03
May

تحریر: کیپٹن عدیل شہزاد

نائیک غلام مصطفی (شہید) اور لانس نائیک احسان اﷲ

(شہید)

وطن پاک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ پاک فوج کا ایمان ہے۔ اپنی دھرتی کی خاطر جان قربان کردینا ہمارے سپاہیوں کا فخر‘ قوم کا وقار اور نسلوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ وطن کی پاک مٹی کی قسم کھانے والے یہ عظیم سپوت اپنے لہو سے فرض شناسی‘ بہادری اور عزم و ہمت کی اِک نئی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ یہ جون 2009کی بات ہے کہ جب پاک فوج راہِ نجات اور راہِ راست کی صورت میں انسانیت کے دشمنوں پر قہرِ ذوالجلال بن کر ٹوٹی تھی۔ جب ہر محاذ پر دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی خاطر اس جنگ کا رُخ شہروں اور معصوم لوگوں کی طرف کردیا۔یوں دشمن کے نزدیک اپنے جسم سے بارود باندھ کر باجماعت نماز میں اپنے آپ کو اڑا دینا عین شریعت اور جہادقرار پایا۔ ان دھماکوں اور خود کش حملوں سے ملک کا کوئی کونہ محفوظ نہ رہا۔

 

26 جون2009 کی رات ایک بجے 10 گاڑیوں اور تقریباً 150 جوانوں کی نفری پر مشتمل پاک فوج کا قافلہ مظفر آباد پہنچا اور سفر کی تھکان سے چور جسموں کو نیند کی مہربان وادی نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ رات کے آخری پہر نے طلوعِ آفتاب کی نوید سنائی اور بادلوں کی سفید چادر میں چھپے چاند نے اُفق کو خیرباد کہا۔ صبح سویرے ملگجے اندھیرے اور دھند کی سفید چادر کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دو دہشت گردعقبی دیوار پھلانگ کر بیرک سے متصل ٹریننگ گراؤنڈ میں داخل ہوئے۔ ان کا ہدف ٹریننگ گراؤنڈ میں تربیتی کارروائیوں میں مشغول فوجی جوان تھے جو اس دن جمعہ کی وجہ سے قرآن خوانی میں مصروف تھے۔ اپنا ہدف نہ پاکر دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر بیرک کی طرف بڑھنے لگے جہاں تقریباً ڈیڑھ سو فوجی جوان موجود تھے۔

qaflaejansar.jpg

پینتیس سالہ نائیک غلام مصطفی جب فجر کی نماز ادا کرکے واپس آرہا تھا تو کشمیر کی یخ بستہ ہواؤں نے اُسے شہادت کی نوید سنا دی۔ رب ذوالجلال سے ملاقات کی اُمید نے اس کی روح کو بے قرار کردیا۔ یکایک اُس کی چھٹی حس نے بیرک کی طرف بڑھتے دہشت گردوں کی طرف اس کی توجہ مبذول کی۔ منز لِ مقصود کو اس قدر قریب پا کر اس کی تشنہ رُوح میں بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ نائیک غلام مصطفی نے ڈیوٹی پر کھڑے سنتری لانس نائیک احسان اﷲ کو الرٹ کیا اور مشکوک افراد کو رُکنے کا حکم دیا۔ آواز سُن کر دہشت گرد بوکھلا گئے اور بیرک کی طرف دوڑ لگادی۔ خطرے کی بو پاتے ہی اس شیر کی تمام حسیات چوکس ہوگئیں اور وہ ایک ہی جست میں بھاگتے دہشت گرد پر جھپٹا اور آن کی آن میں اُسے زمین پر گرا دیا۔ وقت اور فاصلے کی کمی کے پیش نظر لانس نائیک احسان اﷲ کو فائر کرنے کی بھی مہلت نہ ملی۔ صورت حال کی نزاکت بھانپتے ہوئے اس نے حاضر دماغی کا ثبوت دیا اور دوسرے دہشت گرد کو دبوچ لیا۔ حق و باطل کی اس جنگ کا دورانیہ کم و بیش دس منٹ پر محیط تھا۔ مگر یہ لمحے نائیک غلام مصطفی کو اس کی مکمل حیات پر بھاری محسوس ہوئے۔ جب دہشت گردوں کو ان دلیروں کی آہنی گرفت سے راہِ فرار نہ ملی تو انہوں نے وہیں اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ مظفرآباد کی خاموش فضا میں ایک بھونچال آگیا اور زمین دھماکے کی شدت سے لرز اٹھی۔نائیک غلام مصطفی اور لانس نائیک احسان اﷲ نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر کئی ماؤں کی گودوں کو اُجڑنے سے بچا لیا اور زخموں اور چوٹوں سے چھلنی جسموں نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔

 

شجاعت اور بہادری کے اس عظیم کارنامے کے اعتراف میں پاک فوج نے انہیں تمغۂ بسالت سے نوازا اور پورے فوجی اعزاز سے آبائی گاؤں ڈسکہ میں سپردِخاک کیا گیا۔ سیالکوٹ کی زرخیز مٹی جسے ارضِ پاک کی آبیاری لہو سے کرنے کی عادت ہے وہاں ایک خاکی تن شہادت سے ہمکنار ہو کر منوں مٹی تلے ابدی نیند جاسویا۔ شہید غلام مصطفیٰ کی قبر پر نصب کتبے پر یہ عبارت آج بھی نقش ہے۔

خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب

ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

جبکہ لانس نائیک احسان اﷲ کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ اُن کے آبائی علاقے گجرات میں سپردِ خاک کیا گیا۔
 
03
May

تحریر: ڈاکٹر ثاقب ریاض

گزشتہ ایک صدی کے عرصے میں مسلم دنیا نے ترقی کی بہت سی منازل طے کی ہیں۔ اس ترقی نے مسلم دنیا کے رویوں کے علاوہ غیرمسلم دنیا کے مسلم ممالک کے بارے میں ادراک اور خیالات پر بھی اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس عرصے میں امت مسلمہ میں رونما ہونے والی بڑی ترقی اور نمایاں پیش رفت کا درج ذیل نکات کی صورت میں احاطہ کیا جا سکتا ہے۔


 * مشرق وسطیٰ میں تیل کے وسیع ذخائر کی دریافت اور اس کے نتیجے میں پیٹروڈالرز کی صورت میں بڑے وسائل کی دستیابی ایک بڑی ترقی ہے۔ جس کے باعث مسلم ممالک بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ممالک کی معیشت میں ایک انقلاب برپا ہو گیا اور ان ممالک کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت میں بھی اضافہ ہوا۔


 * ملائشیا اور ترکی جیسے بعض مسلم ممالک میں ہونے والی صنعتی ترقی نے ان ممالک کو معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم کیا۔ اس تیز تر معاشی ترقی کے باعث یہ ممالک مغربی ممالک کے معیار کے مطابق ترقی یافتہ قرار پائے۔


 * نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا فروغ اور پُر امن مقاصد کے لئے اس کا استعمال۔ پاکستان کی طرف سے نیو کلیئر ہتھیاروں کا حصول اور ایران کی طرف سے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا فروغ (جو تسلسل سے جاری ہے)۔


 * بعض مسلم ممالک میں تعلیم اور سائنسی تحقیق کے شعبے میں نمایاں پیش رفت نے بھی ان ممالک کو اقوام عالم کی صف میں ایک اہم مقام عطا کیا ہے۔ ان ممالک میں مصر‘ پاکستان‘ ترکی‘ ملائشیا اور انڈونیشیا کے نام قابل ذکر ہیں۔


 * علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گردی( جسے غلط طور پر اسلامی دہشت گردی کہا جاتا ہے) اور مذہبی انتہاپسندی کا فروغ۔


 * پوری بیسویں صدی (اور اکیسویں) صدی کے عرصے میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک میں مسلم تشخص اور اسلام کی سیاسی‘ سماجی اور معاشی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے بہت سی عالمی تحریکوں کا آغاز اور فروغ بھی اس سلسلے کی ایک اہم ترین پیش رفت ہے۔ ان تحریکوں کا مقصد امت مسلمہ کی اس عظمت رفتہ اور عظمت گم گشتہ کا پھر سے حصول ہے جو کئی سو سال تک کرہ ارض پر اسلام کو حاصل رہا۔


میری نظر میں امت مسلمہ کے بارے میں آج کی دنیا میں جو بھی خیالات اور تصورات پائے جاتے ہیں‘ ان میں متذکرہ بالا چھ وجوہات اور ان کے علاوہ سیکڑوں دوسرے مقامی‘ علاقائی اور بین الاقوامی‘ واقعات اور معاملات کا عمل دخل ہے۔ اس تناظر میں اہم ترین بات دنیا کے تمام مسلم ممالک کا امت مسلمہ کے جھنڈے تلے جمع ہوناہے‘ اور یہ وہ معاملہ ہے جس کے بارے میں باہر کے لوگوں کی رائے اندر کے لوگوں (مسلمانوں) کی رائے سے مختلف ہے۔ یہاں تک کہ اندر کے لوگوں (مسلمانوں) کی رائے بھی امت کے بارے میں یکساں نہیں ہے۔ مختلف لوگ امت کے بارے میں مختلف تصورات رکھتے ہیں۔ اس تمام تر صورت حال کے پیش نظر اہم ترین چیلنج یہ ہے کہ امت مسلمہ کا صحیح تصور واضح کیا جائے۔ یعنی اس سے کیا مراد ہے۔ امت کن لوگوں پر مشتمل ہے؟ اس کے محرکات کیا ہیں اور اس کے پیش نظر کون سے سیاسی‘ سماجی‘ ثقافتی اور اقتصادی اہداف کا حصول کارفرما ہے؟ اور ان مقاصد کے حصول کے لئے وہ کون سا طریقہ کار اختیار کرے گی؟


امت مسلمہ کو درپیش دوسرا اہم ترین چیلنج یہ ہے کہ مغرب میں اسلام کے بارے میں پائے جانے والے غلط تاثر کو کس طرح ختم کیا جائے جو مغربی ذرائع ابلاغ نے ہمارے دین کے بارے میں پھیلا دیا ہے اور اسلام کو ایک انتہاپسند اور عسکریت پسند مذہب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے عرصے میں تہذیبوں کے تصادم جیسے کئی تصورات نے بھی اسلام کے بارے میں دنیا میں منفی رجحانات کو جنم دیا۔ عصر حاضر میں امت مسلمہ‘ اس کے قائدین‘ محققین ‘ ذرائع ابلاغ اور اہل علم و دانش کا اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ و ہ اسلام سے متعلق غلط تاثر کو ختم کریں اور دنیا پر واضح کریں کہ اسلام امن‘ آزادی اور برداشت کا دین ہے اور یہی اسلام کا اصل چہرہ ہے۔ اس مقصد کا حصول بین التہذیبی اور بین المذاہب مکالمے کا آغاز کر کے کیا جا سکتا ہے۔ اس مکالمے کے آغاز سے مشرق اور مغرب میں بڑھتے ہوئے فاصلے کم ہو سکیں گے اور اسلامی اور مغربی دنیا میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور بہتر تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے پیش رفت ہوسکے گی۔


صورت حال کا جائزہ : جدید ترین پیش رفت
اسلام کی پندرہ سو سالہ تاریخ میں آج کا دور امت مسلمہ کے لئے مشکل ترین دور ہے۔ اسلامی تاریخ عروج و زوال کی داستانوں سے بھری پڑی ہے لیکن آج اسلامی دنیا جس دور سے گزر رہی ہے اور جس صورت حال سے دو چار ہے‘ اس کا کبھی کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔ دنیا کے ایک ارب مسلمان مختلف قوتوں کی طرف سے مختلف سمتوں میں ہانکے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان اس وقت دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ ایک گروہ مذہبی اسلام کا حامی جبکہ دوسرا جدیدیت کا قائل ہے۔پہلے گروہ کا ایمان اور عقیدہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنی چاہئیں۔ مسلمانوں کا دوسرا گروہ اسلام کو عقیدے کے طور پر قبول کرتا ہے۔ لیکن عملی طور پر یہ لوگ مغرب کے جدید اصولوں کے پیروکار ہیں۔ ان دو گروہوں سے تعلق رکھنے والی مسلمانوں کی باقی ماندہ آبادی اسلام اور جدیدیت کے درمیان تذبذب کا شکار ہو کر مایوسی کی زندگی گزار رہی ہے۔ اکیسویں صدی میں جدیدیت کی علمبردار قوتوں کی طرف سے اسلام کو بطور عقیدہ اور مذہب مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ماڈر ن ازم کے اصول و ضوابط کو اپنائے۔ مغربی افکار کے بارے میں خود مسلم امہ کے اندر بھی ایک رائے نہیں ہے‘ بلکہ اس حوالے سے مسلم امہ اپنے مفادات کے تصادم کا شکار ہے۔

 

umetemuslima.jpgگزشتہ چار سو سال کے عرصے میں پوری اسلامی دنیا بدترین دور سے گزری ہے۔ کیونکہ اس دوران مکمل مسلم آبادی والے علاقوں کے ساتھ ساتھ اکثریتی مسلم آبادی والے ممالک پر بھی مغربی اقوام کا غاصبانہ قبضہ رہا ہے۔ اس طرح پوری مسلم دنیا کو ناکامی ‘ علیحدگی اور خوف و ہراس کی دلدل میں دھکیل دیا گیاہے۔ بیسویں صدی میں مغربی اقوام کی کالونیاں اپنے اختتام کو پہنچیں اور مسلم ممالک کو غیرملک آقاؤں کے تسلط سے نجات حاصل ہوئی۔ اور ان ممالک میں آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ آزادی کی نعمت سے فیض یاب ہونے والے ان ممالک میں مشرقی وسطیٰ‘ افریقہ‘ برصغیر اور مشرق بعید کے بہت سے ممالک شامل ہیں جہاں اسلامی روایات اور اقدار کے فروغ کا آغاز ہوا۔ اس عرصے میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے فضا انتہائی سازگار تھی۔ اچانک پوری مسلم دنیا میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے بہت سے چھوٹی بڑی تحریکیں شروع ہو گئیں۔ غیر ملکی تسلط ختم ہونے کے بعد بدقسمتی سے بہت سے مسلم ممالک بادشاہت یا آمرانہ سیاسی تسلط میں چلے گئے۔ ان حکمرانوں کی آمرانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کے سبب اسلامی نشاۃ ثانیہ کی تحریکیں زیر زمین چلی گئیں اور ان میں سے بعض جماعتیں ظالمانہ سیاسی تسلط کے رد عمل کے طور پر جارحیت اور عسکریت کے راستے پر چل پڑیں۔


اسلام بمقابلہ جدیدیت کا معاملہ ایک مشکل اور بہت نازک چیلنج ہے اور ان میں سے کوئی ایک چیز امت مسلمہ پر زبردستی نافذ کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ دراصل مسئلے کا حل کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے میں ہے۔ اہم ترین چیلنج یہی ہے کہ کس طرح مسلم امت کو انتہاپسندی سے نجات اور چھٹکارا دلا کر انتہائی احتیاط کے ساتھ اعتدال اور تحمل و بردباری کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کوئی مضبوط اور قابل عمل تلقین کی جائے۔


اندرونی مکالمہ
ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان قائدین، علماء، ماہرین تعلیم، دانشور،مفکرین، سائنسدان، بیوروکریٹس اور ماہرین‘ مقامی اور علاقائی سطح پر باہم اکٹھے ہو کر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ امت مسلمہ سے مراد کیا ہے؟ اس کے محرکات کیا ہیں؟ آئینی اسلامی حکومتوں کا قیام کیسے عمل میں لایا جائے؟ اور رواداری‘ تحمل‘ برداشت‘ امن اور آزادی جیسی شاندار اسلامی روایات کو کس طرح پروان چڑھایا جائے۔ سماجی اور سائنسی علوم کا حصول کیسے ممکن بنایا جائے؟ اور اس طرح امت مسلمہ کو اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایک ایسے راستے پر گامزن کر دیا جائے جس سے لامحالہ مسلم امہ اپنی کھوئی ہوئی عزت و عظمت اور وقار دوبارہ حاصل کر سکے۔
ان رہنما اصولوں پر عملدرآمد کرنے اور مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ اس کے نتیجے میں مسلم دنیا میں کوئی اہم تبدیلی لائی جا سکے۔ اسلام کے پیروکاروں کے درمیان باہمی مکالمہ ان مقاصد کے حصول کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اس مکالمے کا انعقاد مقامی‘ قومی‘ علاقائی اور پان اسلامک سطح پر کیا جائے اور اس سلسلے میں آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (او آئی سی) جیسے اداروں کی سرپرستی اور معاونت بھی حاصل کی جائے۔


بین التہذیبی مکالمہ
متذکرہ بالا تمام تر صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی دنیا او رمغرب کے درمیان ایک جامع اور بامقصد مکالمے کا آغاز کیا جائے۔ اس کو بین التہذیبی مکالمے کا نام دیا جا سکتا ہے۔


بین الاسلامی اور بین التہذیبی مکالمے کے لئے طریق کار
حالات‘ سہولت اور اثر پذیری کے مطابق اس سلسلے میں کئی طرح کے طریق کار اختیار کئے جا سکتے ہیں۔ درج ذیل موضوعات پر اس مکالمے کا آغاز کر کے قابل عمل راہ اختیار کی جا سکتی ہے۔


سیاست اور حکومت
تعلیم اور سائنسی تحقیق
معاشی اور صنعتی ترقی
سماجی اور ثقافتی ماحول
عسکریت پسندی‘ دہشت گردی اور تشدد
اسلام اور جمہوریت
اسلام اور مغرب
اسلام اور دیگر مذاہب عالم وغیرہ


درج بالا شعبے اور موضوعات پر توجہ مرکوز کر کے ہم اپنی توانائی کا صحیح استعمال کر سکتے ہیں۔ ان مذاکروں‘ مباحثوں اور مکالموں کے نتیجے میں ہم اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہم مغرب دنیا تک اسلام کا صحیح تصور اور تشخص پہنچانے میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اعلیٰ ترین سطح پر منعقد ہونے والے ایسے مکالموں کی میزبانی مسلم ممالک کی حکومتوں کو کرنی چاہئے اور انہیں اس سلسلے میں تعلیم‘ تحقیق اور سائنسی ترقی کے لئے کام کرنے والے مقامی‘ علاقائی اور پان اسلامک سطح پر کام کرنے والے اداروں مثلاً کامسٹیک سے تعاون اور اشتراک بھی حاصل کرنا چاہئے۔


اس مکالمے کو مقامی سے علاقائی سطح تک وسعت دی جائے اور جغرافیائی طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف بڑھایا جائے۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے وقت کا تعین مشکل کام ہے تاہم مقامی اور علاقائی سطح پر عملدرآمد کرنے کے لئے پانچ سال کے عرصے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
مباحثے اور مکالمے کے اس عمل کے عروج پر ایک ایسا مرحلہ آ جائے گا جب ضرورت اس بات کی ہو گی کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور اسلامی ممالک کی قیادت ان تمام

شعبہ جات میں ہونے والی بحث و تمحیص اور مکالمے کے نتائج سے استفادہ حاصل کریں اور اعلیٰ ترین سطح پر مغربی اقوام سے مکالمہ کریں۔ اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے اس مکالمے کے نتیجے میں امت مسلمہ مستقبل کے عظیم چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے ایک قابلِ عمل حکمتِ عملی تیار کر سکتی ہے۔ ہماری آنے والی نسلوں کو ایسی جدید ریاستوں اور معاشروں کی ضرورت ہو گی جہاں وہ بطورِ انسان اشرف المخلوقات کے اعلیٰ ترین مناسب پر تعین ہو کر خداوند پاک کی عطا کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ عظیم بادشاہتوں کا دور بیت گیا۔ اب عظیم انسان کا دور آنا چاہئے۔

مضمون نگار ایک قومی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مباحثے اور مکالمے کے اس عمل کے عروج پر ایک ایسا مرحلہ آ جائے گا جب ضرورت اس بات کی ہو گی کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور اسلامی ممالک کی قیادت ان تمام شعبہ جات میں ہونے والی بحث و تمحیص اور مکالمے کے نتائج سے استفادہ حاصل کریں اور اعلیٰ ترین سطح پر مغربی اقوام سے مکالمہ کریں۔ اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے اس مکالمے کے نتیجے میں امت مسلمہ مستقبل کے عظیم چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے ایک قابلِ عمل حکمتِ عملی تیار کر سکتی ہے۔ ہماری آنے والی نسلوں کو ایسی جدید ریاستوں اور معاشروں کی ضرورت ہو گی جہاں وہ بطورِ انسان اشرف المخلوقات کے اعلیٰ ترین مناسب پر تعین ہو کر خداوند پاک کی عطا کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ عظیم بادشاہتوں کا دور بیت گیا۔ اب عظیم انسان کا دور آنا چاہئے۔

*****

 
03
May

تحریر: محمودشام

میں اور قرار داد پاکستان ہم عمر ہیں۔ بلکہ میں کچھ دن بڑا ہوں۔ میں 5فروری 1940ء کو لاہور سے کچھ دور راجپورے میں پیدا ہوا۔ لاہور اور راجپورہ اس وقت دونوں غیرمنقسم ہندوستان میں شامل تھے۔ چھیالیس دن بعد لاہور میں یہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی۔ یہ سب قائداعظم محمد علی جناح کی پُر عزم بے لوث، تعصب اور کرپشن کے شائبے سے بھی دور، قیادت کا نتیجہ تھا کہ صرف 7سال بعد اس قرار داد کو ہم نے حقیقت میں ڈھال لیا۔ ہم اس وطن پاک کے حصول میں کامیاب ہوگئے جس کا خاکہ بانیانِ پاکستان نے منٹو پارک (موجودہ دور میں مینارِ پاکستان پارک )میں پیش کیا تھا۔


میں بھی 76 سال کا ہوں۔ قرار داد پاکستان کو بھی 76 سال ہوگئے۔
میں بھی نا مکمل ہوں۔ مجھے بھی بہت کچھ نہ کرسکنے کا قلق ہے۔ قراردادِپاکستان بھی ہمیں آواز دیتی ہے کہ اسے پیش کرنے والے شیرِ بنگال مولوی فضل الحق کا مشرقی پاکستان۔ اب پاکستان میں نہیں ہے۔ جن کی سربراہی میں تحریک پاکستان چلی۔ لاکھوں ماؤں، بہنوں، بزرگوں نے قربانیاں دیں۔ وہ قائدِاعظم ملّت کا پاسباں، مدبر، اصول پرست، صاحب بصیرت، اس نے جس پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔ وہ پاکستان کہاں ہے؟ قائد اعظم جس معاشرے کو تحمل برداشت، یگانگت والی سوسائٹی بنانا چاہتے تھے۔ وہ کہاں ہے؟
یہ 1967ہے۔

پاکستان کے قیام کو 20 سال ہوچکے ہیں۔ قراردادِ پاکستان کو 27 سال۔ مینارِ پاکستان تعمیر کے مراحل میں ہے۔ میں ایک یادگار فیچر تیار کرنا چاہتا ہوں۔ مینارِ پاکستان میں سیڑھیاں تعمیر ہوچکی ہیں۔ (لفٹ کا مرحلہ نہیں آیا۔)پاکستان کی طرح میں بھی جوان ہوں اور طبیعت میں مہم جوئی بھی۔ کچھ کرچکنے کا عزم بھی۔ میں یہاں کے ایک معمار کے ساتھ اس چوٹی کو سر کرلینے کا ارادہ کرلیتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ان سیڑھیوں کی تعداد سال کے 365 دنوں کے برابر ہی تھی۔ میں نے مینار کی چوٹی سے لاہور کے عظیم شہر کو دیکھا تھا۔
میں یقیناًاُن چند پاکستانیوں میں سے ہوں گا جنہوں نے یہ سیڑھیاں چڑھی ہوں گی۔ یہ کیا جذبہ تھا۔ یہ وہی جذبہ تھا۔ جو بر صغیر کے گوشے گوشے میں مسلمانوں میں تھا۔ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا۔ اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کے حصول کا۔


میں یہاں مینارِ پاکستان کی تعمیر کے ذمہ داروں سے مل رہا ہوں۔ ٹھیکیدار سے، معماروں سے، مزدوروں سے۔۔۔ سب میں وہی ولولہ ہے۔ جیسے وہ مینارِپاکستان نہیں۔ ایک بلند و بالا ٹاور نہیں۔ بلکہ ایک ملک کی تعمیر کررہے ہیں۔ وہ بھی اپنے آپ کو تحریکِ پاکستان کا کارکن سمجھ رہے ہیں۔ یہاں اپنے کام کو، محنت کو، وہ جدو جہد آزادی کا ہی حصہ قرار دے رہے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو یہاں سیر کے لئے لایا کریں گے تو فخر سے انہیں بتائیں گے کہ اس عظیم الشان، یادگاری عمارت کے بنانے میں ان کا بھی حصہ ہے۔ ہے بھی فخر کی بات!!۔ میں تو آج تک صرف سیڑھیاں چڑھنے پر ہی افتخار کی کیفیت میں رہتا ہوں جنہوں نے یہاں بنیاد میں اینٹیں رکھیں، مرحلہ در مرحلہ اسے بلند کرنے میں اپنے دست و بازو کو استعمال کیا، وہ کتنے عظیم تر ہیں۔ جس نے اس کا نقشہ بنایا۔ جس نے اس کے لئے رنگ تجویز کئے۔ اس پھول کا تصور تراشا۔

 

mainqarada.jpgان کے بارے میں بھی سوچئے اور ان عظیم ہستیوں کو بھی اپنے تصور میں لائیے۔ جو کلکتے سے لے کر کوئٹے تک سے یہاں کتنے حسین خواب لے کر آئے۔ کہیں سے وہ تصویر ڈھونڈ کر لائیے جس میں یہ سب اکابرین یکجا ہیں۔ کوئی تعصب تھا، نہ فرقہ پرستی، نہ مذہبی شدت پسندی۔ بنگال، پنجاب، بلوچستان، سرحد( اب کے پی کے)، سندھ بھی اور وہ علاقے جن کو پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ وہاں سے بھی یہ سب اپنے لئے نہیں آئے۔ آنے والی نسلوں کے لئے، ہمارے لئے، میرے لئے، آپ کے لئے، میرے بیٹوں بیٹیوں ،پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں، آپ کے بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں کے مستقبل کو محفوظ اور مامون بنانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔


ان کی فکر یہ تھی کہ اس وقت کے نظام میں، بندوبست میں، مسلمانوں کی اکثریت خوش نہیں ہے، مطمئن نہیں ہے۔ اپنے آپ کو سیاسی اور اقتصادی طور پر محفوظ نہیں پاتی ہے۔ اس کا کاروبار مستحکم نہیں ہے۔ اسے ایک با عزت شہری کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ اس لئے یہ کہا جارہا ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہایت غور و فکر کے بعد اس ملک میں صرف اسی آئین کو قابل عمل اور مسلمانوں کے لئے قابل قبول قرار دیتا ہے۔ جو جغرافیائی اعتبار سے باہم متصل ریجنوں کی صورت میں حد بندی کا حامل ہو۔ اور بوقت ضرورت ان میں اس طرح رد و بدل ممکن ہو کہ جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت بہ اعتبار تعداد ہو۔ انہیں آزاد ریاستوں کی صورت میں یکجا کردیا جائے اور ان میں شامل ہونے والی وحدتیں خود مختار اور حاکمیت کامل کی حامل ہوں۔


تاریخ کے اوراق الٹیئے۔ پڑھیئے بھی اور سُنیئے بھی۔ تاریخ کیا کہہ رہی ہے ان وحدتوں اور ہر علاقائی آئین میں اقلیتوں کے مذہبی، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی مفادات اور حقوق کے تحفظ کی خاطر ایسی اقلیتوں سے مشورے کے بعد مؤثر تحفظات شامل ہوں اور ہندوستان کے ان تمام حصوں میں جہاں مسلمان آبادی کے اعتبار سے اکثریت میں نہیں۔ انہیں تحفظ کا یقین دلایا جائے ۔


یہ آواز بھی بلند ہورہی ہے۔
یہ اجلاس مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ ان اصولوں پر مبنی آئین کا لائحہ عمل مرتب کرے۔ جس میں دونوں خطوں کے تمام اختیارات اور دیگر اہم امور کو سنبھالنے کا انتظام کیا جائے۔ غور کیجئے کیا ہمارے یہ اکابرین۔ یہ قائدین آنے والے بحرانوں کی دھمک نہیں سن رہے تھے کیا انہیں ان علاقوں، خطوں میں رونما ہونے والی شورشوں کا اندازہ نہیں تھا۔ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ جہاں پاکستان بننے جارہا ہے۔ وہاں کے مختلف علاقوں، وحدتوں میں رہنے والے کیا سوچتے ہیں؟ ان کی عادات کیا ہیں؟ زندگی کے رویّے کیا ہیں؟ وہ تعلیم کے حوالے سے کیسے ہیں؟ ایک دوسرے سے معاملات میں کیسا مزاج رکھتے ہیں؟ اختلافات پر مشتعل تو نہیں ہوجاتے؟ ان میں اگر جوش ہے تو کیا ہوش بھی ہے؟ وہ حرکت میں تو آجاتے ہیں۔ بڑے بڑے جلسے کرلیتے ہیں۔ لیکن کیا اس تحریک کے بعد تنظیم کی عادت بھی رکھتے ہیں؟ جلسے جلوس، نعرے بازی، جوش ولولہ، اپنی جگہ لیکن اس کے بعد جس تنظیم، توجہ، تربیت، تشکیل کی ضرورت ہے۔ کیا یہ صفات ان کی سرشت میں ہیں؟


آج اکیسویں صدی کی ہم دوسری دہائی کے آخری سالوں میں ہیں۔ اب تو ٹیکنالوجی بہت آگے نکل چکی ہے۔ مشینیں، انسانوں کے تجزیے کررہی ہیں۔ ڈی این اے کے ذریعے انسان کے بارے میں بہت کچھ جانا جارہا ہے۔ ہمارے خمیر پر تحقیق ہورہی ہے۔ ماضی کی روشنی میں مستقبل کی تعمیر کی جارہی ہے۔
اب ضرورت ہے کہ ہم ریاست کی سطح پر تحریکِ پاکستان پر تحقیق کریں۔ جدید ٹیکنالوجی ہماری مدد کرسکتی ہے۔ آج کی تحقیق کے نئے اصول ہماری رہنمائی کرسکتے ہیں۔
اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہم سب کہتے ہیں۔ پاکستان، وہاں نہیں ہے، جہاں 68 سال بعد اسے ہونا چاہئے تھا۔


یہ پاکستان وہ نہیں ہے۔ جس کا ایک خاکہ 23مارچ 1940 کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔
یہ وہ پاکستان نہیں ہے۔ جس کا خواب حکیم الامت، مفکر پاکستان علامہ محمداقبال نے دیکھا تھا۔
یہ وہ پاکستان نہیں ہے جس کا تصور۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947 کی تقریر میں انتہائی وضاحت اور صراحت سے پیش کیا تھا۔
آج کے پاکستان میں وہی مذہبی شدت پسند قوتیں، معاشرے پر غلبہ پانے کی کوشش کررہی ہیں جو قیام پاکستان کے باضابطہ خلاف تھیں۔ جو اس قافلے میں شامل نہیں تھیں جو قائد اعظم کی قیادت میں الگ وطن کے لئے تحریک چلارہا تھا۔ اپنے مؤقف کی ناکامی اور اپنے مشن میں شکست کے بعد انہوں نے 1953 سے پاکستان بننے کے صرف چھ سال بعد سے مذہبی شدت پسندی کا راستہ اختیار کرکے اس مملکت کو ناکام اور انتظامی طور پر نا اہل بنانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا اور یہ ہماری تاریخی بد قسمتی ہے کہ ہمارے سیاستدان محض اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے ان پاکستان دشمن مذہبی قوتوں کے معاون بن گئے اور پاکستان اپنے اصل خطوط سے دُور ہوتا چلاگیا۔

mainqarada1.jpg
آج پاکستان میں جو خطرناک رجحانات سر اٹھارہے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے ان خطرات کی ذمہ دار قوتوں کو ہمیشہ کے لئے مٹادینے کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس میں کامیابیاں بھی حاصل ہو رہی ہیں۔ کئی دہائیوں کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت اسی تصور پاکستان کو حقیقت میں ڈھال رہی ہے۔ جو قائد اعظم نے پیش کیا تھا۔ درمیان میں ایسے مراحل آئے تھے جب سیاسی اور عسکری قیادت دونوں سے غلطیاں ہوئیں۔ نظریاتی طور پر تذبذب کا شکار ہوئے۔ لیکن اب ہمیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ایک مملکت کی جو ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ان کا شعور کیا جارہا ہے۔ قوم کو زیاں کا احساس ہے۔ متاع کارواں واپس آرہی ہے۔


میں اپنے طویل صحافتی تجربے، تاریخ پاکستان کے ایک طالب علم کی حیثیت سے، مملکت اور حکومت کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھنے کے نتیجے میں ایک تأثر رکھتا ہوں کہ پاکستان آج جن علاقوں اور خطوں میں ہے۔ وہاں تحریکِ پاکستان اس جوش و خروش سے نہیں چلی تھی۔ جس طرح یہ مشرقی بنگال میں چلی، جو بعد میں مشرقی پاکستان بنا۔ پھر ہمارے رہنماؤں کی غلط پالیسیوں اور ہمارے ازلی دشمن بھارت کی سازشوں سے بنگلہ دیش بن گیا۔ مشرقی بنگال کے علاوہ ان ریاستوں میں جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں تھے اور جنہیں پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ مثلاً دہلی، یوپی، سی پی، بہار، وہاں بھی جوش و خروش زیادہ رہا۔ تحریکِ پاکستان پر تحقیق کرنے والے، مسلم لیگ کے مؤرخ، اس امر کی تصدیق کریں گے کہ موجودہ پاکستان کے شہروں میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس، عوامی جلسے اور جلوس اتنے تواتر سے نہیں نکلے، جتنے ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں منعقد ہوئے۔ پاکستان کے لئے جو دلی، ذہنی، مزاجی شرکت ہونی چاہئے تھی، وہ اس خطے کے لوگوں میں نہیں تھی۔ پنجاب میں اس وقت یونی نسٹوں کی حکومت تھی۔ سرحد میں سرخ پوش تھے۔ بلوچستان اس وقت صوبہ ہی نہیں تھا۔ سندھ کی اسمبلی نے ریزولیوشن ضرور منظور کیا لیکن اس کے طول و عرض میں کوئی زیادہ جلسے جلوس نہیں ہوئے پاکستان بننے کے بعد ان علاقوں میں جتنا سیاسی کام ہونا چاہئے تھا، وہ نہیں ہوا۔اشرافیہ نے اپنی فسطائیت قائم کی۔ ایک دوسرے پر غداری کے الزامات عائد کئے گئے۔ بد ترین قسم کی صوبائیت پھیلائی گئی۔ مسائل کو سلجھانے کی بجائے اُلجھایا گیا۔


آئین بنانے میں اتنی تاخیر کی گئی کہ ملک دو لخت ہوگیا۔ اب جسے ہم پاکستان کا متفقہ آئین کہتے ہیں۔ وہ اس وقت منظور ہوا۔ جب پاکستان کا بڑا حصّہ ہم سے الگ ہوچکا تھا۔
میری دردمندانہ التجا ہے اور حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اب جب ہم مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور مذہبی سوداگروں کا تسلط کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں تو ہمیں تحریک پاکستان دوبارہ چلانی چاہئے۔ اسے تحریکِ استحکام پاکستان کہہ لیں۔ ہمیں ملک بھر میں ایک ایک پاکستانی کو متحرک کرنا چاہئے وہی جذبہ۔ 1940والا۔ 1947 والا۔ اس وقت نعرہ تھا۔
لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان
اب ہونا چاہئے۔
بن کے رہے گا قائد کا پاکستان
بناکے رہیں گے اقبال کا پاکستان


ایسا پاکستان، جو چند خاندانوں کا نہیں، چند سیاسی رہنماؤں کا نہیں۔ صرف جاگیرداروں، زمینداروں،تاجروں، سرمایہ داروں، سیاسی جماعتوں کا نہیں، ہر پاکستانی کا پاکستان ہو۔ جہاں بلوچستان میں رہنے والے سب پاکستانی (چاہے وہ بلوچ ہوں، پشتوں ہوں یا آبادکار) اسے اپنا وطن کہیں۔ انہیں پنجاب، سندھ، کے پی کے، کے برابر حقوق سہولتیں اور مالی خود مختاری حاصل ہو۔ اسی طرح کے پی کے، فاٹا، گلگت بلتستان کے شہریوں کو بھی پنجاب، سندھ اسلام آباد کے لوگوں کی طرح اختیارات حاصل ہوں، یہی احساسات سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کو میسر ہوں۔ جنوبی پنجاب کے نوجوان محرومی کے احساس سے آزاد ہوں۔


جب ہم صوبائی خودمختاری مانگتے ہیں تو ضلعی خود مختاری بھی غصب نہیں ہونی چاہئے۔ وفاق صوبوں کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ صوبے ضلعوں کے بنا کوئی وجود نہیں رکھتے۔ صوبائی وزیر اعلیٰ اگر اپنے اختیارات چاہتے ہیں تو اضلاع کے میئر یا چیئرمین کو بھی اپنے وسائل پر اختیار ہونا چاہئے۔


پاکستان سب کا ہے۔ چند خاندانوں کا نہیں ہے۔
تحریکِ پاکستان دوبارہ چلانے کا ایک مقصد یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہم ایک ایک پاکستانی کو اکیسویں صدی کی سہولتیں، تعلیم، اور تربیت سے نواز سکیں۔ ایسا پاکستان بنائیں کہ یہاں سے لوگ امریکہ کینیڈا یا کسی اور ملک جانے کے بجائے یہاں کے شہروں کو لاس اینجلز، ٹورنٹو، بریڈ فورڈ اور سڈنی جیسا بنائیں۔ ہمارایہ خطہ کئی ہزار سال پہلے جدید تہذیب کا مرکز تھا۔ہم اب پھر اسے تہذیب و تمدن کا مرکز بناسکتے ہیں۔
ہمارا پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت نوجوان ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔ جن میں سے ہر پاکستانی کو اپنا حصہ ملنا چاہئے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
ان کے بارے میں بھی سوچئے اور ان عظیم ہستیوں کو بھی اپنے تصور میں لائیے۔ جو کلکتے سے لے کر کوئٹے تک سے یہاں کتنے حسین خواب لے کر آئے۔ کہیں سے وہ تصویر ڈھونڈ کر لائیے جس میں یہ سب اکابرین یکجا ہیں۔ کوئی تعصب تھا، نہ فرقہ پرستی، نہ مذہبی شدت پسندی۔ بنگال، پنجاب، بلوچستان، سرحد( اب کے پی کے)، سندھ بھی اور وہ علاقے جن کو پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ وہاں سے بھی یہ سب اپنے لئے نہیں آئے۔ آنے والی نسلوں کے لئے، ہمارے لئے، میرے لئے، آپ کے لئے، میرے بیٹوں بیٹیوں ،پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں، آپ کے بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں کے مستقبل کو محفوظ اور مامون بنانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔

*****

میری دردمندانہ التجا ہے اور حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اب جب ہم مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور مذہبی سوداگروں کا تسلط کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں تو ہمیں تحریک پاکستان دوبارہ چلانی چاہئے۔ اسے تحریکِ استحکام پاکستان کہہ لیں۔ ہمیں ملک بھر میں ایک ایک پاکستانی کو متحرک کرنا چاہئے وہی جذبہ۔ 1940والا۔ 1947 والا۔ اس وقت نعرہ تھا۔

لے کے رہیں گے پاکستان

بٹ کے رہے گا ہندوستان

اب ہونا چاہئے۔

بن کے رہے گا قائد کا پاکستان

بناکے رہیں گے اقبال کا پاکستان

*****

تحریکِ پاکستان دوبارہ چلانے کا ایک مقصد یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہم ایک ایک پاکستانی کو اکیسویں صدی کی سہولتیں، تعلیم، اور تربیت سے نواز سکیں۔ ایسا پاکستان بنائیں کہ یہاں سے لوگ امریکہ کینیڈا یا کسی اور ملک جانے کے بجائے یہاں کے شہروں کو لاس اینجلز، ٹورنٹو، بریڈ فورڈ اور سڈنی جیسا بنائیں۔ ہمارایہ خطہ کئی ہزار سال پہلے جدید تہذیب کا مرکز تھا۔ہم اب پھر اسے تہذیب و تمدن کا مرکز بناسکتے ہیں۔

*****

 
03
May

تحریر: خالد محمود رسول

سی پیک کا جس انداز میں شہرہ ہوا، ہمیں یہ گمان ہو گیا تھا کہ یہ منصوبہ کہیں تنازعات کا شکار نہ ہو جائے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔۔۔ یہ تحفظات، وہ تحفظات، اس کا وہم، اس کا گلہ۔ آل پارٹیز کانفرنسز اور ہائی لیول اجلاس۔ اس پر مستزاد میڈیا کا جوش و خروش، ایسے میں ہوش کے لئے جگہ کم ہی دستیاب ہوتی ہے۔ سی پیک یعنی چائنا پاک اکنامک کوریڈور کا بنیادی وژن ، اس کا علاقائی ربط اور اس سے منسلک سرمایہ کاری کا حجم۔۔۔ سبھی کچھ ہماری معیشت اور سیاست کے لئے نیا تھا۔ لہٰذا جانے انجانے میں بہت سی بدگمانیاں اور وسوسوں نے جگہ بنانے کی کوشش کی۔ بر وقت حکومتی وضاحتوں اور کوششوں نے وقتی طور پر اعتمادی سازی کی فضا قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن یہ امکان بہر طور موجود ہے کہ کسی اور بنیاد پر اس منصوبے کے بارے میں دوبارہ بدگمانیاں پیدا نہ ہوں۔

 

سی پیک سے منسلک اور منسوب اقتصادی سرمایہ کاری اور ممکنہ معاشی مفادات کے لئے اندرونی طور پر سیاسی قوتوں کا مکالمہ اور تفہیم کے لئے تگ و دو بالکل قابل فہم ہے۔ ایسے میں اس منصوبے کی عالمی اہمیت اور پس منظر کا ادراک ہمیں اس نادر موقعے کے وسیع تناظر کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے 2013 میں ون بلٹ ، ون روڈ کے منصوبے کا اعلان کیا۔ بنیادی خیال یہ بتایا گیا کہ اہم یورپی اور ایشیائی معیشتوں کو انفراسٹرکچر، تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط کیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت دو طرح کے عالمی رابطے قائم کرنا مقصود تھے، اول سلک روڈ کے ذریعے اقتصادی رابطہ یعنی سلک روڈ اکنامک روڈ دوم سمندری ذرائع سے رابط یعنی میری ٹائم سلک راؤٹ۔

 

زمینی راستے کے منصوبوں میں سڑکیں، ریلوے ٹریکس، تیل اور گیس پائپ لائنز اور اس سے منسلک کئی دیگر منصوبے ہیں جن کے ذریعے وسطی چین کے علاقے زن جیانگ کو ابتداء میں وسطی ایشیا سے مربوط کر نے کا پلان ہے۔ بعدمیں اس انفراسٹرکچر کو پھیلا کر روس کے شہر ماسکو، ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم اوراٹلی کے شہر ونیس تک لے جانا مقصود ہے۔ ان منصوبوں کے لئے ایک مخصوص سڑک کے بجائے اس بیلٹ یا کوریڈور کو پہلے سے موجود زمینی راستوں یعنی سڑکوں اور پلوں کے ساتھ ساتھ پھیلایا جائے گا ۔ یوں چین، منگولیا اور روس، وسطی چین اور مغربی ایشیا، انڈو چا ئنا کا علاقہ، چائنا، پاکستان اور بنگلہ دیش، چائنا، انڈیا اور میانمار کو آپس میں ملانے کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔ دوسری طرف سمندری نیٹ ورک کے ذریعے بندر گاہوں اور ساحلی علاقوں میں انفراسٹرکچر منصوبوں کو زمینی راستوں سے مربوط کرنے کا پروگرام ہے تاکہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر مشرقی افریقہ تک اور بحیرہ قلزم تک تجارتی راستوں کا وسیع اور مربوط نظام قائم کر دیا جائے۔

 

یہ مجموعی خاکہ ہے اس عظیم منصوبے کا جسے چینی صدر نے ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے متعار ف کروایا۔ اس منصوبے کی بہت سی تفصیلات ابھی قدرے دھندلی اور غیر واضح ہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تفصیلات آہستہ آہستہ واضح ہوتی جائیں گی۔ اس منصوبے کی مکمل تفصیلات پر جائیں تو یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور بھاری بھر کم منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں تقریبا پینسٹھ ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ آبادی کے اعتبار سے دیکھیں تو ساڑھے چار ارب افراد ان منصوبوں سے مستفید ہوں گے۔ ان ممالک اور آبادی کی مجموعی قومی آمدنی کو جوڑ لیں تو یہ عالمی جی ڈی پی کا چالیس فی صد بنتا ہے! اس وسیع و عریض منصوبے کے لئے وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری چین نے اُٹھائی ہے۔ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے لئے چین نے نیو سلک روڈ فنڈ کے نام سے چالیس ارب ڈالر مختص کئے ہیں ۔ اس فنڈ کے لئے چین اپنے زرمبادلہ کا کچھ حصہ صرف کرے گا جبکہ حکومت کے دیگر سرمایہ کاری اور مالی ادارے بقیہ وسائل فراہم کریں گے۔ اس فنڈ کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں قائم ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بنک کے ذریعے مزید ایک سو ارب ڈالر کے قرضے بھی فراہم کئے جائیں گے۔ انفراسٹرکچر کے ان منصوبوں سے منسلک نو سو سے زائد صنعتی اور تجارتی منصوبوں کے لئے چائنا ڈویلپمنٹ بینک نو سو ارب ڈالر کے وسائل فراہم کرے گا ۔ ان منصوبوں کا پھیلاؤ پینسٹھ ممالک پر محیط ہو گا۔ یوں اپنی وضع اور نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک منفرد اور کئی ملکوں کے درمیان مربوط منصوبہ ہے ۔ مشہور اقتصادی میگزین اکونومسٹ کا خیال ہے کہ اس مکمل منصوبے پر چائنا کی مجموعی سر مایہ کاری ایک کھرب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

 

غور کریں تو اس تحریک یا وژن کا مقصد صرف سڑکوں، سمندری راستوں اور ان سے منسلک صنعتی اور تجارتی منصوبوں کا ایک سلسلہ کھڑا کرنا ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ ایک منفرد معاشی اور عوامی اشتراک و تعاون ہے۔ دنیا بڑی تیزی سے اپنے علاقائی، سیاسی اور اقتصادی مفادات کے تحت تقسیم ہو رہی ہے۔ علاقائی تعاون کی تنظیموں کا پھیلاؤ اور اثر و نفوذ، نئے اور پرانے تجارتی بلاکس، نت نئے فری ٹریڈ معاہدے بدلتے ہوے سیاسی اور معاشی نظام کی نئی حقیقتیں ہیں۔ حال ہی میں طے پانے والا کثیرالملکی معاشی اتحاد ٹی پی پی

(Trans-Pacific Partnership)

اپنے اندر نئے امکانات کا جہان لئے ہوئے ہے۔ بحرالکاہل کے دونوں طرف کے ممالک کے درمیان زیر غور معاہدہ ٹی ٹی آئی پی

(Transatlantic Trade and Investment Partnership)

یورپ اور امریکہ کو ایک نئے ڈھنگ سے معاشی تعاون کے بندھن میں باندھ دے گا۔ یہ نئی معاشی و سیاسی صف بندیاں اور اتحاد اگلے تیس سے پچاس سال کے معاشی امکانات پر دور رس اثرات مرتب کریں گے۔ چین کا ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ ان بدلتے حالات میں اپنے ملک کے لئے مستقبل کے تجارتی و سرمایہ کاری کے امکانات اور وسائل کی دستیابی او ر تجارتی منڈیوں کو محفوظ کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ سی پیک منصوبے کو اس تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس موقعے کو بہترین ملکی مفاد میں اور بہترین انداز میں استعمال کیا جاسکے۔ آپس کے معمولی یا اپنے تئیں غیر معمولی تنازعات اس منصوبے کے عالمی بہاؤ میں ہمیں کہیں پیچھے نہ چھوڑ دیں۔

 

چین کے اس دور رس منصوبے کے راستے میں ابھی کئی مشکل مراحل ہیں۔ مختلف شریک ممالک کے اپنے اپنے مفادات اور مسائل ہیں۔ معاشی نظامت اور انفراسٹرکچر کے حالات میں بہت تفاوت ہے۔ ضروری نہیں کہ تمام ممالک اور منصوبے مجوزہ تفصیلات اور رفتار سے آگے بڑھیں۔ البتہ اس منصوبے میں پنہاں مفادات اور وسائل کی فراہمی بیشتر ممالک کو اس منصوبے میں اشتراک اور تعاون پر آمادہ کر سکتی ہے۔ یہ امر بھی واضح ہے کہ ایسے منصوبے روز روز نہیں بنتے۔ لہٰذا اپنے اپنے مفادات اور مستقبل کی سرمایہ کاری اور تجارتی ضرورتوں کے مطابق اس منصوبے میں تعاون اور شرکت بیشتر ملکوں کے اپنے مفادات میں ہو گی۔ اس لئے امکان ہے کہ یہ منصوبہ اپنی اصل ہیئت کے مطابق مکمل نہ سہی، بہت حد تک اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

 

پاکستان اپنے جیو پولیٹیکل حالات اور گورنس کے گونا گوں مسائل کی وجہ سے اقتصادی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ سی پیک منصوبے کی صورت میں پاکستان کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ اس موقعے سے اپنے بہترین معاشی مفادات اور متناسب علاقائی ترقی کے مطابق اس منصوبے کا فائدہ اٹھائے۔ اس وقت سڑک کے بنیادی منصوبے کے علاوہ دیگر کئی منصوبوں کی طویل فہرست ہے جن میں سرِدست انرجی کے کئی بڑے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طویل المدت منصوبوں میں ریلوے ٹریکس، تیل اور گیس پائپ لائنز اور اس شاہراہ پر کئی انڈسٹریل اسٹیٹس کا قیام ہے۔ بلوچستان، کے پی کے اور گلگت بلتستان براہ راست اس شاہراہ کا حصہ ہوں گے ۔ جبکہ دوسرے صوبے روڈ نیٹ ورک کے ذریعے منسلک ہوں گے۔ منصوبوں کی تیاری، ان میں مقامی صنعتوں کی شمو لیت، مقامی لیبر اور افرادی قوت کی کھپت سمیت بہت سے حساس اور دور رس اہمیت کے معاملات اس پرو جیکٹ کے فوائدکے حصول میں اہم کردار کریں گے۔

 

پاکستان کے لئے اس منصوبے میں مضمر ممکنہ اقتصادی فوائد کچھ طاقتوں کو گوارا نہیں۔ اس کے لئے جانی پہچانی صورت نفاق پیدا کر کے معاملات کو متنازعہ بنانا ہے۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ اس منصوبے کو تنازعات سے محفوظ رکھا جائے۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس پروجیکٹ کی مدت تکمیل دس سے پندرہ سال ہو گی۔ لہٰذا اسے وقتی مفادات کی بھینٹ چڑھنے سے بچایا جائے۔ اسے ایک طویل المدت اقتصادی امکان اور ملکی ضرورت کے انداز میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Page 1 of 17

Follow Us On Twitter