سی پیک عالمی تناظر میں

Published in All Most Read Urdu

تحریر: خالد محمود رسول

سی پیک کا جس انداز میں شہرہ ہوا، ہمیں یہ گمان ہو گیا تھا کہ یہ منصوبہ کہیں تنازعات کا شکار نہ ہو جائے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔۔۔ یہ تحفظات، وہ تحفظات، اس کا وہم، اس کا گلہ۔ آل پارٹیز کانفرنسز اور ہائی لیول اجلاس۔ اس پر مستزاد میڈیا کا جوش و خروش، ایسے میں ہوش کے لئے جگہ کم ہی دستیاب ہوتی ہے۔ سی پیک یعنی چائنا پاک اکنامک کوریڈور کا بنیادی وژن ، اس کا علاقائی ربط اور اس سے منسلک سرمایہ کاری کا حجم۔۔۔ سبھی کچھ ہماری معیشت اور سیاست کے لئے نیا تھا۔ لہٰذا جانے انجانے میں بہت سی بدگمانیاں اور وسوسوں نے جگہ بنانے کی کوشش کی۔ بر وقت حکومتی وضاحتوں اور کوششوں نے وقتی طور پر اعتمادی سازی کی فضا قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن یہ امکان بہر طور موجود ہے کہ کسی اور بنیاد پر اس منصوبے کے بارے میں دوبارہ بدگمانیاں پیدا نہ ہوں۔

 

سی پیک سے منسلک اور منسوب اقتصادی سرمایہ کاری اور ممکنہ معاشی مفادات کے لئے اندرونی طور پر سیاسی قوتوں کا مکالمہ اور تفہیم کے لئے تگ و دو بالکل قابل فہم ہے۔ ایسے میں اس منصوبے کی عالمی اہمیت اور پس منظر کا ادراک ہمیں اس نادر موقعے کے وسیع تناظر کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے 2013 میں ون بلٹ ، ون روڈ کے منصوبے کا اعلان کیا۔ بنیادی خیال یہ بتایا گیا کہ اہم یورپی اور ایشیائی معیشتوں کو انفراسٹرکچر، تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط کیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت دو طرح کے عالمی رابطے قائم کرنا مقصود تھے، اول سلک روڈ کے ذریعے اقتصادی رابطہ یعنی سلک روڈ اکنامک روڈ دوم سمندری ذرائع سے رابط یعنی میری ٹائم سلک راؤٹ۔

 

زمینی راستے کے منصوبوں میں سڑکیں، ریلوے ٹریکس، تیل اور گیس پائپ لائنز اور اس سے منسلک کئی دیگر منصوبے ہیں جن کے ذریعے وسطی چین کے علاقے زن جیانگ کو ابتداء میں وسطی ایشیا سے مربوط کر نے کا پلان ہے۔ بعدمیں اس انفراسٹرکچر کو پھیلا کر روس کے شہر ماسکو، ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم اوراٹلی کے شہر ونیس تک لے جانا مقصود ہے۔ ان منصوبوں کے لئے ایک مخصوص سڑک کے بجائے اس بیلٹ یا کوریڈور کو پہلے سے موجود زمینی راستوں یعنی سڑکوں اور پلوں کے ساتھ ساتھ پھیلایا جائے گا ۔ یوں چین، منگولیا اور روس، وسطی چین اور مغربی ایشیا، انڈو چا ئنا کا علاقہ، چائنا، پاکستان اور بنگلہ دیش، چائنا، انڈیا اور میانمار کو آپس میں ملانے کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔ دوسری طرف سمندری نیٹ ورک کے ذریعے بندر گاہوں اور ساحلی علاقوں میں انفراسٹرکچر منصوبوں کو زمینی راستوں سے مربوط کرنے کا پروگرام ہے تاکہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر مشرقی افریقہ تک اور بحیرہ قلزم تک تجارتی راستوں کا وسیع اور مربوط نظام قائم کر دیا جائے۔

 

یہ مجموعی خاکہ ہے اس عظیم منصوبے کا جسے چینی صدر نے ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے متعار ف کروایا۔ اس منصوبے کی بہت سی تفصیلات ابھی قدرے دھندلی اور غیر واضح ہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تفصیلات آہستہ آہستہ واضح ہوتی جائیں گی۔ اس منصوبے کی مکمل تفصیلات پر جائیں تو یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور بھاری بھر کم منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں تقریبا پینسٹھ ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ آبادی کے اعتبار سے دیکھیں تو ساڑھے چار ارب افراد ان منصوبوں سے مستفید ہوں گے۔ ان ممالک اور آبادی کی مجموعی قومی آمدنی کو جوڑ لیں تو یہ عالمی جی ڈی پی کا چالیس فی صد بنتا ہے! اس وسیع و عریض منصوبے کے لئے وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری چین نے اُٹھائی ہے۔ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے لئے چین نے نیو سلک روڈ فنڈ کے نام سے چالیس ارب ڈالر مختص کئے ہیں ۔ اس فنڈ کے لئے چین اپنے زرمبادلہ کا کچھ حصہ صرف کرے گا جبکہ حکومت کے دیگر سرمایہ کاری اور مالی ادارے بقیہ وسائل فراہم کریں گے۔ اس فنڈ کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں قائم ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بنک کے ذریعے مزید ایک سو ارب ڈالر کے قرضے بھی فراہم کئے جائیں گے۔ انفراسٹرکچر کے ان منصوبوں سے منسلک نو سو سے زائد صنعتی اور تجارتی منصوبوں کے لئے چائنا ڈویلپمنٹ بینک نو سو ارب ڈالر کے وسائل فراہم کرے گا ۔ ان منصوبوں کا پھیلاؤ پینسٹھ ممالک پر محیط ہو گا۔ یوں اپنی وضع اور نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک منفرد اور کئی ملکوں کے درمیان مربوط منصوبہ ہے ۔ مشہور اقتصادی میگزین اکونومسٹ کا خیال ہے کہ اس مکمل منصوبے پر چائنا کی مجموعی سر مایہ کاری ایک کھرب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

 

غور کریں تو اس تحریک یا وژن کا مقصد صرف سڑکوں، سمندری راستوں اور ان سے منسلک صنعتی اور تجارتی منصوبوں کا ایک سلسلہ کھڑا کرنا ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ ایک منفرد معاشی اور عوامی اشتراک و تعاون ہے۔ دنیا بڑی تیزی سے اپنے علاقائی، سیاسی اور اقتصادی مفادات کے تحت تقسیم ہو رہی ہے۔ علاقائی تعاون کی تنظیموں کا پھیلاؤ اور اثر و نفوذ، نئے اور پرانے تجارتی بلاکس، نت نئے فری ٹریڈ معاہدے بدلتے ہوے سیاسی اور معاشی نظام کی نئی حقیقتیں ہیں۔ حال ہی میں طے پانے والا کثیرالملکی معاشی اتحاد ٹی پی پی

(Trans-Pacific Partnership)

اپنے اندر نئے امکانات کا جہان لئے ہوئے ہے۔ بحرالکاہل کے دونوں طرف کے ممالک کے درمیان زیر غور معاہدہ ٹی ٹی آئی پی

(Transatlantic Trade and Investment Partnership)

یورپ اور امریکہ کو ایک نئے ڈھنگ سے معاشی تعاون کے بندھن میں باندھ دے گا۔ یہ نئی معاشی و سیاسی صف بندیاں اور اتحاد اگلے تیس سے پچاس سال کے معاشی امکانات پر دور رس اثرات مرتب کریں گے۔ چین کا ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ ان بدلتے حالات میں اپنے ملک کے لئے مستقبل کے تجارتی و سرمایہ کاری کے امکانات اور وسائل کی دستیابی او ر تجارتی منڈیوں کو محفوظ کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ سی پیک منصوبے کو اس تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس موقعے کو بہترین ملکی مفاد میں اور بہترین انداز میں استعمال کیا جاسکے۔ آپس کے معمولی یا اپنے تئیں غیر معمولی تنازعات اس منصوبے کے عالمی بہاؤ میں ہمیں کہیں پیچھے نہ چھوڑ دیں۔

 

چین کے اس دور رس منصوبے کے راستے میں ابھی کئی مشکل مراحل ہیں۔ مختلف شریک ممالک کے اپنے اپنے مفادات اور مسائل ہیں۔ معاشی نظامت اور انفراسٹرکچر کے حالات میں بہت تفاوت ہے۔ ضروری نہیں کہ تمام ممالک اور منصوبے مجوزہ تفصیلات اور رفتار سے آگے بڑھیں۔ البتہ اس منصوبے میں پنہاں مفادات اور وسائل کی فراہمی بیشتر ممالک کو اس منصوبے میں اشتراک اور تعاون پر آمادہ کر سکتی ہے۔ یہ امر بھی واضح ہے کہ ایسے منصوبے روز روز نہیں بنتے۔ لہٰذا اپنے اپنے مفادات اور مستقبل کی سرمایہ کاری اور تجارتی ضرورتوں کے مطابق اس منصوبے میں تعاون اور شرکت بیشتر ملکوں کے اپنے مفادات میں ہو گی۔ اس لئے امکان ہے کہ یہ منصوبہ اپنی اصل ہیئت کے مطابق مکمل نہ سہی، بہت حد تک اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

 

پاکستان اپنے جیو پولیٹیکل حالات اور گورنس کے گونا گوں مسائل کی وجہ سے اقتصادی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ سی پیک منصوبے کی صورت میں پاکستان کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ اس موقعے سے اپنے بہترین معاشی مفادات اور متناسب علاقائی ترقی کے مطابق اس منصوبے کا فائدہ اٹھائے۔ اس وقت سڑک کے بنیادی منصوبے کے علاوہ دیگر کئی منصوبوں کی طویل فہرست ہے جن میں سرِدست انرجی کے کئی بڑے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طویل المدت منصوبوں میں ریلوے ٹریکس، تیل اور گیس پائپ لائنز اور اس شاہراہ پر کئی انڈسٹریل اسٹیٹس کا قیام ہے۔ بلوچستان، کے پی کے اور گلگت بلتستان براہ راست اس شاہراہ کا حصہ ہوں گے ۔ جبکہ دوسرے صوبے روڈ نیٹ ورک کے ذریعے منسلک ہوں گے۔ منصوبوں کی تیاری، ان میں مقامی صنعتوں کی شمو لیت، مقامی لیبر اور افرادی قوت کی کھپت سمیت بہت سے حساس اور دور رس اہمیت کے معاملات اس پرو جیکٹ کے فوائدکے حصول میں اہم کردار کریں گے۔

 

پاکستان کے لئے اس منصوبے میں مضمر ممکنہ اقتصادی فوائد کچھ طاقتوں کو گوارا نہیں۔ اس کے لئے جانی پہچانی صورت نفاق پیدا کر کے معاملات کو متنازعہ بنانا ہے۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ اس منصوبے کو تنازعات سے محفوظ رکھا جائے۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس پروجیکٹ کی مدت تکمیل دس سے پندرہ سال ہو گی۔ لہٰذا اسے وقتی مفادات کی بھینٹ چڑھنے سے بچایا جائے۔ اسے ایک طویل المدت اقتصادی امکان اور ملکی ضرورت کے انداز میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 3070 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter