میں اور قرار داد پاکستان ہم عمر ہیں

Published in All Most Read Urdu

تحریر: محمودشام

میں اور قرار داد پاکستان ہم عمر ہیں۔ بلکہ میں کچھ دن بڑا ہوں۔ میں 5فروری 1940ء کو لاہور سے کچھ دور راجپورے میں پیدا ہوا۔ لاہور اور راجپورہ اس وقت دونوں غیرمنقسم ہندوستان میں شامل تھے۔ چھیالیس دن بعد لاہور میں یہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی۔ یہ سب قائداعظم محمد علی جناح کی پُر عزم بے لوث، تعصب اور کرپشن کے شائبے سے بھی دور، قیادت کا نتیجہ تھا کہ صرف 7سال بعد اس قرار داد کو ہم نے حقیقت میں ڈھال لیا۔ ہم اس وطن پاک کے حصول میں کامیاب ہوگئے جس کا خاکہ بانیانِ پاکستان نے منٹو پارک (موجودہ دور میں مینارِ پاکستان پارک )میں پیش کیا تھا۔


میں بھی 76 سال کا ہوں۔ قرار داد پاکستان کو بھی 76 سال ہوگئے۔
میں بھی نا مکمل ہوں۔ مجھے بھی بہت کچھ نہ کرسکنے کا قلق ہے۔ قراردادِپاکستان بھی ہمیں آواز دیتی ہے کہ اسے پیش کرنے والے شیرِ بنگال مولوی فضل الحق کا مشرقی پاکستان۔ اب پاکستان میں نہیں ہے۔ جن کی سربراہی میں تحریک پاکستان چلی۔ لاکھوں ماؤں، بہنوں، بزرگوں نے قربانیاں دیں۔ وہ قائدِاعظم ملّت کا پاسباں، مدبر، اصول پرست، صاحب بصیرت، اس نے جس پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔ وہ پاکستان کہاں ہے؟ قائد اعظم جس معاشرے کو تحمل برداشت، یگانگت والی سوسائٹی بنانا چاہتے تھے۔ وہ کہاں ہے؟
یہ 1967ہے۔

پاکستان کے قیام کو 20 سال ہوچکے ہیں۔ قراردادِ پاکستان کو 27 سال۔ مینارِ پاکستان تعمیر کے مراحل میں ہے۔ میں ایک یادگار فیچر تیار کرنا چاہتا ہوں۔ مینارِ پاکستان میں سیڑھیاں تعمیر ہوچکی ہیں۔ (لفٹ کا مرحلہ نہیں آیا۔)پاکستان کی طرح میں بھی جوان ہوں اور طبیعت میں مہم جوئی بھی۔ کچھ کرچکنے کا عزم بھی۔ میں یہاں کے ایک معمار کے ساتھ اس چوٹی کو سر کرلینے کا ارادہ کرلیتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ان سیڑھیوں کی تعداد سال کے 365 دنوں کے برابر ہی تھی۔ میں نے مینار کی چوٹی سے لاہور کے عظیم شہر کو دیکھا تھا۔
میں یقیناًاُن چند پاکستانیوں میں سے ہوں گا جنہوں نے یہ سیڑھیاں چڑھی ہوں گی۔ یہ کیا جذبہ تھا۔ یہ وہی جذبہ تھا۔ جو بر صغیر کے گوشے گوشے میں مسلمانوں میں تھا۔ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا۔ اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کے حصول کا۔


میں یہاں مینارِ پاکستان کی تعمیر کے ذمہ داروں سے مل رہا ہوں۔ ٹھیکیدار سے، معماروں سے، مزدوروں سے۔۔۔ سب میں وہی ولولہ ہے۔ جیسے وہ مینارِپاکستان نہیں۔ ایک بلند و بالا ٹاور نہیں۔ بلکہ ایک ملک کی تعمیر کررہے ہیں۔ وہ بھی اپنے آپ کو تحریکِ پاکستان کا کارکن سمجھ رہے ہیں۔ یہاں اپنے کام کو، محنت کو، وہ جدو جہد آزادی کا ہی حصہ قرار دے رہے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو یہاں سیر کے لئے لایا کریں گے تو فخر سے انہیں بتائیں گے کہ اس عظیم الشان، یادگاری عمارت کے بنانے میں ان کا بھی حصہ ہے۔ ہے بھی فخر کی بات!!۔ میں تو آج تک صرف سیڑھیاں چڑھنے پر ہی افتخار کی کیفیت میں رہتا ہوں جنہوں نے یہاں بنیاد میں اینٹیں رکھیں، مرحلہ در مرحلہ اسے بلند کرنے میں اپنے دست و بازو کو استعمال کیا، وہ کتنے عظیم تر ہیں۔ جس نے اس کا نقشہ بنایا۔ جس نے اس کے لئے رنگ تجویز کئے۔ اس پھول کا تصور تراشا۔

 

mainqarada.jpgان کے بارے میں بھی سوچئے اور ان عظیم ہستیوں کو بھی اپنے تصور میں لائیے۔ جو کلکتے سے لے کر کوئٹے تک سے یہاں کتنے حسین خواب لے کر آئے۔ کہیں سے وہ تصویر ڈھونڈ کر لائیے جس میں یہ سب اکابرین یکجا ہیں۔ کوئی تعصب تھا، نہ فرقہ پرستی، نہ مذہبی شدت پسندی۔ بنگال، پنجاب، بلوچستان، سرحد( اب کے پی کے)، سندھ بھی اور وہ علاقے جن کو پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ وہاں سے بھی یہ سب اپنے لئے نہیں آئے۔ آنے والی نسلوں کے لئے، ہمارے لئے، میرے لئے، آپ کے لئے، میرے بیٹوں بیٹیوں ،پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں، آپ کے بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں کے مستقبل کو محفوظ اور مامون بنانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔


ان کی فکر یہ تھی کہ اس وقت کے نظام میں، بندوبست میں، مسلمانوں کی اکثریت خوش نہیں ہے، مطمئن نہیں ہے۔ اپنے آپ کو سیاسی اور اقتصادی طور پر محفوظ نہیں پاتی ہے۔ اس کا کاروبار مستحکم نہیں ہے۔ اسے ایک با عزت شہری کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ اس لئے یہ کہا جارہا ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہایت غور و فکر کے بعد اس ملک میں صرف اسی آئین کو قابل عمل اور مسلمانوں کے لئے قابل قبول قرار دیتا ہے۔ جو جغرافیائی اعتبار سے باہم متصل ریجنوں کی صورت میں حد بندی کا حامل ہو۔ اور بوقت ضرورت ان میں اس طرح رد و بدل ممکن ہو کہ جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت بہ اعتبار تعداد ہو۔ انہیں آزاد ریاستوں کی صورت میں یکجا کردیا جائے اور ان میں شامل ہونے والی وحدتیں خود مختار اور حاکمیت کامل کی حامل ہوں۔


تاریخ کے اوراق الٹیئے۔ پڑھیئے بھی اور سُنیئے بھی۔ تاریخ کیا کہہ رہی ہے ان وحدتوں اور ہر علاقائی آئین میں اقلیتوں کے مذہبی، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی مفادات اور حقوق کے تحفظ کی خاطر ایسی اقلیتوں سے مشورے کے بعد مؤثر تحفظات شامل ہوں اور ہندوستان کے ان تمام حصوں میں جہاں مسلمان آبادی کے اعتبار سے اکثریت میں نہیں۔ انہیں تحفظ کا یقین دلایا جائے ۔


یہ آواز بھی بلند ہورہی ہے۔
یہ اجلاس مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ ان اصولوں پر مبنی آئین کا لائحہ عمل مرتب کرے۔ جس میں دونوں خطوں کے تمام اختیارات اور دیگر اہم امور کو سنبھالنے کا انتظام کیا جائے۔ غور کیجئے کیا ہمارے یہ اکابرین۔ یہ قائدین آنے والے بحرانوں کی دھمک نہیں سن رہے تھے کیا انہیں ان علاقوں، خطوں میں رونما ہونے والی شورشوں کا اندازہ نہیں تھا۔ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ جہاں پاکستان بننے جارہا ہے۔ وہاں کے مختلف علاقوں، وحدتوں میں رہنے والے کیا سوچتے ہیں؟ ان کی عادات کیا ہیں؟ زندگی کے رویّے کیا ہیں؟ وہ تعلیم کے حوالے سے کیسے ہیں؟ ایک دوسرے سے معاملات میں کیسا مزاج رکھتے ہیں؟ اختلافات پر مشتعل تو نہیں ہوجاتے؟ ان میں اگر جوش ہے تو کیا ہوش بھی ہے؟ وہ حرکت میں تو آجاتے ہیں۔ بڑے بڑے جلسے کرلیتے ہیں۔ لیکن کیا اس تحریک کے بعد تنظیم کی عادت بھی رکھتے ہیں؟ جلسے جلوس، نعرے بازی، جوش ولولہ، اپنی جگہ لیکن اس کے بعد جس تنظیم، توجہ، تربیت، تشکیل کی ضرورت ہے۔ کیا یہ صفات ان کی سرشت میں ہیں؟


آج اکیسویں صدی کی ہم دوسری دہائی کے آخری سالوں میں ہیں۔ اب تو ٹیکنالوجی بہت آگے نکل چکی ہے۔ مشینیں، انسانوں کے تجزیے کررہی ہیں۔ ڈی این اے کے ذریعے انسان کے بارے میں بہت کچھ جانا جارہا ہے۔ ہمارے خمیر پر تحقیق ہورہی ہے۔ ماضی کی روشنی میں مستقبل کی تعمیر کی جارہی ہے۔
اب ضرورت ہے کہ ہم ریاست کی سطح پر تحریکِ پاکستان پر تحقیق کریں۔ جدید ٹیکنالوجی ہماری مدد کرسکتی ہے۔ آج کی تحقیق کے نئے اصول ہماری رہنمائی کرسکتے ہیں۔
اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہم سب کہتے ہیں۔ پاکستان، وہاں نہیں ہے، جہاں 68 سال بعد اسے ہونا چاہئے تھا۔


یہ پاکستان وہ نہیں ہے۔ جس کا ایک خاکہ 23مارچ 1940 کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔
یہ وہ پاکستان نہیں ہے۔ جس کا خواب حکیم الامت، مفکر پاکستان علامہ محمداقبال نے دیکھا تھا۔
یہ وہ پاکستان نہیں ہے جس کا تصور۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947 کی تقریر میں انتہائی وضاحت اور صراحت سے پیش کیا تھا۔
آج کے پاکستان میں وہی مذہبی شدت پسند قوتیں، معاشرے پر غلبہ پانے کی کوشش کررہی ہیں جو قیام پاکستان کے باضابطہ خلاف تھیں۔ جو اس قافلے میں شامل نہیں تھیں جو قائد اعظم کی قیادت میں الگ وطن کے لئے تحریک چلارہا تھا۔ اپنے مؤقف کی ناکامی اور اپنے مشن میں شکست کے بعد انہوں نے 1953 سے پاکستان بننے کے صرف چھ سال بعد سے مذہبی شدت پسندی کا راستہ اختیار کرکے اس مملکت کو ناکام اور انتظامی طور پر نا اہل بنانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا اور یہ ہماری تاریخی بد قسمتی ہے کہ ہمارے سیاستدان محض اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے ان پاکستان دشمن مذہبی قوتوں کے معاون بن گئے اور پاکستان اپنے اصل خطوط سے دُور ہوتا چلاگیا۔

mainqarada1.jpg
آج پاکستان میں جو خطرناک رجحانات سر اٹھارہے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے ان خطرات کی ذمہ دار قوتوں کو ہمیشہ کے لئے مٹادینے کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس میں کامیابیاں بھی حاصل ہو رہی ہیں۔ کئی دہائیوں کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت اسی تصور پاکستان کو حقیقت میں ڈھال رہی ہے۔ جو قائد اعظم نے پیش کیا تھا۔ درمیان میں ایسے مراحل آئے تھے جب سیاسی اور عسکری قیادت دونوں سے غلطیاں ہوئیں۔ نظریاتی طور پر تذبذب کا شکار ہوئے۔ لیکن اب ہمیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ایک مملکت کی جو ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ان کا شعور کیا جارہا ہے۔ قوم کو زیاں کا احساس ہے۔ متاع کارواں واپس آرہی ہے۔


میں اپنے طویل صحافتی تجربے، تاریخ پاکستان کے ایک طالب علم کی حیثیت سے، مملکت اور حکومت کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھنے کے نتیجے میں ایک تأثر رکھتا ہوں کہ پاکستان آج جن علاقوں اور خطوں میں ہے۔ وہاں تحریکِ پاکستان اس جوش و خروش سے نہیں چلی تھی۔ جس طرح یہ مشرقی بنگال میں چلی، جو بعد میں مشرقی پاکستان بنا۔ پھر ہمارے رہنماؤں کی غلط پالیسیوں اور ہمارے ازلی دشمن بھارت کی سازشوں سے بنگلہ دیش بن گیا۔ مشرقی بنگال کے علاوہ ان ریاستوں میں جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں تھے اور جنہیں پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ مثلاً دہلی، یوپی، سی پی، بہار، وہاں بھی جوش و خروش زیادہ رہا۔ تحریکِ پاکستان پر تحقیق کرنے والے، مسلم لیگ کے مؤرخ، اس امر کی تصدیق کریں گے کہ موجودہ پاکستان کے شہروں میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس، عوامی جلسے اور جلوس اتنے تواتر سے نہیں نکلے، جتنے ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں منعقد ہوئے۔ پاکستان کے لئے جو دلی، ذہنی، مزاجی شرکت ہونی چاہئے تھی، وہ اس خطے کے لوگوں میں نہیں تھی۔ پنجاب میں اس وقت یونی نسٹوں کی حکومت تھی۔ سرحد میں سرخ پوش تھے۔ بلوچستان اس وقت صوبہ ہی نہیں تھا۔ سندھ کی اسمبلی نے ریزولیوشن ضرور منظور کیا لیکن اس کے طول و عرض میں کوئی زیادہ جلسے جلوس نہیں ہوئے پاکستان بننے کے بعد ان علاقوں میں جتنا سیاسی کام ہونا چاہئے تھا، وہ نہیں ہوا۔اشرافیہ نے اپنی فسطائیت قائم کی۔ ایک دوسرے پر غداری کے الزامات عائد کئے گئے۔ بد ترین قسم کی صوبائیت پھیلائی گئی۔ مسائل کو سلجھانے کی بجائے اُلجھایا گیا۔


آئین بنانے میں اتنی تاخیر کی گئی کہ ملک دو لخت ہوگیا۔ اب جسے ہم پاکستان کا متفقہ آئین کہتے ہیں۔ وہ اس وقت منظور ہوا۔ جب پاکستان کا بڑا حصّہ ہم سے الگ ہوچکا تھا۔
میری دردمندانہ التجا ہے اور حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اب جب ہم مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور مذہبی سوداگروں کا تسلط کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں تو ہمیں تحریک پاکستان دوبارہ چلانی چاہئے۔ اسے تحریکِ استحکام پاکستان کہہ لیں۔ ہمیں ملک بھر میں ایک ایک پاکستانی کو متحرک کرنا چاہئے وہی جذبہ۔ 1940والا۔ 1947 والا۔ اس وقت نعرہ تھا۔
لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان
اب ہونا چاہئے۔
بن کے رہے گا قائد کا پاکستان
بناکے رہیں گے اقبال کا پاکستان


ایسا پاکستان، جو چند خاندانوں کا نہیں، چند سیاسی رہنماؤں کا نہیں۔ صرف جاگیرداروں، زمینداروں،تاجروں، سرمایہ داروں، سیاسی جماعتوں کا نہیں، ہر پاکستانی کا پاکستان ہو۔ جہاں بلوچستان میں رہنے والے سب پاکستانی (چاہے وہ بلوچ ہوں، پشتوں ہوں یا آبادکار) اسے اپنا وطن کہیں۔ انہیں پنجاب، سندھ، کے پی کے، کے برابر حقوق سہولتیں اور مالی خود مختاری حاصل ہو۔ اسی طرح کے پی کے، فاٹا، گلگت بلتستان کے شہریوں کو بھی پنجاب، سندھ اسلام آباد کے لوگوں کی طرح اختیارات حاصل ہوں، یہی احساسات سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کو میسر ہوں۔ جنوبی پنجاب کے نوجوان محرومی کے احساس سے آزاد ہوں۔


جب ہم صوبائی خودمختاری مانگتے ہیں تو ضلعی خود مختاری بھی غصب نہیں ہونی چاہئے۔ وفاق صوبوں کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ صوبے ضلعوں کے بنا کوئی وجود نہیں رکھتے۔ صوبائی وزیر اعلیٰ اگر اپنے اختیارات چاہتے ہیں تو اضلاع کے میئر یا چیئرمین کو بھی اپنے وسائل پر اختیار ہونا چاہئے۔


پاکستان سب کا ہے۔ چند خاندانوں کا نہیں ہے۔
تحریکِ پاکستان دوبارہ چلانے کا ایک مقصد یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہم ایک ایک پاکستانی کو اکیسویں صدی کی سہولتیں، تعلیم، اور تربیت سے نواز سکیں۔ ایسا پاکستان بنائیں کہ یہاں سے لوگ امریکہ کینیڈا یا کسی اور ملک جانے کے بجائے یہاں کے شہروں کو لاس اینجلز، ٹورنٹو، بریڈ فورڈ اور سڈنی جیسا بنائیں۔ ہمارایہ خطہ کئی ہزار سال پہلے جدید تہذیب کا مرکز تھا۔ہم اب پھر اسے تہذیب و تمدن کا مرکز بناسکتے ہیں۔
ہمارا پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت نوجوان ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔ جن میں سے ہر پاکستانی کو اپنا حصہ ملنا چاہئے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
ان کے بارے میں بھی سوچئے اور ان عظیم ہستیوں کو بھی اپنے تصور میں لائیے۔ جو کلکتے سے لے کر کوئٹے تک سے یہاں کتنے حسین خواب لے کر آئے۔ کہیں سے وہ تصویر ڈھونڈ کر لائیے جس میں یہ سب اکابرین یکجا ہیں۔ کوئی تعصب تھا، نہ فرقہ پرستی، نہ مذہبی شدت پسندی۔ بنگال، پنجاب، بلوچستان، سرحد( اب کے پی کے)، سندھ بھی اور وہ علاقے جن کو پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ وہاں سے بھی یہ سب اپنے لئے نہیں آئے۔ آنے والی نسلوں کے لئے، ہمارے لئے، میرے لئے، آپ کے لئے، میرے بیٹوں بیٹیوں ،پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں، آپ کے بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں کے مستقبل کو محفوظ اور مامون بنانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔

*****

میری دردمندانہ التجا ہے اور حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اب جب ہم مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور مذہبی سوداگروں کا تسلط کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں تو ہمیں تحریک پاکستان دوبارہ چلانی چاہئے۔ اسے تحریکِ استحکام پاکستان کہہ لیں۔ ہمیں ملک بھر میں ایک ایک پاکستانی کو متحرک کرنا چاہئے وہی جذبہ۔ 1940والا۔ 1947 والا۔ اس وقت نعرہ تھا۔

لے کے رہیں گے پاکستان

بٹ کے رہے گا ہندوستان

اب ہونا چاہئے۔

بن کے رہے گا قائد کا پاکستان

بناکے رہیں گے اقبال کا پاکستان

*****

تحریکِ پاکستان دوبارہ چلانے کا ایک مقصد یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہم ایک ایک پاکستانی کو اکیسویں صدی کی سہولتیں، تعلیم، اور تربیت سے نواز سکیں۔ ایسا پاکستان بنائیں کہ یہاں سے لوگ امریکہ کینیڈا یا کسی اور ملک جانے کے بجائے یہاں کے شہروں کو لاس اینجلز، ٹورنٹو، بریڈ فورڈ اور سڈنی جیسا بنائیں۔ ہمارایہ خطہ کئی ہزار سال پہلے جدید تہذیب کا مرکز تھا۔ہم اب پھر اسے تہذیب و تمدن کا مرکز بناسکتے ہیں۔

*****

 
Read 1134 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter