کیپٹن اسلام شہزاد اپنے ہاتھوں میں نقشہ تھامے کافی گہری سوچ میں گم تھے، انہوں نے کیپٹن وقاص کو گاؤں ڈھیرئی بانڈہ اور دیگر اہم علاقوں کے علاوہ تین ایسے احاطے دکھائے جن میں دہشت گردوں کی موجودگی یقینی تھی ۔ اس موقعے پر ونگ کمانڈر کی ہدایات بھی مسلسل موصو ل ہورہی تھیں۔ ونگ کمانڈر نے واضح طور پر حکم دیاتھا کہ علاقے سے پکڑے جانے والے12 سال سے زائد عمر کے ہر مشکوک شخص کی مکمل چھان بین کی جائے اور یہ کا م کیپٹن وقاص کے ذمے لگایا گیا تھا۔ دن کے تقریبًا سوا بارہ بج رہے تھے کہ اچانک فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اُٹھی۔

آپریشن ضرب عضب اپنے عروج پر تھا۔ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے بے باک جوانوں نے دہشت گردوں پر عرصہء حیات تنگ کر دیا توباجوڑ ایجنسی میں تحصیل سلارزئی کے علاقے ڈھیرئی بانڈہ میں دہشت گردوں کی خُفیہ آمدورفت کا سلسلہ ایک بار پھرشروع ہونے لگا۔ حساس اداروں کی خُفیہ معلومات کے مطابق یہ مقام نہ صِرف گردونواح میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لئے استعمال ہو رہا تھا بلکہ اسے مُلک کے دیگر علاقوں میں تخریب کاری کے بڑے منصوبے بنانے کی آماجگاہ کے طور پر بھی پروان چڑھایا جا رہا تھا۔ اگرچہ آپریشن’’ راہ راست ‘‘ اور ’’راہ نجات‘‘ کے دوران اس علاقے میں دہشت گردوں کی کمر کافی حد تک توڑ دی گئی تھی اور ان کے سیکڑوں ساتھی اپنے کمانڈروں سمیت ہلاک ہوئے یا پھر حراست میں لے لئے گئے تھے البتہ کچھ شرپسند افغانستان کے ملحقہ صوبے کنٹرکی طرف بھاگ گئے تھے ۔ بارڈر سے ملحق ہونے کی وجہ سے اب افغانستان میں چھپے فضل اللہ اور اس کے حواری وقتاً فوقتاً اپنے غیر ملکی آقاؤں کی مدد سے سازشوں کا جال بنتے اور اپنی گھناؤنی اور تخریبی سرگرمیوں کو پاک سر زمین تک پھیلانے کی مکروہ کوشش کرتے۔ چنانچہ پاک فوج کے جامع منصوبے کے تحت کمانڈنٹ باجوڑ سکاؤٹس کرنل میر امیر علی کو اس علاقے سے دہشت گردوں کو مکمل طور پرمٹانے کا حکم ملا۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آپریشن کی کمان چترال سکاؤٹس کے ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم کو سونپی گئی۔ ابتدائی تیاریوں کے بعد 18 جنوری 2015 jo_chaly_to.jpgکی صبح لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم نے اپنے تمام کمپنی کمانڈرز کو باجوڑ سکاؤٹس کے ہیڈ کوارٹر میں طلب کیااور آپریشن کے خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ ٓاپریشن اگلی صُبح 6بجے شروع ہونا تھا۔آپریشن میں لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم کے زیر کمان چترال سکاؤٹس کے کیپٹن سید وقاص سمیع ، دیر سکاؤٹس کے کیپٹن حافظ اسلام شہزاد ، آزاد کشمیر رجمنٹ کے میجر قیصر ، سندھ رجمنٹ کے لیفٹیننٹ عُمر ، سپیشل آپریشن گروپ کے میجر احسان اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے میجر فواد شامل تھے ۔ صُورتِ حال کی سنگینی اور دہشت گردوں کی بھاری تعدادکے پیشِ نظر آپریشن کا دورانیہ 48 گھنٹے رکھا گیا تھا۔ علاقے کے جغرافیائی خدوخال سے بھرپور واقفیت کی بناء پر کیپٹن اسلام شہزاد نے دیگر آفیسرز کو آپریشنل علاقے کی ریکی کرانے کا بیڑا اُٹھایا۔اُدھر دُوسرے ہی دن علی الصبح 4 بجے سپیشل آپریشن گروپ کمپنی اور آزاد کشمیر رجمنٹ کے آفیسرز اور جوان ڈھیرئی بانڈہ کے اطراف سے بیرونی مداخلت اور فرار کی ممکنہ کوشش کو ناکام بنانے کے لئے بلاکنگ پوزیشنیں سنبھال چُکے تھے۔ دریں اثناء ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم اپنی سپاہ کو لے کر اگلی جمع گاہ ، باجوڑ سکاؤٹس پہنچ گئے۔ اس سپاہ نے نمازِ فجر کے بعد صبح پونے چھ بجے ڈھیرئی بانڈہ کی طرف پیش قدمی کا آغاز کیا۔ راستے میں حاجی لوانگ موڑ کے مقام پر کیپٹن اسلام شہزاد پہلے ہی منتظر کھڑے تھے جہاں سے انھیں رہنمائی کا فریضہ انجام دینا تھا۔ اب وہ سپاہ کو لے کر وادی چنار کے راستے سلارزئی تحصیل کے گاؤں ڈھیرئی بانڈہ کی طرف روانہ ہوئے۔چنار پوسٹ پر پہنچ کر ایک بار پھر کمانڈنگ آفیسر نے اپنے احکامات دہرائے اور اپنے جونیئر کمانڈرز کے ساتھ مطلوبہ دہشت گردوں کی شناخت،ممکنہ ٹھکانوں اور مزاحمت کی متوقع شدت پر تبادلہ خیال کیا۔ چنانچہ صبح 7 بجے سپاہ کو چھوٹے گروپوں میں بانٹ کر علاقے کی تلاش کا کام شروع کردیا گیا۔ کیپٹن اسلام شہزاد اور کیپٹن وقاص کا پہلا پڑاؤ پُرانی چنار پوسٹ تھا۔ ان کے ہمراہ لیفٹیننٹ عُمر کی قیادت میں سندھ رجمنٹ اور میجر قیصر کی قیادت میں آزاد کشمیر رجمنٹ کے جوان تھے۔ قوم کے ان رکھوالوں نے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے اپنے آفیسرز کی رہنمائی میں پیش قدمی کا آغاز کر دیا۔ انہیں مختلف اطراف سے اپنے ہدف کی طرف بڑھنا تھا ۔ یہ عمودی چٹانوں پر انتہائی دشوار گزار اور پر پیچ راستے تھے لیکن پاک فوج کے بیباک سولجرز کسی بھی مشکل کو خاطر میں لائے بغیر بھر پور ولولے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ کیپٹن وقاص سمیع نے پہاڑی کی چوٹی پر واقع پُرانی چنار پوسٹ پر پہنچتے ہی تازہ ترین صورت حال اور علاقائی معلومات دینے کے ساتھ ساتھ مزید احکامات کے لئے اپنے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم سے رابطہ کیا۔ ونگ کمانڈر کی طرف سے آگے بڑھتے رہنے کی ہدایت ملنے پر انھوں نے کیپٹن اسلام شہزاد اورکیپٹن وقاص سے باہم رابطہ رکھتے ہوئے مختلف اطرا ف سے ڈھیرئی بانڈہ کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔ وہ راستے میں پڑنے والی ہرغار اور کھائی کی تلاشی لیتے ہوئے نہایت محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے تھے۔ ڈھیرئی بانڈہ سے کوئی 500 میٹر پہلے کیپٹن اسلام شہزاد نے وائرلیس پر کیپٹن وقاص سے رابطہ کیا اور انہیں بالمشافہ مشاورت کے لئے رُکنے کی درخواست کی ،دراصل وہ بہت سے ایسے سوالوں کا جواب چاہتے تھے جو کیپٹن اسلام سے بہتر کوئی نہ دے سکتا تھا۔ کیپٹن اسلام شہزاد اپنے ہاتھوں میں نقشہ تھامے کافی گہری سوچ میں گم تھے، انہوں نے کیپٹن وقاص کو گاؤں ڈھیرئی بانڈہ اور دیگر اہم علاقوں کے علاوہ تین ایسے احاطے دکھائے جن میں دہشت گردوں کی موجودگی یقینی تھی ۔ اس موقعے پر ونگ کمانڈر کی ہدایات بھی مسلسل موصو ل ہورہی تھیں۔ ونگ کمانڈر نے واضح طور پر حکم دیاتھا کہ علاقے سے پکڑے جانے والے12 سال سے زائد عمر کے ہر مشکوک شخص کی مکمل چھان بین کی جائے اور یہ کا م کیپٹن وقاص کے ذمے لگایا گیا تھا۔ دن کے تقریبًا سوا بارہ بج رہے تھے کہ اچانک فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اُٹھی۔ یہ گولیاںیقینادوستانہ فائر نہیں تھا، گویا دہشت گرد وں نے بھرپور مقابلے کا اعلان کر دیا تھا۔ کیپٹن وقاص اور کیپٹن اسلام نے آپس میں رابطہ کیا تومعلوم ہوا کہ اپنے سولجرز ان گولیوں کی زدمیں تھے۔ دونوں نے فوراً اپنے جوانوں کو پوزیشنیں سنبھالنے کا حکم دیا اور ونگ کمانڈر کو تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ دیر سکاؤٹس کا ایک جوان پاؤں پر گولیوں کی بوچھاڑ سے شدید زخمی ہو چکاتھا ،خون تیزی سے بہہ رہا تھا اور فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ جرأت مند کیپٹن نے اپنے ونگ کمانڈر کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر زخمی سپاہی کو پیچھے لانے کے لئے جا رہا ہے۔ صُورتِ حال سے یہ تو آ شکار تھا کہ زخمی سپاہی یقینًا دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں تھا اور انہوں نے اس پر نظر بھی رکھی ہو گی۔ ایسے میں فائرنگ کی سمت پیش قدمی کا فیصلہ صرف کیپٹن حافظ اسلام شہزاد جیسے نڈر اور باہمت آفیسر ہی کر سکتے تھے۔ ونگ کمانڈر نے کپتان کے عزم کو دیکھتے ہوئے ہدایت کی کہ کیپٹن اسلام اور کیپٹن وقاص دونوں ایک دوسرے کی کمک میں دہشت گردوں کے مصدقہ ٹھکانے کی طرف پیش قدمی کریں۔ پُر خار اور دُشوار گزار پہاڑی پرعمودی سمت میں20 منٹ کی مسلسل پیش قدمی کے بعد دونوں آفیسرز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کی جانب دو مخالف سمتوں سے پتھروں اور درختوں کی آڑ میں گھیراتنگ کرنا شروع کردیا۔ وہ جگہ جہاں سے فائرنگ کی گئی تھی اب صرف 200گز کے فاصلے پر تھی اور امکان تھا کہ دہشت گرد بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ فائرنگ کے علاقے میں نائب صوبیدار شاہ پسند پہلے ہی آڑ لے کر پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے۔ صوبیدار شاہ پسند نے ہی بتایا تھا کہ اپنے تین لوگوں کو گولیاں لگی تھیں جِن میں ایک جونئر کمیشنڈ آفیسر بھی شامل تھے ۔زخمی سپاہی شاہد(جو بعد میں شہاد ت کا درجہ پا گیا) چیخ چیخ کر دہشت گردوں کے مقام کی نشاندہی کر رہا تھا۔ دوسرے دو زخمیوں میں صوبیدار شاہ زمان اور سپاہی آفتاب تھے جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے ۔ اب کیپٹن حافظ اسلام شہزاد اور کیپٹن وقاص نے اپنے ونگ کمانڈر اور کمانڈنٹ کو اعتماد میں لیتے ہوئے دہشت گردوں کے گڑھ پر فیصلہ کن ہلہ بولنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ زمین کے نشیب و فراز اور نقل و حرکت کی دشواری کا اندازہ کرتے ہوئے دونوں آفیسرز نے صرف 5-5 جوانوں کے گروپ کو ساتھ لیا اور بالائی سمت سے اپنے ہدف سے قریب تر ہونے لگے۔ یہ کوئی ایک بجے کا وقت تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دہشت گردوں کی طرف سے شدید فائرنگ ہونے لگی ۔ کیپٹن اسلام شہزاد ہراول گروپ کی قیادت کر رہے تھے جبکہ دوسری سمت سے کیپٹن وقاص کا گروپ ہدف کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اسی اثناء میں ونگ کمانڈر نے بھی سپیشل آپریشن گروپ کمپنی کے ہمراہ بر وقت کمک پہنچانے کے لئے پیش قدمی کا آغاز کر دیا تھا۔ کیپٹن وقاص اور کیپٹن اسلام کو اب شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔ فائرنگ کے اس شدید تبادلے میں کیپٹن اسلام شہزاد بائیں جانب سے ہوتے ہوئے ہدف کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔ کیپٹن وقاص بھی بلا تامل دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر رہے تھے۔ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم اب ایسے مقام تک پہنچ چُکے تھے جہاں سے وہ اپنے دونوں ہراول دستوں کو دیکھ سکتے تھے۔ البتہ دہشت گرد ایسے انداز میں مورچہ بند تھے کہ انہیں براہ راست دیکھنا دُشوار تھا۔ ہراول دستوں کا ہدف سے فاصلہ اب 25میٹر سے بھی کم تھا۔

صُورتِ حال سے یہ تو آ شکار تھا کہ زخمی سپاہی یقینًا دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں تھا اور انہوں نے اس پر نظر بھی رکھی ہو گی۔ ایسے میں فائرنگ کی سمت پیش قدمی کا فیصلہ صرف کیپٹن حافظ اسلام شہزاد جیسے نڈر اور باہمت آفیسر ہی کر سکتے تھے۔ ونگ کمانڈر نے کپتان کے عزم کو دیکھتے ہوئے ہدایت کی کہ کیپٹن اسلام اور کیپٹن وقاص دونوں ایک دوسرے کی کمک میں دہشت گردوں کے مصدقہ ٹھکانے کی طرف پیش قدمی کریں۔ پُر خار اور دُشوار گزار پہاڑی پرعمودی سمت میں20 منٹ کی مسلسل پیش قدمی کے بعد دونوں آفیسرز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کی جانب دو مخالف سمتوں سے پتھروں اور درختوں کی آڑ میں گھیراتنگ کرنا شروع کردیا۔

کیپٹن اسلام شہزاد اور ان کے ساتھی اب دہشت گردوں کی گردن دبوچنے کے لئے بیتاب تھے۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو نجانے کب سے اس لمحے کا انتظار تھا، وہ ایک حافظِ قُرآن تھے اور انھیں اس بات کا شدید دُکھ تھا کہ دہشت گردوں نے کِس طرح اسلام ، مدرسے اور جہاد کے نام کو بدنام کیا تھا۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو عرصے سے اس لمحے کا انتظار تھا کہ جب ایسے خارجی اور منافق کی گردن ان کے ہاتھوں کی گرفت میں ہو اور وہ اُسے بتائیں کہ اللہ کی راہ میں لڑنے اور زمین میں فتنہ و فساد بپا کرنے میں کیا فرق ہے!

کیپٹن اسلام شہزاد اور ان کے ساتھی اب دہشت گردوں کی گردن دبوچنے کے لئے بیتاب تھے۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو نجانے کب سے اس لمحے کا انتظار تھا، وہ ایک حافظِ قُرآن تھے اور انھیں اس بات کا شدید دُکھ تھا کہ دہشت گردوں نے کِس طرح اسلام ، مدرسے اور جہاد کے نام کو بدنام کیا تھا۔ کیپٹن اسلام شہزاد کو عرصے سے اس لمحے کا انتظار تھا کہ جب ایسے خارجی اور منافق کی گردن ان کے ہاتھوں کی گرفت میںہو اور وہ اُسے بتائیں کہ اللہ کی راہ میں لڑنے اور زمین میں فتنہ و فساد بپا کرنے میں کیا فرق ہے

jo_chaly_to2.jpg

حافظ اسلام شہزاد دراصل مادرِ وطن کاایک ایسا ہونہار اور تابع فرمان بیٹا تھا جس نے نو سال تک وطنِ عزیز کی خدمت بطور سپاہی انجام دینے کے بعد تین سال قبل بطور کیپٹن کمیشن حاصل کیا تھا ۔وہ ایک سادہ لوح اور ان پڑھ رکشہ ڈرائیور کے بیٹے تھے۔ اسلام شہزاد کے والد فضل الٰہی نے سال ہا سال کی مزدوری کے بعد اپنے بیٹے کے کندھے پر سجے پھول دیکھے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ ان کے حافظ بیٹے کیپٹن اسلام شہزاد نے کمیشن حاصل کرنے کے بعد بوڑھے باپ کو جسمانی مشقت سے منع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ اپنے والدکی جی بھر کے خدمت کرنا چاہتے ہیں اور چند ماہ قبل گھر ملنے پرانہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے ماں کا سایہ تو آٹھ سال پہلے سر سے اُٹھ گیا تھا۔تب وہ ایک سپاہی تھے ۔سن 2000میں میٹرک کیا تو سب سے پہلے علاقے کے قاری دلاور مفتی کی شاگردی میں ایک سال سے کم عرصے میں حفظ کی منازل طے کر کے اپنے سینے میں قرآن حکیم کے نور کو محفوظ کیا اور پھر اپنے غریب باپ کی مشقت دیکھتے ہوئے بطور سپاہی فوج میں بھرتی ہو گئے۔ بنیادی تربیت مکمل کر کے پاک فوج کی مایہ ناز یونٹ 28 میڈیم رجمنٹ آرٹلری میں پہنچے تو بطور سپاہی ایسے باکمال ٹھہرے کہ ہر کوئی رشک کرے، آفیسرز اورجوان سبھی ان کے گرویدہ تھے۔ہرفن مولا اور ہر کام میں پیش پیش! فائرنگ کا مقابلہ ہو یا دیگر تربیتی سرگرمیاں، وہ ایک وقت میں بہترین نشانہ باز، اپنی یونٹ کے مقابلوں میں ہمیشہ اول، مسجد میں تراویح کی نماز پڑھانی ہو تو پیش امام ،جب ڈیوٹی سے فراغت ملتی تو رات رات بھر تعلیم کے مدارج طے کرتے۔ 2007 ء میں جب والدہ بھی چل بسیں تو اسلام شہزاد کی سنجیدگی مزید بڑھ گئی۔ تعلیم مکمل کی اور جب پاک فوج نے ایک موقع فراہم کیا تو23 اکتوبر 2011 میں بطور کمیشنڈ آفیسر فر نٹئیر کو ر خیبر پختونخوا میں جا پہنچے۔ اُن کی پہلی تعیناتی ٹوچی سکاؤٹس میں تھی جبکہ اکتوبر 2013 میں اُن کی پوسٹنگ دیر سکاؤٹس میں ہو گئی۔ شہادت کے عظیم مرتبے تک پہنچنے کا وقت آیا تو وہ دیر سکا ؤٹس کے 181 ونگ زیرِ کمان باجوڑ سکاؤٹس میں بطورِ ونگ ایڈجوٹنٹ اپنی ذمہ داریا ں نبھا رہے تھے ۔ 2007 میں اُن کی ماں نے اپنی زندگی میں بڑے ارمانوں سے اپنے بیٹے کا نکاح اپنی بھانجی گُلشن نورین سے کرا دیا تھا لیکن ابھی رُخصتی کرا کے بہو کو گھر نہ لا سکی تھیں کہ اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ ماں نے اپنے بیٹے کے سر پہ سہرا سجادیکھا تھا نہ اس کے کندھے پر چمکتے ستارے !

ادھر کیپٹن اسلام دستی بموں اور مشین گن سے آگ برساتے ہوئے دہشت گردوں کے سر پر پہنچ گئے تھے۔وہ انسانیت کے ان دشمنوں کو انھیں کے مورچوں میں نشانہ بنا رہے تھے۔ عین اسی لمحے دہشت گردوں کے ایک چھپے ہوئے سنائپرنے ہراول دستے کے پُر جوش اور بپھرے ہوئے شیر کو تا ک کر پیشانی پر نشانہ لگایا۔ یوں جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے اللہ کے اس شیر کی آخری جست بھی دہشت گردوں کی کمین گاہ کے دہانے پر تھی۔ کلمۂ شہادت کے ورد میں رطب اللسان کیپٹن حافظ اسلام شہزادشہید کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہو چُکی تھی وہ متعدد بار اپنی خوشدامن کو کہہ چُکے تھے کہ " خالہ دُعا کرو میں شہید ہو جاؤں" ۔ محلہ مفتیاں، تحصیل دینہ ضلع جہلم کے ایک ر کشہ ڈرائیور فضل الٰہی کا بیٹا شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہو چکا تھا

19 جنوری 2015 کی صبح 5 بجے کیپٹن حافظ اسلام شہزاد نے دھیرے سے ابا کے کمرے میں جھانک کر پوچھا ، ’’ابا جی کیا آپ جاگ رہے ہیں؟ ‘‘ خلافِ معمول کیپٹن اسلام شہزاد نے اُنہیں ایک چٹ پکڑاتے ہوئے مطلع کیا کہ اُن کے ذمے آفیسرز میس کے25 ہزار روپے واجب الادا ہیں جو اُنہوں نے بطورِ قرض لئے تھے۔ ابا خاموش رہے۔ بیٹاجب راہِِ عدم کو سدھار رہا ہو تو باپ بھلا کیسے سو سکتا تھا ،بے تابی میں اٹھ کر بیٹھ گئے اور بس خالی خالی نظروں سے بیٹے کو جاتے ہوئے دیکھتے رہے، البتہ زیر لب ڈھیروں دعائیں تھیں جو ہر سانس میں بیٹے کی سلامتی و ثابت قدمی کے لئے جاری رہتی تھیں۔ کیپٹن حافظ اسلام نمازِ فجر ا دا کرنے کے بعد اپنے مِشن کے لئے روانہ ہوگئے۔ دراصل آج وہ والد کی شفقت سمیٹ کر کسی بہت بڑے کام کے لئے عازمِ سفر ہُوئے تھے۔۔۔ اور اب دس گھنٹے کی تگ و دو کے بعد وہ منزل سامنے تھی ۔ وہ پاکستان اور انسانیت کے دشمنوں کو بہ نفسِ نفیس جہنم واصل کرنے والے تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے کیپٹن سید وقاص سمیع اس مرحلے پر ان کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ دونوں آفیسرز نے اپنے جوانوں کے ہمراہ دہشت گردو ں کے گڑھ پر ہلہ بول دیا۔ کیپٹن اسلام اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے سب سے پہلے ہدف پر جھپٹے۔ ایسے میں کیپٹن سیدوقاص سمیع نے اسلام شہزاد کو قدرے احتیاط برتنے کا مشورہ بھی دیا کیونکہ دہشت گردوں کی طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ انتہائی شدید تھی۔لیکن کیپٹن اسلام شہزاد نے دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا اور اس مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ کرنے کوتیا ر نہ تھے۔ یہ الگ بات کہ خود کیپٹن وقاص نے بھاگتے ہوئے دہشت گردوں کے تعاقب میں کوئی 20 فٹ گہرے نالے میں چھلانگ لگا دی تھی جس سے ا ن کی ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا۔ ادھر کیپٹن اسلام دستی بموں اور مشین گن سے آگ برساتے ہوئے دہشت گردوں کے سر پر پہنچ گئے تھے۔وہ انسانیت کے ان دشمنوں کو انھیں کے مورچوں میں نشانہ بنا رہے تھے۔ عین اسی لمحے دہشت گردوں کے ایک چھپے ہوئے سنائپرنے ہراول دستے کے پُر جوش اور بپھرے ہوئے شیر کو تا ک کر پیشانی پر نشانہ لگایا۔ یوں جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے اللہ کے اس شیر کی آخری جست بھی دہشت گردوں کی کمین گاہ کے دہانے پر تھی۔ کلمۂ شہادت کے ورد میں رطب اللسان کیپٹن حافظ اسلام شہزادشہید کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہو چُکی تھی وہ متعدد بار اپنی خوشدامن کو کہہ چُکے تھے کہ " خالہ دُعا کرو میں شہید ہو جاؤں" ۔ محلہ مفتیاں، تحصیل دینہ ضلع جہلم کے ایک ر کشہ ڈرائیور فضل الٰہی کا بیٹا شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہو چکا تھا

کیپٹن حافظ اسلام شہزاد اور ان کے ساتھیوں کی قربانی سے دہشت گردوں کا زور ٹوٹ چکا تھا لیکن ان قربانیوں کا اصل ثمر صرف علاقے کی مکمل صفائی کی صورت میں ہی ممکن تھا۔ شام کی روشنی رفتہ رفتہ ماند پڑ رہی تھی، دہشت گردوں کے علاقے سے ابھی تک کیپٹن حافظ اسلام شہزاد شہید، نائب صوبیدار شاہ زمان شہید اور سگنل مین شاہد شہید کے اجسادِ خاکی اٹھانا باقی تھے اور زخموں سے چور کیپٹن وقاص سمیع، سپا ہی آفتاب اور سپاہی نیک عمل کو بھی بروقت طبی امداد کی ضرورت تھی۔ سپاہی آفتاب کو فوراً اٹھا کر طبی امداد دینا اس لئے بھی ضروری تھا کہ ان کی حالت بہت نازک تھی، دراصل کیپٹن حافظ اسلام شہزاد جب پیشانی پر گولی لگنے سے گر ے تو دہشت گردوں کی سراسیمگی ابھی باقی تھی، انھوں نے ایک اور دستی بم زمین پہ پڑے ہوئے شہید پر دے مارا۔اس بم سے قریب کھڑے سپاہی آفتاب کی ران پر ایک بڑا گھاؤ آیااور تیزی سے خون بہنے لگا۔ ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم جو براہِ راست آپریشن کی کمان کررہے تھے اس ساری صورتِ حال سے پل پل آگاہ تھے۔ اب ایک طرف تو سورج غروب ہونے کو تھا اور دوسری طرف دہشت گردوں کی غیر انسانی اور اخلاقیات سے گری ہوئی روایات کا ادراک بھی ونگ کمانڈر کی فکر مندی کا باعث تھا ،جس کے مطابق وہ شہید کے جسد خاکی کی بے حرمتی کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ وقت بہت کم تھا۔ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم نے اس موقع پر ترجیحات کے تعین میں کوئی بھی لمحہ ضائع کئے بغیر سپیشل آپریشن گروپ کمپنی کے میجر احسان اور کیپٹن علی رضا کے ساتھ دہشت گردوں کی آماجگاہ پر ایک بھرپور یلغار کا فیصلہ کیا۔اس حملے میں ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد افراز اسلم اور میجر احسان نے خود راکٹ لانچر اپنے کندھوں پر لئے اورگولے داغتے ہوئے دہشت گردوں کے بنکروں پر چڑھ دوڑے۔ چند ہی منٹ میں انھوں نے ایک ایک دہشت گرد کا چُن چُن کر صفایا کیااور اپنے غازیوں اور شہیدوں کو پورے عزت و احترام سے محفوظ مقام پر پہنچایا۔ واپس پہنچتے ہی شہداء کو فوری طورپر سبز ہلالی پرچم کے لبادے میں اُن کے آبائی شہروں کی طرف پورے تزک و احتشام سے روانہ کیا گیا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لئے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پشاور روانہ کر دیا گیا۔ ڈھیرئی بانڈہ کا علاقہ اب پر امن شہریوں کے لئے محفوظ بن چکا تھا۔ جبکہ محلہ مفتیاں دینہ کے ہر بڑے، بوڑھے، بچے اور جوان کی آنکھیں اور سر فخر سے بلند تھا۔ ان کا اپنا ہم جولی،ہم پیالہ و ہم نوالہ غریبوں میں غریب، حافظوں ، نمازیوں اور ریڑھی بانوں کا دوست اور اہل محلہ کی آنکھوں کا تارا آج سبز ہلالی پرچم میں عسکری گارڈ آف آنر کے ساتھ محلہ مفتیاں میں پورے جا ہ و جلال سے لوٹا تھا۔ پاک فوج کے سپاہیوں کو فخر تھا کہ ان کا ساتھی کمیشن حاصل کرنے کے بعدشہادت جیسے عظیم رتبے پر پہنچ کر تمام سولجرز کے لئے ماتھے کا جھومر ثابت ہوا تھا۔ بہنیں اور بھائی اپنے بھائی کی شان و شوکت دیکھ کر پھولے نہیں سماتے، شہیدکی اہلیہ جو ایک اور اولاد کی امید سے بھی ہیں کے سامنے اگرچہ پہاڑ جیسی زندگی ایک امتحان کی طرح کھڑی ہے لیکن انھیں اپنے شہید رفیق حیات کے نصب العین کی لاج رکھنے کا ادراک ہے۔ چار سالہ حفصہ نور کو شہید کی بیٹی ہونے پر فخر ہے اور تین سالہ محمد حسان کل باپ کے نقش قدم پر چل کر وطن کے تحفظ کی قسم کھا رہا ہے اور باپ کو ناز ہے کہ ان کے بیٹے نے انہیں ایک رکشہ ڈرائیور سے شہید کے والدکے مقام پر فائز کر دیا ہے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Read 5138 times
Rate this item
(0 votes)

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter