05
January

تحریر: عقیل یوسفزئی

شمالی افغانستان کے گیٹ وے قندوز پر طالبان کے حملے اور قبضے نے نہ صرف یہ کہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کیا ہے بلکہ یہ خدشہ بھی یقین میں تبدیل ہوگیا ہے کہ افغان فورسز اور انٹیلی جنس اداروں سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ درست نہیں تھیں۔ عام خیال یہ تھا کہ 15 سال کے عرصے پرمحیط ٹریننگ اور عملی مزاحمت کے باعث افغان فورسز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہوگا اور یہ کہ وہ افغانستان کی سکیورٹی کے معاملات درست انداز میں نمٹاسکیں گی۔ تاہم قندوز کے واقعے نے تمام اندازے غلط ثابت کئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر ایک طرف فورسز پر عالمی برادری اور خود افغان عوام کا اعتماد متزلزل ہو کر رہ گیا تو دوسری طرف امریکہ نے 15 اکتوبر کو اعلان کیا کہ درپیش خطرات کے پیشِ نظر امریکی ٹروپس 2016 کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہیں گے۔ اس بات کا اعلان صدر بارک اوباما نے خود کیا اور ساتھ میںیہ بھی کہا کہ افغانستان کو افغان فورسز کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

 

skootqandooz.jpg

اس وقت اس جنگ زدہ ملک میں امریکہ کے 9800 ٹروپس سمیت نیٹو کے کل17000 افسران تیکنیکی ماہرین اور فوجی جوان اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکہ اپنے ٹروپس کی تعداد میں مزید اضافے کے آپشن کا بھی جائزہ لے رہا ہے اور امکان ہے کہ امریکی ٹروپس کو کابل کے علاوہ صوبہ ننگرہار میں شمالی افغانستان کے تین صوبوں میں خصوصی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ قندوز پر قبضے کے بعد دیگر حساس صوبوں میں طالبان کی پیش قدمی اور مسلسل حملوں سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ طالبان‘ القاعدہ اور بعض دیگر کے خاتمے کے جو دعوے کئے گئے تھے‘ وہ درست نہیں تھے ورنہ قندوز پر جس منظم طریقے سے قبضہ کیا گیااور قبضے کو جس طریقے سے طول دیا گیا اس کی نوبت نہیں آتی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قندوز کے گورنر عمرصافی نے ایک انٹرویو میں خود کہا ہے کہ انہوں نے رسمی طور پر حملے سے ایک ماہ قبل مرکزی حکومت کو آگاہ کردیا تھا کہ طالبان اس اہم صوبے پر حملہ کرنے والے ہیں‘ اس لئے اضافی کمک کا اہتمام کیا جائے تاہم مرکزی حکومت نے سرے سے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا اور طالبان نے پندرہ سال کے دوران پہلی دفعہ نہ صرف یہ کہ افغان فورسز کو باقاعدہ شکست دی بلکہ شہر پرکئی روز تک قبضہ بھی کئے رکھا۔ ذرائع کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ حملے سے تین روز قبل بھی انٹیلی جنس نے اطلاع دی تھی کہ بڑی کارروائی ہونے والی ہے مگر ریاست اس کی روک تھام سے لاتعلق رہی۔ حکومت کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ تھا کہ اس قسم کی اطلاعات کے باوجود گورنر موصوف حملے اور قبضے کے وقت خود بھی دارالحکومت میں موجود نہیں تھے بلکہ وہ تاجکستان گئے ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قندوز واقعے کے لئے بہت بڑی پلاننگ کی گئی تھی۔ اس تمام گیم میں دوسروں کے علاوہ صدر اشرف غنی کے بعض حکومتی اتحادی بھی شامل تھے جبکہ بعض اتحادی ممالک نے بھی بوجودہ اس کام میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ اس واقعے سے قبل افغانستان کے ایک بڑے جنگی کمانڈر اور حکومتی عہدیدار رشید دوستم نے اپنی ملیشیا کے ذریعے بعض علاقوں میں پُر تشدد کارروائیاں کیں اور شمالی افغانستان کو درپیش خطرات کے پسِ منظر میں بعض غیرذمہ دارانہ اور غیرپیشہ ورانہ دھمکیاں بھی دیں جس پر پشتون آبادی اور ان کے نمائندوں نے سخت ردِّ عمل اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ مقامی آبادی نے ردِ عمل کے طور پر نہ صرف یہ کہ طالبان کو پناہ دی بلکہ متعدد نے اس کارروائی میں طالبان کے ساتھ مل کر حصہ بھی لیا۔ اگر ایک طرف حکومت کی صف بندی درست نہیں تھی اور حکومت کے بعض اتحادیوں کے علاوہ بعض اتحادی ممالک کا ایک مخصوص کردار تھا تو دوسری طرف عوام نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا حساب برابر کردیا۔ قندوز کے علاوہ طالبان‘ داعش اور بعض دیگر نے سال 2015 کے دوران 19 صوبوں میں کارروائیاں کیں جن میں کابل شہر بھی شامل ہے جس کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔ قندوز سے قبل داعش نے گیٹ وے صوبے یعنی ننگرہار میں متعدد کارروائیاں کیں جن کے باعث یہ اہم ترین صوبہ عملًا ریاست کے ہاتھ سے نکلتا دکھائی دینے لگا اور تقریباً 30 ہزار خاندان تین ماہ کے عرصے میں داعش کی کارروائیوں کے نتیجے میں جلال آباد اور دیگر شہروں میں منتقل ہوگئے اور نقل مکانی کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

 

حیرت کی بات یہ ہے کہ ننگر ہار میں بھی اس تمام عرصے کے دوران افغان حکومت نے وہ دلچسپی یا مزاحمت نہیں دکھائی جس کی ضرورت تھی۔ اس اہم ترین صوبے کو افغانستان کے علاوہ سنٹرل ایشیا کے لئے بھی گیٹ وے کی حیثیت حاصل ہے تاہم اس کی سکیورٹی پر بھی حیرت انگیز طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی۔ حالت اتنی خراب ہوگئی کہ ننگر ہار سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ کابل میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے اور انہوں نے میڈیا کے ذریعے حکومت پر شدید تنقید کا راستہ اختیار کرکے استعفے دینے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس عرصہ کے دوران داعش نے نہ صرف یہ کہ متعدد علاقے قبضہ کئے بلکہ بے شمار لوگوں کو بدترین تشدد اور حملوں کا نشانہ بنا کر ایک ایسے خوف میں مبتلا کردیا جس نے ننگر ہار کے علاوہ پورے افغانستان کو اپنے مستقبل کے تناظر میں 15 سال کے دوران پہلی دفعہ ہلا کررکھ دیا۔

 

افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں کتنی ابتری آگئی ہے اس کا اندازہ افغان وزارتِ داخلہ کی اپنی ایک جاری کردہ رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران ملک کے19 صوبوں میں دہشت گردی کی 1771 کارروائیاں ہوئیں جن میں41 خود کش حملے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں990 عام شہری جاں بحق اور1700 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں نیشنل پولیس فورس کو بطورِ خاص نشانہ بنایاگیا جس کے چھ ماہ میں2150 افراد لقمۂ اجل بنے ان میں 70 کے لگ بھگ اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چھ ماہ کے عرصہ میں20 بار غیر ملکی فورسز‘ سفارتی عملے اور دیگر کو نشانہ بنایا گیا جس سے متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ اس دوران فورسز نے طالبان وغیرہ کے خلاف2637 چھوٹے بڑے آپریشن کئے جن کے نتیجے میں 5635 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 1200 کے قریب یا تو زخمی ہوئے یا گرفتار کئے گئے۔ رپورٹ میں افغان فورسز کو پہنچنے والے جانی نقصان کی تفصیلات شامل نہیں ہیں تاہم اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ سال2015 کے دوران متعدد بار شمالی افغانستان کے تین صوبوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

 

یہ اعداد و شمار کافی سنگیں صورت حال کی نشاندہی کررہے ہیں اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کی وافرتعدار اورصلاحیت تاحال موجود ہے۔ بلکہ ان کی کارروائیوں کا سلسلہ دیگر ’اور نسبتاً کافی پُرامن‘ صوبوں تک بھی پھیل چکا ہے۔

 

جغرافیائی لحاظ سے جتنے بھی اہم صوبے یا علاقے ہیں وہ حملہ آوروں کی کارروائیوں کی زد میں ہیں اس ضمن میں قندوز کے علاوہ ننگر ہار‘ بدخشاں‘ ہلمند‘ کنڑ اور غزنی کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔14 اکتوبر کو غزنی میں150 سے زائد دوطرفہ ہلاکتیں ہوئیں اور اس صوبے میں حملوں کا سلسلہ پانچ چھ مہینوں سے جاری ہے۔ ہلمند کی بھی یہی صورت حال ہے۔ 15 اکتوبر کو طالبان نے ہلمند میں تین سے زائد چیک پوسٹوں پر حملے کئے جس کے نتیجے میں پولیس کے 22 اہلکار اور طالبان جنگجو لقمۂ اجل بن گئے۔ اس حساس صوبے میں حملوں کا سلسلہ تقریباً ایک سال سے جاری ہے اور یہاں بھی اب تک سیکڑوں جانیں لی جاچکی ہیں۔ حالیہ حملوں میں جو ایک اور نئی مگر اہم بات سامنے آگئی ہے وہ یہ ہے کہ شمالی افغانستان کے ان علاقوں یا صوبوں کو بطورِ خاص نشانہ بنایا جارہا ہے جو تین وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ قندوز اور بدخشاں کے حالات کو نہ صرف یہ کہ افغان حکومت کے دو بڑے اتحادیوں اور وزارتوں کی باہمی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے بلکہ متعددباخبر ماہرین ایسے ہیں جو کہ اس منظر نامے کو امریکہ‘ چین اور روس کی نئی پیش قدمیوں اور پالیسیوں کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں روس کے خلاف وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس مقصد کے لئے ان کے بقول امریکہ داعش اور بعض دیگر کو بھی استعمال کررہا ہے۔ افغان حکومت کو بھی بعض ایسے شواہد ملے ہیں جن کے مطابق امریکہ اندرونِ خانہ ایک خطرناک پالیسی کے تحت افغان علاقوں کی اسی صورت حال کو روس کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس گیم میں بھارت بھی امریکہ کا اتحادی ہے اور ایک اسلامی ملک کا نام بھی اس سلسلے میں لیا جارہا ہے۔ ایک ایسا اسلامی ملک جس کی سرحد افغانستان کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بھی ملی ہوئی ہے اورمذکورہ ملک کو پاک چائنا اکنامک کاریڈور کے پراجیکٹ پر بوجوہ تحفظات ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق بھارت اب افغانستان اور پاکستان کے اندر داعش اور بعض دیگر کی فنڈنگ کررہا ہے۔ اس کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ پاکستان کو دباؤ سے دوچار کیا جائے تاہم اس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ بھارت بدخشاں کے راستے چین کے انتہا پسند گروپوں کی سرپرستی بھی کررہا ہے۔ بدخشاں کے ذریعے یہ بہت آسان ہے کہ چین کو زبردست دباؤ سے دوچار کیا جائے اور ماضی میں بدخشاں کے ذریعے چینی انتہا پسند ایسا کرتے بھی آئے ہیں۔

 

بھارت کی کھلی مداخلت کی ایک اور وجہ مذکورہ (اشارتاً) اسلامی ملک کی طرح پاک چائنا اکنامک کاریڈور پر وار بھی ہے بھارت کو کسی بھی قیمت پر یہ منصوبہ سوٹ نہیں کررہا اور یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان کے اندر بعض قوتوں کی سرپرستی کررہاہے۔ بلکہ داعش اور بعض دیگر عناصر کے ذریعے وہ شمالی اورمشرقی افغانستان کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کے علاوہ بدخشاں کے راستے چین میں انتہا پسندوں کی معاونت بھی کررہا ہے۔ اشارتاً اتنا ہی کافی ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات صرف افغان حکومت کی نااہلی یا فورسز کی ناکامی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ بعض بااثر عالمی اور علاقائی قوتیں بھی ان حالات کی خرابی میں برابر کی شریک ہیں اور لگ یہ رہا ہے کہ اپنے دعووں کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے بعض اتحادی اور ہمدرد خطے میں اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں ایک نئی گریٹ گیم کا باقاعدہ آغاز کرچکے ہیں۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ حال ہی میں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے پہلی دفعہ پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف کرکے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا افغانستان کے لئے بہت ضروری ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ خطے میں پھر سے ایک نئی جنگ کا آغاز ہونے کو ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس سے زیادہ نقصان افغانستان اور پاکستان ہی کا ہوگا۔

ذرائع کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ حملے سے تین روز قبل بھی انٹیلی جنس نے اطلاع دی تھی کہ بڑی کارروائی ہونے والی ہے مگر ریاست اس کی روک تھام سے لاتعلق رہی۔ حکومت کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ تھا کہ اس قسم کی اطلاعات کے باوجود گورنر موصوف حملے اور قبضے کے وقت خود بھی دارالحکومت میں موجود نہیں تھے بلکہ وہ تاجکستان گئے ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قندوز واقعے کے لئے بہت بڑی پلاننگ کی گئی تھی۔ اس تمام گیم میں دوسروں کے علاوہ صدر اشرف غنی کے بعض حکومتی اتحادی بھی شامل تھے

*****

اشارتاً اتنا ہی کافی ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات صرف افغان حکومت کی نااہلی یا فورسز کی ناکامی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ بعض بااثر عالمی اور علاقائی قوتیں بھی ان حالات کی خرابی میں برابر کی شریک ہیں اور لگ یہ رہا ہے کہ اپنے دعووں کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے بعض اتحادی اور ہمدرد خطے میں اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں ایک نئی گریٹ گیم کا باقاعدہ آغاز کرچکے ہیں۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ حال ہی میں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے پہلی دفعہ پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف کرکے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا افغانستان کے لئے بہت ضروری ہے۔

*****

 
05
January

تحریر: شاہین کو ثر ڈار

(ڈپٹی سپیکر‘ قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر)

پاک بھارت مذاکرات اورلائن آف کنٹرول پر امن کی بحالی یقینی طور پر ایک اہم معاملہ ہے جسے پوری دنیا تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور امریکی حکام بھی صورتحال کو مایوس کن قرار دے رہے ہیں۔اس سلسلے میں جو سب سے زیادہ پریشانی کی بات ہے وہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بسنے والے شہریوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔بھارت کی طرف سے گزشتہ کئی مہینوں سے جس طرح شہری آبادیوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔اس سے ایک طرف تو لوگ شہید اور زخمی ہورہے ہیں جبکہ دوسری طرف معصوم اور نہتے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔دن رات انھیں یہی خدشہ لاحق رہتا ہے کہ کس وقت بھارتی افواج ان پر بارود کی آگ برسانا شروع کر دے گی۔مودی سرکار کے قیام کے بعدجتنی اموات کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر ہوئی ہیں‘اتنی گزشتہ دس سالوں میں نہیں ہوئیں۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی سرکار اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کے ذریعے اس نے گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیاتھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری مذاکرات کی منسوخی پر ماتم کرنے کی بجائے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے اور کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے فعال کردار ادا کرے۔ بھارتی اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی منسوخی اور پاکستان کے ساتھ اشتعال انگیزی ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔بھارتی فوج آج تک کارگل کے زخم چاٹ رہی ہے۔ جس طرح بھارت نے 1965ء کی جنگ میں شکست کا بدلہ1971ء میں پاکستان کو دو لخت کر کے لیا تھا‘ اب بھارت کارگل میں ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے جنگی ماحول بنا رہا ہے ۔ بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیانات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

 

وادی جموں و کشمیر جس کے باشندے اپنی قومی آزادی کے لئے بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور بھارتی افواج کے جابرانہ ہتھکنڈوں سے گزشتہ ساٹھ برس سے نبردآزما ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے تو ان کی اس جدوجہد نے باقاعدہ مسلح مزاحمت کی شکل بھی اختیار کرلی ہے لیکن ان کی زبوں حالی اور کسمپرسی کسی کو دکھائی نہیں دے رہی حالانکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہونے کے باعث بھی لائق توجہ ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں بھی اس کا جلد از جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچنا ایک ایسی ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر جنوبی ایشیا میں قیام امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔

 

bharatkjangi1.jpg

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب مسئلہ کشمیر ہے اور اگر اس کو حل کرنے کا کوئی راستہ نکال لیا جائے تو اس سے نہ صرف کشمیر کے کروڑوں باشندوں کی سیاسی و اقتصادی ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں بلکہ اس سے وہ سوتے بھی خشک ہوسکتے ہیں جو مجبور اور مقہور انسانوں کے انتہا پسندانہ جذبات کی آبیاری کا کام دیتے ہیں لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے بھارتی حکمران تیار ہیں نہ ہی امریکہ۔ حتیٰ کہ عالمی برادری بھی اپنے مفادات کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر دیکھنے کے لئے آمادہ نہیں ہے جبکہ اقوام متحدہ جس کی تشکیل دوسری جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز کی جگہ اس لئے عمل میں لائی گئی تھی کہ وہ اپنے رکن ممالک کے درمیان پائے جانے والے باہمی تنازعات کو طے کرنے کے لئے ٹھوس اور مؤثر جدوجہد کرے گی‘ وہ بوجوہ اپنے آپ کو امریکی و یورپی مفادات کا اس قدر باجگزار بنا چکی ہے کہ اس کی جانب سے کسی آزادانہ کردار کی توقعات بری طرح مجروح ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ خاص طور پر مسئلہ فلسطین اور کشمیر کو حل کرنے میں نہایت برے طریقے سے ناکام ہوئی ہے جس کی وجہ سے کئی ممالک نے تو ایک نئی اقوام متحدہ کی تشکیل کے لئے آوازیں بلند کرنا شروع کردی ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی آٹھ لاکھ سے زائد فوج اور سکیورٹی فورسز کے ذریعے قتل و غارت کا جو بازار گرم کررکھا ہے اس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کردیئے گئے ہیں اور خود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے سربراہ نیوی پلے نے ابھی پچھلے دنوں نیو یارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ’’مقبوضہ وادی میں آئے دن ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریوں کا سلسلہ انسانی حقوق کی اتنی واضح خلاف ورزی ہے کہ اس پر کسی طریقے سے پردہ ڈالنا ممکن نہیں لیکن اقوام متحدہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کرانے کے بارے میں اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے سے گریزاں ہے۔ اتنے معتبر ادارے کی پالیسی میں ایسا شرمناک تضاد کیوں ہے؟‘‘ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ اگر امریکہ اور عالمی برادری واقعی جنوبی ایشیا میں مستقل اور پائیدار امن کے خواہشمند ہیں تو انہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان ان بنیادی تنازعات کے تصفیے کے لئے بھی ٹھوس اور بامعنی کوششیں کرنی چاہئیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ اور بداعتمادی میں مسلسل اضافہ کرتی جارہی ہیں۔ مسئلہ کشمیر ان سارے تنازعات میں سرفہرست ہے۔ اس لئے امریکہ اور اقوام متحدہ کو اس کے منصفانہ حل کے لئے بھی خصوصی جدوجہد کرنی چاہئے کیونکہ اگر یہ تنازعہ طے ہوگا تو پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی اصل جڑ ہی کٹ جائے گی اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کے سارے محرکات خود بخود ختم ہو جائیں گی۔

 

ہرسال بھارت کے یوم جمہوریہ پرمقبوضہ کشمیر میں قابض سکیورٹی فورسز کی پیشگی کارروائیوں سے ماحول کشیدہ ہوجاتا ہے۔بھارت نے 1947ء میں جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا اور پھر کشمیر کو فوجی گریژن میں بدل دیا۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو گیا‘ بھارت کی 8 لاکھ فوج کشمیریوں کی قتل و غارت گری میں ملوث ہے۔ بھارت نے یہاں اپنی افواج اتار کر اس خطے پر ناجائز قبضہ جمایا اور لاکھوں انسانوں کو ان کی مرضی کے خلاف غلام بنالیا۔ اس قبضے کا کوئی آئینی، اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں بلکہ یہ صرف بھارت کی ملٹری پاور ہے جس کی بنیاد پر آج بھی 13 ملین لوگ عذاب و عتاب اور درد و کرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھارت ایک بڑی جمہوریہ کا دعویدار ہونے کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لئے اپنی طاقت کا بے تحاشا استعمال کررہا ہے۔

 

حالانکہ جہاں تک تحریک آزادی کشمیر کا تعلق ہے تو بھارت آٹھ لاکھ کے بجائے پندرہ لاکھ فوج بھی کشمیر بھیج دے‘ جدوجہد آزادی ختم نہیں ہوسکتی۔ بھارت کشمیر کے مسلمانوں کو حق خود ارادیت نہیں دینا چاہتا اور انہیں ان کے اس بنیادی حق سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار اس جانب اپنی توجہ مبذول کریں اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ تعصبانہ رویہ ختم کریں۔ کشمیری مسلمانوں کو بھی ان کا بنیادی حقِ خود ارادیت دلانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے اور اسے مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیری عوام پر مظالم بند کرکے وہاں پر استصواب رائے کرائے جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ مسلمانوں کے انسانی حقوق کو اکثر و بیشتر انسانوں کے انسانی حقوق نہیں سمجھتی یہی وجہ ہے کہ کروڑوں انسانوں کا بنیادی حق آزادی مسئلہ کشمیر کی صورت میں آج تک دانستہ حل نہیں کیا گیا جبکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی خون کی ندیاں عبور کرکے بھی جاری و ساری ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ مقبوضہ وادی کے ’’کشمیریوں‘‘ کو حق آزادی سے بھارتی فوج کے بل بوتے پر محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ پاکستانی فوج نے کشمیریوں کے لئے شہادتوں کی کئی تاریخیں رقم کی ہیں جبکہ بھارتی فوج نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کی قاتل ہے۔ اقوام متحدہ کا دوہرا معیار اور کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم سے چشم پوشی عالمی بے حسی کا بدترین نمونہ ہے۔ آج تک کشمیری قوم بھارتی فوج کے ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد آزادی کررہی ہے۔ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے بلکہ سوا کروڑ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جموں و کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طور پر ہی حل کیا جانا چاہئے۔ مسئلہ کشمیر ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ ہے اور اس دیرینہ مسئلے کو حل کئے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ مسئلہ کشمیر کو پاکستان، بھارت اور کشمیری قیادت پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب مسئلہ کشمیر ہے اور اگر اس کو حل کرنے کا کوئی راستہ نکال لیا جائے تو اس سے نہ صرف کشمیر کے کروڑوں باشندوں کی سیاسی و اقتصادی ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں بلکہ اس سے وہ سوتے بھی خشک ہوسکتے ہیں جو مجبور اور مقہور انسانوں کے انتہا پسندانہ جذبات کی آبیاری کا کام دیتے ہیں لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے بھارتی حکمران تیار ہیں نہ ہی امریکہ۔ حتیٰ کہ عالمی برادری بھی اپنے مفادات کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر دیکھنے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔

*****

بھارت ایک بڑی جمہوریہ کا دعویدار ہونے کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لئے اپنی طاقت کا بے تحاشا استعمال کررہا ہے۔ حالانکہ جہاں تک تحریک آزادی کشمیر کا تعلق ہے تو بھارت آٹھ لاکھ کے بجائے پندرہ لاکھ فوج بھی کشمیر بھیج دے‘ جدوجہد آزادی ختم نہیں ہوسکتی۔

*****

 

bharatkjangi2.jpg

05
January

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خاں

اس سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم محمدنوازشریف نے جو تقریر کی وہ اپنے تمام پہلوؤں میں ایک اہم اور جرأت مندانہ خطاب تھا۔وزیراعظم نے نہ صرف علاقائی مسائل پر اظہارِخیال کیا بلکہ اہم عالمی مسائل مثلاََ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ،موسمی تغیرات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبر ارکان کی تعداد بڑھانے کی تجاویز پر پاکستان کے موقف کو بغیر کسی لگی لپٹی کے کھل کر بیان کیا۔اسی طرح بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اہم کردار کو عالمی فورم پر صاف اور دوٹوک الفاظ میں بیان کیا۔لیکن وزیراعظم کی تقریر کا جو حصہ علاقائی اور عالمی حلقوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا،اُس کا تعلق بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو معمول پر لانے اور پُرامن بنانے کے لئے چار نکات پر مشتمل ایک فارمولا ہے۔موجودہ تناظر میں اس چار نکاتی تجویز کو تمام حلقوں میں اس لئے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی کہ گزشتہ تقریباً ڈھائی برس سے کشمیر میں

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے آرپارپاکستانی اور بھارتی سرحدی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

 

aqwamemut.jpg

فائرنگ کے اس تبادلے میں نہ صرف دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے بلکہ درجنوں قیمتی انسانی جانیں بھی جن میں عام شہریوں کے علاوہ سرحدی افواج سے تعلق رکھنے والے جوان اور افسر بھی شامل ہیں،ضائع ہوچکی ہیں۔بھارت میں گزشتہ سال کے پارلیمانی انتخابات میں انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کی کامیابی اور گجرات کے سابق وزیراعلیٰ نریندرامودی کے وزیراعظم مقرر ہونے کے بعد ان جھڑپوں میں اور بھی اضافہ ہوگیاہے۔اس صورتِ حال سے نہ صرف سرحد کے دونوں طرف رہنے والے پاکستانی اور بھارتی شہری پریشان ہیں بلکہ دنیا بھر میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور خدشہ ہے کہ سرحدی جھڑپیں بڑھتے بڑھتے کسی بڑے تصادم کی شکل اختیار نہ کرجائیں جو دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔اس لئے دنیا بھر سے پاکستان اور بھارت دونوں پر زور دیا جارہا تھا کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور اپنی سرحدوں‘ خصوصاً کشمیر میں لائن آف کنٹرول‘ پر امن بحال کرنے کے لئے اقدامات کریں۔ یادرہے کہ پاکستان اور بھارت نے 2003 میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے آرپار رہنے والے لوگ سکون سے زندگی گزارنے لگے تھے، بلکہ پاکستان اور بھارت میں اعتماد سازی کے اقدامات میں اسے سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔لیکن بی جے پی کی موجودہ حکومت نے بلاجواز اور بغیر کسی اشتعال انگیزی کے یک طرفہ طور پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف مقامی سطح پر تصادم کی فضا قائم کر دی ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرکے دونوں ملکوں میں جاری دوطرفہ مذاکرات کے سلسلے یعنی کمپوزٹ ڈائیلاگ کو بھی تعطل سے دوچار کردیا ہے۔ چونکہ اس صورت حال پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جارہاتھا اور دونوں ملکوں کے درمیان ایک بڑے تصادم کاخدشہ ظاہر کیاجارہا تھا اس لئے وزیراعظم محمد نوازشریف نے پاکستان کی طرف سے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور آئندہ کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان مستقل امن اور تعاون کے قیام کے لئے مندرجہ ذیل چار تجاویز پیش کیں۔

 

 2003 (1)میں لائن آف کنڑول پر فائربندی کے لئے دونوں ملکوں نے جس معاہدے پر اتفاق کیا تھا‘ اُس کا نہ صرف احترام کیا جائے،بلکہ اسے مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لئے اسے دونوں ملکوں کے درمیان ایک باقاعدہ معاہدے کی شکل دی جائے تاکہ لائن آف کنڑول پر مکمل اور مستقل فائر بندی قائم رہے۔

(2)پاکستان اور بھارت نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی سے گریز کریں بلکہ اس بات کا علانیہ عہد کریں کہ دونوں ملک کسی بھی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف طاقت استعمال نہیں کریں گے۔

(3)کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کے لئے اقدامات شروع کئے جائیں۔

(4)سیاچن گلیشئرسے دونوں ملک اپنی فوجیں واپس بلا لیں ۔

 

لائن آف کنڑول پر آئے دن کی جھڑپوں سے چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے جس پر بجا طور پر متعلقہ حلقوں میں تشویش کا اظہار کیاجارہا ہے،اس لئے

وزیراعظم کی طرف سے لائن آف کنڑول کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے ایک واضح اور ٹھوس تجویز نہ صرف بروقت بلکہ انتہائی ضروری تھی۔وزیراعظم کے چار نکاتی فارمولا میں پہلے نکتے کا تعلق کشمیر میں لائن آف کنڑول کے آرپار فائرنگ اور مستقل امن کے قیام سے ہے۔اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں نے نومبر 2003میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کئے تھے۔ اس معاہدے کی وجہ سے لائن آف کنڑول پر دس برس تک امن اور سکون رہا۔لیکن جنوری2013سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے سلسلے کے اچانک شروع ہونے سے دونوں ملکوں میں نہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوا بلکہ ایک بڑے تصادم کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ وزیراعظم محمدنواز شریف کی طرف سے لائن آف کنڑول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے2003کے معاہدے کو مزید مؤثر بنانے اور اس پر پوری طرح عمل درآمد کرنے کی تجویز ایک نہایت مناسب اور کارآمد تجویز ہے۔اس لئے اس کا نہ صرف پاکستان اور کشمیر بلکہ دنیا بھر میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم کی یہ تجویز کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیوں سے احتراز کریں،ایک ایسی تجویز ہے جس کا اُن تمام اندرونی اور بیرونی حلقوں میں خیر مقدم کیا جائے گا جو پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو اچھے اور پُرامن ہمسایوں کے درمیان تعلقات کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اس تجویز سے دونوں ملکوں کے درمیان غیر یقینی اور مستقل کشیدگی کی فضا ختم کرنے میں مدد ملے گی۔دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا جس سے باہمی تنازعات کو حل کرنے او رمستقل امن کے قیام کی طرف راہ ہموار ہوگی۔ بھارت کو اس تجویز پر اپنے تحفظات ظاہر کرنے کی بجائے اسے فوری طور پر قبول کرلینا چاہئے کیونکہ طاقت کے استعمال یا اس کے استعمال کی دھمکی سے گریز نہ صرف دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے بلکہ مروجہ بین الا قوامی قانون کے ضابطوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کے عین مطابق ہے۔

 

اسی طرح کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز ایک ایسی تجویز ہے جس سے ماضی میں پاکستان اور بھارت دونوں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت نہ صرف اتفاق کر چکے ہیں بلکہ اس کے بعد بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے جتنی بھی کوششیں کی گئی ، اُن میں کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز شامل رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال 2004میں سابق صدر مشرف کی جانب سے پیش کردہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چار نکات پر مشتمل مجوزہ سمجھوتہ ہے جسے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے مطابق دونوں ملکوں نے قریب قریب قبول کرلیا تھا۔اس میں بھی کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز شامل تھی۔اس کے علاوہ کشمیر سے بھارتی فوج کی بھاری نفری کے انخلاء کا مطالبہ کشمیر میں عوام کا ایک دیرینہ اور تواتر کے ساتھ اُٹھائے جانے والا مطالبہ ہے۔کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوتی آرہی ہے۔ اس پر نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بلکہ عالمی برادری کی طرف سے بھی سخت احتجاج کیا جارہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو ایک سپیشل قانون کے تحت غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں جنہیں استعمال کرکے بھارتی سکیورٹی افواج کشمیریوں پر بدترین مظالم ڈھارہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بے چینی اور احتجاجی تحریک ان ہی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف نہتے کشمیریوں کے ردِعمل کا نتیجہ ہے۔خود پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ایک بڑا سبب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی اس بھاری نفری کی موجودگی ہے جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل احتجاجی تحریک جاری ہے۔اس لئے وزیراعظم محمد نوازشریف کی جانب سے کشمیر کو ایک غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز نہ صرف پاکستان اور بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ ماضی میں کئے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں کے مطابق ہے بلکہ ایک پُرامن فضا پیدا کرکے کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مستقل طور پر حل کرنے کی طرف قدم اُٹھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

 

کشمیر کے بعد سیاچن پر پاک بھارت تنازعہ نہایت خطر ناک مضمرات کا حامل ہے کیونکہ دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے کھڑی ہیں اور اگرچہ اس وقت فریقین میں جنگ بندی ہے لیکن جنگ کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے دونوں ممالک بھاری انسانی جانی نقصان کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ نقصان زیادہ تر انتہائی سخت موسمی حالات اور برف کے تودے گرنے کے نتیجے میں ہوا ہے اس لئے بیشتر حلقوں کی رائے ہے کہ سیاچین کے لئے پاکستان اور بھارت ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا دونوں ملکوں کو عسکری لحاظ سے کوئی فائدہ نہیں۔ 1989میں اُس وقت کی پاکستانی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے درمیان اس تنازعے کے حل پر تقریباً اتفاق ہوگیا تھا لیکن بھارتی فوج کے دباؤ کے تحت راجیو گاندھی بے نظیر بھٹو سے کئے گئے وعدے سے مکر گئے ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے زمانے میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے کے حل کے تقریباََ تمام خدوخال پر اتفاق ہوچکا تھا جن میں گلیشیئر سے فوجوں کی واپسی بھی شامل تھی۔یہ خبر کافی عرصہ سیاسی اور سفارتی حلقوں میں گردش کرتی رہی کہ 2012 میں وزیراعظم من موہن پاکستان کا دورہ کریں گے اور اس دورے کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان دواہم تنازعات یعنی سیاچن اور سرکریک کے معاہدات پر دستخط کئے جائیں گے۔لیکن لائن آف کنٹرول پر اچانک صورت حال بگڑنے سے یہ موقع نہ آسکا اور سیاچن میں دونوں ملکوں کی فوجیں بدستور آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ پاکستان اس کشیدہ صورت حال کو جاری رکھنے کے حق میں نہیں۔ لیکن بھارت نے کسی پیش کش کا مثبت جواب نہیں دیا۔اب ایک دفعہ پھر وزیراعظم محمد نوازشریف نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پوری دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے وہی تجویز پیش کرکے پاکستان کی امن کے لئے خواہش کا ثبوت فراہم کیا ہے۔

 

وزیراعظم محمد نوازشریف کی طرف سے چار نکات پر مشتمل جو فارمولا پیش کیا گیا، بھارت کی طرف سے اُس پر منفی ردِعمل کسی بھی لحاظ سے باعث حیرت اور غیرمتوقع نہیں کیونکہ پاک بھارت مذاکرات کی گزشتہ تقریباً چھ دہائیوں پر مشتمل تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعات کے حل کی طرف ٹھوس اقدامات سے ہمیشہ احتراز کیا ہے۔لیکن اس سے وزیراعظم محمدنوازشریف کی تجاویز کی اہمیت اور افادیت کم نہیں ہوتی کیونکہ کشمیری عوام نے ان کی حمایت کی ہے اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے بھی ان تجاویز کو سراہا گیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات، یونیورسٹی آف سرگودھا کے چیئرمین ہیں۔
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
وزیراعظم محمد نوازشریف کی طرف سے چار نکات پر مشتمل جو فارمولا پیش کیا گیا، بھارت کی طرف سے اُس پر منفی ردِعمل کسی بھی لحاظ سے باعث حیرت اور غیرمتوقع نہیں کیونکہ پاک بھارت مذاکرات کی گزشتہ تقریباً چھ دہائیوں پر مشتمل تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعات کے حل کی طرف ٹھوس اقدامات سے ہمیشہ احتراز کیا ہے۔

*****

وزیراعظم محمد نوازشریف کی طرف سے لائن آف کنڑول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے 2003 کے معاہدے کو مزید مؤثر بنانے اور اس پر پوری طرح عمل درآمد کرنے کی تجویز ایک نہایت مناسب اور کارآمد تجویز ہے۔اس لئے اس کا نہ صرف پاکستان اور کشمیر بلکہ دنیا بھر میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔

*****

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو ایک سپیشل قانون کے تحت غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں جنہیں استعمال کرکے بھارتی سکیورٹی افواج کشمیریوں پر بدترین مظالم ڈھارہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بے چینی اور احتجاجی تحریک ان ہی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف نہتے کشمیریوں کے ردِعمل کا نتیجہ ہے۔

*****

 
16
September

پاکستان ایک تذکیر ہے۔ یہ انسانی تہذیب کا ایک فطری پڑاؤہے۔یہ امن کا پیغام ہے۔لازم ہے کہ ہر 14 اگست کو اسے ایک نعمتِ باری تعالیٰ کے طور پر یاد کیا جا ئے۔

آزاد زندگی ہی فطری زندگی ہے۔فرد ہو یا قوم،حریتِ فکر و عمل سے محرومی انسان کو ذہنی اپاہج بنا دیتی ہے۔یہی سبب ہے کہ لوگ آزاد رہنا چاہتے ہیں اور غلامی ان کے لئے قابلِ قبول نہیں ہو تی۔

پاکستان اسی فطری جذبے سے پھوٹنے والی خواہش کا حاصل ہے۔مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے مخلوط معاشرے میں،جہاں تہذیبی تنوع نے ایک خلفشار کو جنم دیا ہے،اس خطے کی تقسیم ہی فساد کا واحد حل ہے۔یہ صرف مسلمانوں ہی کے فائدے کے لئے نہیں ہے بلکہ دوسری بڑی ہندوآ بادی کا مفاد بھی اسی میں ہے۔ عام طور پر اس مقدمے پر ایک سوال اٹھایا جاتا ہے۔ آج دنیا بھر میں مسلمان مخلوط معاشروں میں، امن کے ساتھ رہ رہے ہیں۔کیا وجہ ہے کہ بر صغیر میں ان کے لئے یہ ممکن نہیں ہو سکا؟اگر مذہبی تنوع کے باعث عام طور پر اورکہیں فساد نہیں ہو تا تو ہندوستان میں ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں دیا ہے۔

علامہ اقبال کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ مسیحیوں یا یہودیوں سے ہوتا تو یہاں کے لوگ ایک قوم بن کر رہ سکتے تھے۔ان کے مابین پایا جا نے والا مذہبی تنوع کسی کے لئے نقصان کا سبب نہ بنتا۔یہاں معاملہ ہندو معاشرت اور مذہب کے ساتھ تھا۔ہندو بحیثیت مجموعی طبقاتی نظامِ معاشرت پر یقین رکھتے ہیں۔ہندوؤں کی قیادت برہمنوں کے پاس ہے۔وہ وحدتِ آدم کو بطور قدر قبول نہیں کرتے۔مسلمان اپنی مذہبی حیثیت میں وحدتِ الٰہیہ اور وحدتِ آدم کو مانتے ہیں۔ ابراہیمی ادیان بھی توحید کے قائل ہیں۔اس کے برخلاف ہندوؤں کے ہاں نہ وحدتِ الٰہیہ ہے نہ وحدتِ آدم۔ علامہ اقبال کی اس رائے کو اگرہم اپنے تاریخی تناظر میں دیکھیں تو اس کا ادراک مشکل نہیں ہے۔ہندوؤں کے غیر برہمن طبقات میں مسیحیت اوراسلام کو بطورخاص فروغ ملا۔یہ دونوں مذاہب چو نکہ طبقاتی تقسیم کو قبول نہیں کرتے اس لئے اپنے مذہب میں کم تر سمجھے جانے والوں کو یہاں زیادہ سماجی آسودگی کا احساس ہوا۔یہاں مسلمانوں کو مسئلہ عام ہندو سے نہیں، برہمن ذہنیت سے تھا جس نے شدھی جیسی تحریکوں کو جنم دیا اور پھرتقسیمِ بنگال جیسے اقدامات کی مخالفت کی۔معا ملہ تہذیبی تو تھا ہی، اب سیاسی بھی بن چکا تھا۔ہندو اور مسلم مفاد کا ہم آہنگ ہو نا مشکل ہو رہا تھا۔ اس فضا میں ایک تویک جائی کی مصنوعی کوشش کی جا سکتی تھی جو افسانوں اور فلموں میں دکھائی دیتی ہے یاسیاسی جماعتوں کے بے روح اجتماعات میں۔قائد اعظم زندگی بھر سیاسی تماشوں سے دور رہے۔انہوں نے سیاسی نقصان یا فائدے کی بنیاد پر کبھی کوئی قدم نہیں اٹھا یا۔انہوں نے جب تک یہ سمجھا کہ ہندو مسلمان مل کر رہ سکتے ہیں، انہوں نے کسی اگر مگر کے بغیر، اس کے لئے کوشش کی۔ لیکن جب یہ جانا کہ ایسا ممکن نہیں ہے تو پھر تقسیم کا علم لہرا یایہ مسئلے کا حقیقت پسندانہ حل تھا، افسانوی نہیں۔ان کی پہلی رائے بھی امن کے لئے تھی، دوسری بھی امن کے لئے۔ قائداعظم کی شدید خواہش تھی کہ تقسیمِ ہند کو اسی تناظر میں دیکھا جائے۔اسی لئے انہوں نے دونوں مملکوں کے مابین امریکہ اور کینیڈا جیسے تعلق کی بات کی۔

مسلمانوں کو مسئلہ عام ہندو سے نہیں، برہمن ذہنیت سے تھا جس نے شدھی جیسی تحریکوں کو جنم دیا اور پھرتقسیمِ بنگال جیسے اقدامات کی مخالفت کی۔معا ملہ تہذیبی تو تھا ہی، اب سیاسی بھی بن چکا تھا۔ہندو اور مسلم مفاد کا ہم آ ہنگ ہو نا مشکل ہو رہا تھا۔اس فضا میں ایک تویک جائی کی مصنوعی کوشش کی جا سکتی تھی جو افسانوں اور فلموں میں دکھائی دیتی ہے یاسیاسی جماعتوں کے بے روح اجتماعات میں۔قائد اعظم زندگی بھر سیاسی تماشوں سے دور رہے۔انہوں نے سیاسی نقصان یا فائدے کی بنیاد پر کبھی کوئی قدم نہیں اٹھا یا۔انہوں نے جب تک یہ سمجھا کہ ہندو مسلمان مل کر رہ سکتے ہیں، انہوں نے کسی اگر مگر کے بغیر، اس کے لئے کوشش کی۔ لیکن جب یہ جانا کہ ایسا ممکن نہیں ہے تو پھر تقسیم کا علم لہرا یایہ مسئلے کا حقیقت پسندانہ حل تھا، افسانوی نہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو ایک امر واقعہ سمجھا جا ئے جو جنوبی ایشیا میں دائمی امن کے لئے وجود میں آیا۔یہ کسی ہندو مسلم دشمنی کی مستقل بنیاد نہیں ہے۔تقسیمِ ہند ایک منفی نہیں، مثبت قدم کا نام ہے۔آج ہندو معاشرت بھی ارتقائی مراحل طے کر تے ہوئے اس نتیجے تک پہنچ رہی ہے کہ انسانوں کے درمیان طبقاتی تقسیم انسانی شعورکے لئے قابلِ قبول نہیں۔یہ شرفِ انسانیت کے خلاف ہے۔

بھارتی قیادت کو تقسیم کے تجربے سے یہ سیکھنا چاہئے کہ حریتِ فکر و عمل بنیادی انسانی قدر ہے۔اگر اس کا خیال ہے کہ کسی خطے میں لاکھوں فوجیوں کو تعینات کر کے اس قدر کو ختم کیاجا سکتا ہے تو انسان کا تاریخی شعور اس کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔

پاکستان کا وجود در اصل اس بات کی یقین دہانی ہے کہ جب کسی خطے میں مذہبی،سماجی یا سیاسی امتیازکو بطور قدر قبول کر لیا جاتا ہے تو پھر اس کا لازمی نتیجہ تقسیم در تقسیم ہے۔اسی اصول پر پاکستان کو متحد رکھنے کا واحد طریقہ یہی ہے کسی کو مذہب، علاقے یا نسل کی بنیاد پر یہ احساس نہ ہو کہ اس کے ساتھ کوئی امتیاز برتا جا رہا ہے۔

بدقسمتی سے ، تقسیمِ ہند کا وہ قدم جو جنوبی ایشیاء میں ایک پائیدار امن کے لئے اٹھا یا گیا تھا،اسے فکری پس ماندگی کے شکار لوگوں نے دائمی دشمنی میں بدل دیا۔اس کا آ غاز بھارت سے ہوا۔پاکستان کو اس کے اثاثوں سے محروم کر نے کوشش کی گئی،حتیٰ کہ گاندھی جی نے جب اس کے لئے آواز اٹھائی تو اسی ذہنیت نے انہیں موت کی نیند سلا دیا۔ان لوگوں نے اس پہلو کو نظر انداز کیا کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان بھارت کو پہنچ سکتا ہے جہاں تقسیم کے با وجود کروڑوں مسلمان بستے ہیں۔ تقسیم کے عمل کو دائمی دشمنی میں بدلنے سے بھارت ہمیشہ داخلی کش مکش کا شکار رہے گا اور یہ بات بھارت کی سلامتی کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔متحدہ پاکستان میں یہ بات پاکستان کے لئے بھی یکساں پریشان کن ہو سکتی تھی۔موجودہ پاکستان کا مگر یہ مسئلہ نہیں ہے جہاں  97 فیصد مسلمان بستے ہیں۔قائد اعظم کی بصیرت مستقبل کے اس منظر نامے کو دیکھ رہی تھی۔اس لئے ایک طرف انہوں نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے امریکہ اور کینیڈا کو مثال بنا نے کی بات کی اور دوسری طرف 11 اگست 1947ء کی تقریرمیں ایک ایسے پاکستان کے تصور کو آگے بڑھا یا جس میں مذہبی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ یوں پاکستان کی صورت میں مسلم اکثریت کی ایک قومی ریاست وجود میں آئی۔یہی وجہ ہے کہ قومی سطح پر پاکستان میں کسی طرح کا ہندو مسلم خلفشار پیدا نہیں ہوا۔بعض مقامات پر اگر کچھ افراد نے اس کو ہوا دینے کی کوشش کی تو قومی شعور نے اس کو مسترد کر دیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو ایک امر واقعہ سمجھا جا ئے جو جنوبی ایشیا میں دائمی امن کے لئے وجود میں آیا۔یہ کسی ہندو مسلم دشمنی کی مستقل بنیاد نہیں ہے۔تقسیمِ ہند ایک منفی نہیں، مثبت قدم کا نام ہے۔آج ہندو معاشرت بھی ارتقائی مراحل طے کر تے ہوئے اس نتیجے تک پہنچ رہی ہے کہ انسانوں کے درمیان طبقاتی تقسیم انسانی شعورکے لئے قابلِ قبول نہیں۔یہ شرفِ انسانیت کے خلاف ہے۔جب کوئی معاشرہ انسانوں کے مابین امتیاز کو بطور قدر قبول کر تا ہے تو وہ کثیر المدنیت پلورالیزم کی صلاحیت سے محروم ہو جا تا ہے۔آج انسان کا شعوری سفر جہاں پہنچ چکا،وہاں ایسے خیالات کے لئے کوئی جگہ نہیں۔مغرب نے اس راز کو جان لیا ہے۔اس لئے وہاں انسانوں کے درمیان امتیاز قابلِ قبول نہیں۔یوں غلامی اب ایک قصہ پارینہ ہے جو دراصل ایک بر تر ذہنیت سے وجود میں آتی ہے۔اس لئے یہ کہا جاتا ہے کہ یورپ وغیرہ میں اب کسی بڑی جغرافیائی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ اگر انسانی وحدت کے تصور کو قبول نہیں کیا جا ئے گا تو جنوبی ایشیا میں تقسیم در تقسیم کا عمل جاری رہے گا۔

پاکستان کا قیام ،اس لئے انسانی آزادی کے شجرکافطری ثمر ہے۔یہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لئے قائم ہوا ہے۔اس لئے اس خطے کے مکینوں کو اس کی قدر وقیمت کا اندازہ ہو نا چاہئے۔یہ تاریخ کی درست تعبیر نہیں ہے جوتقسیم کو دائمی دشمنی کی اساس قرار دیتی ہے۔ پاکستان کا وجود در اصل اس بات کی یقین دہانی ہے کہ جب کسی خطے میں مذہبی،سماجی یا سیاسی امتیازکو بطور قدر قبول کر لیا جاتا ہے تو پھر اس کا لازمی نتیجہ تقسیم در تقسیم ہے۔اسی اصول پر پاکستان کو متحد رکھنے کا واحد طریقہ یہی ہے کسی کو مذہب، علاقے یا نسل کی بنیاد پر یہ احساس نہ ہو کہ اس کے ساتھ کوئی امتیاز برتا جا رہا ہے۔بھارت کو بھی اسی اصول پر متحد رکھا جا سکتا ہے۔بھارتی قیادت کو تقسیم کے تجربے سے یہ سیکھنا چاہیے کہ حریتِ فکر و عمل بنیادی انسانی قدر ہے۔ اگر اس کا خیال ہے کہ کسی خطے میں لاکھوں فوجیوں کو تعینات کر کے اس قدر کو ختم کیاجا سکتا ہے تو انسان کا تاریخی شعور اس کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔ پاکستان ایک تذکیر ہے۔یہ انسانی تہذیب کا ایک فطری پڑاؤہے۔یہ امن کا پیغام ہے۔لازم ہے کہ ہر 14 اگست کو اسے ایک نعمتِ باری تعالیٰ کے طور پر یاد کیا جا ئے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Page 4 of 17

Follow Us On Twitter