یوں تو ہر دن اپنی انفرادی آب و تاب سے ۔۔۔ طلوع ہوتا ہے۔ مگر23 مارچ کا دن پوری تاریخ کا چہرہ لئے طلوع ہوتا ہے۔ اس چہرے پر سارے نقش و نگار‘ شہیدوں کے لہو سے بنے ہوتے ہیں۔۔۔ وہ سارے شہید جن کے لہو میں پاکستان کا مطلب کیا لااِلٰہ الا اﷲ موجزن تھا۔۔۔۔ اور وہ سارے شہید جو گلیوں میں گریباں چاک کرکے واویلا کرتے تھے۔ لے کے رہیں گے پاکستان ۔۔۔ اوروہ سارے شہید جن کے جسموں کے کٹے اعضا گاڑیاں بھر بھر کے پاکستان کی سرزمین پر پہنچ گئے۔ اور جن کے زخموں سے ابھی تک خون کے قطرے رِس رہے تھے اور کہہ رہے تھے ہم پاکستان کے نقشے میں جذب ہونے کے لئے آئے ہیں۔۔۔ ان لکیروں میں ہمیں سمولو۔۔۔ اور جن کے لہو کی برکتوں سے پاکستان پھلتا پھولتا رہا اور بڑھتا رہا۔۔۔ پھر 23 مارچ کے چہرے پر65ء کی جنگ کے شہدا ء کے نقش اُبھرتے ہیں۔۔۔71 کی جنگ کے روپ نکھرتے ہیں۔۔۔ اوروہ سارے شہداء جو پاکستان کی آن بان اور حریت و استقامت کے لئے شہید ہوتے رہے۔۔۔ 23 مارچ کی صبح 31  توپوں کی سلامی کے اندر ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔۔۔ ان توپوں کی سلامیوں کے اندر ان کے دل دھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دل۔۔۔ جو زندہ دلی کی علامت تھے‘ جو زندہ رہنے کے لئے آئے تھے۔ مگر جو اپنے ملک اور ملت پرقربان ہوگئے۔۔۔

جوں جوں 23 مارچ کا دن اُبھرتا ہے۔۔۔

توں توں شہیدوں کا چہرہ نکھرتا ہے۔۔۔

وہ ہمارے محسن‘ ہمارے گواہ ۔۔۔ ہماری خوشیوں کے امین‘ ہماری سرحدوں کے محافظ ہیں‘ دن کی ایک ایک گھڑی میں نظر آنے لگتے ہیں۔ جب ہم مختلف قسم کے دور مار‘ اور دیر تک مار کرنے والے میزائلوں کا نظارہ کررہے ہوتے ہیں‘ جب ہم اپنی زمین کے اوپر شاہین اول‘ شاہین دوم۔۔۔ غوری ‘ ابدالی‘ غزنوی کو پلٹتے جھپٹے دیکھتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات پلٹتے دیکھتے ہیں۔۔۔

جب ملکی ساختہ جے ایف17 تھنڈر کی گونج اُبھرتی ہے۔۔۔ جب ہوا باز ایف سولہ کے ساتھ جرأتِ رندانہ کا نقشہ بناتے ہیں۔جب فضائیہ کے جانباز عقاب آسمان کے اوپر ایک اور آسمان نقش کردیتے ہیں۔ جب وہ ہواؤں کو قابو میں کرکے فضا کے بادشاہ بن جاتے ہیں تو ہم حیران ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے لختِ جگر ہیں‘ ہمارا فخر ہیں۔۔۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کوئی ماں آنکھ نہیں جھپکتی۔۔۔ کسی باپ کی آنکھ نہیں جھکتی۔۔۔ نوجوان ان کے ساتھ محوِ پرواز ہوجاتے ہیں۔۔۔ یہ ہماری ملکی ایجادات جن کا مظاہرہ 23 مارچ کے دن ہوتا ہے۔ ٹینک‘ میزائل بکتر بند گاڑیاں‘ توپخانے‘ براق ڈرون یہ ہمارے ماہرین کے فنکی نمود ہیں۔۔۔ ایک کے بعد ایک ایجاد زندہ قوم کی کہانی بیان کرتی آگے بڑھتی ہے۔

ajeb_cheez_hay1.jpg

یہ معجزے فن کی کہانی بیان کرتے ہیں۔

اور جب ملکی و صوبائی کلچر کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف فلوٹس سامنے سے گزرتے ہیں تو پورا پاکستان ہنستا مسکراتا سامنے سے گزرنے لگتا ہے۔ فوجی پریڈ سے سارا ملک جاگتا ہے۔۔۔ دل جاگتے ہیں‘ ضمیر جاگتے ہیں‘ ذہن جاگتے ہیں۔ دنیا انگشت بدنداں ہو جاتی ہے۔ زمین ان کے قدموں کے ساتھ چلتی ہے۔ اُفق ان کے قدموں کو شمار کرتا ہے۔ سارا ملک ان کو سننے پہ اصرار کرتا ہے۔۔۔

کیا نغمگی ہے‘ ان کے دھمک دیتے قدموں کے اندر۔۔۔

یہ قدم منازل کا تعین کرتے ہیں۔۔۔

اور منازل ان کا انتظار کرتی ہیں۔۔۔ تکرار کرتی ہیں۔

ہماری نئی نسلوں نے23 مارچ کے مناظر سات سال کے وقفے سے دیکھے۔۔۔

یہ وقفہ بے جواز نہیں تھا۔

مگر اب پاکستان میں ایک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے۔۔۔ ضربِ عضب کے شہیدوں نے اس کے ماتھے پر طلوع لکھ دیا ہے۔

جب سپہ سالار حوصلوں کا سائبان بن کر ابھرتا ہے تو عسکری قوتوں کو نئی توانائی اور نئی رعنائی نصیب ہوتی ہے۔

نئی نسل کے بچے ہوائی عقاب کو دیکھ کر اڑان میں بھرتی ہونے کی تمنا کرتے ہیں۔۔۔ سمندروں کے مجاہد دیکھ کر پانیوں کو فتح کرنے کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔ بھاری ٹینک اور توپ خانے دیکھ کر انہیں احساس ہوتا ہے انسان کتنا بڑا ہے۔۔۔۔۔۔

ارے انسان ہر حادثے سے بڑا ہے۔

انسان ہر محاذ سے بڑا ہے۔

دو نیم ان کے ٹھوکر سے دریا و صحرا

ajeb_cheez_hay2.jpg

سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی !

پورے ملک کا چہرہ سرخوشی سے روشن ہوگیا۔ جب تزک و احتشام کے ساتھ اس مرتبہ 23 مارچ کا دن منایا گیا۔۔۔۔

اس دن سارے شہید یاد آئے۔۔۔۔

سارے پھول ہم نے ان کے نام پر چڑھائے۔۔۔

سارے جذبے ان کی نذر کئے۔۔۔

جن کی وجہ سے یہ زمین امن کا گہوارہ بنی ہوئی ہے۔ جنہوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اس پھول سی زمین کے اندر سے ایک ایک کانٹا چن کر نکال دیں گے۔

اس دن قائدِاعظم محمدعلی جناح بھی بہت یاد آئے۔۔۔

انہوں نے ایک دن کہا تھا۔۔۔

’’خود کو اتنا طاقتور بنا لیں کہ کوئی قوت ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھنے کی جرأت نہ کرسکے۔۔۔۔۔۔‘‘

خود کو طاقتور بنانے کے لئے تزکیۂ نفس کی ایک منزل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور تم جانتے ہو ایک غازی اور ایک شہید کس طرح تزکیۂ نفس کی منزل سے گزرتا ہے‘ جان ہتھیلی پر رکھ کے اور جگر کو دیا بنا کے۔۔۔

پھر قائدِاعظم کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔

’’۔۔۔ اگر کبھی پاکستان کی حفاظت کے لئے جنگ لڑنی پڑے تو کسی صورت میں ہتھیار نہ ڈالیں اور پہاڑوں‘ جنگلوں‘ میدانوں اور دریاؤں میں جنگ جاری رکھیں۔۔۔‘‘

 23  مارچ کے روز ۔ اے قائدِاعظم! تیرے بیٹے اسی عزم کا اظہار کرنے کے لئے فلک تا ارض اپنے ارادوں کا اظہار کررہے تھے۔

پھر ایک دن حضرت قائداعظم نے برملا کہہ دیا: اب پاک فوج کو اس پاک سرزمین پر اسلامی جمہوریت‘ اسلامی معاشرتی انصاف اور انسانی مساوات کے اصولوں کے احیاء اور فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا۔

 23مارچ کی پریڈ میں قائداعظم کے بیٹوں نے ایک بار پھر اس عزم کو دہرا دیا اور صاف کہہ دیا: دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ ’’ہم کو‘‘ عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

Read 4260 times
Rate this item
(0 votes)

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter