امت مسلمہ اور مستقبل کا اسلوب

Published in All Most Read Urdu

تحریر: ڈاکٹر ثاقب ریاض

گزشتہ ایک صدی کے عرصے میں مسلم دنیا نے ترقی کی بہت سی منازل طے کی ہیں۔ اس ترقی نے مسلم دنیا کے رویوں کے علاوہ غیرمسلم دنیا کے مسلم ممالک کے بارے میں ادراک اور خیالات پر بھی اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس عرصے میں امت مسلمہ میں رونما ہونے والی بڑی ترقی اور نمایاں پیش رفت کا درج ذیل نکات کی صورت میں احاطہ کیا جا سکتا ہے۔


 * مشرق وسطیٰ میں تیل کے وسیع ذخائر کی دریافت اور اس کے نتیجے میں پیٹروڈالرز کی صورت میں بڑے وسائل کی دستیابی ایک بڑی ترقی ہے۔ جس کے باعث مسلم ممالک بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ممالک کی معیشت میں ایک انقلاب برپا ہو گیا اور ان ممالک کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت میں بھی اضافہ ہوا۔


 * ملائشیا اور ترکی جیسے بعض مسلم ممالک میں ہونے والی صنعتی ترقی نے ان ممالک کو معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم کیا۔ اس تیز تر معاشی ترقی کے باعث یہ ممالک مغربی ممالک کے معیار کے مطابق ترقی یافتہ قرار پائے۔


 * نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا فروغ اور پُر امن مقاصد کے لئے اس کا استعمال۔ پاکستان کی طرف سے نیو کلیئر ہتھیاروں کا حصول اور ایران کی طرف سے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا فروغ (جو تسلسل سے جاری ہے)۔


 * بعض مسلم ممالک میں تعلیم اور سائنسی تحقیق کے شعبے میں نمایاں پیش رفت نے بھی ان ممالک کو اقوام عالم کی صف میں ایک اہم مقام عطا کیا ہے۔ ان ممالک میں مصر‘ پاکستان‘ ترکی‘ ملائشیا اور انڈونیشیا کے نام قابل ذکر ہیں۔


 * علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گردی( جسے غلط طور پر اسلامی دہشت گردی کہا جاتا ہے) اور مذہبی انتہاپسندی کا فروغ۔


 * پوری بیسویں صدی (اور اکیسویں) صدی کے عرصے میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک میں مسلم تشخص اور اسلام کی سیاسی‘ سماجی اور معاشی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے بہت سی عالمی تحریکوں کا آغاز اور فروغ بھی اس سلسلے کی ایک اہم ترین پیش رفت ہے۔ ان تحریکوں کا مقصد امت مسلمہ کی اس عظمت رفتہ اور عظمت گم گشتہ کا پھر سے حصول ہے جو کئی سو سال تک کرہ ارض پر اسلام کو حاصل رہا۔


میری نظر میں امت مسلمہ کے بارے میں آج کی دنیا میں جو بھی خیالات اور تصورات پائے جاتے ہیں‘ ان میں متذکرہ بالا چھ وجوہات اور ان کے علاوہ سیکڑوں دوسرے مقامی‘ علاقائی اور بین الاقوامی‘ واقعات اور معاملات کا عمل دخل ہے۔ اس تناظر میں اہم ترین بات دنیا کے تمام مسلم ممالک کا امت مسلمہ کے جھنڈے تلے جمع ہوناہے‘ اور یہ وہ معاملہ ہے جس کے بارے میں باہر کے لوگوں کی رائے اندر کے لوگوں (مسلمانوں) کی رائے سے مختلف ہے۔ یہاں تک کہ اندر کے لوگوں (مسلمانوں) کی رائے بھی امت کے بارے میں یکساں نہیں ہے۔ مختلف لوگ امت کے بارے میں مختلف تصورات رکھتے ہیں۔ اس تمام تر صورت حال کے پیش نظر اہم ترین چیلنج یہ ہے کہ امت مسلمہ کا صحیح تصور واضح کیا جائے۔ یعنی اس سے کیا مراد ہے۔ امت کن لوگوں پر مشتمل ہے؟ اس کے محرکات کیا ہیں اور اس کے پیش نظر کون سے سیاسی‘ سماجی‘ ثقافتی اور اقتصادی اہداف کا حصول کارفرما ہے؟ اور ان مقاصد کے حصول کے لئے وہ کون سا طریقہ کار اختیار کرے گی؟


امت مسلمہ کو درپیش دوسرا اہم ترین چیلنج یہ ہے کہ مغرب میں اسلام کے بارے میں پائے جانے والے غلط تاثر کو کس طرح ختم کیا جائے جو مغربی ذرائع ابلاغ نے ہمارے دین کے بارے میں پھیلا دیا ہے اور اسلام کو ایک انتہاپسند اور عسکریت پسند مذہب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے عرصے میں تہذیبوں کے تصادم جیسے کئی تصورات نے بھی اسلام کے بارے میں دنیا میں منفی رجحانات کو جنم دیا۔ عصر حاضر میں امت مسلمہ‘ اس کے قائدین‘ محققین ‘ ذرائع ابلاغ اور اہل علم و دانش کا اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ و ہ اسلام سے متعلق غلط تاثر کو ختم کریں اور دنیا پر واضح کریں کہ اسلام امن‘ آزادی اور برداشت کا دین ہے اور یہی اسلام کا اصل چہرہ ہے۔ اس مقصد کا حصول بین التہذیبی اور بین المذاہب مکالمے کا آغاز کر کے کیا جا سکتا ہے۔ اس مکالمے کے آغاز سے مشرق اور مغرب میں بڑھتے ہوئے فاصلے کم ہو سکیں گے اور اسلامی اور مغربی دنیا میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور بہتر تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے پیش رفت ہوسکے گی۔


صورت حال کا جائزہ : جدید ترین پیش رفت
اسلام کی پندرہ سو سالہ تاریخ میں آج کا دور امت مسلمہ کے لئے مشکل ترین دور ہے۔ اسلامی تاریخ عروج و زوال کی داستانوں سے بھری پڑی ہے لیکن آج اسلامی دنیا جس دور سے گزر رہی ہے اور جس صورت حال سے دو چار ہے‘ اس کا کبھی کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔ دنیا کے ایک ارب مسلمان مختلف قوتوں کی طرف سے مختلف سمتوں میں ہانکے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان اس وقت دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ ایک گروہ مذہبی اسلام کا حامی جبکہ دوسرا جدیدیت کا قائل ہے۔پہلے گروہ کا ایمان اور عقیدہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنی چاہئیں۔ مسلمانوں کا دوسرا گروہ اسلام کو عقیدے کے طور پر قبول کرتا ہے۔ لیکن عملی طور پر یہ لوگ مغرب کے جدید اصولوں کے پیروکار ہیں۔ ان دو گروہوں سے تعلق رکھنے والی مسلمانوں کی باقی ماندہ آبادی اسلام اور جدیدیت کے درمیان تذبذب کا شکار ہو کر مایوسی کی زندگی گزار رہی ہے۔ اکیسویں صدی میں جدیدیت کی علمبردار قوتوں کی طرف سے اسلام کو بطور عقیدہ اور مذہب مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ماڈر ن ازم کے اصول و ضوابط کو اپنائے۔ مغربی افکار کے بارے میں خود مسلم امہ کے اندر بھی ایک رائے نہیں ہے‘ بلکہ اس حوالے سے مسلم امہ اپنے مفادات کے تصادم کا شکار ہے۔

 

umetemuslima.jpgگزشتہ چار سو سال کے عرصے میں پوری اسلامی دنیا بدترین دور سے گزری ہے۔ کیونکہ اس دوران مکمل مسلم آبادی والے علاقوں کے ساتھ ساتھ اکثریتی مسلم آبادی والے ممالک پر بھی مغربی اقوام کا غاصبانہ قبضہ رہا ہے۔ اس طرح پوری مسلم دنیا کو ناکامی ‘ علیحدگی اور خوف و ہراس کی دلدل میں دھکیل دیا گیاہے۔ بیسویں صدی میں مغربی اقوام کی کالونیاں اپنے اختتام کو پہنچیں اور مسلم ممالک کو غیرملک آقاؤں کے تسلط سے نجات حاصل ہوئی۔ اور ان ممالک میں آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ آزادی کی نعمت سے فیض یاب ہونے والے ان ممالک میں مشرقی وسطیٰ‘ افریقہ‘ برصغیر اور مشرق بعید کے بہت سے ممالک شامل ہیں جہاں اسلامی روایات اور اقدار کے فروغ کا آغاز ہوا۔ اس عرصے میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے فضا انتہائی سازگار تھی۔ اچانک پوری مسلم دنیا میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے بہت سے چھوٹی بڑی تحریکیں شروع ہو گئیں۔ غیر ملکی تسلط ختم ہونے کے بعد بدقسمتی سے بہت سے مسلم ممالک بادشاہت یا آمرانہ سیاسی تسلط میں چلے گئے۔ ان حکمرانوں کی آمرانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کے سبب اسلامی نشاۃ ثانیہ کی تحریکیں زیر زمین چلی گئیں اور ان میں سے بعض جماعتیں ظالمانہ سیاسی تسلط کے رد عمل کے طور پر جارحیت اور عسکریت کے راستے پر چل پڑیں۔


اسلام بمقابلہ جدیدیت کا معاملہ ایک مشکل اور بہت نازک چیلنج ہے اور ان میں سے کوئی ایک چیز امت مسلمہ پر زبردستی نافذ کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ دراصل مسئلے کا حل کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے میں ہے۔ اہم ترین چیلنج یہی ہے کہ کس طرح مسلم امت کو انتہاپسندی سے نجات اور چھٹکارا دلا کر انتہائی احتیاط کے ساتھ اعتدال اور تحمل و بردباری کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کوئی مضبوط اور قابل عمل تلقین کی جائے۔


اندرونی مکالمہ
ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان قائدین، علماء، ماہرین تعلیم، دانشور،مفکرین، سائنسدان، بیوروکریٹس اور ماہرین‘ مقامی اور علاقائی سطح پر باہم اکٹھے ہو کر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ امت مسلمہ سے مراد کیا ہے؟ اس کے محرکات کیا ہیں؟ آئینی اسلامی حکومتوں کا قیام کیسے عمل میں لایا جائے؟ اور رواداری‘ تحمل‘ برداشت‘ امن اور آزادی جیسی شاندار اسلامی روایات کو کس طرح پروان چڑھایا جائے۔ سماجی اور سائنسی علوم کا حصول کیسے ممکن بنایا جائے؟ اور اس طرح امت مسلمہ کو اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایک ایسے راستے پر گامزن کر دیا جائے جس سے لامحالہ مسلم امہ اپنی کھوئی ہوئی عزت و عظمت اور وقار دوبارہ حاصل کر سکے۔
ان رہنما اصولوں پر عملدرآمد کرنے اور مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ اس کے نتیجے میں مسلم دنیا میں کوئی اہم تبدیلی لائی جا سکے۔ اسلام کے پیروکاروں کے درمیان باہمی مکالمہ ان مقاصد کے حصول کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اس مکالمے کا انعقاد مقامی‘ قومی‘ علاقائی اور پان اسلامک سطح پر کیا جائے اور اس سلسلے میں آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (او آئی سی) جیسے اداروں کی سرپرستی اور معاونت بھی حاصل کی جائے۔


بین التہذیبی مکالمہ
متذکرہ بالا تمام تر صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی دنیا او رمغرب کے درمیان ایک جامع اور بامقصد مکالمے کا آغاز کیا جائے۔ اس کو بین التہذیبی مکالمے کا نام دیا جا سکتا ہے۔


بین الاسلامی اور بین التہذیبی مکالمے کے لئے طریق کار
حالات‘ سہولت اور اثر پذیری کے مطابق اس سلسلے میں کئی طرح کے طریق کار اختیار کئے جا سکتے ہیں۔ درج ذیل موضوعات پر اس مکالمے کا آغاز کر کے قابل عمل راہ اختیار کی جا سکتی ہے۔


سیاست اور حکومت
تعلیم اور سائنسی تحقیق
معاشی اور صنعتی ترقی
سماجی اور ثقافتی ماحول
عسکریت پسندی‘ دہشت گردی اور تشدد
اسلام اور جمہوریت
اسلام اور مغرب
اسلام اور دیگر مذاہب عالم وغیرہ


درج بالا شعبے اور موضوعات پر توجہ مرکوز کر کے ہم اپنی توانائی کا صحیح استعمال کر سکتے ہیں۔ ان مذاکروں‘ مباحثوں اور مکالموں کے نتیجے میں ہم اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہم مغرب دنیا تک اسلام کا صحیح تصور اور تشخص پہنچانے میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اعلیٰ ترین سطح پر منعقد ہونے والے ایسے مکالموں کی میزبانی مسلم ممالک کی حکومتوں کو کرنی چاہئے اور انہیں اس سلسلے میں تعلیم‘ تحقیق اور سائنسی ترقی کے لئے کام کرنے والے مقامی‘ علاقائی اور پان اسلامک سطح پر کام کرنے والے اداروں مثلاً کامسٹیک سے تعاون اور اشتراک بھی حاصل کرنا چاہئے۔


اس مکالمے کو مقامی سے علاقائی سطح تک وسعت دی جائے اور جغرافیائی طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف بڑھایا جائے۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے وقت کا تعین مشکل کام ہے تاہم مقامی اور علاقائی سطح پر عملدرآمد کرنے کے لئے پانچ سال کے عرصے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
مباحثے اور مکالمے کے اس عمل کے عروج پر ایک ایسا مرحلہ آ جائے گا جب ضرورت اس بات کی ہو گی کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور اسلامی ممالک کی قیادت ان تمام

شعبہ جات میں ہونے والی بحث و تمحیص اور مکالمے کے نتائج سے استفادہ حاصل کریں اور اعلیٰ ترین سطح پر مغربی اقوام سے مکالمہ کریں۔ اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے اس مکالمے کے نتیجے میں امت مسلمہ مستقبل کے عظیم چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے ایک قابلِ عمل حکمتِ عملی تیار کر سکتی ہے۔ ہماری آنے والی نسلوں کو ایسی جدید ریاستوں اور معاشروں کی ضرورت ہو گی جہاں وہ بطورِ انسان اشرف المخلوقات کے اعلیٰ ترین مناسب پر تعین ہو کر خداوند پاک کی عطا کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ عظیم بادشاہتوں کا دور بیت گیا۔ اب عظیم انسان کا دور آنا چاہئے۔

مضمون نگار ایک قومی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مباحثے اور مکالمے کے اس عمل کے عروج پر ایک ایسا مرحلہ آ جائے گا جب ضرورت اس بات کی ہو گی کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور اسلامی ممالک کی قیادت ان تمام شعبہ جات میں ہونے والی بحث و تمحیص اور مکالمے کے نتائج سے استفادہ حاصل کریں اور اعلیٰ ترین سطح پر مغربی اقوام سے مکالمہ کریں۔ اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے اس مکالمے کے نتیجے میں امت مسلمہ مستقبل کے عظیم چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے ایک قابلِ عمل حکمتِ عملی تیار کر سکتی ہے۔ ہماری آنے والی نسلوں کو ایسی جدید ریاستوں اور معاشروں کی ضرورت ہو گی جہاں وہ بطورِ انسان اشرف المخلوقات کے اعلیٰ ترین مناسب پر تعین ہو کر خداوند پاک کی عطا کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ عظیم بادشاہتوں کا دور بیت گیا۔ اب عظیم انسان کا دور آنا چاہئے۔

*****

 
Read 764 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter