(کیپٹن عاصم نے 10 فروری 2010 کو جامِ شہادت نوش کیا)

فروری 2015 میں عاصم کو شہید ہوئے پانچ سال پورے ہو گئے۔ ان پانچ سالوں کے ایک ایک دن نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ میں شکرگزار ہوں اپنے رب کی اور ان پانچ سالوں کی جس نے مجھے میری عمر کے تیس سالوں کے باقی 25سالوں سے زیادہ سخت حالات سے گزارا۔ اس پورے وقت کے اتارچڑھاؤ سے مجھے لگا کہ اب میں بہت کچھ سیکھ گئی ہوں اور مجھے اﷲ کے سوا کسی اور کے سہارے کی ضرورت نہیں لیکن۔۔۔

شادی کے ساڑھے تین سالوں میں تو میں نے صرف شوہر کا پیار ہی دیکھا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرا کام صرف شوہر کے لئے اچھے اچھے کھانے پکانا۔ صبح صبح اُن کے لئے ملک شیک بنانا۔ یونیفارم‘ جرابیں‘ مفلر‘ ٹوپی‘ چیک لسٹ اور گاڑی کی چابی لا کر دینا اور جب تیار ہو جائیں تو گھر کے ٹیرس سے اُن کو آفس جاتے ہوئے دیکھنا۔ میاں کی ضروریات کا خیال رکھنا‘ ان کو میسج کرنا‘ ملازم سے کام کروانا اور ضرورت کی چیزیں منگوانا جبکہ شوہر کا کام تنخواہ لا کے ہاتھ میں رکھنا اور کہنا بیگم اب پورا مہینہ اس سے چلانا ہے۔ ان کے ساتھ جا کر گھریلو خریداری کرنا اور ڈیوٹی سے آنے کے بعد گھر کی Maintenance کی لسٹ پکڑا دینا۔ NCB کی شکایت لگا کر اس کے کان کھنچوانا اور اس کونظم و ضبط سمجھانا۔

اُن ساڑھے تین سالوں میں کوئی لڑائی تو یاد ہی نہیں۔ ویک اینڈ پہ فلم اور پیزا لا کر مووی نائٹ منانا۔ ذرا پہلے آ جاتے تو جوس پینے چلے جانایا پھر آئسکریم کھانا۔ اسی کو دنیا کی سب سے بڑی خوشی سمجھنا تھا۔ زیادہ پیسوں کے بارے میں تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا نہ مانگے تھے۔ صرف ایک دوسرے کے ساتھ گزارے گئے تنخواہ والے دن سے بہتر سمجھتے تھے۔ سالگرہ کا تحفہ ایک دوسرے سے ضرورت کی چیز پوچھ کر دیتے تھے۔ وہی بہترین Surprise ہوتا تھاجب اﷲ سے کوئی چھوٹی چیز مانگی ہوتی تھی اور وہ سالگرہ کے تحفے کی صورت میں مل جاتی تھی۔ ابھی تو ساڑھے تین سالوں میں بچت کے بارے میں سوچا نہیں تھا۔ پھر یہ پانچ سال شروع ہو گئے‘ جب پہلے ہی سال میں رشتے سمجھ میں آ گئے۔ اپنا اور پرایا‘ دوست اور تماشائی کا فرق سمجھ میںآیا۔ پہلے ہی سال میں شفٹنگ کا بوجھ‘ پھر تنہا گھر سیٹ کرنا۔ اُس دن بڑا روئی تھی جس دن اے سی لگوانا تھا۔ میں جب اپنے MOQگئی تھی تو گھر سیٹ اور اے سی لگا ہوا ملا تھا۔ سب کہتے تھے یوں ہی پریشان ہوتی ہو‘ یہ تو الیکٹریشن کا کام ہے‘ بلواؤ اور وہ اپنا کام کر دے گا۔ میری ذہنی پریشانی تو فضول ہی لگتی تو میں خاموش رہ گئی۔ یو پی ایس لیا‘ بیٹری لی‘ گھر سیٹ کیا‘ اُس کے بعد کار لی‘ سب کہتے تھے ہر کوئی لیتا ہے۔ اس میں پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں ۔ مجھے علم ہے کہ صرف پیسے دے کر گاڑی گھر نہیں آ جاتی‘ پورا پروسس ہوتا ہے۔ جاب شروع کی‘ بل جمع کرانا‘ گھر اکیلے چلانا سیکھا تو پانچ سال پورے ہوئے۔ اب وقت آ گیا کہ NCBاور فلیٹ واپس کر دوں۔ کیا کوئی ملازم رکھوں؟ کسی پہ اعتبار کر سکتی ہوں؟ یہ میں تو اپنی ذمہ داری پر رکھوں گی‘ کوئی گارنٹی نہیں دے گا۔ اچھا ہے نہ رکھوں گزارا ہو جائے گا۔ لیکن وقت بے وقت ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کیا مکینک کے پاس خود جاؤں گی؟ الیکٹریشن‘ پلمبر خود ڈھونڈوں گی یا کسی پر بوجھ بنوں گی؟ یہ بیڈ روم اور کرسیاں ان کو بہت پسند تھیں۔ یہ پھول MOQ میں پہلے دن شفٹ کیا تھا تو وہ لے کر آئے تھے۔ یہ قالین ہم دونوں نے مل کر خریدے تھے اور ڈائننگ ٹیبل پر اکٹھے کھانا کھاتے تھے۔ یہ Wooden Floor Lamp اپنی پہلی بچت سے لی تھی اور یہ ہوم تھیٹر ہم نے کریڈٹ کارڈ سے لیا تھا۔ ان کا گٹار میں نے اپنی Teaching کی تنخواہ میں سے ان کو گفٹ کیا تھا۔ ان کو گٹار بہت پسند تھا اور یہ ڈریسنگ ٹیبل‘ اس میں ہم صبح ساتھ تیار ہوتے تھے لیکن یہ چیزیں تو میں سوچ رہی ہوں کیا کوئی اور بھی میری طرح سوچتا ہو گا۔ یہ چیزیں سن کر شاید لوگ میرا مذاق اڑائیں۔ میں تو دنیا کے سامنے بہت مضبوط عورت ہوں۔ مجھے تو لگتا تھا کہ میں نے اکیلے رہنا سیکھ لیا اور کوئی بھی کام مشکل نہیں لیکن آج مجھے ایسے لگتا ہے کہ پانچ سال بعد میں پھر اس جگہ آن کھڑی ہوئی ہوں‘ اسی جگہ کھڑی ہوں جہاں سے بہت سے راستے نکلتے ہیں لیکن مجھے نہیں پتا کس راستے پر جاؤں‘ لوگ کہتے ہیں یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔

Read 4300 times
Rate this item
(0 votes)

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter