

تو یہ سرسیّد کے اصلاحی پیغام کی تردید نہیں تھی بلکہ اسے وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق انقلابی پیغام میں ڈھالنے کی تمنا کا اظہار تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ میں جب بھی اقبال کا خطبہ الٰہ آباد پڑھتا ہوں تو مجھے بے اختیار سرسید احمد خاں یاد آتے ہیں جن کے ’’اندیشہ دانا‘‘ کو اقبال نے ’’آداب جنوں‘‘ سکھانے کا عہد آفریں کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

تم کیا جانو۔

تم کیا جانو

جوان موت کیا ہے

بے گانگی‘ بے بسی کیا ہے

یہ رسمی آنسو‘ کچھ بول تسلی کے

بھلا کیا جانیں درد کے پاتال کو

ہجر کے انزال کو

بوڑھی ماں‘ جوان بیوی‘ معصوم بچے کے ملال کو

زندگی کے سارے لمحے

اب جدائی کی نظر ہو گئے ہیں

درد کے گہرے رشتے اب امر ہو گئے ہیں

(مناحل ارشد کا اپنے ابو کرنل ارشد شہید کی یاد میں لکھی گئی نظم)

19
March

کشمیریوں کو اپنی آزادی کی جنگ لڑتے سڑسٹھ برس گزر گئے ہیں۔ تین نسلیں اس جنگ کا ایندھن بن چکی ہیں۔ کشمیر جنت نظیر کے درودیوار کو بارود کی بُو نے گھیر رکھا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے‘ کیسی تہذیب ہے کہ کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے والے دندناتے پھرتے ہیں اور مظلوموں کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ سلامتی کونسل کے بڑوں اور دنیا کے منصفوں نے بہت پہلے کشمیر کے بسنے والوں کا حق خود ارادیت تسلیم کر لیا تھا۔ بھارت کے صاحب اختیار وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اس فیصلے کے حق میں اپنی رائے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن پنڈت نہرو کی آنکھیں بند ہونے سے آج تک اس کے قول و فعل کے پاسداروں سے لے کر موجودہ بھارتی حکمرانوں تک سب نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ بیٹیوں کے سروں سے ردائیں کھینچی گئیں۔ شیرخوار گولہ بارود کی گھن گرج میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ زندگی کی اس قدر تذلیل‘ انسان اتنا بے توقیر‘ حسین و جمیل وادیوں کی اس طرح پامالی کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی‘ پہاڑوں کے حسن کو دیمک لگ گئی ہے۔ جھیل ڈل اور وولر کے کنارے لہو لہو ہیں۔ باغوں اور سبزہ زاروں میں پھولوں کی جگہ ببول سراٹھا رہے ہیں۔ اس وادی کے نہتے اور بے یارومددگار عوام عالمی ضمیر کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ شاید اقوام متحدہ میں پڑی وہ بوسیدہ قراردادیں معجزاتی طور سے پذیرائی پا جائیں۔ 85806 مربع میل پر پھیلی ہوئی ریاست جموں و کشمیر کے طول و عرض میں مختلف نسلی قبائل اور متعدد چھوٹی چھوٹی قومیتوں پر مشتمل افراد کشمیری قوم کہلاتے ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے مقبوضہ کشمیر دنیا کے 110 آزادممالک سے بڑی مملکت ہے جس پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو 67 برس بیت گئے۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ میں استصواب رائے کی قراردادوں میں پویشیدہ ہے۔ بھارت کو کشمیریوں پر اپنی مرضی ٹھونسنے کا قطعاً حق نہیں اور نہ ہی سات لاکھ فوج ان کے سر پر بٹھانے کی اسے اجازت ہے۔

چوہدری محمد علی کی کتاب ’’ظہور پاکستان‘‘ کے صفحہ279 کے مطا بق 11 جولائی 1947 کو کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ایک انٹرویو کے بعد قائداعظم نے ایک پریس بیان جاری کیا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کے متعلق مجھ سے پوچھا گیا ہے کہ آیا کشمیری مسلمان پاکستان کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں؟ میں اس بات کی پہلے ہی ایک سے زائد بار وضاحت کر چکا ہوں کہ ریاستیں اس معاملے میں آزاد ہیں کہ وہ پاکستان سے الحاق کریں یا بھارت کے ساتھ ہیں۔ سیسرگپتا نے کشمیر گپتا میں 21 اپریل 1947 کو لیاقت علی خان کے ایک بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ کابینہ مشن پلان کے مطابق جب برطانوی ہند کے مستقبل کا فیصلہ کیا جا چکا ہے تو ہندوستانی ریاستوں کو یہ اختیارحاصل ہے کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کریں۔ لیکن کشمیر کی تاریخ کو دھیرے دھیرے مسخ کیا جا رہا ہے۔ کشمیر ی بحیثیت قوم ایک درخشاں تاریخ کے مالک ہیں مگر فطرت کے قانون عروج و زوال کے تحت ایک عرصے سے محکومی کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ دنیا کے مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹانا ہو تو اس سے اس کی تاریخ چھین لو۔ کشمیریوں کی تباہی اور غلامی کے لئے بھی سامراج نے یہی سوچا ہے کہ تاریخ کشمیر مسخ کر کے کشمیریوں کو ہمیشہ کے لئے غلام بنا لیا جائے۔ 1947 سے ہی تاریخ کشمیر کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کے اس حصے میں جہاں بھارت کا قبضہ ہے وہاں کشمیری بچوں کو نصابی کتب میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ مہاراجہ کشمیر نے ریاست کا الحاق بھارت سے کر دیا تھا اس لئے یہ اب بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ جب تک کشمیرکی نئی نسل کے سامنے ایک واضح صاف اور صریح نصب العین نہ ہو‘ وہ نہ تو منظم ہو سکتے ہیں اور نہ ہی بے دریغ قربانی کے لئے تیار‘ قومیں اس وقت جدوجہد پر آمادہ ہوتی ہیں جب ان کے سامنے اپنی ایک درخشان تاریخ ہو‘ ورنہ وہ غلامی کو ہی آزادی سمجھ کر قناعت اختیار کر لیتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ غلامی اور آزادی کا دور قوموں پر آتا رہتا ہے۔ ہمیشہ کے لئے کسی بھی قوم کو غلام نہیں رکھا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کشمیریوں کا سفر عروج کی طرف جاری ہے۔ ان کے قدم آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہوس اقتدار اور توسیع پسندانہ نظریہ پاش پاش ہو رہا ہے جس طرح لینن کے ماننے والوں نے ہی اس کا منہ کالا کر دیا تھا اس کا حلیف بھارت بھی اب زیادہ دیر محکوم اور نہتے کشمیریوں پر اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکے گا۔ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والا بھارت تاریخی طور سے کشمیریوں سے جنگ ہار چکا ہے۔ 27اکتوبر 1947 کو بھارت نے ہوائی جہاز کے ذریعے پہلے اپنی افواج کشمیر میں اتاریں پھر یکم جنوری 1948 کو بھارت نے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح اس مسئلے کو ایک بین الاقوامی تنازعے کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اقوام متحدہ نے یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے ایک بین الاقوامی کمشن تشکیل دیا۔ وہ کمشن جو عرف عام میں کشمیر کمشن کہلاتا ہے۔ ایڈمرل نمٹز (Admiral Chester W. Nimitz)کی سربراہی میں برصغیر آیا تھا۔ جہاں انہوں نے فریقین سے طویل مذاکرات کے بعد انہیں ایک بین الاقوامی معاہدہ کرنے پر رضا مند کر لیا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے طے پایا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ استصواب رائے سے حل کیا جائے گا۔ یہ استصواب رائے ایک غیر جانبدار مبصر کی نگرانی میں انجام پائے گا۔

15جنوری 1948 کو سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر بحث کا آغاز ہوا تو پاکستانی وفد میں نمائندے کے طور پر سرظفراﷲ خان اور متبادل نمائندہ ابوالحسن اصفہانی تھے جبکہ مسٹر وسیم ایڈووکیٹ جنرل پاکستان بطور مشیر وفد میں شامل تھے۔ جناب افتخار حسین بطور ڈپٹی سیکرٹری وزارت خارجہ اور کرنل (ر) مجید ملک رکن کی حیثیت سے وفد کے ہمراہ تھے یہ وہی کرنل مجید ملک ہیں جو وزارت اطلاعات میں پی آئی او تھے۔سرظفراﷲ خان نے اپنی سوانح عمری ’’تحدیث نعمت‘‘ میں سلامتی کونسل میں ہونے والی کارروائی کے حوالے سے لکھا ہے کہ بھارتی وفد کے سربراہ سرگوپالا سوامی آیانگر(Gopalaswami Ayyangar) تھے۔ جو نہرو یونیورسٹی دہلی کے سابق وائس چانسلر اور کشمیر کے سابق وزیراعظم تھے۔ ان دنوں وہ بھارت کی مرکزی کابینہ میں وزیر تھے۔ ان کے معاون کار سرگرجا شنکر واجپائی اور مسٹر ایم ایل سیتلواڈ تھے۔ سلامتی کونسل کے ارکان میں ارجنٹائن‘ بیلجیئم‘ کینیڈا‘ کولمبیا‘ فرانس‘ شام‘ روس‘ برطانیہ‘ امریکہ اور یوگوسلاویہ تھے۔

بھارت کی طرف سے سرگوپالاسوامی آیانگر نے 15 جنوری کی سہ پہر کے اجلاس میں تقریر کی‘ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مہاراجہ کشمیر نے ریاست جموں و کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ برضا و رغبت اور خوش اسلوبی سے کیا ہے جبکہ اس کے خلاف پاکستان کے اشتعال اور مدد کے ساتھ قبائلیوں نے ریاست پر حملہ کر کے بہت فساد ‘ خون خرابہ اور لوٹ مار کی ہے۔ ان قبائلیوں کی روک تھام کے لئے بھارت کو اپنی فوج بھیجنا پڑی۔ ایسی صورت حال جنگ کا رنگ اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان قبائلیوں کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے۔ بہت سے پاکستانی فوجی افسر بھی قبائلیوں کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کا یہ رویہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔ پاکستان کو اس سے روکنا لازم ہے۔ پاکستان قبائلیوں کی مدد بند کرے اور انہیں واپس جانے پر آمادہ کرے۔ بھارتی نمائندے کی تقریر کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس دو دن کے لئے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

سرظفراﷲ خان نے لکھا کہ ’’دوسرے اجلاس میں ‘ میں نے تقریر کی کہ بھارت کے نمائندے نے اپنی تقریر میں جان بوجھ کر مسئلے کی پیچیدگیوں کو پس پشت رہنے دیا ہے اور سارا زور پاکستان کے خلاف الزام تراشی پر دیا ہے۔ ہماری طرف سے اس اہم اور پیچیدہ قضیے کے پس پردہ حقائق کو ظاہر کرنا اور بھارت کو جارح کے طور پر مجرم کی حیثیت میں رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے لازماً بہت سے امور کی وضاحت ناگزیر ہے۔ جن کا بیان بھارت کی طرف سے اس لئے نہیں کیا گیا کہ وہ ان کے خلاف جاتے ہیں۔ ان سب واقعات کا مختصر بیان بھی وقت چاہتا تھا جبکہ سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں تقریر کے لئے صرف سوا دو گھنٹے دیئے جاتے ہیں۔ اس لئے میں نے اپنی جوابی تقریر تین اجلاسوں میں مکمل کی۔‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ’’چند سال بعد کولمبیا کے نمائندے نے ایک دفعہ مجھ سے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر بھارتی نمائندے کی پہلی تقریر سننے کے بعد سلامتی کونسل کے اراکین کی اکثریت کا یہ تاثر تھا کہ پاکستان نے آزادی حاصل کرتے ہی فساد کا راستہ اختیار کر لیا ہے اور دنیا کے امن کے لئے ایک خطرے کی صورت پیدا کر دی ہے۔ لیکن جب جواب میں تمہاری طرف سے اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا تو ہم سب سمجھ گئے کہ بھارت مکاری اور عیاری سے کام لے رہا ہے اور کشمیر کی رعایا پر ظلم ہو رہا ہے اور ہمارا یہ تاثر بعد میں بھی کبھی زائل نہیں ہوا۔ ‘‘

سرظفراﷲ خان نے (جیسے کہ پہلے بتایا جا چکا ہے) تین سیشن میں اپنے دلائل مکمل کئے تھے۔ مگر فوری طور پر انہوں نے کہا: ’’ہم بھارت کے دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ بھارت نے عیارانہ منصوبے کے تحت ریاست پر طاقت کا استعمال کیا ہے اور غاصبانہ قبضہ بھی کر رکھا ہے۔ مزید یہ کہ ہم یہ بھی واضح کر دیں کہ آزاد علاقے کے پٹھانوں کی حدود ریاست کشمیر کی حدود سے ملی ہوئی ہیں۔ ان لوگوں کے باہمی خونی رشتے ہیں۔ پاکستان ان سیکڑوں میل پر پھیلی ہوئی لمبی سرحدوں کی ذمہ داری کیسے لے سکتا ہے؟ علاوہ ازیں ابھی ہم اپنی افواج کو پھر سے منظم کر رہے ہیں۔ ہمارے حصے کا گولہ بارود‘ ملٹری سٹور‘ روپیہ اور دیگر لاجسٹک کا اثاثہ ابھی تک بھارت کے پاس پڑا ہے۔ جسے بھارت نے ناجائز قبضے اور ایک منصوبے کے تحت روک رکھا ہے۔ ہمیں نقل مکانی کے مسائل درپیش ہیں۔ ویسے بھی پاکستانی کسی بھی آزاد قوم کے علاقے میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتا۔ خصوصاً جبکہ علاقے کی سرحدیں ناقابل گزر پہاڑوں پر قائم ہوں۔ پاکستان کے پاس اتنی فوج نہیں ہے اور اگر وہ چاہے بھی تو اس ذمہ داری کے لئے اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں سمجھتا۔ ہم بھارت سے پوچھتے ہیں کہ کس بین الاقوامی قانون کی بنا پر کسی آزاد قوم کو دوسری حکومت احکامات جاری کر سکتی ہے۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ بھارت طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور کشمیریوں کے مسئلے کا حل سیاسی طور سے تلاش کرے ایسا عوام کی آزادانہ رائے شماری سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ البتہ آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے لئے چند بنیادی اصولوں پر دونوں حکومتوں کو عمل پیرا ہونا پڑے گا۔

نمبر1: بھارت کی فوج فوراً کشمیر کی ریاست سے نکل جائے۔(۲) یو این او کے ادارے کے تحت ایسا انتظامی ادارہ قائم کیا جائے جو غیرجانبدار ہو بالفاظ دیگر جو ان تاثرات سے خالی ہو کہ کشمیر کی حکومت نے پاکستان سے یا بھارت سے الحاق کیا ہے۔ (۳)اگر مذکورہ بالا شرائط پر عمل پیرا ہونے کا یقینی طور پر ماحول پیدا کرنا بھارت تسلیم کر لے تو پاکستان قبائلیوں کو کشمیر سے چلے جانے کی ترغیب دے گا اور آزادکشمیر کے لوگوں کو بھی جنگ و جدل سے گریز کا مشورہ دے گا اور انہیں جنگ کے بجائے آزادانہ عوام کی رائے شماری کے لئے بھی کہے گا۔ وہ اپنی ذاتی فلاح و بہبود کے لئے پاکستان یا بھارت یعنی جسے وہ پسند کرے الحاق کا فیصلہ عوام کی رائے سے کرے۔‘‘

جنرل محمد اکبر خان نے اپنی خودنوشت سوانح عمری ’’میری آخری منزل‘‘ میں اس حوالے سے بہت طویل گفتگو کی ہے۔ بہرطور سلامتی کونسل کے 229 ویں اجلاس میں 20جنوری 1948کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کشمیر کمشن کے قیام کی قرارداد منظور کی گئی وہ قرارداد بیلجیئم نے پیش کی تھی اس کمشن کا نام United Nations Commission on India and Pakistan (UNCIP) لیکن عرف عام میں وہ کشمیر کمشن کے نام سے ہی مشہور ہوا۔ کمشن کے ارکان کی تعداد پانچ تھی۔ پاکستان کرونیکل کے مصنف جناب عقیل عباس جعفری کے مطابق‘طے پایا تھا کہ کمشن میں دو ارکان سلامتی کونسل نامزد کرے اور وہ دونوں ایک تیسرا رکن نامزد کریں جبکہ پاکستان اور بھارت ایک ایک رکن نامزد کریں۔ سلامتی کونسل نے بیلجیئم اور کولمبیا کو نامزد کیا تھا پھر ان دونوں نے امریکہ کی نامزدگی کی تھی جبکہ پاکستان نے ارجنٹائن کو اور بھارت نے چیکوسلواکیہ کو نامزد کیا تھا۔

چیکوسلواکیہ کے نمائندے ڈاکٹر جوزف کوربیل نے کمشن سے علیحدگی کے بعد کمشن کی سرگرمیوں کی روداد پر مشتمل کتاب Danger in Kashmir لکھی تھی۔ جس میں اس دور کی تاریخ محفوظ ہے۔ ڈاکٹر جوزف کوربیل کی وجہ سے شروع شروع میں کمشن نے بہت سرگرمی دکھائی لیکن جب 1949 کے آغاز پر ہی کوربیل کمشن سے علیحدہ ہو گئے تو پھر کمشن میں وہ دم خم نہ رہا اور بہت جلد تھک ہار سا گیا۔

بہرطور 23 نومبر 1948 کو اقوام متحدہ کے کشمیر کمشن نے اپنی رپورٹ کا پہلا حصہ شائع کر دیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مصالحت کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ پھر 3جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے مذکورہ کشمیر کمشن نے کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کروانے کی شرائط کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے 18 نومبر 1947 کو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے بھی کہا تھا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ کشمیر میں استصواب رائے کا مرحلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں طے پائے۔ گویا پاکستان اور اقوام متحدہ کے دیگر ممبر ممالک اس بات پر متفق تھے یا یوں کہنا چاہئے کہ لیاقت علی خان کی سیاسی بصیرت کے عین مطابق اقوام متحدہ کے کشمیر کمشن نے استصواب رائے کو ہی مسئلے کا حل قرار دیا۔ یوں پھر 5جنوری 1949 کو (UNCIP) کی قرارداد منظور ہوئی جو کشمیر کمشن کی 13اگست 1948 والی قرارداد‘ جس میں پاکستان اور بھارت کو فائر بندی کا کہا گیا تھا‘ کا تکملہ (Supplement) تھی۔ اس قرارداد کی تفصیل‘ جی ایم میر نے اپنی کتاب ’’کشمیر شناسی‘‘ کی جلد اول میں دی ہے۔ اُن میں سے چند ایک شقیں درج ذیل ہیں۔ 1 ریاست جموں و کشمیر کے‘ پاکستان یا بھارت کے ساتھ‘ الحاق کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے طے کر لیا جائے۔ 2 رائے شماری اس وقت عمل میں آئے گی جب کمشن کو یہ اطمینان ہو جائے گا کہ کمشن کی 13 اگست والی قرارداد کی روشنی میں جنگ بندی اور عارضی صلح پر عمل درآمد ہو گیا ہے اور رائے شماری کے انتظامات مکمل ہو گئے ہیں۔

اس شق کو وسیع النظری سے دیکھا جائے تو بھارت نہ صرف یہ کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے سے حیلے بہانوں اور مکاری سے کام لے رہا ہے بلکہ وادی جموں و کشمیر میں عوامی ریفرنڈم کا سازگار ماحول تک نہیں بننے دے رہا۔ وہ کبھی اگرتلہ سازش کرتا نظر آتا ہے تو کبھی رن آف کچھ کا بخیہ ادھیڑ دیتا ہے۔ کبھی ستمبر 1965 کی جارحیت کر گزرتا ہے اور کبھی 1971 میں برصغیر کا امن تہہ و بالا کرتا دکھائی دیتا ہے اور کبھی سیاچن گلیشیئر پر دنیا کا بلند ترین اور مشکل محاذ کھول لیتا ہے ۔ اسے نہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا پاس ہے اور نہ شملہ معاہدے کا اور نہ ہی معاہدہ تاشقند اسے یاد ہے۔ 23جون 1990کو معرکہ کارگل میں تو امریکہ نے بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کرے گا لیکن بات پھر وہی ہے کہ رات گئی بات گئی۔

24 مارچ 1949 کو اس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسٹر ٹرگوے لی نے امیر البحر ایڈمرل نمٹز کو پاکستان اور بھارت کی رضامندی سے کشمیر میں استصواب رائے کرنے کی ذمہ داری سونپتے ہوئے ناظم رائے شماری مقرر کیا تھا۔ ایڈمرل نمٹز کا تعلق امریکہ سے تھا۔ وہ دوسری عالمی جنگ میں بحرالکاحل میں اتحادی بیڑے کے کمانڈر انچیف رہے تھے۔ مسٹر نمٹز آج دنیا میں نہیں رہے۔ مگر مسئلہ کشمیر جوں کا توں ہے۔ اس عرصے میں کبھی کشمیری مجاہدین نے بھارتی جہاز اغوا کر کے دنیا کو مسئلے کے حل کی طرف متوجہ کیا توکبھی تقریروں‘ تحریروں‘ مباحثوں اور مزمتی قراردادوں سے بھی بھارت اور عالمی ضمیر کو جھنجوڑا گیا۔ احتجاجی جلسے اور جلوس بھی بھارتی قیادت کو دکھائی نہیں دیتے۔ بھارت میں عام انسان کی زندگی الگ عذاب میں ہے۔ خالصتان تحریک تمام تر حربوں کے باوجود سلگ رہی ہے۔

بھارت نے کشمیریوں پر آج تک جو ستم توڑے وہ کہانی الگ اپنی المناکی لئے ہوئے ہے۔ مگر دنیا کے سامنے اس نے جو وعدے کئے ان کا بھی اسے ذرا برابر احساس نہیں۔ 29 مئی 1952 کو اقوام متحدہ کے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے نمائندے اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مصالحتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ ان دنوں انخلاء کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے پاکستان کی طرف سے احمد شاہ بخاری المعروف پطرس بخاری اور بھارت سے راجیشوا دیال نے اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کی تھی۔ پطرس بخاری کی معاونت محمد ایوب اور کرنل اقبال خان نے کی تھی۔ جبکہ بھارتی نمائندے کے مشیر ڈاکٹر بی ارجن اور پی کے مکرجی تھے۔

18 جنوری1957 کو اس وقت کے پاکستانی وزیرخارجہ فیروز خان نون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں جس کی صدارت فلپائن کے کارلوس ریمولو (Carlos Rimolo) کر رہے تھے۔ اپنی تاریخی تقریر (جو تین گھنٹے جاری رہی تھی) میں پُرزور مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو اس کے آئین کے نفاذ کی کوششوں سے باز رکھا جائے اس اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت کرشنامینن نے کی تھی۔

25جنوری 1957 کے اسی اجلاس میں سلامتی کونسل نے چار کے مقابلے میں دس ووٹوں سے فیصلہ دیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا بھارت سے الحاق نہیں ہو سکتا۔ روس کے نمائندے نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ سلامتی کونسل میں وہ قرارداد امریکہ‘ برطانیہ ‘ آسٹریلیا‘ کولمبیا اور کیوبا نے پیش کی تھی۔ بھارت نے حسب توقع سلامتی کونسل کا وہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ کشمیریوں کے ساتھ روس کے رویے کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر کے شیخ عبداﷲ نے اپنی سوانح عمری ’’آتش چنار‘‘ میں بڑے فخریہ انداز میں لکھا ہے کہ دسمبر 1955 میں جواہر لعل نہرو کی دعوت پر روس کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ نکیتا خروشیف (Nikita Khrushchev)اور روس کے وزیراعظم نکولائی بلگانین(Nikolai Bulganin) بھارت اور کشمیر کے دورے پر آئے تو سرینگر میں ہم نے ان کی اتنی خدمت کی اس قدر تحفے دیئے کہ ہم تابعداروں کی خدمت گزاری اس وقت رنگ لے آئی جب نکیتا خروشیف نے روسی زبان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا بلکہ دو ٹوک اعلان کیا کہ روس کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے اور روس ان کا اتنا نزدیکی پڑوسی ہے کہ اگر کبھی انہیں روس کی ضرورت محسوس ہو تو وہ پہاڑ پر چڑھ کر سیٹی بجائیں ہم فوراً حاضر ہو جائیں گے۔ شیخ عبداﷲ کشمیر میں شخصی اور مذہبی آزادی کی قلعی اپنی سوانح عمری کے صفحہ 550پر یہ کہہ کر کھولتے ہیں کہ اسلام میں گائے کا ذبیحہ جائز ہے۔ لیکن میں اپنے چند انتہا پسند دوستوں کی مخالفت کے باوجود 1931میں سکھا شاہی کے دور میں گائے کے ذبح کرنے پر کشمیر میں جو پابندی لگی تھی ہندو بھائیوں سے خیرسگالی کے جذبے کے تحت برقرار رکھے ہوئے ہوں اور بھارت سے کبھی اس پابندی کے خاتمے کا اصرار بھی نہیں کیا۔

میرغلام احمد کشفی نے اپنی کتاب ’’کشمیر ایک ثقافتی تعارف‘‘ میں لکھا ہے کہ کشمیر میں گائے ذبح کرنا قتل کے برابر قانونی جرم ہے۔ گؤکُشی پر دس سال قید بامشقت کی سزا ہے بلکہ سارے کنبے پر ظلم کیا جاتا ہے اور یہ قانون ڈوگرہ دور سے نافذ ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ جو ظلم و ستم سکھوں کے عہد یعنی ڈوگرہ سامراج کے زمانہ میں ہوتا تھا وہ آج بھی جاری ہے۔ ولیم مورکرافٹ (Willam Moorcraft)انیسویوں صدی کے حوالے سے 1824 میں کشمیر کی سیاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ جانوروں جیسا‘ بلکہ اس سے بھی بدتر‘ سلوک ہوتا ہے۔ سِکھ دور کی بات ہے کہ اگر کسی سکھ کے ہاتھوں کوئی مقامی قتل ہو جاتا تو قاتل پر 16 سے لے کر 20 روپے تک جرمانہ کیا جاتا تھا۔ وہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوا کرتی تھی۔ قتل ہونے والے کے لواحقین کو اگر کوئی غیرمسلم ہوتا تو چار روپے اور اگر مقتول مسلمان ہوتا تو پھر مرنے والے کے گھر والوں کو دو روپے ملا کرتے تھے۔ 1947 میں کشمیر میں 77فیصد مسلمان تھے مگر 2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی تعدد کم ہو کر 67 فیصد رہ گئی ہے۔ ہندو 29.07 فیصد‘ سکھ 2.08 فیصد‘ بدھ مت1.07فیصد جبکہ دیگر قومیں 0.77فیصد ہیں۔

مسلمانوں کی تعداد بتدریج کم کی جا رہی ہے۔ ایک منصوبے کے تحت بھارت کے فٹ پاتھوں پر پڑے شودر‘ پاوندے اور دیگر کم ذات ہندو بھارت کشمیر کے لداخ ڈویژن میں لا کر آباد کر رہا ہے۔ جب کبھی کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی پچاس فیصد سے کم ہو جائے گی تو بھارت استصواب رائے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ مذہب کی بنیاد پر اگر الحاق کی بات ہوئی تو کشمیر تب تک مسلم اقلیتی سرزمین بن چکی ہو گی۔ بھارت نے کشمیر ویلی اور جموں میں بعض حساس نوعیت کے ادارے بالخصوص ایٹمی پروگرام سے متعلق ایک ایسے متنازعہ علاقے میں جہاں ہیوی واٹر کے ادارے کام کر رہے ہوں اس خطے کو چھوڑنے یا مسلمانوں کے حوالے کرنے کا بھارت تصور بھی نہیں کر سکتا۔ سری نگر میں ہیوی واٹر کے ادارے کے علاوہ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ بھی قائم ہے اسی طرح جموں میں ڈوڈہ کے علاقے میں اور ایک ویلی کے علاقے گلمرگ میں ہائی آلٹی چیوڈ ریسرچ لیبارٹری (High Altitude Research Laboratory) بھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ویلی اور جموں کے تین انتظامی ڈویژن ہیں۔ (1) کشمیر ویلی (2) جموں ڈویژن (3) لداخ ڈویژن۔ کشمیر ویلی جس کی آبادی 6,90,7622 ہے وہ کشمیر کے 15.73 فیصد علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ جس کا رقبہ 15,948 مربع کلومیٹر ہے جبکہ جموں ڈویژن کی آبادی 5350811افراد پر مشتمل ہے۔ اس کا رقبہ 26293مربع کلومیٹر اور کل کشمیر کا 25.94 فیصد ہے۔ جبکہ لداخ ڈویژن رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا انتظامی ڈویژن ہے مگر اس کی آبادی سب سے کم ہے ۔ لداخ کی کل آبادی 290,492اور رقبہ 59,146مربع کلومیٹر ہے جبکہ کل علاقے کا 58.33فیصد ہے۔

کشمیر ویلی اور جموں میں 10-10ضلعے ہیں جبکہ لداخ 2دسٹرکٹ پر مشتمل ہے سرکاری زبان اردو اورانگریزی ہے دیگر علاقائی زبانوں میں ڈوگرہ‘ ہندی‘ کشمیری‘ رؤف‘ لداخی اور شِنا ہے۔ وادی کا قیام 27اکتوبر 1947سے شمار کیا جاتا ہے یہ وہی دن ہے جب بھارتی فوجیں ہوائی جہاز کے ذریعے کشمیر میں جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے اتاری گئی تھیں۔ مقبوضہ کشمیر کے دو دارالحکومت ہیں۔ سردیوں میں جموں اور گرمیوں میں سری نگر‘ شرح خواندگی 66.07 ہے۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف دستخط کر سکتے ہیں۔ یہاں دس بڑے شہر ہیں مگر سری نگر سب سے بڑا ہے۔ طرز حکومت صدارتی ہے مگر آج کل وہاں گورنر راج ہے۔ نریندر ناتھ وہرا‘ موجودہ گورنر ہے حالیہ نام نہاد انتخابات میں چونکہ بھارتی حکمرانوں کے مطلوبہ نتائج کے مطابق کوئی گروہ کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ اس لئے اقتدار عوام کے حوالے کرنے کی بجائے گورنر راج کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کل انسانی آبادی ایک کروڑ پچیس لاکھ اڑتالیس ہزار نو سو پچیس ہے۔ (12,548,925) مردم شماری کی تفصیل درج ذیل ہے۔

-1 1951ء پہلی مردم شماری 3,254,000

-2 1961ء دوسری مردم شماری 3,561,000 9فیصد اضافہ

-3 1971ء تیسری مردم شماری 4,617,000 29.7فیصد اضافہ

-4 1981ء چوتھی مردم شماری 5,987,000 29.70فیصد اضافہ

-5 1991ء پانچویں مردم شماری 7,837,000 30.9فیصد اضافہ

-6 2001ء چھٹی مردم شماری 10,143,000 29.4فیصد اضافہ

-7 2011ء ساتویں مردم شماری 12,548,925

علاقے میں ہندو کمیونٹی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ادھر کشمیر کے اندرونی حالات سے تنگ آ کر بھارتی فوجی نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ چڑچڑاپن ان کے مزاج کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کے لئے آئے دن بھارتی فوجی سرحدی خلاف ورزیاں کرتے رہتے ہیں۔ دسمبر 2014 میں فلیگ میٹنگ کی کال دے کر فائرنگ کر کے دو پاکستانی رینجرز کے جوانوں کو شہید کرنا اسی پاگل پن کا نتیجہ ہے جس میں سارا بھارتی حکمران ٹولہ مبتلا ہے۔

علاقے کے ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے مگر بھارت روائتی ہندو بنیئے کی طرح بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی مالا جپتا ہے۔ پاکستان دامے‘ درمے‘ سخنے ہر حوالے سے کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ مظلوم کا ساتھ دینا مسلمانوں کی تربیت میں شامل ہے۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ جہاں بھی کسی پر ظلم ہو رہا ہو پاکستان ان کے لئے آواز بلند کرتا رہتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جانا ایک مستقل روایت بن گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے شہریوں کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور یہ تعلق آج کا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہے۔

jabbarmirza92@gmail

نمودِ سحر

اویس الحسن

کہہ دو اُس سے کہ کاٹ دیں گے

ہر ایک زنجیرِ آہنی کو

اور عزم و ہمت کے لشکروں سے

بُتانِ ظلمت کو توڑ دیں گے

مثالِ کوہِ گراں بنیں گے

کھڑے رہیں گے

اَڑے رہیں گے

گو اُس کے چنگل میں پھنس کے ہم نے

بہت سے لمحے گنوا دیئے ہیں

لٹا چکے ہیں عظیم بندے

اُٹھا چکے ہیں بہت سے لاشے

وچن ہے تجھ کو یہ یاد رکھنا

ہماری غیرت مری نہیں ہے

وہ آگ اب بھی سلگ رہی ہے

تمہارے خرمن کو جو جلا دے

تمہاری ہستی کو جو مٹا دے

ہمیں یقیں ہے فتح کا سورج

ہمارے حق میں بلند ہوگا

یقیں ہے باطل کا سر جھکے گا

پیامِ صبح بھی دے گا سورج

روپہلی کرنیں لئے افق سے

ہماری دھرتی سے جو اُٹھے گا

تمہارے حصے میں رات ہوگی

ہمارے آنگن میں دِن چڑھے گا

سکون دھرتی کو تب ملے گا

سحر کا جھونکا وہ جب چلے گا

امن کا دامن تبھی بھرے گا

وفا کے پھولوں کا رنگ اک دن

جہاں کو پھر سے یوں رنگ دے گا

شہادتوں کو امر کرے گا

رفاقتوں کو ثمر کرے گا

یہ یاد رکھنا

یہ یاد رکھنا

19
March

پاک فوج نے ضرب عضب سے دشمن پر ضرب کاری لگا دی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ملٹری آپریشن بلاامتیاز تمام دہشت گردوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ گڈ اور بیڈ (Good and bad)طالبان کی اصطلاحیں غیرمتعلقہ (Irrelevant) ہیں‘ قوم کا خون بہانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے بلاتفریق نمٹا جا رہا ہے۔ تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں مملکت کے دیگر اداروں کا عملی طور پر فعال ہونااور ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔ جب تک عملی طور پر گورنمنٹ اور مملکت کے باقی ادارے دہشت گردی کے جملہ اسباب یعنی معاشی بدحالی‘ تعلیم ‘ امن و امان‘ انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ خون خرابے کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات نہیں اٹھاتے‘ اس مسئلے کا دیرپا حل ناممکن ہے۔

یوں توپاکستان کی 67 سالہ تاریخ ایسے بے شمار سانحات اورواقعات سے بھری پڑی ہے جب ساری قوم ہی دہل کر رہ گئی ۔مگر 16 دسمبر 1971 اور پھر 16دسمبر 2014دو ایسے دلخراش سانحات ہیں جس نے پاکستان کی تاریخ ہی بدل دی جبکہ دسمبر 1971 نے تو جغرافیہ ہی تبدیل کر دیا۔

دسمبر 1971اور ایک حد تک دسمبر 2014 کے ان سانحات کا ایک المناک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک مختصر مگر مؤثر حلقے نے ان قومی المیوں کو بھی متنازعہ بنانے کی سعئی ناکام کی۔دسمبر 1971 کے حوالے سے تو کئی دہائیوں تک یہ تاثر رہا کہ سقوط ڈھاکہ کی ذمہ دار صرف اور صرف افواج پاکستان ہی تھیں۔ بدقسمتی سے تو اتر سے یہ راگ الاپنے والے محض ہمارے عیار دشمن ہی نہیں بلکہ نادان دوست بھی تھے۔ مشرقی پاکستان میں فوج کشی کے ایسے ایسے فسانے بنائے گئے کہ سارے بنگالی بلکہ انڈین بھی مظلوم محب وطن ۔۔۔۔جبکہ ساری پاکستانی فوج ظالم تھی۔۔۔۔۔تاہم حالیہ برسوں میں سابقہ مشرقی پاکستان حال بنگلہ دیش میں درجنوں کے حساب سے ایسی کتابیں شائع ہوئی ہیں جس میںآزاد بنگلہ دیش کی داعی عوامی لیگ اور مکتی باہنی کے ساتھ ساتھ بھارتی جارحیت کا سا را کچاچٹھا بیان کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔ سقوط ڈھاکہ کے المیے کا ذرا تفصیل سے ذکر میں نے اس لئے کر دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بھی ایک عرصے تک متنازعہ بنایا گیا ۔ 9/11 کے حوالے سے بس ایک ہی رخ کو Propagate کیاگیاکہ ہم نے امریکی دباؤ میں آکر اگر طالبان کے خلاف ہونے والی کارروائی کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو آج وطن عزیز میں دہشتگردی کا نام بھی نہ ہوتا۔۔۔۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ طالبان اور اُن کے لشکری ہمارے فوجی جوانوں کے گلے کاٹ رہے تھے۔ مسجدوں ۔۔امام بارگاہوں ۔۔بازاروں اور درس گاہوں کو خون میں نہلا رہے تھے اور خود وطن عزیز میں طالبان اپالوجسٹ کا مؤثر حلقہ ان دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی مذمت کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ سوات آپریشن سے پہلے وہ وقت بھی آیا کہ بعض اوقات تو فوجی جوانوں کی نمازجنازہ تک نہ پڑھنے کے فتوے بھی دیئے۔۔۔۔بد قسمتی سے طالبان اپالوجسٹ کی ہمنوائی میں ہمارے آزاد پاپولر میڈیا نے بھی مقدور بھر کردار ادا کیا۔۔۔۔ باقاعدہ لاشوں کے پشتے لگانے والے لشکروں اور سپاہوں کے ترجما ن کے مؤقف کو شہ سرخیاں دی جاتیں گھنٹوں سکرینوں پر ان کے مکروہ چہرے دکھائے جاتے جس میں وہ سینہ ٹھونک کر یہ مژدہ سُنا رہے ہوتے کہ وہ یہ سب کچھ شریعت اور دین کی بالادستی کے لئے کر رہے ہیں۔14 سالہ سوات کی طالبہ ملالہ کو گولیوں سے نشانہ بنانے والوں نے اس وقت یہ فتویٰ جاری کیا کہ اگر موت و زیست کے بیچ سانسیں لیتی ملالہ زندہ بچ بھی گئی تو ایک بار پھر وہ اسے نشانہ بنائیں گے۔اس سے بھی بڑا المیہ یہ تھا کہ میڈیا میں بڑے مؤثر انداز میں یہ مہم چلائی گئی کہ ملالہ پر حملہ دراصل ایک ڈرامہ تھا۔تحریک طالبان کا ترجمان چیخ چیخ کر حملے کی ذمہ داری قبول کر رہا تھا اور طالبان اپالوجسٹ اس سنگین سانحے کو ڈرامہ قرار دے رہے تھے۔ 16 دسمبر 2014 کو ہونے والا سانحہ 16 دسمبر 1971 کے سانحہ سے کم یا زیادہ بڑا تھا۔۔ اسے مستقبل کے مورخوں کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ 16 دسمبر 2014 کے المنا ک سانحے نے پہلی باردہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے سارے ابہام دور کر دیئے ۔ 134 بچوں کو خون میں نہلانے والوں نے باقاعدہ سکرینوں پر اپنے مکروہ چہرے دکھاتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کرکے ساری دنیا میں ہی خود کو تنہا نہیں کرلیا بلکہ پہلی بار 18کروڑ عوام کو اس قدر متحدکیا کہ اب ان لشکروں‘ سپاہوں اور ان کے سرپرستوں کو سا ت پردوں میں بھی چہرے چھپانے کونہیں مل رہے ۔مگر یہ بھی اپنی جگہ ایک المیہ ہے کہ 18 کروڑ پاکستانیوں کو متحد کرنے کے لئے 134 معصوم بچوں کو اپنا خون دینا پڑا۔ خیر دیر آید درست آید۔ اب تو پوری پاکستانی قوم متحد دکھائی دیتی ہے۔ تمام بڑی جماعتوں اور ان کے قائدین نے دہشت گردی کے خلاف یکجا ہو کر یہ واضح کر دیا ہے کہ اپنے ملک کی سلامتی کے لئے سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈالنا ہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ آئین میں اکیسویں ترمیم اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پارلیمنٹ کی طاقت اپنی فوج کی پشت پر ہے۔ یہ امر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب مذہب کے مقدس نام پر مزید Violence کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قوم کا تقاضا امن‘ سلامتی اور معاشی خوشحالی ہے نہ کہ مذہب کے نام پر فساد اور خونریزی۔

کتنا بڑا المیہ ہے کہ طالبان اور اُن کے لشکری ہمارے فوجی جوانو ں کے گلے کاٹ رہے تھے۔ مسجدوں ۔۔امام بارگاہوں ۔۔بازاروں اور درس گاہوں کو خون میں نہلا رہے تھے اور خود وطن عزیز میں طالبان اپالوجسٹ کا مؤثر حلقہ ان دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی مذمت کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔

پاک فوج نے ضرب عضب سے دشمن پر ضرب کاری لگا دی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ملٹری آپریشن بلاامتیاز تمام دہشت گردوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ گڈ اور بیڈ (Good and bad)طالبان کی اصطلاحیں غیرمتعلقہ (Irrelevant) ہیں‘ قوم کا خون بہانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے بلاتفریق نمٹا جا رہا ہے۔ تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں مملکت کے دیگر اداروں کا عملی طور پر فعال ہونا اورثابت ہونا ابھی باقی ہے۔ جب تک عملی طور پر گورنمنٹ اور مملکت کے باقی ادارے دہشت گردی کے جملہ اسباب یعنی معاشی بدحالی‘ تعلیم ‘ امن و امان‘ انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ خون خرابے کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات نہیں اٹھاتے‘ اس مسئلے کا دیرپا حل ناممکن ہے۔ یہ ہماری قومی سلامتی کا سوال ہے اور اسے من حیث القوم ہی عملی طور پر حل کرنا ہو گا۔

19
March

دہشت گردی ایک بہت گہرا اور کثیر الجہتی ایشو ہے۔ اس لئے اس کے حل کے لئے بھی کوئی ایک مخصوص طریقہ کار یا مخصوص ادارہ ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل اور جامع رسپانس مانگتا ہے۔ پاک فوج نے اِس کے ملٹری پرانگ (prong) کو بہت استعداد اور کامیابی سے چلایا ہے۔ مگر یہ کافی نہیں ہے۔ سِول پرانگ (prong) کو بھی اسی طرح عملی طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔ زبانی بیانات کے بعد اب قومی قیادت اور اداروں کو عملی طور پر اپنی استعداد کو بڑھانا اور ثابت کرنا ہو گا۔ اگر یہ نہ ہو سکا تو ہم من حیث القوم دہشت گردی کے عفریت کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکیں گے۔ سب کو آگے بڑھنا ہو گا۔ ہاتھوں میں ہاتھ دینا ہوں گے۔ عمل سے نیت کا ثبوت دینا ہو گا۔یاد رکھئے اس جنگ میں شکست‘ نو آپشن (No option) ہے۔

’’فوجی عدالتیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اکسیر کیوں خیال کی جارہی ہیں‘‘ میں اپنے ایک عزیز سے تبادلۂ خیال کررہا تھا۔ جنہیں فوجی عدالتوں میں مختلف حیثیتوں میں کام کرنے کا اتفاق ہُوا تھا۔وہ بہت ہی تفصیل سے بتا رہے تھے کہ فوجی عدالتیں کس کس انداز سے کام کرتی ہیں۔ زور اس بات پر تھا کہ عام عدالتوں میں جو معاملات اور تفصیلات جج کے روبرو بیان ہوتی ہیں‘ ان پر فوجی عدالتیں وقت صرف نہیں کرتیں۔ بلکہ پہلے سے واقعات کی پوری تحقیق ہوجاتی ہے۔ ایک مقدمہ تیار ہوجاتا ہے۔ پھر یہ طے ہوتا ہے کہ اسے کس سطح کی عدالت میں بھیجا جائے۔ وہ تمام بحث جو عام عدالتوں میں دونوں طرف کے وکیل کرتے ہیں‘ یہ مراحل کئی پہلوؤں سے تفتیش میں طے کرلئے جاتے ہے۔ سرسری سماعت بھی ہوتی ہے۔ فوجی ٹریبونل بھی۔ آخر میں فوجی عدالت۔ وہاں صرف یہ طے ہونا ہوتا ہے کہ متعلقہ جرم کی جو سزا متعین ہے وہ اس مجرم کو دی جائے یا نہیں۔

گفتگو میں بار بار میں اپنی طرف سے یہ سوال کررہا تھا کہ فوج میں اتنے جرائم نہیں ہوتے جتنے عام شہریوں میں ہوتے ہیں۔ اس لئے یہاں مقدمات اچھی بنیادوں پر تیار نہیں ہوتے۔ پھر جرائم کے ارتکاب کی کثرت کے باعث پولیس کے پاس وقت بھی نہیں ہوتا۔ اس لئے ابتدائی رپورٹیں اور استغاثے فوجی عدالتوں کی طرح دو تین دن میں تیار نہیں ہوسکتے۔

میرے سوال کا جواب میرے عزیز نے یہ دیا کہ فوجی بھی عام انسانوں کی طرح ہی نفسیات‘ جذبات رکھتے ہیں لیکن اصل بات ہے ڈسپلن اور اعتبار کی۔ جرائم کم اس لئے ہوتے ہیں کہ وہاں ہر ایک کو پتا ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکے گا۔ دوسری بات ہے اعتبار کی کہ وہاں ملٹری پولیس اور جرائم کی ابتدائی رپورٹ تیار کرنے والے پر بھی ملزم‘ اس کے اہل خانہ ‘اور دوسرے فوجیوں کو یہ اعتبار ہوتا ہے کہ یہاں رشوت‘ سفارش یا نااہلی سے غلط فرد جرم عائد ہوگی نہ ہی کسی کے خلاف جھوٹا کیس قائم ہوگا۔

شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھے گا۔ یہیں سے مملکت نے ایک صراط مستقیم اختیار کی۔ پاکستان کی مسلّح افواج نے تو اس لمحے ہی اس خطرناک رجحان کے لئے واضح رویہ اختیار کرلیا۔ ایک حتمی حکمتِ عملی طے کرلی۔ سیاسی جماعتیں اس وقت بھی گو مگو میں تھیں۔ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کو کہہ رہی تھیں۔ وہ مملکت کے لئے انتہا پسندی کے دوررس خطرات کا ادراک نہیں کررہی تھیں۔ تاآنکہ آرمی پبلک سکول پشاور میں درندگی کی انتہا ہوگئی۔

عام شہری زندگی میں بھی پہلے ایسا اعتبار قائم ہوتا تھا۔ پولیس اور دوسرے محکموں میں قانون کا فوج کی طرح ہی احترام کیا جاتا تھا۔ اس کا نفاذ اور اطلاق یکساں ہوتا تھا۔ شہریوں میں نظم و ضبط بھی اسی طرح تھا۔ ترقی یافتہ ممالک میں اب بھی یہ نظم و ضبط اور قانون کا خوف موجود ہے۔ اسی لئے وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ملک میں اس وقت ہم جس انارکی‘ افراتفری‘ نفسانفسی سے دو چار ہیں۔ وہ قانون کے یکساں نفاذ نہ ہونے کے باعث ہی ہے۔ پہلے سے جو قوانین موجود ہیں‘ ان پر ہی اگر مکمل عملدرآمد ہو تو معاشرہ محفوظ ہوسکتا ہے۔ پاکستانیوں کی محرومیاں دور ہوسکتی ہیں۔ نئے قوانین تشکیل کرنے کی ضرورت ہے نہ ہی آئین میں ترامیم کی۔ انگریز کا 1935ء کا ایکٹ دنیا کے اکثر ممالک میں شہریوں کے جان و مال کو بھی تحفظ دیتا ہے۔ معاشرے میں انارکی آنے سے بھی روکتا ہے۔ جس 21ویں ترمیم کے ذریعے دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کی بات کی جارہی ہے اس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ اگر تمام متعلقہ محکمے اور افسر ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروا رہے ہوں جن کے لئے وہ مامور کئے جاتے ہیں‘ عام لوگوں کے خون کی کمائی سے انہیں تنخواہیں اور شاہانہ زندگی اسی لئے میسر آتی ہے۔ لیکن خود بدلتے نہیں ’قانون‘ بدل لیتے ہیں

اگر اس ترمیم پر بھی مکمل عمل نہیں ہُوا تو یہ بھی بے اثر ہوجائے گی۔ پھر کوئی آئندہ حکومت 22ویں ترمیم کی بات کررہی ہوگی۔ ہمیں 1990ء کی دہائی میں ہی سمجھ لینا چاہئے تھا کہ دہشت گردی ‘ انتہا پسندی‘ فرقہ پرستی‘ پاکستانی معاشرے کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ مملکت اور حکومت دونوں کو انتہا پسندی کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار دینا چاہئے تھا‘ اس کے لئے پوری قوم کو اعتماد میں لے کر سب سے پہلے اس زہریلے رجحان کو ہر پہلو سے جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا چاہئے تھا۔ انتہا پسندی صرف مذہب‘ صرف فرقے تک محدود نہیں ہے‘ یہ زبان کے تعصب کے حوالے سے بھی ہے‘ نسلی برتری کے اعتبار سے بھی ہے۔ ہم جس خطے میں رہتے ہیں‘ اس کا خمیر جذبات سے اٹھا ہے۔ ہم ہمیشہ عقل کی بنیاد پر نہیں جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ جذبات میں جب مذہب کی وابستگی شامل ہوجائے تو یہ اور زیادہ پرجوش اور ہوش و دانش سے دور ہوجاتے ہیں۔ ہم ابھی تک قبائلی معاشرے کی رسوم اور روایات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ وابستگی ہمیں اور زیادہ جذباتی بنا دیتی ہے۔ قبائلی طرز معاشرت بھی مملکت کے قوانین اور عام عدالتی طریق کار سے متصادم ہے۔ ان کے اپنے جرگے ہیں‘ اپنے قانون ہیں‘ یہاں مملکت کا ڈسپلن نہیں‘ بلکہ قبیلے کا ڈسپلن لاگو ہوتا ہے۔ جاگیرداریوں میں بھی یہی حال ہے۔ مختلف مسالک اور فرقے بھی اپنے آپ کو مملکت کے ڈسپلن سے ماورا خیال کرتے ہیں۔

ہمارے دشمن کے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار بھی ہیں۔ تازہ ترین مواصلاتی آلات ہیں۔ وہ نئی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے مقاصد سے گہری جذباتی عقیدت رکھتا ہے۔ اپنے مشن کے لئے اپنی جان کی قربانی دینا چاہتا ہے۔ ایسے حریف کے مقابلے کے لئے پاکستانی عوام کا ہر لمحے خبردار رہنا ناگزیر ہے۔

پاکستان اس لحاظ سے دنیا کا مشکل ترین ملک ہے کہ یہاں ڈسپلن قائم کرنا آسان نہیں ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب ملک کے اعلیٰ ترین ادارے پارلیمنٹ میں اکثریت جاگیرداروں‘ قبائلی سرداروں‘ برادریوں کے سربراہوں کی ہے‘ جو اپنے اپنے حلقۂ اثر میں صرف اپنی زبان سے نکلے الفاظ کو ہی آئین اور قانون سمجھتے ہیں۔ اپنے علاقے کے ضلعی افسروں اور پولیس حکام کو مملکت کا نہیں اپنا خادم مانتے ہیں‘ وہاں قانون کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے۔ کیونکہ قانون کے رکھوالے ہی قانون کو خود مسترد کرتے ہیں۔

آج کے لمحۂ موجود میں تاریخ پاکستانیوں کو ان تصادموں‘ مخالفتوں‘ منافقتوں‘ ہلاکتوں‘ خونریزیوں اور دھماکوں سے گزارتے ہوئے ایسے موڑ پر لے آئی ہے جہاں بظاہر یہ نظر آرہا ہے کہ اب قوم انتہا پسندوں کے خلاف ایک ہوگئی ہے۔ بعض اصطلاحات‘ قانونی شقوں سے اختلاف کی آواز بلند ہورہی ہے‘ لیکن اکثریت نے دل سے یہ بات مان لی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے۔ ہمارے بعض سیاسی اور مذہبی رہنما پہلے اسے امریکہ کی جنگ قرار دے کر اس سے قطع تعلق اور امریکہ سے اتحاد ختم کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ حالانکہ ان انتہا پسندوں نے 50 ہزار سے زائد پاکستانیوں بشمول اہم فوجی اور سیاسی شخصیتوں کو بہیمانہ طریقوں سے قتل کیا ہے اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے آغاز سے بھی پاکستانیوں کو یہ ذہنی تقویت ملی تھی کہ اب پاکستان کی مملکت انتہا پسندی کے خاتمے کو اولین ترجیح سمجھ رہی ہے۔ ضرب عضب کامیابی سے جاری رہی قوم کو اس معرکے میں کامرانی کی خبریں ملتی رہیں۔ کارروائی ایک محدود علاقے تک تھی لیکن پورا پاکستان جانتا ہے کہ دہشت گرد اور انتہا پسند ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو ہتھیار بردار ہیں۔ خود ہلاکتوں میں حصّہ لیتے ہیں۔ وہ بھی جو خودکش بمباروں کی نئی نسلیں تیار کررہے ہیں۔ جو ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھاتے ہیں کہ یہ لوگ مرتد ہوچکے ہیں۔ اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ جنت میں جانے کا راستہ یہی ہے کہ ان کا وجود مٹا دیا جائے۔ اگر اس نیک کوشش میں جان بھی جاتی ہے تو یہ سعادت بھی حاصل کی جائے۔ ان میں وہ بھی ہیں جو ان گروہوں کے لئے مہنگے ہتھیار خریدتے ہیں۔ وہ اس طرح بزعم خود جنّت کے لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان سب کے اوپر کچھ ’ماسٹر مائنڈ‘ ہیں جن کے رابطے بیرون ملک بین الاقوامی تنظیموں سے ہیں جن کے اپنے طویل المیعاد مقاصد ہیں۔

پاکستانی فوج نے مسلسل کوششوں سے اپنے ہاں جو ڈسپلن قائم کیا ہے۔ جہاں کسی ملک‘ فرقے ‘زبان یا نسلی عصبیت کو فوقیت حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کے افسروں نے اپنے پیشہ ورانہ انداز سے ایک معیار اور اعتبار قائم کیا ہے۔ سول محکموں کو بھی پیشہ ورانہ خدمات کا یہ انداز اختیار کرکے اپنی ساکھ بحال کرنی ہوگی۔ قانون کی یکساں حکمرانی ہوگی تو کوئی بھی سیاستدان یا مذہبی تنظیم اپنے دائرے سے تجاوز نہیں کرسکے گی۔

شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھے گا۔ یہیں سے مملکت نے ایک صراط مستقیم اختیار کی۔ پاکستان کی مسلّح افواج نے تو اس لمحے ہی اس خطرناک رجحان کے لئے واضح رویہ اختیار کرلیا۔ ایک حتمی حکمتِ عملی طے کرلی۔ سیاسی جماعتیں اس وقت بھی گو مگو میں تھیں۔ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کو کہہ رہی تھیں۔ وہ مملکت کے لئے انتہا پسندی کے دوررس خطرات کا ادراک نہیں کررہی تھیں۔ تاآنکہ آرمی پبلک سکول پشاور میں درندگی کی انتہا ہوگئی۔ ہمارا مستقبل خون میں نہلا دیا گیا۔ کتنے غنچے مسل دیئے گئے۔ آسمان کی آنکھ نے ایسا ظلم کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ کون سی آنکھ ہے جو اس بیدردی پر نہیں روئی ہوگی۔ کون سا دل ہے جو بچوں کی اس بے بسی پر نہیں دہلا ہوگا۔ اس اندوہناک المیے نے تو خیبر سے گوادر تک 18 کروڑ پاکستانیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ طالبان کے نظریاتی حامیوں کے ذہن بھی مضطرب ہوگئے کہ ان بچوں کا کیا قصور تھا۔ انہوں نے اسلام کو کیا نقصان پہنچایا تھا۔ یہ شریعت کے نفاذ میں کہاں رکاوٹ تھے۔ مولانا عبدالمجید سالک نے کہا تھا۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

ان شہدا کی موت یقیناًاس قوم کو ایک نئی زندگی عنایت کرگئی ہے۔ 134 بچوں سمیت 149 پاکستانیوں کے خون نے ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ اب ایک طرف یہ ظالمان انتہا پسند‘ شدت پسند‘ دہشت گرد ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے عوام۔ اب کسی کے دل میں کسی حوالے سے بھی ان دہشت گرد گروہوں کے لئے ہمدردی نہیں رہی ہے۔ اگر کوئی ان کی ہم نوائی کی جرأت کرے گا تو اپنا نام ظالموں‘ جابروں اور انسان دشمنوں میں قلمبند کروائے گا۔ اب پورے پاکستان کی آرزو ہے کہ ضرب عضب کا دائرہ پورے پاکستان میں پھیلا دیا جائے۔ 21ویں آئینی ترمیم اسی آرزو کی تکمیل ہے۔

یہ تو مقام شکر ہے۔ اور لمحۂ تسکین بھی کہ دنیا کی بہترین‘ منظم‘ منضبط اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے جذبے سے سرشار پاکستانی فوج مملکت کے لئے سب سے خطرناک اس بے چہرہ دشمن کی سرکوبی کے لئے ایک واضح اور دو ٹوک رائے رکھتی ہے۔موجودہ وفاقی حکومت‘ صوبائی حکومتیں بھی اس وقت انتہا پسندی کو کچلنے کے لئے قومی ایکشن پلان بنا چکی ہیں۔اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہر پاکستانی‘ ہر قدم اور ہر لمحہ چوکنا رہے۔ پورا ملک اب حالت جنگ میں ہے۔جنگ بھی ایک ایسے دشمن سے جس کا کوئی چہرہ نہیں‘ کوئی مخصوص وردی نہیں ہے‘ کوئی زبان نہیں‘ کوئی پرچم نہیں ہے‘ کوئی قومیت نہیں ہے‘ وہ کوئی بھی وردی پہن کر آجاتا ہے‘ کوئی بھی حلیہ بنا کر آسکتا ہے‘ کوئی بھی پرچم لے کر آسکتا ہے اور کوئی زبان بھی بول سکتا ہے۔پاکستانی فوج‘ پاکستانی رینجرز‘ پاکستانی پولیس ایف سی‘ لیویز سب اس کے خلاف میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ پاکستانی عوام کو اب دوسری دفاعی لائن بننا ہے۔ اس دشمن کا نشانہ پاکستانی فوج بھی ہے‘ پولیس بھی‘ اساتذہ بھی‘ ڈاکٹرز بھی‘ ادیب بھی‘ صحافی بھی‘ اینکر پرسن بھی‘ سیاسی رہنما بھی‘ علمائے دین بھی۔

ہمارے دشمن کے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار بھی ہیں۔ تازہ ترین مواصلاتی آلات ہیں۔ وہ نئی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے مقاصد سے گہری جذباتی عقیدت رکھتا ہے۔ اپنے مشن کے لئے اپنی جان کی قربانی دینا چاہتا ہے۔ ایسے حریف کے مقابلے کے لئے پاکستانی عوام کا ہر لمحے خبردار رہنا ناگزیر ہے۔پہلے دوسرے ممالک کی طرح پاکستانیوں کو بھی سول ڈیفنس( شہری دفاع) کی تربیت دی جاتی تھی۔ رضا کار تیارکئے جاتے تھے، جو کسی ابتلا یا کسی جنگ کی صورت میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں مدد دے سکیں۔بعد میں اس انتہائی اہم محکمے کو ختم کردیا اب جو آفات نا گہانی سے نمٹنے کے لئے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ادارے قائم کئے گئے ہیں ان کا بجٹ تو شاہانہ ہے لیکن ان کا عوام سے کوئی رابطہ نہیں ہے نہ ہی یہ عوام کو کسی قسم کی تربیت دیتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف اگر چہ اب ایک ہمہ گیر جوابی کارروائی شروع ہوچکی ہے لیکن میرے خیال میں یہ خطرناک دشمن جتنا منظم اور یہ رجحانات جتنے گہرے اور پہلو دار ہیں‘ قوم کو اب بھی دس پندرہ سال تک ان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمارے ملک کی کوئی قطعی اور واضح مذہبی پالیسی نہیں ہے۔ مذہب کو حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے تو استعمال کیا ہے۔ اس میں سیاسی اور فوجی دونوں حاکم شامل ہیں۔ سیاستدانوں نے بھی مذہبی جماعتوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے انہیں بے حساب فنڈز بھی دیئے اور ان کے مذہبی تجاوزات اور اجارہ داری کو کبھی قانون کے دائرے میں محدود کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ پاکستان میں دنیا بھر کے دوسرے مسلم ملکوں سے زیادہ فرقے اور مسالک ہیں۔ یہ سارے گروہ اپنی اپنی جگہ مالی طور پر مستحکم ہیں۔1979ء میں سوویت یونین سے پنجہ آزمائی کے لئے مذہبی تنظیموں سے مدد لی گئی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مذہبی تنظیموں کو بڑے بڑے رفاہی پلاٹ دیئے گئے۔

پاکستان کے علمائے کرام اچھی طرح جانتے ہیں کہ مذہب کے نام پر کچھ لوگوں نے پاکستانیوں کے جذبات کا کس کس طرح استحصال کیا گیا ہے اور انہیں جذباتی طور پر کس طرح تقسیم کردیا گیا ہے۔ ایک ایک محلّے میں الگ الگ مساجد ہیں۔ ان مساجد میں کیسے کیسے اختلافی درس دیئے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو آپس میں لڑوایا جاتا ہے۔ مہرو محبت اور اخوت کی دعوت دینے کے بجائے کبھی حلئے کے حوالے سے‘ کبھی لباس کی بنیاد پر‘ کبھی وظائف کے اعتبار سے کس طرح ایک دوسرے کے مدّ مقابل لایا جاتا ہے۔ یہ سب رجحانات انتہاؤں کی طرف لے جاتے ہیں۔

انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پہلا سبق تو یہ ہونا چاہئے کہ پاکستانی فوج‘ نیم فوجی دستوں اورپولیس کے علاوہ کسی کے ہاتھ میں اپنی بات منوانے کے لئے ہتھیار نہیں ہونا چاہئے۔جو کوئی بھی اپنے مسلک‘ فرقے یا زبان یا قبیلے کے موقف کو زبردستی مسلط کرنے کے لئے کوئی ہتھیار اٹھاتا ہے اس کے بارے میں حکومت کو مطلع کیا جائے۔

میں تو ایک عرصے سے یہ کہہ رہا ہوں کہ جب مسلّح گروہوں سے پاکستان کے ہر گوشے میں خونریزی کا خطرہ ہے‘ حملے کا خدشہ ہے تو ملک کے ہر شہری کو سکیورٹی کی تربیت دینی چاہئے جیسے سرحدی علاقوں میں شہریوں کو دی جاتی ہے۔ اب تو یہ سرحدیں محلّوں میں کھنچی ہوئی ہیں مسجدوں میں کھنچی ہوئی ہیں‘ میں نے تو کئی با اثر شخصیتوں اور اداروں کو تجویز دی کہ سکیورٹی کو باقاعدہ ایک مضمون اور ڈسپلن کے طور پر تدریس کا لازمی جزو بنایا جائے ۔ سکیورٹی کی تدریس عام پاکستانیوں کی آگاہی اور با خبری کے لئے بھی اور یہ ایک پیشے کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے۔

سلامتی کے اس شعور کا اولین مرحلہ تو محلّہ ہونا چاہئے۔ افسوسناک امر ہے کہ ہماری سیاسی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہی نہیں کروائے۔ ورنہ ملک کا سب سے بنیادی یونٹ یونین کونسل سکیورٹی کی آگاہی کے لئے پہلا زینہ ہوسکتا ہے۔ اب بھی ملک میں انتشار اور بے یقینی کے خاتمے کے لئے مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد فوری طور پر ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کوششیں تو کررہے ہیں۔ سکیورٹی کے شعور میں پہلا قدم تو یہ ہے کہ شہری کہیں بھی‘ کسی کے پاس بھی ہتھیار دیکھیں تو اس سے ہوشیار بھی رہیں اور قریبی پولیس سٹیشن کو اطلاع بھی دیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ شہریوں کو پولیس پر اعتبار نہیں ہے۔ اور انہیں الٹا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ پولیس والے غیر قانونی ہتھیار رکھنے والے ہی کو نشاندہی کرنے والے کا سراغ دے دیں گے۔ اس لئے یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ اطلاع قریبی فوجی یونٹ کو دی جائے۔ وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں ہنگامی فون نمبر بھی دیئے ہیں۔

سیاسی انتشار اور اخلاقی بحران نے محلّے داری ختم کردی ہے جہاں بزرگ اپنے علاقے میں ذمہ داریوں اور معتبرین کا کردار ادا کرتے تھے۔ نوجوانوں میں غلط رجحانات کی سرکوبی کرتے تھے۔ اب کسی بچے یا نوجوان کو کوئی بزرگ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس بچے کے والدین بُرا مان جاتے ہیں۔ محکمے داری اور آپس میں روابط پیدا کرنے کی شعوری کوششیں ضروری ہیں۔ مساجد اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ محلّے داروں کو‘مقامی حکومتوں کو‘ ایم این اے‘ ایم پی اے‘ سینیٹر حضرات کو دلچسپی لے کر مساجد کو محلّے داری اور غم خواری کا مرکز بنانا چاہئے۔ اختلاف اور نفرت کے رجحانات کو روکنا چاہئے۔ محلّے کے اہم اور ممتاز افراد کو مساجد کے امور میں دلچسپی لینا چاہئے۔ صرف امام اور خطیب پر معاملات نہ چھوڑے جائیں۔سکیورٹی کا شعور پھیلانے کے لئے ایک طرف تو انتہا پسندانہ گفتگو‘ تقاریر پر نظر رکھنی چاہئے۔ ایسے رسالوں‘ کتابوں اور اخبارات کی نشاندہی بھی کرنی چاہئے۔ جن میں دوسرے مسلک‘ فرقے‘ اور مذہب کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے۔

مختلف ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی اور مار کے بارے میں سکولوں‘ کالجوں یونیورسٹیوں‘ دینی مدارس میں بھی فوج کی طرف سے لیکچر دیئے جائیں‘ اس طرح بموں کی تیاری میں جو گولہ بارود استعمال ہوتا ہے اس کے متعلق عام شہریوں کو مساجد کے ذریعے‘ میڈیا کے وسیلے سے تفصیلات بتائی جائیں۔ اگر عام پاکستانی اس سلسلے میں کچھ جانتے ہوں گے تو وہ ایسی مہلک اشیاء کی بازار سے خریداری یا اس کی نقل و حمل پر نظر رکھ سکیں گے۔ ملک میں جو مسلّح تنظیمیں بھی سرگرم ہیں‘ جنہیں حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے‘ ان کی فہرستیں ‘نام‘ پرچموں کی تفصیلات مساجد میں بھی آویزاں ہوں‘ مارکیٹوں میں بھی‘ درسگاہوں میں‘ایئرپورٹوں‘ بس اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر بھی‘ تاکہ وہ عوام کو اپنے جال میں گرفتار نہ کرسکیں۔ موجودہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بنیاد زیادہ تر چونکہ مذہب ہے اور شریعت کا حوالہ‘ اس لئے علماء کرام کو متحرک کرنا ضروری ہے۔ آپس میں مکالمہ ہو اور ایسے علمائے کرام جنہیں اپنے اپنے مسلک کے ماننے والوں میں ایک عزت‘ وقار اور اعتبار حاصل ہے۔ وہ آپس میں تبادلہ خیال کرکے ایسے رجحانات کی نشاندہی کریں۔ جن کا شریعت میں کوئی وجود نہیں ہے۔ پاکستانیوں کے ذہنوں میں اسلام کے عظیم مذہب کا وہی تصور قائم کیا جائے‘ اس کی حدود و قیود بتائی جائیں‘ مذہب اللہ اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے۔ جو علماء یا تنظیموں کے سربراہ مذہب کا سہارا لے کر اپنی طاقت بڑھاتے ہیں اپنے پیروکاروں کو مسلّح کرتے ہیں‘ دوسرے مسلک کے پیروکاروں پر مسلط ہونا چاہتے ہیں ان کے خلاف بھی قانون کو حرکت میں آنا چاہئے۔ وہ مذہب کو بھی نقصان پہنچارہے ہیں اور مملکت کو بھی۔

پاکستانی فوج نے De-Redicalisation کا جو پروگرام شروع کر رکھا ہے اس کا دائرہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پورے ملک میں پھیلائیں۔ اس کے ذریعے انتہا پسندی کے تمام رجحانات کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل‘ اور خاص کرم ہے کہ پاکستان کی 62 فی صد آبادی نوجوان ہے۔ 15 سے 35سال کے درمیان۔ اس کی تربیت‘ تنظیم اور روزگار کے لئے ایک وسیع البنیاد اور طویل المعیاد پروگرام سرکار اور نجی شبعے مل کر بنائیں تو خود کش بمبار تیار کرنے والی تنظیموں‘ لسانی گروہوں‘ نسل پرستوں ‘ علیحدگی پسندوں کو نئی کمک نہیں مل سکے گی۔

انتہا پسندی کے خلاف ایک منظم بیداری‘ آگہی اور شعور کے احیاء میں سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں مؤثر اور بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں ایسے سیمینار منعقد کئے جائیں جہاںِ تاریخ اسلام‘ شریعت‘ فقہ اور عالم اسلام میں مختلف رجحانات کے حوالے سے تبادلہ خیال ہو۔ انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کی طلبہ تنظیموں کو بتدریج ختم کیا جائے ۔ یہ تعلیم کی اشاعت میں بھی رکاوٹ ہیں اور اپنی سوچ کو طاقت وراور اسلحے کے زور پر مسلط کرنا بھی ان کا شیوہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ایسی تنظیموں کے قیام کی اجازت ہے جس میں ہر پاکستانی کسی مذہب‘ مسلک‘ زبان‘ نسل کے امتیاز کے بغیر رکنیت حاصل کرسکے۔ بے شمار پاکستانی مذہبی جماعتیں‘ تنظیمیں اور این جی اوز اس آئینی شق سے متصادم ہیں‘ پھر بھی وہ متحرک ہیں۔ اس سے ہی پاکستانی تقسیم ہوتے ہیں۔ میڈیا پاکستان میں اب بہت زیادہ متحرک اور مؤثر ہوچکا ہے‘ لیکن جو بھی شعوری اور غیر شعوری طور پر معاشرے میں تقسیم پیدا کرتا ہے۔ اس کی اپنی تربیت نہیں ہے۔ اس لئے کئی اینکر پرسن‘ رپورٹر‘ انتہا پسندی کے رجحانات کو تقویت پہنچاتے ہیں ان میں سے بہت سے دہشت گردی کا نشانہ بھی بن چکے ہیں۔ پاکستانی فوج نے مسلسل کوششوں سے اپنے ہاں جو ڈسپلن قائم کیا ہے۔ جہاں کسی ملک‘ فرقے ‘زبان یا نسلی عصبیت کو فوقیت حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کے افسروں نے اپنے پیشہ ورانہ انداز سے ایک معیار اور اعتبار قائم کیا ہے۔ سول محکموں کو بھی پیشہ ورانہ خدمات کا یہ انداز اختیار کرکے اپنی ساکھ بحال کرنی ہوگی۔ قانون کی یکساں حکمرانی ہوگی تو کوئی بھی سیاستدان یا مذہبی تنظیم اپنے دائرے سے تجاوز نہیں کرسکے گی۔ دیگر امور کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ:

عوام کی جان اور مال کی حفاظت بنیادی طور پر مملکت کی ذ مہ داری ہے جو عام طور پر پولیس کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ اس کے لئے پولس کو تربیت دینا اور ضروری سازوسامان فراہم کرنا سول انتظامیہ کا فرض ہے۔ تمام ترقی یافتہ ملکوں میں یہی طریقہ رائج ہے فوج کو سول انتظامیہ صرف آفات ناگہانی کے وقت بلاتی ہے اور وہ بھی محدود عرصے کے لئے مگر ہمارے ہاں ایک طویل مدت سے سول انتظامیہ اپنے اس ٖ فرض سے انتہائی غفلت برت رہی ہے ۔ کراچی میں رینجرز کئی سال سے وہ ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جو بنیادی طور پر پولیس کا کام ہے۔ رینجرز فارغ ہو کر سرحدوں پر جا کر اپنا کام کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی بننے کے بعد امریکہ نے پولیس ٹریننگ کے لئے بھی فنڈز دیئے ہیں مگر کسی صوبے کی پولیس اپنا معیار بلند کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک تو ہم اب اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں‘ اس کا تقاضا بھی ہے پھر ہم ایٹمی ملک بھی ہیں‘ اب ہماری حیثیت بڑھ گئی ہے ۔پاکستان کے سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتوں کو اس سطح پر سوچنا اور منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ اپنی گراں قدر ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ فوج نے اپنی کارکردگی کا معیارآج کے تقاضوں اور ترقی یافتہ قوموں کے برابر رکھا ہے اور عوام بھی ان پر اعتبار کرتے ہیں ۔لیکن انہیں سول امور میں مصروف رکھنے سے ان کی پیشہ ورانہ اہلیت متاثر ہوتی ہے اور وہ ان مقامات پر نہیں جا سکتے جہاں ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ منتخب سیاسی حکومت کو ایک اجلاس اس سلسلے میں بھی منعقد کرنا چاہئے کہ قانون کے یکساں نفاذ کے لئے سول محکموں کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ پوری کی جارہی ہیں یا نہیں۔ پولیس آفیسرز اہل ہیں یا نہیں؟ کمشنرز‘ ڈپٹی کمشنرز کو اپنے فرائض کا احساس ہے یا نہیں۔سول انتظامیہ کو اپنے ہاں بھی وہی ڈسپلن قائم کرنا چاہئے جو فوج میں قائم رکھا جاتا ہے ۔

ایک اور فوری اور ضروری اقدام یہ ہے کہ سیاسی حکومتیں مقامی حکومتوں کا نظام بحال کریں‘ اس سے بھی دہشت گردی اور لا قانونیت کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی یہ آئین کا بھی تقاضا ہے اور وقت کی آواز بھی۔جہاں جہاں فوج اپنا آپریشن مکمل کر لے‘ وہاں پورا نظم و نسق سول انتظامیہ سنبھالے اور قانون کی یکساں حکمرانی نافذ کرے۔یہ جائزہ لیا جائے کہ سوات میں سول محکموں نے پورا کنٹرول لے لیا ہے یا نہیں ۔ دہشت گردی ایک بہت گہرا اور کثیر الجہتی ایشو ہے۔ اس لئے اس کے حل کے لئے بھی کوئی ایک مخصوص طریقہ کار یا مخصوص ادارہ ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل اور جامع رسپانس مانگتا ہے۔ پاک فوج نے اِس کے ملٹری پرانگ (prong) کو بہت استعداد اور کامیابی سے چلایا ہے۔ مگر یہ کافی نہیں ہے۔ سِول پرانگ (prong) کو بھی اس طرح عملی طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔ زبانی بیانات کے بعد اب سِول قیادت اور اداروں کو عملی طور پر اپنی استعداد کو بڑھانا اور ثابت کرنا ہو گا۔ اگر یہ نہ ہو سکا تو ہم من حیث القوم دہشت گردی کے عفریت کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکیں گے۔ سب کو آگے بڑھنا ہو گا۔ ہاتھوں میں ہاتھ دینا ہوں گے۔ عمل سے نیت کا ثبوت دینا ہو گا۔یاد رکھئے اس جنگ میں شکست‘ نو آپشن (No option) ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

26
February

43سال تو گزر ہی چکے ہیں۔پوری ایک بلکہ دو نسلیں رخصت ہو ئیں۔ جنہوں نے ’’ڈھاکہ‘‘ڈوبتے دیکھا۔اس دوران بقول شخصے پُلوں کے نیچے سے خاصا پانی ہی نہیں‘ لہو کا ایک دریابلکہ سمندر بہہ چکا ہے۔یقیناًاس دوران اس ریجن‘ خاص طور پر برصغیر پاک و ہند کی قوموں نے اپنی تاریخ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔مگر ایسا لگتا ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان، حالیہ بنگلہ دیش کے بنگلا بندھو شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی وزیر اعظم حسینہ واجد اور اُن کی جماعت عوامی لیگ نے اپنی تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔یقیناًاس وقت اُن کے ارد گرد ایسا کوئی دانا مشیر، وزیر ہی نہیں جو انہیں بتائے کہ آج جو وہ اپنے سیاسی مخالفین کو پھانسیاں چڑھانے کی ریت ڈال رہی ہیں ۔۔۔ کل جب تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی تو کئی نئے سر بھی انہی سولیوں پر چڑھے ہوں گے۔اس کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ خود بنگلہ بندھو کی بیٹی کو یاد ہونا چاہئے کہ آزادی کے محض پانچ سال بعد ہی بنگالیوں کے نجات دہندہ بنگلہ بندھو کو اسی ڈھاکہ میں خاندان سمیت جب خون میں نہلا یا گیا تو اگلے 48گھنٹے تک بنگلہ بندھو کی خاندان سمیت لاشیں بے گور و کفن پڑی رہی تھیں۔۔۔ اور اُن کو خون میں نہلانے والی پاکستانی فوج‘ البدر اور الشمس نہیں۔۔۔خود ان کی بنگالی مکتی باہنی اور فوج کے جوان تھے۔ڈھاکہ جیسے شہر میں بنگلہ بندھو کے لاکھوں جانثاروں میں سے کسی ایک میں یہ جرأت و ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے ’’عظیم‘‘ قائدکی بے گور و کفن لاش کی مذہبی اور قومی احترام سے رسوم ادا کرتے۔یقیناًیہ لکھتے ہوئے میراقلم لرز رہا ہے کہ 48گھنٹے بعد بھی ڈھاکہ کے تخت پر قبضہ کرنے والے فوجیوں کے ایک گروپ ہی نے ’’بنگلہ بندھو‘‘اور اُن کے اہل خانہ کی لاشوں کو لے جا کر اُن کے آبائی گاؤں میں دفنایا تو سارا گاؤں خوف و دہشت سے فرار ہوگیا۔بنگلہ بندھو کی نماز جنازہ پڑھانے والے درجن بھر فوجی جوان ہی تھے۔۔۔ ! سارے بنگلہ دیش میں نہ کہیں فاتحہ خوانی ہوئی اور نہ کہیں سوگ منایا گیا۔

16دسمبر کے سانحہ پر کالموں اور کتابوں کے پہاڑ لگائے جا چکے ہیں۔عام طور پر اس کے ذمہ دار تین فریق ٹھہرائے جاتے ہیں۔یعنی جنرل یحییٰ خان ،شیخ مجیب الرحمٰن اور بھٹو۔۔ اس پس منظر میں سقوط ڈھاکہ کے سب سے بڑے اور مرکزی کردار بھارت کا ذکرضمنی طور پر کیا جاتا ہے۔یقیناًیہ تینوں کردار یعنی جنرل یحییٰ خان ، شیخ مجیب الرحمٰن اور ذوالفقار علی بھٹو اپنے اپنے طور پر بری الذمہ نہیں ٹھہرائے جاسکتے۔اس پر بہت کچھ لکھا بھی جاچکا ہے۔۔ مزید کچھ لکھنادُہرانے کے زمرے میں ہی آئے گا۔مگرگزشتہ چند برسوں سے 16دسمبر کے حوالے سے بھارت کے استعماری کردار کو ’’امن کی آشا‘‘ کی نظر کردیا گیا ہے۔ جبکہ حالیہ دنوں میں بلوچستان اور افغانستان کے حوالے سے بھی بھارت جو کردار ادا کررہا ہے‘ اُسے16دسمبر کے حوالے سے پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ اب کانگریسیوں سے چار ہاتھ آگے نریندر مودی کے بھارت کا ہمیں سامنا ہے۔۔۔ جو آج بھی گجرات کے دو ہزار مسلمانوں کا خون بہانے پر شرمندہ نہیں۔اس بارے میں قطعی دورائے نہیں کہ بھارت سمیت تما م پڑوسیوں سے دو طرفہ سفارتی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات برابری کی بنیاد پر ہونا چاہئیں۔مگر جو قومیں 16دسمبر جیسے سانحات بھُلا بیٹھتی ہیں۔۔۔تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔

16دسمبر کے حوالے سے آج بھی وطن عزیز میں ایک ایسا بڑا حلقہ موجود ہے جو سقوط ڈھاکہ کی ذمہ داری صرف اور صرف ’’فوج ‘‘ پر ڈالتا ہے۔یا پھر۔۔ایک حد تک ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی پر۔۔۔ یقیناًیہ دونوں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کی جانب دھکیلنے میں ایک حد تک قصوروار ٹھہرائے جاسکتے ہیں مگر اس سارے باب میں شیخ مجیب الرحمٰن کیا محض معصوم ہیرو ہی کہلائے جائیں گے؟

اب توخود ڈھاکہ یونیورسٹی سے ایسی کتابیں شائع ہونے لگی ہیں جس میں مستند حوالوں سے ’’اگرتلہ‘‘کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جہاں جا کر شیخ مجیب الرحمٰن نے بھارتی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں ڈھاکہ میں مقیم سینئر بھارتی سفارتکار بھی موجود تھے۔یہ کوئی 1960کے آس پاس کے دن تھے۔وزیر اعظم جواہر لال نہرو اُس وقت زند ہ تھے۔جب ان تک اگرتلہ میں کی جانے والی سازش کی خبر پہنچی تو انہوں نے سختی سے اسے روک دیا۔مگر 1960سے1970کے عشرے میں بھارتی سفارت کاروں اور انٹیلی جنس کے افسران کے عوامی لیگی قیادت سے روابط ہمیشہ ہی open secret رہے۔ 1970کے انتخابات میں عوامی لیگ کی کامیابی غیر متوقع نہ تھی۔ مگر یہ اتنی بھاری اکثریت سے تھی کہ بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو نے اپنے ایک دیرینہ رفیق سابق چیف سکریٹری حکیم بلوچ سے حیرانی سے کہا کہ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ بھاشانی کی نیشنل عوامی پارٹی (NAP) اور ہمارے مظفر احمد کی نیپ کا مشرقی پاکستان سے مکمل سیاسی صفایا ہورہا تھا اور انہوں نے اس کی ہمیں کانوں کان خبر بھی نہ دی!‘‘

اب توخود ڈھاکہ یونیورسٹی سے ایسی کتابیں شائع ہونے لگی ہیں جس میں مستند حوالوں سے ’’اگرتلہ‘‘کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جہاں جا کر شیخ مجیب الرحمٰن نے بھارتی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں ڈھاکہ میں مقیم سینئر بھارتی سفارتکار بھی موجود تھے۔

1970کے انتخابات میں جو نتائج عوامی لیگ کو ملے اُس پر شیخ مجیب الرحمٰن کو وہی کچھ کرنا تھاجس کا خواب پچاس کی دہائی سے بنگالی قوم پرستوں نے دیکھنا شروع کردیا تھا۔یحییٰ خان کی فوج اور بھٹو کی پیپلز پارٹی اگر یہ سب کچھ نہ بھی کرتی تو چھ نکات کی بنیاد پر شیخ مجیب کی عوامی لیگ ایک علیحدہ فیڈریشن کی ہی بنیاد رکھتی کہ چھ نکات پر عملدرآمد کے بعد اسلام آباد کے پاس بچتا ہی کیا۔یہ بڑا طویل موضوع ہے۔اسے ایک مختصر موضوع میں سمیٹا نہیں جاسکتا اور نہ سمیٹنا چاہئے۔ایک اچھی بات یہ ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے اب ایسی بے شمار کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں جن میں خود بنگالی دانشور بھی اعتراف کرتے ہیں کہ شیخ مجیب اور ان کی عوامی لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے ڈھاکہ کے دورے کے دوران جب احتجاج کیا تھا تو اصل میں یہ پاکستانی ریاست کو چیلنج تھا۔جس میں یہ واضح پیغام تھا کہ مشرقی پاکستان کے بنگالی‘ زبان اور نسل کی بنیاد‘ پر اپنا سونار بنگال بنا کر ہی دم لیں گے۔ لیکن یہاں ہم اس وقت کے مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ جنہوں نے دونوں بازو ؤں کے درمیان خلیج بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیامسئلہ محض زبان ہی کا نہیں تھا۔ بلکہ حکمرانی میں جس کی backboneسویلین ملٹری بیوروکریسی ہوتی ہے،مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی نمائندگی، اُن کی آبادی کے اعتبار سے شاید دس فیصد بھی نہ تھی۔ پھر بہر حال خود اُس وقت کی مشرقی پاکستان کی مسلم لیگ نے بھی بنگالیوں کے جذبات و احساسات کی نمائندگی کے بجائے مغربی پاکستان کے حکمراں طبقے سے گٹھ جوڑ کرلیاجس سے عوامی لیگ کے اُن انتہا پسندوں کا کام آسان ہوگیا جو پہلے ہی سے مغربی بنگال کے راستے فکری،نظری ،مالی اور عسکری امداد دہلی سرکار سے حاصل کر رہے تھے۔باقی کچھ تاریخ کا حصہ ہے کہ جس میں اُس وقت کے موقع پرست حکمراں طبقے نے، جن کا تعلق دونوں بازوؤں یعنی مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان سے تھا،کس طرح ہمارے مشرقی پاکستان کو آزاد بنگلہ دیش کی جانب دھکیلا اور پھر جس کے بعد ہمارے روایتی دشمن بھارت کو بھی وہی کچھ کرنا تھا جو 1965کی جنگ کے بعد سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مرکزیت کو ختم کرنے کے در پہ تھا۔ ابھی کچھ دن قبل ہی میری نظر سے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی بائیو گرافی گزری ہے جو اُن کی ایک قریبی دوست Pupul Jayakarنے لکھی ہے۔ پیوپل لکھتی ہیں کہ 1970کے انتخابات کے چند ماہ بعدعوامی لیگ اور اسلام آباد کے درمیان محاذ آرائی زور پکڑنے لگی تو اپریل 1971میں وزیر اعظم اندراگاندھی نے اپنے آرمی سربراہ جنرل مانک شا کو طلب کیا۔ وزیراعظم اندرا گاندھی نے اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے میں جنرل سے پوچھا۔

Do you know what is happening in East Pakistan?

جنرل نے گردن ہلا کر جواب دیا۔

Yes madam, people are getting killed

اس پر وزیر اعظم گاندھی نے اپنے اسی سرد سپاٹ لہجے میں کہا۔’’کیا تم جنگ کے لئے تیار ہو؟‘‘جنرل نے اپنی وزیر اعظم کے اس دوٹوک سوال پر وضاحتیں پیش کرنی شروع کر دیں۔ وزیر اعظم گاندھی نے جنرل کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔’’تمہیں فوج کی سربراہی اس لئے سونپی گئی ہے کہ ہمارے حکم پر جنگ کرو۔ایسا نہیں کرسکتے تو مستعفی ہو جاؤ۔‘‘ سلیوٹ مار کر Yes, Madamکہتے ہوئے جنرل مانک شاہ وہاں سے اٹھے اور اپنے کمانڈروں کا اجلاس طلب کر کے انہیں ڈھاکہ میں ایک مکمل جنگ کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔

’’سقوطِ ڈھاکہ‘‘ عوامی لیگ کی مسلح تنظیم مکتی باہنی کے ہاتھوں نہیں ہوا۔ایک پوری جنگ کے بعد چار گنا بھارتی فوجیوں نے محصور پاکستانی فوجیوں سے ہتھیار ڈالنے کا جشن منایا۔ بنگلہ بندھوکو جو بھارت کے ہاتھوں ’’ڈھاکہ ‘‘ملااُس کا شکرانہ انہوں نے اس طرح ادا کیا کہ پاکستان کی قید سے رہائی کے بعد وہ لندن سے سیدھے اپنے جاں نثار ہم وطنوں کے پاس نہیں گئے بلکہ بھارت کے دارالحکومت دہلی کی دہلیز پر جاکر اپنی عظیم محسنہ وزیراعظم اندرا گاندھی کے آگے دست بستہ ہوئے۔

(مضمون میں دی گئیں آراء مضمون نگار کی ذاتی ہیں ادارے کا متن سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)
26
February

وہ ایک تھرتھراتی‘ لرزتی‘ کانپتی یخ بستہ زرد سی شام تھی۔ اسلام آباد کی پہاڑیوں سے کہرا اس طرح اٹھ رہا تھا جیسے کسی دل جلے کے سینے سے دھواں اٹھتا ہے۔ درختوں نے اپنے لبادے سیاہ کر لئے تھے۔ شاخیں مفلوج ہو کر ٹنڈ منڈ لگ رہی تھیں۔ ہری بھری گھاس کا رنگ فق ہو چکا تھا۔ پتے شدتِ درد سے سکڑ گئے تھے۔ زرد ہوتے۔۔۔ پھر ملگجے ہو کر زمین پر گر رہے تھے۔ ایک کے بعد ایک۔۔۔ ہر درخت کے تنے میں خشک پتوں کا ایک ڈھیر سا جمع ہوتا جا رہا تھا جیسے شبِ ہجر کسی بیوہ کی آنکھ سے آنسو گرتے ہیں یکے بعد دیگرے۔۔۔ یا پھر ہر گرنے والا پتہ گرتے ہی دوسرے پتیوں کے ساتھ مل کر آہ و بکا کرنے لگتا تھا۔ اس شام ہوا کے پاؤں بھی لڑکھڑا رہے تھے۔ یوں چل رہی تھی جیسے ناقابلِ برداشت بوجھ اٹھا رکھا ہو۔ جب یہی برفیلی ہوا کوڑے برساتی تو درختوں کے تلے جمع ہونے والا پتوں کا ڈھیر یوں ایک سمت دوڑتا جیسے کسی گھر میں خیرات تقسیم ہونے والی ہو۔۔۔ سوکھے پتے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ ہری بھری شاخ پر ایک ساتھ رہتے ہیں تو زمین پر گر کر بھی ایک دوسرے کا ساتھ نبھاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں آفات میں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔

ورنہ وقت سب کچھ لوٹ کر لے جاتا ہے۔

رات سہمے ہوئے انداز میں زینہ زینہ اتر رہی تھی۔ شام خوف زدہ انداز میں چہرے پر نقاب ڈال رہی تھی۔

ہم سب گھر والے‘ دل گرفتہ و نم گرفتہ ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے۔ کوئی کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔ کچھ پوچھتا نہیں تھا۔

سب ہونی کو ’’انہونی‘‘ ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔

ہمارے آگے پڑی روٹیاں ٹھنڈی ہو گئی تھیں۔۔۔ اور پلیٹوں میں سالن جم گیا تھا۔ جس طرح پلکوں پر ٹھٹھرتے ہوئے آنسو پگھلنے کو بیقرار تھے۔

کئی دنوں سے ہم سب حالت جنگ میں تھے۔

میں بچوں کو لے کر اسلام آباد اپنے ایک عزیز کے ہاں چلی آئی تھی۔ لاہور میں خطرہ تھا۔ چند دنوں کا معصوم میری گود میں تھا رات کو فضا اندھیروں میں ڈوب جاتی تھی اور دن میں جہازوں کا شور آسمان کی وسعتیں چیرتا رہتا تھا۔ ہماری بے مثال افواج مشرقی پاکستان میں سینہ سپر تھیں اور پوری قوم مغربی محاذ پر دست بہ دعا تھی۔

بس ٹیلی ویژن ہی ایک ذریعہ تھا جو تازہ ترین خبریں نشر کر رہا تھا۔ وہ 16دسمبر کی آلام و ابہام میں لپٹی ہوئی ایک شکست خوردہ سی شام تھی۔ اور پھر۔ ٹیلی ویژن سے ایک آواز ابھری۔

آواز تھی یا بلبلاتی پکار۔۔۔ وہ آواز جس پر سارا مغربی پاکستان کان لگائے بیٹھا تھا‘ اپنی عاقبت نااندیشی اور ندامت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہماری تاریخ ساز فوج۔۔۔ جغرافیہ بدل دینے والی فوج۔۔۔ نعرہ تکبیر کی زرہ بکتر پہن کر لڑنے والی فوج۔۔۔ شہادت کے عنوان سے اپنی پیشانی سجانے والی فوج۔۔۔ کبھی نہ پیٹھ پھیرنے والی فوج۔

مشرقی پاکستا ن محاذ پر کیوں بے بس ہوئی۔۔۔؟

یہ عالمی سازش تھی‘ سیاسی بے تدبیری تھی۔۔۔ یہ قیادت کی بزدلی تھی۔۔۔ یہ کمان والوں کا غلط فیصلہ تھا۔۔۔ یہ ناقص پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔۔۔

کیا تھا بھلا۔۔۔

مگر تاریخ کا ایک صفحہ سیاہ ہو گیا تھا۔

کون یقین کرتا۔۔۔؟

کیوں یقین کرتا۔۔۔؟

ماؤں نے تو اپنے بیٹے شہید ہونے کے لئے بھیجے تھے۔ امام ضامن باند ھ کر۔۔

یہ جو تقریر نشر ہوئی‘ خجالتوں کے پسینے میں شرابور تھی۔ بے دم تھی

اس نے پاکستانیوں کے اندر آگ سی لگا دی۔

برفباری کے موسم میں شعلے بھڑکنے لگے۔۔۔ ہر زبان انگارہ بن گئی۔۔۔

ہم نے دیکھا۔۔۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر اس رات ایک انبوہِ کثیر نکل آیا تھا۔۔۔ اور مختلف انداز میں اپنے غم اور غصے کا اظہار کر رہا تھا۔ وقت کے آقاؤں پر۔۔۔ اس ہزیمت کا الزام دھر رہا تھا۔۔۔ اس ہجوم میں نوجوان‘ بچے‘ بوڑھے سب شامل تھے۔۔۔ وہ کچھ کر گزرنے کو گھروں سے نکل آئے تھے۔۔۔ پھر ان کا رخ یکایک شیشے کے شو کیسوں میں سجی ہوئی رنگ برنگے مشروبات کی بوتلوں کی طرف ہو گیا تھا۔۔۔ پھر اس رات فلک کج رفتار نے دیکھا۔۔۔ ہجوم نے نشہ میں بھری ہوئی وہ ساری بوتلیں نکال نکال کر سڑکوں پر پھوڑ دیں۔۔۔ چور چور بوتلیں۔۔۔ بہتی ہوئی بوتلیں۔۔۔ ڈھکنوں سے آزاد بوتلیں۔۔۔ اس رات اسلام آباد کی سڑکوں پر یوں بکھری ہوئی تھیں جیسے فرار ہونے والے اپنے جوتے چھوڑ گئے ہوں۔۔۔

بس تو بوتلوں پر ہی چلنا تھا۔۔۔

کون تھا جو اس رات سو سکا۔۔۔

ہم سب گھر والے اکٹھے بیٹھ کر روئے جیسے کوئی پیارا بچھڑ گیا ہو۔

اس رات قائداعظم کی روح بے قرار ہو کر اسلام آباد کے اوپر منڈلاتی رہی۔۔۔ ساری رات ہوائیں پہاڑوں کے اس طرف بین کرتی رہیں۔ ہم نے قائداعظم کو پرسہ دیا۔

ماؤں کی گودوں میں روتے چلاتے ہوئے نومولود اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔۔۔

اے قائداعظم ! ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔

ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔ ہم

یہ ہمارا وعدہ ہے۔۔۔

کون تھا جو اس رات سو سکا۔۔۔

ہم سب گھر والے اکٹھے بیٹھ کر روئے جیسے کوئی پیارا بچھڑ گیا ہو۔

اس رات قائداعظم کی روح بے قرار ہو کر اسلام آباد کے اوپر منڈلاتی رہی۔۔۔ ساری رات ہوائیں پہاڑوں کے اس طرف بین کرتی رہیں۔

ہم نے قائداعظم کو پرسہ دیا۔

ماؤں کی گودوں میں روتے چلاتے ہوئے نومولود اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔۔۔

اے قائداعظم ! ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔

ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔ ہم

یہ ہمارا وعدہ ہے۔۔۔

 
26
February

مشرقی پاکستان‘ ہلی سیکٹر میں جوانمردی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجرمحمداکرم شہید نشان حید رکے بارے میں اُن کے بھائی ملک محمد افضل کی ہلال کے لئے خصوصی تحریر

میجر محمداکرم شہید ڈنگہ ضلع گجرات میں4 اپریل1938 کو اپنے ننھیال کے گھر پیدا ہوئے ۔ ان کا آبائی گاؤں نکہ کلاں جہلم سے بیس میل جنوب میں پنڈدادن خان روڈ پر واقع ہے۔ آپ کے والد محترم کا bahadri ka wo nishan2نام ملک سخی محمد تھا۔ ان کا تعلق اعوان برادری سے تھا۔ انہوں نے بھی فوج کی پنجاب رجمنٹ میں خدمات انجام دیں۔ وہ نیک سیرت اور نہایت ہی پرہیزگار انسان تھے میجر اکرم شہید کی والدہ ماجدہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ وہ بڑی باشعور اور دینی جذبے سے سرشار خاتون تھیں۔ دین کے بارے والدین کی تربیت کا یہ اثر ہوا کہ ان کے دو بیٹے ملک محمدافضل اور حفیظ اﷲ ملک حافظِ قرآن ہیں۔ اکرم شہید کی آبیاری بھی اسی دینی ماحول میں ہوئی۔ ان کی زندگی میں جو اخلاص تھا ‘جو دیانت رچی بسی تھی اور جو احسان و ایثار کا جذبہ تھا اس کا سرچشمہ گھر ہی تھا۔ انہوں نے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی۔ مڈل کلاس تک تعلیم انہوں نے نکہ کلاں کے قریب گاؤں چکری راجگان کے ہائی سکول سے حاصل کی۔ وہ 16 اگست1948 کو ملٹری کالج جہلم میں داخل ہوئے۔ ملٹری کالج جہلم کے ماحول اور اساتذہ کی تربیت سے ان کی زندگی میں مزید نکھار آنے لگا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ جلد ہی کھیل کے میدان میں اُن کے جوہر کھلنے لگے۔ ہاکی اور باکسنگ کا بڑا شوق تھا۔ وہ بہت اچھے باکسر تھے اور بڑی جرأت اور ہمت سے باکسنگ کرتے تھے۔ وہ کالج کی لائبریری میں حضرت خالد بن ولید‘ طارق بن زیاد اور محمدبن قاسم کے حالاتِ زندگی پر مبنی کتب کا مطالعہ کرتے۔ انہوں نے ان کی بہادری کے واقعات ازبر کئے ہوئے تھے اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی جستجو رکھتے تھے۔ وہ کالج میں اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ محنتی اور فرض شناس تھے۔ نماز پابندی سے پڑھتے تھے۔ اپنے اخلاق اور شرافت کی وجہ سے اپنے ہم جماعتوں میں بہت مقبول تھے۔

ملٹری کالج سے اکرم نے دوچیزیں حاصل کیں۔ ایک پڑھنے کا شوق دوسرے یہ کہ وہ یہاں سے آفیسر بننے کا عزم اور تصور لے کر گئے۔ اکرم شہید جولائی1953 میں کالج سے فارغ ہو کر پنجاب رجمنٹ bahadri ka wo nishan3کی بوائز کمپنی میں بھرتی ہوئے۔ ملٹری کالج سے آنے کی وجہ سے بوائز کمپنی اور پنجاب سنٹر میں اکرم ’کے جی‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ بوائز کمپنی میں ان کی کارکردگی اتنی شاندار رہی کہ ان کو پڑھائی‘ کھیلوں‘ شوٹنگ اور دوسری سرگرمیوں میں برتری کی بنا پر پہلے پلاٹون کمانڈر اور بعد ازاں بوائز کمپنی کمانڈر بنا دیا گیا جو ایک اعزاز کی بات تھی۔

دو سال بعد وہ ایک باقاعدہ سپاہی کی حیثیت سے 8 پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ یہاں انہوں نے ملٹری سپیشل امتحان پاس کیا جو کمیشن میں جانے کے لئے ضروری تھا اور انہوں نے کمیشن کے لئے درخواست دی۔ ناکامی ہوئی‘ لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ دوبارہ کوشش کی اور بالآخر ان کی کوششیں رنگ لائیں۔1961ء میں انہیں 28 پی ایم اے لانگ کورس کے لئے چُن لیا گیا۔ پی ایم اے میں جاتے ہی انہوں نے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے جگہ بنا لی۔ وہ پی ایم اے کی ہاکی ٹیم میں لئے گئے اور اس حیثیت سے انہوں نے دوبارہ انٹر اکیڈمی سپورٹس میں پی ایم اے کی نمائندگی کی۔ ایک بار پی اے ایف(P A F) اکیڈمی رسالپور میں اور دوسری بار پی این (PN)اکیڈمی کراچی سے کامیاب لوٹے۔ انہیں اکیڈمی کا ہاکی کلر بھی ملا تھا۔ ہاکی کے علاوہ زبردست نشانہ باز بھی تھے۔ اپنے کورس میں بہترین نشانہ باز کی ٹرافی بھی حاصل کی۔

13 اکتوبر1963ء کو انہیں کمیشن ملا اور سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان کا تقرر4 ایف ایف رجمنٹ میں ہوا جو اس وقت پشاور میں تعینات تھی۔ دو سال بعد انہیں کیپٹن بنا دیا گیا۔1965 کی جنگ میں انہوں نے ظفر وال سیکٹر میں دشمن سے پنجہ آزمائی کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جب آپ گھر چھٹی گئے تو آپ کی ہمشیرہ نے پوچھا کہ بہت سے افسروں اور جوانوں کو تمغے ملے ہیں آپ کو کیا ملا۔ جواب میں انہوں نے کہا میں نے کچھ نہیں کیا اس لئے مجھے کچھ نہیں ملا۔ لیکن بہن آپ دیکھنا جب وقت آئے گا تو وہ کام کروں گا کہ دنیا یاد رکھے گی۔bahadri ka wo nishan4

7 جولائی1968 کو ان کا تبادلہ(ای پی آر) ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوگیا اور وہ مشرقی پاکستان چلے گئے۔23 مارچ 70 تک وہاں رہے اس عرصے میں انہیں مشرقی پاکستان کے بڑے حصے کو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس قیام کے دوران انہوں نے بڑی تندہی سے بنگالی سیکھ لی۔ انہوں نے جس طرح وہاں کے حالات اور ماحول کا مطالعہ کیا اور جس ذوق سے بنگالی سیکھی وہ محض علمی یا ادبی تجسس نہ تھا اس قدر کاوش کی تہہ میں اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے اور اسلام اور پاکستان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کا جذبہ تھا۔

ای پی آر میں دو سال گزارنے کے بعد جب کیپٹن اکرم اپنی پلٹن 4 ایف ایف سیالکوٹ پہنچے تو سب نے مسرت اور گرم جوشی کا اظہار کیا۔ ستمبر1970 میں آپ کی یونٹ کوئٹہ پہنچی۔ وہاں جانے سے پہلے آپ نے جولائی اگست میں مری انٹیلی جینس کورس بھی کیا۔ کورس کے بعد انہیں میجر کے عہدے پر ترقی ملی اور وہاں کوئٹہ میں اپنی پلٹن سے جا ملے۔

31 مارچ71ء کو میجر اکرم یونٹ کے ساتھ ایک بار پھر مشرقی پاکستان پہنچے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں ان کی کمپنی ہلی کے مقام پر صف آراء ہوئی۔ ہلی کے علاقے کی حیثیت ایک شہ رگ کی سی تھی۔مشرقی پاکستان کے شمالی علاقوں میں متعین ساری فوج کی سپلائی لائن یہاں سے گزرتی تھی۔ دشمن کا یہ منصوبہ تھا کہ ہلی پر قبضہ کرکے شمال میں متعین فوج کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے اور سپلائی لائن کاٹ دی جائے۔ ہلی پر قبضہ کرنے کے لئے دشمن کے 202ماؤنٹین بریگیڈ کو دو ماؤنٹین رجمنٹس‘ آرٹلری کی ایک bahadri ka wo nishan5لائٹ بیٹری اور ایک میڈیم رجمنٹ (ایک بیٹری کم) اور T-55ٹینکوں کے ایک سکواڈرن کی مدد حاصل تھی۔ میجر اکرم 4 ایف ایف کی سی کمپنی کی کمانڈ کررہے تھے۔ انہوں نے اپنی کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے بھرپور حملوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف دشمنوں کو پیش قدمی سے روکے رکھا بلکہ اس کے کئی ٹینک تباہ کئے اور سخت جانی نقصان بھی پہنچایا۔ 4 اور5 دسمبر1971ء کی رات کو دشمن نے چار بار میجر اکرم کی کمپنی پر حملہ کیا لیکن ہر بار دشمن کو منہ کی کھانی پڑی۔ دشمن کا توپ خانہ اور ٹینک آگ اُگل رہے تھے۔ میجرمحمداکرم کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ دشمن کے ٹینکوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے۔ وہ ایک سپاہی کو ساتھ لے کر ایک40 ایم ایم راکٹ لانچر کے ساتھ دشمن کے ٹینکوں پر حملہ کرنے کے لئے آگے چلے گئے اور دشمن کے ٹینکوں کے عین سامنے سو گز کے فاصلے پر پوزیشن لی اور یکے بعد دیگر3 ٹینکوں کو تباہ کردیا۔ دشمن نے ایسا جوان کب دیکھا ہوگا جو سامنے آکر فائر کرے اور اپنی جان کی پروا بھی نہ کرے۔ وہ پندرہ دن تک مسلسل دشمن کے بار بار حملوں کو بہادری سے روکتے رہے۔ جب تک وہ زندہ رہے دشمن پاک سرزمین کے ایک انچ پر بھی قابض نہ ہوسکا۔ آخر دشمن کے ایک ٹینک کی براؤننگ گن کا براہِ راست فائر اُن کی دائیں آنکھ کے قریب لگا اور آپ کو 5دسمبر1971 صبح دس بجے ہلی کے مقام پر شہادت کا رتبہ نصیب ہوا۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنْ)

6 دسمبر1971ء کو یونٹ کے نائب خطیب نے ان کی نمازِ جنازہ بوگرہ میں پڑھائی اور انہیں ڈھاکہ روڈ پر بوگرہ شہر کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ میجر اکرم شہید کو وطنِ عزیز کا دفاع کرنے اور بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرنے پر حکومت نے انہیں بہادری کا سب سے بڑا اعزاز ’نشانِ حیدر‘ دیا۔ میجر اکرم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور آنے والی نسلوں میں جذبہ حُب الوطنی اورجذبہ جاں نثاری بڑھانے کے لئے ان کی یادگار شاندار چوک جہلم کے قریب تعمیر کی گئی ہے۔

 
26
February

دسمبر 1971 کی جنگ کے پس منظر میں معروف صحافی جبار مرزا کی ایک تحقیقی تحریر جس میں بھارت اور مکتی باہنی کے باہمی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

ڈھاکہ ڈوبا نہیں تھااُسے بین الاقوامی سازش سے ڈبویا گیا تھا۔ میں کسی کو مورد الزام ٹھہرانے نہیں چلا‘ وہ تاریخ کا المیہ ہے اور تاریخ کسی کو معاف نہیں کیا کرتی۔ جذبے‘ خلوصِ نیت اور قوتِ ایمانی بلاشبہ بہت بڑے اور مؤثر ہتھیار ہیں اور باطل قوتوں کے خلاف غزوۂ بدر سے آج تک استعمال ہوتے آئے ہیں۔ مگر زمینی حقائق اور جنگی حکمت عملی ایک الگ حربی قوت ہے۔ جنرل کمال متین الدین نے سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے اپنی کتاب ’’ٹریجڈی آف ایررز‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’بھارت اور بنگلہ دیش کی مشترکہ ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے پاس تین لاکھ فوج تھی۔ نیم فوجی دستوں سمیت پانچ لاکھ تھے جبکہ چین کی سرحد پر تعینات فوج کی حمایت بھی اسے حاصل تھی۔ ایک لاکھ مکتی باہنی گوریلا اس کے علاوہ تھے۔ او رمکتی باہنی کے تین لڑاکا بریگیڈ بھی تھے۔ اتنی بڑی فوج جو ہر قسم کے اسلحہ سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ جسے فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی سوویت یونین نے جس کی صف بندی کے لئے فعال کردار ادا کیا تھا‘ ہوائی جہاز اور ٹینک دینے کے ساتھ ساتھ پوری جنگی منصوبہ بندی کی تشکیل بھی کی تھی۔ اس کے مقابلے میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجی صرف پینتالیس ہزار تھے۔ جن میں ڈاکٹر‘ انجینئر‘ سپلائی کا عملہ‘ لانگری‘ ڈرائیور اور ایجوکیشن والے نکال کر بمشکل چونتیس ہزار (34) کے قریب لڑاکا فوج تھی اور انہیں فضائیہ کی امداد بھی میسر نہ تھی۔ پھر سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ جب پاکستانی فوجی بھارت کی پیش قدمی روکنے کے لئے آگے بڑھتے تو مکتی باہنی پاکستانی فوجیوں کے گھروں پر حملے کرتے اور کچھ عقب سے فوج پر گوریلا کارروائیاں کرتے یوں پاکستانی فوج کو کئی ایک محاذوں پر دشمن کا سامنا تھا۔‘‘

حمودالرحمن کمشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’’مشرقی پاکستان کی فوج نے ہوائی اور بحری امداد کے بغیر بڑی کم افرادی قوت کے ساتھ جنگ لڑی تھی۔‘‘ اس میں شک نہیں کہ مشرقی پاکستان میں موجود فوج ساڑھے سات کروڑ بنگالیوں اور باغیوں کی بغاوت کچلنے کے لئے ناکافی ہی نہیں انتہائی قلیل بھی تھی۔ باوجود اس کے تقریباً نو ماہ تک یعنی 7مارچ 1971سے 16دسمبر 1971تک مسلسل باغیوں سے نبردآزما رہی جو قابل ستائش بھی ہے اور بابِ شجاعت بھی اور پھر بھی 26دنوں تک 21نومبر سے 15دسمبر 1971تک بھارت کی پانچ لاکھ عددی اعتبار سے برتر فوج کو روکے رکھا۔ بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس کی تقریباً 88بٹالین جن کی تعداد تقریباً 83ہزار افراد پر مشتمل تھی‘ وہ بھی پاکستانی افواج کے خلاف جارحیت میں پیش پیش تھی۔ مشرقی پاکستان میں پولیس کا کردار انتہائی گھناؤنا تھا۔ علاقے کا ایس ایچ او فوج کو بھی اپنی وفاداری کا یقین دلاتا رہتا تھا اور علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی بھی کیا کرتا تھا۔ فوج چونکہ جغرافیائی طور پر محل وقوع سے شناسا نہیں تھی‘ اس لئے باغیوں کی سرکوبی کے لئے جہاں کہیں کارروائی کرنا مقصود ہوتی تو علاقے کے ایس ایچ او کو اطلاع کی جاتی تھی‘ پھر پولیس کی شمولیت سے ریڈ کیا جاتا تھا۔ مگر ایس ایچ او اس سے پہلے باغیوں کو مطلع کر دیا کرتا تھا اور یوں ناکامیاں آڑے آتی چلی گئیں۔ ایسی صورت حال میں افواج پاکستان کہاں تک لڑتیں ۔ سول انتظامیہ کی حالت بھی بھروسے کے لائق نہ تھی۔

7مارچ 1971کو کرفیو اور سنسر کے باوجود ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں شیخ مجیب الرحمن نے جلسہ کیا اور بندوق کی نوک پر مکتی باہنیوں نے ریڈیو پاکستان ڈھاکہ سے براہ راست شیخ مجیب کی باغیانہ تقریر نشر کرائی۔ اس سے پہلے 6 مارچ کو بنگالی فوجیوں نے بپھرے ہوئے عوام کو کنٹرول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ 8مارچ کو فوجی حکومت کے خلاف عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی گئی تھی۔ 10مارچ کو پی آئی اے کے ملازمین نے ہوائی جہازوں سے انگریزی عبارت پی آئی اے مٹا کر بنگلہ دیش ایئرلائن کے الفاظ لکھ دیئے تھے۔ 23 مارچ 1971کو پاکستان کا چوبیسواں یوم پاکستان ڈھاکہ میں یوم مزاحمت کے طور پر منایا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان کی ساری سرکاری عمارتوں پر اس روز بنگلہ دیش کا پرچم لہرایا گیا تھا۔ بھارت‘ روس اور برطانیہ کے سفارت خانوں پر بھی بنگلہ دیش کے جھنڈے چڑھا دیئے گئے تھے۔الغرض کئی ممالک بشمول روس جیسی سپر پاور اور بھارت جیسی چال باز حکومت مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لئے قیام پاکستان کے دن سے ہی کوشاں تھی۔ اگرتلہ سازش ہو یا بھارتی جہاز کا اغوا ‘ہر ایک جارحیت اور سازش پاکستان کو دولخت کرنے کی چالیں تھیں۔ پھر 16دسمبر 1971کے سانحہ کے بعد افواج پاکستان کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا تھا۔ تمام 93ہزار جنگی قیدیوں کو فوجی کہہ کر تذلیل کی جاتی رہی۔ حالانکہ ان 93ہزار پاکستانی قیدیوں میں پچاس ہزار کے قریب سویلین تھے جن میں عورتیں‘ بچے‘ بوڑھے اور دیگر دفتری عملہ شامل تھا۔ بہاریوں کے بارے میں بھی عام تاثر یہی ہے کہ وہ بھارت کے صوبہ بہار سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ سید آل محمد رضوی نے اپنی کتاب ’’مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک‘‘ میں لکھا ہے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ جو بھی غیربنگالی‘ جو مغربی پاکستان سے گیا ہو یا بھارت سے ہجرت کر کے وہاں جا بسا ہو‘ اسے مشرقی پاکستان کے مقامی لوگ یعنی بنگالی ’’باہری مانس‘‘ کہا کرتے تھے۔ مانس بنگالی زبان میں آدمی کو کہتے ہیں اور باہری سے مراد غیربنگالی مہاجر یا باہر سے آیاہوا ہے۔ یوں پھر باہری مانس کثرت استعمال سے سکڑ کر بہاری بن گیا۔‘‘ تحریک پاکستان کے معروف قلمکار اور تاریخ دان جنہیں مصور حقیقت بھی کہا جاتا ہے‘ خواجہ افتخار اپنی کتاب ’’دس پھول ایک کانٹا‘‘ (قائداعظم سے شیخ مجیب الرحمن تک) میں لکھا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن افواج پاکستان کا ہیڈکوارٹر (GHQ) بھی راولپنڈی سے ڈھاکہ لے جانے کا آرزومند تھا۔ 1957کے حوالے سے خواجہ صاحب نے وہ واقعہ لکھا کہ۔ ’’جب سہروردی صاحب پاکستان کے وزیراعظم تھے تو ایک روز مجیب الرحمن ان کے پلنگ پر بیٹھا ان کے پاؤں دبا رہا تھا۔ اس موقع پر مجیب نے سہروردی صاحب سے کہا تھا کہ بابا۔۔۔ اب پاکستان کی حکومت پر آپ بلاشرکت غیرے براجمان ہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ پاک فوج کے ہیڈکوارٹر کو ڈھاکہ منتقل کرنے کے احکامات فوری طور پر جاری کر دیں۔‘‘ اس پر سہروردی صاحب نے مجیب الرحمن کو جھاڑ پلا دی تھی۔ شیخ مجیب الرحمن نے سقوط ڈھاکہ سے ایک آدھ سال پیشتر ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں پاکستان کے مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر حلفاً کہا تھا کہ اس کے دل و دماغ کے کسی بھی گوشے میں پاکستان کو دولخت کرنے کا اگر دھندلا سا تصور بھی موجود ہو تو خداوند کریم اس کو اور اس کے افراد خانہ کو ایک ساتھ دنیا سے اٹھا لے۔ شاید وہ قبولیت کا لمحہ تھا کہ 15اگست 1975کو کرنل فاروق الرحمن اور ان کے ساتھیوں نے شیخ مجیب اور اس کے اہل خانہ کو ایک ساتھ موت کے گھات اتار دیا تھا۔ ایک اطلاع کے مطابق اس کی لاش تین روز تک دھان منڈی والے اس کے گھر عبرت کا نشان بنی پڑی رہی جہاں بیٹھ کے وہ پاکستان کو دولخت کرنے کے تانے بانے بنتا رہا تھا۔ وہ مکتی باہنی جو شیخ مجیب نے گوریلا کارروائیوں کے لئے اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے قائم کی تھی‘ اس کے آخری لمحات میں کام نہ آئی۔ مکتی باہنی شیخ مجیب الرحمن کی ہدایت پر باغیوں کا ایک گروہ تھا جنہیں بھارت نے ٹریننگ دی تھی۔ کچھ دیگر سرکاری اداروں سے بغاوت کر کے مکتی باہنی دہشت گرد تنظیم کا حصہ بنے تھے۔ مشرقی پاکستان میں پاکستان پولیس‘ مشرقی پاکستان رائفلز انصار اور مشرقی بنگال رجمنٹ کی بٹالین اور بری‘ بحری اور فضائی افواج کے بعض باضابطہ یونٹوں کے مشرقی پاکستانی ارکان جنہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی‘ انہی عناصر نے آخر کار مکتی باہنی اور اس کی قیادت کے لئے جواز فراہم کیا تھا۔ جن مسلح بنگالی فوجیوں نے 25مارچ 1971کو اعلان بغاوت کیا تھا‘ وہ بھی تعداد میں کافی تھے۔ روسیوں اور بھارتیوں کی جانب سے جن غیر فوجیوں کو مرحلہ وار تربیت دی گئی تھی ان کی تعداد سوا لاکھ تھی۔اس طرح مکتی باہنیوں میں بنگالیوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو تھی ۔ ان میں بھارتی فوج کے پچاس ہزار گوریلا شامل نہیں ہیں۔ بعض اوقات مکتی باہنیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ کرنا اس لئے مشکل ہو جاتا تھا کہ تقریباً ہر بنگالی اگر نہیں بھی تو پھر بھی بہت بڑی تعداد میں بنگالی باغیوں کی مدد کر رہے تھے۔ قریب قریب ہر محکمے میں مکتی باہنی کسی نہ کسی صورت میں موجود تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب 21نومبر 1971کو بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا جنہیں گزشتہ نو ماہ سے پاکستانی افواج نے روکا اور پاکستانی سرحد سے دور رکھا ہوا تھا جب وہ حملہ آور ہوئے تو مکتی باہنی گوریلے ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔

سیاسی بحران کے زمانے میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ اور بائیں بازو کی دوسری جماعتوں نے اپنے زیر زمین لڑاکا گروہوں کو خفیہ طور سے تربیت دے کر انہیں چھوٹے ہتھیار استعمال کرنے اور دہشت گردی کی کارروائی کرنے کے لئے منظم کر دیا تھا۔ طلباء‘ دانشور اور سابق فوجی بھاری تعداد میں اس تنظیم میں شامل ہو گئے تھے۔ جنہوں نے اعلیٰ فنی اور خصوصی باغیانہ کارروائیوں کے لئے ایک بنیاد فراہم کر دی تھی۔ اس طرح 11اپریل 1971 کو ان تمام شرپسند یا علیحدگی پسند عناصر کو یک جا کر کے مکتی باہنی کے نام سے ایک باضابطہ علیحدہ فوج تشکیل دی گئی تھی جس کا کمانڈر انچیف کرنل ریٹائرڈ ایم اے جی عثمانی کو مقرر کیا گیا تھا۔

16دسمبر 1971کے سانحہ کے بعد افواج پاکستان کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا تھا۔ تمام 93ہزار جنگی قیدیوں کو فوجی کہہ کر تذلیل کی جاتی رہی۔ حالانکہ ان 93ہزار پاکستانی قیدیوں میں پچاس ہزار کے قریب سویلین تھے جن میں عورتیں‘ بچے‘ بوڑھے اور دیگر دفتری عملہ شامل تھا۔ بہاریوں کے بارے میں بھی عام تاثر یہی ہے کہ وہ بھارت کے صوبہ بہار سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ سید آل محمد رضوی نے اپنی کتاب ’’مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک‘‘ میں لکھا ہے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ جو بھی غیربنگالی‘ جو مغربی پاکستان سے گیا ہو یا بھارت سے ہجرت کر کے وہاں جا بسا ہو‘ اسے مشرقی پاکستان کے مقامی لوگ یعنی بنگالی ’’باہری مانس‘‘ کہا کرتے تھے۔ مانس بنگالی زبان میں آدمی کو کہتے ہیں اور باہری سے مراد غیربنگالی مہاجر یا باہر سے آیاہوا ہے۔ یوں پھر باہری مانس کثرت استعمال سے سکڑ کر بہاری بن گیا۔‘‘

مئی 1971تک تقریباً آدھے سے زیادہ باغیوں کو پاکستانی افواج نے غیر مسلح تو کر دیا تھا مگر بہت بڑی تعداد میں باغی پہلے سے طے شدہ پناہ گاہوں میں چلے گئے تھے۔بھارت نے مشرقی پاکستان کی سرحد کے قریب 59تربیتی کیمپ قائم کئے ہوئے تھے جہاں باغیوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ ان کے تربیتی پروگرام میں نظریاتی تبلیغ‘ لسانی معاملات کی تحریکی طور سے تیاری شامل تھی۔ مکتی باہنی اتنی بڑی تنظیم تھی کہ اسے منظم کرنے کے لئے اور ان کی تربیتی سرگرمیوں کو مربوط بنانے کے لئے بھارت نے باقاعدہ ایک تھری سٹار جرنیل اوبان سنگھ تعینات کر رکھا تھا۔ ان کیمپوں میں ہتھیاروں کے استعمال سمیت بنیادی فوجی تربیت دی جاتی تھی لیکن اصل زور تخریبی اور دہشت انگیز کارروائیوں کے لئے کمانڈو والی تربیت اور آتش گیر مادوں‘ بارودی سرنگوں اوردستی بموں کی تربیت پر دیا جاتا تھا۔ پروفیسر اور ٹیچر عوام میں مخالفانہ جذبات ابھارنے اور لوگوں کو مکتی باہنی تنظیم کے لئے بھرتی کا جذبہ پیدا کرتے تھے۔ دریائی اور سمندری ذرائع مواصلات کو مفلوج کرنے کے لئے زیرآب تربیت پر بھارت خصوصی توجہ دیتا تھا۔ اس سلسلے میں ابتدائی چھان پھٹک بھارتی بحریہ کے افسران کیا کرتے تھے۔ تقریباً300باغیوں کو زیر آب تخریب کار کی حیثیت سے تیار کرنے کے لئے اگرتلہ سے کوچین بذریعہ ہوائی جہاز لے جایا گیا تھا۔ اتنی تعداد میں ہی فراگ مینوں کو بھارتی بحریہ کے انسٹرکٹروں نے تربیت دی تھی۔ بعض منحرف آبدوز کاروں اور گوریلا فراگ مینوں کی نگرانی میں مغربی بنگال میں دریائے بھیراتی میں پلاسی کے مقام پر تربیت دی گئی تھی۔ باغیوں کی تعلیمی صلاحیت‘استعداد ‘ذہنی اور دلچسپیوں کے پیش نظر انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ گریجویٹس اور انڈر گریجویٹس کو چھوٹے ہتھیاروں‘ راکٹ لانچروں‘ سمیت میپ ریڈنگ اور گوریلا طرز کی تربیت دی جاتی تھی۔ جبکہ انڈر میٹرک کو آتش گیر مادوں ‘ بارودی سرنگوں‘ دستی بموں کے استعمال‘ پلوں‘ زمین دوز نالوں اور دوسری اہم تنصیبات کو اڑانے کی تربیت کے ساتھ ساتھ مارٹر گن کے استعمال کی مہارت بھی دی جاتی تھی۔ توپ خانے اور سگنل کی ٹریننگ ڈیرہ دون کے تخریبی کیمپ میں دی جاتی تھی۔ باغیوں کی اپنی تنظیمی کمان کے لئے انہیں میں سے منتخب طلباء کو اسپیشل کمشن بھی دیا جاتا تھا جنہیں بھارتی فوج کے زیرانتظام تین ماہ کی ہنگامی تربیت ڈیرہ دون میں دی گئی تھی۔ باغی تنظیم یعنی مکتی باہنی کے افراد کو عموماً ایف ایف (فریڈم فائٹر) کہا جاتا تھا۔ ان باغیوں کو باقاعدہ یونٹوں میں اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ ہر یونٹ میں 500افراد ہوتے تھے۔ ان یونٹوں کو ایس بی آر یعنی سوادھن (آزاد) بنگال رجمنٹ کہا جاتا تھا۔ تورا کے مقام پر باغیوں کے تین بریگیڈ کھڑے کئے گئے تھے جن میں ہر بریگیڈ 3000افراد پر مشتمل تھا۔ مکتی باہنی کی تنظیم سازی اسلحہ بندی و غیرہ سب بھارتی فوج نے کی تھی۔ مکتی باہنی عورتوں کا دستہ بھی تیار کیا گیا تھا جو غیرملکی نامہ نگاروں‘ کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں سے رابطے میں رہتی تھیں۔

مکتی باہنی شیخ مجیب الرحمن کی ہدایت پر باغیوں کا ایک گروہ تھا جنہیں بھارت نے ٹریننگ دی تھی۔ کچھ دیگر سرکاری اداروں سے بغاوت کر کے مکتی باہنی دہشت گرد تنظیم کا حصہ بنے تھے۔ مشرقی پاکستان میں پاکستان پولیس‘ مشرقی پاکستان رائفلز انصار اور مشرقی بنگال رجمنٹ کی بٹالین اور بری‘ بحری اور فضائی افواج کے بعض باضابطہ یونٹوں کے مشرقی پاکستانی ارکان جنہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی‘ انہی عناصر نے آخر کار مکتی باہنی اور اس کی قیادت کے لئے جواز فراہم کیا تھا۔ جن مسلح بنگالی فوجیوں نے 25مارچ 1971کو اعلان بغاوت کیا تھا‘ وہ بھی تعداد میں کافی تھے۔ روسیوں اور بھارتیوں کی جانب سے جن غیر فوجیوں کو مرحلہ وار تربیت دی گئی تھی ان کی تعداد سوا لاکھ تھی۔اس طرح مکتی باہنیوں میں بنگالیوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو تھی ۔ ان میں بھارتی فوج کے پچاس ہزار گوریلا شامل نہیں ہیں۔ بعض اوقات مکتی باہنیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ کرنا اس لئے مشکل ہو جاتا تھا کہ تقریباً ہر بنگالی اگر نہیں بھی تو پھر بھی بہت بڑی تعداد میں بنگالی باغیوں کی مدد کر رہے تھے۔ قریب قریب ہر محکمے میں مکتی باہنی کسی نہ کسی صورت میں موجود تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب 21نومبر 1971کو بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا جنہیں گزشتہ نو ماہ سے پاکستانی افواج نے روکا اور پاکستانی سرحد سے دور رکھا ہوا تھا جب وہ حملہ آور ہوئے تو مکتی باہنی گوریلے ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔

مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجی آپریشن کے دوران جو باغی بھاگ کر بھارت گئے انہیں وہیں بارڈر کے قریب ہی بھارت نے کیمپوں میں رکھ لیا تھا جن میں سے اکثر گوریلا ٹریننگ لے کر واپس اپنے گھروں میں آ گئے تھے اور بنگالیوں سے ملتی جلتی شکلوں والے بھارتی گوریلا بھی تربیت یافتہ بنگالیوں کے ساتھ آ کر قیام پذیر ہو گئے تھے۔ بظاہر وہ ٹرینڈ شدہ سارے افراد شریف شہریوں جیسی زندگی گزارنے لگ گئے تھے مگر جب بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تھا تو سارے تربیت یافتہ باغی مکتی باہنی میں شامل ہو کر بھارتی فوجیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے تھے۔

بھارت نے باغیوں کے لئے بہت پہلے اپنے بارڈر کھول دیئے تھے۔ وہ مختلف راستوں سے مشرقی پاکستان میں داخل ہوتے اور کوئی نہ کوئی کارروائی کر کے واپس بھارت چلے جاتے تھے اور بعض دفعہ وہیں ڈھاکہ کے آس پاس پناہ گاہوں میں چلے جاتے تھے۔ باغیوں کے لئے بھارت نے اپنا متروک شدہ اسلحہ دیا۔ اس کے علاوہ باغی اسرائیل‘ سوویت یونین‘ بلجیئم‘ ہانگ کانگ اور چیکوسلواکیہ سے فراہم شدہ اسلحہ بھی استعمال کرتے تھے۔ بھارت کارروائی کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا رہا۔ مگر پھر اچانک بنگالیوں کی ساری کاوشوں کو یکسر نظر انداز کر کے سارا کریڈٹ خود لینا شروع کر دیا تھا۔ ویسے بھی ابتدائی طور پر مجموعی کنٹرول اور عملی رابطہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی ذمہ داری تھی مگر بہت جلد وہ سارا کام بھارتی فوج نے سنبھال لیا تھا۔ ہر بنگالی بریگیڈ باضابطہ بھارتی فوج کے ایک بریگیڈیئر کی کمان میں تھی۔ سقوط مشرقی پاکستان سے چند برس قبل بریگیڈیر شا بیگ سنگھ اور بریگیڈیئر جگجیت سنگھ اروڑا جن کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز بالترتیب اگرتلہ اور تورا میں تھے‘ وہ اپنے علاقوں میں قائم تخریب کاروں کے بریگیڈ کی بھی کمان کرتے رہے۔ مکتی باہنیوں نے دو اور باغی گروہ ’’طوفان باہنی‘‘ اور ’’بیمان باہنی‘‘ (بنگلہ دیش ایئر فورس) کے نام سے دو اور فوجوں کی تشکیل بھی کی تھی۔ بھارت نے روس کی مالی اور تکنیکی مدد سے بیٹائی میں مکتی باہنیوں کی فضائی کارروائیوں کے لئے ایک ہوائی اڈے کی تعمیر بھی شروع کی تھی۔ بہرطور جب 16دسمبر 1971کو بھارتی فوج ڈھاکہ میں داخل ہوئی اور بنگلہ دیش بنا تو اندراگاندھی نے غرور اور تحقیر آمیز لہجے میں کہا کہ آج مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ اقتدار کا بدلہ لے لیا ہے۔ 16دسمبر 1971 کازخم بہت گہرا ہے۔ ہم اسے کیسے بھول سکتے ہیں۔ ہم سازش اور سازشیوں کے منفی کردار کو بھی بھلا کیسے بھول سکتے ہیں

The date of the start of full-fledged war between India and Pakistan in 1971 is a contested issue. The date popularly given out is 3 December, the one announced by India, but this is merely the date the war spread to include the Western sector. In a sense India's involvement in the war may be taken to be from March, and its involvement in the politics of the province perhaps from even earlier. Numerous Bangladeshi pro-liberation accounts blithely recount close contact and coordination with authorities prior to the military action taken by the Pakistani Regime, as well as in-year. Many of the Pakistani officers I spoke to described Indian involvement and casualties in 'actions' in East Pakistan throughout the year……. 'The big operations are always done by the Indians', reported The Guardian on 18 September 1971, after an ethnic Bengali, who blended in with the local population and needed no translation, visited the training camps of the Mukti Bahini in India and crossed in to East Pakistan with a guide on his own. Of the couple of hundred Bengali 'volunteers' who were said to be in the border area he visited, only six had been given any training at all and only three had taken part in any operation”………… “The American government was correct in its assessment that India had already decided to launch a military operation in East Pakistan when Mrs. Gandhi came to Washington in early November pretending that she was still seeking a peaceful solution”.

(Sarmila Bose, Dead Reckoning: Memories of 1971 Bangladesh War, Pages 172, 173)

India’s Role in 1971 War
26
February

ایک ایسے وقت میں جب ہمارے سیاسی زعماء برطانوی حکومت کے دباؤ میں آ کر متحدہ ہندوستان