قافلۂ جاں نثارانِ وطن کے دو مسافر

Published in All Most Read Urdu

تحریر: کیپٹن عدیل شہزاد

نائیک غلام مصطفی (شہید) اور لانس نائیک احسان اﷲ

(شہید)

وطن پاک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ پاک فوج کا ایمان ہے۔ اپنی دھرتی کی خاطر جان قربان کردینا ہمارے سپاہیوں کا فخر‘ قوم کا وقار اور نسلوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ وطن کی پاک مٹی کی قسم کھانے والے یہ عظیم سپوت اپنے لہو سے فرض شناسی‘ بہادری اور عزم و ہمت کی اِک نئی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ یہ جون 2009کی بات ہے کہ جب پاک فوج راہِ نجات اور راہِ راست کی صورت میں انسانیت کے دشمنوں پر قہرِ ذوالجلال بن کر ٹوٹی تھی۔ جب ہر محاذ پر دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی خاطر اس جنگ کا رُخ شہروں اور معصوم لوگوں کی طرف کردیا۔یوں دشمن کے نزدیک اپنے جسم سے بارود باندھ کر باجماعت نماز میں اپنے آپ کو اڑا دینا عین شریعت اور جہادقرار پایا۔ ان دھماکوں اور خود کش حملوں سے ملک کا کوئی کونہ محفوظ نہ رہا۔

 

26 جون2009 کی رات ایک بجے 10 گاڑیوں اور تقریباً 150 جوانوں کی نفری پر مشتمل پاک فوج کا قافلہ مظفر آباد پہنچا اور سفر کی تھکان سے چور جسموں کو نیند کی مہربان وادی نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ رات کے آخری پہر نے طلوعِ آفتاب کی نوید سنائی اور بادلوں کی سفید چادر میں چھپے چاند نے اُفق کو خیرباد کہا۔ صبح سویرے ملگجے اندھیرے اور دھند کی سفید چادر کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دو دہشت گردعقبی دیوار پھلانگ کر بیرک سے متصل ٹریننگ گراؤنڈ میں داخل ہوئے۔ ان کا ہدف ٹریننگ گراؤنڈ میں تربیتی کارروائیوں میں مشغول فوجی جوان تھے جو اس دن جمعہ کی وجہ سے قرآن خوانی میں مصروف تھے۔ اپنا ہدف نہ پاکر دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر بیرک کی طرف بڑھنے لگے جہاں تقریباً ڈیڑھ سو فوجی جوان موجود تھے۔

qaflaejansar.jpg

پینتیس سالہ نائیک غلام مصطفی جب فجر کی نماز ادا کرکے واپس آرہا تھا تو کشمیر کی یخ بستہ ہواؤں نے اُسے شہادت کی نوید سنا دی۔ رب ذوالجلال سے ملاقات کی اُمید نے اس کی روح کو بے قرار کردیا۔ یکایک اُس کی چھٹی حس نے بیرک کی طرف بڑھتے دہشت گردوں کی طرف اس کی توجہ مبذول کی۔ منز لِ مقصود کو اس قدر قریب پا کر اس کی تشنہ رُوح میں بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ نائیک غلام مصطفی نے ڈیوٹی پر کھڑے سنتری لانس نائیک احسان اﷲ کو الرٹ کیا اور مشکوک افراد کو رُکنے کا حکم دیا۔ آواز سُن کر دہشت گرد بوکھلا گئے اور بیرک کی طرف دوڑ لگادی۔ خطرے کی بو پاتے ہی اس شیر کی تمام حسیات چوکس ہوگئیں اور وہ ایک ہی جست میں بھاگتے دہشت گرد پر جھپٹا اور آن کی آن میں اُسے زمین پر گرا دیا۔ وقت اور فاصلے کی کمی کے پیش نظر لانس نائیک احسان اﷲ کو فائر کرنے کی بھی مہلت نہ ملی۔ صورت حال کی نزاکت بھانپتے ہوئے اس نے حاضر دماغی کا ثبوت دیا اور دوسرے دہشت گرد کو دبوچ لیا۔ حق و باطل کی اس جنگ کا دورانیہ کم و بیش دس منٹ پر محیط تھا۔ مگر یہ لمحے نائیک غلام مصطفی کو اس کی مکمل حیات پر بھاری محسوس ہوئے۔ جب دہشت گردوں کو ان دلیروں کی آہنی گرفت سے راہِ فرار نہ ملی تو انہوں نے وہیں اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ مظفرآباد کی خاموش فضا میں ایک بھونچال آگیا اور زمین دھماکے کی شدت سے لرز اٹھی۔نائیک غلام مصطفی اور لانس نائیک احسان اﷲ نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر کئی ماؤں کی گودوں کو اُجڑنے سے بچا لیا اور زخموں اور چوٹوں سے چھلنی جسموں نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔

 

شجاعت اور بہادری کے اس عظیم کارنامے کے اعتراف میں پاک فوج نے انہیں تمغۂ بسالت سے نوازا اور پورے فوجی اعزاز سے آبائی گاؤں ڈسکہ میں سپردِخاک کیا گیا۔ سیالکوٹ کی زرخیز مٹی جسے ارضِ پاک کی آبیاری لہو سے کرنے کی عادت ہے وہاں ایک خاکی تن شہادت سے ہمکنار ہو کر منوں مٹی تلے ابدی نیند جاسویا۔ شہید غلام مصطفیٰ کی قبر پر نصب کتبے پر یہ عبارت آج بھی نقش ہے۔

خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب

ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

جبکہ لانس نائیک احسان اﷲ کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ اُن کے آبائی علاقے گجرات میں سپردِ خاک کیا گیا۔
 
Read 1234 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter