اوجِ کمال ہے صراطِ دانش کو

Published in All Most Read Urdu

تاریخ عالم پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو معلو م ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام اقوام نے علم و اخلاق کی بنیاد پر ترقی کی منازل طے کیں۔ علم انسانی ذات کا خاصہ اور انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا واحد سبب ہے پس علم کا اصل مقصد بھی تہذیب النفس ہے جن معاشروں میں علم و شعور کی روش نہیں پائی جاتی وہ معاشرے عموما اعلی اخلاقی صفات سے محروم ہوتے ہیں۔ آج وطنِ عزیز میں دیگر بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ جس بنیادی اوراہم مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ دراصل قومی دانش ہے ۔

دانش کیا ہے؟

انسانی ذات دراصل دو بنیادی عناصرکا مرکب ہے ایک شعور اور دوسرا مادہ، شعور وجود ہے اورمادہ موجود،موجو د حواسِ خمسہ کی گرفت میں آ سکتا ہے جبکہ وجود نہیں آ سکتا، شعور انسان کو ضبط فراہم کرتا ہے جبکہ وجود حیات کی پرورش کرتاہے۔ چنانچہ دنیا میں تمام تر نظم و ضبط شعورہی کی بنیاد پر قائم ہے شعوروہ الوہی ذکاوت ہے جس نے انسان کو افلاک کی پراسرار دنیا سے آگا ہ کیا۔ انسان کی تمام تر فکری ، معاشی اورمعاشرتی جدوجہد کا واحد محور شعور ہی ہے اسی شعور کا مظہر دانش کہلاتا ہے۔ دانش انسان کے حیوانی وجود کی آبیاری کرتی ہے۔ انسانی نفس میں موجود تمام تر آلائشوں کو رفع کرکے انسان کو الوہی صفات سے مزین کرتی ہے کیونکہ رویہ انسانی جذبات کی عملی شکل ہے اور اس شکل کو دانش ہی مہذب کرتی ہے۔ انسانی جذبہ ایک بے لگام قوت ہے جسے تمدن پر آمادہ کرنے والی چیز صرف دانش ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن اقوام میں شعوری روش پائی جاتی ہے وہ تہذیب و تمدن کے لحاظ سے اعلی اقدار کی مظہر ہوتی ہیں کیونکہ قدر نظم ہے اور دانش نظم کی پاسدار ہوتی ہے۔ اگر دانش بیدار ہو تو بہترین نظام ہائے زندگی مرتب کئے جا سکتے ہیں۔ ایسے نظام جو ایک انسان کو معاشی ، معاشرتی اور روحانی اوج پر متمکن کر سکتے ہیں۔

انسان جذبات کے حصار میں مقید ایک حیوان ہے جو ابتدائے آفرینش سے جذبات کے ہاتھوں پامال رہا۔ جذبہ ایک غیر مرئی قوت کا نام ہے جس کا اظہار رویہ کرتا ہے۔ رویہ اگر غیر متوازن ہو تو نظامِ حیات درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم و نسق قائم رکھنے کے لئے انسان ہمیشہ سے شعورکو جذبے پر فوقیت دیتا آ رہا ہے۔اگرچہ جذبے کی اہمیت سے اعراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جذبات کے اظہار کے بغیر انسان ایک متحرک مشین کی صورت اختیار کر جاتا ہے‘ اصل مدعا جذبے کی تزئین ہے اور جذبہ کی تزئین صرف دانش ہی کر سکتی ہے۔

دانش اور نظامِ حیات

انسان جذبات کے حصار میں مقید ایک حیوان ہے جو ابتدائے آفرینش سے جذبات کے ہاتھوں پامال رہا۔ جذبہ ایک غیر مرئی قوت کا نام ہے جس کا اظہار رویہ کرتا ہے۔ رویہ اگر غیر متوازن ہو تو نظامِ حیات درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم و نسق قائم رکھنے کے لئے انسان ہمیشہ سے شعورکو جذبے پر فوقیت دیتا آ رہا ہے۔اگرچہ جذبے کی اہمیت سے اعراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جذبات کے اظہار کے بغیر انسان ایک متحرک مشین کی صورت اختیار کر جاتا ہے‘ اصل مدعا جذبے کی تزئین ہے اور جذبہ کی تزئین صرف دانش ہی کر سکتی ہے۔ اگر جذبات کی تزئین ترک کر دی جائے تو انسان کو کسی ایک مرکز پر قائم رکھنا محال ہوگا اور نظام کی وقعت ختم ہوجائے گی۔ چنانچہ انسان ایک بے لگام متحرک قوت بن کر انسانیت کا تیا پانچہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ حالانکہ دنیا کا کوئی مذہب یا ضابطہ نہ تو برائی کی طرف راغب کرتا ہے اور نہ ہی انسان کو بے لگام حیوان بننے کی اجازت دیتا ہے کیونکہ مذہب تو نام ہی دراصل تہذیب کا ہے یعنی تہذیب انسانی جذبات کی ، دنیا کے تمام مذاہب نے انسانی رویوں میں توازن پیدا کرنے کی تلقین کی ہے تاکہ نظم و نسق قائم رہے۔ اگر ہم بہترین متوازن نظامِ حیات کی بات کریں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے شعور کی شمع جلا کر اپنے جذبات کے تزئین کرنا ہوگی ‘ جذبے کے بجائے دانش کو وقعت دینا ہوگی اور اگر ہم دانش کو وقعت دے کر اِسے بیدار کرنے میں کامیاب ہو گئے تو گویا ہم نے ایک بہترین متوازن نظامِ حیات میں قدم رکھ دیا۔ دنیا میں آج جدید تمدن کی حامل اقوام صرف اورصرف دانش ہی کو وقعت دے رہی ہیں۔ انہوں نے نظم و نسق کے معاملے میں جذبات کو ثانوی حیثیت دے کر اِس کو انسان کی انفرادی صوابدید پر چھوڑدیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج وہ معاشی اور معاشرتی استحکام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کسی بھی قوم کو جب ترقی یافتہ جیسی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے تو اِ س کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ وہ علم و اخلاق کے لحاظ سے ارفع ہے۔ یہ بہترین نظامِ حیات صرف اسی وقت قائم کیا جا سکتا ہے جب دانش بیدار ہو جائے اگر کسی عمل کے سبب جذبہ دانش پر سبقت لے گیا تو نہ صرف نظامِ حیات درہم برہم ہو جائے گا بلکہ اعلی اخلاقی اقدار بھی پائمال ہو ں گی پس ضروری ہے کہ دانش کو جذبات پر فوقیت دی جائے۔

دانش ہمیشہ تجربات ومشاہدات پر مبنی ہوتی ہے کسی عمل کے وقوع کے بعد جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے وہ دراصل تجربہ کہلاتا ہے اور تجربہ ایک مکمل علم ہے جس کی بنیاد پر کوئی بھی نظم یا ضبط ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب مسلّمہ تجربات کی بنیاد پر قانون سازی کی جاتی ہے تو پھرعموماً اختلاف کے مواقع کم ہوجاتے ہیں اور اگر کہیں اختلاف کی گنجائش موجود بھی ہو تو پوری دیانتداری کے ساتھ نئے تجربات کی طرف قدم بڑھایا جاتا ہے ۔

ریاست اور عمومی دانش

عمومی دانش سے مراد دراصل عوامی سطح پر سوچنے سمجھنے کی روش کا وقوع ہے کہ یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ علم و اخلاق سے آراستہ اقوام ہی سیادتِ عالم کی حقدارٹھہرتی ہیں۔ علم سے بڑی طاقت کوئی نہیں انسان تمام تر معاشی ، معاشرتی اور اخلاقی اقدارکا ضامن صرف علم ہی ہے اورعلم سے مراد کوئی مخصوص ضابطہ نہیں بلکہ ایک عالمگیر تجرباتی حقائق کا مطالعہ ہے جس کے وسیلے سے انسان ترقی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ارتقائی بنیاد پر دور کر سکتا ہے ، تعلیم اس وقت تک سود مند ثابت نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ کے اندر غور و فکر کی صلاحیت پیدا نہ ہو جائے محض ڈگریاں حاصل کرنے کا نام تعلیم نہیں۔وطنِ عزیز میں آج جس قدر عمومی دانش کی اہم ضرورت ہے شاید ہی پچھلی دہائیوں میں اتنی اہمیت رہی ہو کیونکہ یہ دور ایک خالص تجرباتی دور ہے جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی اِس نہج پر جا پہنچی ہے کہ جس سے کسی بھی صورت انکار ممکن نہیں۔ ترقی چاہے مادی ہو یا روحانی‘ دانش کی بنیاد پر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انسانی شعور اگر غفلت کا شکار ہو کر جذبات کے نرغے میں آ جائے تو نظامِ حیات کے ساتھ ساتھ ریاستی نظام بھی درہم برہم ہو جاتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ہاں ہر دو سو افراد میں سے صرف ایک شخص عقلی روش کا قائل ہے جس کے بنیادی اسباب دراصل ہمارے ہاں ایک طویل عرصے سے سوچنے سمجھنے کی روش کا ترک کر دینا ہے اور اب تو عالم یہ ہے کہ ہمارا انتہائی پڑھا لکھا طبقہ جسے جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی کہا جا سکتا ہے سوچنے سمجھنے کی روش سے لاتعلق ہو چکا ہے۔ بالفرضِ محال اگر کسی جدید ذہن نے غور وفکر کی راہ اپنا بھی لی تو وہ بھی ایک مخصوص دائرے میں رہ کر سوچنے کو ترجیح دیتا ہے جس سے غور و فکر ایک محدود زاویے میں مقید ہو کر رہ جاتے ہیں۔ فکر ی جمود سے انسانی رویوں میں بھی زبردست جھول آتا ہے انسان ہر چیز کو ایک مخصوص نظر سے دیکھنے کا عادی بن جاتا ہے چنانچہ نظامِ حیات سے لے کر نظمِ اجتماعی تک انسان ایک مخصوص دائرے میں سرگرداں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جدید دنیا سے ہم آہنگی کی بات آتی ہے تو پورا معاشرہ فکری و معاشی اضمحلال کا شکار ہوجاتا ہے اور اِس خلا کو پوراکرنے کی بجائے اپنے مخصوص دائرے کا تحفظ کیا جاتا ہے‘ جس کے نتائج تہذیبی تصادم کی صورت میں سامنے آتے ہیں پھر اس مقام پر دانش کی بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلے کئے جاتے ہیں جس سے صورتحال اور بھی گھمبیر ہو جاتی ہے۔ حالانکہ ہم عرض کر چکے کہ جذبات کو نظم کا پابند کرنا ممکن نہیں کیونکہ جذبات کا تعلق انسان کے انفرادی محسوسات پر ہوتا ہے۔ کسی ایک انسان کا جذبہ دوسرے انسان سے یکسر مختلف ہو سکتا ہے لیکن عمومی دانش میں اختلاف ممکن نہیں۔ کیونکہ دانش ہمیشہ تجربات ومشاہدات پر مبنی ہوتی ہے کسی عمل کے وقوع کے بعد جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے وہ دراصل تجربہ کہلاتا ہے اور تجربہ ایک مکمل علم ہے جس کی بنیاد پر کوئی بھی نظم یا ضبط ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب مسلّمہ تجربات کی بنیاد پر قانون سازی کی جاتی ہے تو پھرعموماً اختلاف کے مواقع کم ہوجاتے ہیں اور اگر کہیں اختلاف کی گنجائش موجود بھی ہو تو پوری دیانتداری کے ساتھ نئے تجربات کی طرف قدم بڑھایا جاتا ہے ۔کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ عوام میں اجتماعی اور انفرادی شعور بیدار کرنے کا اہتمام کرے‘ یہ کام باقاعدہ سرکاری طور سرانجام دینا چاہئے کہا یہ جاتا ہے کہ کسی بھی ریاست کے شہریوں میں دانش بیدار کرنے کا مسلمہ اصول دراصل نصابِ تعلیم میں خرد افروزی پر مبنی سلیبس شامل کرنا ہے اس کے علاوہ ریاست کو چاہئے کہ وہ دساتیر اساطیر کے بجائے خالص دانش کی بنیاد پر مرتب کرے تاکہ کسی مخصوص شخصیت یا گروہ کی فکری اجارہ داری قائم نہ رہ سکے بلکہ ایک جمہوری فکر و نظر کی فضا قائم ہو جائے جدید نظام ہائے سیاست میں جمہوریت کوایک مضبوط سیاسی نظم کی حیثیت حاصل ہے۔ جمہوریت خالص دانش کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا وہ نظمِ اجتماعی ہے جس پر جدید دنیا اعتماد کر چکی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ دانشمندانہ رویہ کا فقدان پایا جاتا ہے اِس لئے ہمارے ہاں خالص جمہوریت فی الحال اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ اپنے ماضی پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلم معاشروں میں تحریکِ اعتزال کے بعد آج تک کوئی قابلِ ذکر عقلی تحریک صحیح معنوں میں نہ پنپ سکی جس کے کئی ایک اسباب بیان کئے جا سکتے ہیں جوکہ یہاں پر بیان کرنا مناسب نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے بانی ایک زیرک سیاستدان اور ذہین و فطین مقنن تھے آپ نے جس معاشرے کی بنیاد رکھی وہ خالص جمہوری اور عقلی بنیادوں پر قائم تھا۔ قرآن کی خالص عقلی تعبیر کی بنیاد پر قانون سازی کے خواہاں بانیِ پاکستان قرآن کی دستوری بصیرت کو معاشرے کی بہتری کی لئے کافی سمجھتے تھے ایک موقع پر آپ سے ایک صحافی نے دریافت کیا کہ آپ ایک الگ ریاست قائم کرنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن اس کا دستور کیا ہوگا تو آپ نے فرمایا ’’ہم کون ہوتے ہیں اس کا دستور وضع کرنے والے اس کا دستور تو چودہ سو سال پہلے قرآن میں بیان کیا جا چکا‘‘۔ ’’بلاشبہ قرآن میں بیان کئے گئے دساتیر آفاقی بصیرت سے ہم آہنگ ہیں بشرطیکہ ہم غور و فکر کی روش اپنا لیں گے۔‘‘ قرآن اپنے مخاطب کو بارہا عقل و شعور استعمال کرنے کی تاکید کرتا ہے چنانچہ افلا یعقلون اور افلاتعقلون کے الفاظ اس بات پر شاہد ہیں کہ قرآن اپنے مخاطب کو عقل و بصیرت کی دعوتِ عام دیتا ہے۔ قرآن خود اِس امر کی تلقین کرتا ہے کہ قرآن پر غور کیا جائے ’’ تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر تالے لگ رہے ہیں‘‘ (سورۃ محمدؐ آیت: 24) وطنِ عزیز میں آج وسائل کی کوئی کمی نہیں بلکہ وسائل کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ وسائل اسی وقت ہی بروئے کار لائے جا سکتے ہیں جب ہم علم و شعور کی روش اپنا لیں گے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم تھیوریٹیکل فزیسٹ ڈاکٹرعبدالسلام کے بعد خال خال ہی قابلِ ذکر شخصیات پیدا کر سکے حالانکہ ہمارے پا س ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ اگر آج ہم فکری روش اپنا لیں تو اپنے تمام تر معاشی و معاشرتی مسائل بخوبی حل کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں آج جس قدر اہم کردار میڈیا ادا کر سکتا ہے شاید ہی اِس کا کوئی متبادل ہو۔ چنانچہ سرکاری و غیر سرکاری میڈیا کو چاہئے کہ وہ ہر قسم کی عصبیت سے بالا ہو کر مل جل کر عمومی دانش کو فروغ دیں کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دورِ اساتیر سے باہر نکل کر اجتماعی طور اپنے آپ کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کریں کہ یہی ترقی کا واحد زینہ ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Read 4264 times
Rate this item
(0 votes)

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter